18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 18:33

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی۔ ان باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کردی اور ات خوب نع حاصل ہوا

” دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی “۔ یہاں قرآن کریم نقص اور کمی کے لئے لفظ ” ظلم “ استعمال کرتا ہے تاکہ ان دونوں باغوں اور ان کے مالک کے کردار کے درمیان تقابل پیدا کیا جاس کے ، کیونکہ باغات نے تو اپنا حق ادا کردیا ، جبکہ باغات کے مالک نے تکبر کیا ، سرکشی اختیار کی اور کبرو غرور کی وجہ سے اللہ کا شکر ادا نہ کیا اور ظلم کیا۔ اب ذرا ان دو باغوں کے اس مالک کو ملاحظہ کریں کہ اس کا پیمانہ بھر جاتا ہے اور وہ ان کو دیکھ کر اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا ہے۔ فخر و مباہات سے اس کا سر غرور میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس کا پیمانہ مرغی کے پیمان کی طرح ہے ، جلدی بھر جاتا ہے اور پھر یہ طائوس کی طرح فخر سے ناچنے لگتا ہے اور اپنے فقیر ساتھی اور ہمسائے پر بوجہ کبر ، اپنے آپ کو بلند سمجھتا ہے اور یوں گویا ہوتا ہے :
Ayah 18:34

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

یہ کچھ پا کر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا ” میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں

پھر وہ اپنے اس رفیق کو لے کر ایک باغ میں پھرتا ہے۔ اس کا دل خوشی سے جوش میں آتا ہے۔ اب یہ سخت غرور کی حالت میں داخل ہوتا ہے ، اللہ کو اس نے پوری طرح بھلا دیا۔ اس کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہے کہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر بجا لانا بھی ضروری ہے اور اس کے دل میں یہ خیال آگیا کہ یہ باغات کبھی بھی نیست و نابود نہ ہوں۔ اس نے قیام قیامت کو بالکل بھلا دیا اور اس کا صاف صاف انکار کردیا۔ پھر اس نے قیام قیامت کا سرے سے انکار کردیا۔ چلو اگر قیامت قائم بھی ہوجائے تو وہاں بھی اس کے ساتھی ترجیحی سلو اور عزت کا معاملہ ہوگا۔ اس دنیا میں دو باغات کا مالک نہیں ہے ، لہٰذا لازمی ہے کہ وہاں بھی اسے یہ سہولتیں بہرحال حاصل ہوں۔
Ayah 18:35

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

پھر وہ اپنی جنت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا ” میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہوجائے گی

ہمیشہ اصحاب جاہ و مال اور اہل ثروت اور اہل ِ اقتدار کے دلوں میں یہی سودا سمایا ہوتا ہے کہ اس فانی دنیا میں ان کی قدرو منزلت ہے ، اسی طرح آخرت میں بھی انہیں ییہ اعزاز ملے گا۔ عالم بالا میں بھی کرسی نسین ہوں گے۔ اگر اہل ِ دنیا کے ہاں ان کا یہ مرتبہ ہے تو اہل سماء میں کیوں نہ ہوگا۔ اب ذرا اس کے اس ساتھی کو دیکھئے جو فقیر ہے اور اس کے پاس کوئی دولت نہیں ہے۔ نہ کہ اس کے پاس باغ ہے اور نہ اس کے پھل ہیں۔ کیونکہ اس کے نزدیک ان باغات کے مقابلے میں ایک اور چیز ایسی ہے جو زیادہ قیمتی ہے۔ اسے اپنے عقیدت اور ایمان پر فخر ہے۔ اسے اپنے اس رب پر بھی فخر ہے جس کے سامنے بڑے بڑے سر جھک جاتے ہیں۔ یہ شخص اپنے اس مغرور سر پھرے اور منکر حق متکبر ساتھی کو بڑے اعتماد سے مخاطب کرتا ہے اور اسے یاد دلاتا ہے کہ تم اپنے آپ کو کوئی بہت بڑی چیز سمجھتے ہو ، لیکن ذرا اپنی پیدائش کو تو دیکھو کہ تمہیں ایک ناپاک پانی سے پیدا کیا ہے ، پھر کیچڑ ہے وہ اسے یاد دلاتا ہے کہ منعم حقیقی کا شکر ادا کرنا لازم ہے اور کبرو غرور کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ یہ رجل صالح ات کہتا ہے کہ تمہارے باغ و راغ کی بہ نسبت مجھے عند اللہ بہتر اجر ملے گا۔
Ayah 18:36

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پائوں گا

ایک نفس مومن کے اندر ایمانی عزت نفس اس طرح جاگ اٹھتی ہے اس لئے اسے کسی کے مال اور دولت کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی وہ کسی کی دولت اور اس کی گردن فرازی سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ سچائی کی بات صاف صاف کرتا ہے اور حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا۔ ایک سچے مومن کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ وہ جاہ و مال کے مقابلے میں غالب اور بھاری ہے اور یہ کہ اس دنیا کے سازو سامان کے مقابلے میں اس کے لئے قیامت میں جو اجر ہے وہ زیادہ قیمتی ہے یہ کہ وہ اللہ کا فضل چاہتا ہے اور اس کا فضل عظیم ہے اور یہ کہ اللہ کا انتقام بڑا سخت ہے اور وہ کسی بھی وقت ایسے غافلوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اچاک سرسبزی اور شادابی کے ان مناظر سے نکل کر ہم لوگ تباہی اور بربادی کے مناظر میں داخل ہوتے ہیں۔ تکبر اور اشکبار کے منظر کے بجائے اب ندامت اور اللہ سے مغفرت طلب کا منظر آجاتا ہے۔ وہ بات اب سامنے آجاتی ہے جس کی توقع یہ رجل مومن رکھتا تھا۔
Ayahs 18:37–42

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

اس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا ” کیا تو کفر کرتا ہے اس ذلت سے جس نے تجھے مٹی اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بنا کر کھڑا کیا ؟

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

رہا میں ، تو میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور جب تو اپنی جنت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشا اللہ ، فاقوہ الا باللہ ؟ اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پا رہا ہے

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنت سے بہتر عطا فرما دے اور تیری جنت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے ،

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس کا پانی زمین میں اتر جائے اور پھر تو اسے کسی طرح نہ نکال سکے

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

آخر کار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا اور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو تنیوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ ” کاش ! مَیں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا

یہ ایک مکمل نظر آنے والا ، مجسم منظر ہے۔ اس باغ کا تمام کا تمام پھل تباہ ہوگیا ہے۔ گویا اس پر ہر جانب سے حملہ ہوا اور اس میں سے ایک دانہ بھی نہ بچا اور اس کے تمام درخت اور بوٹے اپنے تنوں اور تینوں پر پڑے تھے اور اس کے درخت اور بیلیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بھس بن گئیں۔ مالک نے جو یہ منظر دیکھا کہ اس کا باغ تو مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے ، تو وہ اپنے اس عظیم مالی بربادی پر ہاتھ ملنے لگا۔ اس کی پوری کی پوری محنت آج چلی گئی۔ اب تو وہ اس پر بھی تادم ہے کہ اس نے اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کیا۔ اب وہ اللہ کی ربوبیت اور وحدانیت کو پوری طرح تسلیم کر رہا ہے۔ اگرچہ اس سے قبل اس نے کسی شرکیہ عقیدے کا اظہار نہیں کیا لیکن اس نے اس زمین کی فانی اقدار کو عالم بالا کی لافانی اقدار پر ترجیح دی۔ یہ اس کی جانب سے ایک قسم کا شرک تھا اور اب وہ اس سے بھی تائب ہو رہا ہے ، لیکن اب وقت اس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ وحدہ ہی والی ہے اور وہی قادر مطلق ہے۔ نہیں کوئی قوت مگر اس کی قدرت۔ نہیں کوئی نصرت مگر اس کی نصرت ، اس کا ثواب اچھا ثواب ہے اور اگر کسی انسان کی کوئی بچت اللہ کے ہاں باقی ہے تو وہ سب سے زیادہ اچھی بچت ہے۔
Ayah 18:43

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

وہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھا کہ اس کی مدد کرتا ، اور نہ کرسکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ

اب پردہ کرتا ہے اور یہ منظر بھی اوجھل ہوجاتا ہے جس میں باغ مکمل تباہی کا منظر پیش کر رہا تھا وہ اپنی تنیوں پر پڑا تھا مالک ہاتھ مل رہا تھا اور شرمندگی سے سرنگوں تھا۔ اللہ کا جلال اس منظر پر سایہ لگن تھا۔ جس کے سامنے انسانی قوت اور انسانی طاقت نیست و نابود ہوی ہے۔ اس منظر کے بعد اب حیات دنیا کو ایک تمثیل سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیکھو حیات دنیا اس باغ کی طرح ہی ہے ، یہ بہت ہی ناپختہ ، مختصر اور بےقرار ہے۔
Ayahs 18:44–45

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

اس وقت معلوم ہوا کہ کار سازی کا اختیار خدائے برحق کے لئے ہے ، انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور اے نبی ‘ انہیں حیات دنیا کی حقیقت اس مثال سے سمجھائو کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسایا دیا تو زمین کی پود خوب گھنٹی ہوگئی ، اور کل وہی نباتات بھس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

یہ منظر درحقیقت ایک مختصر جھلکی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو بتایا جائے کہ یہ دنیا فانی ہے۔ آسمانی سے پانی برستا ہے ، یہ پانی نہ بہتا ہے اور نہ سیلاب کی شکل اختیار کرتا ہے بلکہ یہ براہ راست نباتات کے ساتھ مختلط ہوجاتی ہے اور یہ نباتات ابھی پوری طرح نشو و نما نہیں پاتے اور پکتے ہی نہیں کہ یہ ایک بھوسے کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور وہ دیکھو ہوا اس بھوسے کو اڑائے پھرتی ہے۔ غرض تین مختصر ترین جملوں میں زندگی کی کہانی کہہ دی جاتی ہے۔ یہاں تین فقروں کے اندر مختصر ترین جملوں میں زندگی کی کہانی کہہ دی جاتی ہے۔ یہاں تین فقروں کے اندر مختصر ترین انداز میں پوری زندگی کی کہانی کہہ دی اور پھر یہ کہا کہ زندگی بہت ہی مختصر ہے۔ کس قدر مختصر اور کس قدر آسان بس کماء انزلناہ من السماء فاختلط بہ نبات الارض (81 : 53) ” اس پانی کی طرح جسے ہم نے آسمان سے برسا دیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہوگئی ‘ دنیائے فانی کی زندگی کی یہ مختصر جھلکی دکھانے کے بعد ، اب قرآن مجید زندگی کی دائمی قدر بن بتاتا ہے ، جن کو لوگوں مسعبد سمجھتے ہیں لیکن وہ باقی رہنے والی قدریں ہیں اور جن کو اہمیت دی جانی چاہئے۔
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

یہ مال اور یہ اولاد محض دنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے وال نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور انہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔

مال اور اولاد اس زندگی کی زینت ہے اور اسلام جائز حدود کے اندر دنیا کی زینت سے نہیں روکتا۔ لیکن اسلام زینت دنیا کو اسی قدر اہمیت دیتا ہے اور اسی قدر قیمت دیتا ہے جس کی وہ مستحق ہیں۔ یعنی فنا اور دوام کے اعتبار سے۔ ضرورت سے زیادہ قیمت ان چیزوں کو نہیں دیتا۔ ماں اور اولاد زینت ہیں لیکن ان کی قدر و قیمت یہ نہیں ہے کہ وہ معیار اور میزان بن جائیں اور لوگوں کو دنیا میں ان کے سارے تولا جائے۔ اصل قیمت باقیات صالحات کی ہے۔ وہ اعمال ، وہ اقوال اور وہ عبادات ، جن کا جار قیامت میں ملنے والا ہے۔ اگرچہ لوگ عموماً مال اور اولاد سے دلچسپیاں واسبتہ کئے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور ان کے دل مال اور اولاد ہی سے متعلق ہوتے ہیں۔ لیکن باقیات صالحات زیادہ بہتر ہیں اور ہمیں چاہئے کہ ہم باقیات صالحات سے امیدیں وابستہ کریں جن کی جزاء قیامت میں ملنے والی ہوتی ہے۔
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

فکر اس دن کی ہونی چاہئے جب کہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے ، اور تم زمین کو بالکل برہنہ پائو گے ، اور ہم تمام انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ (اگلوں پچھلوں میں سے) ایک بھی نہ چھوٹے گا

درس نمبر 231 ایک نظر میں درس سابقہ کا خاتمہ باقیات صالحات پر ہوا تھا۔ اس سبق کا آغاز ہی یوم قیامت کے بیان سے ہوتا ہے جس میں باقیات صالحات کا وزن ہوگا ار ان کا حساب و کتاب ہوگا۔ قیامت کا بیان بھی حسب معمول مناظر قیامت میں سے ایک منظر کی صورت میں ہے۔ اس کے بعد پھر ابلیس کے اس طرز عمل کو پیش کیا جاتا ہے۔ جو اس نے اس وقت اختیار کیا جب اللہ نے اسے حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کرے ، اس نے امر ربی کی تعمیل سے انکار کیا۔ انسانوں پر تعجب ہے کہ وہ پھر شیطان کو اپنا دوست بناتے ہیں ، حالانکہ ان کو معلوم ہے کہ تمام شیاطین انسانوں کے دشمن ہیں اور اس دوستی کے نتیجے میں وہ قیامت کے روز عذاب جہنم تک پہنچنے والے ہیں۔ پھر یہ شرکاء جوق یا مت کے دن ان لوگوں کی پکار کا جواب ہی نہ دیں گے جو ان شرکاء کی بندگی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بار بار مثالیں دیں اور لوگوں کو سکھایا کہ وہ اس دن کے حساب و کتاب سے اپنے آپ کو بچائیں۔ لیکن لوگ ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ بلکہ الٹا امم سابقہ کی ہلاکت کی طرح کے عذا بکا مطالبہ کرتے ہیں اور باطل انداز میں اہل ایمان کے ساتھ مجادلہ کرتے ہیں تاکہ حق کا مقابلہ کریں۔ اللہ کی آیات اور اللہ کے رسولوں کے ساتھ مذاق کریں۔ اگر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو ان پر یہ عذاب آ بھی جاتا۔ قیامت کا یہ منظر اور امم سابقہ کے عذاب کا ذکر اس سورت کے مرکزی مضمون سے ہم آہنگ ہیں کہ لوگوں کے ذہن میں اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی قدریں بٹھانی چاہئیں تکاہ وہ ہدایت پکڑیں۔
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب کے سب تمہارے رب کے حضور صف در صف پیش کئے جائیں گے … لو دیکھ لو ، آگئے نا تم ہمارے پاس اسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار یدا کیا تھا۔ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے

یہ ایک منظر ہے جس میں اس کائنات کا طبیعی ماحول ، اور اس کائنات اور انسانی دلوں پر خو و ہراس کے نقوش داع نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے کردار بڑے بڑے پہاڑ ہیں جو دیکھتے دیکھتے دھواں بن جاتے ہیں اور یہ نہایت تیزی سے چلتے ہیں ، دلوں پر خوف طاری ہے ، زمین اچانک چٹیل میدان بن جاتی ہے۔ نہ اس میں سرسبزی اور شادابی ، نہ پہاڑ ہیں اور نہ خوبصورت وادیاں بلکہ دلوں کے حال میں اس منظر میں سامنے آجاتے ہیں اور کوئی بات خفیہ نہیں رہتی۔ یہ ہموار اور چٹیل میدان زمین ، جو کسی چیز کو نہیں چھپا سکتی اور نہ اس پر کسی کے چھپنے کی کوئی جگہ ہے ، اسی زمین سے یکدم تمام مخلوقات اک آئے گی۔ وحشرنھم فلم نغادر منھم احداً (81 : 83) ” انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ ایک بھی نہ چھوٹے گا۔ “ اس جامع حشر کے بعد اگلا منظر پھر اللہ کے سامنے حاضری کا ہے۔ وعرضوا علی ربک صفاً (81 : 83) ” سب کے سب تمہارے رب کے حضور صف در صف پیش کئے جائیں گے۔ “ یہ تمام مخلوق جس کی تعداد معلوم نہیں ہے۔ اس وقت سے لے کر جب سے انسانیت کو یہاں بسایاگ یا اور جب تک اس زمین پر انسانیت کو آہستہ آہستہ مٹایا گیا۔ یہ سب مخلوق اٹھائی جا چکی ہے ، سب جمع ہوگئی ہے ، حلقوں کی شکل میں کھڑی ہے ، کوئی آدمی بھی غیر حاضر نہیں ہے ، کیونکہ سب زمین ایک میدان ہے۔ اس میں چھپنے کی کوئی جگہ ہی نہیں۔ اب بات کا انداز ایک بیانیہ منظر سے ، طاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔ گویا منظر سامنے موجود ہے اور ہم اسے دیکھ رہے ہیں اور اس میں جو مکالمہ ہو رہا ہے گویا ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں اور کانوں سے سن رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اس منظر کے وجود میں آنے کے منکر تھے ، ان کے چہروں پر شرمندگی بالکل عیاں ہے۔ لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ بل زعمتم الن نجعل لکم موعداً (81 : 83) ” دیکھ لو آگ یء نا تم ہمارے پاس جیسے ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ تم نے یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا تھا۔ “ اس بیانیہ انداز خطاب میں یکلخت تبدیلی کر کے اسے خطابی انداز میں لانے سے منظر میں ایک طرح کی زندگی پیدا کردی جاتی ہے۔ کردار زندہ و متحرک نظر آتے ہیں اور منظر ہمارے سامنے مجسم ہوجاتا ہے۔ گویا یہ مستقبل میں آنے والا قیام قیامت کا کوئی منظر نہیں ہے۔ بلکہ موجودہ دور کا منظر ہے۔ جو لوگ قیامت کی تکذیب کرتے تھے ان کے چہروں پر شمندگی صاف صاف نظر آتی ہے اور باری تعالیٰ کی ڈانٹ ان لوگوں کی سر زنش یوں کر رہی ہے ۔ لقد جئتمونا کما خلقنکم اول مرۃ (81 : 83) ” آگئے ناتم ہمارے سامنے اس طرح جس طر ہم نے ت میں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا۔ “ اور تم یہ سمجھتے تھے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ بل زعمتم الن نجعل لکم موعدا (81 : 83) ” تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا تھا۔ ‘ بیانیہ انداز کلام سے خطاب کی طرف آنے کے بعد پھر قایمت کے واقعات کا بیان شروع ہوتا ہے۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور نامہ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا اس وقت تم دیکھو کے مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ” ہائے ہماری کم بختی ، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہوگئی ہو۔ “ جو کچھ انہوں نے کہا تھا ، وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کیسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔

وو ضع الکتب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ (18 : 93) ” اور نامہ عمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتاب زندگی کے اندرا جات سے ڈر رہے ہوں گے۔ “ یہ ہے ان کے اعمال کا پورا رجسٹر ، ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا ، وہ اسے پڑھ رہے ہوں گے ، بار بار ورق گردانی کر رہے ہوں گے ، وہ حیران ہوں گے کہ وہ نہایت ہی جامع ریکارڈ ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی یہاں درج ہیں۔ یہ اپنے انجام سے ڈر رہے ہوں گے۔ دل ان کے غم کے مارے پھٹ رہے ہوں کہ اس کتاب کی وجہ سے جو ذرہ ذرہ ریکارڈ کر رہی ہوگی۔ نہ کوئی چھوٹی چیز اس سے چھوٹی ہوئی ہے اور نہ بڑی۔ ویقولون یویلتنا مال ھذا الکتب لایغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا (81 : 93) ” کہ رہے ہوں گے ، ہائے ہماری کم بختی ، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہوگئی ہو۔ “ یہ ایک ایسے شخص کا کلام ہے جو سخت گھاٹے میں آگیا ہے ، سخت پریشان ہے ، سخت خوفزدہ ہے ، کیونکہ جلد ہی وہ نہایت بھیانک انجام سے دوچار ہنے والا ہے اور وہ اس قدر مضبوط بندھا وہا ہے کہ اس کے بھاگنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ نہ کوئی مغالطہ دے سکتا ہے اور نہ کوئی بانہ اور تاویل کرسکتا ہے۔ ووجدوا ماعملوا حاضراً (81 : 93) ” جو جو انہوں نے کیا تھا وہ سب حاضر پائیں گے۔ “ اور ان کو اپنے کئے کی سزا ملے گی۔ ولایظلم ربک احداً (81 : 93) ” اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہیں کرتا۔ “ …… یہ مجرمین جن کا میدان حشر میں یہ حال ہو رہا ہے۔ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ شیطان ان کا دشمن ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس شیطان کے ساتھی دوستی کی اور اس نے ان کو اس مقام پر بد تک پہنچایا ، لہٰذا کیا ان کی یہ حرکت تعجب انگیز نہیں ہے کہ یہ لوگ ابلیس اور اس کی ذریت کو ، دوست رکھیں حالانکہ ابلیس کے اس واقعہ کے بعد انسانوں سے اس کی دشمنی کا اعلان ہوچکا تھا۔
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

” یاد کرو ، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ وہ جنوں میں سے تھا اس لئے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا۔ اب کیا تم مجھے چھوڑ کر اس کو اور اس کی ذریت کو اپنا سرپرست بناتے ہو ، حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ؟ بڑا ہی برا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کر رہے ہیں۔

آدم ابلیس کے اس قدیمی قصے کی طرف یہاں ایک اشارہ سا کیا گیا ہے اور یہ بھی بطور تعجب کے کہ ابن آدم پھر بھی ابلیس اور اس کی ذریت کو دوست بناتے ہیں حالانکہ ابلیس ابن آدمی کا قدیمی دشم نہ اور یہ تکریم آدم کی وجہ سے دشمن ہوا ہے اور پھر بھ ہم اللہ کو چھوڑ کر اپنے دشمن سے دوست کرتے ہیں۔ اور ابلیس کی دوستی یہ ہے کہ ہم اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور اللہ کی اطاعت نہیں کرتے جو اللہ کا دوست ہوتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ یہ لوگ اپنے ان دشمنوں کے ساتھ کیوں دوستی رکھتے ہیں حالانکہ ان لوگوں کے پاس نہ علم ہے اور نہ قوت ہے۔ اور نہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کی پیدائش کے وقت ان لوگوں کو بلایا تھا اور نہ خود ان کی تخلیق کے وقت ان کو بلایا تھا ، بلکہ وہ تھے ہی نہیں۔ اس لئے یہ لوگ اللہ کے غیوب سے کس طرح واقف ہو سکتے ہیں۔ نیز اللہ نے ان کو اپنے مددگار بھی نہیں پیدا کیا کہ ان کے پاس کوئی قوت ہو۔ اس لئے اس دوستی کا کوئی جواز نہیں ہے۔
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے آسمان و زمین پیدا کرتے وقت ان کو نہیں بلایا تھا اور نہ خود ان کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا۔ میرا کام یہ نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنایا کروں۔

اللہ تو بےنیاز ہے۔ وہ ذوالقوۃ المتین ہے ، اس کو کسی مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔ خواہ وہ مضل ہو اغیر مضل یہاں یہ جو کہا یا کہ اللہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار نہیں بناتا تو یہ دراصل مشرکین کے اوہام کی بیخ کنی کے لئے یہ انداز بیان اختیار کیا گیا ہے کہ اللہ نے کیا ایسے لوگوں کو اپنا شریک بنا لیا ہے جو ہدایت کی بجائے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ جو لوگ شیطان کو اللہ کا شریک سمجھتے تھے وہ یہ حرکت اس لئے کرتے تھے کہ شیطان کے پاس کوئی خفیہ علم ہے اور کوئی فوق الفطری قوت ہے۔ اس لئے لوگ شیطان کے ساتھ دوستی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان لوگوں کی اس حماقت کو اس طرح فرماتا ہے کہ اگر بطور فرض محال میں نے کسی کو اپنا مددگار بنانا ہی تھا تو کیا اسے ضال اور مضل کو بنانا تھا۔ یہ ایک الزامی انداز تعبیر ہے۔ چناچہ قیامت کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ دیکھ لیں کہ ان شریکوں اور شریک کرنے والے بحرمین کی حالت وہاں کیا ہوگی۔
Ayah 18:52

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

پھر کیا کریں گے یہ لوگ اس روز جب کہ ان کا رب ان سے کہے گا کہ پکارو اب ان ہستیوں کو جنہیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے۔ یہ ان کو پکاریں گے ، مگر وہ ان کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کردیں گے۔

یہ لوگ اب ایک ایسی عدالت میں کھڑے ہوں گے جس میں کوئی دعویٰ بغیر دلیل کے مسموع نہیں ہے۔ اللہ ان سے مطالبہ کرے گا کہ لائیے وہ شرکاء جو تم میرے ساتھ قرار دیتے تھے۔ حکم ہوگا جائو ان کو بلا کر لائو۔ یہ لوگ اپنی حماقت میں اور مدہوشی میں پکارنے لگیں گے لیکن ان کے شرکاء ظاہر ہے کہ کوئی جواب نہ دیں گے۔ وہ خود مخلوق ہوں گے اور قیامت کے میدان میں نہ اپنی کسی چیز اور نہ دوسروں کے لئے کسی چیز کے مالک ہوں گے۔ خود خوفزدہ ہوں گے۔ اللہ ان شریک کرنے والوں اور ان کے شریکوں کے درمیان ایک ہلاکت کا گڑھا پیدا کردیں گے جس کو کوئی بھی پار نہیں کرسکے گا اور یہ گڑھا آگ کا ہوگا۔ وجعلنا بینھم موبقاً (81 : 25) ” ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کردیں گے۔ “ یہ مجرم اب اگلے مرحلے کو دیکھیں گے۔ ہی خوف و ہراس میں مبتلا ہوجائیں گے۔ ان کو آگ نظر آئے گی اور ان کو ہر لحظہ اس میں پڑنے کا خطرہ ہوگا ۔ عذاب کا یہ انتظار کس قر شدید ہوتا ہے۔ جب کوئی یہ توقع کرے کہ ابھی آنے والا ہے اور اب ہمیں اس سے نجات پانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

سارے مجرم اس روز آگ دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے۔ اور وہ اس سے بچنے کے لئے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔

ورا المجرمون النار فظنوا انھم مواقعوھا ولم یحدوا عنھا مصرفاً (81 : 35) ” مجرم اس روز آگ دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب ہمیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لئے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔ “ …… ان کے لئے اس سے رہائی کا راستہ تو تھا۔ اے کاش کہ وہ اس سے قبل دنیا میں اپنے دلوں کو قرآن کی طرف پھیرتے اور قرآن جس سچائی کو لے کر آیا تھا اس کے مقابلے میں نہ اتر آتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس میں اثمال کے ذریعے بات کو بار بار پھیر کر سمجھانے کی کوشش کی تھی اور ہر حال ان کو سمجھایا تھا۔
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا گیا مگر انسان بڑا ہی جھگڑا لو واقع ہوا ہے۔

قرآن مجید نے یہاں انسان کو ایک چیز کہا ہے اور یہ کہ وہ بڑی جھگڑا لو چیز ہے۔ چیز سے تعبیر اس لئے کیا گیا تاکہ انسان اپنے کبر و غرور سے ذرا نیچے اترے اور یہ سمجھے کہ وہ بھی اللہ کی بیشمار مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور انسان تمام مخلوقات سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ اس کے باوجود کہ اللہ نے اس قرآن میں انسان کو مختلف طریقوں سے سمجھانے کی سعی کی اور مثالوں سے اسے سمجھایا۔ اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اکثر لوگ کیوں ایمان نہ لائے ؟ وہ کیا شبہ تھا جو رکاوٹ بنا ؟ مختلف رسولوں کے زمانے میں اکث لوگ ایمان سے محروم رہے۔
Ayah 18:55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

ان کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے رب کے حضور معانی چاہئے سے آخر ان کو کس چیز نے روک دیا ؟ اس کے وسا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کے ساتھ ہوچکا ہے ، یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں

حالانکہ ان لوگوں کے پاس اس قدر راہنمائی آچکی تھی جو اس کے لئے کافی تھی کہ وہ راہ ہدایت پر آجائیں۔ لیکن انہوں نے راہ ہدایت کو اس لئے قبول نہ کیا کہ وہ اس قسم کے عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جیسا کہ ان سے پہلے مکذبین پر آیا۔ پھر سوال یہ ہے کہ وہ کیوں ایسا خوفناک مطالبہ کرتے تھے یا ان کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ عذاب لے آئیں وہ دیکھ لیں اور اس وقت وہ ایمان لائیں گے۔ لیکن یہ دونوں کام رسولوں کی ڈیوٹی میں شامل بنیں ہیں۔ کیونکہ مکذبین کے سامنے معجزے پیش کرنا ، پھر انکار کی وجہ سے ان کو ہلاک کرنا بھی رسولوں کے اختیار میں نہیں ہے جیسا کہ سابقہ رسولوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ یا معجزات کے علاوہ عذاب کا آجانا یہ بھی اللہ کے اختیار میں ہے۔ رسولوں کی ڈیوٹی تو صرف یہ ہے کہ وہ خوشخبری دیں اور ڈرائیں۔
Ayah 18:56

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

رسولوں کو ہم اس کام کے سوا اور کسی غرض کے لئے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دے دیں۔ مگر کافروں کا یہ حال ہے کہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہوں نے میری آیات کو اور ان تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں ، مذاق بنا لیا ہے۔

حق واضح ہے ، لیکن اہل کفر باطل ہتھیاروں سے حق کو مغلوب کرنا چاہتے ہیں اور حق کو باطل ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اہل باطل جو خارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں یا یہ لوگ عذاب کے مطالبے میں جلدی کرتے ہیں۔ یہ اس لئے نہیں کرتے کہ ان کو اطمینان ہوجائے بلکہ یہ لوگ اللہ کی آیات کے ساتھ مذاقک رتے ہیں اور رسولوں کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سنا کر نصیحت کی جائے اور وہ ان سے منہ پھیرے اور اس برے انجام کو بھول جائے جس کا سروسامان اس نے اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے ؟ (جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے) ان کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیئے ہیں جو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے اور ان کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کردی ہے۔ تم انہیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بلائو ، وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے۔

یہ لوگ دراصل اللہ کی آیات اور اللہ کے رسولوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ اسلئے ان سے یہ توقع نہ کی جائے کہ یہ لوگ قرآن کو سمجھ لیں گے۔ نہ ان سے یہ توقع کر ھی جائے کہ یہ لوگ اس کی تعلیمات سے نفع اٹھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش کی وجہ سے ان دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردی ہے۔ لہٰذا یہ نہ سن سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی اس روش مذاق اور استہزاء کی وجہ سے ان کے لئے ضلالت لکھ دی گئی ہے۔ لہٰذا اب ان کو کبھی بھی ہدایت نہیں ملے گی کیونکہ ہدایت ان لوگوں کو ملتی ہے جو کھلے دل و دماغ سے بات کو سنتے ہیں۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

تیرا رب بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ وہ ان کے کرتوتوں پر انہیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا۔ مگر ان کے لئے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔

لیکن اللہ ان لوگوں کو خالص اپنی رحمت کی وجہ سے مہلت دیتا ہے اور ان پر وہ ہلاکت نہیں لاتا جس کے لئے وہ جلدی کر رہے لیکن اس مہلت کی بھی ایک حد مقرر ہے۔ یعنی دنیا میں بھی ان پر عذاب الٰہی کے نزول کے لئے وقت مقرر ہے اور پھر آخرت میں ان کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس میں انہیں سخت سزا دی جائے گی۔ انہوں نے چونکہ ظلم کیا ہے اس لئے یہ لوگ بھی امم سابقہ کی طرح ہلاکت کے مستحق قرار پا چکے ہیں۔ لیکن اللہ نے اپنی حکمت اور تدبیر کے مطابق چونکہ ان کے لئے ایک مہلت مقرر کر رکھی ہے اس لئے اللہ ان کو اس طرح ہلاکت سے دوچار نہیں کر رہا ہے جس طرح اللہ نے ظالم امم سابقہ کو ہلاک کیا۔ ہاں ان کے لئے علیحدہ میعاد مقرر ہے۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں۔ انہوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لئے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا۔

لہٰذا ان لوگوں کو چاہئے کہ اس مہلت سے دھوکہ نہ کھائیں۔ ان کی مہلت بھی ختم ہونے ہی والی ہے۔ اللہ کی سنت اپنا کام کر رہی ہے وہ اٹل ہے اور اللہ جو معیاد مقرر کرتا ہے وہ آ کر رہتی ہے۔
Ayah 18:60

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

(ذرا ان کو وہ قصہ سنائو جو موسیٰ کو پیش آیا تھا) جبکہ موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا تھا کہ ” میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک دونوں دریائوں کے سنگم پر نہ پہنچ جائوں ، ورنہ میں ایک زمانہ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔

درس نمبر 331 ایک نظر میں اس سبق میں حضرت موسیٰ السلام کی سیرت کا جو گوشتہ بیان ہوا ہے وہ صرف اسی سورت کے اسی مقام پر مذکور ہے۔ قرآن میں کسی دوسری جگہ اس کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن کریم نے اس مقام کا بھی تعین نہیں فرمایا صرف یہ کہا ہے کہ وہ مجمع البحرین ہے۔ نیز اس واقعہ کی تاریخ بھی متعین نہیں ہے کہ آیا تو کہاں اور کس وقت پیش آیا بیت المقدس پر حملے کے وقت سے پہلے آیا یا بعد میں۔ جب موسیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ بیت المقدس میں داخل ہوں تو انہوں نے داخل ہونے سے انکار کردیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہاں جبار قوم بستی ہے اور قابض ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ واقعہ اس دور میں پیش آیا جب یہ صحرا نور دی کر رہے تھے۔ قرآن ریم نے اس بندئہ صالح کے بارے میں بھی تفصیلات نہیں دی ہیں جن سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ملنے گئے تھے۔ یہ کون تھے ؟ ان کا نام کیا تھا ؟ یہ نبی تھے ؟ رسول تھے ؟ کوئی عالم دین تھے ؟ یا کوئی ولی تھے ؟ اس قصے کے بارے میں حضرت ابن عباس اور ان کے علاوہ دوسرے حضرات سے بہت سی روایات وارد ہیں لیکن ہم صرف قرآن مجید کے بیان تک اپنے آپ کو محدود رکھیں گے تاکہ ہم قرآن ہی کے سایہ میں رہیں۔ ہمارا یقین ہے کہ جس انداز میں اس قصے کو قرآن نے دیا ہے اس میں اس کی تاریخ بھی نہیں دی ، نام بھی نہیں دیئے ، جگہ کا تعین بھی نہیں کیا ، اس میں کوئی خاص حکمت ہوگی۔ لہٰذا ہم بھی اس قدر معلومات پر اکتفاء کرتے ہیں جس قدر قرآن نے دے دی ہے۔ (1) 1۔ بخاری میں ہے ۔ سعید ابن جبیر نے حضرت ابن عباس سے پوچھا کہ نوف بکالی کا خیال ہے کہ جو موسیٰ حضر سے ملے وہ موسائے بنی اسرائیل نہ تھے۔ ابن عباس نے فرمایا وہ جھوٹ بولتا ہے۔ ہمیں ابی بن کعب نے حضور سے سن کر بتایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کے سامنے خطبہ دے رہے تھے تو ان سے پوچھا گیا کہ کون زیادہ علم رکھتا ہے تو موسیٰ نے کہا میں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کو غصہ آیا کیونکہ موسیٰ نے اپنے علم کو اللہ کی طرف منسوب نہ کیا۔ تو اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی بتایا کہ مجمع البحرین میں ہمارا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے سوال کیا کہ اے اللہ میں اس سے کیسے مل سکتا ہوں۔ اللہ نے فرمایا تم اپنے پاس ایک مچھلی کو تھیلے میں رکھ لو ، جہاں تم نے مچھلی کو گم کردیا بس وہ جگہ ہوگی اس بندئہ صالح کی۔ مجمع البحرین سے کون سی جگہ مراد ہے ، غالب یہ ہے کہ شاید بحر روم اور بحر قلزم کے درمیان کوئی جگہ یا بحر اسود یا بحر احمر کے درمیان کوئی جگہ ہے۔ ان کا مقام التقاء بحیرہ مرہ یا بحیرہ تساح ہو سکتا ہے یا خلیج عقبہ اور خلیج سویس کے اجتماع کی جگہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ بحر احمر کی دو شاخیں ہیں۔ کیونکہ یہی وہ جگہ تھی جہاں خروج کے بعد بنی اسرائیل چلتے پھرتے رہے۔ بہر حال قرآن کریم نے اس بات کو مجمل چھوڑ دیا ہے ۔ ہم بھی فقط یہی اشارہ کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔ (1) قصے کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک خاص ہدف تھا۔ جہاں تک انہوں نے پہنچنے کا عزم کر رکھا تھا۔ آپ کے پیش نظر کوئی خاص مطلب تھا۔ کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ آپ مجمع البحرین تک ضرور پہنچیں گے چاہے اس سفر میں زیادہ مشقت درپیش ہوا اور چاہے اس میں زیادہ عرصہ لگ جائے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس تعبیر او امضی حقباً (81 : 06) ” ورنہ میں زمانہ دراز تک چلتا رہوں گا۔ “ حقب کے معنی ایک سال کے ہیں یا بعض اقوال کے مطابق 08 سال کے ہیں۔ بہرحال مقصد یہ ہے کہ وہ بہرحال مجمع البحرین تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ کوئی متعین زمانہ مراد نہیں ہے۔ (1) قتادہ وغیرہ نے کہا کہ اس سے مراد بحر فارس ہے جو شرق کی جانب سے اور بحر روم ہے جو مغرب کی جانب سے قریب ہے۔ محمد ابن کعب قرظی نے کہا ہے کہ مجمع البحرین بلاد مغرب میں طبخہ کے قریب ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اقوال مستبعد ہیں۔
Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہوگئے اور وہ نکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سرنگ لگی ہو۔

راجح بات یہ ہے کہ یہ مچھلی بھونی ہوئی تھی اور اس کا زندہ رہنا اور پھر اس کا سمندر کے اندر عجیب انداز میں گم ہوجانا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ایک نشانی تھی۔ اس کے ذریعے اللہ نے ان کو بتانا تھا کہ عبدصالح کا مقام یہی ہے۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے نوکر نے جو بیان کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مچھلی نے قابل تعجب انداز میں سمندر میں اپنی راہ لی تھی۔ یہ بات کہ زندہ مچھلی اس کے ہاتھ سے گر گئی اور وہ سمندر میں چلی گی تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ سبب ترجیح یہ ہے کہ یہ سفر سب کا سب غیبی معجزات پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ان میں سے ایک معجزہ تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معلوم ہوگیا کہ عبدصالح کے مقام سے وہ آگے بڑھ گئے ہیں۔ اس سے ملاقات اس پتھر کے پاس ہوگی۔ چناچہ وہ واپس ہوئے اور وہاں ان کو عبد صلح انتظار کرتے ہوئے ملے۔
Ayahs 18:62–64

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

آگے جا کر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے خادم سے کہا ” لائو ہمارا ناشتہ ، آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں۔

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

خادم نے کہا ” آپ نے دیکھا ، یہ کیا ہوا ؟ جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کردیا کہ وہ اس کا ذکر (آپ سے کرنا) بھول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی۔

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” اسی کی تو ہمیں تلاش تھی۔ “ چناچہ وہ دونوں اپنے نقش قدم پر پھر واپس ہوئے

معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملاقات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے رب کے درمیان ایک خفیہ راز تھا اور اس راز سے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی نوجوان بھی باخبر نہ تھے۔ ملاقات تک اسے خبر نہ تھی اور بعد کے مناظر میں بھی ان نوجوان حضرت موسیٰ اور عبدصالح کے ساتھ نظر نہیں آتے۔
Ayahs 18:65–66

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

اور وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا۔

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے اس سے کہا ” کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے ؟

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت ہی احترام سے ان سے دریافت کرتے ہیں کہ آیا آپ ہمیں کچھ سکھائیں گے ؟ یعنی آپ کو اللہ نے جو علم دیا ہے اس میں سے کوئی راہنمائی اور دانشمندی ہمیں بھی سکھائیں گے۔ لیکن اس شخص کا علم وہ علم نہ تھا جو انسانوں کو سکھایا گیا ہے اور جس کے اسباب و نتائج معلمو اور قریب الفہم ہوتے ہیں بلکہ اس کے علم کا تعلق علم لدنی اور اس کائنات کے تکوینی انتظام کے ساتھ تھا۔ یہ اللہ کے غیبی امور کا ایک حصہ تھا۔ جو اس عبدصالح کو اللہ نے اپنی مخصوص مصلحتوں اور حکمت کے تحت سکھایا ہوا تھا۔ اس لئے عبدصالح کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ اس کے تصرفات کو برداشت نہ کرسکیں گے۔ کیونکہ آپ تو رسول اور نبی ہیں ۔ خلاف شریعت کسی بات کو برداشت نہ کریں گے۔ کیونکہ یہ تصرفات بظاہر شریعت کے بھی خلاف ہوں گے اور عقلی طرز عمل کے بھی خلاف ہوں گے اور اس بات کی ضرورت ہوگی کہ ان کی تہہ میں جو تکوینی حکمت پوشیدہ تھی وہ بھی ان کو بتائی جائے۔ اگر اصل حقیقت نہ بتائی جائے تو یہ قابل اعتراض ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عبدصالح اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ تم صبر نہ کرسکو گے۔
Ayah 18:67

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

اس نے جواب دیا ” آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے ،

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) صبر اور اطاعت کے زعم کا اظہار کرتے ہیں ، اس سلسلے میں اللہ کی مدد کی بھی امید کرتے ہیں اور اللہ کی مشیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
Ayahs 18:68–69

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو ، آپ اس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں۔

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ” انشاء اللہ ، آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۔

عبدصالح اب بطور تاکید دوبارہ صبر کی تلقین کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے ساتھ رہنے کی شرط یہ ہے کہ میرے تصرفات کی بابت آپ کوئی سوال نہ کریں گے ، یہاں تک کہ وہ خود ان تصرفات کی حقیقت بیان نہ کردوں۔
Ayah 18:70

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

اس نے کہا ” اچھا ، اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خود اس کا آپ سے ذکر نہ کروں۔

حضرت موسیٰ یہ شرط قبول کرتے ہیں۔ اب پہلا تصرف اور اس کا منظر۔
Ayah 18:71

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

” اب وہ دونوں روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہوگئے تو اس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ” آپ نے اس میں شگاف ڈال دیا تاکہ سب کشتی والوں کو ڈبو دیں ؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کر ڈالی۔ “ یہ عبدصالح نہایت برد باری سے اور نہایت ہی سنجیدگی سے یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے درمیان معاہدہ کیا طے ہوا تھا ؟

یہ کشتی ان دونوں کو بھی لے جا رہی اور ساتھ ہی اور سوار بھی اس پر موجود ہیں۔ یہ سب لوگ سمندر کے درمیان موجوں میں سفر کر رہے ہیں۔ عبدصالح اس میں شگاف ڈال دیتے ہیں۔ بظاہر تو یہ نظر آتا ہے کہ اس شگاف کی وجہ سے یہ کشتی غرق ہو سکتی ہے اور مالکوں اور سواروں کے لئے مصیبت کا باعث ہو سکتی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ عبداصالح نے یہ حرکت کیوں کی ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذہن سے شرائط سفر محو ہوگئیں۔ وہ اس غیر معقول حرکت کو برداشت نہ کرسکے۔ جو عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔ انسان بعض اوقات محض تصور کی حد تک بہت کچھ کہتا ہے۔ لیکن جب وہ کسی عملی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے تمام نظریاتی جائزے اور توقعات دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ عملی میدان میں اس کا ردعمل محض نظری میدان سے مختلف ہوتا ہے۔ عملی تجربات اور ہوتے ہیں اور نظری تصورات اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نظری طور پر متنبہ بھی کردیا گیا تھا کہ تم ان امور پر صبر نہ کرسکو گے جن کے بارے میں تمہیں علم نہ ہوگا۔ وہ اللہ کے فضل و کرم سے صبر کرنے کا عزم بھی کرتے ہیں ، وعدہ بھی کرتے ہیں ، شرط قبول بھی کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ عملاً ایک منظر کو دیکھتے ہیں تو سب کچھ بھول کر اعتراض کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی طبیعت بھی انفعالی اور جذباتی تھی۔ اس لئے وہ صبر نہ کرسکے۔ وہ وعدے کا ایفا نہ کرسکے۔ وہ اس فعل کے انوکھے پن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی برائی کو برداشت نہ کیا۔ مثلاً مصر میں جب ایک قبطی ایک بنی اسرائیل سے لڑ رہا تھا تو آپ نے غصے میں اسے مکا رسید کیا اور وہ مر گیا۔ پھر انہوں نے اس فعل پر اللہ سے معافی مانگی۔ پھر دوسرے دن جب وہی بنی اسرائیل پھر ایک مصری سے لڑر رہا تھا تو آپ پھر غصہ ہوئے۔ بہرحال حضرت مسویٰ اپنی افتاد طبع کے مطابق ہیاں بھی برداشت نہ کرسکے۔ واقعہ عجیب و غریب تھا۔ عقل و نقل کے خلاف تھا۔ اور اگرچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے وعدہ کیا تھا اور شرط بھی قبول کرلی تھی لیکن نظریات اور ہوتے ہیں اور عملی صورت حالات اور ہوتی ہے۔ چناچہ جب عملاً موسیٰ علیہ السالم کے سامنے یہ صورت حالات پیش ہوئی تو آپ نے بےساختہ اعتراض کردیا۔
Ayah 18:72

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

اس نے کہا ” میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے۔

اب حضرت موسیٰ معذرت کرتے ہیں کہ وہ تو بھول گئے اور درخواست کرتے ہیں کہ آپ میرے عذر کو قبول کرلیں ، بھول ہوگئی اور یہ کہ اس معاملے میں آپ میرے ساتھ سختی نہ کریں۔