Ayah 19:1یہ حروف مقطعات جن سے اس سورة کا آغاز ہو رہا ہے ان کی تفسیر میں ہماری یہی رائے ہے کہ یہ وہی حروف ہیں جن سے قرآن کریم بنا ہے۔ ان ہی سے یہ معجز کتاب بنی ہے اور انسانیت اس کتاب جیسی کتاب لانے سے عاجز ہے۔ حالانکہ یہ حروف اور ان سے بنے ہوئے کلمات انسانوں کی دسترس میں ہیں ، لیکن وہ اس موجود مواد سے کوئی ایسی کتاب تیار کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔
ان حروف کے تذکرے کے بعد حضرت زکریا اور یحییٰ کا قصہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس قصے کا بیشتر مواد رحمت الٰہی پر مبنی ہے۔ پورے ماحول پر رحمت خداوندی سایہ فگن ہے۔ چناچہ آغاز ہی لفظ رحمت سے ہوتا ہے ، ذکر رحمت سے ہوتا ہے ……
Ayah 19:2اصل قصے کا آغاز ایک دعا کے منظر سے ہوتا ہے۔ یہ دعا حضرت زکریا کرتے ہیں اور نہایت عاجزی اور خضوع و خشوع کے ساتھ کرتے ہیں۔
Ayah 19:3وہ اپنے رب کے ساتھ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر مناجات کرتے ہیں۔ نہ کوئی دیکھتا ہے ، نہ کوئی سنتا ہے گوشہ تنہائی میں نہایت خلوص کے ساتھ رب کو پکارتے ہیں اور اپنا سینہ کھول کر اپنے رب کے سامنے رکھتے ہیں (جو خوب جانتا ہے) وہ اپنا بوجھ ، پریشانی ، اللہ کے سامنے رکھتے ہیں۔ نہایت قرب و اتصال کی حالت میں وہ رب کو پکارتے ہیں۔ (رب) ۔ وہ یہاں حرف ندایا کو بھی بیچ میں نہیں لاتے۔ اللہ تو بغیر دعا کے بھی سنتا ہے اور دیکھتا ہے ، اسے کسی پکارنے والے کی پکار کی ضرورت نہیں ، لیکن یہ ایک غمزدہ شخص کی ضرورت ہے کہ وہ پکارے ، وہ شکوہ کرے ، اور اللہ رحیم و کریم ہے۔ اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے او وہ جانتا ہے کہ پکارنے ، رونے اور شکوہ کرنے سے بھی اس مخلوق کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ اس لئے اللہ نے حکم دیا ہے کہ دعا کرو ، گڑگڑائو ، جس چیز سے تمہارے دل پر بوجھ پڑتا ہے اسے باہر نکالو ،
وقال ربکم ادعونی استجب لکم ” اور تمہارے رب نے کہا مجھے پکارو ، میں تمہاری پکار کو سنتا ہوں اور قبول کرتا ہوں۔ “ تاکہ تمہارے اعصاب پر سے قدرے بوجھ اتر جائے۔ تمہارے دلوں کو یہ اطمینان تو ہوجائے کہ ہم نے ایک قوی ترہستی کے پاس رپورٹ کردی ہے۔ وہ بڑی قوت والا قادر مطلق ہے تاکہ تمہیں یہ شعور مل جائے کہ تمہارا رباطہ اس ذات سے ہے جس کے ہاں کوئی سوال مایوس نہیں ہوتا اور اس پر جو بھروسہ کرے وہ کبھی بھی ناکام نہیں ہوتا۔
حضرت زکریا رب کے سامنے یہ شکایت کرتے ہیں کہ ان کی ہڈیاں ڈھیلی پڑگئی ہیں اور جب ہڈیاں ڈھیلی پڑج ائیں تو جسم سارا کا سارا ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ کیونکہ ہڈیاں ہی تو جسم کا مضبوط ترین حصہ ہیں۔ جسم کا بنیادی ڈھانچہ ہی ہڈیوں سے کھڑا ہوتا ہے۔ پھر وہ بالوں کی سفیدی کی شکایت کرتے ہیں۔ انداز تعبیر کو دیکھیے کہ گویا سفیدی ایک آگ ہے جو سر کے بالوں کو لگی ہوئی ہے۔ سر اس میں تیزی سے جل رہا ہے اور جلد ہی اس میں کوئی سیاہ بال نہ رہے گا۔
ہڈیوں کا ڈھیلا پڑنا اور سر کے بالوں کا سفید ہونا دونوں کنایہ ہے ، بڑھاپے سے اور اس ضعف و کمزوری سے جس سے وہ دوچار ہیں اور اللہ کی رحمت سے بھی وہ ناامید نہیں ہیں۔ عرض پیش کرتے ہیں۔
اور وہ ساتھ ساتھ قبولیت دعا سے پہلے اپنا تبصرہ بھی کرتے ہیں۔
Ayahs 19:4–6ولم اکن بدعاءک رب شقیاً (91 : 3) ” اور اے پروردگار میں کبھی تجھ سے دعا مانگ کر نامراد نہیں ہوا۔ “ وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے بارے میں رب تعالیٰ کی یہ دعادت رہی ہے کہ جب بھی انہوں نے دعا کی ہے رب تعالیٰ نے منظور فرمائی ہے۔ جب وہ اپنے زمانہ جوانی اور قوت میں دعا میں نامراد نہیں رہے تو اب حالت ضعیفی میں تو وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اللہ انہیں نامراد نہ کرے اور ان کی دعا کو قبول کرلے۔
یہ تھی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اپنے رب کے جناب میں ، نہایت ہی خفیہ انداز میں اور عاجزی اور تضرع کے ساتھ ، الفاظ ، عانی ، ماحول اور اثرات پر اعتبار سے اس میں نرمی پائی جاتی ہے ، اور منظر پر نہایت ہی ادب اور شائستگی چھائی ہوتی ہے۔
اب جواب دعاء ملاحظہ ہو اور اس موقعہ پر مکالمات :۔
Ayah 19:7قبولیت دعا کے اس لمحے کی تصویر کشی نہایت ہی مہربانی ، محبت اور رضا کی فضا میں ہے۔ عالم بالا سے رب ذوالجلال خود اپنے بندے کو پکارتے ہیں یزکریا (اے زکریا) اور پکارتے ہی اسے خوشخبری دے دی جاتی ہے۔ انا نبشرک بغلم (91 : 8) ” ہم تجھے ایک لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں۔ “ اب اللہ ان پر مہربانی کی انتہا کردیتے ہیں کہ لڑکے کا نام بھی عالم بالا سے تجویز ہوتا ہے۔ اسمہ یحی (91 : 8) ” جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ ‘ اور پھر یہ کہ اس سے قبل یہ نام کسی فرد بشر کا نہیں رکھا گیا۔ لم نجعل لہ من قبل سمیاً (91 : 8) ” اس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا۔
یہ اللہ کے کرم کا فیض اور بارش ہے ، اسے اللہ اپنے اس بندے پر نچھاور کر رہا ہے جس نے اسے نہایت ہی عاجزی سے پکارا۔ تنہئای میں پکارا ، اپنا سینہ کھول کر رب کے سامنے رکھ دیا کہ اسے ڈر گئیا ہے۔ اپنا مسئلہ اللہ کے سامنے رکھا۔ اس دعا پر ان کو جس چیز نے مجبور کیا تھا وہ یہ تھی کہ انہیں اپنے عزیزوں اور ساتھیوں سے خطرہ لاحق تھا کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کی امانت اور مالی انتظام اچھی طرح نہ کرسکیں گے۔ اللہ نے ان پر فضل کیا اور ان کی خواہش پوری کردی اور ان کو راضی کردیا۔
ان کی دعا چونکہ فوری طور پر منظور ہوگئی ، ان کی خواہش اولاد کا جوش فوراً ٹھنڈا ہوگیا ، امید کی حرارت یقین میں بدل گئی۔ وہ اچانک ایک واقعی صورتحال سے دوچار ہوگئے کہ عملاً اب یہ کام کس طرح ہوگا۔ وہ تو سوکھا بوڑھا ہے ، ہڈیاں ڈھیلی پڑگئی ہیں ، سر سفید ہے۔ پھر بیوی بانجھ ہے ، جوانی میں اس سے کوئی اولاد نہیں ہوئی ، اب کس طرح وہ بچہ دے گی۔ اس لئے مزید طلب اطمینان قدرتی ہے۔ لہٰذا وہ معلوم کرتے ہیں کہ اس بچے کا ذریعہ کون اور کیا ہوگا ؟
Ayah 19:8قال رب انی یکون لی غلم و کانت امراتی عاقراً وقدبلغت من الکبر عتیاً (91 : 8) ” عرض کیا ، پروردگار ! بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا ، جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکا ہوں۔ “ چونکہ ان کو ایک عملی صورتحال سے دوچار ہنا پڑا۔ پھر اللہ کا وعدہ بھی ہے اور ٹال ہے۔ ان کو پورا پورا یقین ہے کہ یہ عمل ہونے والا ہے لیکن وہ اس کی کیفیت معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یہ وعدہ کس طرح حقیقت کا روپ اختیار کرے گا تاکہ ان کا دل مطمئن ہو۔ یہ ایک قدرتی اور طبیعی نفسیاتی حالت ہوتی ہے۔ حضرت زکریا نبی صالح ہیں مگر ایک بشر ہیں اور ایک واقعیت پسند انسان۔ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ واقعی حقیقی صورت حالات کو اللہ کس طرح بدل دے گا ؟
اللہ کی ہاں سے اس کا بھی جواب آجاتا ہے۔ اے بندے یہ کام کوئی مشکل نہیں ہے۔ ذرا اپنے نفس کو تو دیکھو کہ تم کیسے وجود میں آگئے جبکہ تم سرے سے تھے ہی نہیں۔ ہر ذات ذات کی یہی مثال ہے۔ اس کائنات کی ہر زندہ چیز نہ تھی اور ہوگئی۔
Ayah 19:9قال کذلک قال ربک ھو علی ھین وقد خلقتک من قبل ولم تک شیئاً (91 : 9) ” جواب ملا ، ایسا ہی ہوگا ، تیرا رب فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لئے ایک ذرا سی بات ہے۔ اس سے پہلے میں تجھے پیدا کرچکا ہوں جب کہ تو کوئی چیز نہ تھا۔ “
اپنی مخلوقات کی پیدائش میں اللہ کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں ہے۔ چھوٹی اور بڑی چیز ، حقیر اور عظیم چیز سب کا سبب صرف کن ہے۔ جب اللہ کا حکم ہوتا ہے تو ہوجاتا ہے۔
یہ اللہ ہی ہے جس نے بانجھ عورت کو ایسا بنایا ہے کہ اس کی اولاد نہ ہو اور بوڑھوں کو ایسا بنایا ہے کہ اس سے سلسلہ تناسل کا چلنا ختم ہوجائے۔ وہ بانجھ کو درست بھی کرسکتا ہے اور بانجھ پن کو دور کرسکتا ہے اور ایک بوڑھے مرد میں از سر نو قوت تولید پیدا کرسکتا ہے اور یہ کام بہ نسبت اس کے ، کہ اللہ نے انسان کو اس حال میں پیدا کیا کہ وہ کچھ نہ تھا ، آسان ہے۔ اگرچہ اللہ کے لئے یہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ کس چیز کو ابتدائً پیدا کرے یا اس کا اعادہ کرتا چلا جائے۔
ان سب حقائق کے باوجود حضرت زکریا مکمل اطمینان کے لئے اس قدر بےتاب ہیں کہ وہ اس ناقابل توقع عمل کے لئے علامت اور نشانی طلب فرماتے ہیں کہ جب یہ خوشخبری عملاً ظہور پذیر ہوگی تو اس کی علامت کیا ہوگی۔ تو اللہ نے اس خوشخبری کے لئے ایک ایسی علامت مقرر کی جو اس فضا کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس میں حضرت نے یہ دعا ابتدائً کی تھی اور قبول ہوئی تھی تاکہ زکریا اس علامت کے ذریعہ رب تعالیٰ کا شکر بھی ادا کریں کہ اللہ نے انہیں اس بڑھاپے میں ایک بچہ دیا۔ وہ لوگوں کی دنیا سے کٹ جائیں اور تین دن صرف اللہ کے ساتھ مشغول ہوں۔ ان دنوں میں اس کی زبان صرف تسبیح الٰہی میں گویا ہو سکے گی اور اگر وہ لوگوں سے بات کرنا چاہیں گے تو زبان بند ہوجائے گی۔ حالانکہ ان کے اعضاء درست ہوں گے۔ ان کی زبان کو بھی کوئی معاملہ لاحق نہ ہوگا۔
Ayah 19:10قال ایتک الا تکلم الناس ثلث لیال سویا (91 : 01) ” فرمایا تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکے گا۔ “ چناچہ ایسا ہی ہوا۔
Ayah 19:11فخرج علی قومہ من المحراب فاوحی ال یھم ان سبحوا بکرہ و عشیا ً (91 : 11) ” چناچہ وہ محراب سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے ان کو ہدایت کی کہ صبح و شام تسبیح کرو۔ “ تاکہ وہ بھی اس فضا اور اس حالت میں داخل ہوجائیں جس وہ داخل ہوچکے ہیں اور وہ بھی ان کے ساتھ اللہ کا شکر ادا کریں کہ اللہ نے اس پر اور ان پر احسان کیا کیونکہ یہ لڑکا ان کے بعد ان کا امام اور راہنما ہوگا۔
یہاں قرآن مجید زکریا کو حالت خاموشی میں چھوڑ دیتا ہے ، پردہ گرتا ہے ، اور اس منظر کا صفحہ لپیٹ لیا جاتا ہے اور جب دوسرا منظر سامنے آتا ہے تو اس میں خود حضرت یحییٰ چلے آ رہے ہیں اور ان کو عالم بالا سے رب کی ندا آتی ہے۔
Ayah 19:12یبحی خذ الکتب بقوۃ (91 : 21) ” اے یحییٰ کتاب الٰہی کو مضبوط سے تھام لے۔ “ حضرت یحییٰ پیدا بھی ہوئے ، بچپنا گزرا ، جوان ہوئے اور یہ سب کچھ ان دو مناظر کے درمیان گیپ میں ہوگیا۔ یہ قرآن کریم کا مخصوص فنی انداز بیان ہے۔ وہ صے کے اہم حلقوں کو پیش کردیتا ہے جن میں بھرپور زندگی اور ہماہمی ہوتی ہے۔ غیر اہم حلقے ذہن انسانی کے لئے چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔
حضرت یحییٰ کو کلمہ ندا کے ساتھ پکارا جاتا ہے اور بعد میں ان سے بات ہوتی ہے کیونکہ آواز دے کر کسی کو پکارنے کا منظر نہایت ہی دلکش منظر ہوتا ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم بالا میں حضرت یحییٰ کا مقام کیا ہے ، پھر یہ کہ حضرت زکریا کی دعا کی قبولیت کس قدر اہم واقعہ تھا۔ ان کی دعا ہی یہ تھی کہ ان کا ولی وارث ہونا چاہئے ، جو ان کے بعد ان کا خلیفہ ہو اور منصب خلافت کو اچھی طرح چلائے ، نظریاتی حوالے سے بھی اور خاندانی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی۔ چناچہ حضرت یحییٰ کو یہ چارج دیا جارہا ہے تاکہ وہ حسب دعا اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
یبحی خذ الکتب بقوۃ (91 : 21) ” اے یحییٰ کتاب الٰہی کو مضبوطی سے تھام لے۔ “ اس کتاب سے مراد تورات ہے ، جو مسویٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی کتاب تھی۔ اور انبیاء بنی اسرائیل اسی کتاب کو لے کر چلتے تھے ، اسی پر عمل پیرا ہوتے تھے اور اسی کے مطابق فیصلے کرتے تھے ۔ حضرت یحییٰ اپنے والد زکریا کے وارث تھے ، اس لئے ان کو آواز دی گیء کہ وہ اب اس بوجھ کو اٹھائیں اور قوت اور عزم سے اس امانت کو لے کر اٹھیں اور اس کام میں سستی نہ کریں اور نہ کوئی کمزوری دکھائیں اور اس وراثت کی ذمہ داریوں سے پیچھے نہ ہٹیں۔
اس پکار کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے یحییٰ کو کیسی شخصیت عطا کی تھی تاکہ وہ منصب خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرے۔
Ayahs 19:13–15” ہم نے اسے بچپن ہی میں حکم سے نوازا اور اپنی طرف سے اسے نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ بڑا پرہیز گار تھا۔ “ یہ تھی وہ قابلیت جس سے اللہ نے ان کو نوازا تھا اور اس طرح منصب خلافت زکریا کی ذمہ داریاں نبھانے میں ان کی مدد کی گئی۔
اسے بچپن ہی میں حکم اور حکمت عطا کردی گئی تھی ، لہٰذا وہ اہلیت میں بھی یکتا کردیئے گئے جس طرح وہ اپنے نام اور اپنی ولادت میں ممتاز تھے۔ حکمت جو کسی بھی شخص میں بڑے تجربے کے بعد آتی ہے حضرت یحییٰ کو زمانہ طفولیت ہی میں عطا کردی گئی تھی۔
نیز آپ کو پیدائشی طور پر نرم دلی عطا کردی گئی تھی ، اس لئے ان کو اس کے اظہار کے لئے کوئی تکلیف نہ کرنا پڑی اور نہ اس کی ٹریننگ کر کے ، اس رویہ کو عادت ثانیہ بنانے کی ضرورت تھی۔ بلکہ وقت پیداش وہ ان کی فطرت ثانیہ تھی۔ نرم دلی ہر ذمہ دار کے لئے خصوصاً نبی کے لئے ایک بنیادی صفت ہے تاکہ وہ مختلف لوگوں کو اپنے اردگرد جمع کرسکے اور لوگوں کے دلوں میں ان کی گہری محبت پیدا ہوجائے اور وہ کچے چلے آئیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کو طہارت ، عفت اور قلبی صفائی عطا کردی تھی۔ اس کے ذریعہ وہ دلوں کی کدورت ، اور دلوں کی میل کو صاف کرتے تھے اور عوام کے اندر پاکیزگی اور اخلاقی تطہیر کا کام کرتے تھے۔
وکان تقیاً (31) ” وہ بڑے پرہیز گار تھے۔ “ موصول باللہ تھے ، اللہ سے ڈرنے والے تھے ، اللہ کو ہر وقت پیش نظر رکھنے والے تھے ، اس سے ڈرنے والے تھے اور اللہ کی نگرانی کا خیال رکھنے والے تھے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ اللہ ظاہر و باطن کو دیکھ رہا ہے۔ یہ تھا وہ زاد راہ جو اللہ نے بچپن ہی میں حضرت یحییٰ کو دے دیا تھا ، تاکہ وہ اپنے باپ کا خلیفہ ہو ، جس کے لئے زکریا نے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اور گڑا گڑا کر دعا کی تھی اور رب نے اس دعا کو قبول کرلیا تھا اور یہ پاکیزہ بچہ ان کو عطا کیا تھا۔
یہاں آ کر یحییٰ بھی منظر سے اچانو اوجھل ہوجاتے ہیں ، پردہ گرتا ہے ، جس طرح اس سے قبل زکریا (علیہ السلام) اچانک پس منظر میں چلے گئے تھے ، لیکن چند جھلکیوں میں ان کی زنگدی کے خطوط کھینچ دیئے گئے ، ان کے رجحانات اور طرز زندگی کی جھلکیاں دکھا دی گئیں۔ پوری کہانی کا مقصد دو مناظر تھے ، حضرت زکریا کی دعا اور خدا کی جانب سے اعلان قبولیت اور یہ مقصد چند الفاظ میں عالم بالا سے حضرت یحییٰ کو آواز دے کر پکارنے اور ان کی اہلیت اور قابلیت کے ذکر کے اندر پورا کردیا گیا۔ لہٰذا تفصیلات دینے اور ایک ایک واقعہ قلم بند کرنے یک ضرورت ہی نہ رہی۔ اگر ان مناظر کے بعد کوئی حضرت یحییٰ کی زندگی کے بہت سے واقعات بھی دے دے تو مقصد قصہ میں کوئی اضافہ نہ کرسکے گا۔
اب قرآن کریم حضرت یحییٰ کی پیدائش سے بھی زیادہ عیجب ولادت کی طرف آتا ہے۔ یہ قصہ ولادت عیسیٰ (علیہ السلام) ہے۔ سیاق کلام بڑھاپے میں ایک بانجھ عورت اور ایک کھوسٹ بوڑھے سے بچہ کی ولادت کا عجیب منظر پیش کر کے اب بتدریج قارئین کو ایک نہایت ہی مختلف فیہ عجیب تر واقعہ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس دوسرے واقعہ میں زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ایک کنواری سے بن باپ بچہ پیدا ہوگیا۔
اگر ہم خود حضرت انسان اور آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کو نظر انداز کردیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت تاریخ انسانیت میں ایک بہت بڑا عجوبہ ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ اس کی کوئی مثال نہیں ہے ، نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ماقبل تاریخ میں اور نہ آپ کے بعد کی تاریخ میں۔
حضرت عیسیٰ کی ولادت سے بھی بڑا عجوبہ خود آدم کی تخلیق ہے ، لیکن اس وقت انسانیت موجود ہی نہ تھی کہ اللہ نے انسان اول کو کس طرح بغیر باپ اور ماں کے پیدا کیا۔ انسان بعد میں پیدا ہوئے اور انہوں نے تخلیق آدم کا مشاہدہ نہ کیا تھا۔ مشیت خداوندی نے یہ چاہا کہ یہ دوسرا عجوبہ خود لوگوں کے سامنے واقع ہو۔ حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے پیدا ہوجائیں اور جب سے انسان کو اس کرئہ ارض پر آباد کیا گیا ہے اور جس سنت کے مطابق انسان کا سل سلہ توالدو تناسل جاری ہے اس سے ہٹ کر ایک واقعہ ایسا ہوجائے کہ لوگ بچشم سرا سے دیکھ لیں اور یہ واقعہ اس قدر مشہور ممتاز اور ناقابل فراموش ہو کر صدیوں تک آنے والی نسلیں اس سے عبرت لیں کیونکہ پہلا معجزہ اور اعجوبہ وجود انسان سے قبل ہوا تھا۔
اللہ نے اپنی تمام مخلوقات کے لئے ایک سنت جاری فرما دی ہے کہ تمام انواع و اقسام کے جاندار ایک مخصوص سنت توالد و تناسل کے مطباق چلتے رہیں اور یہ سلسلہ مرد و عورت سے جاری ہوگا۔ یہاں تک کہ جن چیزوں میں مرد اور عورت نہیں ہے ، ان میں بھی فرد واحد میں مذکر و مونث کے خلیے رکھ دیئے گئے ہیں۔ یہ سنت قرون سے چلتی آرہی ہے اور ذہن انساین میں یہ پوری طرح بیٹھ گئی ہے۔ انسان یہ سوچنے لگا ہے کہ شاید تخلیق کا یہی واحد طریقہ ممکن ہے۔ تخلیق آدم کو وہ بھلا بیٹھا کہ کس طرح پہلا انسان وجود میں آیا۔ انسانی سوچ اور مشاہدے سے یہ بات ذرا باہر بھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کی بن باپ تخلیق کر کے یہ بتایا کہ اللہ اپنی جاری کی ہوئی سنت کا خود پابند نہیں ہے۔ اللہ کا ارادہ آزاد ہے اس کی قدرت بےقید ہے اور اس کا ارادہ کسی شکل اور طریقہ کا پابند نہیں ہے۔ تالہ پابند نے نہیں ہے۔ لیکن حضرت عیسیٰ جیسا واقعہ جاری نہ رہا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے لئے جو سنت جاری کر رکھی تھی اسے جاری رکھنا تھا۔ حضرت عیسیٰ کے واقعہ سے توالدو تناسل انسانیت کی سنت جاریہ کو بدلنا مقصود نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت ، مشیت اور ارادے کی آزادی کے ثبوت کے لئے بس یہ ایک مثال ہی کافی تھی کہ اللہ خود اپنے جاری کردہ قوانین کا پابند نہیں ہے۔
ولنجعلہ ایۃ للناس ” تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے نشانی بنائیں۔ “
یہ واقعہ چونکہ سنت الہیہ سے ہٹ کر عجیب و غریب تھا اس لئے بعض فرقے اسے صحیح طرح نہ سمجھ سکے اور اس واقعہ کو ظاہر کرنے کی حکمت بھی وہ نہ سمجھ سکے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرف الوہیت کی صفات کی نسبت شروع کردی اور آپ کی ولادت کے بارے میں اوہام و خرافات کا تانا بانا بننا شروع کردیا۔ انہوں نے ان کی اس تخلیق سے اللہ کا جو اصل مقصد تھا اسے سمجھنے کی کوشش نہ کی۔ ہدایت کے بجائے الٹا گمراہی کی طرف چلے گئے۔ یعنی بجائے اس کے کہ وہ کہتے کہ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرت الہیہ بےقید ہے انہوں نے خود حضرت عیسیٰ کو الہ بنا لیا اور ان کے عقائد خراب ہوگئے۔
اس سورة میں قرآن کریم اس واقعہ کو ذرا تفصیل سے نقل کرتا ہے ، اس واقعہ کا حقیقی مقصد بتاتا ہے اور خرافات اور قصے کہانیوں کی تردید کرتا ہے۔ انداز بیان نہیات ہی پر تاثیر مناظر کی شکل میں ہے ، جو جذباتی مناظر اور انساین تاثرات سے بھرپور ہیں۔ جو شخص ان مناظر کی غور سے پڑھتا ہے اور چشم تصور سے دیکھتا ہے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور وہ کانپ اٹھتا ہے ، ذرا غور سے پڑھیں۔
Ayah 19:16یہ پہلا منظر ہے۔ ایک کنواری نوجوان عورت ہے ، نہایت ہی پاکباز ہے ، اس کی ماں نے اسے اس وقت عبادت خانے کی خدمت کے لئے نذر کردیا تھا جب وہ ابھی ماں کے پیٹ میں تھی۔ اس کے بارے میں سب کے سب یہی جانتے تھے کہ وہ نہایت ہی پاکباز عورت ہے ، عفت ماب ہے ۔ وہ ہارون کی طرف نسبت رکھتی ہے جو اسرائیلی معبد کے متولی اور پاکباز شخص تھے۔ ان کے خاندان کی شہرت بھی یہ تھی کہ وہ نہایت ہی پاکباز لوگوں کا خاندان ہے اور زمانہ قدیم سے یہ لوگ پاک سیرت چلے آ رہے ہیں۔
یہ عورت اپنے اہل و عیال اور اپنے اس پاکیزہ خاندان سے چھپتی پھرتی ہے ، اس کے حالات ایسے ہیں کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو رہی ہے۔ سیاق کلام میں اس حقیقت کی صراحت نہیں کی جا رہی ہے کیونکہ یہ کنواریوں کے مخصوص پوشیدہ امور کے ساتھ متعلق ہے۔
یہ اپنی اس خلوت میں ہے ، اپنی زندگی سے مطمئن ہے لیکن وہ کیا دیکھتی ہے کہ ایک نوجوان اس کے کمرے میں کھڑا ہے ، ایک مکمل نوجوان۔
Ayah 19:17فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشراً سویاً (91 : 81) ” اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پور انسان کی شکل میں نمودار ہوا۔ یہ اب کسی بھی کنواری عورت کی طرح گھبرا اٹھتی ہے ، جس کے کمرے میں اچانک ایک پورا نوجوان مرد داخل ہوجائے۔ وہ اللہ کی پناہ میں آتی ہے۔ اللہ سے پناہ طلب کرتی ہے ، اس شخص کو اللہ اور تقویٰ و طہارت کا واسطہ دیتی ہے۔ اللہ کے خوف کا واسطہ دیتی ہے ، وہ کہتی ہے کہ اللہ دیکھ رہا ہے ، یہ جگہ خالی نہیں ہے۔ اللہ موجود ہے۔
Ayah 19:18قالت انی اعوذ بالرحمٰن منک ان کنت تقیاً (91 : 81) ” مریم کی ایک بول اٹھی کہ اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں۔ “ کسی بھی مت قی آدمی کے سامنے اگر خدا کا ذکر کیا جائے تو اس کا شعور تقویٰ بیدار ہوتا ہے اور وہ شیطانی وسوسہ اور شہوت کی اکساہٹ سے باز آجاتا ہے۔
یہ پاک فطرت دوشیزہ ، نہایت ہی اچھی تربیت یافتہ ، نہایت ہی پاک ماحول میں رہنے والی ، جس کی کفالت کی ذمہ داری زکریا جیسے پاکباز شخص کے ذمہ ہے۔ جب وہ جنین کی حالت میں تھی تو اسے اس معبد کے لئے نذر کردیا گیا تھا۔ اس کے لئے یہ پہلا جھٹکا تھا ۔ ذرا سوچئے کہ یہ فرشتہ یا یہ نوجوان اسے یوں جواب دیتا ہے :
Ayah 19:19قال انما انا رسول ربک لاھب لک غلما زکیا (91 : 91) ” اس نے کہا میں تو تمہارے رب کا فر ستادہ ہوں اور اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں۔ “
اس اعلان سے سوچا جاسکتا ہے کہ اس دوشیزہ پر کس قدر خوف طاری ہوگیا ہوگا ، اسے کس قدر شرمنگدی لاحق ہوگئی ہوگی۔ اسے تو ابھی یہ یقین ہی نہیں ہے کہ یہ نوجوان اللہ کا فرستاندہ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اس رنگ میں اسے دھوکہ دے رہا ہو ، جبکہ وہ اس شرمیلی پاکیزہ فطرت خاتون کو صراحت کے ساتھ پکار رہا ہے کہ میں تمہیں ایک پاکیزہ بچہ دینے آیا ہوں ، یہ اس خاتون کے لئے دوسرا دھچکا ہے۔
جب کبھی کسی خاتون کی عزت و ناموس خطرے میں ہو اس کے اندر قدرتی طور پر شجاعت پیدا ہوجاتی ہے۔ چناچہ حضرت مریم جرأت کے ساتھ پوچھتی ہیں۔
Ayah 19:20قالت انی یکون لی غلم ولم یمسسی بشر ولم اک بغیا (91 : 02) مریم نے کہا میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا ، جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں۔ “ یوں وہ صراحت کے ساتھ بات کرتی ہیں ، کھلے الفاظ میں ، وہ اور یہ شخص دونوں تنہائی میں ہیں۔ اچانک اس شخص کے در آنے کی غرض وغایت بھی ظاہر ہوگئی ہے۔ وہ جاننا چاہتی ہے کہ وہ اسے کس طرح بچہ دینا چاہتا ہے۔ ہاں جب اس نے کہا کہ میں تمہارے رب کافر ستادہ ہوں تو اس کے خوف میں اس سے بھی کمی نہیں اتٓی کہ وہ اسے ایک ایسا بچہ دینے والے ہیں جو اپک ہوگا ، جس کی ولادت ناجائز ذرائع سے نہ ہوگی ، اس کی سیرت بھی بری نہ ہوگی۔ اس لئے وہ اسی موقعہ پر کھل کر بات کرتی ہیں اور یہی مناسب بھی ہے کہ معلوم کیا جائے کہ کس طرح یہ بچہ پیدا ہو سکتا ہے جبکہ مجھے تو کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور میں کوئی عصمت فروش عورت بھی نہیں ہوں کہ لوگ میرے بچے کو قبول کرلیں کہ یہ فاحشہ کا بچہ ہے۔
یہاں تک کے سوال و جواب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مریم مرد اور عورت کے ملاپ سے پیدائش کے سوا کوئی اور صورت پیدائش پر یقین نہ رکھتی تھی اور ایک عام انسان کے لئے یہی قدرتی سوچ ہے۔
Ayah 19:21قال کذلک قال ربک ھو علی ھین ولنجعلہ ایۃ للناس و رحمۃ منا (91 : 12) ” فرشتے نے کہا ایسا ہی ہوگا تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لئے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لئے کریں گے کہ اس لڑکے کو لوگوں کے لئے نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے رحمت۔ “
یہ خارق عادت طریقہ ولادت جس کے بارے میں مریم بھی نہیں سوچ سکتی اللہ کے لئے بہت آسان ہے۔ کیونکہ اللہ جب کسی چیز کو وجود میں لانا چاہتے ہیں تو وہ صرف کن کہتے ہیں اور وہ ہوجاتی ہے۔ اللہ کے لئے سب کچھ آسان ہے چاہے مروجہ سنت الہیہ کے مطابق قدرتی طریقوں سے ہو یا غیر معمولی طریقوں سے ہو۔ فرشتہ اب صاف صاف بتا دیتا ہے کہ خدا کا یہی فرمان ہے کہ ایسا ہی ہوگا اور میرے لئے یہ آسان ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس اعجوبے کو لوگوں کے لئے ایک نشانی بنانا چاہتے ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ کی قدرت اور اللہ کا ارادہ اور اس کی مشیت بےقید ہیں ، یہ واقعہ سب سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے رحمت ہوگا پھر تمام انسانوں کے لئے رحمت ہوگا۔ اس واقعہ کے ظہور سے لوگوں کو معرفت الٰہی حاصل ہوگی ، وہ اللہ کی بندگی کریں گے ، اور اللہ کی رضامندی کے متلاشی ہوں گے۔
روح الامین اور کنواری مریم کے درمیان اب یہ مکالمہ یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ اس مکاملے کے بعد کیا ہوا ، اب یہاں اس کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ اب یہاں قصے کے درمیان ایک خلا ہے ، یہ مناظر قصہ پیش کرنے کے درمیان ایک فنی خلا ہے۔ البتہ فرشتہ اس قدر ضرور کہہ دیتا ہے کہ یہ بچہ یونہی ایک کنواری سے پیدا ہوگا ، کنواری کو کسی نے چھوا تک نہ ہوگا ، یہ بچہ لوگوں کے لئے معجزہ ہوگا ، اللہ کی طرف سے رحمت ہوگا اور اس کا فیصلہ ہوچکا ہے کہ اور ایسا ہی ہوگا۔
اب اس قصے کا ایک دوسرا منظر سامنے آتا ہے ، ہماری پاک دامن کنواری کو ایک دوسری حیران کن اور پریشان کن حالت میں پیش کیا جاتا ہے۔ منظر پہلے منظر سے بھی زیادہ خوفناک ہے ، اس کے لئے۔
Ayah 19:22یہ اس پاک دامن دوشیزہ کے لئے تیسرا دھچکا ہے۔ سیاق کلام میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ یہ حمل کیسے ٹھہرا ، کتنا عرصہ رہا یا کوئی عادی حمل تھا جس طرح عورتوں کو ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی جانب سے ایک پھونک تھی اور عورت کے رحم میں بیضے کے اندر حرکت پیدا ہوگئی۔ یہ خون کالوتھڑا بن گیا ، اس کے اندر ہڈیاں بن گئیں ، ہڈیوں پر گوشت بننا شروع ہوگیا اور جنین نے حمل کا مقررہ وقت پورا کیا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ عورت کے بیضے میں حرکت پیدا کی اور اس نے اپنا طبیعی عمل شروع کردیا۔ یہ بیھ ممکن ہے کہ اس غیر معمولی واقعہ میں بیضے نے اپنا عادی کورس پورا نہ کیا ہو ، یہ تمام مراحل اعجوبے کی طرح جلدی جلدی طے ہوگئے ہوں اور رحم مادر میں بچہ جلدی جلدی تکمیل کے مراحل طے کر گیا ہو۔ یہاں ایٓت میں تو کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ دونوں طریقفوں اور امکانیات میں سے کون سا عمل ہوا۔ لہٰذا ہم بھی اس بحث میں نہیں پڑتے جس کے بارے میں تحقیق کے لئے مہارے پاس کوئی مسند مواد نہیں ہے۔ ہمیں جو بات یہاں بتائی اور دکھائی جاتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حمل ٹھہرا اور مریم اپنی فیملی سے دور ایک تنہا مقام میں چلی گئی ہیں۔ یہ صورت حالات ان کے لئے سابقہ حالات سے زیادہ خوفناک ہے پہلے موقف میں تو ان کو صرف اپنے کنوارے پن ، تربیت اور اخلاق کی فکر تھی ، یہ صرف ان کا خفیہ مسئلہ تھا۔ خفیہ رہ سکتا تھا ، لیکن یہاں یہ مسئلہ اب سوسائٹی کے سامنے آنے الا ہے۔ نفسیاتی تکالیف کے ساتھ اب وہ جسمانی تکالیف سے بھی دوچار ہیں۔ دردزہ کی تکلیف انہیں کھجور کے ایک تنے کے پاس لاتی ہے۔ وہ مجبوراً اس درخت کا سہارا لیتی ہے۔ یہاں یہ یکہ و تنہا ہے۔ کنوارے پن کی پہلی ولادت میں زچگی کی تکالیف بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ کچھ تجربہ نہیں رکھتیں ، کوئی معاون و مددگار بھی نہیں ہے ، اچانک اس کے منہ سے یہ کلمات نکلتے ہیں۔
Ayah 19:23یلیتنی مت قبل ھذا و کنت نسیا منسیاً (91 : 32) ” کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان ہی نہ رہتا۔ “ قرآن نے اس بات کو جن الفاظ میں بیان کیا ہے گویا ہم اس کے چہرے کے خدو خال دیکھ رہے ہیں ، اس کے دلی اضطراب کو گویا ہم محسوس کرسکتا ہے۔ رنج و الم جو ان کو ہے ہر شخص اسے حقیقی طور پر محسوس کرتا ہے۔ ایسے مواقع یہ تمنا جائز ہے کہ اس کا نام و نشان مٹ جائے۔ منسیاً وہ کپڑا جسے حیض کے خون کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے بعد پھینک دیا جاتا ہے اور بھلا دیا جاتا ہے (ایسی جگہ پھینک دیا جاتا ہے کہ کوئی دیکھ بھی نہ سکے۔ )
اس شدت رنج و الم میں اچانک ایک عظیم سرپرائز دیا جاتا ہے۔
Ayahs 19:24–25یا اللہ ، یہ کیسا بچہ ہے ، ابھی تو پیدا ہوا ہے ، زمین پر پڑا ہے اور وہ باتیں کر رہا ہے۔ اب مریم کو خوشی کے ساتھ سکون حاصل ہوگیا۔ اب وہ اپنے رب سے واصل ہیں۔ ان کے کھانے اور پینے کا بندوبست بھی کردیا گیا ہے ، عجیب انداز میں اور ان کو اس معجزانہ ولات کی دلیل اور جواز بھی سمجھا دیا گیا ہے۔
اے ماں تو پریشان نہ ہو۔ قد جعل ربک تحتک سریاً (91 : 32) ” تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کردیا ہے۔ “ وہ تمہیں بھولا نہیں اور نہ تمہیں بےسہارا چھوڑ دیا ہے ، بلکہ اس نے تمہارے لئے تمہارے قدموں کے نیچے ایک چشمہ جاری نکال دیا ہے۔ رجح بات یہ ہے کہ ایک لحظہ میں یہ چشمہ معجزانہ طور پر پھوٹ پڑا۔ زمین سے یا پانی کی کسی گزر گاہ سے۔ جس کھجور کا تم نے سہارا لے رکھا ہے اسے ذرا حرکت دو ، تیرے اوپر ترو تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔ چناچہ یہ تیسری خوراک ہے اور وہ شراب طہور ہے۔ نفاس اور زچگی کی مریضہ کے لئے میٹھا کھانا بہت مفید ہوتا ہے ، کجوریں تازہ اور خشک زچگی کی مریض خواتین کا بہترین طعام ہے۔
Ayahs 19:26–27فکلی و اشربی و قری عینا (91 : 62) ” تو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ “ یہ خوشگوار طعام و شراب اسعتمال کرو اور بچے کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈا کرو اور اگر کوئی سوال کرے تو اشاروں سے یہ کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں ، میں نے روزے کی نذر مانی ہے ، عبادت اور ذکر الٰہی کے لئے کٹ گئی ہوں ، آج میں کسی سے بات نہ کروں گی کسی کو اس کے سوال کا جواب نہ دوں گی۔
ہمارا خیال ہے کھجور کے اس درخت کو ہلانے سے قبل وہ بےحد خوفزدہ ہوگئی ہوگی ، نہایت ہی پریشانی کا وقت اس پر گزرا ہوگا ، لیکن جب درخت کے ہلاتے ہی اس پر تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں تو وہ سمجھ گئی ہوگی کہ اللہ اس کے ساتھ ہے۔ اسے اللہ نے نہیں چھوڑا اور یہ کہ حجت الہیہ اس کے پاس ہے۔ یہ بچہ جو ولادت ہوتے ہی باتیں کرتا ہے ، یہ حجت الہیہ ہے اس لئے یہ باتیں اس معجزے کی تفسیر کردیں گی ، جو اس بچے کی ولادت کے سلسلے میں ظہور پذیر ہوا۔
اب اگلا نہایت ہی موثر منظر دیکھیے :
Ayah 19:28جب یہ آتی ہے تو پوری قوم کے چہرے سیاہ نظر آتے ہیں ، یہ لوگ اس کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی شریف ، پاکدامن اور ہیکل کو بخشی ہوئی متبرک بیٹی ، عبادت گزار اور اچھی شہرت والی راہبہ ، ایک بچے کو اٹھائے چلی آرہی ہے۔ وہ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے تھے۔
قالوایمریم لقد جئت شیئاً فریا (82) ” یاخت ھرون مکان ابوک امرا سوء وما کانت املک بغیاً (82) (91 : 82-82) لوگ کہنے لگے ” اے مریم ، یہ تو تو نے بڑا باپ کر ڈالا۔ اے ہارون کی بہن ، نہ تیرا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تیرا ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی۔ “ ان کی زبانوں کی کاٹ تیز ہے کہ تو نے تو بہت ہی مگر وہ کام کر ڈالا۔ طعنے دینے لگے اور تو تو ہارون کی بہن ہے ، جو نبی ہیں ، جو اس ہیکل کے متولی رہے ہیں اور اس کے بعد ان کی اولاد اس ہیکل کی وارث رہی ہے۔ تمہاری نسبت اس طرف ہے کہ تو اس ہیکل کی راہبہ ہے اور یہاں عبادت کے لئے وقف ہے۔ کیا اس نسبت ، اس مقام ، اس حیثیت اور اس مکروہ فعل کے درمیان کوئی نسبت ہے۔ تمہارا باپ بھی ایسا نہ تھا ، تمہاری ماں بدکار نہ تھی۔ یہ جو کام تو نے کیا ہے یہ تو بدکار لوگوں کی بہن بیٹیاں کرتی ہیں۔ عصمت فروش طبقات کے ہاں ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں۔
مریم وہی کرتی ہیں جس کا اس معجزانہ بچے نے ان کو بوقت پیدائش مشورہ دے دیا تھا۔
Ayah 19:29فاشارت الیہ (91 : 92) ” مریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا۔ “ اس عجیب صورتحال کے بارے میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں کہ تعجب اور غیظ و غضب اور شرمندگی میں یہ لوگ مریم کے در پے ہوئے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ ان کی بیٹی ان کے سامنے برملا ایک بچہ اٹھائے چلی آرہی ہے۔ وہ ان لوگوں کے غیض و غضب کو اہمیت نہیں دیتی ، خاموش ہوجاتی ہے اور بچے کی طرف اشارہ کردیتی ہے کہ پوچھو اس سے سارے واقعہ کا راز ، اور وہ جل بھن کر کہتے ہیں :
قالوا کیف نکلم من کان فی المھد صبیاً (91 : 92) ” ہم اس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے۔ “
اب ایک دوسرا معجزہ رونما ہوتا ہے :
Ayahs 19:30–33یوں حضرت عیسیٰ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ، وہ خدا کے بیٹے نہیں ہیں ، جس طرح بعض عیسانی فرقے دعویٰ کرتے ہیں۔ نہ وہ بذات خود الہ ہیں جس طرح بعض دور سے فرقے عقیدہ رکھتے ہیں ۔ نہ یہ بات ہے کہ وہ تینوں کا ایک ہیں اور تین الہ واحد ہیں جیسا کہ ایک دوسرا فرقہ یہ عقیدہ رکھتا ہے۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ اللہ نے مجھے نبی بنایا ہے۔ نہ بیٹا بنایا ہے اور نہ شریک۔ مجھ میں برکت ڈلای ہے اور یہ حکم دیا ہے کہ پوری زندگی میں نماز ادا کروں اور زکوۃ رپ عمل کروں۔ والدہ کے ساتھ حسن سلوک کروں اور فیملی کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھوں۔ خود میری زنگدی محدود ہے۔ موت کے لئے ایک دن مقرر ہے۔ مروں گا ، پھر اٹھایا جائوں گا۔ اللہ نے میرے لئے سلامتی ، امن ، اطمینان کا پورا پورا سامان کردیا ہے ، ولادت کے وقت بھی ، موت کے وقت بھی اور بعث بعد موت کے وقت بھی۔
یہ آیت حضرت عیسیٰ کی موت اور بعث بعد موت پر نص صریح ہے۔ اس میں کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی اور نہ اس میں بحث کی کوئی گنجائش ہے۔
قرآن مجید یہ منظر پیش کر کے اس پر کسی اور بات کا اضافہ نہیں کرتا۔ یہ تفصیلات نہیں دی جاتیں کہ اس معجزے کے بعد قوم کا ردعمل کیا ہوا۔ اس کے بعد مریم اور ان کے اس ذی شان بچے کا کیا بنا۔ جس نبوت کی طرف انہوں نے اپنے کلام میں اشارہ کیا تھا وہ انہیں کب ملی کیونکہ انہوں نے کہا تھا۔
اتنی الکتب وجعلنن نبیاً (91 : 03) ” مجھے اس نے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔ “ کیونکہ اس جگہ قرآن کا مقصود یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خارق عادت معجزہ پیش کردیا جائے اور جب بات اس حیران کن اور معجزانہ کلام تک پہنچتی ہے تو پردہ گرتا ہے تاکہ اس کے بعد وہ اصل بات نہایت ہی مثبت ، فیصلہ کن انداز میں کی جائے کیونکہ یہ بہتر موقعہ ہے کہ اس مقام پر نہایت ہی سنجیدہ لہجے میں اصل بات کہہ دی جائے۔
Ayah 19:34یہ ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اصل حقیقت ‘ نہ ان لوگوں کی بات درست ہے جو ان کو الہٰ بناتے ہیں۔ نہ ان لوگوں کی بات درست ہے جو ان کی ولادت کے بارے میں ان کی والدہ محترمہ کو متہم کرتے ہیں۔ ان کی ولادت ‘ ان کی نشوونما اور مرتبہ و مقام کی یہی حقیقت ہے۔ یہی قول حق ہیجس میں لوگ شک کرتے ہیں اور شکایت کرتے ہیں۔ وہ زبانی طور پر اس کی تصدیق کرتے ہیں اور حالات قصہ بھی یہی بتاتے ہیں۔
Ayah 19:35ماکان ۔۔ من ولد (91 : 53) ” اللہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے “۔ وہ اس سے بہت بلند ہے۔ اس کا یہ کام نہیں ہے اور نہ اس کو اس کی ضرورت ہے کہ وہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے۔ بیٹا تو ان لوگوں کی ضرورت ہے جو فنا ہونے والے ہیں۔ وہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے کسی کو اپنا بیٹا بناتے ہیں ‘ پھر ایک ضعیف والد کو آخری عمر میں مدد کے لئے بیٹے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ باقی اور لازوال ہے ‘ وہ قادر مطلق ہے ‘ کسی کا محتاج نہیں ہے اور تمام کائنات اس کے کلمہ کن سے بنتی ہے۔ وہ جو چاہتا ہے ہوجاتا ‘ محض اس کا ارادہ اس طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے ‘ لہٰذا اسے نہ اولاد اور نہ شریک کی ضرورت ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی بات اس پر ختم ہوتی ہے کہ اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ لہٰذا صرف اسی خدائے واحد کی عبادت کرو۔
Ayah 19:36وان اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صراط مستقیم (91 : 63) ” اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ‘ بس تم اسی کی بندگی کرو ‘ یہی سیدھی راہ ہے “۔ لہٰذا عیسیٰ کی شہادت اور ان کے قصے کی اس شہادت کے بعد اب اوہام اور اساطیر اور قصے ‘ کہانیوں کی اب کوئی گنجائش نہیں۔ یہ تبصرہ مشیت اور قرار داد کی صورت میں کیا گیا ہے۔
اس تقریر اور قرار داد کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مختلف پارٹیوں کے اختلافات پر تبصرہ کیا جاتا ہے کہ اس حقیقت کے آنے کے بعد اب ان اختلافات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
فاختلف الاحزاب من بینھم (91 : 73) ” مگر پھر مختلف گروہ باہم اختلاف کرنے لگے “۔ قیصر روم آفنطین نے پادریوں کیا یک مجلس منعقد کی تھی جس میں دو ہزار ایک سو ستر (0712) پادری شریک ہوئے تھے ۔ یہ مجلس ان کی تین مجالس میں سے ایک تھی۔ اس میں حضرت عیسیٰ کے بارے میں ان کے درمیان شدید اختلاف ہوگیا۔ ہر فرقے نے اپنا موقف بیان کیا۔ بعض نے کہا کہ وہ خدا ہے جو زمین پر اترا ‘ جس کو چاہا زندہ کیا ‘ جس کو چاہا مارا اور پھر وہ آسمانوں پر چلا گیا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ وہ ابن اللہ ہے ‘ بعض نے کہا کہ وہ اقاینم خلاثہ میں سے ایک ہیں ‘ باپ بیٹا اور روح القدس ۔ بعض نے کہا کہ وہ تینوں میں سے ایک ہیں ‘ یعنی اللہ بھی الہٰ ہے وہ بھی الہٰ ہیں اور والدہ بھی الہٰ ہیں۔ بعض نے کہا کہ وہ اللہ کیب ندے ‘ اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ ان بڑے اقوال کے علاوہ اور فرقوں نے بھی کئی اقوال پیش کئے۔ کسی عقیدے پر تین صداسی افراد سے زیادہ کا انفاق نہ ہوا ۔ یہ تعداد ایک قول پر جمع ہوگئی۔ قیصر روم اس کی طرف مائل ہوگیا اور اس قول کے ماننے والوں کی امداد کی اور دوسروں کو ختم کردیا ‘ خصوصاً اہل توحید کو نیست ونابود کردیا۔
حضرت عیسیٰ کے بارے میں غلط عقائد کا تعین چونکہ مذہبی پیشوائوں کی مجالس نے کیا تھا ‘ اس لیے یہاں سیاق کلام ان لوگوں کو ڈراتا ہے جنہوں نے توحید کے علاوہ دوسرے عقائد اختیار کئے۔ ان کو ڈرایا جاتا ہے ‘ اس دن سے ‘ جس میں ان مجالس کے مقابلے میں زیادہ لوگ جمع ہوں گے اور یہ لوگ دیکھیں گے کہ کافروں کا انجام کس قدر عبرت ناک ہوگا۔
Ayah 19:37ان لوگوں کے لئے اس دن بہت بڑی ہلاکت ہوگی ‘ بہت بڑا خوفناک منظر ہوگا ‘ وہ عظیم اور خوفناک منظر جن وانس سب دیکھ رہ ہوں گے ‘ ملائکہ بھی حاضر ہوں گے۔ اس اللہ کے سامنے سب لوگ کھڑے ہوں جس کے ساتھ ان احزاب نے شرک کیا۔
یہاں اللہ تعالیٰ بتاتے ہیں کہ ان لوگوں کی حالت دیدنی ہوگی کہ یہ لوگ یہاں اس دنیا میں دلائل ہدایت سے منہ موڑ رہے تھے ‘ لیکن وہاں تو ان کے کان بھی اچھی طرح سن رہے ہوں گے اور آنکھیں بھی اچھی طرح دیکھ رہی ہوں گی۔
Ayah 19:38اسمع بھم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فی ضلل مبین (91 : 83) ” جب وہ ہمارے سامنے اضر ہوں گے اس روز تو ان کے کان بھی خوب سن رہے ہوں گے ‘ اور ان کی آنکھیں بھی خوب دیکھ رہی ہوں گی مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں “۔ آج ان کی حالت یہ ہے کہ نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں جبکہ آج سننا اور دیکھنا ہدایت کا سبب بن سکتا ہے۔ لیکن جس دن سننا اور دیکھنا شرمندگی کا باعث ہوگا اس دن یہ خوب سن اور دیکھ رہے ہوں گے۔ اس دن یہ ایسی چیزیں دیکھیں گے جو دیکھنے کے قابل نہ ہوں گی اور ایسی چیزی سنیں گے جسے سننا نہ چاہیں گے۔ یہ ہوگا مشد عظیم کا دن۔
Ayahs 19:39–40وانذر ھم یوم الحسرۃ (91 : 93) ” اور ان کو پچھتاوے کے دن سے ڈرائو “۔ اس قدر حسرتیں ہوں گی کہ قیامت کا دن ہی حسرتوں کا دن ہوگا۔ حسرت کے سوا وہاں کچھ نہ وہ گا۔ میدان میں ہر طرف حسرت ہی حسرت ہوگی لیکن اس دن حسرت کرنا مفید مطلب نہ ہوگا۔
اذ قضی الامر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لایئو منون (91 : 93) ” جب فیصلہ کردیا جائے اور یہ لوگ غفلت میں ہیں اور ایمان نہیں لارہے “۔ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے لیکن قیامت کا دن ان کے کفر کے ساتھ ڑا ہوا ہے۔ جس غفلت میں یہ ڈوبے ہوئے ہیں اس کے ساتھ قیامت جڑی ہوئی ہے۔
ان کو اس دن سے ڈرائو جس میں شک نہیں ہے۔ کیونکہ زمین کے اوپر جو چیز اور جو انسان بھی ہیں وہ سب کے سب اللہ کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اللہ ہی سب کا وارث ہے۔