Ayahs 21:74–75ولوطا۔۔۔۔۔۔۔۔ انہ من الصلحین (47 : 57) ” ‘۔
حضرت لوط (علیہ السلام) کا قصہ اس سے پہلے مفصل گزرچکا ہے۔ یہاں اس کی طرف بالکل مجمل اشارہ ہوا ہے۔ عراق سے شام تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) دونوں ایک ساتھ آئے۔ انہوں نے سدوم شہر میں رہائش اختیار کی۔ اہل سدوم خلاف فطرت فعل کا ارتکاب کرتے تھے ۔ مرد مردوں کے ساتھ اعلانیہ جنسی تعلقات قائم کرتے تھے اور اس میں کوئی ہرج نہ سمجھتے تھے۔ چناچہ یہ گائوں پوری آبادی سمیت ہلاک کردیا گیا۔
انھم کانوا قوم سوء فسقین (12 : 47) ” درحقیقت یہ بہت ہی بری فاسق قوم تھی “۔ لوط (علیہ السلام) اور آپ کی پوری فیملی ماسوائے ان کی بیوی کے ‘ بچا لئے گئے۔
وادخلنہ فی رحمتنا انہ من الصلحین (12 : 57) ” اور اسے ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا۔ وہ صالح لوگوں میں سے تھا۔ اللہ کی رحمت وہ خوشگوار پناہ گاہ جس میں اللہ اسی شخص کو داخل کرتا ہے جسے وہ خصوصی طور پر چاہتا ہے۔ جو داخل ہوا وہ عیش و عشرت اور رحم وکرم میں داخل ہوا۔
Ayahs 21:76–77اسی طرح یہاں حضرت نوح کی طرف بھی ایک سرسری اشارہ کردیا جاتا ہے۔
ونوحا اذ نادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجمعین (67 : 77) ”
حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف بھی یہ مختصر اشارہ ہے ‘ جس میں کوئی تفصیل نہیں ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے رب کو پکارا اور رب نے ان کی دعا کو قبول کیا یہاں ” من قبل “۔ کا لفظ آیا ہے یعنی ” سب سے پہلے “ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہما السلام) سے ان کا دور پہلے گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے ہل و عیال کو بچالیا اور ان کی پوری قوم نذر طوفان ہوگئی کرب عظیم سے مراد وہ مشکلات ہیں جو ان کو پیش آئیں۔ سورة ہود میں تفصیلات موجود ہیں۔
Ayahs 21:78–79وداود و سلیمن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا لھم حفظین (87 : 28) ”
کھیت کا وہ کیا قصہ تھا جس کے بارے میں حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام نے فیصلہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ دو آدمی حضرت دائود کے پاس آئے۔ ایک کھیت کا مالک تھا یعنی فصل کا اور انگور کے باغ کا اور دوسرا بکریوں کا ۔ کھیت کے مالک نے کہا کہ اس شخص کی بکریاں رات کے وقت میرے کھیت میں پھیل گئیں اور انہوں نے سب کچھ کھالیا اور کھیت میں کچھ نہ رہا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے فیصلہ دیا کہ وہ باغ کے بدلے اس شخص کی بکریاں لے لے۔ بکریوں والے صاحب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئے اور ان کے سامنے قصہ دہرایا اور انہیں بتایا کہ حضرت دائود (علیہ السلام) نے تو یہ فیصلہ دے دیا ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) والد کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی فیصلہ وہ نہیں ہے جو آپ نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا وہ کیسے ؟ انہوں نے کہا آپ یہ بکریاں کھیت یا باغ والے شخص کے حوالے کردیں تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھائے اور کھیت بکریوں کے مالک کو دے دیں تاکہ وہ کھیت میں کام کرے اور اسی حالت میں لے آئے جس طرح تھا۔ اس کے بعدہر شخص وہ چیز دوسرے کو دے دے جو اسکے پاس ہے۔ کھیت والا کھیت لے لے اور بکریوں والا بکریاں لے لے۔ تو حضرت دائود (علیہ السلام) نے کہا ‘ ٹھیک فیصلہ وہی ہے جو آپ نے کیا۔ انہوں نے سلیمان (علیہ السلام) کے فیصلے کو نافذ کردیا۔
یاد رہے کہ حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام نے جج کے طور پر اجتہادی فیصلہ کیا تھا۔ اللہ بھی ان کے فیصلے کو دیکھ رہا تھا۔ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو زیادہ مناسب اور مضبوط فیصلہ الہام کردیا اور سلیمان اسے جس طرح سمجھے وہ زیادہ اچھا تھا۔
حضرت دائود (علیہ السلام) نے نقصان کا محض تاوان ادا کرنے کی طرف خیال کیا۔ یہ تھا فقط انصاف۔ لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے عدل کے ساتھ تعمیر و ترقی کا بھی خیال رکھا اور عدل کے نتیجے میں فریقین کو تعمیر و ترقی کے کام پر لگا دیا۔ عدل کی یہ دوسری صورت زیادہ مثبت ‘ مفید اور تعمیری ہے اور یہ اللہ کی توفیق اور الہام ہے کہ وہ جسے چاہے دے دے۔
حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام دونوں کو حکم ‘ علم اور فیصلے کے اختیار ات تھے۔
وکلا اتینا حکما وعلما (12 : 97) ” حکم اور علم ہم نے دونوں کو عطا کیا تھا “۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے فیصلے میں کوئی غلطی نہتھی لیکن حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا فیصلہ زیادہ اچھا تھا کیونکہ وہ الہام کے نتیجے میں ہوا تھا۔
اس کے بعد قرآن مجید ان مخصوص امور کا ذکر کرتا ہے جو حضرت دائود اور حضرت سلیمان علیھما السلام کو علیحدہ علیحدہ دیئے گئے تھے ‘ پہلے حضرت دائود علیہ السلام۔
وسخرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا فعلین (12 : 97) وعلمنہ صنعۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرون (12 : 08) ” اور دائود کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا تھا جو تسبیح کرتے تھے ‘ اس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے اور ہم نے اس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی ‘ تاکہ تم کو ایک دوسرے کی مار سے بچائے ‘ پھر کیا تم شکر گزار ہو ؟ “
حضرت دائود (علیہ السلام) کے مزا میر مشہور ہیں۔ یہ اللہ کی حمد تھی جو وہ نہایت یہ خوش الحانی سے پڑھتے تھے۔ ان کی آواز کی گونج سے انکا ماحول بھر جاتا تھا اور انکے ساتھ پہاڑ اور پرندے بھی اسے دہراتے تھے۔
جب کسی بندے کا دل اپنے رب سے جڑ جاتا ہے تو وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ وہ اس پوری کائنات کے ساتھ یکجا ہوگیا ہے اور اس پوری کائنات کا دل میرے ساتھ دھڑکتا ہے اور وہ تمام رکاوٹیں اور پردے ہٹ جاتے ہیں جو اللہ کی مخلوقات کے مختلف انواع واجناس کے درمیان اس دوئی کے شعور کی وجہ سے فاصلے پیدا ہوجاتے ہیں۔ جب انسان اس مقام پر پہنچ جائے تو ان تمام انواع کے ضمیر اس کائنات کے ضمیر کے ساتھ مل جاتے ہیں۔
بعض لمحات میں ایک ایسی روشنی سامنے آتی ہے کہ روح یہ محسوس کرتی ہے کہ وہ اس کائنات کے ساتھ ایک ہے۔ اس کے اندر سب کچھ آگیا ہے ‘ ایسے لمحات میں روح یہ نہیں محسوس کرتی کہ اس سے باہر بھی کچھ ہے۔ وہ یہ بھی محسوس نہیں کرتی کہ وہ اپنے ماحول سے علحدہ ہے۔ پورا ماحول روح انسانی میں گم اور انسان اپنے ماحول میں گم ہوجاتا ہے۔
نص قرآنی سے ہماری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) خوش الحانی سے حمد پڑھتے تھے تو وہ اپنے ممتزیز ‘ مفصل اور مخصوص مقام میں موجود نفس کو بھول جاتے تھے۔ ان کی روح اس سایہ ربی میں چلی جاتی تھی جو اس کائنات پر سایہ لگن ہے۔ اس پوری کائنات پر خواہ وہ جمامد مخلوق ہو یا زندہ ‘ اس طرح حضرت دائود محسوس کرتے ھتے کہ انکے ساتھ یہ پوری کائنات حمد خواں ہے۔ اور جس طرح وہ ثنا خواں ہیں اس طرح وہ بھی ثنا خواں ہے۔ پھر یوں محسوس ہوتا ہے کہ پوری کائنات ایک کورس کی شکل میں ‘ ایک گروپ کی طرح اللہ کی حمد و ثنا اور تسبیح و تہلیل گا رہی ہے۔
وان من شیئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تسبیحھم ” جو چیز بھی ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے لیکن تم اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے “۔ اور اس تسبیح کو وہی شخص سمجھتا ہے جس کے سامنے سے پردے ہٹ جائیں ‘ فاصلے مٹ جائیں اور وہ روح کا ئنات اور ارواح کون ومکان کے ساتھ چلتا ہو ‘ جو سب کی سب اللہ کی سمت میں رخ کیے ہوئے ہیں۔
وسخرنا۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا فعلین (12 : 97) ” اور ہم نے دائود کے ساتھ پاڑوں اور پرندوں کو مسخر کردیا جو تسبیح کرتے تھے اور اس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے “۔ اللہ کے لیے مشکل ہی کیا ہے ؟ یا کیا کوئی چیز اللہ کے حکم سے سرتابی کرسکتی ہے جب اللہ چاہے۔ چاہے وہ لوگوں کے ہاں ہوا کرتی ہے یا نہیں ہوا کرتی۔
Ayah 21:80وعلمنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شکرون (12 : 08) ” اور ہم نے اس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی ‘ تاکہ تم کو ایک دوسرے کی مار سے بچائے۔ ھپر کیا تم شکر گزار ہو ؟ “ یہ زرہ کی صنعت ہے جس کے حلقے ایک دوسرے سے گزرتے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل وہ ایک جامد چادر کی صورت میں بتائی جاتی تھیں۔ کڑیوں کا ایک دوسرے میں داخل کرکے زرہ بننا زیادہ نرم اور استعمال میں زیادہ آسان ہوجاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ زرہ کی یہ ترقی یافتہ قسم سب سے پہلے اللہ کی تعلیم سے حضرت دائود (علیہ السلام) نے ایجاد کی۔ اللہ فرماتا ہے کہ اس نے دائود (علیہ السلام) کی یہ صفت سکھا کر تم پر بڑا احسان کیا کہ تم جنگ کے دوران ایک دوسرے کی مار سے بچ جاتے ہو۔
لتحصنکم من باسکم (12 : 08) ” تاکہ تمہیں بجائے ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کے وقت “۔ یہ احسان جتلا کر اللہ تعالیٰ پھر پوچھتے ہیں کیا تم شکر کرو گے۔ یہ سوال سمجھانے اور شکر پر ابھارنے کے لیے ہے۔
اسلامی تہذیب و تمدن نے ایک ایک قدم کر کے ترقی کی ہے۔ ایک جست میں انسان یکدم مہذب اور ترقی یافتہ نہیں ہوا۔ دنیا کی ترقی کا فریضہ خلافت ارضی سے تعلق رکھتا ہے اور یہ انسان پر عائد کیا گیا ہے۔ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے یہ قوت دکھی تھی کہ وہ ہر دن ایک قدم آگے بڑھتا رہے اور ہر دن کی ترقی کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالتا رہے ۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ انسان کے مزاج کے یہ بات خلاف ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو نظام جدید کے مطابق ڈھال لے کیونکہ اس طرح یکدم تبدیلی سے اس کی عادات اور مروج طریق کار بدل جاتا ہے اور بالکل نیا نظام یکدم دینے سے انسان کو معمول کی زندگی از سر نو شروع کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا ارادہ یہ ہوا کہ زندگی کے نظام میں ہر بڑی تبدیلی کے بعد انسان کو اگلی تبدیلی کے لیے مناسب وقت دیا جائے ‘ بعض اوقات یہ وقت تھوڑا ہوتا ہے اور بعض اوقات زیادہ لمبا عرصہ ہوتا ہے۔
آج دنیا کے اعصاب پر جو ناقابل برداشت تنائو ہے اور انسان کے اندر جو بےچینی ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سائنسی انکشافات اور سوسائٹی کے نظام میں سرعت کے ساتھ بار بار کی تبدیلیوں کی وجہ سے ‘ انسانیت کو سانس لینے ‘ سستا نے کا موقعہ ہی نہیں ملتا کہ وہ ملتا کہ وہ ایک عرصہ تک جدید نظام کی برکات سے متمتع ہو۔ انقلاب پر انقلاب چلا آرہا ہے۔
یہ تو تھا معاملہ دائود (علیہ السلام) کا ‘ رہے سلیمان (علیہ السلام) تو ان کو بھی زیادہ معجزات دیئے گئے تھے۔
Ayahs 21:81–82ولسلمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وکنا لھم حفظین (12 : 28) ” اور سلیمان کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخر کردیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں ‘ ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت سوں کو اس کا تابع بنا دیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دوسرے کام کرتے تھے ‘ ان سب کے نگران ہم ہی تھے “۔
سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں بہت سی باتیں ‘ بہت سی روایات اور بہت سی کہانیاں مشہور ہیں۔ ان میں سے اکثر یا تو اسرائیلیات سے لی گئی ہیں یا اوہام و تخیلات کا نتیجہ ہیں۔ لیکن روایات کے اس صحرا میں ہم نے اپنے آپ کو بےراہ نہیں کرنا چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ حددود قرآنیہ تک اپنے آپ کو محدود کردیں۔ قرآن کریم کے علاوہ سلیمان (علیہ السلام) کے بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ہے۔
قرآن کریم میں صرف اس حد تک بیان ہوا ہے کہ ہوا کو ان کے لیے مسخر کردیا گیا تھا۔ یعنی تیز رفتار ہوا کو۔ یہ ہوا ارض متبرک کر طرف چلتی تھی۔ برکت والی سر زمین سے مراد موجودہ شام کی سر زمین ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے قصے میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے لیے اس ہوا کو کیونکر مسخر کردیا گیا تھا۔
ایک قصہ ہوا کے تخت یا ہو کی چادر کا ہے کہ حضرت سیلمان (علیہ السلام) اور آپ کے حاشیہ نشین اس پر بیٹھتے تھے اور اڑ جاتے تھے اور شام کی طرف چلے جاتے تھے اور چشم زون میں وہ شام میں ہوتے تھے۔ یہ اس قدر سفر تھا کہ اونٹوں پر ایک ماہ میں طے ہوتا تھا اور اسی طرح وہ واپس آجاتے تھے۔ اس روایت کو سورة سبا کی اس آیت سے ثابت کیا جاتا ہے جس میں کہا گیا ہے۔
ولسلیمان الریح۔۔۔۔۔ رواحھا شھر (43ـ: 21) ” اور سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کردیا تھا ‘ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک “۔
لیکن قرآن کریم نے ہوا کی اس چادرکا ذکر کہیں نہیں کیا۔ اس کا ذکر کسی صحیح حدیث میں بھی نہیں ہوا۔ لہذا اس قسم کی روایات کے بارے میں ہمیں کوئی مستند ثبوت نہیں ملا۔
زیادہ بہتر یہ ہے کہ ہم تسخیرہوا کا مفہوم یہ لیں کہ یہ ہوا اللہ کے حکم کے مطابق یوں چلتی تھی کہ ایک طرف سے ایک ماہ کا مفر وہ صبح و شام طے کرتی تھی۔ یہ سفر کیسے ہوجاتا تھا ؟ تو یہ قدرت الہٰی کے کارنامے ہیں۔ اس کے بارے میں ہم نہیں پوچھ سکتے کہ یہ کیسے چلتی تھی۔ قوانین قدرت کی تخلیق اللہ نے کہ ہے۔ وہ جس طرف چاہے ان قوائے قدرت کا رخ پھیر سکتا ہے۔ اس کائنات میں قدرت کے اصولوں میں سے ابھی انسان کو کم ہی کا پتہ چلا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اللہ کے کچھ خفیہ طبیعی قوانین ایسے ہوں جن کا ابھی تک ہمیں علم نہ ہو اور ان اصولوں کا ظہور اور انکشاف اس وقت ہو جب انسان اس کا برداشت کرنے کے اہل ہوں اور اللہ کا حکم ہو۔
وکنا بکل شیی علمین (12 : 18) ” اور ہم ہر چیز کو جانتے تھے “۔ مطلق اور بےقید علم ہمارے قبضے میں ہے۔ رہا انسان کا علم تو وہ محدود ہے۔
یہی معاملہ تسخیر جنات کا ہے جو بحروبر میں ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور سیلمان (علیہ السلام) کے لیے زمین کے خزانے نکالتے تھے یا وہ ان کے لیے دوسری خدمات سر انجام دیتے تھے۔ جن ہر اس مخلوق کو کہتے ہیں جو مخفی ہو۔ قرآن مجید کی صریح آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک مخلوق ایسی ہے جسے جن کہتے ہیں ‘ جسے ہم دیکھ نہیں سکتے۔ اس مخلوق میں سے کچھ لوگوں کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے مسخر کردیا گیا تھا جو ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور دوسرے کام کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے کنٹرول میں دے دیا تھا کہ نہ وہ بھاگ سکتے تھے ‘ نہ فساد کرسکتے تھے۔ وہ نہ ان کی فرماں برادری کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر پوری طرح کنٹرول کرسکتا ہے اور اپنی مخلوق کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔
بس فی ظلال میں ہم اس حد تک جاتے ہیں اور یہی وہ حد ہے جس میں غلطی کا احتمال کم ہے۔ اس لیے ہمیں اسرائیلیات میں تیرنے کی ضرورت نہیں۔
اللہ نے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کو خوشحالی میں آزمایا تھا۔ انعامات میں آزمایا تھا۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کو فیصلے میں آزمایا تھا۔ حضرت سلیمان (علیہما السلام) کو گھوڑوں کے بارے میں آزمایا تھا (تفصیلات سورة ص میں آرہی ہیں لہٰذاہم یہ مباحث یہاں نہیں چھیڑتے) ۔ اپنی جگہ یہ سب بحثیں ہوں گی۔ یہاں نتیجے کا ذکر ضروری ہے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) نے بھے صبر کیا ‘ حضرت سلیمان (علیہما السلام) نے بھی صبر کیا اور آزمائشوں کے بعد اللہ سے معافی اور مغفرت طلب کی اور امتحان و آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے۔ چناچہ وہ اللہ کے انعامات پر شکر خداوندی بجالانے والے تھے۔
Ayah 21:83اب ذرا مصائب میں مبتلا کر کے آزمانے کا واقعہ آتا ہے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا واقعہ۔
وایوب اذ نادی۔۔۔۔۔۔۔ و ذکری للعبدین (48) ” ۔
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قصہ قرآن مجید کے ابتلاء کے قصوں میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت قصہ ہے۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں یہ قصہ آیا ہے۔ یہ مجمل شکل میں آیا ہے۔ تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اس جگہ یہاں حضرت ایوب کی دعا اور قبولیت دعا کا ذکر ہے کہون کہ اس سورة میں موضوع اور مضمون یہ اپنے بندوں پر رحمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک اور آزمائش میں ان کی امداد ہے خواہ یہ آزمائش قوم کی طرف سے تکذیب کی صورت میں ہو ‘ مثلا قصہ ابراہیم ‘ لوط اور نوح (علیہم السلام) میں یا اللہ کی جانب سے انعامات میں آزمائش ہو جس طرح دائود و سلیمان (علیہما السلام) یا مرض وغیرہ کی آزمائش ہو جس طرح حضرت ایوب (علیہ السلام) کے قصے میں ہے۔
حضرت ایوب (علیہ السلام) نے یہاں جو دعا کی ہے تو اس میں انہوں نے صرف یہ بتایا ہے کہ اللہ میرا یہ حال ہے اور رب تعالیٰ کی یہ صفت بیان کی ہے :
انت ارحم الرحمین (12 : 38) اس کے بعد انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میرے حالات کو بدل دے ‘ یہ اس لیے کہ وہ مصیبتوں پر صبر کرنے والے تھے ‘ وہ اللہ کے سامنے کوئی تجویز یا مطالبہ نہ کرتے تھے۔ یہ ان کی جانب سے بارگاہ رب العزت میں ادب اور احترام کا رویہ تھا۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) ایک ایسے صابر و شاکر شخصیت تھے کہ سخت سے سخت حالات میں وہ صبر کرتے تھے۔ کوئی فریادنہ کرتے تھے۔ آپ کا صبر اس قدر مشہور ہوا کہ وہمیشہ ان کی مثال دی جاتی ہے۔ آپ اس قدر صابر اور شاکر تھے کہ آپ نے اس مصیبت کے رفع ہونے کی دعا بھی نہیں فرمائی۔ پورا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو تو سب کچھ معلوم تھا۔ اس لیے سوال کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔
جب حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف اس اعتماد کے ساتھ اور اس مودبانہ طریقے سے متوجہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فوراً ان کی دعا کو قبول کیا ‘ آزمائش ختم ہوگئی اور رحمت خدا وندی آن پہنچی۔ نہ صرف یہ کہ ان کی تکلیف دور ہوئی بلکہ ان کے اہل و عیال بھی ان کو دے دیئے اور اسی قدر مزید بھی دیئے۔
Ayah 21:84فاستجبنا لہ۔۔۔۔۔۔ مثلھم معھم (12 : 48) ” ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو تکلیف اسے تھی اس کو دور کردیا اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیئے بلکہ اس کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیئے “۔
ان کے جسم کو جو مرض لا حق تھا ‘ وہ دور ہوگیا اور آپ فوراً تندرست ہوگئے۔ ان کے اہل و عیال جن سے وہ محروم ہوگئے تھے اللہ نے ان کو دے دیئے اور ان جیسے اور دے دیئے۔ کہا گیا ہے کہ بیٹوں کے بدلے بیٹے دے دیئے یا بیٹے اور پوتے دے دیئے۔
رحمتہ من عندنا (12 : 48) ” اللہ کی ہر رحمت اللہ کا احسان ہے۔ صرف احسان ‘ ورنہ ہم تو مستحق نہیں ہیں۔
وذکری للعبدین (12 : 48) ” اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے “۔ آزمائش کے حوالے سے اس کا مطلب بہت اہم ہے ‘ عبادت گزاروں پا آزمائش آتی رہتی ہے۔ مثلاً عبادت کی مشکلات ‘ نظریاتی مشکلات اور ایمان کے تقاضے۔ یہ نہایت ہی سنجیدہ معاملہ ہے ‘ مذاق نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ حیات ایک عظیم امانت ہے اور یہ امانت صرف ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو اس کا بوجھ اٹھا سکیں اور جو اس کے تقاضے اور فرائض پورے کرسکیں۔ محض زبان سے کہتا ہی نہیں ہے یا محض دعویٰ ہی نہیں ہے لہٰذا صبر ضروری ہے تاکہ عبادت گزار آزمائش میں پورے اتریں۔
Ayah 21:85اس کے بعد قرآن مجید حضرت اسماعیل ‘ حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل کی طرف صرف اشارہ کرتا ہے۔
واسمعیل و ادریس۔۔۔۔۔۔ من الصلحین (58۔ 68) ’
ان انبیاء کے حالات زندگی میں صبر کا عنصر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں ذبح کردیا جائے۔ جب ان کے علم میں یہ بات آئی تو انہوں نے سر تسلیم خم کردیا۔ یہ صبر کا مثالی نمونہ تھا۔
یا ابت افعل۔۔۔۔۔۔ من الصبرین ” اے باپ ‘ آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اس پر عمل کریں۔ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے “۔
حضرت ادریس کے بارے میں اس سے قبل یہ بات آگئی ہے کہ ان کا زمان و مکان مجمول ہے۔ ان کے بارے میں بعض لوگوں نے یہ رائے دی ہے کہ وہ اور ادریس ہیں جن کی وفات کے بعد مصریوں نے ان کی پرستش شروع کردی تھی اور ان کے ساتھ کئی قصے اور کہانیاں وابستہ کردی تھیں مثلاً یہ کہ وہ انسانوں کے معلم اول ہیں ‘ جنہوں نے انسانوں کو زراعت سکھائی۔ صنعت کی تعلیم دی لیکن اس بات پر کوئی قطعی دلیل نہیں ہے۔ ہمیں اس کا یقین ہے کہ انہوں نے بھی کسی مشکل میں مثالی صبر کا مظاہرہ کیا جس کا ذکر اللہ کی آخری کتاب میں ضروری سمجھا گیا۔
حضرت ذوالکفل کے زمان و مکان کے بارے میں بھی معلومات نہیں ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ وہ نبی اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ وہ صالحین بنی اسرائیل میں سے تھے۔ ان کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے کسی نبی کی کفالت اور خدمت کی اور انہوں نے ان کو اپنی خلافت تین شرائط کی ضمانت دینے پر ‘ ان کے حوالے کی کہ پوری رات عبادت کریں گے ‘ ہر دن روزے سے ہوں گے اور فیصلہ کرتے وقت کسی پر غصہ نہ کریں گے۔ انہوں نے ان ضمانتوں کو پورا کیا اس کیے ان کو ذوالکفل کیا گیا لیکن یہ بھی ایک قول ہے اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ قرآن کریم یہاں صرف یہ تصریح کرتا ہے کہ یہ صبر کرنے والے تھے۔
Ayah 21:86واذخلنھم فی ۔۔۔۔ من الصلحین (12 : 68) ” ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کہ وہ صالحوں میں سے تھے “۔
Ayahs 21:87–88اب قصہ یونس علیہ السلام۔ آپ کو ذوالنون بھی کہتے ہیں۔
وذالانون اذ ذھب۔۔۔۔۔۔ کذلک نجی المومنین (78۔ 88) ’ “۔
حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصہ بھی یہاں ایک سرسری اشارے کی شکل میں ہے ‘ جیسا کہ اس سورة کا انداز ہے اور سورة مضافات میں اس کی تفصیلات ہیں لیکن ضروری ہے کہ یہاں ہم بعض ضروری تفصیلات دے دیں تاکہ یہاں کے اشارات اچھی طرح سمجھ میں آجائیں۔ ان کو مچھلی والے (ذوالنون) اس لیے کہا جاتا ہے کہ جب ان کو کشتی سے پھینکا گیا تو مچھلی نے ان کو نگل لیا۔ قصہ یہ تھا کہ ان کو ایک گائوں میں دعوت اسلامی پھیلانے کے لیے بھیجا گیا۔ گائوں والوں نے ان کی ایک نہ مانی ‘ ان کو اس پر بہت غصہ آیا۔ اسی غصے کی وجہ سے ناراض ہو کر وہاں سے چلے گئے اور ان میں رہ کر دعوت اسلامی کی مشکلات کو برداشت کرتے ہوئے صبر اور مصابرت سے کام نہ لیا۔ انہوں نے یہ خیال کیا کہ ملک خدا تنگ نیست بئے مرالنگ نیست۔ اللہ کی مخلوقات سے اور گائوں بھرے پڑے ہیں ‘ اگر یہ لوگ دعوت کو قبول نہیں کرتے تو اللہ انہیں دوسروں کع طرف متوجہ گر دے گا۔ یہ ہے مفہوم فظن ان لن نقدر علیہ (12 : 78) کا ” اس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے “ یعنی ” لن نقدر “ کا مفہوم ہے ” لم نضیق علیہ “۔ ان کے غصے اور تنگ دلی نے ان کو گائوں سے نکلنے پر آمادہ کردیا۔ وہ سمندر کے کنارے پہنچ گئے۔ وہاں ایک کشتی تیار تھی۔ اس میں سوار ہر گئے۔ کشتی کو امواج بحری نے گھیر لیا۔ ملاح نے کہا کہ اگر اسے ہلکا نہ کیا گیا تو سب لوگ ڈوب جائیں گے۔ اس پر انہوں نے قرعہ اندازی کی۔ قرعہ حضرت یونس کا نکل گیا۔ لوگوں نے انہیں سمندر میں پھینک دیا یا خود کود پڑے۔ ان کو مچھلی نے نگل لیا۔ اور وہ مزید تنگ جگہ تک جا پہنچے۔ اس وقت اندھیروں میں تھے۔ ایک اندھیرا مچھلی کے پیٹ کا ‘ دوسرا اندھیرا سمندر کا اور تیسرا اندھیرا رات کا۔ انہوں نے اپنے رب کو یوں پکارا۔
لاالہ الا انت سنحنک انی کنت من الظلمین (12 : 78) ” نہیں ہے کوئی الہٰ مگر تو ‘ پاک ہے ذات تیری ‘ بیشک میں ہی ظالموں میں سے تھا “۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی۔ اس پریشانی سے انہیں نجات دی جس میں وہ تھے۔ مچھلی نے انہیں ساحل پر پھینک دیا۔ اس کے بعد کے ان واقعات سورة اصافات میں مفصل ہیں۔ یہاں اسی قدرضروری تھا۔
حضرت یونس (علیہ السلام) کے قصے کے اس حصے میں عبرت اور غور طلب نکات ہیں لہٰذا یہاں قدرے قوقف ضروری ہے۔ یہ کہ حضرت یونس (علیہ السلام) نے دعوت اسلامی کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات پر صبر نہ کیا۔ ان کا دل بھر آیا ‘ انہوں نے دعوت کی ذمہ داریاں چھوڑدیں اور غصے میں اس گائوں سے چل پڑے۔ جب وہ چلے تو سخت پریشانی اور غصے میں تھے۔ اللہ نے ان کو ان مشکلات سے دوچارکر دیا جن کے مقابلے میں تکذیب کرنے والوں کی جانب سے آنے والی مشکلات کم تھیں۔ اگر وہ توبہ نہ کرتے اور اپنے نفس پر ‘ دعوت اسلامی پر اور اپنے فرائض پر ظلم کا اعتراف نہ کرتے تو اللہ ان کو اس مصیبت سے نہ نکالتا لیکن قدرت نے ان کی توبہ قبول کر کے ان کی حفاظت کی اور ان کو اس غم سے نجات دی۔
دعوت اسلامی کے حاملین کے لیے ضروری ہے کہ وہ دعوت کے فرائض اور مشکلات کو برداشت کریں۔ اگر لوگ تکذیب کرتے ہیں تو وہ ان پر صبر کریں۔ اگر ایذادیتے ہیں تو صبر کریں ‘ حقیقت یہ ہے کہ ایک سچے آدمی کو جھوٹا کہنے کا اثر اس کے نفس پر بہت ہی کڑواہوتا ہے۔ لیکن رسالت کی ذمہ داریوں کا یہ قصہ ہے کہ لوگ مانیں یا نہ مانیں دعوت اسلامی کے حاملین کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر برداشت پیدا کریں ‘ صبر کریں اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں۔ ضروری ہے کہ وہ از سر نو دعوت کا کام شروع کریں۔ دعوت کا آغاز از سر نو کریں اور پرو گرام کو پھر سے شروع کریں۔
ان کا فرض ہے کہ وہ دعوت کے کام سے مایوس نہ ہوں ، دلوں میں از سر نو اصلاح کا جذبہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور لوگوں کی اصلاح کا کام کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ قوم بار بار انکار کر دے اور تکذیب کر دے۔ سرکشی کرے اور دعوت کو رد کر دے۔ اگر سو بار کی دعوت دلوں پر اثر نہ کرے تو ہو سکتا ہے کہ ایک سو بار ایک بار کی دعوت دلوں میں اتر جائے۔ بعض اوقات انسان ایک ہزار ایک بار سعی کرنے پر کامیاب ہوتا ہے۔ اگر داعی صبر کرے ، کوشش کرے اور مایوس نہ ہو تو ہزار ہا کوششوں کے بعد وہ کامیاب ہو سکتا ہے۔
دعوت اسلامی کا کام آسان اور سہل نہیں ہے۔ لوگوں کے دلوں کو کسی دعوت کے لئے برانگیختہ کرنا بہت ہی دشوار کام ہے۔ دلوں کا جیتنا جوئے شیر لانے سے بھی مشکل ہے۔ باطل ، رسم و رواج اور عادات اور رسوم کا ایک تہ بہ تہ نظام ہے جس نے دعوت کے کام کو روک لیا ہوتا ہے۔ پھر ہر سوسائٹی اپنی موجودہ تنظیم اور اداروں کو بچانا چاہتی ہے۔ دلوں کے اوپر موجودہ عادات اور طرز زندگی زنگ کی طرح جما ہوتا ہے لہٰذا دلوں کو از سر نو زندہ کرنے کے لئے سب کچھ کرنا ہوتا ہے تمام حساس مراکز تحریک کو چھونا ہوتا ہے اور بڑی مشکل سے اس رگ کو پکڑا جاتا ہے جس کے ذریعے پیغام پہنچ جاتا ہے ۔ ایک ایک نج کے بڑے صبر ، بڑی برداشت اور بڑی جدوجہد کرنی ہوتی ہے لیکن بعض اوقات صرف ایک سرسری کوشش سے اور جب انسانی سوسائٹی کی دکھتی رگ کو پکڑ لیا جاتا ہے تو پھر بڑی آسانی کے ساتھ انسان منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے اور سوسائٹی میں ایک انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔
اس بات کو ایک عام مثال سے سمجھایا جاسکتا ہے۔ آپ ریڈیو کے ریسیور کی سوئی کو گھماتے رہتے ہیں لیکن مطلوبہ اسٹیشن نہیں لگتا۔ بار بار گھمانے کے بعد اچانک اچانک اسٹیشن لگ جاتا ہے بار بار کوششوں سے بعض اوقات اسٹیشن نہیں لگتا لیکن بعض اوقات سوئی کو محض لاپرواہی سے گھمانے کے نتیجے میں اسٹیشن لگ جاتا ہے اور پروگرام آنے شروع ہوجاتے ہیں۔
انسانی دل ریڈیو کے ریسیور کے مانند ہے اور داعی کو چاہئے کہ وہ مایوس نہ ہو اور ریسیور کو گھماتا رہے۔ دلوں کو ٹٹولتا رہے۔ ہو سکتا ہے کہ کسی وقت لوگوں کے دل اسے قبول کرنے کے لئے اچانک آمادہ ہوجائیں اور لوگ افق ہے ذرا بلند دیکھنے لگ جائیں۔ ہو سکتا ہے کہ انسان کی ہزار کوششیں ناکام رہیں اور ایک ہزار ایک نمبر پر کی جانے والی کوشش میں ہم منزل مقصود کو پالیں۔
یہ تو بہت آسان ہے کہ ایک داعی غضب میں آجائے برہم ہوجائے کہ لوگ میری بات کو قبول کیوں نہیں کرتے۔ وہ لوگوں کو چھوڑ دے ، آرام سے بیٹھ جائے ، ٹھیک ہے اس کی برہمی دور ہوجائے گی۔ اس کے اعصاب ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ لیکن دعوت اور پھر دعوت اسلامی کا کیا ہوگا ؟ کون واپس آئے گا اور جھٹلانے والی اور چھوڑی ہوئی قوم کو دعوت کون دے گا ؟
اصل بات دعوت ہے۔ داعی کی شخصیت اصل مقصود نہیں ہے۔ اگر داعی برہم ہوتا ہے یا اس کا سینہ دق ہوتا ہے تو اسے صبر کرنا چاہئے اور اپنی راہ کو نہ چھوڑنا چاہئے۔ اس کی ذات کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ صبر کرے اور لوگوں کی باتوں پر دل کو تنگ نہ کے۔ بےصبری کا مظاہرہ نہ کرے اور پھر لوگوں کی تکذیب اور لوگوں کی باتوں کی وجہ سے تو ایسا ہرگز نہ کرے۔
رہی داعی کی ذات تو اس کی حقیقت ہی کیا ہے۔ یہ تو دست قدرت کا ایک ہتھیار ہے۔ دعوت کا اصل کام اللہ خود کرتا ہے۔ وہی دعوت کا محافظ ہے۔ داعی کو چاہئے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں اپنے فریضہ کو پورا کرے۔ ہر فضا میں کام کے لئے راہیں نکالے۔ انجام اللہ پر چھوڑ دے۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ حضرت ذوالنون کے قصے میں داعیان حق کے لئے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ اس سبق کو غور سے حاصل کریں۔ حضرت ذوالنون (علیہ السلام) نے جب توبہ کی ، اپنے موقف پر نظرثانی کی اور اپنے کام پر لوٹ آئے تو اس میں دعوت اسلامی کے کارکنوں کے لئے بہت بڑی عبرت ہے۔ کیا مناسب نہیں ہے کہ داعیان حق اس پر تدبر کریں۔ پھر حضرت یونس (علیہ السلام) کی دعا ، اندھیروں کے اندر ان کی دعا اور اللہ کی طرف سے اس کی قبولیت میں داعیان حق کے لئے بھی ایک خوشخبری ہے۔ کیا یہ نہیں کہا گیا۔
کذلک ننحی المومنین (21 : 88) ” اور اسی طرح ہم مومنوں کو بچا لیا کرتے ہیں۔ “
اب حضرت زکریا اور یحییٰ (علیہما السلام) کے قصے کی طرف سرسری اشارہ اور حضرت زکریا کی دعا کی قبولیت :
وزکریآ…خشعین (90)
Ayahs 21:89–90حضرت یحییٰ کی پیدائش کا قصہ سورة مریم اور سورة آل عمران میں گزر چکا ہے ، بڑی تفصیلات کے ساتھ یہاں دوسرے قصص کی طرح فقط اشارات ہی ہیں۔ اس کا آغاز حضرت زکریا کی اس دعا سے ہوتا ہے۔
رب لاتذرنی فرداً (21 : 89) ” پروردگار ، مجھے اکیلا نہ چھوڑ “۔ کہ میرا کوئی وارث نہ ہو ، جو میرے بعد ہیکل کے معاملات کا نگراں ہو۔ حضرت زکریا بنی اسرائیل کے ہیکل (عبادت گاہ) کے نگراں تھے۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے پہلے کا واقعہ ہے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عبادات ، مقامات ، عبادات اور تمام لوگوں کے اموال کا آخری وارث تو اللہ ہی ہے۔ اسی لئے انہوں نے کہہ دیا۔
وانت خیر الورثین (21 : 89) ” اور بہترین وارث تو تو ہی ہے “ لیکن ان کا اصل مدعا یہ تھا کہ ان کے بعد ان کے اہل و عیال کے لئے ، ان کے دین کے لئے اور ان کے مال کے لئے ، ان کو اچھا جانشین ملے کیونکہ خلافت ارضی میں انسان ہی دست قدرت کا کام کرتا ہے۔ قبولیت دعا بھی فوراً ہی ہوتی ہے۔
فاستجبنا لہ و ھبنا لہ یحییٰ و اصلحنا لہ زوجہ (21 : 90) ” پس ہم نے اس کی دعا قبول کرلی۔ اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لئے درست کردیا۔ “ وہ بانجھ تھی ولادت کے قابل ہی نہ تھی لیکن یہاں دوسرے قصص کی طرح سیاق کلام میں اختصار کر کے قاری کو انجام یعنی استجابت دعا تک پہنچا دیا جاتا ہے۔
انھم کانوا یسرعون فی الخیرت (21 : 90) ” یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے۔ “ تو اللہ نے قبولیت دعا میں جلدی فرمائی۔
ویدعوننا رغباً و رھباً (21 : 90) ” اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے۔ “ رغبت اس لئے کہ اللہ راضی ہوجائے اور ڈر اس کا کہ اللہ ناراض نہ ہوجائے۔ ان کے دل اللہ کے ساتھ پختہ رابطہ رکھتے تھے ۔ اللہ کی رحمت کے وہ ہر وقت امیدوار رہے تھے۔
وکانوالنا خشعین (21 : 90) ” اور وہ ہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔ “ نہ تکبر کرتے تھے اور نہ ہمارے مقابلے میں زور آور تھے۔ یہ تھیں وہ صفات جن کی وجہ سے حضرت زکریا ، بیگم زکریا (علیہ السلام) اس بات کے مستحق ہوئے کہا نہیں غیر معمولی طور پر یحییٰ جیسا غیر معمولی لڑکا دیا جائے۔ یوں یہ ایک مبارک خاندان تھا ، اللہ کی رحمت و رضا کی مستحق۔
سب سے آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے ان کے والدہ حضرت مریم کا ذکر بھی آتا ہے ، اسی اختصار کے ساتھ۔
Ayah 21:91والتی …للعلمین (91)
یہاں مریم کے نام کو بھی حذف کردیا گیا ہے کیونکہ انبیاء کے تذکرے کے سلسلے میں ان کے بیٹے کا ذکر اصل مقصود تھا۔ آپ کا تذکرہ ان کے حالات کے ذیل میں آگیا اور آپ کی صرف اس صفت کو یہاں دہرایا گیا جس کا تعلق آپ کے بیٹے کے ساتھ ہے۔
والتی احصنت فرجھا (21 : 91) ” جس نے اپنی عفت کی حفاظت کی۔ “ یعنی اس نے اسے کسی قسم کی مباشرت سے بچایا۔ احصان اپنے قانونی استعمال میں نکاح کے لئے استعمال ہوتا ہے کیونکہ شادی شدہ ہونا دراصل فحاشی سے بچنے اور پاکدامنی اختیار کرنے کی بہترین صورت ہے۔ یہاں یہ لفظ اپنے لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی اپنے آپ کو ہر قسم کی مباشرت سے بچانا خواہ قانونی یا غیر قانونی ہو۔ یہ اس لئے کہ یہودیوں نے حضرت مریم پر بدکاری کا الزام لگایا اور انہیں یوسف نجار کے ساتھ مہتمم کیا تھا جو ہیکل کا ایک خدمتگار تھا۔ متد اولہ انجیلس اس بارے میں یہ کہتی ہیں کہ یوسف نجار نے مریم کے ساتھ نکاح کرلیا تھا لیکن ابھی رخصتی نہ ہوئی تھی اور وہ ان کے قریب نہ گیا تھا۔
جب اس نے پاکدامنی اور عفت اختیار کی فنفخنا فیھما من روحنا (21 : 91) ” ہم نے اس کے اندر اپنی روح پھونک دی۔ “ نفخ روح یہاں بھی عام ہے ، اس کا تعلق نہیں ہے۔ جس طرح سورة تحریم میں آ رہا ہے۔ سورة مریم میں ہم اس کی تفصیلات دے چکے ہیں۔ فی ضلال القرآن میں ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم آیات الٰہی تک اپنی بات کو محدود رکھتے ہیں۔ اس لئے یہاں بھی ہم تفصیلات میں نہیں جاتے ۔ آیات کے ساتھ ساتھ ہی ہم آخر تک جاتے ہیں۔
وجعلنھا وابنھا ایۃ للعلمین (21 : 91) ” اور اسے اور اس کے بیٹے کو دنیا بھر کے لئے نشانی بنا دیا۔ “ یہ ایک ایسا معجزہ اور ایسی نشانی تھی کہ نہ اس سے پہلے ایسا واقعہ ہوانہ بعد میں ہوگا۔ پوری انسانی تاریخ میں یہ واحد مثال ہے۔ یہ واقعہ اپنی مثال آپ ، اس لئے بنا دیا گیا کہ پوری انسانیت کے غور و فکر کے لئے یہ ایک واقعہ ہی کافی ہے۔ دست قدرت اپنے بنائے ہوئے قوانین قدرت کے مطابق کام کرتا ہے مگر اللہ اپنے بنائے ہوئے قوانین کا خود پابند نہیں ہے۔
رسولوں کے اس سلسلے کے بیان کے آخر میں ، جس میں رسولوں کی مثالیں ، ان کی آزمائشوں کی مثالیں ، ان پر اللہ کی رحمتوں کی مثالیں دی گئیں ، اب قرآن مجید ایک جامع بات بطور خلاصہ کلام بیان کرتا ہے۔
Ayah 21:92ان……فاعبدون (92)
انبیاء کا گروہ ایک ہی امت اور ایک ہی جماعت ہے۔ اس کا نظریہ بھی ایک ہے اور وہ سب ایک ہی نظام زندگی کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں۔ ان سب کا رخ اللہ ہی کی طرف ہے۔ زمین پر وہ ایک امت ہیں اور آسمانوں پر ان سب کا خدا ایک ہے۔ ان سب کا شعار صرف یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں ہے۔ اس طرح اس سورة کے ساتھ سبق کا یہ آخری تبصرہ بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے یہ کہ تمام پیغمبر کلمہ توحید کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں اور اس پوری کائنات کا نظام اس پر شاہد عادل ہے۔
Ayah 21:93درس نمبر 143 ایک نظر میں
یہ اس سورة کا آخری سبق ہے ، پہلے اسباق میں اس کائنات کے اندر جاری تکوینی قوانین قدرت کا ذکر تھا ، جو اس بات کے لئے نشانی تھے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے۔ جن قوانین کے مطابق اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیجتا ہے ، وہ بھی ایک ہیں اور بتاتے ہیں کہ تمام رسولوں کا عقیدہ ایک ہی تھا۔ اس سبق میں مناظر قیامت اور اس کی علامات کا ذکر ہے۔ اس منظر میں مشرکین اور اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کا انجام بتایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ وحدہ متصرف اور متدبر ہے جو پوری کائنات کو چلا رہا ہے۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر اقتدار اعلیٰ عطا کرنے کے لئے بھی قوانین اور سنن الہیہ جاری کر رکھے ہیں اور خاتم النبین ﷺ کا بھیجا جانا ، اس دنیا پر درحقیقت اللہ کی رحمت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان سے دست بردار ہوجائیں تاکہ یہ لوگ اپنے اللہ کے مقرر کردہ قدرتی انجام تک پہنچ جائیں اور پیغمبر ﷺ کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ ان کے کفر ، تکذیب اور استہزاء پر اللہ سے معاونت طلب کریں۔ انہیں چھوڑ دیں کہ یہ کھیل کود میں مصروف رہیں۔ یوم الحساب تو دور نہیں ہے۔
وتقطعوٓا……لایرجعون (95)
رسولوں کا ایک گروہ ہے۔ یہ ایک ہی نظریہ پر قائم ہے او ان کی امت بھی ایک ہی امت ہے۔ اس امت کی بنیاد کلمہ طیبہ اور توحید پر ہے۔ اس کی شہادت اس پوری کائنات میں جاری وساری قوانین قدرت بھی دیتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی کلمہ ہے جس کی طرف ابتداء سے لے کر انتہاء تک تمام رسولوں نے لوگوں کو بلایا ہے۔ اسلام کا یہ اصل کبیر ہے۔ ہاں مختلف رسولوں کے ہاں قائم ہونے والا مفصل نظام زندگی اور نظام قانون بہرحال مختلف ادوار میں مختلف رہا ہے۔ مختلف ادوار میں نظام قانونی اقدام کی استعداد اور ان کے درجہ ترقی کی مناسبت سے تشکیل پایا ہے۔ اس میں ان اقوام کے تجربات اور ان کے ذہنی ترقی اور قوت ادراک کو مدنظر رکھا جاتا رہا ہے۔ حیات ، وسائل زندگی اور لوگوں کے باہم ارتباط کے طور طریقوں ، سب کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
باوجود اس کے کہ رسول ایک تھے ، ان کا نظریہ حیات اور عقیدہ ایک تھا ، بعد میں آنے والے ان کے متبین نے اس ایک ہی دین ، نظریہ اور نظام کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہر گوہ دین کا ایک ایک ٹکڑا لے کر علیحدہ ہوگیا او اس کے بعد ان گروہوں کے درمیان اختلافات زیادہ ہوگئے ، عداوت شروع ہوگئی ، دشمنی اس قدر بڑھی کہ جنگ وجدال شروع ہوگئی اور لوگ دینی عقائد کی وجہ سے ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے حالانکہ عقائد ایک تھے ، کیونکہ امت ہی ایک تھی۔
انہوں نے دنیا میں تو اپنے ایک دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے لیکن ان کو یہ خیال نہیں ہے کہ یہ سب کے سب قیامت کی طرف بڑی جلدی سے بڑھ رہے ہیں۔
کل الینا رجعون (21 : 93) ” سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے۔ “ کیونکہ لوٹنے کی جگہ تو اللہ کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں۔ اللہ ہی ان سے حساب و کتاب لینے والا ہے اور اس کو علم ہے کہ ان میں حق پر کون ہے اور باطل پر کون ہے۔
Ayah 21:94فمن یعمل من اصلحت وھو مومن فلا کفران لسعیہ وانا لہ کتبون (21 : 93) ” پھر جو نیک عمل کرے گا اس حال میں کہ وہ مومن ہو ، تو اس کے کام کی ناقدری نہ ہوگی اور اسے ہم لکھ رہے ہیں۔ “ یہ ہے قانون عمل اور جزائے عمل۔ عمل صالح اگر قاعدہ ایمان کے اوپر مبنی ہو تو نہ اس کا انکار ہوگا اور نہ اس کی ناقدری ہوگی۔ وہ اللہ کے ہاں لکھا جا چکا ہوگا اور اس میں سے کوئی چیز لکھنے سے چھوٹ نہیں سکتی۔
اور ایمان پر مبنی ہونا اس لئے ضروری ہے کہ ایمان اور عمل کی قدر و قیمت ہو ، اگر ایمان نہ ہو تو عمل صالح ایمان موجود ہی نہیں ہو سکتا۔ ضروری ہے کہ عمل صالح ایمان کا ثمرہ ہو بلکہ وہ ایمان کا ثبوت ہو۔ ایمان زندگی کی بنیاد ہے کیونکہ ایمان دراصل انسان اور اس کائنات کے درمیان حقیقی رابطہ ہے۔ ایسا رابطہ جو اس کائنات کو اور اس کے اندر تمام موجودات کو خالق واحد کے ساتھ مربوط کردیتا ہے۔ پھر یہ سب کچھ اس ناموس قدرت کی طرف پھرجاتا ہے جس کے مطابق پوری کائنات چل رہی ہے اور جب تک پختہ اساس نہ ہوگی اس وقت تک اس کے اوپر عمارت کھڑی ہی نہیں ہو سکتی۔ عمل صالح کی مثال اونچی بلڈنگ کی ہے۔ اگر یہ اونچی عمارت کسی مضبوط اساس پر نہ اٹھائی جائے تو وہ کسی بھی وقت دھڑام سے گر جاتی ہے۔
پھر عمل صالح ہمیشہ اس ایمان کا ثمر ہوتا ہے جو اگرچہ دلوں میں ہو لیکن زندہ ایمان ہو۔ اسلام کس چیز کا نام ہے ؟ یہ ایک متحرک عقیدہ ہے۔ جس وقت یہ متحرک عقیدہ ضمیر میں اچھی طرح بیٹھ جاتا ہے تو پھر وہ جسم انسانی سے عمل صالح کی شکل میں نمودار ہوتا ہے بلکہ عمل صالح دراصل ایمان کا ایک پختہ پھل ہوتا ہے۔ یہ پھل لگتا ہی تب ہے اور پختہ بھی تب ہی ہوتا ہے جب درخت زمین کے اندر گہرائی میں جانے والی جڑوں پر کھڑا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم جب عمل اور جزاء کا ذکر کرتا ہے تو وہ ایمان اور عمل کو ایک ساتھ لاتا ہے لہٰذا ایسے ایمان پر کوئی جزاء نہیں ہے وہ منجمد ہو ، بالکل بچھا وہا ہو او اس کے ساتھ بالکل کوئی پھل نہ لگتا ہو۔ اسی طرح اس عمل پر جزاء نہیں ہے جو ایمان سے کٹا ہوا ہو۔
بعض اوقات بغیر ایمان کے بھی ایک اچھا عمل دیکھا جاتا ہے ، لیکن یہ ایک عارضی اتفاق ہوتا ہے ، کیونکہ یہ عمل ایک مکمل نقشے کے مطابق نہیں ہوتا نہ کسی قاعدے اور قانون پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ دراصل بعض اوقات ایک عاضری جذبے یا عارضی خواہش کے مطابق ظاہر ہوجاتا ہے اور اس کی پشت پر کوئی حقیقی باعث یا سبب نہیں ہوتا جو اس کائنات کے اندر کوئی حقیقت رکھتا ہو۔ مضبوط حقیقت یہ ہے کہ عمل صالح خدائے ذوالجلال کی رضا مندی کے لئے کیا جائے۔ ایسا ہی عمل دراصل تعمیری عمل ہوتا ہے۔ ایسا ہی عمل اس کمال اور ترقی کا سبب بنتا ہے جو اللہ نے اس دنیا کی زندگی کی ترقی کے لئے طے کیا ہے۔ پس عمل صالح وہ بامقصد تحریک ہے جو اس زندگی کے مقصد کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔ محض عارضی جذبہ یا محض اتفاقی اثر اس کا باعث نہیں ہوتا بلکہ وہ با مقصد عمل ہوتا ہے۔ پھر یہ عمل ایسا ہو کہ جس طرح یہ پوری کائنات خالق کائنات کے قانون قدرت کے مطابق چل رہی ہے اسی طرح وہ عمل بھی خالق کائنات کے قانون انسانی اور قانون فطرت کے مطابق ہو۔ دونوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہو۔
عمل کی مکمل جزاء تو آخرت میں ملتی ہے اگرچہ اس کا ایک حصہ اس دنیا میں بھی مل جائے۔ جن بستیوں کو دنیا میں بلاک کیا گیا ان کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا آخرت میں بھی ملے گی۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ان کو میدان حشر میں نہ اٹھایا جائے۔ لازماً حشر کے میدان میں یہ سب لوگ اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 21:95وحرم علی قریۃ اھلکنھا انھم لایرجعون (21 : 95) ” اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا وہ پلٹ کر نہ آئے گی۔ “
یہاں ہلاک شدہ بستیوں کا ذکر فرمایا جاتا ہے ، خصوصیت کے ساتھ ، اس لئے کہ اس سے قبل کہا گیا تھا کہ
کل الینارجعون (21 : 93) ” سب ہماری طرف پلٹ کر آنے والے ہیں۔ “ بعض اوقات ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ جن بستیوں کو دنیا میں ہلاک کردیا گیا ہے شاید وہ ہمیشہ کے لئے ختم کردی گئیں اور وہ پلٹ کر نہ آئیں گی اور ان کا حساب و کتاب ختم ہوگیا اس لئے یہاں دوبارہ تاکید کی جاتی ہے کہ یہ بستیاں ضرور واپس لوٹ کر قیامت میں آئیں گی اور نہ ان کا آنا حرام ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہلاک شدہ بستیاں نہ آئیں۔ یہ انداز کلام ذرا عجیب و غریب ہے۔ اس لئے بعض مفسرین نے یہ تاویل کی ہے کہ ” لا “ یہاں زائد ہے اور مطلب یہ ہے کہ جب ان بستیوں کو نابود کردیا گیا تو پھر وہ واپس نہیں آسکتیں۔ بعض نے یہ تاویل کی ہے کہ اس ہلاکت کے بعد ان کا رجوع ہدایت کی طرف نہیں ہوسکتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں تاویلوں کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ نص قرآنی کی وہی تفسیر بہتر ہے جو اس کی ظاہری ترکیب کے مطابق ہو اور سیاق کلام میں اس مفہوم کے لئے قرینہ بھی ہے جو ہم نے بیان کیا ہے۔
اس کے بعد مناظر قیامت میں سے ایک منظر کو یہاں پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر کا آغاز اس علامت سے کیا جاتا ہے کہ جس کا ظہور قرب قیامت کے زمانے میں ہوگا۔ وہ ہے یا جوج اور ماجوج کا کھل کر ٹوٹ پڑنا۔
Ayahs 21:96–97حتی اذا ……فعلین (104)
سورة کہف میں قصہ ذوالقرنین کے بیان میں ہم نے یہ کہا تھا ” یاجوج اور ماجوج کے کھلنے کے ساتھ قرب قیامت کے وقت کا جو ذکر آتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ قرب قیامت تاتاریوں کے نکلنے سے واقع ہوگیا ہو ، تاتاری نکلے اور آناً فاناً شرق و غرب پر چھا گئے اور انہوں نے تمام ممالک اور بادشاہوں کو روند ڈالا اس لئے کہ قرآن نے حضور اکرم ؐ کے زمانے ہی میں کہہ دیا تھا کہ و اقتربت الساعۃ ” قیامت قریب آگئی “ نیز قایمت کے قریب ہونے سے بھی ” قریب “ کا تعین نہیں ہوتا کیونکہ زمانے کا حساب انسانوں کے نزدیک اور اللہ کے نزدیک بالکل مختلف ہے۔ اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ “
یہاں اس دن کے مناظر بتائے جا رہے ہیں جب وہ آجائے گا او اس دن کے آنے سے قبل زمین کے اندر جو واقعات ہوں گے وہ یہ کہ یاجوج اور ماجوج ہر طرف سے پھوٹ پڑیں گے اور پھر بلندی سے وہ ٹوٹ پڑیں گے۔ قرآن کریم کا یہ خاص انداز ہے کہ وہ زمین کے مالوف مناظر کو پیش کر کے انسان کو اخروی مناظر کی طرف لے جاتا ہے۔
یہاں قیامت کا جو منظر پیش کیا جا رہا ہے اس میں سر پر ائز دینے کا ایک عنصر ہے۔ اس منظر کو اچانک دیکھ کر لوگ مبہوت رہ جائیں گے۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی۔
فاذا ھی شاخصۃ ابصار الذین کفروا (21 : 98) ” یکایک ان لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہوں نے کفر کیا تھا۔ “ یہ منظر اس قدر اچانک ہوگا کہ اس کے خوف کی وجہ سے لوگوں کو کچھ نظر ہی نہ آئے گا۔ یہاں قرآن کریم نے ابصار سے پہلے شافعہ کا لفظ رکھا ہے تاہ اس منظر کو اچھی طرح ذہن نشین کر دے۔ اب ان کے حالات اور ان کی حالت کو چھوڑ کر قرآن ان کے مکالمے کو نقلک رتا ہے۔ اس طرح یہ منظر اسکرین پر واضح ہو کر آتا ہے۔
قالوا یویلنا قد کنا فی غفلۃ من ھذا بل کنا ظلمین (21 : 98) ” کہیں گے ہائے ! ہماری کم بختی ، ہم اس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے بلکہ ہم خطاکار تھے۔ “ یہ ہے فریاد اس شخص کی جس پر غیر متوقع طور پر کوئی مصیبت آجائے۔ ایک خطرناک حقیقت اچانک اس پر کھل جائے۔ وہ دہشت زدہ ہوجائے۔ دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں۔ دیکھے مگر نظر نہ آئے۔ آخر کار چیخ اٹھے کہ مارے گئے۔ اعتراف گناہ کرلے۔ نادم ہوجائے مگر بعد از وقت۔
جب اچانک پکڑے جانے ، دہشت زدہ ہونے ، اور حواس بحال ہونے کے بعد اعتراف ہوتا ہے تو حکم الٰہی فی الفور صادر ہوتا ہے۔
انکم و ماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھا وردون (21 : 98)
Ayahs 21:98–100انکم و ماتعبدون من دون اللہ حصب جھنم انتم لھا وردون (21 : 98)
ترجمہ :۔
” بیشک تم اور تمہارے وہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو ، جہنم کا ایندھن ہو ، وہیں تم کو جانا ہے۔ “ اچانک یہ لوگ اب میدان حشر میں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔ یہ جہنم کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ بڑی بےدردی کے ساتھ فرشتے ان کو اور ان کے معبودوں کو پکڑتے ہیں اور جہنم میں پھینکتے ہیں۔ وہاں پھینکے جاتے ہیں اور ایندھن کے ساتھ ایندھن ہو کر جلتے جاتے ہیں۔ صرف اس منظر سے ان کے خلاف استدلال ، وجدانی استدلال کیا جاتا ہے کہ اگر یہ الہ ہوتے تو وہ جہنم کا ایندھن نہ بنتے۔ یہ ہے واقعی وجدانی دلیل۔
لوکان ھولآء الھۃ ماوردوھا (21 : 99) ” اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے۔ “ یہ منظر ان کے سامنے تو قرآن اس دنیا میں پیش کر رہا ہے ، لیکن اس طرح کہ گویا یہ منظر ہو کر گزر گیا ہے۔ وہ عملاً جہنم کے دھانے تک پہنچ گئے اور وہاں ڈال دیئے گئے تو اب جہنم میں ان کا جو حال ہے ، وہ پیش کردیا جاتا ہے ۔ اس طرح کہ جس طرح کوئی عملاً ایسے حالات میں پڑا ہو۔
وکل فیھا خلدون (21 : 99) لھم فیھا زفیر وھم فیھا لا یسمعون (21 : 100) ” اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔ وہاں وہ پھنکارے ماریں گے اور حال یہ ہوگا کہ اس میں کان بڑی آواز نہ سنائی دے گی۔ “ اب ذرا ان کو یہاں ہی چھوڑیئے اور آیئے دیکھیں مومنین کا حال کیسا ہے۔ ان کے حق میں تو فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے۔ کامیابی اور نجات ان کا مقصدر ہوچکی ہے۔
Ayahs 21:101–102ان الذین سبقت ……خلدون (21 : 102) ” رہے وہ لوگ جن کے بارے میں ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے تو وہ یقینا اس سے دور رکھے جائیں گے۔ اس کی سرسراہٹ تک نہ نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ من بھاتی چیزوں میں رہیں گے۔ ‘ لفظ حسبھا ان الفاظ میں سے ہے جو اپنے صوتی ترنم سے اپنے مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ لفظ آگ کی اس آواز کو ظاہر کرتا ہے جو جلتی ہے اور جلاتی ہے اور سر سر کی آواز سنائی دیتی ہے۔ یہ ایسی آواز ہے کہ اس کے تصور سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس پر اس کے بارے میں سوچتے ہی کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان جن کے بارے میں اچھا فیصلہ صادر ہوچکا ہے اس آواز کو بھی نہ سنیں گے۔ دیکھیں گے بھی نہیں کیونکہ وہ اس دن کے عظیم جزع و فزع سے نجات پا چکے ہیں۔ وہ ایسے باغات میں ہوں گے جن میں ان کو متام مرغوبات فراہم ہوں گی۔ ملائکہ انہیں ہر طرف سے اچھا کہیں گے اور ان کے ساتھ رہیں گے تاکہ یہ لوگ اس دن کے خوف و ہراس سے متاثر نہ ہوں۔
Ayah 21:103لایحزنھم الفزع الاکبر و تتلقھم الملئکۃ ھذا یومکم الذی کنتم توعدون (21 : 103) ” وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت ان کو پریشان نہ کرے گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں میں لیں گے کہ یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ “
ان منظر کو اس کائنات کے خاتمے کے منظر پر ختم کیا جاتا ہے ، یہ کائنات اس دن کی طرف لوٹتی ہے۔ اس دن کے خوفناک منظر میں جس طرح تمام لوگوں کے دل اس خوف کی گرفت میں ہیں اس طرح پوری کائنات بھی اس خوف و ہراس کی گرفت میں ہے۔
Ayah 21:104یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب (21 : 103) ” وہ دن جب آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔ آسمان اس طرح لپیٹ دیا جائے گا جس طرح ریکارڈ کی پر ریکارڈ کو لپیٹ کر رکھ دیتا ہے۔ اب یہ منظر ختم ہوتا ہے اور یہ کائنات اس طرح لپیٹ دی جاتی ہے جس طرح ہمارے کاغذات اب کیا ہے ایک نئی دنیا اور ایک نئی کائنات اور نیا جہاں۔
کما بدانا اول خلق نعیدہ وعدا علینا انا کنا فعلین (21 : 103) ” جس طر ہم نے پہلے تخلیق کی ابتداء کی اسی طرح ہم پھر اس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمے اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے۔ “
کائنات کے خاتمہ کے اس خوبصورت منظر کو پیش کرنے کے بعد اور آخرت میں دوبارہ جہاں کو پیدا کرنے کے لئے ، روئے سخن پھر اس زمین کی طرف مڑ جاتا ہے۔ اللہ کی آل سنت بیان کی جاتی ہے کہ اس دنیا کے اقتدار اعلیٰ کی وراثت کا حق میرے صالح بندوں کا ہے اور یہ حق ان کو اس لئے دیا گیا ہے کہ وہ دنیا میں اللہ کی بندگی کر کے اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کرچکے ہیں ان دونوں مناظر کے درمیان پورا ربط ہے۔ آخرت بھی نیک بندوں کی اور دنیا بھی نیک بندوں کی۔