Ayah 20:117اللہ کی مہربانیوں اور عنایات میں سے ایک عنایت یہ تھی کہ اللہ نے حضرت آدم کو قبل از وقت بتا دیا تھا کہ شیطان تمہیں ستاتی ہے۔ “
اللہ کی مہربانیوں اور عنایات میں سے ایک عنایت یہ تھی کہ اللہ نے حضرت آدم کو قبل از وقت بتا دیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے کیونکہ اس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ حالانکہ اس سجدے کا حکم اللہ نے خود اس کو دیا تھا۔ اشاراتاً پہلے ہی تخلیق آدم کا منصوبہ بھی بتا دیا تھا۔
فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقی (02 : 811) ” ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنت سے نکلوا دے اور تم مصیبت میں پڑ جائو۔ “ کیونکہ جنت سے نکل کر انسان کو مشقت ، جدوجہد ، بدعملی ، گمراہی ، پریشانیوں ، حیرانیوں ، شوق اور انتظار ، رنج اور محرومی سے دوچار ہوناپڑا۔ اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہوگی ، یہ سب چیزیں جنت سے باہر انسان کے انتظار میں تھیں۔ جب تک آدم جنت میں تھے ان مشقتوں اور مصیبتوں سے محفوظ تھے۔
Ayahs 20:118–119ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری (811) وانک لا تظموا فیھا ولا تضحی (02 : 811-911) ” نہ بھوکے اور نہ ننگے رہو ، نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستائے۔ “ جب تک تم جنت میں ہو گے یہ سب سہولتیں تمہیں حاصل ہوں گی۔ بھوک اور لباس کی نایابی ، پیاس اور دھوپ کے بالمقابل ہیں لفظاً اور معناً یہ وہ مجموعہ ضروریات ہے جو ہر انسان کو اس زمین پر مشقت میں ڈالتا ہے۔
لیکن آدم ، جنت میں زندگی کی ٹھوکروں سے دوچار نہ ہوئے تھے ، تجربات نہ تھے۔ انسانی کمزور ساتھ تھی ، بقائے دوام کی خواہش انسان کی بڑی کمزوری ہے۔ پھر بقائے دوام کے ساتھ اقتدار مستحکم اس کے سوا انسان کو اور کیا چاہئے۔ چناچہ شیطان اس دروازے سے اس کے اندر آتا ہے۔
Ayah 20:120شیطان نے انسان کی نہایت ہی حساس رگ پر ہاتھ رکھا۔ انسانی عمر بہرحال محدود ہے۔ انسانی قوت بہرحال محدود ہے۔ انسان طویل زندگی اور طویل اقتدار کا بےحد دلدادہ رہا ہے۔ ان دونوں راستوں سے شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ آدم بہرحال انسان تھے۔ آدم انسانی فطرت اور انسانی کمزوری کے حامل تھے۔ پھر اس تجربہ کے ساتھ دنیا کے منصوبے اور نظام تقدیر کا بھی تعلق تھا۔ چناچہ آدم بھول گیا اور اس نے ممنوعہ علاقے میں قدم رکھ لیا۔
Ayah 20:121بظاہر مفہوم یہ ہے کہ انسان کی مخصوص شرمگاہیں مراد ہیں جو ان سے پوشیدہ تھیں۔ دونوں کے جسم میں عفت ، کے مقامات چناچہ انہوں نے اپنے فطری شرم و حیا کی وجہ سے ان مقامات کو چھپانا شرع کیا اور ان پر جنت کے پتے لپیٹنے لگے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس درخت کے پھل کھانے کے نتیجے میں ان کے اندر جنسی احساس پیدا ہوگیا ہو کیونکہ جب تک کسی انسان میں جنسی احساس پیدا نہ ہو انسان کو شرم و حیا کا احساس نہیں ہوتا۔ انسان کو ان چیزوں کی طرف توجہ تب ہوتی ہے جب جنسی خواہش پیدا ہو۔
ہو سکتا ہے کہ اللہ نے آدم و حوا پر اس مخصوص درخت کا پھل کھانا اس لئے منع کردیا ہو کہ اس کے نتیجے میں انسان کی جسمانی خواہشات نے پیدا ہونا تھا اور اللہ نے اپنے منصوبے کے مطابق ان کو موخر کیا وہا تھا۔ آدم سے نسیان کا صدور اسلئے بھی ہوگیا کہ اس کے تعلق باللہ میں کمی آگئی اور ان پر جسمانی خواہشات کے غلبے کی وجہ سے جنسی نظام پیدا ہوگیا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کا جذبہ خلود جنسی خواہشات کی شکل میں اس درخت کی وجہ سے نمودار ہوگیا ہو کہ اگرچہ اس میں ایک فرد تو خلود نہیں پاتا لیکن نوع انسانی کی بقا تو اسی میں موجود ہے۔ یہ سب تشریحات اس حقیقت کے ہوتے ہوئے معقول نظر آتی ہیں کہ اس پھل کے کھانے سے ان کی شرمگاہیں کھل گئیں۔ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ
فبدت لھما سواتھما (02 : 121) ” ان کی شرمگاہیں کھل گئیں۔ “ بلکہ یہ کہا ہے۔
فبدت لھما سواتھما (02 : 121) ” ان پر ان کی شرمگاہیں کھل گئیں۔ “ مطلب یہ ہے کہ ان کو ان کا احساس ہی نہ تھا۔ یہ پھل کھاتے ہی ان کو اس انسانی داعیہ کا احساس ہوگیا۔ دوسری جگہ قرآن مجید نے اس حقیقت کی تعبیریوں کی ہے۔
لبیدی لھما ما ووری عنھما من سواتھما ” تاکہ ظاہر کر دے ان پر وہ چیز جو ان کی شرمگاہوں سے ہم نے خود ان سے چھپا رکھی تھی۔ “ اور دوسری جگہ ہے۔
ینزع عنھما لباسھا لیریھما سواتھما ” ان سے ان کے ستر اتار دیئے تاکہ وہ دکھائے ان کو ان کی شرمگاہیں۔ “ یہ مفہوم لیا جاسکتا ہے کہ وہ ان کے عدم شعور کی وجہ سے ستر تھا۔ لباس سے مراد پاکدامنی ، طہارت اور اللہ کے ساتھ تعلق کا لباس بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال یہ مختلف تفسیری مفروضے ہیں ہم ان میں کسی ایک پر زور نہیں دیتے اور نہ کسی ایک کو ترجیح دیتے ہیں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ انسان کی زندی کے اس پہلے انسانی تجربے کی صحیح صورت کا تعین کیا جائے۔
اس کے بعد آدم (علیہ السلام) اور آپ کی اہلیہ کو اس لغزش کے بعد اللہ کی رحمت نے ڈھانپ لیا کیونکہ یہ انسانیت کا پہلا تجربہ تھا۔
Ayah 20:122اور یہ اس وقت ہوا جب آدم نے اللہ سے مغفرت طلب کی ، ندامت کا اظہار کیا اور عذم پیش کیا اور ان باتوں کا یہاں ذکر نہیں کیا گیا تاکہ یہاں صرف رحمت خداوندی ہی نظر آئے۔
اس کے بعد اب دونوں فریقوں آدم و ابلیس کو حکم ہوا کہ زمین پر اترو ، تم ایک دوسرے کے سخت دشمن ہو ، تمہارے درمیان اب ایک طویل معرکہ ہوگا۔ یہ تو تمہارے معرکہ کی پہلی باری تھی۔
Ayah 20:123یوں مخلوق خداوندی کے ان دو گروہوں کے درمیان عداوت ہوگئی اس لئے اب اولاد آدم یہ عذر پیش نہیں کرسکتی کہ مجھے تو خبر نہ تھی کہ شیطان ہمارا دشمن ہے۔ میں تو بیخبر ی میں مارا گیا ۔ اسی لئے انسان کو ، قبل از وقت پوری طرح خبردار کردیا گیا اور پوری کائنات میں اعلان کردیا یا کہ :۔
بعضکم لبعض عدو (02 : 321) ” تم دونوں فریق ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ “ یہ اعلان جس سے پوری کائنات گونج اٹھی جس پر تمام فرشتے گواہ ٹھہرے ، اللہ کی رحمت کا تقاضا پھر وہا کہ انسان کی ہدایت اور اسے یاد دہانی کرانے کے لئے وقتاً فوقتاً رسول بھیجے جائیں۔ چناچہ دشمن کا اعلان ہوا اور پھر فرمایا کہ رسول بھی آئیں گے اور اس کے بعد تمہیں آزادی ہوگی کہ تم کون سی راہ اختیار کرتے ہو۔
یہ منظر اس قصے کے بعد آتا ہے یوں کہ شاید یہ اس قصے کا حصہ ہے۔ درحقیقت اس کا اعلان بھی عالم بالا میں واقعہ آدم و ابلیس کے بعد ہوا۔ لہٰذا یہ اس پوری کائنات کیلئے زمانہ قدیم سے طے شدہ اصول ہے۔ یہ نہ واپس لیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی ترمیم ہو سکتی ہے۔
فمن اتبع ھد ای فلا یضل ولایشقی (02 : 321) ” تو جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بدبختی میں مبتلا ہوگا۔ “ وہ گمراہی اور مصیبت سے محفوظ ہوگا ، میری ہدایت کی پیروی کی وجہ سے گمراہی اور مصیبت جنت کے دروازے کے باہر بڑی بےتابی سے تمہارے انتظار میں ہیں لیکن جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ ان سے بچا رہے گا اور مصیبت دراصل گمراہی کا پھل ہے۔ اگرچہ گمراہ شخص دنیاوی ساز و سامان میں غرق ہو ، یہ ساز و سامان بھی ایک گمراہ کے لئے بڑی مصیبت ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی مصیبت اور آخرت میں بھی مصیبت ، دنیا میں حرام کی روزی جس قدر بھی وافر ہو ، اس کے نتیجے میں انسان کی زندگی میں تلخیاں اور مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ انسان جونہی اللہ کی رہنمائی سے نکلتا ہے وہ اندھیروں میں داخل ہوجاتا ہے ، ادھر ادھر ٹامک ٹوئایں مارتا ہے ، قلق اور پریشانی اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ کبھی ادھر بھاگتا ہے ، کبھی ادھر بھاگتا ہے ، اس کی زندگی واضح طور پر غیر متوازن ہوجاتی ہے۔ غرض مصیبت ایک گمراہ شخص کے ساتھ ہوتی ہے ، اگرچہ وہ عیش و عشرت میں ہو۔ اس کے لئے بہت بڑی بدبختی دار آخرت میں انتظار کرتی رہتی ہے اور جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے وہ دنیا میں بھی گمراہی اور مصیبت سے مکمل طور پر نجات پاتا ہے اور آخرت میں تو وہ جنت الفردوس میں ہوگا۔ صرف یوم موعود آنے کی دیر ہے۔
Ayah 20:124ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا (02 : 321) ” اور جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا ، اس کے لیء دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ “ وہ زندگی جس میں اللہ سے رابطہ نہ ہو اور جس پر اللہ کی رحمت نہ ہو ، وہ تنگ ہوگی ، اگرچہ بظاہر وہ بہت ہی وسیع ہو۔ یہ تنگ اس لئے ہوگی کہ اس کا رابطہ اللہ کی طرف سے کٹا ہوگا اور اللہ کی رحمت کے میدان کی طرف وہ راہ نہ پائے گی۔ اس میں حیرانی پریشانی اور بےیقینی کی تنگی ہوگی۔ اس میں حرص اور خوف کی تنگی ہوگی۔ ڈر اس بات پر کہ جو ہے وہ چلا نہ جائے۔ غرض اس بات پر کہ ھل من مزید یوں تنگی ہوگی کہ جہاں سے نفع کی معملوی امید ہو انسان اس کے پیچھے بھاگتا رہے گا اور اگر ایک کوڑی بھی کہیں نقصان ہوجائے ، مر جائے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اطمینان وقرار صرف اللہ کے ہاں ملتا ہے۔ اسے سکون و اعتماد تب ہی ملے گا جب اس نے مضبوط رسی پکڑی ہوگی جس کے ٹوٹنے کا کوئی خطرہ نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان اطمینان کو طویل و عریض ، گہرا اور اونچا بنا دیتا ہے۔ ہمہ جت وسعتیں ہوتی ہیں اور جو اس سے محروم ہوجائے اسے ہمہ جہت مصیبت کا شکار ہونا پڑتا ہے۔
غرض خلاصہ یہ ہے کہ جو میرے اس ذکر اور نصیحت سے منہ موڑے گا تو اس کے لئے اس دنیا میں تنگ زندگی ہوگی۔ (اور قیامت کے دن ہم اسے اندھا اٹھائیں) ۔
ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی (02 : 321) قیامت کے دن اندھا ہونا بھی دنیا کے اندھے پن کی طرح ایک گمراہی ہے۔ یہ اس لئے ہوگا کہ اس دن دنیا میں ہدایت کے مقابلے میں اندھے پن کا اظہار کیا تھا اور وہ وہاں پوچھے گا۔
Ayah 20:125قال رب لم حشر تنی اعمی وقد کنت بصیراً (02 : 521) ” پروردگار دنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا ، یہاں مجھے اندھا کیوں اٹھایا۔ “ تو جواب آئے گا۔
Ayahs 20:126–127ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو جبکہ وہ تمہارے پاس آئی تھیں تو نے بھلا دیا تھا اسی طرح تو آج بھلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو دنیا میں بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔ “ جو شخص اللہ کی آیات سے منہ موڑتا ہے وہ اسراف کرتا ہے کیونکہ ہدایت اس کے قبضے میں ہوتی ہے اور وہ قیمتی دولت ہے اور یہ اسے پرے پھینک دیتا ہے۔ نیز وہ اپنی نظر کو غلط کاموں میں صرف کرتا ہے اور اس سے ان آیات کو نہیں دیکھتا جو اللہ تعالیٰ نے بھیجی ہیں ، لہٰذا اس کی معیشت بھی تنگ ہوگی اور قیامت میں وہ اندھا بھی ہوگا۔
یہاں تعبیر اور تصویر کشی میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ جنت سے اترنا اور بدبختی اور گمراہی میں پڑنا اس کے مقابلے میں جنت کی طرف واپسی اور گمراہی اور مصیبت سے نجات۔ دنیا میں کشیادگی رزق اور اس کے مقابلے میں تنگ معیشت ، ہدایت کے مقابلے میں اندھا وہنا اور راہ نہ پانا۔ یہ تمام باہم مفہم قصہ آدم و قصہ بشریت کے ضمن میں ہیں جو پوری بشریت کی کہانی ہے۔ چناچہ اس منظر کا آغاز بھی مثبت ہے اور اختتام بھی جنت میں ہوتا ہے اور یہی انداز تعبیر سورة اعراف میں بھی ہے۔ مگر تعبیرات میں تصویر کشی کا انداز ، موقعہ و محل کے اعتبار سے دونوں سورتوں میں مختلف ہے۔
یہ تو تھا جنت کا ایک منظر اب اس دنیا میں زمانہ مضای قریب کی ہلاک شدہ اقوام کے واقعات کی طرف اشارہ۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کو آنکھیں دیکھ سکتی ہیں اور جن کے آثار اب تک موجود ہیں ، جبکہ جنت کے مناظر نظروں سے اوجھل عالم غیب میں تھے۔ نظریں ان کے آثار کو نہیں دیکھ سکتیں۔
Ayah 20:128جب انسان اپنے دل و دماغ کو زمانہ ماضی کی ہلکا شدہ اقوام کی تاریخ پر مرکوز کرتا ہے اور ان کے کھنڈرات کو ، وادیوں اور پہاڑیوں میں دیکھتا ہے تو اگرچہ یہ لوگ کب کے ہلکا ہوگئے ہیں لیکن ان کی بڑی بڑی شخصیات ، ان کی بھاگتی ہوئی شکلیں ، ان کی حرکات و سکنات ، ان کی امنگیں اور آرزوئیں ، ان کی پریشانیاں اور ان کے منصوبے انسان کے ذہن کو بھر دیتے ہیں او انسان جب تک آنکھیں بند کر کے محض تصور ہی کرے تو یہ پوری دنیا ہمارے ذہن کی اسکرین پر بھی نظر آتی ہے اور جب انسان اچانک آنکھ کھولے تو نظر آتا ہے کہ ماضی کی عقوبت نے ان سب بستیوں کو ہڑپ کرلیا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ دست قدرت نے کس طرح ان لوگوں کو اور ان تہذیبوں کو نیست و نابود کردیا ہے۔ اس طرح زمانہ حال کے ان غافلوں کو بھی دست قدرت نابود کرسکتا ہے۔ یوں اس طرز تصور سے اس آیت کا مفہوم اور قرآن کا انداز بیان اور عبرت آموزی اچھی طرح انسان کے ذہن میں آجاتی ہے۔ تعجب ہے کہ لوگ کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے حالانکہ ان کھنڈرات میں تو عبرت کے بہت بڑے سامان ہیں بشرطیکہ عقل سلیم ہو۔
اگر اللہ نے پہلے سے فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور یہ بات اللہ کی خاص حکمت کے تحت طے نہ ہوگئی ہوتی تو اللہ اہل قریش کو بھی بعینہ اسی طرح نیست و نابود کردیتا اور یہ بھی نمونہ عبرت بن جاتے لیکن ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت مل چکی ہے۔
Ayah 20:129ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاماً واجل مسمی (02 : 921) ” اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بطے نہ کردی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدت مقرر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور ان کا بھی فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ “ اگرچہ یہ لوگ ایک وقت مقررہ تک مہلت پا چکے ہیں لیکن ان کو یونہی نہیں چھوڑ دیا گیا۔ ان کو جو شان و شوکت اور جو زیب وزینت دی گئی ہے آپ اس کے ذمہ دار نہیں۔ یہ ان کے لئے سخت آزمائش ہے اور یہ ان کے لئے بہت بڑا فتنہ ہے۔ اللہ نے جو کچھ تجھے بطور انعام دیا ہے۔ وہ ان کے اس فتنے کے طور پر دیئے ہونے سے بہتر ہے۔
Ayah 20:130یہ لوگ کفر اور مذاق اور سرکشی اور اعراض کرتے ہوئے جو کچھ بھی کہتے ہیں اس پر آب پریشان نہ ہوں اور نہ اپنی جان ان کے لئے کھپائیں ، پس اب ان پر حجت تمام ہے کہ آپ صبح و شام رب کی عبادت کریں۔ صبح کے پرسکون وقت میں خدا کی یاد اور غروب آفتاب کے وقت کے سکون میں خدا کی یاد جس وقت ، یہ پوری کائنات آنکھیں بند کرتی ہے اور رات اور دن کے دو پرسکون اطراف میں خدا کی یاد ، دلوں کو بہت سکون فراہم کرتی ہے اور اللہ کی رضامندی کا باعث ہوتی ہے۔
اللہ کی تسبیح وثنا سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور اللہ کے قریب سے حاصل ہوتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو نہایت ہی اطمینان بشخ اور فرحت بخش ذات کی رفاقت میں محسوس کرتا ہے اور اس کے دامن رحمت میں مامون ہوتا ہے۔ تسبیح و عبادت کا پھل تو رضائے الٰہی ہے لیکن اس سے قبل مومن میں اندر سے سکون و اطمینان اگتا ہے اور طمانیت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ یہ اس فعل کا نوری انعام ہے۔ اے محمد ﷺ عبادت کرتے ہوئے اللہ کی طرف متوجہ ہو جائو اور ولاتمدن عیینک الی مامتعنا بہ ازوجاً منھم (02 : 131) ” اور نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو ، دنیوی زندگی کی اس شان و شوکت کو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔ “ دنیا کا ساز و سامان ، سامان آرائش و زیبائش ، مال و متاع ، جاہ و متاع۔ جاہ و مرتبہ ، زھرۃ الحیوۃ الدنیا (02 : 131) ” حیات دنیا کا پھول “ یہ زندگی اس طرح نمودار ہوتی ہے جس طرح کسی پودے پر نرم و نازک پھول ، چمکدار ار دلکش ، لیکن پھول سریع الزوال شام تک مرجھا جانے والا ، اگرچہ بہت ہی دلکش ، ہم ان کو زندگی کا یہ سریع الزوال شام تک مرجھا جانے والا ، اگرچہ بہت ہی دلکش۔ ہم ان کو زندگی کا یہ سریع الزوال پھول دے کر آزماتے ہیں ، دیکھتے ہیں کہ اس پھول کے ساتھ یہ لوگ کیا سلوک کرتے ہیں۔
Ayah 20:131ورزق ربک خیر و ابقی (02 : 131) ” اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق ہی اچھا اور پائندہ ہے۔ “ اللہ کا دیا ہوا رزق ایک نعمت ہوتی ہے ، آزمائش نہیں۔ رزق حلال اچھا ہوتا ہے اور باقی رہتا ہے وہ دھوکہ بھی نہیں دیتا اور فتنہ بھی پیدا نہیں کرتا۔
یہ حیات دنیا کو چھوڑ دینے کی دعوت نہیں ہے لیکن اس میں یہ پیغام ضرور ہے کہ حقیقی اور پائیدار اقدار کو اہمیت دو ، اور یہ پائیدار اقدار تعلق باللہ اور اللہ کی رضامندی میں ہیں۔ لوگوں کو دنیا کے ساز و سامان کے آگے گر نہیں جانا چاہئے۔ ہم کہیں اعلیٰ اقدار پر فخر کرنے کی صفت کو گم ہی نہ کردیں۔ دنیا کا وہ ساز و سامان جو نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے۔ یہ کہیں تمہاری نظر بلند کو پست نہ کر دے۔ اس کے مقابلے میں سربلند رہنا۔
Ayah 20:132وامر اھلک بالصلوۃ (02 : 231) ” اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو۔ “ ایک مسلمان کا پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کو ایک مسلمان کا گھر بنائے۔ اپنے اہل و عیال کو وہ فریضہ ادا کرنے پر ابھارے جو اسے اللہ سے مربوط کرتا ہے تاکہ اس کے گھر میں یکجہتی پیدا ہو اور کیا ہی خوش نصیب ہوگا وہ گھر جس کے اندر پوری یکجہتی ہو۔
و اصطبرعلیھا (02 : 231) ” اور خود بھی اس کے پابند رہو۔ “ نماز کو پ وری طرح قائم کرو۔ اس کے آثار اپنے اندر پیدا کرو ، بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے بچاتی ہے۔ یہ ہیں نماز کے صحیح آثار۔ جب کوئی گھرانا نماز پر جم جاتا ہے تو اس سے پھر یہ آثار پیدا ہوتے ہیں ، اس کے شعور میں اور اس کے ہر طرز عمل میں۔ اگر نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے تو قائم شدہ نماز نہیں ہے۔ یہ محض حرکات و کلمات ہیں۔
یہ نماز ، یہ عبادت ، یہ اللہ سے رابطہ اور یہ فرائض اللہ کے لئے مفید نہیں ، اللہ تو ان سے غنی ہے ، ان کا اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔
لانسئلک رزقا نحن نرزقک (02 : 231) ” ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے ، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں۔ “ یہ عبادات تو اس لئے ہیں کہ تمہارے دل میں خدا کا خوف پیدا ہو۔ تمہیں دے رہے ہیں۔ “ یہ عبادات تو اس لئے ہیں کہ تمہارے دل میں خدا کا خوف پیدا ہو۔
والعاقبۃ للتقویٰ (02 : 231) ” اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لئے ہے۔ “ انسان ان عبادات سے دنیا میں بھی مفاد اٹھاتا ہے اور آخرت میں بھی۔ وہ عبادت کرتا ہے تو خود بھی خوش ہوتا ہے۔ مطمئن ہوتا ہے سکون حاصل کرتا ہے اور آخرت میں ان عبادات کا اجر بھی اسے ہی ملتا ہے۔
اب آخر میں ان اہل ثروت اور با اثر لوگوں پر ایک تبصرہ آتا ہے جو حضرت نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ کوئی خارق عادت معجزہ پیش کریں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ کیا یہ قرآن تمہارے لئے کافی نہیں۔
Ayah 20:133یہ تو ہٹ دھرمی اور مکابرہ ہے۔ محض سوال کرنے کی خاطر یہ سوال کیا گیا ، ورنہ قرآن کا معجزہ کیا کافی معجزہ نہیں ہے۔ قرآن موجودہ رسالت کا جوڑ زمانہ ماقبل کی رسالتوں سے لگاتا ہے۔ وہی تعلیمات پیش کرتا ہے ، جو پہلے رسولوں نے پیش کی ہیں بلکہ جن باتوں کا وہاں اجمال تھا یہاں ان کی تفصیل دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو تو بطور اتمام حجت بھیجا ہے۔
Ayah 20:134یہ لوگ اس وقت ذلیل اور رسوا نہیں ہوئے تھے جب ان پر قرآن کی یہ آیات پڑھی جا رہی تھیں بلکہ یہ تو ان کے فیصلہ شدہ انجام کی ایک تصویر کشی ہے جس میں وہ لازماً رہیں گے۔ یہ آیات ان پر بطور اتمام حجت آگئیں تاکہ وہ قیامت کے دن ایسا نہ کہہ سکیں اور ان کے لئے کوئی عذر و معذرت باقی نہ رہے کہ ہمارے لئے کوئی پیغام نہیں آیا۔
جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کا حتمی انجام یہ ہے کہ یہ ذلیل اور رسوا ہونے والے ہیں تو قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ، ان کا فیصلہ تو ہوچکا ہے۔
حف القلم بما ھو کائن پریشان نہ ہوں کہ یہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ اعلان کردیں کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظار کرتا ہوں۔
Ayah 20:135یوں اس سورة کا خاتمہ ہوتا ہے جس کا آغاز اس فقرے سے ہوا تھا کہ اے نبی آپ پر یہ قرآن اس لئے نازل نہیں کیا گیا کہ آپ کسی مصیبت میں گھر جائیں بلکہ یہ ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جن کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ چناچہ سورة کا یہ خاتمہ بھی آغاز سے ہم آہنگ ہے کہ یہ ادنی تذکرہ ہے۔ اس شخص کے لئے جسے کوئی تذکرہ فائدہ دیتا ہو۔ جب یہ تذکرہ تم تک پہنچ گیا تو اب انتظار نتیجہ کے سوا کیا بات رہ جاتی ہے اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔