18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 18:1–2

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًاؕٚ Open ayah 18:1 in the Quran reader

تعریف اللہ کے لئے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔

قَیِّمًا لِّیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْهُ وَ یُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا حَسَنًاۙ Open ayah 18:2 in the Quran reader

ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب ، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دے دے کر ان کے لئے اچھا اجر ہے

اس سورت کا آغاز نہایت ہی پر اعتماد اور فیصلہ کن انداز میں ہو رہا ہے ۔ اللہ کی تعریف اس بات پر کی جا رہی ہے کہ اس نے اپنے بندے پر یہ کتاب اتاری۔ یہ ایک سیدھی کتاب ہے ، اس کی تعلیمات سیدھی ہیں اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔ ان میں کوئی ٹیڑھ پن اور ہیر پھیر نہیں ہے ، اس میں لاگ لپیٹ کے بغیر بات کی جا رہ ی ہے۔ یہ کیوں ؟ لینذرباسا شدیداً من لدنہ (81 : 2) ” تکاہ لوگوں کو خدا کی طرف سے آنے والے سخت عذاب سے ڈراوے۔ “ پہلی ہی آیت سے نشان منزل آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کتاب کا نظریہ کیا ہے ، بغیر کسی التباس اور بغیر کسی پیچیدگی کے ۔ اللہ نے یہ کتاب نازل کی ہے او اللہ قابل حمد وثناء ہے کہ اس نے یہ احسان کیا۔ محمد اللہ کے بندے ہیں جیسا کہ متام لوگ اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کا نہ کوئی بیٹا ہے اور نہ کوئی شریک۔ او یہ کتاب کیسی ہے ؟ اس میں کوئی ٹیڑھ پن نہیں ہے۔ یہ قیم ہے۔ اس کی تعلیمات کے سیھدے پن کا اظہار ایک دفعہ یوں کیا جاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی ٹیڑھ پن نہیں اور دوسری مرتبہ یوں کہا جاتا ہے کہ یہ قیم ہے یعنی سیدھی۔ یعنی اس کتاب اور اسلام کے صراط مستقیم ہونے کی تاکید شدید۔ اور یہ کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ لینذر باسا شدیداً من لدنہ وبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ان لھم اجرا حسناً (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دے دے کہ ان کے لئے اچھا اجر ہے۔ “ اس پوری سورت میں سخت اور قطعی الفاظ میں ڈراوا بھی ہے۔ ڈراوے کا آغاز تو اجمالی اور اصولی طور پر ہوتا ہے۔ لینذر باسا شدیداً من لذنہ (81 : 2) ” تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کردے۔ اور اس کے بعد پھر مخصوص طور پر مشرکین کو ڈرایا جاتا ہے۔ وینذر الذین قالوا اتخذ اللہ ولدا۔ اور ان لوگوں کو ڈرائے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ “ لیکن انذار اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ مومنین کے لئے تبشیر بھی ہے۔ ان لوگوں کے لئے خوشخبری ہے جو عمل صالح کرتے ہیں۔ یہاں ایمان کے بعد عمل صالح کی قید لگائی گئی ہے۔ الذین یعملون الصلحت (81 : 2) یہ اس لئے لگائی گئی ہے کہ عمل صالح ایمان کی دلیل ہوتا ہے اور ظاہری عمل کی بنا پر کوئی کسی کے بارے میں فیصلہ کرسکتا ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کی غلط سوچ اور غلط انداز فکر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس کائنات کے سب سے بڑے اور سب سے مشکل اور نازک مسئلے کے بارے کس قدر غلط سوچ رکھتے ہیں یعنی اس کائنات کے بارے میں اور اس کے خلاق کے بارے میں عقائد کے مسئلے کے متعلق۔
Ayahs 18:3–5

مَّاكِثِیْنَ فِیْهِ اَبَدًاۙ Open ayah 18:3 in the Quran reader

جس میں ہمیشہ رہیں گے

وَّ یُنْذِرَ الَّذِیْنَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًاۗ Open ayah 18:4 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو ڈراوے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے ۔

مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ وَّ لَا لِاٰبَآئِهِمْ١ؕ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ؕ اِنْ یَّقُوْلُوْنَ اِلَّا كَذِبًا Open ayah 18:5 in the Quran reader

اس بات کا نہ انہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا۔ بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے ، وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔

مالھم بہ من علم ولا لابئھم (81 : 5) ” بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے ، وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔ “ قرآن کریم نے ان کے کلام اور ان کے عقیدے کے لئے جو الفاظ چنے ہیں وہ تعبیر مفہوم اور الفاظ کی آواز دونوں کے اعتبار سے ان کے کلمہ اور ان کی بات کے قابل مذمت ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔ پہلا لفظ ہے (کبرت) تاکہ سننے والے کو معلوم ہوجائے کہ یہ لوگ جو بات کرتے ہیں وہ غایت درجے کی قابل مذمت اور بہت بڑی بات ہے باعتبار نتائج۔ کلمۃ تو ضمیر جملہ سے تمیز کے طور پر لایا گیا۔ یعنی کبرت کے اندر موجود ضمیر ہے۔ یہ زیادہ متوجہ کرنے کے لئے کہ ان کے منہ سے یہ عظیم با بڑی لاپرواہی اور بےت کے انداز میں نکل رہی ہے اور بغیر کسی احتیاط اور جھجک کے بس نکلی چلی آرہی ہے۔ تخرج من افواھھم (81 : 5) ” ان کے منہ سے نکلتی ہے۔ “ افواھھم کا تلفظ بھی بڑا برا ہے اور مفہوم کے اعتبار سے بھی اس لفظ سے ان کی بات زیادہ قابل مذمت معلوم ہوتی ہے اور لفظی اعتبار سے بھی ایک شخص اس لفظ کو منہ کھول کر افوا ادا کرتا ہے اور اس کے بعد باہم متصل دوھاء کی ادائیگی سے اس کا منہ بھر جاتا ہے اور ہم تک پہنچتے پہنچتے اس کا منہ پھول جاتا ہے۔ لہٰذا مفہوم اور ترکیب اور تلفظ تینوں اعتبار سے اس بات اور کلمہ کی شناخت کا اظہار ہوتا ہے اور پھر اس کی بعد تاکید منفی بھی آجاتی ہے۔ یعنی : ان یقولون الا کذباً (81 : 5) (نہیں کہتے وہ مگر جھوٹ۔ “ پھر یہاں ما یقولون نہیں کہا ہے۔ ان یقولون کہا ہے کیونکہ لفظ ان میں نون سکان ہونے کی وجہ سے سختی اور فیصلہ کن انداز پایا جاتا ہے اور ما میں مد الف ہے جو نرم بات کو ظاہر کرتی ہے۔ اور یہ سب لفظی اور معنوی سختی محض تاکید کے لئے کہی گئی ہے کہ یہ کلمہ یا یہ بات جو یہ آگ کہتے ہیں ، نہایت ہی عظیم بات ہے اور اس کے نتائج ان کے لئے بہت ہی سنگین ہیں۔ “ ان کی اس بات پر گرفت شدید کے ساتھ ساتھ اس طرح کی ایک تنبیہ نبی ﷺ کو بھی کی جاتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ اس بات پر بہت ہی پریشان تھے کہ آپ کی قوم کی تکذیب کر رہی ہے اور ایسے طریقے اختیار کر رہی ہے جن کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ، تو حضور اکرم کو بھی ذرا سخت الفاظ میں کہا جاتا ہے۔
Ayah 18:6

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا Open ayah 18:6 in the Quran reader

اچھا ، تو اے نبی ، شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو ، اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔

فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یومنوا بھذا الحدیث اسفا (81 : 6) ” اچھا تو اے نبی شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو ، اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔ “ یعنی تم رنج و ملال کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاک کردینا چاہتے ہو کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ حالانکہ ان لوگوں کا رویہ تو یہ ہے کہ آپ ان کے بارے میں کوئی رنج اور غم اپنے اوپر طاری نہ کریں۔ اب ان کو چھوڑ دیں۔ یہ اس دنیا میں گم ہیں اور اس دنیا میں جو سروسامان ہم نے پیدا کیا ہے ، وہ محض زیب وزینت کا سامان ہے۔ مال اور اولاد اور یہ ان لوگوں کے لئے امتحان اور آزمائش ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اس دنیا میں کون اچھے اعمال کرتا ہے اور کون برے اعمال کرتا ہے۔ کون اس دنیا کی متاع کے لئے اپنے آپ کو مستحق ثابت کرتا ہے اور کون آخرت کے ساز و سامان کا خیال کرتا ہے۔
Ayah 18:7

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا Open ayah 18:7 in the Quran reader

واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سر و سامان بھی زمین پر ہے۔ اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں۔ ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔

انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا لنبلوھم ایھم احسن عملاً (18 : 8) ” واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی سروسامان زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے “ ال لہ کو تو خوب معلوم ہے لیکن مقصد یہ ہے کہ عملاً ان باتوں کا صدور ان سے ہوجائے اور ظاہر ہوجائے کہ زندگی میں کون ہے جو احسن رویہ اختیار کرتا ہے۔ یہاں برے اعمال کرنے والوں کا تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے ، کیونکہ انداز کلام سے ان کے بارے میں مفہوم واضح ہے۔ اور دنیا کی اس زیب وزینت کا انجام بھی معلوم ہے۔ ایک وقت ایسا آنے والا ہے کہ اس دنیا کی یہ سب رنگینیاں ختم ہوجائیں گی اور دنیا ایک چٹیل میدان ہوگی اور اس پر جو کچھ ہے سب نیست و نابود ہوگا ، انسان حیوانات و نباتات سب ختم ہوں گے۔ یہ دنیا خشک اور چٹیل میدان ہوگی۔
Ayah 18:8

وَ اِنَّا لَجٰعِلُوْنَ مَا عَلَیْهَا صَعِیْدًا جُرُزًاؕ Open ayah 18:8 in the Quran reader

آخر کار اس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔

وانا لجعلون ما علیھا صعیدا جرزا (81 : 8) ” آخر کار اس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔ “ تعبیر فیصلہ کن انداز کی ہے۔ منظر بھی سخت ہے۔ (جرزاً ) کا کلمہ لفظاً اور معنی خشکی اور بےآب وگیاہ میدان کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح لفظ (صعیداً ) بھی میدان ، ہمواری اور سختی کو لفظاً اور معنی ظاہر کرتا ہے۔ …… اب قصہ اصحاب کہف آتا ہے۔ یہ ایسے لوگوں کا ایک نمونہ پیش کرتا ہے جن کے دلوں میں ایمان بیٹھ جاتا ہے اور جب ایمان دلوں میں اتر جاتا ہے تو وہ اطمینان اور سکون سے اس طرح بھر جاتے ہیں جس طرح اصحاب کہف تھے۔ پھر یہ دل زمین کی آرائش اور زیب وزینت کو کچھ نہیں سمجھتے۔ یہ لوگ غار میں پناہ لیتے ہیں ، غار میں کیا چیز لے جا کر چھپاتے ہیں ؟ ایمان اور صرف دولت ایمان۔ یہ لوگ اس وقت غار میں جاتے ہیں جب وہ ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے لوگوں میں نہیں رہ سکتے۔ اب دیکھئے کہ اللہ ایسے لوگوں کو کس طرح بچاتا ہے۔ ان کو فتنوں سے محفوظ کرتا ہے اور اپنی رحمت سے ڈھانپ لیتا ہے۔ اس قصے کے بارے میں بیشمار روایات ہیں اور بہت سی آراء ہیں اور قصے کہانیوں کی بعض پرانی کتابوں میں ان کے بارے میں مختلف روایات ہیں ہمارا طریق کار یہ ہے کہ ہم قرآن کی حد تک اپنے آپ کو محدود کرتے ہیں ، کیونکہ قرآن ہی واحد یقینی مصدر علم ہے۔ روایات اور قصوں کو ہم ان کی جگہ چھوڑ دیتے ہیں۔ اگرچہ یہ روایات ہمارے تفسیری دخیرے میں راہ پا گئی ہیں۔ بغیر سند اور صحت کی جانچ پڑتال کئے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ قرآن نے اس بات سے منع کیا ہے کہ اس سلسلے میں غیر قرآنی مصادر کی طرف ہرگز رجوع نہ کیا جائے اور اس میں محتض تیر تکے نہ چلائے جائیں۔ اس قصے اور ذوالقرنین کے قصے کے نزول کے سلسلے میں ایسی روایات وارد ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے اہل مکہ کو سوالات دے کر ابھارا کہ یہ سوالات رسول اللہ ﷺ سے کئے جائیں۔ ان دو قصوں کے بارے میں اور روح کے بارے میں یا اہل مکہ نے یہودیوں سے امداد طلبک رتے ہوئے یہ کہا کہ ہمیں کچھ ایسے سوالات بتائو تاکہ ہم ان کے ذریعے رسول اللہ ﷺ سے امتحان لیں یہ دونوں باتیں صحیح ہو سکتی ہیں کیونکہ ذوالقرنین کے قصے کی ابتدا میں ہے۔ ویسئلونک عن ذی القرنین قل ساتلو علیکم منہ ذکراً (81 : 38) ” وہ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں کہہ دو میں اس کے بارے میں تمہیں بتائوں گا۔ “ لیکن قصہ اصحاب کہف کے بارے میں اس قسم کی بات نہیں آئی۔ اس لئے ہم اس قصے کا مطالعہ کرتے ہیں۔ یہ قصہ بذات خود سورت کے محور اور موضوع کلام سے واضح طور پر مربوط ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے یہ بات کہہ دی ہے۔ فنی اعتبار سے اس قصے کو پیش کرنے کے لئے قرآن میں جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ وہ پہلے اجمالی تخلیص کا ہے اور پھر اس کی تفصیلات پر بحث کا ہے۔ یہ قصہ کئی مناظر کی شکل میں پیش کیا گیا ہے لیکن مختلف مناظر کے درمیان خالی چھوڑ دیا گیا ہے۔ مضمون اور سیاق کلام سے یہ خلا خود بخود ذہن میں آجاتے ہیں اس قصے کا آغاز یوں ہے :
Ayah 18:9

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْكَهْفِ وَ الرَّقِیْمِ١ۙ كَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبًا Open ayah 18:9 in the Quran reader

کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور کتبے والے ہمارے کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے ؟

یہ اس قصے کی تلخیص ہے اور اس کی روٹ لائن اس میں دی گئی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک گروہ تھا۔ تعداد معلوم نہیں ہے۔ یہ اہل ایمان تھے۔ انہوں نے غار میں پناہ لی تھی۔ ان کے کانوں پر مہر لگا دی گئی تھی یعنی سو گئے تھے ، کئی سال تک سالوں کی تعداد معلوم نہیں اس طویل نیند سے وہ اٹھائے گئے۔ ان کی میعاد کہف کے بارے ان میں دو گروہ ہوگئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ کس کا اندازہ زیادہ درست ہے اور یہ کہ یہ قصہ عجیب و غریب ہونے کے باوجود عجیب نہیں ہے۔ اس کائنات میں اس سے بھی زیادہ عجوبے ہیں اور اصحاف کہف اور اصحاب رقمی سے زیادہ عجیب تر۔ یہ پرکشش تلخیص دینے کے بعد اب اس قصے کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ تفصیلات سے پہلے بتایا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں چونکہ تاریخی روایات میں بےحد اضطراب پایا جاتا ہے۔ اس لئے قرآن کریم میں ہم جو کچھ بتا رہے ہیں وہ فیصلہ کن امر ہے اور یہی حق الیقین ہے۔
Ayahs 18:10–13

اِذْ اَوَى الْفِتْیَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا Open ayah 18:10 in the Quran reader

جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ” اے پروردگار ، ہم کو اپنی رحمت خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کر دے

فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِی الْكَهْفِ سِنِیْنَ عَدَدًاۙ Open ayah 18:11 in the Quran reader

تو ہم نے انہیں اسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لئے گہری نیند سلا دیا ،

ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَیُّ الْحِزْبَیْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا اَمَدًا۠ Open ayah 18:12 in the Quran reader

پھر ہم نے انہیں اٹھایا تاکہ دیکھیں ان کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مدت قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ نَبَاَهُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّهُمْ فِتْیَةٌ اٰمَنُوْا بِرَبِّهِمْ وَ زِدْنٰهُمْ هُدًىۗۖ Open ayah 18:13 in the Quran reader

ہم ان کا اصل قصہ تمہیں سناتے ہیں ، وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔

اس قصے کے مناظر میں سے یہ پہلا منظر ہے۔ انھم فتیۃ امنوا بربھم (81 : 31) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ “ اور مزید یہ کہ وزدنھم ھدی (81 : 31) ” وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے۔ “ اور مزید یہ کہ وزدنھم ھدی (81 : 31) ” اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔ “ عینی ان کو یہ الہام کردیا تھا کہ وہ اپنے معاملات میں کس طرح تدابیر اختیار کریں اور پھر و ربطنا علی قلوبھم (81 : 31) ” اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے۔ “ چناچہ یہ لوگ اپنے ایمان پر ثابت قدم ہوگئے۔ راسخ العقیدہ ہوگئے اور جس سچائی کو انہوں نے اختیار کیا تھا اور جان لیا تھا اس پر استقامت اختیار کرلی تھی اور جو ایمان انہوں نے اپنایا تھا وہ انہیں بہت ہی عزیز تھا۔
Ayah 18:14

وَّ رَبَطْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اِذْ قَامُوْا فَقَالُوْا رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَاۡ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلٰهًا لَّقَدْ قُلْنَاۤ اِذًا شَطَطًا Open ayah 18:14 in the Quran reader

ہم نے ان کے دل اس وقت مضبوط کردیئے جب وہ اٹھے اور انہوں نے یہ اعلان کردیا کہ ” ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بےجا بات کریں گے۔

اذقاموا (81 : 31) یعنی وہ اٹھے اور انہوں نے ایمان کی تحریک برپا کردی اور وہ عزم و ثبات کا پیکر بن گئے۔ فقالوا ربنا رب السموت والارض (81 : 31) ” انہوں نے کہا ہمارا رب تو بس وہ ی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ “ وہ رب کائنات ہے۔ سب کی سب کا۔ لن دعوا من دونہ الھا (81 : 31) ” ہم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے۔ “ کیونکہ وہ واجد ہے اور بلا شریک ہے۔ لقد قلنا اذا شططا (81 : 31) ” اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بےجا بات کریں گے۔ “ حق سے تجاوز کریں گے اور صحیح راستے سے ایک طرف ہوجائیں گے۔ اس کے بعد وہ اس امر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس پر ان کی قوم عمل پیرا تھی ، وہ ان کے عقائد پر تنقید کرتے ہیں اور اس منہجا پر اعتراض کرتے ہیں جس کے مطابق ان کی قوم زندگی بسر کر رہی تھی ،
Ayah 18:15

هٰۤؤُلَآءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً١ؕ لَوْ لَا یَاْتُوْنَ عَلَیْهِمْ بِسُلْطٰنٍۭ بَیِّنٍ١ؕ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاؕ Open ayah 18:15 in the Quran reader

(پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا) ” یہ ہماری قوم تو رب کائنات کو چھوڑ کر دور سے خدا بنا بیٹھی ہے۔ یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ آخر اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟

ھولآء قومنا اتخذوا من دونہ الھۃ لولا یاتون علیھم بسلطن بین (81 : 51) ” یہ ہماری قوم تو رب کائنات کو چھوڑ کر دور سے خدا بنا بیٹھی ہے ، یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی بین دلیل کیوں نہیں لاتے۔ “ اسلامی نظریہ حیات میں یہ بات عقیدے کا حصہ ہے کہ انسان جو موقف اختیار کرے اس پر اس کے پاس دلیل بین ہو۔ ایسی دلیل ہو جو دل کو لگتی ہو ، اور عقل اسے تسلیم کرتی ہو ، اگر ایسا نہیں ہے تو وہ کذب اور افتراء ہے اور یہ چونکہ کذب علی اللہ ہے ، اس لئے یہ زیادہ گھنائونا جھوٹ ہے۔ فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً (81 : 51) ” آخر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ “ یہاں تک تو اسے قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کا موقف واضح ، صریح اور دو ٹوک ہے ، اس میں کوئی تردد یا کوئی توقف نہیں ہے۔ یہ نوجوان ہیں ، جسمانی لحاظ سے بھی قوی ہیں ، ایمان میں بھی شدید ہیں اور قوم جس غلط راہ پر چل رہی ہے ، اس سے بھی انہیں سخت نفرت ہے۔ دو گروہوں کی راہیں مختلف ہوچکی ہیں ، ان کی زندگی کے طریقے ایک دوسرے سے جدا ہوچکے ہیں ، اب دونوں کے باہم ملنے کے لئے کوئی موقف نہیں ہے۔ ان دونوں کی زندگیاں ایک جگہ نہیں گزر سکتیں۔ لہٰذا صرف ایک راہ رہ جاتی ہے وہ یہ کہ یہ نوجوان اپنے نظریات کو لے کر ہجرت کر جائیں ، یہ اپنی قوم کی طرف رسول بنا کر نہ بھیجے گئے تھے تاکہ وہ اپنی قوم کا مقابلہ کریں۔ اپنے نظریات پر جم جائیں ، غلط نظریات کے مقابلے میں صحیح نظریات پیش کریں۔ ان کو دعوت دیں اور اس انجام تک پہنچیں جن تک رسول پہنچتے ہیں بلکہ وہ کچھ نوجوان تھے ، کافرانہ ماحول میں ان کو ایمان کی روشنی مل گئی تھی۔ اگر وہ ایسے ماحول میں اپنے عقائد کا اظہار کرتے ہیں تو اس معاشرے میں ان کا زندہ رہنا مشکل ہے۔ صورت حال یہ تھی کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ مقابلہ بھی نہ کرسکتے تھے ، خود قوم کی راہ پر بھی نہ جاسکتے تھے ، قوم کو اپنی راہ پر نہ لا سکتے تھے ، نہ وہ تقیہ کر کے ان کے غلط الہوں کی عبادت کرسکتے تھے اور نہ اپنی عبادت کو چھپا سکتے تھے بلکہ راجح بات یہ ہے کہ ان کے عقائد و نظریات کے بارے میں کافروں کو علم ہوچکا تھا۔ اس لئے ان کے لئے صرف ایک ہی راہ رہ گئی تھی کہ وہ اپنے دین اور نظریات کو لے کر بھاگ نکلیں اور شہر میں پر آسائش زندگی بسر کرنے کے بجائے کسی غار میں جا چھپیں۔ انہوں نے باہم مشورہ کیا اور یہ فیصلہ کیا :
Ayah 18:16

وَ اِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗۤا اِلَى الْكَهْفِ یَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یُهَیِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا Open ayah 18:16 in the Quran reader

اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبود ان غیر اللہ سے بےتعلق ہوچکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔ تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لئے سروسامان مہیا کر دے گا۔

واذا اعتزلتموھم و مایعبدون الا اللہ فاو وآ الی الکھف ینشرلکم ربکم من رحمتہ ویھیمی لکم من امرکم مرفقاً (81 : 61) ” اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبود ان غیر اللہ سے بےتعلق ہوچکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو ، تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا امن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لئے سرو سامان مہیا کرے گا۔ “ یہاں حقیقی مومن دلوں کی اصل حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے۔ یہ نوجوان اپنی قوم کو چھوڑ کر علیحدہ ہوگئے ہیں۔ یہ اپنے علاقے کو چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ رہے ہیں ، گھروں اور کاروبار اور کرہ ارض اور اس دنیا کی زیب وزینت کو چھوڑ رہے ہیں۔ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ رہے ہیں ، گھروں اور کاروبار اور کرہ ارض اور اس دنیا کی زیب وزینت کو چھوڑ رہے ہیں اور یہ لوگ کہاں پناہ لے رہے ہیں ؟ ایک کرخت پتھریلی جگہ اور تاریک غار میں۔ لیکن یہاں رحمت خداوندی ہے اور اس رحمت میں وہ خوش ہیں۔ اس تاریک غار میں انہیں اللہ کی رحمت سے رضا مندی نہایت وسیع نظر آتی ہے۔ ینشرلکم ربکم من رحمتہ (81 : 61) ” تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن پھیلا دے گا۔ “ ینشر کا لفظ کشادگی ، وسعت اور خوشی اور مسرت کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ تاریک غار ان کے لئے ایک کھلا میدان ہے اور کھلی فضا ہے۔ طویل و عریض میدان ہے اور اس میں رحمت خداوندی کی چھائوں ہے اور یہاں وہ نہایت ہی خوشحالی ، آرام اور سکون محسوس کرتے ہیں۔ جب اللہ کی رحمت ہو تو نہایت ہی تنگ جگہ ایک وسیع میدان نظر آتی ہے اور ان کی اونچی اونچی دیواریں کر جاتی ہیں اور تنہائی اور وحشت کے غبار چھٹ جاتے ہیں۔ رحمت خداوندی شفقت اور خوشی اور سہولت کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ اس ظاہری دنیا کی قدر وق یمت کیا ہے ؟ اور دنیاوی زندگی کی ان اقدار کی کیا قیمت جن سے لوگ اس زندگی میں متعارف ہوچکے ہیں ؟ اور ان کے عادی ہوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی دنیا ایک دوسری دنیا ہے۔ اس دنیا کے ساز و سامان کچھ اور ہیں۔ اس دنیا میں ایک مومن رحمٰن کے ساتھ ، انس و محبت کے ساتھ ، اللہ کے سایہ میں اللہ کی رضا مندی ، محبت اور اطمینان کے وسیع سائے میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ اب اس منظر سے پردہ گرتا ہے اور جب پردہ اٹھتا ہے تو ایک دوسرا منظر ہمارے سامنے ہے۔ یہ نوجوان ہیں یہ اس غار میں نہایت ہی اطمینان سے گہری نیند میں ڈوبے ہوئے آرام کر رہے ہیں۔
Ayah 18:17

وَ تَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ اِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَ هُمْ فِیْ فَجْوَةٍ مِّنْهُ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا۠ Open ayah 18:17 in the Quran reader

تم انہیں غار میں دیکھتے تو تمہیں یوں نظر آتا کہ سورج جب نکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے ، جس کو اللہ ہدایت دے دی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لئے تم کوئی ولی مرشد نہیں پاسکتے۔

یہ عجیب مصورانہ منظر ہے ، غار کے اندر پڑے ہوئے نوجوانوں کی ہو بہو تصویر کشی کی گئی ہے۔ الفاظ کے ذریعے ایسی تصویر کشی جس طرح فلم چل رہی ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں۔ سورج طلوع ہوتا ہے اور وہ ایک طرف ہو کر گزر جاتا ہے گویا وہ عمداً ایسا کر رہا ہے تو اور کا لفظ سورج کے طلوع کے عمل کے ساتھ ساتھ سورج کے ارادے کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یعنی وہ ان کو چھوڑ کر دائیں طرف نکل جاتا ہے اور جب وہ غروب وہتا ہے کہ وہ شمال کی طرف ہو کر گزر جاتا ہے اور یہ لوگ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔ اس منظر کی تکمیل سے پہلے درمیان میں ایک قرآنی تبصرہ بھی آجاتا ہے۔ قرآن کا یہ مخصوص اسلوب کلام ہے کہ قصے کے درمیان مناسب جگہ پر انسانی دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔ ذلک من ایت اللہ (81 : 81) ” یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ “ ان کو غار میں یوں رکھنا ، سورج کی شعاعوں سے ان کو محفوظ رکھنا ، اور سورج کی روشنی ان کو فراہم کرنا اور غار کے اندر ان کو اس حال میں رکھنا کہ نہ مرتے ہیں اور نہ حرکت کرتے ہیں۔ من یھد اللہ فھو المھتد ومن یضلل فلن تجدلہ ولیا مرشداً (81 : 81) ” جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لئے تم کوئی ولی مرشد نہیں پا سکتے۔ “ ہدایت اور ضلالت کے لئے ایک قانون قدرت اور ایک سنت الہیہ ہے جو شخص آیات الہیہ کو دیکھ کر ہدایت کی راہ لے ، اس کے ناموس قدرت کے تحت تو وہ حقیقی ہدایت ہوگا اور جس نے ہدایت کے اسباب ہی فراہم نہ کئے وہ گمراہ ہوا اور اس کی گمراہی بھی سنت الہیہ کے مطابق اور ناموس قدرت کے تحت ہوتی ہے اور اسے یوں اللہ ہی گمراہ کردیتا ہے اور پھر اس کا کوئی ولی مرشد نہیں ہوتا۔ اس درمیانی نوٹ کے بعد یہ منظر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ لوگ سوتے میں کروٹیں لے رہے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ وہ جاگ رہے ہیں۔ مگر درحقیقت وہ سو رہے ہیں اور ان کا کتا کتوں کی عادت کے مطابق اپنے باز و غار کے دہانے پر پھیلائے سو رہا ہے۔ گویا وہ ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں جو بھی ان کو دیکھے مرعوب ہو کر بھاگ اٹھے۔ کیونکہ وہ اس طرح سو رہے ہیں کہ جاگتے نظر آتے ہیں ، کروٹ بدل رہے ہیں اور جاگتے نہیں۔ یہ تھی اللہ کی تدبیر ان کے بارے میں تاکید وہ اپنے مقررہ وقت تک یوں ہی رہیں۔ … اچانک یہ لوگ جاگ اٹھتے ہیں۔ ان میں زندگی کی حرکت دوڑ رہی ہے دیکھو اور سنو اس نئیم نظر کو۔ “
Ayahs 18:18–19

وَ تَحْسَبُهُمْ اَیْقَاظًا وَّ هُمْ رُقُوْدٌ١ۖۗ وَّ نُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَ ذَاتَ الشِّمَالِ١ۖۗ وَ كَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ١ؕ لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْهِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّ لَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا Open ayah 18:18 in the Quran reader

تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ ج اگر ہے ہیں ، حالانکہ وہ سو رہے تھے۔ ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے اور ان کا کتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم کہیں جھانک کر انہیں دیکھتے تو الٹے پائوں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔

وَ كَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ لِیَتَسَآءَلُوْا بَیْنَهُمْ١ؕ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ١ؕ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ فَلْیَنْظُرْ اَیُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْیَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَ لْیَتَؔلَطَّفْ وَ لَا یُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا Open ayah 18:19 in the Quran reader

” اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اٹھا بٹھایا تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک نے پوچھا ” کہو کتنی دیر اس حال میں رہے ؟ “ دوسروں نے کہا ’ د شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے۔ “ پھر وہ بولے ” اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حالت میں گزرا۔ چلو ، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ مسئلہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں وہ کچھ کھانے کے لئے لائے اور چاہئے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے ، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔

اس قصے کے بیان میں سرپرائز کا عمل جاری ہے۔ اچانک جب یہ منظر سامنے آتا ہے تو نوجوان اب جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ یہ اندازہ صحیح اندازہ نہیں کرسکتے کہ انہوں نے اس غار میں کتنا وقت گزارا ۔ اور کتنی دیر تک سوتے رہے۔ یہ آنکھیں ملتے ہیں ، ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ پوچھتے ہیں بھائی کتنی دیر ہوگئی۔ طویل نند سے جاگ کر ہر شخ پہلا سوال یہی کرتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایک طویل نیند کے کچھ آثار بھی پا رہے تھے۔ تو انہوں نے یہی اندازہ لگایا۔ لبثنا یوما او بعض یوم (81 : 91) ” شاید ایک دن یا اس سے کچھ کم “ اس کے بعد انہوں نے یہ موضوع سخن ترک کردیا ، جس پر بحث کا کوئی عملی فائدہ نہ تھا۔ اور اس مسئلے کو اللہ کے علم کے حوالے کر کے انہوں نے عملی کام میں مشغول ہونا مناسب سمجھا۔ یہ اہل ایمان کی شان اور عادت ہوتی ہے کہ وہ ان معاملات میں طویل دلچسپی نہیں لیتے ، جن میں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بھوکے تھے اور ان کے پاس چاندی کے روپے تھے جنہیں وہ شہر سے لے کر نکلے تھے۔ قالوا ربکم اعلم بما لبتتم فابعثوآ احدکم بورقکم ھذہ الی المدینۃ فلینظر ایھا از کی طعاماً فلیاتکم برزق منہ (81 : 91) ” پھر وہ بولے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتن اوقت اسی حالت میں گزرا ، چلو اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سکہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے ، وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لئے لائے۔ “ یعنی وہ پاکیزہ اور اچھا کھانا شہر میں تلاش کرے اور اس میں سے کچھ خرید کرلے آئے۔ وہ اس بات سے ڈرتے تھے کہ ان کی جائے پناہ کسی کو معلوم نہ ہوجائے اور انہیں شہر کے حکمران پکڑ نہ لیں اور اس طرح ان کو سنگسار کر کے قتل نہ کردیں۔ کیونکہ ان حکمرانوں کے خیال میں وہ مروجہ دین سے خارج ہوگئے تھے۔ اس لئے کہا یک مشرک گائوں میں وہ ایک خدا کو پوجنے تھے یا انہیں اس کا ڈر تھا کہ انہیں ان کے عقائد کی وجہ سے سزا دے کر فتنے میں نہ ڈال دیں۔ یہی وہ بات تھی جس سے وہ ڈرتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ اس شخص جن کو جو شہر جا رہا تھا ، سخت احتیاط کرنے کی تاکید کر رہے تھے۔ ولیتلطف ولایشعرن بکم احداً (91) انھم ان یظھروا علیکم یرجموکم او یعبدوکم فی ملتھم ولن تفلحوا اذا ابداً (02) (81 : 91-02) ” اور چاہئے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے ، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔ اگر کہیں ان لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑگیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے ، یا پھر زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے ، اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے۔ “ ظاہر ہے کہ جو شخص ایمان کی راہ چھوڑ کر شرک کی راہ اختیار کرے وہ کب فلاح پا سکتا ہے۔ یہ تو عظیم خسارہ ہے ۔ ہم اس منظر میں دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ اس طرح ہم کلام ہیں ، ڈر رہے ہیں ، پکڑے جانے کا خوف ہے اور سہمے ہوئے ہیں۔ ان کو معلوم نہیں کہ زمانہ گزر گیا۔ سال و ماہ ایک عرصہ تک گردش کرچکے ہیں۔ صدیوں کے بعد نئے لوگ پیدا ہوگئے ہیں او نیا زمانہ ہے۔ وہ شہر جس کے وہ باشندے تھے اس کے در و دیوار بدل گئے ہیں اور جن حکمرانوں سے وہ ڈر رہے ہیں ان کا دور ہی چلا گیا ہے اور وہ قصہ کہ اس طرح فلاح صدی میں فلاں حکمران کے ظلم سے تنگ آ کر نوجوانوں کا ایک گرو شہر چھوڑ گیا تھا۔ وہ باپ دادا سے لوگوں میں نقل ہوتا چلا آ رہا تھا اور لوگوں کے درمیان ان کے بارے میں اختلاف رائے بھی نقل در نقل ہوتا ہوتا چلا آ رہا تھا۔ ان کی تعداد ان کے عقائد کے بارے میں اور یہ کہ کتنا رصہ ہوا ہے ان کا اس شہر کو چھوڑنے کا اور یہ کہ کب سے وہ لوگ روپوش ہیں۔ یہاں آ کر پردہ گر جاتا ہے ، غار کے اندر ان کی گفتگو ختم ہو جای ہے۔ یہاں سیاق کلام میں پھر ایک خلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ذہن انسانی خود اسے بھر دیتا ہے او ایک دوسرا منظر سامنے آجاتا ہے۔ اب معلوم ہوجاتا ہے کہ اہل شراب سب کے سب مومن ہوچکے ہیں اور اہل شہر کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اصحاب کیف میں سے ہے جو مدت دراز ہوئی ایمان یجذبے سے شہر چھوڑ کر چلے گئے تھے تو وہ ان لوگوں کا غایت درجہ احترام کرتے ہیں لیکن ہم یہاں سوچ سکتے ہیں کہ جب اس شخص کو معلوم ہوگا کہ وہ جب شہر چھوڑ کر گئے ہیں تو صدیوں کا عرصہ گزر گیا ہے۔ نیز اس شخص نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ شہر بدل گیا ہے۔ جب سے انہوں نے چھوڑا ہے ، بہت ہی طویل عرصہ گزر گیا ہے۔ ان کے اردگرد کی دنیا بالکل بدل گئی ہے۔ اس لئے ان کے لئے ہر چیز ایک عجوبہ ہے۔ وہ جب اپنے آپ کو دیکھ رہے تھے تو وہ زمانہ قدیم کے لوگ نظر آتے تھے۔ بلکہ لوگوں کے احساس اور ان کی نظر میں وہ عجوبہ تھے۔ اس لئے لوگوں نے بھی ان کے ساتھ عام انسانوں جیسا سلوک نہ کیا ہوگا اور ان کے اپنے دور میں جو رابطے ، رشتہ داریاں ، رسم و رواج کے عادات واطوار سب کے سب بدل گئے ہیں ، گویا وہ زمانہ قدیم کی ایک زندہ یاد گار ہیں۔ جو واقعی زندہ اس معاشرے میں لا کر کھڑے کردیئے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کا مزید کرم یہی ہو سکتا ہے کہ ان کو فوراً اس دنیا سے اٹھا لے۔ چناچہ یہ لوگ فی الفور فوت ہوجاتے ہیں۔ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم یہ سب واقعات تصور کرلیں۔ کیونکہ قرآن ان واقعات کو چھوڑ کر اب آخری منظر پیش کرتا ہے۔ یہ لوگ فوت ہوگئے ہیں اور لوگ اس غار کے بہر جمع ہیں اور ان کے بارے میں باہم گفتگو اور تکرار کر رہے ہیں۔ لوگوں کا تنازعہ یہ تھا کہ یہ لوگ کس دین پر تھے۔ اب ان کو کس طرح دوام بخشا جائے اور کیا ذرائع اختیار کئے جائیں کہ ان کا ذکر دائما رہ جائے اور اگلی نسلیں بھی انہیں یاد رکھیں تاکہ ان کے اس عجیب واقعہ سے اگلی نسلیں بھی عبرت لیں اور اصحاب کہف ، سب کے لئے مشعل راہ ہوں۔
Ayahs 18:20–21

اِنَّهُمْ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ یَرْجُمُوْكُمْ اَوْ یُعِیْدُوْكُمْ فِیْ مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:20 in the Quran reader

اگر کہیں ان لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑگیا تو بس سگنسار ہی کر ڈالیں گے ، یا پھر زبردستی یہیں اپنی ملت میں واپس لے جائیں گے ، اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پا سکیں گے۔

وَ كَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَیْهِمْ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اَنَّ السَّاعَةَ لَا رَیْبَ فِیْهَا١ۗۚ اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ بَیْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَیْهِمْ بُنْیَانًا١ؕ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ غَلَبُوْا عَلٰۤى اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْهِمْ مَّسْجِدًا Open ayah 18:21 in the Quran reader

اس طرح ہم نے اہل شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بیشک آکر رہے گی (مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اس وقت وہ آپس میں اس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ ان (اصحاب کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا ” ان پر ایک دیوار چن دو ، ان کا رب ہی ان کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے “ مگر جو لوگ ان کے معاملات پر غالب تھے انہوں نے کہا ” ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے۔

اس واقعہ سے قرآن مجید کے پیش نظر کیا نتیجہ نکالنا مقصود ہے ؟ یہ کہ بعث بعد الموت کے لئے یہ واقعہ ایک قریب انفہم اور محسوس نمونہ ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ موجودہ انسانی ڈھانچے کو بھی صدیوں تک زندہ رکھ سکتا ہے اور دوبارہ بھی اٹھا سکتا ہے اور قیام قیامت اور بعث بعد الموت حق ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ یوں اللہ نے ان نوجوانوں کو ان کی نیند سے جگایا اور ان کی قوم کو بتایا کہ صدیوں تک یہ لوگ یونہی پڑے تھے۔ اب بعض لوگوں نے کہا بعض لوگوں نے کہا ان پر دیوار چن دو کیونکہ ان کے عقائد کے بارے میں ہمیں کچھ علم نہیں ہے۔ ان کا رب ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے یعنی ان کے عقائد اور ان کی پوزیشن کے بارے میں لیکن اس وقت اصحاب حل و عقد نے کہا ’ ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے “ مسجد سے مقصد یہاں عبادت گاہ ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ کا طریقہ تھا کہ و انبیاء اور اولیاء کی قبروں کے قریب عبادت گاہ بنا دیتے تھے۔ جس طرح آج مسلمانوں میں سے جو لوگ نبی ﷺ کے طریقہ کار کو چھوڑ کر ، صلحاء کی قبروں کے ساتھ مساجد اور گنبد بناتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پ جنہوں نے اپنے نبیوں اور صالحین کی قبروں سے عبادت گاہ بنا دی “ اب اس منظر پر بھی پردہ گرتا ہے اور جب پردہ اٹھتا ہے تو اصحاب کہف کے بارے میں اب تاریخی مباحث شروع ہیں ، جیسا کہ لوگوں کی عادت ہوتی ہے۔ لوگ تاریخی خبریں اور روایات نقل کرتے رہتے ہیں۔ بعض واقعات کو حذف کردیتے ہیں ، بعض میں اضافہ کردیتے ہیں اور نسلا بعد نسل ان واقعات میں اپنے خیالات بھرتے رہتے ہیں اب قصے پھیلتے جاتے ہیں اصل قصہ الگ رہ جاتا ہے کچھ اور واقعات اہمیت اختیار کرلیتے ہیں ایک ایک بات کے بارے میں اقوال و اختلاف سامنے آتے ہیں اور قیل و قال میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور جوں جوں وقت گزرتا ہے اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔
Ayah 18:22

سَیَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بِالْغَیْبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّ ثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ١ؕ قُلْ رَّبِّیْۤ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا یَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِیْلٌ١۫۬ فَلَا تُمَارِ فِیْهِمْ اِلَّا مِرَآءً ظَاهِرًا١۪ وَّ لَا تَسْتَفْتِ فِیْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا۠ Open ayah 18:22 in the Quran reader

کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ یہ سب بےتکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ کہو ، میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں۔ پس سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لووں سے بحث نہ کرو اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو

اب ان لوگوں کی تعداد کے بارے میں بحث لا حاصل ہے۔ اس لئے کہ اگر ان کی تعداد تین ہو یا چار ہو ، پانچ ہو یا زیادہ تو اس سے اصل واقعہ اور اس سے جو عبرت سکھانا تھا اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ کتنے تھے ، یہ بات اللہ ہی جانتا ہے۔ یا وہ قلیل لوگ جانتے تھے جن کے سامنے یہ واقعہ ہوا۔ یا جن تک صحیح روایات پہنچیں۔ لہٰذا ان کی تعداد کے بارے میں مباحثہ کرنا بےفائدہ بات ہے ان کی تعداد کم ہو یا زیادہ ان کے واقعہ سے جو نصیحت اور عبرت حاصل ہوتی ہے ، اس پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لئے قرآن مجید حضور ﷺ کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ آپ ﷺ کسی سے ان کی تعداد کے بارے میں نہ الجھیں اور نہ ان کے بارے ان اہل کتاب سے پوچھیں کیونکہ ان کا علم خود مضطرب ہے۔ اس لئے کہ اسلام اور قرآن کی ہدایت یہ ہے کہ انسان کو عقل و خرو کی قوتوں کو ایسے کاموں میں نہیں کھپانا چاہئے جس سے کوئی فائدہ نہ ہو۔ نیز ایک مسلم کو اس موضوع پر بحث نہیں کرنا چاہئے جس میں اسے پورا پورا علم حاصل نہ ہو۔ یہ واقعہ ایک قدیم تاریخی واقعہ ہے۔ اصل حقائق سے صرف اللہ خبردار ہے۔ لہٰذا اسے علم الٰہی کے لئے چھوڑ دینا چاہئے۔ ماضی کے غیوبات کے باے میں بحث سے منع کیا گیا تو اس موقعہ پر اس سے بھی منع کردیا گیا کہ مستقبل کے غیوبات کے بارے میں فضول پیشن گوئیوں میں بھی نہ الجھا جائے کہ کل کیا ہوگا ؟ جب انسان مستقبل کے بارے میں کوئی بات جانتا نہیں تو وہ اس کے بارے میں کیا قطعی رائے دے سکتا ہے ؟
Ayah 18:23

وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ Open ayah 18:23 in the Quran reader

اور دیکھو ، کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا

واقعہ یہ ہے کہ ہر حرکت اور پر سکون بلکہ زندہ انسانوں کے سا انسوں میں سے ہر سانس اللہ کے ارادے کی مرہون منت ہے۔ عالم غیب لمحہ حاضرہ کے پردے کے پچیھے مستور ہے اور انسانی آنکھ اس پر دے کے پیچھے نہیں دیکھ سکتی۔ انسان چاہے بہت ہی عقلمند ہو ، مستقبل کے بارے میں اس کی عقل کند ہے اور کچھ جاننے سے قاصر ہے۔ لہٰذا کسی انسان کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں کل یہ کروں گا۔ جبکہ کل پردہ غیب کے پیچھے ہے اور کل کے نتائج کے بارے میں ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ انسان بیٹھ جائے اور مستقبل کے امور کے بارے میں کوئی غور و فکر نہ کرے۔ اور وہ اپنی زندگی کے بارے میں صرف ایک دن ہی کی منصوبہ بندی کرے یا لمحہ بہ لمحہ زندگی کے بارے میں نئی نئی سوچ سامنے لائے اور اپنی سابقہ زندگی کو حال اور مستقبل کے ساتھ مربوط نہ کرے۔ ایسا مفہوم اس آیت کا ہرگز نہیں ہے بلکہ مفہوم یہ ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں غیبی اور ناگہانی واقعات اور اللہ کی مشیت کا بھی خیال رکھے۔ وہ جو عزم چاہے کرے ، جو منصوبہ چاہے بنائے ، لیکن اس کے بارے میں اللہ کی مدد کا طلب گار ہو ، یہ بات ذہن میں رکھے کہ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ اگر کام اس کے منصوبے کے مطابق ہوگیا تو بہتر ورنہ اگر اللہ کی مشیت نے اس کے لخاف کوئی اور تدبیر کردی تو اسے بھی وہ معبد نہ سمجھے ، کیونکہ اللہ کا حکم بہر حال برتر رہتا ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ سوچے ، تدبیر کرے۔ لیکن اسے یہ شعور زندہ رکھنا چاہئے کہ وہ جو سوچتا ہے ، وہ توفیق الٰہی اور اللہ کی فراہم کردہ آسانیوں کے نتیجے ہی میں کرسکتا ہے۔ اس کی وہی سوچ اور وہی تدبیر کامیاب ہو سکتی ہے جس کے ساتھ اللہ کی مدد شامل حال ہو۔ یاد رہے کہ یہ کاہلی ، سستی ، ضعف اور بےتدبیری کا جواز فراہم نہ کرے بلکہ چاہئے کہ اس سے قوت ، اعتماد ، اطمینان اور عزم مضبوط ہو۔ اور اگر کام اس کی تدابیر کے خلاف ہوجائے تو بس وہ یہی کہہ دے کہ اللہ کا حکم اور فیصلہ ایسا ہی ہوگا۔ ہم اللہ کے فیصلے پر راضی ہیں مطمئن ہیں اور سر تسلیم خم کرتے ہیں کیو ن کہ ہونا وہی تھا جو ہوا ، البتہ ہمیں وہ معلوم نہ تھا وہ پردہ غیب کے پیچھے مستور تھا۔ یہ ہے وہ طریقہ کار جس پر اسلام ایک مومن کو ڈالنا چاہتا ہے لہٰذا ایک مومن تنہائی اور وحشت محسوس نہیں کرتا۔ بلکہ ہر وقت فکر و تدبیر کرتا رہتا ہے اور اگر وہ کامیاب ہوتا ہے تو وہ غرور اور سرکشی اختیار نہیں کرتا۔ نہ وہ قنوطیت اور مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی منصوبے میں ناکام ہوجائے ، بلکہ کامیابی اور ناکامی دونوں میں وہ اللہ سے جڑا رہتا ہے۔ اس کا اللہ پر پورا پورا بھروسہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی توفیق پر راضی ہوتا ہے۔ اس کے فیصلوں پر راضی برضا ہوتا ہے نہ وہ متکبر ہوتا ہے اور نہ قنوطی ہوتا ہے۔
Ayah 18:24

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١٘ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا Open ayah 18:24 in the Quran reader

(تم کچھ نہیں کرسکتے) الایہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو ، اور کہو امید ہے کہ میرا رب اس معاملے میں رشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے گا۔

” اور جب تم بھول ائو تو اللہ کو یاد کرو “ اگر کسی وقت تم اللہ کی طرف متوجہ ہونا بھول جائو تو فوراً اس کی طرف متوجہ ہو جائو اور کہہ دو ” اور کہو ، امید ہے کہ میرا رب اس معاملے میں رشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرمائے گا۔ “ اس نہج کے مطابق انسانی دل ہمیشہ اللہ سے جڑا ہوتا ہے اپنے اہم امور میں بھی اور اپنے تمام منصوبوں میں بھی۔ یہاں لفظ عسی (امید ہے) اور لفظ ناقرب (یعنی قریب تر بات) کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ اس لئے کہ یہ مقام بلند پانا عام لوگوں کے لئے بہت ہی مشکل ہے اور ہر انسان کو چاہئے کہ وہ ایسے مقام پر قائم رہنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہے۔ اس قصے سے یہاں تک ہمیں معلوم نہ تھا کہ یہ لوگ غار میں کتنا عرصہ رہے۔ اب ہمیں یقینی طور پر معلوم ہونا چاہئے کہ وہ کتنا عرصہ رہے ہیں۔
Ayah 18:25

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا Open ayah 18:25 in the Quran reader

اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) 9 سال اور بڑھ گئے ہیں۔

یہ ہے ان کے بارے میں فیصلہ کن بات۔ اللہ جو عالم ہے غیوب السموات والارض کا اس نے یہ اطلاع دے دی۔ وہی ہے جو بہترین سننے والا ہے اور وہی ہے جو بہترین دیکھنے والا ہے۔ اس اعلان کے بعد کسی کے لئے کوئی بحث وجدال کی گنجائش نہیں ہے۔ اس قصے پر اب یہ تبصرہ سامنے آتا ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ولی ہے اور اس کے حکم اور اس کے قانون میں بھی کوئی شریک نہیں ہے۔
Ayah 18:26

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ١٘ وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا Open ayah 18:26 in the Quran reader

تم کہو اللہ ان کے قیام کی مدت زیادہ جانتا ہے ، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اسی کو معلوم ہیں ، کیا خوب ہے ، وہ دیکھنے والا اور سننے والا زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبر گیر اس کے سوا نہیں اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ جو وحی آپ ﷺ پر نازل ہوئی آپ ﷺ اس کی تلاوت کریں۔ اسی میں دو ٹوک فیصلے ہیں۔ اس کے تمام فیصلے عین سچائی ہیں ، اس میں باطل کی آمیزش نہیں ہو سکتی۔ ہمیں صرف اللہ کو پکارنا چاہئے۔ کیونکہ اللہ کی پناہ کے سوا کوئی اور پناہ نہیں ہے۔ دیکھئے اصحاب کہف اللہ کی طرف بھاگے تو اللہ نے ان پر رحمت کی۔
Ayah 18:27

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ١ؕۚ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١۫ۚ وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا Open ayah 18:27 in the Quran reader

اے نبی ﷺ تمہارے رب کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جوں کا توں) سنا دو ، کوئی اس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردو بدل کرو گے تو) اس سے بچ کر بھاگنے کے لئے کوئی جائے پناہ نہ پائو گے۔

یوں یہ قصہ اپنی انتہا کو پہنچتا ہے اس کے آغاز میں اس کے درمیان میں اور اس کی انتہا میں جا بجا وہ ہدایات ہیں جن کی وجہ سے اس قصے کو قرآن میں جگہ دی گئی ہے۔ دینی اور نظریاتی ہدایات ساتھ ساتھ قصے کا فنی انداز بیان بھی نہایت اعلیٰ ہے۔
Ayah 18:28

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْ١ۚ تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا Open ayah 18:28 in the Quran reader

اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلبگار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو ؟ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو ، جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے اور جس کا طریق کا افراط وتفریط پر مبنی ہے۔

درس نمبر 131 ایک نظر میں یہ سبق سب کا سب اسلامی نظریہ حیات کی قدروں کے تعین کے موضوع کے ساتھ منسلک ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اعلیٰ قدریں صرف مال و دولت ، منصب و مرتبہ اور اقتدار و اختیارات ہی نہیں ہیں ، نیز اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اعلیٰ قدریں صرف زندگی کا سازوسامان یا عیش و عشرت ہی نہیں ہیں۔ یہ تو سب کھوٹی اور زائل ہونے والی چیزیں ہیں۔ ان چیزوں سے جو حلال و طیب ہیں۔ اسلام ان کے خلاف نہیں ہے ، لیکن اسلام ان چیزوں کو انسانی زندگی کا مقصد اعلیٰ بھی قرار نہیں دیتا۔ اگر کوئی ان چیزوں سے زندگی میں فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو وہ بیشک اٹھائے ، لیکن وہ اس ذات باری کا بھی شکریہ ادا کرے جس نے انسان کے لیے یہ نعمتیں پیدا کی ہیں اور یہ شکر عمل صالح کے ذریعہ ادا کرے۔ کیونکہ اعمال صالحہ اللہ کے ہاں باقی رہنے والے ہیں اور ان کے نتائج انسانوں کے لئے عقبیٰ میں اچھے ہیں۔ اس سبق کا آغاز حضرت نبی ﷺ کو اس ہدایت سے ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کے ساتھ جم جائیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں اور جن لوگوں نے اللہ کو بھلا دیا ، ان کو بھلا دیں۔ اس کے بعد فریقین کو ایک مثال سے واضح کیا جاتا ہے کہ ایک شخص اپنے مال ، عزت اور سازوسامان پر اتراتا ہے اور دوسرا ایمان خالص پر فخر کرتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ اللہ کے ہاں جو اجر ہے وہ سب سے بہتر ہے۔ اس کے بعد حیات دنیا کی فنا اور زوال کو ایک تمثیل سے واضح کیا جاتا ہے جس طرح دنیا میں شادابی پیدا ہوتا ہے اور پھر یہ چیزیں بھس بن جاتی ہے اور ان کو ہوائیں اڑاتی پھرتی ہیں اور آخر میں یہ ثابت شدہ حقیقت بیان کی جاتی ہے۔ المال و البنون…املا (36:18) ” یہ مال اور یہ اولاد محض دنیاوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور انہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں “۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات اشراف قریش کے بارے میں نازل ہوئیں جن کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ﷺ اپنی مجلس سے غربائ، اہل ایمان مثلاً بلال ، عمار ، جناب اور ابن مسعود ؓ کو نکال دیں۔ حضور اکرم ﷺ کی خواہش تھی کہ اکابر قریش اگر ایمان لے آئیں تو اسلام کو ترقی نصیب ہوجائے۔ نیز آپ ﷺ یہ بھی خواہش رکھتے تھے کہ ان کے لئے عام مسلمانوں سے علیحدہ ایک مجلس کا انتظام کریں ، کیونکہ ان غرباء کے بدن پر ایسے جبے تھے جن سے پسینے کی بو آتی تھی اور گہرائے قریش کو یہ بات اذیت دیتی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ ان کے ایمان کے معاملے میں دلچسپی رکھتے تھے ، اس لئے آپ نے دل میں اہل قریش کے اس مطالبے پر غور شروع کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ و اصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ و العشی (27:18) ” اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلبگار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں “۔ یہ آیت نازل کرکے اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی قدر قائم کردی اور حق و باطل کی جدائی کے لئے ایک ایسا ترازو قائم کردیا جس میں کوئی غلطی نہیں ہو سکتی اور اس کے بعد پھر یہ اصول آتا ہے۔ فمن شاء فلیومن و من شذہ فیکفر (29:18) ” جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے “۔ اسلام کسی کی چاپلوسی نہیں کرتا اور نہ ہی وہ جاہلیت کے پیمانوں سے لوگوں کو ناپتا ہے ، نہ اسلام کسی بھی جاہلیت کے پیمانوں کو قبول کرتا ہے جو اسلام کے پیمانوں سے علیحدہ ہیں۔ و اصبر نفسک ” اپنے دل کو مطمئن کر دو “۔ نہ پریشان ہو اور نہ جلدی کرو۔ مع الذین یدعون ربھم بالغدوۃ و العشی یریدون وجھہ (28:18) ” ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے رب کی رضا کے طلبگار بن کر صبح و شام اسے پکارتے ہیں “۔ ان کا مطلوب اللہ ہوتا ہے وہ صبح و شام اللہ کی ہی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ وہ اللہ سے منہ نہیں پھیرتے۔ صرف اس کی رضا مندی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اور یہ لوگ جس چیز کی تلاش میں ہیں وہ اس سے بہت زیادہ قیمتی ہے۔ جس کی تلاش میں یہ طالبان دینا ہوتے ہیں۔ ولاتعد عینک عنھم ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا (28:18) ” اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو ، کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو “۔ یعنی آپ کی نظروں میں دنیا کی زیب وزینت کی اہمیت زیادہ نہ ہوجائے ، جس کا اہتمام ، یہ اہل دنیا بہت کرتے ہیں ، کیونکہ یہ تو دنیا کی زندگی کی زیب و زبیت ہے اور جو لوگ صبح و شام اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں ہیں ان کی نظریں جس افق پر ہیں وہ بہت بلند ہے۔ ولا تطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا و اتبع ھوہ و کان امرہ فرطاً (28:18) ” کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو ، جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے اور جس کا طریق کار افراط وتفریط پر مبنی ہے “۔ یعنی ان کا جو مطالبہ ہے کہ امرائے قریش اور ان کے درمیان امتیازی سلوک کرو ، اس معاملے میں ان کی پیروی نہ کرو ، اگر یہ لوگ اللہ کا ذکر کرتے تو ان کے کبرو غرور میں کچھ کمی آجاتی اور ان کے سر ذرا جھک جاتے۔ اس غلو میں وہ کمی کردیتے اور غرور کی جن بلند چوٹیوں پر وہ بیٹھے ہیں ان سے ذرا نیچے اتر آئے اور اللہ کی بزرگی اور بلندی کا شعور انہیں حاصل ہوتا۔ جس کے نتیجے میں ان کے نزدیک تمام انسان مساوی ہوجاتے ۔ یہ لوگ اسلامی اخوت کے رابطے کو سمجھ جاتے ، جس کے اندر تمام انسان بھائی بھائی ہوجاتے ہیں۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں یعنی جاہلی خواہشات کی ۔ یہ بیوقوف ہیں ، ان کی خواہشات احمقانہ ہیں ، انہوں نے اللہ کو بھلا دیا ہے ، لہٰذا اس کا صلہ ان کو یہ ملنا چاہیے کہ ان کو بھی بھلا دیا جائے۔ اسلام کا یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے کہ اس نے اللہ کے سامنے تمام انسانوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیا۔ اللہ کے ہاں کسی کو مال ، نسب ، مرتبہ کے زاویہ سے کوئی فضیلت نہیں ہے ، کیونکہ یہ قدریں تو زائل ہونے والی کھوٹی قدریں ہیں۔ اللہ کے نزدیک درجات کی بلندی و پستی صرف اس لحاط سے ہے کہ اللہ کے ہاں مرتبہ کس کا بلند ہے اور اللہ کے ہاں درجات کی بلندی کی پیمائش اس طرح ہوتی ہے کہ کون اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہے ، کون کس قدر اللہ کی طرف خالص ہے۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ ہوائے نفس ہے ، حماقت ہے اور باطل اور زوال پذیر ہے۔ ولاتطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا (28:18) ” کسی ایسے شخص کی اطاعات نہ کرو ، جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے “۔ اس کا دل غافل ہوا کہ وہ اپنی ذآت ، اپنے مال اور اپنی اولاد کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوگیا ، اس کی توجہات کا مرکز دنیا کا سازوسامان ، دنیا کی لذات اور خواہشات نفس بن گئے۔ اس کے دل میں اللہ کے لئے کوئی جگہ نہ رہی۔ یاد رہے کہ جو دل بھی ان مشاغل میں مشغول ہوجائیں اور ان کو اپنا مقصود اور مطلوب بنا لیں ، وہ ذکر الٰہی سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اللہ ان کی غفلت میں اور اضافہ کرتا ہے اور جس حال میں وہ ہوتے ہیں اس میں ان کو مہلت دیتا ہے۔ ان لوگوں کی زندگی ایسے ہی گزر جاتی ہے اور ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے جو انجام تیار کیا ہوتا ہے ، اس تک وہ پہنچ جاتے ہیں۔ یہ لوگ خود اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور دوسروں کے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں۔
Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے ہم نے (انکار کرنے والے) ظالموں کے لئے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپیٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں۔ وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا اور ان کا منہ بھون ڈالے گا ، بدترین پینے کی چیز اور بہت بری آرام گاہ

و قل الحق من ربکم فم شاء فلیومن و من شاء فلیکفر (29:18) ” صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، اب جس کا جی جا ہے مان لے اور جس کا جی چاہی انکار کر دے “۔ نہایت عزت کے ساتھ ، نہایت صاف گوئی کے ساتھ ، نہایت ہی فیصلہ کن انداز میں ہے یہ اعلان۔ حق کسی کے سامنے جھکتا نہیں۔ کسی کے سامنے ٹیڑہ اختیار نہیں کرتا۔ وہ بڑی قوت کے ساتھ آتا ہے۔ نہایت صراحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ اس میں کوئی رو رعایت نہیں ہوتی۔ جو چاہے اسے مان لے ، جو چاہے اس کا انکار کر دے۔ اگر کسی کو سچائی پسند نہ ہو تو اپنی راہ لے۔ اگر کسی شخص کو یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کی خواہشات اللہ کی ہدایات کے تابع ہوں گی تو پھر نظریہ کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی سودا بازی نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی کی کھوپڑی اللہ کی بلندی کے مقابلے میں نہیں جھکتی اور وہ اپنے غرور کے بلند محلات سے نیچی نہیں اترتا تو اسلامی نظریہ حیات کو بھی اس کی ضرورت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کسی شخص کی ملکیت نہیں ہے کہ وہ اس میں رو رعایت کر دے ، سودا بازی کر دے ، یہ تو اللہ کی ملکیت ہے۔ اللہ تمام جہانوں سے غنی ہے۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ہے ، جہاں تک اسلامی نظریہ حیات کا تعلق ہے۔ وہ کسی شخص پر فخر نہیں کرتا اور نہ کسی ایسے شخص سے نظریاتی امداد طلب کرتا ہے جو شخص اسے خالص طور پر قبول نہیں کرتا یا جو شخص اس نظریے کو پوری طرح قبول نہیں کرتا ، جس طرح کہ وہ ہے ، بغیر کسی تغیر و تبدل کے۔ اور جو شخص اپنے آپ کو ان لوگوں سے بلند کوئی مخلوق سمجھتا ہے جو اپنے آپ کو رات اور دن رب کی پکار میں مصروف رکھتے ہیں اور صرف اللہ کی رضامندی کے طلبگار ہیں ، ایسے شخص سے کسی خیر کی توقع نہیں ہے ، نہ اسلام کے لئے ور نہ مسلمانوں کے لئے۔ انا اعتدنا للظلمین (29:18) ” ہم نے (انکار کرنے والے) ظالموں کے لئے ایک آگ تیار کر رکھی ہے “۔ یہ آگ تیار ہے اور حاضر و ومجود ہے۔ اسے جلانے کے لئے کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ اس کے جلانے کے لئے اور تیار کرنے پر کوئی وقت لگتا ہے۔ باوجود اس کے کہ اللہ کی جانب سے کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے صرف کن کی ضرورت ہوتی ہے یعنی جب اللہ کا ارادہ ہوجائے تو وہ کام ہوجاتا ہے۔ لیکن یہاں آگ کے لئے لفظ ” اعتدنا “ استعمال کیا گیا ہے یعنی ہم نے اسے تیار کیا ہے یعنی بڑی سرعت سے اس کو تیار کیا گیا ہے ، یعنی ان کے لئے پکڑ لیا جائے گا اور جلدی سے اس تیار شدہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ آگ ایسی ہوگی کہ اس کی خیمے جیسی لپیٹیں ظالموں کو گھیر لیں گی۔ یہ اس سے بھاگ نہ سکیں گے۔ نہ ان کو اس سے چھوٹنے اور نجات پانے کی کوئی امید ہے۔ نہ ان کو یہ امید ہے کہ کس طرف سے ان کو کوئی ٹھنڈی ہوا ملے گی… نہ یہ امید ہے کہ اس مین ان کے لئے آرام کا وقفہ ہوگا۔ اگر وہ وہاں گرمی پیاس اور شدت سے فریاد کریں گے تو ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ اور ان کو ایسا پانی دیا جائے گا جو تیل کی چھت جیسا ہوگا اور ایک قول کے مطابق گرم پیپ جیسا ہوگا۔ یہ منہ کو بھون ڈالے گا۔ جب یہ منہ کو بھول ڈالے گا تو ان کے گلوں اور ان کے پیٹ کا اس سے کیا حال ہوجائے گا۔
Ayahs 18:30–31

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں ، تو یقیناً ہم نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ان کے لئے سدابہار جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کئے جائیں گے ، باریک ریشم اور اطلس و دیبا کے سبز کپڑے پہنیں گے اور اونچے مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔ بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام

بئس الشراب (29:18) ” بدترین پینے کی چیز “ ۔ یعنی یہ بدترین تواضع ہوگی جو گرمی سے جلے ہوئے ان پیاسے لوگوں کی کی جائے گی۔ کیا بری آگ ہوگی اور پھر اس آگ کے وہ خیمے کس قدر برے ہوں گے ، جو ان کے ٹھہرنے اور آرام کے لئے ان کو مہیا کئے جائیں گے۔ ان کو رہنے کے لئے جو سہولیات دی جا رہی ہیں ان میں بھی ان کے ساتھ ایک نہایت ہی سخت مذاق ہوگا ، کیونکہ وہاں ان کو سہولیات تو نہیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ یہاں تو ان کو بھول ڈالنے کا انتظام ہوگا۔ البتہ یہاں آگ کے خیموں کا ذکر اس لئے ہے کہ ان لوگوں کی سہولیات کے ساتھ ان لوگوں کی سہولیات کا مقابلہ ہوجائے ، جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کیا ، لیکن دونوں کی سہولیات میں زمین و آسمان کا فرق ہوگا۔ یہ تو رہے حالات ان لوگوں کے جنہوں نے کفر اتخیار کیا۔ اب رہے وہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کیا اور نیک عمل کئے تو ان کے لئے سدا بہار باغات ہوں گے اور یہ ان باغات میں رہیں گے۔ ان کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ” اونچی مسندوں پر تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے “۔ اور ریشم کے قسم قسم کے کپڑوں میں ملبوس ہوں گے۔ نرم ریشم کے اور اطلس کے نرم اور موٹے کپڑوں میں اور زیب وزینت کے لئے انہیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے۔ نعم الثواب و حسنت مرتفقا ” بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کا جائے قیام ! “ اب جس کی مرضی ہو وہ اس راہ کو اختیار کرے ، جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے ، جو چاہے فقراء ایمان کی مجلس میں بیٹھے جبکہ انکے جبوں اور لباس سے پسینہ کی بو آرہی ہے اور جو چاہے ان سے نفرت کرے ، جن لوگوں کو ان غریب حضرات کے لباس سے پسینے کی بو پسند نہیں ، جن کے دل پاک ہیں اور ذکر ِ الٰہی سے معطر ہیں تو پھر ان کو چاہئے کہ وہ جہنم کی آگ سے بنائے ہوئے محلات اور خیموں کی سہولیات حاصل کرلیں اور پھر تیار ہوجائیں ، تیل کی تلچھٹ یا پیٹ کا شربت پینے کے لئے ، جس سے اہل جہنم کے منہ بھر جائیں گے۔ اس کے بعد باقی رہنے والی اسلامی اقتدار اور فنا ہونے والی کافرانہ اقتدار کو سمجھانے کے لئے دو آدمیوں اور دو باغیوں کا قصہ سنایا جاتا ہے ۔ دو کردار پیش کئے جاتے ہیں۔ ایک کردار ان لوگوں کا ہے جو زوال پذیر اقدار کے حامل کا نمونہ ہے اور دوسرا کردار ان لوگوں کا ہے جو لازوال اقدار کے حاملین ہیں۔ یہ دونوں نمونے نہانے ہی واضح طور پر پیش کئے جاتے ہیں تاکہ ان نفوس کے لئے نمونہ ہو ، جو اس دنیا کی زندگی کی فانی اقدار کے دلدادہ ہیں اور ان لوگوں کے لئے بھی نمونہ ہو جو اللہ کی رضا اور آخروی اور اقدار کے دلدادہ ہیں اور یہ کردار دونوں قسم کے لئے ایک انسانی نمونہ ہیں جو شخص دو باغوں کا مالک ہے اور دنیا داروں کا نمونہ ہے ، جسے دولت اور ثروت مدہوش کردیتی ہے اور سازو سامان دنیا اسے سرکش کردیتا ہے اور وہ اس قوت قاہرہ کو بھلا دیتا ہے ، جو لوگوں اور ان کی تقدیر کی مالک ہے۔ ایسے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی یہ دنیا داری دائمی ہے اور اس کے لئے کوئی فنا نہیں ہے اور اس شخص کا ساتھی اہل ایمان کے لئے ایک نمونہ ہے ، ان لوگوں کے لئے جن کو اپنے ایمان پر فخر ہوتا ہے ، جو بروقت اپنے رب کو یاد کرتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ ان نعمتوں کا بھی کوئی خالق ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کی حمد و شکر بجا لائیں ، اس کی ناشکری نہ کریں اور انکار بھی نہ کریں۔ قصے کا آغاز دو باغوں کے بیان سے ہوتا ہے کہ وہ کس قدر قیمتی اور سر سبز باغ ہیں۔
Ayah 18:32

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اے نبی ؐ، ان کے سامنے مثال پیش کر دو ۔ دو شخص تھے۔ ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیئے اور ان کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی۔

یہ دو باغ انگوروں سے بھرے ہوئے تھے اور ان کے اردگرد کھجوروں کی باڑھ لگی ہوئی تھی اور ان کے درمیان زرعی زمین بھی تھی اور ان کے درمیان پانی کی ایک نہر تھی۔ یہ ایک خوبصورت منظر تھا اور اس میں بھرپور زندگی تھی اور سامان زندگی تھا۔