Explained with ayahs 95–98
گائے پرست سامری اور بچھڑا۔
حضرت موسیٰ ؑ نے سامری سے پوچھا کہ تو نے یہ فتنہ کیوں اٹھایا ؟ یہ شخص باجروکا رہنے والا تھا اس کی قوم گائے پرست تھی۔ اس کے دل میں گائے محبت گھر کئے ہوئے تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کے ساتھ اپنے ایمان کا اظہار کیا تھا۔ اس کا نام موسیٰ بن ظفر تھا ایک روایت میں ہے یہ کرمانی تھا۔ ایک روایت میں ہے اس کی بستی کا نام سامرا تھا اس نے جواب دیا کہ جب فرعون کی ہلاکت کے لئے حضرت جبرائیل ؑ آئے تو میں نے ان کے گھوڑے کے ٹاپ تلے سے تھوڑی سی مٹی اٹھا لی۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات یہی ہے حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ آئے اور حضرت موسیٰ ؑ کو لے کر چڑھنے لگے تو سامری نے دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
سورة طٰهٰ 75
موسیٰ ؑ کا قصہ ختم کر کے اب پھر تقریر کا رخ اس مضمون کی طرف مڑتا ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک مرتبہ پلٹ کر سورة کی ان ابتدائی آیات کو پڑھ لیجیے جن کے بعد یکایک حضرت موسیٰ کا قصہ شروع ہوگیا تھا۔ اس سے آپ کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آجائے گی کہ سورة کا اصل موضوع بحث کیا ہے، بیچ میں قصہ موسیٰ کس لیے بیان ہوا ہے۔ اور اب قصہ ختم کر کے کس طرح تقریر اپنے موضوع کی طرف پلٹ رہی ہے۔
سورة طٰهٰ 76
یعنی یہ قرآن، جس کے متعلق آغاز سورة میں کہا گیا تھا کہ یہ کوئی ان ہونا کام تم سے لینے اور تم کو بیٹھے بٹھائے ایک مشقت میں مبتلا کردینے کے لیے نازل نہیں کیا گیا ہے، یہ تو ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
فَاِنَّ لَكَ فِي الْحَيٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ، حضرت موسیٰ ؑ نے سامری کے لئے دنیا کی زندگی میں یہ سزا تجویز کی کہ سب لوگ اس سے مقاطعہ کریں کوئی اس کے پاس نہ جاوے اور اس کو بھی یہ حکم دیا کہ کسی کو ہاتھ نہ لگائے اور زندگی بھر اسی طرح وحشی جانوروں کی طرح سب سے الگ رہے۔ یہ سزا ہوسکتا ہے کہ ایک قانون کی صورت میں ہو جس کی پابندی اس پر اور دوسرے سب بنی اسرائیل پر منجانب موسیٰ ؑ لازم کردی گئی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ قانونی حیثیت کی سزا سے آگے خود اس کی ذات میں بقدرت خداوندی کوئی ایسی بات پیدا کردی گئی ہو کہ نہ وہ دوسروں کو چھو سکے نہ کوئی دوسرا اس کو چھو سکے جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ…
Read the full tafseer →یعنی اس بچھڑے کو جن لوگوں نے معبود بنایا انہوں نے اپنی شامت بلائی تمہارا معبودیہ بچھڑا نہیں بلکہ صرف وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وسع کل شی علماً توحید کی دلیل ہے کہ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے دائرہ علم سے خارج نہیں ہے تو وہ اپنا کسی کو شریک کیوں بنائے اور دوسرے اس کا کسی کو شریک کیوں قرار دیں۔ جب وہ سب کچھ سنتا جانتا ہے تو وہ تنہا کافی ہے۔ کسی اور کی احتیاج کہاں باقی رہی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
99۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے فرعون و موسیٰ ؑ کا قصہ بیان کیا، اسی طرح انبیاء کے حالات ہم آپ پر بیان کر رہے ہیں تاکہ آپ ان سے باخبر ہوں، اور اس میں عبرت کے پہلو ہوں، انھیں لوگوں کے سامنے نمایاں کریں تاکہ لوگ اس کی روشنی میں صحیح رویہ اختیار کریں۔
99۔ 2 نصیحت (ذکر) سے مراد قرآن عظیم ہے۔ جس سے بندہ اپنے رب کو یاد کرتا، ہدایت اختیار کرتا اور نجات وسعادت کا راستہ اپناتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
41: سامری کے جرم کی سزا اس کو یہ دی گئی کہ تمام لوگ اس کا بائیکاٹ کریں، نہ کوئی اسے چھوئے اور نہ وہ کسی کو ہاتھ لگائے۔ اب یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو یہ سزا قانونی حکم کے ذریعے دی گئی ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے، جیسا کہ بعض روایات میں آیا بھی ہے، کہ اس کے جسم میں کوئی ایسی بیماری پیدا ہوگئی تھی کہ کوئی شخص اسے ہاتھ لگاتا تو اس کو بھی اور ہاتھ لگانے والے کو بھی بخار چڑھ جاتا۔
42: اس سے مراد آخرت کے عذاب کا وعدہ ہے۔
Read the full tafseer →اسلامی عقیدے کے بارے میں اس وضاحت کے ساتھ ہی اس سورة میں قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ حصہ اب ختم ہوتا ہے۔ اس قصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ حاملین دعوت اسلامی پر اللہ کی رحمتوں کی بارش ہر طرف سے ہوتی ہے۔ اگرچہ ابتداء میں ان سے کوئی غلطی بھی ہوجائے۔ اس کے بعد اس قصے کے دوسرے مراحل کو یہاں ترک کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ بنی اسرائیل نافرمانیاں کرتی ہیں ، اور ان پر ایک کے بعد ایک عذاب آتا ہے۔ چونکہ یہاں رحمت اور مہربانی اور نوازشات کا موضوع ہے اور یہ رحمتیں اللہ کے نیک بندوں پر ہوتی ہیں ، اسلئے اس قصے کی وہ کڑیاں جن میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا تذکرہ آتا ہے ، ان کا ذکر چونکہ…
Read the full tafseer →1 باطل کو مٹانے کے ساتھ ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کو حق کی طرف بلاتے جاتے ہیں یعنی بچھڑا تو کیا چیز ہے کوئی بڑی سے بڑی چیز بھی معبود نہیں بن سکتی، سچا معبود تو وہ ہی ایک ہے جس کے سوا کسی کی بندگی عقلاً و نقلاً و فطرۃً روا نہیں اور جس کا لامحدود علم ذرہ ذرہ کو محیط ہے۔
Read the full tafseer →وَسِعَ کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا ”
اسرائیلی قوم کے بگڑے ہوئے عقائد اور ان کی عمومی ذہنیت کی جو تفصیلات ہمیں قرآن سے ملتی ہیں اگر ان کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہندو برہمن کی سوچ ‘ ذہنیت اور عقائد کی اس سے بہت قریبی مشابہت نظر آتی ہے۔ اس سلسلے میں میری ذاتی رائے ہے کہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال قبل چودہ سو سال قبل مسیح کے لگ بھگ جب آریا نسل کے لوگ ہندوستان کی طرف محو سفر تھے تو ان کے ساتھ کسی مقام پر کچھ اسرائیلی قبائل بھی شامل ہوگئے تھے۔ یہ تقریباً وہی زمانہ تھا جب مصر سے بنی اسرائیل کا خروج Exodus ہوا۔ بنی اسرائیل کی تاریخ میں ان کے کچھ ایسے قبائل کا ذکر ملتا ہے جنہیں وہ اپنے گم شدہ قبائل The lost…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
67 یعنی اس کو موسیٰ (علیہ السلام) نے اچھوت قرار دے دیا کہ کوئی شخص اس سے کسی قسم کا بھی تعلق نہ رکھے۔ پھر اس کے لئے مزید سزا یہ تھی کہ وہ خود دوسروں سے کہتا تھا کہ مجھ سے پرے رہنا، مجھ سے بچ کر رہنا، مجھے ہاتھ نہ لگانا، میں ناپاک ہوں لہذا مجھے نہ چھونا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اگر کوئی سامری کو ہاتھ لگاتا یا اسے چھوتا تو سامری کو اور چھونے والے کو دونوں کو تپ چڑھ جاتی تھی۔ لہذا سامری اس بات پر مجبور تھا کہ دوسروں سے کہے کہ مجھے ہاتھ نہ لگانا، ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے یہ بھی بتلا دیا کہ یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے اس جرم کی پوری سزا ہوچکی بلکہ آخرت میں جو تجھے عذاب ہونے والا ہے وہ بھی کبھی…
Read the full tafseer →117۔ (اور وہی اپنے بندوں میں سے جس کو جتنا چاہے علم عطا فرمادے) گوسالہ کی عبودیت کی تردید کرتے کرتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی تقریر کو خاص سے عام کردیا ہے۔ گویا آپ یہ فرما رہے ہیں کہ اس بےجان گوسالہ کی تو کیا بساط ہے، دنیا کی کوئی چیز بھی معبود بننے کے قابل نہیں اور صفات قدرت وغیرہ الگ رہیں۔ ایک علم ہی کو لو، اس صفت میں بھی تو کوئی اس کا ہمسر نہیں، کامل علم تو صرف اسی کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
آیت نمبر 90 تا 104
ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا…
Read the full tafseer →انما الہکم اللہ الذی لا الہ الا ہو وسع کل شی علما حقیقت میں تمہارا معبود یعنی تمہاری
عبادت کا مستحق صرف اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (کیونکہ علم کی ہمہ گیری اور کمال قدرت میں کوئی اس جیسا نہیں بلکہ اس کی برابری کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا) اس کا علم ہر چیز کو (اپنے اندر) سمائے ہوئے ہے۔ یہ بچھڑا معبود کیسے ہوسکتا ہے جس کو اوّل سونے چاندی کو پگھلا کر ڈھالا گیا بنایا گیا پھر اس کو جلا کر خاک بنایا جائے گا اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو اتنا بیوقوف ہوتا کہ لوگ بےوقوفی میں اس کو ضرب المثل بناتے (اور کہتے یہ بیل ہے)
Read the full tafseer →(98) تمہارا معبود حقیقی تو وہی اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اور وہ ہمارا پروردگار اپنے علم سے تمام چیزوں سے تمام جزیوں کو احاطہ میں کیے ہوئے ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّمَآ اِلٰــهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ ۭ۔۔ : یہ موسیٰ ؑ کا کلام ہے جنھوں نے سامری سے خطاب کے بعد اپنی امت کے لوگوں کو مخاطب فرمایا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے معبود برحق ہونے کی دو دلیلیں بیان ہوئی ہیں، ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ اس صفت میں ساری صفات آجاتی ہیں، تفصیل اس کی علم کلام کی کتابوں میں ”لا الٰہ الا اللہ“ کی تشریح میں مذکور ہے۔ دوسری دلیل خاص صفت علم ہے جس کے گھیرے سے کوئی چیز باہر نہیں۔ ”وَسِعَ“ کا لفظ اس لیے استعمال فرمایا کہ گھیرا ڈالنے والی چیز میں اس کے اندر والی چیز سے زیادہ گنجائش ہوتی ہے۔ (ابن عاشور) جو ”كُلَّ شَيْءٍ“ سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–104
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فاذھب یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہمارے درمیان سے چلا جا۔ فان لک فی الحیوۃ ان تقول لامساس زندگی بھر تو یہی کہتا رہے گا کہ مجھے کوئی نہ چھوئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنی قوم سے نکال دیا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ نہ ملیں اور نہ اس کے قریب جائیں اور نہ اس سے کلام کریں۔ یہ اس کے یے بطور سزا تھا۔ شاعر نے کہا :
تمیم کر ھط السامری وقولہ الا لا یرید السامری مساسا
حسن نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سامری کی سزا یہ بنائی کہ لوگوں کو وہ نہ چھوئے اور نہ لوگ اسے چھوئیں، یہ اس کے لیے اور جو اس میں سے قیامت تک ہوگا سب کے لیے سزا ہے۔ گویا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–110
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’‘’ وسع کل شیء علما “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کو بھرپور علم ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد اتینک من لدنا ذکرا “ سے مراد ہے قرآن۔
3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحمل یوم القیمۃ وزرا “ سے مراد ہے گناہ۔
4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ برابوجھ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے اعمال…
Read the full tafseer →[انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اِلٰــهُكُمُ : تم لوگوں کا اِلٰہ ] [اللّٰهُ الَّذِي : وہ اللہ ہے جس کے سوا ] [لَآ اِلٰهَ : کوئی اِلٰہ نہیں ] [اِلَّا : مگر ] [هُوَ : وہی ] [وَسِعَ : وہ کشادہ ہوا ] [كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [عِلْمًا : بلحاظ علم کے ]
نوٹ۔ 1 حُبِّ جاہ و ریاست میں سامری نے بچھڑے کا ڈھونگ رچایا تھا تاکہ لوگ اس کے ساتھ ہوں اور سردار مانیں۔ اس کے مناسب سزا ملی کہ کوئی پاس نہ پھٹکے۔ جو قریب جائے وہ خود دور رہنے کی ہدایت کرے۔ اور دنیا میں بالکل ایک ذلیل، اچھوت اور وحشی جانور کی طرح زندگی گزارے۔ (ترجمۂ شیخ الہند)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سامری سے خطاب، اس کے لیے بددعا کرنا اور اس کے بنائے ہوئے معبود کو جلا کر سمندر میں بکھیر دینا
حضرت ہارون (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے خطاب اور عتاب سے فارغ ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تیرا کیا حال ہے یہ حرکت تو نے کیوں کی کس طرح سے کی ؟ اس پر اس نے جواب دیا کہ میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسرے لوگوں کو نظر نہ آئی، میں نے اس میں سے ایک مٹھی اٹھالی اور جو مٹھی بھری تھی وہ اس مجسمہ میں ڈال دی جو میں نے چاندی سونے سے بنایا تھا علماء تفسیر نے لکھا ہے کہ سامری بھی بنی اسرائیل میں سے تھا اور ایک قول یہ ہے کہ ان میں سے نہیں تھا بلکہ قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–98
موسیٰ (علیہ السلام) کی کوہ طور سے واپسی اور گوسالہ پرستی کا واقعہ
قال اللہ تعالیٰ وما اعجلک عن قومک یموسی .... الیٰ .... وسع کل شیء علما۔
القصہ جب فرعون غرق ہوگیا۔ تو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ استدعا کی کہ ہمارے لیے کوئی دستور ہدایت اور قانون شریعت چاہئے کہ ہم اس پر چلیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے درخواست کی، حق تعالیٰ نے توریت عطا کرنے کا وعدہ فرمایا کہ ہم تم کو ایسی کتاب عطا کریں گے۔ جس میں احکام شریعت جمع ہوں گے اور یہ حکم۔ یا کہ ستر علماء اپنے ہمراہ لے کر کوہ طور پر آئیں تاکہ وہ اس کرامت کا جلوہ دیکھیں۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی جگہ پر تو ہارون…
Read the full tafseer →72:۔ یہ پانچویں آیت توحید ہے گوسالہ سامری کا عجز اور اس کی بےبسی ظاہر کرنے کے بعد توحید اور معبود حق کا اعلان فرمایا اور کلام کا رخ سامری سے تمام بنی اسرائیل کی طرف موڑ دیا کہ تمہارا معبود تو صرف اللہ ہے۔ جس کے سوا کوئی الوہیت کے لائق نہیں اور کوئی الہ اور معبود بننے کے قابل نہیں، جس کا علم ہر چیز پر حاوی اور ساری کائنات کو محیط ہے اور وہ ہر چیز پر قادر اور علی الاطلاق مختار و متصرف ہے اور یہ گوسالہ جماد اور محض بےجان ہے بھلا یہ کیونکر معبود ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
ربط آیات :
موسیٰ (علیہ السلام) کتاب لے کر کوہ طور سے واپس آئے تو قوم کو شرک میں مبتلا دیکھ کر سخت برہم ہوئے۔ پہلے اپنے بھائی کو سرزنش کی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو بےقصور ہیں۔ انہوں نے تو افہام و تفہیم کی پوری کوشش کی تھی مگر قوم نہ مانی اور الٹا ان کے قتل کے درپے ہوئے۔ ہارون (علیہ السلام) نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ ایمان والوں کو ساتھ لے کر باقی قوم سے الگ ہوجائیں اور کوہ طور کی طرف چل دیں۔ انہیں خطرہ تھا کہ جماعت میں ایسا تفرقہ پیدا ہوجائے گا جس کی اصلاح ناممکن ہوجائے گی۔ بہرحال جب موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے بھائی کی بےگناہی کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے اور بھائی کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا…
Read the full tafseer →اِنَّمَآ اِلٰــہُكُمُ اللہُ الَّذِيْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ 0ۭ وَسِعَ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا 98
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . وإله جعلوه اسما لکل معبود لهم،
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
وسع
السَّعَةُ تقال في الأمكنة، وفي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
1 ؎ جو چھوئے گا اس کو تپ چڑھ جائے گی جزامیوں کی طرح لوگوں سے دور رہا کرے گا کوئی بھی تیرے پاس نہ پھٹکے گا یہ بڑی سزا تھی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اِنَّمَآ اِلٰـھُکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ ط وَسِعَ کُلَّ شَیْ ئٍ عِلْمًا۔ (طٰـہٰ : 98)
(اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تمہارا خدا تو بس ایک ہی اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا علم ہر چیز پر حاوی ہے۔ )
اِلٰہ صرف اللہ ہے، اس پر دلیل
اس سے بڑی جہالت اور کیا ہوگی کہ انسان مخلوقات کا گل سرسبد ہونے کے باوجود اسے اپنا معبود بنا لے جسے اس کی خوراک اور ضرورت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ گائے انسان کو دودھ مہیا کرتی ہے اور گائے کے بچھڑے انسان کی خوراک کے کام آتے ہیں اور بعض دفعہ باربرداری کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ وہ انسان جو ان تمام مخلوقات کا مخدوم بنایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
فہم القرآن
ربط کلام : معبود باطل کی حیثیت بتلانے اور اس کا انجام دکھلانے کے بعد سچے معبود کا تعارف کر وایا گیا ہے۔
یہ کتنی عظیم حقیقت ہے کہ قرآن مجید میں کوئی ایک واقعہ بھی داستاں گوئی کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے سوا باقی تمام واقعات کو اجزاء کی شکل میں مختلف مقامات پر بیان کرتے ہوئے موقع اور مضمون کی مناسبت سے ایسی نصیحت کی جاتی ہے جو انسان کے دل پر اثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اسی اصول کے پیش نظر یہاں پہلے معبود باطل یعنی بچھڑے کے بارے میں بتلایا کہ ناعاقبت اندیش لوگوں نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی کہ بچھڑے کا مجسمہ نہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ہی…
Read the full tafseer →98: اِنَّمَآ اِلٰھُکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَ وَسِعَ کُلَّ شَیْ ئٍ عِلْمًا (حقیقت میں تمہارا معبود صرف وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں اس کا علم ہر چیز پر وسیع ہے) علمًا یہ تمیز ہے یعنی اس کا علم ہر چیز پر ہاوی ہے۔
Read the full tafseer →98۔ انما الھکم اللہ الذی لاالہ الاھو وسع کل شئی علما۔ ہرچیز کا علم اس کے پاس ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–98
95۔ 98:۔ بنی اسرائیل اور ہارون (علیہ السلام) پر خفا ہونے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے جو خفگی کی باتیں کی تھیں ان آیتوں میں ان کا ذکر ہے حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے سامری سے پوجھا تو نے یہ بچھڑا بنانے کا فساد کیوں پھیلایا سامری نے جواب دیا کہ فرعون کے ڈوبنے کے وقت جبرئیل (علیہ السلام) جب گھوڑی پر سوار ہو آئے تو بنی اسرائیل میں سے کسی نے ان کو نہیں دیکھا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے انہیں مجھے دکھا دیا اور میرے دل میں یہ بات سمائی کہ میں نے ان کے گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹی میں سے ایک مٹھی مٹی اٹھا لی اور جب میں نے زیور کا بچھڑا بنایا تو میرے دل میں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
آیات (98)
یعنی تمہارا کریم کے سوا کوئی معبود نہی، صرف اسی کے ساتھ محبت کی جائے، اسی پر امیدیں رکھی جائیں، اسی سے ڈرا جائے اور اسی کو پکارا جائے۔ وہی کامل ہستی ہے جو اسماء حسنیٰ اور اوصاف عالیہ کی مالک ہے۔ اس کے علم نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ بندوں پر جتنی بھی نعمتیں ہیں صرف اسی کی عطا کردہ ہیں۔ صرف وہی ہے جو تمام تکالیف کو دور کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →100 اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر حاوی اور اس کو محیط ہے : اس کائنات کا کوئی ذرہ اس کے علم سے باہر نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جب اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی بلاشرکت غیر تنہا وہی ہے اور جب اس میں حکم وتصرف بھی اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے اور جب اس پوری کائنات کا کوئی ذرہ بھی اس کے علم سے باہر نہیں ہوسکتا تو پھر اس کا طبعی اور لازمی نتیجہ اور منطقی اثر یہی ہے اور یہی ہونا چاہیئے کہ معبود برحق بھی وہی وحدہ لاشریک ہو۔ پس اس کی عبادت و بندگی میں کوئی بھی اس کا شریک وسہیم نہیں۔ اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–98
دریا کا پھٹنا، فرعون کا غرق ہونا، من و سلوٰی کا نزول اور بچھڑے کی پوجا
تشریح : ان آیات میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا وہ حصہ بیان کیا گیا ہے۔ جس میں آپ کو حکم دیا گیا کہ ” میرے بندوں کو، ، اس سے مراد بنی اسرائیل اور مسلمان ہیں۔ ان لوگوں پر فرعون حد سے زیادہ ظلم کرتا تھا لے کر نکل جاؤ، لہٰذا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سب کو اکٹھا کیا اور رات کی تاریکی میں نکل پڑے جب سمندر کے کنارے پہنچے تو فرعون کا لشکر ان کے تعاقب میں آپہنچا۔ ظاہر ہے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے خطرے اور پانی کے ڈر سے گھبرائے تو اس وقت ایک اور بہت بڑا معجزہ وجود میں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ سے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ف 1 اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ ان پر لدار رہے گا۔ یہ وعید ہے۔2 یہ اس دہشت اور سراسیمگی کی کیفیت کا ذکر ہے جس میں یہ مشرک اور کافر قیاتم کے روز مبتلا ہوں گے۔ قیامت کے دن مختلف احوال اور مقامات ہوں گے جن کا متعدد آیات میں ذکر پایا جاتا ہے اور ان ماقمات میں کفار کی مختلف حالتیں ہوں گی۔ لہٰذا ان آیات میں تعارض نہیں ہے۔ (کذا فی الشور کافی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
(20:97) لا مساس۔ مصدر منصوب بوجہ عمل لا۔ باب مفاعلہ۔ نہ کوئی مجھے چھوئے نہ میں کسی کو چھوئوں ۔ یعنی باہم چھونا ہی نہ ہو۔ المس کے معنی چھونا کے ہیں اور یہ لمس کے ہم معنی ہے۔ لیکن گاہے لمس کے معنی کسی چیز کو تلاش کرنے کے بھی آتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل بھی جاوے۔ لیکن مس کا لفظ اس وقت استعمال ہوتا ہے مثلاً وان طلقتموھن من قبل ان تمسوہن (2: 237) اور اگر تم عورتوں کو ان سے مجامعت سے پہلے طلاق دے دو ۔ مس بمعنی چھونا۔ پہنچانا۔ اور حق ہونا کے معنی میں بھی آتا ہے۔
لن تخلفہ۔ مضارع منفی مجہول مؤکد بلن۔ واحد مذکر حاضر۔ ہُ ضمیر واحد مذکر غائب اس کا مرجع موعدا ہے۔ ترجمہ۔ تم سے اس کی بابت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–98
لغات القرآن آیت نمبر 90 تا 98
فتنتم تم آزمائش میں ڈالے گئے۔ لننبرح ہم ہرگز نہ کریں گے۔ عکفین جم کر بیٹھنے والے۔ عصیت تو نے نافرمانی کی۔ یا بنوم اے میری ماں کے بیٹے۔ لاحیۃ داڑھی۔ خشیت میں ڈر گیا۔ فرقت تو نے تفرقہ ڈال دیا۔ لڑا دیا۔ خطبک تیرا کہنا، تیرا حال۔ بصرت میں نے دیکھا۔ قبضت میں نے اٹھا لیا۔ اثر الرسول فرشتے کا قدم، فرشتے کا نشان قدم۔ سولت گھڑ لیا، پھسلا دیا۔ لامساس نہ چھونا، ہاتھ نہ لگانا۔ ظلت تو (بیٹھا) رہا۔ نحرقن ہم ضرور جلا ڈالیں گے۔ ننسفن ہم ضرور بکھیر دیں گے۔
تشریح :- آیت نمبر 90 تا 98
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر پہنچ گئے اس وقت بنی اسرائیل کے اکثر لوگوں نے سامری کے فریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کئے گئے ہیں، اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے۔ تاکہ اہل کتاب ان قصوں کو اپنی کتابوں کے موافق پا کر اور مشرکین مکہ یہ غیب کی باتیں امی رسول ﷺ سے سن کر قرآن کو اللہ کا کلام ، اور جن پر یہ کلام اترا ہے ان کو اللہ کا سچا رسول جان لیں۔ پھر فرمایا ” ایسی سیدھی بات سمجھانے کے بعد بھی جو کوئی قرآن کو اللہ کا کلام نہ مانے گا، اور اس کی نصیحت کو قبول کرنے سے منہ پھیرے گا، تو قیامت کے دن ایسے گناہوں کے بوجھ کے نیچے یہ لوگ دبے ہوئے ہوں گے۔ جس بوجھ کی سزا میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے۔ پھر فرمایا :” قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
[43] یعنی کوئی اس کے پاس نہ پھٹکے اور جو اس کے قریب جائے اسے وہ خود دور رہنے کی ہدایت کرے اور اس طرح اس دنیا میں بالکل ایک ذلیل، اچھوت اور وحشی جانور کی طرح زندگی گزارے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–98
(ف 1) سامری نے جو یہ قصہ سنایا ہے کہ میں نے جبریل (علیہ السلام) کے نقش قدم کو دیکھ لیا تھا ، اور ایک مٹھی مٹی وہاں سے اٹھالی تھی اور اس قالب میں ڈال دی تھی ، تاکہ اس میں آواز پیدا ہوجائے ، یا تقدیس آجائے ، یہ محض اس کا اپنا وہم تھا ، جیسا کہ اس نے خود تصریح کردی ہے کہ میرے نفس نے مجھے یونہی سمجھا دیا تھا ، ورنہ قرآن حکیم نے اس بات کی صراحت نہیں فرمائی کہ اس مٹی کی وجہ سے اس میں آواز پیدا ہوگئی تھی ، نہ قرآن میں یہ مذکور ہے کہ جبرئیل کے نقش پا میں یہ تاثیر ہے ۔
ابو مسلم اصفہانی نے ” بصرت “ کے معنی علم کے لئے ہیں ، اور فقبضت قبضۃ من اثر ال رسول “۔ کے معنے سنت موسیٰ کی پیروی کے قرار دیئے ہیں ،…
Read the full tafseer →-98 بس تمہارا معبود حقیقی تو صرف اللہ تعالیٰ ہے اس کے سوا کوئی اور عبادت اور پرستش کے قابل نہیں وہ اللہ تعالیٰ ازروئے علم تمام چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یعنی اس کے احاطہ علمی سے کوئی چیز باہر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–102
ف 9۔ تاکہ نام و نشان اس کا نہ رہے۔
Read the full tafseer →معبود تمہارا صرف اللہ ہے جو ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے :
98۔ جن لوگوں کا پیچھے ذکر ہو رہا تھا یعنی بنی اسرائیل کا اور سامری اور اس کے ساتھیوں کا ان کو مخاطب کرکے کہا جارہا ہے کہ تم سب کا معبود تو اللہ تعالیٰ ہے اور اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کیونکہ اس کا علم سب پر محیط ہے اور کوئی چیز اس کے دائرہ علم سے خارج نہیں ہے وہ کسی کو اپنا شریک کیوں بنائے ؟ اور دوسروں کو کیا حق ہے کہ وہ اس کے ساتھ کسی اور شریک ٹھہرائیں ۔ اس نے ہرچیز کو پیدا کیا اور وہی ہرچیز کا روزی دینے والا ہے اور ہر ایک چیز کا نگہبان اور محافظ بھی وہ خود ہے اس نے ہرچیز کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا کہ ان کا انتظام کرنے کے لئے اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–98
لَكَ فِي الْحَيَاةِ أَن تَقُولَ لَا مِسَاسَ
For your fate in this life is to say: 'Do not touch me'.- 20:97
The punishment proposed by Sayyidna Musa (علیہ السلام) for Samiri in this world was that everyone should sever all contacts with him and not to come near him, and he too was commanded not to touch anyone. Thus he was condemned to spend the rest of his life away from all social contacts - like a wild animal. Whether this punishment was awarded to him by Sayyidna Musa (علیہ السلام) by means of a law which was binding on Samiri as well as on the Bani Isra'il, or whether Samiri was smitten…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
75. Now that the story of Prophet Moses (peace be upon him) comes to an end, the same theme, that was interrupted by this story, has been resumed.
76. That is, the Quran about which it was said at the beginning of the Surah that it had not been sent down to put the Holy Prophet (peace be upon him) in distress, and that it was an admonition for the God-fearing.
Read the full tafseer →