17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 17:103–104

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ Open ayah 17:103 in the Quran reader

آخر کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے ، مگر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کردیا

وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ Open ayah 17:104 in the Quran reader

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو ، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا ، تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لاحاضر کریں گے

فاراد ان یستفزھم من الارض (71 : 301) ” آخر کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے “۔ تمام ڈکٹیٹر اور سرکش لوگ کلمہ حق کے بارے میں یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ ان کے پاس کلمہ حق کا یہی جواب ہوتا ہے۔ اس مقام پر آکر ایسے سرکشوں پر اللہ کا کلمہ اور اللہ کی سنت کا اطلاق برحق ہوجاتا ہے اور پھر اللہ کی اٹل سنت کے مطابق ، ظالموں کو ہلاک کردیا جاتا ہے اور زمین کے اندر جو کمزور اہل ایمان اور صبر کرنے والے طبقات ہوتے ہیں ، ان کو زمین کو وارث بنا دیا جاتا ہے۔ فاغرقنہ………(401) (71 : 301۔ 401) ” مگر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کردیا اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو ، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا ، تو ہم تو سب کو ایک ساتھ لاحاضر کریں گے “۔ یہ تھا انجام آیات الٰہی کے جھٹلانے کا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین کے اقتدار کا وارث ان لوگوں کو بنایا ، جو زمین میں پسے ہوئے تھے۔ اور اب ان کو کہا گیا کہ تمہارے مستقبل کا دار و مدار تمہارے اعمال و افعال پر ہوگا۔ اس سورت کے آغاز میں بتا دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا تھا ؟ یہاں صرف یہ کہا جاتا ہے کہ تم اور تمہارے دشمن اب قیامت کے سپرد ہیں اور جب قیامت برپا ہوگی تو تم سب کو لپیٹ کر اللہ لے آئے گا۔ یہ تھی مثال اس پیغمبر کی جو نو خوارق عادت معجزات لے کر آئے اور ان کا استقبال جھٹلانے والوں نے اس طرح کیا۔ اور اللہ کی اٹل سنت نے پھر اپنا کام یوں کیا۔ رہا یہ قرآن تو یہ تو ایک ابدی سچائی لے کر آیا ہے۔ اور اسے تھوڑا تھوڑا کرکے وقفے وقفے کے بعد نازل کیا گیا ہے تاکہ آپ اسے لوگوں کو پڑھ کر مہلت بعد مہلت کے ساتھ سنائیں۔
Ayahs 17:105–106

وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ Open ayah 17:105 in the Quran reader

اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے ، اور اے ہمارے نبی تمہیں ہم نے اس کے سوا اور کسی کام کے لئے نہیں بھیجا کہ (جو مان لے اسے) بشارت دے دو اور (جو نہ مانے اسے ) متنبہ کر دو ۔

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھہر ٹھہر کر اسے لوگوں کو سنائو اور اسے ہم نے (موقع موقع سے) بتدریج اتارا ہے

نزول قرآن کا مقصد ایک امت کی تشکیل و تربیت تھا۔ پھر اس امت کے لئے ایک نظام حیات کی تشکیل قرآن کے پیش نظر تھی تاکہ یہ امت قرآن اور اس نظام کو لے کر اکناف عالم میں پھیل جائے۔ اور تمام انسانیت کو اس مکمل اور خود کفیل نظام حیات کی تعلیم دے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب متفرق طور پر مختلف اوقات میں اس امت کی واقعی ضرورت کے مطابق اترتی رہی۔ اور ان حالات کے مطابق اس کا نزول ہوتا رہا۔ جن حالات میں اس امت کی دو اول میں تربیت ہو رہی تھی۔ چونکہ مقصد ایک امت کی تربیت تھا۔ اس لئے نزول قرآن بھی متفرق طور پر ایک طویل عرصے تک ہوتا رہا کیونکہ کسی جماعت کی تربیت کے لئے ایک طویل عرصہ درکار ہوتا ہے۔ یہ تربیت عملی تجربات کی شکل میں ایک طویل عرصہ تک ہوتی رہتی ہے۔ چناچہ یہ قرآن آیا اور اس نے اپنے ایک ایک جزئی حکم کو عملی مرحلے میں نافذ کیا اور وہ ایک نظام کی شکل اختیار کر گیا۔ یہ نظام محض نظریاتی قانون سازی کی شکل میں نہیں آیا۔ نہ یہ مجرد فکر اور نظریہ کی شکل میں پیش ہوا ، کیونکہ نظریاتی بحثیں محض ذہنی عیاشی اور محض پڑھنے پڑھانے کے لئے ہوتی ہیں۔ یہ تھی قرآن مجید کے متفرق نزول کی حکمت۔ اور یہی وہ تھی کہ قرآن مجید کو یکبار ایک کتاب کی شکل میں نہیں اتارا گیا۔ قرآن کریم مسلمانوں کی پہلی نسل نے خد اور سول سے اس طرح اخذ کیا کہ یہ ان کے لئے ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں عملی ہدایات تھیں۔ جب بھی کوئی امر آیا یا نہی وارد ہوئی ، جب بھی کوئی اخلاقی ادب سکھایا گیا یا کوء فریضہ نازل ہوا تو یہ عمل کے لئے تھا۔ مسلمانوں نے قرآن مجید کو محض پڑھنے پڑھانے اور ذہنی اور نظریاتی اور نفسیاتی عیاشی کے طور پر نہیں لیا۔ جیسا کہ وہ شعر و ادب کو لیتے تھے۔ نہ وہ لہو ولعب کے طور پر اسے لیتے تھے جس طرح وہ قصے کہانیوں کو بطور لہو و لعب استعمال کرتے تھے۔ جب بھی قرآن نازل ہوا انہوں نے اس کی کیفیات کو اپنے اوپر طاری کردیا۔ اپنی روز مرہ کی زندگی میں اسے عملی شکل دے دی۔ ان کا شعور اور ان کا ضمیر اس رنگ میں رنگا گیا۔ قرآن ان کے طرز عمل اور ان کی سرگرمیوں پر چھا گیا۔ ان کے گھروں ، ان کے بازاروں میں قرآن کا دور دورہ ہوگیا اور وہ ان کے لئے ایک نظام زندگی بن گیا اور انہوں نے قرآن کے علاوہ ہر طور طریق کو ترک کردیا۔ جو طور طریقے ان کو وراثت میں جاہلیت سے ملے تھے یا جن کو وہ جانتے تھے یا جن کے مطابق وہ نزول قرآن سے قبل چل رہے تھے۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرمتے ہیں کہ ہم میں سے جو شخص دس آیات پڑھ لیتا تھا تو وہ آگے نہ بڑھتا تھا جب تک وہ ان کا مفہوم نہ جان لیتا اور ان پر عمل نہ کرلیتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن مجید حق پر قائم ہوتے ہوئے اتارا ہے۔ وبالحق انزلنہ (71 : 501) ” اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے “۔ یہ اس لئے نازل ہوا کہ زمین پر سچائی کو مستقلا ٹھہرا دے اور اس کی بنیادیں مضبوط کردے۔ وبالحق نزل (71 : 501) ” اور یہ قرآن بھی حق کے ساتھ اترا “۔ گویا اس کا مواد بھی سچائی پر مشتمل ہے اور اس کی غرض وغایت بھی سچائی ہے۔ اس کا بنیادی عصر ہی سچائی ہے اور اس کی اہم تعلمات بھی سچائی پر مبنی ہیں۔ وہ حق اور سچائی جو اس کائنات میں کارفرما ناموس قدرت کی شکل مین رواں اور جس حق و سچائی کی قوت پر یہ کائنات قائم ہے ، اور جس سچائی کے ساتھ یہ کائنات اور ارض و سما پیوستہ ہیں اسی کے ساتھ یہ قرآن بھی مربوط ہے۔ یہاں قرآن اسی نظام کائنات (حق) کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یہی سمجھتاتا ہے کہ یہ قرآن بھی اس عظیم تکوینی سچائی کا ذریعہ ہے۔ پس حق قرآن مجید کا جسم و جان ہے اور حق ہی اس کا بنیادی عنصر اور اس کا مقصود ہے اور رسول مبشر ، نذیر اور مبلغ ہے اس عظیم سچائی کا ، جسے وہ لے کر آیا ہے۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اس حق کے ذریعے اپنی قوم کا مقابلہ کریں۔ اور انہیں چھوڑ دیں کہ وہ جو راہ اختیار کرنا چاہیں اختیار کریں۔ اگر چاہیں تو قرآن پر ایمان لائیں ، اگر چاہیں تو نہ لائیں۔ لیکن وہ جو راہ بھی اختیار کریں گے اس راہ کے نتائج و عواقب کے وہ ذمہ دار ہوں گے اور ان لوگوں کے سامنے بطور مثال ان اہل کتاب کو پیش کردیں ، یہودو نصاریٰ کو ان میں سے جنہوں نے قرآن مجید پر ایمان لایا ہے۔ شاید کہ وہ ان کے لئے اچھی مثال کا کام کریں۔ کیونکہ قریش تو امی ہیں۔ ان کہ پاس نہ تو تعلیم ہے۔ اور نہ ان کو اس سے قبل کوئی کتاب دی گئی ہے۔
Ayahs 17:107–108

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانو یا نہ مانو ، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ، انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور پکار اٹھتے ہیں ” پاک ہے ہمارا رب “ اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا

یہ نہایت ہی پر تاثیر منظر ہے۔ ان لوگوں کا منظر جنہیں اس سے قبل علم دیا گیا تھا۔ وہ قرآن سنت ہیں۔ ان پر خوف کی حالت طاری ہوجاتی ہے۔ یخرون للاذقان (71 : 701) ” اور وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں “ ۔ یہ سجدہ نہایت ہی بےساختہ ہوتا ہے۔ وہ سجدے میں نہیں گرتے بلکہ ان کی ٹھوڑیاں سجدہ کرتی ہیں۔ پھر ان کے احساسات کے اندر جو چیز ان کو چھبتی ہے وہ اس کا اظہار کرت ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت اور اللہ کے وعدوں کے سچا ہونے کے احساس کا اظہار کرتے ہیں۔ سبحن ……(71 : 801) ” پاک ہے ہمارا رب اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا “۔ وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ کہ ان کے تاثرات کو الفاط میں قلم بند نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے دل جوش میں آتے ہیں اور ان کے تاثرات آنسوئوں کی شکل میں باہر آجاتے ہیں۔ ویخرون للاذقان یبکون (81 : 901) ” اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں “۔
Ayah 17:109

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اسے سن کر ان کو خشوع اور بڑھ جاتا ہے

ویزیدھم خشوعا (71 : 901) ” اور قرآن کو سن کر ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے “۔ جبکہ اس سب قتل وہ نہایت ہی خشوع اور عاجزی سے اس کا استقبال کرچکے تھے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو نہایت ہی گہرے شعوری تاثرات کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ فیوض قرآن سے مسفتید ہونے کے لئے اپنے دلوں کو کھول دیتے ہیں ، جو قرآن مجید کی حقیقت ، اس کی قدر و قیمت اور اس کی تعلیمات کو جانتے ہیں اور جو لوگ قرآن سے قبل کتب الہیہ کے علوم سے واقف ہوتے ہیں ایسے لوگ قرآن کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، اس لئے کہ حقیقی علم وہی ہے جو کتب سماوی نے دیا ہے اور جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یہ منظر یہاں ایسے حالات میں پیش کیا گیا ہے کہ اہل مکہ نہایت ہی خلجان اور حیرت میں تھے کہ وہ اس علم کو قبول کریں یا نہ کریں جو قرآن دیتا ہے۔ ایسے حالات میں علمائے اہل کتاب کا یہ منظر پیش کرنے کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کی ذات کو کوئی جس نام سے پکارے پکار سکتا ہے۔ اس کے لئے کئی اسمائے حسنی ہیں۔ جاہلیت میں یہ لوگ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرتے تھے۔ وہ رحمن کو اللہ کا نام نہ سمجھتے تھے اس لئے کہا گیا کہ اللہ کے اسمائے صفات بیشمار ہیں جن سے چاہو ، اسے پکارو۔
Ayahs 17:110–111

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان سے کہو ” اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر ، جس نام سے بھی پکارو ، اس کے لئے سب اچھے ہی نام ہیں اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے ، ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہو “ تعریف ہے اس خدا کے لئے جس نے کسی کو بنیا بنایا ، نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے ، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو “۔ اور اس کی بڑائی بیان کرو ، کمال درجے کی بڑائی

یہ تو اوہام جاہلیت ہیں اور بت پرستی کی واہی باتیں ہیں کہ اللہ کے لئے رحمن کا لفظ استعمال نہ کرو ، ایسی باتوں کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اب پیغمبر ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ نماز میں ، صبر اور خفا میں میانہ روی اختیار کریں ، کیونکہ وہ لوگ حضور ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر مذاق اور ٹھٹھے کرتے تھے۔ اور اس طرح کر نا اللہ کے حضور حاضر ہوتے وقت زیادہ مناسب بھی ہے۔ ولا تجھر بصلاتک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا۔ (011) ۔ جس طرح سورت کے مضامین کا آغاز یوں ہوا تھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور اس کا کوئی شریک اور بیٹا نہیں ہے۔ اور اس کو دلی اور مدد گار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ علی و کبیر ہے ، تو اسی مضمون پر اس سورت کا خاتمہ بھی ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سورت کے مضامین کا محور یہی ہے۔ انہی مضامین سے اس کا آغاز ہوا اور انہی پر اس کا اختتام ہوا۔