Ayah 17:23وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ
” تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ : تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو ، مگر صرف اس کی “۔ شرک کے بعد اب یہ حکم بھی دے دیا کہ بندگی بھی صرف اللہ کی کرو ، اور یہ حکم فیصلے کی صورت میں دیا گیا ہے۔ یعنی جس طرح فیصلہ ایک حتمی امر ہوتا ہے اور اس کی تعمیل ضروری ہوتی ہے ، اسی طرح اس حکم کی تعمیل بھی ضروری ہے۔ لفظ قضی سے حکم کو مزید تاکیدی کردیا گیا ، اس کے علاوہ نفی اور استثنی بذات خود ایک تاکیدی اور حصری انداز ہے کہ یہی کچھ ہو اور اس کے سوا کچھ نہ ہو۔ چناچہ انداز بیان کے اندر تاکید مزید کا طریقہ اختیار کیا گیا کیونکہ توحید فی العقیدہ اور توحید فی العبادۃ نہایت ہی اساسی مسائل ہیں۔
اور جب یہ قاعدہ اور بنیاد اور اساس رکھ دی گئی تو اب انفرادی احکام صادر ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور اجتماعی احکام اور قوانین وضع ہونے لگتے ہیں۔ اس سے قبل ذہنوں میں عقیدہ توحید بٹھا دیا گیا ہے۔ اس عقیدے کے ذریعے اعمال اور فرائض و قوانین کا داعیہ بھی نفوس کے اندر پیدا ہوچکا ہے۔
انسان کے لئے سب سے پہلا راطہ رابطہ عقیدہ ہے۔ عقیدے اور نظریات ہی انسانوں کو متحد رکھ سکتے ہیں۔ عقائد و نظریات کے بعد انسانیت کے لئے پہلا یونٹ خاندان کا یونٹ ہے اور خاندان کی تشکیل والدین سے ہوتی ہے ، اس لئے پہلا حکم یہ دیا جاتا ہے کہ اللہ وحدہ کی بندگی کے پہلا حکم یہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور اسلام میں اس کی بہت اہمیت ہے ، یہ پہلی قدر ہے۔
وبالوالدین احسانا……صغیرا۔ (42) ۔
نہایت ہی خوبصورت انداز کلام اور نہایت ہی نرم اور پرسوز الفاظ کے ساتھ قرآن کریم اولاد کے دلوں میں والدین کے حق میں عزت و احترام پیدا کرتا ہے اور ان کے وجدان اور ان کے دل میں جذبات عطوفت کو موجزن کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب زندگی اپنی راہوں پر رواں دواں ہوتی ہے تو تمام لوگوں کی نظریں ، جذبات اور اہتمام اور توجہ آگے کی طرف ہوتی ہے۔ ہر انسان پیچھے والدین کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے آگے اپنی اولاد کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اگلی نسل کی فکر یہ سب کو ہوتی ہے ، کم لوگ ہوتے ہیں جو پیچھے کی طرف دیکھتے ہیں۔ والد والدہ اور گزرنے والوں کی طرف توجہ کم لوگوں کی ہوتی ہے ، چناچہ قرآن کریم نے اس ضرورت کو محسوس کیا کہ والدین اور جانے والی نسل کی بابت اولاد کے وجدان اور شعور کو جگایا جائے تا کہ وہ پیچھے دیکھ کر والدین کے ساتھ حسن سلوک کریں۔
تمام والدین کے اندر فطری داعیہ ہوتا ہے کہ وہ اولاد کا غم کھائیں ، والدین تو بچوں کے لئے اپنی جان تک دے دیتے ہیں ، جس طرح ایک دانہ خاک میں مل کر ایک پوردے کی شک میں اختیار کتا ہے اور خود گم ہوجاتا ہے اور انڈے کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہ سب کچھ بچے کی شکل اختیار کر لیت ا ہے۔ اس طرح بچے اپنے والدین سے تمام رس ، تمام قوت ، تمام اہتمام اور تمام طاقت نچوڑ لیتے ہیں اور والدین ناتواں اور بوڑھے ہوجاتے ہیں ، بسا اوقات موت اپنی مہلت دے دیتی ہے ، اور وہ نہایت ہی بےبسی کی زندگی گزارتے ہیں۔ جہاں تک بچوں کا تعلق ہے تو وہ بہت جلد یہ سب کچھ بھول جاتے ہیں اور وہ آگے کو دیکھتے ہیں اور خود اپنے فرائض منصبی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ان کی توجہ اپنی بیوی بچوں کی طرف ہوتی ہے اور یوں زندگی کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ والد اور والدہ کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنی اولاد کا خیال رکھیں بلکہ اولاد کو اس تلقین کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے ضعیف والدین کا خیال رکھیں اور اس سلسلے میں ان کے شعور و وجدان کو جگانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس نسل کی بہبود کا بھی خیال رکھیں جس نے اپنے خون کا آخری قطرہ خشک کرے ان کو پروان چڑھایا۔ یہاں تک کہ وہ خود خشک اور ضعیف ہوگئے۔
والدین کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کا حکم اللہ نے قضا اور فیصلہ کی شکل میں دیا۔ یعنی یہ اللہ کا فیصلہ ہے ، اور ہر حاکم اپنے فیصلہ کو نافذ کراتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حکم نہایت ہی تاکیدی ہے جو ڈگری کی شکل میں ہے۔ جس طرح اس سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ اللہ نے فیصلہ دیا ہے کہ صرف اس کی بندگی کرو۔
اس کے بعد والدین کے بارے میں نہایت ہی رحیانہ وکریمانہ اور شفیقانہ انداز گفتگو ہے۔ نہایت ہی جذباتی انداز میں ایام طفولیت میں والدین کی مشقتوں کا ذکر کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ بچے کے ساتھ کس قدر پیار و محبت کا سلوک انہوں نے کیا تھا۔
اما یبلغن عندک الکبر احدھما و کلھما (71 : 32) ” اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو کر رہیں “۔ بڑھاپے کا خود اپنا وقار ہوتا ہے لیکن بڑھاپے میں جو ضعف ہوتا ہے وہ بھی لفظ (کبر) میں شامل ہے۔ اور عندک سے یہ اشارہ ہے کہ بڑھاپے میں والدین بچوں کے ہاں پناہ بھی لیتے ہیں اور حالت ناتوالی میں حمایت کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔
………(71 : 32) ” توا نہیں اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑک کر جواب دو “۔ والدین کے احترام اور ادب کا یہ پہلا مرحلہ ہے کہ اولاد کی طرف سے والدین کے حق میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہ کیا جائے جس میں تنقید ، زجر ، توسیخ ، اور جھڑکی آتی ہو ، یا اس میں کوئی چیز تو ہیں آمیز اور سوئے ادب کے زمرے میں آتی ہو۔
وقل لھما قولا کریما (71 : 32) ” بلکہ ان کے ساتھ احترام کے ساتھ بات کرو “۔ بات کی حد تک یہ نہایت ہی اعلیٰ مقام ہے کہ والدین کے ساتھ نہایت ہی احترام کا سلوک کیا جائے۔
Ayah 17:24واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ (71 : 42) ” اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو “۔ یہاں نہایت ہی نرم اور شفاف انداز بیان اختیار کیا گیا ہے انداز بیان کے اندر اطاعت اور بندگی اور وفا شعاری کو مجسم کردیا گیا ہے یعنی اس طرح بچھ جائو اور اس قدر برخوداری اختیار کرو کہ گویا ” جھکنا “ ایک مجسم پرندے کی شکل میں کھڑا ہے اور اس کے پر ہیں اور اس نے اپنے پر بھی بچھا رکھے ہیں۔
وقل رب ارحمھما کما زبینی صغیرنا (71 : 42) ” اور دعا کیا کرو ، پروردگار ، ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا “۔ خوشگوار یادیں ہیں۔ محبت کی یادیں بچپن کی یادیں اور ماں اور باپ کی محبت کی یادیں۔ لیکن اس یاد سے انہیں سمجھایا جا رہا ہے کہ اب یہ مشفق والدین اسی طرح تمہاری شفقت کے محتاج و ۔۔۔ ہیں۔ جس طرح تم تھے اور دعا اس لئے کی گئی کہ انسانی شفقت و رحمت کے مقابلے میں اللہ کی رحمت و شفقت زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت و شفقت کا دائرہ نہایت ہی وسیع ہے اور انہوں نے اپنی اولاد کے ساتھ جو محنت و مشقت کی ہے اس کا اجر صرف اللہ ہی دے سکتا ہے۔ اولاد کے لئے یہ ممکن ہے کہ والدین کو وہ رحم اور شفقت دے سکیں جس کے وہ حق دار ہیں۔
حافظ ابوبکر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے۔ انہوں نے حضرت برید سے انہوں نے اپنے والد سے کہ ایک شخص طواف میں تھا اور وہ اپنی والدہ کو اٹھا کر طواف کرا رہا تھا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں نے اسی طرح اپنی والدہ کا حق ادا کردیا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ” نہیں “۔ بلکہ ایک سانس کے برابر بھی نہیں۔
انسان کے تمام تاثرات اور حرکات چونکہ انسانی نظریہ کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں اور نظریہ کی اساس پر وجود میں آتے ہیں اس لئے ان تمام احکام کے آخر میں تمام امور کو اللہ کی طرف لوٹایا جاتا ہے ، جو نیتوں کو جانتا ہے اور احوال اور افعال کے پیچھے جو نیت ہے ، اس سے بھی واقف ہے۔
Ayah 17:25اس سے قبل کہ مزید احکام و ہدایات دی جائیں اور اخلاق و قوانین بنائے جائیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انسان کے ہر قول اور ہر فعل سے اللہ خبردار ہے۔ اور اس کا دروازہ کھلا ہے۔ ہر گناہ گار کسی بھی وقت توبہ کرکے واپس آسکتا ہے۔ جب تک کسی انسان میں اسلاح کا مادہ موجود ہے ، وہ توبہ کرکے واپس آسکتا ہے۔ ” اواب “ اس شخص کو کہتے ہیں کہ جب اس سے کوئی قصور سرزد ہوجائے تو وہ جلدی اللہ کی طرف لوٹ آئے اور توبہ و استغفار کرے۔
والدین کے بعد اب قریبی رشتہ داروں کے بارے میں ہدایات دی جاتی ہیں اور رشتہ داروں کے ساتھ مساکین اور مسافر بھی شامل کردئیے جاتے ہیں۔ قریبی رشتہ داروں کے علاوہ انسانی روابط کے زمرے میں مساکین اور مسافر سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ یوں حسن سلوک اور کفالت اجتماعی کے دائرے کو پوری انسانیت تک وسیع کردیا گیا ہے۔
Ayahs 17:26–28اسلام نے اقرباء ، مساکین اور مسافروں کے لئے لوگوں کے ذمہ ایک حق مقرر کیا ہے اور یہ حق ان مدات میں انفاق کے ذریعہ پورا کیا جاسکتا ہے۔ نیز ان مدات پر خرچ محض خیرات اور مہربانی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو ہر مسلمان کی گردن پر لازم ہے۔ اور اس حق کو فریضہ قرار دینے کے بعد اسے اسلامی عقیدہ توحید اور اسلامی عبادت اور بندگی کے ساتھ منسلک کرکے اسے عبادت قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایسا حق اور فریضہ ہے جس سے مکلف صرف ادائیگی کے بعد ہی بری المذمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس مد میں خرچ کرنے والا تو اپنا فریضہ ادا کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب سے اس کے اور مستفید کے درمیان محبت بھی پیدا ہوگی۔
اس کے بعد قرآن کریم تبذیر کی ممانعت کرتا ہے۔ تبذیر کیا ہے ؟ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ اس کی تعریف یوں کرتے تھے کہ ایسی مد میں خرچ کرنا جس میں خرچ کرنے کا حق نہ ہو ، تبذیر ہے۔ اور مجاہد کہتے ہیں کہ اگر سچائی کی راہ پر کوئی انسان اپنا پورا مال خرچ کر دے تو وہ تبذیر تر ہوگا اور اگر کوئی دو کلو بھی بغیر حق کے خرچ کرے تو وہ تبذیر ہے۔
لہذا تبذیر کا تعلق انفاق کی مقدار سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق اس مد سے ہے جس میں خرچ کیا جاتا ہے۔ مبذرین کو شیطان کا بھائی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ باطل اور شر اور معصیت میں خرچ کرتے ہیں۔ اور یہ شیطان کے ساتھی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ وہرب کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتا۔ اور شیطان کے بھائی بھی اللہ کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمتوں کا حق یہ ہے کہ ان کو اپن جگہ خرچ کیا جائے۔
اگر کسی کے پاس اس قدر مال نہ ہو کہ وہ رشتہ داروں ، مساکین ، مسافروں کا حق ادا کرے اور وہ ان کا سامنا کرنے میں شرم محسوس کرتا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اللہ سے سوال کرے کہ اللہ اسے بھی رزق وافر دے اور ان کو بھی رزق وافر دے۔ اور ان حقداروں کے ساتھ وعدہ کرلے کہ جب حالات درست ہوں گے اور وہ کچھ کرنے کے قابل ہوا تو کرے گا وہ وعدہ کرے اور اچھی نرم بات ان کے ساتھ کرے۔ دل تنگی اور تھڑ دلی کا مظاہرہ نہ کرے۔ اور خاموشی بھی اختیار نہ کرے۔ مبادا کہ وہ دل میں تنگی محسوس کریں اور اس کی خاموشی کو دوسری معنی پہنائیں۔ کیونکہ اچھی طرح بات کرنے سے اور نرمی سے سمجھانے کے نتیجے میں ان کو تسلی ہوگی۔
پچھلی آیت میں چونکہ تبذیر اور فضول خرچی کی ممانعت کی گئی۔ اس کی مناسبت سے یہاں خرچ میں میانہ روی کا حکم دے دیا گیا۔
Ayah 17:29اسلامی نظام زندگی میں توازن بنیادی اصول ہے ، تفریط کی طرح غلو بھی توازن میں خلل انداز ہوتا ہے۔ لیکن توازن کے بیان میں بھی تصویر کشی کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ بخیل کی تصویریوں کھینچی گئی کہ وہ ایک شخص ہے جس نے اپنے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ رکھے ہیں اور مسرف اور مبذر کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جس نے اپنے دونوں ہاتھ اور بازو کھول رکھے ہیں۔ اور وہ کسی چیز کو اپنی گرفت میں نہیں لیتا۔ اور بخیل اور مسرف دونوں کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے کہ ایک شخس ہے جو ہر طرف سے مسترد شدہ ملامت کردہ ہے۔ اور عاجز و ناتواں اور لاچار ہے۔ محسور خیبر سے ہے اور خیبر اس سواری کو کہتے ہیں جو جعف و ناتوانی کی وجہ سے بیٹھ جائے اور اس میں چلنے کی سکت ہی نہ رہے۔ بخیل ملامت زدہ ہوتا ہے اور مبذر عاجز ہوجاتا ہے اور دونوں ملامت زدہ ہوتے ہیں۔ جبکہ شریعت کا حکم ہے۔
خیر الاموراوسطھا (میانہ روی بہترین طریق کار ہے) یہ حکم دینے کے بعد کہ میانہ روی اختیار کو جائے ، یہ بتایا جاتا ہے کہ حقیقی رزاق اللہ ہے ، وہی ہے جو کسی کو رزق فراواں دیتا ہے اور کسی پر رزق کے سلسلے میں تنگی کرتا ہے چونکہ رزاق دہی ہے اس لئے وہ میانہ روی کا حکم دیتا ہے۔
Ayah 17:30وہ اچھی طرح دیکھ کر کسی کو رزق میں راوانی دیتا ہے ، اور اچھی طرح دیکھ کر اور جان کر کسی کو رزق میں تنگ کرتا ہے ۔ وہ میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور بخل و اسراف کی ممانعت کرتا ہے اس لئے کہ وہ تمام حالات میں لوگوں کے بارے خبیر وبصیر ہے اور سب کچھ جانتا ہے اس لئے وہ اپنے علم کے مطابق حکم دیتا ہے۔ اور اس نے یہ قرآن نازل ہی اس لئے کیا ہے کہ تمام حالات میں یہ اچھی او سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
اہل جاہلیت اپنی لڑکیوں کو قتل کردیتے تھے ، اس ڈر سے کہ وہ ان پر بوجھ بن کر ان کو معاشی لحاظ سے کمزور کردیں گی اور ان کے لئے ان کا سنبھالنا مشکل ہوگا۔ سابقہ آیت میں چونکہ یہ حقیقت بتا دی گئی تھی کہ رزق کی فراوانی اور تنگی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لئے یہاں صاف صاف کہہ دیا کہ اب تم لوگ اولاد کو معاشی زاویہ سے نہ دیکھو۔ کثرت اولاد یا لڑکیوں کی وجہ سے کوئی غریب نہیں ہوگا۔ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا اکثرت نسل یا کثرت اقسام نسل کے نتیجے میں معاشی تنگی نہیں ہوگی اور نہ افراد خانہ کم ہونے کی وجہ سے کوئی معاشی لحاظ سے خوشحال ہوگا۔
Ayah 17:31حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی گمراہی کے نتیجے میں کسی بھی سوسائٹی کے اندر عملی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ نظریاتی بےراہ روی کی وجہ سے صرف نظریہ ہی خراب نہیں ہوتا یا اس کے نتیجے میں محض مذہبی مراسم میں کمزوری نہیں آتی بلکہ سوسائٹی کا اجتماعی نظام بھی خراب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا نظریہ درست ہو تو صرف اس کی عبادت ہی درست نہیں ہوجاتیں بلکہ اس سوسائٹی کا عملی نظام ، اس کے اجتماعی ادارے بھی صحیح و سلامت ہوجاتے ہیں اور درست سمت میں کام کرتے ہیں۔ اور لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کی یہ رسم محض غلط عقیدے پر قائم کی تھی کہ لڑکیوں کی وجہ سے غربت آتی ہے ، جب یہ عقیدہ پیدا ہوا کہ رزاق صرف اللہ ہے تو اس کے بعد قتل اولاد خود بخود موقوف ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی نظریہ زندگی پر عملاً اثر انداز ہوتا ہے۔ نظریہ محض خلا میں نہیں ہوتا یا محض کسی شخص کے دماغ تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ کہ وہ عمل کی دنیا تک اترتا ہے۔
اب ہم چاہتے ہیں کہ قرآن کے انداز تعبیر کی ایک نہایت ہی گہری مثال پر قدرے غور کریں۔ یہ عجیب لطیف مثال ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے رزق کو آباء کے رزق پر مقدم رکھا۔
نحن نرقھم وایاکم (71 : 13) ” ہم تمہاری اولاد کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی “۔ لیکن سورت انعام میں اولاد کے رزق پر آبا کے رزق کو مقدم رکھا گیا ، وہاں کہا گیا۔
نحن نرزقکم وایاھم (6 : 151) ” ہم تمہیں اولاد کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی “۔ لیکن سورت انعام میں اولاد کے رزق پر آبا کے رزق کو مقدم رکھا گیا ، وہاں کہا گیا۔
نحن نرزقکم وایاھم (6 : 151) ” ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہاری اولاد کو بھی “۔ کیونکہ دونوں آیات کے مفہوم میں ایک دوسرا اختلاف ہے۔ پوری آیات یوں ہیں :
ولا تقتلوا اولاد کم خشیۃ املاق نحن نرزقھم وایاکم (71 : 13) اور انعام میں یوں تھی :
ولا تقتلوا اولادکم من املاق نحن نرزقکم ویاھم (6 : 151) یہاں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اولاد کو اس لئے قتل نہ کرو کہ تم غریب ہوجائو گے۔
خشیۃ املاق (71 : 13) اس لئے اللہ نے فرمایا کہ اولاد کا رزق ہم پر ہے۔ اور انعام یہ تھا من املاق یعنی فقر اور تنگی رزق پہلے سے موجود تھے ، اس لئے والدین کے رزق کو پہلے لایا گیا۔ یہ ایک لطیف فرق ہے اور اسی وجہ سے تقدیم و تاخیر کا یہ عمل ہوا۔
قتل اولاد کی ممانعت کی نسبت ہی سے ممانعت زنا کا حکم آتا ہے۔
Ayah 17:32اس لئے کہ قتل اولاد اور زنا کے درمیان تعلق موجود ہے ، نیز اس کے بعد قتل نفس کا مضمون آتا ہے۔ قتل اولاد ، زنا اور قتل نفس کے درمیان مخصوص تعلق موجود ہے۔ قتل اولاد توبعینہ قتل نفس ہے ، لیکن زنا بھی مختلف پہلوئوں سے دراصل قتل نفس ہی ہے۔ کیونکہ سب سے پہلے زانی حیات کو بےمحل گرانا ہے ، اگر زنا کے نتیجے میں کوئی اولاد پیدا ہوجائے تو اس سے فرار حاصل کیا جاتا ہے۔ پہلے جنہیں ہی کو قتل کردیا جاتا ہے ، ورنہ بچہ پیدا ہونے کے بعد بالعموم قتل کردیا جاتا ہے۔ پیدائش سے پہلے یا بعد وہ اگر زندہ رہ بھی جائے تو یا وہ مادر پدر آزاد ہوتا ہے یا پھر معاشرے میں ذلیل و خوار ہو کر رہتا ہے۔ بہرحال اگر قتل نہ ہو اور زندہ بچ بھی جائے تو کسی نہ کسی طرح وہ ایک کم تر درجے کی زندگی ہوتی ہے۔ لہٰذا ایک گو نہ وہ بھی قتل ہے۔ پھر زنا دراصل پوری سوسائٹی کے لئے قتل کا سبب ہے۔ کیونکہ اس میں نسب مل جاتے ہیں اور خون خالص نہیں رہتے اور بچوں کے بارے میں یقینی صورت نہیں رہتی۔ یہ دراصل ایک سو سائٹی کی موت ہوتی ہے۔
ایک طرح زنا قتل کے برابر اس طرح بھی ہوتا ہے کہ جس سوسائٹی میں زنا عام ہوتا ہے اس میں ازدواجی زندگی کی ضرورت نہیں رہتی۔ یوں بھی سوسائٹی سے خاندانی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ حالانکہ خاندان ایک بچے کے لئے بہترین جائے پرورش ہوتا ہے۔ خاندان کے بغیر کسی بچے کی فطرت سلیمہ اپنی جگہ قائم نہیں رہ سکتی۔ اور اس کی تربیت میں کوئی نہ کوئی نقص ضرور رہ جاتا ہے۔
پھر تاریخ گواہ ہے کہ جس سوسائٹی میں زنا عام ہوا ہے ، وہ تباہی و بربادی اور زوال کی طرف سفر شروع کردیتی ہے۔ تاریخ قدیم اور عصر جدید دونوں کا عمرانی مطالعہ یہی نتیجہ دیتا ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور یورپ میں زنا عام ہے حالانکہ وہ اس وقت مادی ترقی کے قائدین ہیں لیکن ان میں سے فرانس جیسی قوم کے زوال کے آثار تو ابھی سے نمودار ہوچکے ہیں جس طرح ایک فرد جوانی کے ایام میں تروتازہ رہتا ہے اور اس کی اخلاقی بےراوہ روی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی اور بڑھاپے میں پھر وہ یکدم گر جاتا ہے اسی طرح اخلاقی بےراہ روی میں مبتلا اقوام یکدم زوال کا شکار نہیں ہوجایا کرتیں ، جب ان پر زوال آتا ہے تو یکدم گرجاتی ہیں۔
اسلام زنا کے قریب جانے سے بھی روکتا ہے ، یعنی مقدمات زنا کے حالات سے ہی دور رہنے کا حکم دیتا ہے یہ زنا کی ممانعت کی سخت تاکید ہے۔ کیونکہ اگر کوئی ایسے حالات سے نہیں بچتا جن کے نتیجے میں زنا واقع ہوجاتا ہے تو بھی اپنے ۔۔ کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
یہی وجہ ہے اسلام سد باب ذریعہ پر عمل کرتا ہے تاکہ اس فحاشی میں مبتلا ہونے کا کوئی راستہ ہی نہ رہے۔ اسلام غیر ضروری اختلاط مرد و زن کی ممانعت کرتا ہے ، غیر مرد اور عورت کی ایک جگہ تنہائی کی ممانعت کرتا ہے ، اسلام نوجوانوں کی شادی کی تلقین کرتا ہے۔ ایسی باتوں کو روکتا ہے جن کے نتیجے میں شادی ممنوع ہوجائے مثلاً جہیز اور زیادہ مر۔ اور اس خوف کا بھی قلع قمع کرتا ہے کہ شادی کی وجہ سے تنگ دستی نہ آجائے اور جو لوگ شادی کی تلاش میں ہوں ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ پاک دامنی کی راہ اختیار کریں اور پھر بھی اگر کوئی اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اسلام اسے سخت سزا دیتا ہے نیز زنا کے الزام کو بھی قابل حد جرم قرار دیتا ہے اور اس مقصد کے لئے تمام ذرائع و اسباب اختیار کرتا ہے کہ سوسائٹی زنا کے ارتکاب سے بچ جائے۔ اور اس طرح وہ تباہی اور ہلاکت سے بچ جائے۔ چناچہ قتل اولاد اور زنا کی ممانعت کے ساتھ ہی حکم آتا ہے ناحق کسی زندہ انسان کی جان لینا بھی اسلام میں ایک عظیم جرم ہے۔
Ayah 17:33اسلام سلامتی کا دین ہے۔ اسلام میں شرک باللہ کے بعد سب سے بڑا جرم قتل ناحق ہے۔ زندگی دینے والا اللہ ہے ، اللہ کے سوا کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی سے اللہ کا یہ عطیہ سلب کرے ، الایہ کہ اللہ کے طے کردہ قوانین کے مطابق کسی کی زندگی لی جاسکتی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بھی چند محدود جرائم پر انسانی جان لینے کی اجازت دی ہے۔ اور ان حدود میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ طے شدہ حدود کسی کی ذاتی رائے یا خواہش پر نہیں چھوڑ دئیے گئے۔ صحیحن میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” کوئی مسلمان جو کلمہ شہادت ادا کرتا ہے اور شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کا قتل جائز نہیں ہے۔ مگر صرف تین صورتوں میں ، یہ کہ اس نے ناحق قتل کیا ہو ، وہ محصن ہو اور زنا کا ارتکاب کیا ہو ، یہ کہ وہ تارک دین ہو اور جماعت مسلمہ کو اس نے چھوڑ دیا ہو “۔
اسلام میں قتل نفس کی گنجائش کی پہلی صورت ہے کہ کسی نے قتل کا ارتکاب کیا ہو اور اس کے خلاف عدالت مجاز سے منصفانہ فیصلہ قصاص صادر ہوچکا ہو۔ اس کے بارے میں قرآن کریم کہتا ہے :
ولکم فی القصاص حیاہ ” تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے “۔ اس طرح کہ نفاذ قصاص سے مجرموں کے ہاتھ پکڑے جاتے ہیں اور وہ پھر کسی زندہ شخص کی جان لینے سے باز رہتے ہیں۔ جب نظام قصاص موثر طر پر نافذ ہوتا ہے تو یہ دوسرے لوگوں کو اس قسم کے جرم کے ارتکاب سے روکتا ہے۔ نیز اس طرح یہ بھی زندگی ہے کہ قاتل کے ورثاء ایک شخص کو قتل کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں اور وہ ایک قتل کے بدلے کئی لوگوں کا خون نہیں بہاتے۔ نہ وہ اس سلسلے کو جاری رکھتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ سلسلہ قتل کو جاری رکھتے ہیں اور جانبین سے کئی قتل ہوجاتے ہیں۔ نیز نظام قصاص کے اجراء میں اس طرح بھی زندگی ہے کہ ہر شخص کی جان اپنی جگہ محفوظ ہوجاتی ہے اور اسے عدالت پر اعتماد ہوتا ہے۔ یوں پوری امت اور سوسائٹی مطمئن ہوتی اور امن و چین سے زندگی گزارتی ہے۔
قتل کی دوسری صورت مرتد کی ہے۔ یہ دراصل روحانی فساد اور طوائف الملوکی کے دفعیے کے لئے ضروری ہے۔ جب ایک شخص اپنی خوشی سے بغیر کسی جبر کے اسلام قبول کرتا ہے ، اسلامی جماعت میں داخل ہوتا ہے اور امت کا حصہ بن جاتا ہے اور امت اس کی ذات میں داخل ہوجاتی ہے ، وہ امت اسلامیہ کے رازوں اور بھیدوں سے واقف ہوجاتا ہے ، اور پھر وہ اگر امت کو چھوڑ کر مرتد ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر پائی جانے والی امت کو قتل کرتا ہے۔ اگر یہ شخص پہلے ہی اسلام میں داخل نہ ہوتا تو اسے کس نے مجبور کیا تھا۔ اگر وہ اہل کتاب میں سے تھا تو اسلام نے اس کی جان کی حفاظت کی ذمہ داری لی تھی اور اگر وہ مشرک تھا تو اسلام اسے پناہ دیتا تھا اور اسے اس کی جائے پناہ تک پہنچانے کی ذمہ داری لیتا تھا ، اس لئے اگر وہ اپنی خوشی سے اسلام میں داخل ہوا ہے تو اب اسے لازماً اسلام میں رہنا ہوگا ورنہ قتل مرتد کی سز اپائے گا۔
ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق (71 : 33) ” اور جس نفس کا قتل اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ “۔ اور قتل مرتد بھی ایک حق ہے۔
تیسری قسم کا قتل یہ ہے کہ کوئی محصن زنا کا ارتکاب کرے۔ یہ فحاشی کی اشاعت ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔
یہ تین اسباب ایسے ہیں جن کی وجہ سے اسلام میں سزائے موت دی جاسکتی ہے۔ ان تین اسباب کے بغیر ناحق کوئی کسی شخص کو قتل کرے گا تو پھر مقتول کے ورثاء کو اختیار ہوگا کہ قاتل کو بعد از ثبوت جرم قتل کردیں۔ پھر بھی اگر وہ چاہیں تو قتل کرادیں ، اگر چاہیں تو دیت لے کر معاف کردیں ، چاہیں تو بغیر دیت کے معاف کردیں۔ یہ اختیار مقتول کے ورثاء کا ہے کہ وہ سج طرح چاہیں فیصلہ کریں۔
لیکن ورثاء کو بھی قتل کا اختیار دینے کے ساتھ ساتھ ان پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ اس اختیار سے غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔ قتل میں اسراف نہ کریں۔ اسراف یہ ہے کہ مقتول کے علاوہ اوروں کو قتل نہ کریں جیسا کہ زمانہ جاہلیت کے انتقام میں ہوتا تھا کہ قاتل کے بہن بھائی اور دوسرے رشتہ داروں کو بھی ناحق قتل کردیا جاتا۔ حالانکہ ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔ ان کا قصور صرف یہ ہوتا کہ وہ قاتل کے افراد خاندان یا افراد قبیلہ ہیں۔ اس طرح مثلہ کرنے اور قتل میں ناجائز آلات استعمال کرنے کے سلسلے میں ممانعت کی گئی ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اسراف فی القتل کی تمام شطوں کی ممانعت کی ہے۔
فلا یسرف فی القتل انہ کان منصورا (71 : 33) ” پس چاہیے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے بیشک اس کی مدد کی جائے گی “۔ اس کے بارے میں اللہ نے فیصلہ کردیا۔ دین اسلام اور اسلامی قانون اس کے حق کا موید ہے۔ اور حاکم وقت کا بھی فرض ہے کہ وہ مقتول کے ورثاء کی نصرت کرے۔ لہٰذا سے چاہیے کہ وہ قصاص لینے میں بھی انصاف کرے ، اس لئے کہ تمام اسلامی ادارے اس کے حامی و ناصر ہیں۔
یہ کیوں کہا گیا کہ قصاص لینے کا اختیار مقتول کے ورثاء کو دے دیا گیا ؟ جبکہ حکومت ، حکومتی اداروں اور تمام سوسائٹی کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ورثائے مقتول کی نصرت کریں۔ یہ ایک نہایت ہی فطری عمل ہے ، اس طرح انسان کا جذبہ انتقام سرد پڑجاتا ہے اور مقتول کے ورثاء کے دلوں میں جذبہ انتقام کی موجوں میں ٹھہرائو پیدا ہوجاتا ہے۔ یہ انتقام بعض اوقات اس قدر زدید ہوتا ہے کہ لوگ اس سے مغلوب ہو کر دائیں بائیں جو بھی سامنے آتا ہے اسے گاجر اور مولی کی طرح کاٹ دیتے ہیں لیکن جب ورثاء یہ محسوس کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قاتل کی زندگی ان کے اختیار میں دے دی ہے اور یہ کہ حاکم بھی ان کی امداد پر کمربستہ ہے۔ اور عدالت ان کی پشت پر ہے تو اس طرح اس کا جوش انتقام سرد پڑجاتا ہے اور وہ عدالت کے منصفانہ فیصلہ کا انتظار کرتا ہے اور قصاص پر اکتفاء کرتا ہے۔
انسان بہرحال انسان ہے اور اس کی فطرت کے اندر قصاص کا داعیہ موجود ہے۔ اور اسلام چونکہ دین فطرت اس لئے وہ انسان کی اس فطری خواہش کو پورا کرتا ہے اور محفوظ اور مامون حدود کے اندر اسے بدست خود انتقام لینے کی اجازت دیتا ہے۔ اسلام عفو و درگزر کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ وہ لوگوں کو اس پر آمادہ کرتا ہے کہ عفو و درگزر سے کام لیں اور اس پر اجر بھی دیتا ہے لیکن یہ سب کچھ حق قصاص عطا کرنے کے بعد۔ جب فیصلہ دے دیا جائے تو پھر یہ وارث یا وار ثان مقتول کا حق ہے کہ قصاص لیں ، دیت لیں یا بالکل عفو و درگزر سے کام لیں۔ ہاں اگر ان کے اند ریہ احساس ہو کہ انہیں عفود درگزر پر مجبور کیا گیا ہے تو اس صورت میں وہ پھر جذبات انتقام سے مغلوب ہوسکتے ہیں اور زیادتی کرسکتے ہیں۔
جان اور عزت کی حفاظت کے بعد اب روئے سخن مال یتیم اور عہد کی حفاظت کی طرف آتا ہے۔
Ayah 17:34اسلام ہر مسلمان کی جان ، مال اور آبرو کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تمام مسلمان مسلمانوں پر حرام ہیں ، ان کی جان ، ان کی آبرو اور ان کا مال “۔ لیکن قرآن کریم اور سنت دونوں نے مال یتیم کے بارے میں بالخصوص سخت شدید سے ممانعت کی ہے۔ طریق احسن کو چھوڑ کر کسی اور صورت میں بھی اس کے قریب تک جانے سے منع کیا ہے۔ یہ اس لئے کہ یتیم کمزور ہوتا ہے وہ اپنے مال کی حفاظت اور تدبیر کرنے سے قاصر ہوتا ہے اور وہ اپنے مال کی مدافعت بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا اسلامی نظام زندگی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مال یتیم کی حفاظت اور تدبیر کرے۔ اور یہ اس وقت تک جاری رہے جب تک وہ سن رشد کو پہنچ نہیں جاتا اور جب تک وہ اس بات کے اہل نہیں ہوجاتا کہ وہ اپنے مال میں مناسب تصرفات کرسکے۔
ان احکام اور اوامرو نواہی کے اندر یہ لطیف نکتہ پایا جاتا ہے کہ جن احکام کا تعلق ایک فرد سے ہے ان کے بارے میں مفروصیغہ استعمال ہوا ہے اور جن کا تعلق سوسائٹی یا حکومت اور اجتماعی نظام سے ہے ان کو جمع کے صیغے میں لایا گیا ہے۔ مثلاً والدین کے ساتھ حسن سلوک ، اقربائ، مساکین اور مسافروں کی مالی امداد ، فضول خرچی کی ممانعت ، خرچ کرنے میں بخل اور اسراف کے درمیان متعدل راہ اپنانے کا حکم ، حق پر ثابت قدمی اور کبرو غرور کی ممانعت کے احکام ور امرو نہی میں صیغہ مفرد استعمال ہوا ہے ، اور قتل اولاد کی ممانعت کے احکام ، حرمت زنا ، قتل نفس ، مال یتیم کی حفاظت ، وفائے عہد کے احکام ، ناپ و تول پورا کرنے کے حکم یا نہی میں جمع کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مال یتیم کے قریب نہ جانے کی ممانعت صیغہ جمع کی صورت میں آئی ہے تاکہ پوری سلامی سوسائٹی حفاظت مال یتیم کی ذمہ داری میں برابر کی شریک ہو ، کیونکہ یہ ایک اجتماعی نوعیت کی ذمہ داری ہے۔
مال یتیم کی حفاظت چونکہ پوری سوسائٹی کی ذمہ داری ہے ، اسی کے ساتھ وفائے عہد کے احکام بھی دئیے گئے۔ کیونکہ اجتماعی ذمہ داریوں کے سلسلے میں بالعموم عہد نیا اور دیا جاتا ہے۔ لہذا وفائے عہد کا ایک عمومی حکم یہاں دے دیا گیا۔
واوفوا بالعھد ان العھد کان مسئولا (71 : 43) ” اور وعدہ کو پور اکرو ، بیشک عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا “۔ وفائے عہد کے بارے میں اللہ تعالیٰ خود سوال کرے گا اور جو لوگ وفائے عہد نہیں کرتے ، ان سے قیامت کے دن اس سلسلے میں باز پرس ہوگی۔
اسلام نے وفائے عہد کے سلسلے میں تاکید شدید کی ہے۔ کیونکہ ایک فرد اور جماعت کے کردار میں وفائے عہد اصل معیار ہے کہ کون شخص ٹھوس اور ثابت قدم ہے ، کون ضمیر کے اعتبار سے پاکیزہ ہے۔ قرآن و حدیث میں بار بار اور مختلف طریقوں سے وفائے عہد کی تاکید کی گئی ہے۔ چاہے یہ عہد اللہ کی طرف سے ہو ، لوگوں کی طرف سے ہو ، فرد کی طرف سے ہو ، کسی جماعت یا سوسائٹی کی طرف سے ہو ، رعایا کی طرف سے ہو یا حکومت کی طرف سے ہو ، حاکم کی طرف سے ہو یا محکوم کی طرف سے ، نیز بین الاقوامی تعلقات میں اسلام نے عہد کی پابندی کی وہ مثایں قائم کیں کہ انسانی تاریخ میں ایسی مثالیں صرف اس حصے میں ملتی ہیں جن میں مسلمان دنیا کے حکمران تھے ، یا دنیا کے حکمرانوں میں سے معتبر حکمران تھے (دیکھئے کتاب ” عالمی امن “ ) ۔
ناپ تول کا پورا کرنا بھی دراصل وفائے عہد کے زمرے میں آتا ہے ، کہا گیا :
Ayah 17:35وفائے عہد اور ناپ اور تول پورا پورا اور ٹھیک ٹھیک کرنے اور وفائے عہد کے درمیان لفظی اور معنوی مناسبت تو بالکل ظاہر ہے۔ لہذا وفائے عہد کے حکم کے بعد ناپ اور تول پورے کرنے کے احکام کی طرف آنا موضوع کی مناسبت سے درست ہے۔
ناپ اور تول پورا کرنا معاملات میں دیانت و امانت کا حصہ ہے۔ اس سے تاجر کو قلبی طہارت بھی حاصل ہوتی ہے او سوسائٹی کی نشوونما صحت مند بنیادوں پر ہوتی ہے۔ لوگوں کے درمیان معاملات میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور اس سے برکت پیدا ہوتی ہے۔
ذلک خیر واحسن تاویلا (71 : 53) ” یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی بہتر ہے “۔ یعنی دنیا میں بھی بہتر ہے اور آخرت میں بھی بہتر ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ” جو شخص بھی حرام پر قدرت رکھتا ہو اور پھر حرام سے اجتناب کرے اور یہ کام وہ محض رضاے الٰہی کے لئے کرے ، تو اللہ آخرت سے قبل کود اس دنیا میں اسے اس سے بہتر دیتا ہے “۔
جو لوگ ناپ اور تول میں کمی کرتے ہیں وہ دراصل نہایت ہی گندہ کا کرتے ہیں ، یہ نفسیاتی گراوٹ ہے اور معاملے میں دھوکہ اور خیانت ہے۔ اس سے مارکیٹ میں اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کساد بازاری بھی پیدا ہوتی ہے اور پوری سوسائٹی سے برکت ختم ہوجاتی ہے۔ چناچہ اس سے تمام تر افراد جماعت کو نقصان ہوتا ہے حالانکہ وہ بظاہر سمجھتے ہیں کہ اس خیانت کے ذریعے وہ کما رہے ہیں ، لیکن وہ محض ظاہری اور وقتی کمائی ہوتی ہے لیکن مال کار میں نقصان ہوتا ہے ۔ کیونکہ جب کساد بازاری آتی ہے تو نقصان اس خیانت کار کو بھی ہوتا ہے۔
جو لوگ تجارتی دنیا میں دور کی نظر رکھتے ہیں انہوں نے اپنے ذاتی تجربے سے اس حقیقت کو پا لیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے کسی اخلاقی یا دینی جز بے سے یہ کام نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے سائنٹیفک سٹڈی سے اس حقیقت تک رسائی حاصل کی۔
سوال یہ ہے کہ پھر دونوں میں فرق کیا ہے ؟ جو شخص محض تجارتی مقاصد کے لئے دیانت داری کرتا ہے اور جو شخص دینی جذبے سے دیانت داری کرتا ہے دونوں میں کیا فرق ہے ، جو شخص اخلاقی اور دینی عقیدے اور جذبے سے یہ کام کرتا ہے اس کا نقطہ نظر اور اس کی ذہنی سطح زیادہ اعلیٰ ، ارفع اور بلند ہے ، اور دل کی زیادہ تطہیر اس سے ہوتی ہے۔ اور اس کی زندگی میں زیادہ سکون و اطمینان ہوتا ہے۔ اس طرح اسلام عملی زندگی میں بھی ہمیشہ وسیع اور ارفع اور روشن مستقبل کی طرف بڑھتا ہے اور دور تک انسانوں کی مادری اور روحانی راہنمائی کرتا ہے۔
اسلامی نظریہ حیات کا یہ کمال ہے کہ وہ نظریہ ، عقیدہ اور تصورات میں بہت زیادہ صفائی ، وضاحت اور حقیقت پسندی کا قائل ہے ، اسلام کسی معاملے پر پیچیدگی ، وہم و شبہات کی اجازت نہیں دیتا۔
Ayah 17:36ان چند الفاظ میں انسانی دل و دماغ کے لئے ایک بہترین منہاج عمل اور طریق کار وضع کردیا گیا ہے اور یہ ایک سائنسی انداز جسے دوسرے لوگوں نے حال ہی میں معلوم کیا ہے۔ اسلام نے اس میں قلب کی درستی ، خدا ترسی اور سائنس میں حکمت خداوندی پر غور کا جوڑ لگا کر ایک خشک علم کے مقابلے میں اسے مزید مقدس اور بامعنی بنا دیا ہے۔ یہ اسلام اور قرآن کی خصوصیات ہے۔
قرآن کریم یہ حکم دیتا ہے کہ ہر معاملے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قبل پوری تحقیق کرو ، معاملے کو پایہ ثبوت تک پہنچائو ، یہ اسلام کا نہایت ہی باریک طریق کار ہے۔ جب دل و دماغ اس منہاج پر گامزن ہوجائیں۔ تو پھرو ہم و گمان کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہتی اور معاملات ، فیصلوں کا مدار تحقیق اور ثبوت پر ہوتا ہے ، مفروضوں پر نہیں۔ انسانیت کو یہ علمی اور سائنسی انداز سب سے پہلے قرآن نے دیا ہے۔
وہ علمی امانت جس کے ساتھ دور جدید کے لوگ مسلح ہیں ، اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اس علی امانت کا ایک حصہ ہے۔ جس کی تلقین قرآن کرتا ہے یعنی قلب و نظر کی وہ امانت جسے عقل کہتے ہیں اور جس کے استعمال اور کام میں لانے کی قرآن کریم بار بار تلقین کرتا ہے اور یہ قرار دیتا ہے کہ انسان سمع اور بصر اور قلب و نظر کی قوتوں کو کام میں لانے کا ذمہ دار ہے اور یہ ذمہ داری اس ذات کے سامنے ہے جس نے یہ قوتیں انسان کو عطا کی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام اعضاء اور جوارح ، اس کے حواس اور اس کی عقل یہ سب اللہ کی امانتیں ہیں اور ان امانتوں کا مالک اللہ ہے ، وہ انسان سے پوچھے گا کہ اس نے یہ قوتیں کام میں لائی تھیں یا نہیں۔ جب انسان ایک لفظ بولتا ہے تو اس کے مفہوم پر غور کرتے ہوئے انسان معلوم کرلیتا ہے کہ عقل اور فکر و نظر اور سمع و احساس کسی قدر عظیم قوتیں ہیں۔ خصوصاً جب ایک انسان کوئی کہانی یا روایت بیان کرتا ہے ، یا کوئی فیصلہ کرتا ہے ، کسی کے خلاف ، کسی حادثے کے بارے میں ، یا کسی اور معاملے میں۔
ولا تقف مالیس لک بہ علم (71 : 63) ” کسی ایسے چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو ‘۔ یعنی اس بات میں نہ پڑو ، جس کا تمہیں یقینی علم نہ ہو ، جب تک اس کی صحت کے بارے میں تمہیں وثوق حاصل نہ ہو ، خواہ بات ہو یا کوئی روایت ہو ، کسی منظر کی تشریح ہو یا کسی واقعہ کے اسباب پر بحث ہو ، کوئی شرعی اور قانونی مسئلہ ہو یا کوئی اعتقادی اور نظریاتی مسئلہ ہو۔ حدیث شریف میں آتا ہے :
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث “ بدگمانی سے دور رہو ، کیونکہ محض ظن وتخمین کی بات جھوٹی بات ہوتی ہے “۔ سنن ابو دائود میں ہے۔ بسئی معلیہ الرجل زعموا “ کسی شخص کی یہ بہت بری سواری ہے کہ وہ کہے ” لوگ یہ سمجھت ہیں “۔ اور ایک دوسری حدیث میں ہے۔
ان افری الفریی ان یری الرجل عینہ مالم تریا ” سب سے بڑی افتراء یہ ہے کہ ایک شخص اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھی “۔
یوں آیات و احادیث و رویات کا ایک بڑا ذخیرہ اس بات کی توثیق و تائید کرتا ہے کہ اسلام میں عقل و خرد اور ثبوت احکام کے لئے نہایت ہی مستحکم اور معقول طریق کار اپنایا گیا ہے۔ تمام اسلامی احکام کے ثبوت ، میں پوری طرح چھان بین کا طریقہ اپنایا گیا ہے۔ چناچہ ایک مسلمان اپنی سوچ ، اپنے تصور ، اپنے شعور ، اپنے فیصلوں میں پختہ ثبوت اور یقین کا قائل ہوتا ہے ، وہ کوئی بات ، کوئی روایت ، کوئی حکم ، اور کوئی فیصلہ بغیر شہادت اور ثبوت کے نہیں مانتا۔ جب تک اس کے تمام اجزاء پایہ ثبوت و یقین تک پہنچ نہ جائیں۔ اور یہ ثبوت معقول حالت کے اندر نہ ہو ، اور جس میں کوئی شک و شبہ نہ رہا ہو۔ بیشک قرآن نے بہت ہی صحیح کہا ہے۔
ان ھذا القرآن یھدی للتی ھیی اقوم (71 : 9) ” بیشک یہ قرآن ایک صحیح راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے “۔ صدق اللہ العظیم۔
یہ احکام ، اوا مرو نواہی جو عقیدہ توحید پر مبنی ہیں ، یہاں ان کا خاتمہ ایک نہایت ہی اہم اخلاقی تعلیم پر کیا جاتا ہے ، وہ یہ کہ انسان اپنی بےبضاعتی کو بھی پیش نظر رکھے اور اپنے آپ کو بڑی چیز نہ سمجھے۔
Ayah 17:37انسان جب صاحب مال و جمال بن جاتا ہے اور اسے دنیا میں قوت اور سلطنت حاصل ہوجاتی ہے اور وہ اپنے دل و دماغ سے خدا کا تصور نکال دیتا ہے ، جو اس پوری کائنات کا خالق ومالک ہے ، تو اس نظریاتی بےراہ راوی کی وجہ سے وہ کبرو غرور میں مبتلا ہوتا ہے۔ اگر انسان اس بات کو سمجھ لے کر اس کے پاس جو قوت اور مال ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے۔ اور یہ کہ اللہ کی قوت کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ تو اس کے دل و دماغ پر کبرو غرور کا غبار کبھی نہ چھائے۔ اور وہ اکڑ کر نہ چلے اور زمین کے اوپر نہایت ہی شریفانہ چال چلے۔ اس میں کوئی اکٹر نہ ہو۔
قرآن کریم اس قسم کے متکبر ، مغرور انسان کے سامنے اس کی کمزوریاں رکھتا ہے کہ دیکھو۔
انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الحبال طولا (71 : 73) ” تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو “۔ انسان جسمانی اعتبار سے بہت ہی نحیف و نزار ہے۔ جسمانی اعتبار سے یہ اللہ کی دوسری مخلوقات کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ انسان کے اندر جو قوت ہے وہ خدائی قوت ہے ، اس کو غلبہ صرف اللہ کے دین کے وجہ سے حاصل ہے ، اور یہ جو اس کائنات میں معزز ہے تو اس لئے کہ اللہ نے اپنی روح پھونک کر اسے معزز بنایا ہے۔
یہ عاجزی اور یہ تواضع جس کی طرف قرآن بلاتا ہے تکبر غرور اور خیالاتی برتری کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔ یوں انسان درگاہ باری تعالیٰ میں بھی باادب رہتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ اس کا معاملہ بھی شریفانہ ہوتا ہے اور خیالات و تصورات میں سنجیدہ اور سوشل لائف میں متوازن ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے بعد ، اگر کوئی غرور وتکبر کرتا ہے تو وہ کم عقل ، بیوقوف اور گھٹیا انسان ہوتا ہے۔ ایسے افراد کو اللہ پسند نہیں کرتا ، کیونکہ وہ غرور میں مبتلا ہے اور عوام الناس بھی ایسے شخص کو ناپسند کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے آپ کو یوں بڑا سمجھتا ہے اور بےجا پھولا ہوا ہوتا ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے : من تواضحع اللہ رفعہ فھو فی نفسہ حقیر وعند الناس کبیر ، ومن استکبر وضعہ اللہ فھو فی نفسہ کبیر وعند الناس حقیر۔ ھتی لھوا بغض الیھم من الکلب والخنزیر ” جو شخص تواضع کرے محض رضائے الٰہی کے لئے ، تو اسے اللہ اٹھائے گا ، وہ تو اپنے خیال میں حقیر ہوگا لیکن لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوگا ، جو تکبر کرے ، اللہ اسے گرا دیتا ہے ، وہ تو اپنے خیال میں بڑا آدمی ہوتا ہے ، مگر لوگوں کے نزدیک حقیر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ لوگ اس سے اس قدر نفرت کرنے لگتے ہیں جس طرح کتے اور خنزیر سے “ ( ابن کثیر) ۔
اب یہ بحث یہاں ایک اصول بات پر ختم ہوتی ہے ، جس قدر امور سے اس فہرست میں مطلع کیا گیا ہے وہ افعال مذمومہ ہیں ، اب عموماً کہا جاتا ہے کہ اللہ تمام برے اعمال اور افعال اور صفات کو پسند نہیں کرتا۔
Ayah 17:38یہاں تما احکام اور منبیات کا سبب بتا دیا گیا کہ ان امور کے ممانعت ان کے برے پہلو کی وجہ سے ہے۔ ان میں کوئی اچھا پہلو بھی ہوسکتا ہے لیکن ان کی ممانعت اس لئے کی گئی ہے کہ ان میں برائی کا پہلو غالب ہے۔
یہ تما احکام اور اخلاقی تعلیمات کو اب عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے ہیں۔ لہٰذا شرک سے بچو اور قرآن کی تعلیمات حکمت کی یہ خاص خاص باتیں ہیں ، یہ حکمت قرآن کا ایک حصہ ہیں۔
Ayah 17:39اس سبق کا یہ خاتمہ ، اس کے آغاز کے ساتھ مماثل ہے۔ گویا اس کے دونوں سرے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یوں نظر آتا ہے کہ تمام سبق اس عظیم قاعدے اور اصول پر قائم ہے۔ جس پر اسلامی نظام حیات کی بنیاد اٹھائی گئی ہے یعنی عقیدہ توحید اور صرف اللہ وحدہ کی بندگی اور اطاعت اور اللہ کے سوا تمام طاغوتوں کی بندگی اور اطاعت سے انکار۔
Ayah 17:40درس نمبر 721 ایک نظر میں۔
دوسرے سبق کا آغاز و انجام عقیدہ توحید کے بیان اور رد شرک کے مضمون کے ساتھ ہوا ، اور اس آغاز و انجام کے درمیان بیشمار احکام امرو ونہی اور بیشمار آداب و اخلاق بیان ہوئے جو سب کے سب عقیدہ توحید کے ساتھ مربوط تھے اور اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے تھے۔ اس سبق کا آغاز و انجام بھی شرک کی ایک مخصوص قسم کے رد کے ساتھ ہوتا ہے ، یعنی یہ کہ اللہ کا کوئی بیٹا اور شریک نہیں ہے۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے لیے بیٹا ہونا ایک ایسا نظریہ ہے جس کی کمزوری اور لچرپن بالکل واضح ہے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اللہ وحدہ کی مخلوق ہے اور سب چیزیں اس ثنا خواں اور تسبیح گویا ہیں۔
وان من شئی الا یسبح بحمدہ (71 : 44) ” جو چیز بھی ہے وہ اس کی تعریف کے ساتھ اس کی ثنا خواں ہے “۔ اور تمام اشیاء کا انجام ایک ہے اور سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے اور جو چیزیں بھی زمین و آسمان میں ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ اور اللہ وحدہ اپنی مخلوقات کے اندر جو تصرفات بھی کرتا ہے ، کوئی اس کے معامالت میں اس سے باز پرس نہیں کرسکتا۔
ان یشاء یرحمکم او ان یشاء یعذبکم (71 : 45) ” اگر چاہے تو تم پر رحم کردے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے “۔
اس سبق کے درمیان بتایا جاتا ہے کہ شرکیہ عقائد کمزور اور غیر معقول ہیں اور ذات باری تعالیٰ وحدہ ، حاکم ، مطاع ، ضاحب قدرت ، متصرف اور تمام معاملات کائنات میں خود مختار ہے۔ اور اسے کوئی بھی باز پرس کرنے والا نہیں ہے۔ دنیاوی امور میں اس کے ہاتھ میں ہیں ، اخروی بھی اس کے ہاتھ میں ہیں ، ظاہری بھی اور خفیہ بھی۔ اور یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع فرمان ہے ، اس کی طرف متوجہ ہے اور اس کی تعریف اور تسبیح کرتی ہے۔ اور اس کام میں انسان ، حیوان ، چرند ، پرند اور تمام اشیاء شامل ہیں۔
یہ استفہام انکاری ہے ، اور یہ انداز اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب مخاطب کو یہ بتانا مقصو ہو کہ تمہاری یہ حرکت بہت ہی بری ہے۔ تم یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ حالانکہ اللہ بیوی ، اولاد ، مثلا اور مثال سے پاک ہے۔ اور اس کا کوئی شبیہ او کوئی شریک نہیں ہے۔ اور مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے لئے تو لڑکیوں کو معیوب سمجھتے ہیں اور اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اور خود رزق کے خوف ور عار لاحق ہونے کی وہج سے بیٹیوں کو قتل کرتے ہیں اور اس کے باوجود فرشتوں کو لڑکیاں قرار دیتے ہیں اور انہیں اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ تو اگر لڑکے اور لڑکیاں دینے والا اللہ ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ دوسروں کو لڑکے دے اور اپنے لئے لڑکیاں رکھے جو درجے میں لڑکوں سے کم ہیں۔
یہ ستدلال محض اس کے رواج کے مطابق کیا گیا ، کیونکہ ان کے ہاں لڑکوں کو برا سمجھا جاتا تھا اور لڑکوں کو اچھا تاکہ یہ بتایا جائے کہ کود ان کے تصورات کے مطابق بھی۔ ان کا قول کمزور ہے۔ ورنہ بات درحقیقت اپنی اصل ہی سے غلط تھی۔
انکم لتقولون قولا عظیما (71 : 04) ” بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبان سے نکالتے ہو “۔ یہ برائی کے اعتبار سے بہت ہی بڑی بات ہے اور یہ اللہ کی شان میں بری جسارت ہے اور نہایت ہی گندی بات ہے اور یہ بہت بڑا جھوٹ ہے اور اسلامی عقائد ، قرآنی آیات اور حقائق کے ساتھ متصادم ہے اور ناقابل یقین و تصدیق ہے۔
Ayah 17:41قرآن کریم عقیدہ توحید لے کر آیا۔ اس عقیدے کو قرآن نے مختلف اسالیب سے بیان کیا اور اس پر بیشمار دلائل دئیے۔ اور کئی طریقے اختیار کیے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور فطری دلائل اور فطری اور منطقی طرز استدلال کو سمجھیں اور توحید کا فطری عقیدہ قبول کرلیں اور اس کائنا ت میں اللہ وحدہ لاشیرک کی ذات پر جو آثار و دلائل موجود ہیں ان پر غور کریں مگر ان لوگوں نے اس کے سوا کچھ نہ کیا کہ انہوں نے قرآن سے نفرت کی۔ کیونکہ انہیں ڈر یہ تھا کہ اگر انہوں نے قرآن کو سنا اور پڑھا تو وہ ان عقائد باطلہ پر قائم نہ رہ سکیں گے ، جن کو وہ مضبوطی سے پکڑے رہنا چاہتے ہیں ، کیونکہ ان کے عقائد شرکیہ ، اوہام اور خرافات پر مبنی تھے ور قرآن کے فطری اور منطقی استدلال کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتے تھے۔
جس طرح اس سے قبل لڑکیوں کی نسبت الی اللہ کے معامل میں قرآن کریم نے ان کے خیالات کے مطابق بات کی تھی کہ خود اپنے لئے تو لڑکیوں کو پسند نہیں کرتے مگر اللہ کے لئے ثابت کرتے ہیں ، اب یہاں ان کے عقیدہ شرکیہ کو فرض کرکے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی دوسرے خدا بھی ہوتے تو وہ اللہ کی ذات تک پہنچے کی کوء نہ کوئی سبیل نکالتے۔ وہ اللہ کا قرب حاصل کرتے۔
Ayahs 17:42–43جیسا کہ نحویوں نے کہا ہے کو حرف امتناع ہے اور یہ استعمال ہی قضیہ معنفہ پر ہوتا ہے ، لہٰذا اللہ کے سوا الہوں کا وجود ہی ناممکن ہے۔ اور جن ہستیوں کو یہ الہہ بناتے ہیں وہ خود اللہ کی مخلوقات ہیں۔ چاہے وہ ستارے ہوں ، سیارے ہوں ، انسان ہوں یا حیوان ہوں ، نباتات ہوں یا جمادات ہوں۔ اور یہ تمام مخلوقات قانون قدرت کے مطابق سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہیں اور یہ سب مخلوقات ارادہ باری تعالیٰ کی مطیع فرمان ہیں۔ اور ہر چیز اللہ کی طرف رواں دواں ہے۔
اذا لا بتغوا الی ذی العرش سبیلا (71 : 24) ” تو وہ مالک عرش کے مقام کو پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے “ یہاں عرش سے مراد مطلق بلندی اور ان مخلوقات پر برتری ہے جن کو یہ لوگ الہ سمجھتے ہیں۔ یہ تمام مخلوق اللہ کے عرش کے تحت ہیں اور اللہ کی حکمرانی میں کوئی اس کا شریک نہیں۔
Ayah 17:44اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس حقیقت کا اظہار کر رہا ہے ، اللہ کی تسبیح و تہلیل کر رہا ہے ، یہ پوری کائنات ایک زندہ کائنات ہے اور اللہ کی تسبیح و تہلیل میں مصروف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکی ہوئی ہے۔
یہ ایک منفرد کائنات منظر ہے ، جب انسان سوچتا ہے کہ ہر شجر و حجر ، ہر بیج اور ہر پتہ ، ہر پھل اور پھول ، ہر پودا اور ہر درخت ، پر چرند اور ہر پرند ، ہر انسان اور ہر حیوان ، ہر دوڑنے والا اور ہر رینگنے والا ، ہر اڑنے والا اور ہر تیرنے والا ، زمین کا ہر مکیں اور ہوا کا ہر باسی ، پستیوں میں رہنے والا یا بلندیوں پر بسیرا رکھنے والا ، سب کے سب اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور ثنا خوان ہیں۔
جب انسان تمام چیزوں کی حقیقت اور ماہیت پر غور کرتا ہے تو اس کے شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا ہوتا ہے ، اسے اپنے ارد گرد تمام مخلوق حرکت کرتی ہوتی اور زندہ نظر آتی ہے اور وہ اسے محسوس کرتا ہے ، وہ جس چیز کو بھی ہاتھ سے چھوٹا ہے یا پائوں سے روندتا ہے ، وہ اسے ثنا خوان الٰہی نظر آتی ہے اور زندہ و تابندہ دکھائی دیتی ہے۔
وان من شیئی الا یسبح بحمدہ (71 : 44) ” کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو “۔ اور اس کی تسبیح کا اندازہ مخصوص ہے۔
ولکن لا تفقھون تسبیحھم (71 : 44) ” مگر تم ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہو “۔ تم اس لئے نہیں سمجھتے کہ مادیت نے تمہاری روح کو چھپا رکھا ہے ، تمہارے دل ان کی آواز کو نہیں سنتے ، اور اس کائنات کے اسرار و رموز پر تم نے غور نہیں کیا۔ اس کائنات کے ان قوانین قدرت پر تم نے غور نہیں کیا جو اس کے اندر جاری وساری ہیں۔ حالانکہ در حقیقت اس کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے رب کی طرف رواں و کشاں ہے۔ قوانین قدرت کے مطابق اس کائنات کے مدبر کا حدی خواں ہے۔
یاد رکھو ، کہ جب روح شفاف ہوجاتی ہے اور انسان روحانی صفائی کے مدارج طے کرلیتا یہ تو وہ سب چیزوں کی تسبیح سنتا ہے ، ہر متحرک اور ہر ساکن مخلوق کی آواز وہ سنتا ہے۔ اسے ہر چیز کی نبض چلتی نظر آتی ہے اور ہر چیز کی تسبیح سنائی دیتی ہے۔ اس کا رابطہ عالم بالا سے ہوجاتا ہے اور وہ اس کائنات کے ان اسرار و رموز کو دیکھتا ہے جس سے غافل لوگ بیخبر ہوتے ہیں ، کیونکہ مادیت کے پردہ نے ان غافلوں کی روح کو بار رکھا ہوتا ہے ، حالانکہ روح کائنات ہر ساکن و جامد میں بھی متحرک ہے۔ ہر چیز میں ہر شجر و حجر میں۔
انہ کان حلیما غفورا (71 : 44) ” حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بردبار اور درگزر کرنے والا ہے “۔ حلم اور مغفرت کا ذکر یہاں اسی لئے کیا گیا کہ انسان ہر معاملے میں پر تقصیر ہے۔ خصوصاً وہ اس حقیقت کے اور اک سے قاصر ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اللہ کی ثنا خواں ہے۔ نہ صرف یہ ہے کہ وہ نبات و جماد کے اقرار و تسبیح سے جاہل بلکہ یہ انسان انسان ہوتے ہوئے بھی باری تعالیٰ کا منکر بن جاتا ہے۔ کوئی شرک کرتا ہے ، کوئی اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتا ہے ، کوئی بلکہ اکثریت کائنات کی تسبیح سے بیخبر ہے ، حالانکہ شجر و حجر کے مقابلے میں بشرپر زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کا مطیع ہو اور ثنا خواں ہو اور ذات باری کی معرفت کا حامل ہو۔ اگر اللہ کی درگزر نہ ہوتی ، وہ مہلت نہ دیتا ، مغفرت نہ کرتا ، تو کب کے وہ تباہ ہوچکے ہوتے لیکن وہ حلیم و غفور ہے۔ بار بار نصیحت کرتا ہے ، ڈراتا ہے اور نصیحت کرتا ہے۔
کبراء قریش چپکے چپکے قرآن سنا کرتے تھے ، لیکن وہ ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی کرتے تھے کہ ان کے دلوں پر قرآن کا اثر نہ ہوجائے ، وہ زبردستی اپنے اوپر مرتب ہونیو الے اثرات کو جھڑک دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے اور رسول ﷺ کے درمیان پر دے حائل کر رکھے تھے۔ وہ اپنے آپ کو غافل رکھتے تھے۔ کانوں میں انگلیاں ڈالتے تھے ، چناچہ اللہ نے بھی انہیں ان کی اس روش پر چلنے دیا۔ ان کے اور قرآن کے درمیان پردے حائل ہوگئے۔ ان کے دلوں پر تالے لگ گئی اور کانوں میں بھاری پن آگیا۔