القابات کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جَبِيرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ: فِينَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11، قَدِمَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالرَّجُلُ مِنَّا لَهُ الِاسْمَانِ وَالثَّلَاثَةُ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّمَا دَعَاهُمْ بِبَعْضِ تِلْكَ الْأَسْمَاءِ، فَيُقَالُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْ هَذَا، فَنَزَلَتْ وَلا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ سورة الحجرات آية 11.
ابوجبیرہ بن ضحاک ؓ کہتے ہیں کہ ولا تنابزوا بالألقاب ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ جب ہمارے پاس (مدینہ) تشریف لائے تو ہم میں سے ہر ایک کے دو دو، تین تین نام تھے، بسا اوقات نبی اکرم ﷺ انہیں ان کا کوئی ایک نام لے کر پکارتے، تو آپ سے عرض کیا جاتا: اللہ کے رسول! فلاں شخص فلاں نام سے غصہ ہوتا ہے، تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ولا تنابزوا بالألقاب کسی کو برے القاب سے نہ پکارو ١ ؎۔
It was narrated that Abu Jabirah bin Dahhak said: (Allahs saying) "Nor insult one another by nicknames." was revealed concerning us, the Ansar. When the Prophet(saw) came to us, a man among us would have two or three names, and the Prophet(saw) might call him by one of those names, only to be told: "O Messenger of Allah, he does not like that name." Then: "Nor insult one another by nicknames." was revealed." (Sahih)