17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 17:45

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کردیتے ہیں

ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے۔ (محمد ابن شہاب ، زہری سے) کہ ابو سفیان ابن حرب ، ابو جہل ، اور اخس ابن شریق ابن عمرو ابن وھب ثقفی ایک رات کو اپنے اپنے طور پر نکلے ، تاکہ حضور ﷺ سے قرآن سنیں۔ آپ ﷺ رات کو اپنے گھر میں ۔۔ نماز میں قرآن پڑھتے تھے۔ ہر شخص نے اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر کلام الٰہی سنا۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے متعلق نہ جانتا تھا۔ رات کو وہ سنتے رہے ، یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ صبح واپس ہوتے وقت راستے میں ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ” دوبارہ یہ کام نہ کرنا اگر نادان لوگوں نے ت میں دیکھ لیا تو وہ اچھا تاثر نہ لیں گے “۔ پھر چلے گئے۔ دوسرے دن یوں ہوا کہ دوبارہ یہ تینوں اپنی اپنی جگہ پہنچ گئے۔ رات گئے تک سنتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو پھر راستے میں انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا۔ پھر انہوں نے وہی بات کی جو پہلے دن کی تھی پھر چلے گئے۔ جب تیسری رات ہوئی تو پھر سب کے سب اپنی اپنی جگہ پہنچ گئے اور سنتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو پھر اتفاقاً ایک دوسرے کو مل گئے۔ اب کے انہوں نے کہا کہ جب تک ہم معاہدہ نہ کرلیں واپس نہ ہوں گے۔ چناچہ انہوں نے باقاعدہ معاہدہ کیا کہ اب ہر گز یہ کلام نہ سنیں گے۔ جب صبح ہوئی تو احنس ابن شریق نے اپنی لاٹھی لو ، ابو سفیان ابن حرب کے پاس آیا خود اس کے گھر میں۔ تو ان سے کہا ابو حنظلہ ، براہ کرم تم نے محمد ﷺ سے جو کلام سنا اس کے بارے میں بتائیے۔ تمہاری حقیقی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا ابو ثعلبہ ، خدا کی قسم کہ میں نے بعض چیزیں ایسی سنی ہیں جنہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں اور ان کا مطلب بھی سمجھتا ہوں۔ ہاں بعض چیزوں کا مطلب میں نہیں سمجھتا۔ اس پر اجنس نے کہا اور میری بھی یہی رائے ہے۔ اس خدا کی قسم جس کے ساتھ تم نے قسم کھائی۔ اس کے بعد وہ وہاں سے چلا اور ابو جہل کے پاس آیا۔ یہ اس سے بھی اس کے گھر پر ملا۔ اور یہی سوال کیا کہ ابو حکم براہ کرم محمد ﷺ سے جو کچھ تو نے سنا اس کے بارے میں تمہاری حقیقی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کیا سنا ؟ ہمارے اور بنو عبد مناف کا عزت و شرف کے بارے میں مقابلہ تھا۔ انہوں نے لوگوں کو کھانا کھلایا ، ہم نے بھی کھلایا ، انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں ، ہم نے بھی دیں۔ انہوں نے عطیے دئیے ، ہم نے بھی دئیے ، یہاں تک کہ ہم گھٹنے سے گھٹنا ملا کر چلے اور ہم مقابلے کے گھوڑوں کی طرح دوڑے۔ اب انہوں نے یہ دعویٰ کردیا ہے کہ ہم میں ایک نبی آیا ہے جس وحی آتی ہے۔ تو ہم اسے کس طرح تسلیم کرسکتے ہیں ؟ ہم اس پر نہ ایمان لائیں گے نہ اس کی تصدیق کریں گے۔ اس پر احنس ابن شریق اسے چھوڑ کر اٹھ گیا…“۔ یہ تھے ان لوگوں کے حالات۔ یہ قرآن سے متاثر ہوتے تھے لیکن وہ زبردستی اس تاثر کو دور کرنے کی سعی کرتے۔ ان کے دل اس کی طرف کھنچتے تھے مگر وہ زبردستی اس سے دور کرتے۔ چناچہ ان کے اس رویے کی وجہ سے اللہ نے ان کے اور قرآن کے درمیان ایسے خفیہ پردے حائل کردیے جو بظاہر نظر نہ آتے تھے مگر ۔۔۔ پردے تھے۔ وہ قرآن سے فائدہ نہ اٹھاتے تھے اور وہ قرآن سنت تھے مگر ہدایت نہ لیتے تھے۔ وہ جب سنتے تو مبہوت و محسو رہوجاتے ، لیکن واپس ہو کر پھر خفیہ مشورے کرتے۔ سازشیں کرتے اور پختہ عہد کرتے کہ اب کے بعد پھر سرے سے سنیں گے ہی نہیں تاکہ ان کے دلوں پر قرآنی اثرات نہ پڑجائیں۔ ان کا دماغ متاثر نہ ہوجائے۔ کیونکہ قرآن مجید کی تعلیمات جس نظریہ حیات اور جس عقیدہ توحید پر مبنی تھیں اس کے نتیجے میں قائم ہونے والا نظام اور معاشرہ ان کی خود ساختہ برتری اور امتیازات کو ختم کردیتا تھا اور یہ بات ان کے لئے ناقابل برداشت تھی۔
Ayah 17:46

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے ، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔

اذا ذکرت ربک فی القران وحدہ ولا علی ادبار ھم نفورا (71 : 64) ۔ ترجمہ : ” اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں “۔ یہ نفرت ان کو لفظ وحدہ سے تھی۔ کیونکہ عقیدہ توحید ان کے اجتماعی نظام کو ختم کر رہا تھا۔ ان کا اجتماعی نظام بت پرستی اور جاہلیت کے رسم و رواج پر قائم تھا ، جس میں قریش کی امتیازی حیثیت تھی ، ورنہ وہ خود جانتے تھے کہ ان کے عقائد میں کس قدر جھول ہے اور اسلام کے نظریات کس قدر پختہ ہیں۔ نیز وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن ایک نہایت ہی بلند پایہ پیغام و کلام ہے۔ اور اس کی ایک امتیازی شان ہے۔ اور قرآن کے اثرات کا یہ عالم تھا کہ وہ اس کی طرف کھینچے چلے جاتے تھے حالانکہ وہ اس سے اپنے آپ کو بچانے کی سعی بھی کرتے تھے اور اس کے اثرات کو زائل کرنے میں جدوجہد بھی کرتے تھے۔ ان کا ضمیر اور ان کی فطرت ان کو اس بات پر مجبور کررہی تھی کہ وہ بات سنیں ، متاثر ہوں ، لیکن غرور کی وجہ سے وہ تسلیم کرنے اور یقین کرنے سے باز رو رہے تھے۔ اپنی ہٹ دھرمی اور مکابرہ کو وہ یوں چھپاتے تھے کہ رسول اللہ پر مختلف قسم کے الزامات عائد کرتے تھے۔ مثلاً یہ کہ آپ جادوگر ہیں۔
Ayah 17:47

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں تو دراصل کیا سنتے ہیں ، اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں۔ یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جا رہے ہو

اذ یقول الظلمون ان تتبعون الا رجلا مسحورا (71 : 74) ” یہ ظالم آپس میں کہتے تھے کہ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے “۔ لیکن خود ان کے اس الزام کے اندر ان کی کمزوری ظاہر ہے ، اس الزام ہی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ قرآن سے بےحد متاثر تھے۔ کیونکہ وہ اندر اندر سے یہ اعتراف کرتے تھے کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا ، اس کے اندر غیر بشری رنگ ہے ، یہ نہایت ہی خفیہ انداز میں غیر محسوس طور پر اپنے شعور اور وجدان میں اس بات کو پاتے تھے کہ یہ کوئی فوق البشر کلام ہے ، اس لئے کبھی اسے جادوگری کہتے ، کبھی کچھ اور کہتے ، کیونکہ وہ خود سمجھتے تھے کہ یہ کوئی معمولی کلام نہیں ہے۔ اس کی ترتیب اور اس کی ساخت میں ایک فوقیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ بات وہ تسلیم کرتے تھے کہ یہ کلام خود حضرت محمد ﷺ کا نہیں ہے بلکہ کسی جادو کا کرشمہ ہے۔ انسانی قوت کا کرشمہ نہیں بلکہ جادوگری ہے ، لیکن ان کو حقیقت کے اعتراف کی توفیق نہ ہوتی ورنہ وہ کہتے کہ یہ کلام الٰہی ہے کیونکہ انسان ، کوئی بھی انسان ایسا کلام پیش نہیں کرسکتا ، نہ انسان کے علاوہ کوئی اور مخلوق ایسا کلام بنا سکتی ہے۔
Ayah 17:48

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھو ، کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں ، یہ بھٹک گئے ہیں ، انہیں راستہ نہیں ملتا

انظر کیف ضربوا لک الامچال فصلوا فلا یستطیعون سبیلا (71 : 74) دیکھو کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں ، یہ بھٹک گئے ہیں ، انہیں راستہ نہیں ملتا “۔ یہ آپ ﷺ کو جادوگر اور جادو زدہ کہتے ہیں ، حالانکہ آپ ﷺ تو رسول ہیں۔ یہ خود گمراہ ہوگئے ، راہ ہدایت نہیں پا رہے ، یہ اس قدر حیران ہوگئے کہ انہیں کوئی راہ نہیں سوجھتی۔ نہ وہ راہ راست پر آتے ہیں اور نہ ہی اپنے غلط موقف پر کوئی صحیح استدلال کرسکتے ہیں۔ یہ تو تھے ان کے اقوال اور ان کی آراء قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں۔ قرآن کے فلسفہ کائنات کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ وہ قیامت اور بعث بعد الموت کے قائل نہ تھے اور اسے مستبد سمجھتے تھے۔
Ayah 17:49

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے ؟

بعثت بعد الموت کا مسئلہ رسول اللہ اور مشرکین مکہ کے درمیان بار بار زیر بحث آتا تھا۔ قرآن کریم نے بکثرت ان مباحث کو نقل کیا ہے ، حالانکہ اس کائنات اور موت وحیات کی حقیقت پر غوروفکر کرنے والا ہر آدمی بڑی آسانی کے ساتھ اسے سمجھ سکتا ہے۔ حشر ونشر کی نوعیت کو بسہولت سمجھتا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم نے اس پر بار بار روشنی ڈالی ہے ، لیکن جس سادگی اور سلامت اور جس وضاحت کے ساتھ قرآن نے اس مسئلہ کو سمجھایا ، یہ لوگ اسے نہ سمجھ سکے۔ لہٰذا وہ یہی کہتے رہے کہ مرمٹنے کے بعد وہ کیسے دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ وقالوء اذا کنا عظاما ورفاتاء انا لمبعوثون خلقا جدیدا (71 : 94) ” وہ کہتے ہیں کہ جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے ؟ “ وہ یہ باتیں اس لئے کرتے تھ کہ وہ حیات کی اصل حقیقت کے بارے میں سوچتے ہی نہ تھے کہ وہ ایک وقت بالکل نہ تھے اور اللہ انہیں وجود میں لایا۔ اور یہ کہ ابتدائی تخلیق مشکل ہوتی ہے جبکہ دوربارہ تخلیق کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ پھر یہ بھی وہ نہیں سوچتے کہ اللہ کی قدرت لامحدود ہے ، اس کے سامنے مشکل نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اللہ کی تخلیق کا آلہ اور سبب فقط کن فیکون ہے۔ لہٰذا کوئی چیز سہل یا دشوار انسانوں کے نقطہ نظر سے تو ہوسکتی ہے لیکن اللہ کے نقطہ نظر سے نہیں۔ وہاں تو صرف ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے اس تعجب کو یوں رد کردیا گیا۔
Ayah 17:50

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

ان سے کہو ” تم پتھر یا لوہا بھی ہوجائو ،

قل کو نو حجارۃ او حدیدا (05) او ……(15) (71 : 05۔ 15) ۔ ” ان سے کہو ” تم پتھر یا لوہا بھی ہوجائو ‘ یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبول حیات سے بعید تر ہو “۔ جہاں تک ہڈیوں اور مٹی کا تعلق ہے ان کے ساتھ تو پھر بھی زندگی کی یادیں وابستہ ہیں اور پتھر اور لوہا تو زندگی سے بہت دور ہیں کہ تم پتھر ہوجائو ، لوہا ہو جائو اور کوئی سخت چیز ہو جائو جو تمہارے خیال میں آثار حیات کو قبول کرنے سے بہت ہی دور ہو ، جس میں زندگی کی روح نہ پھونکی جاسکتی ہو تو بھی جب اللہ چاہے گا تمہیں زندہ کر دے گا۔ یہ لوگ نہ پتھر بن سکتے تھے اور نہ لوہا ، لیکن یہ ان کو بطور چیلنج کہا جا رہا ہے ، اس چیلنج میں ایک طرح کی زجرو توبیخ بھی پوشیدہ ہے۔ پتھروں اور لوہے میں کوئی احساس نہیں ہوتا ، لہٰذا ایک بعید اشارہ اس طرف ہے کہ تمہاری سوچ پتھر اور لوہے کی طرح بےلچک ہے۔
Ayah 17:51

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یاس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبول حیات سے بعید تر ہو “ (پھر بھی تم اٹھ کر رہو گے) ۔ وہ ضرور پوچھیں گے ” کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا کر لائے گا ؟ “ جواب میں کہو :” وہی جس نے پہلی بات تم کو پیدا کیا “۔ وہ سر ہلا ہلا کر پوچھیں گے :” اچھا ، تو یہ ہوگا کب ؟ “ تم کہو :” کیا عجب کہ وہ وقت قریب ہی آلگا ہو۔

فسیقولون من یعیدنا (71 : 15) ” وہ ضرور پوچھیں گے کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا لائے گا ؟ “ یعنی جب ہم مٹی ہوگئے ، بوسیدہ ہدیاں ہوگئیں ، تو کون ہے وہ جو ہمیں دوبارہ حیات دے گا۔ یا جب ہم پتھر اور لوہا بن گئے تو پھر کون حیات دے گا ؟ قل الذین فطرکم اول مرۃ (81 : 15) ” کہہ دو ، وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا “۔ ان کے سوال کا یہ نہایت ہی سادی اور صاف اور دل لگتا جواب ہے۔ کیونکہ جس ذات سے پہلی مرتبہ ان کو زندگی دی وہ دوبارہ بھی دے سکتا ہے لیکن وہ اس سادہ جواب سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور نہ اطمینان ان کو ہوتا ہے۔ فسیتغضون الیک رء وسھم (71 : 15) ” وہ سر ہلا کر پوچھیں گے “۔ یعنی سر کو اوپر نیچے کر کے سوالیہ انداز اختیار کریں گے ، یہ حرکت وہ اس لئے کریں گے کہ وہ اس بات کو بعید از امکان سمجھتے ہیں یا غرور کے طور پر سر ہلائیں گے۔ و یقولون متی ھو (71 : 15) ” اچھا تو یہ ہوگا کب ؟ “ یہ بھی وہ نہایت ہی لاپرواہی سے وقوع قیامت کو بعید از امکان سمجھتے ہوئے کہیں گے۔ قل عسی ان یکون قریبا (71 : 15) ” آپ جواب دیں ، کیا عجب کہ وہ وقت قریب ہی آلگا ہو “۔ وقوع قیامت کے وقت کا علم تو رسول اللہ ﷺ کو بھی نہیں دیا گیا لیکن شاید یہ وقت ان لوگوں کے گمان اور ظن وتخمین سے قریب تر ہو۔ مناسب تو یہی ہے کہ وہ اس کے وقع سے ڈریں کیونکہ یہ اس حال میں واقع ہوگا کہ لوگ غفلت میں ہوں گے۔ تکذیب کر رہے ہوں گے ، مذاق کر رہے ہوں گے اور قیامت برپا ہوجائے گی۔ اور قرآن اپنے مخصوص انداز کے مطابق اچانک قیامت کے مناظر کا بیان شروع کردیتا ہے۔
Ayah 17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کریت ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آئو گے اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اس حالت میں پڑے رہے ہیں

یوم یدعو کم فتستحیبون بحمدہ وتظنون ان لبثتم الا قلیلا (71 : 25) ” جس روز تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس پکار کے جواب میں نکل آئو گے “۔ یہ ان لوگوں کا منظر ہے جو وقع قیامت کے منکر تھے۔ آج وہ لبیک کہتے ہوئے میدان حشر میں چلے آرہے ہیں۔ ان کی زبانوں پر بےساختہ حمدو ثنا جاری ہے ، اور اس کے سوا ان کے ساتھ کوئی سو ال و جواب نہیں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے سوالات کا یہ عجیب جواب دیا ہے ، یہ لوگ تو اس بات کا انکار کررہے کہ قیامت ہوگی۔ لیکن آج وہ الحمد اللہ ، الحمد اللہ کہتے ہوئے دورے آرہے ہیں۔ آ ج پوری زندگی کی اسکرین اس طرح لپیٹ دی جائے گی جس طرح سایہ سمٹ آتا ہے۔ وتظنون ان لبثتم الا قلیلا (71 : 25) ” اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر اسی اس حالت میں پڑے رہے ہیں “۔ دنیا میں زندگی کے طویل ایام کی چادر کو اور پھر برزخ میں صدیوں کے عرصے کو یوں لپیٹ کر رکھ دینا یہ بتاتا ہے کہ یہ دنیا ، اس کی زندگی اور عالم برزخ میں صدیاں کس قدر مختصر عرصہ ہیں ، یہ سب کچھ چند لمحات ہیں۔ طویل زندگی کے لمحات اور تاثرات انسانی احساس میں نہایت مختصر ہوتے ہیں۔ یہ ایک وقت ہوتا ہے جو گزر جائے۔ ایک زمانہ ہوتا ہے جو بیت جائے اور ایک سایہ ہوتا ہے جو لپیٹ لیا جائے اور سازوسامان دنیا ہوتا ہے جو فنا ہوجائے۔ اب وقوع قیامت کا انکار کرنے والوں کو ، اللہ کے اس پختہ عہد کو جھٹلانے والوں اور اس کے ساتھ مذاق کرنے والوں ، سر ہلانے والوں اور مذاق مذاق میں اعتراض کرنے والوں کو چھوڑ کر ، اللہ کے مومن بندوں کے ساتھ مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ حضور اللہ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ میرے بندوں سے یہ کہو کہ وہ ہمیشہ اچھی بات کریں۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور اے نبی ﷺ میرے بندوں (یعنی مومن بندوں) سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کری جو بہترین ہو۔ دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے۔ حقیت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ منہ سے وہی بات نکالا کریں جو بہتر ہو۔ ہر حال میں بہترین بات سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ کیونکہ بری بات سے لوگوں کا دل دکھتا ہے اور شیطان کا مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑا حربہ یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کے درمیان رخنہ ڈال دے۔ اور اس سے وہ صرف اس صورت میں بچ سکتے ہیں کہ وہ اچھی بات کریں۔ اگر کوئی بری بات منہ سے نکل جائے تو جواب بھی برا ہوگا۔ یوں نزاع شروع ہوجائے گا اور محبت اور آشتی کی فضا نہ رہے گی۔ سختی پیدا ہوگی ، پھر دشمنی ہوجائے گی۔ جبکہ اچھی بات سے دلوں کے زخم مند مل ہوجاتے ہیں اور دلوں کو خشکی اور سختی میں لچک پیدا ہوتی ہے۔ اور آخر کار اچھے کلمات سے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ ان الشیطن کان للانسان عدوا مبینا (71 : 35) ” حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے “۔ شیان تاک میں رہتا ہے کہ کسی کے منہ سے بری بات نکلے ، اس کی زبان لغزش کرے اور یوں اسے بغض وعداوت کی آگ بھڑکانے کا موقعہ مل جائے اور بھائی بھائی کا دشمن ہوجائے ، جبکہ بھلی بات سے رخنے بھر جاتے ہیں ، شیان کی راہ بند ہوجاتی ہے اور اسلامی اخوت شیطان کی وسوسہ اندازیوں اور رخنہ پردازیوں سے مامون ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد روئے سخن اب انسانوں کے انجام کی طرف مڑ جاتا ہے۔ قیامت کے دن اللہ کی ایک آواز پر یہ لوگ جمع ہوجائیں گے۔ اس دن ان کا نظام خالص اللہ کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس دن کوئی شریک نہ ہوگا۔ اللہ چاہے گا تو رحم کرے گا ، چاہے گا تو سزا گا ، اب لوگوں کا انجام اللہ ہی کے فیصلے پر ہوگا۔ اب تو رسول بھی ان کے لئے وکیل نہ ہوگا۔ وہ تو رسول تھا۔
Ayah 17:54

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا رب حال سے خوب واقف ہے۔ وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے۔ اور اے نبی ﷺ ہم نے تم کو لوگوں پر حوالہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے۔

بےقید علم اللہ ہی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے جامع علم کی بنا پر لوگوں کے ساتھ رحیمانہ سلوک کرے گا یا عذاب دے گا۔ جہاں تک رسول کا تعلق ہے تو لوگوں تک پیغام پہنچانے کے بعد اس کی ڈیوٹی ختم ہوجاتی ہے۔ اللہ کا جامع علم آسمان اور زمینوں کے درمیان موجود تمام مخلوقات کے ساتھ وابستہ ہے ، خواہ ملائکہ ہوں ، جن ہوں ، انس ہوں یا دوسری مخلوقات جن کو اللہ کے سوا ابھی تک کوئی نہیں جانتا۔ نہ اس مخلوق کی مقدار سے لوگ باخبر ہیں نہ اس کی اہمیت سے بیخبر ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا علم اپنی مخلوقات کے بارے میں مکمل ہے ، اس لئے اس نے اپنے علم ہی کی بنا پر بعض انبیاء پر بعض کو فضیلت دی ہے۔
Ayah 17:55

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

تیرا رب زمین اور آسمانوں کی مخلوقات کو زیادہ جانتا ہے ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے برھ کر مرتبے دئیے اور ہم نے ہی دائود کو زبور دی تھی

ولقد فضلنا بعض النبین علی بعض۔ یہ فضیلت دہ ہے جس کی حقیقت اور سبب صرف اللہ کے علم میں ہے۔ اس فضیلت کے مظاہر پر ہم نے پارہ سو تم میں بحث کی ہے یعنی آیت۔ تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض کے ضمن ہیں۔ لہذا تفصیلات وہاں ہی ملاحظہ کریں۔ واتینا دائود زبورا۔ (55) ۔ یہ فضیلت کا ایک خاص نمونہ ہے۔ یعنی حضرت دائود کو جو کمالات دئیے گئے وہ دوسرے انبیاء میں نہ تھے ، زبور کا ذکر اس لئے کیا کہ کتاب دوسرے معجزات کے مقابلے میں بڑا معجزہ ہوتا ہے ، خصوصا بعض مخصوص اور متعین ادوار میں ۔ اس سبق کا خاتمہ بھی اسی مضمون پر ہوتا ہے جس سے آغاز ہوا تھ ایعنی اللہ کی بیٹیوں کی نفی اور شریکوں کی نفی اور یہ کہ دعاء و پکار میں صرف اللہ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور یہ کہ لوگوں کو نفع و نقصان دینے میں صرف اللہ ہی کارساز ہے۔ یہاں ان لوگوں کو چیلنج دیا جاتا ہے جو شرک کے قائل ہیں کہ وہ اپنے شریکوں کا ذرا پکاریں اور دیکھیں کہ وہ انہیں کیا فائدہ دے سکتے ہیں ؟ یا ان پر آنے والی کس مصیبت کا منہ موڑ سکتے ہیں ؟
Ayah 17:56

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

ان سے کہو ، پکار دیکھو ان معبودوں کو ، جن کو تم خدا کے سوا (اپنا کار ساز) سمجھتے ہو ، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں

اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں ہے جو مصیبت کو ٹال سکے یا اس کا منہ موڑ سکے۔ یہ کام صرف اللہ وحدہ کرسکتا ہے۔ صرف اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کو قسمتوں کا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں مثلاً فرشتے ، جن اور انس وہ سب کے سب اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کی مخلوق ہیں۔ وہ خود اللہ تک رسائی کے طریقے تلاش کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ اور وہ خود اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ فی الحقیت ذات باری کو جانتے ہیں۔
Ayah 17:57

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کررہے ہیں کہ کون اس سے قریب تر ہوجائے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرانے کے لائق

بعض لوگ حضرت عزیر کو ابن اللہ کہتے تھے اور یہ لوگ حضرت عزیر کی بندگی بھی کرتے تھے۔ بعض لوگ ایسے تھے جو حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور ان کی بندگی کرتے تھے۔ بعض لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور ان کی پوجا کرتے تھے اور بعض لوگوں نے ان کے سوا اور معبود اور خدا بنا رکھے تھے۔ اللہ ان سب لوگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ جن لوگوں کو تم پکارتے ہو ، وہ خود اللہ کے دربار میں رسائی حاصل کرنے کے لئے وسیلے تلاش کرتے ہیں اور عبادات کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ اور اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اللہ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں ، تو تمہارے مناسب حال بھی یہ بات ہے کہ تم بھی اللہ کا تقرب حاصل کرو جیسا کہ یہ معبود اللہ کا تقرب حاصل کرتے ہیں ، حالانکہ یہ معبود نہیں ہیں ، یہ تو اللہ کے بندے ہیں۔ اور اللہ کی رضا مندی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یوں اس سبق کا آغاز اور انجام رد شرک سے ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ شرک کی تمام صورتیں باطل ہیں ، صرف اللہ وحدہ الہ ہے ، قابل عبادت ہے اور اس بات کے لائق ہے ہم اسے پکاریں۔
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور کوئی بستی ایسی نہیں ہے جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا سخت عذاب نہ دیں ، یہ نوشتہ الٰہی میں لکھا ہوا ہے

درس نمبر 821 ایک نظر میں درس سابق کا خاتمہ یوں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک اپنے بندوں کے معاملات میں متصرف ہے چاہے تو ان پر حم کردے اور چاہے تو انہیں سزا دے دے۔ اور لوگ جن الہوں کی بندگی کرتے ہیں وہ نہ ان سے کوئی مصیبت ٹال سکتے ہیں اور نہ کسی مصیبت کا منہ دوسروں کی طرف موڑسکتے ہیں۔ اب یہاں یہ بتایا جاتا ہے تمام انسانوں کا آخری انجام کیا ہوگا۔ کیونکہ اللہ نے اپنے علم کے مطابق جو فیصلے کیے ہیں ، وہ اٹل ہیں۔ اور یہ آخری انجام یوں ہوگا کہ قیامت سے قبل اللہ تمام بستیوں کو ہلاک کردے گا۔ اگر ان بستیوں میں سے کوئی بستی ایسے جرائم کا ارتکاب کرے جسے دنیا میں سزا دینا لازمی ہو تو یہاں ہی اسے عذاب دے دیا جاتا ہے۔ لہذا تمام زندہ انسان دو طرح کے انجام سے لازماً دو چار ہوں گے یا تو اپنی موت مریں گے یا عذاب الٰہی کے نتیجے میں ہلاک ہوں گے۔ عذاب الٰہی کے ذکر کی مناسبت سے یہاں ان معجزات کا ذکر کردیا جاتا ہے جن کا ظہور انبیائے سابق کے ہاتھوں پر ہوا۔ یعنی رسالت محمدیہ سے پہلے رسولوں پر۔ ایسے خوارق عادت معجزات کا ظہور رسالت محمدیہ کے ہاتھوں اس لئے نہیں کیا گیا امت محمدیہ کے لئے وہ عذاب مقدر نہیں جو ان اقوام پر آیا کیونکہ اللہ کی یہ سنت ہے کہ جب کوئی معجزہ ظاہر ہوتا ہے اور پھر بھی امت تسلیم نہیں کرتی تو پھر اس پر عذاب الٰہی آتا ہے۔ اور امت محمدیہ کے لئے چونکہ ہلاکت مقدر نہیں اس لئے ایسے معجزات حضرت محمد ﷺ کو نہیں دئیے گئے۔ اور امم سابقہ کے انبیاء کو یہ معجزات ڈرانے کی خاطر دئیے گئے لیکن جب معجزات دیکھ کر وہ نہ ڈرے تو ہلاک ہوئے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ تک لوگوں کی رسائی کے راستے بند کردئیے۔ چناچہ وہ آپ کو کوئی دکھ نہ پہنچا سکے۔ اور اللہ نے آپ ﷺ کو سچی سیر کرائی اور جو کچھ دکھانا تھا ، دکھایا تاکہ یہ واقعہ لوگوں کے لئے آزمائش ہو اور اسے دوسرے معجزات کی طرح خارق عادت معجزہ نہ بنایا اور اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو شجرہ ملعونہ سے ڈرایا مگر وہ مزید سرکشی کرتے رہے۔ شجرہ ملعونہ سے مراد زقوم ہے جس کی روئیدگی جہنم کی تہہ میں ہوتی ہے ، اس تخویف کا لوگوں کے رویہ پر کوئی اثر نہ ہو لہٰذا معجزات کا صدور بھی ان پر اثر انداز نہیں ہوسکتا تھا۔ اس مضمون کے دوران قصہ آدم و ابلیس بھی بیان ہوا ہے۔ اللہ نے ابلیس کو یہ اجازت دی کہ وہ ابن آدم میں سے جس کو چاہے گمراہ کرے مگر میرے صالح بندوں پر تیری دسترس نہ ہوگی۔ کیونکہ میں نے ان کو برے اثر سے محفوظ کردیا ہے۔ چناچہ اس قصے ذریعہ گمراہی کے اصل اسباب لوگوں کو بتادئیے گئے ، جو لوگوں کو کفر اور سرکشی پر آمادہ کرتے ہیں اور وہ اللہ کی بات پر تدبر نہیں کرتے۔ یہاں سیاق کلام انسان کو یہ تاثر دیتا ہے کہ اللہ کی جانب سے اس پر کس قدر فضل و کرم ہے لیکن اس فضل و کرم کے مقابلے میں انسان ہے کہ اللہ کا انکار کرتا ہے اور سرکشی اختیار کرتا ہے۔ اور انسان کو اللہ صرف اس وقت یاد آتا ہے جب وہ نہایت ہی اضطرابی حالت میں ہو ، اگر سمندر میں کوئی مشکلات پیش آجائیں تو انسان پھر اللہ کی پناہ میں آجاتا ہے لیکن جونہی اللہ نجات دیتا ہے تو لوگ پھر شرک کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تو انہیں سمندر اور خشکی دونوں میں پکڑ سکتا ہے۔ حالانکہ انسان کو اللہ اپنی مخلوقات کے ایک بڑے حصے پر فضیلت بخشی ہے ، لیکن انسان ہے کہ شکر نہیں کرتا اور اللہ کو یاد نہیں کرتا۔ یہ سبق قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر پر ختم ہوتا ہے ، جب یہ لوگ وہ سب کچھ پالیں گے جو انہوں نے کمایا تھا لہٰذا نجات صرف اس صورت میں کہ انسان اگلے جہاں کے لئے کچھ کمائی کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ جب قیامت آئے تو اس کرہ ارض کی چھاتی پر حیات کا نام و نشان نہ ہو ، لہٰذا قیامت سے قبل اس کرہ ارض کی تمام زندہ چیزیں ختم ہونے والی ہیں۔ اسی طرح اس کرہ ارض پر واقع بعض بستیوں کے لئے تباہی مقدر ہے اس لئے کہ وہ جرائم کا ارتکاب کرتی ہیں اور ان جرائم کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے۔ یہ تقدیر اللہ کے علم میں ہوتی ہے کہ ایسا ہونا ہے کیونکہ جو ہوچکا یا جو ہونے والا ہے اللہ کے علم میں دونوں برابر ہیں۔ تمام رسولوں کو معجزات دئیے گئے تھے اور یہ معجزات رسولوں کی حقانیت کی تصدیق کرتے تھے اور ان معجزات کے ذریعے لوگوں کو اس بات سے ڈرایا جاتا تھا کہ اگر انہوں نے تکذیب کی تو ان پر ہلاکت آجائے گی لیکن ان خوارق عادت معجزات کو دیکھ کر صرف ان لوگوں کو ایمان نصیب ہوا جن کے دل ایمان کے لئے تیار تھے۔ رہے وہ لوگ جن کو کفر پر اصرار تھا تو انہوں نے انکار ہی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی آخر الزمان کو ایسے خارچ عادت معجزات نہ دئیے گئے۔
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم کو نشانیان بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ ان سے پہلے لوگ ان کو جھٹلا چکے ہیں (چنانچہ دیکھ لو) ثمود کو ہم نے علانیہ اونٹنی لاکر دی اور انہوں نے اس پر ظلم کیا۔ ہم نشانیاں اسی لئے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں

اسلام کا معجزہ و فقط یہ قرآن ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو زندگی کا ایک مکمل نظام عطا کرتی ہے۔ یہ کتاب انسان کے دل و دماغ اور عقل و خرد کو اپیل کرتی ہے۔ انسان کی فطرت سلیمہ کو اپیل کرتی ہے۔ پھر یہ ایک زندہ جاوید اور مسلسل معجزہ ہے ، قیامت تک لوگ اسے پڑھیں گے اور ایمان لاتے رہیں گے۔ رہے خارچ عادت معجزات تو وہ صرف مخصوص نسل کو اپیل کرتے ہیں ، جنہوں نے انہیں دیکھا۔ بعد میں آنے والوں کے لئے وہ ایک تاریخی واقعہ بن جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے انبیائے سابقین کے ان معجزات کو دیکھا ان میں سے اکثریت نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔ اللہ نے بطور نمونہ قوم ثمود کے معجزہ ناقہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے ایک واضح معجزے کا مطالبہ کیا تھا اور یہ ناقہ ان کے طلب کردہ معجزے کے طور پر آئی تھی لیکن انہوں نے اس کے باوجود اس کے ساتھ ناانصافی کی اور اسے ہلاک کردیا۔ اسی طرح اللہ نے یہ پوری قوم ہلاک کردی اور معجزات کا صدور ہی اس لئے ہوتا ہے کہ اگر ان کے بعد بھی کوئی تسلیم نہیں کرتا تو اسے ہلاک کردیا جائے۔ ان انسانی تجریات کا تقاضا یہ تھا کہ آکری رسالت کو خوارق عادت معجزات کی تائید کی ضرورت نہ ہو کیونکہ یہ آخری کتاب اور یہ آخری رسالت ان تمام نسلوں کے لئے ہے جو تاقیامت تک اس دنیا میں آئیں گی۔ یہ صرف ان نسلوں تک محدود نہیں ہے جن کے سامنے حضور اکرم ﷺ بذات خود موجود تھے کیونکہ یہ آخری رسالت عقل انسانی کے بلوغ کی رسالت ہے اور اب یہ تمام آنے والی نسلوں کی عقل و دانش سے مخاطب ہے۔ اور یہ رسالت انسان کے فہم اور ادراک کی قوتوں کا احترام کرتی ہے کیونکہ اپنے فہم و ادراک ہی کی وجہ سے انسان کو دوسری مخلوقات پر فضیلت دی گئی ہے۔ رہے وہ معجزات جن کا صدور حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ پر ہوا ، ان میں سے ایک معجزہ واقعہ اسرا اور معراج ہے ، تو یہ معجزہ برائے تصدیق رسالت نہ تھا۔ یہ تو لوگوں کی فہم و فراست کی ایک آزمائش تھی۔
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

یاد کرو اے نبی ﷺ ‘ ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے رب نے ان لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے ، اس کو اور اس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے ، ہم نے ان لوگوں کے لئے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا۔ ہم انہیں تنبیہ پر کیے جا رہے ہیں ، مگر ہر تنبیہ ان کی سرکشی میں اضافہ کیے جاتی ہے

واقعہ اسرا کے بعد بعض وہ لوگ جو حضور اکرم ﷺ پر ایمان لاچکے تھے ، مرتد ہوگئے اور دوسرے اہل ایمان اس واقعہ کع سن کر مزید ثابت قد ہوگئے اور ان کے یقین میں ضافہ ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس رات اللہ نے اپنے بندے کو جو کچھ دکھایا ، وہ لوگوں کے لئے فتنے کا موجب بنا اور یہ اہل ایمان کے لئے آزمائش تھی۔ ” اللہ نے لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ کا یہ وعدہ تھا کہ لوگ آپ ﷺ کو نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور ان کی رسائی آپ تک نہ ہوسکے گی۔ حضور اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ ان کی رسائی ان تک نہیں ہوسکتی کیونکہ آپ کو سچے خواب میں یہ بات من عند اللہ بتا دی گئی تھی اور سفرا سرا میں حضور اکرم ﷺ کو جو باتیں بتائی گئیں ان میں سے ایک درخت زقوم کے بارے میں تھی کہ یہ جہنمیوں کی خوراک ہوگی اور ابو جہل اور دوسرے مشرکین نے اس کی بھی تکذیب کی اور ابوجہل نے مذاق کے طور پر کہا مجھے کچھ اور مکھن دے دو ، جب دیا گیا تو وہ کھجور کے ساھت مکھن ملا کر کھاتا اور کہنا جاتا۔ “ کھائو اس زقوم کو کہ میں اس کے سوا کسی اور زقوم کو نہیں جانتا “۔ اگر حضور اکرم ﷺ کو خارق عادت معجزات بھی دے دئیے جاتے تو بھی وہ اس قوم پر اثر انداز نہ ہوتے ، جس طرح انبیائے سابقین کے حق میں آنے والے معجزات اور آیات لوگوں کے لئے موجب ہدایت نہ ہوئے۔ جس طرح معجزہ اسرا ومعراج اور زقوم کے درخت سے ڈراوے نے ان کو ہدایت نہ بخشی اور وہ مزید سرکشی اختیار کرتے رہے اسی طرح دوسرے معجزات اگر صاد ربھی ہوجاتے تو لوگوں پر ان کا کوئی اثر نہ ہوتا۔ اللہ نے عذاب الٰہی کے ذریعہ امت محمدیہ کی ہلاکت لکھی ہوئی نہ تھی ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو ایسا خارق عادت معجزہ نہیں دیا ، کیونکہ اللہ کا اصول یہ تھا کہ اگر پھر بھی کوئی تکذیب کرے تو اسے ہلاک کردیا جائے۔ رہے قریش تو ان کو اللہ نے مہلت دی اور ان کو قوم نوح ، قوم ہود ، قوم صالح ، قوم لوط اور قوم شعیب (علیہم السلام) کی طرح جڑ سے اکھاڑ کر نہ پھینا ، کیونکہ قریش کے مکذبین میں سے پیش تر لوگ بعد میں ایمان لائے اور وہ اسلام کے نامور سپای بنے۔ اور ان ہی میں سے بعض لوگ نہایت ہی سچے مسلمانوں میں شمار ہوئے اور قرآن کریم ، ایک کھلی کتاب کے طور پر محمد ﷺ کے لئے ایک معجزہ ہے۔ اور آج بھی اس پر بیشمار ایسے لوگ ایمان لاتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کا عہد دیکھا ہی نہیں۔ ہزار ہا افراد حلقہ بگوش اسلام ہوئے جنہوں نے قرآن مجید کو پڑھایا ایسے لوگوں کے شاگرد اور ساتھی اور رفیق بنے جنہوں نے قرآن مجید پڑھا اور سمجھا۔ آنے والی نسلوں کے لئے بھی ، قیامت تک ، یہ ایک کھلی کتاب ہوگا اور مستقبل کے پردہ غیب کے پیچھے ہزار ہو لوگ ایسے ہیں جو اس کو پڑھ کر ہدایت لیں گے اور ان میں ایسے لوگ بھی آئیں گے جو نہایت ہی پختہ مومن ، نہایت ہی صالح ، اسلام کے لئے نہایت ہی مفید اور متقی ہوں گے۔ وہ سچا خواب جو رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا اور اس خواب کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو جو علوم عطا ہوئے اور جو ملعون درخت رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا جو شیاطین کے متبعین کی خوراک ہوگا۔ اس کے بعد اسی مناسبت سے ابلیس معلون کی بحث آتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس شیطان نے بنی آدمی کو کس طرح چیلنج دیا۔
Ayah 17:61

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور یاد کرو جبکہ ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ، تو سب نے سجدہ کیا ، مگر ابلیس نے نہ کیا۔ اس نے کہا :” کیا میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے ؟

یہاں بتایا جاتا ہے کہ گمراہ لوگوں کی گمراہی کا اصل سبب کیا ہوتا ہے۔ چناچہ قصہ آدم و ابلیس کا یہ منظر یہاں پیش کیا جاتا ہے ، تاکہ وہ لوگ جو گمراہی کے اصل اسباب معلوم کرنا چاہتے ہیں ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ اسباب کیا ہیں اور یہ کہ شیطان ان کا بنیادی دشمن ہے۔ یہ ان کے جد امجد کا بھی دشمن تھا ، یوں انسانوں کے ابو الاباء کا رشتہ بتا کر انہیں ڈرایا جاتا ہے کہ شیطان ان کا جدی دشمن ہے۔ واذ قلنا للملئکۃ اسجدو……(71 : 16) ” اور یاد کرو جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ، تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ اس نے کہا :” میں اس جو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے “۔ یہ کبر کی وجہ سے شیطان کے حسد کا ظہور ہے کہ وہ مٹی کو تو دیکھتا ہے لیکن یہ نہیں دیکھتا کہ اس مٹی میں اللہ نے اپنی روح پھونکی ہوئی ہے۔ یہاں ابلیس بنی آدم کی کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ مٹی سے تخلیق کردہ یہ مخلوق بڑی آسانی سے گمراہ کی جاسکتی ہے۔ وہ بڑے غرور سے کہتا ہے :
Ayah 17:62

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

پھر بولا :” دیکھ تو سہی ، کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اسے مجھ پر فضیلت دی ؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں ، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے

قال ارائیتک ھذا الذی کر مت علی (71 : 26) ” ذرا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اسے مجھ پر فضیلت دی “۔ اس پر نظر تو ڈالو ! کیا اس کو تو نے مجھ سے برتر قرار دیا ، اور لقد کرمنا بنی ادم کہا۔ لئن اخرتن الی یوم القیمۃ لا حتنکن ذریتہ الا قلیلا (71 : 26) ” اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں ، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے “۔ میں ان پر حاوی ہوجائوں گا اور ان کو اپنی گرفت میں لے لوں گا ، ان کی لگام میرے ہاتھ میں ہوگی ، بلکہ یہ میری مٹھی میں ہوں گے اور جس طرح چاہوں گا ان کے معاملات میں تصرف کردوں گا۔ شیطان کے دہن میں چیلنج دیتے وقت یہ حقیقت نہ تھی کہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جس طرح گمراہی کی استعداد رکھی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ ہدایت اور قبولیت خیر کی استعداد بھی رکھی ہے۔ جب انسان ایسے حالات میں ہو کہ اس کا تعلق باللہ قائم ہو تو وہ بلند ہوگا اور اعلیٰ مدارج کی طرف اٹھنے والا ہوگا اور ایسے حالات میں وہ شر اور گمراہی سے بچ جائے گا ، شیان کو معلوم نہ تھا کہ یہ بلا ارادہ چلنے والے حیوانات کی طرح نہیں ہے بلکہ انسان کو قوت ارادی دی گئی ہے جو اسے دوسرے حیوانات سے ممتاز کرتی ہے۔ ارادہ اور پختہ ارادہ ہی اس مخلوق کی بڑی امتیازی خصوصیت ہے اور اس کے اندر اس مخلوق کا راز پنہاں ہے۔ اللہ کا یہ ارادہ ہوگیا کہ شرو گمراہی کے اس پیغامبر کو کھلا میدان دے دیا جائے اور جس طرح چاہے انسان کو گمراہ کرنے کی سعی کرے۔
Ayah 17:63

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” اچھا تو جا ، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں ، تجھ سمیت ان سب کے لئے جہنم ہی بھرپور جزا ہے۔

قال……(71 : 32) ” اللہ نے فرمایا ، اچھا تو جا ، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں تجھ سمیت ان کے لئے جہنم ہی بھرپور جزاء ہے “۔ جائو جو کرنا چاہتے ہو کرو ، تمہیں اجازت ہے جس قدر لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہو کرو ، اس نے ان کو بھی عقل و ارادے کا ہتھیار دے دیا ہے۔ انکو بھی یہ قوت و اختیار حاصل ہے کہ وہ تیرے مطیع فرمان ہوجائیں یا تم سے اعراض کریں۔ فمن تبعک (71 : 32) ” ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا “۔ یعنی اپنی ذات کے اندر گمراہی کی استعداد کو زیادہ کرتے ہوئے اور ہدایت کی استعداد کو کمزور کرتے ہوئے ، اللہ کی پکار سے اعراض کرتے ہوئے اور شیطان کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ، اس کائنات میں موجود اللہ کی تکوینی آیات و دلائل سے منہ موڑتے ہوئے اور پھر رسولوں کی دی ہوئی آیات ور معجزات سے منہ پھیرتے ہوئے۔ فان ……(71 : 36) ” تو پھر جہنم تم سب کے لئے بھرپور جزاء ہے۔
Ayah 17:64

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھسلا سکتا ہے پھسلالے ، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا ، مال اور اولاد میں ان کے ساتھ سا جھالگا ، اور ان کو وعدوں کے جال میں پھانس…اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں

واستفزز……(71 : 46) ” تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھسلا سکتا ہے پھسلا دے ، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا “۔ یہاں شیطان کے وسائل گمراہی اور ضلالت کو مجسم طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ کسی طرح شیان انسانوں کے دل ، ان کے شعور اور ان کی عقل پر تسلط اختیار کرلیتا ہے۔ گویا آدم و ابلیس کے درمیان کھلی جنگ ہے۔ ہمہ گیر جنگ ہے۔ اس میں آواز ، گھوڑے اور ٹینک پیارے اور تمام دوسرے وسائل شیطان استعمال کرتا ہے جیسا کہ تمام روایتی جنگوں کے درمیان ہر قسم کے ہتھیار استعمال ہوتے ہیں۔ آوازیں بھی دی جاتیں اور آوازوں اور مبارزت کی وجہ سے دشمن کو خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ استدراج اور کیمو فلاج سے کام لیا جاتا ہے۔ جنگی چالیں چلی جاتی ہیں ، پہلے کسی دشمن کو کھلے میدان میں لایا جاتا ہے ، پھر اس پر وار کیا جاتا ہے یا گھیر لیا جاتا ہے۔ وشارکھم فی الاموال والاولاد (71 : 46) ” مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھا لگا “۔ جاہلانہ بت پرستی کے اندر یہ شرکت پائی جاتی ہے۔ مثلاً اپنے بنائے ہوئے بتوں اور الہوں کے لئے اہل جاہلیت اپنے اموال میں سے حصے مقرر کرتے تھے۔ یہ تمام حصے گویا شیطان کے تھے۔ اولاد میں شیطان کی حصہ داری یوں تھی کہ اولاد میں سے بعض کو وہ ان الہوں کی خدمت کے لئے وقف کردیتے تھے جو درحقیقت شیان کے ہوجاتے تھے۔ مثلاً عبد اللہ اور عبدہ مناۃ اور بعض اوقات وہ براہ راست شیان کا حصہ کرتے تھے مثلاً عبد الحارث یعنی شیان کا بندہ ۔ اسی طرح وہ تمام دولت جو حرام ذرائع سے آتی تھی یا جو حرام طریقوں میں صرف ہوتی تھی ، بدکاریوں اور گنہ کاریوں کی راہ میں جو لٹائی جاتی تھی۔ حرام اولاد بھی شرکت شیطان کا ایک نمونہ ہے۔ یہاں مراد عمومی شرکت ہے۔ ذکر صرف مال اور اولاد کا ہوا ہے اس لئے کہ مال اور اولاد معشیت کے بنیادی فیکٹر ہیں۔ ابلیس کو ابنی آدم کے گمراہ کرنے میں ہر قسم کے وسائل استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ یعنی ایسے وعدے جو پورے نہ کیے جاسکیں۔ وعدھم ……(71 : 46) ” اور ان کو وعدوں کے جال میں پھنسا دے اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں “۔ مثلاً یہ کہ اگر تم نے میری راہ اپنائی تو تم پر کوئی عذاب نہ ہوا ، تم سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور یہ کہ حرام ذرائع سے ہر قسم کا مال تمہارے پاس جمع ہوگا۔ تم دنیا میں غالب اور کامیاب رہو گا اور ناپاک ذرائع آمدنی اور نجس طرز معیشت کے تمام دروازے تمہارے لئے کھلے ہوں گے۔ شیطان کا سب سے بڑا جھوٹا وعدہ یہ ہوتا ہے کہ گناہوں اور خطا کاریوں کے بعد تمہیں معاف کردیا جائے گا۔ یہ وہ سوراخ ہے ، جس کے ذریعے شیطان ہر دل میں داخل ہوجاتا ہے خصوصاً ایسے کمزور لوگوں کے دلوں میں جو گناہوں اور خطاکاریوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے یا ایسے لوگوں کے دلوں میں جو ارتکاب معصیت میں بےباک ہوتے ہیں اور انہیں قابل فخر و عزت سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ وہ یوں چاپلوسی اختیار کرتا ہے کہ بھائی اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے اور اللہ غفور ورحیم ہے۔ اسے اس بات میں دلچسپی نہیں ہے کہ خواہ مخواہ لوگوں کو سزا دے۔ شیطان ! تم جائو تمہیں اجازت ہے کہ جو لوگ تمہاری طرف میلان رکھتے ہیں ان کو پھانسو لیکن میرے بعض بندے ایسے بھی ہوں گے جن پر تمہارے دائو نہیں چلیں گے کیونکہ وہ ایسے قلعوں میں محفوظ ہوں گے جو تمہارے اور تمہاری افواج کی دسترس سے دور ہوں گے۔
Ayah 17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

یقینا میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا۔ اور تو کل کے لئے تیرا رب کافی ہے

ان عبادی ………(71 : 56) ” یقینا میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار نہ ہوگا اور توکل کے لئے تیرا رب کافی ہے “۔ جب دل اللہ کے ساتھ جڑ جائیں گے ، اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں گے ، جب انسان ایسی رسی تھام لیں گے جو مضبوط ہوگی اور جو ٹوٹنے والی نہ ہوگی۔ جب عالم بالا کی روح ان میں سرایت کر جائے گی تو اس وقت شیطان کی قوت کچھ کام نہ کرے گی۔ یہ دل محفوظ ہوں گے۔ ایسی روحیں اللہ کے نور سے منور ہوں گے اور ایسے لوگوں کا وکیل تمہارا رب ہوگا اور توکل اور بھروسے کے لئے وہ قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ وہ بڑا ناصر اور مددگار ہے اور شیطان سے وہی بچانے والا ہے۔ یوں شیطان اپن وعدے اور اپنے چیلنج کو پورا کرنے میں لگ گیا ، بندوں کو ذلیل اور گمراہ کرنا شروع کردیا۔ لیکن اللہ کے بندوں اور عباد الرحمن کے قریب بھی وہ نہ بھٹک سکا ، کیونکہ ان پر اس کی ایک نہیں چلتی۔ یہ ہے وہ شیطانی منصوبہ جو اس نے انسانوں کے لئے علی الاعلان تیار کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اس قدر سادہ لوح ہیں کہ شیطان کی اطاعت اختیار کرتے ہیں۔ اس کی باتوں پر کان دھرتے ہیں۔ اللہ کی آواز اور پیغمبروں کی پکار پر کان نہیں دھرتے۔ حالانکہ اللہ ان کے لئے کریم و رحیم ہے۔ اور ان کو صحیح راہ بتلاتا ہے۔ ان کے لئے معیشت کے وسائل اللہ نے پیدا کیے ہیں۔ اللہ ہی ہے جو مشکلات اور کربناک حالات میں ان کی مدد کو پہنچتا ہے۔ اور ایسے حالات میں جب کہ انسان کسی دنیاوی مدد سے مایوس ہوتا ہے ، اللہ ان کی مدد کو پہنچتا ہے۔
Ayah 17:66

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا (حقیقی) رب تو وہ ہے جو سمندر میں تمہاری کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارے حال پر نہایت مہربان ہے۔

یہاں قرآن کریم ایک عجیب منظر کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ ایک کشتی ہے جو گہرے سمندروں میں چلتی ہے۔ اس سفر میں بعض نہایت ہی کر بناک مناظر آتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک منظر ہمارے سامنے ہے۔ سمندر کی گہرائیوں اور طلاطم مین انسان کے اندر کسی فوق الفطرت ہستی کا شعور بہت ہی پیدا ہوت ا ہے۔ سمندر کی تاریکیوں اور پہنائیوں میں جہاز لکڑی کا یا دھات کا ہو ایک چھوٹا سا نکتہ ہوتا ہے۔ جو سمندر کی پہاڑ جیسی لہروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ موجیں اور طوفان اسے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر دھکیلتے چلے جاتے ہیں۔ لوگ مارے کوکے اس نکتے جیسے چھوٹے سے جہاز سے چمٹے ہوتے ہیں۔ یہ وہ منظر ہے جس کا گہرا احساس ہر اس شخص کو ہوتا ہے جس نے کبھی بحری سفر کیا ہو اور اسے ایسے لمحات پیش آئے ہوں۔ دل خشک اور سانس رکی ہوئی ہوتی ہے اور ہر جھٹکے اور ہر زیروبم سے دل بیٹھتے جاتے ہیں۔ چھوٹا جہاز ہو یا بڑا سب میں ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے۔ نہایت ہی بڑے بڑے بحری جہاز بھی بعض اوقات یوں نظر آتے ہیں جس طرح ایک نہایت ہی سخت طوفان بادو باراں میں ایک پرندے کا پر۔ اس منظر کی تعبیر نہایت ہی حساس انداز سے کی گئی ہے۔ دلوں پر اس کا گہرا اثر ہوتا ہے اور انسان کو یہ شعور ملتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ اس کشتی کو چلاتا ہے اور اسے رفتار دیتا ہے تاکہ وہ جہانوں میں چلیں اور اللہ کا فضل و کرم تلاش کریں۔ انہ کان بکم رحیما (71 : 66) ” بیشک وہ تمہارے حال پر بہت ہی مہربان ہے “۔ کیونکہ سمندروں میں اللہ کا رحم و کرم سب کا مطلوب ہوتا ہے اور ہر سوار رحمت ربی کا طلبگار ہوتا ہے اور اس کا شعور اپنے اندر پاتا ہے۔
Ayah 17:67

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اس ایک کے سوا دوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ جاتے ہو۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے

آپ اس کشتی رانی اور خوشگوار سفر کے دوران اچانک مشکلات اور اضطرابات سے دوچار ہوتے ہیں ، کشی موجوں کے تھپیڑوں میں گھری ہوتی ہے۔ وہ اس قدر ہچکولے کھاتی ہے کہ اس کے سواروں کو اب اللہ کے سوا تمام باطل الہہ بھول جاتے ہیں ۔ اب اس ہمہ گیر خطرے میں وہ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں اور صرف اللہ کا پکارتے ہیں۔ ضل من تدعون الا ایاہ (71 : 76) ” تو اس کے سوا تم جن جن کو پکارتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں “۔ لیکن انسان بہرحال انسان تو ہے ہی۔ جونہی یہ طوفان بیٹھتا ہے ، جونہی اس کے قدم خشکی پر پڑتے ہیں ، تو یہ کرب اور کوکے وہ لمحات فوراً بھول جاتا ہے ، پھر وہ اللہ کو بھی بھول جاتا ہے۔ اب وہ ہوا وہوس اور خواہشات اور چاہتوں کی موجوں میں گرفتار ہوجاتا ہے۔ اور سمندر کے خطرات میں اس کی حقیقی فطرت پر سے جو پردے ہٹ گئے تھے اور جو غبار چھٹ گئی تھی وہ دوبارہ آجاتی ہے۔ فلما نجکم……(71 : 76) ” مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منہ موڑ جاتے ہو۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے “۔ مگر صرف وہ لوگ جن کے دل اللہ سے ملے ہوئے ہوں اور وہ نور ربانی سے منور ہوں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نہایت ہی موثر انداز ین ان کے شعور اور وجدان کو بیدار کرتا ہے کہ سمندر کے جن خطرات سے تم باہر نکل آئے ہو ، وہ تو دوسری شکلوں میں خشکی میں بھی تمہارا پیچھا کر رہے ہیں۔ نیز تم لوگ دوبارہ سمندر کے سفر پر بھی تو جاسکتے ہو ، مقصد یہ ہے کہ روحانی امن و سکون صرف اللہ کے ساتھ رابطے اور ذکر الٰہی ہی میں ملتا ہے۔ صرف اللہ کے جوار رحمت ہی میں سکون ملتا ہے ، حقیقی سکون۔ نہ سمندر میں اور نہ خشکی میں ، نہ خوشگوار سمندری سفر میں اور نہ ناقابل کنٹرول بحری امواج میں۔ نہ حصن حصین میں اور نہ محلات اور کوٹھیوں میں۔
Ayahs 17:68–69

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

اچھا ، تو کیا تم اس بات سے بالکل بےخوف ہو کر خدا کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے ، یا تم پر پتھرائو کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پائو ؟

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

اور کیا تمہیں اس کا اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کردے اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اس سے تمہارے اس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے ؟

انسان جہاں ہوا اور جس دور میں ، جس لمحے میں ہو ، وہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جس طرح خشکی میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، اسی طرح سمندر میں بھی وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں۔ تو وہ کس طرح امن میں ہوں گے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی زلزلے میں ، زمین دھنس میں جائیں ، کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے یا دوسری کوئی آفت سماوی ان پر ٹوٹ پڑے۔ اگر کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے تو ان پر گرم لاوے ، گرم پانی ، کیچڑ اور پتھروں کا سیلاب آجائے ، اور وہ اس طرح ہلاکت کا شکار ہوجائیں کہ اللہ کے سوا کوئی ان کے لئے ناصر و مددگار نہ رہے۔ کوئی ان کی حمایت نہ کرسکے اور کوئی انہیں بچا نہ سکے۔ پھر کیا گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ سفر پر نہ جائیں یا اللہ انہی نہ بھیج دے۔ اور دوبارہ ان کو ناقابل کنٹرول موجوں کے حوالے کردے۔ یا ایسی ہوائیں ان پر آجائیں کہ کشتیوں اور جہازوں کو توڑ پھوڑ دیں اور ان کو ان کے کفر اور ناشکری کی وجہ سے غرق کردے اور اگر اللہ ایسا کردے تو اس سے پھر کون ہے پوچھنے والا۔ کیا یہ لوگ کوئی داد رسی کی جگہ پات ہیں ؟ خبردار ، یہ صریح غفلت ہے کہ لوگ اپنے رب سے منہ پھیر لیں اور پھر مامون ہو کر بیٹھ جائیں کہ ان پر کوئی عذاب نہ آئے گا۔ حالانکہ شدید ترین مصائب میں وہ بتقاضائے فطرت رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لیکن نارمل حالات میں وہ دوبارہ غفلت کے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔ گویا جو شدت اور تکلیف گزری وہ آخری تھی اور دوبارہ کوئی تکلیف ان پر آنے والی نہیں ہے۔ اور پھر خدا کا کوئی عذاب آنے والا نہیں ہے۔ انسان کے یہ لچھن اس حقیقت کے ہوتے ہوئے کہ اسے اللہ نے اپنی مخلوق کے ایک بڑے حصے پر فضیلت دی ہے۔ سب سے پہلے تو اس کی تخلیق ایک بہترین ہیبت پر کی گئی۔ اس کا بڑا خمیر مٹی سے تیار کیا گیا اور اس کے اندر اللہ نے اپنی روح حیات پھونک دی۔ یوں اس مخلوق کے اندر مادی اور روحانی قوتیں ، زمنی اور آسمانی قوتیں جمع ہوگئی یعنی حضرت انسان کے اس ہیکل میں۔ پھر اللہ نے اس کے اندر عجیب عجیب فطری قوتیں ودیعت فرمائی ہیں۔ اور ان قوتوں ہی کی وجہ سے وہ خلافت فی الارض کے منصب کا اہل قرار پایا۔ وہ اس زمین میں تبدیلیاں کرتا ہے ، اس میں تصرفات کرتا ہے ، اس کو نشوونما دیتا ہے اور نئی نئی ایجادات کرتا ہے۔ اس مین دی ترکیب کرتا ہے اور مرکبات کا تجزیہ کرتا ہے اور اندگی کی نشوونما کو کمال تک پہنچانے کی سعی کرتا ہے۔ پھر اس پوری کائنات نے ، اس انسان کا استقبال جس انداز میں کیا ، وہ بھی اس کی تکریم خاص ہے۔ تمام ملائکہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اسے سجدہ کریں۔ یوں ایک کائناتی محفل اور سماوی تقریب میں اسے یہ اعزاز عملاً بخشا گیا رسمی طور پر ۔ پھر اس انسان کی تکریم اور عزت افزائی کا اعلان اللہ نے اپنی اس آخری کتاب میں کیا جو اللہ کی آخری کتاب ہے اور ابدالا باد تک رہنے والی ہے ، یعنی قران کریم میں۔
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی

وحملنھم فی البر والبحر (71 : 07) ” او انہیں خشکی اور تری میں سواریاں عطا کیں “۔ خشکی اور تری میں انسانی ٹرانسپورٹ کا مہیا ہونا صرف اسی وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کو ایک ایسی فطرت دی ہے اور ایسا نظام فطرت دیا ہے کہ وہ انسانی زندگی اور اس کی سہولیات کے لئے زر و معاون ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کے نظام اور خصوصاً زمین و آسمان کی گردش اور ساخت کو انسانی حیات کے موافق نہ بناتا تو اس کے لئے یہاں زندگی گزار تا یا زندہ رہنا ہی مشکل ہوتا۔ نظام فطرت کی تو اے طیبہ کو دیکھا جائے تو بہ نسبت انسان کے وہ بہت ، سرکش اور پر قوت ہیں اور انسان کے لئے بحر و بر میں یہ حکمرانی ممکن نہ ہوتی۔ لیکن انسان کو اللہ نے وہقوت دی جس کی وجہ سے اس نے اس کائنات کو مسخر کرلیا اور پھر اسے مسخر کرنے کے بعد اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا اور یہ سب کچھ محض اللہ کے فضل و کرم سے ہوا۔ ورزقنھم من الطیبت (71 : 07) ” اور ان کا پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا “۔ انسان چونکہ اپنی پوری زندگی ، آغاز انسانیت سے یہاں گزار رہا ہے۔ اور دنیا کا ایک طویل عرصہ اور تاریخ گزر چکی ہے۔ اس لئے وہ روٹین میں اللہ کی عطا کردہ بیشمار پاکیزہ نعمتوں کو سرے سے شمار ہی نہیں کرتا۔ ان میں سے کسی نعمت کا احساس اسے تب ہوتا ہے جب وہ اس نعمت سے محروم ہوتا ہے۔ جب وہ محروم ہوجاتا ہے تب اسے احساس ہوتا ہے کہ اللہ کی کس قدر نعمت تھی جس سے وہ محروم ہوگیا اور وہ کس قدر مزے لیتا رہا ہے۔ لیکن جب یہ محرومیت دور ہوجاتی ہے تو پھر وہ بھول جاتا ہے۔ یہ سورج ، ہوا ، پانی ، یہ صحت ، یہ چلنے پھرنے کی قوت ، بہ حواس ، یہ عقل ، یہ کھانے پینے کی چیزیں ، بہ طویل و عریض کائنات جس میں وہ خلیفۃ اللہ ہے اور اس میں۔ لاتغذ ولا تحصی طیبات جن سے وہ لطف اندوز ہورہا ہے۔ وفضلنھم علی ……(71 : 07) ” اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلت دی “۔ پہلی فضیلت تو یہ دی کہ اس عظیم کائنات کا خلیفہ اسے بنایا۔ پھر انسان کو ایسی خصوصیات بخشیں کہ وہ پوری مخلوق میں ایک ممتاز مخلوق بن گیا۔ اللہ کی تمام مخلوق میں۔ انسان کی سب سے بڑی تکریم یہ ہے کہ انسان خود اپنا ناظم اور کنٹرولر ہو۔ وہ ذمہ دار ہو اور اپنے افعال و اعمال کے نتائج بھگتے۔ کیونکہ یہی وہ بڑی خصویت ہے جس کی وجہ سے انسان انسان کہلایا ہے۔ یعنی یہ کہ وہ آزاد ہے جو چاہے کرے اور جو بھی کرے اس کے نتائج و عواقب کا ذمہ دار ہو اور جو بوئے اسے کاٹے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دار العمل میں وہ اللہ کا خلیفہ قرار پایا ہے۔ لہٰذا عدل و انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دار الحساب اور یوم الحساب میں وہ اپنے کئے کا ذمہ دار ہو اور اس نے جو بویا ہو ، اسے کاٹے۔
Ayahs 17:71–72

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ اس وقت جن لوگوں کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا گیا۔ وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام

یہ ایک نیا منظر ہے ، مناظر قیامت میں سے۔ تمام لوگ میدان میں حشر میں ہوں گے۔ ہر جماعت کو اس کے نام و عنوان اور اس کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اگر کسی کا کوئی نبی ہوگا تو وہ ان کا امام ہوگا۔ یا دنیا میں اگر ان کا کوئی پیشوا اور مقتداء ہوگا تو اس کے ساتھ۔ امام کے سامنے ان کو ان کا نامہ اعمال تھمایا جائے گا۔ دائیں ہاتھ ، جن کو اعمال نامے دئیے جا رہے ہیں وہ ان کو خوشی خوشی سے پرھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اعمال کا پورا پورا اجر ان کو مل رہا ہے۔ ایک فقیل (وہ دھاگہ جو گٹھلی کے درمیان ہوتا ہے) کے برابر بھی ان پر ظلم نہ ہوگا۔ جس شخص نے اس دنیا میں دلائل ہدایت کے دیکھنے میں اندھے پن کا ثبوت دیا ، وہ وہاں بھی اندھا ہوگا اور اپنے اعمال نامے میں کوء خیر و ہدایت نہ دیکھ سکے گا۔ اور جزاء پھر معلو ہے کیا ہوگی ؟ سیاق کلام کے اس منظر کو اس طرح بتاتا ہے کہ جس طرح وہ شخص قیامت میں اندھا ہوگا۔ ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہوگا۔ کوئی ہاتھ پکڑ کر اسے راہ راست پر لے جانے والا نہ ہوگا۔ نہ کوئی ایسا ذریعہ ہوگا۔ جس کی وجہ سے وہ راہ معلوم کرسکے۔ بس اس شخص کو اس منظر میں یوں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ ادھر ادھر پھر رہا ہے۔ آگے قاری پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ خود سوچ لے کہ ایسے شخص کا انجام کیا ہوا یا ہوگا ؟