Ayahs 21:1–3سورة الانبیآء مکیۃ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اقترب للناس۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واھلکنا المسرفین (1 : 9)
یہ نہایت ہی زور دار آغاز ہے ‘ کسی بھی غافل شخص کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے کہ حساب سر پر ہے اور لوگ غفلت اور لاپرواہی میں بیٹھے ہیں۔ بڑی بےتابی سے رسول ان کے سامنے آیات الہیہ پیش کررہے ہیں اور وہ منہ موڑ کر دوسری جانب جارہے ہیں۔ فوراً چوکنا ہونے کی ضورت ہے اور یہ لوگ ہیں کہ خطرے کا شعور بھی نہیں رکھتے بلکہ جب بھی ان کو متنبہ کرنے کی نئی کوشش کی جاتی ہے یہ مذاق کرتے ہیں اور دعوت کو غیر اہم سمجھ کر کھیل میں لگ جاتے ہیں۔
لاھیۃ قلو بھم (12 : 3) ” ان کے دل غافل ہیں “۔ ان کے دل و دماغ اور شعور و وجدان کے تار بالکل خاموش ہیں۔ ان کے اندر کوئی نغمہ نہیں ہے۔ یہ ان شخصیات کی تصویر کشی ہے جو غایت درجہ لاابالی ہیں اور سنجیدگی ان میں مفقود ہے ‘ جو نہایت ہی خطرناک مقامات پر بھی غیر سنجیدہ رہتے ہیں ‘ جو نہایت محتاط رہنے کے مقام پر بھی گپ لگاتے ہیں ‘ نہایت ہی مقدس موقف اور مقدس مقام میں بھی گندگی گراتے ہیں۔ یہ قرآن جو ان کو منایا جارہا ہے ‘ یہ تو رب ذوالجلال کی طرف سے ایک پیغام ہے اور یہ اس سے لاپرواہ ہیں۔ کوئی وقار ‘ کوئی پاکیزگی ان میں نہیں ہے۔ جن لوگوں میں سنجیدگی ‘ وقار ‘ پاکیزگی ‘ جدت نظر نہیں ہوتی وہ آخرکار اس قدر ہلکے ‘ خشک ہوجاتے ہیں اور اس طرح ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں کہ وہ کسی اونچے مشن یا اہم فرائض کی ادائیگی اور بھاری بوجھ اٹھانے کے قابل ہی نہیں رہتے۔ ان کی زندگی ڈھیلی ‘ ان کے اخلاق گرے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کی اقدار ارزاں ہوتی ہیں۔ ایسے لوگوں میں ایک قسم کی بےباکی پیدا ہوجاتی ہے او وہ مقدس سے مقدس قدر کو بھی ہلکا سمجھتے ہیں۔ یہ شتر بےمہار ہوتے ہیں ‘ کس یدستور اور ضابطے کے پابند نہیں ہوتے۔ اور ان کو خیر و شر کا شعور ہی نہیں رہتا۔
اس قسم کے لوگ اس قرآن مجید کو سنجیدگی سے نہ لیتے تھے حالانکہ یہ قرآن مجید تو دستور حیات ‘ نظام زندگی ‘ نظام عمل ‘ نظام معاملہ تھا۔ اس کو سنجیدگی سے دیکھا چاہیے تھا لیکن ان لوگوں نے اسے نہایت ہی لا بالی پن سے ایک ستر بےمہار شخص کی طرح غفلت سے لیا اور مذاق کرنے لگے ۔ ایسے لوگ ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں۔ جب روح انسان اس طہارت اور اقدا کے اس تقدس کو خیر باد کہہ دے تو پھر معاشرہ مریض انسان پیدا کرتا ہے ‘ ستر بےمہار انسان پیدا کرتا ہے ‘ لا ابالی انسان پیدا کرتا ہے ‘ جن کا نہ کوئی مقصد ہوتا ہے اور نہ وہ کسی چیز کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان نے اس سورة کو اس سندیگی ‘ اور اس اہمیت سے لیا کہ ان کے دل دنیا ومافیہا سے بےنیاز ہوگئے۔ ترجمہ آمدی میں عامر ابن ربیعہ کا یہ واقعہ آیا ہے کہ ان کے پاس عرب کا ایک آدمی آیا۔ اس نے ان کی بڑی قدر و منزلت کی اور عزت سے ٹھہرایا۔ اس کے بعد وہ شخص دوبارہ عامر کے پاس آیا۔ اس وقت اسے زمین الاٹ ہوچکی تھی اور کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سرزمین عرب کی ایک پوری وادی بطور جاگیر الاٹ کرالی ہے ‘ میں چاہتا ہوں کہ اس میں سے ایک ٹکڑا تمہیں دے دوں تاکہ وہ تمہیں اور تمہارے بعد تمہاری اولاد کے کام آئے۔ اس پر عامر نے کہا ‘ مجھے تمہاری اس جاگیر میں کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ آج ایک سورة نازل ہوئی ہے ‘ اس نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اب دنیا میں ہماری کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔
اقترب للناس۔۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 1) ” قریب آگیا ہے ‘ لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں “۔
یہ ہے فرق دلوں میں۔ ایک طرف ہیں زندہ ‘ قبول کنندہ اور اثر گثرندہ دل اور دوسری جانب ہیں مردہ ‘ بجھے ہوئے اور ایسے دل جن میں فکر و شعور کے داخلے کی تمام کھڑکیاں بند ہیں۔ ان مردہ دلوں پر لہو و لعت کے کفن ہیں اور ان کو بےمہاری کے لا ابالی پن کے قبرستان میں دفنا دیا گیا ہے۔ قرآن کا ان پراثر نہیں ہوتا کیونکہ ان کے دل بجھ گئے ہیں اور وہ اس طرح ہوگئے ہیں کہ ان میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں ہے۔
واسروا۔۔۔۔۔ ظلموا (12 : 3) ” اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں “۔ اہل مکہ ہر وقت رسول اللہ ﷺ اور آپ کی تحریک کے بارے میں سرگوشیاں کرتے تھے۔ پھر یہ سرگوشیاں ان کی سازشوں کی شکل اختیار کرتی تھیں اور پھر یوں تبصرے کرتے تھے۔
ھل ھذآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وانتم تبصرون (12 : 3) ” یہ شخص آخر تم جیسا بشر ہی تو ہے تو کیا پھر تم آنکھوں دیکھتے (سمجھتے بوجھتے) جادو کے پھندے میں پھنس جائو گے “۔ یہ لوگ تو درحقیقت مرچکے ہیں اور ان کے جسم میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں ہے اس لیے یہ قرآن سے خود تو متاثر ہوتے نہیں تھے لیکن جن دوسرے لوگوں پر قرآن کے اثرات ہوتے تھے ان کو یہ لوگ یوں بدراہ کرتے تھے کہ لوگوں دیکھو ‘ یہ محمد تو ہم جیسا انسان ہے ‘ تو اس پر کیوں ایمان لاتے ہو۔ اس کلام کا تم پر جو اثر ہوتا ہے تو وہ ایک جادو ہے۔ تم دیکھتے ہوئے اور سمجھتے ہوئے اس جادو کا اثر لیتے ہو۔
جب وہ ایسے اوچھے ہتھیاروں پر اتر آئے تو رسول اللہ کو حکم ہوتا ہے کہ اپنا اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں۔ یہ جو مشورے کررہے ہیں اور قرآن کے اثرات سے بچنے کے لیے جو بہانے اور پرو پیگنڈے کرتے ہیں ان کا کوئی اثر نہ ہوگا۔
Ayah 21:4قل ربی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وھو السمیع العلیم (12 : 4) ” رسول نے کہا میرا بر ہر اس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے اور وہ سمیع وعلیم ہے “۔ زمین کے جس حصے میں بھی تحریک اسلامی کے خلاف کوئی سرگوشی ہو ‘ اللہ تعالیٰ سنتا اور جانتا ہے کیونکہ اللہ تو وہ ہے جو زمین و آسمان میں بولے جانے والے تمام اقوال کو جانتا ہے اور اس کے ہاں وہ ریکارڈ ہوتے ہیں اور وہ جو سازشیں بھی پکائیں اللہ اپنے رسول کو پہلے سے بتا دیتا ہے کہ وہ سمیع وعلیم ہے۔
انہوں نے بہت سوچا کہ قرآن کے اثرات کو کس پروپیگنڈے سے روکیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سحر ہے۔ یہ ایک مخلوط قسم کی سوچ اور منتشر افکار ہیں ‘ جن کو محمد جمع کرکے پیش کرتا ہے ‘ کبھی شعر ‘ کبھی کہانت کیا کہا۔
Ayah 21:5بل قالو۔۔۔۔۔۔۔ شاعر (12 : 5) ” وہ کہتے ہیں بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں بلکہ یہ اس کی من گھڑت بات ہے بلکہ یہ شخص شاعر ہے “۔ یہ بلکہ بلکہ ہی کرتے رہیں گے ‘ کسی ایک بات پر بھی جم نہیں سکتے ‘ نہ ان کی ایک رائے ہے ‘ اصل بلکہ یہ ہے کہ دراصل یہ لوگ مختلف تدابیر اختیار کرتے ہیں کہ قرآن کے ان ولولہ انگیزاثرات کو کس طرس روکیں ‘ جو لوگوں پر اثر کررہے اور یہ لوگ دعوے پر دعویٰ کرتے چلے آرہے ہیں ‘ ایک سبب کے بعد دوسرا سبب لاتے ہیں۔ لیکن سخت حیراں ہیں ‘ کسی ایک بات پر جمتے نہیں ‘ اس لیے تمام حرکتوں اور اقوال کو چھوڑ کر آئو اس طرف آتے ہیں کہ کوئی ایسا معجزہ دکھا دیا جائے جو گزرے ہوئے رسولوں نے دکھائے تھے۔
فلیاتنا بأیۃ کمآ ارسل الاولون (12 : 5) ” ورنہ یہ لائے کوئی ایسی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے “۔ ہاں اس سے قبل رسولوں نے خارق عادت معجزات دکھائے تھے لیکن کیا جن کے سامنے معجزے پیش ہوئے تھے وہ سب ایمان لائے تھے۔ نہیں وہ تو ایمان نہ لائے اسی لیے تو ہلاک ہوئے اور یہ سنت الہیہ ہے۔ اٹل سنت الہیہ کہ جب کوئی خارق عادت معجزہ پیش ہوجائے اور پھر بھی لوگ نہ مانیں تو ان کو تباہ کرنا لازم ہے۔
Ayah 21:6مآامنت۔۔۔۔۔۔۔۔ اھلکنھا (12 : 6) ” حالانکہ ان سے پہلے کوئی بستی بھی جسے ہم نے ہلاک کیا ‘ ایمان نہ لائی “۔ یہ اس وہ سے کہ جب کوئی قوم بغض وعناد کے اس مرتبے تک پہنچ جائے کہ وہ ایک محسوس خارق عادت معجزے کے بعد بھی ایمان نہ لائے تو پھر تو اسے ہلاک کیا جانا ہی ٹھہرتا ہے۔
بار بار معجزات آئے ‘ باربار اقوام نے تکذیب کی اور بار بار ان مکذبین کو تاریخ میں ہلاک کیا جاتا رہا۔ تو اگر ان لوگوں کو ویسا ہی معجزہ دکھادیا جائے اور یہ بھی اسی طرح ایمان نہ لائیں تو پھر ہلاکت کے سوا اور کیا انجام ہوگا۔
افھم یومنون (12 : 6) ” کیا یہ ایمان لائیں گے “۔
Ayahs 21:7–9ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وما کانوا خلدین (12 : 8) (12 : 7 : 8) ” اور اے نبی ﷺ تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے۔ تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔ ان رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں اور نہ وہ سداجینے والے تھے “۔ اللہ کی حکمت کا تقاضایہی تھا کہ رسول انسان ہوں ‘ وہ اللہ سے وحی اخذ کریں اور لوگوں تک اسے پہنچائیں۔ اس سے قبل جس قدر رسول گزرے وہ جسم و جان رکھتے تھے اور جسم و جان رکھنے کے بعد وہ کھانا بھی کھاتے تھے ‘ کیونکہ کھانا جسم کا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ دائمی زندگی والے بھی نہ تھے۔ اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو رسولوں کی جسدیت ‘ کھانے پینے کے بارے میں اہل کتاب سے معلومات حاصل کرلو کیونکہ کھانا لازمی تقاضا ہے اور بشریت کے اعتبار سے اور جسمانیت کے اعتبار سے وہ دائمی زندگی والے بھی نہ تھے۔ اگر تم اس بات کو نہیں جانتے تو رسولوں کی جسدیت ‘ کھانے پینے کے بارے میں اہل کتاب سے معلومات حاصل کرلو کیونکہ اہل کتاب عربوں کے مقابلے میں علوم انبیاء سے زیادہ علم رکھتے تھے۔
واقعہ یہ ہے کہ تمام رسول بشر تھے۔ انسانوں کی طرح زندہ رہتے تھے۔ تاکہ ان کی عملی زندگی شریعت کی صورت اختیار کرلے۔ ان کا عملی مڈل لوگوں کے لیے اعلیٰ زندگی کا ماڈل ہو ‘ کیونکہ جو دعوت زندہ ہو اور زندگی کی عملی شکل میں ماڈل اور نمونہ ہو وہی موثر بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ لوگ دیکھتے ہیں کہ یہ دعوت عملاً مجسم شکل میں قائم ہے اور اس کو عملی شکل دے دی گئی ہے۔
اگر رسول غیر بشر ہوتے نہ کھاتے پیتے ‘ نہ بازاروں میں پھرتے ‘ عورتوں کے ساتھ ان کی معاشرت نہ ہوتی ‘ ان کے دلوں میں انسانی جذبات و میلانات نہ ہوتے تو ان کے اور لوگوں کے درمیان گہرا تعلق قائم نہ ہو سکتا۔ نہ وہ ان میلانات کو سمجھ سکتے جو انسان رکھتے ہیں اور نہ انسان ان کو اچھی طرح سمجھ سکتے اور نہ ان کی پیروی کرتے کیونکہ ان کی زندگی میں انسانوں کی پیروی کے لیے کوئی ماڈل ہی نہ ہوتا۔
اگر داعی جن لوگوں کو دعوت دیتا ہے ان کے رحجانات کو نہیں سمجھتا ‘ ان کے شعور ‘ جذبات اور خواہشات کو نہیں سمجھتا ‘ اور لوگوں کے اندر نہیں جاتا ان سے دور دور رہتا ہے ‘ وہ لوگوں کے ساتھ نہیں چلتا اور لوگ اس کے ساتھ نہیں چلتے وہ لوگوں کے سامنے جس قدر چلا چلا کر تقریریں کے تو لوگ اس کی تقریروں سے ہر گز متاثر نہ ہوں گے کیونکہ ان کے درمیان احساس و شعور کے فاصلے ہیں۔
ہر وہ داعی جس کا عمل اس کی بات کی تصدیق نہ کرے ‘ اس کے الفاظ لوگوں کے کانوں سے ٹکراکر واپس ہوں گے۔ دلوں کے اندر نہ اتر سکیں گے اگر چہ اس کے الفاظ زور دار ہوں اور اس کا کلام بلیغ ہو ‘ وہ سادہ بات جس کی پشت پر عمل ہوتا ہے جس سے کہنے والا خود متاثر ہوتا ہے ‘ وہی مفید ہو سکتی ہے اور لوگوں کے اندر حرکت پیدا کرسکتی ہے۔
جو لوگ یہ تجویز کرتے تھے کہ رسول کو ایک فرشتہ ہونا چاہیے ‘ جس طرح آج کل کے بعض لوگ رسول کو انسانی خواص سے عاری قرار دیتے ہیں ‘ یہ لوگ اس حقیقت سے بیخبر ہیں کہ فرشتے اپنی تخلیقی ساخت اور اپنی فطرت کے اعتبار سے انسانوں جیسی زندگی گزارہی نہیں سکتے کیونکہ وہ جسم اور اس کے تقاضوں کے مطابق انسان کے احساس و شعور کو سمجھنے کے اہل نہیں ہیں۔ لہٰذا اس اعتبار سے ان کے لیے انسانوں جیسی زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں ہے۔ رسول کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان انسانی احساسات اور تقاضوں کو سمجھتا ہو اور اپنی عملی زندگی میں ان احساسات اور ان تقاضوں پر عمل بھی کرتا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لیے عملی دستور حیات بن سکے۔
یہ باتیں تو اپنی جگہ پر ہیں لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر رسول فرشتہ ہو تو اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے جنس بشری کو جو عظیم اعزاز دیا ‘ بشریت اس سے محروم ہوجاتی۔ یہ نہ ہوتا کہ انسانوں میں سے ایک انسان عالم بالا سے رابطہ قائم کرے یا اللہ سے ہمکلام ہو۔
بہرحال رسولوں کے انتخاب میں یہ اللہ کی سنت ہے کہ رسول بشر ہو اور یہ بھی سنت ہے کہ اللہ ان کو نجات دے اور مسرفین اور مکذبین کو ہلاک کردے۔
ثم صدقنھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المسرفین (12 : 9) ” پھر دیکھ لو کہ آخر کار ان کے ساتھ ہم نے اپنے وعدے پورے کیے اور انہیں جس کسی کو ہم نے چاہا ‘ بچا لیا اور مسرفین کو ہلاک کردیا “۔ تو رسولوں کے انتخاب کے لیے جو سنت ہے ‘ اسی طرح مکذبین کے لیے بھی یہ سنت ہے اور اللہ نے ان کو اور ان کے ساتھ فی الحقیقت ایمان لانے والوں کو بھی ہلاک کردیا۔ ایسے ایمان لانے والے جن کا عمل ان کے ایمان کی تصدیق نہ کرتا ہو۔ اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرتا ہے جو حد سے گزرتے ہیں۔
مشرکین جو حضور اکرم ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ساتھی مسلمانوں کو ایڈادیتے تھے اور ان کی تکذیب کرنے میں حد سے گزر گئے تھے ‘ ان کو اللہ اس سنت سے ڈراتا ہے اور ان کو سمجھا تا ہے کہ یہ ان پر اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ اللہ نے کوئی مادی خارق عادت معجزہ نہیں بھیجا جس کو اگر یہ جھٹلا دیتے جس طرح اقوام سابقہ نے جھٹلایا تھا تو یہ بھی ہلاک کردیئے جاتے۔ اس خارق عادت معجزے کے بجائے اللہ تعالیٰ نے تمہیں قرآن کا معجزہ دیا ہے اور یہ کتاب تمہارے لیے باعث عزو شرف ہے کہ یہ تمہاری زبان میں ہے ‘ تمہاری زندگی کو استوار کرتی ہے اور یہ تمہاری تعمیر و تربیت اس طرح کرتی ہے کہ تمہیں وہ ایک قابل ذکر امت بنا دے۔ یہ کتاب لوگوں کے سامنے کھلی پڑی ہے ‘ چاہیے کہ وہ اس پر غور کریں اور اس کے ذریعہ انسانیت کے ارتقاء کی سیڑھی پر چڑھتے چلے جائیں۔
Ayah 21:10لقد انزلنآ۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون ( ” ۔
قرآن ایک ایسا معجزہ ہے کہ یہ تمام نسلوں کے لی کھلا معجزہ ہے۔ یہ ایسا معجزہ نہیں ہے کہ ایک ہی نسل میں اس کا مظاہرہ ہو ‘ لوگ اس سے متاثر ہوں اور وہ ختم ہوجائے۔ یہ ایک دائم وقائم معجزہ ہے۔
قرآن کریم کے ذریعہ عربوں کو بھی بڑی شہرت ملی جب وہ قرآن کے پیغام کو لے کر مشرق و مغرب تک جا پہنچے۔ اس سے پہلے وہ کوئی قابل ذکر لوگ نہ تھے۔ نہ ان کے پاس انسانیت کو دینے کے لیے کوئی قابل ذکر چیز تھی۔ جب تک عربوں نے اس کتاب کو مضبوطی سے پکڑے رکھا انہوں نے اس کے ذریعہ پوری انسانیت کی راہنمائی کی ‘ تو وہ بھی کامیاب رہے اور اس کی وجہ سے پوری انسانیت کو بھی کامیابی اور خوسحالی نصیب ہوئی ‘ جب عربوں نے اس کتاب کو چھوڑا تو انسانیت نے بھی انہیں چھوڑ دیا اور لوگوں کے اندر عربوں کا ذکر ختم ہونے لگا۔ یہ لوگ قافلہ انسانیت کے دم چھلا بن گئے اور انسانوں میں سے جو چاہے ‘ انہیں اچک لیتا ہے لیکن جب یہ کتاب انہوں نے مضبوطی سے تھام رکھی تھی تو لوگ ان کے ماحول میں اچک لیے جاتے تھے اور یہ محفوظ تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ عرب قرآن کے سوا انسانیت کو کیا تحفہ دے سکتے ہیں ؟ قرآن کے سوا ان کے پاس اور ہے کیا ؟ ان کے پاس قرآنی فکر کے سوا انسانیت کے سامنے پیش کرنے کے لیے کوئی اور فکر نہیں ہے۔ اگر وہ انسانیت کے سامنے یہ کساب پیش کریں گے تو انسانیت ان کو پہچان لے گی۔ ان کا ذکر کرے گی اور ان کو سروں پر اٹھائے گی کیونکہ اسے عربوں سے ایک نفع بخش پیغام ملے گا۔ لیکن اگر وہ انسانوں کے سامنے محض عربوں کو بحیثیت ایک قوم پیش کریں گے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی حیثیت کیا ہے اور وہ کیا ہیں ؟ اس کتاب کے سوا ان کے اس نسب نامے کی کیا وقعت ہے۔ انسانیت نے عربوں کو اس کتاب کے ذریعے ‘ اسلامی نظریہ حیات کے ذریعے اور اس کتاب سے اخذ کردہ نظام حیات کے ذریعے پہچانا تھا۔ انسانیت میں ان کو جو مقام حاصل ہوا تھا وہ اس لیے نہ تھا کہ وہ عرب ہیں۔ کیونکہ صرف عرب ہونا تاریخ انسانیت میں کوئی چیز نہیں ہے اور تہذیب کی ڈکشنری میں لفظ عرب کا کوئی مقام نہیں ہے۔ عربوں کی پہچان اسلامی تہذیب و تمدن سے تھی اور ہے۔ اسلامی تہذیب اور اسلامی فکر ‘ اسلامی فلسفہ اور اسلامی تمدن کے تو تمدن کی ڈکشنری میں نام ملیں گے لیکن عرب کا اس میں کوئی نام نہیں ہے۔
اسی حقیقت کی طرف قرآن کریم یہاں ارشارہ کررہا ہے۔ مشرکین کو مخاطب کر کے کہا جاتا ہے کہ یہ کتاب تمہاری پہچان ہے۔ لیکن تم اس کتاب میں آنے والی نئی تعلیمات کا استقبال غفلت ‘ اعراض اور تکذیب اور مذاق کے ساتھ کرتے تھے۔
لقد انزلنآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون (12 : 01) ” لوگو ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے ‘ کیا تم سمجھتے نہیں ہو “۔
عرب مشرکین پر اللہ کا کرم تھا کہ ان کے سامنے نبی ﷺ کے ذریعہ کوئی خارق عادت معجزہ پیش نہ کیا گیا ‘ ورنہ وہ انکار کرتے اور ان کی بیح گنی اسی طرح سنت الہیہ کے مطابق ہوجاتی جس طرح تاریخ میں کئی اقوام اور کئی بستیوں کی ہوئی۔ یہاں اللہ تعالیٰ ایک زندہ منظر کی شکل میں ایسی اقوام کے استیصال اور تباہی و بربادی کو دکھاتے ہیں۔
Ayah 21:11وکم قصمنا من قریۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حصیدا خمدین (11 تا 51) ”
قصم کا مفہوم ہے شدت سے کاٹنا ‘ اس لفظ کی آواز کی شدت بھی اس کے ملسوم کو ظاہر کرتی ہے۔ اس لفظ کے تلفظ ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالم بستیوں کو بڑی شدت اور سختی سے اس طرح توڑا پھوڑا گیا کہ ان کا وجود ہی ختم کردیا گیا اور ان کی حالت یہ ہوگئی کہ ان کو پیس کر رکھ دیا گیا۔
وانشانا ۔۔۔۔۔۔۔ اخرین (12 : 11) ” اور ان کے بعد دوسری کسی قوم کو اٹھایا “۔ یہاں قصم کا فعل بستیوں پر وارد ہوتا ہے اور بستیوں اور ان کے باشندوں سب کو پیس کر رکھ دیا جاتا ہے لیکن انشا کا فعل صرف قوم پر وارد ہوتا ہے ‘ پہلے قوم پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد وہ بستیاں آباد کرتی ہے۔ یہ تو ہے تو حقیقت واقعہ کہ تباہی بستیوں پر آتی ہے اور اس میں آبادی بھی ہلاک ہوجاتی ہے۔ اور جب اٹھایا جاتا ہے تو پہلے اقوام کو اٹھا یا جاتا ہے اور وہ پھر بستیاں آباد کرتی ہیں لیکن جس انداز میں ‘ ایک منظر کی شکل میں ہلاکت و بربادی کو پیش کیا گیا ہے ‘ یہ قرآن کریم کا مخصوص فنی اسلوب ہے۔
جب یہ تباہی آتی ہے تو اس میں لوگوں کا منظر بھی بڑا عجیب ہے۔ ان کی حالت یوں ہوتی ہے جس طرح پنجرے میں چوہے بند ہوجاتے ہیں ‘ جب تک وہ ہلاک نہ کردیئے جائیں ‘ وہ پنجرے کے اندر ادھر ادھر بھاگتے ہی رہتے ہیں۔
Ayah 21:12فلمآاحسوا بأ سنآ اذا ھم منھا۔۔۔۔ (12 : 21) ” جب ان کو ہمارا عذاب محسوس ہوا تو لگے وہاں سے بھاگنے “۔ یعنی گائوں سے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ ان کو معلوم ہوگیا کہ عذاب الٰہی آگیا ‘ گویا یہ بھاگ دوڑ ان کو عذاب الٰہی سے بچا لے گی۔ گویا وہ اس قدر تیز بھاگ سکتے ہیں کہ عذاب الٰہی ان سے پیچھے رہ جائے گا ‘ لیکن ان کی یہ بھگدڑ ایسی ہی ہے جس طرح چوہا پنجرے میں دوڑتا ہے۔ وہ بغیر سوچ اور بغیر کسی شعور کے دوڑتا ہے۔
Ayahs 21:13–14لاترکضوا وارجعوآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تسئلون (12 : 31) ” بھاگو نہیں ‘ جائو اپنے انہی گھروں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کررہے تھے ‘ شاید کہ تم سے پوچھا جائے گا “۔ یہ تو تمہارا گائوں ہے اس سے مت بھاگو۔ اس کے اندر وہ سب سازو سامان ہے اور اس کے اندر تمہارے وہ مسکن ہیں ‘ جن میں تم عیش پرستیاں کرتے تھے۔ واپس ہو جائو شاید کہ تم سے پوچھا جائے کہ تم نے یہ دولت کن امور میں خرچ کی۔ اس سوال کا وہ جواب کیا دیں ؟ یہ تو ان کے ساتھ ایک سنجیدہ مذاق تھا۔
اب ذرا تھکتے ہیں تو اب ان کو سمجھ آتی ہے کہ عذاب الٰہی نے تو انہیں گھیر لیا ہے اور اب یہ بھگدڑ انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ یہ دوڑ انہیں دائرہ عذاب سے باہر نہیں ناکل سکتی تو اب وہ بدل جاتے ہیں ‘ جرم کا اعتراف کرتے ہیں ‘ توبہ و استغفار کرتے ہیں۔
قالوا یویلنآ انا کنا ظلمین (12 : 41) ” ہائے ہماری کم بختی ‘ بیشک ہم خطا کار تھے “۔ لیکن اب کیا ہو سکتا ہے ‘ اب تو مہلت کی گھڑی ختم ہوچکی ہے۔ اب تو وہ جو چاہیں کہتے رہیں۔ اب یہ لوگ مرنے تک اقرار جرم کرتے رہیں ‘ توبہ کرتے رہیں۔ کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
Ayah 21:15فما زالت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خمدین (12 : 51) ” وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے انہیں کھلیان کردیا ‘ زندگی کا ایک شرارہ ان میں نہ رہا “۔ یہ آدمیوں کا کھلیان تھا جس میں نہ حرکت تھی نہ حرارت۔ ابھی تک تو وہ ایک ایسا قریہ تھا کہ جس میں ہر طرف زندگی دوڑتی نظر آتی تھی اور یہ گائوں نہایت خوبصورت تھا۔
یہاں اب قرآن مجید اس نظریہ حیات ‘ جس پر کلام ہوا۔ اور اللہ کی اس تکوینی سنت جس کے مطابق یہ کائنات چلتی ہے ‘ کے درمیان ربط قائم فرماتے ہیں۔ یہ تکوینی سنت ہے جس نے اس کی فصل کو کاٹ کر پیس ڈالا۔ کیونکہ انہوں نے رب تعالیٰ کی تشریعی سنت کی پیروی نہ کی۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ جس حق پر یہ کائنات قائم ہے اور جس حق پر پیغمبروں کی دعوت قائم ہے وہ ایک ہے اور اس کائنات اور زمین و آسمان کا ان دونوں سچائیوں سے رابطہ ہے۔
مشرکین کے پاس دعوت اسلامی کی جو جدید ہدایات آئیں وہ ان کا استقبال مذاق اور استہزائے کرتے اور لہو میں مشغول ہو کر منہ موڑ لیتے۔ وہ اس بات سے غافل رہے کہ یہ کس قدر اہم اور سچی دعوت نے یوم حساب قریب ہے اور وہ اس سے بھی غافل ہیں بلکہ مذاق کرتے ہیں تو اللہ کی تکوینی سنت بھی اپنا کام جاری رکھتی ہے اور وہ بھی مشرکین کے اس انکار اور اعراض کا نوٹس لیتی ہے کیونکہ حق ایک ہے وہ شریعت میں ہو یا کائنات میں۔
Ayahs 21:16–17وما خلقنا السمآ ئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مما تصفون (61 : 81) ”
اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک حکمت اور اسکیم کے مطابق پیدا کیا ہے ‘ اس کا ایک مقصد ہے ۔ یہ کائنات محض کھیل تماشے کے طور پر نہیں پیدا کی گئی۔ یہ ایک حکیمانہ فعل ہے ‘ محض اتفاقی عمل نہیں ہے۔ جس سنجیدگی ‘ سچائی اور مقصدیت کے ساتھ زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا ہے ‘ اس کے ساتھ رسولوں کو بھی بھیجا گیا ہے۔ کتابیں نازل کی گئی ہیں ‘ فرائض منصبی مقرر ہوئے اور شریعت اور قانون بنائے گئے ہیں۔ لہٰذا مقصدیت اور سنجیدگی اس کائنات کی اساس ہے۔ اس کے چلانے کا بھی ایک مقصد ہے۔ اس میں انسانوں کو ایک نظریہ دینے میں بھی ایک مقصد ہے اور موت کے بعد حساب و کتاب میں بھی مقصدیت اور سنجیدگی ہے۔
اگر اللہ تعالیٰ کوئی کھلونا بنانا چاہتا تو اپنے ہاں بنا لیتا۔ ایک ذاتی کھیل ہوتا اور اللہ کی دوسری مخلوقات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہوتا۔ یہ محض الزامی اور جدلی فرض ہے۔ ” اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے پاس ہی سے کرلیتے “۔ جس طرح نحوی لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف امتناع برائے امتناع ہے۔ یعنی ” لو “ کے بعد ایک فقرہ شرط ہوتا ہے اور دوسرا جواب شرط ۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان دونوں فقروں کا واقع ہونن ناممکن اور ممتنع ہے۔ چونکہ اللہ نے ارادہ ہی نہیں کیا اس لیے لہو و لعب ہوا ہی نہیں ہے۔ نہ اللہ کے ہاں کوئی لہو ہوا اور نہ خارج میں کسی معاملے میں ہوا۔ اور یہ لہو ولعب ممکن ہی نہیں اس لیے کہ اس کی طرف اللہ کا ارادہ متوجہ ہی نہیں ہوا۔
ان کنا فعلین (12 : 71) کے معنی ہیں ما کنا فعلین یعنی ہم نے ایسا کرنا ہی نہ تھا ‘ ایسا کرنے والے ہی نہ تھے۔ تو یہ ایک فرض ہے برائے مباحثہ اور اس سے یہ حقیقت ثابت کرنا ہے کہ اللہ کی ذات سے متعلق جو امور بھی ہیں وہ اللہ کی ذات کی طرح قدیم ہیں۔ دائمی ہیں ‘ فانی نہیں ہیں۔ اگر اللہ لہو کا ارادہ کرتا تو یہ لہو ایک نیا معاملہ نہ ہوتا۔ یہ بھی ذات باری کی طرح قدیم ہوتا۔ ازلی ہوتی اور ابدی ہوتا کیونکہ اس کا تعلق ذات ازلی اور باقی سے ہوتا ۔ اسی لیے ” من لدنا “ کا لفظ استعمال ہوا ” اپنے ہی پاس “ لیکن اللہ کا طے شدہ قانون تو یہ ہے کہ کوئی معاملہ کھیل کے طور پر نہ ہو ‘ بلکہ ہر معاملہ سنجیدگی اور سچائی کے ساتھ ہو۔ اور وہ حق ہو۔ یوں حق باطل پر غالب آتا ہے۔
Ayah 21:18بل نقذف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاھق (12 : 81) ” مگر ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے “۔ نحو میں لفظ بل اضراب کے لیے آتا ہے یعنی ایک بات کو چھوڑ کر متکلم دوسری بات لیتا ہے۔ یعنی لہو کی بات چھوڑ کر بتایا جاتا ہے کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہاں حق و باطل کی کشمکش ہے اور سنت الہیہ یہ ہے کہ اس کشمکش میں حق کو غلبہ نصیب ہو۔
اس منظر کا انداز تعبیر نہایت ہی حسی محسوس ہونے والا ‘ زندگی سے بھرپور اور حرکت سے بھر پور ہے۔ نقشہ کچھ یوں ہے کہ سچائی ایک گولہ ہے جو دست قدرت میں ہے ‘ قدرت اسے پھینکتی ہے ‘ یہ باطل کے سر پر لگتا ہے اور اس کے دماغ کو پھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور باطل صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے آناً فاناً ۔
یہ ایک طے شدہ سنت ہے ‘ اور سچائی اس کائنات کے اندر اصل ہے۔ کائنات کے وجود میں اس کا گہر ادخل ہے۔ باطل تو دائرہ کائنات سے خارج البلد ہے۔ اگر کہیں نظر آتا ہے تو یہ عارضی ہوتا ہے ‘ اس کی قوت گہری نہیں ہوسکتی ‘ اللہ اس باطل کو بھگاتا رہتا ہے۔ سچائی سے خود اللہ باطل پر بمباری کرتارہتا ہے اور اس کا سر توڑ تا رہتا ہے۔ لہٰذا جس چیز پر اللہ کی بمباری ہو ‘ جس چیز کو دست قدرت فنا کرتا ہو ‘ اس کے لیے بقا نہیں ہے۔ ہر گز نہیں ہے !
بعض سطحی لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس وقت عملی صورت حالات اس کرئہ ارض پر اس کے خلاف ہے ‘ جو اللہ علیم وخبیر فرمارہا ہے۔ بظاہر حالات اس کے برعکس ہیں۔ یہ سوال ان تاریخی وقفوں میں پیدا ہوتا ہے جن میں کبھی کبھار باطل پھولا ہوا نظر آتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ گویا اس کی حکمرانی رہے گی۔ اور ان وقفوں میں حق اور اہل حق اس قدر بدحال ‘ افسردہ اور غبار آلودہ ہوتے ہیں کہ وہ مغلوب نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں بعض مختصر وقفوں میں یوں ہوتا رہتا ہے۔ ان وقفوں کو اللہ تعالیٰ بعض اوقات ذرا طویل بھی کردیتا ہے مگر یہ اہل حق کی آزمائش کے لیے ہوتا ہے۔ اس کے بعد سنت الہی کا دست غیب بمباری شروع کرتا ہے۔ یہ سنت الہیہ ہے اور اسی سنت پر ارض و سما کا نظام قائم ہے اور اسی پر اسلامی دعوتوں کا بھی نظام قائم ہے۔
جن لوگوں کا ایمان پختہ ہے ان کے دل میں تو ذرا شک بھی پیدا نہیں ہو سکتا کہ اس کائنات کی بنیاد سچائی پر ہے۔ وہ یہ شک نہیں کرسکتے کہ اللہ داعیان حق کی نصرت کرتے ہوئے باطل پر گولہ پھینکتا ہے اور اس کا بھیجا نکالا دیتا ہے۔ اہل حق کو اگر اللہ کچھ عرصہ کے لیے آزمائے تو ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ان کی آزمائش ہے۔ ان کور اہ حق میں جم جانا چاہیے۔ اور اس آزمائش میں پورا اترنا چاہیے۔ ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان میں کچھ کمزور یاں ہیں اور اللہ چاہتا ہے کہ وہ دور ہوں اور وہ اس حق کے غلبے کے لیے تیار ہوں۔ وہ دست قدرت کا کام کریں ‘ اپنی کمزوریاں دور کریں ‘ اپنے اندر کمال پیدا کریں جس قدر وہ جلدی تیاریاں مکمل کریں گے ‘ ان کی آزمائش کا عرصہ اسی قدر جلدی ختم ہوگا اور پھر اللہ باطل پر جو گولہ باری کرے گا تو انہی کے ہاتھوں سے ہوگی۔ اہل حق کے غلبے کے لیے تیار ہوں۔ وہ دست دقدرت کا کام کریں ‘ اپنی کمزوریاں دور کریں ‘ اپنے اندر کمال پیدا کریں جس قدر وہ جلدی تیاریاں مکمل کریں گے ‘ ان کی آزمائش کا عرصہ اسی قدر جلدی ختم ہوگا اور پھر اللہ باطل پر جو گولہ باری کرے گا تو انہی کے ہاتھوں سے یہ ہوگی۔ (وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی) کا منظر ہوگا ‘ اچانک باطل اس دنیا سے نیست و نابود ہوجائے گا۔ یادرکھئے کہ باطل کا انجام مقرر ہے۔
بل نقذف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زاھق (12 : 81) ” مگر ہم باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے “۔ اور اللہ جو چاہتا ہے ‘ وہ کرتا ہے۔
(روس میں دست قدرت نے یہ کام کردکھایا ہے۔ مترجم)
قرآن کریم یہ حقیقت مشرکین مکہ کیذہن نشین کررہا ہے جو قرآن مجید کے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے تھے کہ یہ سحر ہے ‘ یہ شعر ہے ‘ یہ افتراء ہے۔ حالانکہ یہ برحق ہے اور قرآن کریم باطل پر حملہ آور ہے ‘ اس کا سر پھوڑ رہا ہے اور جلد ہی باطل اور شرک (جزیرۃ العرب سے ) مٹنے والا ہے۔ ان کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ تم قرآن مجید یا تحریک اسلامی کے بارے میں جو باتیں بناتے ہو ‘ وہ تمہارے لیے سامان ہلاکت ہیں۔ (ولکم الویل مما تصفون) اس کے بعد ان کے سامنے ان کی نافرمانی اور روگردانی کے مقابلے میں اطاعت کیش مخلوق کی اطاعت شعاری کا ایک نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔ یہ نمونہ ان لوگوں کی زندگی سے پیش کیا جاتا ہے جو ان کے مقابلے میں خدا تخالیٰ سے زیادہ قریب ہیں ‘ لیکن اس قربت کے باوجود وہ رات اور دن اس کی بندگی میں لگے ہوئے ہیں اور بندگی کرتے کرتے تھکتے بھی نہیں۔
Ayahs 21:19–20ولہ من فی السموت والارض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یفترون ”
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کے سوا اس کا پورا علم کسی کو نہیں ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو ہر چیز کا احاطہ کرسکتا ہے ۔ علم و بشیر ہی صرف انسان کے بارے میں یقین سے جانتا ہے۔ اہل ایمان جن اور ملائکہ کے وجود پر بھی ایمان لاتے ہیں کیونکہ ان کا ذکر قرآن مجید میں ہے لیکن ان دو مخلوقوں کے بارے میں بھی ہم صرف اسی قدر جانتے ہیں جس قدر ہمیں خالق نے علم دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اندونوں کے علاوہ کو اکب میں اور ذی عقل مخلوق بھی ہو اور اس کی شکل و صورت اس سیارے کے ماحول اور طبیعی حالات کے مطابق ہو ‘ لیکن یہ علم بھی اللہ ہی کے پاس ہے۔
ولہ من فی السموات والارض (12 : 91) ” اور زمین و آسمان میں جو مخلوق بھی ہے ‘ اللہ کی ہے “۔ تو ہمیں جس جس مخلوق کے بارے میں علم ہے اسے ہم مانتے ہیں اور جس کے بارے میں علم نہیں ہے اسے خلاق کائنات پر چھوڑ دیتے ہیں۔
ومن عندہ ” اور جو اس کے پاس ہیں۔ اس کا قریبی مفہوم تو یہی ہے کہ مراد فرشتے ہیں ‘ لیکن ہم اس کے مفہوم میں تخصیص کیوں کریں۔ اس میں ملائل کہ اور دوسری مخلوقات شامل ہیں۔ اس کے ” پاس “ یا ” عندہ “ مفہوم اللہ کے حوالے سے مکانیت کا اظہار نہیں کرتا بلکہ اس سے قرب معلوم ہوتا ہے۔
ومن عندہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولایستحسرون (12 : 91) ” اور جو اللہ کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی عبادت سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ طول ہوتے ہیں “۔ جس طرح مشرکین مکہ محض تکبر کی وجہ سے اللہ کی بندگی سے منہ موڑتے ہیں اور نہ تھکتے ہیں یعنی رات اور دن وہ مسلسل اللہ کی بندگی اور تسبیح و تہلیل کرتے ہیں۔
جہاں تک انسان کا تعلق ہے اس کی پوری زندگی عبادت بن سکتی ہے اور وہ اپنے آپ کو فرشتوں کی طرح مسلسل عبادت کی حالت میں رکھ سکتا اگر وہ اپنی پوری زندگی میں اللہ کی بندگی اور اطاعت کرے اگرچہ اس کے بعض افعال ذاتی نوعیت کے ہوں ‘ مثلاً اس کا کھانا پینا۔
یہ کہ اللہ کی تعدد ولا تصی مخلوق رات اور دن اللہ کی عبادت میں مصروف ہے ‘ جو بھی زمین اور آسمانوں میں ہے ‘ لیکن مشرکین اللہ وحدہ کی بندگی سے سرتابی کر کے دوسرے الہوں کی بندگی کرتے ہیں اور انہیں پکارتے ہیں۔ ان کی یہ حرکت بہت ہی بری ہے۔ حالانکہ رات اور دن کا نظام اور اس پوری کائنات میں چلنے والا ناموس فطرت اس بات پر دلیل بین ہے کہ مدبر کائنات اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ نیز نقلی استدلال بھی اگر مانگتے ہیں تو پوآن اور تمام کتب سماوی اس پر متفق ہیں کہ اللہ الہٰ واحد ہے اور یہی تمام رسولوں اور کتابوں کی دعوت ہے۔
Ayahs 21:21–22ام اتخذوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الآ انا فاعبدون (12 : 52) ”
کیا اسے چھوڑ کر انہوں نے دوسرے خدا بنا لیے ہیں ؟ اے نبی ﷺ ‘ ان سے کہو کہ ” لا ئو اپنی دلیل ‘ یہ کتاب بھی موجود ہے جس میں میرے دوسرے لوگوں کے لیے نصیحت ہے اور وہ کتابیں بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی “۔ مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بیخبر ہیں ‘ اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیاج ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خاد نہیں ہے ‘ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو “۔
ان لوگوں کے بارے میں پوچھنا کہ انہوں نے اللہ کے سوا الہٰ پکڑ رکھے ہیں ‘ استفہام انکاری ہے اور پھر ان الہوں کی یہ صفت بیان کرنا کہ وہ لوگوں کو مارتے ہیں اور پھر زندہ کریں گے۔ یہ ان کے الہوں کے ساتھ مذاق ہے ‘ کیونکہ کسی الہٰ کا سچا تصور ہی یہ ہے کہ وہ موت کے بعد لوگوں کو زندہ کر کے حساب و کتاب لے۔ مذاق کے طور پر پوچھا جاتا ہے کہ بتائو ان کے یہ الہٰ حشر و نشر کا کام کرتے رہتے ہیں ؟ اگر نہیں ‘ اور مشرکینخود بھی مانتے ہیں کہ نہیں ‘ تو پھر کیوں ان کو الہٰ مانتے ہیں ‘ جبکہ وہ اپنے اندر الہٰ ہونے کی صفت اول ہی نہیں رکھتے۔
یہ عملی استدلال اور عملی منطق ہے۔ اب ایک دوسری حقیقت پسندانہ عملی دلیل ملاحظہ ؟
لوکان فیھمآ الہھۃ الا اللہ لفسدتا (12 : 22) ” اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو دونوں کا نظام بگڑ جاتا “۔ یہ کائنات ایک ایسے قانون قدرت کے اوپر قائم ہے جو اس کے تمام اجزاء کے درمیان ایک مکمل ربطہ قائم کرتا ہے اور اس کے تمام اجزاء باہم مربوط ہیں۔ ایک ایک جزء کی حرکت کائنات کے کل کی حرکت کے ساتھ مربوط ہے۔ یہ قانون واحد ایک واحد مقنن کے حکم اور ارادے کا مرہون منت ہے۔ اگر کائنات کی مدبر ہستیاں متعدد ہوتیں تو ارادے بھی متعدد ہوتے اور قوانین بھی متعدد ہوتے۔ ارادہ کرنے والی ذات کا مظہر اور ہوتا ہے اور کوئی قانون اور ضابطہ نافذ کرنے والی ذات کے ارادے کا مظہر اور ہوتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو کائنات کا یہ مکمل نظام کب کا باہم ٹکرا جاتا اور اس میں ہم آہنگی نہ رہتی اور اس کائنات میں آئے دن عظیم اضطرابات ہوتے رہتے کائنات کے اندر یہ ربط ‘ تنظیم اور ہم آہنگی اس قدر محسوس اور مشاہد ہے کہ ملحد سے ملحد شخص بھی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ دنیا میں جن لوگوں کی فطرت سلیم ہے وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ اس پوری کائنات میں ایک ہی قانون کار فرما ہے اور یہ ناموس ایک اہم شہادت ہے کہ پوری کائنات میں ایک ہی ادارہ کام کرتا ہے اور اس کا ایک ہی خالق اور مدبر ہے ‘ اس لیے اس کی ساخت اور رفتار میں کوئی فساد نہیں ہے۔
فسبحن اللہ رب العرش عما یصفون (12 : 22) ” پس پاک ہے اللہ رب العرش ان باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ وہ یہ باتیں بناتے ہیں کہ اللہ کے شریک ہیں حالانکہ وہ ان باتوں سے منزہ ہے۔ وہ عرش کا رب ہے۔ عرش اللہ کے اقتدار اعلیٰ ‘ اللہ کے قبضے اور احاطے اور اللہ کی بلندی کا رمز اور اشارہ ہے۔ اللہ ان کی بنائی ہوئی باتوں سے پاک ہے اور جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اسی کائنات کی سلامت رومی ‘ تنظیم اور ہم آہنگی اور یک رنگ ان کی باتوں کی تکذیب کرتی ہے۔
Ayah 21:23لایسئل عما یفعل و ھم یسئلون (12 : 32) ” وہ اپنے کاموں کے لیے جواب دہ نہیں ہے اور دوسرے سب جواب دہ ہیں “۔ وہ تو خود اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے۔ اس کا ارادہ آزاد ہے۔ اس کے اوپر کوئی قید و بند نہیں ہے اور نہ کوئی دوسرا ارادہ آڑے آسکتا ہے۔ اس کے ارادے کے سامنے وہ قانون قدر بھی رکاوٹ نہیں بن سکتا جو اس نے خود جاری کیا ہے۔ سوال اور محاسبہ تو کسی معیار اور کسی پیمانے اور حدود کے مطاق ہوتا ہے جو وضع کیے گئے ہوں اور اللہ تو خود واضع حدود ہے اور معیار اور پیمانے مقرر کرنے والا ہے۔ وہ خود اپنیمقرر کردہ حدود اور معیار و مقیاس کا پا بند نہیں ہے۔ لوگوں کے لیے چونکہ اللہ کے مقرر کردہ حدود کی پابندی ضروری ہے اس لیے وہ سب اس کے سامنے مسئول ہیں۔
بعض انسانوں کو غور اس قدر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ وہ عجیب احمقانہ سوالات کرتے رہتے ہیں۔ اللہ نے یہ کام کیوں کیا ؟ یہ چیز کو یں بنائی ؟ اس کی کیا حکمت ہے ‘ ان کی منشا یہ ہے کہ وہ اس حکمت کو سمجھ نہیں پار ہے۔ ایسے لوگ اس میدان میں خالق کائنات کے بارے میں نہایت بےادبی کا رویہ بھی اختیار کرتے ہیں ‘ جس طرح وہ انسانی فہم و ادراک کی حدود سے بھی آگے جارہے ہیں ‘ کیونکہ انسان کے محدود قوائے مدر کہ ہر چیز کا سبب اور علت معلوم نہیں کرسکتے۔
اللہ وہ ذات ہے جو ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ تمام کائنات کی ہر چیز کی تدبیر اس کے ہاتھ میں ہے۔ تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ وہی ہے جو قادر مطلق ‘ مدبر اور حاکم اور حکیم ہے۔
لایسئل عما یفعل وھم یسئلون (12 : 32) ” وہ اپنے کاموں کے لیے جواب دہ نہیں ہے ‘ اور دوسرے سب جواب دہ ہیں “۔ اب اس تکوینی دلیل کے ساتھ ساتھ اللہ ان سے نقلی دلیل کا بھی مطالبہ کرتے ہیں ‘ کہ وہ کیا نقلی دلیل ہے جس کی بنا پر یہ لوگ شرک کرتے ہیں حالانکہ شرک پر تو کوئی دلیل نہیں ہوتی۔
Ayah 21:24ام اتخذوا من دونہ۔۔۔۔۔ قبلی (12 : 42) سابقہ رسولوں کی کتابیں بھی موجود ہیں ان میں بھی کمازکم اللہ کے شریکوں کے بارے میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ یہ سب ادیان عقیدہ توحید پر قائم ہیں۔ لہٰذا مشرک جو شرک کرتے ہیں ‘ اس کا ماخذ کیا ہے ‘ یہ تو اس کائنات کے بھی خلاف ہے اور عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی خلاف ہے ۔ حقیقت یہ ہے۔
بل اکثرھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 42) ” مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بیخبر ہیں ‘ اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں “۔
Ayah 21:25ومآ ارسلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاعبدون (12 : 52) ” ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو “۔ اللہ نے جب سے لوگوں کی ہدایات کے لیے رسول بھیجے ہیں ان کی دعوت اور تعلیمات کا قاعدہ اساسی عقیدہ توحید رہا ہے۔ آج تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ یعنی الہٰ اور معبود ایک ہی ہے۔ وہی رب ہے ‘ الوہیت اور ربوبیت کے درمیان جدائی ممکن نہیں ہے جو الہٰ ہے وہی رب ہے۔ لہٰذا ان تعلیمات میں الوہیت حاکمیت اور بندگی میں کوئی شرک نہیں اور یہ عقیدہ اسی طرح مستحکم ہے جس طرح اس کائنات کا نظام مستحکم ہے۔ یاد رہے کہ رسولوں کی تعلیمات بھی دراصل اس کائنات کے قوانین فطرت کا ایک حصہ ہیں۔
اب روئے سخن ایک دوسرے شرکیہ عقیدے کی طرف مڑجاتا ہے۔ عقائد جاہلیت میں سے ایک عقیدہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے لیے اولاد پید کررکھی ہے۔
Ayahs 21:26–29وقالوا اتخذالرحمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نجزی الظلمین ”
اللہ کے لیے بیٹا ہونے کا تصور زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگوں کے درمیان مختلف تھا۔ مشرکین عرب خیال کرتے تھے کہ ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ مشرکین یہود کہتے تھے کہ عزیز ابن اللہ ہیں اور مشرکین نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہ سب شرکیہ عقائد ہیں اور دوسری اقوام مشرک کے ہاں اور طرح کے ہیں۔
یہاں اشارہ عربوں کے عقیدہ کی طرف ہے جو ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ یہاں ان کے عقیدے کی تردید فرشتوں کی نوعیت اور حقیقت کے بیان سے کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی بیٹیاں نہیں ‘ جس طرح ان لوگوں کا زعم ہے بلکہ یہ اللہ کے ہاں مکرم بندے ہیں۔ یہ ایسی مخلوق ہے کہ اللہ کے سامنے جذبہ اطاعت ‘ ادب اور خوف خدا کی وجہ سے بات ہی نہیں کرتے۔ پس جو ان کو حکم دیا جاتا ہے ‘ بےچون و چرا اس پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ کا علم پوری طرح ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ یہ لوگ کسی کی سفارش بھی نہیں کرتے الا یہ کہ اللہ کسی کی سفارش پر راضی ہوجائے۔ وہ مزاجا اللہ سیڈرتے ہیں اور اللہ کے خوف سے بھی ڈرتے ہیں حالانکہ وہ اللہ کے قریب تر ہیں ‘ پاکباز ہیں ‘ پوری طرح مطیع فرمان ہیں اور ان کے اندر کوئی انحراف نہیں ہے۔ پھر ان کا یہ دعویٰ بھی نہیں ہے کہ وہ الہٰ ہیں۔ اور اگر وہ ایسا کوئی دعویٰ کر بھی بیٹھیں ‘ بفرض محال ‘ تو وہ بھی ایسی ہی سزا کے مستحق ہوں گے جس کا اعلان دوسروں کے لیے ہے ‘ یعنی جہنم اور یہ سب ظالم مشرکین کے لیے ہے۔ یہ اس لیے کہ الوہیت کا حق صرف اللہ کا ہے۔۔ اس طرح مشرکین عرب کا یہ دعویٰ غلط ‘ خلاف عقل اور مکروہ ہے ‘ کوئی بھی ایسا دعویٰ نہیں کرتا اور اگر کرے گا تو مقررہ سزا پائے گا۔ جو بھی ہو یہ مدعی۔۔۔۔ یہاں فرشتوں کی اطاعت شعاری کو بڑے موثر انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے خلاف میں ڈوبے رہتے ہیں جبکہ مشرکین مکہ جسارت کرتے ہیں۔
یہاں تک انسان کے سامنے توحید کے تکوینی دلائل رکھے گئے ‘ نیز تمام شرائع کے نقلی دلائل کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ سب کی تعلیم توحید ہے اور بعض وجدانی دلائل بھی دیئے گئے جو دلوں میں قدرتاً اتر جاتے ہیں۔ اب قرآن مجید انسان کو اس عظیم کائنات کی سیر کراتا ہے ‘ وہ کائنات جسے اللہ کا وست قدرت نہایت ہی حکیمانہ انداز میں چلاتا ہے۔ اس کے باوجود بھی یہ لوگ اس کائنات میں پھیلے ہوئے آیات و معجزات پر غور نہیں کرتے۔
Ayahs 21:30–31اولم یرالذین کفروا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کل فی فلک یسبحون ”
یہ اس نظر آنے والی کائنات کی سیر ہے ‘ جبکہ انسانوں کے دل و دماغ اس میں موجود دلائل و شواہد سے بالکل غافل ہیں۔ اگر کھلے دل و دماغ سے اس پر غور کیا جائے تو اس میں ایسے شواہد ہیں جو عقل و خرو کے دامن گیر ہوجاتے ہیں ‘ صرف چشم بینا چاہیے۔
یہ بات کہ زمین و آسمان پہلے ملے ہوئے تھے اور ہم نے ان کو بعد میں جدا کردیا ‘ قابل غور ہے۔ فلکیات کے شعبے میں انسانی علم جس قدر آگے بڑھتا ہے وہ قرآن کے اس فرمان کی توثیق کرتا ہے جو قرآن نے آج سے چودہ سو سال پہلے کہی۔ آج تک انسانوں نے جو نظریات قائم کیے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ سورج کی کہکشاں جس میں سورج ‘ چاند ‘ زمین اور ان کے تابع دوسرے سیارے ہیں وہ پہلے ایک “ سدیم “ تھے بعد میں جدا ہو کر ان اجرام نے موجودہ شکل اختیار کرلی۔ اور یہ کہ زمین سروج ہی کا ایک حصہ تھی جس سے وہ جدا ہوئی اور ٹھنڈی ہوگئی۔
لیکن یہ تو فلکی نظریات میں سے ایک نظریہ ہے۔ آج یہ قائم ہے ‘ کل پھر اڑ جائے گا اور اس کی جگہ ایک دوسرا زیادہ مضبوط نظریہ لے لے گا۔ مسلمانوں کا طریقہ کار یہ نہیں ہے کہ وہ یقینی آیت پر ماہرین فلکیات کا کوئی غیر یقینی نظر یہ تھوپ دیں اور پھر اس کی تفسیر اس کے مطابق کریں۔ آج ہم اسے قبول کریں اور کل مسترد کردیں۔ اس لیے قرآن مجید کی اس تفسیر میں ہم نے یہ طریقہ اختیار نہیں کیا کہ ہم قرآن کریم اور جدید سائنسی نظریات کے درمیان تطبیق کریں۔ لیکن سائنسی نظریات اور چیز ہیں اور سائنسی حقائق اور چیز۔ سائنسی حقائق وہ ہوتے ہیں جو تجربے سے ثابت ہوں مثلا۔ یہ سائنسی حقیقت ہے کہ مادہ گرمی سے بڑھ جاتا ہے اور پانی گرم ہونے سے بخارات میں بدل جاتا ہے اور برودت سے پانی جم جاتا ہے۔ اس طرح کے دوسرے تجربات دراصل سائنسی حقائق ہوتے ہیں۔ یہ سائنسی حقائق علمی اور فلکی نظریات سے مختلف چیز ہے۔
قرآن کریم علمی نظریات کی کتاب نہیں ہے۔ نہ قرآن کریم اس لیے نازل ہوا ہے کہ سائنس کی طرح اس کے تجربے کیے جائیں۔ دراصل قرآن زندگی کا ایک پورا نظام ہے ‘ نیز اسلام عقل کے لیے بھی حدود متعین کرتا ہے تاکہ وہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے۔ اسلام معاشرے کے لیے بھی ایک ضابطہ مقرر کرتا ہے تاکہ وہ عقل کو کام کرنے کی آزادی دے۔ لیکن اسلام سائنسی جزئیات میں مداخلت نہیں کرتا۔ نہ جزئیات میں جاتا ہے۔ عقل کی سمت درست کرکے اسلام ان باتوں کو عقل پر چھوڑ دیتا ہے۔
قرآن کریم کبھی کبھار کائناتی حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے مثلا ان السموات والارض کانتا رتقا ۔۔۔ (12 : 03) ” آسمان و زمین باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان دونوں کو جدا کیا “۔ ہم اس حقیقت پر محض اس لیے یقین کرتے ہیں کہ یہ قرآن میں مذکور ہے ‘ اگرچہ تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ہے کہ یہ کیونکر ہوا ؟ زمین آسمان سے کیسے جدا ہوئی یا آسمان زمین سے کیسے جدا ہوئے۔ ہم ان سائنسی نظریات کو بھی اس مجھمل حد تک قبول کرتے ہیں جو حقیقت مذکورہ در قرآن کے خلاف نہ ہوں۔ لیکن ہم یہ نہیں کرتے کہ فلکیاتی نظریات کو سامنے رکھ کر آیات قرآنیہ کو ان کے پیچھے دوڑائیں اور قرآن کی صداقت کا سرٹیفکیٹ ان نظریات سے لیں کیونکہ یقینی حقیقت قرآن ہے۔ زیادہ سے زیادہ ہم یہ کہہ سکت ہیں کہ آج کے فلیکاتی نظریات اس آیت کے اس مجمل مضمون کے خلاف نہیں ہیں جو آیت میں آج سے صدیوں پہلے بیان کردیا گیا تھا۔
اب ہم اس آیت کے دوسرے حصے کی طرف آتے ہیں جس میں کہا گیا ہے۔
وجعلنا من المآء کل شیء حی (12 : 03) ” اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی “۔ یہ آیت بھی نہایت ہی اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سائنس دان اس کے انکشاف اور ثبوت کو ایک عظیم با تخیال کرتے ہیں اور ڈارون کی اس بات پر تعریف کرتے ہیں جس نے کہ یہ دریافت کیا کہ پانی حیات کا بنیادی گہوارہ ہے اور اس حقیقت کو تجربے سے ثابت کیا۔
اس میں شک نہیں کہ سائنس دان جب اس حقیقت تک پہنچے تو یہ بہت بڑا انکشاف تھا لیکن قرآن مجید میں جو بات آئی ہے یہ ہمارے لیے کوئی نیا انکشاف نہیں ہے اور نہ سائنس دانوں کے انکشاف اور تجربے سے قرآن پر ایک مسلمان کے عقیدے میں اضافہ ہوتا ہے۔ قرآن پر ہمارے اعتقاد کی بنیاد یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ بنیاد نہیں ہے کہ جدید سائنسی نظریات قرآن کریم میں دیئے گئے حقائق کو ثابت کرتے ہیں۔ ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈارون کا نظہ یہ ارتقاء اور نشوونما اس حد تک درست اور ثابت شدہ حقیقت ہے کہ کس حدتک وہ زندگی کے لیے پانی کو ضروری خیال کرتا ہے۔
قرآن کریم نے تو آج سے چودہ سو سال قبل کفار کو اس طرف متوجہ کیا تھا کہ ذرا اس کائنات پر غور کرو ‘ اس کے عجائبات کو دیکھو ‘ قرآن نے تو ان کی جانب سے کائنات کا مشاہدہ نہ کرنے پر سخت تنقید کی تھی اور یہ کہا تھا۔
افلا یو منون (12 : 03) ” کیا یہ لوگ ایمان نہیں لاتے “۔ حالانکہ ان کے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات یہ پکاررہی ہے کہ اللہ پر ایمان لائو۔
اور ذرا مزید کائناتی مناظر : وجعلنا فی الارض رواسی ان تمید بھم ” اور زمین پر پہاڑ جمادیئے تاکہ وہ انہیں لے کر ڈھلک نہ جائے “۔ یہاں جو بات ثابت کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ زمین پر بڑے بڑے پہاڑ جمادیئے تاکہ وہ انسانوں کو لے کر ایک طرف ڈھلک نہ جائے اور اس کے اندر اضطراب نہ ہو۔ توازن مختلف صورتوں میں پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً بعض اوقات داخلی دبائو جو زمین کے اندر ہوتا ہے ‘ توازن پیدا کرتا ہے اور بعض اوقات خارجی دبائو توازن پیدا کرتا ہے اور یہ دبائو مختلف علاقوں میں مختلف ہوتا ہے۔ کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک جگہ پہاڑ بلند ہوں ‘ دوسری جگہ زمین میں گہرے کھدے کے ساتھ متوازن ہوتا ہے۔ جو بھی ہو ‘ بہر حال اس آیت سے اجمالاً یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زمین کے توازن کا پہاڑوں کے ساتھ تعلق ہے اس لیے ہم عقلی علوم اور تجربات کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ قرآن نے ایک حقیقت کے بارے حقیقت ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ آپ اسے ثابت کریں ‘ سائنسی تجربات سے اور یہ ہے عقل انسانی اور سائنسی موضوع کے لیے کام کرنے کا اصل میدان۔ ہمیں قرآن کریم کے اس اعلان پر وجدانی یقین رکھنا چاہیے اور اس کے ثبوت کے لیے اس کائنات میں مزید تحقیقات کرنا چاہئیں۔
Ayah 21:32وجعلنا فیھا ۔۔۔۔۔۔۔ یھتدون (12 : 13) ” اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کریں “۔ پہاڑروں کے درمیان کشادہ راہیں اور وادیاں ہیں تاکہ لوگ انمیں اپنے راستے متعین کریں۔ یہاں وادیوں اور شاہراہوں کا پہلا مفہوم تو یہ ہے کہ لوگ اس میں چلنے پھرنے کے راستے معلوم کریں لیکن اس میں ایک خفیہ سا اشارہ اس طرف بھی ہے کہ ان ظاہری راستوں سے وہ راہ ہدایت بھی معلوم کریں کیونکہ یہ پوری کائنات انسان کے لیے راہ ہدایت فراہم کرتی ہے۔
وجعلنا السمآء سقفا محفوظا (12 : 23) ” اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا “۔ آسمان سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اوپر نظر آئے۔ ہم جب سر کی سمت دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنے اوپر نیلی چھت نظر آتی ہے۔ قرآن کریم اسے سقف محفوظ کہتا ہے۔ یہ سقف اس کائنات کے نہایت ہی حساس نظام کی حفاظت کررہا ہے اور یہ سقف ان ناپاکیوں سے بھی محفوظ ہے اور ان کمزوریوں سے بھی محفوظ ہے جو زمین میں ہیں۔ اوپر کا نظام اس طرح محفوظ ہے کہ آیات قرآنی نہایت ہی حفاظت سے اترتی ہیں۔
وھم عن ایتھا معرضون (12 : 23) ” مگر یہ لوگ کائنات کی نشانیوں کی طرف توجہ نہیں دیتے “۔ حالانکہ عقل کے لیے یہ ایک وسیع میدان ہے کہ کائنات میں آیات الہیہ تلاش کرے۔
Ayah 21:33وھوالذی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسبحون (12 : 33) ” وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا ‘ سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں “۔ رات اور دن اس کائنات کے دو اہم رنگ ہیں اور شمس و قمر دو بڑے اجرام ہیں۔ ان دونوں کا اس کرئہ ارض پر انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے ‘ بلکہ نفس حیات سے ان کا گہرا تعلق ہے ‘ پھر گردش لیل و نہار اور حرکت شمس و قمر کو اگر غور سے دیکھا جائے تو زمانہ دراز سے یہ نہایت ہی دقیق ٹائم کے مطابق چل رہے ہیں۔ کبھی بھی اس ٹائم ٹیبل میں خلل نہیں پڑا اور مسلسل حرکت ہے بلا کسی معمولی وقفے کے۔ یہ امور اس قابل ہیں کہ انسان ان پر غور کرے اور معلوم کرے کہ اس کائنات کے لیے ایک ہی ضابطہ ‘ ایک مدبر اور ضابطہ نے مقرر کیا ہے اور وہی الہٰ خالق ہے اور وہی مدبر کائنات ہے۔
اب اس سبق کے آخر میں قرآن کریم ان قوانین اور ضوابط کو جو خالق نے اس کائنات میں جاری کر رکھے ہیں اور جن کے مطابق خالق اس کائنات میں تصرفات کرتا ہے ‘ ان اخلاقی اور شرعی اور دینی ضوابط سے مربوط کردیتا جو انسانی زندگی کے اختیاری حصے میں جاری کی جارہے ہیں۔ یہ ضوابط تمہارے لیے آزمائش ہیں جس طرح تمہاری طبعی زندگی کا ایک انجام ہے ‘ اسی طرح تمہاری اخلاقی زندگی کا بھی ا کی انجام ہے۔