20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 20:40–41

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی ‘ پھر جاکر کہتی ہے ‘ میں تمہیں اس کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے ؟ اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو۔ اور (یہ بھی یاد کر کہ) تو نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا ‘ ہم نے تجھے اس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تو مدین کے لوگوں میں کئی سال ٹھہرا رہا۔ پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آگیا ہے اے موسیٰ

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

میں نے تجھ کو اپنے کا کام بنا لیا ہے “۔

اذ تمشی اختک۔۔۔۔۔۔ عینھا ولا تحزن (02 : 04) ” یاد کرو جب تمہاری بہن چل رہی تھی ‘ پھر جا کر کہتی ہے ” میں تمہیں اس کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے۔ اس طرح ہم نے تجھے پھر اپنی ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو “۔ اس سلسلے میں اللہ کی تدبیریوں تھی کہ بچہ کسی دودھ پلانے والی کا پستان منہ میں نہ لیتا تھا۔ فرعون اور اس کی بیوی نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ کسی ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو اس بچے کی پرورش کرے ‘ جس کو دریا نے ساحل پر پھینک دیا تھا۔ لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن ماں کی طرف سے اشارہ پا کر کہتی ہے کہ میں تمہیں بتائوں جو اس کی پرورش اچھی طرح کرے۔ یوں اس کی ماں وہاں پہنچ جاتی ہے اور وہ اس کے پستان کو منہ میں لے لیتے ہیں۔ یوں اللہ کی تدبیر اپنے انجام تک پہنچتی ہے کہ ماں جس نے الہامی اشارہ پاکر بچے کو صندوق میں بند کرکے سمندر کے اندر بہا دیا تھا اور سمندر کی لہروں نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا ‘ بچہ پھر اس ماں کی جھولی میں ہے۔ اللہ اس کے بچے کو دشمن سے لے کر ماں کے حوالے کردیتا ہے۔ یوں اس کی پرورش کا محفوظ انتظام کردیا جاتا ہے۔ اور اسے فرعون کے خطرے سے بھی بچا لیا جاتا ہے ‘ جو بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ دشمن خود اسے بچا رہا تھا۔ ایک دوسرا احسان وقتل نفسا۔۔۔۔۔ واصطنعتک لنفسی (02 : 04۔ 14) ” اور تو نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا ‘ ہم نے تجھے اس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے نکالا اور تو مدین کے لوگوں میں کئی سال ٹھہرا رہا۔ پھر ایک ٹھیک وقت پر تو آگیا ہے ‘ اے موسیٰ ۔ میں نے تجھے اپنے کام کا بنا لیا ہے “۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قصر فرعون میں موسیٰ جو ان ہوگئے۔ ایک دن وہ شہر میں تھے کہ ایک مصری اور ایک اسرائیلی کی باہم تکرار ہوگئی۔ اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد چاہی اور حضرت موسیٰ نے جلدی میں مصری کو ایک مکہ رسید کردیا۔ آپ قتل کرنا نہیں چاہتے تھے ‘ صرف اسے دور کرنا چاہتے تھے۔ اس فعل پر آپ بہت رنجیدہ ہوگئے کیونکہ وہ اللہ کی تربیت میں چل رہے تھے ‘ ان کے ضمیر نے ان کو ملامت کی کہ تم نے گناہ کردیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت اللہ نے حضرت موسیٰ کو استغفار سکھایا ہو اور ان کے دل سے یہ کدورت دور ہوگئی ہو ‘ لیکن اس کے باوجود اللہ نے موسیٰ کو بغیر آزمائش اور ابتلا کے نہیں چھوڑا کیونکہ اللہ نے حضرت موسیٰ سے اونچا کام لینا تھا۔ اس لیے خوف ‘ اور ملک چھوڑنے اور قصاص سے بچنے کی مشقت میں ڈالا۔ مسافری ‘ اہل و عیال سے دوری ‘ وطن سے دوری کی مشقتوں میں ڈالا۔ پھر ملازمت اور بھڑیں چرانے کا مشکل کام لیا۔ اور یہ اس شخص سے لیا گیا جو فرعون کے شاہی محل میں پلا ہے ‘ جو اپنے دور کا شہنشاہ اعظم تھا۔ اور اس کے دربار میں بہت بڑے عیش اور اس کے گھر میں تمام سہولیات تھیں جن کا تصور بھی عام لوگ نہ کرسکتے تھے۔ پھر ایک مقررہ وقت پر ‘ جب ان کی تربیت ہوگئی ‘ وہ پختہ ہوگئے۔ ان ابتلائوں میں انہوں نے صبر سیکھ لیا۔ امتحان میں پاس ہوگئے ‘ مصر میں حالات ان کے لئے سازگار ہوگئے۔ بنی اسرائیل پر مظالم انتہا کو پہنچ گئے۔ اس مقررہ وقتپر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین سے واپس بلایا حالانکہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ خود آ رہے ہیں۔ فلبثت سنین فی۔۔۔۔۔ قدر یموسی (02 : 04) ” تو مدین کے لوگوں کئی سال ٹھہرا رہا ‘ پھر ایک ٹھیک وقت پر تو آگیا ہے اس موسیٰ (علیہ السلام) “۔ یعنی ایسے وقت میں جو میں نے تیرے لیے مقرر کیا تھا۔ تجھے اپنی نگرانی میں پالا تھا۔ خالص اپنے لئے ‘ اپنے مشن کے لئے اور دعوت کے لئے۔ اس لئے تیری زندگی میں کوئی چیز نہ اس دنیا سے ہے اور نہ اس دینا کے لئے ہے۔ تیرا سب کچھ میری طرف سے ہے اور اب تو میرے مشن کے لئے ہے۔ تیری تربیت اور اب تیرا مشن بھی میر مشن ہے ۔ اس لئے تیرے نفس میں نہ تیرا حصہ ہے ‘ نہ کسی اور کا کوئی حصہ ہے ‘ نہ تیرے اہل و عیال اور رشتہ داروں کا کوئی حصہ ہے۔ لہٰذا جس چیز کے لئے میں نے تمہیں تربیت دی ہے ‘ جس مشن کے لئے میں نے تمہیں تیار کیا ہے ‘ آپ اس کے لئے اب چل پڑیں۔
Ayahs 20:42–44

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

جا ‘ تو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ۔ اور دیکھو ‘ تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا۔

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

جائو ‘ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے “۔

اذھب انت و اخوک۔۔۔۔۔ او یخشی (24 تا 44) ” ۔ تم اور تمہارے بھائی دونوں میرے معجزات کے ساتھ مسلح ہو کر جائو ‘ انن میں سے معجزہ عصا اور ید بیضا کا مشاہدہ تو کرایا جاچکا ہے۔ تم میرے ذکر میں سستی نہ کرنا کیونکہ یہ اس میدان میں تمہارے لئے اہم سازو سامان ہے ‘ یہ تمہارا بڑا اسلحہ اور سہارا ہے اور مشکلات کے وقت یہی تمہارے لئے لیے جائے پناہ ہوگی۔ جائو تم فرعون کے پاس۔ اس سے قبل میں نے تم کو فرعون کے شر سے محفوظ کیا ہے جبکہ تم ایک بچے تھے۔ جسے تابوت میں بند کر کے سمندر کی نذر کردیا گیا تھا اور سمندر نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا تو ان مشکلات نے تمہیں کوئی نقصان نہ دیا۔ ان خوفناگ حالات میں تمہیں کوئی اذیت نہ دی گئی۔ اب تو تم تیاریوں کے ساتھ اس دربار میں جا رہے ہو ‘ تمہارے ساتھ تمہارے بھائی بھی ہیں۔ اس لیے پرواہ مت کرو۔ جبکہ ایسے مشکل حالات میں بھی ہم نے تمہیں نجات دی ہے۔ فرعون کے پاس رسالت لے کر جائو ‘ وہ بڑاسرکش ‘ جبار اور سر پھرا ہے۔ فقولا لہ قولا لبنا (02 : 44) ” اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا “۔ اس لیے کہ نرم بات کے رد عمل میں کوئی شخص اپنی بےعزتی سمجھ کر ضد میں نہیں آتا۔ اور سرکش جس جھوٹی کبریاتی کے ماحول میں رہتے ہیں ‘ اس کی وجہ سے وہ طیش میں نہیں آتے ۔ نرم بات کی یہ خاصیت ہوتے ہے کہ وہ دلوں کو بیدار کردیتی ہے ‘ اور ایک سرکش بھی نرم بات کی وجہ سے اپنے موقف پر غور کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔ تم فرعون کے پاس جائو اور اس بات سے مایوس نہ ہوجانا کہ وہ راہ ہدایت پر کب آسکتا ہے۔ امید رکھنا کہ وہ نصیحت سے فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور اس کے دل میں خدا کا خوف بھی پیدا ہو سکتا ہے ‘ کیونکہ ایک داعی اگر ذہن میں یہ بات بسا لے کہ جس کے پاس وہ جا رہا ہے وہ تو راہ ہدایت پر آہی نہیں سکتا تو وہ پر جوش طریقے سے اسے دعوت نہیں دے سکتا۔ اور اگر وہ انکار کر دے تو یہ ثابت قدمی کے ساتھ دعوت کا مشن جاری نہیں رکھ سکتا۔ اللہ کو تو معلوم تھا کہ فرعون کیا جواب دینے والا ہے۔ لیکن دعوت دینا اور اس کے لئے تمام طریقوں سے جدوجہداختیار کرنا ضروری ہے۔ اللہ کسی شخص کے بارے میں عملی فیصلہ تب ہی کرتا ہے ‘ جب اس سے خیروشر عملاً صادر ہوجائے۔ اگرچہ اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ نتیجہ خیر ہے یا شر۔ اللہ کا علم حادثات مستقبل کے بارے میں ایسا ہی ہے جیسا کہ حاضر کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہے یا ماضی کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہوتا ہے۔ یہاں تک خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا اور یہ منظر وادی طوی میں بندئہ و معبود کے درمیان مناجات کا منظر تھا۔ اب یہاں سیاق کلام میں درمیان کے واقعات کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ اب موسیٰ اور ہارون دونوں ہیں۔ یہ دونوں دربار میں جانے سے قبل اپنے خدشات کا اظہار پھر کرتے ہیں کہ دربا رفرعون میں انہیں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کی بات سنتے ہی وہ کوئی غلط فیصلہ کر بیٹھے اور جب ان کی بات اسے بری لگے تو وہ سر کشی اختیار کرلے۔
Ayah 20:45

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں نے عرض کیا ” پروردگار ‘ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا ‘ یا پل پڑے گا “

قالا ابنا اننا۔۔۔۔۔۔ علی من کذب و تولی ( 54 تا 84 ) ” ۔ اس سے قبل جو طویل بحث ہوئی تھی اور جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رب تعالیٰ کے ساتھ وادی طوی میں ہم کلام تھے ‘ اس میں حضرت ہارون موجود نہ تھے۔ وہ ایک طویل مناجات تھی اور وسیع سوال و جواب اس میں ہوتے رہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں کا یہ جواب اننا نخاف ان۔۔۔۔۔۔ ان یطغیٰ (02 : 54) ” دونوں نے عرض کیا پروردگار ‘ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا “۔ وادی طوی میں مناجات کی جگہ میں نہ تھا۔ قرآن کریم کا قصص کے بارے میں یہ طریقہ ہے کہ وہ قصص کے غیر ضروری حصے درمیان میں سے کاٹ دیتا ہے اور قصص کے جو مناظر وہ دکھاتا ہے اس کے درمیان ایک واضح خلا (Gap ) چھوڑ دیتا ہے۔ یہ خلا عقل انسانی خود پر کردیتی ہے اور سیاق کلام یا منظر آگے بڑھ کر زیادہ موثر اور زیادہ مفید ‘ زندہ اور متحرک مناظر پیش کرنا شروع کردیتا ہے جن کا انسان کے وجدان پر اثر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ طور سے واپسی پر ‘ موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے ‘ اللہ نے حضرت ہارون کو بھی یہ منصب دے دیا اور ان کو بھی یہ حکم دے دیا گیا کہ تم حضرت موسیٰ کے معاون پیغمبر ہو۔ اور تمہیں بھی بھائی کے ساتھ فرعون کو دعوت دینے کے لئے جانا ہے۔ اب جب وہ تیاریاں کر کے جانے لگتے ہیں تو پھر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔ قالا ربنا اننا۔۔۔۔۔ او ان یطغی (02 : 54) ” دونوں عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا “۔ فرط کا لغوی مفہوم یہ ہے کہ کوئی جلدی سے کسی کو اذیت دے۔ فوراً بات کرتے ہیں اور طغیان کا مفہوم فرط اور اذیت سے زیادہ جامع ہے اور فرعون ان دنوں ایک ایسا جبار حکمران تھا جس سے سب کچھ متوقع تھا۔ یہاں اب ان کو فیصلہ کن تسلی دے دی جاتی ہے جس کے بعد نہ کوئی خوف رہتا ہے اور نہ خدشہ۔
Ayah 20:46

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

فرمایا : ” ڈرو مت ‘ میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔

قال لاتخافآ اننی معکما اسمع واری (02 : 63) ” فرمایا ڈرو مت ، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔ “ میں تمہارے ساتھ ہوں ، اگر وہ قوی ہے ، بڑا ہے اور سرکش ہے تو اللہ تو پانے تمام بندوں کے اوپر کنٹرول کرنے والا ہے۔ ھو القاھر فوق عبادہ وہ تمام کائنات ، تمام انسانوں ، تمام حیوانات اور تمام اشیاء کو صرف کن سے پیدا کرتا ہے۔ کن سے زیادہ اسے کچھ نہیں کہنا پڑتا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں بس یہ اجمالی تسلی کافی ہے۔ لیکن اللہ ان کے اندر مزید طمانیت اور احساس جگانے کے لئے فرماتے ہیں : اسمع واری (02 : 63) ” میں سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں۔ “ فرعون کیا ہوتا ہے ؟ اس کی ملکیت میں کیا ہے ؟ وہ کیونکر زیادتی اور سرکشی کرسکتا ہے ؟ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ یہ اطمینان دلانے کے بعد ان کو انداز دعوت بھی سکھایا جاتا ہے اور مختصر دعوت بھی۔
Ayahs 20:47–48

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

جائو اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں ‘ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے اور سلامتی ہے اس کے لیے جو راہ راست کی پیروی کرے۔

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے “۔

فاتیہ فقولاً ……وتولی (83) (02 : 83-83) ” جائو اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں ، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ “ اللہ نے آغاز ہی میں بتا دیا کہ ان کی رسالت کی دعوت کیا ہے۔ انا رسول ربک (83) ” ہم تیرے رب کے دو فرستادے ہیں۔ “ پہلی آاز میں اس کو یہ بتا دیا جائے کہ تمہارے ساتھ اور ایک ذات رب ہے ، لوگوں کا بھی رب ہے ، یہ صرف وسیٰ اور ہارون کا خدا اور رب نہیں۔ نہ وہ صرف بنی اسرائیل کا رب ہے۔ جیسا کہ اس وقت کی بت پرستانہ خرافات میں یہ عقیدہ ہوتا تھا کہ ہر قوم کا ایک رب ہوتا ہے اور ہر قبیلے کا اپنا خدا یا دیوتا ہوتا ہے۔ ایک یا زیادہ ، خود مصر کی تاریخ میں یہ تصور موجود رہا ہے کہ فرعون بھی رب تھا کیونکہ وہ دیوتائوں کی نسل سے تھا۔ اس کے بعد ان کی رسالت کے اصل موضوع اور مضمون کی وضاحت کی جاتی ہے۔ فارسل معنا بنی اسرآئیل ولاتعذبھم (02 : 83) ” بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ “ فرعون سے ان کا اصل مطالبہ یہ تھا کہ تم بنی اسرائیل کو رہائی دو ، وہ عقیدئہ توحید کی طرف واپس آجائیں ، اس سر زمین کی طرف واپس آجائیں جو اللہ نے ان کے لئے لکھی ہے کہ وہ یہاں رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس میں فساد برپا کردیں اور مکمل طور پر تباہ کردیئے جائیں ۔ اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہاری رسالت کی سچائی پر شہادت یہ ہوگی۔ قد جئنک بایۃ من ربک (02 : 83) ” ہم تیرے پاس رب کی نشانی لے کر آئے ہیں۔ “ یہ نشانی ، یہ معجزہ ہماری سچائی پر دلیل صادق ہے۔ اللہ کے حکم سے آنا تمہاری سچائی کی دلیل ہے۔ اس کے بعد اسے ترغیب دی جاتی ہے اور دعوت قبول کرنے کی طرف اسے مسائل کیا جاتا ہے۔ والسلم علی من اتبع الھدی (02 : 83) ” اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ “ شاید کہ وہ راہ ہدایت پالے اور ان سے اسلام کی دعوت سیکھ لے۔ اس کے بعد نہایت ہی عمدہ اور بالواسطہ طرز کلام میں اس کو کہا جاتا ہے تاکہ اسے غصہ نہ آجائے اور اس کو اپنے غرور کی وجہ سے بات بری نہ لگے۔ انا قداوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی (02 : 83) ” ہم کو حی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ “ ہو سکتا ہے کہ تم ان میں سے نہ ہو اور یہ بات ہم نہیں کہتے ، ہم پر وحی آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ و ہارون کو دولت اطمینان سے مالا مال کر کے ، دعوت کا طریق کار سمجھا کر بھیجا تاکہ وہ پوری طرح تیار ہو کر اپنا مشن اچھی طرح جانتے ہوئے جائیں۔ اب پردہ گر جاتا ہے ، اگلا منظر فرعون کا دربار ہے۔
Ayahs 20:49–50

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

” فرعون نے کہا اچھا پھر تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ ؟

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ، ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی۔ پھر اس کو راستہ بتایا۔ ‘

اب وہ فرعون کے دربار میں ہیں ، قرآن اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ وہ کس طرح پہنچے ، بہرحال وہ پہنچ گئے۔ ان کا رب ان کے ساتھ ہے اور دیکھ رہا ہے۔ موسیٰ اور ہارون نے نہایت ہی قوت اور اعتماد سے بات کرتے ہوئے دعوت پہنچائی۔ فرعون جو چاہے ہو ، وہ اسے ملے۔ انہوں نے ، جس طرح اللہ نے بتایا تھا اسے دعوت دی۔ یہ دوسرا منظر اب اس گفتگو سے شروع ہوتا ہے جو ان دونوں اور فرعون کے درمیان ہوئی : قال ……ھدی (05) یہ شخص یہ اعتراف نہیں کرتا کہ موسیٰ و ہارون کا رب ہی اس کا رب ہے ، جس طرح انہوں نے کہہ دیا کہ ہم دونوں اللہ تمہارے رب کے رسول ہیں۔ یہ شخص موسیٰ سے مخاطب ہوتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ اصل صاحب دعوت موسیٰ ہی ہیں۔ قال فمن ربکما یموسی (02 : 93) ” تم دونوں کا وہ رب کون ہے جس کے نام سے تم بات کرتے ہو اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہو۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے سامنے اللہ کی جس صفت کا ذکر کرتے ہیں وہ اللہ کی صفت تخلیق اور صفت تدبیر ہے۔ قال ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی (02 : 05) ” موسیٰ نے کہا ، ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی۔ پھر اس کو راستہ بتایا۔ “ رب وہ ہے جس نے ہر موجود کو وجود بخشا اور ایک مناسب صورت اور فطرت بھی عطا کی۔ اس کے بعد اس کو وہ طریقہ بتایا جس کے مطابق وہ اپنا فریضہ منصبی پوری طرح ادا کرسکے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا اور اسے وہ تمام سہولیات بھی عطا کردیں جو اس کے فریضہ منصبی کی ادائیگی کے لئے ضروری تھیں۔ یہاں لفظ ثم (تراخی زمانی) کے لئے نہیں ہے یعنی مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے پیدا کیا ، بعد میں عقلاً اسے ہدایت دی بلکہ پیدائش کے ساتھ ہی وہ فطری صلاحیت بھی عطا کردی۔ خلق و ہدایت میں فرق صرف مرتبہ و اہمیت کے اعتبار سے ہے یعنی تخلیق زیادہ اہم ہے اور ہدایت اور فرائض منصبی کی صلاحیت اور اسباب فراہم کرنا اس کے تابع ہے۔ عقلاً یہ خلق کے بعد ثانوی چیز ہے۔ یہ صفت جس کا ذکر قرآن کریم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی کیا ، یہ خدا کی تخلیق کے اعلیٰ ترین آثار کا خلاصہ ہے۔ یعنی کسی چیز کی تخلیق اور اسے اپنا فریضہ تخلیق ادا کرنے کے لئے فطری ہدایت اور سہولیات کی فراہمی ، انسان جب اس کائنات وسیع و عریض میں اپنی بصارت اور بصیرت دونوں کو کام لا کر غور کرتا ہے ، اپنے علم و مشاہدے کی حد تک ، تو ہر چھوٹی بڑی چیز کے اندر اسے قدرت کی یہ خالقیت اور تدبیر واضح طور پر نظر آتی ہے۔ کائنات کے چھوٹے سے چھوٹے جسم ذرہ اور بڑے سے بڑے زندہ جسم میں ، مساوی طور پر ابتدائی خلیے میں بھی اور انسان جیسے پیچیدہ مخلوق میں بھی یہ سب صفات اور قدرت کے یہ کرشمے نظر آتے ہیں۔ کائنات کا یہ عظیم وجود جس میں لاتعداد ذرے ، خلیے ، مخلوقات ، زندہ اور غیر زندہ اس کا ہر خلیہ ایک خاص زندگی کا مالک ہے اور متحرک ہے۔ اس کی ہر زندہ چیز متحرک ہے۔ اس کا ہر موجود دور سے کے ساتھ منسلک ہے ، ان میں سے ہر چیز انفرادی طور پر بھی اور دوسروں کے ساتھ مل کر بھی ، قوانین قدرت کے مطابق ، بغیر کسی ٹکرائو کے وظیفہ فطرت اور غرض تخلیق پورا کر رہی ہے اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس وسیع کائنات کے پیچیدہ نظام میں کوئی خلل نہیں ڈالتی۔ اگر ہم کسی ایک مخلوق و موجود کا تجزیہ کرتے ہیں تو وہ اپنی ذات میں ایک کائنات ہے۔ وہ اپنے اندر اپنے ذرات ، اپنے خلیوں ، اپنے اعضاء اور اپنے اعصاب کے مطابق تقاضائے فطرت پورے کر رہا ہے۔ دوسری طرف وہ اس پوری کائنات کے نظام فطرت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے اور یہ سب کچھ نہایت ہی باریک انتظام اور توافق کے ساتھ چلتا ہے۔ اس پوری کائنات کو تو ایک طرف رہنے دیں ، کائنات کی کسی ایک مخلوق کو آپ لے لیں ، ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے ، اس کی حقیقت معلوم کرنے ، صحت اور بیماری معلوم کرنے میں انسان اپنی وسیع کوششوں کے باوجود اور وسعت علم کے باوجود قاصر ہے۔ کسی ایک چیز کے مالہ و ماعلیہ کا علم وہ تمام نہیں کرسکا چہ جائیکہ وہ تحقیق کر کے سکے یا فطرت دے سکے اور ہدایت دے سکے یا اس ہئیت و شکل دے سکے۔ تمام اشیاء میں سے کسی ایک چیز کو بھی …واقعہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ الہ واحد کا کام ہے ، وہی ہمارا رب ہے جس نے ہر چیز کو وجود بخشا اور ہدایت دی۔
Ayah 20:51

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

” فرعون بولا ” اور پہلے جو نسلیں گزر چکی ہیں انکی پھر کیا حالت تھی ؟

اب فرعن نے ایک نیا سوال پیش کیا۔ قال فما بال القرون الاولی (15) “ یعنی جو لوگ تمہاری دعوت سے پہلے گزر گئے ہیں ان کا کیا ہوگا۔ وہ کدھر گئے ۔ ان کا رب کون تھا ؟ اور وہ تو اس الہ کے تصور کے بغیر چلے گئے جس کے بارے میں تم بات کرتے ہو۔ “
Ayah 20:52

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

’ موسیٰ نے کہا ” اس کا علم میرے رب کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے میرا رب نہ چوکتا ہے ، نہ بھولتا ہے۔ “

قال علمھا ……ینسی (25) فرعون کے اس دوسرے سوال کو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ پر چھوڑ دیا کیونکہ اس کا تعلق زمانہ ماقبل سے تھا۔ جو اب کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں اللہ خوب جانتا ہے ، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور وہ کبھی بھولتا بھی نہیں۔ وہی ہے جو تمام زمانوں کی بات جانتا ہے ، ماضی ہو یا مستقبل ہو ، غیب بھی اللہ جانتا ہے اور اپنے بندوں کے بارے میں احکام بھی اللہ صادر کرے گا۔ ان سوالات کے جوابات کے بعد حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے اللہ کا مزید تعارف کراتے ہیں کہ وہ اس کائنات کا مدبر ہے ، تمام انسانوں پر اس کی نعمتیں کیا کیا ہیں ، چناچہ کائنات اور مصری ماحول کے بعض اہم شواہد پیش کئے جاتے ہیں ، کیونکہ مصری سر زمین ایک سرسبز و شاداب زمین تھی۔ پانی وہاں وافر تھا اور فصل اور مویشی بکثرت تھے۔
Ayahs 20:53–54

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

” وہی جس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے اور اوپر سے پانی برسایا “ ‘ پھر اس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوار نکالی۔

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

کھائو اور اپنے جانوروں کو بھی چرائو۔ یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لئے۔ “

الذی ……النھی (35) تمام علاقوں میں اور تمام زمانوں میں زمین انسانوں کے لئے ایک گہوارہ رہی ہے۔ ایسا ہی گہوارا جس طرح بچے گا گہوارہ ہوتا ہے ، انسانوں کی حیثیت زمین پر اسی طرح ہے کہ جس طرح ماں کے بچے ہوتے ہیں۔ زمین تمام انسانوں کے لئے ماں ہے۔ زمین کا دامن انہیں پناہ دیتا ہے اور زمین کے پستان سے وہ رزق کھاتے ہیں۔ نیز یہ ان کے لئے برائے آرام ، برائے سیر ، برائے زراعت اور زندگی کی تمام سرگرمیوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جب سے اللہ نے ہر چیز کو لباس تخلیق پہنایا ہے۔ اس دن سے اس نے اسے ایسا بنایا ہے ، زمین کو بھی اس نے یہ شکل وہیت دی ہے تاکہ ” انسانوں کی زندگی کے لئے صالح ہو۔ کیونکہ اللہ کی اسکیم میں انسان نے یہیں رہنا تھا۔ پھر جب انسان کو پیدا کیا تو اسے بھی ایسا ہی بنایا کہ وہ اس کرئہ ارض پر تخلیق کے لئے تیار ہو ، کیونکہ اللہ نے زمین کو بھی انسانوں کے لئے تیار کیا تھا اور گہوارہ بنایا تھا۔ دونوں مفہوم مہد یعنی تیار کیا اور مہد یعنی گہوارہ متقارب ہیں۔ زمین کا تیار شدہ ہونا یا گہوارہ ہونا جس طرح مصر میں ظاہر ہے دنیا کے کسی دوسرے خطے میں ظاہر نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سرسبز اور زرخیز وادی ہے۔ یہاں کے لوگ ہر کام میں کم محنت کر کے بہت کچھ پاتے ہیں ، زراعت میں باغات وغیرہ ہیں۔ گویا اطفال انسانیت کے لئے یہ نرم اور آرام دہ گہوارہ ہے۔ خالق کائنات جس نے زمین کو گہوارہ بنایا ، اس میں اس نے انسانوں کے لئے راستے بھی بنائے ، آسمانوں سے بارشوں کا انتظام کیا ، بارشوں کے پانیوں سے نہریں اور دریا چلے ، ان میں سے ایک دریائے نیل تھا جو فرعون کے قریب تھا ، اور مصریوں کے لئے بہت اہم پھر نباتات بھی جوڑوں کی شکل میں بنئای اور سر زمین مصر بہترین نمونہ ہے فصلوں کی پیداوار اور مویشیوں کے چرانے کے لئے۔ اللہ کی گہری مشیت کو دیکھیے کہ اللہ نے نباتات میں بھی انسانوں کی طرح نر اور مادہ پیدا کئے جس طرح تمام حیوانات نر و مادہ ہیں۔ تمام زندہ چیزوں میں نر و مادہ کے خلیے ہوتے ہیں اور بعض اوقات نر پودا اور ہوتا ہے اور مادہ پودا اور یوں قوانین قدرت میں ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ان فی ذلک لایت الاولی النھی (02 : 35) ” یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لئے۔ “ اس کائنات کا نظام اس قدر سبق آموز ہے کہ جو شخص ذرا بھی معقولیت کے ساتھ اس کا مطالعہ کرے اس میں اسے بیشمار دلائل و نشانات نظر آئیں گے۔
Ayahs 20:55–56

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

” اسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے ، اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے ار اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹلائے چلا گیا اور نہ مانا۔ “

حضرت موسیٰ کی اس بات کی تکمیل کے لئے اب اللہ کا یہ فرمان آجاتا ہے : منھا خلقنکم ……وابی (65) اس زمین سے تمہیں پیدا کیا ہے جو تمہارے لئے گہوارہ ہے۔ جس میں تمہارے لئے راستے بنائے۔ جس پر ہم نے بارشیں برسائیں اور مختلف قسم کے نباتات پیدا کئے ، کھانے کے لئے اور چارے کے طور پر۔ اس زمین سے تم پیدا کئے گئے ہو ، اس میں تم دفنائے جائو گے اور سای سے ہم تمہیں دوبارہ نکال کر زندہ کردیں گے۔ انسان اس زمین کے مادے سے تخلیق کیا گیا ہے۔ زمین کے اکثر عناصر اس کے جسم میں موجود ہیں۔ اس کی فصل اور پیداوار اس کی خوراک ہے۔ اس کا پانی وہ پیتا ہے ، اسی کی ہوا میں سانس لیتا ہے۔ یہ اسی کا بیٹا ہے اور یہ اس کے لئے گہوارہ ہے اور جب یہ اس میں دفن کیا جاتا ہے تو اس کا جسم گل سڑ کے خاک ہوجاتا ہے ، گس بن کر ہوا میں شامل ہوجاتا ہے ، اس زمین سے اسے پھر نکال کر حیات جدید دی جائے گی جیسا کہ پہلے اسے زندگی دی گئی۔ فرعون کے ساتھ گفتگو میں زمین کا تذکرہ بہت ہی مناسب ہے ، یہ بہت ہی متکبر تھا ، یہ اپنے آپ کو رب مخلوق سمجھتا تھا ، حالانکہ وہ اس زمین کا بچہ تھا اور اس زمین میں اسے جانا تھا وہ اس زمین میں تخلیق کردہ اشیاء میں سے ایک شے تھا اور زین ار اس کی ہر چیز کا ایک فرض منصبی مقرر ہے لیکن ولقد ارینہ ایتنا کلھا فکذب وابی (0 : 65) ” ہم نے فرعون کو اپنی سب نشانیاں دکھائیں مگر وہ جھٹالئے چلا گیا۔ “ اس کے ماحول سے حضرت موسیٰ نے اسے جو آیات دکھائیں ان کی بھی اس نے تکذیب کی۔ اس کو عصا اور ید بیضا کی نشانیاں بھی دکھائیں ، جو آیات تکوینی کا ایک حصہ ہی ہیں مگر اس نے انکار ہی کیا ، اور آیات تکوینی اور آیات خارق عادت میں قرآن کے نزدیک کوئی زیادہ فرق نہیں ہے ، اس لئے قرآن نے یہاں دونوں کا ذکر مشترکہ طور پر کردیا۔ قرآن نے صرف اس بات کا ذکر کیا کہ فرعون نے ان تمام آیات و معجزات کو رد کردیا جادو کہہ کر۔
Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

” کہنے لگا ” اے موسیٰ کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے ؟

قال اجئتنا ……ضحی (95) فرعون نے کوئی مناظرہنہ کیا ، دلیل کا جواب دلیل سے نہ دیا ، کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل قوی تھے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل کا تعلق اس کائنات کی نشانیوں سے بھی تھا۔ ان دونوں خارق العادات معجزات سے بھی تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے تھے اس نے بس ہارے ہوئے آدمی کی طرح جھوٹے الزام کا سہارا لیا کہ موسیٰ نے عصا کو سانپ بنا کر پیش کیا ہے ، یہ ان کی کھلی جادوگری ہے۔ نیز وہ ہاتھ کو جادوگری سے سفید کردیتا ہے۔ اس وقت چونکہ مصر میں جادوگری عروج پر تھی اس لئے فرعون نے بھی یہی الزام لگایا۔ یہ دونوں معجزات بھی ایسے تھے کہ سحر شکن تھے حالانکہ سحر تو ایک نظر بندی اور تخلیل ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ دیکھنے اور سننے والوں کے حواس کو متار کر کے دھوکہ دے دیا جاتا ہے اور ایسے آثار نظر آتے ہیں جیسے کہ چیزوں کی حقیقت بھی بدل گئی ہے جیسا کہ بعض اوقات انسان ایسی چیزوں کو دیکھتا ہے جن کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ یا انسان کو بعض اوقات چیزوں کی وہ صورت نظر نہیں آتی جو فی الحقیقت ہوتی ہے۔ ایک جادو زدہ شخص پر بھی بعض اوقات ایسے اثرات ہوتے ہیں کہ جسمانی اور اعصابی طور پر تغیر نظر آتا ہے لیکن حقیقت نہیں بدلتی جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات ایسے تھے کہ حقیقت بدل جاتی تھی۔ وقتی طور پر مکمل حقیقت بدل جاتی تھی۔ قال اجئننا لتخر جنا من ارضنا بسحرک یموسی (02 : 85) ” کہنے لگا اے موسیٰ تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال دے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر میں بنی اسرائیل کو سیاسی عمل کے طور پر غلام بنایا گیا تھا۔ اس لئے کہ وہ بڑی کثرت سے تھے ، ان کی آبادی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ جب اقتدار کا سوال آتا ہے تو سرکش حکمران عوام کو شدید سے شدید تر عذاب دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ وہ انسانوں کو ایسی تکلیفیں دیتے ہیں جن کا جواز انسانوں کے کسی تصور میں نہیں ہوتا۔ اور وہ تشدد انسانی ضمیر ، انسانی شرافت اور انسانی حقوق کے خلاف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا اور ان سے مزدوری لیتا تھا اور بیگار اور مزدوری بھی وہ جو سخت سے سخت ہو۔ جب موسیٰ اور ہارون علیھما السلام نے یہ مطالبہ کیا کہ ارسل معنا بنی اسرآئیل ولا تعذبھم ” ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دو اور انہیں تکلیف نہ دو ۔ “ تو جواب میں اس نے یہ الزام لگایا۔ قال اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یموسیٰ (02 : 85) ” موسیٰ ، تم ہمارے پاس اس لئے آتے ہو کہ ہمیں اپنی سر زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دو ۔ “ کیونکہ بنی اسرائیل کی آزادی اور ہجرت کے یہ معنی ہیں کہ وہ حملہ کر کے مصر پر قابض بھی ہو سکتے ہیں۔ جب اس کے خیال میں موسیٰ (علیہ السلام) محض جادو کے زور سے بنی اسرائیل کو آزاد کرانا چاہتے ہیں تو قدرتی طور پر جواب یہی ہے کہ ہم بھی ایسا ہی جادو لے آئیں گے۔
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

اچھا ہم بھی تیرے مقابلے میں ویسا ہی جادو لاتے ہیں۔ طے کرلے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے۔ نہ ہم اس قرار داد سے پھریں گے نہ تو پھریو۔ کھلے میدان میں سامنے آ جا۔ ‘

فلناتینک بسحر مثلہ (02 : 85) ” ہم تمہارے پاس ایسا ہی جادو لے آئیں گے۔ “ ہمیشہ سرکشوں اور بےدین لیڈروں نے یہی سمجھا ہے کہ دعوت حق دینے والے دراصل ملک کے اندر اقتدار اعلیٰ کے طالب ہوتے ہیں۔ ان کی دعوت دراصل ایک پردہ ہے جس کے پیچھے وہ انقلابی کام کرت یہیں۔ اس کے بعد جب وہ دیکھتے ہیں کہ داعی کے پاس دلائل و شواہد ہیں یا تو معجزات ہیں جس کے پیچھے وہ انقلابی کام کرتے ہیں۔ اس کے بعد جب وہ یکھتے ہیں کہ داعی کے پاس دلائل و شواہد ہیں یا تو معجزات ہیں جیسے حضرت موسیٰ کیے معجزات یا ان کے پاس ایسے دلائل ہیں جو جاد کی طرح دال میں اتر جاتے ہیں چناچہ سرزکش ڈکٹیٹر حکمرن اپنے لئے ایسے ہی دلائل فراہم کرتے ہیں۔ سحر کے مقابلے میں سحر ، کلام کے مقابلے میں کلام ، اصلاح کے مقابلے میں اصلاح ، اچھے اعمال کے مقابلے میں اچھے اعمال ، لیکن وہ جانتے نہیں کہ اہل حق کے پاس ایمان ہوتا ہے اور ایمان کے مقابلے میں ان کے پاس ایمان نہیں ہوتا۔ اہل حق کو اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے اور ان سرکشوں کو اللہ کی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ چناچہ فرعون نے موسیٰ کے ساتھ مقابلے کا وقت مقرر کرلیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ تم جس وقت چاہو ، مقابلہ کرلو ، لیکن وقت مقررہ پر دونوں فریق حسب وعدہ ضرور آئیں گے اور چیلنج کو زور دار بنانے کے لئے اس نے یہ شرط لگائی کہ کوئی بھی وقت مقررہ سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور مقابلہ بھی کھلے میدان میں عوام الناس کے سامنے ہونا چاہئے۔ مکانا سوی (02 : 85) ” یعنی کھلا میدان “ موسیٰ علہی ال سلام سے پہلے فرعون نے چیلنج دیا ، اور مقابلے کا دن جشن کا مشورہ دن مقرر ہوا۔ جشن کے دن لوگ خوشایں مناتے ہیں اور خوب زیب وزینت سے آتے ہیں۔ کھلے میدانوں میں جمع ہوتے ہیں۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

‘ موسیٰ نے کہا ” جشن کا دن طے ہوا اور دن چڑھے لوگ جمع ہوں۔ “

قال موعدکم یوم الزینۃ (02 : 95) موسیٰ نے کہا جشن کا دن طے ہوا۔ “ اور یہ بھی کہا کہ سورج نکلتے ہیں لوگ جمع ہوں تاکہ جگہ کھلی ہو ، وقت لوگوں کے اجتماع کا ہو ، صبح کا وقت اس لئے کہ زیادہ سے زیادہ آسکیں ، نہ گرمی ہو ، نہ رات کا اندھیرا ہو۔ بہت سویرے بھی نہ ہو کہ لوگ گھروں سے نکلنے کے لیء ابھی فارغ ہی نہ ہوئے ہوں۔ دوپہر بھی نہ ہو کہ بہت گرمی ہوتی ہے ، شام بھی نہ ہو کہ اندھیرا ہوجاتا ہے۔ لوگ جمع بھی نہیں ہوتے اور پھر روشنی کا بھی مسئلہ ہوتا ہے ۔ الصحیٰ یعنی دن چڑھنے کا وقت سب سے موزوں ہے۔ اب یہ منظر موسیٰ و ہارون اور فرعون کے ساتھ ان کی پہلی ملاقات کا منظر یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ ایک طرف ایک مومن داعی ہے اور دوسری طرف ایک متکبر اور سرکش مقتدر اعلیٰ …پردہ گرتا ہے اور آئندہ ملاقات کے میدان میں ہوگی۔
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

’ فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے جھنڈے جمع کئے اور ہم میدان مقابلہ میں ہیں۔

فتول فرعون فجمع کیدہ ، ثم اتی (06) قرآن مجید نے فرعون کی ہدایات فرعون کے سرداروں کے مشورے اور پھر اس کے اور جادوگروں کے درمیان جو مکالمہ ہوا ، ان سب امور کو مجمل چھوڑ دیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے باہم جو مشورے ہوئے ، جو تیاریاں کی گئیں ، جادگروں سے جو وعدہ ہوئے اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی یہ سب امور ترک کردیئے گئے ہیں۔ صرف ایک مختصر جملہ کہا کہ ” فرون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کر لئے اور مقابلے میں آگیا “ ۔ یہ مختصر اور چھٹوی سی آیت مسلسل تین اقدامات اور حرکات کو ظاہر کرتی ہے ، فرعون گیا ، تمام تدابیر اختیار کیں اور مقابلے پر آگیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سوچا کہ مقابلے میں آنے سے قبل ان لوگوں کو نصیحت کرنا ایک بنیادی فریضہ ہے یہ کہ حق کے مقابلے میں وہ جو افتراء باندھ رہے ہیں وہ نہایت ہی خطرناک فعل ہے ، اس لئے کہ ہو سکتا ہے وہ باز آجائیں ، جادو کے ذریعہ سچائی کے مقابلے میں آنے کا ارادہ ترک کردیں ، یہاں جادو کو افترئا کہا گیا ہے۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

” موسیٰ نے (عین موقع پر گروہ مقابل کو مخاطب کر کے ) کہا ” شامت کے مارو ، نہ جھوٹی تہمتیں باندھو اللہ پر ، ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیاناس کر دے گا۔ جھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا۔ “

قال لھم ……من افتری (16) دل سے جو بات نکلتی ہے ، اثر رکھتی ہے۔ نظر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس بات کا اثر بعض جادوگروں پر ہوا تھا۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے یہ الفاظ نہایت ہی اخلاص اور دلسوزی سے ادا کئے تھے۔ اس کا ان پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے اس قدر پر نظرثانی کے لئے تیار ہوگئے لیکن جو لوگ اس مقابلے میں اصرار کر رہے تھے اس کا ان پر اثر یہ ہوا کہ وہ اپنے اس اقدام پر نظرثانی کے لئے تیار ہوگئے لیکن جو لوگ اس مقابلے پر اصرار کر رہے تھے انہوں نے دوسروں کے ساتھ جھگڑنا شروع کردیا لیکن سرگوشی کی شکل میں تاکہ موسیٰ نہ سن سکے۔
Ayahs 20:62–64

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

” یہ سن کر ان کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے۔

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

آخر کار کچھ لوگوں نے کہا کہ ” یہ دونوں تو محض جادوگر ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بےدخل کردیں اور تمہارے مثالی طریق کزندگی کا خاتمہ کردیا۔

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

اپنی ساری تدبیریں آج اکٹھی کرلو اور ایکا کر کے میدان میں آ جائو ۔ بس یہ سمجھ لو کہ آج و غالت رہا وہ جیت گیا۔ “

فتنازعوا امرھم ……استعلی (46) جب اصرار کرنے والوں نے دیکھا کہ موسیٰ کی نصیحت کا بعض لوگوں پر اثر ہوگیا ہے تو انہوں نے ایک دوسرے کے حوصلے بلند کرنے کے لئے دلائل دینا شروع کئے کہ موسیٰ اور ہارون بہت خطرناک ہیں ، یہ مصر پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے نظریات بدلنا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کا مقابلہ متحدہ ہو کر کرنا چاہئے۔ اس میں تر دد اور نزاع کے بجائے یکسوئی ہونی چاہئے۔ اور آج کا مقابلہ بہت ہی اہم ہے۔ اس میں جو بھی کامیاب مستقبل ہوا مستقبل اس کا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے صرف ایک بات کی ، لیکن یہ بات چونکہ پختہ یقین اور سچائی پر مشتمل تھی اس لئے وہ مخالف کیمپ میں گولے کی طرحف گری اور اس نے سب کچھ ہلاک کر رکھ دیا۔ ان کے اندر افراتفری پیدا ہوگئی ، ان کو اپنے اوپر اعتماد نہ رہ۔ اپنے عقائد و نظریات پر وہ شک کرنے لگے۔ دعوت حق ہمیشہ ایسی ہوتی ہے اور داعیان حق کو ہمیشہ نہایت ہی زور دار طریقے سے بات کرنا چاہئے۔ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) صرف دو آدمی تھے۔ جادوگر بہت تھے ، ان کی پشت پر فرعون ، اس کی پوری حکومت ، اس کی فوج اور اس کا حکومتی رعب اور اس کے مالی وسائل تھے۔ جبکہ موسیٰ و ہارون کے ساتھ ان کا رب تھا اور یہ عقیدہ محکم تھا کہ وہ ان کے ساتھ ہے ، سن رہا ہے اور کچھ دیکھ رہا ہے ۔ یہی وہ راز ہے جس سے فرعون جیسے قاہر و جابر کے یہ اقدامات اس کی پریشانی اور جادوگروں کی یہ دوڑ دھوپ اور پوری حکومت مشینری کا حرکت میں آنا سمجھ میں آجاتا ہے کیونکہ موسیٰ اور ہارون گیا تھا کہ فرعون جیسی قوت ان کو چیلنج دیتی ہے ، اور ان کے چیلنج کو قبول کرتی ہے۔ پھر یہ حکومت مکمل تیار کرتی ہے اور میدان میں آتی ہے تمام جادوگر جمع کرتی ہے۔ لوگ جمع کئے جاتے ہیں ، خود فرعون اور اس کے سردار اس مقابلے کا مشاہدہ کرتے ہیں نیز فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) دو افراد کے ساتھ مقابلہ و مباحثہ کرنا قبول کس رطح کیا حالانکہ وہ بنی اسرائیل میں سے تھے اور بنی اسرائیل مصریوں کے غلام کے سچائی کیہیت ناک چادر ڈال دی تھی اور اللہ ان کے ساتھ کھڑا تھا ، سن رہا تھا اور دیکھ رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ کا ایک جملہ ان کی صفوں پر زلزلہ برپا کردیتا ہے۔ وہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ خفیہ مشورے کریں ، اسی خطرے کو محسوس کریں ، ایک دوسرے کی ہمت بندھائیں اور ایک دوسرے کو اتحاد و اتفاق کی دعوت دیں اور اس مقابلے میں ثابت قدمی اختیار کریں۔
Ayah 20:65

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

” جادو گر بولے ” موسیٰ تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں “۔ یہ ان کی جانب سے میدان میں دعوت مقابلہ ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جادوگر بہت پر اعتماد ہیں اور چینجل اور اصول کے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
Ayahs 20:66–67

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

” موسیٰ نے کہا ” نہیں تم ہی پھینکو۔ ‘’ یکایک ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے موسیٰ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں ،

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

موسیٰ اپنے دل میں ڈر گیا۔ “

‘ موسیٰ (علیہ السلام) نے چیلنج قبول کرتے ہوئے ان کو موقع دیا کہ پہلے پھینکیں اور اپنے لئے آخری و ار پسند کیا۔ لیکن بظاہر وہ ایک خوفناک اور عظیم جادو لے کر آئے ہیں۔ اچانک جب انہوں نے جادو شروع کیا تو میدان یوں لگتا تھا کہ سانپوں کی موجیں حرکت میں آگئی ہوں ، خود حضرت موسیٰ فرزدہ ہوگئے۔ فاذا حبالھم ……موسیٰ (76) قرآن کریم کا انداز تعبیر بتاتا ہے کہ یہ جادو اس قدر عظیم تھا کہ حضرت موسیٰ بھی دل میں ڈر گئے جبکہ اس کے ساتھ اس کے رب بھی کھڑے تھے اور سب کچھ سن رہے تھے اور جان رہے تھے۔ موسیٰ تب ہی دل میں خائف ہو سکتے تھے کہ یہ سحر اس قدر خوفناک تھا کہ ایک لمحے کے لئے وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ زیادہ قوی ہیں اور انکے ساتھ رب عظیم کی عظیم قوت ہے چناچہ اللہ ان کو یاد دلاتے ہیں :
Ayahs 20:68–69

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

” ہم نے کہا ” مت ڈر ، تو ہی غالب رہے گا ،

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے ، ابھی ان کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے۔ یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں۔ یہ تو جادو گر کا فریب ہے۔ اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا ، خواہ کسی شان سے وہ آئے۔ “

قلنا تاتخف ……اثی (96) موسیٰ تم نہ ڈرو۔ تم ہی یقیناً غالب رہو گے۔ تمہارے ساتھ سچائی ہے ان کے پاس باطل ہے ۔ تمہارے پاس ایک نظریہ ، ایک عقیدہ ہے اور ان کے پاس اس کے مقابلے کی فیس ہے اور کچھ دوسری سہولیات ہیں جو اس دنیا سے متعلق ہیں ، تمہارا رابطہ اس کائنات کی عظیم قوت اور سچائی کے ساتھ ہے اور وہ ایک حقیر بشر اور انسان کے خدمات گار ہیں۔ یہ بشر جس قدر قہار و جبار بھی ہو ، مگر فانی ہے۔ نہ ڈرو والق ما فی یمینک (02 : 96) ” پھینک جو تریے ہاتھ میں ہے۔ “ جو تیرے ہاتھ میں ہے ، عصا کا نام نہ لینے میں اس کی عظمت کا اظہار (تفخر کے لئے) تلقف ما صنعوا (02 : 96) ” ابھی ان کی ساری بناونی چیزوں کو نگل جاتا ہے۔ “ کیونکہ انہوں نے جو کچھ دکھایا ہے وہ تو ایک جادو ہے ، جدوگروں کی کارستانی ہے اور جادوگر جہاں بھی جائے وہ کامیاب نہیں ہو سکتا ، چاہے وہ جو طریقہ بھی اپنائے کیونکہ وہ محض تخیل کے تابع ہوتا ہے۔ وہ تخیل پیدا کرتا ہے اور تخیل یا تخیل اور تنویم حقیقت کو نہیں بدلتے۔ ان کا انجام دہی ہوتا ہے جو اسک سچے کے مقابلے میں جھوٹے اور باطل پرست کا ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کا باطل بظاہر بڑا اور پھولا ہوا نظر آتا ہے اور صرف اس شخص کو ڈرا سکتا ہے جو غافل اور جاہل اور حقیقت سے بیخبر ہو اور جسے حق کی قوت کا اندازہ نہیں ہوتا جو پوشیدہ ہوتی ہے ، جو خوفناک ہوتی ہے ، جو تکبر ، مبالغہ اور ظاہر مستی سے خالی ہوتی ہے مگر وہ حقیقی قوت ہوتی ہے اور باطل کا آخر کار سر پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ باطل اچانک مٹ جاتا ہے۔ حق کی قوت باطل کو نگل جاتی ہے۔ چناچہ باطل اپنی بساط لپیٹ کر غائب ہوجاتا ہے۔ غرض موسیٰ نے عصا پھینکا اور اس عظیم معجزے کا ظہور ہوگیا۔ یہاں قرآن مجید اس عظیم معجزے کے صرف وہ اثرات قلم بند کرتا ہے جو جادوگروں پر ہوئے ، کیونکہ مقابلہ وہ کر رہے تھے اس لئے انہی کوششیں زیادہ تھیں کہ وہ کامیاب ہوں ، اس سے قبل آگیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حوصلے بھی بڑھا رہے تھے اور مقابل یک یلئے ایک دوسرے کو اکسا رہے تھے۔ یہ لوگ اس قدر عظیم ماہر فن تھے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو خوفزدہ کردیا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پیغمبر تھے لیکن انہیں یوں نظر آ رہا تھا کہ ان کے عصا اور رسیاں زندہ سانپ ہیں اور پورا میدان ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ قرآن یہاں ان کی اچانک مکمل تبدیلی کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ان کا شعور ، ان کا وجدان ، ان کی ادنرونی دنیا یکسر بدل گئی ہے۔ اس تبدیلی کو صرف اسٹیج پر عملی ایکشن ہی سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ الفاظ میں اس کا عکس نہیں دکھایا جاسکتا ، چناچہ ایکشن ہوتا ہے۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

” آخر کو یہی ہوا کہ سارے جادوگر سجدے میں گرا دیئے گئے اور وہ پکار اٹھے “ مان لیا ہم نے ہارون اور موسیٰ کے رب کو۔ “

فالقی السحرۃ ……موسیٰ (07) حساس اعصاب والے افراد پر بعض اوقات بجلی جیسا اثر ہوتا ہے ، بٹن دبایا اور روشنی چمک اٹھی ، اندھیرا ختم ہوا۔ ان کے دل کا سوئچ آن ہوگیا اور ایک لحظ میں ان کی دنیا بدل گئی۔ دل کافر ، اب دل مومن تھا۔ لیکن اقتدار کے نشے میں بدمست لوگوں پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ مرد نادان پر کالم نرم و نازک بےاثر ہوتا ہے۔ ان کو کیا پتہ کہ اللہ مقلب القلوب ہے ، دلوں میں انقلاب کی طرح آتا ہے۔ اقتدار کے نشے میں بدمست ڈکٹیٹر چونکہ طویل عرصے تک سرکشی اور نافرمانی کی حالت میں رہتے ہیں اس لئے وہ نہیں سمجھتے ، پھر ان کے اقتدار کی وجہ سے دنیا ان کے اشاروں پر چلتی ہے اس لئے وہ حق کو بھی مطیع فرمان دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کو کیا پتہ کہ جب دل نور ایمان سے مالا مال ہوجاتے ہیں اور اللہ سے جڑ جاتے ہیں تو ان پر اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہوتی ، لیکن ان کو کیا پتہ کہ جب دل نور ایمان سے مالا مال ہوجاتے ہیں اور اللہ سے جڑ جاتے ہیں تو ان پر اللہ کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہوتی۔ اب منظر پر ایک جابر حکمران آتا ہے۔
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

’ فرعون نے کہا ” تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا ؟ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گروہ ہے جس نے تمہیں جادو گری سکھائی تھی۔ اچھا ، اب میں تمہارے پائوں مخالف سمتوں سے کٹوایا ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سولی دیتا ہے۔ پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔ “

’ قال امنتم لہ قبل ان اذن لکم (02 : 18) ” تم اس پر ایمان لائے قبل اس کے کہ میں تمہیں جازت دیتا۔ “ یہ ایک سرکش حکمران کی سوچ ہے۔ وہ اس قدر بھی نہیں جانتا کہ یہ بیچارے خود بھی اب اپنے نفوس و قلوب کے مالک نہیں رہے۔ ان کے دلوں پر ایمان چھا گیا ہے۔ یہ خود بھی ایمان کو اب دل سے نکال نہیں سکتے۔ دل تو رحمٰن کی دو انگلیوں میں ہوتا ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔ انہ لکبیرکم ……السحر (02 : 18) ” معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گروہ ہے جس نے تمہیں جادوگری سکھائی تھی۔ “ اس شخص کی نظروں میں شکست تسلیم کرنے کی اصل وجہ یہ ہے۔ یہ وجہ نہیں ہے کہ ان کے دلوں میں ایمان اس راستے سے داخل ہوگیا جس کا وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ یہ وجہ بھی نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے قلب و نظر پر پڑے ہوئے پردے ہٹا دیئے ہیں۔ حالانکہ یہ حقیقی وجوہات ہیں۔ سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو سخت ترین تشدد کی دھمکی دیتے ہیں اور جب وہ لوگوں کے دلوں کو نہیں بدل سکتے تو وہ لوگوں کے جسم اور بدن کو اذیت دیتے ہیں۔ ان کا آخری حربہ یہی ہوتا ہے۔ فلا قطعن ایدیکم و ارجلکم من خلاف ولاوصلبنکم فی حذوع النخل (02 : 18) ” اچھا ، اب میں تمہارے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سولی دیتا ہوں۔ “ ڈکٹیٹر کا ہتھیار اندھی قوت کا استعمال ہے۔ جانوروں اور درندو کی قوت جو جنگل کے قانون کے نام سے مشہور ہوتی ہے۔ وہ قوت جو کسی کمزور کو چیر پھاڑ کر رکھا جاتای ہے۔ اس کے خیال میں انسان کے درمیان جو دلیل سے بات کرتا ہے اور اس حیوان کے رمیان جو نیچے سے بات کرتا ہے ، کوئی فرق نہیں ہوتا۔ ولتعلمن اینا اشدعاذاباً و ابقی (02 : 18) ” پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے۔ “ لیکن اب وقت اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔ ایمان کے احساس نے اس نہایت ہی حقیر ذرے کو ایک عظیم قوت سے ملا دیا تھا۔ یہ ذرہ اب عظیم قوت کا سرچشمہ تھا۔ اس کے سامنے فرعون جیسی عظیم قوت بھی ہیچ ہے۔ اب ان جادوگروں کے سامنے دنیا کی اس مختصر زنگدی کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان کے دلوں کے سامنے نہایت ہی روشن اور کھلی دنیا کے آفاق کھل گئے تھے۔ اب ان کے سامنے اس دنیا اور اس کے انعام و اکرام کی حقیقت ہی کیا رہ گئی تھی۔ دنیا کا مال و متاع ان کی نظروں میں اب بےوقعت تھا۔
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

’ یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰ ۔ جادوگروں نے جواب دیا۔ ” قسم ہے اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں اسامنے آنے کے بعد بھی (صداقت پر) تجھے ترجیح دیں۔ تو جو کچھ کرنا چاہئے کرلے۔ تو زیادہ سے زیادہ بس اسی دنیا کی زنگدی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔

قالوا لن ……وابقیٰ (37) ’ یہ ہے ایمان کا احساس ، ان دلوں کے اندر جو چند لمحات قبل فرعون کی پوجا کرتے تھے اور فرعون کے قریب کے لئے وہ ایک دور سے سے آگے بڑھتے تھے۔ لیکن اچانک ان کے دلوں میں قوت کا ایک نیا سرچشمہ پھوٹ پڑا۔ اب وہ فرعون کی مملکت ، اس کی قوت ، اس کے مرتبے اور اس کے اقتدار کو چیلنج کر رہے ہیں۔ قالوا لن نوثرک علی ماجآء نا من البینت والذی فطرنا (02 : 28) ” جادوگروں نے جواب دیا قسم ہے اس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آجانے کے بعد بھی تجیھ ترجیح دیں۔ “ یہ بات ہمارے لئے بہت ہی مشکل ہے کیونکہ اللہ جل شانہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے۔ فاقض ما انت قاص (02 : 28) ” تو جو کچھ کرنا چاہے کرلے۔ “ تمہارے پاس جو قوت ہے اسے استعمال کرلو۔ انما تقضی ھذہ الحیوۃ الدنیا (02 : 28) ” تو زیادہ سے زیادہ بس اس دنیا کی زندگی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ “ کیونکہ تیری حکومت اسی دنیا میں ہے۔ اس دنیا سے آگے تمہاری حکومت نہ ہوگی۔ اس دنیا کی زندگی تو بہت ہی مختصر ہے۔ بہت ہی معمولی ہے ، تمہارے پاس جو سزا ہے وہ ان دلوں کے لئے بہت آسان ہے جن کا رابطہ اللہ سے ہوجائے ، جن کی امیدیں ابدی زندگی کی بہترین کے ساتھ وابستہ ہوگئی ہیں۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اس جادوگری سے ، جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا تھا ، درگزر فرمائے۔ اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے۔ “

انا امنا بربنا لیغفرلنا خطینا وما اکرھتنا علیہ من السحر (02 : 38) ” ہم تو اپنے رب پر ایمان لے آئے تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اس جادوگری سے جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا ہے ، درگزر فرمائے۔ ‘ تم نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم جادوگری کریں اور ہم تیرے حکم سے سرتابی نہ کرسکتے تھے۔ امید ہے کہ اس ایمان لانے کی وجہ سے اللہ ہمارے گناہ معاف کر دے۔ واللہ خیر و ابقی (02 : 38) ” اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے الا ہے //اللہ نے جادگروں کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ اس سرکش ڈکٹیٹر کے سامنے تم معلم اور مبلغ کا انداز اختیار کرلو۔ “
Ayahs 20:74–76

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

” یہ کہ جو مجرم بن کر اپنے رب کے حضور حاضر ہوگا اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا جس نے نیک عمل کئے ہوں گے ، ایسے سب لوگوں کے لئے بلند درجے ہیں ،

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

سدا بہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزا ہے اس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے۔ “

انہ من یات ……تزکی (67) اس نے ان کو دھمکی دی تھی کہ کون سخت ہے اور کس کا اقتدار دائمی ہے تو وہ پیش کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ کے سامنے مجرم بن کر آئے تو اس کو شدید عذاب ملتا ہے اور وہ عذاب دوزخ ہوتا ہے کیونکہ فان لہ جھنم لا یموت فیھا ولا یحییٰ (02 : 38) ” اس کے لئے جہنم ہے جس میں وہ نہ مرے گا اور جیے گا۔ “ نہ وہ مر کر آرام کرے گا اور نہ زندہ رہ کر آرام میں ہوگا۔ وہ ایسا عذاب ہوگا کہ اس کے نتیجے میں موت بھی واقع نہ ہوگی ، نہ آرام کی زندگی ملے گی جبکہ دوسری جانب بلند درجے ہیں۔ ایسے باغات ہیں اور ان میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وذلک جزوا من تزکی (02 : 68) ” اور یہ جزاء ہے اس شخص کی جو پاکیزگی ” اختیار کرے۔ “ اور گناہوں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ ایک سرکش اور تشدد پسند مقتدر اعلیٰ کی دھمکی جس نے اہل ایمان کے دلوں کو ہلاک کر رکھ دیا ، لیکن جواب میں انہوں نے بھی قوت ایمانی کے ساتھ جواب دیا۔ ایمان کی سربلندی کا ثبوت دیا اور اس سرکش کو انجام ہد سے ڈرایا اور اسے گہرے ایمان کی چمک دکھائی۔ یہ منظر اب آنکھوں سے اوجھل ہوتا ہے لیکن اس نے ثابت کردیا کہ جن لوگوں کے دلوں میں ایمان داخل ہوجاتا ہے تو وہ اس دنیا کے حدود وقیود کو پار کر کے ، اپنی آزادی اور حریت کا اعلان کردیتے ہیں۔ ان دلوں میں پھر طمع و لالچ نہیں رہتا ، ان کے سامنے زمین کا اقتدار ہیچ ہوتا ہے۔ اہل اقتدار کے ڈر سے وہ بےنیاز ہوجاتے ہیں۔ کوئی بھی انسان اور قلب انسانی آزادی کا یہ اعلان صرف ایمانی قوت کے بل بوتے پر کرسکتا ہے۔ اب پردہ گرتا ہے ، تاکہ اس قصے کی ایک جدید کڑی کو اسٹیج پر لایا جائے۔ یہ وہ منظر ہے جس میں ایک سچی جماعت کو اس کرئہ ارض پر بھی کامیابی نصیب ہوتی ہے لیکن یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب وہ نظریات اور ایمان کی دنیا میں اخلاقی فتح حاصل کرلیتی ہے۔ سیاق کلام میں عصا کو جادوگری پر فتح حاصل ہوچکی ہے۔ جادوگروں کے ایمان کو فرعون پر اخلاقی فتح حاصل ہوچکی ہے۔ ایمان کے بعد ان کو تمام دنیاوی خوف و خطر پر فتح حاصل ہوچکی ہے۔ وہ اب دھمکی اور دھونس سے نہیں ڈرتے۔ اب حق باطل پر ، ایمان ضلالت پر ، حق سرکشی پر عالم واقعہ میں فتح حصال کرتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ آخری فتح مشروط ہے ایمانی اور نظریاتی فتح کے ساتھ۔ واقعہ ار میدان جنگ میں فتح تب ہوتی ہے جب ضمیر کے اندر کوئی گروہ فاتح ہو۔ اہل حق کو ظاہری فتح ، ان کے باطن کی فتح کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایمان اور نظریات اپنے اندر ایک حقیقت رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت جب انسان کے شعور اور اس کی سوچ میں مجسم ہوتی ہے تو پھر یہ باہر نکلتی ہے اور لوگ اسے واقعی صورت میں زمین پر دیکھتے ہیں۔ اگر ایمان دلوں کے اندر مجسم شکل میں موجود نہ ہو ، اور سچائی ایک شعاع اور عمل کی شکل میں دلوں سے بہہ کر نکلتی ہو تو ایسے حالات میں سرکش اہل باطل ہی غالب ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی مادی قوت کے مالک ہوتے ہیں جس کے مقابلے کے لئے ایمانی قوت بھی اہل حق کے ساتھ نہیں ہوتی اور قوت کا توازن نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ قلب اور دل میں ایمان ایک حقیقی قوت کی شکل میں موجود ہو۔ یہ ایمانی قوت اگر کسی کے اندر موجود ہو تو وہ بڑی سے بڑی مادی قوت کا مقابلہ کرسکتی ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہی موقف تھا جو انہوں نے جادو گروں ، فرعون اور سرداران فرعن کے مقابلے میں اختیار کیا ۔ وہ ایمانی اور نظریاتی اور اخلاقی کامیابی کے بعد اس سر زمین پر بھی کامیاب ہوئے۔ ذرا اس منظر کو دیکھیے۔