آداب کا بیان۔

Sunan Ibne-Majah · Chapter 34 · 170 hadiths · Page 4 of 9

3717Sunan Ibne-Majah

جو کسی نشست سے اٹھے پھر واپس آئے تو وہ اس نشست کا زیادہ حقدار ہے۔

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ عَنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر چلا جائے، پھر واپس آئے تو وہ اپنی جگہ (پر بیٹھنے) کا زیادہ حقدار ہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ (saw) said: "When one of you gets up from his spot, then comes back, he has more right to it." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٦٢١، ومصباح الزجاجة: ١٢٩٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/السلام ١٢ (٢١٧٩)، سنن ابی داود/الأدب ٣٠ (٤٨٥٣)، مسند احمد (٢/٣٤٢، ٥٢٧)، سنن الدارمی/الإستئذان ٢٥ (٢٦٩٦) (صحیح )
3718Sunan Ibne-Majah

عذر کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ ابْنِ مِينَاءَ، عَنْ جُودَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اعْتَذَرَ إِلَى أَخِيهِ بِمَعْذِرَةٍ فَلَمْ يَقْبَلْهَا، كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ خَطِيئَةِ صَاحِبِ مَكْسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ مِينَاءَ، عَنْ جُودَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

جو ذان کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بھائی سے معذرت کرے، اور پھر وہ اسے قبول نہ کرے تو اسے اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا محصول (ٹیکس) وصول کرنے والے کو اس کی خطا پر ہوتا ہے ۔

It was narrated from Jawdan that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "If a man makes an excuse to his brother and he does not accept it, he will bear a burden of sin like that of the taxcollector." (Daif) Another chain with similar wording.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٧١، ومصباح الزجاجة: ١٢٩٩) (ضعیف) (سند میں جو ذان کو شرف صحبت حاصل نہیں، بلکہ مجہول ہیں ) اس سند سے بھی اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔ تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣٢٧١)، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٠) (ضعیف) (جوذان صحابی نہیں، بلکہ مجہول روای ہیں )
3719Sunan Ibne-Majah

مزاح کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ . ح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ فِي تِجَارَةٍ إِلَى بُصْرَى قَبْلَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَامٍ، وَمَعَهُ نُعَيْمَانُ، وَسُوَيْبِطُ بْنُ حَرْمَلَةَ، وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا، وَكَانَ نُعَيْمَانُ عَلَى الزَّادِ، وَكَانَ سُوَيْبِطُ رَجُلًا مَزَّاحًا، فَقَالَ لِنُعَيْمَانَ: أَطْعِمْنِي، قَالَ: حَتَّى يَجِيءَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: فَلَأُغِيظَنَّكَ، قَالَ: فَمَرُّوا بِقَوْمٍ، فَقَالَ لَهُمْ سُوَيْبِطٌ: تَشْتَرُونَ مِنِّي عَبْدًا لِي، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّهُ عَبْدٌ لَهُ كَلَامٌ وَهُوَ قَائِلٌ لَكُمْ إِنِّي حُرٌّ، فَإِنْ كُنْتُمْ إِذَا قَالَ لَكُمْ هَذِهِ الْمَقَالَةَ، تَرَكْتُمُوهُ فَلَا تُفْسِدُوا عَلَيَّ عَبْدِي، قَالُوا: لَا، بَلْ نَشْتَرِيهِ مِنْكَ، فَاشْتَرَوْهُ مِنْهُ بِعَشْرِ قَلَائِصَ، ثُمَّ أَتَوْهُ فَوَضَعُوا فِي عُنُقِهِ عِمَامَةً أَوْ حَبْلًا، فَقَالَ نُعَيْمَانُ: إِنَّ هَذَا يَسْتَهْزِئُ بِكُمْ وَإِنِّي حُرٌّ لَسْتُ بِعَبْدٍ، فَقَالُوا: قَدْ أَخْبَرَنَا خَبَرَكَ، فَانْطَلَقُوا بِهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخْبَرُوهُ بِذَلِكَ، قَالَ: فَاتَّبَعَ الْقَوْمَ وَرَدَّ عَلَيْهِمُ الْقَلَائِصَ، وَأَخَذَ نُعَيْمَانَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرُوهُ، قَالَ: فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مِنْهُ حَوْلًا.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ ابوبکر ؓ نبی اکرم ﷺ کی وفات سے ایک سال پہلے بصریٰ تجارت کے لیے گئے، ان کے ساتھ نعیمان اور سویبط بن حرملہ ؓ بھی تھے، یہ دونوں بدری صحابی ہیں، نعیمان ؓ کھانے پینے کی چیزوں پر متعین تھے، سویبط ؓ ایک پر مذاق آدمی تھے، انہوں نے نعیمان ؓ سے کہا: مجھے کھانا کھلاؤ، نعیمان ؓ نے کہا: ابوبکر ؓ کو آنے دیجئیے، سویبط ؓ نے کہا: میں تمہیں غصہ دلا کر پریشان کروں گا، پھر وہ لوگ ایک قوم کے پاس سے گزرے تو سویبط ؓ نے اس قوم کے لوگوں سے کہا: تم مجھ سے میرے ایک غلام کو خریدو گے؟ انہوں نے کہا: ہاں، سویبط ؓ کہنے لگے: وہ ایک باتونی غلام ہے وہ یہی کہتا رہے گا کہ میں آزاد ہوں، تم اس کی باتوں میں آ کر اسے چھوڑ نہ دینا، ورنہ میرا غلام خراب ہوجائے گا، انہوں نے جواب دیا: وہ غلام ہم تم سے خرید لیں گے، الغرض ان لوگوں نے دس اونٹنیوں کے عوض وہ غلام خرید لیا، پھر وہ لوگ نعیمان ؓ کے پاس آئے، اور ان کی گردن میں عمامہ باندھا یا رسی ڈالی تو نعیمان ؓ نے کہا: اس نے (یعنی سویبط نے) تم سے مذاق کیا ہے، میں تو آزاد ہوں، غلام نہیں ہوں، لوگوں نے کہا: یہ تمہاری عادت ہے، وہ پہلے ہی بتاچکا ہے (کہ تم باتونی ہو) ، الغرض وہ انہیں پکڑ کرلے گئے، اتنے میں ابوبکر ؓ تشریف لائے، تو لوگوں نے انہیں اس واقعے کی اطلاع دی، وہ اس قوم کے پاس گئے اور ان کے اونٹ دے کر نعیمان کو چھڑا لائے، پھر جب یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس (مدینہ) آئے تو آپ اور آپ کے صحابہ سال بھر اس واقعے پر ہنستے رہے۔

It was narrated that Umm Salamah said: " Abu Bakr (RA) went out to trade in Busra, one year before the Prophet(saw) died, and with him were Nuaiman and Suwaibit the sons of Harmalah, who had been present at Badr. Nuaiman was in charge of the provisions, and Suwaibit was a man who joked a lot. He said to Nuaiman: Feed me. He said: Not until Abu Bakr (RA) comes: He said: Then I will have to annoy you: Then they passed by some people, and Suwaibit said to them: Will you buy a slave from me? They said: Yes: He said: He is a slave who talks a lot and he will tell you, "I am a free man." If you are going to let him go when he says that to you, do not bother buying him. They said. We will buy him from you: So they bought him from him in return for ten young she-camels, then they brought him and tied a turban or a rope around his neck. Nuaiman said: This man is making fun of you. I am a free man, not a slave. They said: He has already told us about you and they took him off: Then Abu Bakr (RA) came and he (Suwaibit) told him about that. So he followed those people and returned their camels to them, and took Nuaiman back. When they came to the Prophet(saw) they told him what had happened, and the Prophet(saw) and his Companions laughed about it for a year." (Daif)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٨١٨٩، ومصباح الزجاجة: ١٣٠١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣١٦) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف ہیں، اور اس کے دوسرے طریق میں نعیمان، سویبط کی جگہ ہے، اور سوبیط، نعیمان کی جگہ پر اور یہ بھی ضعیف ہے )
3720Sunan Ibne-Majah

مزاح کرنا۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَالِطُنَا، حَتَّى يَقُول لِأَخٍ لِي صَغِيرٍ: يَا أَبَا عُمَيْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَيْ؟، قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي طَيْرًا كَانَ يَلْعَبُ بِهِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں سے (یعنی بچوں سے) میل جول رکھتے تھے، یہاں تک کہ میرے چھوٹے بھائی سے فرماتے: يا أبا عمير ما فعل النغير اے ابوعمیر! تمہارا وہ نغیر (پرندہ) کیا ہوا؟ وکیع نے کہا نغیر سے مراد وہ پرندہ ہے جس سے ابوعمیر کھیلا کرتے تھے۔

It was narrated that Abu Taiyah said "I heard Anas bin Malik (RA) say: The Messenger of Allah( ﷺ saw)used to mix with us so much that he said to a little brother of mine: "O Abu Umair, what happened to the Nughair?" (Sahih) (One of the narrators) Waki said: "Meaning, a bird that he used to play with."

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ٨١ (٦١٢٩)، صحیح مسلم/الآداب ٥ (٢١٥٠)، سنن ابی داود/الصلاة ٩٢ (٦٥٨)، سنن الترمذی/الصلاة ١٣١ (٣٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٩، ١٧١، ١٩٠، ٢١٢، ٢٧٠) (صحیح )
3721Sunan Ibne-Majah

سفید بال اکھیڑنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْ نَتْفِ الشَّيْبِ، وَقَالَ: هُوَ نُورُ الْمُؤْمِنِ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفید بال اکھیڑنے سے منع فرمایا، اور فرمایا کہ وہ مومن کا نور ہے ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) forbade plucking out white hairs and said: It is the light of the believer.’” (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٥٩ (٢٨٢١)، (تحفة الأشراف: ٨٧٨٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الترجل ١٧ (٤٢٠٢)، سنن النسائی/الزینة ١٣ (٥٠٧١)، مسند احمد (٢/٢٠٦، ٢٠٧، ٢١٢) (حسن صحیح )
3722Sunan Ibne-Majah

کچھ سایہ اور کچھ دھوپ میں بیٹھنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ أَبِي الْمُنِيبِ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى أَنْ يُقْعَدَ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ.

بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے دھوپ اور سایہ کے درمیان میں بیٹھنے سے منع کیا ہے ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Buraidah, from his father, that the Prophet(saw) forbade sitting between the shade and the sun. (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس طرح بیٹھنے سے کہ بدن کا ایک حصہ دھوپ میں رہے، اور ایک حصے پر سایہ، اس لئے کہ یہ امر طبی طور پر مضر ہے اور بیماری پیدا کرتا ہے، اور یہ ممانعت بھی تنزیہی ہے، نہ کہ تحریمی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٩٨٨، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٢) (صحیح )
3723Sunan Ibne-Majah

اوندھے منہ لیٹنے سی ممانعت۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصَابَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَى بَطْنِي، فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: مَا لَكَ وَلِهَذَا النَّوْمِ، هَذِهِ نَوْمَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ أَوْ يُبْغِضُهَا اللَّهُ.

طخفہ غفاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے مسجد میں پیٹ کے بل (اوندھے منہ) سویا ہوا پایا، آپ ﷺ نے اپنے پاؤں سے مجھے ہلا کر فرمایا: تم اس طرح کیوں سو رہے ہو؟ یہ سونا اللہ کو ناپسند ہے ۔

It was narrated from Qais bin Tihfah Al-Ghifari that his father said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) found me sleeping in the Masjid on my stomach. He nudged me with his foot and said: Why are you sleeping like this? This is a kind of sleep that Allah dislikes,’ or that Allah hates.": (Sahih)

Notes · وضاحت
پیٹ کے بل لیٹنا ممنوع ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١٠٣ (٥٠٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٩٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢٩) (صحیح) (ملاحظہ ہو: المشکاة: ٤٧١٨ - ٤٧١٩ - ٤٧٣١ )
3724Sunan Ibne-Majah

اوندھے منہ لیٹنے سی ممانعت۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ طِخْفَةَ الْغِفَارِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُضْطَجِعٌ عَلَى بَطْنِي، فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: يَا جُنَيْدِبُ، إِنَّمَا هَذِهِ ضِجْعَةُ أَهْلِ النَّارِ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس سے گزرے اس حال میں کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیر سے ہلا کر فرمایا: جنيدب! (یہ ابوذر کا نام ہے) سونے کا یہ انداز تو جہنمیوں کا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abu Dharr (RA) said: "The Prophet(saw) passed by me and I was lying on my stomach. He nudged me with his foot and said: O Junaidib! This is how the people of Hell lie. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: پیٹ کے بل سونے میں جہنمیوں کی مشابہت ہے، قرآن میں ہے: يوم يسحبون في النار على وجوههم ذوقوا مس سقر (سورة القمر: 48) یعنی اوندھے منہ جہنم میں کھینچے جائیں گے، یہ بھی ایک ممانعت کی وجہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١١٩٢٦، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٣) (صحیح) (سند میں محمد بن نعیم میں کلام ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے )
3725Sunan Ibne-Majah

اوندھے منہ لیٹنے سی ممانعت۔

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيلٍ الدِّمَشْقِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ نَائِمٍ فِي الْمَسْجِدِ مُنْبَطِحٍ عَلَى وَجْهِهِ، فَضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: قُمْ وَاقْعُدْ، فَإِنَّهَا نَوْمَةٌ جَهَنَّمِيَّةٌ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس ہوا جو اوندھے منہ مسجد میں سو رہا تھا، آپ ﷺ نے اس کو پیر سے ہلا کر فرمایا: اٹھ کر بیٹھو، اس طرح سونا جہنمیوں کا سونا ہے ۔

It was narrated that Abu Ummah said: "The Prophet(saw) passed by a man sleeping in the Masjid, lying on his face. He struck him with his foot and said: Get up or; Sit up, for this is a hellish kind of sleep."(Hasan)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٩١٣، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٤) (ضعیف) (سند میں یعقوب، سلمہ اور ولید سب ضعیف ہیں )
3726Sunan Ibne-Majah

علم نجوم سیکھنا کیسا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَبَسَ عِلْمًا مِنَ النُّجُومِ، اقْتَبَسَ شُعْبَةً مِنَ السِّحْرِ زَادَ مَا زَادَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے علم نجوم میں سے کچھ حاصل کیا، اس نے سحر (جادو) کا ایک حصہ حاصل کرلیا، اب جتنا زیادہ حاصل کرے گا گویا اتنا ہی زیادہ جادو حاصل کیا ۔

It was narrated from Ibn Abbas that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Whoever learns about the stars, he learns a branch of magic; the more he learns (of the former) the more he learns (of the latter). (Hasan)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطب ٢٢ (٣٩٠٥)، (تحفة الأشراف: ٦٥٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٢٧، ٣١١) (حسن )
3727Sunan Ibne-Majah

ہوا کو برا کہنے کی ممانعت۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُسُبُّوا الرِّيحَ، فَإِنَّهَا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ وَالْعَذَابِ، وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہوا کو برا نہ کہو، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے، وہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "Do not curse the wind, for it is from the mercy of Allah, bringing Rahmah (i.e., rain and breezes), or destruction. But ask Allah for its goodness, and seek refuge with Allah from its evil." (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: اس معنی سے کہ انسان اور حیوان کی زندگی ہوا پر موقوف ہے، ان حیوانوں کی جو ہوائی ہیں اور بعض حیوان مائی ہیں، ان کی زندگی پانی پر موقوف ہے، اب بعض امتوں پر جو ہوا سے عذاب ہوا یہ اس کے خلاف نہیں ہے کیونکہ ہر ایک رحمت کی چیز جب اعتدال سے زیادہ ہو تو عذاب ہوجاتی ہے جیسے پانی وہ بھی رحمت ہے لیکن نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لئے اور فرعون اور اس کی قوم کے لئے عذاب تھا۔ اور ابھی ماضی قریب میں سونامی کی لہروں سے جو تباہی دنیا نے دیکھی اس سے ہم سب کو عبرت ہونی چاہیے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ١١٣ (٥٠٩٧)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٣١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٥٠، ٢٦٧، ٤٠٩، ٤٣٦، ٥١٨) (صحیح )
3728Sunan Ibne-Majah

کونسے نام اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ؟

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، عَبْدُ اللَّهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں ۔

It was narrated from Ibn Umar that the Prophet(saw) said: "The most beloved of names to Allah are Abdullah and Abdur-Rehman. (Sahih)

Notes · وضاحت
ان ناموں کے پسندیدہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان میں اللہ کی عبودیت کا اظہار ہے۔ اللہ تعالیٰ کے دوسرے ناموں کے ساتھ بھی عبد یا عبید لگا کر نام رکھا جاسکتا ہے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کے ناموں پر نام رکھنا بھی درست ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الآداب ١ (٢١٣٢)، سنن الترمذی/الأدب ٤٦ (٢٨٣٤)، (تحفة الأشراف: ٧٧٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤)، سنن الدارمی/ الاستئذان ٦٠ (٢٣٣٧) (صحیح )
3729Sunan Ibne-Majah

ناپسندیدہ نام

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَبَاحٌ، وَنَجِيحٌ، وَأَفْلَحُ، وَنَافِعٌ، وَيَسَارٌ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو انشاء اللہ رباح (نفع) ، نجیح (کامیاب) ، افلح (کامیاب) ، نافع (فائدہ دینے والا) اور یسار (آسانی) ، نام رکھنے سے منع کر دوں گا ١ ؎۔

It was narrated from Umar bin Khattab that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "If I live - if Allah wills - I will forbid the names Rabah (profit), Najih (saved), Aflah (successful), Nafi (beneficial) and Yasar (prosperity)." (Sahih)

Notes · وضاحت
ایک حدیث میں اس ممانعت کی یہ حکمت بیان کی گئی ہے کیونکہ تو کہے گا: کیا وہ یہاں موجود ہے؟ وہ نہیں ہوگا تو (جواب دینے والا) کہے گا نہیں۔ (صحیح مسلم) مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی پوچھے کہ گھر میں نافع ہے اور جواب میں کہا جائے کہ موجود نہیں۔ گویا آپ نے یہ کہا کہ گھر میں فائدہ دینے والا کوئی شخص موجود نہیں، سب نکمے ہیں۔ اگرچہ متکلم کا مقصد یہ نہیں ہوگا، تاہم ظاہری طور پر ایک نامناسب بات بنتی ہے، لہذا ایسے نام رکھنا مکروہ ہے لیکن حرام نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٦٥ (٢٨٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٢٣، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٥) (صحیح )
3730Sunan Ibne-Majah

ناپسندیدہ نام

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الرُّكَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ نُسَمِّيَ رَقِيقَنَا أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ، أَفْلَحُ، وَنَافِعٌ، وَرَبَاحٌ، وَيَسَارٌ.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنے غلاموں کے چار نام رکھنے سے منع فرمایا ہے: افلح، نافع، رباح اور یسار ۔

It was narrated that Samurah said: "The Messenger of Allah( ﷺ saw) forbade giving our slaves four names: Aflah (successful), Nafi (beneficial), Rabah (profit) and Yasar (prosperity)." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأداب ٢ (٢١٣٦)، سنن ابی داود/الأدب ٧٠ (٤٩٥٨، ٤٩٥٩)، سنن الترمذی/الأدب ٦٥ (٢٨٣٦)، (تحفة الأشراف: ٤٦١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٧، ١٠، ١٢، ٢١)، سنن الدارمی/الاستئذان ٦١ (٢٧٣٨) (صحیح )
3731Sunan Ibne-Majah

ناپسندیدہ نام

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ، فَقَالَ عُمَرُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْأَجْدَعُ شَيْطَانٌ.

مسروق کہتے ہیں کہ میری ملاقات عمر بن خطاب ؓ سے ہوئی، تو انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا: میں مسروق بن اجدع ہوں، (یہ سن کر) عمر ؓ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اجدع ایک شیطان ہے ۔

It was narrated that Masruq said: "I met Umar bin Khattab and he said: Who are you? said: Masruq bin Ajda". Umar said: I heard the Messenger of Allah( ﷺ saw) saying, "Ajda is a devil." (Daif)

Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ٧٠ (٤٩٥٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٦٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣١) (ضعیف) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں )
3732Sunan Ibne-Majah

نام بدلنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَقِيلَ لَهَا تُزَكِّي نَفْسَهَا،فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں زینب کا نام بّرہ تھا (یعنی نیک بخت اور صالحہ) لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ اپنی تعریف آپ کرتی ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بدل کر زینب رکھ دیا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that Zainab used to be called "Barrah" (good), and it was said that she was praising herself. So the Messenger of Allah( ﷺ saw) changed her name to Zainab.(Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: ام المؤمنین جویریہ ؓ کا نام بھی پہلے برّہ تھا تو آپ ﷺ نے ان کا نام بدل کر جویریہ رکھا، یہ رسول اکر م ﷺ کی سنت ہے اور ہر شخص کو لازم ہے کہ اگر والدین یا خاندان والوں نے جہالت سے بچپن میں کوئی برا نام رکھ دیا ہو تو جب بڑا ہو اور عقل آئے تو وہ نام بدل ڈالے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ١٠٨ (٦١٩٢)، صحیح مسلم/الآداب ٣ (٢١٤١)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٦٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٤٣٠، ٤٥٩)، سنن الدارمی/الاستئذان ٦٢ (٢٧٤٠) (صحیح )
3733Sunan Ibne-Majah

نام بدلنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ كَانَ يُقَالُ لَهَا: عَاصِيَةُ، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيلَةَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ کی ایک بیٹی کا نام عاصیہ تھا (یعنی گنہگار، نافرمان) تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔

It was narrated from Ibn Umar that a daughter of Umar was called Asiyah (disobedient), then the Messenger of Allah( ﷺ saw) named her Jamilah (beautiful). (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الآداب ٣ (٢١٣٩)، (تحفة الأشراف: ٧٨٧٦)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأدب ٧٠ (٤٩٥٢)، سنن الترمذی/الأدب ٦٦ (٢٨٣٨)، سنن الدارمی/الاستئذان ٦٢ (٢٧٣٩) (صحیح )
3734Sunan Ibne-Majah

نام بدلنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ اسْمِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ،فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ.

عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرا نام اس وقت عبداللہ بن سلام نہ تھا، آپ ﷺ نے ہی میرا نام عبداللہ بن سلام رکھا۔

It was narrated that Abdullah bin Salam said: "I came to the Messenger of Allah( ﷺ saw), and My name was not Abdullah bin Salam. The Messenger of Allah( ﷺ saw) named me Abdullah bin Salam."

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٣٤٥، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٥، ٥/٨٣، ٤٥١) (منکر) (سند میں ابن اخی عبد اللہ بن سلام مبہم راوی ہیں )
3735Sunan Ibne-Majah

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسم مبارک اور کنیت دونوں کا بیک وقت اختیار کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ابوالقاسم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ۔

It was narrated from Muhammad that the heard Abu Hurairah (RA) say: "Abul-Qasim(ra) said: Call yourselves by my name but do not call yourselves by my Kunyah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١٠)، والأدب ١٠٦ (٦١٨٨)، صحیح مسلم/الآداب ١ (٢١٣٤)، سنن ابی داود/الأدب ٧٤ (٤٩٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٤٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٤٨، ٢٦٠ ٢٧٠، ٣٩٢، ٥١٩)، سنن الدارمی/الاستئذان ٥٨ (٢٧٣٥) (صحیح )
3736Sunan Ibne-Majah

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسم مبارک اور کنیت دونوں کا بیک وقت اختیار کرنا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے نام پر نام رکھو، لیکن میری کنیت پر کنیت نہ رکھو ۔

It was narrated from Jabir that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: Call yourselves by my name but do not call yourselves by my Kunyah." (Sahih)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٢٣٣٣)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس ٧ (٣١١٤)، صحیح مسلم/الآداب ١ (٢١٣٣)، سنن الترمذی/الأدب ٦٨ (٢٨٤٢) (صحیح )