Sunan Ibne-Majah 3729

آداب کا بیان۔

3729Sunan Ibne-Majah

ناپسندیدہ نام

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، لَأَنْهَيَنَّ أَنْ يُسَمَّى رَبَاحٌ، وَنَجِيحٌ، وَأَفْلَحُ، وَنَافِعٌ، وَيَسَارٌ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں زندہ رہا تو انشاء اللہ رباح (نفع) ، نجیح (کامیاب) ، افلح (کامیاب) ، نافع (فائدہ دینے والا) اور یسار (آسانی) ، نام رکھنے سے منع کر دوں گا ١ ؎۔

It was narrated from Umar bin Khattab that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "If I live - if Allah wills - I will forbid the names Rabah (profit), Najih (saved), Aflah (successful), Nafi (beneficial) and Yasar (prosperity)." (Sahih)

Notes · وضاحت
ایک حدیث میں اس ممانعت کی یہ حکمت بیان کی گئی ہے کیونکہ تو کہے گا: کیا وہ یہاں موجود ہے؟ وہ نہیں ہوگا تو (جواب دینے والا) کہے گا نہیں۔ (صحیح مسلم) مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی پوچھے کہ گھر میں نافع ہے اور جواب میں کہا جائے کہ موجود نہیں۔ گویا آپ نے یہ کہا کہ گھر میں فائدہ دینے والا کوئی شخص موجود نہیں، سب نکمے ہیں۔ اگرچہ متکلم کا مقصد یہ نہیں ہوگا، تاہم ظاہری طور پر ایک نامناسب بات بنتی ہے، لہذا ایسے نام رکھنا مکروہ ہے لیکن حرام نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٦٥ (٢٨٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٤٢٣، ومصباح الزجاجة: ١٣٠٥) (صحیح )