21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 21:34–35

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ ‘ ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے ‘ اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے ؟

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے ‘ اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال رک تم سب کی آزمائش کررہے ہیں ۔ آخر کار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے “۔

وما جعلنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والینا ترجعون ” کل نفس ذائقۃ الموت (12 : 53) ” ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے “۔ یہ قانون قدرت اس کرئہ ارض پر حیات پر لاگو ہی اور اس قاعدے میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ لہٰذا تمام زندوں کو ‘ تمام عقلمند زندوں کو اس مذاق کا خیال رکھنا چاہیے۔ موت ہر زندہ چیزکا انجام ہے۔ زمین میں انسان کا ایک مختصر سفر ہے۔ سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔ یہاں سفر کے دوران انسان کو جو حالات پیش آتے ہیں یہ تو اس کے لیے آزمائش ہے ‘ ایک امتحان ہے۔ ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ (12 : 53) ” اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کررہے ہیں “۔ شر میں مبتلا کر کے آزمائش سمجھ میں آتی ہے کہ معلوم ہوجائے کہ کون کس قدر صبر کرتا ہے ‘ کس قدر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اسے کس قدر رحمت خداوندی پر یقین ہے لیکن بھلائی اور خیر میں آزمائش کیسی ؟ اس کی تشریح کی ضرورت ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ بھلائی اور خیر میں آزمائش زیادہ سخت ہوتی ہے۔ اگرچہ لوگ اسے شر کی آزمائش سے کم تر سمجھتے ہیں۔ اکثر لوگ شر میں آزمائش کا مقابلہ تو کرلیتے ہیں لیکن خیر میں ان سے آزمائش کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔ بیماری اور ضعف میں لوگ شر کا مقابلہ کرتے ہیں لیکن صحت اور عافیت میں کم لوگ آزمائش کا مقابلہ کر ست کے ہیں۔ ان کے پاس اختیارات کی اندھی قوت ہوتی ہے یا جسمانی اندھی قوت ہوتی ہے۔ اس کے استعمال میں وہ فیل ہوجاتے ہیں۔ بیشمار لوگ ایسے ہوں گے جو فقرو فاقہ برداشت کریں گے اور ان کے نفوس کبھی بھی ان کو ذلت اور برے طریقوں پر رزق حرام پر آمادہ نہ کرسکیں گے لیکن کم ہیں جو دولتمندی کی آزمائش میں پورے اتریں۔ دولت کا حق ادا کریں ‘ تکبرو غرور نہ کریں اور عیش و عشرت سے بچیں۔ بہت لوگ ہوں گے جو تشدد کو برداشت کریں گے اور ڈراوے اور دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں گے لیکن کم لوگ ہوں جو امن و عافیت کے دور میں مرغوبات ‘ منصب اور سازو سامان کی کشش کا مقابلہ کرسکیں۔ بہت لوگ ایسے ملیں گے جو مارپیٹ اور جسمانی اذیت اور زخموں کا مقابلہ کریں گے لیکن کم ایسے ہوں گے جو عیش و عشرت سے صبر کرسکیں یا طمع و لالچ کے مقابلے میں سیدھے کھڑے ہو سکیں کیونکہ دنیا کا لالچ بڑے بڑوں کی گردنیں جھکا دیتا ہے اور لوگ اس قدر سست پڑجاتے ہیں کہ ان کی ہمتیں ٹوٹ جاتی ہیں اور روحانی طور پر وہ ذلت اختیار کرلیتے ہیں۔ تشدد اور جسمانی تعذیب کے نتیجے میں انسان کی خودی بیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے اعصاب میں قوت برداشت پیدا ہوجاتی ہے اور جسم کی تمام قوتیں تشدد برداشت کرنے کے لیے صف آرا ہوجاتی ہیں۔ لیکن خو شحالی ! یہ بہت ہی خطرناک ابتلاء ہے۔ اس سے اعصاب ڈھیلے ہوجاتے ہیں۔ جسمانی قوت مدافعت پر غنودگی طاری ہوجاتی ہے اور بیداری اور جدوجہد کی قوت ختم ہوجاتی ہے۔ ہم نے بہت سے ایسے تجربے کئے ہیں کہ تشدد اور جسمانی تعذیب میں ایک کارکن بہت ہی کامیاب رہا ‘ مقابلہ کرتارہا لیکن جب خوشحالی آگئی ‘ تو خوشحالی اور فراوانی کی آزمائش میں وہ فیل ہوگیا ۔ یہ ہے انسان یک کہانی۔ الا وہ لوگ جنہیں اللہ بچالے اور جن کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :” مومن کی شان بھی عجیب ہے کہ اس کا کام ہر حال میں کامیابی ہے۔ اور یہ سہولت صرف اہل ایمان کو حاصل ہے اور کسی کو نہیں۔ اگر اسے خوشحالی مل جئے تو وہ اس پر خدا کا شکر ادا کرتا ہے ‘ تو وہ اس کے لیے خیر ہوجاتی ہے ‘ اگر اس پر مشکل دن آجاتے ہیں توہ صبر کرتا ہے ‘ تو یہ برے دن بھی اس کے لیے اچھے ہوجاتے ہیں “۔ لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔ لہٰذا انسان کو عموماً اور تحریک اسلامی کے کارکن کو خصوصاً برے دنوں کے مقابلے میں اچھے دنوں میں زیادہ چوکنارہنا چاہیے البتہ دونوں حالات میں رب تعالیٰ کے ساتھ حقیقی تعلق ہی کامیابی کی اصل ضمانت ہے۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

یہ منکرین حق جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں ۔ کہتے ہیں ” کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے خدائوں کا ذکر کرتا ہے ؟ “ اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ وہ رحمن کے ذکر سے منکر ہیں “۔

درس نمبر 141 ایک نظر میں اس سے قبل کے سبق میں ہم نے دور تک اس کائنات کا سفر کیا۔ اس کائنات میں قوانین قدرت کا مطالعہ کیا ‘ انسانیت کا انجام تاریخی واقعات کی روشنی میں دیکھا۔ اس سبق میں روئے سخن اسی مضمون کی طرف مڑ جاتا ہے جس کا سورة کے آغاز میں ہم نے مطالعہ کرلیا ہے کہ مشرکین نے حضور ﷺ کا اور آپ پر آنے والی وحی کا استقبال مذاق سے کیا اور شرک پر اصرار کرتے رہے۔ اس کے بعد اس سبق میں انسان کی فطرت کی عجلت پسندی اور سیہاہیت کا ذکر ہوا ہے یہاں تک کہ یہ لوگ عذابالہٰی لے آنے میں بھی بہت جلدی کرتے ہیں۔ ان کو ان کی اس حرکت پر متنبہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ مذاق کرنے کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ان کو ان کی اس حرکت پر متنبہ کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ مذاق کرنے کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ ان کو اس سبق میں یہاں با اثر ‘ غالب اور اقتدار قبضہ کرنے والوں کے سایہ اقتدار کے سکڑنے کا ایک منظر بھی دکھایا جاتا ہے اور عذاب آخرت کا ایک منظر بھی دیکھا یا جاتا ہے۔ سبق کا خاتمہ اس مضمون پر ہوتا ہے کہ یوم آخرت میں مجرمین سے سخت حساب لیاجائے گا۔ چناچہ آخر میں حساب آخرت ‘ قوانین فطرت ‘ انسان کی فطرت اور انسان کی زندگی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی سنت اور داعیان اسلام کے بارے میں سنت الہیہ کے مضامین کو باہم ملایا جاتا ہے۔ واذا راک الذین۔۔۔۔ کفرون (62) یہ کفار خود تو رحمن کے وجود ہی کا انکار کرتے ہیں ‘ حالانکہ وہ اس کائنات کا خالق اور مدبر ہے اور رسول اللہ ﷺ کی جانب ان کے الہوں اور بتوں پر جو معقول تبصرہ کیا جاتا ہے اسے پسند نہیں کرتے لیکن وہ خود جب رحمن کا انکار کرتے ہیں تو اس میں کوئی ہرج محسوس نہیں کرتے حالانکہ وہ رحمن کے بندے ہیں اور پھر قرآنی تعلیمات کا انکار کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی فطرت میں بےحد بگاڑ پیدا ہوچکا ہے اور وہ جس پیمانے سے دیتے ہیں اس سے لیتے نہیں ‘ اور حقائق کا فیصلہ غلط کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ ان کو جس عذاب الٰہی سے ڈراتے ہیں ‘ اس کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جلدی کیوں نہیں اتا حالانکہ حضور ﷺ ان کو اس سے ڈراتے ہیں۔ یہ جلدی وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انسان کی فطرت میں جلد بازی ہے۔
Ayahs 21:37–38

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان جلد باز مخلوق ہے۔ ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں ‘ مجھ سے جلدی نہ مچائو۔

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں ” آخر یہ دھمکی پوری کب ہوگی اگر تم سچے ہو “۔

خلق الانسان۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین ” انسان پیدا ہی جلد بازی سے کیا گیا ہے۔ عجلت اس کے مزاج اور اس کی تخلیق میں رکھی گئی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی نظریں اس پر لگائے رکھتا ہے کہ مستقبل کے پردے کے پیچھے سے کیا نمودار ہوتا ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ مستقبل کے راز بھی یہ ہاتھ میں لے لے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے تمام تاثرات حقیقت کا روپ اختیارکر لیں۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کے ساتھ جو وعدے ہوتے ہیں وہ اس کے سامنے آجائیں اگرچہ انمیں اس کو تکلیف ہی ملے۔ یہ صورت حال تب بدلتی ہے جب انسان کا رابطہ اللہ کے ساتھ قائم ہوجائے۔ اس صورت میں اس کی زندگی میں ٹھہرائو آجاتا ہے۔ وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور اپنے معاملات اللہ کے سپرد کردیتا ہے ‘ پھر جلد بازی نہیں کرتا۔ ایمان نام ہی یقین ‘ صبر اور اطمینان کا ہے۔ یہ مشرکین جو عذاب کے آنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتی ہیں کہ جلدی کیوں نہیں آتا ‘ یہ بھی پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی یعنی عذاب آخرت کب ہوگا اور عذاب دنیا کب آئے گا جس سے تم ڈراتے ہو۔ اس موقع پر صرف عذاب آخرت کا ایک منظر ان کے سامنے پیش کردیا جاتا ہے اور ڈرایا جاتا ہے کہ تم سے قبل بھی کئی لوگوں نے اس قسم کا مذاق کیا تھا ‘ لیکن جب عذاب آیا تو وہ سامان عبرت بن گئے۔
Ayahs 21:39–41

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش ان کافروں کو اس وقت کا کچھ علم ہوتا جبکہ یہ نہ اپنے منہ آگ سے بچا سکیں گے نہ اپنی پیٹھیں ‘ اور نہ انکو کہیں سے مدد پہنچے گی۔

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

وہ بلا اچانک آئے گی اور انہیں اس طرح یک لخت دبوچ لے گی کہ یہ نہ اس کو دفع کرسکیں گے اور نہ ان کو لمحہ بھر کی مہلت ہی مل سکے گی۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

مذاق تم سے پہلے بھی رسولوں کا اڑایاجا چکا ہے ‘ مگر ان کا مذاق اڑانے والے اسی چیز کے پھیر میں آکر رہے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے “۔

لویعلم الذین کفروا۔۔۔۔۔۔ ماکانوا بہ یستھزء ون (93 : 14) ” اگر انکو علم ہوجائے کہ ان کی حالت کیا ہوگی ‘ تو ان کا رویہ یہ نہ ہوتا ‘ جواب ہے۔ یہ عذاب میں نہ جلدی کا مطالبہ کرتے اور نہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مذاق کرتے۔ ان کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس وقت ہوگا کیا۔ وہاں ان کی حالت یہ وہگی کہ ہر طرف سے آگے کے شعلے انہیں نوچ رہے ہوں گے ‘ جھلسا رہے ہوں گے اور یہ اپنے آپ کو بچانے کی نااکم کوششیں کررہے ہوں گے ‘ قرآن اس کی تصویر اس طرح کھینچتا ہے کہ چہروں پر شعلے حملہ کریں گے ‘ پیٹھوں پر کریں گے اور یہ کسی طرح کا دفاع نہ کرسکیں گے بلک یہ آگ ہمہ جہست ان پر شعلہ بار ہوگی اور یہ کسی شعلے کو رد نہ کرسکیں گے ‘ نہ موخر کرسکیں اور نہ انکو اس عذاب سے ذرا سی مہلت ملے گی۔ یہ آگ اچانک ان پر آئے گی ‘ اس لیے کہ یہ لوگ بہت جلدی کرتے تھے۔ ان لوگوں کا تو تکیہ کلام ہی یہ تھا۔ متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین (12 : 83) ” یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو “۔ اس کا جواب تو یہ ہوا کہ اچانک ان پر ہر طرف سے شعلہ باری ہوگی۔ وہ حیران ہوجائیں گے اور ان کی عقل اب کچھ نہ کرسکے گی۔ نہ سوچ سکیں اور نہ کوئی دفاع کرسکیں گے اور نہ دفاعی منصوبہ بندی کے لیے کوئی مہلت ملے گی۔ یہ تو ہوگا آخرت کا عذاب۔ رہا دنیا کا عذاب تو وہ اس قسم کے مذاق کرنے والوں پر تاریخ میں بار بار آیا ہے۔ مشرکین مکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر چہ اللہ نے ان کے لیے سرے سے مٹانے کا عذاب مقدر نہیں کیا لیکن قتل ‘ قید اور مغلوبیت کا عذاب تو تم پر آسکتا ہے۔ لہٰذا اس کم درجے کے عذاب سے بھی یہ مذاق کرنے والے محفوظ نہیں ہیں۔ ورنہ رسولوں کے ساتھ مذاق کرنے والوں کا انجام تو تاریخ نے بار ہاریکارڈ کیا ہے۔ جب یہ سنت الہیہ کے مطابق آتا ہے تو پھر ملتا نہیں ہے اور اس کے نظارے ان لوگوں کی تاریخ میں کئی ہیں جو رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے رہے ہیں۔ آیا رحمن کے سوا اور کوئی ہے جو رات اور دن انہیں بیشمار مصیبتوں سے بچاتا ہے۔ کیا دنیا کے عذاب یا آخرت کے عذاب سے ‘ اللہ کے سوا انہیں کوئی اور بچانے والا ہے کہ یہ اس قدر شتابی کرتے ہیں ؟
Ayahs 21:42–43

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

’ اے نبی ﷺ ‘ ان سے کہو ” کون ہے جو رات کو یا دن کو تمہیں رحمن سے بچا سکتا ہو ؟ “ مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا یہ کچھ ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں ؟ وہ تو نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہماری ہی تائید ان کو حاصل ہے۔

قل من یکلئو کم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولاھم منا یصحبون (24 : 34) ’ اللہ رات دن ہر ذی روح کو مختلف مضرتوں سے بچانے والا ہے۔ یہ صفت رحمن ہے یعنی بہت زیادہ مہربان۔ اللہ کے سوا اور کوئی ذات بچانے والی یا مدد گار نہیں ہے۔ اے پیغمبر ‘ ان سے پوچھو کہ اللہ کے سوا ہے کوئی اور تمہارا حامی اور محافظ ؟ یہ سوال دراصل سرزنش اور توبیخ کے لیے کیا گیا ہے اور استفہام انکاری ہے یعنی کوئی نہیں ہے۔ تم بہت بڑی غفلت میں پڑے ہوئے ہو یہ تو اللہ ہی ہے جو رات اور دن تمہیں بچاتا ہے اور اس کے سوا کوئی بھی بچانے والا یا حفاظت کرنے والا نہیں ہے۔ بل ھم۔۔۔۔ معرضون (12 : 24) ” مگر یہ اپنے رب کی نصیحت سے منہ موڑتے ہیں “۔ اسی سوال کو ایک دوسری صورت میں ان سے پوچھا جاتا ہے۔ ام لھم۔۔۔۔۔۔ من دو ننا (12 : 24) ” کیا یہ کوئی ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں “۔ تاکہ یہی الہٰ دوسرے معاملات میں ان کی حمایت و حفاظت کریں ‘ ہر گز نہیں۔ ان کے جو الہٰ ہیں ان کی حالت یہ ہے۔ لایستطیعون نصر انفسھم (12 : 34) ” وہ تو خود اپنی مدد نہیں کرسکتے “۔ جب وہ اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے تو دوسروں کی کیا مدد کریں گے۔ ولا ھم منا یصحبون (12 : 34) ” اور نہ ہماری تائید ان کو حاصل ہے اور نہ دوستی کہ ایک صاحب قوت سے کوئی قوت حاصل کرلیں۔ جیسا کہ ہارون اور موسیٰ علیہم اسلام نے اللہ سے تائید حاصل کی جب اللہ نے کہا جائو فرعون کی طرف۔ اننی معکما اسمع واری ” میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں “۔ یہ الہٰ تو بذات خود کسی قسم کی قوت نہیں رکھتے۔ نہ ان کو اللہ کی تائید حاصل ہے لہٰذا وہ کسی کی مدد نہیں کرسکتے۔ مشرکین کے اعتقادات کی اس کمزوری کی نشاندہی کے بعد اور ان کے ساتھ یہ مذاق کرنے کے بعد اور یہ دیکھنے کے بعد کہ ان کا استدلال دلیل سے خالی ہے سیاق کلام ان کے ساتھ بحث ختم کرکے اس موضوع پر بحث کرتا ہے کہ وہ اس انداز سے کیوں الجھتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو احساس دلایا جاتا ہے کہ کچھ تو غور کرو ‘ وست قدرت کو دیکھو کہ وہ کس طرح ان کبراء کے اثرو رسوخ کو کم کرکے ان کے پیروں تلے سے زمین نکال رہا ہے۔ انکے اثرو رسوخ اک دائرہ تنگ ہو رہا ہے ‘ حالانکہ وہ وسیع علاقے میں بااثر تھے۔ انکو قوت حاصل تھی اور بڑا اقتدار تھا انکا۔
Ayah 21:44

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو اور ان کے آبائو اجداد کو ہم زندگی کا سروسامان دیئے چلے گئے یہاں تک کہ ان کو دن لگ گئے مگر کیا انہیں نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں ؟ پھر کیا یہ غالب آجائیں گے “

بل متعنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افھم الغلبون (44) ” ۔ درحقیقت ہم نے ان کو اور ان کے آبائو اجداد کو موروثی طور پر خوشحال بنایا تھا ‘ اسدولتمندی نے ان کی فطرت کو بگاڑ دیا تھا۔ ان کا دماغ خراب ہوگیا تھا۔ اور انکے احساسات اور میلانات بدل گئے تھے۔ خدا کے ساتھ ان کا تعلق کمزور پڑگیا تھا اور اس کائنات میں ذات باری پر دلالت کرنے والے جس قدر دلائل تھے ان پر یہ غور نہ کرتے تھے۔ یہ تھی ان کی آزمائش مگر یہ آزمائش خوشحالی کے ساتھ کی گئی اور خوشحالی میں اگر اللہ کسی کا امتحان لے تو وہ سخت ہوتا ہے حالانکہ دولتمندی میں یاد الہٰی اور اللہ کے ساتھ تعلق کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ قرآن مجید ان لوگوں کے احساس کو ایک دوسرا منظر پیش کرکے جگا نا چاہتا ہے۔ یہ منظر بھی ہر وقت اس کرئہ ارض پر حقیقی واقعات کی شکل میں دہریایا جاتا ہے کہ ایک بڑی مملکت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر سکڑ جاتی ہے ایک عظیم مملکت سے چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن جاتی ہیں۔ ایک بڑی قوت ہونے اور دنیا پر غالب ہونے کے بعد یہ مغلوب ریاستیں بن جاتی ہے۔ اور ایک نہایت ہی بڑی ریاست چھوٹی ریاست بن جاتی ہے۔ بڑی تعدا کم تعداد ہوجاتی ہے اور مالدار مملکت کے بجائے ایک غریب مملکت بن جاتی ہے۔ انداز کلام یوں ہے کہ وست قدرت ان بڑی بڑی مملکتوں کو سیکڑ دیتا ہے۔ جب تخیل اپنا کام کرتا ہے تو نہایت خوں انگیز منظر سامنے آتا ہے۔ اقوام کے مددجزر کی وھیمی حرکت نہایت ہی خوفناک نتائج پیدا کرتی ہے۔ افھم الغلبون (12 : 44) ” کیا یہی غالب ہوں گے “۔ کیا ان کے ساتھ وہی کچھ نہ ہوگا جو دوسری اقوام کے ساتھ رات اور دن ہو رہا ہے۔ اقوام کے مدد جزر کے اس خوفناک منظر کے بعد حضور اکرم ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ ان کو ایک آخری ڈر اوا اور وارننگ دے دیں۔
Ayah 21:45

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

ان سے کہہ دو کہ ” میں تو وحی کی بنا پر تمہیں متنبہ کررہا ہوں “۔ مگر بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جبکہ انہیں خبردار کیا جائے “۔ ”

قل انمآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اذا ماینذرون (54) ” لوگوخیال کرو ‘ کہیں تم بہرے تو نہیں ہو۔ تم کیوں نہیں سنتے۔ ورنہ تمہارے پیروں تلے سے زمین سرک جائے گی اور دست قدرت تمہیں سیکڑ کر رکھ دے گا۔ ان کو دولت کے گھمنڈ اور مالدری کی مستی سے ڈرایا جاتا ہے۔ سیاق کلام اپنی موثر بات مزید بڑھاتا ہے اور عذاب کے وقت خود ان کی تصویری حالت ان کو بتاتا ہے۔
Ayah 21:46

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر تیرے رب کا عذاب ذرا سا انہیں چھو جائے تو ابھی چیخ اٹھیں کہ ہائے ہمار کم بختی ‘ بیشک ہم خطاوار تھے “

ولئن مستھم۔۔۔۔۔۔۔۔ انا کنا ظلمین ” ۔ لفظ نفحہ کا اطلاق خیر اور رحمت کے مفہوم میں ہوتا ہے یعنی جھونکا۔ یہاں مراد ہے عذاب الہٰی یعنی عذاب الہیٰ کا ایک ہلکا جھونکا بھی انہیں چھو جائے تو یہ اعتراف گناہ کرلیں گے لیکن اس وقت پھر اعتراف کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اس سے کقبل اس سورة میں بستیوں والوں کی یہ پکار گزر گئی ہے کہ جب ان پر عذاب آیا تو انہوں نے اعتراف کرلیا۔ یویلنآ۔۔۔۔۔۔ خمدین (51) (12 : 41۔ 51) ” ہائے ہماری کم بختی ‘ بیشک ہم خطا وار تھے اور یہی پکار تے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کردیا ‘ زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا “۔ لیکن یہ اعتراف بعد ازوقت تھا۔ لہٰذا ان کے لیے بہتر ہے کہ اس تنبیہ کو قبل ازوقت قبول کرلیں قبل اسکے کہ عذاب الہی کا ایک جھونکا ان پر آجائے۔ یہ سبق قیامت کے حساب و کتاب کے ایک آخری منظر پر ختم ہوتا ہے۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے ‘ پھر کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ جس کا رائی کے دانے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہوگا وہ ہم سامنے لے آئیں گے اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں “۔

ونضع الموازین۔۔۔۔۔۔ حسبین (74) ” رائی کے دانے سیمراد چھوٹی سے چھوٹی چیز ہے جو ترازو میں بہت ہی ہلکی ہو۔ یوم حساب میں اسے بھی نظر انداز نہ کیا جاسکے گا اور اس قدر حساس میزان ہوگا کہ حبہ خرولی سے بھی ترازو اوپر نیچے ہوگا۔ لہٰذا ہر نپس کو کل کے لیے زیادہ سے زیادہ بچت کرنا چاہیے۔ دلوں کو چاہیے کہ وہ ڈرانے والے کی طرف کان لگا کر سنیں۔ غافلوں ‘ منہ موڑنے والوں اور مذاق کرنے والوں کو چاہیے کہ اس سے پہلے سنبھل جائیں کہ دنیا کے عذاب کا کوئی جھونکا انہیں آلے یا آخرت کے عذاب کا کوئی کوڑا ان کی پشت پر چسپاں ہوچکا ہو۔ اگر دنیا کے عذاب سے وہ بچ بھی جائیں تو عذاب آخرت تو ان کے لیے تیار ہے جسکے میزان میں کوئی ظلم نہ ہوگا ‘ رائی کے دانے کے برابر بھی۔ اس طرح آخرت کی نہایت ہی حساس میزان کو اس کائنات کے نہایت ہی حساس قوانین فطرت کیساتھ ہم آہنگ کردیا گیا ہے اسی طرح دعوت کے احوال اور انسانوں کی فطرت کو باہم مربوط کردیا گیا ہے اور ان سب امور کو دست قدرت کی تصرفات قرار دے کر ان سے ادارہ واحد ثابت کیا جو اس کائنات کی پشت پر کام کرتا ہے اور یہی دلیل ہے عقیدہ توحید پر۔
Ayah 21:48

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

پہلے ہم موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو فرقان اور روشنی اور ” ذکر “ عطا کرچکی ہیں ‘ ان متقی لوگوں کی بھلائی کے لیے

درس نمبر 241 ایک نظر میں اس سورة کا یہ تیسرا سبق تمام رسولوں کے گروہ پر ایک سرسری نظر ہے۔ اس میں تمام رسولوں کا احاطہ تو نہیں کیا گیا لیکن بڑے بڑے رسولوں کا ذکر ہے۔ بعض کی طرف اس میں نہایت ہی مختصر اشارہ ہے اور بعض کے بارے میں ذرا تفصیلی ذکر ہے اور بعض کا مختصر ذکر ہے۔ ان تمام اشارات اور مفصل اور مختصر تذکروں میں یہ بات نظر آتی ہے کہ اللہ نے اپنے رسولوں پر کیا کیا رحمتیں کیں اور جن لوگوں نے تببیہات اور معجزات دیکھ کر بھی ان کی تکذیب کی ان کا انجام کیا ہوا۔ نیز ان میں رسولوں کی آزمائش کے بھی واقعات ہیں۔ بعض اوقات انہیں خیر میں آزمایا گیا اور بعض اوقات شر میں اور یہ کہ وہ ان امتحانوں میں کس طرح کامیاب رہے۔ پھر اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ نے ہمیشہ انسانوں میں سے رسول بھیجے اور ان کا نظریہ بھی ایک ہی رہا۔ عقیدے کے ساتھ ساتھ فریضہ رسالت کی ادائیگی میں ان کا طریقہ کار بھی ایک رہا اور زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود یوں نظر آتا ہے کہ وہ ایک ہی امت اور گروہ ہیں۔ رسولوں کا ایک نظریہ اور ایک امت ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ایک ہے ‘ اس لیے رسولوں کا عقیدہ ایک عقیدہ دینے والا ایک ‘ اس کائنات کی اندر قوانین فطرت پیدا کرنے والا ایک اور ان تمام رسولوں کو ‘ انسانوں کو ‘ کائنات کو ایک ہی جہت میں ایک ہی خدا کیساتھ مربوط کرنا بھی اس سبق سے معلوم ہوتا ہے۔ انا ربکم فاعبدون ” میں تمہارا رب ہوں لہٰذا میری اطاعت کرو “۔ درس نمبر 241 تشریح آیات 84۔۔ تا۔۔۔۔ 29 ولقد اتینا موسی۔۔۔۔۔۔ افانتم لہ منکرون (84 : 05) ” اس سورة میں یہ بات آئی تھی کہ مشرکین نبی ﷺ کے ساتھ مذاق کرتی تھے کہ آپ رسالت کا دعویٰ کرتے ہیں حالانکہ آپ ہم جیسے بشر ہیں ‘ پھر وہ قرآن مجید کو وحی ماننے کے بجائے یہ کہتے تھے کہ یہ سحر ہے ‘ یا شعر ہے یا افتراء پر دازی ہے۔ چناچہ اس پوریے سبق میں ان کے اس الزام کا جواب ہے کہ رسول اس سے قبل بھی بھیجے گئے اور یہ سنت الہیہ ہے کہ تمام رسول بشر تھے اور کتاب بھیجنا بھی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی رسولوں کو کتابیں دی گئی ہیں۔ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو کتاب دی گئی تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب دی گئی تھی وہ بھی فرقان تھی۔ فرقان قرآن کی بھی صفت ہے۔ گویا تمام رسولوں کا سلسلہ بھی ایک ہے ‘ کتابیں بھی ایک ہیں ‘ اور ان کی صفات بھی ایک ہیں ‘ کیونکہ اللہ کی نازل کردہ تمام کتب حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی تھیں ‘ اس لیے ان کو فرقان کہا گیا۔ یہ ہدایت و ضلالت کی درمیان تمیز کرتی تھیں۔ یہ اسلامی نظام حیات اور جاہلی نظام کے درمیان فرق کرتی تھیں۔ یہاسلامی رحجانات اور غیر اسلامی رحجانات میں فرق کرتی تھیں اس لیے ان کو عمومی طور پر فرقان کہا گیا اور تورات اور قرآن کو صراحت کے ساتھ کہا گیا کہ وہ فرقان ہیں۔ تورات کو یہاں روشنی بھی کہا گیا ‘ اس لیے کہ وہ نظریات و افکار کی ظلمتوں کو روشن کرنے والی تھی ‘ باطل کے اندھیروں کو دور کرنے والی تھی ‘ اور یہ ایسے اندھیرے ہوتے ہیں جن میں عقل و خرد ‘ ٹامک ٹوئیاں مارتے پھرتے ہیں اور انسان کی دلی دنیا پر اس وقت تک سورج طلوع نیں ہوتا جب تک اس کے اندر شعلہ ایمان روشن نہ ہو اور وہ اپنے ماحول کو روشن نہ کرے۔ اس کو زندگی کا منہاج نہ دے دے اور زندگی کے اقدامات کی سمت متعین نہ کردے تاکہ اقدار ‘ منصوبوں اور مطالب کے درمیان اختلاف پیدا نہ ہو۔ تورات بھی قرآن کی طرح متقین کے لیے ذکر اور ہدایت تھی۔ یعنی تورات کے ذریعہ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کا ذکر آج تک ہے جبکہ تورات سے قبل بنی اسرائیل کی کیا تاریخی حیثیت تھی ؟ پہلے وہ فرعون کے غلام تھے۔ جو انکے بیٹوں کو ذبح کرتا اور بیٹیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ اور انکو ذلت کے ساتھ اور تشدد کے تحت رکھتا ۔ یہاں متقین کے ساتھ یہ صفت بھی لگائی گئی کہ وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔
Ayahs 21:49–50

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈریں اور جن کو (حساب کی) اس گھڑی کا کھٹکا لگا ہوا

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور اب یہ بابرکت ” ذکر “ ہم نے (تمہارے لیے ) نازل کیا ہے۔ پھر کیا تم اس کو قبول کرنے سے انکاری ہو “۔

الذین یخشون ربھم بالغیب (12 : 94) ” جو بےدیکھے اپنے رب سے ڈریں “۔ اس لیے کہ جو لوگ اللہ سے ڈریں اور انہوں نے اللہ کو دیکھا ہی نہ ہو اور وھم من الساعۃ مشفقون (12 : 94) ” اور ان کو اس گھڑی کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ اور اس کے لیے تیاری اور عمل کرتے ہوں تو ایسے ہی لوگ اس روشنی سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور راہ ہدایت اختیار کرتے ہیں اس لیے ایسے لوگوں کے لیے کتاب نصیحت بن جاتی ۔ یہ ان کو اللہ کی طرف مڑنے کی یاد دہانی کراتی رہتی ہے۔ اس کے ذریعے لوگوں کے اندر ان کا تذکرہ ہوتا ہے گویا وہ ان کی پہچان بن جاتی ہے۔ یہ تھی حضرت موسیٰ اور ہارون کی شان وھذا ذکر مبرک (12 : 05) ” اب یہ بابرکت ذکر ہم نے نازل کیا ہے “۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے ‘ کوئی عجیب چیز نہیں ہے۔ یہ تو ایک ایسا واقعہ ہے جو پہلے ہوتا رہا ہے۔ یہ اللہ کی معلوم و معروف سنت ہے۔ افانتم لہ منکرون (12 : 05) ” پھر کیا تم اسے قبول کرنے سے انکاری ہو “۔ آخر اس میں تمہیں کیا چیز انوکھی لگ رہی ہے۔ کیا اس سے قبل اللہ کے رسول نہیں آتے رہے۔ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کے قصے پر ایک نہایت ہی سرسری نظر ڈالنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کی ایک مکمل کڑی یہاں دی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عربوں کے جداکبر ہیں۔ خانہ کعبہ کے بانی ہیں ‘ جس کو قریش نے بتوں سے بھر رکھا تھا اور رات اور دن ان کی بندگی اور پرستش کرتے تھے حالانکہ حضرت ابراہیم تو مشہور ہی اس لیے تھے کہ انہوں نے بت توڑے تھے۔ یہاں ان کے قصے کو پیش کرنے کا مطلب بھی یہ ہے کہ تم بتوں کی پرستش کرتے ہو ‘ جبکہ وہ بت شکن تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات زندگی کی یہ کڑی بہت ہی مشہور ہے۔ اس کے کئی مناظر یہاں پیش کیے گئے ہیں۔ ان مناظر کے درمیان بیشک چھوٹے چھوٹے گیپ بھی ہیں۔ آغاز اس سے ہوتا ہے کہ ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے رسالت اور ہدایت عطا کردی تھی اور وہ عقیدہ توحید پر قائم تھے۔ ” رشدہ “ سے مراد ہی عقیدہ توحید ہے کیونکہ اس فضا میں سب سے بڑی ہدایت تھی ہی عقیدہ توحید کی طرف ہدایت۔
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیم کو اس کی ہوشمندی بخشی تھی اور ہم اس کو خوب جانتے تھے ‘

ولقد اتینآ۔۔۔۔۔۔۔۔ علمین (15) ” ‘۔ ہم نے ان کو ہوشمندی عطا کی تھی ‘ ان کے حالات سے ہم اچھی طرح واقف تھے اور ان کی وہ صلاحیتیں بھی ہماری نظر میں تھیں جو حاملین رسالت کے لیے ضروری ہیں۔
Ayah 21:52

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

یاد کرو وہ موقع جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ ” یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہو رہے ہو ؟

اذ قال۔۔۔۔۔۔۔۔ عکفون (25) ” “ ان کی یہ بات ہی ان کے رشد و ہدایت کی دلیل ہے۔ آپ نے ان پتھروں اور لکڑیوں اور دوسرے مواد کے لیے بڑا صحیح لفظ استعمال کیا یعنی مورتیاں ‘ تماثیل۔ ان کو انہوں نے الہٰ نہ کہا اور اس بات پر سخت گرفت کی کہ تم لوگ بڑی چاہت سے ان کی پرستش کرتے ہو ‘ عاکف کے مفہوم سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلسل انکے ساتھ جھکے ہوئے رہتے تھے ‘ حالانکہ وہ دوسرے کام بھی کرتے ہوں گے لیکن ان کے دل ان بتوں ہی کے ساتھ تھے۔ اس لیے مصنوعی طور پر گویا وہ ان کے آگے مسلسل جھکے ہوئے تھے۔ اس لیے تعبیر ان الفاظ میں کی گئی کہ تم رات دن ان کے آگے جھکے ہوئے ہو۔
Ayah 21:53

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا ” ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے “۔

انکا جواب اور دلیل صرف یہ تھی۔ قالوا وجدنآ ابناء نا لھا عبدین (35) ” اس جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم باپ دادا کی تقلید کرتی ہے تو اس کی سوچ اور اس کی عقل کی قوتیں منجمد ہوجاتی ہیں جبکہ ایمان انسان کو آزادی ‘ فکر و نظر کی وسعت ‘ اور ہر چیز اور ہر صورت حال کا حقیقی جائزہ لینے کی تعلیم دیتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ ہر بات پر غور کرکے اس کا حقیقی وزن کرو۔ لہٰذا اللہ پر پختہ ایمان کا یہ پہلو بھی بہت اہم ہے۔ یعنی عقیدہ توحید اور شرک کا کہ انسان اوہام ‘ جامد تقلید اور وہی تصورات و عقائد سے چھوٹ جاتا ہے۔ وہ موروثی رواج جن کی پشت پر نہ احادیث ہیں اور نہ دلیل ان کو بسہولت ترک کردیتا ہے۔
Ayah 21:54

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

’ اس نے کہا ” تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے ‘

قال لقد۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (45) ’ ‘۔ محض آبائو اجداد کی جانب سے بتوں کی پوجا ہونا ‘ ان کی اصل حقیقت اور قدر و قیمت کو نہیں بدل سکتا۔ نہ ان کو وہ تقدس دے سکتا ہے جو دراصل ان کو حاصل نہ ہو۔ کیونکہ قدریں محض آبائو اجداد کے عمل سے وجود میں نہیں آتیں ‘ بلکہ سچائی اور افادیت سے بنتی ہیں اور آزادانہ سوچ سے ان کے بارے میں فیصلہ ہوتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہایت بےباکی سے یہ باتیں کیں اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا اور دو ٹوک بات کی تو ان کے عقائد کی دنیا میں زلزلہ آگیا اور پوچھنے لگے۔
Ayah 21:55

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

انہوں نے کہا ” کیا تو ہمارے سامنے اپنی اصلی خیالات پیش کررہا ہے یا مذاق کرتا ہے ‘

قالوا۔۔۔۔۔۔۔ من اللعبین (55) ” ‘۔ یہ سوال ایک ایسے شخص کا سوال نظر آتا ہے جسے خوداپنے فکرو عمل پر پورا اطمینان نہ ہو۔ کیونکہ وہ جو عقدہ رکھتا ہے ‘ جو عمل کرتا ہے اس پر اس نے کبھی سوچا نہیں تحقیق نہیں کی۔ یہ کام وہ محض وہم اور تقلید اور بےسوچے سمجھے کررہا ے۔ وہ نہیں جانتا کہ حق کیا ہے حالانکہ عقائد و عبادات وہ چیز ہے جو مستند دلائل پر مبنی ہوتی ہے۔ جو افراد و اقوام عقیدہ توحید کے صاف ستھرے تصور سے محروم ہوں وہ اسی طرح کے اوہام کا شکار ہوجاتی ہیں اور ان کے افکار بھی صاف ستھرے اور واضح نہیں ہوتے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ذرا دیکھئے کہ وہ کس قدر اعتماد و یقین سے بات کرتے ہیں۔ ان کو رب کی صحیح معرفت حاصل ہے۔ وہ ایک مومن کی طرح ٹھوس بات کرتے ہیں۔
Ayah 21:56

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

اس نے جواب دیا ” نہیں ‘ بلکہ فی الواقع تمہارا رب وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا رب ہے اور ان کا پیدا کرنے والا ہے۔ اس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں ‘

قال بل۔۔۔۔۔۔۔ من الشھدین (65) ‘۔ اللہ تو رب واحد ہے۔ وہی آسمانوں اور زمین کا رب ہے ‘ اور وہ اس لیے رب ہے کہ وہ ان کا پیدا کرنے والا ہے یعنی وہ الہٰ واحد ہے۔ دو صفات کی وجہ سے اور ان میں جدائی ممکن نہیں ہے۔ ایک یہ کہ وہ زمین و آسمان کا رب ہے۔ ان کو چلانے والا ہے اور دوسری صفت یہ ہے کہ ان کو پیدا بھی اس نے کیا۔ یہ تو درست عقیدہ ہے لیکن مشرکین عرب کا عقیدہ نہایت ہی معقول ہے کہ وہ اپنے بتوں کو رب تو مانتے تھے لیکن خالق نہ مانتے تھے۔ خالق وہ بھی صرف اللہ کو مانتے تھے۔ لیکن یہ جانتے ہوئے کہ دوسرے الہوں نے کسی چیز کی تخلیق نہیں کی پھر بھی ان کی پوجا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک ایسے گواہ کی طرح گواہی دیتے ہیں جس کوئی شک نہیں ہوتا۔ وانا علی ذلکم من الشھدین (12 : 65) ” اس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں “۔ زمین و آسمان کی تخلیق کے وقت حضرت ابراہیم موجود نہ تھے۔ نہ وہ اپنے نفس اور اپنی قوم کی تخلیق پر چشم دید گواہ تھے۔ لیکن یہ معاملہ اس قدر واضح ‘ ثابت شدہ ہے کہ ایک مومن اس پر چشم دید گواہ کی طرح گواہی دے سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز وحدت خالق پر ناطق ہے۔ انسانی شخصیت کے جو جو کمالات ہیں ‘ جسمانی و ذہنی وہ سب کے سب برہان ناطق ہیں کہ خالق ایک ہے اور وہی مدبر ہے۔ وہ قانون قدرت بھی ایک ہی ہے جو اس پوری کائنات کو مع انسان کے چلا رہا ہے اور اس میں متصرف ہے ‘ جس طرح چاہیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے جو شخص یہ گفتگو کررہا تھا ‘ اس سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ ان کے بتوں کے بارے میں میں نے ایک فیصلہ کرلیا ہے۔ اس پر ضرور عمل ہوگا۔
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور خدا کی قسم میں تمہاری غیر موجودگی میں ضرور تمہارے بتوں کی خبر لوں گا ‘

وتا للہ۔۔۔۔۔۔۔ مدبرین (75) ” ‘۔ انہوں نے ان بتوں کے بارے میں کیا فیصلہ کیا۔ اسے انہوں نے مبہم چھوڑدیا ‘ اور اس کا ذکر نہ کیا۔ سیاق کلام میں یہ وضاحت بھی نہیں ہے کہ انہوں نے آپ کو جواب کیا دیا۔ شاید وہ مطمئن ہوں کہ یہ ہمارے بتوں کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ اس لیے انہوں نے اسے نظر انداز کردیا۔
Ayah 21:58

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

چناچہ اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور صرف ان کے بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ شاید ۔۔۔ ان کی طرف رجوع کریں ‘

فجعلھم۔۔۔۔ یرجعون (85) ” ‘۔ ہوا کیا ؟ تمام بتوں کو ریزہ ریزہ کردیا گیا۔ وہ چھوٹے چھوٹے پتھروں کا ڈھیر بنا دیئے گئے اور جو لکڑی کے تھے وہ توڑی ہوئی لکڑیوں کی شکل میں رہ گئے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے بڑے بت کو رہنے دیا۔ لعلھم الیہ یرجعون (12 : 85) ” شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں “۔ اور اس سے پوچھیں کہ یہ واقعہ کس طرح رونما ہوا اور وہ کیوں ان چھوٹے بتوں کی مدافعت کے لیے نہ اٹھا۔ شاید اس طرح وہ اس پورے مسئلے پر از سرنو غور کرنے کے لیے تیار ہوجائیں اور راہ راست پر آجائیں۔ انہیں معلوم ہوجائے کہ بتوں کی پرستش ایک لغوا مر ہے۔ جب لوگ آئے ‘ انہوں نے دیکھا کہ ان کے بت ریزہ ریزہ زمین پر پڑے ہیں۔ صرف بڑا بت بت کی طرح کھڑا ہے لیکن انہوں نے اس سے کچھ نہ پوچھا۔ خود بھی انہوں نے غور نہ کیا کہ اگر ہی خدا تھے تو ان کے ساتھ ایسا سلوک کیسے ہوگیا اور یہ جو کھڑا ہے اگر بڑا خدا ہے تو اس نے ان چھوٹے خدائوں کی مدافعت کیوں نہ کی ؟ انہوں نے اپنے ذہنوں میں یہ سوال پیدا وہنے نہ دیا پیدا ہی نہ ہوا کیونکہ جب عقل میں خرافات بیٹھ جائیں تو عقل معطل ہوجاتی ہے اور وہ اپنا اصل کام چھوڑدیتی ہے۔ جب لوگ جامد تقلید کرنے لگیں تو بھی ان کی عقلوں پر تالے پڑجاتے ہیں اور وہ کسی معاملے پر غور و فکر اور تامل و تدبر نہیں کرتے۔
Ayah 21:59

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

(انہوں نے آکر بتوں کا یہ حال دیکھا تو) کہنے لگے ” ہمارے خدائوں کا یہ حال کس نے کردیا ؟ وہ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ “

قالوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہ لمن الظلمین (95) ” ۔ اب ان لوگوں کو بات یاد آئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں کے بارے میں اپنے باپ سے بھی جھگڑا کیا ہے۔ باپ کے سوا دوسرے لوگوں سے بھی انہوں نے کہا ہے کہ ان مورتیوں کی پرستش تم کیوں کرتے ہو اور پھر انہوں نے بتایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ جب لوگ چلے جائیں گے تو میں ان کی خبر لوں گا۔
Ayahs 21:60–61

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

(بعض لوگ) بولے ” ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے سنا تھا جس کا نام ابراہیم ہے “۔

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا ” تو پکڑ لائو اسے سب کے سامنے تاکہ دیکھ لیں اس کی کیسی خبر لی جاتی ہے “۔ اور سب کے سامنے کھلی عدالت میں ان کا مقدمہ پیش ہو۔

قالوا سمعنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابرھیم (06) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جواں سال تھے۔ ان کو اللہ نے جوانی ہی میں ہدایت دے دی تھی۔ اس لیے انہوں نے ان بتوں کی عبادت کو ایک قبیح فعل سمجھتے ہوئے ان کے بت توڑ دینے کا فیصلہ کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت ان کو اس بات کا حکم بذریعہ رسالت اور وحی دے دیا گیا تھا یا نہیں ؟ یا یہ کہ یہ ان پر قبل رسالت الہام ہوا تھا۔ اس نے اس الہام کی بنا پر اپنے باپ اور دوسرے لوگوں کو دعوت حق دینا شروع کردی تھی۔ یہ تو راجح بات ہے البتہ یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے ان کے لیے سمعنا فتی (12 : 06) کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے۔ ایک تو ان کی تحقیر کرنے کے لیے استعمال کیا۔ دوسرے یہ کہ وہ ان کے بارے میں زیادہ معلومات نہ رکھتے تھے۔ یقال لہ ابرھیم (12 : 06) ” جسے ابراہیم کہتے ہیں “۔ اور یہ تصغیر اور مجہول کا صیغہ وہ اس لیے استعمال کررہے تھے کہ یہ کوئی اہم آدمی نہیں ہے نہ اس سے کوئی خطرہ ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں پہلی رائے ہی قابل ترجیح ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جواں سال تھے۔
Ayah 21:62

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

انہوں نے پوچھا ” کیوں ابراہیم ‘ آیا تو نے ہمارے خدائوں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے “ ؟

قالوآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یابرھیم (26) تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ان کے یہ بت ریزہ ریزہ تھے لیکن پھر بھی ان کو اصرار تھا کہ یہ ہمارے الہٰ ہیں۔ جب ابراہیم ان کے ساتھ یہ مذاق کررہے تھے وہ اکیلے تھے اور یہ لوگ بہت زیادہ تھے ۔ لیکن وہ کھلے دل و دماغ کے ساتھ معاملات کو دیکھتے تھے۔ اس لیے وہ ان بےعقلوں کے سامنے مذاق ہی کرسکتے تھے۔ اس لیے انہوں نے ان کو ایسا جواب دیا جوان جیسے لوگوں کے مناسب حال تھا۔
Ayah 21:63

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

اس نے جواب دیا ” بلکہ یہ سب کچھ ان کے اس سردار نے کیا ہے ‘ ان ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں “

قال بل۔۔۔۔۔۔۔ ان کانوا ینطقون (36) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس جواب میں چھنا ہوا مذاق تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس سنجیدہ مذاق کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے یہ جھوٹی بات کی۔ مفسرین نے اس فقرے کے اسباب اور توجیہات میں جو طویل کلام کیا ہے اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ معاملہ تو بہت ہی سادہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چاہتے تھے کہ لوگوں کو بتائیں کہ یہ مورتیاں اتنا بھی نہیں جانتیں کہ ان کو توڑا کس نے ہے ؟ میں نے توڑا ہے یا اس بڑے بت نے توڑا ہے ؟ جو کوئی حرکت نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ تو محض جمادات ہیں اور ان کے اندر تو قوت مدر کہ ہے ہی نہیں۔ تم آدمی ہوتے ہوئے بھی ایسے ہو کہ تمہاری قوائے مدر کہ جامد ہوچکی ہیں۔ تم کسی ممکن الوقوع اور جائز کام میں اور ایک ایسے امر میں فرق نہیں کرسکتے جو ناممکن الوقوع ہے۔ تم یہ انکوائری اس لیے کررہے ہو کہ میں نے ان کو توڑا ہے یا اس بڑے بت نے تو پھر ان سے پوچھو اگر یہ بات کرسکتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس عجیب مذاق نے ان کو ایک لمحے کے لیے تو ہلاکررکھ دیا ہے۔ وہ سوچنے لگے ‘ کچھ غور کرنے لگے۔
Ayah 21:64

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

یہ سن کر وہ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور (اپنے دلوں میں ) کہنے لگے ” واقعی تم خود ہی ظالم ہو “۔

فرجعوآ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انکم انتم الظلمون (46) ” یہ ان کے اندر ایک اچھی سوچ کا آغاز تھا۔ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے موقف میں بنیادی کمزوری ہے۔ وہ جو بتوں اور مورتیوں کی پوجا کررہے ہیں یہ دراصل ظلم ہے۔ پہلی مرتبہ یوں لگتا ہے کہ ان کی آنکھیں کھلیں اور انہوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ جس راہ پر وہ بغیر سوچے سمجھے چل رہے ہیں وہ بہت ہی غلط ہے۔ لیکن یہ ان کے فکر و نظر کی دنیا میں ایک چمک ہی تھی۔ اندھیرا حسب سابق پھر غالب آگیا۔ ان کے مردہ دلوں کے اندر ایک دھڑکن سی پیداہوئی مگر جلد ہی وہ پھر خاموش ہو کر جمود کا شکار ہوگئے۔
Ayah 21:65

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

’ مگر پھر ان کی مت پلٹ گئی اور بولے ” تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں “۔

ثم نکسوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ینطقون (56) ’ واقعی پہلے فقرے میں وہ اپنے دلوں اور دماغوں کی طرف لوٹ آئے تھے اور دوسرے فقرے میں جو ہے کہ وہ اپنے سروں کو چھوڑ کر الٹے پھرے تو گویا الٹے پائوں پھرے اور اپنے سروں سے سوچ کا کام لینا بھی انہوں نے چھوڑدیا۔ پہلی حرکت اپنے ضمیر کی طرف تھی کہ سوچیں اور تدبیر کریں اور دوسری حرکت واپسی کی تھی اور سوچ اور تدبر کو ترک کر کے پھر واپس ہوئے اور ان کے منہ سے جو بےعقلی کی بات نکلی وہی ان کے خلاف حجت تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دلیل ہی یہ تھی کہ دیکھو یہ بات بھی نہیں کرسکتے۔ جب وہ یہاں تک آگئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیساحلیم الطبع شخص بھی ان پر قدرے غصہ کرتا ہے کیونکہ ان کی یہ کم عقلی اس قدر واضح ہے کہ اس پر آدمی کے لیے صبر کرنا مشکل ہے۔
Ayahs 21:66–67

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

اس نے کہا ” پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کو پوج رہے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ نقصان

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر پوجا کررہے ہو۔ کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے “۔

قال افتعبدون۔۔۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون (66 : 76) ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بات سے ان کی دل تنگی کا اظہار ہوتا ہے۔ وہ قدرے غصے میں نظر آتے ہیں اور ان کو سخت تعجب ہے کہ یہ لوگ اس قدر پوچ اور غیر معقول فکر و عمل میں پڑے ہوئے ہیں۔ اب ان لوگوں کا رد عمل بھی سامنے آتا ہے۔ ان کی ہٹ دھرمی اب انہیں سخت موقف اختیار کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ ان کا حال اس شخص جیسا ہوگیا جس کے پاس دلیل کچھ نہ ہو ‘ اور دلیل کی کمزوری اور کمی وہ تشدد کے ذریعہ پوری کررہا ہے۔ چناچہ یہ لوگ بھی اب تشدد پر اتر آئے اور یہ فیصلہ کیا۔
Ayahs 21:68–69

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا ” جلا ڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے خدائوں کی اگر تمہیں کچھ کرنا ہے ‘

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے کہا اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم کے لیے “

قالوا۔۔۔۔۔۔۔ فعلین (86) ” ‘۔ کیا ہی زبردست خدا ہیں کہ بیچاروں کی نصرت ان کے پجاری کررہے ہیں ‘ وہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہی نہیں۔ نہ اپنی مدد کرسکتے ہیں ‘ نہ اپنے بندوں کی۔ انہوں نے تو یہ حکم دیا کہ اسے جلا دو لیکن دوسری جانب سے بھی ایک حکم صادر ہوا ‘ یہ اصل حاکم مطلق کا حکم تھا ‘ اس نے پہلے حکم کو باطل کردیا۔ قلنا ینار کونی بردا وسلم ا علی ابرھیم (96) ” ہم نے کہا ” اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم پر “۔ چناچہ ان کا جلایا وہا الائو ابراہیم کے لیے ٹھنڈا بھی ہوگیا اور ان کے لیے سلامتی کا موجب بنا ‘ یہ کیسے ؟ یہ سوال صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) والے الائو کے بارے میں کیوں پیدا ہو رہا ہے ؟ لفظ کن اور کونی سے یہ کائنات وجود میں آگئی ‘ بڑے بڑے جہاں پیداہو گئے۔ انما امرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فیکون (63 : 28) ” اس کا حکم یہ ہے کہ اس نے جب کسی چیز کا ارادہ کیا تو صرف یہ کہتا ہے کن تو ہوجاتی ہے “۔ اس لیے ہم یہ سوال کرتے ہی نہیں کی آگ نے کس طرح نہ جلایا ‘ حالانکہ مشہور اور معروف اور زیر مشاہدہ طریقہ تو یہ ہے کہ آگ زندہ جسموں کو جلا دیتی ہے۔ جب ذات باری نے آگ سے کہا کہ جلائو تو وہ جلانے لگی۔ اس ذات نے اسے کہا کہ نہ جلائو اور سرد ہو جائو تو وہ ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوگئی۔ دونوں کلمات کا فرق صرف یہ ہے کہ ایک نتیجے کے ہم عادی ہیں اور دوسرے نتیجے کے ہم عادی نہیں۔ جو لوگ اللہ کے افعال کو انسانی افعال پر قیاس کرتے ہیں ایسے ہی لوگوں کے سامنے یہ سوال اٹھتا ہے کہ یہ کیسے ہوگیا ؟ اور کیسے ممکن ہوا ؟ لیکن جو لوگ اس فرق کو سمجھتے ہیں کہ اللہ میں اور انسانوں میں فرق ہے ‘ تو ان کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ وہ ایسے واقعات کی علتیں تلاش نہیں کرتے۔ خواہ یہ علت سائنسی ہو یا غیر سائنسی ہو۔ کیونکہ یہ مسئلہ امر الہٰی کا ہے علت اور اسباب کا نہیں ہے ‘ خصوصاً انسانی پیمانوں کے مطابق سبب و مسبب کی تلاش کا نہیں ہے۔ معجزات کے سلسلے میں جو لوگ قرآن مجید کی تفسیر سائنسی پیمانوں یعنی علت و معلول (Cause and Effect) کے زاویہ سے کرتے ہیں وہ غلط لائن پر جاتے ہیں۔ معجزات کی تفسیر یہی ہے کہ ان کو امر الہٰی کے حوالے کرنا چاہیے کیونکہ اللہ کے افعال کو ان پیمانوں سے نہیں ناپا جاسکتا جن سے ہم انسانی پیمانوں کو ناپتے ہیں۔ ہمیں چاہیے اور یہ ہمارا فرض بھی ہے کہ ہم ان واقعات پر ایمان لائیں ‘ کیونکہ اللہ خالق اور صانع ہے اور ایک صانع اپنی مصنوعات کو جس طرح چاہے بنا سکتا ہے۔ یہ کیونکر ہوا کہ آگ سرد ہوگئی اور اس کے اندر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صحیح و سلامت رہ گئے۔ قرآن کریم نے اس کی کوئی تشریح و تعلیل نہیں کی ہے کیونکہ ہم اپنے انسانی قوائے مدرکہ کے ساتھ اس چیز کا ادراک ہی نہیں کرسکتے۔ لہٰذا نص قرآن کے سوا ہمارے لیے نہ کوئی دلیل ہے اور نہ ہمیں مطالبہ کرنا چاہیے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ کو ٹھنڈا کردیا گیا اس کی مثالیں اس دنیا میں بھی واقعہ ہوتی رہتی ہیں لیکن ان کا ہم نوٹس نہیں لیتے جس طرح اس اہم واقعہ کا نوٹس تاریخ نے لے لیا۔ تاریخ انسانی میں افراد پر اور جماعتوں پر اس سے بھی بڑے بڑے مظالم ہوتے رہے ہیں۔ اتنے ہولناک اور خوفناک مظالم کہ ان سے زندہ بچنے اور صحیح سلامت باہر آنے کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا لیکن پھر بھی لوگ نکل آتے ہیں۔ مظالم اور تشدد کی بڑے بڑے الائو جلائے جاتے ہیں اور ان میں ان لوگوں کو ڈالا جاتا ہے لیکن پھر بھی وہ زندہ بچ نکلتے ہیں اور مظالم اور تشدد کا یہ الائو ٹھنڈا پڑجاتا ہے۔ یہ الائو بظاہر تو بہت بڑا شر ہوتا ہے لیکن ان مظلوموں کے لیے وہ بہت بڑا خیر بن جاتا ہے۔ یہ معجزہ ہے کہ ” اے آگ ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم کے لیے “۔ افراد ‘ جماعتوں اور قوموں کی زندگی میں بار بار دہرای جاتا ہے ‘ خصوصاً افکار ‘ عقائد اور تحریکات کے زاویہ سے جب امرالہٰی آتا ہے تو انسانی اقوال باطل ہوجاتے ہیں۔ تمام سازشیں ختم ہوجاتی ہیں کیونکہ امرا لہٰی برتر حکم ہے۔
Ayah 21:70

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

وہ چاہتے تھے کہ ابراہیم کے ساتھ برائی کریں مگر ہم نے ان کو بری طرح ناکام کردیا ‘

وارا دوا بہ کیدا فجعلنہم الاخسرین (07) ” ‘۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معاصر بادشاہ کا نام نمرود تھا۔ وہ عراق کے آرامیوں کا بادشاہ تھا۔ وہ اور اس کے سردار عذاب الہی سے ہلاک کردیئے گئے تھے۔ اس کی تفصیلات میں روایات کا اختلاف ہے اور ہمارے پاس بھی کوئی دلیل نہیں ہے جس سے ہم حقیقت کو پاسکیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس سازش سے بچا لیا جو انہوں نے ان کے خلاف تیار کی تھی اور سازش کرنے والے خسارے میں رہے۔ ان کو کیا خسارہ ہوا اس کا ذکر یہاں نہیں ہے۔
Ayah 21:71

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم اسے اور لوط (علیہ السلام) کو بچا کر اس سرزمین کی طرف نکال لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں ‘

ونجینہ۔۔۔۔۔۔۔ فیھا للعلمین (17) ” ‘۔ یہ شام کی سرزمین ہے جس کی طرف آپ اور آپ کے بھتیجے لوط نے ہجرت کی۔ چناچہ یہ سرزمین ایک عرصے تک وحی کے نزول کا علاقہ بنی رہی۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کے کئی رسول اس علاقے میں مبعوث ہوتے رہے۔ اس علاقے میں ارض مقدسہ اور مسلمانوں کا دو سرا حرم ہے۔ اور یہی علاقہ ہے جو سرسبز و شاداب علاقہ ہے اور اس میں بڑی برکات ہیں یعنی اس علاقے میں روحانی اور مادی برکات نسلاً بعد نسل موجودر ہیں۔
Ayahs 21:72–73

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے اسے اسحاق عطا کیا اور یعقوب اس پر مزید ‘ اور ہر ایک کو صالح بنایا

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو امام بنا دیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے اور ہم نے انہیں وحی کے ذریعے نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے اور زکوۃ دینے کی ہدایت کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے “۔

ووھبنا لہ۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدین (27 : 37) ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے وطن ‘ اہل وطن اور قوم کو چھوڑا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ارض مبارکہ بطور وطن عنایت فرمائی ‘ جو ان کے وطن سے زیادہ بہتر تھی ‘ اور ان کو حضرت اسحاق جیسا بیٹا اور حضرت یعقوب جیسا پوتا دیا جو بہترین ہل و عیال ثابت ہوئے۔ اور پھر ان کی اولاد سے ایک نسل کثرت سے بڑھی کہ وہ دنیا میں ایک مستقل امت بن گئی تو یہ قومچھوڑنے کا صلہ تھا اور پھر آپ کی نسل میں بڑے بڑے ائمہ پیدا ہوئے جو اللہ کے حکم سے لوگوں کو ہدایت دیتے تھے اور اللہ نے ان کی طرف وحی کی کہ وہ بھلائی کے مختلف کام کریں۔ نماز قائم کریں ‘ زکوۃ دیں اور اللہ کی اطاعت اور بندگی کریں۔ چناچہ اللہ نے ان کو اس کا بہترین معاوضہ دیا اور اس کے ساتھ بہترین انعام دیا۔ ان کا خاتمہ بھی بہت اچھا ہوا کہ اللہ نے ان کو آزمایا اور انہوں نے صبر کیا اور اللہ نے ان کو صبر جمیل کا اجر دیا۔