19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور اس کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرو ‘ بیشک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا

درس نمبر 631 ایک نظر میں پہلے سبق کے آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کی حقیقت بیان کی گئی ‘ اور بتایا گیا کہ جو لوگ ان کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں ‘ وہ محض وہم و گمان اور قصے ‘ کہانیوں پر یقین رکھتے ہیں۔ بڑی گمراہی میں مبتلا ہیں اور ان کہانیوں سے بعض گمراہ اہل کتاب استدلال کرتے ہیں۔ اس کے بعد یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصے کا ایک حصہ دیا جاتا ہے جس میں عقائد شرکیہ کی گمراہی اور بطلان کو واضح کیا گیا ہے۔ عرب اور مشرکین مکہ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مشرکین مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ اس گھر کے متولی ہیں جس کی تعمیر حضرض ابراہیم و اسماعیل علیھا السلام نے فرمائی تھی۔ حضرت ابراہیم اپنے اس قصے کی اس کڑی میں نہایت ہی حلیم الطبع کردار والے نظر آتے ہیں اور اللہ کی مشیت پر راضی ہونے والے شخص ہیں۔ ان کی شخصیت کے یہ خدوخال ان کے الفاظ ‘ ان کے انداز کلام سے بھی اچھی طرح معلوم ہوتے ہیں جن کی حکایت قرآن کریم نے عربی میں بیان کی ہے۔ نیز ان کے اقدامات سے اور والد کی جہالت کے مقابلہ کے سلسلے میں ان کے رویہ سے بھی ان کی شخصیت واضح ہو رہی ہے۔ لیکن اللہ کی طرف سے ان کے اس کردار اور ان کے ان اوصاف کا صلہ بھی ان کو خوب ملا۔ ان کے مشرک باپ اور مشرک فیملی کی جگہ اللہ نے ان کو ایسی صالح اولاد دی جن سے ایک بڑی امت پیدا ہوئی۔ اس امت میں بڑے بڑے انبیاء و صالحین پیدا ہوئے لیکن ان کے بعد ایسے ناخلف لوگ بھی پیدا ہوئے جنہوں نے نمازوں کو ضائع کردیا۔ اور خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرنے لگے اور اس راہ سے وہ منحرف ہوگئے ‘ جو ان کے لیے ان کے باپ ابراہیم نے تجویز کیا تھا۔ اور انہوں نے حضرت ابراہیم کا دین تک ترک کردیا اور مشرکین مکہ انہی لوگوں کے سر خیل تھے ۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو صدیق اور نبی کہا۔ صدیق سے یہ بھی مفہوم کہ وہ بہت ہی سچے تھے اور یہ بھی نکلتا ہے کہ وہ بہت تصدیق کرنے والے تھے۔ دونوں معنی حضرت ابراہیم کی شخصیت کے ساتھ مناسب ہیں۔
Ayah 19:42

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

(انہیں ذرا اس موقع کی یاد دلائوض جبکہ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ ” ابا جان ‘ آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں ؟

وہ نہایت ہی ادب اور تہذیب کے ساتھ اپنے باپ سے ہمکلام ہیں۔ وہ یہ کوشش کررہے ہیں کہ اللہ نے جو ہدایت ان کو دی ہے ‘ اس سے ان کے والد بھی مستفید ہوجائیں۔ جو علم اللہ نے ان کو دیا ہے وہ اپنے باپ کو بھی سکھا دیں۔ وہ نہایت ہیمحبت کے انداز میں باپ سے مخاطب ہیں۔ ابا جان ‘ نہایت ہی نرم الفاظ ہیں۔ لم تعبدو مالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیئا (91 : 24) ” آپ کیوں ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں ‘ نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں ؟ “ عبادت کا اصول تو یہ ہے کہ انسان اس ذلت کے آگے سرنگوں ہو جو انسان سے اعلیٰ وارفع ہو۔ زیادہ علم والا اور زیادہ قوت والا ہو اور وہ ذات انسان کو مقام انسانیت سے بھی بلند کردے اور مزید اونچا مرتبہ دے دے۔ ایک انسان ان چیزوں کی عبادت اور بندگی کیسے کرسکتا ہے جو اس سے کم تر ہوں ! بلکہ وہ دوسرے حیوانات سے بھی کم تر ہوں ‘ نہ سنتی ہوں ‘ نہ دیکھتی ہوں اور نہ کسی کے نفع و نقصان کی مالک ہوں۔ یہ تقریر انہوں نے اس لئے کی کہ ان کے والد اور ان کی قوم بتوں کی پوجا کرتے تھے جس طرح اہل قریش بتوں کی پوجا کرتے تھے جن کے ساتھ اسلام کا مقابلہ تھا۔ یہ تو تھی پہلی جھلک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت توحید کی جو انہوں نے اپنے والد کے سامنے پیش کی۔ اس کے بعد انہوں نے مزید تشریح کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ یہ بات وہ خود اپنی جانب سے نہیں کہہ رہے بلکہ دراصل یہ وہ علم ہے جو ان کے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ اللہ نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں آپ کو یہ دعوت دوں اگر چہ میں عمر میں آپ سے کم ہوں اور میرا تجربہ بھی آپ سے کم ہے لیکن عالم بالا کی امداد سے میں حقیقت تک پہنچ گیا ہوں۔ وہ اپنے والد کو درد مندی کے ساتھ نصیحت کرتے ہیں کہ آپ کو اس علم کا پتہ نہیں ہے لہذا آپ کو چاہیے کہ آپ میری اطاعت کریں۔ میں آپ کو راہ راست دکھا سکتا ہوں۔
Ayah 19:43

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

ابا جان ‘ میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ‘ آپ میرے پیچھے چلیں ‘ میں آپ کو سیدھا راستہ بتائوں گا۔

یآبت انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صراطا سویا (91 : 34) ” ابا جان ‘ میرے پاس ایک ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ‘ آپ میرے پیچھے چلیں ‘ میں آپ کو سیدھا راستہ دکھائوں گا “۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ایک والد اپنے ہدایت یافتہ بیٹے کے پیچھے چلے ‘ اگر ایک بیٹا نبی ہو اور اس کا اعلیٰ ذریعہ علم سے رابطہ ہو۔ اس صورت میں والد بیٹے کی نہیں بلکہ اس اعلیٰ شرچشمے کی اطاعت کر رہا ہوتا ہے اور ہدایت یافتہ ہوجاتا ہے۔ اس وضاحت کے بعد کہ بتوں کی بندگی کرنا ایک منکر فعل ہے اور یہ کہ میری دعوت کا سرچشمہ ذات باری ہے جبکہ والد جس موقف کو اپنائے ہوئے ہیں اس کا سرچشمہ کچھ اور ہے اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) صراحت کے ساتھ بتاتے ہیں کہ والد صاحب ‘ آپ جس راہ پر چل رہے ہیں وہ شیطان کی راہ ہے ‘ جبکہ میں جس راہ کی طرف آپ کو بلارہا ہوں وہ رحمن کی راہ ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ اے باپ ‘ آپ پر اللہ کا غضب نازل نہ ہوجائے اور آپ اور آپ ہمیشہ کے لئے شیطان کے پیروکاروں میں شامل ہوجائیں۔
Ayahs 19:44–45

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

ابا جان ‘ آپ شیطان کی بندگی نہ کریں ‘ شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے۔

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

ابا جان ‘ مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں

یابت لا تعدالشیطن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عصیا (44) یابت انی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولیا (54) (91 : 44۔ 54) ” ابا جان ‘ آپ شیطان کی بندگی نہ کریں ‘ شیطان تو رحمن کا نافرمان ہے۔ ابا جان ‘ مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں “۔ یہ شیطان ہی ہے جو اللہ کے سوابتوں کی بندگی پر لوگوں کو آمادہ کرتا ہے جو لوگ بتوں کی بندگی کرتے ہیں گویا وہ شیطان کی بندگی کرتے ہیں۔ اور شیطان رحمن کا نافرمان ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد کو ڈراتے ہیں کہ ان پر کہیں اللہ کا غضب نہ آجائے اور اس طرح اللہ کہیں انہیں شیطان کا دوست ہی نہ بنا دے اور وہ مستقلاً سیطان کے تابع نہ ہوجائیں۔ اللہ جب بندے کو اپنی عبادت کی توفیق دیتا ہے تو یہ اس کا انعام ہوتا ہے اور جب اللہ اپنی سنت کے مطابق کسی کے بارے میں فیصلہ کردے کہ وہ شیطان کا دوست ہوگا تو یہ اللہ کا غضب ہوتا ہے اور اس غضب کے نتیجے ہی میں پھر یہ شخص سخت عذاب اور بڑے خسارے سے دوچار ہوجاتا ہے یعنی قیامت میں۔ لیکن نہایت ہی نرم و نازک الفاظ میں یہ پرتاثیر دعوت ایک کٹٹر مشرک کے دل پر کوئی اثر نہیں کرتی۔ کیونکہ یہ دل پتھر کی طرح سخت ہوگیا ہے۔ جواب میں والد ابراہیم سخت غصے میں آکر دھمکی پر اتر آتے ہیں۔
Ayah 19:46

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

باپ نے کہا ‘” ابراہیم ‘ کیا تو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے ؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوں گا۔ بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہوجا ؟

جواب میں والد صاحب نے کہا کہ ابراہیم تو میرے معبودوں سے نفرت کرتے ہو ‘ اور اس نفرت کی وجہ سے تم ان کی عبادت سے پھرگئے ہو ‘ یا تمہیں اس قدر جرائت ہوگئی ہے ‘ میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اگر تو نے اپنے اس مکروہ موقف پر نظر ثانی نہ کی تو میں تمہیں رجم کردوں گا۔ لئن لم تنتہ لا رجمنک (91 : 64) ” اگر تو باز نہ آیاتو میں تجھے سنگسار کردوں گا “۔ میرے سامنے سے ہٹو اور ہمیشہ کے لئے یہاں سے چلے جائو۔ اسی میں تمہاری خیر ہے ورنہ یہاں زندہ نہ بچو گے۔ واھجرنی ملیا (91 : 64) ” ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہو جائو “۔ یہ شخص ہدایت کی دعوت کا جواب اس سختی سے دیتا ہے اور نہایت ہی باادب خطاب اور درخواست کو بھی سختی سے رد کردیتا ہے۔ یہ ہے ایمان اور کفر کے درمیان فرق۔ ملاحظہ کیجئے کہ جس دل کو اسلامنے مہذب بنا دیا وہ کیسا ہے اور جس دل کو کفر نے برباد کردیا وہ کیسا ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) طیس میں بھی نہ آئے ‘ انہوں نے بھلائی ‘ محبت اور ادب کو ہاتھ سے جانے نہ دیا اور یوں گویا ہوئے :
Ayahs 19:47–48

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا ” سلام ہے آپ پر۔ میں اپنے رب سے دعا کروں گا کہ آپ کو معاف کردے ‘ میرا رب مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے۔

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور ان ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں۔ میں تو اپنے رب ہی کو پکاروں گا ‘ امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کرنا مراد نہ رہوں گا

تم پر خدا کی سلامتی ہو ‘ نہ جھگڑا ہے ‘ نہ تردید ہے ‘ نہ دھمکی اور نہ ارادہ قتل کے جواب میں رد عمل ہے۔ بلکہ جواب یہ ہے کہ میں تمہارے بارے میں اپنے رب سے دعا کرتا رہوں گا کہ وہ آپ کو اس گمراہی سے اور شیطان کی دوستی سے کسی طرح نکال لائے۔ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کو ہدایت نصیب کرے۔ میرے ساتھ میرے رب کا معاملہ یہ ہے کہ میں نے جب بھی دعا کی ہے میرے رب نے مجھے نامراد نہیں لوٹایا اور اگر میرا آپ کے پاس رہنا اور آپ کی نظروں کے سامنے پھرنا آپ کو پسند نہیں تو اے ابا جان ‘ میں آپ کو اور آپ کی قوم کو چھوڑدوں گا۔ آپ جانیں اور آپ کے معبود جانیں۔ میں تو اپنے رب وحدہ ہی کی بندگی کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ میرا رب میری اس دعا کو مسترد نہیں کرے گا۔ حضرت ابراہیم جس بات کی امید کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ میرا رب مجھے شقی نہیں بنائے گا۔ ان کی یہ بات بھی نہایت کسر نفی ‘ ادب اور تقویٰ پر مبنی ہے۔ وہ اپنے آپ کو بڑا نہیں سمجھتے۔ صرف یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اللہ مجھے شقاوت اور بد بختی سے بچائے گا۔ یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ ‘ اپنی قوم ‘ اپنے اہل اور رشتہ داروں اور ان کی بت پرستیوں کو چھوڑ کر علاقے کو خیر باد کہہ دیا۔ اللہ نے بھی انہیں تنہا نہ چھوڑا۔ اللہ نے بھی انہیں اولاد دی اور مقام عالی عطا کیا۔
Ayah 19:49

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پس جب وہ ان لوگوں سے اور ان کے معبود ان غیر اللہ سے جدا ہوگیا تو ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا

حضرت اسحاق ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ یہ سارہ سے پیدا ہوئے ‘ جو پہلے بانجھ تھیں اور یعقوب حضرت اسحاق کے بیٹے ہیں ‘ لیکن یعقوب (علیہ السلام) کو بھی ابراہیم (علیہ السلام) کا بیٹا سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ دادا کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے اور دادا کے زیر تربیت رہے تھے ۔ گویا وہ براہ راست ان کے بیٹے تھے۔ انہوں نے براہ راست حضرت ابراہیم سے دین سیکھا اور پھر اپنی اولاد کو سکھایا۔ یہ بھی اپنے باپ کی طرح نبی تھے۔
Ayah 19:50

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی ناموری عطا کی

ووھبنا لھم من رحمتنا (91 : 05) ” اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا “۔ یعنی حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسحاق ‘ حضرت یعقوب اور ان کی نسل کو۔ یہاں ان حضرات کے مقام اعلیٰ کو رحمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ اس پوری سورة پر رحمت کے سائے چھائے ہوئے ہیں اور رحمت وہ رفیق ہمدم ہے جو حضرت ابراہیم کو اپنی قوم اور علاقے کے چھوڑنے کے عوض دی گئی تاکہ ان کی تنہائیوں میں رحمت ان کے ساتھ رہے۔ وجعلنا لھم لسان صدق علیا (91 : 05) ” اور ان کو ہم نے سچی ناموری عطا کی “۔ یعنی وہ اپنی دعوت میں سچے تھے ‘ لوگ ان کی بات کو سچا مانتے تھے ‘ عوام الناس میں ان کا احترام تھا اور لوگ ان کی اطاعت کرتے تھے۔ اب حضرت ابراہیم کی اولاد ہی کی بات ذرا آگے بڑھتی ہے۔ پہلے حضرت اسحاق کی اولاد حضرت موسیٰ اور ہارون ؐ کو لیا جاتا ہے۔
Ayahs 19:51–53

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور ذکر کرو اس کتاب میں موسیٰ ﷺ کا۔ وہ ایک چیدہ شخص تھا اور رسول نبی تھا۔

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

ہم نے اس کو طور کے داہنی جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو سے اس کو تقریب عطا کیا

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر اسے (مدد گار کے طور پر ) دیا

حضرت موسیٰ ؐ کی صفت اخلاص کا ذکر ہے ‘ اللہ نے ان کو اپنے لئے خالص کرلیا تھا ‘ دعوت اسلامی کے لیے وہ وقف تھے ۔ وہ رسول اور نبی تھے ‘ رسول وہ ہوتا ہے کہ جن کے لئے یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اس دعوت کو دوسروں تک پہنچائیں۔ جبکہ نبی کی ذمہ داری یہ نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں تک دعوت پہنچائیں ‘ ان کا منصب یہ ہوتا ہے کہ وہ براہ راست اللہ سے ہدایت اور نظریہ لیتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں بہت سے نبی گزرے ہیں ‘ ان کی دعوت یہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کی دعوت اور دین کو قائم کریں۔ تورات کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کریں ‘ جو اللہ کی جانب سے آیا ہوا قانون ہے۔ یحکم بھا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربانیون والا حبار بما استحفظوا من کتب اللہ وکانوا علیہ شھداء یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فضیلت یوں دی جاتی ہے کہ طور ایمن کی جانب سے اللہ نے ان سے کلام کیا۔ ایمن یعنی دائیں جانب سے یہ حضرت موسیٰ کے موقف کے اعتبار سے دایاں کہا۔ حضرت موسیٰ ؐ اللہ کے اس قدر مقرب بندے تھے کہ انہوں نے قریب سے اللہ کے ساتھ کلام کیا اور یہ کلام مناجات کی صورت میں تھا۔ ہمیں اس کلام کی کیفیت کا علم نہیں ہے ‘ نہ ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ اس کلام کا ادراک حضرت موسیٰ ﷺ نے کیسے کیا۔ یہ کوئی آواز تھی جسے کان سن رہے تھے ‘ یا یہ کوئی ایسی چیز تھی جو پورے جسد موسیٰ ؐ میں ڈال دی جاتی تھی۔ یہ بھی ہم نہیں جانتے کہ حضرت موسیٰ کی شخصیت کو اس ازلی کلام کی وصولی کے لئے کس طرح تیار کیا گیا ۔ ہمارا ایمان فقط یہ ہے کہ ایسا ہوا۔ اللہ کے لئے ہر چیز آسان ہے اور یہ بھی کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے ساتھ کسی نہ کسی طرح ڈائریکٹ رابطہ کرے۔ انسان اپنی بشریت پر قائم ہو ‘ اور اللہ کا کلام علوی اپنی علویت پر قائم ہو اور رابطہ ہوجائے۔ آخر اس سے قبل بھی انسان اللہ کی جانب سے روح پھونکنے ہی سے انسان بنا۔ پھر اللہ حضرت موسیٰ پر اپنی اس رحمت کا بھی ذکر فرماتے ہیں کہ اللہ نے ان کو ان کے مطالبے پر ایک معاون اور مدد گار کے طور پر ہارون دیا۔ واخی ہارون۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان یکذبون (82 : 43) ” اے اللہ ‘ میرے بھائی ہارون کو جو مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے ‘ بھی میرے ساتھ معاون بنا کر بھیج دے ‘ وہ میری تصدیق کرے گا ‘ کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ میری تکذیب کردیں گے “۔ اور ہارون کو اللہ کی رحمت نے ان کا ساتھی بنا دیا۔ اس پوری سورة میں رحمت ہی رحمت ہے۔ اب اولاد ابراہیم کی دوسری شاخ کو لیا جاتا ہے یعنی عربوں کے باپ اسماعیل کو۔
Ayahs 19:54–55

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور اس کتاب میں اسماعیل کا ذکر کرو۔ وہ وعدے کا سچا تھا اور رسول نبی تھا۔

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا

حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے صادق الوعد کی صفت لائی گئی ہے۔ ہر نبی اور صالح شخص کو صادق الوعد ہونا چاہیے اور ہوتا ہے۔ لیکن حضرت اسماعیل میں یہ صفت بہت ہی نمایاں تھی اس لئے انکی خصوصی صفات میں سے یہاں اس صفت کو بیان کردیا گیا۔ ان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ” رسول نبی “ تھے ‘ لہٰذا ان کی مخصوص دعوت ہوگئی۔ عرب میں حضور کے زمانے تک بعض موحدیں پائے جاتے تھے۔ یہ انہی کی دعوت کے آثار باقیہ تھے۔ ان کے دین اور دعوت کے ارکان بھی یہاں گنوائے گئے ہیں ‘ زکوۃ اور صلوۃ اور تظہیراہل خانہان کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ اللہ کی بار گاہ میں وہ پسندیدہ انسان تھے۔ رضائے خداوندی بھی اس سورة کی خصوصیات میں سے ایک ہے۔ رحمت و رضا مندی قریب قریب کی صفات ہیں۔ اس سبق کا خاتمہ ذکر ادریس (علیہ السلام) پر ہوتا ہے :
Ayahs 19:56–57

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور کتاب میں ادریس کا ذکر کرو ‘ وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھے

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھایا تھا

حضرت ادریس کے زمانے کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہیں اور انبیائے بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں۔ اس لئے بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کو صدیق اور نبی کہتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ ایک عالی مقام شخص تھے ان کا ذکر دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ بعض لوگوں کی رائے صہم نہ اس کی تصدیق کرسکتے ہیں اور نہ انکار) یہ ہے کہ مصر کیماہرین آثار قدیمہ نے یہ لکھا ہے کہ ادریس دراصل ” اوزریس “ کے لفظ کا عربی تلفظ ہے اور یہ قدیم مصری زبان کا لفظ ہے جس طرح یحیٰ یوحنا کا عربی سلفظ ہے اور السیع الشیع کا عربی تلفظ ہے۔ ان کے بارے میں بہت سے قصے ‘ مشہور ہیں۔ یہ کہ وہ آسمانوں پر چلے گئے اور وہاں ان کے لئے ایک بڑا تخت بنایا گای۔ یہ کہ جس شخص کی نیکیاں گناہوں پر بھاری ہوگئیں تو وہ دیوتا ” اوزریس “ کے پاس چلا جائے گا۔ یہ کہ ” اوزریس “ نے آسمانوں پر چڑھنے سے قبل لوگوں کو بہت سے علوم و معارف سکھائے۔ یہ بات دل کو لگتی ہے۔ بہر حال وہ جو بھی ہیں ہمارے لئے ان کے بارے میں قرآن مجید کی دی ہوئی معلومات کا فی ہیں اور یہ بنی اسرائیل کے انبیاء سے پہلے گزرے ہیں۔ یہاں سیاق کلام میں ان انبیاء کا تذکرہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ صحیح مومن ‘ اتقیاء اور انبیاء کیسے تھے اور وہ لوگ کیسے ہیں جو ان کی اولاد اور جانشیں ہونیکا دعویٰ کرتے ہیں ‘ مثلا عرب اور مشرکین بنی اسرائیل۔ دونوں کے درمیان اب کوئی بھی چیز مابہ الاشتراک نہیں ہے۔
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا ‘ آدم کی اولاد میں سے ‘ اور ان لوگوں کی نسل میں سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا ‘ اور ابراہیم کی نسل میں سے اور اسرائیل کی نسل میں سے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا۔ ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمن کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے۔

انسانی تاریخ کے باب نبوت میں ‘ قرآن کریم نے یہاں ممتاز ترین لوگوں پر اکتفاء کیا ہے۔ یہ من ذریۃ ادم (91 : 85) ” اولاد آدم سے “ ہیں۔ وممن حملنا مع نوح (91 : 85) ” اور ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا “۔ اور ومن ذریۃ ابرھیم واسرائیل (91 : 85) ” اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے “۔ آدم تو سب کے جد امجد ہیں ‘ نوح بھی آدم ثانی ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) نبوت کی دو مشہور شاخوں کے باپ ہیں اور یعقوب بنی اسرائیل کے جد امجد ہیں جن میں بیشمار رسول اور نبی آئے اور اسماعیل کی طرف عربوں کی نسبت ہے جن کی اولاد میں نبی آخرالزمان مبعوث ہیں۔ یہ نبی اور انکا اتباع کرنے والے صالح اور برگزیدہ لوگ اور ان کی اولاد ‘ یہ کون لوگ ہیں ؟ ان کی ممتاز صفت یہ ہے۔ اذا تتلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وب کیا (91 : 85 السجدۃ) ” جب رحمن کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے “۔ یہ ایسے پرہیز گار لوگ تھے جو ذات باری کے بارے میں بہت ہی حساس تھے۔ جب اللہ کی آیات ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے وجدان میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ان پر اس قدر اثر ہوتا ہے کہ اس کے اظہار کے لئے ان کو موزوں کلمات نہیں ملتے جن کے ذریعے وہ اپنے احساسات کا اظہار کرسکیں۔ ان احساسات کا اظہار وہ آنسوئوں سے کرتے ہیں اور معاً سجدے میں گر کر اور رو کر وہ اپنے جذبات اندرونی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان حساس ‘ متقی آیات الہی سن کر رونے والوں کے بعد پھر کون آیا ؟ ان کے بعد ایسے اخلاف آئے جو اللہ سے دور ہوگئے۔
Ayah 19:59

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد وہ نا خلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشات نفس کی پیروی کی ‘ پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دو چار ہوں

اضاعوا الصلوۃ (91 : 95) ” جنہوں نے نمازوں کو ضائع کردیا “۔ نمازوں کو چھوڑ دیا اور ان کا انکار ہی کردیا۔ واتعوا الشھوت (91 : 95) ” انہوں نے خواہشات نفس کی پیروی شروع کردی “۔ پیروی خواہشات میں غرق ہوگئے۔ ذرا غور کیجئے کہ اسلاف اور اخلاف کے درمیان کس قدر فرق ہوگیا ہے اور ان کے درمیان مشابہت کے عام خدو خال مٹ گئے۔ ایسے لوگوں کو قرآن کریم تہدید آمیز تنبیہ کرتا ہے کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں ‘ انہوں نے اپنے صالح آباء کی پاک سیرتوں کو چھوڑ دیا ہے اس لیے فسوف یلقون غیا (91 : 95) ” پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں “۔ غی کا مفہوم ہے گمراہی یعنی وہ گمراہ ہوجائیں گے اور بےراہ روی کا شکار ہوجائیں گے اور انجام یہ ہوگا کہ وہ تباہ ہوجائیں گے۔ لیکن ان اندوہناک اور تباہ کن حالات کے باوجود قرآن توبہ کا دروازہ کھول دیتا ہے جہاں سے باور حمت کے تازہ جھونکے آتے ہیں اور اللہ کی مہربانی اور نعمتوں کے راستے کھلے نظر آتے ہیں۔
Ayahs 19:60–61

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

البتہ جو توبہ کریں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کرلیں ‘ وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہوگی۔

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

ان کے لئے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمن نے اپنے بندوں سے در پردہ وعدہ کر رکھا ہے اور یقیناً یہ وعدہ پورا ہو کر رہنا ہے۔

وہ توبہ جو ایمان اور عمل صالح پیدا کردیتی ہے ‘ وہی صحیح معنوں میں توبہ ہوتی ہے اور وہی برے انجام سے انسان کو بچاتی ہے۔ ایسے حقیقی تائب برے انجام تک پہچنے سے بچ جاتے ہیں۔ وہ تو جنت میں جاتے ہیں اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوتا۔ جنت میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل ہوتے ہیں۔ وہ جنت مجس کا وعدہ اللہ نے اپنے بندوں سے کرر کھا ہے۔ وہ اس پر ایمان لائے اور دیکھنے سے قبل ہی اس پر یقین کیا۔ ہی اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ اہل جنت اور جنت کی تصویر کیا ہوگی ؟
Ayah 19:62

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہاں وہ کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے ‘ جو کچھ بھی سنیں گے ‘ ٹھیک ہی سنیں گے اور ان کا رزق انہیں پہیم صبح و شام ملتا رہے گا۔

لایسمعون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الاسلما (91 : 26) ” وہاں وہ کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے ‘ جو بات بھی سنیں گے صحیح سنیں گے “۔ کوئی فضول بات وہاں نہ ہوگی ‘ نہ شور و شغب ہوگا۔ وہاں ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔ اس جنت میں ضروریات اور رزق ہر وقت مطابق خواہش دستیاب ہوگا۔ کسی نفس کو کوئی قلق نہ ہوگا ‘ کوئی خوف نہ ہوگا۔ کسی چیز کی کمی کا خطرہ نہ ہوگا۔ ولھم۔۔۔۔۔ وعشیا (91 : 26) ” اور ان کا رزق انہیں صبح و شام پہیم ملتارہ گا “۔ مطابق خواہش۔۔۔۔ غرض نہایت ہی خوشگوار ماحول ہوگا اور اللہ کی نعمتوں کا ہر سوا علان ہوگا۔
Ayah 19:63

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو پرہیز گار رہا ہے

تلک الجنۃ التی۔۔۔۔۔۔۔ کان تقیا (91 : 36) ” یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اس کو بنائیں گے جو پرہیز گا ررہا ہے “۔ جو شخص جنت کی وراثت چاہتا ہے ‘ اسے اللہ نے راہ بتادی ہے۔ یعنی توبہ ‘ ایمان ‘ عمل صالح۔ نسبی ورراثت کو یہاں ذریعہ استحقاق نہیں بنایا ہے۔ نسبی لحاظ سے ایک قوم نے ان برگزیدہ صالحین کیوراثت پائی تھی مگر انہوں نے نماز اور زکوۃ کو ضائع کردیا اور شہوات نفسانیہ کے پیچھے پڑگئے۔ ان کو نسبی وراثت نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ ایسے لوگ جلد ہی فسوف یلقون غیا (91 : 95) ” برے انجام تک پہنچ جائیں گے “۔ اس سبق کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اللہ رب مطلق ہے۔ اس کی عبادت اور بندگی کرو اور اس راہ کی مشکلات پر صبر کرو اور اس کی ثبیہ اور نظیر کا انکار کرو۔
Ayah 19:64

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ‘ ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترا کرتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ‘ ہر چیز کا مالک وہی ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے۔

اس بارے میں کافی روایات ہیں کہ وما نتزل الا بامر ربک (91 : 46) ” اے محمد ﷺ ‘ ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترا کرتے “۔ اللہ کے حکم کے مطابق جبرائیل نے یہ بات اپنی زبان میں کہی کیونکہ کسی موقع پر جب وحی نہ آئی تو آپ کو وحشت اور پریشانی لاحق ہوگئی اور آپ کا شوق بڑھ گیا کہ کیوں اس قدر طویل عرصہ عالم بالا سے رابطہ نہیں ہوا۔ چناچہ اللہ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ تم یہ پیغام دے دو اور کہہ دو کہ ہم تو اللہ کے حکم کے مطابق نازل ہوتے ہیں اور حکم دینا اللہ کا کام ہے۔ لہ مابین۔۔۔۔۔۔۔۔ ذلک (91 : 46) ” جو کچھ ہمارے آگے ہے ‘ جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے “۔ وہ کسی چیز کو بھلاتا نہیں۔ وحی تب ہی نازل ہوتی ہے جب اللہ کی حکمت کا تقاضا ہو کہ نازل ہوجائے۔ وماکان ربک نسیا (91 : 46) ” اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے “۔ اس کے بعد شاید یہی تھا کہ آپ کو صبر کرنے کی تلقین کی جائے اور یہ حکم دیا جائے کہ آپ اللہ کی بندگی پر جم جائیں ‘ صرف اللہ کو اپنا رب سمجھیں۔
Ayah 19:65

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان ساری چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ‘ پس تم اس کی بندگی کرو اور اسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو۔ کیا ہے کوئی اور ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟

رب السموت والارض وما بینھما (91 : 56) ” وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان کے درمیان ساری چیزوں کا “۔ اس کے سوا کوئی رب نہیں ‘ اس عظیم کائنات میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ فاعبدہ واصبر لعبادتہ (91 : 56) ” اسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو “۔ اسلام میں عبادت صرف مراسم پرستش کا نام نہیں ہے۔ ہر تصور ‘ ہر ارادہ ‘ ہر ہر حرکت اور ہر سرگرمی عبادت کے دائرے میں آتی ہے اور یہ نہایت ہی مشکل کام ہے کہ انسان زندگی کے پورے معاملات میں صرف اللہ کی بندگی کرتا ہے ‘ اس لیے اس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے اور بڑے صبر اور ثابت قدمی کی ضرورت ہے اس لیے ضروری ہے اس زمین کی تمام سرگرمیوں میں انسان آسمان کی طرف متوجہ رہے۔ زمین کی آلودگیوں میں ‘ مادی ضروریات کی کشاکش میں ‘ خواہشات نفس کے دبائو میں اور زندگی کے گونا گوں نشیب و فراز میں۔ اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ انسان کو اس کے مابق زندگی گزارنا ہے۔ اسے اپنے اندر یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ ہر چھوٹے بڑے معاملے میں وہ درحقیقت اللہ کی اطاعت کرکے عبادت کررہا ہے۔ اس طرح اس کی پوری زندگی اور اس کی ہر حرکت ہر روش عالم بالا سے مل کر طاہر اور پاکیزہ ہوجاتی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو بہت بڑے صبر ‘ بہت بڑی جدوجہد اور بہت بڑی محنت کا طلبگار ہے۔ ” اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کی بندگی پر جم جائو کیونکہ اللہ ہی وہ واحد ذلت ہے جو اس لائق ہے کہ دل و دماغ اس کی طرف متوجہ ہوں ‘ کیونکہ کوئی اس کا ہمسر ‘ کوئی اس کا ہم نام نہیں اور کوئی اس کا ہم پایہ نہیں ہے۔ کیا اللہ کی کوئی نظیر ہے ؟ ہر گز نہیں ‘ وہ نظیر اور شبیہ سے پاک ہے۔ صدق اللہ العظیم !
Ayah 19:66

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مرچلوں گا تو پھر زندہ کرکے نکال لایا جائوں گا ؟

درس نمبر 731 ایک نظر میں اس سورة میں حضرت ذکریا ﷺ کا قصہ گزر گیا ہے اور حضرت یحییٰ ﷺ کی ولادت کی بات بھی گزر گئی ہے۔ حضرت مریم ﷺ کا قصہ اور حضرت عیسیٰ ؐ کی پیدائش کا واقعہ بھی گزر گیا ہے۔ حضر ابراہیم ﷺ اور ان کی جانب سے باپ اور قوم کو چھوڑ دینے کا قصہ اور ان حضرات کے بعد آنے والے اہل ہدایت اور اہل ضلالت کا ذکر بھی گزرا ہے۔ ان سب قصوں کے بعد یہ ذکر آیا کہ اس کائنات کا رب وحدہ لاشریک ہے اور وہی بلاشریک عبادت کا مستحق ہے۔ یہ تمام قصص صرف اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ اللہ وحدہ ہی قابل عبادت و بندگی ہے۔ اس مضمون کے بعد اب یہ پورا سبق عقیدہ توحید اور عقیدہ بعث بعد الموت کے بارے میں ہے۔ ان عقائد کو مناظر قیامت کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے اور یہ مناظر تاثرات اور زندگی کی ہماہمی سے بھرپور ہیں ‘ پھر پوری کائنات بھی ان مناظر میں شریک محفل ہے۔ تمام انسان اور پوری زمین ‘ تمام انسان اور تمام جن ‘ مومنین بھی اور کافر بھی ان مناظر میں اسٹیج کے کردار ہیں۔ پھر یہ مناظر اس دنیا سے بھی تعلق رکھتے ہیں ور قیامت کی طرف بھی نکل جاتے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ گویا ایک ہی اسٹیج پر دنیا و آخرت دونوں کے مناظر دکھائے جارہے ہیں۔ آغاز اس دنیا سے ہوتا ہے اور انجام آخرت میں جا کر نہایت ہی موثر انداز میں دکھایا جاتا ہے۔ دنیا و آخرت میں بس چند آیات و چند کلمات کا فاصلہ رہ جاتا ہے جس سے پردہ شعور انسانی پر یہ احساس ابھر آتا ہے کہ یہ دنیا اور وہ جہاں دونوں ایک اسٹیج اور منظر کے دو حصے ہیں۔ پہل انسان اسٹیج پر آتا ہے اور وہ بعث بعد الموت کے بارے میں اپنا موقف بیان کرتا ہے۔ وہ ایک ایسی بات کرتا ہے جسے آج تک کئی انسان دہراتے چلے آئے ہیں۔ مختلف زمانوں میں انسانوں نے یہی بات کہی ہے۔ گویا یہ ایک عالمی انسانی شبہ ہے اور تمام قوموں اور تمام نسلوں کو اس سوال نے ستایا ہے۔ ویقول الانسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اخرج حیا (91 : 77) ” انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مرچکوں گا تو پھر زندہ کرکے نکال لایا جائوں گا ؟ “ یہ سوال انسان کے دل میں محض اس کی غفلت کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس نے غور نہیں کیا کہ وہ موجود ہے اور اسے بہر ال پیدا کیا گیا ہے ‘ تو وہ موجود ہے۔ یہ کہاں تھا ؟ کیسے تھا ؟ یقیناً یہ نہ تھا پھر ہوا۔ اگر انسان ذرا بھی غور کرتا تو وہ سمجھ جاتا کہ پہلی بار کی پیدائش کے مقابلے میں دوبارہ اٹھانا تو بہت آسانکام ہے۔
Ayah 19:67

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کرچکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ؟

اولا یذکرالانسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولم یک شیئا (91 : 67) ” کیا انسان کو یان نہیں آتا کہ ہم نے پہلے اس کو پیدا کرچکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ؟ “ آگے جا کر اس انکار اور زبردستی کی انکار پر ذرا تہدید آمیز لہجے میں بات کی جاتی ہے۔ اللہ اپنی ذات کی قسم اٹھاتے ہیں اور ذات باری کی قسم ایک قسم ہے کہ لازماً ان لوگوں کو اور تمام لوگوں کو اٹھایا جائیگا۔ ان کو اٹھا کر میدان حشر میں لایا جائے گا اور یہ ایک فیصلہ شدہ اور طے شدہ امر ہے۔
Ayah 19:68

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

تیرے رب کی قسم ہم ضرور ان سب کو اور ان کے ساتھ شیاطین کو بھی گھیر لائیں گے۔ پھر جہنم کے گرد لاکر انہیں گھٹنوں کے بل گرادیں گے

فوربک۔۔۔۔۔۔ والشیطین (91 : 86) ” تیرے رب کی قسم ہم ضرور ان سب کو اٹھائیں گے “۔ اور یہ اکیلے ہی نہ ہوں گے۔ ان کے ساتھ شیاطین کو بھی اٹھائیں گے۔ کیونکہ یہ اور شیاطین ایک ہی قماش کے لوگ ہیں۔ یہ شیاطین ہی تو ہیں جو انکے دلوں میں ایسے شبہات پیدا کرتے ہیں۔ یہ تو تابع ہیں اور شیاطین ان کے لیڈر ہیں۔ ان کے درمیان تابع اور مقبوع کا رشتہ ہے۔ اب اگلے مرحلے میں یہ سب گھٹنوں کے بل آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ ان کی نہایت ہی برے حال کی حسی تصویر ہے۔ سخت شرمندگی اور توہین آمیز حالت میں ہیں یہ لوگ۔ ثم لنحضرنھم حول جھنم جثیا (91 : 67) ” پھر جہنم کے گرد لا کر انہیں گھٹنوں کے بل گرا دیں گے “۔ یہ ایک مجسم منظر ہے ‘ بےحدوحساب لوگ جمع کئے گئے ہیں ‘ جہنم کی طرف ان کو اہانت آمیز انداز میں گھٹنوں کے بل لایا جارہا ہے۔ یہ لاچاری میں اسے دیکھ رہے ہیں اور اس کے شعلوں کی لپٹوں کو محسوس کرتے ہیں۔ ہر وقت وہ اس خوف میں ہیں کہ ابھی پکڑے گئے اور اس میں پھینکے گئے۔ جزع و فزع میں وہ گھنٹوں کے بل چلے اور اوندھے گرادیئے گئے۔ دنیا کے جباروں اور قہاروں کے لئے یہ بہت ہی توہین آمیز منظر ہے۔ اس منظر میں ان منکرین کی صفوں سے ان لوگوں کو چھانٹا جارہا ہے جو اوروں کے مقابلے میں زیادہ سرکش تھے۔ کھینچ کھینچ کر ان کو باہر صفوں سے نکالا جارہا ہے۔
Ayah 19:69

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

” پھر ہر گروہ میں سے ہر اس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمن کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہوا تھا

ثم لننزعن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عتیا (91 : 96) ” پھر چھانٹ کر نکالیں گے ہم ہر گروہ سے ان لوگوں کو جو اللہ کے شدید نافرمان تھے “۔ چھانٹ لینے کے لئے نہایت ہی تاکیدی مشدولفظ استعمال ہوا ہے ‘ تاکہ لفظ کی سختی ‘ تشدید اور معنوی مبالغہ چھانٹ لینے کے عمل کو مزید خوفناک بنادے ‘ جس کے بعد پھر انا لوگوں کو جہنم میں پھینکنے کا عمل آتا ہے۔ خیال ان تمام حرکات کو عملی شکل دیتا ہے۔ اللہ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ ان میں سے کوئی جہنم میں تپائے جانے کا مستحق ہے۔ اس لئے وہ ان لاتعداد اور ان گنت انسانوں کے سیلاب میں سے ان کو چن کر باہر نکال لائے گا۔
Ayah 19:70

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے۔

ثم لنحن ۔۔۔۔۔۔۔۔ بھا صلیا (91 : 07) ” پھر ہم یہ جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے “۔ ان کو وہ نکال لائے گا اور وہ جہنم میں ڈالے جانے والوں کا ہر اول دستہ ہوں گے۔ اس منظر کو اہل ایمان دیکھ رہے ہوں گے۔
Ayah 19:71

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنم پر وارد نہ ہو ‘ یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا تیرے رب کے ذمے ہے۔

وان منکم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقضیا (91 : 17) ” اور تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر واردنہ ہو ‘ یہ تو ایک طے شدہ بات ہے ‘ جسے پورا کرنا تیرے رب کے ذمہ ہے “۔ تمام لوگ جہنم کے قریب کئے جائیں گے اور جب وہ جہنم کو دیکھیں گی تو اس کی آگ کے شعلے بلند ہوں گے ‘ جوش میں ہوں گے اور پھٹ رہے ہوں گے۔ وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ نافرمان بندے لوگوں میں سے نکالے جائیں گے اور اسمیں گرائے جائیں گے۔
Ayah 19:72

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو (دنیا میں متقی تھے اور ظالموں کو اسی میں گرا ہوا چھوڑدیں گے

ثم ننجی الذین اتقوا (91 : 27) ” پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو دنیا میں متقی تھے “۔ یہ دوزخ ان سے دور ہوجائے گی اور وہ اس میں ڈالے جانے سے بچا لئے جائیں گے اور ونذر الظلمین فیھا جثیا (91 : 27) ” اور ظالموں کو اس میں گہرا ہوا چھوڑ دیں گے “۔ اب روئے سخن اس ڈرائو نے منظر سے پھرجاتا ہے جس میں نافرمان نہایت ہی اہانت کے ساتھ گھٹنوں کے بل چلائے جارہے ہیں۔ جس میں متقی لوگ نجات پاجاتے ہیں اور ظالموں کو اوندھے منہ جہنم میں گرا ہوا چھوڑا جارہا ہے۔ یکایک ہم پھر دنیا میں آجاتے ہیں ‘ یہاں اہل کفر اہل ایمان کے مقابلے میں اپنی بڑائی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کو ان کی بد حالی پر طعنے دیتے ہیں۔ اپنی دولت مندی پر ‘ ظاہری شان پر اور دنیاوی قدروں پر فخر کرتے ہیں حالانکہ یہ دار فنا کی چیزیں ہیں ‘ ختم ہونے والی قدریں ہیں۔
Ayah 19:73

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

ان لوگوں کو جب ہماری کھلی کھلی آیات سنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں ” بتائو ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں

بڑی بڑی مجلسیں اور عیش و طرب کی محفلیں اور وہ قدریں جن پر کبراء اور مترفین زمانہ اخلاقی فساد میں عمل پیرا ہوا کرتے ہیں اور ان کے مقابلے میں بظاہر نچلے درجے کی سوسائٹیاں اور غربت و افلاس والوں کی محفلیں جن میں ایمان کے سوا اور کوئی سازو سامان کم ہی ہوتا ہے۔ نیز ان میں زیب وزینت اور شان و شوکت کم ہوتی ہے۔ نہ قیمتی لباس ہوتے ہیں اور نہ قیمتی جائے قیام۔ اس دنیا میں لوگ ان ہی چیزوں میں باہم مقابلہ کرتے ہیں اور ان ہی کی بنیاد پر طبقاتی امتیازات قائم ہوتے ہیں۔ اس مقابلے اور نمایش گاہ میں ‘ پہلے طبقے کے اسٹال پر بڑا بڑا دنیاوی سازو سامان ‘ مال و جمال ‘ قوت اور مرتبہ ‘ بڑے بڑے معاذات ‘ بڑی بڑی آمدنیاں ‘ کھانے پینے کے لذیذ سازو سامان ہوتے ہیں اور دوسرے طبقے کے اسٹال پر فقرو تواضع ہے۔ ایسا سازو سامان جو کبرا کے ہاں قیمتی ہے ‘ ان کی نظروں میں حقیر ہے ‘ جاہ و مرتبہ ان کے ہاں پر کا ہ کے برابر ہے۔ یہ دوسرا اسٹال عیش طرب کے لئے نہیں۔ معاذات کے لئے نہیں ‘ حکام کے ہاں اثر و رسوخ کے لئے نہیں ‘ اقتدار ہر فخر کے لئے نہیں بلکہ محض نظریاتی متاع گراں بہا کی طرف بلاتا ہے ‘ اس اسٹال پر کوئی قیمتی دنیاوی مال و متاع نہیں ہے ‘ کوئی ارائش و زیبائش نہیں ہے لیکن وہاں اللہ کے کلمے کی سر بلندی کا داعی ہے ‘ صرف کلمہ حق کی سر بلندی کی طرف یہ دوسرا فرق بلاتا ‘ نہ صرف یہ کہ یہاں مذکور دنیاوی چیزیں نہیں بلکہ مشقت ‘ جدوجہد اور قربانیاں ہیں۔ ان تمام مشقتوں کا عوض بھی اس دنیا میں نہیں ہے۔ یہاں انہیں صرف اللہ کا قرب حاصل ہوگا ‘ جہاں تک اجر اور جزاء کا تعلق ہے وہ آخرت میں ہے۔ یہ قریش جن کو حضور اکرم ﷺ کے دور میں آیات الہیہ سنائی جارہی تھی ‘ وہ اہل ایمان فقراء کو دیکھ کر یہ کہتے تھے : ای الفریقین خیر مقاما واحسن ندیا (91 : 37) ” بتائو ‘ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالات میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں “۔ وہ کبرا بہتر ہیں جو محمد ﷺ پر ایمان نہیں لاتے یا وہ فقراء بہتر ہیں جو اس کے ارد گرد جمع ہیں ان میں سے کن کے حالات دنیاوی اعتبار سے بہتر ہیں اور کس کی سوسائٹی شاندار ہے۔ ایک طرف نضیر ابن حارث ‘ عمرو ابن ہشام ‘ ولید بن مغیرہ اور ان کے بھائی اور دوسرے سردار ہیں اور دوسری جانب بلال ‘ عمار ‘ باب اور ان کے دوسرے بھائی ہیں جن کے پاس ایک کوڑی نہیں ہے۔ اگر محمد ﷺ جن باتوں کی طرف بلاتے ہیں وہ اچھی ہوتیں تو ان کے ساتھی یہ لوگ جن کی قریش کی سوسائٹی میں کوئی قدروقیمت نہیں ہے اور نہ ان کا کوئی رعب ہے۔ یہ لوگ سب کے سب ایک مسکین حباب کے گھر جمع ہوتے ہیں جو غریب اور بےروز گا رہے۔ اور محمد ﷺ کے مخالف بڑی بڑی شاندار مجالس میں بیٹھتے ہیں اور سوسائٹی میں ان کا اونچا مرتبہ ہے۔ یہ ہے دنیا پرستوں کی منطق اور ان کی سوچ۔ ہر زمان و مکان میں دنیا پرستوں اور کوتاہ بینوں کی یہی انداز فکر ہوتی ہے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا ہی یہ ہے کہ دعوت اسلامی اور اس کے املیں دنیاوی زیب وزینت سے خاخلی ہوں ‘ زیب وزینت اور مصنوعی رنگ و روغن ان کی اصل حقیقت کو نہ چھپا سکے۔ ان کی کسی چیز میں کوئی کلا کاری نہ ہو۔ اس دعوت کو ان داعوں کی قیادت کو قبول کرنا چاہے وہ خالص اللہ کے لئے قبول کریں ‘ اس دعوت کو قبول کریں۔ اس میں دنیا اور دنیا پرستوں کا کوئی کردار نہ ہو۔ ان میں کوئی نمائش اور طمع کاری نہ ہو تاکہ جو لوگ دنیا کے مفادات چاہتے ہیں ‘ دنیا کا نفع چاہتے ہیں وہ اس طرف نہ آئیں جو دنیا کی زیب وزینت چاہتے ہیں ‘ شان و شوکت چاہتے ہیں اور مال و متاع چاہتے ہیں وہ دورر ہیں۔ ان بر خود غلط گمراہوں اور کافروں کی منطق ‘ شان و سکت اور زیب وزینت کی نمائش کرنے والوں کی اس طرز فکر کو ایک وجدانی چٹکی سے ڈرا تاریخ انسانیت کی طرف موڑ دیا جاتا ہے کہ تاریخ انسانی میں کئی اقوام ‘ اس قسم کا بظاہر شاندار مقام عزت رکھتی تھیں ‘ دنیا کے مال و متاع اور نعمتوں میں مست تھیں لیکن ذرا دیکھو ‘ ان کا کیا انجام ہوا ؟
Ayah 19:74

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

حالانکہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جوان سے زیادہ سروسامان رکھتی تھیں اور ظاہری شاو شوکت میں ان سے بڑھی ہوئی تھیں

ہوا یہ کہ ان کی اس شان و شوکت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ ان کے زیب وزینت نے ان کو عذاب الہٰی سے نہ بچا یا۔ جب ان پر ہلاکت آئی تو یہ سب ظاہر داریاں مٹ گئیں۔ یادرکھو ‘ انسان بہت جلد بھول جاتا ہے۔ اگر وہ ذرا بھی تاریخ کے اسباق یاد کرتا اور ذرا بھی غور کرتا تو وہ ان ظاہر داریوں پر کبھی غرور نہ کرتا حالانکہ انسانی تاریخ میں جو اقوام ہلاک ہوئیں ‘ ان کی ہلاکتوں اور بربادیوں میں بہت بڑا سامان عبرت ہے۔ تاریخ انسانی انسان کے دامن کو پکڑ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتی ہے کہ ذرا دیکھو ‘ خدا کے عذاب سے ڈرو ‘ اللہ کی پکڑ سے خوف کھائو۔ لیکن انسان ہے کہ سر نیچے کئے ہوئے اپنی غلط روش پر چل رہا ہے۔ وہ پیچھے کی طرف نہیں دیکھتا کہ آگے جاتے ہوئے ٹھوکروں سے بچے ‘ حالانکہ اقوام ماضی میں سے جن لوگوں کو ٹھوکر لگی وہ ان سے زیادہ صاحب قوت تھیں ‘ زیادہ دولت مند تھیں ‘ زیادہ آبادی والی تھیں۔ لیکن اس اچھٹتی نظر کے بعد قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان لوگوں کے لئے یہ وجدانی اشارہ کافی نہیں ہے۔ ان کو چیلنج کے انداز میں کہو کہ اچھا جو گروہ گمراہی میں اور غلط راستے پر ہے ‘ اللہ اسے مزید گمراہ کرے اور وہ پہنچے اس انجام تک جو گمراہوں کا قدرتی انجام ہوتا ہے خواہ اس جہاں میں ایا آخرت میں۔
Ayah 19:75

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

ان سے کہو ‘ جو شخص گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے اسے رحمن ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔۔۔۔ خواہ وہ عذاب الہٰی ہو یا قیامت کی گھڑی۔۔۔ تب انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور !

ان لوگوں کا زعم یہ ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے معجبین سے زیادہ صحیح راستے پر ہیں ‘ محض اس لیے کہ وہ دولت مند ہیں ‘ شاو شوکت والے ہیں۔ اچھا ان کی دولت اور شان میں اور اضافہ ہو ‘ اور اے محمد ﷺ تم ان کو یہ بد دعا دو کہ گمراہی میں یہ اور دور نکل جائیں۔ اللہ ان کی رسی اور دراز کردے۔ اہل ہدایت کو مزید ہدایت دے تاکہ یہ لوگ اپنے انجام تک پہنچ جائیں اور ان کا انجام یہی ہو سکتا ہے کہ یا دنیا میں ان کو مسلمانوں کے ہاتھوں سزادی جائے اور یا آخرت میں ان کو سزا دی جائے۔ اس وقت پھر ان کو صحیح صورت حالات کا علم ہوجائے گا ‘ کہ کس کا مقام و مرتبہ اچھا ہے اور کون کمزور اور ناتواں اور بےبس ہے۔ اس وقت مسلمان بہت خوش ہوں گے اور عزت پائیں گے۔
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اس کے برعکس جو لوگ راہ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو راست روی میں ترقی عظا فرماتا ہے اور باقی رہ جانے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک جزاء اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں

والبقیت۔۔۔۔۔۔ وخیر مردا (91 : 67) ” اور باقی رہ جانے والی نیکایں ہی تیرے رب کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں “۔ ان تمام چیزوں سے بہتر ہیں جن پر اہل دنیا فخر کرتے ہیں اور گمراہ ہوتے ہیں۔ اب کافروں کے فخر و مباہات کا ایک دوسرا نمونہ ملاحظہ ہو ۔ ان کی ایک دوسری بات جس پر تعجب کر کے سخت نکیر کی جاتی ہے۔
Ayah 19:77

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

آیاتو نے دیکھا اس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتارہوں گا ؟

اس آیت کے شان نزول میں حضرت خباب ابن الارت کی یہ روایت آئی ہے :” میں ایک لوہار تھا۔ عاص ابن وائل پر میرا قرض تھا۔ میں اس کے پاس آیا اور اس سے اپنے قرضے کا تقاضا کیا تو اس نے کہا خدا کی قسم میں تجھے ہر گز تمہارا قرض نہ دوں گا جب تک تم محمد ﷺ پر ایمان لانے سے انکار نہ کردو۔ تو میں نے کہا خدا کی قسمایسا نہیں ہوسکتا۔ میں حضرت محمد ﷺ کی نبوت کا انکار نہیں کرسکتا۔ یہاں تک کہ تم ایک بار مرکر دوبارہ زندہ نہ ہو جائو۔ اس نے کہا اچھا پھر جب میں مر گیا اور دوبارہ زندہ ہوگیا تو وہ وہاں میرے پاس بہت مال ہوگا ‘ میری اولاد ہوگی ‘ وہاں آنا میرے پاس میں آپ کو قرض دے دوں گا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ افرء یت الذی۔۔۔۔۔۔ ما لاو ولدا (91 : 77) ” تو نے دیکھا اس شخص کو ‘ جو ہماری آیات کے ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتارہوں گا “۔ عاص ابن وائل کی یہ بات کفار قریش کے اس ذاق کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے جو وہ بعث بعد الموت کے نظر یہ کے ساتھ کرتے تھے۔ قرآن کریم ایسے لوگوں کی سوچ پر تعجب سے یہ تبصرہ اور گرفت کرتا ہے۔
Ayah 19:78

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحن سے کوئی عہد لے رکھا ہے ؟

اطلع الغیب (91 : 87) ” کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے “۔ کیا اسے قبل ازوقت معلوم ہے کہ وہاں کیا ہوگا۔ ام اتخذ۔۔۔۔۔۔۔۔ عھدا (91 : 87) ” یا اس نے رحمن سے کوئی عہد لے رکھا ہے “ اور اسے یقین ہے کہ اللہ اپنے عہد کا پابند ہے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے۔ کلا ” ہر گز نہیں “ کلا نفی اور زجر کا لفظ ہے۔ نہ اسے غیب کا علم ہے اور نہ اس نے اللہ سے کوئی وعدہ لے رکھا ہے بلکہ یہکفر پر تل گیا ہے اور محض مذاق کرتا ہے۔ ایسے مقامات پر ایسے کافروں کے لائق یہی ہے کہ انہیں تہدیدآمیز تنبیہ کردی جائے۔
Ayah 19:79

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہر گز نہیں ‘ جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لئے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے۔

کلا سنکتب۔۔۔۔۔۔ مدا (91 : 97) ” ہر گز نہیں ‘ جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے اور اس کے لئے سزا میں اور اضافہ کریں گے “۔ یعنی وہ جو کچھ کہتا ہے اسے لکھیں گے کہ یوم الحساب کے لئے حسب معمول اس کا ریکارڈ تیار ہوتا کہ نہ وہ بھولے اور نہ مغالتہ ہو ‘ یہ تہدید اور ڈراوی کی نہایت ہی بہتر ین تصویر کشی ہے۔ حالانکہ مغالطہ تو وہاں ہو نہیں سکتا۔ اللہ کا علم تو نہ صغیرہ کو چھوڑتا ہے اور نہ کبیرہ کو۔ یعنی ہم اس کے عذاب کو طویل و عریض کرتے چلے جائیں گے۔ اس میں کوئی کمی اور کوئی انقطاع نہ ہوگا۔ مزید ڈر اور اتصویر کشی کے انداز میں ملاحظہ ہو۔
Ayah 19:80

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

جس سرو سامان اور لائو لشکر کا یہ ذکر کررہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہو گا

ونرثہ مایقول (91 : 08) ” جس سرو سامان اور لائو لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا “۔ یہ جو مال واولاد چھوڑے گا اسے ہم اس طرح لے لیں گے جس طرح وارث اپنی موروثہ اشیاء کو لے لیتا ہے۔ ویاتینا فردا (91 : 08) ” یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا “۔ اس کے پاس نہ مال ہوگا ‘ نہ اولاد ہوگی اور نہ کوئی مدد گار ہوگا ‘ نہ کوئی سند و ثبوت ہوگا۔ یہ اکیلا ‘ ضعیف و ناتواں ہمارے سامنے ہوگا۔ تو کیا تو نے ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتا ہے ‘ وہ اس دن کے ساتھمذاق کرتا ہے جس دن یہ تہی دست ہوگا۔ اس دنیا میں اس کے تمام مملوکات اس کے ہاتھ سے چلے جائیں گے۔ یہ شخص ہے نمونہ کفر اور مثال کفار ‘ انکار ‘ اوعا اور گمراہی کی مثال ۔ اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ کفر اور شرک کی علامات کیا ہیں۔