Ayah 18:73عبد صالح بھی یہ عذر و معذرت قبول کرلیتے ہیں اور ہم اب دوسرے منظر کے سامنے ہیں۔
Ayah 18:74پہلے تو کشتی میں شگاف ڈالا تھا اور لوگوں کی ہلاکت کا محض احتمال تھا لیکن اب تو واضح طور پر انہوں نے ایک شخص کو قتل کردیا۔ یہ قتل عمد تھا۔ محض احتمال قتل نہ تھا اور یہ گناہ کبیرہ تھا۔ اس پر موسیٰ (علیہ السلام) صبر نہ کرسکتے تھے۔ اگرچہ انہوں نے عہد کیا تھا اور انہیں یہ عہد یاد بھی تھا۔
اس دفعہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہ بھولے تھے اور نہ غافل تھے۔ اب انہوں نے بالا ارادہ اعتراض کردیا۔ کیونکہ وہ اس گناہ کبیرہ پر اعتراض کئے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ نہ وہ اس کی کوئی تاویل کرسکتے تھے۔ ان کے خیال میں یہ لڑکا بےگناہ تھا۔ اس نے ایسا کوء فعل نہ کیا جس کے نتیجے میں اس کا قتل جائز ہو۔ بلکہ وہ تھا بھی نابالغ اس پر تو حد جاری ہی نہ ہو سکتی تھی۔
عبدصالح دوبارہ ان سے یہ کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک معاہدہ ہوچکا ہے اور وہ انہیں پھر یاد دلاتے ہیں اور یہ کہ تجربے کے بعد تجربہ بتلاتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) برداشت نہیں کرسکتے۔
Ayah 18:75موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ اب ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ وہ اب سمجھتے ہیں کہ انہوں نے دو مرتبہ وعدہ خلافی کرلی۔ اور ان کی یاد دہانی کے بعد پھر وہ بھول گئے۔ چناچہ وہ آگے بڑھ کر خود ہی اپنے لئے آخری بار مقرر فرماتے ہیں کہ اگر اب کے میں نے خلاف ورزی کی تو آپ مجھے علیحدہ کردیں۔
Ayah 18:76اب ہم ذرا آگے بڑھتے ہیں اور تیسرے منظر کے سامنے کھڑے ہیں۔
Ayah 18:77یہ دونوں بھوک تھے۔ لیکن وہ دونوں ایسے گائوں میں تھے جس کے باشندے بخیل تھے۔ وہ کسی بھوکے کو کھانا نہ کھلاتے تھے نہ کسی مہمان کی مہمان نوازی کرتے تھے۔ اچانک یہ شخص دیکھتا ہے کہ ایک دیوار گرا چاہتی ہے۔ یہاں بھی انداز ایسا ہے کہ دیوار گویا زندہ ہے اور وہ بالا ارادہ گرنا چاہتی ہے۔
یرید ان ینقص (81 : 88) ” وہ ارادہ کرتی ہے کہ گر جائے۔ “ یہ بندئہ خدا بس دیکھتے ہی بغیر کسی معاوضہ کے دیوار کو از سر نو کھڑا کرنے میں لگ گیا۔
یہاں موسیٰ (علیہ السلام) سہ بارہ محسوس کرتے ہیں کہ اس شخص کے طرز عمل میں کھلا تضاد ہے۔ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ یہ شخص مشقت برداشت کرتا ہے اور اس گائوں میں یہ نیکی کا کام کرتا ہے جبکہ ہم بھوکے ہیں اور ان لوگوں نے ہمیں کھانا کھلانے سے بھی انکار کردیا۔ کیا کم از کم یہ بات معقول نہ تھی کہ وہ اس دیوار کو درست رنے پر معاوضہ طلب کرتے اور اس کے عوض کھانا کھالیتے۔
پس اب اس سے دونوں کے درمیان جدائی ہوگئی۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے کوئی عذر نہ تھا۔ نہ اب دونوں کے درمیان مزید رفاقت کی کوئی گنجائش رہ گئی تھی۔
Ayah 18:78یہاں تک حضرت موسیٰ اور ہم جو قرآن پڑھتے ہیں ، یہ حیران کن واقعات دیکھتے چلے آئے ہیں۔ یہ عجیب واقعات ہیں۔ ہم ان کے راز کو نہیں جانتے۔ لیکن ان کے بارے میں ہر قاری قرآن کی رائے دہی ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہے بلکہ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ شخص ہے کون جو اس قسم کے عجیب اقدامات کر رہا ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے ہمیں اس کا نام بھی نہیں بتایا۔ نام تو قرآن نے اس لئے نہیں بتایا کہ اس عجیب اور حیرت انگیز قصے ، کی فضا مزید حیران کن ہوجائے بلکہ نام کے اظہار کی یہاں اہمیت ہی نہیں ہے بلکہ اصل اہمیت کی ہے کہ اس کائنات میں ان واقعات کی پشت پر جو حکمت ہے وہ معلوم ہوجائے اور بظاہر جو تصرفات عجیب نظر آتے ہیں وہ معقول نظر آئیں اور ان کے دور رس اسباب معلوم ہوں۔ نامع معلوم ہو کہ نہ ہو ، بلکہ ان کی پراسرار شخصیت کے ساتھ موزوں یہی ہے کہ وہ نامعلوم رہیں۔ کیونکہ پوری سورت اور اس قصے میں غیبی قوتیں کام کر رہی ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس بندئہ خدا سے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنا سفر طے کر رہے ہیں لیکن پتھر کے پاس حضرت موسیٰ کے غلام کھانا بھول جاتے ہیں۔ بھول بھی اس لئے جاتے ہیں کہ واپس اس چٹان تک لوٹ آئیں۔ وہاں یہ شخص غائبانہ انداز میں موجود ہوجاتا ہے۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی غذا نہ بھولتے تو وہ ان سے نہ مل سکتے اور آگے ہی چلے جاتے۔ لیکن دست قدرت نے انہیں دوبارہ پتھر تک لوٹایا۔ غرض قصے کی تمام فضا پراسرار ہے اور ایک کردار کا نام تک معلوم نہیں ہے۔ لیکن اب ان پر اسرار واقعات کا راز کھلتا ہے۔
Ayah 18:79اور اس عیب کی وجہ سے یہ کشتی بیگار میں پکڑے جانے سے بچ گئی اور یہ عیب ایک چھوٹا نقصان تھا اور ایک بڑے نقصان سے بچنے کے لئے چھوٹا نقصان برداشت کیا جاسکتا ہے۔ اگر کشتی کو یہ تھوڑا سا نقصان نہ پہنچایا جاتا تو اس کو شدید نقصان اٹھانا پڑتا۔
Ayah 18:80یہ لڑنا بظاہر تو قتل کے مستحق نہ تھا۔ نہ واجب القتل تھا ، لیکن مستقبل میں وہ بہت ہی خطرناک بن رہا تھا۔ سخت کافر اور حد سے تجاوز کرنے والا ہو رہا تھا۔ اس کے نفس کے اندر ان برائیوں کے بیج موجود اور بعد میں ظاہر ہونے والے تھے۔ اگر یہ زندہ رہتا تو اپنے کفر اور سرکشی کی وجہ سے والدین کی نافرمانی کرتا اور یہ والدین اس کی محبت کی وجہ سے اس کی راہ پر چلتے۔ اس لئے اللہ نے اس بندئہ صالح کو حکم دیا کہ اس لڑکے کو قتل کر دے اور اللہ اس کے والدین کو اس کے بدلے نہایت ہی صالح اولاد دے دے گا جو والدین کے ساتھ زیادہ حسن سلوک کرنے والی ہوگی۔
اگر ان امور کو انسان کے ظاہری علم ہی پر چھوڑ دیا جاتا تو انسان اس لڑکے کے بارے میں ظاہری فیصلہ ہی کرتا اور اس لڑکے کو قانوناً کچھ بھی نہ کہا جاسکتا تھا۔ کیونکہ اس نے شریعت کے مطابق ایسا کوئی جرم نہ کیا تھا کہ اسے قتل کردیا جاتا۔ نیز اللہ کے سوا اگر کوئی غیب بھی جانتا ہو تو بھی کسی فرد کو کوئی اس طرح قتل نہیں کرسکتا۔ کوئی جج بھی اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کرسکتا۔ فیصلہ قانون کے مطابق ہی ہوگا۔ لیکن یہاں عبد صالح نے فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق کیا اور یہ حکم مستقبل کے اعمال کے ساتھ وابستہ علم الٰہی کی وجہ سے کیا گیا۔
Ayah 18:81یہ دیوار جسے از سر نو کھڑا کرنے میں اس شخص نے اپنے آپ کو تھکایا اور گائوں والوں سے اس پر کوئی اجر بھی طلب نہ کیا۔ جبکہ دونوں بھوکے بھی تھے اور گائوں والوں نے ان کی مہمان نوازی کرنے سے انکار بھی کردیا تھا۔ اس کے نیچے خزانہ تھا اور یہ خزانہ گائوں کے دو ضعیف یتیموں کی ملکیت تھا۔ اگر یہ دیوار گر جاتی ، خزانہ ظاہر ہوجاتا تو لوگ اسے اڑا لیتے اور یہ یتیم کوئی مدافعت نہ کرسکتے چونکہ ان کا باپ صالح تھا اس لئے باپ کی نیکی نے ان بچوں کو فائدہ دیا۔ ان کی ذاتی کمزوریوں پر بھی اللہ کو رحم آیا۔ اس لئے اللہ کے حکم سے یہ دیوار تعمیر ہوئی کہ وہ ذرا مضبوط ہوجائیں اور اپنا خزانہ نکالیں اور اسے بچا بھی سکیں۔
اس کے بعد یہ عبد صالح اس کارنامے سے اپنے ہاتھ جھاڑ دیتا ہے۔ یہ تو اللہ کی رحمت تھی جس نے یہ سب تصرفات کیے۔ اللہ کا حکم تھا ، اپنی مرضی سے اس نے کچھ نہ کیا۔ ان تمام امور میں اللہ نے عبدصالح کو غیب کی اطلاع کردی اور حکم دیا کہ یہ تصرفات کرو۔
رحمۃ من ربک وما فعلتہ عن امری (81 : 88) ” یہ تمہارے رب کی رحمت کی بنا پر کیا گیا۔ میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کردیا۔ “
اب ان تصرفات کا پس منظر سامنے آگیا اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اللہ کا غیبی نظام کیا ہے اور اللہ اپنے غیب اسی کو بتاتا ہے جس کے بارے میں اس کی رضا ہو۔
جب اس راز کا انکشاف ہوتا ہے تو دیکھنے والے حیران رہ جاتے ہیں اور عبدصالح منظر سے غائب ہوجاتا ہے۔ جس طرح وہ اچانک نمودار ہوا تھا۔ اس طرح اچانک پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ اس قصے میں اس عظیم حکمت اور تدبر کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔ جس کے مطباق اس کائنات کا نظام چلتا ہے اور یہ سب حکمت پس رپدہ غیب سے اپنا کام کرتی ہے۔
اب یہاں دیکھیے کہ قصہ موسیٰ اور قصہ اصحاب کہف میں بھی غائبانہ حکمت الہیہ ایک قدر مشرک ہے۔ یہ کائنات اللہ کے وسیع علم کے مطباق چل رہی ہے۔ انسان کے لئے اس پر حاوی ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ انسان پر دئہ غیب سے ادھر کھڑا ہے۔ پر دئہ غیب کے اسرار و رموز سے واقف اللہ ہی ہے۔
Ayahs 18:82–83درس نمبر 431 ایک نظر میں
یہ سورة کہف کا آخری سبق ہے۔ اس سبق کا بڑا حصہ ذوالقرنین کے قصے کے بارے میں ہے۔ اس میں ذوالقرنین کے تین سفروں کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ سفر مشرق ، سفر مغرب اور سفروسط نیز اس میں یاجوج اور ماجوج کے مقابلے میں ان کی جانب سے دیوار کھڑی کرنے کا خصوصی ذکر ہے۔
قرآن کریم نے اس قصے میں ذوالقرنین کا ایک قول نقل کیا ہے۔ تعمیر سد کے بعد وہ کہتا ہے۔
قال ھذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکاء وکان وعد ربی حقاً (81 : 89) ” ذوالقرنین نے کہا ، یہ میرے رب کی رحمت ہے ، مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ “ اس کے بعد نفخ صور اور قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر آتا ہے اور اس سبق اور اس سورة دونوں کا خاتمہ تین مختصر قطعات پر ہوتا ہے۔ جن پر بات ختم کی جاتی ہے اور ہر ایک مقطعہ کا آغاز لفظ قل کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان قطعات کے ذریعہ پوری سورة کے مضامین کا خلاصہ دیا جاتا ہے اور سورة کا عام فکری رجحان بتا دیا جاتا ہے۔ گویا یہ خلاصہ کلام قاری کے دل و دماغ کی تاروں پر آخری ضربات ہیں لیکن ذرا زیادہ قوت کے ساتھ ہیں۔
محمد ابن اسحاق نے اس سورة کے شان نزول کے سلسلے میں یہ روایت نقل کی ہے۔ ” مجھے ہمارے شہر کے ایک شیخ نے بتایا ، جس نے ہمارے ہاں چالیس سال سے اوپر قیام کیا۔ انہوں نے عکرمہ ، عن ابن عباس کی سند سے روایت کی ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ قریش نے نضر ابن حارث اور عقبہ ابن ابی معیط کو مدینہ میں یہود کے علماء کے پاس بھیجا ، قریش نے ان سے کہا کہ ان علماء سے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں دریافت کرو ، ان کا پورا تعارف کر ائو ، ان کی باتوں کے بارے میں ان کو پوری طرح آگاہ کرو ، یہ لوگ پہلے اہل کتاب ہیں ، ان کے پاس انبیاء کے بارے میں ہمارے مقابلے میں زیادہ علم ہے۔ یہ لوگ اس سفر پر نکلے یہاں تک کہ یہ مدینہ آئے ، انہوں نے یہودی علماء سے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں سوالات کئے۔ انہوں نے حضرت محمد کا پورا تعارف کرایا اور آپ کے بعض اقوال و نظریات ان کو بتائے ان دونوں نے یہ گزاشر کی کہ تم لوگ حاملین تورات ہو ، ہم تمہارے پاس اس لئے آئے ہیں کہ تم ہمیں ہمارے اس شخص کے بارے میں صحیح معلومات دو اور اپنی رائے بھی دو ۔ کہتے ہیں کہ ان علماء نے اس وفد کو مشورہ دیا کہ ہم تمہیں تین سوالات بتاتے ہیں ، تم یہ سوالات ان سے پوچھو۔ اگر اس نے ان تینوں کے جوابات تمہیں دے دیئے تو وہ بیشک نبی مرسل ہیں ، اللہ کے سچے نبی ہیں۔ اگر انہوں نے ان سوالات کے جوابات نہ دیئے تو پھر یہ شخص باتیں بتانے والا ہے۔ تم جانو اور وہ پہلا سوال یہ ہے کہ وہ نوجوان کون تھے جو پہلے زمانے میں دین کی خاطر گھر بار چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ان کا معاملہ کیا تھا ؟ کیونکہ ان کا قصہ بڑا عجیب ہے۔ ان سے دوسرا سوال یہ کرو کہ وہ مہم جو شخص کون تھا جس نے کرہ ارض کے مشرق و مغرب کا سفر کیا۔ اس کے متعلق واقعات و خبریں۔ تیسرا سوال یہ کہ ان سے پوچھیں کہ روح کیا ہے۔ اگر اس نے ان تین سوالات کے جوابات دے دیئے تو وہ سچا نبی ہے۔ تمہیں چاہئے کہ اس کی اطاعت کرو ، اور اگر اس نے ان سوالات کا جواب نہ دیا تو وہ اپنی طرف سے باتیں بنانے والا شخص ہے ، اس کے بارے میں تم جو چاہو کرو۔ نضر اور عقبہ واپس قریش کے پاس آئے۔ انہوں نے رپورٹ دی کہ ہم تمہارے اور محمد کے درمیان ایک فیصلہ کن بات لے کر آئے ہیں۔ ہمیں یہودی علماء نے یہ مشورہ دیا کہ اس سے کچھ باتیں پوچھو۔ انہوں نے قریش کو یہ سوالات بتائے۔ پھر یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور کہا ، محمد ہمیں ان سوالات کے بارے میں صحیح بتائو۔ انہوں نے وہ سوالات آپ کے سامنے رکھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں تمہارے سوالات کا جواب کل دوں گا لیکن آپ نے اس موقع پر لفظ انشاء اللہ نے کہا۔ یہ لوگ چلے گئے ، رسول اللہ ﷺ پندرہ شب و روز جبرئیل کا اتنظار کرتے رہے لیکن وحی نہ آئی نہ جبرئیل آئے۔ اہل مکہ مارے خوشی کے ناچنے لگے۔ وہ کہتے ہمارے ساتھ محمد کا وعدہ کل کا تھا لیکن آج پندرہواں دن ہے اور محمد ہمیں سوالات کا جواب نہیں دے سکا۔ اس پر حضور اکرم ﷺ کو بےحد رنج ہوا۔ کیونکہ ایک تو وحی بند ہوگئی ، دوسرے اہل مکہ بغلیں بجانے لگے۔ اس کے بعد حضرت جبرئیل سورة کہ لے کر نازل ہوئے۔ اس سورة میں آپ کو تنبیہ کی گئی کہ آپ ان لوگوں کے باتوں سے پریشان کیو ہوئے ؟ اس سورة میں نوجوانوں کا قصہ شرق و غرب تک پہنچنے والے شخص کا قصہ اور روح کے بارے میں جواب نازل ہوا۔
یہ تو تھی ایک رویات اور حضرت ابن عباس ؓ سے آیت روح کے نزول کے سلسلے میں ایک دوسری روایت بھی مروی ہے ……نے اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ یہ کہ یہودیوں نے حضور سے سوال کیا کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ جسم میں جو روح ہے اسے کس طرح سزا دی جاتی ہے جبکہ روح من جانب اللہ ہے ؟ اس بارے میں آپ پر کوئی آیت نازل نہ ہوئی تھی اس لئے آپ نے ان کو کوئی جواب نہ دیا۔ اس پر یہ آیت ازل ہوئی۔
قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً (81 : 58) ” کہہ دو ، روح اللہ کے امر میں سے ایک امر ہے اور تمہیں بہت ہی تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ ‘
چونکہ اسباب نزول میں روایات متعدد ہیں لہٰذا ہم اسی مفہوم پر اکتفا کرتے ہیں جو قرآن کی نص قطعی سے ثابت ہے۔ اس آیت میں صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین کے بارے میں اس وقت سوال کیا گیا تھا لیکن یقینی طور پر معلوم نہیں ہے کہ یہ سوال کس نے کیا تھا۔ نیز اگر معلوم بھی ہوجائے کہ یہ سوال کس نے کن حالات میں کیا تھا تو اس سے اس قصے کے اصل حقائق اور عبرت آموزی میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ تفسیر میں اسی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھیں جس حد تک نص سے بات معلوم ہوتی ہے۔ اس پر حاشیہ آرائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
ماہر فلکیات ابو ریحان البیرونی نے اپنی کتاب (الا ثارلباقیۃ عن القرون الخالیہ) میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں جس ذوالقرنین کا ذکر ہے وہ ملوک حمیر میں تھا انہوں نے محض اس کے نام ذوالقرنین سے یہ قیاس کیا ہے کیونکہ ملوک حمیر اپنے نام کے ساتھ (ذو) کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ مثلاً ذونواس ، اس کا نام دراصل ابوبکر بن افریقی تھا۔ یہ اپنی فوجیں لے کر بحر متوسط کے ساحل کے ساتھ ساتھ آخر تک گیا۔ تونس اور مراکش اس نے فتح کیا۔ اس نے شہر افریقہ بتایا ، بعد کے زمانوں میں پورے بر اعظم کا نام افریقہ پڑگیا اور ذوالقرنین اس کو سا لئے کہا گیا کہ یہ سورج کے دونوں سینگوں تک پہنچ گیا۔ (یعنی مشرق و مغرب تک) ۔
البیرونی کی یہ بات صحیح بیھ ہو سکتی ہے لیکن ہمارے پاس ایسے ذرائع نہیں ہیں کہ ہم بالجزم کوئی بات کہہ سکیں یا اس شخص کی حقیقت کے بارے میں چھان بین کرسکیں اس لئے کہ انسانی تاریخ میں اس شخص کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں ہے ، جس کی تاریخ کے ایک حصے کے بارے میں ہمیں قرآن کریم بتاتا ہے۔ اس قصے کی نوعیت بھی ایسی ہے جس طرح قصص القرآن کے دور سے حصو کی ہے۔ مثلاً قصہ قوم نوح ، قوم ہود ، قوم صالح وغیرہ۔ کیونکہ ان قصص کا تعلق جس دور سے ہے وہ ماقبل التاریخ دور ہے۔ تاریخ نو دور جدید کی ایک مولود چیز ہے جبکہ انسانوں کا زمانہ اس سے بہت پہلے کا ہے۔ زمانہ ” تاریخ مدون “ سے قبل ایسے واقعات گزرے ہیں جن کے بارے میں انسان کو کوئی علم نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی ایسا تاریخی ریکارڈ نہیں ہے ، جہاں سے ہم کوئی یقینی بات اخذ کرسکیں۔
اگر تورات تحریف اور اضافوں سے پاک ہوتی تو وہ ان قدیم واقعات کے بارے میں ایک قابل اعتماد ریکارڈ ہوتی۔ لیکن تورات ایسے قصے کہانیوں سے بھری پڑی ہے جن کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کا حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ نیز اس میں ایسی باتیں کثرت سے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصل وحی پر اضافہ ہیں۔ تو رات میں جو تاریخی قصے ہیں وہ تاریخ کا مستند ماخذ نہیں ہو سکتے۔ اب قرآن ہی وہ ماخذ رہ جاتا ہے جو حذف و اضافہ اور تحریف سے پاک ہے اور اس کے اندر جو بھی تاریخی مواد ہے وہ درست ہے۔
ایک نہایت ہی مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اب ہم قرآن کریم کی تاریخ کی روشنی میں نہیں پڑھ سکتے۔ اس کی دو واضح وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ تاریخ بالکل دور جدید کی لکھی ہوئی چیز ہے اور ہے بھی نامکمل۔ انساین تاریخ کے کئی واقعات بلکہ بیشمار اہم واقعات میں ریکارڈ ہونے سے بالکل رہ گئے ہیں۔ ان کے بارے میں انسانوں کو اب کوئی علم نہیں ہے۔ قرآن کریم ان واقعات میں سے بعض واقعات کو پیشک رتا ہے جن کے بارے میں تاریخ فہمی دامن ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ تاریخ نے اگرچہ بعض واقعات کو سمجھا اور قلم بند کیا ہے لیکن یہ کام بہرحال دوسرے انسانی اعمال کی طرح قصور اور غلطی سے مبرا نہیں ہے۔ اس میں غلطی اور تخریف کا ہر جگہ امکان موجود ہے ۔ ہم خود اپنے زمانے میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ ذرائع مواصلات ترقی کر گئے ہیں اور تحقیقات کے لئے بیشمار ذرائع میسر ہیں لیکن ایک ہی واقعہ کے بارے میں رپورٹروں کی رپورٹ مختلف ہوتی ہے۔ لوگ مختلف زاویوں سے اسیب یان کرتے ہیں اور متضاد تجزیہ کرتے ہیں۔ یہ ہے وہ خام مواد جس سے انسانوں کی تاریخ کو مرتب کیا گیا ہے۔ کوئی جس قدر چاہے تحقیق و تفتیش کا دعویٰ کیوں نہ کرے تاریخی ریکارڈ بہرحال مشکوک ہوتا ہے۔
یہ بات کرنا تو موجودہ دور کے مرتب کردہ اصول تاریخ کے بھی خلاف ہے کہ قرآن مجید جن واقعات کا ذکر کرتا ہے ان کو ہم تاریخ کی کسوٹی پر رکھیں ، جبکہ اسلامی عقیدہ اور اسلامی نظریہ حیات تو اس کی سرے سے اجازت ہی نہیں دیتا کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ قرآن مجید ایک قول فیصل ہے۔ اس اندازہ کی بات نہ تو وہ شخص کرسکتا ہے جو ایک سچا مومن ہے اور نہ وہ شخص کر سکات ہے جو دور جدید کے انداز تحقیق و تفتیش کو جانتا ہے۔ قرآن کریم کی صحت کو تاریخ سے معلوم کرنا محض بےعقلی ہے۔
پوچھنے والوں نے ذوالقرنین کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ سوالات پوچھے۔ آپ کی سیرت کے مصدقہ ذرائع اور مصادر بتاتے ہیں کہ آپ پر اللہ نے وحی بھیجی اور وہ قرآن میں قلم بند کردی گئی۔ قرآن کے سوا اس دور کی تاریخ کے بارے میں اور کوئی ریکارڈ موجود نہی ہے لہذا ہم بغیر علم کے اس کے بارے عقل گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔
تفاسیر میں بیشمار اقوال وارد ہیں لیکن ہماری تفسیروں کے بیشمار اقوال بھی قابل یقین نہیں ہیں۔ ہم ان تفاسیر کے اقوال میں سے جو قول بھی لیں ہمیں چاہئے کہ اس کی اچھی طرح جانچ پڑتال کریں کیونکہ ہماری قدیم تفاسیر میں اسرائیلیات اور قصے کہانیاں بھی راہ پا گئی ہیں۔
قرآن مجید کے سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے تین سفر کئے۔ ایک سفر مشرق ، ایک سفر مغرب اور تیسرا سفر (بین البدین) دو بندوں والی جگہ کا سفر۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن کریم کے مطابق انہی تین سفروں کو یہاں لیں۔
قرآن کریم ذوالقرنین کی بات یوں شروع کرتا ہے۔
Ayah 18:84اللہ تعالیٰ نے ذوالقرنین کو زمین میں اقتدار دیا تھا اور ایک مضبوط سلطنت دی تھی اور اسے ہر چیز کے وسائل و اسباب عطا کئے تھے۔ اس وجہ سے وہ علاقوں کے علاقے فتح کرتا چلا گیا۔ اس نے دنیا میں تعمیر اور ترقی کے کام شروع کردیئے۔ یہ شخص قوت اور ساز و سامان کے اعتبار سے اس وقت کے تمام وسائل پر دسترس رکھتا تھا۔ چناچہ اس نے اپنی قوت اور وسائل کو سب سے پہلے مغرب کی طرف متوجہ کیا۔
Ayah 18:85مغرب الشمس وہ جگہ ہے جہاں دیکھنے والے کو سورج غروب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ مختلف مقامات میں سورج کی جائے غروب مختلف ہوتی ہے ، بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج پہاڑ کے پیچھے غروب ہو رہا ہے ۔ بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج پانیوں میں غروب ہوتا ہے جس طرح بڑے بڑے سمندروں میں ہوتا ہے۔ بعض مقامات پر یوں نظر آتا ہے کہ سورج صحرائوں اور ریگستانوں میں غروب ہو رہا ہے ۔ مثلاً جہاں نظر کے سامنے صحرا اور ریگستان ہوں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین بحر اوقیانوس کے ساحل تک پہنچ گیا تھا۔ اسے بحر ظلمات بھی کہتے ہیں اور اس وقت یہ گمان کیا جاتا تھا کہ خشکی اس سمندر کے ساحل پر ختم ہوجاتی ہے اس لئے اس نے دیکھا کہ سورج کالے پانیوں میں ڈوبنے لگا ہے۔
راجح بات یہ ہے کہ یہ شخص جاتے جاتے ایک ایسے ساحل پر پہنچ گیا جہاں کوئی دریا آ کر سمندر میں گرتا تھا۔ ایسے مقامات پر گھاس اور کیچڑ اور سیاہ دلدل جمع ہوجاتی ہے۔ ایسے مقامات پر تالات بھی نظر آتے ہیں جو چشموں کے مانند ہوتے ہیں۔ یہاں سورج کی جائے غروب کے بارے میں قرآن مجید نے یہ الفاظ استعمال کئے ہیں وہ یہ ہیں : وجدھا تغرب فی عین حمئۃ (81 : 68) ” اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا۔ “ قرآن کی اس نشاندہی کے باوجود ہم اس جگہ کی نشاندہی نہیں کرسکتے کیونکہ قرآن میں کسی جگہ کی تخصیص نہیں کی ، ایسی جگہ یا جگہیں کئی ہو سکتی ہیں۔ قرآن کے علاوہ اور کوئی مرجع و ماخذ بھی ایسا نہیں ہے ، جس پر ہم اس مقام کے تعین کے سلسلے میں اعتماد کرسکتے ہوں۔ اس کے علاوہ کوئی شخص جو تفسیر بھی کرے گا اس میں غلطی کا امکان ہوگا کیونکہ وہ تفسیر کسی مسند ذریعہ علم کی طرف منسوب نہ ہوگی۔
بہرحال اس سیاہ چشمے یا سیاہ دلدل کے پاس ذوالقرنین کو ایک قوم ملی۔
Ayah 18:86قلنا یذا القرنین اما ان تعذب واما ان تخذفیھم حسناً (81 : 68) ” ہم نے ہا اے ذوالقرنین ، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ ان کے ساتھ نیک رویہ اختیار کرے۔ “ یہ بات اللہ نے ذوالقرنین کو کس انداز میں کہی یہ ان پر وحی تھی یا اس صورت حال کی حکایت تھی کیونکہ اللہ نے ذوالقرنین کو ان پر مسلط کردیا تھا۔ ان کے تمام معاملات اس کے اختیار میں دے دیئے تھے ، گویا لسان حال سے اس کو کہہ دیا کہ اب تم جانور اور وہ جانیں۔ تم حکمران ہو اور وہ رعایا۔ حکمران رعایا پر یا ظلم کرتا ہے یا احسان ، یہ دونوں انداز تعیر عربی میں درست ہیں اور یہاں دونوں ممکن ہیں۔ آیت کا یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے اور وہ بھی۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ ذوالقرنین نے اپنے ممالک مفتوحہ کے بارے میں اپنی پالیسی کا یہ اعلان کردیا تھا۔ چاہے لوگ خود اس کے تابع فرمان ہوئے ہوں یا اس نے فتح کیے ہوں ، بہرحال اس کا دستور یہ تھا۔
Ayah 18:87اس نے کہا ” جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے ، پھر وہ اپنے رب کی طرف بلایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا۔ اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا ، اس کے لئے اچھی جزا ہے اور ہم اس کو نرم احکام دیں گے۔ “
اس نے اعلان کیا کہ ظالموں کو وہ سخت سزا دے گا اور پھر ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا جائے گا اور اللہ ان کو مزید سخت عذاب دے گا۔ (نکرا) کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا سخت عذاب دے گا جس کی کوئی مثال نہ ہوگی۔ رہے صالح مسلمان تو ان کے لئے جزائے حسن ہے۔ ان کے ساتھ بہتر سلوک ہوگا ، ان کی تکریم ہوگی ، ان کی معاونت ہوگی اور ان کے لئے آسانیاں ہوں گی۔
یہ ہے ایک صالح حکومت کا منشور۔ اسلامی حکومت میں حکومتی پالیسی میں مومن صالح کی عزت اور حوصلہ افزائی ہونا چاہئے۔ اس کے لئے سہولتیں اور جزائے حسن کا اتنظار ہونا چاہئے ، ظالموں اور حد سے تجاوز کرنے والوں پر سختی ہونا چاہئے اور ان کی پکڑ دھکڑ اور سزا جاری رہنا چاہئے۔ جب کسی معاشرے میں صالح عنصر کی تکریم اور اس کے احسان کا بدلہ احسان سے ملے اور اس کی حوصلہ افزائی ہو اور عزت و منزلت ہو اور مجرمین اور ظالموں کی بےعزتی ، سزا اور ان کے اوپر سختی ہو تو عام لوگوں کا میلان اصلاح کی طرف ہوجاتا ہے۔ لیکن جب حکومت کا دستور یوں بدل جائے کہ ظالم ، چور اور ڈاکو دربار حکومت میں راہ پا لیں ، ان کی عزت ہو اور وہ حکام کے مقرب ہوں اور نیک اور صالح لوگوں کے خلاف حکومت کا اعلان جنگ ہو ، ان کی بیخ کنی کی جا رہی ہو تو تو سمجھئے کہ اب حکومت عذاب الٰہی بن کر عوام پر مسلط ہوگئی ہے اور یہ حکومت وسیلہ اصلحا نہیں ہے بلکہ ذریعہ فساد ہے۔ ایسے حالات میں بالعموم سوسائٹی میں فساد اور طوائف الملوکی پھیل جاتی ہے اور برائی نیکی پر غالب آجاتی ہے۔
اب ذوالقرنین کا سفر مشرق شروع ہوتا ہے ، جہاں تک وہ مشرق کی طرف بڑھ سکتا ہے اور اسباب جہاں تک اسے میسر ہیں۔
Ayahs 18:88–90مغرب الشمس کے بارے میں جو تفسیر کی گئی وہی مشرق کے بارے میں بھی درست ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ وہاں سے سورج طلوع ہو رہا ہے۔ قرآن حکیم نے اس مقام کا بھی تعین نہیں کیا ، لیکن قرآن نے اس کے کوائف اور وہاں کے لوگوں کے وہ حالات قلم بند کئے ہیں ، جن میں ذوالقرنین نے لوگوں کو وہاں پایا۔
حتی اذا بلغ مطلع الشمس وجدھا تطلع علی قوم لم نجعل لھم من دونھا ستراً (81 : 09) ” یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ “ یعنی یہ ایک کھلی سر زمین تھی ، سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ یہ صفت صحرائوں اور کھلے میدانوں پر صادق آتی ہے۔ اس میں بھی کسی خاص مقام کا تعین نہیں کیا گیا۔ ہمارے خیال میں مشرق بعید کی کوئی جگہ تھی ، جہاں دیکھنے والا یہ منظر دیکھ رہا تھا کہ سورج ایک ہموار اور کھلی زمین پر چمک رہا ہے۔ یہ مشرقی افریقہ کی کوئی جگہ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ آیت لم نجعل لھم من دونھا سترا (81 : 09) ” ہم نے اس کی دھوپ سے بچنے کے لئے ان کے لئے کوئی سامان نہ بنایا تھا۔ “ اس سے مراد ایک ایسی قوم ہو سکتی ہے جس کے جسم پر کوئی لباس نہ ہو اور وہ ننگے جسم والے تھے اور ان کے جسم پر سورج کی دھوپ سے بچنے کے لئے کوئی لباس نہ تھا۔
اس سے قبل ذوالقرنین اپنی حکومت کا دستور و منشور پیش کرچکا تھا ، اس لئے یہاں اس مشرقی قوم کے لئے اس نے دوبارہ اپنے دستور کا اعلان نہیں کیا کیونکہ اس کا پروگرام معلوم تھا۔ اللہ کو معلوم تھا کہ اس کی زنگدی کے مقاصد اور نصب العین کیا ہے۔
یہاں قرآن مجید کی ایک خاص فنی خصوصیت کا ملاحظہ ضروری ہے۔ اس لئے یہاں قدرے وقفہ کرتے ہوئے طرز ادا کے پہلو سے قرآن کریم کی فنی ہم آہنگی پر بات کریں گے۔ یہاں سفر شرقی میں جو منظر ہے وہ یہ ہے کہ ایک قوم چٹیل میدان میں رہتی ہے اور سورج کی گرمی سے سر چھپانے کے لئے اس کے پاس کوئی سامان نہیں ہے۔ اسی طرح ذوالقرنین کا دل بھی اللہ کے علم کے سامنے کھلا ہے۔ کوئی بات اللہ سے چھپائی نہیں جاسکتی۔ اللہ فرماتے ہیں ” ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اسے ہم جانتے تھے۔ “ یوں مضمون کا ظاہری اور باطنی انداز یکساں ہوجاتا ہے۔ یہ قرآن کا نہیات ہی خاص انداز ہے کہ وہ گفتگو کے ظاہری ماحول اور معنوی تصورات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
Ayahs 18:91–94اب ذوالقرنین نے تیسری مہم شروع کی۔ وہ دو پہاڑوں یا دو بندوں کے درمیان پہنچا۔ ہم اس مقام کا تعین بھی نہیں کرسکتے۔ نہ ہم ان دو بندوں کا تعین کرسکتے ہیں کہ یہ بند کہاں تھے۔ مفہوم یہی ہو سکتا ہے ” قدرتی پہاڑوں کی شکل میں بند یا رکاوٹیں تھیں ای دو مصنوعی رکاوٹیں تھیں اور ان کے دریمان ایک کھلی جگہ تھی جو گزر گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ یہاں کوئی نہایت ہی پہاڑی پسماندہ قوم آباد تھی۔ یہ لوگ ایسے تھے کہ لایکادون یفقھون قولاً (81 : 39) ” جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتے تھے۔ “
اس قوم نے جب دیکھا کہ ذوالقرنین ایک بڑا فاتح ہے اور قوت اور ٹیکنالوجی سے واقف ہے تو انہوں نے اس کے سامنے درخواست پیش کی کہ قوم یاجوج وماجوج سے بچانے کے لئے وہ ان کے لئے ایک سد تعمیر کر دے کیونکہ یاجوج و ماجوج اس راہ سے ان پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ان کے علاقے میں فسادپھیلاتے ہیں۔ وہ خود نہ یہ دیوار بنا سکتے ہیں اور نہ ان کے فساد کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ کام وہ ایک خصا ٹیکس کے بدلے کریں جو وہ اس کے لئے جمع کریں گے۔
ذوالقرنین ایک صالح حکمران تھے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے مقاصد کا اعلان اس سے قبل کردیا ہے کہ وہ زمین میں سے ظلم و فساد کو جڑ سے اکھاڑ کر ختم کردینا چاہتے ہیں۔ چناچہ اس نے ان کی جانب سے ٹیکس یا مالی معاوضے کی پیشکش کو مسترد کردیا اور یہ بند ان کو بلا معاوضہ بنا کردینا منظور کیا۔ انہوں نے یہ فیصلہ یکا کہ اس شر و فساد کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس گزر گاہ ہی کو ختم کردیا جائے اور دونوں طرف کی قدرتی رکاوٹوں کے درمیان ایک سد تعمیر کردیا جائے۔ ذوالقرنین نے اس پسماندہ قوم سے صرف افرادی قوت کا مطالبہ کیا اور کہا :
Ayahs 18:95–96” تم بس محنت سے میری مدد کرو ، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں۔ مجھے لوہے کی چادریں لاکر دو “ چناچہ انہوں نے لوہے کے ٹکڑے جمع کئے اور دونوں قدرتی رکاوٹوں کے درمیان دیوار بنا دی اور جب یہ دیوار ان پہاڑوں کے برابر ہوگئی تو انہوں نے حکم دیا کہ اس لوہے کو گرم کرنے کے لئے اسے ہوا دو ، یہ لوہا اس قدر گرم ہوگیا کہ آگ نظر آنے لگی۔ پھر انہوں نے کہا اچھا اس پر میں اب پگھلا ہوا تانبا ڈلاوں گا۔ یہ پگھلا ہوا تانبا لوہے سے مل جائے گا اور یہ ل ہے کی دیوار اور مضبوط ہوجائے گی۔
دور جدید میں اس طریقے کو لوہے کی قوت اور مضبوطی میں اضافہ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ۔ کیونکہ لوہے کے اندر ایک خاص مقدار سے تانبا ملا نے سے لوہے کی قوت اور مضبوطی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یہ ٹیکنالوجی اللہ نے سب سے پہلے ذوالقرنین کو سکھائی تھی۔ اور پھر اسے اپنی لازوال کتاب میں بھی قلم بند کردیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ تمہارے علم سے پہلے بھی اللہ نے ایسے بندوں کو بعض راز دیئے ، کس قدر پہلے ؟ یعنی زمانہ ماقل تاریخ میں۔
غرض یو یہ دو قدرتی رکاوٹیں آپس میں مل گئیں اور یاجوج و ماجوج کی راہ مسدود ہوگئی۔ اپنی لازوال کتاب میں بھی قلم بند کردیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ تمہارے علم سے پہلے بھی اللہ نے اپنے بندوں کو بعض راز دیئے ، کس قدر پہلے ؟ یعنی زمانہ ماقبل تاریخ میں۔
غرض یوں یہ دو قدرتی رکاوٹیں آپس میں مل گئیں اور یاجوج و ماجوج کی راہ مسدود ہوگئی۔
Ayah 18:97فما اسطاعوا ان یظھروہ (81 : 89) ” یہ اس پر غالب بھی نہ آسکتے تھے۔ “ اس کے اوپر بھی نہ چڑھ سکتے تھے اور وما استطاعوالہ نقباً (81 : 89) ” اور اس میں نقب لگانا بھی ان کے لئے مشکل تھا۔ “ اس لئے وہ اس بندے آگے بڑھ ہی نہ سکتے تھے چناچہ ان کے لئے اس ضعیف اور پسماندہ قوم پر حملہ آور ہونا ممکن ہی نہیں رہا اس لئے وہ امن میں ہوگئے اور اطمینان سے رہنے لگے۔
اب ذوالقرنین دیکھ رہا تھا کہ اس نے کس قدر عظیم مفید عوامی منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچا دیا ہے۔ تاہم اس پر اس نے کبرو غرور نہ کیا۔ علم اور ٹیکنالوجی کی قوت نے اسے مدہوش نہ کیا بلکہ اس نے اللہ کو یاد کیا اور وہ شکر بجالایا۔ اللہ نے اسے جس عمل صالح کی توفیق دی تھی اسے اس نے اللہ ہی کی طرف لوٹا دیا اور اپنی قوت سے دستبردار ہو کر اللہ کی قوت کے دائرے میں پناہ طلب کی۔ اپنے امور اللہ کے سپرد کردیئے اور اس نے اپنے اس عقیدے کا اظہار کیا کہ پہاڑ ، رکاوٹیں اور بند سب کے سب قیامت سے قبل ریزہ ریزہ کردیئے جائیں گے اور یہ زمین ایک چٹیل ہموار میدان کی شکل اختیار کرلے گی۔
Ayah 18:98قال ھذا رحمۃ من ربی فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکآء وکان وعد ربی حقاً (81 : 89) ” یہ میرے رب کی رحمت ہے مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اسے پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ “ یوں سیرت ذوالقرنین کا یہ حلقہ ختم ہوتا ہے۔ ذوالقرنین ایک اچھے حکمران کا نمونہ تھے جسے اللہ نے تمکین فی الارض عطا کی۔ ترقی اور قوت کے اسباب فراہم کئے۔ اس نے زمین کے شرق و غرب کو روند ڈالا۔ لیکن اس نے کبر و غرور کو اپنے قریب آنے نہ دیا ، نہ اس نے سرکشی اور نافرمانی کی۔ نہ اس نے اپنے مفتوحہ علاقوں کے اندر لوٹ مار مچائی۔ نہ افراد ، نہ علاقوں اور ملکوں کا استحصال کیا۔ اپنے مفتوجہ علاقوں کو غلام بھی نہ بنایا۔ نہ اس نے علاقوں کو اپنے مفادات کے لئے فتح کیا۔ بلکہ یہ حکمران جہاں جاتا ہے وہاں عدل و انصاف کا سایہ پھیلاتا ہے۔ پسماندہ لوگوں کی امداد کرتا ہے اور بغیر ٹیکس لئے لوگوں پر ظلم کرنے والوں کا ہاتھ روکتا ہے۔ سائنسی قوت اور ٹیکنالوجی جو اللہ نے اسے دی ، اسے وہ انسانیت کی اصلاح اور تعمیر کے لئے استعملا کرتا ہے۔ ظلم کو روک کر حق حقدار تک پہنچاتا ہے اور یہ سارے کام کر کے پھر وہ ان کا کریڈٹ اللہ کو دیتا ہے کہ یہ تو اللہ کی توفیق اور رحمت ہے۔ اپنی اس قوت ، جبروت اور جلال کے باوجود وہ اس حقیقت کو یاد رکھتا ہے کہ ایک دن سب قوتیں ، ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور لوگ اللہ کے ہاں حاضر ہوں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ یاجوج و ماجوج کون ہیں ؟ اور اب یہ لوگ کہاں ہیں ؟ ان کا واقعہ کیا تھا اور کیا ہوگا ؟ واقعہ یہ ہے کہ ان تمام سوالات کا علی وجہ الیقین جواب دینا بہت ہی دشوار ہے کیونکہ یاوجود و ماجوج کے بارے میں تاریخ خاموشی ہے اور صرف قرآن نے بھی ان کے بارے میں یہ مختصر واقعہ دیا ہے۔ بعض صحیح احادیث میں بھی ان کے بارے میں مختصر سی معلومات ہیں۔
اس موقعہ پر قرآن کریم ذوالقرنین کی زبانی یہ بات کہتا ہے :
اس موقعہ پر قرآن کریم ذوالقرنین کی زبانی یہ بات کہتا ہے :
فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکاء وکان وعد ربی حقاً (81 : 89) ” مگر جب میرے رب کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اسے پیوند خاک کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ “ یہ نص کسی مخصوص وقت کا تعین نہیں کرتی کہ اللہ کا وعدہ کب آئے گا۔ اللہ کے وعدے سے مراد یہاں وہ معیاد ہے کہ جب یہ بند ٹوٹ جائے گا۔ یہو سکتا ہے کہ اللہ کا وعدہ گزر چکا ہو اور وہ بند ٹوٹ چکا ہو ، جب تارتاریوں نے عالم اسلام پر بلا بولا تھا تو انہوں نیت مام مہذب ممالک میں پھیل کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ (1)
شورہ انبیاء کی ایک آیت میں ہے۔
حتی اذا فتحت ……الحق (89) (12 : 69-89) “ یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیئے ۔
(1) پندرہویں صدی میں یہ معلوم ہوا ہے کہ ترمذ شہر کیق ریب ایک ل ہے کے دروازے کی دریافت ہوئی ہے۔ ایک جرمن سیاح سیفلڈ برجر نے اسے دیکھا اور اپنی کتاب میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک ہسپانوی مورخ کلانیجو نے 3041 ھ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سمرقند سے انڈیا کی طرف جاتے ہوئے راستے میں لوہے کا ایک دروازہ واقع ہے ہو سکتا ہے کہ ذوالقرنین کا بنایا ہوا ہو۔
جائیں گے اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے اور وعدئہ برحق کے آنے کا وقت قریب آ لگے گا۔ “
اس آیت میں بھی خروج یا جوج و ماجوج کا زمانہ متعین نہیں ہے۔ وعدئہ برحق کے قریب آنے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت قریب آجائے گی۔ قیامت کا قریب آجانا واقعہ ہوچکا ہے ، جب سے رسول اللہ مبعثو ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ ہے : افتربت الساعۃ وانشق القمر ” قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ “ اب قریب کا مطلب اس زمانے کے لحاظ سے نہیں ہے جس کا شمار ہم کرتے ہیں ، اللہ کے حساب میں قرب اور دوری کا اور مفہوم ہے ہو سکتا ہے کہ قیامت کے قریب آنے اور وقوع قیامت کے درمیان بھی کئی ملین سال گزر جائیں یا صدیاں گزر جائیں جنہیں انسان اپنے حساب میں ایک طویل عرصہ سمجھتا ہے جبکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت ہی مختصر عرصہ ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ تفسیر بھی جائز ہ ہے کہ حضور کی رسالت کے زمانے کے بعد اور ہمارے اس دور سے قبل ہی یہ بند کھل گیا ہو اور مغلوں اور تارتاریوں کا خروج خروج یاجوج و ماجوج ہو۔
ایک صحیح حدیث جسے امام احمد نے سفیان عن عروہ کے واسطہ سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے انب بنت ابو سلمہ ، حبیبہ بنت امام حبیبہ بنت ابوسفیان سے۔ اس نے اپنی ماں حبیبہ سے۔ انہوں نے زینب بنت حجش ام المومنین سے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ خواب سے پیدا ہوئے تو آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے ” ہلاکت ہے عربوں کے لئے اس شر سے جو قریب ہوگئی ہے۔ آج یاجوج اور ماجو کے بند میں اس قدر شگاف پڑگیا ہے اور آپ نے اپنے انگوٹھے اور اشارہ کی انگلی کے درمیان فاصلہ کر کے بتایا کہ اس قدر شگاف پڑگیا ہے۔ میں نے دریافت کیا رسول خدا کیا ہمیں ہلاک کردیا جائے گا حلان کہ ہمارے درمیان صالح لوگ بھی موجود ہیں۔ آپ نے فرمایا ہاں جب برا عنصر زیادہ ہوجائے۔
اس پیشین گوئی کو چودہ سو سال ہوگئے ہیں۔ تارتاریوں کی تاخت و تاراج اس کے بعد واقعہ ہوئی۔ انہوں نے عربوں کی حکومت کو ، خلافت عباسیہ کے زمانے میں ، معتصم کی خلافت کے دور میں ، جو عباسی خلفاء میں سے آخری خلیفہ تھا ، ختم کردیا ۔ یہ حضور اکر مکہ خواب کی تعبیر ہو سکتی ہے۔ حقیقی علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ کوئی یقینی بات نہیں ہے بلکہ ہماری ترجیح ہے۔
اب ہم دوبارہ سیاق قرآن کی طرف آتے ہیں۔ ذوالقرنین کے تذکرہ کے بعد بطور تعقیب مناظر قیامت میں سے ایک منظر سامنے لایا جاتا ہے۔
Ayah 18:99یہ ایک ایسا منظر ہے جو مختلف انسانی گروہوں کی عکاسی کر رہا ہے ، جس میں مختلف گروپ نظر آ رہے ہیں جو مختلف رنگوں ، مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ سب لوگ ایک وسیع میدان میں اٹھائے گئے ہیں اور یہ لوگ بغیر کسی نظام اور ترتیب کے ایک دوسرے کے خلاف گتھم گتھا ہو رہے ہیں ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کیوں ادھر سے ادھر بھاگ رہا ہے۔ یہ لوگ دریا کی موجوں کی طرح ایک دور سے کے ساتھ ٹکراتے ہیں اور باہم مل جاتے ہیں بغیر کسی انتظام کے۔ پھر ایک صور پھونکا جائے گا۔
ونفخ فی الصور فجمعنھم جمعاً (81 : 99) ” پھر صور پھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔ “ اب وہ ایک صف میں منظر طریقے سے کھڑے ہیں۔
پھر وہ کافر جنہوں نے اللہ کی یاد سے منہ موڑا اور جو اس طرح نظر آ رہے تھے کہ شاید ان کی آنکھوں پر پردے ہیں اور شاید ان کے کانوں میں سننے کی قوت ہی نہیں ہے۔ ان پر جنم پیش ہوگی ۔ اب یہ لوگ جہنم سے اس طرح منہ نہ موڑ سکیں گے جس طرح یہ دنیا میں ہایت سے منہ موڑ رہے تھے۔ اب ان میں موڑنے کی طاقت نہ ہوگی۔ اب ان کی آنکھوں کے اوپر سے پردے ہٹ جائیں گے اب وہ سرکشی اور اعراض کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے یعنی جزاء پوری کی پوری جزائ۔
قرآن کریم نے یہاں اس منظر کو اس طرح پیش کیا ہے کہ ان کے اعراض کی تصویر کو اور ان کے لئے جہنم کی تپیش کو ایک دوسرے کے بالمقبال پیش کیا ہے دونوں چیزیں عملاً حرکت کرتے ہوئے منظر کی صورت میں پیش کی گئی ہیں اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کلام ہے اور اس تقابلی منظر کشی پر پھر تبصرہ ، نہایت ہی ختلخ اور حقارت آمیز تبصرہ یوں کیا جاتا ہے !
Ayahs 18:100–102کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔
کیا لوگوں نے میرے اپنے پیدا کردہ بندوں کو اپنا مددگار بنا رکھا ہے ؟ کیا یہ لوگ اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں گے ؟ اور اللہ کی حکومت کی گرفت سے انہیں بچائیں گے ؟ اگر انہوں نے ایسا کوئی گمان باندھ رکھا ہے تو انہیں چاہئے کہ اپنے اس گمان کے انجام سے دوچار ہونے کی تیاری بھی کرلیں۔
انا اعتدنا جھنم للکفرین نزلاً (81 : 201) ” ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لئے جھنم تیار کر رکھی ہے۔ “ اللہ بچائے ! کیا ہی خوفناک استقبال ہے۔ اس انجام سے دوچار ہونے کے لئے نہ ان کو کوئی جدوجہد کرنی پڑے گی اور نہ کوئی انتظار کرنا ہوگا۔ یہ سب کچھ ان کے لئے تیار ہے۔ صرف مہمانوں کے پہنچنے کی دیر ہے ؟
اب فکر و شعور کی تاروں پر آخری ضربیں لگائی جاتی ہیں۔ تمام خطوط کو یہاں جمع کر کے اب ان پر آخری تبصرے کئے جاتے ہیں۔
پہلا تبصرہ اسلامی قدروں اور حسن و قبح کے پیمانوں کے بارے میں ہے۔ وہ اقدار اور پیمانے جو گمراہوں اور خسارے سے دوچار ہونے والوں کے ہاں مقبول عام ہیں اور یقینی نتائج کے حالم ہیں۔ اعمال و اشخاص سے متعلق ان کے افکار کی روشنی میں۔
Ayahs 18:103–104اے نبی ﷺ لوگوں کو یہ بات سمجھائو کہ ناکام اور نامراد لوگ کون ہیں ؟ ایسے نامراد کہ ان سے بڑا نامراد اور خسارے میں پڑنے والا اور کوئی نہیں ہے۔ وہ لوگ جن کی سعی اور جدوجہد اس دنیا میں بھٹکی رہی ہے۔ ان کی یہ جدوجہد ان کو راہ راست پر نہ لا سکی اور اس پوری سعی کا کوئی ثمرہ اور نتیجہ برآمد نہ ہوا۔
وھم یحسبون انھم یحسبون صنعا (81 : 301) ” اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ “ وہ اس قدر غفلت میں پڑے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ ان کی یہ جدوجہد ضائع جا رہی ہے۔ اپنی جدوجہد میں غلط سمت پر بہت دور نکلے جا رہے ہیں اور اپنی پوری زنگدی کو اس میں کھپا کر ضائع کر رہے ہیں۔
ایسے لوگوں کے بارے میں یہ خوفناک سوال کر کے بتائو تمہیں ؟ اور جب سامعین کا شوق بڑھ جاتا ہے اور وہ بےتاب ہوجاتے ہیں کہ پردہ گرے اور وہ حقیقت کو دیکھیں تو انہیں بتا دیا جاتا ہے۔
Ayah 18:105اولئک الذین کفروا بایت ربھم ولقائہ فحبطت اعمالھم (81 : 501) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا ، اس لئے ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔ “
حبوط کا اصلی اور لغوی مفہوم ، جانور کا پیٹ پھولنا ہے ، جب وہ کوئی زہریلی گھاس کھالے۔ ضائع ہونے والے انسانی اعمال کی حقیقت بنانے کے لئے حبوط سے کوئی موزوں لفظ نہیں ہے۔ یہ جانور پھول جاتا ہے ، نادان مالک جانتا ہے کہ یہ جانور توانا اور مضبوط ہوگیا ہے اور اب وہ کامیاب اور نفع بخش ہوگا لیکن اس کے نتیجے میں اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے۔
اولئک الذین کفر وا بایت ربھم ولقائہ فحبطت اعمالھم فلا نقیم لھم یوم القیمۃ وزناً (81 : 501) ” یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا ، اس لئے ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے۔ قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ “ کیونکہ یہ بےکار اور مہمل ہوگئے تھے۔ نہ ان کی قیمت ہے اور نہ وزن اللہ کے صحیح پیمانوں کے مطابق ان کا وزن نہ ہوگا ، تو اب کیا ہوگا ان لوگوں کا ؟
Ayah 18:106لیکن منظر مکلم تب ہوتا ہے جب اس میں اہل ایمان کا انجام بھی سامنے لایا جائے۔ اس کے پیمانوں اور قاتدار کا انجام بھی بتا دیا جائے۔
Ayah 18:107ان لوگوں کی جنت الفردوس میں مہمانی مقابل ہے کفار کی مہمانی کے جو جہنم میں ہو رہی ہے۔ کتنا ہی بڑا فراق ہے دونوں میں ۔
یہاں نہایت ہی لطیف انداز میں انساین نفس اور اس کے احساسات اور مسرتوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔
Ayah 18:108لایبغون عنھا حولاً (81 : 801) ” کہ کبھی اس جگہ سے نکل جانے کو ان کا جی نہ چاہے گا۔ “
اس انسانی نفسیاتی اشارے میں جو گہرائی ہے ، اس پر ہمیں چاہئے کہ قدرے غور کریں۔
یہ لوگ جنت الفردوس میں ہمیشہ رہیں گے لیکن نفس انسانی ہمیشہ تغیر طلب ہے۔ کسی کام کا تسلسل اسے ملول کردیتا ہے۔ کسی ایک جگہ ہمیشہ رہتے رہتے اور کسی ایک ہی حالت میں ہوتے ہوئے وہ تنگ آجاتا ہے اور جب انسانی نعمتوں میں ڈوبا ہوتا ہے اور اسے یہ خطرہ نہیں رہتا کہ اس نعمت کا زوال بھی ہوگا تو اس کے دل میں کوئی حرص اور لالچ نہیں رہتی اور جب انسان ایک ہی ڈگر پر چلتا رہتا ہے تو وہ اکتا جاتا ہے بلکہ یہ اکتاہٹ دل کی تنگی میں بدل جاتی ہے اور انسان پھر چاہتا ہے کہ اس سے کسی طرح جان چھوٹ جائے۔ ذائقہ بدل جائے۔
یہ ایک حکمت ہے ، نہایت ہی گہری حکمت ، جس پر اللہ نے انسان کی جبلت تیار کی ہے اور یہ گہری فطرت وجبلت اللہ نے انسان کے اندر اس لئے پیدا کی ہے کہ یہ انسان کے فریضہ خلافت ارضی کی انجام دہی کے لئے لابدی تھی۔ اس سلسلے میں انسان کو جو کردار سپرد کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ہر وقت زندگی کے شب و روز کو بدلتا رہے اور بہتر سے بہتر بنا کر اسے ترقی دیتا رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس معیار پہ پنچ جائے جو تقدیر الٰہی میں مقدر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان فطرتاً تغیر پسند ہے۔ وہ نئے نئے انکشافات اور نئی نئی اطلاعات کا دلدادہ ہے۔ ہر حال سے دوسرے حال میں داخل ہونا چاہئے ہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا اس کا من پسند مشغلہ ہے۔ ایک منظر سے دوسرے منظر ایک نظام سے دوسرا نظام وغیرہ تاکہ انسان یہ سفر کرتے کرتے اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے زندگی کے اندر حقیقی تبدیلی لاتا رہے اور زمین کے اندر پوشیدہ رازوں تک آئے دن پہنچتا رہے۔ زمین کی مادی شکل اور نظام کی نئی نئی شکلیں وضع کرے۔ انکشافات ان ایجادات اور علم کی اس ترقی کے نتیجے میں زندگی بھی بدلتی رہے اور یوں آہستہ آہستہ یہ اس کمال تک پہنچ جائے جو اللہ نے اس کے لئے مقدر کیا ہوا ہے۔
اور پھر فطرت کا ایک دوسرا رنگ بھی ہے۔ ہم بعض اوقات قدیم سے بھی محبت کرتے ہیں۔ پرانی روایات کو بھی سینے سے لگاتے ہیں۔ بعض اوقات اپنی عادت کو بدلنا بھی نہیں چاہتے جبکہ ہماری یہ عادات بعض اوقات ہمیں جامد بھی بنا دیتی ہیں۔ شوق تغیر کے ساتھ ساتھ عادات و تقالید کا یہ جمود دراصل جوش تغیر کے اندر ایک توازن پیدا کردیتا ہے۔ جب بھی یہ توازن ختم ہوتا ہے تو جمود ڈیرے ڈال دیتا ہے۔ جب جمود حد سے بڑھتا ہے تو ردعمل میں انقلاب آتا ہے اور یہ انقلاب زنگدی کی گاڑی کو کبھی کبھار اس قدر تیز کردیتا ہے کہ توازن قائم نہیں رہتا۔ انسانی زندگی کا بہترین دور وہ ہوتا ہے کہ جب تغیر و ثبات اور ترقی اور جمود اور حرکت و قیام کی قوتوں کے درمیان توازن ہو۔
یاد رکھئے کہ جب کسی سوسائٹی پر جمود طاری ہوجاتا ہے تو زنگدی کی وہ قوتیں جو اسے آگے بڑھانے والی ہوتی ہیں وہ محدود ہو کر رہ جاتی ہیں اور سوسائٹی پر موت کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ اس کے افراد بھی مردہ تصور ہوتے ہیں۔
یہ ہے انسانی فطرت جس کو اس کے فریضہ خلافت ارضی کے لئے موزوں بنایا گیا ہے۔ رہی جنت تو وہ ترقی کا منتہائے کمال ہے۔ وہاں تغیر کی تو ضرورت نہ ہوگی ، بلکہ اس سے اونچا کوئی معیار ہی نہیں ہے۔ اس سے آگے کوئی منزل نہیں ہے۔ اگر وہاں بھی انسان کو زمین کی فطرت پر قائم رکھا گیا اور صورت یہ ہوگئی کہ جنت تو نعیم مقیم ہے ، اس کے ختم ہونے کا کوئی ڈر نہیں ہے۔ وہاں تغیر کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی واقعہ نہ ہوگی اور حالات جوں کے توں رہیں گے جبکہ انسان جنت میں بھی سیماب فطرت ہے تو پھر یہ جنت اس کے لئے جہنم بن جائے گی۔ تھوڑے ہی عرصہ کے بعد یہ انسان اکتا جائے گا بلکہ جنت کو قید خانہ سمجھے گا اور یہ انسان کوشش کرے گا کہ اسے اس جنت کو چھوڑنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ وہ ایک تھوڑے عرصے کے لئے باہر جانا چاہتا ہے اگرچہ باہر جہنم ہی کیوں نہ ہوتا کہ وہ اپنے جذبہ تغیر اور تبدیلی کو تسکین دے سکے۔ لیکن جس انسان کو اللہ نے اس جہان میں پیدا کر کے بھیجا ہے وہ اس کے بارے میں خوب جانتا ہے۔ وہ وہاں انسان کے ان دنیاوی جذبات کو بدل دے گا۔ انسان وہاں تغیر اور تبدیلی کی چاہت ہی نہ رکھے گا۔ یہ اس لئے کہ وہاں انسانی فطرت حالات خلود کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے گی کیونکہ اس نے وہاں ہمیشہ رہنا ہے۔
اب ذرا انسانی شعور و آگاہی کی تاروں پر ایک دوسری ضرب لگائی جاتی ہے۔ اس سے انسانی شعور کو یہ آگاہی دینا مقصود ہے کہ انسانی علم محدود ہے۔ اس کی فہم و ادراک کی قوت اور دائرہ محدود ہے۔ لیکن اس معنوی مفہوم کو قرآن کریم نہایت ہی محسوس اور عام فہم انداز میں پیش کرتا ہے۔