17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 17:1

سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ Open ayah 17:1 in the Quran reader

پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجت تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے تاکہ اسے کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔ حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا

سورت کا آغاز تسبیح سے ہوتا ہے ، چونکہ مقام ایسا ہے جہاں بندے اور رب کی ملاقات ہور ہی ہے ، اس لئے ایسی فضا اور ایسے حالات میں تسبیح و تحلیل ایک مناسب فعل ہے اور حضرت محمد ﷺ کی صفت عبدیت کو یہاں خصوصیات کے ساتھ اس لئے بیان کیا گیا کہ اس قدر عروج اور بلندی درجات حضور اکرم ﷺ اللہ کے بندے ہی ہیں۔ دوسرے غلط مذاہب کی طرح مقام عبودیت اور مقام الوہیت کو ایک کرنے کے بجائے اس کو ممتاز رکھنا چاہیے۔ ان دونوں کا امتزاج ممکن نہیں۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آپ کی ذات میں الوہیت کو جمع کیا گیا۔ یہ محض اس لئے کیا گیا کہ آپ کی ولادت معجزانہ تھی ، آپ سے معجزات کا صدور ہوا اور پھر آپ کو اس دنیا سے معجزانہ طور پر اٹھایا گیا۔ ان وجوہات کی بنا پر بعض لوگوں نے ذات غیبی میں مقام الوہیت و عبودیت کا امتزاج کردیا۔ لیکن اسلامی عقیدے کو اس معاملے میں سادہ ، صاف اور خالص رکھا گیا اور اسلام نے ذات باری کے ساتھ ہر قسم کی شرک کی نفی کی خواہ قریب ہو یا بعید۔ اسراء سری سے مشتق ہے ، جس کے معنی رات کے وقت چلنے کے ہیں۔ اس سے اسریٰ ے مفہوم ہی میں رات کا وقت داخل ہے۔ لہٰذا اسری کے بعد رات کی صراحت ضروری نہیں ہے لیکن سیاق کلام میں رات کی صراحت بھی کردی گئی ہے۔ سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا (71 : 1) ” پاک ہے وہ جو لے گیا اپنے بندے کو رات کو “۔ یہ اس لئے کہ اس سفر کی تصویر کشی کرتے ہوئے یہ دکھایا جائے کہ اس سفر پر ات کے سائے تھے ، نہایت ہی پرسکون ماحول تھا۔ اور یہ قرآن کریم کا خصوصی اسلوب ہے کہ وہ ہر واقعہ کے ماحول کو بھی نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ پیش کرتا ہے ، جن حالات میں واقعہ ہوتا ہے۔ ویسی ہی فضا انسان کی قوت مدرکہ اور اس کے نفس پر سایہ فگن ہوجاتی ہے اور وہ واقعہ کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہ سفر مبارکہ مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اللہ نے کرایا اور اللہ لطیف وخبیر ہے۔ اس سفر کی غرض وغایت یہ بتانا تھی کہ تمام توحیدی اور ادیان سماوی کا سرچشمہ اور تاریخ ایک ہے ، یہ ادیان ابراہیم اور اسماعیل (علیہم السلام) سے چلے ہیں اور ان کا خاتمہ حضرت محمد خاتم النبین پر ہوا ہے۔ ان ادیان کے مقامات مقدسہ بھی یکساں طور پر قابل احترام ہیں۔ لہٰذا خاتم النبین ، تمام انبیاء اور ان کے مقامت مقدسہ کے وارث اور امین ہیں۔ گویا یہ سفر زمان و مکان کے حدود کے اندر مقید نہیں ہے ، یہ کوئی مخصوص واقعہ نہیں ہے بلکہ ایک آفاتی سفر ہے اور بادی النظر میں اس سے جو مقصد و مفہوم نکلتا ہے اس سے کہیں آگے اس کی غرض وغایت زیادہ وسیع ہے اور اس کے اندر گہری حکمت ہے۔ یہاں مسجد اقصیٰ کی تعریف میں یہ کہا گیا ہے۔ الذی برکنا حولہ (71 : 1) ” جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مسجد پر ہر وقت برکات الہیہ کا فیضان ہوتا رہتا ہے اور وہ اس میں ڈوبی ہوتی ہے۔ اگر یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے اسے بابرکت بنایا ہے یا یہ کہا جاتا کہ اس میں برکات ہیں تو مفہوم میں اس قدر وسعت نہ ہوتی جس طرح ان الفاظ میں ہے کہ ہم نے اس کے ماحول کو بابرکت بنایا ہے۔ یہ سفر بذات خود بھی ایک معجزہ تھا ، لیکن اس کے اندر آپ کو مزید معجزات اور آیات کی سیر بھی کرالی گئی۔ لنریہ من ایتنا (71 : 1) ” تاکہ ہم اسے کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائیں “۔ سب سے پہلے تو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر ہی ایک معجزہ ہے ، کہ اس قدر قلیل وقت میں یہ سفر اختتام کو پہنچا کہ حضور ﷺ کا بستر بھی ٹھنڈا نہ ہوا تھا ، چاہے اس سفر کی کیفیت جو بھی ہو ، بہرحال یہ ایک معجزہ تھا ، مقصد یہ تھا کہ حضور ﷺ کو وسیع تر کائنات کی سیر کرائی جائے اور یہ بتایا جائے کہ اس انسانی مخلوق کی ذلت میں بڑے بڑے کمالات پوشیدہ ہیں ، نیز اس کا مقصد یہ بھی تھا کہ حضرت خاتم النین کو ان حقائق کے ادراک کے لئے تیار کیا جائے جو انبیاء کی ذات پر البقاء ہوتے ہیں ، اور جن کے اخذ کی استعداد صرف ان مخصوص بندوں کو دی جاتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ رسالت کا اعزاز بخشنے کے لئے منتخب کیا ہے اور یہ انبیاء اسی نوع بشر سے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے خلق کثیر پر فضیلت دی ہوتی ہے اور جس کے اندر اللہ نہایت ہی لطیف اسرار رکھے ہوتے ہیں۔ انہ ھو السمیع البصیر (71 : 1) ” وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے “۔ وہ ہر لطیف اور باریک چیز کو نگاہ میں رکھتا ہے۔ ایسی آواز بھی سنتا ہے جو بہت ہی دھیمی ، ہو یعنی وہ تمام لطائف اور تمام اسرار سے واقف ہے۔ سیاق کلام میں آغاز اللہ کی تسبیح سے ہوتا ہے۔ سبحن الذی اسری بعبدہ نیلا (71 : 1) اور تسبیح اللہ کی تعریف ہے۔ اس کے بعد مقصد سفر بتایا جاتا ہے جو اثباتی اور قطعی پہلو رکھتا ہے۔ لنریہ من ایتنا (71 : 1) اور اس کے بعد پھر اللہ کی تعریف کی طرف بات منتقل ہوجاتی ہے۔ یہ سب مطالب و مفہومات اپنے اندر ایک گہرا توازن رکھتے ہیں۔ تسبیح تو صفت باری تعالیٰ ہے جو انسان کی طرف سے اللہ کے لئے ہے۔ مقصد اللہ کی طرف سے ایک فیصلہ ہے اور سمیع وبصیر اللہ ہی کی صفت وائمہ قائمہ ہے جو خبر کے انداز میں بیان ہوئی ہے۔ غرض ایک ہی آیت میں یہ سب معانی بڑی خوبصورتی کے ساتھ جمع ہوگئے ہیں اور جو اپنا مفہوم نہایت ہی باریکی سے ادا کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کو رات کا یہ سفر کرانا ایک معجزہ ہے۔ جس طرح دوسرے معجزات اللہ تعالیٰ صادر فرماتا رہا ہے۔ معجزہ یوں ہے کہ انسان سفر کے سلسلے میں جس انداز کا عادی ہے اس سے ذرا ہٹ کر ہے۔ مسجد اقصیٰ اس سفر میں ایک مرحلہ رہا ہے۔ مسجد اقصیٰ اس علاقے کا قلب ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بسایا اور پھر وہاں سے ان کو نکالا۔ درج ذیل آیات کے ضمن میں بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ کے واقعات آئیں گے۔
Ayahs 17:2–3

وَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ Open ayah 17:2 in the Quran reader

ہم نے اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی اور اسے بنی اسرائیل کے لئے ذریعہ ہدایت بنایا تھا اس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔

ذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا Open ayah 17:3 in the Quran reader

تم ان لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی پر سوار کیا ، اور نوح (علیہ السلام) ایک شکر گزار بندہ تھا۔

تشریح : بنی اسرائیل کی سیرت اور تاریخ کا یہ حصہ قرآن کریم کی صرف اسی سورت میں بیان ہوا ہے اس میں بنی اسرائیل کے اس انجام کا ذکر ہے جس پر وہ پہنچے اور جس کے نتیجے میں ان کی عزت و شوکت ، زوال و نکبت سے بدل گئی۔ اس تاریخی تبصرہ کے ذریعے انسانوں کو یہ سمجھایا گیا کہ اقوام کے عروج وزوال میں اصلاح و فساد کا کتنا گہرا دخل ہوا کرتا ہے۔ بعد کی آیات میں ، اسی سورت میں قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ سنت الہیہ ہے اللہ جس قوم کو ہلاک کرنا چاہتے ہے وہ اس قوم کے مترفین کے اندر فساد پیدا کرتا ہے ، وہ بگاڑ میں ڈوب جاتے ہیں اور ہلاک کردئیے جاتے اور اس طرح نیست و نابود ہوجاتے ہیں۔ یہاں ان کو بتایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور بنی اسرائیل کو تورات دی گئی۔ اس میں ان کے لئے ہدایات تھیں ، پھر ان کے جد امجد حضرت نوح (علیہ السلام) جو عبد ، شکور اور صالح تھے اور وہ آباء و اجداد جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔ یہ سب لوگ صالح اور مومن تھے کیونکہ انہوں نے اپنے ساتھ کشتی میں صالحین مومنین کو بٹھایا تھا۔ واتینا موسیٰ الکتب وجعلنہ ھدی لبنی اسرائیل الا تنخذوا من دونی وکیلا (2) ذریۃ من حملنا مع نوح انہ کان عبد الشکورا (3) (71 : 2۔ 3) ” ہم نے اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تھی اور اسے بنی اسرائیل کے لئے ذریعہ ہدایت بنایا تھا۔ اس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار کیا تھا اور نوح (علیہ السلام) ایک شکر گزار بندہ تھا “۔ بنی اسرائیل کو کتاب کے ذریعہ یاد دہانی اور ڈراوا اس لئے دیا گیا کہ اللہ کا یہ اصول ہے کہ وہ کسی قوم کو اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا یا عذاب نہیں دیتا جب تک ان پر رسولوں کے ذریعہ حجت تمام نہ ہوجائے۔ جس کا تذکرہ بھی بصر احت جلد ہی آئے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ بنی اسرائیل کو کتاب دینے کا پہلا مقصد یہ بتایا گیا۔ ھدی لبنی اسرائیل الا تتخذوا من دونی وکیلا (71 : 2) ” اسے بنی اسرائیل کے لئے ذریعہ ہدایت بنایا اور یہ تاکید کہ میرے سوا کسی کو وکیل نہ بنانا “۔ یعنی صرف اللہ پر بھروسہ کرو ، صرف اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوجائو ، یہی ہدایت ہے اور یہی اصل ایمان ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ کے سوا کسی اور کو وکیل بناتا ہے وہ نہ ہدایت پر ہے اور نہ مومن ہے۔ ان کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ تم ان لوگوں کی اولاد ہو جن کو ہم نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ کشتی میں سوار تھا اور اس جہاں کے عہد اول میں یہی لوگ خلاصہ انسانیت تھے۔ کیونکہ وہ حضرت نوح کے یعنی ایک عہد شکور کے ساتھی اور رفقاء تھے اور صالح لوگ تھے ، اس طرح اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایک مومن کا حقیقی شجرہ ٔ نسب اس کا ایمانی شجرہ نسب ہوتا ہے۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کی صفت عبودیت کا ذکر ہوا ہے کیونکہ یہی انسانیت کی اصل غایب ہے ، لیکن اس کے علاوہ یہ حکمت بھی ہے کہ یہاں چونکہ حضر محمد ﷺ کی صفت عبدہ کا ذکر ہوگیا تھا اس لئے رسولوں میں سے ایک دوسرے ممتاز رسول ، حضرت نوع (علیہ السلام) کی صفت عبودیت کا بھی تذکرہ کردیا گیا اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ ہر صورت میں ایک مخصوص انداز بیان اپناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو کتاب دی تھی اس میں بنی اسرائیل کو صاف صاف بتایا تھا کہ تمہارے فساد کی وجہ سے تمہیں ہلاک کردیا جائے گا۔ تم دو مرتبہ فساد اور بگاڑ میں مبتلا ہوگئے اور دو مرتبہ تمہیں بلاک کیا جائے گا۔ کیونکہ ہلاکت و بربادی کے اسباب تم دو مرتبہ فراہم کرو گے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت اٹل ہوتی ہے۔ جو قوم بھی فساد و بگاڑ میں مبتلا ہو وہ ہلاک کردی جاتی ہے۔
Ayah 17:4

وَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:4 in the Quran reader

پھر ہم نے اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر بھی متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھائو گے۔

وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتب لتفسدون فی الارض مرتین ولتعلن علوا کبیرا (71 : 4) ” پھر ہم اپنی کتاب میں بنی اسرائیل کو اس بات پر بھی متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھائو گے “۔ یہ تنبیہ ان کو دراصل اس بات کی پیشگی اطلاع تھی کہ تمہارے ساتھ یہ یہ ہونے والا ہے۔ کیونکہ اللہ ان کے ہونے والے انجام سے پیشگی باخبر تھا۔ یہ اطلاع محض پیشگی علم کی وجہ سے تھی۔ اس میں ان کے لئے جبر کا کوئی پہلو نہ تھا۔ یا یہ کہ ان کے اندر جو فساد بعد میں پیدا ہوا ، وہ محض اس پیشگی اطلاع کی وجہ سے پیدا ہوا ، کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ کسی کو فساد پر مجبور کرے۔ قل ان اللہ لا یا مر بالفحشاء ” کہہ دو ، اللہ فحاشی پھیلانے کا حکم نہیں دیتا “۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ وہ کیا کرنے والے تھے۔ اللہ کے علم میں جو بات ہوتی ہے ، اگرچہ بشر کو اس کا علم نہیں ہوتا اور پردہ تب اٹھتا ہے جو بشر اس کام کو کر بیٹھتا ہے۔ اللہ کا فیصلہ یہ تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب میں بتا بھی دیا تھا کہ بنی اسرائیل اپنی تاریخ میں دو مرتبہ فساد برپا کریں گے۔ اور اس طرح وہ زمین میں سرکشی اختیار کرلیں گے۔ بیت المقدس پر ان کا غلبہ ہوگا۔ لیکن اپنے اس غلبے کو دوہ ذریعہ فساد بتائیں گے۔ جن لوگوں پر ان کو برتری حاصل ہوگی ان کی جان اور آبرو کے نزدیک مباح ہوجائے گی اور یہ لوگوں کو تباہ کردیں گے۔
Ayah 17:5

فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا Open ayah 17:5 in the Quran reader

آخر کار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقعہ پیش آیا ، تو اے بنی اسرائیل ، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔

فاذا جاء وعدا اولھما بعثنا علیکم عبادالنا اولی باس شدید فحاسوا خلل الدیار وکان وعدا مفعولا (71 : 5) ” آخر کار جب ان میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا ، تو اے بنی اسرائیل ، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اتھائے جو نہایت زور آور تجھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا “۔ یہ ان کی پہلی سرکشی تھی۔ ان لوگوں نے بیت المقدس میں پڑتی ترقی اور سر بلندی حاصل کی۔ ان کے پاس حکومت اور قوت جمع ہوگئی ، جس پر انہوں نے فساد شروع کردیا۔ اللہ انے ان پر ایک دوسری زور آور اور صاحب قوت قوم کو مسلط کردیا۔ ان لوگوں کی گرفت مضبوط تھی۔ انہوں نے تمام علاقوں کو اپنے لئے حلال قرار دے دیا اور صبح و شامل حملہ آور ہوتے رہے اور جو کچھ ان کے سامنے آتا اسے تاخت و تاراج کرتے رہے ۔ اور وہ کسی کام کے کر گزرنے میں کوئی باک اور ڈر محسوس ہی نہ کرتے تھے۔ وکان وعدا مفعولا (71 : 5) ” یہ اللہ کا ایسا وعدہ تھا جس نے پورا ہو کر ہی رہنا تھا “۔ کیونکہ اللہ کے وعدے اور فیصلے میں نہ تخلف ممکن ہے اور نہ اللہ کا کوئی فیصلہ جھوٹا ہوسکتا ہے۔ جب بنی اسرائیل نے مغلوبیت ، ذلت اور غلامی کا مزہ چکھا ، تو انہوں نے اللہ کی طرف رجوع کیا اور انہوں نے اپنے حالات کو درست کیا ، تو ان پر جو عذاب مسلط کیا گیا تھا اس سے انکی گلوخلاصی ہوئی ، کیونکہ فاتحوں کے اندر بھی اسی طرح کا فساد پیدا ہوگیا۔ ان کو بھی اپنی قوت پر گھمنڈ ہوگیا ، انہوں نے بھی زمین میں فساد پیدا کردیا تو اللہ نے اپنی سنت کے مطابق ان مغلوبین کو منظم کرکے ان حملہ آوروں پر غالب کردیا اور اب بنی اسرائیل کے مستضعفین دوبارہ غالب آگئے۔
Ayah 17:6

ثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا Open ayah 17:6 in the Quran reader

اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقعہ دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔

ثم رددنا لکم الکرۃ علیھم وامددنکم باومال وبنین وجعلنکم اکثر نفیرا (71 : 6) ” اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبہ کا موقعہ دلایا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدددی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی “۔ اس کے بعد یہی عمل از سر نو دہرایا جاتا ہے۔ لیکن قبل اس کے کہ اس پیشن گوئی کا دوسرا حصہ روبعمل آئے اور جو وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہو ، اللہ تعالیٰ یہاں ایک نہایت ہی اہم اساسی قانون مکافات عمل بیان کردیتا ہے۔
Ayah 17:7

اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا Open ayah 17:7 in the Quran reader

دیکھو ! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی ، اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے برائی ثابت ہوئی۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المقدس) میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کرکے رکھ دیں۔

ان احسسنتم احسنتھم لانفسکم وان اساتھم فلھا (71 : 7) ” دیکھو تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے یہ لئے بھلائی تھی اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لئے ہی برائی ثابت ہوئی “۔ مکافات عمل کا یہ تو وہ اساسی قاعدہ ہے جو دنیا و آخرت میں یکساں لاگو ہے۔ یہ کہ انسان اپنے اعمال کا خود حقدار و ذمہ دار ہے۔ اس کے تمام پھل اور نتائج اس کے لئے ہیں۔ عمل اور جزائے عمل لازم و ملزوم ہیں۔ نتیجہ عمل سے پیدا ہوتا ہے ، اس لئے انسان ایک مسئول اور ذمہ دار ہستی ہے ، اگر چاہے تو اپنے ساتھ اچھا کرے یا برا کرے ، اگر اسے اچھے عمل یا برے عمل کا ثمرہ ملے تو اسے گلہ نہیں کرنا چاہیے۔ مکافات عمل کا یہ قاعدہ بیان کرنے کے بعد اب دوبارہ روئے سخن اس پیشن گوئی کہ طرف مڑ جاتا ہے جس کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا۔ فاذا جاء وعد الاخرۃ لیسوئوا وجوھکم ولیدخلوا المسجد کما دخلوہ اول مرۃ ولیتبر واماعلوا تتبیرا (71 : 7) ” پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اسے تباہ کرکے رکھ دیں “۔ یہاں سیاق کلام میں بنی اسرائیل کے دوسرے فساد کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ کیونکہ پہلے یہ کہ دیا گیا تھا کہ لتفسدن فی الارض مرتین ” تم دو بار زمین میں فساد برپا کرو گے “۔ اور دوسری بار ان پر جیسے لوگوں کو مسلط کیا گیا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے دوسری بار بھی بگاڑ کی راہ اختیار کی تھی۔ فاذا جاء وعد الاخرۃ لیسوئوا (71 : 7) ” پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں “۔ یعنی انہوں نے ان سے اس قدر انتقام لیا کہ ان کی شخصیت اس کے اثرات سے بدل گئی۔ یہاں تک کہ یہ ذلت و نکبت ان کے چہروں پر ظاہر ہوگئی۔ انہوں نے تمام مقدسات کی بےحرمتی کی اور ہر چیز کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ ولید خلوا السجد کما دخلوہ اول مرۃ (71 : 7) ” وہ بھی اسی طرح مسجد میں داخل ہوئے جس طرح پہلے دشمن داخل ہوئے تھے “۔ جس جس چیز پر ان کا غلبہ ہوتا تھا ، اسے تاخت و تاراج کرتے اور ہر چیز کو تباہ کرتے جاتے۔ ولیتبروا ما علوا تتبرا (71 : 7) ” تاکہ جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے تباہ کردیں “۔ یعنی انہوں نے بیت المقدس کو پوری طرح تباہ کردیا اور ان لوگوں کو ملک بدر کرکے علاقے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ چناچہ یہ پیشن گوئی سچی ثابت ہوئی۔ اللہ کا وعدہ پورا ہوا اور بنی اسرائیل پر ایسے ہی لوگ مسلط ہوگئے۔ پھر دوبارہ ان پر دشمن مسلط کیے گئے اور انہوں نے ان کو ملک بدر کرکے ملک کو تباہ کیا۔ قرآن کریم نے اس بات کی تصریح نہیں کی کہ یہ لوگ کون تھے کیونکہ بنی اسرائیل کی دوبارہ کی تباہی کے بیان سے جو مقصد تھا وہ اسی قدر بیان سے پورا ہوگیا۔ اگر بتا دیا جاتا کہ فلاں فلاں اقوام کو ان پر مسلط کیا گیا تو اس سے کسی مفہوم میں اضافہ نہیں ہوجاتا۔ یہاں مقصد اس سنت الٰہی کا بیان تھا جس کا تعلق اقوام کے عروج وزوال سے ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ ایسی تباہیاں کیوں لاتا ہے ؟ تو بتایا جاتا ہے کہ بعض اوقات کسی قوم کی تباہی ہی اس کے لئے باعث رحمت ہوتی ہے۔
Ayah 17:8

عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا Open ayah 17:8 in the Quran reader

ہو سکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے ، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے ، اور کافر نعمت لوگوں کے لئے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا رکھا ہے

عسبی ربکم ان یرحمکم (71 : 8) ” ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر حم کرے “۔ اگر تم اپنی تاریخ سے عبرت حاصل کرو۔ لیکن یاد رکھو اگر تم نے سرکشی کا یہ عمل پھر دہرایا تو اس کے نتائج پھر ظاہر ہوں گے۔ اللہ کی سنت جاری وساری ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ وان عدتم عدنا (71 : 8) ” لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے “۔ ہاں انہوں نے پھر فساد کیا ، اللہ نے ان پر مسلمانوں کو مسلط کردیا اور ان کو جزیرۃ العرب سے خارج ۔۔ کردیا۔ اس کے بعد انہوں نے پوری دنیا میں فساد کیا تو اللہ نے ان پر اپنے اور بندوں کو مسلط کردیا اور ہٹلر نے ان کی گوشمالی کی۔ اور دور حاضر ہوں انہوں نے پھر فساد اور سرکشی شروع کردی ہے۔ اسرائیل کی شکل میں منطم ہو کر انہوں نے پورے شرق اوسط کو مصائب میں مبتلا کردیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ان پر اللہ کسی ایسی قوم کو مسلط کردے جو ان کو ان کی سرکشی کی پوری سزا دے تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ پورا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ قطعی ہے کہ اگر تم نے پھر ایسا کیا تو ہم ۔۔ ایسا کریں گے۔ اور وہ وقت دور نہیں کہ بنی اسرائیل اپنے کیے کا مزہ چکھ لیں۔ اب یہاں سیاق کلام اہل کفر کے اخروی انجام کی طرف ہوجاتا ہے کیونکہ اکثر مقصد ۔۔ کافر ہی ہوتے ہیں ان کے درمیان یک رنگی ہوتی ہے۔ وجعلنا جھنم لککفرین حصیرا (71 : 8) ” اور کافروں کے لئے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا دیا ہے “۔ یہ جہنم اس طرح ان کو گھیر لے گی کہ ان میں سے کوئی اسے بچ کر نہ نکل سکے گا۔ یہ جہنم اس قدر وسیع ہوگی کہ سب اس میں سماجائیں گے۔ سبق کے اس حصے میں تاریخ بنی اسرائیل کا یہ پہلو بیان ہوا کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی کہ یہ لوگ اس سے ہدایت لیں۔ لیکن انہوں نے ہدایت نہ لی بلکہ گمراہ ہوئے اور اللہ کی ہلاکت نے ان کو آلیا۔ اب سیاق کلام قرآن کریم کی طرف منتقل ہوجاتا ہے کہ اس طرح یہ قرآن بھی نہایت ہی ٹھوس تعلیمات پیش کر رہا ہے۔
Ayahs 17:9–10

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ Open ayah 17:9 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر ہے

وَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 17:10 in the Quran reader

اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے

یہ قرآن راہ راست دکھاتا ہے۔ یہ ہر قسم کی ہدایت کا سرچشمہ ہے اور ہر کسی کے لئے منبع ہدایت ہے۔ بغیر کسی حدود وقیود کے۔ انسانوں کی راہنمائی کے لئے جس ہدایت ، جس نظام کی ضرورت ہے وہ اس میں موجود ہے۔ ہر دور اور ہر قسم کے معاشرے میں۔ انسانی ضمیر و شعور کو یہ ایک واضح عقیدہ اور صاف و سادہ خیالات عطا کرتا ہے ، ایسے عقائد و تصورات جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ خیالات انسانی شعور کو وہم و گمان ، اوہام و خرافات سے پاک کرکے اس کی سوچ کو قوانین قدرت اور ۔۔۔۔ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں۔ پھر یہ قرآن انسان کے ظاہر و باطن کو باہم مربوط کرتا ہے۔ انسانی سوچ اور عمل کو باہم یکساں کرتا ہے اور انسانی نظریات اور اعمال کے اندر ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ گویا انسان کی شخصیت کے تمام پہلو ایک ہی رسی میں بندھ جات ہیں ، زمین پر انسان کے اعمال و خیالات عالم بالا کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں ، انسان اس دنیا میں جو جدوجہد کرتا ہے ، وہ عبادت بن جاتی ہے۔ عبادات میں بھی اس کی پالیسی اور ہدایت نہایت ہی متوازن ہے۔ وہ صرف اس قدر عبادت اور بندگی کا حکم دیتا ہے جس قدر انسان کے بس میں ہو۔ ایسے احکام نہیں دیتا کہ انسان کے اندر ان کی تعمیل کی طاقت ہی نہ ہو۔ یہ انسان کو سستی اور عیش پرستی کے حولاے بھی نہیں کرتا کہ انسان عیش پرست ہوجائے بلکہ ہر میدان میں اس کی ہدایات توازن و اعتدال پر مبنی ہیں۔ اس میں انسانوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں بھی نہایت ہی مستحکم ہدایات دی گئی ہیں۔ ایک فرد اور فرد کے تعلقات کے بارے میں ، میاں اوری بیوی کے بارے میں ، حاکم و محکوم کے بارے میں ، اقوام اور حکومتوں کے بارے میں۔ یہ کتاب اس قسم کے تمام روابط کو نہایت ہی مستحکم بنیادوں پر قائم کرتی ہے ، ایسی مستحکم بنیادیں جو آراء اور خواہشات سے متاثر نہیں ہوتیں۔ دوستی اور دشمنی سے بھی ان اصولوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اغراض و مفادات بھی ان روابط کو متاثر ہے ، اسے یہ بھی معلوم ہے کہ ہر قسم کی سرزمین اور ہر علاقے کے لئے جامع ہدایت کیا ہے ، اس طرح اس نے اس کتاب میں ایک ایسا جامع نظام مرتب کردیا جو دنیا کے تمام انسانوں کی قانونی ، معاشی ، اجتماعی اور اخلاقی ضروریات کے لئے مستحکم ہدایات دیتا ہے بلکہ اس نے بہترین بین الاقوامی ہدایات بھی دی ہیں۔ اس نے تمام ادیان سماوی کے بارے میں بھی بہترین ہدایات دی ہیں ، تمام ادیان کے مقامات مقدسہ کا احترام سکھایا ہدایات دیتا ہے بلکہ اس نے بہترین بین الاقوامی ہدایات بھی دی ہیں۔ اس نے تمام ادیان سماوی کے بارے میں بھی بہترین ہدایات دی ہیں ، تمام ادیان کے مقامات مقدسہ کا احترام سکھایا ہے۔ چناچہ جب انسان اس کتاب سے ہدایات اخذ کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں تمام انسانوں کے درمیان ایک بھائی چارہ قائم ہوجاتا ہے اور انسان نہایت ہی امن وامان سے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرا ان وہ راہ دکھاتا ہے ، جو سیدھی اور مستحکم ہے۔ ان ھذا القران یھدی لگتی ھی اقوم و یبشر المومنین الذین یعملون الصلحت ان لھم اجرا کبیرا (9) وان الذین لا یومنون بالاخرۃ اعتدنا لھم عذابا الیما (01) (71 : 9۔ 01) ” جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا مہاجر ہے اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب مہیا کر رکھا ہے “۔ عمل اور جزائے عمل کا یہ بنیادی اصول ہے کہ ایمان اور عمل صالح کے نتائج مرتب ہوں گے۔ ایمان اور عمل صالح دونوں ضروری ہیں۔ بغیر ایمان کے عمل مفید نہیں ہے اور بغیر عمل کے صرف ایمان معتبر نہیں ہے۔ اگر ایمان کے ساتھ عمل نہ ہو تو وہ ناتمام مسلمانی ہے۔ اور عمل بلا ایمان بھی بےبنیاد ہے۔ ایمان اور عمل دونوں ہوں تو زندگی راہ راست پر چلتی ہیں اور ایمان اور عمل دونوں ہوں تو انسان ہدایت اخذ کرسکتا ہے۔ جو لوگ قرآن کریم کی راہ نہیں لیتے وہ انسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور انسان بہت ہی جلد باز ہے۔ وہ اپنے نفع میں بھی جلدی کرتا ہے اور نقصان میں بھی۔ وہ اس قدر جلدی سے آگے بڑھنا چاہتا ہے کہ اپنے جذبات پر اسے کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ وہ آگے ہی بڑھنا چاہتا ہے اگرچہ اس کے سامنے شر ہو۔
Ayah 17:11

وَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا Open ayah 17:11 in the Quran reader

اور انسان شر اس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے۔ انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے

یہ اس لئے کہ وہ معاملات کے انجام سے بالکل بیخبر ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ کسی کام کو اچھا سمجھ کر کرتا ہے اور درحقیقت وہ شر ہوتا ہے اور اس کے کے گزرنے میں وہ بہت جلدی کرتا ہے ، بعض اوقات وہ کسی کام کو شر سمجھ کر کرتا ہے لیکن وہ خیر ہوتا ہے۔ غرض انسان کسی بھی کام کے عواقب و نتائج کو کنٹرول نہیں کرسکتا۔ جبکہ قرآن کریم جو ہدایت دیتا ہے وہ نہایت ہی سیدھی ، نہایت ہی دھیمی اور پروقار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کی رہنمائی والی راہ جدا ہے اور انسان کی خود طے کردہ راہ جدا ہے۔ اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہے۔ سابقہ آیات میں چند معجزانہ اشارات تھے۔ حضور اکرم ﷺ کے واقعہ معراج اور اس کے اندر پائے جانے والے معجزات ، حضرت نوح (علیہ السلام) کا معجزانہ طور پر طوفان سے بچنا اور ان لوگوں کی طرف اشارہ جو ان کے ساتھ کشتی میں تھے۔ تاریخ بنی اسرائیل کے مدوجزر اور اور ان میں اللہ کے معجزانہ فیصلے اور اقوام کے عروج وزوال کے اصول کے طرف اشارہ ” اور انسانی زندگی میں مکافات عمل اور قرآن کریم کی کتاب ہدایت اور منہاج عمل ہونے کی طرف اشارہ۔ ان تمام معجزانہ امور کے بعد اب روئے سخن معجزات کائنات کی طرف پھرجاتا ہے ، ان سابقہ معجزات کا صدور تو پیغمبروں کے ذریعہ ہوا۔ لیکن یہ معجزات ایسے ہیں کہ ہر کسی کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ ان کائناتی معجزات کے ساتھ انسانی زندگی کی جدوجہد اور انسانی اعمال بھی وابستہ ہیں۔ انسانی اعمال اور جدوجہد کا نتیجہ ان قوانین قدرت کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چناچہ جس طرح انسانی عمل اور مکافات عمل کا اصول کائنات میں رواں دواں ہے ۔ اسی طرح نوامیس فطرت کے اصول بھی انسانی زندگی کے ساتھ مربوط ہیں ، جس طرح انسانی ، عمران کچھ قواعد پر مبنی ہے ، اسی طرح یہ کائنات بھی بعض قواعد پر مبنی ہے۔ اور اس کے اندر کوئی تخلف نہیں ہوتا۔ رات و دن کا یہ نظام جس طرح نہایت ہی اٹل قواعد پر مبنی ہے اسی طرح سنت الہیہ بھی اس کائنات میں جاری وساری ہے اور اس کے اصول بھی اٹل ہیں ۔ او وہ بھی اسی ژات باری کے ارادے سے چل رہے ہیں جس کے ارادے سے رات و دن چل رہے ہیں۔
Ayah 17:12

وَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا Open ayah 17:12 in the Quran reader

دیکھو ، ہم نے رات سے اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بےنور بنایا اور دن کی نشانی کو روشن کردیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم ہر سکو۔ اسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کرکے رکھا ہے۔

وہ قوانین قدرت جو رات و دن کو کنٹرول کرتے ہیں ، انہی کے ساتھ انسان کے کسب اور جدوجہد کا تعلق بھی ہے۔ رات اور دن کی بنیاد پر سالوں کا حساب ہوتا ہے ، انہی کے ساتھ انسانی کسب و عمل بھی منسلک ہے۔ وہ اچھائی کرے یا برائی کرے اس پر جزاء و سزا مرتب ہوگی۔ اسی کے ساتھ ہدایت و ضلالت بھی مربوط ہے۔ اور تمام امور میں انفرادی ذمہ داری کا اصول کارفرما ہے ، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا۔ اسی پر یہ اصول بھی طے ہوا ہے کہ اللہ کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک رسول نہ بھیج دے۔ اور اسی سے یہ اصول بھی مربوط ہے کہ جب اللہ کسی بستی کو ہلاک کرتا ہے تو تب کرتا ہے کہ اس کے مترفین اس نسبتی میں فسق و فجور اور دنگا فساد برپا کردیتے ہیں۔ اسی پر یہ اصول بھی مبنی ہے کہ بعض لوگ صرف دنیا کو طلب کرتے ہیں اور بعض آخرت کے طلبگار ہوتے ہیں ، تو اہل دنیا کو اللہ دنیا دیتا ہے اور اہل آخرت کو اللہ آخرت دیتا ہے۔ یہ تمام امور خواہ دینی اور عمرانی ہوں یا تکوینی دونوں ایک ہی ناموس الٰہی کے مطابق چلتے ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں جاری کر رکھا ہے۔ اور یہ ناموس الٰہی اور یہ سنت المیہ اٹل ہے۔ اس کے اصولوں کے اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی چیز بھی محض اتفاقی نہیں ہے۔ وجعلنا الیل والنھار ایتین فمحونا ایۃ الیل وجعلنا ایۃ النھار مبصرۃ لتبتغوا فضلنا من ربکم ولتعلموا عدد السنین والحساب وکل شئی فصلنہ تفصیلا (71 : 21) ” دیکھو ، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بےنور بنایا اور دن کی نشانی کو روشن کردیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کرسکو۔ اسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کرکے رکھا۔ رات اور دن اس کائنات کی نہایت ہی بڑی نشانیاں ہیں اور رات اور دن کے نظام کا اصول نہایت ہی دقیق اور باریک اصول پر مبنی ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کبھی کوئی خلل واقع نہیں ہوا ، اس میں کبھی بھی تعطیل واقع نہیں ہوئی ، یہ رات اور ون وائما چل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ (فمحونا) سے مراد کیا ہے۔ تو (فسحونا) کا مفہوم یہی معلوم ہوتا ہے کہ رات کو روشنی نہیں ہوتی۔ اس میں اس کائنات کی حرکات اور نظارے اچھی طرح نظر نہیں آتے۔ ظاہر ہے کہ دن کی سرگرمیوں اور رنگا رنگیوں کے مقابلے میں رات کو محو اور بےنور کہہ سکتے ہیں۔ دن کھلا ہے جس میں سب کچھ نظر آتا ہے اور رات ذرا محو ہے کہ اس مین دن کی طرح سب کچھ نظر نہیں آتا۔ رات کو محو ، اس لئے رکھا گیا اور دن کو کھلا اس لئے رکھا گیا ہے کہ لتبتغوا فضلا من ربکم ولتعلموا عدد السنین والھساب (71 : 21) ” تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کرسکو “۔ رات آرام ، سکون اور ملاپ کا وقت ہوتا ہے اور دن جدوجہد ، کسب و کمائی اور قیام و سفر کے لئے ہوتا ہے اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے کی وجہ سے ماہ و سال کا حساب مکمل ہوتا ہے۔ وعدے کے وقت کا حساب ، موسم اور فصل کا حساب غرض تمام معاملات کا حساب رات اور ان کے نظام سے قائم ہے۔ وکل شئی فصلنہ تفصیلا (71 : 21) ” اور ہم نے ہر چیز کو الگ ممیز کرکے رکھ دیا ہے “۔ یعنی اس کائنات میں کوئی چیز ’ کوئی اہم اور غیر اہم بات ہم نے محض بخت و اتفاق کے حوالے نہیں کی بلکہ وہ ہمارے ناموس قدرت کے مطابق ہے۔ یا قانون قدرت پوری طرح مفصل اور جامع اور دقیق ہے مثلاً رات اور دن کی گردش ہی کو دیکھئے۔ اس سے اس کائنات کے مدبر کی گہری تدبیر کا ثبوت ملتا ہے۔ جس طرح کائنات میں ایک مکمل ضابطہ کارفرما ہے۔ اسی طرح جزاء و عمل اور قانون و مکافات عمل بھی ایک نہایت ہی گہرا اور اٹل ضابطہ ہے۔
Ayah 17:13

وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا Open ayah 17:13 in the Quran reader

ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے ، اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اس کے لئے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا

وکل انسان الزمنہ ئرہ فی عنقہ انخرج لہ یوم القیمۃ کتبا یلقہ منشور (31) اقراء اکتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا (41) (71 : 31۔ 41) ” ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے ، اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اس کے لئے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا پڑھ اپنا نامہ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لئے تو خود ہی کافی ہے “۔ انسان کا شگون اس کا عمل ہے ، جو اس کی قسمت میں لکھا ہے۔ اس سے مراد خود انسان کا کسب وعمل ہے اور اس کے گلے میں لٹکانے سے مراد یہ ہے کہ انسان سے اس کا شگون یعنی اعمال کبھی جدا نہیں ہوتے۔ یہ قرآن کریم کا انداز ہے کہ قرآن کریم معافی و مفاہیم کو بھی ایک مجسم شکل میں پیش کرتا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کے ثمرہ کا ذمہ وار ہے اور وہ ان اعمال کے اثرات سے بھاگ نہیں سکتا۔ اسی طرح قیامت کے دن کتاب منشور سے بھی مراد اس کے اعمال کا ظہور ہے۔ یعنی اعمال کھلے ہوں گے۔ کوئی چھپا نہ سکے گا۔ یا کوئی عمل حساب سے رہ نہ جائے گا۔ لیکن قرآن اسے کھلی کتاب کی مجسم شکل میں پیش کرتا ہے جس سے مخاطب پر زیادہ اثر ہوتا ہے اور بات انسانی احساس کا حصہ بن جاتی ہے۔ چناچہ انسانی خیال یکدم پرندے اور کتاب کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔ اور وہ اس سخت دن کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ جس کے تمام راز کھل جائیں گے۔ ایک کھلی کتاب ہوگی اور اس دن کسی محاسب کی ضرورت نہ ہوگی۔
Ayah 17:14

اِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ Open ayah 17:14 in the Quran reader

پڑھ اپنا نامہ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لئے تو خود ہی کافی ہے۔

اقراء کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا (71 : 41) ” پڑھ اپنا نامہ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لئے تو خود ہی کافی ہے “۔ اسی اٹل قانون قدرت کے ساتھ عمل اور مکافات عمل کا قانون وابستہ ہے۔ من اھتدی فانما یھتدی لنفسہ ومن ضل فائما یضل علیھا والا تزر وازرۃ وزر اخری (71 : 51) ” جو کوئی راہ راست اختیار کرے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لئے مفید ہے ، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر ہے “۔ چناچہ عمل کی ذمہ داری انفرادی ہے اور اس کی وجہ سے ہر انسان اپنے نفس کے ساتھ منسلک ہے۔ اگر ہدایت اختیار کرتا ہے تو بھی اپنے لیے کرتا ہے ، اگر گمراہ ہوتا ہے تو وہ خود ہی ذمہ داری ہے۔ کوئی بھی دوسرے کے کیے کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ اور کوئی بھی کسی کے بوجھ میں کمی نہ کرسکے گا۔ ہر انسان سے خود اس کے اعمال کی باز پرس ہوگی اور صرف اس کے اعمال حسنہ کی جزا دی جائے گی اور کوئی دوست بھی کسی دوست کا ذمہ دار نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے نہایت مہربانی کرتے ہوئے انسان کو صرف اس اصول پر مسئول اور ذمہ دار نہیں بنایا جو اس کائنات فطرت میں موجود ہے اور نہ اس کو صرف عہد الست کی بنا پر مسئول بنایا جو اللہ نے تمام انسانوں سے اس وقت لیا تھا جب وہ آدم کی پشت میں تھے بلکہ اللہ نے نہایت مہربانی کرتے ہوئے سلسلہ رسل جاری فرمایا ، جو لوگوں کو ناموس شریعت کی یاد دہانی کراتے رہے ، انجام بد سے لوگوں کو ڈراتے رہے۔ اور یہ اصول مقرر فرمایا۔
Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو کوئی راہ راست اختیار کرکے اس کی راست روی اس کے اپنے ہی لئے مفید ہے ، اور جو گمراہ ہو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر ہے۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لئے ) ایک پیغامبر نہ بھیج دیں۔

وما کنا معذبین حتی نبعث (71 : 51) ” اور ہم اس وقت تک سزا دینے والے نہیں جب تک رسول نہ بھیج دیں یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ وہ عذاب دینے سے قبل لوگوں پر حجت تمام کرتا ہے۔ اور کوئی عذر رہنے نہی دیتا۔ یہ سنت الہیہ اس دنیا میں لوگوں پر عذاب نازل کرنے کے سلسلے میں بھی ہے۔ یہ عذاب بھی اللہ کے اس ناموس اور کوئی عذر رہنے نہیں دیتا۔ یہ سنت الہیہ اس دنیا میں لوگوں پر عذاب نازل کرنے کے سلسلے میں بھی ہے۔ یہ عذاب بھی اللہ کے اس ناموس قدرت کے مطابق ہی نازل ہوتا ہے جس کے مطابق نظام لیل و نہار جاری وساری ہے۔
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہوجاتا ہے اور ہم اسے برباد کرکے رکھ دیتے ہیں۔

واذا اردنا ان نھلک قریۃ امرنا مترفیھا ففسقوا فیھا فحق علیھا القول فدمر نھا تد میرا (71 : 61) ” جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہوجاتا ہے اور ہم اسے برباد کرکے رکھ دیتے ہیں “۔ یہ مترفین کون لوگ ہوتے ہیں ؟ یہ کبراء کا وہ طبقہ ہے جو مالدار اور کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں۔ نوکر ان کے آگے پیچھے ہوتے ہیں۔ آرام طلب ہوتے ہیں اور خوشحالی ، عزت اور قیادت ان کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ لوگ ڈھیلے ڈھانے ، گندے اور فسق و فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور یہ لوگ اعلیٰ اقدار ، مذہبی مقدسات اور شرف و وقار کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور عیاشی اور فجور میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جب ایسے لوگ دیکھتے ہیں کہ ان کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں ہے تو وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ پھر وہ پوری امت میں فحاشی اور بےراہ روی پھیلاتے ہیں۔ اور جن اعلیٰ اقدار کی وجہ سے دنیا میں اقوام بنتی ہیں اور عروج حاصل کرتی ہیں ان کو ایسے لوگ سرعام پامال کرتے ہیں۔ یوں امت کا اجتماعی نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ اور اس میں سے زندگی ، قوت اور ترقی کے عناصر ختم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یوۃ وہ امت آخر کار تباہ ہو کر نیست و نابو دہوجاتی ہے۔ اس آیت میں اللہ کی اسی سنت پر بحث کی گئی ہے جب اللہ کسی امت کی ہلاکت کا فیصلہ کردیتا ہے ، اس لئے کہ اس نے اپنی بربادی کے تمام اسباب خود مکمل کردئیے ہوتے ہیں تو اس میں قسم کے مترفین زیادہ ہوجاتے ہیں۔ پھر اللہ کے ایسے لوگوں کی رسی ڈھیلی کردیتا ہے ، کوئی ان کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہوتا۔ یہ مترفین امت کے قائدین بن جاتے ہیں ، فسق و فجورعام ہوجاتا ہے ، یوں امت کا اجتماعی نظام ڈھیلا پڑجاتا ہے۔ اس میں سستی آجاتی ہے ، اس کی ہلاکت کا فیصلہ ہوجاتا ہے ، اور اچانک وہ ہلاک اور برباد ہوجاتی ہے۔ اس ہلاکت کی ذمہ داری پھر پوری امت پر ہوتی ہے کیونکہ امت کے افراد میں سے کسی نے ، جماعتوں میں سے کسی نے مترفین کے ہاتھ نہیں پکرے۔ نظام کی اصلاح کے لئے اجتماعی سعی اور جدوجہد نہیں کی۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ قوم کے اندر مترفین کو پیدا نہ ہونے دیا جائے۔ ان کا وجود ہی اس بات کی علامت ہے کہ قوم پر ہلاکت آنے والی ہے۔ اگر کسی امت کا اجتماعی نظام ایسے لوگوں کی راہ روک دے اور ان کو پیدا ہونے ہی نہ دے تو امت ہلاکت سے بچ سکتی ہے۔ کیونکہ ہلاکت کا سبب صرف یہ مترفین اور ان کا فسق و فجور ہوتا ہے۔ یہی لوگ کسی امت اور سوسائٹی کو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں۔ اللہ نے انسانیت کے لئے ایسے فطری قوانین مقرر کیے ہیں ، جو اٹل ہیں اور ان میں کبھی بھی تخلف یا استثناء نہیں ہوتی۔ یہ ناقابل تبدل سنن الہیہ ہیں۔ ان نوامیس اور سنن کے مطابق جب کسی واقعہ کے لئے اسباب فراہم ہوجاتے ہیں تو وہ واقعہ ہوجاتا۔ یوں اللہ کا ارادہ پورا ہوجاتا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے اور اس کی بات پوری ہوجاتی ہے۔ لیکن اللہ کسی کو فسق و فجور کا حکم نہیں دیتا۔ وہ فحاشی کا حکم کبھی نہیں دیتا۔ اس لئے اگر کسی سوسائٹی میں طبقہ مترفین پایا جاتا ہے تو اس کا وجود ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس سوسائٹی نے اپنی ہلاکت کے اسباب پیدا کرنا شروع کردئے ہیں۔ اس کی چولیں ڈھیلی ہوچکی ہیں اور یہ تتر بتر ہونے والی ہے۔ اور وہ تقدیر الٰہی کے مطابق اپنے قدرتی انجام تک پہنچنے والی ہے۔ ہو یہ کہ سنت الہیہ کے فیصلے کے مطابق وہ ان مترفین کی وجہ سے نیست ونابود ہوگئی۔ کیونکہ اس نے کود اپنے اندر اس طبقہ مترفین کو پیدا ہونے دیا۔ اب یہاں ارادہ الہیہ سے مراد کیا ہے ؟ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ اللہ پکر پکڑ کر مترفین کو پیدا کرتا ہے اور وہ پھر مجبور ہو کر فسق و فجور کرتے ہیں اور اللہ زبردستی کرکے کسی سے اس کی ہلاکت کے اسباب پیدا کراتا ہے۔ بلکہ دراصل اسباب وہ سوسائٹی خود فراہم کرتی ہے اور سنن الیہ کے مطابق نتیجہ بعد میں مرتب ہوتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ یہ قانون فطرت اور سنت الہیہ اللہ کی جاری کردہ ہے۔ لیکن ہلاکت کا حقیقی سبب وجود مترفین اور فسق و فجور ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سو سائٹی پر یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہاں نظام اجتماعی میں پائے جانے والے خلل کو دور کردے اور مترفین کو فسق و فجور کرنے سے روکا جائے تاکہ سنن الیہ کے مطابق پوری سوسائٹی پر ہلاکت اور بربادی کا عذاب نہ آجائے۔ قرون اولیٰ سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد یہ سنت جاری وساری ہے۔ زمانوں کے بعد زمانے گزر گئے اور یہی ہوتا رہا ہے۔ جب بھی کسی امت میں فسق و فجور عام ہوا وہ ہلاک ہوئی۔ اور اللہ اپنے بندوں کی بداعمالیوں سے اچھی طرح خبردار ہے۔
Ayah 17:17

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

دیکھ لو ، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوح (علیہ السلام) کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں۔ تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

وکم اھلکنا من القرون من بعد نوح وکفی بربک بذنوب عبادہ خبیرا بصیرا (71 : 71) ” دیکھ لو ، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوح (علیہ السلام) کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک لوئیں۔ تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔ اب آخر میں بتایا جاتا ہے بعض لوگ صرف دنیا ہی کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ صرف اس دنیا کے لئے ۔ وہ اس زمین سے اوپر کی طرف نظریں نہیں اٹھاتے ، ایسے لوگوں کو اللہ صرف اس دنیا کے سامان فراہم کرتا ہے ، اور آخرت میں ایسے لوگوں کے حصے میں صرف جہنم آتی ہے ، اور جو لوگ صرف اس دنیا ہی کے لئے زندہ ہوتے ہیں اور ان کی نظریں اس سے آگے کسی منظر کی تلاش میں نہیں اٹھتیں ، وہ اسی دنیا میں ڈوب جاتے ہیں۔ وہ اس زمین کے کیچڑ میں لت پت ہوتے ہیں ، کیڑوں کی طرح گندی نالیوں میں پڑے رہتے ہیں ، اور ہر قسم کی گندی لذت کوشی میں ڈوبے ہوئے ہوتے اور شہوت اور جذبات کے غلام ہوتے ہیں اور دنیاوی لذت کے حصول میں ایسے ایسے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان کو جہنم رسید کردیتے ہیں۔
Ayah 17:18

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو کوئی (اس دنیا میں) جلدی حاصل والے فائدوں کا خواہش مند ہو ، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ سبھی جسے دینا چاہیں ، پھر ا کے مقسوم میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ، ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر۔

من کان یرید لعاجلۃ عجلنا لہ فیھا ما نشاء لمن نریدثم جعلنا لہ جھنم یصلھا مذموما مدحورا (71 : 81) ” جو کوئی (اس دنیا میں) جلدی حاصل ہونے والے فائدوں کا خواہش مند ہو ، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں ، پھر اس کے مقسو میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ، ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر “۔ مذموم اور ملامت زدہ اس لئے کہ اس نے یہی کمائی کی اور رحمت سے محروم یوں کہ وہ عذاب میں مبتلا ہوگیا۔
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو آخرت کا خواہش مند ہو اور اس کے لئے سعی کرے جیسی کہ اس کے لئے سعی کرنی چاہیے ، اور ہو وہ مومن ، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔

ومن اراد الاخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مومن فاولئک کان سعیھم مشکورا (71 : 91) ” اور جو آخرت کا خواہش مند ہو اور اس کے لئے سعی کرے جیسی کہ اس کے لئے سعی کرنی چاہیے اور وہ وہ مومن تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی “۔ پس جو لوگ آخرت چاہتے ہیں ضروری ہے کہ اس کے لئے سعی بھی کریں۔ اس کی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اور اسکے تقاضے پورے کریں اور یہ تمام جدوجہد ایمان کے بعد ہو ، ظاہر ہے کہ ایمان محض خواہش اور تمنا کا نام نہیں ہے ، بلکہ ایمان یہ ہے کہ وہ دل میں بیٹھ جائے اور عمل صالح اس کی تصدیق کرے۔ یہاں یہ بات درست ہے کہ آخرت کے لئے سعی کرنے کے نتیجے میں انسان دنیا کے مفاد اور سہولتوں اور لذتوں سے یکدم محروم نہیں ہوتا۔ بلکہ اس دنیا میں رہتے ہوئے وہ آخرت کو مدنظر رکھتا ہے ، یہ نہیں ہوتا کہ دنیا ہی اس کا منتہائے مقصود ہو ، آخرت بھی پیش نظر ہوتی ہے اور جب آخرت انسان کے پیش نظر ہو تو پھر دنیا کا رہن سہن انسان کے لئے مضر نہیں ہوتا۔ اور جو شخص صرف دنیا چاہتا ہے وہ جہنم میں ملامت زدہ اور رحمت سے محروم پھینک دیا جائے گا اور جو شخص آخرت کے لئے ساعی ہے تو اس کا استقبال ملا اعلیٰ میں نہایت ہی عزت اور تکریم سے ہوگا ، کیونکہ اس نے دنیا کو چھوڑ کر آخرت کے لئے کام کیا اور قریب کو چھوڑ کر اس نے بعید اور بلند آفاق کی طرف نظریں اٹھائیں۔ دنیا کی زندگی کی حقیقت کیا یہ ؟ وہ لوگ اس کی حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں جو کیڑوں مکوڑوں ، حشرات الارض ، حیوانات اور و حوش کی زندگی کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں۔ دنیا کی انسانی زندگی اور دنیا میں مذکورہ بالا حشرات الارض کی زندگی میں کوئی بنیادی امتیاز نہیں ہے۔ انسان کی انسانیت کے ساتھ لائق زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ، یہ اللہ کے جوار میں دائمی زندگی ہے۔ کیونکہ انسان کو اللہ نے ایک خاص انداز سے پیدا کیا اور اس کو برابر کیا۔ اس کے اندر اپنی خاص روح پھونکی اور اسے زمین کے اوپر آباد کیا اور یہاں اسے مستحکم کرکے علم سے نوازا اور فرشتوں پر برتری عطا کی۔ جو شخص دنیا کے لئے جدوجہد کرے اس کے سامنے بھی میدان کھلا ہے اور جو آخرت کے لئے جدوجہد کرے اس کے لئے بھی میدان کھلا ہے۔ دونوں کو اللہ ان کے مطلوبہ مقاصد اور مطالب اور اہداف تک پہنچاتا ہے۔ کوئی دنیا چاہیے یا آخرت۔ اللہ کسی کی راہ نہیں روکتا جہاں کوئی چاہے اللہ کی مشیت اسے لے جاتی ہے۔
Ayah 17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ان کو بھی اور ان کو بھی ، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جار ہے ہیں ، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے ، اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔

کلا نمد ھولاء وھولاء من عطاء ربک و ما کان عطاء ربک محظورا (71 : 2) ” ان کو بھی اور ان کو بھی ، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں ، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے “۔ لیکن زمین کے اندر ، اس دنیا میں بھی لوگوں کے درمیان حسب و درجات ، حسب وسائل اور حسب اسباب اور حسب میلانات و رحجانات اور مطابق سعی وجہد فرق مراتب ملحوظ ہے۔ کیونکہ دنیا کا دائرہ بھی محدود ہے ، اور یہ کرہ ارض بھی محدود ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں آخرت وسیع ہے۔ وہاں کی وسعتیں لامحدود ہیں۔ عالم آخرت ! اس کے کیا کہنے ، اس کے مقابلے میں یہ پوری دنیا ایک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے۔
Ayah 17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

مگر دیکھ لو ، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے۔ اور آخرت میں اس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی

” مگر دیکھ لو ، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے۔ اور آخرت میں اس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے ، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی “۔ اس لئے اگر کوئی حقیقی طور پر بلند مرتبہ چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس عظیم اور سچی تفاوت و امتیاز کے لئے جدوجہد کرے جو آخرت میں ہوگی ، جس کا میدان وسیع اور جہاں کسی جگہ کوئی تنگی اور کمی نہیں ہے۔ اور وہ اس قدر وسیع ہے کہ اس کی حدود سے صرف اللہ ہی خبردار ہے اور جو لوگ مقام امتیاز میں باہم مقابلہ کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ مقام آخرت کے لئے مقابلہ کریں۔ دنیائے دنی کے حقیر اور قلیل ساز و سامان کے لئے کیا بھاگنا !
Ayah 17:22

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

تو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا ورنہ ملامت زدہ اور بےیارومددگار بیٹھا رہ جائے گا

اس سورت کے پہلے سبق میں عمل و مکافات عمل کے اصولوں اور ہدایت و ضلالت کے قوانین اور کسب اور حساب کی ذمہ داریوں کو کائناتی اصولوں اور طبعی قوانین اور گردش لیل و نہار سے مربوط کیا گیا تھا۔ اس سبق میں انسانی طرز عمل ، اخلاق وآداب اور انفرادی اخلاق اور اجتماعی طرز عمل اور قوانین کو اسلامی نظریہ حیات کے اساسی اصول و عقائد یعنی توحید الٰہی کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ چناچہ تمام انفرادی اور اجتماعی روابط کی اساس یہی عقیدہ توحید ہے ، جو ایک مضبوط رسی ہے۔ اور یہی ایک خاندان اور ایک سو سائٹی کی اجتماعی زندگی کی اساس اور رابطہ ہے۔ درس سابق میں کہا گیا تھا کہ یہ قرآن بالکل ایک سیدھی راہ کی طرف ہدایت اور رہنمائی کرتا ہے۔ اور اس کے اندر اس راہنمائی کی تمام تفصیلات درج ہیں۔ ان ھذا القران………تفصیلا (21) (71 : 9۔ 21) ” جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لئے بڑا اجر ہے اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لئے ہم نے درد ناک عذاب مہیا کر رکھا ہے “۔ ” انسان شر اس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے۔ انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے “۔ ” دیکھو ‘ ہم نے رات اور دن و دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بےنور بنایا اور دن کی نشانی کو روشن کردیا تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کرسکو۔ اسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کرکے رکھا ہے “۔ جبکہ اس سبق میں قرآن کریم کے احکامات میں سے بعض احکام ، منہیات میں سے بعض مناھی کی تفصیلات دی گئی ہیں اور یہ انسانی زندگی کے عملی معاملات سے متعلق ہیں۔ چناچہ درس کا آغاز شرک کی ممانعت سے ہوتا ہے ، اور یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ صرف اللہ وحدہ لا شریک مستحق عبادت ہے۔ اس کے بعد احکام شروع ہوتے ہیں۔ پہلا حکم والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں ہے۔ پھر رشتہ داروں ، مساکین اور مسافروں کے ساتھ حسن سلوک ، پھر اعطاء اور خرچ میں اعتدال اور حفاظت ، وفائے عہد ، ناپ تول برابر رکھنے کا حکم ، سچائی پر قائم رہنے کا حکم ، تکبر سے اجتناب اور آخر میں پھر شرک سے اجتناب۔ چناچہ تمام اخلاقی اور قانونی احکام کو عقیدہ توحید کے اندر باندھ دیا گیا ہے۔ کیونکہ اسلامی نظام پورے کا پورا اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہے اور اسلا می نظریہ حیات کلمہ طیبہ پر قائم ہے۔ اس آیت میں شرک سے ممانعت اور اس کے انجام بد سے ڈرایا گیا ہے۔ امر تو عام ہے لیکن اسے صیغہ مفرد کی شکل میں لا کر ایک فرد کو مخاطب کیا گیا تاکہ ہر فرد یہ سمجھے کہ یہ حکم اسی کے لئے ہے اور مخصوص طور پر ہر فرد کے لئے صادر ہوا ہے۔ کیونکہ عقیدہ ایک شخصی معاملہ ہے اور اس کے بارے میں ایک شخص ہی انفرادی طور پر مسئول ہے اور انجام یہ ہے کہ جو شخص بھی شرک کا ارتکاب کرے گا ، وہ مذموم ہوگا ، کیونکہ اس نے قابل مذمت فعل کا ارتکاب کیا ہے اور پھر دوسرا انجام یہ ہے کہ وہ شرمندہ اور بےیارو مددگار رہ جائے گا ، اگرچہ اس کے خیال میں اس کے مددگار بہت ہوں اور جو شخص مذموم ہوجائے اور اس کی امداد کے لئے کوئی نہ آئے تو وہ بھی علیحدہ ہو کر شرمندگی کے ساتھ بیٹھ جاتا ہے۔ کیونکہ انسان ضعیفی کی حالت میں اکثر بیٹھ جاتا ہے۔ کوئی حرکت نہیں کرسکتا اس لئے لفظ قعود (بیٹھنا) ایسے شخص کے لئے اس جگہ نہایت ہی بامعنی ہے۔