Ayahs 20:1–4سورة طہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
طہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہ الاسمآء الحسنی (1 : 8) ” “۔
نہایت ہی نرم و نازک اور تروتازہ آغاز ہے ‘ حروف مقطعات طا۔ ہا۔ اشارہ یہی ہے کہ یہ وپری سورة ایسے ہی حروف مقطعات سے مرکب ہے۔ جس طرح یہ قرآن ایسے ہی حروف سے مرکب ہے جیسا کہ دوسری سورتوں کے آغاز میں بھی یہی اشارہ ان حروف کے ذریعہ دیا گیا ہے۔ یہاں جو دو حروف چنے گئے ہیں ان میں ایک مزید یہ اشارہ بھی پیش نظر ہے کہ انکے تلفظ کے آخر میں الف مقصورہ آتا ہے جس طرح اس پوری سورة میں فواصل الف مقصورہ پر ختم ہوتے ہیں۔ حروف مقطعات کے بعد قرآن کریم کا ذکر آتا ہے ‘ جس طرح پورے قرآن میں جس سورة کا آغازحروف مقطعات سے ہوتا ہے ‘ ان کے بعد متصلاً قرآن کریم کا ذکر ہوتا ہے۔ یہاں حضور اکرم ﷺ کو خطاب کی شکل میں تبصرہ ہے قرآن مجید اور اس کی دعوت پر کہ یہ مصیبت نہیں ہے۔
مآ انزلنا۔۔۔۔ لتشقی (02 : 2) ” ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں پڑ جائو “ یعنی یہ قرآن آپ پر نازل ہوا کہ آپ اس کی تبلیغ کریں ‘ اس کی وجہ سے تم پر کوئی مصیبت نہ آئے گی۔ یہ نہیں کہ اس کی تلاوت میں آپکو تکلیف ہو ‘ یہ نہیں کہ اس پر عمل میں آپ کو کوئی مشقت ہو ‘ یہ تو یاد دہانی اور نصیحت آموزی کے لئے آسان کردیا گیا ہے۔ اس کے اندر جو احکام دیئے گئے ہیں وہ انسانی طاقت کی حدد کے اندر اندر ہیں۔ یہ نعمت خداوندی ہے ‘ مصیبت و عذاب خداوندی نہیں ہے۔ اس کے ذریعہ تو عالم بالا سے انسان کا رابطہ ہوتا ہے اور انسان کو عالم بالا کی تائید حاصل ہوتی ہے اور وہ قوت و اطمینان حاصل کرتا ہے۔ اللہ کی رضا مندی کا شعور ‘ اللہ کے ساتھ انس و محبت کا شعور ‘ اور اللہ کے ساتھ صلے اور رابطے کا شعور اس سے حاصل ہوتا ہے۔
یہ قرآن اس لئے بھی نازل نہیں ہوا کہ اگر لوگ اسے نہیں مانتے تو آپ پر یشان ہوں کیونکہ یہ آپ کے فرائض میں نہیں ہے کہ آپ لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ نہ اس لئے نازل ہوا ہے کہ آپ ان لوگوں کے عدم ایمان کی وجہ سے دل کو حسرتوں کا خزانہ بنادیں۔ یہ تو صرف اس لیے ہے کہ آپ نصیحت کرتے چلے جائیں اور لوگوں کو انجام بد سے ڈراتے چلے جائیں۔
الا تذکرۃ المن یخشی (02 : 3) ” یہ تو ایک یاد دہانی ہے ‘ ہر اس شخص کے لئے جو ڈرے “۔ جو شخص ڈرتا ہے ‘ جب اسے نصیحت کی جائے تو وہ اثر قبول کرتا ہے ‘ اللہ سے ڈرتا ہے اور اللہ سے معافی طلب کرتا ہے بس یہاں تک رسول اور داعی کے فرائض پورے ہوجاتے ہیں۔ رسولوں اور داعیوں کا یہ فریضہ نہیں ہے کہ وہ دلوں کو لگے ہوئے تالے کھول دیں یا لوگوں کے دل و دماغ پر اثر انداز ہوں۔ یہ کام تو اللہ کا ہے جس نے قرآن مجید نازل کیا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو اس پوری کائنات کو گھیرے میں لئے ہوئے ہے ‘ اس پر محیط ہی اور اس کو دلوں کے خفیہ ارادے اور راز تک معلوم ہیں۔
تنیزلا ممن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما تحتا الثری (6) (02 : 4 تا 6) ” نازل کیا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو۔ وہ رحمن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ کیونکہ جس نے اس قرآن کو نازل کیا ہے وہی ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے ‘ ان بلند ترین آسمانوں کو ‘ کیونکہ یہ قرآن بھی اسی طرح ایک تکوینی مظہر ہے جس طرح زمین و آسمان مظاہر کو نیہ ہیں۔ یہ بھی عالم بالا سے اترا ہے۔ یہاں قرآن مجید ان قوانین قدرت کو جو اس کائنات میں کار فرما ہیں اور ان قوانین کو جو اس قرآن میں ضبط کیے گئے ہیں یکجا کر کے بیان کرتا ہے۔ آسمانوں کا پر تو زمین پر پڑتا ہے اور اس طرح قرآن بھی ملاء اعلیٰ سے زمین کی طرف آتا ہے۔
جس ذات نے ملا اعلیٰ کی طرف سے یہ قرآن نازل کیا ہے اور جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا کیا ہے وہ کون ہے ؟ رحمن ہے اور رحمن جو نہایت ہی مہربان ہوتا ہے ‘ اس کی جانب سے اترا ہوا قرآن کبھی بھی باعث مشقت اور مصیبت نہیں ہوسکتا۔ قرآن اور رحمن دونوں میں صفت رحمت قدر مشرک ہے۔ اور یہ رحمت ہی ہے جس نے اس پوری کائنات کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے۔
Ayahs 20:5–8الرحمن علی العرش استوی (02 : 5) ” رحمن کا ئنات کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے “۔ استوائے عرش کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا اس کائنات پر پوری طرح کنٹرول ہے اور یہ اس کی مکمل گرفت میں ہے۔ لہٰذا لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ‘ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ جو ڈرتا ہے اسے ڈرائے۔
اس کائنات پر مکمل کنٹرول اور گرفت کے ساتھ ساتھ لہ ما فی السموت۔۔۔۔۔۔۔ وما تحت الشری (02 : 6) ” وہ مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمان و زمین میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں “۔ یہ کائناتی مناظر یہاں اس لئے دیئے گئے کہ اللہ کی ملکیت اور اس کی قدرت کو اس طرح پیش کیا جائے کہ یہ انسانی تصور کے قریب تر ہوجائیں جبکہ اللہ کی ملکیت اور اس کی ضرورت کا تصور اس سے عظیم تر ہے۔ زمین اور آسمانوں اور مٹی کے نیچے کا ذکر محض اس لئے کیا گیا ہے کہ عوام اس بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں کہ اللہ کی گرفت میں جو کائنات ہے اس کی وسعت کا ادراک آہستہ آہستہ وسیع ہو رہا ہے اور بہت بڑا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو یہ خطاب اس لیے کیا جارہا ہے کہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے اور وہ یہ سمجھ لیں کہ رب ان کے ساتھ ہے۔ رب تعالیٰ ان کو اکیلا نہیں چھوڑتا کہ وہ تکالیف منصب نبوت کی وجہ سے مشقت میں پڑجائیں۔ کافروں کا مقابلہ آپ بلا سند نہیں کررہے ‘ اگر آپ اللہ کو جہراً پکاریں تو بھی حرج نہیں لیکن اللہ سراً اور جہراً دونوں پکارنے والوں کو جانتا ہے۔ انسانی دل و دماغ اور شعور میں جب یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ اللہ اس کے قریب ہے ‘ اور اس کی دلی دنیا سے بھی واقف ہے تو انسان مطمئن ہوجاتا ہے اور راضی برضا ہوتا ہے۔ پھر وہ اس قرآن کو پڑھ کر مطمئن ہوجاتا ہے اور وہ جھٹلا نے ولے مخالفوں کے درمیان تنہائی محسوس نہیں کرتا اور وہ مخالفین کے درمیان اپنے آپ کو یکہ و تنہا بھی محسوس نہیں کرتا۔
یہ ابتدائی آیات ‘ جو تمہیدی بھی ہیں ‘ اس اعلان پر ختم ہوتی ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور کائنات اس کے کنٹرول میں ہے۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے اور اس کائنات کے بارے میں پوری پوری خبرداری اسے حاصل ہے۔
اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ قصہ نمونہ ہے اس بات کا کہ اللہ اپنے داعیوں کی حفاظت اور حمایت کس طرح کرتا ہے۔ نبیوں اور رسولوں کے جو قصص قرآن مجید میں وارد ہوئے ہیں ‘ فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ان سب کے مقابلے میں قرآن مجید کے اندر زیادہ جگہ لیتا ہے۔ اس قصے کی مختلف کڑیاں قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں آتی ہیں۔ ان کڑیوں کا انتخاب ہر سورة کے مضمون اور موضوع کی مناسبت سے کیا جاتا ہے اور اس کا انداز بیان بھی اسی رنگ میں ہوتا ہے جس رنگ میں پوری سورة کا انداز بیان ہوتا ہے۔ اس سے قبل اس قصے کی کچھ کڑیاں ‘ سورة بقرہ ‘ سورة مائدہ ‘ سورة اعراف ‘ سورة یونس ‘ سورة اسرائ ‘ سورة کہف میں آچکی ہیں اور دوسری سورتوں میں بھی اس قصے کی طرف اشارات موجود ہیں۔
مائدہ میں جو کچھ آیا وہ صرف ایک کڑی ہے یعنی یہ کڑی کہ بنی اسرائیل جب بیت المقدس میں آئے تو یہ لوگ شہر کے باہر کھڑے ہوگئے اور شہر کے اندر داخل ہونے سے رک گئے ‘ اس لئے کہ اس شہر میں ایک جبار قوم رہتی ہے۔ سورة کہف میں بھی اس کی ایک ہی کڑی ہے ‘ یعنی حضرت موسیٰ اور عبد صالح کے ساتھ ان کی ملاقات اور مختصر صحبت۔
بقرہ ‘ اعراف ‘ یونس اور طہ میں قصہ موسیٰ و فرعون کی گئی کڑیاں آئی ہیں لیکن ان میں سے بھی مختلف سورتوں میں آنے والی کڑیاں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جس طرح اس قصے کی کڑیاں مختلف ہیں۔ اسی طرح مختلف سورتوں میں ان کڑیوں کے مختلف پہلو موقع و مناسبت سے مختلف دیئے گئے ہیں اور انداز بیان بھی مختلف ہے۔
سورة بقرہ میں جب یہ قصہ آیا تو اس سے قبل قصہ آدم و ابلیس تھا اور اس میں آدم (علیہ السلام) کو عالم بالا میں اعزاز بخشا گیا تھا۔ آدم (علیہ السلام) کو خلافت ارضی سپرد کی گئی تھی اور آدم کو معاف کر کے ان پر رحمت خداوندی کا نزول ہوا تھا۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے واقعات بیان ہوئے ‘ یہ یاد دلانے کے لئے کہ اے بنی اسرائیل ذرا غور کرو تم پر اللہ نے کیسی کیسی مہربانیاں کیں۔ تمہارے ساتھ عہد کیا ‘ تمہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی۔ تمہیں صحرا میں پانی پلایا اور تمہارے لئے پتھروں سے چشمے نکالے ‘ تمہیں صحرا میں من وسلوی کی شکل میں کھانا فراہم کیا۔ پھر موسٰی (علیہ السلام) کی ہمارے ساتھ ملاقات اور ہم کلامی کا وقت آیا اور پیچھے سے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی لیکن اللہ نے تمہیں پھر بھی معاف کردیا۔ پہاڑ کے نیچے تم سے عہد لیا۔ پھر سبت کے معاملے میں تم نے حد سے تجاوز کیا۔ اور پھر گائے کے ذبح کرنے کا قصہ تو عجیب تر ہے۔
اعراف میں اس قصے سے پہلے یہ بتایا گیا ہے کہ مکذبین پر اللہ کا عذاب حضرت موسیٰ سے قبل کیسے کیسے آیا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ کا قصہ آیا۔ پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی تقریب ہے۔ اس کے بعد معجزات عصا ’‘ ید بیضا ‘ طوفان ‘ ٹڈی دل ‘ جو میں اور مینڈک اور خون ‘ اور اس کے بعد جادو گروں کے ساتھ مقابلہ ‘ اور فرعون کا بھی اسی طرح خاتمہ جس طرح پہلے کے مکذبین کا ہوا تھا۔ اس کے بعد وہ واقعہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں انہوں نے پچھڑے کو خدا بنا لیا۔ اس کے بعد اس قصے کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کی وراثت ان لوگوں کے لئے ہے جو نبی امی پر ایمان لے آئیں۔
سورة یونس میں جہاں یہ قصہ آیا ہے ‘ اس میں اس سے قبل ان اقوام کا ذکر ہے جو ہلاک کی گئیں۔ یہاں حضرت موسیٰ ﷺ کی رسالت کی کڑی ‘ جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی کڑی اور فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کی کڑی بالتفصیل لائی گئی ہے۔
ہاں سورة طہ میں سورة کا آغاز ہی اس بات سے ہوتا ہے کہ اللہ جن لوگوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے ان پر اس کی رحمت ہوتی ہے۔ اور وہ اللہ کی پناہ میں ہوتے ہیں اور ان پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ چناچہ قصے کا آغاز اس منظر سے ہوتا جس میں حضرت موسیٰ طور پر رب ذوالجلال سے ہم کلام ہیں ‘ اس کے بعد اس میں وہ مناظرآتے ہیں جن میں صاف نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ اللہ کی پناہ میں ہیں اور تائید ایز دی ان کی پشت پر ہے ۔ بچپن میں میں ہی رحمت ان کے شامل حال رہی اور ان کی پرورش اور نگرانی ہوتی رہی۔
والقیت۔۔۔۔۔۔۔۔ علی عینی (02 : 93) ” اور میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالاجائے “۔
وھل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علی النار ھدی (9 : 01) ” اور تمہیں کچھ موسیٰ ؐ کی خبر بھی پہنچی ہے ؟ جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ ” ذرا ٹھہرو ‘ میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آئوں ‘ یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق ) کوئی رہنمائی مل جائے ؟ “
کیا تمہیں موسیٰ ؐ کی کہانی معلوم ہے۔ اس کہانی سے یہ بات پوری طرح عیاں ہے کہ اللہ جن لوگوں کو منصب رسالت عطا کرتا ہے وہ ان لوگوں کو اپنی خاص پناہ میں رکھتا ہے اور ان کو بروقت ہدایت دیتارہتا ہے۔
Ayahs 20:9–10وھل اتک حدیث موسیٰ (02 : 9) ” کیا موسیٰ ؐ کا قصہ تمہیں معلوم ہے “۔ اگر نہیں تو سنئے ‘ حضرت موسیٰ ؐ مدین سے واپسی مصر جارہے تھے۔ وہ طور کے دامن میں سفر کررہے تھے ‘ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی تھی اور ان کے اور اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ پوراہو گیا تھا۔ معاہدہ یہ تھا کہ حضرت شعیب اپنی بیٹیوں میں سے ایک کو انکے نکاح میں دے دے گا اگر وہ انکی آٹھ سال تک خدمت کرتا رہے یا دس سال تک۔ میعاد پوری کرنے کے بعد حضرت موسیٰ ؐ عازم مصر ہوئے تاکہ وہاں وہ اپنی بیوی کیساتھ مستقلاً زندگی گزاریں۔ مصر میں جہاں ان کی ولادت ہوئی اور جہاں ان کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل آباد ہیں ‘ فرعون کے ظلم و ستم سہ رہے ہیں اور غلامانہ زندگی بسر کررہے ہیں۔
یہ کیوں واپس ہو رہے ہیں جبکہ مصر سے تو وہ خارج البلد ہوگئے تھے۔ مفرور ہوگئے تھے ‘ جب ایک بار انہوں نے دیکھا کہ ایک قبطی ان کے ہم قوم بنی اسرائیلی سے لزرہا ہے ‘ اس جھگڑے میں قبطی ان کے ہاتھوں قتل ہوگیا تھا۔ حضرت موسیٰ ؐ مصر چھوڑ کر بھاگ گئے تھے جبکہ بنی اسرائیل پر انواع والوان کے مصائب کے پہاڑ توڑے جارہے تھے۔ مدین میں اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) کے ہاں ان کو پناہ مل گئی جہاں انہوں نے دامادی اختیار کرلی اور ان کی ایک بیٹی سے ان کا نکاح ہوگیا۔
دست قدرت نے حضرت موسیٰ ؐ کے لئے ایک اہم رول تجویز کر رھکا تھا لیکن بظاہر وطن کی محبت اور اہل و عیال اور قوم کی کشش ان کو مجبور کررہی ہے کہ وہ مدین سے مصر کی طرف واپس ہوجائیں۔ اس دنیا میں بطور انسان ہم لوگ اسی طرح ادھر ادھر گھومتے رہتے ہیں ‘ جذبات ‘ میلانات اور محبتیں ہمیں ادھر ادھر گھماتی رہتی ہیں ‘ جدوجہد اور منافع ‘ مصائب اور امیدیں ‘ یہ باتیں ہمیں ادھر ادھر حرکت دیتی رہتی ہیں ‘ لیکن یہ محض ظاہری چیزیں ہیں ‘ دراصل محرک ایک خفیہ دست قدرت ہے جسے ہماری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔ یہ دست قدرت پوشیدہ مقاصد کے لئے ہمیں حرکت دے رہا ہے۔ یہ مدبرکائنات ‘ اور عزیز اور جبار کا دست قدرت ہے جس کے پاس ہماری ڈائری ہے۔
غرض دست قدرت نے حضرت موسیٰ ؐ کو مدین سے اٹھایا۔ صحرائے سینا میں وہ راہ گم کر بیٹھے ‘ ان کی بیوی ان کے ساتھ ہے ‘ ممکن ہے کوئی خادم بھی ساتھ ہو ‘ رات کا وقت ہے ‘ اندھیری رات ہے ‘ اور صحرا وسیع ہے۔ یہ صورت حال اس آیت سے معلوم ہوتی ہے انہوں نے اہلیہ سے کہا : انی انست نارا۔۔۔۔۔۔۔۔ علی النار ھدی (02 : 01) ” ذرا ٹھہرو ‘ میں نے ایک آگے دیکھی ہے ‘ شاید میں تمہارے لئے ایک آدھ انگارا لے آئوں یا اس آگ پر مجھے کوئی راہنمائی مل جائے۔ کیونکہ دیہاتی لوگ اونچی جگہ آگ جلایا کرتے ہیں تاکہ صحرا میں چلنے والے گم کردہ راہ لوگ اسے دیکھ لیں اور ان کو راستہ معلوم ہوجائے یا ان کو کھانے پینیکا سامان مل جائے یا ایسا شخص مل جائے جو انہیں سیدھی راہ بتلادے۔
حضرت موسیٰ ؐ نے ایک ٹیلے پر آگ دیکھی تو خوش ہوئے ‘ اس طرف چل دیئے تاکہ وہاں سے کوئی انگارہ لے آئیں اور اس سے آگ جلا کر رات کے وقت یہ لوگ تاپیں۔ رات سرد ہے اور صحرائوں کی راتیں تو بہت سرد ہوتی ہیں یا کوئی راہنما مل جائے یا اسے آگ کی روشنی میں راستہ دیکھا جاسکے۔
وہ گئے تو اس لئے کہ آگ کا انگارہ لے آئیں یا صحرا میں کوئی راہنمائی کرنے والا مل جائے لیکنوہاں وہ اچانک ایک عظیم الشان واقعہ سیدوچار ہوگئے۔ یہاں انہیں ایسی آگ ملی جو جسم کے تاپنے کے کام نہ آتی تھی بلکہ روح کی تپانے کے لیے کار گر تھی۔ یہ آگ صرف صحرا میں رہنمائی کے لئے مفید مطلب نہ تھی بلکہ یہآگ زندگی کے عظیم سفر کے لئے راہ دکھانے والی تھی۔
Ayahs 20:11–12فلمآ اتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (21 : 61) ’ اور میں نے تجھ و چن لیا ہے ‘ سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔ میں ہی اللہ ہوں ‘ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔ قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ‘ ورنہ تو ہلاکت میں پڑجائے گا “۔
انسان کا خون خشک ہوجاتا ہے اور جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ محض اس منظر کے تصور سے ‘ ایک غیر آباد پہاڑی پر موسیٰ اکیلے کھڑے ہیں۔ تاریک اور سیاہ رات ہے۔ ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا ‘ عجیب اور خوفناک خاموشی ہے ‘ طور کے دامن سے انہوں نے آگ دیکھی تھی ‘ وہ اس کی تلاش میں نکلے تھے ‘ لیکن ان کو ہر طرف سے پوری کائنات کی طرف سے یہ ندا آرہی ہے :
انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لما یوحی (31) (02 : 21۔ 31) ” اے موسیٰ میں تیرا رب ہوں ‘ جو تیاں اتار دے ‘ تو وادی مقدس طوی میں ہے اور میں نے تجھ کو چن لیا ہے “۔
یہ چھوٹا سا ذرہ ناچیز ‘ یہ محدود بشر لامحدود رب ذوالجلال کے سامنے کھڑا ہے ‘ جسے آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ وہ عظمت و جلال جس کے مقابلے میں یہ نظر آنے والی کائنات زیمن و آسمان سب حقیر ہیں یہ ذرہ ضعیف ‘ انسانی قوائے مدر کہ کے ساتھ ‘ ایک لامحود ذلت کے ساتھ مربوط ہوگیا ‘ اس کی آواز سن رہا ہے ‘ کس طرح ؟ اللہ کی خاص رحمت ہے ‘ ورنہ کیسے ممکن ہے۔ محدود اور لامحدود کا اتصال ؟
پوری انسانیت اب موسیٰ (علیہ السلام) کی شکل میں اٹھائی جارہی ہے ‘ سربلند کی جارہی ہے کہ ایک لمحے کے لئے وہ بشری شخصیت کو لئے ہوئے ہی لامحدود فیض و صول کررہی ہے۔ اس انسانیت کے لئے کیا یہ کوئی کم شرف ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کا اتصال اور رابطہ ‘ اس انداز میں ‘ رب ذوالجلال کے ساتھ ہوگیا ‘ لیکن ہم نہیں جانتے کہ کیونکر وہ گیا یہ ؟ کیونکہ انسانی قوائے مدر کہ اس حقیقت کا نہ ادراک کرسکتی ہیں اور نہ اس بارے میں کوئی فیصلہ دے سکتی ہیں۔ انسان کی قوائے مدرکہ کا بس یہ کام ہے کہ وہ حیران رہ کر اپنے قصور کا اعتراف کریں ‘ ایمان لائیں اور شہادت دیں کہ یہ حق ہے۔
فلما۔۔۔۔۔۔۔ یموسی (11) انی اناربک (21) (12 : 11۔ 21) ” جب وہاں پہنچا تو پکارا گیا اے موسیٰ ‘ میں ہی تیرا رب ہوں “۔ پکارا گیا ‘ ماضی مجہول کا صیغہ استعمال ہوا۔ کیونکہ آواز کے مصدر اور جہت کا تعین ممکن نہیں ہے۔ نہ آواز کی صورت اور کیفیت کا تعین ممکن ہے۔ نہ اس بات کا تعین ممکن ہے کہ کس طرح سنا اور کس طرح سمجھے۔ پکارا گیا جس طرح پکارا گیا اور انہوں نے سمجھا جس طرح سمجھا۔ کیونکہ یہ اتصال ان امور میں سے ہے جن پر ہم ایمان لاتے ہیں کہ ایسا ہوا مگر اس کی کیفیت کے بارے میں نہیں پوچھتے کیونکہ یہ کیفیت انسانی قوت مدر کہ اور انسانی دائرہ تصور سے وراء ہے۔
انی انا۔۔۔۔۔۔۔ طوی (02 : 21) ” اے موسیٰ ‘ میں ہی تیرا رب ہوں ‘ جو تیاں اتار دے تو وادی مقدس طوی میں ہے “۔ تم بار گاہ رب العزت میں ہو ‘ اس لیے پائوں سے جوتے اتار دو تاکہ تم ننگے پائوں آئو ‘ ایک ایسی وادی میں جس پر پاکیزہ انوار کا نزول ہورہا ہے۔ اس لیے اس وادی کو اپنے جوتوں سے نہ روندو۔
Ayah 20:13وانا اخترتک (31) ” اور میں نے تجھ کو چن لیا “۔ ما شاء اللہ کیا اکرام ہے ! اللہ بذات خود انتخاب فرما رہے ہیں۔ اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو ‘ انسانوں کے ہزارہا گروہوں میں سے صرف ایک فرد کو ‘ یہ فرد اللہ کے پیدا کردہ ستاروں میں سے ایک ستارے پر رہتا ہے ‘ جو بہ نسبت پوری کائنات کے ایک ذرہ ہے۔ وہ کائنات جو صرف کن کے حکم کے نتیجے میں وجود میں آگئی لیکن یہ اس ذات باری کی ذرہ نوازی ہی تو ہے۔
اس اعزاز اور انتخاب کے بعد اور جوتے اتار کر بار گاہ رب العزت میں حاضری اور اخذ وحی کی تیاری و استعداد کے بعد حکم آتا ہے کہ اب سنو ‘ باران رحمت کا نزول ہورہا ہے۔
فاستمع لما یوحی (31) ” سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے “۔ جو پیغام دیا جارہا ہے ‘ وہ تین مربوط امور پر مشتمل ہے۔ عقیدہ توحید ‘ توجہ سے اللہ کی بندگی اور آخرت کی جوابدہی کا احساس اور اس کی تیاری۔ یہ نکات تمام رسالتوں کا نصب العین رہے ہیں جو ایک ہی نوعیت رکھتی ہیں۔
Ayahs 20:14–16اننی انا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (02 : 61) (02 : 41۔ 61) ” ‘۔
یہ کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اسلامی نظریہ حیات کا بنیادی عنصر ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود پکار کر موسیٰ (علیہ السلام) کو جو پیغام دیا ‘ اس میں اس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ ہمہ جہت تاکید۔
اننی انا اللہ میں لفظ ان تاکیدی ‘ پھر انا تاکیدی ‘ مبدا وخبر کی حصر تاکیدی ‘ پھر نفی و اثبات کی تاکیدی حصر
لا الہ الا انا (41) جس میں اللہ کی الوہیت کا اثبات اور تمام غیر اللہ کی الوہیت کی نفی ثابت کی گئی ہے۔ پھر الوہیت کے ثبوت کے بعد الہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور بندگی کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کی تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ کی طرف توجہ کی جائے لیکن عبادات میں سے نماز کو یہاں خصوصی طور پر کیا گیا ہے۔
و اق ، الصلوۃ لذکری (41) ” میری یاد کے لئے نماز قائم کر “۔ نماز دراصل عبادت کی ایک مکمل صورت ہے اور ذکر الہٰی کا بہترین ذریعہ ہے۔ کیونکہ اس کا فنکشن ہی اللہ کی یاد کو تازہ رکھنا ہے۔ اس میں انسان یاد الہٰی کے سوا تمام باتوں سے کٹ جاتا ہے۔ صرف یاد الٰہی پیش نظر رہ جاتی ہے اور کچھ دیر کے لئے انسان اللہ سے مربوط ہوجاتا ہے۔
رہی قیامت تو وہ پوری زندگی کی جوابدہی کا ایک عادلانہ وقت حساب و محاسبہ ہے۔ لوگ آخرت کی طرف جب متوجہ ہوتے ہیں تو وہ اپنی زندگی کے ہر موڑ پر اس کا خیال رکھتے ہیں اور زندگی کی پر پیچ راہوں میں ‘ ٹھوکروں اور پھسلن سے بچتے ہیں۔ قیام قیامت کی قرآن کریم میں باربار تاکید کی گئی ہے۔ بار بار کہا گیا ہے۔
ان الساعتہ اتیتہ (51) ” قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے “۔ اللہ نے اس کے قیام کے وقت اور تاریخ کو مخفی رکھا ہے۔ لہٰذا اس کے قیام کے بارے میں ہمارا علم اسی قدر ہے جس قدر اللہ نے ہمیں دیا ہے۔ اللہ نے اس کے بارے وہی کچھ علم دیا ہے جو اس کی حکمت کے مطابق ہے۔ بعض چیزوں سے لا علمی انسانی زندگی کو مناسب طریقے سے چلانے کے لئی بہت ہی اہم ہے لہٰذا اللہ نے بعض چیزوں کو جان بوجھ کر انسانوں سے مجمول رکھا تاکہ وہ حصول علم کے لئے تگ و دو کرتے رہیں۔ اگر تمام امور کے بارے میں اللہ انسان کو قبل از وقت علم دے دیتا اور انسان ایسے ہی ہوتے جس طرح کہ ان کی فطرت اس وقت ہے ‘ تو ان کی زندگی کی گاڑی رک جاتی اور زندگی جمود کا شکار ہوجاتی کیونکہ انسان کی جدوجہد ایک مجمول اور نامعلوم مستقبل کے لئے ہے۔ وہ احتیاط کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں ‘ امید رکھتے ہیں ‘ تجربے کرتے ہیں ‘ نئی نئی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اپنی خفیہ قوتوں کو کام میں لاتے ہیں۔ ان کے اردگرد کائنات میں پھیلی ہوئی قوتوں کے بارے میں وہ ہر وقت کھوج لگاتے ہیں اور اپنے نفسوں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں وہ نشانات الہیہ کو دریافت کرتے ہیں۔ وہ زمین میں اللہ کی مشعیت کے مطابق نئی نئی ایجادات کرتے ہیں اور ان کے دل قیام قیامت کے ساتھ اٹکے ہوتے ہیں ‘ جس کے قیام کا وقت انہیں معلوم نہیں ہے۔ یہ تصور ان کو بےراہ روی سے بچاتا ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ قیامت کب آئے گی ‘ اس لیے ہر لمحہ وہ اس کے قیام کی توقع کرتے ہیں اور ڈرتے رہتے ہیں۔ یہ تو ان لوگوں کی بات ہے جو صحیح الفطرت ہوں ‘ ان کی فطرت مستقیم ہو ‘ رہے وہ لوگ جن کی فطرت میں بگاڑ ہو ‘ جو خواہشات نفس کے بندے ہوں ‘ تو وہ غافل اور جاہل ہوجاتے ہیں ‘ ایسے لوگ زندگی کی پر پیچ راہوں میں کسی گڑھے میں گر جاتے ہیں اور ہلاک ہوجاتے ہیں۔
فلا یصدنک عنھا۔۔۔۔۔۔ ہوہ فتردی ( 02 : 61) ” پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہو تجھ کر اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے “۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی خواہشات نفس کے بندے ہوتے ہیں ‘ وہ قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ ایک صحیح الفطرت انسان تو یہی سوچتا ہے کہ اس دنیاوی زندگی میں انسان کمال تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس میں مکمل عدل کا قیام ممکن نہیں۔ اس لئے اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ضروری ہے جس میں مطلوبہ کمال حاصل کیا جاسکے۔ جس میں ہر انسان کو اس کے اعمال کے مطابق پوری پوری جزاء و سزا دی جاسکے۔
یہ تو تھی اس آسمانی پکار کی پہلی اہم بات ‘ جس کی تائید میں موسیٰ (علیہ السلام) کے اردگرد پھیلی ہوئی پوری کائنات ان کے ہمرکاب تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عقیدہ توحید کی بنیادیں سکھائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اچانک جس صورت حال سے دو چار ہونا پڑا ‘ ظاہر ہے کہ وہ اس موقع پر اپنی ذات اور وادی طوی میں آنے کی غرض وغایت اور اپنے پسماندگان سب کو وہ بھول گئے ہوں گے۔ وہ ہمہ تن اس نئی صورت حال کی طرف ہی متوجہ ہوں گے۔ گھبراہٹ اور خوف میں مزید کچھ سننے کے منتظر ہوں گے۔ وہ اس سوچ ہی میں گم تھے اور ان کے جسم کا ذرا ذرہ عالم بالا کی طرف متوجہ تھا کہ اچانک ان پر ایک سوال ہوتا ہے۔ ایک بہت آسان وال جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔
Ayahs 20:17–18وما تلک۔۔۔۔۔ مارب اخری (71۔ 81) ’
سوال ہوتا ہے کہ تمہارے ہاتھ میں کیا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو اپنے حال میں نہ تھے۔ دیکھ کر بتایا کہ عصا ہے۔ سوال میں یہ نہ تھا کہ عصا کے فوائد کیا ہیں ؟ صرف یہ تھا کہ ہاتھ میں کیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سمجھا کہ جو ہاتھ میں ہے ‘ اس کی ماہیت تو نہیں پوچھی جاتی ‘ ماہیت تو واضح ہے ‘ بلکہ عصا کے فوائد پوچھے جارہے ہیں ‘ اس لیے انہوں نے فوائد گنوا دیئے ‘ جو فوائد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جانتے تھے ‘ وہ بتا دیئے کہ وہ اس کا سہارا لیتے ہیں ‘ اس کے ذریعہ درختوں کے پتے جھاڑتے ہیں تا کہ بکریاں کھا لیں۔ آپ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریاں چراتے تھے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ واپسی کے وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بکریوں کا ایک گلہ بھی تھا ‘ جو ان کے حصے میں آئی تھیں ‘ الایہ کہ یہ عصا اس قسم کے دوسرے مقاصد میں بھی استعمال ہوتا ہے ‘ ان کا ذکر انہوں نے اجمالا کردیا کہ اس میں اور بھی فوائد ہیں۔
لیکن ذرا آگے دیکھو کہ قدرت خداوندی اس عصا سے وہ کچھ کام لینا چاہتی ہے جس کا کبھی موسیٰ (علیہ السلام) نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ یہ تجربہ ان کو اس لیے کرایا جاتا ہے کہ وہ فرعون کے دربار میں بےدھڑک ہو کر جائیں۔
Ayahs 20:19–21قال القھایموسی۔۔۔۔۔ سیرتھا الاولیٰ (91 تا 12) ”“۔ ۔
یہ خارق عادت معجزہ ظہور پذیر ہوگیا ‘ یہ معجزہ اس کائنات میں ہر لمحہ ہر طرف ظاہر ہوتا رہتا ہے ‘ لیکن لوگوں کی سوچ اس طرف نہیں جاتی۔ یعنی ” زندگی “ کا معجزہ ۔ ایک عصا سانپ بن گئی۔ اس دنیا میں ہر سیکنڈ میں عصا کی طرح اربوں مردہ ذرے زندگی پاتے ہیں اور زندہ خلیوں کی شکل اختیار کرتے ہیں لیکن انسان انہین اس طرح نہیں دیکھ سکتا جس طرح وہ ایک بڑی عصا کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے اس لیے کہ انسان اپنے حواس کا بندہ اور اپنے تجربات کا قیدی ہے۔ وہ اپنے تصورات میں حواس کے دائرے سے آگے جانے کی تکلیف نہیں کرتا۔ ایک عصا کا زندہ ہو کر سانپ بن جانا اور پھر چلنا انسانی احساس کو شدت سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ‘ لیکن وہ خلیے جو زندگی کے پہلے معجزے کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور وہ مظاہر جوہر لمحہ اربوں ذرات کے زندہ خلیوں کی شکل اختیار کرنے میں پیش آتے ہیں۔ یہ خفیہ یا باریک ہیں۔ اور انسان ان کی طرف متفت نہیں ہوتے۔ پھر جو لوگ ان کا ملاحظہ بھی کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ دیکھتے دیکھتے وہ ان مناظر کے اس زدر عادی ہوجاتے ہیں کہ پھر وہ ان سے متاثر ہی نہیں ہوتے اور غفلت کے ساتھ ان مناظر پر سے گزر جاتے ہیں۔
یہ معجزہ جب رہ نما ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) ششدر رہ گئے ‘ بلکہ ڈر گئے اور اللہ کو کہنا پڑاخذھا ولا۔۔۔۔ سیرتھا الاولیٰ (02 : 12) ” پکڑلے اس کو اور ڈرو نہیں ‘ ہم اسے پھر ویسا ہی کریں گے “۔ یعنی عصا۔۔۔ یہاں قرآن مجید نے ایک بات کا ذکر نہیں کیا جو دوسری جگہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بھاگ کھڑے ہوئے اور پیچھے نہ دیکھا۔ یہاں صرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ نہ ڈرو ‘ یہ اس لیے کہ اس سورة کی فضا اور مناظر میں امن ‘ اطمینان ‘ سکون اور وقار چھایا ہوا ہے لہٰذا اس میں یہ مناسب نہیں ہے کہ اسٹیج پر جزع و فزع دکھایا جائے اور کوئی بھاگ کھڑا ہو۔
حضرت موسیٰ مطمئن ہوگئے ‘ عصا کو لیا توسانپ پھر عصا تھا۔ یہ معجزہ اب دوسری شکل میں ظاہر ہوگیا۔ ایک زندہ چیز کو مردہ بنایا گیا۔ اچانک زندہ رینگنے ‘ والی چیز مردہ اور عصا کی شکل میں آگئی۔ جس طرح کہ پہلے معجزے سے قبل تھی۔ ایک بار پھر موسیٰ کو عالم بالا سے حکم ملتا ہے۔
Ayah 20:22واضمم یدک الیٰ ۔۔۔۔۔ ایتہ اخری (22) ”
موسیٰ نے ہاتھ اپنی بغلوں میں دبائے۔ یہاں قرآن کریم نے ہاتھ اور بغل کے لئے پر کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ پروں میں خوبصورتی اور حرکت ہے ‘ ہلکا پن ہے اور یہ مقام ایسا ہے کہ اس میں انسانیت زمین کی بوجھل فضا سے ہلکی ہو کر عالم بالا کی طرف پرواز کر رہی ہے اور یہ ہاتھ سفید ہر کر نکلے ‘ مرض کی بیماری کی وجہ سے نہیں بلکہ معجزانہ سفید بغیر بیماری کے سفید ہوگا۔ اور عصا کے بعد یہ دوسری نشانی ہوگی آپ کی نبوت کی سچائی پر۔
Ayahs 20:23–24لنریک من ایتنا۔۔۔۔ انہ طغی (32۔ 42) ” اس لئے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں۔ اب تو فرعون کے پاس جا ‘ وہ سرکش ہوگیا ہے “۔
یہ نشانیاں اور معجزات جس کا حسن اظہار ہو رہا ہے اے موسیٰ (علیہ السلام) پہلے آپ کو دکھائی جارہی ہیں تاکہ تم مطمئن ہو کر اور ان سے مسلح ہو کر فرعون کے پاس جائو یہاں تک کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم نہ تھا کہ وہ اس عظیم مہم اور اس عظیم منصب کے لئے چن لئے گئے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ فرعون کون ہے کیونکہ وہ تو پہلے ہی اس کے گھر میں تھے ‘ اس کی سرکشی اور سخت داروگیر سے وہ وقف تھے۔ وہ بنی اسرائیل پر جو مظالم ڈھا رہا تھا اس سے بھی واقف تھے ‘ وہ اس وقت چونکہ بارگاہ رب العزت میں پہنچے ہوئے ہیں ‘ سمجھتے ہیں کہ ان کو بڑا اعزاز مل چکا ہے اور وہ ایک بہت ہی معزز بندے ہیں لہٰذا ان کے دل میں یہ بات آگئی کہ یہ موزوں وقت ہے کہ وہ اس مہم کے لیے ضروری سازو سامان اسی وقت طلب کرلیں تا کہ وہ پوری طرح لیس ہو کر فرعون کے پاس جائیں۔
Ayahs 20:25–29قال رب اشرح لی۔۔۔۔ انک کنت بنا بصیرا (52 تا 53) ”
اس ذریں موقعہ پر حضرت موسیٰ نے یہ درخواست کی کہ اے اللہ ‘ میرے سینے کو اس کام کے لئے کھول دے۔ جب انسان کو شرح صدر حاصل ہوجائے تو مشکل سے مشکل کام بھی آسان ہوجاتا ہے۔ اس میں انسان کو لذت حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کی زندگی ہل کہ ہوجاتی ہے۔ اس پر کوئی بوجھ نہیں رہتا اور انسان سبک رفتاری سے زندگی بسر کرتا ہے۔
انہوں نے یہ درخواست بھی کی کہ اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات کو اچھی طرح سمجھ جائیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت تھی ‘ راجح بات یہ ہے کہ ان کا سوال اس لکنت کو دور کرنے کے بارے میں تھا ، دوسری سورة میں اس کے بارے میں یوں آیا ہے۔
Ayahs 20:30–34واخی ہارون ھوافصح من لسانا ” اور میرے بھائی ہارون ” مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں “۔ اس سے قبل وہ ایک عمومی دعا کرچکے تھے کہ اللہ مجھے شرح صدر عطا کر اور میرے کام کو میرے لئے آسان کر دے۔ اس عمومی دعا اور مطالبہ کے بعد یہ خصوصی درخواست تھی تاکہ اس کام کے سلسلے میں آپ کو تمام سہولتیں حاصل ہوجائیں۔ پھر آپ نے یہ درخواست کی کہ میرے خاندان میں سے میرا ایک معاون اور مدد گار بھی مجھے عطا کر دے ہارون میرے بھائی ‘ وہ مجھ سے زیادہ فصیح النسان ‘ مضبوط دل والے اور مضبوط اعصاب کے مالک ہیں ‘ جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) زیادہ جذباتی ‘ تیز مزاج اور جلد متاثر ہونے والے تھے۔ چناچہ انہوں نے یہ درخواست کی کہ ان کو یہ معاون دے دیں تاکہ ان کی قوت اور فعالیت میں اضافہ ہو ‘ وہ ان کے لئے قوت کا باعث ہوں ‘ مشیر ہوں کیونکہ یہ مہم بہت ہی عظیم ہے۔
یہ مہم جسکے لئے وہ بھیجے جا رہے ہیں وہ ذکر کثیر اور تسبیح و ثنا کثیر کی محتاج ہے ‘ اس میں اللہ کے ساتھ مضبوط رابطہ ضروری ہے۔ اس لئے انہوں نے شرح صدرنیسیر امر ‘ زبان کی گرہ کھولنے ‘ معاون اور بھائی کو وزیر مقرر کرنے کے مطالبے کیے۔ یہ سب درخواستیں ایسی نہ تھیں کہ وہ براہ راست اس مہم کو آگے بڑھائیں۔ بلکہ یہ چیزیں اس مہم کی تیاری کے مرحلے کے لئے ضروری تھیں۔ یہ چیزیں انہیں اور ان کے بھائی کو اس کام کے لئے تیار کر رہی تھیں۔ تسبیح کثیر ‘ ذکر کثیر ‘ علم کثیر ‘ اور زبان کی صفائی اور اللہ سے علوم کا اخذ ‘ یہ سب تیاری کے مراحل ہیں۔
Ayah 20:35انک کنت بنا بصیرا (02 : 53) ” تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران ہے “۔ آپ کو ہمارا حال اچھی طرح معلوم ہے ہم ضعیف و قصور کھتے ہیں اور آپ کو ہماری ضروریات کا اچھی طرح علم ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بہت ہی طویل سوال کیا اور اپنی ضروریات بتائیں۔ اپنی کمزوری کا اظہار کیا ‘ مدد ‘ سہولیات اور مسلسل رابطے کی ضرورت کا ذکر کیا۔ رب تعالیٰ تو سنتا ہے اور جانتا ہے ۔ آپ کے سامنے موسیٰ (علیہ السلام) ضعیف ہیں۔ مانگتے ہیں اور بات کرتے جاتے ہیں۔ تو رب ذوالجلال اپنے مہمان کو شرمندہ نہیں فرماتے ‘ کوئی سوال رد نہیں کرتے ‘ منظوری میں دیر بھی نہیں کرتے۔
Ayah 20:36قال قد اوتیت سولک یمٰوسیٰ (63) ” فرمایا “ دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! “۔ ایک ہی فقرہ میں تمام سوالات منظور ‘ ایک ہی اجمالی آرڈر کردیا گیا۔
تفصیلات دینے کی ضرورت ہی نہیں۔ وعدہ بھی نہیں بلکہ فائنل منظوری بلکہ دستی تعمیل۔ جو مانگا وہی دے دیا گیا۔ نہ دیر اور نہ بار بار کا مطالبہ۔ درخواست کی منظوری کے ساتھ ساتھ لطف و کرم کا اظہار بھی ہے ‘ تعظیم و تکریم بھی ہے ‘ پھر محبت کا اظہار یوں نام لے کر (اے موسیٰ ) اس سے بڑھ کر تکریم اور کیس ہو سکتی ہے۔ کہ پوری کائنات کی مجلس میں اللہ ایک بندے کا نام لے کر اس کے مطالبے منظور کرے۔
یہاں تک آپ نے دیکھا کہ اللہ کے فضل وکرم کی تکمیل کس قدر ہوچکی ہے ‘ محبت اور بےتکلفی کی باتیں ہو چکیں۔ طویل عر صے تک بھی قائم رہی ‘ مناجات ہوتی رہی ‘ تمام درخواستیں منظور اور فوراً تعمیل ہوگئی ‘ لیکن ان کے فضل پر کوئی داروغہ نہیں ہے۔ اور اللہ کی رحمتوں پر کوئی کنٹرول کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ اس بندے پر مزید فضل کرنا چاہتے ہیں ‘ اپنی رضا مندی کا یہ فیض ان پر طویل تر کرتے جاتے ہیں۔ اس دربار میں ان کی حاضری کا وقت مزید بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ اب موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی سابقہ مہربانیاں گنوا کر ان کے ساتھ مزید ہمکلام ہونا چاہتے ہیں کہ ان کو مزید اطمینان ہو ‘ وہ مزید بےتکلف ہوجائیں ‘ اللہ اپنی رحمتوں اور قدیم مہربانیوں کا ذکر شروع کردیتے ہیں۔ اس دربار علیہ میں ان کے لقاء کے وقت میں جس قدر اضافہ ہوتا ہے وہ ان کے لئے سرمایہ زندگی ہے اور باعث افتخار ہے۔ وہ ایک نہایت ہی روشن اور مقدس مقام پر کھڑے ہیں سنئے :
Ayahs 20:37–38و لقد مننا علیک۔۔۔۔۔ واصطنعتک لنفسی (73 تا 14) ”
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے بادشاہ کے دربار میں پیغام حق پہنچانے کے لیے جارہے ہیں جو اس وقت اس کرئہ ارض پر نہایت ہی سرکش ‘ ظالم اور داداگیر بادشاہ تھا ، وہ کفر و ایمان کے معف کہ میں داخل ہو رہے تھے ‘ وہ پہلی بار فرعون کے دربار میں جارہے تھے۔ وہاں ان کے لیے مسائل ‘ واقعات اور مشکلات کے پہاڑ کھڑے تھے۔ پھر ان کی قوم کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل عرصہ ذلت اور غلامی کی زندگی گزارتے گزارتے وہ اس کی خ اگر ہوگئے تھے۔ ان کی فطرت ہی بدل گئی موسیٰ (علیہ السلام) اگر اپنی مہم میں کامیاب ہوئے بھی تو ان کی قوم اس آزادی کے لئے نہ موزوں ہے نہ تیار۔ ان کے رب ان کو بتاتے ہیں کہ تمہیں تیاری کے بعد بھیجا جا رہا ہے اور وہ کسی بھی رسول کو جب بھیجتے ہیں کہ اس کے ارسال کے لیے اسٹیج تیار ہوتا ہے۔ یہ کہ اے موسیٰ تمہاری تربیت بھی ہم ایک عرصہ سے اپنی نگرانی میں کر رہے ہیں۔ جب تم دودھ پیتے بچے تھے تب سے ہم نے تمہیں تربیت دینا شروع کی ہے۔ اس ضیعف و ناتوانی کی حالت میں اللہ کا فضل تمہارے شامل حال رہا ہے ۔ تم فرعون کے ہاتھ میں تھے۔ تمہارے پاس کوئی قوت نہ تھی لیکن یہ اللہ ہہی کی حکمت تھی جس نے فرعون کی دست درازیوں سے تمہیں بچایا۔ یہ دست قدرت تھا جو تمہاری مدد کر رہا تھا۔ اللہ کی نظروں میں تم تھے۔ قدم قدم پر تمہاری نگرانی اور نگہبانی ہو رہی تھی ۔ لہٰذا آج بھی فرعون تمہارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا ، آج تو تم جوان ہو۔ رب تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا ہوگیا ہے اور تم اس کی بارگاہ میں ہو۔ اور میں نے تمہیں خود اپنے مشن کے لئے پیدا کیا ہے اور تربیت دی ہے اور چنا ہے۔
ولقد مننا علیک مرۃ اخری (02 : 73) ” ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا “۔ تم پر تو زمانہ قدیم سے مسلسل مہربانیاں ہو رہم ہیں۔ ایک عرصے سے اللہ کی مہربانی اور فضل تمہارے شامل حال ہے اور اس مشن کی سپردگی کے بعد تو یہ مسلسل جاری رہے گا۔
دیکھو ‘ تم پر یہ احسان کیا کم تھا کہ فرعون بچوں کو قتل کر رہا تھا اور ہم نے تیری ماں کو یہ الہام کیا کہ
ان اقذفیہ فی ۔۔۔۔۔ الیم بالساحل (02 : 53) ” ہم نے تیری ماں کو اشارہ دیا ‘ ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے کہ ” اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے ‘ دریا اسے ساحل پر پھینک گا “۔ یہ ایسے افعال ہیں جن میں سختی پائی جاتی ہے ’‘ بچے کو تابوت میں گرانا ‘ تابوت کو نذر سمندر کرنا ‘ سمندر کی طرف سے اسے ساحل پر پھینک دینا اور پھر کیا ؟ یہ تابوت اب کہاں جائے گا ‘ اس میں بچہ پھینکا گیا ہے ‘ تابوت سمندر کی لہروں کے کرم پر ہے۔ لہریں اسے ساحل پر پھینک دیتی ہیں۔ کون اب اسے لے گا ؟
عدولی وعدولہ (02 : 93) ” اسے میرا دشمن اور اس بچے کا شمن اٹھا لے گا “۔
ان خطرات کے ہجوم میں اور ان صدمات کے بعد کیا ہوتا ہے ؟ اس ضعیف ‘ ناتوان اور بےبس بچے کو جو تابوت میں قید ہے ‘ کیا پیش آتا ہے ؟ کون اسے بچاتا ہے۔
Ayah 20:39والقبت علیک۔۔۔۔ علی عینی (02 : 93) ” میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے “۔ اے قادر مطلق تیری قدرت کے کیا کرشمے ہیں کہ تو اس باتواں پر محبت کا پردہ ڈال دیتا ہے ‘ نرم و نازک محبت اس کے لئے دفاع بن جاتی ہے۔ تمام ضربات کو یہ سہ لیتی ہے اور ڈھال بن جاتی ہے ‘ موجوں کے تھپیڑے آکر رک جاتے ہیں۔ شر اور سرکشی کی تمام قوتیں دیکھتے ہی موم ہوجاتی ہیں۔ اور کوئی اسے بری نظروں سے دیکھتا ہی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ ایک فلک ناتواں ہے ، دودھ پینے والا ‘ نہ چل پھر سکتا ہے ‘ نہ اپنا دفاع و بچائو کرسکتا ہے بلکہ وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔
اس منظر کی تصویر میں نمایاں طور پر دو باہم متضاد رنگ ہیں۔ ایک طرف ایک قہار و جبار اور سرکش قوت ہے جو اس بچے کے قتل کے در پے ہے۔ ماحول اس قدر کشیدہ اور سخت ہے کہ ہر طرف ورشکستگی ‘ ظلم ‘ تابوت ‘ امواج اور سمندر ہے ‘ دوسری طرف محبت کی مہین چادر ہے جو اس بچے کے اوپر بچھ گئی ہے۔ محبت کی چادر ‘ اللہ کے لطف و کرم کی یہ چادر ! یہ اسے ہر خطرے سے بچاتی چلی جاتی ہے۔ سمندر ‘ تابوت ‘ اور موجوں کی سختی سے اور حکمرانوں کی گرفت سے بھی۔ موسیٰ کے پاس کوئی لائو لشکر نہیں ہے بلکہ اس بچے کے چہرے پر قدرتی کشش ہے۔
ولتصنع علی عینی (02 : 93) ” کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے “۔ اس گہرے سایہ عاطفت اور اس دست قدرت کے کرشموں کی کیا تشریح کوئی کرے۔ قرآن کی یہ تعبیر کہ ” تم میری آنکھوں میں پلو “ ۔ یہ ایک نہایت ہی معجزانہ انداز تعبیر ہے۔ ایک انسان اللہ تعالیٰ کی آنکھوں میں پل رہا ہے۔ انسان اس تعبیر کے پیچھے جو معانی ہیں ان کا تصور کرنے سے قاصر ہے۔ یہ ایک اونچا مقام ہے ‘ اعزازو تکریم ہے کہ کوئی انسان ایک لمحہ کے لئے یہ نظر کرم پالے ‘ لیکن اس شخص کی خوش نسیبی دیکھئے کہ وہ کسی کی زیر نگرانی میں پل رہا ہے۔ یہ وہ کرم تھا جس کی وجہ سے موسیٰ کے اندر یہ قوت پیدا ہوئی وہ تکلیات کا متحمل ہو سکے اور اللہ سے ہمکلام ہو کر اس لا محدود ذات سے ہدایات اخذ کرسکے۔
تاکہ تم میری نگرانی میں پلو۔ ہم دونوں کے دشمن فرعون کی نظروں میں پلو ‘ بغیر کسی چوکیدار اور محافظ کے عین دشمن کے دونوں ہاتھوں کے اندر پلو ‘ دشمن کی آنکھ تمہاری طرف میلی نہیں ہوتی کیونکہ تم اس کی آنکھ کا تارا بن گئے ہو۔ اس کا ہوتھ برے ارادے سے آگے نہیں بڑھتا ‘ کیوں ؟ اللہ کی نظر ہے۔
دیکھو میں نے یہ بھی نہیں کہا کہ فرعون کے گھر تم مزے سے رہو اور تمہاری ماں گھر میں بےتاب ہو اور ہر وقت خوف اور قلق میں مبتلا ہو۔ میں نے تم دونوں کو باہم ملا دیا۔