20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 20:1
طہ ط اور ہ حروف کے نام ہیں اس کی بحث سورة بقرہ کے شروع میں مفصل گزر چکی ہے۔ بعض کے نزدیک اللہ کا نام ہے اور اس جگہ اس کا ذکر بطور قسم ہے (یعنی طہ کی قسم جیسے رسول اللہ نے فرمایا تھا خم لا یُنْصَرُوْنَ (حم کی قسم ان کافروں کی مدد نہیں کی جائے گی یہ فتحیاب نہیں ہوں گے) ابو داؤد ترمذی نسائی اور حاکم نے حضرت براء بن عازب کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خندق کی رات کو فرمایا حٰم لَا یُنْصَرُوْن۔ مقاتل بن حبان نے کہا طہٰ کا معنی ہے زمین کو اپنے دونوں قدموں سے پامال کرو۔ یعنی تہجد کی نماز میں (دونوں پاؤں زمین پر قائم رکھو) ابن مردویہ نے تفسیر میں اور بزار نے حضرت علی کی روایت سے بیان کیا کہ جب یٰاَیُّہَا الْمُزَّمِلُّ قُمِ اللَّیْلَ الاَّ قَلِیْلاً : نازل ہوئی تو اس کے بعد رسول اللہ ﷺ : تمام رات (نماز میں) کھڑے رہنے لگے یہاں تک کہ آپ کے پاؤں سوج گئے (تکلیف کی وجہ سے) آپ ایک پاؤں ٹیکتے تھے تو دوسرا اٹھا لیتے تھے اس پر جبرئیل ( علیہ السلام) اترے اور کہا طہٰ یعنی اے محمد ﷺ اپنے دونوں قدم زمین پر رکھو۔ مجاہد ‘ عطا اور ضحاک نے کہا طہٰ کا معنی ہے اے مرد ‘ قتادہ نے کہا سریانی زبان میں اس کا معنی اے مرد ہی ہے ‘ کلبی نے کہا عک (قبیلۂ عکل) کے محاورے میں طہٰ کا ترجمہ ہے اے انسان۔ موخر الذکر دونوں صورتوں میں طہٰ کے لفظ سے خطاب رسول اللہ ﷺ : کو ہوگا اسی لئے بعض لوگوں نے طہٰ کو رسول اللہ ﷺ کے ناموں میں سے شمار کیا ہے کیونکہ آیت میں طہٰ سے کنایہ آپ ہی کی ذات سے ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کلبی کا قول ہے کہ جب مکہ میں رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ عبادت میں زیادہ سرگرم رہنے لگے نماز میں طویل قیام کی وجہ سے کبھی ایک پاؤں ٹیکتے کبھی دوسرا اٹھاتے اور دوسرا ٹیکتے تو پہلا اٹھا لیتے تھے اور رات بھر نماز میں مشغول رہتے تھے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 20:2

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) ہم نے تم پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ

ما انزلنا علیک القرآن لتشقی۔ ہم نے آپ پر قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ آپ (قیام کرتے کرتے) تھک جائیں صاحب قاموس نے لکھا ہے شقاء کا معنی ہے سختی اور تنگی۔ جوہری نے لکھا ہے شقاوت ‘ سعادت کا عکس ہے اور جس طرح سعادت کی دو قسمیں ہیں دنیوی اور اخروی اسی طرح شقاوت بھی دو طرح کی ہوتی ہے دنیوی اور آخروی۔ پھر سعادت دنیوی تین طرح کی ہوتی ہیں نفسانی ‘ جسمانی ‘ بیرونی اسی طرح شقاوت دنیوی کی بھی یہی تین قسمیں ہیں دنیوی جسمانی شقاوت تھکان ہے اور آیت میں یہی مراد ہے۔ (گویا صاحب قاموس کے نزدیک تشقی کا مصدر شقاء ہے اور جوہری کے نزدیک شقاوۃٌ) بعض علماء کا قول ہے کہ تعب کی بجائے شقاء کا لفظ بھی مستعمل ہے بیضاوی نے لکھا ہے ‘ تعب کے معنی میں شقاء کا لفظ عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہو اشقی من رابض المہر : اور سید القوم اشقاہم : مشہور کہاوتیں مستعمل ہیں۔ شاید تتعب کے بجائے تشقی کا لفظ ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہو کہ قرآن کا نزول آپ کے سعادت یاب ہونے کے لئے کیا گیا ہے نہ کہ شقاء کے لئے۔ ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ شروع شروع میں جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو نماز میں آپ قدموں کے سروں (پنجوں) کے بل کھڑے ہوتے تھے اس پر نازل ہوا ‘ طٰہٰ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْآنَ لِتَشْقٰی۔ عبد بن حمید نے رابع بن انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھتے تو ایک ٹانگ ٹیکے رکھتے اور دوسری اٹھا لیتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض علماء نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ کافروں نے جب دیکھا کہ رسول اللہ عبادت میں بہت زیادہ مشقت اٹھا رہے ہیں تو کہنے لگے محمد قرآن تم پر صرف اس لئے نازل ہوا ہے کہ تم مشقت اٹھاؤ (یا تمہاری شقاوت کے لئے قرآن نازل ہوا ہے) اس قول کی تردید اور تکذیب کے لئے آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ شاید کفار کی مراد یہ ہو کہ تم نے چونکہ باپ دادا کا مذہب چھوڑ دیا ہے اس لئے بدنصیب ہوگئے قرآن اترنے کا یہی نتیجہ نکلا اللہ نے اس خیال کی تکذیب فرما دی ‘ اس مضمون پر وہ روایت دلالت کر رہی ہے جو بطریق عوفی آئی ہے جس میں حضرت ابن عباس ؓ نے کفار کا یہ مقولہ بیان کیا ہے کہ یہ شخص اپنے رب کی وجہ سے بد نصیب ہوگیا ‘ اس کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی ‘ یہ بھی ممکن ہے کہ آیت کا مطلب اس طرح ہو ہم نے قرآن اس لئے نہیں اتارا کہ تم تھکان میں مبتلا ہوجاؤ اور اس غم میں اپنے آپ کو تباہ کر دو کہ تمہاری قوم مؤمن کیوں نہیں ہوتی آپ کے ذمے تو صرف تبلیغ ہے ان کے ایمان لانے نہ لانے کا آپ سے کوئی تعلق نہیں۔
Ayah 20:3

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

بلکہ اس شخص کو نصیحت دینے کے لئے (نازل کیا ہے) جو خوف رکھتا ہے

الا تذکرۃ لمن یخشی بلکہ ایسے شخص کی ہدایت کے لئے اتارا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہو۔ مَنْ یَّخْشٰی سے مراد ہے وہ شخص جس کے دل کے اندر خشیت اور رقت ہو کہ ڈرانے سے اس کو فائدہ پہنچ جائے یا ایسا شخص مراد ہے جس کے متعلق اللہ جانتا ہے کہ ڈرانے اور عذاب کا خوف دلانے سے وہ خوف زدہ ہوجائے گا (اگرچہ بالفعل وہ صاحب خشیہ نہ ہو اور عذاب کا خوف اس کو نہ ہو مگر عذاب کا ذکر سن کر آئندہ خوف زدہ ہوجانے والا ہو) ایسا ہی آدمی انذار و تخویف سے فائدہ اندوز ہوسکتا ہے۔
Ayah 20:4

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

یہ اس (ذات برتر) کا اتارا ہوا ہے جس نے زمین اور اونچے اونچے آسمان بنائے

تنزیلا ممن خلق الارض والسموت العلی۔ یہ اس ذات کی طرف سے نازل کردہ ہے جس نے زمین کو اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے۔ پہلے اَنْزَلْنَابصیغۂ جمع متکلم فرمایا تھا اور اس جگہ اپنی ذات کو بصیغۂ غائب ذکر کیا اس سے طرز کلام میں نیرنگی پیدا ہوگئی اور اتارنے والے کی عظمت کا اظہار دو طرح سے ہوگیا اوّل اتارنے کی نسبت اپنی عظیم الشان ذات کی جانب کی پھر ایسی ذات جامع الصفات کی طرح اسناد تنزیل کی جو عظیم الشان صفات و افعال کا سرچشمہ تھی اور اسی ترتیب سے اس کے افعال کا ذکر کیا جو ترتیب عندالعقل مناسب تھی اوّل تخلیق زمین کا ذکر کیا زمین بالکل ہمارے سامنے اور بہت زیادہ قریب ہے پھر اونچے آسمان کا ذکر کیا اور اس کے بعد استواء علی العرش اور درمیانی کائنات کی ملکیت و ٹخلیق اور زیر ثریٰ کی پیدائش کا تذکرہ کیا۔ اَلْعُلٰی۔ اَلْعُلْیَاکی جمع ہے اور عُلْیَا اعلیٰ کا مؤنث ہے۔
Ayah 20:5

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

(یعنی خدائے) رحمٰن جس نےعرش پر قرار پکڑا

الرحمن علی العرش استوی وہ بڑی رحمت والا عرش پر قائم ہے۔ استواء علی العرش کی پوری تشریح سورۂ یونس میں گزر گئی۔
Ayah 20:6

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو کچھ ان دونوں کے بیچ میں ہے اور جو کچھ (زمین کی) مٹی کے نیچے ہے سب اسی کا ہے

لہ ما فی السموت اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے یعنی ملائکہ اور ستارے اور پہاڑ اور دریا۔ وما فی الارض اور جو کچھ زمین میں ہے یعنی پہاڑ اور دریا اور درخت اور کانیں اور جانور اور جن و شیاطین اور انسان و ملائکہ۔ وما بینہما اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان (خلاء) میں ہے یعنی ہوا اور بادل اور گرج اور بجلی وغیرہ۔ وما تحت الثری۔ اور جو کچھ ثریٰ کے نیچے ہے یعنی نمناک مٹی کے نیچے ‘ ایک حدیث میں آیا ہے ایک کتا پیاس کی وجہ سے ثریٰ کھا رہا تھا ‘ اگر خشک مٹی پر کوئی پانی چھڑک دے تو بولتے ہیں ثری التراب حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ زمینیں مچھلی کی پشت پر ہیں اور مچھلی سمندر پر اور مچھلی کی دم اور سر عرش کے نیچے باہم مل گئے ہیں۔ سمندر پتھر کی ایک آسمانی رنگ کی چٹان پر ہے یہ چٹان وہی ہے جس کا ذکر حضرت لقمان کے قصہ میں اللہ نے کیا ہے اور فرمایا ہے فَتَکُنْ فِیْ صَخْرَۃٍچٹان بیل کے سینگ پر رکھی ہوئی ہے اور بیل ثرٰی پر قائم ہے اور ثریٰ سے نیچے کیا ہے اس سے سوائے اللہ کے کوئی واقف نہیں۔ بیل منہ کھولے ہوئے ہے جب اللہ سب سمندروں کو ملا کر ایک سمندر کر دے گا تو یہ سب سمندر اس بیل کے منہ کے اندر جا کر پیٹ میں اتر کر خشک ہوجائیں گے۔ (ہذا من رموز الاوئل واللہ اعلم بالصواب ‘ مترجم) ۔
Ayah 20:7

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

اور اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ تو چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک کو جانتا ہے

وان تجہر بالقول فانہ یعلم السر واخفی۔ اور اگر تم پکار کر بات کہو تو وہ چپکے سے کہی ہوئی بات کو اور اس سے بھی زیادہ خفی بات کو جانتا ہے۔ بیضاوی نے کہا یہ جملہ اصل میں اس طرح تھا کہ اگر آپ اللہ کا ذکر اور اس سے دعا پکار کر کریں گے تو اللہ کو اس پکارنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ سر کو جانتا ہے اور بہت زیادہ پوشیدہ کو بھی۔ میرے نزدیک اصل کلام اس طرح تھا اگر آپ اللہ کا ذکر چلا کر کریں گے اور اونچی آواز سے پکاریں گے یا پست آواز سے چپکے چپکے ذکر کریں گے اللہ (کے لئے دونوں برابر ہیں بہرحال) اس کو جانتا ہے قبول کرے گا اور ثواب دے گا۔ اِنْ تَجْہَرْ بالْقَوْلِکے بعد اَوْ تُخَافِتْ بِہٖکے محذوف ہونے پر کلام کی رفتار دلالت کر رہی ہے دوسری آیت میں بھی اسی طرح دوسرا لفظ حذف کردیا گیا ہے فرمایا ہے سَرَابِیْلَ تَقِیْکُمُ الْحَرَّاس کے بعد والبرد محذوف ہے (کیونکہ لباس فقط گرمی سے ہی حفاظت نہیں کرتا بلکہ سردی سے بھی بچاتا ہے) لفظ سِرّ اور اخفیٰ کی تحقیق : بغوی نے بیان کیا کہ حسن نے کہا سر وہ خفیہ بات جو آدمی چپکے سے دوسرے سے کہہ دیتا ہے اور اخفی وہ پوشیدہ بات جس کو اپنے دل ہی میں چھپائے رکھتا ہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر نے فرمایا سر وہ پوشیدہ بات جو آدمی اپنے دل میں رکھتا ہے اور اخفیٰ وہ بات جو آئندہ اللہ دل میں پیدا کردیتا ہے اور اس وقت کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ آئندہ اللہ کی طرف سے دل میں کیا بات پیدا ہوگی ہم آج جس چیز کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھتے ہیں اس سے تو واقف ہوتے ہیں لیکن کل کو ہمارے دل میں کیا بات آئے گی اس سے ناواقف ہوتے ہیں۔ ہاں اللہ ہمارے آج کے پوشیدہ خیال سے بھی واقف ہے اور آئندہ جو کچھ ہم دل میں پوشیدہ رکھیں گے اس سے بھی واقف ہے۔ علی بن طلحہ کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول اس طرح آیا ہے سر وہ پوشیدہ بات ہے جو آدمی اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور اخفیٰ وہ بات ہے جو آدمی کو خود بھی نہیں معلوم کہ وہ آئندہ کیا کرے گا جب تک کر نہ لے اس کو معلوم نہیں ہوتی۔ مجاہد نے کہا سرموہ پوشیدہ کام ہے جس کو تم لوگوں سے چھپاتے ہو اور اخفیٰ سے مراد وہ وسوسہ ہے بعض علماء نے کہا سر سے مراد ہے عزیمت کسی بات کا پختہ ارادہ اور اخفیٰ وہ خیال ہے جو دل میں گزرتا ہے مگر اس کا پختہ ارادہ نہیں ہوتا (یونہی ایک خیال دل میں آجاتا ہے) زید بن اسلم نے (اخفیٰ کو ماضی کا صیغہ مان کر یَعْلَمُ پر اس کا عطف کیا اور) کہا اللہ پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور اپنے بندوں سے ان کو پوشیدہ رکھا ہے کسی کو اپنے اسرار پر واقف نہیں کیا۔ اہل تصوف کے نزدیک سر اور اخفیٰ ان پانچ غیر مادی چیزوں میں سے دو چیزوں کے نام ہیں جو مجرد از مادہ ہیں بنظرکشف بالائے عرش ان کو دیکھا جاسکتا ہے البتہ ان کے جلوے انسانی جسم میں نمودار ہوتے ہیں پانچ مجردات کے نام یہ ہیں قلب ‘ روح ‘ سر ‘ خفی ‘ اخفیّ ولایت آدم کے انوار کی جلوہ گاہ قلب ہے ولایت نوح کی تجلیات کی منزل روح ہے یہی ولایت ابراہیمی کا مہہبط انوار ہے سر ولایت موسوسی کی تجلیات کی منزل ہے اور خفی ولایت عیسیٰ کے انوار کی فرودگار ہے اور اخفیٰ ولایت محمدیہ کے انوار قدسیہ کی جلوہ گاہ ہے۔
Ayah 20:8

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

(وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس کے (سب) نام اچھے ہیں

اللہ لا الہ الا ہو الاسمآء الحسنی اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کے (سارے) اچھے اچھے نام (اوصاف) ہیں۔ یہ پورا جملہ تاکیدی اور تقریری ہے۔ جو زمین و آسمان اور ساری کائنات کا مالک ہے وہ یقیناً الوہیت میں منفرد اور تمام صفات کمال کے ساتھ متصف ہوگا اور اس کی صفات کسی دوسرے میں نہیں پائی جائیں گی پس سارے اسماء حسنیٰ یعنی اعلیٰ اوصاف اسی کے لئے مخصوص ہوں گے۔ حُسْنٰی اَحْسَنُ کا مؤنث ہے اللہ کے اسماء حسن میں تمام اسماء سے اعلیٰ و افضل ہیں کیونکہ ان کے معانی تمام اسماء کے معانی سے اشرف اور برتر ہیں۔ اللہ کے اسماء حسنیٰ کی مکمل تفصیل ہم نے سورة اعراف کی آیت وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰیکی تفسیر کے ذیل میں کردی ہے۔
Ayah 20:9

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور کیا تمہیں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہے

وہل اتک حدیث موسیٰ ۔ اور کیا آپ کو موسیٰ کے قصہ کی خبر بھی پہنچی ہے۔ استفہام تقریری ہے یعنی یقیناً موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ تم کو پہنچ گیا ‘ حضرت موسیٰ کا واقعہ بھی رسول اللہ کے واقعہ سے ملتا جلتا تھا ‘ حضرت موسیٰ کو تعب و مشقت اٹھانی پڑی تھی اور اس کے بلند مراتب پر آپ فائز ہوئے تھے ‘ اس لئے نزول قرآن اور اس کی اصلی غرض کے تمہیدی ذکر کے بعد حضرت موسیٰ کا واقعہ ذکر فرمانا شروع کردیا ‘ شروع نبوت کے دور میں جن سورتوں کا نزول ہوا۔ سورت طہٰ بھی انہی میں سے ہے۔ حضرت موسیٰ کا واقعہ اپنے اندر جن مضامین کو سموئے ہوئے ہے نبوت کے بار کی برداشت تبلیغ رسالت ‘ تحمل شدائد پر صبر وغیرہ انہی کی طرف سورة کی ابتدائی آیات میں اشارہ فرمایا تاکہ آپ بھی حضرت موسیٰ کے طریق رسالت کی پیروی کریں۔
Ayah 20:10

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہاں) ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لاؤں یا آگ (کے مقام) کا رستہ معلوم کرسکوں

اذ را ناراً (موسیٰ کا واقعہ اس وقت کا) جب کہ انہوں نے آگ دیکھی تھی۔ بغوی نے واقعہ کی تفصیل اس طرح لکھی ہے کہ حضرت موسیٰ نے حضرت شعیب سے مصر لوٹ کر جانے کی اجازت طلب کی تاکہ اپنی والدہ اور بہن کی زیارت کرسکیں حضرت شعیب نے اجازت دے دی آپ اپنی بی بی کے ساتھ چل پڑے۔ سردی کا موسم تھا۔ بادشاہان شام کے خوف سے آپ عام راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ پر ہو لئے بیوی دنوں سے تھیں ‘ صبح ‘ شام کا بھروسہ نہ تھا راستوں سے واقف نہ تھے صحرا میں بغیر جانے ایک راستہ پر چل پڑے وہ راستہ کوہ طور کے دائیں مغربی جانب جاتا تھا ‘ رات تاریک اور فضا برفیلی تھی راستہ میں بی بی درد زہ ہونے لگی آپ نے چقماق کو رگڑا پر آگ نہیں نکلی۔ بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے حضرت موسیٰ آدمی غیرت مند تھے ‘ چونکہ بی بی ساتھ تھی اس لئے رفقاء سفر کے ساتھ رات کو چلتے تھے اور دن کو علیحدہ ہوجاتے تھے۔ ایک مرتبہ اتفاقاً راستہ بھٹک گئے تاریک رات تھی اور برف زدہ بھی تھی۔ چقماق کو رگڑا لیکن آگ نہیں نکلی نظر اٹھائی تو دور آگ روشن دکھائی دی جو طور کے جانب سے راستہ کے بائیں طرف کو تھی۔ فقال لاہلہ امکثوا پس بیوی سے کہا تم (یہیں) ٹھہرو۔ جمع کا خطاب بیوی اور ساتھیوں کے لئے ہے یا بی بی کو ہی ہے اور چونکہ وہ حضرت شعیب کی صاحبزادی تھیں اس لئے ان کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے تہذیب کے ساتھ بصیغۂ جمع خطاب کیا۔ انی انست نارا لعلی اتیکم منہا بقبس او اجد علی النار ہدی۔ میں نے آگ دیکھی ہے شاید میں اس سے تمہارے پاس کوئی شعلہ لے آؤں یا آگ کے پاس راستہ کا پتہ مجھے مل جائے۔ اٰنَسْتُیعنی بلاشک و شبہ میں نے آگ دیکھی ہے مجھے اس کے آگ ہونے میں کوئی شک نہیں۔ بعض اہل لغت نے کہا کہ ایناس اس طور پر دیکھنے کو کہتے ہیں جس سے کچھ انس خاطر پیدا ہو (اور دل کی وحشت دور ہو) ۔ قَبَسآگ کا شعلہ ‘ آگ کا وہ تھوڑا حصہ جو زیادہ آگ میں سے حاصل کرلیا جائے (کذا فی القاموس) ۔ ہُدژیبمعنی ہادی ‘ راہنما ‘ یعنی مجھے کوئی راستہ دکھانے والا وہاں شاید مل جائے یا ہُدًیسے مراد ہے دینی راہنما کیونکہ ابرار اور اہل عرفان کے خیالات ہر وقت امور دین ہی کی طرف مائل رہتے ہیں اور انہی سے ان کو انس خاطر ہوتا ہے ‘ لیکن ہادی کا ملنا یا شعلہ کا حصول یقینی نہ تھا ‘ اس لئے امید کا لفظ بولا اور آگ کا دیکھنا بلاشک تھا اس لئے دیکھنے کے متعلق یقین کا اظہار کیا۔ علی النَّار یعنی آگ کے قریب۔
Ayah 20:11

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

جب وہاں پہنچے تو آواز آئی کہ موسیٰ

فلما اتہا نودی یموسی۔ سو جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو ان کو (اللہ کی طرف سے) آواز دی گئی کہ اے موسیٰ
Ayah 20:12

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں تو تمہارا پروردگار ہوں تو اپنی جوتیاں اتار دو۔ تم (یہاں) پاک میدان (یعنی) طویٰ میں ہو

انی انا ربک میں تمہارا رب ہوں۔ بغوی نے لکھا ہے جب موسیٰ وہاں پہنچے تو آپ نے ایک درخت دیکھا جو اوپر سے نیچے تک بالکل سبز تھا اور اس کے گرداگرد شفاف سفید ‘ آگ اس کو گھیرے ہوئے تھی جو بہت زیادہ روشن تھا (دھویں کا نام بھی نہ تھا) درخت کی سبزی اور آگ کی سفیدی دونوں اپنی اپنی جگہ نمایاں تھیں نہ درخت کی سبزی آگ کی روشنی اور سفیدی میں مخل تھی نہ آگ کی نورانیت درخت کی سبزی نمایاں ہونے سے مانع تھی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا درخت کا رنگ گندمی سبز تھا۔ قتادہ ‘ مقاتل اور کلبی نے کہا وہ عوسج کا درخت تھا۔ وہب نے کہا علیق کا درخت تھا بعض کا قول ہے کہ عناب کا درخت تھا اس قول کی نسبت حضرت ابن عباس ؓ کی طرف کی گئی ہے ‘ اہل تفسیر کہتے ہیں کہ موسیٰ نے جس کو آگ سمجھا تھا وہ آگ نہ تھی نور تھا موسیٰ نے اس کو آگ ہی خیال کیا تھا ‘ اس لئے اللہ نے بھی اس کو نار ہی فرمایا اکثر مفسر قائل ہیں کہ وہ نور رب تھا ‘ حضرت ابن عباس ؓ اور عکرمہ وغیرہ کا یہی قول ہے لیکن سعید بن جبیر نے فرمایا وہ حقیقت میں آگ ہی تھی آگ ہی چہرۂ خداوندی کے لئے حجاب ہے جیسا کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کا حجاب آگ ہے اگر اس حجاب آتشیں کو کھول دے تو اس کی تجلی جمال اس تمام مخلوق کو سوختہ کر دے جو اس کی حد نگاہ تک ہو بغوی کی روایت میں یہ حدیث اسی طرح آئی ہے لیکن صحیح مسلم اور سنن ابن ماجہ میں اس حدیث کے اندر نار کی جگہ نور کا لفظ آیا ہے اس کا حجاب نور ہے۔ میں کہتا ہوں دونوں کا مآل ایک ہی ہے نور بھی لطیف ترین مصفی آگ ہی ہوتا ہے جو جلاتا نہیں ہے۔ اس قصہ میں آیا ہے کہ موسیٰ : ( علیہ السلام) کچھ خشک گھاس لے کر آگ کی طرف بڑھے تو آگ دور ہوگئی جس قدر اس کے قریب جاتے تھے وہ اور دور ہٹ جاتی تھی اور جب موسیٰ ( علیہ السلام) پیچھے ہٹ آتے تھے تو آگ قریب آجاتی تھی موسیٰ ( علیہ السلام) حیران ہو کر کھڑے ہوگئے آپ نے وہاں ملائکہ کی تسبیح کی آواز سنی اس وقت آپ کے اوپر سکینہ (ایمان شہودی ‘ سکون خاطر ‘ اطمینان قلبی ‘ دل کا ٹھہراؤ) کا القاء ہوا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ وہب نے بیان کیا حضرت موسیٰ کو درخت سے ندا آئی تھی کہ میں تیرا رب ہوں۔ موسیٰ کو معلوم نہ ہوا کہ پکارنے والا کون ہے اس لئے آپ نے جواب دیا ‘ میں تیری آواز تو سن رہا ہوں لیکن میں نہیں جانتا کہ تیری جگہ کہاں ہے (کہاں سے آواز آرہی ہے) تو کہاں ہے آواز آئی میں تیرے اوپر ہوں تیرے ساتھ ہوں تیرے سامنے ہوں تیرے پیچھے ہوں تجھ سے اتنا قریب ہوں کہ تو بھی اپنے آپ سے اتنا قریب نہیں ہے اس وقت حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کو یقین ہوا کہ یہ اللہ ہے یہ شان تو اسی کی ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے موسیٰ : ( علیہ السلام) کو ندا آئی تو آپ نے کہا یہ کلام کرنے والا کون ہے آواز آئی میں ہی اللہ ہوں اس وقت شیطان نے موسیٰ ( علیہ السلام) کے دل میں وسوسہ پیدا کیا کہ شاید میں شیطان کا کلام سن رہا ہوں ‘ لیکن فوراً کہہ اٹھے یقیناً یہ اللہ کا کلام ہے کیونکہ ہر طرف سے اور ہر عضو سے میں اس کو سن رہا ہوں (شیطان کا کلام نہ ہر جہتی ہوسکتا ہے نہ بند بند سے اس کو سنا جاسکتا ہے) اس تشریح میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی طور پر اوّل حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے قلب پر کلام اللہ کا القاء ہوا تھا ‘ پھر صورت مثالی میں آکر حس مشترک کے سامنے آیا اور ثبت ہوگیا اور جسم کے سارے اعضاء سے آپ نے سنا لیکن وہ کام ہر جہتی تھا اور ہر عضو سے آپ نے اس کو سنا۔ فاخلع نعلیک پس اپنے جوتے اتار دو ۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ برہنہ پا ہوجانا تعظیم کی علامت ہے اس لئے جوتے اتارنے کا حکم دیا گیا۔ بغوی نے لکھا ہے اس حکم کی وہ وجہ تھی جو حضرت ابن مسعود ؓ : کی روایت میں آئی ہے کہ وہ جوتے مردہ گدھے کی کھال کے بنے ہوئے تھے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ وہ چمڑا جس کے جوتے بنے ہوئے تھے دباغت شدہ نہ تھا۔ عکرمہ اور مجاہد نے کہا ننگے پاوؤں ہوجانے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ اس پاک زمین کی خاک سے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے قدم محروم نہ رہیں پاک سرزمین کی برکت موسیٰ کے قدموں کو حاصل ہوجائے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فوراً جوتے اتار کر وادی کے پرے پھینک دیئے۔ انک بالواد المقدس طوی۔ کیونکہ تم بلاشک طوی کی مقدس وادی میں ہو (تقدیس طویٰ کا تقاضا ہے کہ تو ننگے پاؤں ہوجائے) طویٰ اس وادی کا نام تھا۔ ضحاک نے کہا وادی طویٰ گہری تھی اور طور کی طرح مستدیر تھی۔ بعض نے کہا طویٰ مصدر ہے اور یہ اشارہ ہے اس کیفیت کی طرف جو اللہ نے موسیٰ کو اپنی مہربانی سے بطور انتخاب عطا فرمائی تھی موسیٰ اپنی کوشش سے وہ کیفیت حاصل نہیں کرسکتے اللہ ہی نے وہ ساری وادی طے کرا دی جس کی مسافت بہت بعید (مقدس بمعنی بعید) تھی۔ اہل تصوف کہتے ہیں قلب کا عروج اپنی اصل یعنی بالائی عرش تک اگر بالفرض کوشش سے ممکن بھی ہو تو پچاس ہزار برس کی کوشش کے بعد وہاں تک رسائی ہوگی کیونکہ زمین سے عرش تک پچاس ہزار برس کی مسافت ہے اسی کو بطور کنایہ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗ خَمْسِیْنَ اَلفَ سَنَۃٍمیں بیان کیا گیا ہے لیکن شیخ کی توجہ سے یہ عروج بطریق اجتباء (انتخاب ‘ چن لینا) حاصل ہوجاتا ہے عارف رومی نے کیا خوب کہا ہے ؂ سیر زاہد ہر شبے یک روزہ راہ سیر عارف ہر دمے تاتخت شاہ
Ayah 20:13

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تم کو انتخاب کرلیا ہے تو جو حکم دیا جائے اسے سنو

وانا اخترتک اور (نبوت و رسالت کے لئے) میں نے تم کو پسند کرلیا ہے۔ فاستمع لما یوحی۔ پس جو کچھ (تمہاری طرف) وحی کیا جا رہا ہے اس کو سن لو ‘
Ayah 20:14

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

بےشک میں ہی خدا ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز پڑھا کرو

اننی انا اللہ لا الہ الا الا انا فاعبدنی میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری عبادت کرو (کسی اور کی نہ کرو) اَنَا اللّٰہَ ۔۔ مَا یُوْحٰیسے بدل ہے اس جملہ کے اندر وحی کے حصے بیان فرمائے۔ توحید عبادت جو علم کا کمال ہے اور عبادت خالص جو عمل کا کمال ہے۔ واقم الصلوۃ لذکری اور میری ہی یاد کی نماز پڑھا کرو۔ عمومی عبادت کا ذکر پہلے کیا پھر نماز کی خصوصیت کے ساتھ حکم دیا۔ کیونکہ تمام عبادتوں میں نماز کی اہمیت اور عظمت ظاہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ نماز دین کا ستون ہے رواہ ابو نعیم والبیہقی عن عمر ؓ و صاحب مسند الفردوس عن علی ؓ ۔ ابن عساکر نے حضرت انس ؓ کی روایت سے حدیث مذکور ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے ” نماز ایمان کا نور ہے “۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا میں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کو سب سے زیادہ پیارا کون ساعمل ہے فرمایا نماز۔ رواہ الشیخان فی الصحیحین۔ مسلم نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ بندہ کے اور کفر کے درمیان ترک صلوٰۃ (حائل) ہے ‘ اسی طرح امام احمد اور اصحاب السنن نے حضرت بریدہ کی روایت سے بیان کیا ہے۔ احمد ‘ دارمی اور بیہقی نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز نماز کا ذکر کیا اور فرمایا جو اس کی پابندی کرے گا تو یہ قیامت کے دن اس کے لئے نور اور برہان اور نجات ہوجائے گی اور جو اس کی پابندی نہیں کرے گا اس کے لئے نماز نہ نور ہوگی نہ نجات (کا ذریعہ) اور قیامت کے دن وہ قارون ‘ فرعون ‘ ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ ترمذی نے عبداللہ بن شفیق کی روایت سے بیان کیا ہے کہ صحابہ کرام ؓ سوائے ترک صلوٰۃ کے اور کسی عمل کے ترک کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔ انہی احادیث کی بنا پر امام احمد نے فرمایا کہ جس نے قصداً نماز ترک کی وہ کافر ہوگیا۔ نماز کے افضل عبادات ہونے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ نماز بجائے خود فی نفسہٖ نیکی ہے (دوسری عبادات کا حسن اضافی ہے) روزہ اس لئے اچھا ہے کہ اس سے نفس امارہ کے غلبہ کو شکست ہوتی ہے ‘ زکوٰۃ اس لئے نیکی ہے کہ اس سے غریبوں ‘ محتاجوں کی حاجت روائی اور امداد ہوتی ہے حج اسلئے نیکی ہے کہ اس سے اللہ کے گھر کی تعظیم کا اظہار ہوتا ہے۔ چونکہ نماز فی نفسہٖ بجائے خود نیکی ہے اسی لئے اللہ نے اقامت صلوٰۃ کے حکم کی لِذِکِرْی کے لفظ سے علت بھی بیان فرما دی۔ لِذِکْرِیْکا مطلب یہ ہے کہ تم نماز کو اس لئے قائم کرو کہ مجھے نماز کے اندر یاد کرو پوری نماز ہی ذکر خدا ہے نماز کے اندر آدمی دل ‘ زبان اور تمام اعضاء کے ساتھ اللہ کی یاد میں مشغول ہوتا ہے۔ لِذِکِرْی کا مطلب بعض نے یہ بیان کیا ہے کہ چونکہ میں نے نماز کا ذکر اپنی تمام کتابوں میں کیا ہے اور سب ہی کتابوں میں اس کا حکم دیا ہے اس لئے تم بھی نماز قائم کرو (اوّل مطلب پر ذکری میں مفعول کی طرف نسبت ہوگی اور دوسرے مطلب پر فاعل کی طرف (مترجم) بعض علماء نے ذکری کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ تم نماز قائم کرو تاکہ میں رحمت اور تعریف کے ساتھ تمہارا ذکر کروں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے قریب ہوتا ہوں اور میں (ہر دم) اس کے ساتھ رہتا ہوں ‘ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کا ذکر (تنہا) اپنی ذات میں کرتا ہوں اور اگر وہ میرا ذکر جماعت میں کرتا ہے تو میں اس کا ذکر ایسی جماعت میں کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر ہوتی ہے (یعنی فرشتوں کی جماعت میں) اس جگہ اقامت صلوٰۃ کا ذکر اجمالی کیا ہے دوسری جگہ اس کی تفصیل آئی ہے مثلاً ایک آیت میں فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الَّشْمِس اِلٰی غَسَقِ اللَّیْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِحضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کی امامت کی حدیث تو مشہور ہی ہے (کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے دو روز پانچوں وقت حضور ﷺ : کی امامت کی تھی پہلے روز ہر نماز ابتدائی وقت میں اور دوسرے روز ہر نماز انتہائی وقت پر پڑھائی تھی ‘ مترجم) بعض علماء نے آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے نماز قائم کرو جب نماز یاد آجائے۔ حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص نماز بھول گیا یا سوتا رہ گیا ہے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب یاد آجائے (فوت شدہ) نماز پڑھ لے (دوسری روایت میں آیا ہے اس کے سوا اور کوئی کفارہ نہیں) اللہ نے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِّکْرِیْ ۔ متفق علیہ۔ حضرت ابو قتادہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیند میں کوئی قصور نہیں قصور تو بیداری میں (نماز ترک کرنے پر) ہے جو شخص کسی نماز کو بھول جائے یا سوتا رہ جائے تو جب (فوت شدہ) نماز یاد آجائے پڑھ لے اللہ نے فرمایا ہے وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِّکْرِیْمسلم۔
Ayah 20:15

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے

ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا بلاشبہ وہ گھڑی (یعنی قیامت) آنے والی ہے ‘ میں اس کے (مقررہ وقت) کو پوشیدہ رکھوں گا۔ یہ جملہ حکم عبادت کی علت ہے یا مستانفہ ہے یا معترضہ ہے جس کو خوف دلانے کے لئے ذکر کیا ہے اور بقول بغوی واو عاطفہ محذوف ہے اصل میں وَاِنَّ السَّاعَۃَ اٰتَیْۃٌ تھا۔ اخفش نے اکا دکا ترجمہ اُرِیْدُ (میں چاہتا ہوں) کیا ہے بغوی کے نزدیک یہ لفظ زائد ہے۔ معنی یہ ہے کہ میں اس کا مقررہ وقت ظاہر نہیں کروں گا۔ بعض اہل علم نے اَکَادُ اُخْفِیْہَاکا یہ مطلب بیان کیا۔ قریب تھا کہ میں قیامت کو چھپا لیتا یہ بھی نہ کہتا کہ قیامت آنے والی ہے ‘ بندوں پر مہربانی کرنی اور اتمام حجت کرنا مقصود تھا اس لئے ذکر قیامت کردیا اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں اس کا ذکر بھی نہ کرتا۔ یہی مطلب تَکَاد السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَکا ہے کہ اگر اللہ کا حکم آسمانوں کو باقی رکھنے کا نہ ہوتا تو ان لوگوں کے اس قول سے کہ اللہ صاحب اولاد ہے آسمان پھٹ جاتے۔ میں کہتا ہوں شاید اس کلام میں اس طرف اشارہ ہے کہ ایمان اور اللہ کی عبادت کو وہ فضیلت و شرف اور حسن و خوبی حاصل ہے کہ بغیر جنت کی خواہش اور دوزخ کے خوف اور قیامت کے عذاب کے اندیشہ کے خود ان دونوں کو مقصود اصلی ہونا چاہئے گو ایمان و عبادت اور ترک ایمان و عبادت کا لازمی نتیجہ اور ثمرہ ثواب و عذاب ہوگا لیکن ایمان و عبادت کی غرض وغایت اگر یہ نہ بھی ہو تب بھی ایمان و عبادت کو وہ عزت و شرف اور حسن حاصل ہے کہ ان دونوں کو بندوں پر لازم ہونا چاہئے اور کفر و ترک عبادت ‘ ذلت و ناکامی اور خرابی و قباحت کے اس گڑھے میں گھسے ہوئے ہیں کہ بغیر خوف عذاب کے ان سے پرہیز رکھنا ضروری ہے۔ اگر اللہ نے قیامت آنے کی اطلاع نہ دی ہوتی تب بھی مؤمن کا ایمان جنت کی طمع اور دوزخ کے خوف سے نہ ہوتا بلکہ خالص لوجہ اللہ ہوتا یہ ہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا صہیب بہت اچھا بندہ ہے اگر اس کو اللہ (کے عذاب اور دوزخ) کا خوف نہ بھی ہوتا تب بھی وہ اللہ کی نافرمانی نہ کرتا۔ رابعہ بصریہ نے کہا تھا میں چاہتی ہوں کہ جنت کو جلا دوں اور دوزخ کو بجھا دوں تاکہ لوگ بغیر خوف و طمع خالص اللہ کے لئے عبادت کریں۔ اکثر اہل تفسیر نے اَکَادُ اُخْفِیْہَاکا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ قریب ہے میں قیامت کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھوں دوسروں کو وقت قیامت بتانے کا تو ذکر ہی کیا ہے گویا اخفاء قیامت کو اللہ نے زوردار طور پر مبالغہ کے ساتھ بیان کیا (اپنی ذات سے چھپانے کا ارادہ کرنا یا چھپانا مقصود کلام نہیں ہے بلکہ قیامت کے اخفاء کو مبالغہ کے ساتھ بیان کرنا مقصود ہے) اس مطلب کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ بعض قراءتوں میں اُخْفِیْہَاکے بعد فَکَیْفَ اُظْہِرُہَا لَکُمْبھی آیا ہے۔ (لیکن یہ قراءت شاذ ہے۔ مترجم) عرب کا قاعدہ ہے کہ جب کسی بات کو چھپانے کا بیان قوت و مبالغہ کے ساتھ کرتے ہیں تو کہتے ہیں کَتَمْتُ سِرَّکَ مِنْ نَّفْسِیْمیں تمہارا راز اپنے آپ سے بھی پوشیدہ رکھوں گا یعنی کسی پر ظاہر نہیں کروں گا۔ قیامت کو مخفی رکھنے کی مصلحت و حکمت خوف اور ہول کو لوگوں کے دماغوں میں قائم رکھنا ہے اگر لوگوں کو قیامت بپا ہونے کا علم تعیین وقت کے ساتھ نہ ہوگا تو ہر وقت ڈرتے رہیں گے کہ خدا جانے کب قیامت بپا ہوجائے۔ بعض مفسرین نے کہا کہ اخفی (واحد متکلم مصدر اخفاء باب افعال) میں ہمزہ سلب ماخذ کے لئے ہے پس اخفی کا ترجمہ ہوگیا اظہرہا (قریب ہے کہ میں قیامت کو ظاہر کر دوں) لغت عربی میں اخفاہ کا ترجمہ (جس طرح اس کو چھپایا آتا ہے اسی طرح) اس کو ظاہر کیا (بھی) آتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے اس کی تائید اس قراءت سے بھی ہوتی ہے جس میں اخفی کی جگہ اخفی بفتح ہمزہ آیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے یہ لفظ بفتح ہمزہ پڑھا گیا ہے اس وقت اس کا معنی ہوگا میں ظاہر کردوں خَفَیْتُ الشَّیئَمیں نے اس چیز کو ظاہر کردیا اَخْفْیَتُہٗمیں نے اس کو چھپا دیا (ثلاثی مجرد سے ظاہر کرنے کا معنی ہے اور ثلاثی مزید سے چھپانے کا) کذا فی النہایۃ للجزری۔ ایک شبہ جب خفاء ثلاثی مجرد اظہار کے معنی رکھتا ہے اور اخفاء باب افعال (جب کہ ہمزہ سلب کی قرار دی جائے) سلب اظہار یعنی پوشیدہ کرنے کا معنی رکھتا ہے تو پھر قراءت متواترہ میں اخفاء کا معنی جو اظہار کیا گیا ہے یہ کیسے ممکن ہے (اخفاء کا معنی تو سلب الخفاء یعنی نفی الاظہار ہونا چاہئے) ۔ جواب میں کہتا ہوں خفاء ثلاثی مجرد کبھی بمعنی اظہار کے ہوتا ہے اور کبھی چھپانے کے معنی کے لئے (پس قراءت متواترہ میں جو اخفاء کا معنی اظہار کیا گیا ہے وہ اس خفاء (ثلاثی مجرد) سے باضافۂ ہمزہ بنایا گیا ہے جس کا معنی ہے چھپانا۔ قاموس میں ہے خَفٰی یَخْفِیْسے رمیٰ یرمِی (یعنی ضَرَبَ سے) مضرب خَفْیًا اور خفیًا اس کا معنی ہے ظاہر کرنا اختفی کا بھی یہی معنی ہے اور خفی یخفی جیسے رضی یرضی (سمع سے) مصدر خفا اسم فاعل خافٍ صفت مشبہ خفی اس کا معنی ہے ظاہر نہ کرنا۔ پس خفی جو ضرب سے آتا ہے اگر اس میں ہمزۂ سلب زیادہ کردی جائے تو اس کا معنی ہوجائے گا چھپانا اور ظاہر نہ کرنا (کیونکہ خفی کا معنی ہے ظاہر کیا) اور اگر خفی (باب سمع) میں ہمزہ بڑھائی جائے تو اس کا معنی ہوجائے گا ظاہر کردینا نہ چھپانا۔ لتجزی کل نفس بما تسعی۔ تاکہ ہر شخص کو اس کی کوشش کا بدلہ دے دیا جائے۔
Ayah 20:16

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

تو جو شخص اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش کے پیچھے چلتا ہے (کہیں) تم کو اس (کے یقین) سے روک نہ دے تو (اس صورت میں) تم ہلاک ہوجاؤ

فلا یصدنک عنہا من لا یومن بہا واتبع ہوہ فتردی۔ پس تم کو نہ پھیر دے قیامت سے (یعنی قیامت پر ایمان لانے سے اور اللہ کی ملاقات سے یا نماز قائم کرنے سے) وہ شخص جو قیامت کو نہیں مانتا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا ہے (ورنہ) تم بھی ہلاک ہوجاؤ گے۔ آیت میں بظاہر کافر کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ موسیٰ کو اقرار قیامت یا اقامت نماز سے نہ پھیر دے اور حقیقت میں موسیٰ ( علیہ السلام) کو ممانعت کی گئی کہ تم کافروں کے کہنے میں نہ آجانا ورنہ ان کی طرح آخرت میں تم بھی تباہ ہوجاؤ گے۔ اس فقرہ سے اشارۃً معلوم ہو رہا ہے کہ فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے اقرار توحید و قیامت اوراقامۃ الصلوٰۃ لربہٖ اس کا انکار استقامت فطرت کے خلاف ہے کافر کے اندر کجی اور کج فہمی ہے اس لئے ان باتوں کا انکار کرتا ہے۔ وَاتَّبَعَ ہَوٰہُیعنی محسوس ‘ ظاہری ‘ فنا پذیر ‘ ناپائیدار دنیوی لذتوں کے پیچھے پڑا ہے اور جو خرابیاں ان لذت کوشیوں میں پوشیدہ ہیں ان کو سمجھنے سے بھی غافل ہے اور جو عذاب آخرت ان کے نتیجہ میں آنے والا ہے اس سے بھی صرف نظر کئے ہوئے ہے۔
Ayah 20:17

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور موسی یہ تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا ہے

وما تلک بیمینک یموسی۔ اور موسیٰ یہ تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا ہے۔ موسیٰ کو مانوس بنانے اور ان کی وحشت خاطر کو دور کرنے کے لئے یہ سوال کیا گیا (ورنہ اللہ تو جانتا ہی تھا کہ موسیٰ کے ہاتھ میں کیا ہے اور اس سے موسیٰ ( علیہ السلام) کے کون سے اغراض و مقاصد وابستہ ہیں) چونکہ وہ لاٹھی مظہر معجزہ ہونے والی تھی اس لئے موسیٰ کو ہوشیار کردیا اور سوال تقریری کر کے اقرار کرا لیا ہے کہ واقعی یہ لاٹھی ہی ہے۔
Ayah 20:18

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ اس پر میں سہارا لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں اور اس میں میرے لئے اور بھی کئی فائدے ہیں

قال ہی عصای موسیٰ نے کہا یہ میری لاٹھی ہے۔ مقاتل نے کہا اس لاٹھی کا نام تبعہ تھا بغوی نے لکھا ہے اس کا بالائی سرا دو شاخہ تھا اور نچلی جانب برچھی پیوست تھی۔ اتوکو علیہا واہش بہا علی غنمی میں اس سے ٹیک لگاتا ہوں اور بکریوں کے لئے (درختوں سے) پتے جھاڑتا ہوں یعنی تھک جاتا ہوں تو اس سے سہارا لیتا ہوں اگر اوپر اچھلتا ہوں تب اس سے سہارا لیتا ہوں اور جب بکریاں چرتی ہیں و اس پر ٹیک لگا کر میں کھڑا رہتا ہوں۔ صاحب قاموس نے ہَشٌ کا معنی لکھا ہے اندھا دھند درخت کو پیٹنا (تا کہ اس سے پتے جھڑ کر نیچے گرپڑیں) ۔ ولی فیہا مارب اخری۔ اور میری اس سے اور ضرورتیں بھی وابستہ ہیں 1 ؂۔ یعنی اور حاجتوں کے پورے ہونے کا بھی اس سے تعلق ہے۔ حضرت مفسر نے دوسری ضرورتوں کو مثال کے طور پر اس طرح بیان کیا کہ اس کو کندھے پر رکھ کر زاد راہ اور کھانے پینے کے برتن اس میں لٹکا لینا ‘ اس کے دو شاخے میں کوئی چادر باندھ کر سر پر سایہ کرلینا رسی چھوٹی ہو تو کنویں سے پانی بھرنے کے لئے رسّی کا سرا اس میں باندھ لینا ‘ بکریاں چراتے میں کوئی درندہ آجائے تو اس سے اس کا مقابلہ کرنا۔ بعض اہل محبت نے کہا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب کو قدر کفایت سے زیادہ طول دیا اور سوال سے زائد جواب میں تفصیل کی (جواب اتنا کافی تھا کہ یہ میری لاٹھی ہے اس کے بعد لاٹھی کے فوائد کا بیان مقدار کفایت سے زائد تھا) اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ محبوب کے ساتھ ہم کلام ہونے میں لذت پا رہے تھے اس لئے زیادہ ہم کلام رہنا چاہتے تھے لیکن پھر اپنی طوالت سے ڈر گئے اور خیال کیا یہ گستاخی اور بےادبی ہے اس لئے کلام کو آخر میں مجمل کردیا اور وَلِیَ فِیْہَا مَارِبُ اُخْرٰی پر کلام کو ختم کردیا۔
Ayah 20:19

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا کہ موسیٰ اسے ڈال دو

قال القہا یموسی۔ اللہ نے فرمایا موسیٰ اس کو (ہاتھ سے) پھینک دو ۔ یعنی لاٹھی پر تکیہ نہ کرو اس کا سہارا چھوڑ دو ہمارا سہارا پکڑو پھینکنے کے بعد تم کو اس لاٹھی کا حقیقی فائدہ نظر آجائے گا۔ وہب نے کہا پھینک دینے کا حکم سن کر حضرت موسیٰ سمجھے کہ لاٹھی کو (جوتوں کی طرح) بالکل پھینک دینے کا حکم دیا گیا ہے (حالانکہ حکم تھا لاٹھی کو زمین پر ڈال دینے کا تاکہ لاٹھی کے زمین پر گرنے سے معجزہ کا ظہور ہوجائے۔ مترجم) ۔
Ayah 20:20

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

تو انہوں نے اس کو ڈال دیا اور وہ ناگہاں سانپ بن کر دوڑنے لگا

فالہا تو انہوں نے اس کو پھینک دیا پھر جو انہوں نے تعمیل حکم کے بعد نظر موڑ کر دیکھا تو کیا۔ فاذا ہی حیۃ تسعی۔ دیکھتے ہیں کہ وہ لاٹھی ایک سانپ ہے جو (پیٹ کے بل زمین پر) دوڑ رہا ہے۔ دوسری آیت میں آیا ہے ‘ کَاَنَّہَا جَانٌّجان چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں جو بہت خفیف الحرکت ہوتا ہے لیکن ایک اور آیت میں آیا ہے فَاِذَا ہِی ثُعْبَانٌ۔ ثعبان کا ترجمہ ہے اژدہا جو سانپوں میں سب سے بڑا ہوتا ہے اور لفظ حَیَّۃٌ کا اطلاق سانپ پر ہوتا ہے بڑا ہو یا چھوٹا نر ہو یا مادہ بظاہر جان اور ثعبان میں تعارض معلوم ہوتا ہے اس تضاد کو دور کرنے اور دونوں آیتوں میں موافقت پیدا کرنے کی توجیہ اس طرح کی گئی ہے کہ شروع میں وہ سانپ چھوٹا ہی تھا جتنی لاٹھی تھی اتنا ہی بڑا سانپ بنا تھا پھر وہ بڑھتا اور پھولتا گیا یہاں تک کہ ثعبان (اژدہا) ہوگیا ابتدائی حال میں جان تھا اور انتہائی حال میں ثعبان۔ بعض علماء نے کہا واقع میں تو وہ بڑا اژدہا تھا لیکن تیزی اور سرعت حرکت میں وہ جان (چھوٹی قوم کے سانپ) کی طرح تھا اس لئے کَاَنَّہَا جَانٌفرمایا (گویا وہ جان تھی) اِذَا ہِیَ جَانٌّنہیں فرمایا (کہ وہ جان ہوگئی تھی) اور جہاں ثعبان فرمایا ہے وہاں فَاِذَا ہِیَ ثُعْبَاأ مُّبِیْنٌفرمایا (تو اچانک وہ اژدہا ہوگئی) ۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ نے جب اپنی لاٹھی کو دیکھا تو ان کو بجائے لاٹھی کے ایک بہت بڑا اژدھا نظر آیا لاٹھی کا دو شاخہ سانپ کی دو باچھیں بن گیا تھا اور لاٹھی کی موٹھ سانپ کی گردن ہوگئی تھی جس کے سر پر بال بھی تھے انگارے کی طرح اس کی دونوں آنکھیں دہک رہی تھیں اور اس کے دانتوں کے رگڑنے کی کر کر کی طرح آواز سنائی دے رہی تھی تیزی کے ساتھ ادھر ادھر دوڑ رہا تھا بڑی چٹان پر منہ مارتا تھا تو اس کو بھی لقمہ بنا لیتا تھا اور بڑے بڑے درختوں کو ٹکڑے کئے دے رہا تھا ‘ موسیٰ یہ دیکھ کر ڈر کر پشت پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے لیکن پھر ان کے دل میں اپنے رب کا خیال آیا تو شرمندہ ہو کر رک کر کھڑے ہوگئے۔ اس وقت ندا آئی اور
Ayah 20:21

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

خدا نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو اور ڈرنا مت۔ ہم اس کو ابھی اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے

قا خذہا ولا تخف سنعیدہا سیرتہا الاولی۔ اللہ نے فرمایا اس کو پکڑ لو کچھ اندیشہ نہ کرو (میرے پاس آ کر پیغمبر کسی سے نہیں ڈرتے) میں دوبارہ لوٹا کر اس کی پہلی حالت اور ہیئت کر دوں گا۔ سیرت بروزن فعلۃ ایک بار چلنا مجازاً مراد ہے طریقہ ‘ ہیئت ‘ حالت۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت موسیٰ اس وقت اونی چغہ پہنے ہوئے تھے جب حکم ہوا خُذْہا اس کو پکڑ لو تو آپ نے چغہ کا دامن ہاتھ کو لپیٹ کر پکڑنا چاہا اللہ نے حکم دیا ہاتھ کھول دو (چغہ کا دامن ہاتھ پر مت لپیٹو) حضرت نے ہاتھ کھول دیا۔ بعض اہل روایت کا بیان ہے جب حضرت موسیٰ نے ہاتھ پر چغہ کا دامن لپیٹ لیا تو ایک فرشتہ نے کہا دیکھو آپ کو جس بات کا خوف ہے اگر اسی کے واقع ہوجانے کا اللہ حکم دے دے تو کیا یہ چغہ اس کو دفع کرسکتا ہے حضرت موسیٰ نے فرمایا نہیں۔ لیکن میں کمزور ہوں میرا ضعف خلقی ہے اس کے بعد آپ نے ہاتھ کھول کر سانپ کے منہ میں دے دیا یکدم سانپ لاٹھی بن گیا اور ویسی ہی لاٹھی ہوگئی جیسے پہلے تھی اور لاٹھی کا وہ دو شاخہ سرا ہاتھ میں آگیا جس پر سہارا دے کر آپ کھڑے ہوتے تھے۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے اللہ نے یہ نشان قدرت حضرت موسیٰ کو اس لئے دکھایا کہ جب فرعون کے سامنے موسیٰ یہ معجزہ دکھائیں تو خود خوف زدہ نہ ہوجائیں۔ بغوی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سفر میں لاٹھی پر اپنے کھانے پینے کا سامان لاد دیا کرتے تھے وہ سامان اٹھائے ہوئے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ ساتھ باتیں کرتی چلتی تھی آپ اسی لاٹھی کو زمین پر مارتے تو دن بھر کا کھانا برآمد ہوجاتا اور زمین میں گاڑ دیتے تو پانی نکل آتا جب اکھاڑ لیتے تو پانی بند ہوجاتا تھا ‘ اگر کسی پھل کی خواہش ہوتی تو لاٹھی کو زمین میں گاڑ کر کھڑا کردیتے۔ لاٹھی درخت کی سرسبز شاخ بن جاتی جس میں پتے بھی ہوتے اور پھل بھی۔ کنویں سے پانی کھینچنا چاہتے تو لاٹھی کو کنویں میں لٹکا دیتے ‘ کنواں جتنا گہرا ہوتا لاٹھی اتنی ہی لمبی ہوجاتی اور اس کے سر کا دو شاخہ ڈول کی طرح بن جاتا ‘ اس طرح آپ پانی بھر لیتے رات میں لاٹھی چراغ کی طرح روشن ہوجاتی تھی اگر کوئی دشمن سامنے آجاتا تو خود اس سے لڑتی اور حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کی طرف سے دفاع کرتی تھی (وکلہا من الاباطیل الاسرائیلیۃ ‘ واللہ اعلم مترجم) ۔
Ayah 20:22

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور اپنا ہاتھ اپنی بغل سے لگالو وہ کسی عیب (وبیماری) کے بغیر سفید (چمکتا دمکتا) نکلے گا۔ (یہ) دوسری نشانی (ہے)

واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضآء من غیر سوء آیۃ اخری اور تم اپنا (دایاں) ہاتھ اپنی (بائیں) بغل میں دے لو (پھر نکالو) وہ بغیر کسی خرابی (یعنی مرض) کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا کہ یہ دوسری نشانی ہوگی۔ یَدْ سے مراد ہے دائیں ہتھیلی ‘ بغوی نے لکھا ہے کہ جناح سے مراد ہے بائیں بغل ‘ بغوی نے الی کا ترجمہ نیچے کیا ہے اور مجاہد کی طرف اس کو منسوب کیا ہے (یعنی بائیں بغل کے اندر دائیں ہتھیلی کو لے جاؤ) آدمی کا بازو بغل کے اندر تک جناح کہلاتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے اصل میں جناح پرندہ کا بازو ہوتا ہے ‘ انسان کے لئے جناح کا استعمال بطور استعارہ کیا جاتا ہے۔ قاموس میں ہے سینہ کی طرف کی پسلیاں جو انح کہلاتی ہیں اس کا مفرد جانحۃ ہے جناح بازو ‘ ہاتھ اور بغل۔ تُخْرُجْیعنی ہاتھ کو بغل کے نیچے لے جاؤ پھر نکالو تو وہ سفید چمکدار روشن بغیر کسی بیماری کے برآمد ہوگا۔ سوء بیماری خرابی مراد برص (برص سے بھی جلد سفید ہوجاتی ہے جس کی اس جگہ لفظ سوء فرما کر نفی کردی) بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ سے روشن چمکدار نور برآمد ہوتا تھا جو دن میں یا رات میں ہر وقت چاند سورج کی طرح جھلکتا تھا۔ آیۃ اخری سے یہ مراد ہے کہ یہ دوسرا معجزہ ہوگا جو تمہارے دعوئے نبوت کی تصدیق کرے گا۔
Ayah 20:23

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

تاکہ ہم تمہیں اپنے نشانات عظیم دکھائیں

لنریک من ایتنا الکبری۔ تاکہ ہم تم کو اپنی قدرت کی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دکھائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ید بیضاء حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا سب سے بڑا معجزہ تھا۔
Ayah 20:24

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

تم فرعون کے پاس جاؤ (کہ) وہ سرکش ہو رہا ہے

اذہب الی فرعون انہ طغی۔ فرعون کے پاس جاؤ وہ بہت حد سے نکل گیا ہے۔ یعنی یہ دونوں معجزے لے کر فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو اللہ کی عبادت کی دعوت دو وہ نافرمانی اور سرکشی میں حد سے آگے بڑھ چکا ہے ‘ یہاں تک کہ الوہیت کا مدعی بن بیٹھا ہے۔
Ayah 20:25

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

کہا میرے پروردگار (اس کام کے لئے) میرا سینہ کھول دے

قال رب اشرح لی صدری۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب میرے سینہ کو میرے لئے کھول دے کہ اس کے اندر وہ معرفت وجدانیہ سما جائے جس کو کوئی عقل بطور نظر حاصل نہیں کرسکتی۔ تیری ذات کے علاوہ پھر مجھے کسی کے اندر نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت نظر نہ آئے اور فرعون اور اس کی حکومت کا خوف میرے دل سے جاتا رہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کی تشریح میں بیان کیا موسیٰ ( علیہ السلام) یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں تیرے سوا پھر کسی سے نہ ڈروں۔ بات یہ تھی کہ فرعون اور اس کے لشکر و اقتدار کی وہ شان و شوکت تھی کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو بھی اس سے خوف محسوس ہوتا تھا (اس لئے آپ نے شرح صدر اور بےخوف ہوجانے کی دعا کی) ۔
Ayah 20:26

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرا کام آسان کردے

ویسر لی امری۔ اور میرا کام میرے لئے آسان کر دے۔ یعنی ایسی سہولت پیدا کر دے اور ایسی توفیق دے دے کہ میں تبلیغ رسالت کرسکوں اور اداء واجب کی کوئی دشواری میرے لئے نہ رہے ‘ کوئی بار بھی محسوس نہ ہو بلکہ ادائے فرض کی تکالیف برداشت کرنے میں مجھے لذت محسوس ہونے لگے۔ اشرح اور یسر کے الفاظ پہلے مبہم بولے پھر صدری اور امری کے الفاظ بڑھا کر اس کی تشریح کردی اس سے کلام میں زور اور طرز ادا میں قوت پیدا ہوگئی۔
Ayah 20:27

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ کھول دے

واحلل عقدۃ من لسانی۔ اور میری زبان کی گرہ کھول دے
Ayah 20:28

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ وہ بات سمجھ لیں

یفقہوا قولی۔ کہ وہ میری بات سمجھ لیں۔ بغوی نے لکھا ہے بچپن میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ایک روز فرعون کی گود میں تھے کہ آپ نے اس کے منہ پر ایک طمانچہ مارا اور داڑھی نوچ لی فرعون نے اپنی بی بی آسیہ سے کہا یہ میرا دشمن ہے میں اس کو قتل کرائے دیتا ہوں ‘ آسیہ نے کہا یہ بچہ ہے بےسمجھ اس کو کچھ تمیز نہیں بھلے برے کو نہیں پہچانتا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ نے آپ کا دودھ چھڑایا تو واپس لا کر آسیہ کو دے دیا چناچہ آپ نے فرعون اور اس کی بی بی کی گود میں پرورش پائی دونوں نے آپ کو بیٹا بنا لیا ایک روز فرعون کے سامنے کھیل رہے تھے اور ہاتھ میں ایک چھڑی تھی ‘ یکدم چھڑی فرعون کے سر پر مار دی۔ فرعون نے غضبناک ہو کر قتل کرا دینے کا ارادہ کرلیا۔ آسیہ نے کہا بادشاہ سلامت یہ بےسمجھ بچہ ہے اگر آپ چاہیں تو تجربہ کرلیں۔ چناچہ آسیہ نے دو طشت منگوائے ایک میں انگارے بھر دیئے اور دوسرے میں جواہرات (یاقوت وغیرہ) اور دونوں طشت موسیٰ ( علیہ السلام) کے سامنے رکھ دیئے موسیٰ ( علیہ السلام) نے ہاتھ بڑھا کر جواہرات کے طشت میں ڈالنا چاہا لیکن حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر انگاروں والے طشت میں ڈال دیا۔ آپ نے انگارا پکڑ کر منہ میں رکھ لیا جس سے آپ کی زبان جل گئی اور زبان میں گرہ پیدا ہوگئی۔ عبد بن حمید اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے بحوالۂ سعید بن جبیر بیان کیا کہ ایک روز فرعون نے موسیٰ کو اٹھا لیا ‘ آپ نے اس کی داڑھی پکڑ کر نوچ لی۔ فرعون نے غضبناک ہو کر قتل کردینے کا حکم دے دیا ‘ آسیہ نے کہا یہ بچہ ہے انگارے اور یاقوت میں فرق نہیں کرسکتا۔ فرعون نے دونوں چیزیں منگوا کر آپ کے سامنے رکھ دیں آپ نے یاقوت کو پکڑنا چاہا مگر جبرئیل ( علیہ السلام) نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر انگارے پر رکھ دیا اور آپ نے انگارا اٹھا کر منہ میں رکھ لیا جس سے زبان جل گئی اور گرہ پڑگئی۔ کیا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبان کی گرہ بالکل کھل گئی تھی ؟ اس کے متعلق مثبت منفی دو قول آئے ہیں جو لوگ بالکل گرہ کھل جانے کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے جواب میں فرمایا تھا ‘ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْ لَکَ (تیری درخواست پوری کردی گئی) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ زبان کی گرہ بالکل کھول دی گئی تھی۔ جو لوگ نفی کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ (باوجود زبان کی گرہ کھول دینے کی درخواست کے) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے حضرت ہارون کے متعلق فرمایا تھا ہُوَاَفْصَحْ مِنِّیْ لِسَانًاوہ مجھ سے فصیح اللسان ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ فرعون نے کہا تھا اَنَا خَیْرٌ مِّنْ ہٰذَا الَّذِیْ ہُوَ مَہِیْنٌاس ذلیل شخص سے میں بہتر ہوں ولا یَکَادُ یُبِیْنُذلیل بھی ہے اور کھول کر کلام بھی نہیں کرسکتا۔ اس فریق نے اوّل گروہ کے استدلال کا جواب یہ دیا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے بالکل زبان کی گرہ کھولنے کی درخواست نہیں کی تھی بلکہ اتنی گرہ کھولنے کی درخواست کی تھی کہ لوگ آپ کی بات سمجھ جائیں چناچہ یَفْقَہُوْا قَوْلِیْاس کے بعد اسی لئے کہا تھا کہ لوگ میری بات سمجھ جائیں یعنی اتنی گرہ کھول دے کہ مطلب سمجھانے میں رکاوٹ نہ رہے ‘ کامل طور پر گرہ کھولنے کی دعا ہی نہیں کی تھی۔
Ayah 20:29

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے گھر والوں میں سے (ایک کو) میرا وزیر (یعنی مددگار) مقرر فرما

واجعل لی وزیرا من اہلی۔ اور میرے گھر والوں میں سے میرا مددگار بنا دے۔
Ayah 20:30

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

(یعنی) میرے بھائی ہارون کو

ہرون اخی۔ میرے بھائی ہارون کو وزیر وزر سے مشتق ہے وزر کا معنی ہے بوجھ ‘ بادشاہ کی طرف سے وزیر پر بھی بار حکومت ہوتا ہے۔ یا وزر جبل سے لفظ وزیر مشتق ہے ‘ وزرجبل پہاڑی پناہ گاہ کو کہتے ہیں ‘ بادشاہ بھی وزیر کی رائے سے مدد لیتا ہے اور اپنی حکومت کے معاملات میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ موازرت (باب مفاعلہ) باہم مدد کرنا۔ بھی اسی سے ماخوذ ہے۔ بعض اہل لغت کہتے ہیں کہ وزیر اصل میں ازیر تھا ازیر ازر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے ازر کا معنی ہے قوت۔ ازیر قوی ‘ اور ازیر بمعنی مازر کے ہے جیسے عشیر بمعنی معاشر اور جلس بمعنی مجالس کے آتا ہے۔ ہمزہ کو واو سے بدل دیا گیا۔
Ayah 20:31

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے میری قوت کو مضبوط فرما

اشدد بہ ازری۔ اس سے میری کمر کو مضبوط کر دے یا میری قوت کو محکم کر دے یا میری کمزوری کو اس کے ذریعہ سے طاقت ور بنا دے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے ازر گھیر لینا۔ پشت ‘ قوت اور قوت کی ضد ضعف (یعنی اضداد میں سے ہے)
Ayah 20:32

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اسے میرے کام میں شریک کر

واشر کہ فی امری۔ اور میرے (اس) کام میں اس کو میرا شریک کر دے یعنی نبوت اور تبلیغ رسالت میں ہارون کو میرا ساتھی بنا دے۔
Ayah 20:33

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریں

کی نسبحک کثیرا۔ تاکہ ہم تیری پاکی بکثرت بیان کریں
Ayah 20:34

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تجھے کثرت سے یاد کریں

ونذکرک کثیرا۔ اور تیری یاد بہت کریں۔ کلبی نے کہا تسبیح سے مراد نماز پڑھنا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو مددگار بنا دینے کی درخواست اس لئے کی کہ باہم تعاون سے امور خیر کی تکمیل میں سہولت پیدا ہوجائے۔
Ayah 20:35

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو ہم کو (ہر حال میں) دیکھ رہا ہے

انک کنت بنا بصیرا۔ بیشک تو ہم سے خوب واقف ہے۔ بصیر سے مراد ہے احوال کو جاننے والا۔ یعنی تو ہمارے احوال کو بخوبی جانتا ہے اور اس بات سے واقف ہے کہ ہارون کا اور میرا تعاون ہمارے کاموں کو درست کر دے گا اور تیرے احکام کی تعمیل میں ہارون میری مدد کرے گا۔
Ayah 20:36

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا موسیٰ تمہاری دعا قبول کی گئی

قال قد اوتیت سولک یموسی۔ اللہ نے فرمایا موسیٰ تمہارا سوال پورا کردیا گیا ‘ یعنی تمہاری سب مانگیں تم کو دے دی گئیں۔ سُؤْلٌبروزن فعل بمعنی مسؤل جیسے خبز بمعنی مخبوز اور اکل بمعنی ماکول آتا ہے۔
Ayah 20:37

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم نے تم پر ایک بار اور بھی احسان کیا تھا

ولقد مننا علیک مرۃ اخری۔ اور ہم ایک بار اور بھی (بغیر درخواست کے) تم پر احسان کرچکے ہیں۔ یعنی اس سے پہلے ایک اور وقت۔ بعض نے کہا یہ ہی بار مراد ہے۔
Ayah 20:38

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے

اذ اوحینا الی امک ما یوحی۔ جب کہ ہم نے تمہاری ماں کو وہ بات الہام سے بتائی جو الہام سے بتانے کی تھی۔ (حضرت مفسر نے اَوْحَیْنَاکی تشریح میں فرمایا) الہام سے بتایا یا خواب میں یا اس وقت کے کسی نبی کی زبانی یا فرشتے کی معرفت۔ لیکن فرشتے کی معرفت اگر وحی کی گئی تو بطریق نبوت نہ تھی۔ فائدہ وحی اور تشریعی نبوت کے لئے انبیاء مخصوص ہیں اور انبیاء سب کے سب مردہی ہوئے رسول اللہ ﷺ پر اس نبوت کا خاتمہ ہوگیا البتہ وحی غیر تشریعی انبیاء کے لئے مخصوص نہیں ہے خواہ بطریق الہام ہو یا بکلام ملائکہ نہ اس کے لئے مردوں کی خصوصیت ہے جس طرح حضرت مریم سے فرشتے نے کلام کیا تھا ‘ اولیاء کے پاس بھی یہ وحی آتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے بعد بھی اس کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا ‘ اسی طرح کمالات نبوت کا حصول بھی اولیاء کو بالتبع یعنی انبیاء کی خوشہ چینی سے ہوجاتا ہے۔ شیخ محی الدین ابن عربی نے فتوحات کے باب 270 میں لکھا ہے کہ تشریعی نبوت کا اگرچہ اس امت کے لئے سلسلہ منقطع ہوگیا لیکن میراث نبوت کا سلسلہ نہیں منقطع ہوا اس امت میں بعض افراد میراث نبوت کے وارث ہوتے ہیں بعض میراث رسالت کے بعض دونوں کے علماء جو کہتے ہیں کہ نبوت محض اختصاص الٰہی (وہبی ‘ عنایتی محض انتخاب الٰہی) ہے اس سے مراد نبوت تشریعی ہے یعنی بوحی الٰہی اللہ کی طرف سے احکام کا نزول براہ راست صرف انبیاء کے لئے مخصوص ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی تشریعی نبوت کے متعلق فرمایا ہے کہ نبوت اور رسالت منقطع ہوگئی۔ میرے بعد نبوت نہیں ہے۔ شیخ اکبر نے فتوحات کے باب الصلوٰۃ کے آخر میں ایسی ہی تشریح کی ہے اور فرمایا یہ (ذیلی) انبیاء وہی مقربین بارگاہ ہیں جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے عَیْنًا یَشْرَبُ بِہَا الْمُقَرَّبُوْنِمیں نے سورة النساء اور سورة الواقعہ کی تفسیر میں لکھ دیا ہے کہ مقربین سے مراد وہی لوگ ہیں جن کو کمالات نبوت حاصل ہوچکے ہوں۔ لیکن وراثۃً اور (ذیلی طور پر نہ براہ راست تشریعاً ) پس وحی غیر تشریعی انبیاء ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کی وحی کو تحدیث فرمایا ہے ‘ امام احمد ‘ بخاری ‘ مسلم ‘ نسائی اور ابو نعیم موصلی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی اور حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلی اقوام میں کچھ محدث ہو گزرے ہیں میری اس امت میں اگر کوئی محدث ہوسکتا ہے تو وہ عمر ہوگا۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے حدیث مذکور ان الفاظ کے ساتھ منقول ہے تم سے پہلے بنی اسرائیل میں کچھ ایسے لوگ گزرے ہیں کہ ان سے (اللہ کی طرف سے) کلام کیا جاتا تھا ‘ باوجودیکہ وہ انبیاء نہیں تھے اب اگر اس امت میں کوئی (ایسا) ہوا تو وہ عمر ہوگا ‘ اسی بناء پر حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتا۔ شیخ شعراوی نے الیواقیت والجواہر میں سوال کیا ہے کیا الہام بلاواسطہ ہوتا ہے پھر خود ہی جواب میں کہا ہے ہاں الہام بلاواسطہ اس غیبی کنکشن کی وجہ سے ہوتا ہے جو ہر ایک انسان کا اپنے رب سے ہے اس سے فرشتہ بھی واقف نہیں ہوتا لیکن اس اندرونی تعلق و ربط کا انکار لوگ بہت جلدی سے کردیتے ہیں حضرت موسیٰ نے حضرت خضر کے اسی تعلق کا فوری انکار کیا تھا۔ اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ انبیاء اور پیغمبر تو فرشتہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور غیر انبیاء صرف اثر دیکھتے ہیں فرشتوں کو نہیں دیکھتے مگر غیر مبصر فرشتہ کی معرفت (کبھی) الہام ہوتا ہے اور کبھی بغیر کسی واسطہ اس غیبی تعلق و رابطہ کی بنا پر جو ہر انسان اور اسکے رب کے درمیان قائم ہے موخر الذکر الہام کا اعلیٰ اور افضل درجہ ہے اس میں انبیاء اور اولیاء سب ہی شریک ہوتے ہیں۔ شیخ عبدالوہاب شعراوی نے شیخ ابوالمواہب شاذلی کا مقولہ نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص کہے میرے دل نے میرے رب کی طرف سے مجھ سے کلام کیا تو اس شخص کی تردید یا انکار درست نہیں کیونکہ اس قول کا مقصد یہ ہے کہ بطریق الہام میرے دل نے اللہ کی طرف سے مجھ سے کہا الہام تو اولیاء کی وحی ہے جو انبیاء کی وحی سے کم درجہ ہے ہاں اگر کوئی کہے کہ میرے رب نے مجھ سے کلام کیا جیسے موسیٰ سے کیا تھا تو یہ قول ضرور قابل رد و انکار ہے۔ میں کہتا ہوں کبھی ولی کو بھی آنکھوں سے فرشتہ نظر آتا ہے جیسے حضرت مریم نے جبرئیل ( علیہ السلام) کو دیکھا تھا (یا سبز عماموں والے فرشتوں کو بدر میں بعض صحابہ نے دیکھا تھا۔ مترجم) ۔ مَایُوْحٰیکا مطلب دو طرح سے ہوسکتا ہے ایک تو وہی ہے جس کے مطابق ترجمہ کیا گیا دوسرا یہ کہ جو بات بغیر وحی کے عقل میں سے معلوم نہیں ہوسکتی وہ موسیٰ کی والدہ کو ہم نے بذریعہ وحی بتائی۔