20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 20:77–79

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

” ہم نے موسیٰ پر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ ، اور انکے لئے سمندر میں سے سوکھی سڑک بنا لے ، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے) ڈر لگے۔

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا ، اور پھر سمندر ان پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا ، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔ “

ولقد اوحینآ الی ……ھدی (97) یہاں قرآن مجید نے وہ تمام واقعات حذف کردیئے ہیں جو جادوگروں کے ساتھ مقابلے کے بعد پیش آئے۔ فرعون نے جادوگروں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جبکہ وہ اپنی قوت ایمانی کیس اتھ فرعون کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ وہ اس کی دھمکیوں سے نہ ڈرے ، انہوں نے حیات دنیا کے بارے میں اپنا جدید نظر یہ فرعون کے سامنے بڑی بےباکی سے پیش کیا۔ ان سب واقعات کو چھوڑ کر یہاں اب فتح ظاہری کا یہ منظر دکھایا جاتا ہے ، تاکہ قلبی اور نظریاتی فتح کے بعد اب میدانی فتح کو دکھایا جائے اور اللہ کی نصرت اور مدد اہل ایمان کو بچشم سر نظر آجائے۔ مکمل اور فیصلہ کن فتح۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس منظر سے قبل بنی اسرائیل کے منظر خروج اور سمندر کے سامنے ان کے کھڑے ہونے کے مناظر کو طول نہیں دیا گیا ، جس طرح ان مناظر کو دوسری سورتوں میں مفصل دکھایا گیا۔ بلکہ چند جھلکیوں کے بعد مکمل فتح ہمارے سامنے ہے کیونکہ یہ تمام حذف شدہ مناظر ذہن انسانی خود سوچ سکتا ہے۔ اس لئے یہ تخیل پر چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ وہ میرے بندوں کو لے کر رات کو نکل جائیں۔ سمندر میں ان کو خشک راہ مل جائے گی اور فرعون کے لشکر ان کو نہ پکڑ سکیں گے۔ سمندر میں بننے والے خشک راستوں میں بھی خوف نہ کھائو ، اللہ نے سمندر میں پانی کو جس قانون کے مطابق رکھا ہوا ہے وہ اسے کچھ دیر کے لئے اپنی طبیعی ڈگر سے ہٹا بھی سکتا ہے۔ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جب موسیٰ نکلے تو : فاتبعھم ……وما ھدی (98) (02 : 88-98) ” پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا اور پھر سمندر ان پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔ فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا ، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔ “ قرآن مجید یہاں فرعون کی غرقابی کا بھی مجملاً ذکر کرتا ہے۔ تفصیلات نہیں دی جاتیں تاکہ یہ واقعہ مجمل ہی رہے۔ فرعون نے زنگدی بھر اپنی قوم کی قیادت فسق و فجور اور ضلالت میں کی اور اب تباہی اور بربادی کے وقت بھی سمندر میں اس نے اپنی قوم کی قیادت کی۔ جس طرح اس واقعہ کی اس کڑی کو یہاں قرآن مجید نے خاص حکمت کے تحت مجمل چھوڑا ہے ہم بھی اسے مجمل ہی رہنے دیتی ہیں۔ مناسب ہے کہ اس منظر سے ہمیں جو سبق حاصل ہوتا ہے اور اس منظر میں واقعات کا جو اثر دلوں پر ہوتا ہے اس کے حوالے سے بحث کی جائے۔ اس قصے میں پہلی عبرت یہ ہے کہ دست قدرت نے ایمان اور سرکشی کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے اور ان کے درمیان معرکہ برپا کیا گیا ہے ، اس معرکہ میں اہل ایمان سے صرف یہ مطالبہ کیا گیا کہ بس وہ فقط احکام کی اطاعت کرتے چلے جائیں۔ حکم ہوا کہ تم رات کو نکل پڑو اس لئے کہ دونوں محاذوں کے درمیان جنگی قوت کا توازن نہ تھا۔ حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو ان دو قوتوں کے درمیان کوئی نسبت ہی نہ تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم ضعیف ہیں۔ ان کے پاس کوئی مادی قوت نہیں ہے۔ جبکہ فرعون اور اس کی افواج ہر قسم کی قوت رکھتی ہیں۔ لہٰذا ان کے درمیان کسی مادی جنگ کا کوئی موقع ہی نہیں ہے اس لئے یہ جنگ دست قدرت نے اپنے ہاتھ میں لے لی۔ لیکن جب اہل ایمان کے دلوں میں ایمانی قوت مضبوط ہوگئی ، ایمان ان کے دلوں میں اچھی طرح داخل ہوگیا اور اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی مادی قوت نہ تھی تو قوت ایمانی نے ایک سرکش مقتدر اعلیٰ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ اس کی دھمکیوں سے نہ ڈری اور اہل اقتدار کے پاس جو دولت اور عزت تھی اسے خاطر میں نہ لائی۔ سرکش ڈکٹیٹر نے کہا فلاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف وانا وصلبنکم فی حذوع النخل (18) ” میں تمہارے ہاتھ پائوں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا اور کھجور کے تنوں پر تمہیں سولی دوں گا۔ “ تو جواب میں انہوں نے کہا۔ فاقض ما انت قاض انما تقضی ھذہ الحیوۃ الدنیا (02 : 28) ” تو جو کچھ کرنا چاہے کرلے تو زیادہ سے زیادہ بس اس دنیا کی زنگدی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ “ جب دلوں کے میدان میں نظریاتی اور ایمانی قوت اور سرکشی اور اقتدار کی قوت کے درمیان معرکہ یہاں تک پہنچ گیا تو اب دست قدرت نے ایمان کا جھنڈا اٹھا لیا تاکہ اسے بلند کر دے اور اہل باطل کا جھنڈا سرنگوں کردیا گیا بغیر اس کے کہ اہل حق اس کے لئے کوئی مادی جدوجہد کریں۔ دوسری عبرت یہ ہے کہ جب تک بنی اسرائیل ذلت اور غلامی کا ٹیکس فرعون کو ادا کرتے رہے ان کے بیٹے قتل ہوتے رہے اور ان کی بیٹیاں زندہ چھوڑی جاتی رہیں تو دست قدرت ان کی امداد کے لئے بلند نہ ہوا اور یہ معرکہ آرائی نہ کرائی گئی۔ کیونکہ وہ یہ ٹیکس محض ذلت ، غلامی اور خوف کی وجہ سے ادا کرتے رہے لیکن جب ان لوگوں کے دلوں میں ایمان سربلند ہوگیا اور انہوں نے ایمان کی راہ میں مشکلات اور تشدد برداشت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ جب انہوں نے سر اٹھا کے چلنے کی رسم ڈال لی۔ کلمہ حق بلند کرنا شروع کردیا اور فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا شروع کردیا اور یہ کام انہوں نے ہر قسم کا خطرہ انگیز کرتے ہوئے کیا تو پھر دست قدرت ان کی مدد کے لئے بلند ہوا۔ یہ معرکہ شروع ہوا ، اس وقت جبکہ میدانی فتح سے قبل اہل ایمان دل کی دنیا میں فتح پا چکے تھے۔ اس اجمال کے ذریعے یہاں قرآن کریم یہی عبرت اور سبق دینا چاہتا ہے اور ان مناظر میں تفصیلات یعنی جزوی تفصیلات نہیں دی گئی تاکہ دعوت اسلامی کے حاملین کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کی طرف سے ان کی نصرت کب ہوگی اور باغیوں اور سرکشوں کے ماقبلے میں فتح کب نصیب ہوگی۔ جب بنی اسرائیل فتح و نصرت کے جھنڈے اٹھاتے ہوئے ایک آزاد فضا میں قدم رکھ رہے تھے تو اب ان کو صنیحت کی جاتی ہے ، سچائی کا سبق یاد کرایا جاتا ہے اور انجام بد سے انہیں ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ اس سبق کو بھول نہ جائیں جو فرعون و موسیٰ کی کشمکش سے حاصل ہوتا ہے ۔ اب آزادی اور اقتدار کی فضا کہیں ان کو کبر و غرور میں مبتلا نہ کر دے اور وہ اس ساز و سامان کو نظر انداز نہ کردیں جس کی وجہ سے انہیں طاقت کے عدم توازن کے باوجود ، فتح نصیب ہوئی کیونکہ یہ اصل قوت ، قوت ایمانی ہی ہر میدان میں فتح کی ضامن ہے۔
Ayah 20:80

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل ، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی ، اور طور کے دائیں جانب تمہاری حاضری کے لئے وقت مقرر کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارا

اب تو خطرے کا علاقہ گزر گیا۔ بنی اسرائیل کامیابی سے طور کی طرف سینئای کے میدان میں آگئے۔ فرعون اور اس کی افواج سمندر میں غرق ہوگئیں۔ بنی اسرائیل کی اس نجات پر ابھی تک زیادہ عرصہ نہیں گزرا ، یہ ان کے حافظے میں تازہ واقعہ ہے لیکن اس تازہ ترین نعمت کی طرف بھی باری تعالیٰ ان کی توجہ مبذول کراتے ہیں کہ تم اس واقعہ کو کہیں بھول نہ جائو۔ غور کرو اور شکر کرو۔ یہاں بنی اسرائیل کے ساتھ طور ایمان کے جس وعدے کا ذکر ہے ، یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ مصر سے اخراج کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے طور پر بلایا تھا تاکہ وہ اللہ کے ساتھ ملاقات کے لئے تربیت حاصل کریں گی اور اللہ وہ تعلیمات سنیں جو الواح میں انہیں دی جاتی تھیں۔ جن کا تعلق دین اور شریعت سے تھا اور بنی اسرائیل اس عالم کردار کے لئے تیار اور منظم ہوں جو انہوں نے ارض مقدس میں سرانجام دینا تھا۔ پھر ان کے لئے من نازل کرنا ، من ایک ایسا میٹھا مادہ تھا جو درختوں کے پتوں پر جمع ہوجاتا تھا اور سلویٰ ایک پرندہ تھا جو وہاں بکثرت ان کے لئے صحرا میں جمع ہوجاتا تھا ، جسے بہ سہولت پکڑا اور کھایا جاسکتا تھا۔ یہ دونوں چیزیں ان کے لئے اس چٹیل میدان اور غیر آباد صحرا میں خصوصی انعام تھیں۔ یہ چیزیں ان کو روزمرہ کے کھانے میں فراہم ہوجاتی تھیں اور بڑی سہولت سے فراہم ہوجاتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو یہ انعامات یاد دلا کر یہ نصیحت کرتا ہے کہ ان کو کھائو لکین سرکشی مت کرو اور عیش و عشرت میں گم ہو کر ان مقاصد اور اس نصب العین کو نہ بھول جائو جس کے لئے تم مصر سے نکلے ہو ، اور جس بات سے یہاں خصوصاً انہیں منع کیا جا رہا ہے وہ سرکشی ہے۔ سرکشی کو تو وہ مصر میں دیکھ چکے تھے۔ اس کے تحت وہ مظالم سہہ چکے تھے اور اس کا انجام بھی دیکھ چکے تھے۔
Ayah 20:81

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

کھائو ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کرو ، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا۔ اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھر گر کر ہی رہا۔

ولا تطغوا فیہ فیحل علیکم غضبی و من یحلل علیہ غضبی فقد ھوی (02 : 18) ” سرکشی نہ کرو ، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جن پر میرا غضب ٹوٹا ، وہ پھر گر کر ہی رہا۔ “ حال ہی میں وہ دیکھ چکے تھے کہ فرعون کس طرح گرا۔ وہ تخت سے بھی گرا اور پھر سمندر میں بھی گرا۔ گرنا جس طرح اوپر سے نیچے کے عمل کو دکھاتا ہے ، اسی طرح سرکشی اور تکبر نیچے سے اوپر کی طرف جانے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کو قرآن کریم اپنے مخصوص انداز بیان کے مطابق باہم مربوط کر کے پیش کرتا ہے جس میں مفہومات باہم مقابل ہوتے ہیں۔ یہ تنبیہ اور ڈراوا اس قوم کے لئے ہے جو حال ہی میں ایک مخصوص مقصد کے لئے مصر سے نکلی ہے تاکہ آزادی اور عیش پرستی ان کو گمراہ نہ کر دے۔ وہ عیش پرستی اختیار کر کے کمزور نہ ہوجائیں۔ لیکن اس تنبیہ اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ توبہ کا دروازہ بھی کھلا رہتا ہے تاکہ اگر کسی سے غلطی ہو تو وہ واپس آسکے۔
Ayah 20:82

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

البتہ جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، پھر سیدھا چلتا رہے اس کے لئے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔

وانی لغفار لمن تاب و امن و عمل صالحا ثم اھتدی (02 : 28) ” البتہ جو توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے ، پھر سیدھا چلے ، اس کے لئے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔ “ یہ یاد رہے کہ توبہ صرف لفظ کا نام نہیں ہے کہ کوئی اسے گائے بلکہ یہ تو قلبی عزم کا نام ہے۔ اس کے مفہوم کا تعین ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ ہی ہوتا ہے اور اس کا ظہور عالم واقعہ میں انسانی طرز عمل سے ہوتا ہے۔ اگر توبہ کرلی ، ایمان درست رہا اور عمل نے اس کی تصدیق کی تو تب انسان کو ہدایت یافتہ انسان کہا جاسکتا ہے ، انسان ہدایت اور عمل صالح کی ضمانت غرض جب توبہ کے بعد ہدایت نہ ہو یعنی عملی تبدیلی نہ ہو تو توبہ کا کوئی مفہوم نہیں رہتا۔ یہاں تک ہم بنی اسرائیل کی کامیابی اور اس پر تبصرہ و نصیحت کا منظر دیکھ رہے تھے ، اب پردہ گرتا ہے اور اس کے بعد دوسرے منظر میں حضرت موسیٰ طور ایمان پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ طور پر چالیس روز گزاریں اور اس کے بعد اللہ سے ہم کلا مہو کر اس سے احکام لیں۔ یعنی شکست کے بعد فتح حاصل کرنے کے احکام۔ فتح حاصل کرنا کچھ تقاضے بھی رکھتا ہے۔ ہر نظریہ کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ نیز احکام لینے کے لئے نفسیاتی تیاری اور اپنے اندر استعداد پیدا کرنا کچھ تقاضے بھی رکھتا ہے۔ ہر نظریہ کے کچھ تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ نیز احکام لینے کے لئے نفسیاتی تیاری اور اپنے اندر استعداد پیدا کرنا بھی ضروری تھا۔ حضرت موسیٰ پہاڑ پر چڑھ گئے اور قوم کو نیچے چھوڑ دیا اور حضرت ہارون کو ان میں اپنا نائب مقرر کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس ملاقات کا بےحد شوق تھا ، اللہ کے سامنے حاضری دینا بڑا اعزاز تھا ، وہ اس کے لئے بےتاب تھے۔ اس سے قبل وہ اللہ کے ساتھ ہمکلامی کی مٹھاس چکھ چکے تھے۔ اس لئے وہ بےحد شوق سے جلدی میں طور پر پہنچ گئے۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہوگئے ، لیکن ان کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی قوم نے ان کے بعد کیا گل کھلائے ہیں کیونکہ وہ ان کو پہاڑ کے نیچے چھوڑ آئے تھے۔ یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کو رب تعالیٰ بتا دیتے ہیں کہ تمہارے بعد بنی اسرائیل نے کیا حرکت کی ہے۔ ذرا منظر کو دیکھیں اور گفتگو سنیں :
Ayahs 20:83–84

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی اے موسیٰ ؟

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

اس نے عرض کیا ” وہ بس میرے پیچھے آ ہی رہے ہیں۔ میں جلدی کر کے تیرے حضور آگیا ہوں ، اے میرے رب ، تاکہ تو مجھ سے خوش ہوجائے ،

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یہ سن کر حیران رہ گئے ۔ وہ رب تعالیٰ کی ملاقات کے لئے بےتاب تھے ۔ انہوں نے چالیس دن کا وقت بھی گزار لیا تھا اور ملاقات کی تیاری بھی کرلی تھی تاکہ وہ بنی اسرائیل کے لئے نیا نظام زندگی حاصل کرلیں کیونکہ ابھی ابھی وہ آپ کی قیادت میں فرعون کی غلامی سے رہا ہوئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل ایک ایسی امت ہو جس کے پاس ایک پغیام ہو اور اس کے کچھ فرائض ہوں۔ لیکن بنی اسرائیل کی حالت یہ تھی کہ ایک طویل ذلت کی زنگدی اور بت پرستانہ فرعونیت کی غلامی نے ان کا ضمیر بدل دیا تھا۔ وہ مشقت برداشت کرنے کے قابل نہ تھے۔ نہ مشکلات میں صبر کرسکتے تھے اور نہ کسی قول وقرار پر ثابت قدم رہ سکتے تھے۔ ان کے شعور میں غلامی تقلید اور سہل پسندی رچ بس گئی تھی۔ جونہی موسیٰ ان کو حضرت ہارون کی نگرانی میں چھوڑ کر ان سے ذرا دور ہوئے ان کے عقائد بدل گئے اور پہلی ہی آزمائش میں وہ چار شانے چت ہوگئے۔ ان کے لئے تو مسلسل امتحان ضروری تھا اور مسلسل مشکلات اور آزمائمشوں میں ان کو بار بار ڈالنا ضروری تھا تاکہ ان کی نفسیاتی تربیت ہو۔ گو سالہ پرستی ان کی پہلی آزمائش تھی ، یہ ایک مصنوعی بچھڑا تھا جو سامری نے ان کے لئے تیار کیا تھا۔
Ayah 20:85

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا ” اچھا تو سنو ، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا۔

قال فانا قدفتنا قومک من بعدلک واضلھم السامری (02 : 58) ” فرمایا اچھا تو سنو ، کہ ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ار سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا۔ “ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس ابتلاء کا پتہ نہ تھا۔ اللہ کے ساتھ ملاقات میں پہلی بار ان کو پتہ چلا۔ حضرت موسیٰ نے یہ تختیاں لیں۔ ان میں ہدایت تھی۔ اس میں بنی اسرائیل کی زندگی کی تعمیر کے لئے ایک ایسا دستور تھا جو انہیں اس مقصد کے لئے تیار کر کے دیا گیا تھا جس کے لئے انہیں اٹھایا گیا تھا۔ یہاں کوہ طور موسیٰ (علیہ السلام) کی مناجات کا منظر جلدی سے لپیٹ دیا جاتا ہے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ان تاثرات کو قلم بند کیا جائے جو ان پر وقم کی گمراہی کی خبر سن کر طاری ہوئے۔ واپسی کے لئے ان کی جلدی بھی منظر پر آئے اور یہ دکھایا جائے کہ وہ کس قدر غیض و غضب میں ہیں۔ اس قوم کو تو انہوں نے حال ہی میں فرعون کی غلامی سے چھڑایا تھا اور بت پرستی کی ذلت سے نجات دلائی تھی۔ پھر اللہ نے صحرا میں ان کے لئے کھانے پینے کی سہولتیں مہیا کیں اور صاف صاف ہدایات بھی دیں کہ گمراہی سے بچنا اور گمراہی کے عواقب اور نتائج بھی بتا دیئے۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ وہ پہلی ہی پکار پر بت پرست بن گئے اور پھر مصنوعی گو سالہ کی پرستش میں لگ گئے۔ یہاں قرآن مجید صراحت کے ساتھ یہ نہیں بتاتا کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی ضلالت کی تفصیلات بتا دی تھی یا نہیں لیکن واپسی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غیض و غضب کا اظہار کرنا ، نہایت ہی ناراض ہونا ، بھائی پر غصہ ہونا اور قوم کو ملامت کرنا ، یہ سب امور یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ نے ان کو سب کچھ بتلا دیا تھا اور وہ جان گیء تھے کہ بنی اسرائیل نے کسی نہایت ہی بری حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔
Ayah 20:86

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

موسیٰ سخت غصے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ جا کر اس نے کہا ” اے میری قوم کے لوگو ، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کئے تھے ؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں ؟ یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ؟

ہارون (موسیٰ کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ ” لوگو تم اس کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو ، تمہارا رب تو رحمٰن ہے ، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔ “ مگر انہوں نے اس سے کہہ دیا کہ ” ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آجائے۔ “ یہ ہے وہ فتنہ جس کے ذریعہ بنی اسرائیل گمراہ ہوئے لیکن قرآن اس کا تذکرہ اس وقت کرتا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے سامنے آ کر تحقیق کرتے ہیں۔ اس سے قبل اللہ کے ساتھ مناجات کے موقعہ پر قرآن نے اس کا اظہار نہیں کیا۔ ان تفصیلات کو خفیہ رکھا تاکہ ان کو اس وقت ظاہر کیا جائے جب موسیٰ (علیہ السلام) خود تحقیقات کرلیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم ایک ایسے مصنوعی بچھڑے کی پوجا کر رہی جو آواز نکالتا ہے۔ یہ بچھڑا سونے سے بنا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہے تمہارا رب اور یہی ہے موسیٰ کا رب۔ موسیٰ غلطی سے طور پر چلے گئے ، رب سے ملاقات کے لئے حالانکہ رب تو یہ ہے حاضر تمہارے سامنے ! ! جب موسیٰ (علیہ السلام) آئے تو نہایت ہی طیش کی حالت میں ان سے پوچھنے لگے۔ یقوم الم یعدکم ربکم وعدا حسناً (02 : 68) ” اے میری قوم کے لوگو ، کیا تمہارے رب نے تم سے اچھے وعدے نہیں کئے تھے۔ “ اللہ نے ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر تم عقیدہ توحید پر جمے رہے تو تم ارض مقدس میں داخل ہوگئے اور تمہیں نصرت ملے گی۔ اس عہد اور اس کے آثار کے ظہور پر کوئی زیادہ طویل عرصہ تک نہ گزر گیا تھا۔ وہ ان کی سخت گوشمالی کرتے ہیں۔ افطال علیکم العھد ام اردتم ان یحل علیکم غضب من ربکم (02 : 68) ” کیا تمہیں دن لگ گئے تھے یا تم اپنے رب کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے۔ “ کیونکہ تمہارا یہ عمل تو ایسا ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم اللہ کے غضب کے طلبگار ہو ، تم نے گویا عمداً یہ حرکت کی ہے اور قصداً تم اللہ کا غضب چاہت یہو۔ کیا کوئی بہت ہی طویل عرصہ گزر گیا تھا۔ فاخلفتم موعدی (02 : 68) ” تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی۔ “ تم نے یو وعدہ کیا تھا کہ میرے آنے تک تم میرے عہد پر قائم رہو گے۔ تم اپنے نظریات و عمل میں کوئی تبدیلی نہ کرو گے بغیر میری اجازت کے۔ اب ذرا ان کی معذرت کو دیکھو ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طویل ترین غلامی نے ان کے قلب و نظر کو فاسد کردیا تھا اور ان کا دماغ بھی صحیح طرح کام نہ کر رہا تھا۔
Ayah 20:87

قَالُوْا مَاۤ اَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَ لٰكِنَّا حُمِّلْنَاۤ اَوْزَارًا مِّنْ زِیْنَةِ الْقَوْمِ فَقَذَفْنٰهَا فَكَذٰلِكَ اَلْقَى السَّامِرِیُّۙ Open ayah 20:87 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا ” ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی ، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے تھے اور ہم نے بس ان کو پھینک دیا تھا۔ “ پھر اسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا

ما اخلقنا موعدک بملکنا (02 : 88) ” ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اتخیار سے نہیں کی۔ “ بات اتنی بڑی تھی کہ ہمارے بس میں نہ تھا کہ ہم اس سے باز رہتے۔ ولکنا حملنا اوزارا من زینۃ القوم فقذفنھا (02 : 88) ” معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لد گئے اور ہم نے بس ان کو پھینک دیا۔ “ ان کے پاس مصری عورتوں کے زیورات تھے جو وہ ساتھ لے آئے تھے۔ اس بوجھ کی طرف وہ اشارہ کرتے ہیں۔ ہم نے ان زیورات کو بوجھ اتارنے کے لئے پھینک دیا تھا کیونکہ یہ ہمارے پاس تھے اور تھے حرام۔ سامری نے ان کو چن لیا اور ان سے یہ بچھڑا بنا دیا۔ سامری مصر کا باشندہ تھا جو ان کا ساتھی بن گیا تھا۔ یا یہ بنی اسرائیل ہی میں سے ایک شخص تھا ، جس نے یہ لقب اختیار کرلیا تھا۔ اس نے اس بچھڑے میں ایسے سوراخ بنائے تھے کہ جب ان سے ہوا نکلتی تو بچھڑے جیسی آواز نکلتی تھی۔ اس بچھڑے میں نہ زندگی تھی اور نہ روح تھی۔ کیونکہ وہ تو ایک مردہ جسم تھا جو اس جسم کو کہا جاتا ہے جس میں زندگی نہ ہو۔ جونہی انہوں نے اس بچھڑنے کو آواز کرتے پایا۔ انہوں نے اس خدا کو بھلا دیا جس نے انہیں مصر سے نجات دی تھی یعنی ذلت کی سر زمین سے۔ چناچہ انہوں نے سونے کے اس بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ اپنی کم عقلی اور حماقت کی وجہ سے یہ کہنے لگے :
Ayah 20:88

فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ فَقَالُوْا هٰذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَ اِلٰهُ مُوْسٰى١۬ فَنَسِیَؕ Open ayah 20:88 in the Quran reader

ور ان کے لئے ایک بچھڑے کی مورت بنا کر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ پکار اٹھے ” یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰ کا خدا ، موسیٰ اسے بھول گیا۔

ھذا الھکم والہ موسیٰ (02 : 88) ” یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰ کا خدا۔ “ موسیٰ اسے پہاڑ پر ڈھونڈ رہا ہے اور وہ یہ ہے ہمارے پاس ، اور موسیٰ نے رب کا راستہ ہی بھلا دیا۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس سے ان کی بےشعوری اور کم عقلی بھی ظاہر ہوتی ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ کس قدر آسانی سے اپنے اس نبی پر تہمت لگا رہے ہیں جس کے زیر قیادت ابھی ابھی اللہ کی زیر نگرانی اور زیر نظر انہوں نے نجات پائی اور عین اللہ کی ہدایات کے مطابق ان کو یہ آزادی حاصل ہوئی ۔ ایسے حالات میں ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ الزام لگانا کہ وہ اپنے رب سے کوئی رابطہ نہیں رکھتے ، انہوں نے راستہ ہی خطا کردیا اور وہ رب تک پہنچ ہی نہ پائے۔ یہ ایک بہت بڑی جسارت ہے ان کی طرف سے لیکن وہ بنی اسرائیل تھے۔ یہ بات وہ بظاہر تو بطور عذر کر رہے ہیں لیکن درصال یہ ان کی جانب سے واضح دھوکہ ہے۔
Ayahs 20:89–91

اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْهِمْ قَوْلًا١ۙ۬ وَّ لَا یَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا۠ Open ayah 20:89 in the Quran reader

کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے ؟

وَ لَقَدْ قَالَ لَهُمْ هٰرُوْنُ مِنْ قَبْلُ یٰقَوْمِ اِنَّمَا فُتِنْتُمْ بِهٖ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكُمُ الرَّحْمٰنُ فَاتَّبِعُوْنِیْ وَ اَطِیْعُوْۤا اَمْرِیْ Open ayah 20:90 in the Quran reader

ہارون (موسی کے آنے سے) پہلے ہی ان سے کہ چکا تھا کہ لوگو تم اس کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو تمہارا رب تو حمن ہے پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو۔

قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَیْهِ عٰكِفِیْنَ حَتّٰى یَرْجِعَ اِلَیْنَا مُوْسٰى Open ayah 20:91 in the Quran reader

مگر انہوں نے اس سے کہہ دیا کہ ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ ہمارے پاس واپس نہ آجائے۔

افلا یرون الا یرجع الیھم قولاً ولا یملک لھم ضراً ولا نفعاً (02 : 98) ” کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ وہ تو زندہ بچھڑا بھی نہ تھا کہ وہ ان کی بات سن سکتا اور نہ اس قدر جواب دے سکتا تھا جس قدر ایک زندہ بچھڑا دے سکتا ہے۔ چونکہ یہ بچھڑا تو حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے ہے ، لہٰذا وہ ان کے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سادہ حقیقت ہے کہ وہ نہ ہل چلاتا ہے نہ کنوئیں سے پانی نکال سکتا ہے نہ آٹے کی چکی چلا سکتا ہے۔ ان سب امور کو ایک طرف رہنے دیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) موجود تھے۔ وہ ان کے نبی بھی تھے اور اس نبی کے نئاب تھے جو ان کا نجات دہندہ تھا۔ اس وقت انہوں نے ان کو متنبہ بھی کیا جب ان پر یہ آزمائش آئی۔ انہوں نے کہا تھا :
Ayahs 20:92–93

قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْۤاۙ Open ayah 20:92 in the Quran reader

موسیٰ (قوم کو ڈاٹنے کے بعد ہارون کی طرف پلٹے اور) بولے ” ہارون تم نے جب کہا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں

اَلَّا تَتَّبِعَنِ١ؕ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ Open ayah 20:93 in the Quran reader

تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو ؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی ؟

موسیٰ نے ہارون سے کہا ، اے ہارون ، جب تم نے دیکھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو ، کیا تو نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی۔ سرزنش اس بات پر ہو رہی ہے کہ کیوں آپ نے ان کو اس پرستش پر رہنے دیا کیوں نہ تم نے اس کی ممانعت کی۔ میرے صریح احکام کے مطابق کہ میرے بعد کوئی نئی بات پیدا نہ کرنا۔ نہ کسی کو کوئی نئی رسم ایجاد کرنے کی جا ازت دینا۔ اللہ تعالیٰ ان کا مواخذہ کرتے ہیں کہ تم نے میرے احکام نافذ کیوں نہ کئے ؟ کیا تم نے بھی میری نافرمان کی ؟ اس سے قبل قرآن نے فیصلہ دے دیا ہے کہ حضرت ہارون کا موقف کیا تھا۔ وہ بھائی کو حقیقی صورت حالات بتاتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ ذرا غصہ فرد کیجیے وہ بھائی چارے کا واسطہ دے کر کہتے ہیں۔
Ayah 20:94

قَالَ یَبْنَؤُمَّ لَا تَاْخُذْ بِلِحْیَتِیْ وَ لَا بِرَاْسِیْ١ۚ اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ Open ayah 20:94 in the Quran reader

ہارون نے جواب دیا ” اے میری ماں کے بیٹے ، میری داڑھی نہ پکڑ ، نہ میرے سر کے بال کھینچ ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ تو آ کر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا۔

نظر آتا ہے کہ حضرت ہارون ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے اور حضرت موسیٰ کے مقابلے میں اپنے جذبات پر قابو رکھتے تھے۔ وہ حضرت موسیٰ کے شعور میں ایک حساس یونٹ تلاش کرتے ہیں۔ برادری ایک حساس رشتہ ہے۔ اپنے خیال کے مطابق وہ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اگر میں آپ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا تو بنی اسرائیل کے اند رفرقہ بندی ہوجاتی۔ ایک گروہ بچھڑے کی حمایت میں اٹھ جاتا دوسرا میرے ساتھ ہوجاتا حالانکہ آپ کا حکم یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی حفاظت اور نگرانی رکھ اور ان میں کوئی نئی بات پیدا ہونے نہ دو ، تو ان کو انتشار سے بچانا بھی اطاعت امر ہے۔ حضرت موسیٰ کے غضب اور غصے کا رخ سامری کی طرف مڑ جاتا ہے جس نے اس فتنے کو ایجاد کیا تھا۔ اس سے پہلے حضرت موسیٰ اس کی طرف اس لئے متوجہ نہیں ہوتے کہ لوگوں کا بھی یہ فریضہ تھا کہ وہ ہر کس و ناکس کی اطاعت نہ کریں۔ پھر حضرت ہارون کی ذمہ داری آتی ہے کیونکہ وہ بھی ذمہ دار تھے کہ بچھڑے کی وپجا کرنے والوں کی راہ روکتے۔ رہے سامری تو ان کی ذمہ داری سب سے آخر میں آتی ہے کیونکہ اس نے ان کو زبردستی بچھڑے کی عبادت کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔ نہ اس نے ان کی عقل پر تالالگا دیا تھا۔ اس نے ان کو گمراہ کیا اور یہ گمراہ ہونے کے لئے تیار ہوگئے۔ ان کے بس میں یہ بات تھی کہ وہ اپنے پہلے بنی کی اطاعت کرتے ، پھر ان کا یہ فریضہ تھا کہ دوسرے نبی کی نصیحت پر عمل کرتے۔ لہٰذا اصل ذمہ داری پہلے قوم کی ہے ، پھر ان کے نگراں کی اور اس کے بعد اس شخص کی ہے جس نے یہ فتنہ پیدا کیا۔ چناچہ حضرت موسیٰ سب سے آخر میں اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
Ayah 20:95

قَالَ فَمَا خَطْبُكَ یٰسَامِرِیُّ Open ayah 20:95 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ” اور سامری ، تیرا کیا معاملہ ہے ؟

سامری تم بتائو تم نے کیا کیا اور کیوں کیا ؟ یہ لفظ بتاتا ہے کہ سامری نے کوئی بہت بڑا جرم کیا ہے۔
Ayah 20:96

قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ یَبْصُرُوْا بِهٖ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ اَثَرِ الرَّسُوْلِ فَنَبَذْتُهَا وَ كَذٰلِكَ سَوَّلَتْ لِیْ نَفْسِیْ Open ayah 20:96 in the Quran reader

اس نے جواب دیا ” میں نے وہ چیز دیکھی جو ان لوگوں کو نظر نہ آئی ، پس میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک رسی اٹھا لی اور اس کو ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سمجھایا۔

سامری کے اس جواب کی تفسیر میں کئی اقوال و روایات وارد ہیں۔ اس نے کیا چیز دیکھ لی جو اوروں نے نہ دیکھی ؟ وہ رسول کون تھے جس کے نقش قدم سے انہوں نے مٹھی لی اور پھینک دی ؟ پھر اس فعل کا بچھڑا سازی سے کیا تعلق ہے ؟ بچھڑے میں اس مٹی نے کیا اثرات کیے ؟ ان روایات میں سے بیشتر میں یہ بات ہے کہ سامری نے جبرئیل (علیہ السلام) کو اس شکل میں دیکھا جس میں وہ زمین پر اترتے ہیں ان کے قدموں کے نیچے سے اس نے خاک اٹھا لی۔ یا اس کے گھوڑے کے قدموں کے نیچے سے خاک اٹھا لی اور اسے سونے سے بنائے ہوئے بچھڑے پر ڈالا اور اس سے آواز آنے لگی۔ یا اس مٹی نے سونے کے ڈھیر سے بچھڑا بنا دیا۔ قرآن کریم نے یہاں اس حقیقت واقعہ کی وضاحت نہیں کی۔ قرآن کریم نے صرف سامری کا قول نقل کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں یہ سامری کی طرف سے عذر لنگ تھا ، اس نے یہ عذر گھڑا تاکہ اپنی اس حرکت کے نتائج سے بچ جائے۔ بچھڑا تو اس سونے سے بنایا تھا جو بنی اسرائیل مصر سے ساتھ لے آئے تھے اور پھر پھینک دیا تھا ۔ سامری نے اس انداز سے بتایا کہ ہوا اس سے ایسی آواز نکالتی تھی جیسا کہ ایک بچھڑے کی آواز آتی ہے۔ اس کے بعد اس نے رسول کے آثار کی مٹی کا ذکر کیا ۔ اس لئے کہ اپنی اس حرکت کو تقدس کا رنگ دے اور اس معاملے کا جوڑ رسول کے نقش قدم سے لگا دے۔ بہرحال حقیقت جو بھی ہو ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے جماعت بنی اسرائیل سے نکال دیا۔ پوری عمر کے لئے اسے ملک بدر کردیا اور آخرت میں اس کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس مصنوعی الہ کے معاملے میں سامری کے ساتھ سخت برتائو کیا اور الہ کے بارے میں بھی ایسا رویہ اختیار کیا تاکہ لوگ دیکھیں کہ اس الہ نے اپنے بنانے والے کو بھی کوئی مدد نہ پہنچائی۔
Ayah 20:97

قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِی الْحَیٰوةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ١۪ وَ اِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٗ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰۤى اِلٰهِكَ الَّذِیْ ظَلْتَ عَلَیْهِ عَاكِفًا١ؕ لَنُحَرِّقَنَّهٗ ثُمَّ لَنَنْسِفَنَّهٗ فِی الْیَمِّ نَسْفًا Open ayah 20:97 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ” اچھا تو جا ، اب زندگی بھر تجھے یہی پکاتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھونا اور تیرے لئے باز پرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہرگز نہ ٹلے گا اور دیکھ اپنے اس خدا کو جس پر تو ریجھا ہوا تھا ، اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے۔

جائو تم ملک بدر ہو ، تمہیں کوئی شخص بھی ہاتھ نہ لگائے گا ، نہ اچھائی سے اور نہ برائی کے ساتھ اور نہ تم کسی کے ساتھ ہاتھ لگائو گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں یہ سزائوں میں سے ایک سزا تھی۔ یہ اچھوت بنانے کی سزا تھی اور مجرم کو گندا قرار دیا جاتا تھا کہ نہ وہ کسی کو ہاتھ لگائے ، نہ اس کے ساتھ کوئی ہاتھ لگائے۔ یہ کہ تمہارے لئے باز پرس کا ایک وقت مقرر ہے ، تو اس سے مراد قیامت کا وقت جزاء و سزا ہے جس سے اگر کوئی بچنا چاہے بھی تو نہیں بچ سکتا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے بڑی سختی اور غصے میں یہ احکام دیئے کہ اس بچھڑے کو لے جا کر جلائو اور اس کی آنکھ کو پانی میں بکھیر دو ۔ سختی اور غصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مزاج کا حصہ ہے۔ یہاں ان کی یہ سختی اور غصہ صرف اللہ کے لئے ہے اور اللہ کے دین کے معاملے میں غصہ معیوب نہیں ہوتا۔ دین کے معاملے میں شدت مستحسن سمجھی جاتی ہے۔ جب سامری کا یہ الہ جلتا ہوا نظر آتا تھا ، تو اس منظر کے سامنے حضرت موسیٰ نے مناسب سمجھا کہ اسلامی عقیدے اور الہ کے بارے میں حقیقت لوگوں کو بتا دی جائے۔
Ayah 20:98

اِنَّمَاۤ اِلٰهُكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَسِعَ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا Open ayah 20:98 in the Quran reader

لوگو تمہارا خدا تو بس ایک ہی اللہ ہے ، جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ، ہر چیز پر اس کا علم حاوی ہے۔

اسلامی عقیدے کے بارے میں اس وضاحت کے ساتھ ہی اس سورة میں قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ حصہ اب ختم ہوتا ہے۔ اس قصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ حاملین دعوت اسلامی پر اللہ کی رحمتوں کی بارش ہر طرف سے ہوتی ہے۔ اگرچہ ابتداء میں ان سے کوئی غلطی بھی ہوجائے۔ اس کے بعد اس قصے کے دوسرے مراحل کو یہاں ترک کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ بنی اسرائیل نافرمانیاں کرتی ہیں ، اور ان پر ایک کے بعد ایک عذاب آتا ہے۔ چونکہ یہاں رحمت اور مہربانی اور نوازشات کا موضوع ہے اور یہ رحمتیں اللہ کے نیک بندوں پر ہوتی ہیں ، اسلئے اس قصے کی وہ کڑیاں جن میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا تذکرہ آتا ہے ، ان کا ذکر چونکہ موضوع و مضمون اور سورة کی فضا کے خلاف ہے اس لئے ان کو یہاں حذف کر کے اس قصہ کو یہاں ختم کردیا گیا ہے۔
Ayahs 20:99–102

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

اے نبی اس طر ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سناتے ہیں اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک ” ذکر “ (درس نصیحت) عطا کیا ہے

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

جو کوئی اس سے منہ موڑے گا وہ قیامت یر وز سخت بار گناہ اٹھائے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے ، اور قیامت کے دن ان کے لئے (اس جرم کی ذمہ داری کا بوجھ) بڑا تکلیف وہ بوجھ ہوگا۔

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

اس دن جبکہ صور پھونکا جائے گا اور ہم مجرموں کو اس حال میں گھیر لائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے) پتھرائی ہوئی ہوں گی۔

درس نمبر 931 ایک نظر میں سورة کے آغاز میں موضوع بحث قرآن مجید تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر اس لئے نازل نہیں ہوا کہ اس کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈالا جائے۔ اس کے بعد پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو لے کر یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں اور رسولوں کے ساتھ کس قدر رعایت کرتا ہے اور ان پر کس قدر مہربانیاں ہوتی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ ان کے بھائی اور ان کی قوم پر ہوئی تھیں۔ اس طویل قصے پر اب یہاں تبصرہ کیا جاتا ہے اور موضوع سخن پھر قرآن مجید ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ اس سے منہ پھیریں گے ، ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یہ انجام قیام کے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کر کے بتایا یا ہے کہ دنیا کے شب و روز سکڑ جائیں گے ، زمین کے اوپر سے پہاڑ اڑ جائیں گے اور یہ ننگی رہ جائے گی “ بس ایک چٹیل میدان ہوگا ، لوگ میدان حشر میں سہمے کھڑے ہوں گے اور تمام چہرے حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے اور سرنگوں ہوں گے۔ یہ منظر اور قرآن مجید کے تمام وہ مناظر جن میں لوگوں کو ڈرایا گیا ہے ، ان سے غرض وغایت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کیا جائے۔ قرآن مجید کی بحث کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ تسلی بھی دی جاتی ہے کہ آپ قرآن مجید کو نہ بھولیں گے۔ بھول کے خوف سے اس کے دہرانے میں جلدی نہ کیجیے۔ اس کی وجہ سے اپنے اوپر مصیبت نہ لائیے ، اللہ اسے آپ کے لئے آسان کر دے گا اور آپ کو حفظ کرا دیا جائے گا۔ آپ بس یہ دعا کرتے رہیں کہ اے میرے رب ، میرے علم میں اضافہ کر۔ جب وحی نازل ہونے لگتی تو نبی ﷺ وحی ختم ہونے سے پہلے ہی قرآن کی عبارت کو دہرانا شروع فرما دیتے تھے ، اس خوف سے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔ اس بارے میں ان کو تسلی دی گئی لیکن موضوع کی مناسبت سے بتایا گیا کہ آدم (علیہ السلام) اپنے عہد کو بھول گئے تھے۔ ابلیس نے انہیں بھلا دیا تھا اس لئے آدم اور ابلیس کے درمیان جدی دشمنی چلی آرہی ہے۔ اولاد آدم میں سے بعض لوگ اپنے عہد کو بھلاتے ہیں اور بعض اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس انجام کو بھی قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ گویا یہ سفر کا انجام ہے جو عالم بالا سے شروع ہوا او اس کا خاتمہ بھی عالم بالا پر جا کر ہوا۔ سورة کا خاتمہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اے رسول آپ ان لوگوں کے لئے پریشان نہ ہوں جو دعوت کی تکذیب کرتے ہیں یا اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس دنیا میں ایک محدود وقت دیا گیا ہے۔ اس محدود وقت میں ان کو جو ساز و سامان اور متاع دنیا کی وافر مقدار دی گئی ہے ، یہ ان کے لئے کوئی بہتری نہیں ہے۔ یہ تو ان کے لئے فتنہ اور آزمائش ہے۔ آپ کو یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی اور اس کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجائیں ، یوں آپ کو کسی دولت مند کی دولت سے زیادہ اطمینان حاصل ہوگا اور آپ اپنی حالت پر راضی ہوں گے۔ اس سے قبل اللہ نے بہت سی اقوام کو اسی طرح آزمائش میں ڈال کر ہلاک کیا ہے۔ اللہ نے لوگوں کی طرف نبی آخر الزمان اور آخری رسول کو بھیج کر ان پر حجت تمام کردی ہے۔ اب لوگوں کے پاس جو از ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ لہٰذا آپ ان کے انجام کے معاملے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں اور اس کو اللہ پر چھوڑ دیں اور کہہ دیں ۔ قل کل متربص فتربصوا فستعلمون من اصحب الصراط السوی ومن اھتدی (20 : 531) ” اے محمد ، ان سے کہو ، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے ، بس اب منتظر رہو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ۔ “
Ayah 20:103

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

آپس میں چپکے چپکے کہیں گے کہ ” دنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے۔

آپ پر جو قصص نازل کئے جا رہے ہیں ، یہ ماضی کے واقعات ہیں۔ قرآن میں ان کو بیان کیا جا رہا ہے۔ قرآن کو اسی لحاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ یہ قصص بھی دراصل ذکر الٰہی اور آیات الٰہی ہیں اور قرون اوٹی میں جو آیات الٰہی ظاہر ہوئیں یہ ان کا بھی ذکر ہے۔ جو لوگ اس ذکر سے منہ موڑتے ہیں ، ان کو یہاں مجرمین کے نام سے پکارا گیا ہے۔ یہاں ان کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بڑے بڑے بوجھ اٹھا رکھے ہیں ، جس طرح مسافر اپنا بوجھ اٹھا رہا ہوتا ہے۔ لیکن ان کے اس بوجھ میں ان کے لئے کوئی مفید چیز نہیں ہے۔ جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن مجرمین کے چہرے نیلے ہوجائیں گے ، یعنی خوف کے وجہ سے اور بےحد غم کی وجہ سے ان کے چہرے نیلے نظر آئیں۔ وہ چپکے چپکے ایک دوسرے سے بات کر رہے ہوں گے۔ ماحول میں چھائے ہوئے خوف اور قیامت کے ہول کی وجہ سے وہ اونچی بات نہ کریں گے۔ وہ کا بات کر رہے ہوں گے۔ وہ ان دنوں کے بارے میں ہوگی جو انہوں نے زمین پر گزارے ہوں گے۔ ان کی حس اور شعور میں دنیا کا پورا زمانہ اس قدر سکڑا ہوا اور مختصر ہوگا کہ پوری زندگی یا زمین پر پورا انسانی دور نہیں چند ایام پر مشتمل نظر آئے گا۔ ان لبشتم الا عشراً (02 : 301) ” تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے۔ “ ان میں سے جو شخص زیادہ صائب الرائے ہوگا وہ اس سے بھی کم اندازہ لگائے گا کہ صرف ایک دن کی زندگی تھی۔
Ayahs 20:104–107

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہوں گے۔ (ہم یہ بھی جانت یہیں کہ ) اس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں ، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی زندگی تھی۔

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے ؟ کہو کہ میرا رب ان کو دھول بنا کر اڑا دے گا

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ دیکھو گے۔

ان لبشتم الایوماً (02 : 301) ” تم نے صرف ایک دن زندگی بسر کی۔ “ یوم دنیا کی یہ طویل زندگیاں انہیں نہایت ہی مختصر نظر آئیں گی۔ یہاں زندگی میں لوگوں نے جو عیاشیاں کی تھیں ، وہ زندگی کے غم نظر آئیں گے اور ایک نہایت ہی مختصر زمانہ نظر آئے گا۔ قدر و قیمت کے اعتبار سے بھی حقیر زمانہ ۔ کیونکہ دس راتوں کی کیا قیمت ہے اگرچہ حد درجہ عیش و عشرت وہ ، اور ایک رات کی قدر و قیمت کیا ہے اگرچہ اس کا ایک ایک منٹ خوش بختی سے بھرا پڑا ہو۔ ان دونوں کی قدر و قیمت بمقابلہ زمانہ لامحدود اور ایام خلود کیا قیمت ہو سکتی ہے ، جس میں یہ لوگ اب حساب و کتاب کے بعد جانے والے ہیں یعنی جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ اس ہولناک منظر قیامت سے ہمیں پھر یہاں دنیا میں لایا جاتا ہے ، یہ سوال پیش ہوتا ہے کہ قیامت میں ان پہاڑوں کا کیا وہ گا۔ ان کو تو بس یہ پہاڑ بھی پڑے نظر آتے ہیں ۔ جواب میں اس وقت بھی نہایت ہی خوفناک اور ہولناک تصویر کشی کی جاتی ہے اور کہا اتا ہے تم پہاڑوں کا غم مت کرو خود اپنی فکر کرو کہ تم پر کیا گزرے گی۔
Ayahs 20:108–110

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا اور آوازیں رحمٰن کے آگے دب جائیں گی ، ایک سراسر کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس روز شفاعت کارگر نہ ہوگی ، الایہ کہ کسی کو رحمٰن اس کی اجازت دے اور اس کی بات پسند کرے ۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دوسروں کو اس کا پورا علم نہیں ہے۔

یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔ یتبعون الداعی (02 : 801) ” منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ ‘ یعنی جس طرح زمین ہموار ہوگی اس طرح ان کے دل بھی ہموار ہوں گے ، فوراً حکم کی تعمیل کریں گے۔ اس فضا میں پوری طرح خاموشی ہوگی ، نہایت ہی خوفناک خاموشی وخشعت الاصوات للرحمٰن فلا تسمع الاھمسا (02 : 801) ” اور آوازیں رحمن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ “
Ayahs 20:111–112

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

لوگوں کے سر اس حی وقیوم کے آگے جھک جائیں گے۔ نامراد ہوگا جو اس وقت کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے ہوگا اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہو گا

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو۔

وعنت الوجوہ للحی القیوم (02 : 111) ” لوگوں کے سر اس حی و قویم کے آگے جھک جائیں گے۔ “ جلال خداوندی کا خوف لوگوں پر چھایا ہوا ہوگا۔ یہ میدان جو حد نظر سے آگے پھیلا ہوا ہوگا اس پر خوف ، خاموشی چھائی ہوئی ہوگی اور لوگ اس میں سہمے کھڑے ہوں ے۔ بات دھیمی ہوگی ، سوال سرگوشی میں ، حالت سہمی ہوئی ، چہرے جھکے ہوئے اور ال لہ ذوالجلال کا ڈرا ماحول پر چھایا ہوا ہوگا۔ کوئی اس میدان میں سفارش نہ کرسکے گا مگر وہ جس کی بات اللہ کو پسند ہو۔ علم سب کا سب اللہ کو ہوگا ، کوئی دوسرا جانتا نہیں ، ظالم اپنے ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو شرمساری سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان لوگوں میں اہل ایمان بھی کھڑے ہوں گے۔ ان کو نہ یہ خوف ہوگا کہ ان پر حساب و کتاب میں ظلم ہوگا اور نہ یہ ڈر ہوگا کہ ان کے اعمال میں سے کوئی عمل رہ جائے اور اس کی حق تلفی ہوجائے۔
Ayah 20:113

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور اے نبی اسی طرح ہم نے اسے قرآن عربی بنا کر نازل کیا ہے اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات ہیں ، شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اس کی بدولت پیدا ہوں۔

یعنی ہم نے نہایت ہی موثر انداز میں شاہد قیامت ، مناظر عذاب ، اور عبرت آموز کہانیاں ابر بار پیش کی ہیں تکاہ لوگوں کے اندر نیکی کے لئے جوش پیدا ہو اور جھٹلانے والے ڈر جائیں اور جان لیں کہ قیامت میں ان کا انجام کس قدر ہولناک ہوگا۔ یہی مضمون سورة کے آغاز میں بھی تھا۔ ما انزلنا علیک القرآن لتشقی (2) الاتذکرہ لمن یخشی (02 : 2-3) ” یہ قرآن ہم نے تجھ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں گرفتار ہو جائو بلکہ یہ تو اس شخص کے لئے یاد دہانی ہے جو ڈرے۔ “ جب جبرائیل وحی لے کر آتے تھے تو ابھی وہ پوری وحی نہ سنا چکتے کہ حضور دہرانا شروع کردیتے ، اس خوف سے کہ کہیں کوئی لفظ چھوٹ نہ جائے۔ ہر نئی وحی کا یاد کرنا آپ کے لئے شاق ہوتا تھا۔ چناچہ اللہ نے آپ کو یہ اطمینان دلا دیا کہ آپ پریشان نہ ہوں ، اللہ اس کا ضامن ہے کہ آپ نہ بھولیں گے۔
Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

پس بالا و برتر ہے اللہ ، پادشاہ حقیقی ۔ اور دیکھو ، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کرو ، جب تک کہ تمہاری طرف اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے اور دعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر۔

وہ اللہ تو بہت بلند ہے جس کے سامنے چہرے جھک جاتے ہیں ، اس کی جناب میں مایوسی تو ظالموں کو ہوتی ہے اور مومنین صالحین کے لئے تو وہاں اطمینان ہی اطمینان ہے۔ وہ بلندیوں سے اس قرآن کو بھیجتا ہے۔ آپ اس کے دہران میں جلدی نہ کریں۔ قرآن کے نزول میں گہری حکمت ہے۔ اس حکمت اور مقصد کو لازماً پورا کیا جائے گا۔ پس آپ رب تعالیٰ سے زیادتی علم کی دعا کرتے رہیں اور جو کچھ آپ کو دیا جا رہا ہے اس کے بارے میں مطمئن ہوجائیں۔ اس کے بارے میں یہ پریشانی نہ دکھائیں کہ وہ تجھ سے چلا جائے گا۔ علم تو وہ ی ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ وہ باقی ہے ، وہ ہمیشہ نفع دیتا رہے گا ، قائم رہے گا ، پھلتا پھولتا رہے گا اور کبھی ضائع نہ ہوگا۔ اسی مناسبت سے یعنی علم و نسیان علم کے مضمون کی مناسبت سے ، یہاں قصہ آدم آتا ہے۔ آدم سے کہا گیا تھا کہ جنت میں رہو اور ایک درخت کے قریب نہ جائو۔ وہ شیطان کے اس دھوکے میں آگئے کہ یہ تو شجرۃ الخلد ہے۔ اس لئے انہوں نے اسے چکھ لیا ۔ خلافت فی الارض عطا ہونے سے قبل یہ رب تعالیٰ کی طرف سے ان کی آزمائش تھی اور یہ تجربہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو اس لئے کرایا کہ بعد میں آنے والے انسانوں کے لئے عبرت ہو۔ جب یہ آزمائش ہوگئی تو اللہ کی رحمت آگئی ، آدم کو اٹھا لیا گیا اور ان کو راہ راست دکھا دی گئی۔ قرآنی قصص جہاں جہاں بھی آتے ہیں ، سیاق کلام میں ان کے لانے کا ایک خاص مقصد ہوتا ہے۔ یہ قصہ یہاں اس واقعہ کے بعد آتا ہے کہ جب رسول اللہ وحی الٰہی کے اخذ میں نسیان کے خوف کی وجہ سے جلدی کرتے تھے۔ یہاں قصہ آدم میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ آدم سے یہ غلطی بھول کی وجہ سے ہوئی۔ نیز سورة کا پورا مضمون یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن بندوں کو دعوت اسلامی کیل ئے منتخب کرتا ہے ان پر اس کی خصوصی نظر ہوتی ہے اور ان پر رحم و کرم کی بارشیں ہوتی ہیں۔ یوں یہ بتایا جاتا ہے کہ آدم سے بھول ہوگئی تو اللہ نے ان پر رحمت کی اور ہدایت دی۔ اس کے بعد قیامت کے مناظر میں سے ایک جھلکی آتی ہے کہ جس میں اطاعت شعاروں کا حال بتایا جاتا ہے۔ نیز نافرمانوں کا حال بھی یعنی آدم زمین پر اترتے ہیں اور قیام کے بعد پھر اصل مقام پر جا کر حساب و کتاب پیش کرتے ہیں۔ اس قصے کا آغاز یوں ہوتا ہے :
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

ہم نے اس سے پہلے آدم کو ایک حکم دیا تھا ، مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا۔

آدم (علیہ السلام) کو حکم یہ تھا کہ وہ جنت کا ہر پھل کھائیں مگر ایک خاص درخت کا پھل نہ کھائیں۔ انسان کی تربیت اور اس کی قوت ارادی کو جانچنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے بعض چیزوں کی ممانعت کردی جائے تاکہ اس کی شخصیت پختہ ہو۔ یہ انسانی خواہشات اور مادی میلانات پر وہ کنٹرول کرسکے تاکہ وہ جب روحانی ترقی کے لئے اپنی ضروریات مادی کو کم کرنا چاہے تو کم کرسکے۔ وہ مرغوبات اور خواہشات کا غلام بن کر نہ رہ جائے۔ یہ وہ معیار ہے جو انسانی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ دنیا میں جن اقوام نے بھی ترقی کی ہے وہ ایسی رہی ہیں کہ انہوں نے اپنے نفس پر ضبط کیا ہے۔ ان کے مرغوبات کے استعمال میں اعتدال ہوتا ہے اور خواہشات سے وہ بلند رہے ہیں۔ انسانی تاریخ میں جب کوئی قوم بندہ مرغوبات اور دلدادہ لذات بنی ہے ، وہ روحانی اعتبار سے گر کر حیوانی درجہ تک جا پہنچی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اللہ نے انسان اول کو اس آزمائش میں ڈالا کیونکہ اس کو منصب خلافت ارضی کے لے تیار کرنا تھا کیونکہ یہاں انہی انسانوں نے کامیاب زندگی بسر کرنی تھی جو مضبوط قوت ارادی کے مالک ہوں۔ وہ لوگ جو شیطانی چمک دمک اور شیطانی وسواس اور مرغوبات کے حصول اور فراوانی کے مقابلے میں ضبط نفس کرسکتے ہیں۔ یہ تھا انسان کا ، پہلے انسان کا پہلا تجربہ۔ اب نتیجے کا اعلان ہوتا ہے۔ فنسی ولم ندلہ عزماً (02 : 511) ” وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا۔ “
Ayah 20:116

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ وہ تو سب سجدہ کر گئے مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھا۔

جہاں یہ قصہ اجمالاً بیان ہوتا ہے۔ دوسری جگہ اس کی تفصیلات ہیں کیونکہ یہاں اس قصے کا صرف وہ پہلو دکھانا ہے جو انبیاء پر انعامات کا ہے۔ لہٰذا انعام کا پہلو جلدی بیان کرنے کے لئے یہ اجمال و اختصار ہے۔