Sunan Ibne-Majah 3753

آداب کا بیان۔

3753Sunan Ibne-Majah

وعظ کہنا اور قصے بیان کرنا۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ، إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں کو وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو حاکم ہو، یا وہ شخص جو حاکم کی جانب سے مقرر ہو، یا جو ریا کار ہو ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah( ﷺ saw) said: "No one tells stories to the people (for the purpose of exhortation) except a ruler, one appointed by a ruler, or a show-off." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: اور ریاکار وہ ہے جو لوگوں میں اپنی ناموری اور شہرت کے لئے وعظ کہتا ہے، اور لوگوں کو بری بات سے منع کرتا ہے، اور خود سب سے زیادہ برے کاموں میں پھنسا رہتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٧، ومصباح الزجاجة: ١٣١٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٨، ١٨٣)، سنن الدارمی/الرقاق ٦٣ (٢٨٢١) (صحیح) (اس حدیث کی سند میں عبد اللہ بن عامر الاسلمی ضعیف ہیں، لیکن دوسری سند سے تقو یت پاکر یہ صحیح ہے )