17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 17:73–75

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا Open ayah 17:73 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان لوگوں نے اس کوشش میں کوء کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو۔ اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست بنا لیتے۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ Open ayah 17:74 in the Quran reader

اور بعید نہ تھا کہ اگر تمہیں مضبوط نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک جاتے۔

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا Open ayah 17:75 in the Quran reader

لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دنیا میں بھی دو ہرے عذاب کا مزہ چکھاتے اور آخرت میں بھی دوہرے عذاب کا ، پھر ہمارے مقابلے میں تم کوئی مددگار نہ پاتے۔

درس نمبر 921 ایک نظر میں۔ سورة اسرا کا یہ آخری سبق بھی اس سورت کے بنیادی محور کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات اور ان کی قوم کا ان کے بارے میں موقف۔ قرآن اور اس کی خصوصیات۔ یہ اس سورت کا بھی اور اس سبق کا بھی اہم موضوع ہے۔ اس سبق کا آغاز ان مساعی پر تبصرے سے ہوتا جو مشرکین نبی ﷺ کو آپ ﷺ کے عقائد و اعمال میں بعض سے ہٹانے کے سلسلے میں کر رہے تھے۔ پھر یہ کہ وہ آپ کو مکہ سے نکالنے کے سلسلے میں جو منصوبے بنا رہے تھے اور آپ ﷺ کو کمزور کرکے اور آپ ﷺ کے حامیوں کو کم کرکے وہ جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اللہ نے ان کو ان کے ان ارداوں میں ناکام کردیا۔ اور اللہ نے آپ ﷺ کو ان کے فتنوں سے بچا لیا۔ کیونکہ اللہ کے علم میں یہ بات تحریر تھی کہ اہل مکہ کے لئے ابھی تک مہلت موجود ہے۔ اور ان کے لئے اللہ کے فیصلے ایسی تباہی نہ تھی جسی امم سابقہ کے لئے لکھی گئی تھی۔ اگر وہ رسول اللہ کو نکالتے یا ایسا اللہ نے مقدر کیا ہوتا تو پھر ان پر بھی وہ عذاب نازل ہوتا ہے جو امم سابقہ پر ہوا کیونکہ اللہ کی سنت نبیوں اور ان کی امتوں کے سلسلے میں ایک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی راہپر چلتے رہیں ، نماز پڑھیں ، قرآن کی تلاوت فرمائیں۔ اور دعا کریں کہ اللہ آپ کو جہاں بھی لے جائے سچائی کے ساتھ لے جائے اور جہاں سے بھی نکالے سچائی کے ساتھ نکالے اور آپ کے لئے ایک ایسی حکومتی قوت فراہم کرے جو حضور ﷺ کے مقصد کے حصول کے لئے آپ ﷺ کی نصرت کرے۔ اور وہ حکومت یہ اعلان کردے کہ حق آگیا اور باطل چلا گیا اور زائل ہوگیا اور مغلوب ہوگیا۔ پس یہ ہے اللہ کے ساتھ رابطہ اور یہ ہے وہ زبردست ہتھیار جو آپ ﷺ کو فتنوں سے بچا سکتا ہے اور جو آپ ﷺ کے لئے ایسی قوت بن سکتا ہے جو آپ ﷺ کی نصرت کرے۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ قرآن ایک شفا ہے اور ان لوگوں کے لئے رحمت کا باعث ہے جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس کی تکذیب کرتے ہیں وہ ان کے لئے باعث عذاب اور مصیبت ہے۔ دنیا میں بی وہ اس کی وجہ سے مصیبت میں رہیں گے اور اس سے روگردانی کی وجہ سے آکرت میں بھی واصل جہنم ہوں گے۔ اسی مضمون کی مناسبت سے یہ بتایا جاتا ہے کہ رحمت کی حالت میں اور عذاب کی حالت میں انسان کے شب و روز کیسے ہوتے ہے۔ جب اس پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے تو وہ متکبر اور حق سے منہ موڑنے والا بن جاتا ہے اور جب وہ گرفتار مصیبت ہوتا ہے تو نہایت ہی مایوس اور شکستہ دل ہوتا ہے اور اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ہر انسان اپنے طریق کار کے مطابق زندگی اختیار کرتا ہے لیکن اس معلوم ہونا چاہیے کہ آخرت میں جزاء سزا بھی اس کے رویہ کے مطابق ہوگی لہٰذا اسے اپنے رویے کا تعین سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ اپنے علمی کمال اور خصوصیات کے باوجود انسان کا علم بہت ہی قلیل ہے۔ یہ اس لئے کہ وہ روح کے بارے میں سوالات کرتے تھے ، حالانکہ روح اللہ کے غیوب میں سے ایک غیب ہے ، انسانی قوائے مدرکہ میں ابھی اس کے ادراک کی قوت نہیں ہے۔ یقینی علم وہی ہے جو اللہ نے رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا ہے۔ یہ اللہ کا رسول اللہ پر بہت ہی بڑا فضل ہے اور اگر اللہ اپنے اس فضل کو واپس لے لے تو اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ لیکن یہ اللہ کا رحم و کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو یہ اعزاز بخشا ۔ پھر کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن ایک کتاب معجز ہے۔ جنوں اور انسانوں میں سے کوئی بھی ایسی کتاب پیش کرنے سے عاجز ہے۔ اگرچہ وہ سب جمع ہوجائیں ، اور ایک دوسرے کی امداد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب میں دلائل ہدایت کو مختلف اسالیب سے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے تاکہ ہر معیار علم و دانش کے لوگ اس سے استفادہ کرسکیں۔ لیکن تعجب ہے کہ کفار قریش نے اسے کافی نہ سمجھا اور وہ رسول اللہ ﷺ سے مادی معجزات طلب کرنے لگے مثلاً زمین سے چشمے نکالنا ، یا یہ کہ آپ ﷺ کے لئے کوئی بہت ہی قیمتی مکان ہو ، پھر ان کی ہٹ دھرمی اس حد تک آگے بڑھ گئی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے مطالبات کرنا شروع کردئیے و انسانی خصائص کے خلاف تھے ، مثلاً یہ کہ آپ ﷺ آسمان میں چڑھ جائیں۔ اور یہ واقعہ ان لوگوں کے سامنے ہو ، اس کے بعد آپ ایک لکھی ہوئی تحریر لے کر آئیں جسے وہ پڑھ سکیں یا یہ کہ آسمان کا یہ ایک ٹکڑا ان پر گرا دیں بلکہ اس سے بڑھ کر انہوں نے کفر و ہٹ دھرمی کی حدیں پار کرتے ہوئے یہ مطالبہ شروع کردیتا ہے کہ آپ ﷺ فرشتوں اور خدا تعالیٰ کو سیدھے ان کے سامنے لے کر آجائیں۔ ہٹ دھرمی پر مبنی ان کے مطالبات کا مذاق اڑایا جاتا ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ کی رحمتوں کے خزانوں کے مالک بنا دئیے گئے ہوتے تو بھی یہ انسانی تھرڈ لے پن اور کنجوسی کا شکار ہوجاتے اور ان کو یہ خوف لاحق ہوجاتا کہ کہیں خزائن رحمت ربی ختم ہی نہ ہوجائیں لیکن یہ لوگ جو مطالبات کرتے ہیں اس میدان میں یہ بہت ہی سخی ہیں ، کسی حد تک رکھتے ہی نہیں اور ایک سے ایک بڑا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کے ان بےجا مطالبات کی بحث ہی کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے کیسے کیسے خارق عادت معجزات دئیے تھے لیکن اس کے باوجود بھی فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ تو اللہ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کردیا۔ جس طرح اللہ کی سنت ہے کہ وہ مکذبین کو ہلاک فرماتا ہے۔ رہا قرآن مجید تو وہ تو باقی رہنے والا اور برحق معجزہ ہے۔ اس کا نزول متفرق طور پر ہوا ہے۔ امت کی ضرورت اور حاجت کے مطابق یہ وقتاً فوقتاً ہوا ہے۔ امم سابقہ کے اہل علم بھی جانتے ہیں کہ یہ کتاب ، کتاب حق ہے۔ وہ اس پر یقین کرتے ہیں اور بہت ہی ڈراتے ہیں اور ایمان لا کر تسلیم خم کرتے ہیں۔ سورت کا خاتمہ اس مضمون اور ہدایت پر ہوتا ہے کہ رسول اللہ اللہ کی بندگی کریں۔ صرف اللہ کی بندگی اور اللہ کی حمدو ثنا کریں۔ جس طرح سورت کا آغاز بھی اسی مضمون سے ہوا تھا یعنی اللہ کی پاکی اور تسبیح کے ساتھ۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کوششوں کا ذکر فرماتے ہیں جو مشرکین مکہ نبی ﷺ کو اپنے موقف سے ہٹانے کے سلسلے میں کرتے تھے۔ ان کی پہلی کوشش یہ تھی کہ حضور ﷺ قرآن میں کچھ تبدیلیاں کردیں اور ان کے خیال میں جو بعض بہت سخت باتیں تھیں ، ان کو بدل کر دوسری باتیں لے آئیں ، اگر آپ ایسا کرتے تو یہ اللہ پر افتراء ہوتی ، لیکن ایسا کیسے ممکن تھا کیونکہ آپ صادق و امین تھے۔ یہ کوشش انہوں نے مختلف تجاویز دے کر کی مثلاً ایک تجویز انہوں نے یہ دی کہ وہ حضور اکرم ﷺ کے اللہ کی بندگی کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ حضور ﷺ ان کے الہوں پر تنقید چھوڑ دیں۔ نیز ان کے آباء و اجداد جو کچھ کرتے رہے ، ان کو بھی برا بھلا نہ کہیں ، بعض لوگوں نے یہ کہا کہ وہ اس بات کے لئے تب تیار ہوں گے کہ جب وہ ان کے علاقے کو بھی اسی طرح حرام قرار دے دیں جس طرح بیت اللہ حرام ہے۔ بعض اکابرین مکہ کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم ایمان لانے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ آپ ﷺ ہمارے لئے ایک خاص مجلس مقرر کردیں اور فقراء کے لئے ایک الگ مجلس وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں ان کوششوں کی طرف ایک اجمالی اشارہ کیا گیا ہے ۔ تفصیلات نہیں دی گئیں۔ مقصد یہ بتانا ہے کہ اے محمد ﷺ تم پر یہ اللہ کا فضل و کرم تھا کہ تمہیں راہ حق پر ثابت قدم رکھا اور تمہیں مشرکین کے فتنوں سے بچایا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ اس ثابت قدمی کو واپس لے لیتا اور جو عظمت آپ کو دی ہوئی تھی ، وہ کھینچ لیتا تو آپ ﷺ ان مطالبات کو مان کر ان کی طرف جھک جاتے اور اس طرح یہ کفار آپ ﷺ کو دوست بنا لیتے اور پھر آپ کے اس جھکنے کی سز آپ کو ملتی۔ اور پھر یہ عذاب دوسرے عام لوگوں کے مقابلے میں اس زندگی اور قیامت دونوں میں دو چند ہوتا اور پھر یہ لوگ آپ کی کوئی نصرت اور مدد بھی نہ کرسکتے۔ یہ کوششیں اور سازشیں ، جن سے اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو بچایا ، ہر دور کے کبرائ، داعیان ھق کو پھسلانے کی خاطر کرتے رہے۔ مثلاً وہ داعیان حق کو اپنے موقف سے منحرف کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ دعوت اسلامی کی سختی میں قدرے نرمی کردی جائے اور اس سیدھے راستے میں ٹیڑھ پن پیدا کردیا جائے۔ کبرائے وقت ہمیہش درمیانی درجے کی راہ تلاش کرتے رہے ہیں اور اہل حق کو معاونت کی نیز بڑے برے مفادت کی پیش کش کرتے رہے ہیں اور راہ حق سے بھٹکانے کی سعی کرتے رہے ہیں۔ بعض داعیان حق معاملے کو معمولی سمجھتے ہوئے اپنی دعوت میں تبدیلی کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ کبراء اور اہلیان حکومت ایسے داعیان حق سے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ اپنی دعوت کو بالکل چھوڑ دیں۔ البتہ وہ اس قدر غیر محسوس اور معمولی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتے ہیں جن کے نتیجے میں دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ گزارہ کرسکیں۔ شیطان بعض داعیان حق کو اس نکتے پر پھسلا دیتا ہے اور داعیان حق یہ سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلام کا مفاد بھی اسی میں ہے کہ کوئی برسر اقتدار بڑا آدمی دعوت اسلامی کا حامی بن جائے۔ اگرچہ اس سلسلے میں انہیں اپنے موقف میں بعض تبدیلیاں لائی کیوں نہ پڑیں۔ لیکن نکتہ آغاز سے جب راہ حق سے ایک معمولی سے انحراف کا آغاز کیا جائے تو راستے کی انتہا میں جا کر وہ انحراف بہت ہی معمولی جزاء کیوں ہو یا کسی نہایت ہی جزئی مسئلہ سے غفلت برتی جائے اور چشم پوشی کی جائے تو پھر داعی کے بس میں یہ بات نہیں رہتی کہ وہ کسی حد پر جا کر رکے کیونکہ جب ایک آدمی ڈالنے کے لئے تیار ہوجائے تو پھر وہ ہتھیار ڈالتا ہی چلا جاتا ہے۔ اور وہ ایک کے بعد دوسری پسپائی اختیار کرتا چلا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے پوری دعوت کو قبول کیا ہے۔ اور مکمل اسلامی نظام کے قیام کی دعوت ہماری دعوت ہے۔ اس لئے جو شخص بھی اسلامی نظام کے کسی جزء کو نظر انداز کرتا ہے اگرچہ وہ بہت ہی چھوٹا اور جزئی مسئلہ کیوں نہ ہو ، اور جو شخص دعوت اسلامی کے کسی بھی چھوٹے مسئلہ کے بارے میں خاموشی اختیار کرتا ہے وہ دعوت اسلامی پر درحقیقت مومن نہیں ہے۔ اس لئے کہ ایک مومن کی نظریں دعوت اسلامی کا ہر جزء اہم ہوتا ہے۔ اسلامی نظام کے اجزاء میں سے کوئی جزء فاضل و مفضول نہیں ہے۔ اس میں ضروری اور غیر ضروری کچھ بھی نہیں۔ اس میں کوئی ایک جزء بھی ایسا نہیں ہے جس سے انسان بری الذمہ قرار دیا جاسکے۔ اسلامی نظام ایک کل ہے ، اگر اس میں سے ایک جزء بھی غائب کردیا جائے تو تمام اجزاء بےمقصد ہوجاتے ہیں۔ جس طرح کوئی وہ ترکیب ، کسی نسخے اور فارمولے سے ایک جزء غائب ہوجانے تو تمام دوسرے اجزاء کے خواص کام نہیں کرتے۔ اہل اقتدار کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے اجزاء کو ایک ایک کرکے ، داعیان نظام اسلامی سے ترک کراتے ہیں۔ جب اہل حق کسی ایک جزء پر مسالت اور صلح کرتے ہیں تو ان کی پوزیشن ختم ہوجاتی ہے۔ اور اہل اقتدار اور ڈکٹیٹر پھر ایک ایک بات پر سودا بازی کی کوشش کرتے ہیں اور آخر کار وہ اپنی تمام شرائط منوا لیتے ہیں اور دعوت اسلامی کا وجود ہی ختم ہوجاتا ہے۔ یہ کہ بر سر اقتدار (اور بااثر) لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اپنی دعوت کے کسی معمولی جزء سے چشم پوشی کرنا ، درحقیقت شکست خوردگی ہے۔ روحانی اور اخلاقی شکست کو تسلیم کرنا ہے۔ اور یہ برسر اقتدار اور بااثر لوگوں پر اعتماد کرنا ہے کہ وہ دعوت اسلامی کی حمایت کریں گے۔ حالانکہ ایک سچا مومن اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں صرف اللہ پر اعتماد کرتا ہے ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ لیکن جب داعیوں کے قلب و نظر میں شکست نے راہ پا لی تو پھر ہی شکست شکست ہی ہوگی اور کسی صورت میں بھی اسے فتح سے نہ بدلا جاسکے گا۔ اللہ کا یہ رسول اللہ پر بہت بڑا احسان تھا کہ اللہ نے حضور ﷺ کو اسلامی نظام حیات اور ان تمام امور پر ثابت قدم کردیا تھا جو آپ ﷺ کی طرف وحی ہوتے تھے۔ اور مشرکین نیز مشرکانہ معاشرے کے تمام فتنوں سے اللہ نے آپ ﷺ کو بچا لیا تھا۔ اور آپ ﷺ کو اس قدر ثابت قدمی عطا کردی تھی کہ آپ ﷺ کسی دینی معاملے میں ان کی طرف نہ جھکتے تھے۔ اگرچہ وہ معمولی سا کیوں نہ ہوتا اور دین کے معاملے میں مداخلت کے عذاب سے حضور اکرم ﷺ کو اللہ نے بچا لیا ، جو دنیا میں بھی ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اس سے دو چند ہوتا ہے اور دنیا میں یوں کہ ایسے داعیوں کو اللہ کی معاونت اور نصرت حاصل نہیں رہتی۔ جب مشرکین اس کوشش میں ناکام ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ ، بعض قرآنی ہدایات کو چھوڑ دیں یا بدل دیں اور ان کی یہ سازش کامیاب نہ ہوئی تو انہوں نے یہ منصوبہ بنایا کہ رسول اللہ ﷺ کو مکہ سے نکال دیں لیکن وہ آپ ﷺ کو نکالنے میں کامیاب نہ ہوئے تو اللہ نے بذریعہ وحی حضور ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ خود مہاجر والی اللہ بن کر مدینہ چلے جائیں کیونکہ اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ اہل قریش کو ہلاک نہ کیا جائے۔ اور اگر وہ زبردستی رسول اللہ ﷺ کو نکال دیتے یا آپ کو نکلنے پر مجبور کردیتے تو ان پر تباہی ایک عذاب کی صورت میں نازل ہوجاتی ۔ اور وہ نیست و نابود ہوجاتے ،
Ayah 17:76

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:76 in the Quran reader

اور یہ لوگ اس بات پر بھی تلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اس سرزمین سے اکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں۔ لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکیں گے۔

واذالا یلبثون خلفک الا قلیلا (71 : 67) ” اگر وہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکیں گے “۔ کیونکہ یہ اللہ کی جاری وساری سنت ہے۔
Ayah 17:77

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ Open ayah 17:77 in the Quran reader

یہ ہمارا مستقبل طریق کار ہے جو ان سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پائو گے

سنۃ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا ولا تحد لسنتنا تحویلا (71 : 77) ” یہ ہمارا مستقبل طریق کار ہے جو ان سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پائو گے “۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اٹل قانون بنایا ہے کہ جو قوم رسول کو ملک بدر کردیتی ہے اللہ اے نیست و نابود کردیتا ہے۔ کیونکہ رسولوں کا ملک بدر کرنا اس قدر بڑا جرم ہے کہ اسے سرزنش کے بغیر نہیں چھوڑا جاتا۔ اللہ کی اس کائنات کو اس کے اٹل قوانیں اور سنن چلا رہے ہیں اور لوگوں کے انفرادی اعمال کا اس میں کوئی لحاظ نہیں ہوتا۔ یہ کائنات محض اتفاقات کے مطابق نہیں چل رہی ہے کہ کچھ واقعات ہوجائیں اور گزر جائیں اور یہ کائنات یونہی چل رہی ہو۔ بلکہ اس کائنات کو اللہ کے اٹل قوانین کنٹرول کرتے ہیں۔ چونکہ عالم بالا میں ، بعض حکمتوں کی بنا پر یہ طے تھا کہ قریش کو بلاک اور نیست و نابود نہیں کرتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کو طبیعی خوارق عادت معجزات نہیں دیے اور نہ قریش کو ہمت دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو زبردستی یا حالات سے مجبور کر کے مکہ سے نکال دیں بلکہ بذریعہ وحی حکم دیا کہ آپ اس آبادی کو خود ہی چھوڑ دیں۔ یوں اللہ کی سنت جاری وساری رہی۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ سے لو لگائے رکھیں ، اللہ سے نصرت اور معاونت طلب کرتے رہے اور جس راہ کو آپ ﷺ نے اپنایا ہے اس پر چلتے رہیں۔ حق کا بول بالا ہوگا اور باطل مغلوب اور زائل ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
Ayah 17:78

اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا Open ayah 17:78 in the Quran reader

نماز قائم کرو غروب آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک او فجر کے قرا ان کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر مشہور ہوتا ہے

دلوک الشمس سے مراد ہے سورج کا غروب کی طرف مائل ہونا یعنی غروب آفتاب سے لے کر اندھیرے تک۔ یہ حکم خاص نبی ﷺ کو ہے۔ جہاں تک پانچ فرض نمازوں کا تعلق ہے تو ان کے اپنے اوقات ہیں اور تواتر سے احادیث رسول کے ذریعہ ثابت ہیں۔ نیز آپ ﷺ کی عملی سنت بھی متواتر ہے۔ بعض نے دلوک الشمس سے مراد زوال آفتاب لیا ہے یعنی آسمان کے درمیان سے آفتاب کا گزر جانا اور غسق اللیل کی تفسیر بعض لوگوں نے اول لیل سے کی ہے۔ اور قرآن الفجر سے مراد صبح کی نماز کی گئی ہے۔ اور یوں اس آیت سے زوال آفتاب سے رات کے اندھیروں تک۔ دلوک الشمس الی غسق الیل (71 : 87) سے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں لی گئی ہیں اور تہجد کا حکم حضور اکرم ﷺ کے لئے مخصوص کیا گیا ہے اور یہ آپ ﷺ کے لئے نفل یعنی زائد حکم ہے۔ لیکن ہماری رائے پہلی تفسیر ہی کی طرف جاتی ہے۔ یعنی اس آیت کے تمام احکام رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مختص ہیں اور پانچ نمازوں کے اوقات احادیث متواترہ اور سنت عملیہ متواترہ سے ثابت ہیں۔ اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق الیل (71 : 87) ” یعنی نما زقائم کرو جب سورج غروب کی طرف جھکنے لگے اور رات آنے لگے اور تاریکیاں چھانے لگیں “۔ اور صبح کے وقت کا قرآن پڑھو۔ ان قرآن الفجر کان مشھودا (71 : 87) ” اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو کیونکہ قرآن فجر شہود ہوتا ہے “۔ ان دونوں اوقات کی اپنی خصوصیات بھی ہیں۔ دن کا جانا اور شب کا آنا یا رات کا جانا اور دن کا آنا ، نفس انسانی پر دونوں اوقات گہری تاثیر چھوڑتے ہیں۔ جب رات آتی ہے تو اس میں تاریکیاں آگے بڑھتی ہیں اور جب دن نمودار ہوتا ہے تو روشنیاں آگے بڑھتی ہیں۔ دونوں اوقات میں قلب اور فکر و نظر پر مخصوس اثرات ہوتے ہیں۔ دونوں اوقات میں انسانی دماغ اس کائناتی نظام پر غوروفکر کرنے کے لئے مائل ہوتا ہے۔ انسان اس ناموس فطرت کے بارے میں سوچتا ہے کہ یہ ناموس چل رہا ہے اور اٹل ہے۔ نماز کی طرح صبح کے وقت قرآن کے مطالعے کا بھی نفس انسانی پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ ذہن میں تازگی آجاتی ہے۔ نہایت سکون اور ٹھندے دل سے انسان سوچتا ہے اور سمجھتا ہے روشنی آرہی ہوتی ہے ، زندگی کی نبض متحرک ہوجاتی ہے اور زندگی بھرپور طور پر حرکت میں آجاتی ہے۔
Ayah 17:79

وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا Open ayah 17:79 in the Quran reader

اور رات کو تہجد پڑھو یہ تمہارے لئے نفل ہے ، بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کردے۔

ومن الیل فتحجد بہ نافلۃ لک (71 : 97) ” اور رات کو قرآن کے ساتھ تہجد پڑھو یہ تمہارے لئے نفل ہے “۔ تہجد سے مراد پچھلی رات کی وہ نماز ہے جو رات کے اول حصے میں سونے کے بعد اٹھ کر پڑھی جاتی ہے اور بہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے یعنی رات کو قرآن کے ساتھ تہجد پڑھو کیونکہ قرآن مجید نماز کی روح ہے اور نماز کی بنیادی عنصر ہے۔ عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا (71 : 97) ” بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کردے “۔ یعنی نماز کی پابندی ، قرآن فجر کی تلاوت اور تہجد گزاری اور اللہ کے ساتھ اس پختہ اور دائمی تعلق کی وجہ سے۔ کیونکہ مقام محمود تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے۔ جب مقام محمود تک پہنچنے کے لئے اللہ محمد مصطفیٰ ﷺ اور برگزیدہ رسول کا حکم دیتا ہے کہ وہ نماز پڑھیں ، قرآن کی تلاوت کریں اور تہجد پر عمل پیرا رہیں تو دوسری لوگ ان عبادات کے زیادہ محتاج ہیں اور وہ اپنے لئے مقرر مراتب تک تب ہی پہنچ سکتے ہیں جب وہ ان عبادات پر اچھی طرح عمل پیرا ہوں۔ یہی صحیح راستہ اور یہی تحریک اسلامی کے کارکنوں کا زاد راہ ہے۔
Ayah 17:80

وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا Open ayah 17:80 in the Quran reader

اور دعا کرو کہ پروردگار ، مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے۔

وقل رب ……نصیرا (71 : 08) ۔ ” اور دعا کرو ، کہ پروردگار مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے “۔ یہ دعا ہے جو اللہ اپنے نبی ﷺ کو سکھاتا ہے تاکہ وہ ان الفاظ میں اللہ کو پکارے۔ اور آپ ﷺ کے بعد آپ کی امت کو بھی معلوم ہو کہ وہ کس طرح اللہ کو پکارے اور کن معاملات میں اللہ کی طرف متوجہ ہو ، سچائی کے ساتھ دخول اور سچائی کے ساتھ خروج کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ میرا دل اور آخر ، اور اولیٰ اور آخری کے مابین تمام مراحل میں مجھے سچائی پر قائم رکھ۔ اور یہاں سچائی کی دعا کی اہمیت یوں بڑھ جاتی ہے کہ جس مرحلے میں یہ آیات آئیں اس میں داخل کردیں اور ظاہر ہے کہ یہ اللہ پر افتراء ہوتا۔ نیز سچائی کا اپنا پر تو اور رنگ ہوتا ہے ، مثلاً ثابت قدمی ، اطمینان ، پاکیزگی معاملات ، اخلاص وغیرہ سب کے سب سچائی کے رنگ ہیں۔ واجعل لی من لدنک سلطنا نصیرا (71 : 08) ” اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے “۔ ایک قوت ، ہیبت مجھے حاصل ہوجائے ، جس کی وجہ میں زمین کے اقتدار پر قابض ہوجائوں اور مشرکین کی قوت کو مغلوب کرلوں۔ من لدنک (71 : 08) یعنی (اپنی طرف سے) میں یہ رنگ ہے کہ اللہ کے ساتھ حضور اکرم ﷺ کا گہرا قرب ہے۔ اور آپ ﷺ صرف اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور صرف اس سے مدد کے طلبگار ہیں اور اللہ ہی حمایت و حفاظت میں اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔ کوئی بھی داعی صرف اللہ ہی سے اقتدار کا طالب ہوتا ہے اور ایک داعی سے لوگ صرف اس صورت میں خوف کھاتے ہیں کہ وہ الٰہی قوت سے مسلح ہو۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کوئی حاکم اور صاحب اقتدار نبی ﷺ یا کسی داعی کی حمایت پر کمربستہ ہوجائے بلکہ کسی دنیاوی قوت سے پہلے داعی کو الٰہی قوت سے لیس ہونا ضروری ہے۔ یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی تحریک اور دعوت بعض اوقات اہل اقتدار اور صاحب قوت لوگوں کے دلوں کو فتح کرلیتی ہے ، اور وہ دعوت کے سپاہی بن جاتے ہیں اور دعوت کی خدمت کرتے ہیں اور فلاح پاتے ہیں۔ لیکن اگر دعوت اور تحریک کسی بادشاہ یا صاحب اقتدار کے تابع ہو اور اس کی سپاہ گری کا کام کرے اور کسی شخص کی خدمت گار ہو تو وہ دعوت کبھی کامیاب نہیں ہوتی۔ دعوت اسلامی تو امر الٰہی ہے ، اور اسے اعلیٰ وارفع ہونا چاہیے۔ اور اہل اقتدار اور ذی جائو لوگوں کو اس کا خادم ہونا چاہیے۔
Ayah 17:81

وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا Open ayah 17:81 in the Quran reader

: اور اعلان کر دو کہ ” حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تو مٹنے ہی والا ہے

وقل ……(71 : 18) ” اور اعلان کر دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تو مٹنے ہی والا ہے “۔ یعنی اللہ کی جانب سے جو اقتدار نبی اور داعیوں کو ملتا ہے اس کی بدولت۔ اے نبی ﷺ اعلان کردو کہ یہ اقتدار اب آہی گیا اور اس کی وجہ سے باطل گویا مٹ ہی گیا کیونکہ حق اپنے اندر قوت ، سچائی اور ثبات رکھتا ہے۔ اور باطل کے مزاج میں کمزوری اور مٹنا ہے۔ سچائی کا مزاج یہ یہ کہ وہ زندہ رہے ، پھلے پھولے اور قائم و دوائم رہے اور باطل کا مزاج ہی یہ ہے کہ وہ مٹ جائے ، ختم ہوجائے اور اس کا نام و نشان تک نہ رہے۔ ” باطل مٹنے والا ہے “۔ یہ ایک الٰہی حقیقت ہے اور اللہ اسے نہایت ہی تاکیدی الفاظ میں بیان فرما تا ہے۔ اگرچہ بظاہر باطل رائج نظر آئے ، اس کی حکومت ہو اور اس کا رعب ہو ، کیونکہ باطل پھلا اور پھولا نظر آتا ہے لیکن اس کا موٹاپا بیماری کا موٹاپا ہوتا ہے۔ وہ چونکہ بےحقیقت ہوتا ہے اس لئے اس کے غبارے سے جلد ہی ہوا نکل جاتی ہے۔ اور اس پر کبھی کسی قوم کو اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ لیکن باطل ایسے ذرائع اختیار کرتا ہے کہ لوگوں کی آنکھوں کو خیرہ کرکے ان کو مرعوب کردے اور ایسے ذرائع اختیار کرتا ہے کہ وہ مستقل اور پختہ اور ایک عظیم نظام نظر آئے لیکن اسکی مثال ایسی خود روگھاس کی ہوتی ہے جو جلد ہی خشک ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ کسی خشک گھاس اور پھوس کو آگ لگ جائے تو یکدم شعلے آسمانوں تک پھیل جاتے ہیں لیکن جلد ہی وہ شعلے بیٹھ جاتے ہیں اور راکھ کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ جبکہ ایک مضبوط انگارہ دھکتا رہتا ہے اور اس کی چنگاریاں دیر تک راکھ میں بھی دبی رہتی ہیں یا اس طرح کہ وہ جھاگ کی طرح ہوتا ہے۔ یکدم پھول جاتا ہے لیکن جلدی بیٹھ جاتا ہے اور پانی جو ایک حقیقت رکھتا ہے اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ ان الباطل کان زھوقا (71 : 18) ” بیشک باطل مٹنے ہی والا ہے “۔ کیونکہ باطل کے اندر باقی رہنے والے عناصر ہی نہیں ہوتے۔ بعض خارجی عوامل ہوتے ہیں جن سے وہ وقتی طور پر فائدہ لیتا ہے۔ اس کا وجود غیر طبیعی ہوتا ہے۔ جب یہ خارجی عوامل ختم ہوتے ہے اور یہ خارجی سہارے دور ہوتے ہیں یا کمزور پڑتے ہیں تو یہ دھڑام سے گرتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے۔ جہاں تک حق اور سچائی کا تعلق ہے اس کی ذات کے اندر اس کے دوام کا سامان ہوتا ہے۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ لوگوں کی خواہشات نفس سچائی کے خلاف ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ماحول سچائی کے خلاف ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات وقت کے اہل اقتدار سچائی کے خلاف ہوتے ہیں۔ لیکن حق کا ثبات اس کا سکون و اطمینان آخر کار اسے فتح سے ہمکنار کرتا ہے اور اس کے بقاء کا ضامن ہوتا ہے اس لئے کہ یہ حق اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اللہ کا نام ہی حق ہے اور اللہ چونکہ زندہ باقی اور لازوال ہے اس لئے سچائی اور حق بھی لازوال ہے۔ ان الباطل کان زھوقا (71 : 18) ” بیشک باطل مٹنے والا ہے “۔ اس کے پیچھے بعض اوقات بڑی قوت ہوتی ہے اور وقت کا اقتدار بھی اس کا حامی ہوتا ہے لیکن اللہ کا وعدہ سچا ہے ور اللہ کی قوت اور سلطنت اور اقتدار بزرگ و برتر ہے۔ جن اہل ایمان نے ایمان کا حقیقی ذائقہ چکھ لیا ہوتا ہے وہ اللہ کے وعدے کی مٹھاس اور اللہ کے اس وعدے کی سچائی کو محسوس کرتے ہیں۔ کون ہے جو اللہ سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والا ہے اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ سچی بات کرنے والا ہے۔
Ayah 17:82

وَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا Open ayah 17:82 in the Quran reader

ہم اس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لئے تو شفا اور رحمت ہے ، مگر ظالموں کے لئے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا

وتنزل من القران ما ھو شفاء ورحمۃ للمومنین (71 : 28) ” ہم اس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لئے تو شفا اور رحمت ہے “۔ یقینا قرآن میں شفاء ہے۔ یقینا قرآن میں رحمت الٰہی کے خزانے میں۔ لیکن ان لوگوں کے لئے جن کے دلوں میں ایمان کی تازگی داخل ہوچکی ہو ، ان کے دل روشن ہوچکے ہوں اور وہ قبولیت حق کے لئے کھل گئے ہیں اور وہ روح قرآن کو اپنے اندر جذب کر رہے ہوں اور ان کے دلوں میں سکون اور سکینت اور طمانیت داخل ہوچکی ہو۔ قرآن کریم تمام وسوسوں ، تمام حیرانیوں ، اور تمام بےچینیوں کی دوا ہے ور اس میں ان روحانی بیماریوں کی شفاء ہے۔ یہ بندے کے دل کو اللہ سے جوڑتا ہے۔ یوں اسے سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے اور اسے یہ شعور ملتا ہے کہ وہ اللہ کی حمایت میں ہے اور حالت امن و سلامتی میں ہے۔ اس طرح وہ اللہ سے راضی ہو کر راضی رہتا ہے۔ زندگی خوشی سے گزارتا ہے اور زندگی کے جو حالات بھی ہوں ان میں راضی رہت ا ہے۔ بےچینی بھی ایک قسم کا مرض ہے ، حیرانی بھی ایک مرض ہے۔ وسوسہ بھی ایک بیماری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم اہل ایمان کے لئے رحمت ہے۔ اسی طرح قرآن مجید ، ہوائے نفس ، گندگی ، لالچ ، حسد اور شیطان کی وسوسہ اندازیوں کے مقابلے میں بھی شفاء ہے۔ یہ قلبی اور روحانی بیماریاں ہیں جن کے نتیجے میں دلی بیماریاں ضعف اور تکان پیدا ہوتی ہے۔ اور انسانی روح اور دل بوسیدہ ہو کر ٹوٹ جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن مومنین کے لئے شفاء و رحمت ہے۔ قرآن کریم میں شعور اور فکر کی بےلگامی کا بھی علاج ہے۔ عقل و فکر کے انتشار سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ قرآن انسان کو بےفائدہ کاموں میں اپنی جسم و عقل کی قوتوں کے خرچ کرنے سے روکتا ہے۔ اور مفید اور ترقی کے کاموں میں اپنی قوتیں صرف کرنے کے لئے آزاد چھوڑتا ہے۔ وہ انسان کے لئے ایک صحت مند اور مضبوط منہاج زندگی تجویز کرتا ہے۔ انسانی سرگرمیاں فائدہ مند اور محفوظ ہوتی ہیں اور لغزشوں اور بےراہ رویوں سے قرآن انسان کو بچاتا ہے۔ جسمانی میدان میں بھی قرآن انسان کو اعتدال کی راہ دکھاتا ہے۔ وہ حکم دیتا ہے ہے کہ اپنی قوتوں کو اعتدال کے ساتھ صحت مند میدانوں میں خرچ کرو ، نہ جسمانی قوتوں پر غیر ضروری پابندی ہے اور نہ ان کے استعمال میں بےراہ روی کی اجازت دی گئی ہے۔ لہٰذ اجسمانی قوت کی بھی حفاظت کی جاتی ہے ، تاکہ وہ صحت مند میدانوں میں صرف ہو۔ لہٰذا یہ اہل ایمان کے لئے ایک قسم کی رحمت ہے۔ پھر قرآن شریف میں ان اجتماعی بیماریاں کا بھی علاج ہے جن سے کسی سوسائٹی کے اجتماعی نظام میں خلل اور بیماری پیدا ہوتی ہے ، جن سے سوسائٹی کا امن اور سلامتی تباہ ہوجاتی ہے۔ اور افراد معاشرہ کے درمیان کوئی اطمینان نہیں رہتا۔ قرآن ہدایات پر عمل کے بعد اسلامی سوسائٹی اسلام کے اجتماعی عدل اور اجتماعی سلامتی اور امن کے زیر سایہ ، نہایت ہی اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتی ہے ، لہٰذا اس مفہوم میں بھی قرآن رحمت اور شفاء ہے۔ ولا یزید الظلمین الا خسارا (71 : 28) ” مگر ظالموں کے لئے خسارے کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا “۔ کیونکہ ظالم اس نسخہ و شفاء سے استفادہ نہیں کرتے ، جو اس قرآن کے اندر موجود ہے۔ پھر ظالم یوں بھی خسارے میں ہوتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ مسلمان قرا ان کے ریعہ سربلندی حاصل کرتے چلے جاتے ہیں ، وہ دل ہی دل میں کڑھتے ہیں اور ان کو زبردست غصہ آتا ہے ، مگر بےبس ہوتے ہیں اور جہاں ان کا بس چلتا ہے وہ وہاں ظلم و ستم کا ریکارڈ قائم کردیتے ہیں۔ پھر وہ دنیا میں مسلمانوں کے مقابلے میں مغلوب ہوجاتے ہیں لہٰذا وہ خسارے میں ہیں اور آخرت میں ان کے کفر کی وجہ سے ان کو عذاب ہوگا نیز وہ جن سرکشیوں میں غرق تھے اور ان پر اصرار کرتے تھے ان کی وجہ سے انہیں سخت سزا ہوگی۔ لہٰذا اس سے بڑا اور کیا خسارہ ان کو ہوسکتا ہے۔ اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ ظالموں کے لئے خسارے کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ نہ ہوگا۔ اور جب انسان اللہ کی رحمت اور شفاء سے محروم کردیا جائے اور جب اسے اس کی خواہشات نفس اور سفلی جذبات اور میلانات کے حوالے کردیا جائے۔ اگر وہ مالی لحاظ سے خوشحالی ہو تو وہ مغرور ، متکبر اور سرکش ہوجاتا ہے۔ اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا ، اللہ کو یاد نہیں کرتا ، اور اگر اس پر کوئی مصیبت یا بدحالی آجائے تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس اور قنوطی ہوجاتا ہے اور اس کے سامنے زندگی تاریک ہی تاریک نظر آتی ہے۔
Ayah 17:83

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا Open ayah 17:83 in the Quran reader

انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا اور پیٹھ موڑ لیتا ہے ، اور جب ذرا مصیبت سے دوچار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے

زیادہ دولت مندی انسان کو سرکش اور مغرور بنا دیت ہے۔ الایہ کہ کوئی دولت مند یہ یقین رکھتا ہو کہ اس دولت کا عطا کرنے والا اللہ ہے اور وہ اللہ کا شکر بھی ادا کرتا ہو۔ لیکن اگر بدحالی آجائے تو انسان مایوس ہوجاتا ہے اور اس پر قنوطیت چھا جاتی ہے۔ الایہ کہ کسی کا تعلق باللہ مضبوط ہو ، وہ امید کرتا ہے کہ اللہ اس کی مشکلات دور کردے گا تو ایسا شخص اللہ کے رحم و فضل سے مایوس نہیں ہوتا۔ وہ ہر وقت اللہ کے فضل و کرم کا امیداوار اور خوش اور شاکر رہتا ہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی کیا اہمیت ہے۔ غرض مشکلات اور خوشحالی دونوں مین ایمان اللہ کی رحمت اور شفاء ہے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ دنیا میں ہر فریق اپنی طرز زندگی پر جما ہوا ہے ، اب اپنی خواہشات و روایات کے مطابق ہر شخص چلتا ہے اور ہر شخص کے طرز عمل کے بارے میں فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔
Ayah 17:84

قُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ Open ayah 17:84 in the Quran reader

اے نبی ﷺ لوگوں سے کہہ دو کہ ” ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے ، اب یہ تمہارا رب ہی بہترجانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے

یہاں نہایت ہی نرم الفاط میں تنبیہ کی گئی ہے اور ہر شخص کا ڈرایا گیا ہے کہ وہ اپنے رحجان ، طرز عمل اور نظام زندگی کے بارے میں اچھی طرح غور کرلے ، احتیاط کرے اور یہ تسلی کرلے کہ اس کا طرز عمل ، نظام فکر اور نظام زندگی اسلامی ہدایات کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر نہیں ہے تو اسے اللہ کے راستے کی طرف لوٹ آنا چاہیے۔ بعض لوگ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے تھے کہ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ لیکن قرآن کریم کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے کہ جن کی ان کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور انسانی عقل اور قوت مدر کہ ان ہدایات یا ان موضوعات کو سمجھ سکے اور سہولت کے ساتھ اپنی گرفت میں لے سکے۔ لہٰذا اسلام اور قرا ان فکری قوت کو ان موضوعات پر ضائع نہیں کرتا جن کا انسان کو کوئی فائدہ نہیں ، کوئی ضرورت نہیں یا جن موضوعات پر عقل کو رسائی حاصل نہیں ہے جب ان لوگوں نے روح کے بارے میں پوچھا اللہ نے سیدھا سادا جواب دیا کہ روح امر الٰہی ہے اور اس سلسلے میں تمہیں بہت کم علم دیا گیا ہے ۔
Ayah 17:85

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:85 in the Quran reader

یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں ، کہو یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے ، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے

اس آیت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ عقل انسانی پر روح کا انکشاف بند کردیا گیا ہے اور اسے روح کے میدان میں کام نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ یہاں عقل کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دائرہ کار اور اس حد تک محدود رہے جس تک وہ ادراک کرسکتا ہے ، کیونکہ بغیر حقیقی علم و ادراک کے بےتک باتیں کرنے سے حقیقت تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ پھر عقل کی قوت کو ایسے کام میں کھپانا جس کا ادراک عقل کے لئے ممکن ہی نہ ہو ، ایک بےمقصد کام ہے۔ روح در حقیقت اللہ کے غیوب میں سے ایک غیب ہ۔ اللہ کے سوا اس کی حقیقت سے کوئی واقف نہیں ہے۔ نہ اس کا ادراک کوئی کرسکتا ہے۔ اور نہ وہ وسائل انسان کو دئیے گئے ہیں بلکہ یہ ایک لاہوتی راز ہے ، جو اس بشری ڈھانچے میں رکھا گیا ہے ۔ اور بعض دوسری مخلوقات کو بھی دیا گیا ہے ، جس کی حقیقت کو ہم نہیں جانتے۔ پھر انسان کا علم قادر مطلق کے علم کے مقابلے میں بہت ہی محدود ہے۔ اس کائنات کے اسرار و رموز اس قدر گہرے ہیں کہ انسانی عقل کے دائرہ ادارک سے ماوراء ہیں۔ انسان اس کائنات کا مدبر نہیں ہے کیونکہ انسانی قوت اور طاقت اس کائنات پر حاوی نہیں ہے انسان کو تو صرف اس قدر قوت اور حکمت دی گئی ہے جس کے ساتھ وہ اس کرہ ارض پر خلافت فی الارض کا وظیفہ پورا کرسکے۔ اور یہاں وہ کام کرسکے جس کے بارے میں اللہ کی مرضی ہے کہ وہ کرے اور وہ اپنا کام اپنے محدود علم کے مطابق کرے۔ انسان نے اس کرہ ارض پر بیشمار ایجادات کی ہیں لیکن وہ آج تک روح کی حقیقت معلوم کرنے سے صاف عاجز ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ روح کیا ہے ؟ کس طرح یہ روح انسانی ڈھانچے میں ڈالی جاتی ہے۔ کس طرح یہ نکل جاتی ہے یہ پہلے کہاں تھی ، نکل کر کہاں جاتی ہے۔ الایہ کہ علیم وخبیر نے اس سلسلے میں بذریعہ وحی جو علم دیا ہے وہ انسان کا ماخذ علم ہے۔ قرآن کریم میں جو کچھ نازل ہوتا ہے وہ یقینی علم ہے کیونکہ وہ علیم وخبیر کے یقینی ذریعے سے آیا ہے ، اگر اللہ چاہتا تو انسانیت کو اس سے محروم رکھتا اور وہ پیغام ہی انسانوں کے پاس نہ بھیجتا جو اس نے بھیجا لیکن یہ اللہ کا رحم و کرم تھا کہ اس نے وحی الٰہی کے نزول کا سلسلہ شروع کیا۔
Ayahs 17:86–87

وَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:86 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعے سے تم کو عطا کیا ہے ، پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پائو گے جو اسے واپس دلا سکے۔

اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا Open ayah 17:87 in the Quran reader

یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہارے رب کی رحمت سے ملا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے

اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر اپنا احسان جتلاتا ہے کہ اس نے ازراہ کرم تو پر وحی نازل کی۔ اور پھر قرآن کریم کو محفوظ رکھا۔ رسول اللہ سے زیادہ یہ احسان انسانوں پر ہے کیونکہ انسانیت پوری کی پوری اس قرآن کی بدولت رحمت اور ہدایت سے سرفراز ہے۔ اور نسلاً بعد نسل یہ سرچشمہ نور و ہدایت ضوفشاں ہے۔ جس طرح روح اللہ کے اسرار میں سے ہے اور کوئی انسان اس کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ، اس طرح یہ قرآن بھی اللہ کی معجزانہ صفت ہے اور کوئی انسان بلکہ تمام مخلوق بھی جمع ہوجائے تو اس کی نقل نہیں اتارسکتی۔ اور انس و جن و جو ظاہری اور خفیہ مخلوقات ہیں دونوں جمع ہو کر بھی اگر سعی کریں تو قرآن جیسی کتاب ان کے لئے لانا ممکن نہیں ہے۔ اگر چہ وہ ایک دوسرے کے سچے معاون کیوں نہ بن جائیں۔
Ayah 17:88

قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا Open ayah 17:88 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے ، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مدد گار ہی کیوں نہ ہوں

یہ قرآن محض عبارتوں ، تراکیب اور الفاظ کا نام نہیں ہے کہ جن و انس اس کی نقل کرلیں گے۔ بلکہ یہ قرآن اللہ کی دوسری مخلوقات اور عجائب کی طرح ہے جن کی نقل کوئی انسان نہیں کرسکتا۔ یہ روح کی طرح ایک امر الٰہی ہے نہ انسان روح کے اسرار و رموز اور حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ انسان صرف روح کے اوصاف اور آثار کو جانتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کے معانی ، نظریا ات اور اسرار کو پوری طرح انسان نہیں سمجھ سکتے کہ اس جیسے کتاب لے آئیں۔ پھر قرآن ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں انسانی فطرت کے تمام قوانین اور تمام طور طریقوں کو مدنظر رکھ کر یہ حکم تجویز کیا گیا ہے اور یہ نظام ایسا ہے کہ ہر انسانی سوسائٹی کو ہر طرح کے حالات میں راہنمائی فراہم کرسکتا ہے ۔ چناچہ اس میں ایک فرد کے لئے بھی ہدایت ہے ، ایک مختلف النوع سوسائٹی کے لئے بھی ہدایات ہیں۔ اس میں ایسے قوانین وضع کیے گئے ہیں جو زندگی کے تمام نشیب و فراز اور زندگی کے مختلف النوع مسائل کے مکمل اور تشفی بخش حل تجویز کرتے ہیں اور ہر حل پوری طرح مکمل اور ہمہ گیر ہے۔ ان قوانین کے اندر ایسی جامعیت ہے کہ یہ مختلف النوع اور بدلتی ہوئی زندگی کے مختلف حالات میں سے ہر حال پر ، اس کے قوانین منطق ہوتے ہیں۔ خواہ یہ حالات انفرادی زندگی سے متعلق ہوں یا اجتماعی زندگی سے۔ کیونکہ ان قوانین کا مقنن وہ ذات ہے جو اس انسان کے فطری تقاضوں سے اچھی طرح واقف ہے۔ اور انسان کی مختلف النوع ضروریات سے واقف ہے کیونکہ وہ خود انسان کا خالق ہے۔ رہے وہ قوانین اور طرز ہائے زندگی اور تنظمیات جو انسان نے وضع کیے ہیں تو ان کے اندر انسانی کمزوری کی چھاپ اس وقت بھی موجود ہوتی ہے جس وقت کوئی اسمبلی ان قوانین کو وضع کرتی ہے۔ لہٰذا یہ قوانین وقتی ہوتے ہیں بلکہ وقتی ضروریات کے لئے بھی ناکافی ہوتے ہیں اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بوسیدہ ہوجاتے ہیں اور انہیں فرسودہ کہا جاتا ہے۔ جب حالات بدلتے ہیں تو پھر ان قوانین کے بدلنے کے لئے واویلا کیا جاتا ہے تاکہ وہ جدید تقاضوں کو پورا کرسکیں۔ قرآن کریم کے اعجاز کا مفہوم صرف ختم قرآن ، فصیح وبلیغ عبارات اور معانی کے حسن ادا تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جن و انس اس جیسی کتاب لانے سے جو عاجز رہے ہیں اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جن و انس نے آج ایسا انظام حیات تجویز نہیں کیا جو قرآن نے پیش کیا ہے جو ایک مکمل نظام زندگی ہے اور زندگی کے پورے معاملات پر محیط ہے۔
Ayahs 17:89–92

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:89 in the Quran reader

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر لوگ انکار ہی پر جمے رہے

وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ Open ayah 17:90 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا ” ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے۔

اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ Open ayah 17:91 in the Quran reader

یا تیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کردے۔

اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ Open ayah 17:92 in the Quran reader

یا تو آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے۔ یا خدا اور فرشتوں کو …ہمارے سامنے لے آئے۔

ذرا دیکھئے ، یہ لوگ قرآن کریم کی اس معجزانہ شان کو نہ سمجھ سکے اور حضور اکرم ﷺ سے ایسے مادی معجزات اور خوارق عادت امور کے وقع کا مطالبہ کرتے رہے۔ معمولی غور سے معلوم ہوجاتا ہے کہ انکے مطالبات کس قدر طفلانہ ہیں۔ یہ لوگ ذات باری تعالیٰ کے حق میں بھی توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ مطالبہ کرتے وقت انہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ خود ہمارے سامنے حاضر ہوجائے۔ حالانکہ قرآن مجید نے جو تعلیمات پیش کی ہیں ، وہ نہایت ہی معقول انداز میں اور پھیر پھیر کر مختلف اسالیب میں اور مختلف مثالوں کی مدد سے ہر درجہ عقل و فکر کے لوگوں کے لئے سہل انداز میں پیش کی ہیں ، اور یہ تعلیمات اور یہ انداز کلام ابدالا باد کے لئے مفید ہے لیکن فابی اکثر الناس الا کفورا (71 : 98) ” مگر اکثر لوگ انکار پر ہی جمے رہے “۔ اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے کو اس شرط سے مشروط کردیا کہ آپ ہمارے لئے زمین سے چشمے نکال دیں۔ یا آسمان کا کوئی ٹکڑا ان پر عذاب بن کر گرے جس طرح آپ ہمیں ڈراتے ہیں کہ قیامت کے دن آسمان پھٹ جائے گا یا یہ کہ اللہ اور ملائکہ ہمارے سامنے آکر حاضر ہوجائیں اور اللہ اور فرشتے رسول اللہ ﷺ کے ھق میں ایسی مداخلت کریں۔ جیسی مدافعت قبائل ایک دوسرے کے لئے کرتے ہیں۔ یا یہ کہ نہایت ہی قیمتی دھاتوں سے ان کے لئے ایک محل بنے یا یہ کہ حضور ﷺ ان کے سامنے آسمانوں پر چڑھ جائیں اور وہ دیکھ رہے ہوں اور اس طرح واپس آئیں کہ آپ ﷺ کے ہاتھ میں ایک کتاب ہو جسے وہ پڑھ سکیں۔ یہ تھے ان کے مطالبات۔ ان کے تصور اور قوت مدرکہ کی ناپختگی کا اظہار ان مطالبات سے ظاہر ہے۔ نیز ان مطالبات سے ان کی ہٹ دھرمی بھی اچھی طرح معلوم ہوتی ہے۔ وہ ایک طرف یہ مطالبہ کرتے ہیں آپ کے پاس قیمتی دھاتوں کا بنا ہوا مکان ہونا چاہیے اور دوسری طرف سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ زمین سے آسمان کی طرف چڑھ جائیں۔ ایک طرف زمین سے چشمے نکالنے کا مطالبہ اور دوسری طرف سے فرشتوں اور خدا تعالیٰ سے یہ مطالبہ کہ وہ ان کے سامنے چلے آئیں۔ ان کے ذہن میں ان تمام باتوں کے درمیان مشترک چیز یہ ہے کہ یہ سب خارق عادت امور ہیں۔ اگر حضرت محمد ﷺ ان شرائط کو پورا کردیں تب وہ ایمان لانے پر غور کرسکتے ہیں اور آپ ﷺ کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی کند ذہنی کا حال یہ ہے کہ ان کو قرآن کی شکل میں آنے والا معجزہ نظر نہیں آتا۔ بار بار کے چیلنج کے باوجود وہ نہ لفظ میں ، نہ نظم و ترکیب میں ، نہ اسلوب میں اور نہ معانی میں اور نہ نظام زندگی کے اعتبار سے اس جیسی کتاب لاسکے ہیں۔ ان کے حواس اور قوائے مدرکہ اس اعجاز کا ادراک تو نہیں کرسکتیں البتہ ایسے معجزات کے یہ لوگ طلبگار ہیں جن کو ان کی حواس دیکھ سکیں۔ معجزات جن کا صدور پیغمبروں کے ہاتھوں ہوا کرتا ہے وہ کسی پیغمبر کی کار ستانی نہیں ہوتی نہ پیغمبر کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ معجزات دکھاتا پھرے۔ یہ کام تو خداوند کریم کا ہے۔ وہ اپنی حکمت اور اسکیم کے مطابق معجزات بھی ظاہر کرتا ہے۔ نیز کسی رسول کو یہ حق بھی نہیں ہے کہ وہ ان معجزات کا مطالبہ کرے۔ اگر اللہ ان کا صدور نہ چاہتا ہو ، اس کائنات کو تدبیر میں اللہ کی جو حکمتیں کار فرما ہوتی ہیں ان کو جانتے ہوئے اور بارگاہ تعالیٰ میں ادب و احترام کا لحاظ کرتے ہوئے ، رسولوں کی عادت اور آداب یہ ہوتے ہیں کہ وہ کسی قسم کے معجزے کا مطالبہ نہیں کیا کرتے۔
Ayah 17:93

اَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ Open ayah 17:93 in the Quran reader

یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چرھ جائے ، اور تیرے چرھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر اتار لائے جس ہم پڑھیں۔ اے نبی ، ان سے کہو ” پاک ہے میرا پروردگار ، کیا میں پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں

قل سبحان ربی ھل کنت الا بسرا (39) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو ” پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں ؟ “ یہ ہے ادب رسول ، جو اپنی بشریت کی حدود پر جا کر رک جاتے ہیں ، رسول اپنے مقررہ فرائض منصبی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ وہ اللہ سے مطالبات نہیں کرتے۔ اور اپنے فرائض کے حدود سے آگے بڑھ کر بھی کام نہیں کرتے۔ وہ بڑا شبہ جو مختلف اقوام و ملن کو حضرت محمد ﷺ سے قبل لاحق ہوا اور آپ ﷺ کی بعثت کے بعد بھی کئی ملتوں کو لاحق ہوا اور جس کی وہ سے ان اقوام نے رسولوں کی تصدیق نہ کی اور ان ہدایات کو تسلیم نہ کیا جو رسول لے کر آئے تھے وہ یہ تھا کہ یہ لوگ اس بات کو مستبعد سمجھتے تھے کہ کوئی رسول بشر بھی ہوسکتا ہے اور یہ کہ رسول فرشتہ نہیں ہوتا۔
Ayah 17:94

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:94 in the Quran reader

لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی ، تو اس پر ایمان لانے سے ان کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر ان کے اسی قول نے کہ ” کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا

لوگوں کے درمیان یہ وہم اس لئے پھیلا کہ انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ اللہ کے ہاں انسان کی انسانیت اور بشریت کی کیا قدر ہے۔ اس لئے انہوں نے اس بات کو مناسب نہ سمجھا کہ کوئی بشر اللہ کا رسول بن جائے۔ نیز انہوں نے اس کائنات کے مزاج اور فرشتوں کے مزاج اور نوعیت کے سمجھنے میں بھی غلطی کی۔ کیونکہ فرشتوں کو اللہ نے اس لئے پیدا ہی نہیں کیا کہ وہ کرہ ارض پر بسیں اور یہاں لوگ انہیں جانیں اور پہنچانیں اور وہ فرشتوں کی شکل میں ہوں۔
Ayah 17:95

قُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا Open ayah 17:95 in the Quran reader

ان سے کہو ، اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو ان کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجتے

اگر اللہ نے یہ فیصلہ کیا ہوتا کہ زمین میں فرشتے بسیں تو وہ آدمیوں کی شکل و صورت میں ہوتے کیونکہ آدمی کی شکل و صورت ایسی ہے جو اس کرہ ارض پر سکونت کے لئے مناسب ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ کہا گیا ہے۔ ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا (6 : 9) ” اگر ہم پیغمبر کو فرشتہ بناتے تو بھی وہ ایک آدمی ہی ہوتا “۔ اور اللہ تو سب چیزوں پر قدرت رکھتا ہے۔ لیکن اللہ نے اس کرہ ارض کے لئے نوامیس قدرت بنائے ہیں اور ان نوامیس قدرت کے مطابق انسان کی تخلیق کی ہے۔ اسی طرح دوسری مخلوقات کو بھی ان کے مطابق بنایا ہے۔ اور یہ طے کیا ہے کہ یہ قوانین قدرت جاری وساری رہیں گے اور یہ کائنات ان کے مطابق چلتی رہے گی تاکہ اس کی حکمت خلق وتکوین پوری ہو لیکن افسوس ہے کہ لوگ اللہ کی حکمت تخلیق کائنات اور انسان کو نہیں سمجھتے۔ چونکہ اللہ کی حکمت یہ ہے ، تو اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ جدل وجدال نہ کریں۔ اور تمام امور کو اللہ کے حوالے کردیں۔ وہ دیکھ رہا ہے ان لوگوں کے معاملات میں تصرف چھوڑ دیں۔ اللہ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ اور ان کے اعمال سے بھی خبردار ہے۔
Ayah 17:96

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:96 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے ، وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے

اس بات میں ایک قسم کی جھڑکی اور تہدید کا رنگ ہے۔ اللہ تو گواہ ہے لیکن اس گواہی کا انجام کیا ہوگا تو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر دیکھئے۔
Ayah 17:97

وَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا Open ayah 17:97 in the Quran reader

جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے ، اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اس کے سوا ایسے لوگوں کے لئے تو کوئی حامی و ناصر نہیں پاسکتا۔ ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منہ کھینچ لائیں گے ، اندھے ، کوئلے اور بہرے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔

اللہ نے ہدایت و ضلالت کے کچھ قوانین بنائے ہیں اور لوگوں کو ان قوانین کے مطابق طرز عمل اختیار کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دیا ہے۔ اور ان قوانین کے مطابق و نفع و نقصان کے ذمہ دارہوں گے۔ ان قوانین میں سے ایک یہ قانون بھی ہے کہ انسان ہدایت و ضلالت دونوں کی استعداد رکھتا ہے۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ ہدایت کے رولز کے مطابق راہ اختیار کرتا ہے یہ ضلالت کے رولز اپناتا ہے۔ جو ہدایت کے اصول اور سنن اپناتا ہے وہ ہدایت کا مستحق ہوجاتا ہے اور جو ضلالت کے اصول اور سنن اپناتا ہے وہ ضلالت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ اس نے گمراہی کا اپنایا اور ہدایت کے اصولوں سے اعراض کیا۔ ایسے لوگوں کو اللہ کے عزاب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ فلن تحدلھم اولیاء من دونہ (71 : 79) ” اللہ کے سوا ایسے لوگوں کے لئے کوئی حامی و ناصر نہ ہوگا “۔ اور ایسے لوگوں کو اللہ قیامت کے دن نہایت ہی توہین آمیز اور خوفناک صورت میں اٹھائے گا۔ علی وجوھھم (71 : 79) ” اوندھے منہ “۔ یہ ہاتھوں کے سہارے چل رہے ہوں گے۔ عمیا وبکما وصما (71 : 79) ” اندھے ، گونگے اور بہرے “ ۔ ان کے وہ تمام اعضاء جو اس اژدھام میں ان کے لئے مفید ہوسکتے تھے سب کے سب بےکار ہوچکے ہوں گے اور یہ اس لئے کیا جائے گا کہ دنیا میں ان کو یہ اعضا اس لئے دئے گئے تھے کہ یہ لوگ ان کو صحیح کام میں لائیں اور ہدایت کے دلائل کو سمجھنے کی سعی کریں مگر انہوں نے ان اعضاء وجوارح کر بری راہوں میں استعمال کیا۔ ماوھم جھنم (71 : 79) ” ان کا ٹھکانا جہنم ہے “۔ ایسی آگ جو کبھی بجھتی نہیں اور نہ سرد پڑتی ہے۔ کلما خبت زدنھم سعیرا (71 : 79) ” جب بھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے بھڑکا دیں گے “۔ یہ نہایت ہی خوفناک انجام ہے اور یہ نہایت ہی ڈرائونی سزا ہے لیکن یہ لوگ اس کے مستحق اس لئے ہوگئے ہیں کہ انہوں نے آیات الیہ کا کفر کیا۔
Ayah 17:98

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:98 in the Quran reader

: یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا ” کیا ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اٹھا کر کھڑا کیا جائے گا ؟

ذلک جزا اوھم بانھم کفروا بایتنا (71 : 89) ” یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا “۔ انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کیا۔ اور وقوع قیامت کو مستبعد سمجھتا۔ وقالواء ………جدیدا (71 : 89) ” اور کہا کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اتھا کر کھڑا کیا جائے گا “۔ سیاق کلام میں اس منظر کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے گویا وہ آج موجود ہے۔ اور وہ دنیا جس میں وہ رہ رہے تھے اسے گویا لپیٹ لیا گیا ہے اور وہ ماضی بعید بن گئی ہے۔ یہ قرآن کا مخصوص انداز بیان ہے کہ وہ مستقبل کے واقعات کو نہایت ہی مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور منظر یوں نظر آتا ہے کہ گویا وہ ایک زندہ واقعہ ہے اس طرح واقعات کا اثر دلوں پر بہت ہی گہرا ہوتا ہے۔ اور انسانی شعور پر یہ واقعات اپنا پورا اثر التے ہیں۔ اب قرآن مجید حقیقی صورت حالت ان کے سامنے رکھتا ہے اور انداز سخن بھی واقعی بن جاتا ہے۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ تم اس حقیقت کو دیکھ رہے ہو مگر غفلت سے کام لے رہے ہو۔
Ayah 17:99

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 17:99 in the Quran reader

کیا ان کو یہ نہ سوچھا کہ جس خدا نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرور قدرت رکھتا ہے ؟ اس نے ان کے حشر کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے ، مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے

اولم یروا……(71 : 99) ” کیا ان کو یہ نہ سوجھا کہ جس خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے “۔ لہٰذا بعثت بعد الموت میں کیا انہونی بات ہے ، اللہ اس عظیم کائنات کا خالق ہے۔ وہ ان جیسے آسمان و زمین کو پیدا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ لہٰذا وہ ان کو ختم کرکے دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ وجعل ……(71 : 99) ” اس نے ان کے حشر کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے “۔ میں ان کو مہلت دے رہا ہوں اور ان کا وقت مقرر ہے۔ فابی ……(71 : 99) ” مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے “۔ لہٰذا ان ظالموں کو جو سزا ہوگی وہ دلائل و مشاہدات اور آیات کی وضاحت کے اعتبار سے معقول ہوگی۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے ان معجزات کا مطالبہ کرتے تھے اور یہ مطالبات نہایت ہی نامعقول تھے مثلاً یہ کہ قیمتی دھاتوں کا مکان ، کھجوروں اور انگوروں کا باغ اور زمین سے پھاڑ کر چشمے نکالنا ، مگر تم لوگ خود اس قدر بخیل ہو کہ اگر اللہ کی رحمت کے خزانوں کی کنجیاں تمہیں دے دی جائیں تو ان میں سے کچھ بھی خرچ نہ کرتے اور ہاتھ روک لیتے کہ کہیں یہ خزانے ختم نہ ہوجائیں حالانکہ اللہ کی رحمت کے خزانے ختم ہونے والے نہیں ہوتے۔
Ayah 17:100

قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ Open ayah 17:100 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان سے کہو ، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے۔ واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے

بخل اور کنجوسی کی یہ حد ہے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ اس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اس کے ختم ہونے کا کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ نہ اس میں کوئی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ لیکن وہ اس قدر بخیل ہیں کہ اگر سمندر پر بھی بیٹھے ہوں تو ان کو پانی کی کمی نظر آتی ہے۔ اس طرح ان کو اللہ کی رحمت میں بھی کمی نظر آتی ہے۔ بہرحال اگر ان کے سامنے وہ معجزات کثرت سے بھی لائے جائیں جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ، ان کے دل چونکہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں اس لئے یہ نہ مانیں گے۔ دیکھو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو۔ 9 بڑے معجزات دئیے گئے ، مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے مان کر نہ دیا۔ اس لئے اس پر تباہی آئی۔
Ayah 17:101

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا Open ayah 17:101 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نشانیاں عطا کی تھیں جو صریح طور پر دکھائی دے رہی تھیں۔ اب یہ تم خود بنی اسرائیل سے پوچھ لو کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ہاں آئے تو فرعون نے یہی کہا تھا تاکہ ” اے موسیٰ میں سمجھتا ہوں کہ تو ضرور ایک سحر زدہ آدمی ہے

قصہ بنی اسرائیل کو یہاں اس لیے لایا گیا ہے کہ سورت کے مضمون کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔ مسجد اقصیٰ اور بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ یہاں دیا گیا ہے۔ اس قصے کے آخر میں بھی آخرت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور فرعون اور اس کی قوم کے لئے آنے کا تذکرہ ہے۔ یہ ان مناظر قیامت کی مناسبت سے ہے جو ابھی سورت میں گزرے تھے اور جن میں بتایا گیا تھا کہ مکذبین کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے نو معجزات جن کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا وہ یدبیضا ، عصا ، فرعون اور اس کی قوم پر خشک سالی ، ہر قسم کی پیداوار کی کمی ، طوفان ، ٹڈی دل ، قمل ، مینڈک اور خون تھے۔ فسئل بنی اسرائیل ……(71 : 101) ” فرعون نے اس سے کہا اے موسیٰ میں سمجھتا ہوں تو ضرور سحر زدہ آدمی ہے “۔ سچی بات ، عقیدہ توحید ، ظلم و سرکشی کا ترک کرنا اور لوگوں کو ایذا نہ دینے کی دعوت دیتا ، ایک باغی اور سرکش شخص کے نزدیک ایک سحر زدہ شخص کا کام ہے۔ کوئی معقول آدمی یہ کام نہیں کرسکتا۔ کیونکہ فرعون کی طرح کے سرکش اور مغرور ڈکٹیٹر ان باتوں کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ ان کے سامنے تو کوئی شخص سر اٹھا کے نہیں چل سکتا۔ چہ جائیکہ وہ ایسی باتیں کرے۔ ان کے خیال میں کوئی معقول فرد ایسی باتیں نہیں کرسکتا ۔ سر پھرے ہی ایسی باتیں کرتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) تو ایک بہادر آدمی تھے اور ان کا دل سچائی کے نور اور خدائی روشنی سے بھرا ہوا تھا۔ وہ مطمئن تھے کہ اللہ کی امداد اور سر پرستی انہیں حاصل ہے۔ تو انہوں نے کہا۔
Ayah 17:102

قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا Open ayah 17:102 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے جواب میں کہا ” تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں زمین اور آسمانوں کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں ، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے

قال لقد ……(71 : 201) ” انہوں نے کہا ، تو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں زمین اور آسمانوں کے رب کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں ، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے “۔ تو ہلاک ہونے والا اور تہس نہس ہونے والا ہے۔ کیونکہ تو آیات اہلیہ کی تکذیب کر رہا ہے۔ تو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور ان خارق عادت معجزات کا صدور و ظہور نہیں کرسکتا۔ یہ نہایت ہی واضح اور بصیرت افروز نشانیاں ہیں۔ گویا یہ نشانیاں خود انکھیں ہیں جن کی وجہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اب یہ سرکش آدمی اپنی مادی قوت کا سارا لیتا ہے۔ اور یہ عزم کرتا ہے کہ وہ موسیٰ کو زمین سے نکال کر ان کی قوم کو تباہ برباد کردے گا۔