Ayahs 16:1–2آیت نمبر 1 تا 2
مشرکین مکہ اس معاملے میں جلدی کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ جس طرح اقوام سابقہ کی ہلاکت کی بات کرتے ہیں ، ہم پر بھی دنیا یا آخرت کا عذاب لے آئیں۔ مکہ میں آپ ﷺ کی زندگی گزر رہی تھی اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے وہ اپنے اس مطالبے پر زیادہ زور دیتے۔ بلکہ مذاق کرنے لگتے اور خندہ و استہزاء میں بہت ہی آگے بڑھ جاتے۔ وہ اس تاثر کا اظہار کرتے کہ حضرت محمد ﷺ انہیں خواہ مخواہ ڈراتے ہیں ، جو ڈراوے وہ دیتے ہیں ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ اس لیے وہ محض اوہام پر ایمان نہیں لا سکتے ہیں ، نہ ایسی چیز کے سامنے سر تسلیم خم کرسکتے ہیں جن کا وجود ہی نہ ہو۔ اللہ ان کو جو مہلت دے رہا تھا اور مواقع فراہم کر رہا تھا اس میں گہری حکمت اور رحمت تھی اور وہ اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ مزید یہ قرآن کریم جو آیات کونیہ پیش کر رہا تھا اور خود قرآن جو عقلی دلائل پیش کر رہا تھا وہ اس پر غوروفکر نہ کرتے تھے ، حالانکہ یہ دلائل قلب و نظر پر جو اثرات چھوڑتے تھے ، وہ تخویف بذریعہ عذاب سے زیادہ کارگر ہو سکتے تھے۔ انسان کو اللہ نے عقل و خرد سے نوازا ہے ، اس کے شایان شان تو یہ ہے کہ وہ ان دلائل پر غور کرے ، محض ڈراوے سے تسلیم کرنا تو ان لوگوں کے لئے ہے جو عقل و خرد کے پہلو سے کمزور ہوں۔ ذراوے سے حریت ارادہ پر بھی زد پڑتی ہے۔
ایسے حالات میں فرمایا :
اتی امر اللہ (16 : 1) “ اللہ کا فیصلہ آگیا ”۔ یعنی اللہ فیصلہ کرچکے ہیں ، ان کا ارادہ متوجہ ہوگیا ہے جو وقت صدور اللہ نے مقرر کیا ہے اس میں ان اوامرو احکام اور فیصلوں کا صدور ہوجائے گا۔ لہٰذا :
فلا تستعجلوہ (16 : 1) “ جلدی نہ مچاؤ ”۔ اللہ کے فیصلے اس کی مشیت کے مطابق ہوتے ہیں۔ تمہاری طرف سے شتابی کرنا اللہ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ تمہاری طرف سے درازی مہلت کی امیدیں بھی ان کو موخر نہیں کرسکتیں۔ عذاب آتا ہے یا قیامت برپا ہوتی ہے ، اس کا فیصلہ ہوگیا ہے۔ اس فیصلے کا وقوع اور نفاذ اپنے مقررہ وقت پر بہرحال ہوگا۔ اس میں تقدیم و تاخیر ممکن نہیں ہے۔
ایک شخص اپنی حالت پر جس قدر جمنے کی کوشش بھی کرے یہ فیصلہ کن انداز گفتگو اسے بہرحال متاثر کرتا ہے ، چاہے وہ استکبار کی وجہ سے اپنے تاثر کو ظاہر نہ کرے۔ جس قدر انداز فیصلہ کن ہے اسی طرح یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ اللہ کا حکم جب آتا ہے تو وہ اٹل ہوتا ہے ۔ بس صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اللہ کا ارادہ کسی امر سے متعلق ہوجائے بس وہ امر واقع ہوجاتا ہے۔ چشم زدن میں وہ وجود میں آجاتا ہے۔ لہٰذا یہ زور دار انداز کلام کسی شاعرانہ مبالغہ آرائی پر بھی مبنی نہیں ہے۔ جس طرح انداز کلام شعور کو متاثر کرتا اسی طرح اللہ کے فیصلے واقعی صورت حالات میں انقلاب برپا کردیتے ہیں۔
رہے مشرکین مکہ کے اعمال شرکیہ اور عقائد شرکیہ اور ان کے وہ تمام تصورات جو اعمال شرکیہ اور عقائد شرکیہ پر مبنی ہیں تو اللہ کی ذات ان سے پاک ہے۔
سبحنہ وتعالیٰ عما یشرکون (16 : 1) “ پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں ”۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے تمام ان مشرکوں سے جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ یادر ہے کہ شرک میں کوئی انسان تب ہی مبتلا ہوتا ہے جب وہ فکر اعتبار سے گرا پڑا ہو اور اس کے تصورات کسی دلیل پر مبنی نہ ہوں۔
اللہ کے احکام واوامر آگئے ، جو شرک سے پاک ہیں اور امر دینے والے باری تعالیٰ بھی شرک سے پاک ہیں اور اہل مکہ اللہ تعالیٰ کو جو مقام دیتے ہیں وہ اس سے بہت بلند ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے گمراہانہ خیالات میں ڈوبا ہوا نہیں چھوڑتے ۔ اللہ تعالیٰ آسمانوں سے فرشتے بھیجتے ہیں اور یہ فرشتے ایسے پیغام کے حامل ہوتے ہیں جو انسانوں کی حیات نو اور نجات اخروی کے پروگرام پر مشتمل ہوتا ہے۔
ینزل الملئکۃ ۔۔۔۔۔۔ من عبادہ (16 : 2) “ وہ اس روح کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے ” اور یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ آسمانوں سے فقط بارش ہی نہیں برساتا جو ان کے جسم کے لئے سازو سامان فراہم کرتی ہے بلکہ وہ ملائکہ کو انسان کی روحانی غذا دے کر بھی بھیجتا ہے۔ قرآن کریم اور اسلام کو روح کہنا نہایت ہی معنی خیز ہے۔ پیغام قرآن ایک سوسائٹی کو اسی طرح زندہ کرتا ہے جس طرح ایک انسان کے جسم میں روح ڈال کر زندہ کیا جاتا ہے۔ اس پیغام سے نفس و ضمیر زندہ ہوتا ہے۔ عقل و شعور کو جلا ملتی ہے اور سوسائٹی اس طرح زندہ اور صحت مند ہوتی ہے کہ اس سے ہر قسم کے فساد ختم ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا آسمانوں سے انسانی زندگی کے لئے جو برکات و انعامات نازل ہوتے ہیں ، یہ ان میں سے اعلیٰ و افضل ہے۔ یہ نعمت عظمیٰ وہ مخلوق لے کر آتی ہے جو پاک طینت ہے۔ جو اللہ کے بندوں میں سے برگزیدہ افراد پر نازل ہوتی ہے ، جو افضل العباد ہوتے ہیں اور اس روح کائنات کا خلاصہ کیا ہے۔
لا الہ الا انا فاتقون (16 : 2) “ میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو ”۔
اللہ وحدہ لا شریک حاکم و معبود ہیں۔ یہ تمام عقیدہ عقائد کی روح ہے ، یہ نفس انسانی کی زندگی ہے ، یہ وہ تصور ہے جس سے سوسائٹی زندہ و توانا ہوتی ہے اور اس کے سوا جو تصورات ہیں انسانی سوسائٹی کے لئے مہلک اور تباہ کن ہیں۔ جو شخص اللہ وحدہ کی ذات پر ایمان نہیں رکھتا وہ حیران و پریشان ، تباہ و برباد ہوتا ہے۔ اسے ہر طرف سے ایک باطل عقیدہ اپنی طرف کھینچ رہا ہوتا ہے ، اوہام پر مبنی باہم تناقص تصورات ہر طرف سے دامن گیر ہوتے ہیں اور اس کا نفس ہر وقت وساوس ، ان جانے خوف اور وہم کی آماجگاہ بنا رہتا ہے اور وہ کبھی بھی کسی ایک سمت میں کسی متعین ہدف کی طرف نہیں بڑھ سکتا۔ افکار پریشان اور اعمال بےترتیب کے اندر گھرا ہوتا ہے۔
اسلام کی تعبیر روح سے کرنا دراصل ان تمام مفہومات کا اظہار ہے اور سورة کے آغاز میں جہاں اللہ تعالیٰ اپنے تمام انعامات کا ذکر فرماتے ہیں ، اسلام کو روح حیات قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات دراصل وہ نعمت عظمیٰ ہے ، جس کے بغیر انسان اللہ کی دوسرے نعمتوں سے بھی کماحقہ مستفید نہیں ہو سکتا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ نعمت کسی کو نہ دی گئی ہو تو اس کے لئے دوسرے انعامات بھی اپنی قدرو قیمت کھو دیتے ہیں کیونکہ یہ نعمت ہی دراصل انسان کو حیات جاوداں بخشتی ہے۔
اس آیت میں ڈراوے اور انذار کو وحی و رسالت کا اصل مشن قرار دیا گیا ہے اس لیے کہ اس سورة کے پورے مضامین مکذبین ، مشرکین اور اللہ کی نعمتوں کے منکر اور ناشکرے طبقات کے گرد گھومتے ہیں۔ نیز اس میں ان لوگوں پر بھی تنقید کی گئی ہے جو حلال کو حرام قرار دیتے ہیں جو بہت بڑا جرم ہے اور شرک ہے ، نیز اللہ کے ساتھ عہد کر کے توڑنے والوں پر بھی اس سورة میں تنقید ہے ، نیز جہاں ان لوگوں سے بھی بحث کی گئی ہے جو اسلام کو قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا آغاز سورة میں یہ کہنا کہ لوگوں کو ان گھناؤنے جرائم سے ڈراؤ، ایک مناسب آغاز کلام سے کہ لوگو احتیاط کرو ، اللہ سے ڈرو ، اور آخرت کا خوف کرو۔
٭٭٭
اس تمہید کے بعد لوگوں کے سامنے وہ دلائل و شواہد پیش کئے جاتے ہیں جو اس پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں ، جو توحید باری تعالیٰ پر دلالت کرتے ہیں۔ پھر اللہ کے بعض انعامات کا ذکر ہے جو منعم حقیقی کے احسان پر دلالت کرتے ہیں۔ ان نشانات و انعامات کا ذکر بکثرت اور فوج در فوج ہے۔ آغاز تخلیق ارض و سما اور تخلیق حضرت انسان سے ہوتا ہے۔
Ayahs 16:3–4آیت نمبر 3 تا 4
وہی بات کہ تخلیق کائنات حق پر ہے۔
خلق السموت والارض بالحق (16 : 3) “ اس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا ہے ”۔ گویا اس کی تخلیق کا بنیادی عنصر حق ہے۔ اس کائنات کو حق کے مطابق چلایا جا رہا ہے اور اس کائنات کو چلانے اور اس کے اندر موجود تمام مخلوقات کو چلانے کا بنیادی عنصر اور بنیادی قوت حق اور سچائی ہے۔ اس کائنات کی کوئی چیز عبث ، اتفاقی اور بےمقصد نہیں ہے۔ یہ چیز سچائی پر قائم ہے۔ سچائی کے ساتھ وابستہ ہے ، وہ سچائی کی طرف بڑھتی ہے اور اس کا انجام بھی سچائی کے مطابق ہوگا۔
تعلی عما یشرکون (16 : 3) “ وہ بہت بالا و برتر ہے اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں ”۔ اللہ لوگوں کے شرک سے بہت بلند اور دور ہے ، اللہ جو خالق سماوات والارض ہے ، اس کے ساتھ خود اس کی مخلوق میں سے بعض چیزوں کو شریک کرنے کی تک کیا ہے ؟ لہٰذا اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس کے شریک ہونے کے لائق ہی نہیں ہے ، لہٰذا وہ واحد لا شریک ہے۔
خلق الانسان من نطفۃ فاذا ھو خصیم مبین (16 : 4) “ اس نے انسان کو ذرا سی بوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے وہ صریحاً جھگڑالو ہستی بن گیا ”۔ اس کے آغاز کو دیکھو اور اس کی تکمیل کے بعد اس کے نخروں کو دیکھو کس قدر عظیم فرق ہے۔ اس حقیر اور سادہ بوند کو دیکھو اور پھر ایک مکمل جھگڑالو اور خالق کے مقابل میں آنے والے اس حضرت کو دیکھو کہ وہ خود خالق کے ساتھ مجادلہ کرتا ہے ، خالق کے وجود تک کا منکر ہوجاتا ہے یا اس کی وحدانیت کا انکار کر کے اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتا ہے۔ اس کی حالت نطفہ اور حالت جدال کے درمیان زمان و مکان کا کوئی بہت بڑا فاصلہ بھی نہیں ہوتا ۔ قرآن بھی ایسا انداز تعبیر اختیار کرتا ہے کہ یہ فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ قرآن یہ بتاتا ہے کہ انسان کے آغاز و انجام میں یہ فرق جس قدر عظیم اور واضح ہے اسی طرح اچانک ہے۔ چناچہ ایک ہی لمحے میں انسان کے سامنے دو مختلف مناظر آجاتے ہیں۔ ایک وہ منظر کہ انسان ایک حقیر بوند ہے اور دوسرا وہ منظر کہ وہ کامل ہو کر ناز نخرے کرتا ہے اور خود خالق کے بالمقابل آکھڑا ہوتا ہے۔ تصویر کشی کا یہ اعجاز بھی ہے اور ایجاز بھی یعنی مختصر ترین الفاظ میں معجزانہ طرز ادا۔
اب ذرا منظر کائنات پر غور کریں ، یہ ایک وسیع منظر ہے۔ زمین و آسمان کا وسیع دائرہ جس میں حضرت انسان کھڑا ہے۔ اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات انسان کے لئے مسخر کردی گئی ہے۔ اس میں بحث کا آغاز ان جانوروں سے کیا جاتا ہے جو واضح طور پر خادم انسان ہیں۔
Ayahs 16:5–8آیت نمبر 5 تا 8
جس معاشرے میں قرآن مجید نازل ہوا ، مثلاً سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں ، اور اس قسم کے تمام معاشرے جو آج بھی موجود ہیں ، خصوصاً وہ سوسائٹیاں جن کی معیشت زراعت پر مبنی ہے۔ ایسے معاشروں میں انسان کی زندگی کا تصور بھی ان جانوروں کے بغیر نہیں کیا جاسکتا۔ جزیرۃ العرب میں متعارف جانور یہی تھے ، اونٹ ، گائے بھینس اور بھیڑ بکریاں کھانے پینے کے لئے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے سواریوں اور زینت کے لئے۔ گھوڑوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کا کھانا حرام سمجھتے ہیں کہ بعض احادیث میں اس سے منع کیا گیا ہے نیز قرآن نے اسے رکوب کے لئے بتایا ہے جبکہ دوسرے ائمہ جائز سمجھتے ہیں کیونکہ صحیح احادیث میں گھوڑوں کا گوشت کھانا جائز بتایا گیا ہے۔
قرآن کریم نے یہاں ان جانوروں کو بطور نعمت پیش کیا ہے ، اس لیے کہ ان میں بعض کے ساتھ انسان کی مادی ضروریات وابستہ ہیں اور بعض انسان کے لئے زینت ہیں۔ نیز ان کی جلد سے انسان اپنے لیے لباس بناتا ہے ، ان کی اون اور بالوں سے مختلف مصنوعات تیار ہوتی ہیں ، ان کا دودھ ، گوشت وغیرہ استعمال ہوتا ہے۔ گھی اور چربی اور ہڈیاں تک کام میں آتی ہیں۔ یہ جانور بار برداری کا کام کرتے ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ تک انسان خود بھی سامان پہنچا سکتا ہے مگر بہت بڑی مشقت کے ساتھ۔ نیز صبح جب تم مویشی نکالتے ہو چرنے کے لئے اور شام کو واپس لاتے ہو ، تو یہ تمہارے لئے ایک جمال ہے۔ تم انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہو۔ جب وہ خوبصورت اور موٹے تازے تمہاری نگاہوں کے سامنے آتے ہیں ، شام کے وقت جب خوب پھلے پھولے واپس آتے ہیں ۔ دیہاتی لوگ ان آیات کا مفہوم ، شہریوں کی نسبت زیادہ گہرائی تک سمجھتے ہیں۔ گھوڑے ، خچر اور گدھے زیادہ تر بار برداری کے کام آتے ہیں ۔ ان کو سواری کے طور پر بہت خوبصورت بھی بنایا جاتا ہے۔
لترکبوھا وزینۃ (16 : 8) “ تا کہ ان پر سوار ہو اور تمہاری زندگی کی رونق بنیں ”۔ لفظ زینہ یہاں زیادہ توجہ کے قابل ہے۔ اس سے زندگی کے بارے میں اسلام اور قرآن کا نقطہ نظر سامنے آتا ہے۔ اسلامی زاویہ سے جمال اور حسن زندگی کا اصلی جزو ہے۔ نعمت کا مفہوم ضروریات زندگی ، کھانے پینے اور سواری تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ انسانی شوق اور تفریح بھی ضروریات زندگی میں سے ہے ۔ حسن و جمال کی حس ، تفریح اور مسرت کا شعور اور اعلیٰ انسانی ذوق ، محض حیوانی ضروریات و حاجات سے ، اسلام کی نظر میں زیادہ اہم ہے۔
ان ربکم لرؤف رحیم (16 : 7) “ تمہارا رب بڑا شفیق و مہربان ہے ”۔ یہ تعقیب اس حقیقت پر ہے کہ باربرداری کا کام اگر خود انسان کو کرنا پڑے تو یہ بہت ہی مشقت کا کام ہے۔ لہٰذا اللہ نے باربرداری کے لئے جو جانور پیدا کئے ہیں وہ اللہ کی رحمت بےپایاں اور نعمت عظیم ہے۔
ویخلق ما لا تعلمون (16 : 8) “ اور وہ بہت سی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں ”۔ یہ تعقیب ہے اس پر کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جانور پیدا کئے جنہیں تم کھاتے بھی ہو۔ باربرداری کا کام بھی ان سے لیتے ہو اور وہ تمہارے لیے زینت اور خوشی اور مسرت کا سامان بھی ہیں۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض ایسی چیزوں کی تخلیق بھی کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں۔ لہٰذا ان مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کے لئے انسانی سوچ کو کھلا رکھا گیا ہے کیونکہ دور جدید میں حمل ونقل کے نئے نئے ذرائع بھی تخلیقات الہٰیہ میں آتے ہیں ، نیز زیب وزینت اور تفریح و مسرت کے نئے نئے ذرائع بھی تم پیدا کرسکتے ہو۔ لہٰذا اس تصور کو ابتدائی معاشرہ جس میں قرآن مجید نازل ہوا ، اسی تک محدود نہیں کردیا گیا۔ کیونکہ اسلامی تعلیمات زمان و مکان میں مقید نہیں۔ ہر دور اور ہر زمان و مکان کے آگے مزید دور اور مزید زمان ومکان آتے ہیں اور ان میں ضرورت و مسرت کے جدید ذرائع ہو سکتے ہیں۔ لوگوں کو یہ امید دی جاتی ہے کہ وہ مزید تخلیقات الٰہیہ کی توقع رکھیں۔ اگر توفیق الٰہی سے انسان کوئی جدید سہولت اور زینت ایجاد کرتا ہے تو وہ اسے قبول کرنے کے لئے تیار ہوں ، یہ نہ ہو کہ وہ اس کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں۔ اور جدید انکشافات و ایجادات سے فائدہ نہ اٹھائیں اور یہ نہ کہیں کہ ہمارے آباؤ اجداد تو مذکورہ بالا جانوروں ہی سے ضرورت پوری کرتے تھے۔ گھوڑے ، خچر اور گدھوں ہی سے باربرداری کا کام لیتے تھے لہٰذا ہم جدید ذرائع حمل ونقل کو کام میں نہیں لاتے اور نہ ہی ان سے استفادہ کرتے ہیں اور یہ کہ چونکہ قرآن نے صرف مذکورہ بالا اقسام کی تصریح کردی ہے لہٰذا ان کے سوا سہولیات ، خوراک اور زیبائش حرام ہے اسی لیے کہا گیا کہ تخلیقات کا دائرہ وسیع ہے۔
اسلام ایک ایسا نظریہ ہے جو کھلا اور لچکدار ہے۔ وہ زندہ کی تمام قوتوں اور صلاحیتوں سے استفادہ کرتا ہے اس لیے قرآن کریم مسلمانوں کے ذہن کو آنے والے ادوار کی قوتوں اور علوم کی فراہم کردہ سہولیات سے استفادے کے لئے تیار کرتا ہے۔ ایک مسلمان کا ذہن اس قدر کھلا ہوتا ہے کہ وہ مستقبل کے تمام انکشافات کو دینی ذہن کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اسے از عجائبات الٰہی اور عجائبات علوم میں سے سمجھتا ہے اور زندگی کا ایک حصہ سمجھتا ہے۔
دور جدید میں حمل ، نقل اور سواری کے نئے نئے وسائل ایجاد ہوگئے ہیں۔ سہولیات کے ساتھ ساتھ یہ وسائل زیب وزینت کے بھی اعلیٰ ذرائع ہیں۔ نزول قرآن کے دور کے لوگ ان کے بارے میں تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ نیز آئندہ ایسے وسائل بھی ایجاد ہوں گے جن کے بارے میں ہمارے دور کے لوگ سوچ نہیں سکتے۔ ایسے ہی حالات کے لیے قرآن کریم لوگوں کو فکری زاویہ سے تیار کرتا ہے کہ ان کا ذہن منجمد نہ ہو۔ یہی ہے مفہوم ویخلق ما لا تعلمون (16 : 8) کا۔
یہاں بحث یہ تھی کہ اللہ نے انسان کے لئے ذرائع نقل و حمل پیدا کئے۔ ان ذرائع کو استعمال کر کے انسان بڑے بڑے فاصلے طے کرتا ہے۔ کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے ، موضوع کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ روحانی راستے اور روحانی سفر اور ان کے ذرائع نقل و حمل کی طرف بھی اشارہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی طرف جانے کے بھی راستے ہیں۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ بالکل سیدھا راستہ ہے۔ دنیا میں اللہ تک پہنچانے کے لئے بعض ٹیڑھے راستے بھی ہیں ، جو در حقیقت اللہ تک نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تک پہنچنے کا راستہ خود اللہ ہی بتا تا ہے۔ اس راستے کو معلوم کرنے کے لئے اللہ نے اس کائنات میں نشانات رکھے ہوئے ہیں ان پر تدبر کیا جانا چاہئے اسی لئے خود انسانوں میں سے بعض افراد کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے کہ وہ بھی اس راستے کی نشاندہی کردیں۔
Ayah 16:9آیت نمبر 9
سیدھا راستہ یا سبیل قاصد صراط مستقیم ہے ، گویا وہ راستہ خود منزل مقصود کا قصد کرتا ہے۔ وہ منزل سے ادھر ادھر نہیں ہوتا اور سبیل جائر اس راستے کو کہتے ہیں جو منزل مقصود سے منحرف ہوتا ہے اور منزل مقصود تک نہیں پہنچتا یا منزل مقصود سے آگے بڑھ جاتا ہے۔
ولو شاء لھدکم اجمعین (16 : 9) “ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ”۔ لیکن اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ انسان کو اس نے ہدایت و ضلالت کی استعداد دے دی اور انسان ہدایت کی راہ اختیار کرتا ہے یا ضلالت کی راہ لیتا ہے یہ اللہ نے اس کے اختیار تمیزی پر چھوڑ دیا ہے۔ چناچہ انسانوں میں سے بعض تو سبیل قاصد پر چلتے ہیں اور بعض ٹیٹرھی راہ کو کرلیتے ہیں۔ یہ دونوں قسم کے لوگ اللہ کے دائرہ مشیت کے بہرحال اندر ہی رہتے ہیں کیونکہ انسان کے لئے آزادی اور اختیار کا تعین بہرحال اللہ ہی نے کیا تھا۔
Ayahs 16:10–11اب آیات تخلیق اور انعامات کا دوسرا حصہ۔
آیت نمبر 10 تا 11
یہ پانی آسمانوں سے اترتا ہے ، ان قوانین کے مطابق جو قدرت نے اس کائنات کے لئے وضع کئے ہیں۔ یہ قوانین اس کائنات کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان حرکات کے نتائج خالق مدبر کے ارادے اور تدبیر کے مطابق برآمد ہوتے ہیں۔ یہ بارش جو آسمانوں سے برستی ہے اسے اللہ کے انعامات میں سے ایک انعام کہا گیا ہے۔
منہ شراب (16 : 10) “ تم اس سے پیتے ہو ”۔ اس کی بڑی خصوصیت تو آبنوشی ہے۔ اس کے بعد اس کی خصوصیت :
ومنہ شجر فیہ تسیمون (16 : 10) “ اس میں درخت پیدا ہوتے ہیں جو تمہارے جانوروں کے لئے چارہ بنتے ہیں ”۔ تمام چراگاہیں اور درختوں کے پتے اس ذیل میں آتے ہیں۔ چراگاہوں اور درختوں کا ذکر جانوروں کی مناسبت سے ہوا ، جن سے جانوروں کے چارے کا انتظام کیا گیا۔ پھر زرعی پیداوار کا ذکر ہوا جو انسان کے لئے خوراک کا کام دیتی ہے۔ مزید انسان کی خوراک کے سلسلے میں زیتون ، کھجور ، انگور وغیرہ پھلوں کی انواع و اقسام وغیرہ کا ذکر ہوا۔
ان فی ذلک لایۃ لقوم یتفکرون (16 : 11) “ اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر کرتے ہیں ”۔ کس امر میں غوروفکر ؟ اس میں کہ اللہ اس کائنات کی تدبیر کس عظیم حکمت سے کر رہا ہے۔ اس نے اس کے اندر کس قدر اٹل قوانین فطرت جاری کر دئیے ہیں جو بشر کے لئے ممد حیات ہیں۔ انسان اس کرۂ ارض یا ستارۂ کائنات موسومہ بہ زمین میں ہرگز زندہ نہ رہ سکتا ، اگر اللہ اس کائنات میں ایسے قوانین فطرت وضع نہ کرتا جو اس کے لئے ممد حیات ہیں اور اس کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ اس کی فطری خواہشات کو پورا کرنے والے ہیں۔ یہ محض حسن اتفاق نہیں ہے کہ اس کرۂ ارض پر انسان کو پیدا کردیا گیا ہو اور اس کرۂ ارض کو دوسرے کر ات سماوی کے ساتھ موجودہ نسبت میں رکھ دیا گیا ہو اور فضائی اور کلیاتی حرکات اس نظام کے مطابق محض اتفاقاً متعین ہوگئی ہوں جس طرح کہ آج ہیں اور یہ محض اتفاقاً انسان کے لئے ممد حیات بن گئی ہوں جس طرح کہ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔
جو لوگ غوروفکر کی صلاحیت رکھتے ہیں ، وہ اللہ کے حسن تدبیر اور حکمت تدبیر کو سمجھتے ہیں۔ مدبرین کرۂ ارض کی خصوصیات روئیدگی ، اس کے پھل پھول اور ہواؤں اور بارشوں کے نظام کو اللہ کے نوامیس فطرت کے ساتھ جوڑتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے کہ ایک خالق حکیم ہے جس نے یہ سب کچھ کیا۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ اس کا ارادہ ایک ہی جیسا ہے ، اور اس کے قوانین کے اثرات وثمرات یکساں ہیں۔ رہے غافل تو وہ ان چیزوں کو صبح و شام دیکھتے ہیں ، گرمیوں اور سردیوں میں دیکھتے ہیں ، لیکن ان کے مدارک فہم و ادراک سوئے رہتے ہیں۔ ان کے قوائے اخذو ادراک اور ان کا ضمیر و شعور اس حکیم کی تلاش میں نہیں نکلتا جس نے اس کائنات بوقلموں کو پیدا کیا۔ وہ نہیں سوچتے کہ اس عجیب و غریب نظام کا موجد کون ہے۔
Ayah 16:12اب آیات دلائل کائنات کا تیسرا گروپ۔
آیت نمبر 12
تدبیر مخلوقات اور انسان پر اس کے انعامات کا ایک مظہر گردش لیل و نہار ہے۔ شمس و قمر کی گردش اور سیاروں اور ستاروں کا یہ نظام بھی انسان کے لئے ممد حیات ہے۔ یہ تمام مظاہر انسانوں کی ڈیوٹی میں لگے ہوئے ہیں ، اپنے یوم تخلیق سے یہ خدمت انسان پر مامور ہیں۔ گردش لیل ونہار تو حیات انسان میں فیصلہ کن اثر رکھتی ہے۔ ذرا سوچو کہ اگر دن بھی قائم و دائم ہوجائے اور رات نہ آئے یا رات ہی قائم رہ جائے اور دن نہ آئے تو ؟ پہلی صورت میں زمین جل جائے اور دوسری صورت میں زمین جم جائے۔
شمس وقمر اور اس کرۂ ارض پر نظام حیات سے اس کا تعلق بالکل واضح ہے۔ شمس و قمر کی گردش سے انسانی زندگی براہ راست متعلق ہے۔
والنجوم مسخرت بامرہ ( 16 : 12) ” سب ستارے اس کے حکم سے مسخر ہیں “۔ یہ سب انسان اور غیر انسانی مخلوقات کے لئے مفید اور ممد حیات ہیں جن کی افادیت کا حقیقی علم صرف اللہ کو ہے “۔ یہ باتیں اللہ کی حکمت و تدبیر کا ایک حصہ ہیں اور اللہ کے تمام قوانین مدبرہ باہم ہم آہنگ ہیں ، ان قوانین مدبرہ اور حکمت تدبیر کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے جو غوروفکر کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مظاہر فطرت کے پیچھے ایک قوت مدبرہ کارفرما ہے۔
ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (16 : 12) ” اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔
Ayah 16:13اب آیات و دلائل کائنات کا چوتھا گروپ :
آیت نمبر 13
اللہ نے زمین کو پیدا کیا اور اس کے اندر قسم قسم کی معدنیات پیدا کیں ، رنگ برنگ کے پتھر اور دوسری چیزیں جن پر انسانوں کی زندگی موقوف ہے لیکن اللہ نے ان ضروریات حیات کے ایسے ذخیرے پیدا کئے ہیں جو نہ ختم ہونے والے ہیں۔ پھر نئی نئی دریافتیں جو انسان اس زمین میں کر رہا ہے اور زمین کے اندر پوشیدہ خزانے اور ذرائع قوت دریافت کر رہا ہے ، جوں جوں اس کی حاجات و ضروریات بڑھتی ہے وہ دریافتیں کرتا چلا جاتا ہے۔ ایک خزانہ ختم ہوتا ہے تو قوت کے کئی اور خزانے دریافت ہوتے ہیں۔ یہ اللہ کا رزق ہے جو اس نے بندوں کے لئے ذخیرہ کر رکھا ہے۔
ان فی ذلک لایۃ لقوم یذکرون (16 : 13) ” ان میں ضرور نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو سبق حاصل کرتے ہیں “۔ ایسے لوگ اس بات کو نہیں بھولتے کہ دست قدرت نے یہ خزانے ہمارے لیے ودیعت کئے ہیں۔
اب آیات دلائل کائنات کا پانچواں گروپ آتا ہے۔ جو ان مخلوقات متنوعہ کے بارے میں ہے جن سے تلخ سمندر بھرا پڑا ہے۔ سمندر کا پانی پینے کے قابل تو نہیں ہے لیکن انسان کے لئے کئی پہلوؤں سے مفید ہے۔
Ayah 16:14آیت نمبر 14
سمندروں کی متنوع حیات بھی انسانی زندگی کے لئے مفید و ممد ہے۔ سمندروں میں انسانی زندگی کی دلچسپیوں کے دوسرے سامان بھی موجود ہیں۔ مچھلیوں اور دوسرے حیوانات بحری انسان کے لئے بہترین غذا ہیں۔ نیز سمندر کے موتی ، مونگے اور سیپ انسان کے لئے بطور زیور آج کے دور جدید میں بھی کام دیتے ہیں۔ یہاں کشتی کا فائدہ صرف سفر ہی نہیں بتایا گیا بلکہ سمندروں میں کشتیوں کے چلنے کے منظر کے حسن کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔
وتری الفلک مواخر فیہ (16 : 14) ” تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے چلتی ہے “۔ لفظ تری سے کشتی ، پانی اور کشتی کی روانی کے خوبصورت منظر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سمندری جہاز پانی کو چیرتے ہوئے جا رہے ہوتے ہیں۔ اس فقرے سے ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اسلام اس جہان کے جمالیاتی پہلو کو نظر انداز نہیں کرتا۔ کائنات کی ہر چیز کو افادۂ حیات کے علاوہ انسان کے لئے حسین بھی بنایا گیا ہے۔
پھر قرآن مجید اس منظر سے انسان کو سبق سکھاتا ہے کہ یہ تمہارے لیے مفید بھی ہے ، تمہارے سفر و تجارت کا ذریعہ بھی ، اور یہ منظر تمہاری آنکھوں کے لئے خوبصورت بھی ہے لیکن ان تمام چیزوں کا تقاضا یہ بھی ہے کہ تم اللہ کا شکر بجالاؤ۔
ولتبتغوا من فضلہ ولعلکم تشکرون (16 : 14) ” یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور اس کے شکر گزار بنو “۔
Ayahs 16:15–16اب اس سبق میں آیات و دلائل کائنات کا آخری گروپ۔
آیت نمبر 15 تا 16
پہاڑوں کو زمین میں میخ بنایا۔ جدید علم جغرافیہ اس کے اسباب سے بحث کرتا ہے ، لیکن علم جدید نے یہ نہیں بتایا کہ اگر پہاڑ نہ ہوتے تو زمین ایک طرف ڈھلک جاتی ۔
یہ حقیقت صرف قرآن مجید نے بیان کی ہے۔ جدید علم جغرافیہ پہاڑوں کے وجود کے متضاد اسباب بیان کرتا ہے ۔ مثلاً یہ کہ زمین کا اندرون ایک گرم لاوا ہے۔ وہ جب ٹھنڈا ہوتا ہے تو سکڑ جاتا ہے اور اس کے اوپر زمین کی سطح بھی سکڑ کر ایک شکن کی صورت میں پہاڑ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ یوں اونچے اونچے پہاڑ اور وادیاں وجود میں آجاتی ہیں۔ لیکن قرآن مجید یہ کہتا ہے کہ یہ پہاڑ زمین کے اندر توازن رفتار پیدا کرتے ہیں۔ علم جدید نے شاید ابھی تک اس پہلو پر غور نہیں کیا۔
ان پہاڑوں کے بالمقابل بڑی بڑی وادیاں ہیں اور ان میں مختلف راستے اور ندیاں نالے ہیں۔ اس کی طرف بھی متوجہ کیا جاتا ہے۔ پہاڑوں کے ساتھ ندی نالے طبعی تعلق رکھتے ہیں۔ پہاڑوں سے دریا نکلتے ہیں۔ پہاڑوں کے اوپر برف پڑتی ہے اور بارش ہوتی ہے اور پھر اس سے دریاؤں اور ندی نالوں سے راستے نکلتے ہیں۔ پھر ان راستوں پر لوگ چلتے ہیں۔ سامان پہنچاتے اور باربرداری کا کام کرتے ہیں۔ پھر ان راستوں کے لئے نشانات راہ وضع ہوتے ہیں ، جس طرح یہ پہاڑ راستوں کا نشان ہوتے ہیں ، اسی طرح صحراؤں اور سمندروں میں ستارے راہنمائی کا کام کرتے ہیں۔ غرض اللہ کی یہ پوری کائنات انسان کے لئے مفید ہے۔
آیات تخلیق اور نشانات انعامات باری اور حکمت تدبیر کائنات کے بیان بعد اب وہ بات واضح طور پر بیان کی جاتی ہے جس کے لئے یہ پورے دلائل و شواہد پیش کئے گئے۔ یہ تمام شواہد اس مقصد کے لئے لائے گئے تھے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اور وہ ان باتوں سے منزہ ہے جو یہ لوگ اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔
Ayahs 16:17–21آیت نمبر 17 تا 21
اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا۔
یہ نتیجہ نہایت ہی موزوں وقت میں نکالا جاتا ہے ، ایسے حالات میں کہ نفس انسانی اور عقل سلیم اس کے مضمون کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔
افمن یخلق کمن لا یخلق (16 : 17) ” پھر جو پیدا کرتا وہ اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے دونوں یکساں ہیں “۔ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ ہرگز نہیں۔ کیا کوئی حساس اور غوروفکر کرنے والا انسان اس ذات والا صفات کو جس نے یہ عظیم الشان کائنات کی تخلیق کی ہے اس شخص کے برابر تصور کرسکتا ہے جس نے کوئی چیز بھی پیدا نہیں کی۔ نہ بڑی اور نہ چھوٹی۔
افلا تذکرون (16 : 17) ” کیا تم ہوش میں نہیں آتے “۔ اس کے لئے تو محض یادداشت تازہ کرنے کی ضرورت ہے ، یہ امر تو تمہاری فطرت کے اندر موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کے کئی رنگ اور کئی پہلو بیان کرنے کے بعد یہ کہا :
وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (16 : 18) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے “۔ شکر ادا کرنا تو دور کی بات ہے اس لیے کہ نہ ان کا شمار ممکن ہے اور نہ شکر ، بلکہ اللہ کے اکثر انعامات ایسے ہیں جن کے بارے میں ابھی تک انسان کو علم ہی حاصل نہیں ہوسکا۔ کیونکہ بعض امور کو انسان روٹین کے امور سمجھتا ہے۔ ان کا اسے شعور ہی نہیں ہوتا۔ اسے تب احساس ہوتا ہے جب کوئی نعمت چھن جاتی ہے۔ ذرا انسان کے جسم کی میکان کی ترکیب کو دیکھو ! جس کا ہر حصہ ایک فریضہ ادا کر رہا ہے اور انسان کو احساس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی پرزۂ جسم ناکارہ ہوجائے۔ پھر پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر عظیم نعمت سے محروم ہوگیا ہے۔ بس انسان پر تقصیر اور ضعیف کی مدد کو تو اللہ کی صفت رحمت اور صفت عفو ریت پہنچتی ہے۔
ان اللہ لغفور رحیم (16 : 18) ” بیشک اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا رحیم ہے “۔ وہ خالق ایسی ذات ہے جو ہمارے کھلے اور پوشیدہ تمام امور سے واقف ہے۔
واللہ یعلم ما تسرون وما تعلنون (16 : 19) ” اور اللہ تمہارے کھلے سے بھی واقف ہے اور چھپے سے بھی “۔ لہٰذا یہ بات تعجب انگیز ہے کہ لوگ اللہ کی ذات کو ان اشخاص و اشیاء کے ساتھ برابر کرتے ہیں جو نہ کوئی حقیر سی شے بھی پیدا کرسکتے ہیں ، نہ کوئی چیز جانتے ہیں ، بلکہ وہ تو مردہ ہیں ، ان کے اندر زندگی داخل ہی نہیں ہو سکتی اور یہی وجہ ہے کہ وہ شعور نہیں رکھتے۔
والذین یدعون ۔۔۔۔۔ وھم یخلقون (20) اموات ۔۔۔۔۔ یبعثون (21) (16 : 20- 21) ” اور وہ دوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں ، مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا “۔
یہاں جو بعث بعد الموت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے خالق تو وہ ہوتا ہے جسے بعث کا علم ہو ، کیونکہ تخلیق کی تکمیل تب ہوگی جب قیامت برپا ہوگی اور اس وقت تمام ذی عقل افراد کو ان کے کئے کی جزاء وسزا دی جائے گی۔ لہٰذا ایسے خدا جن کو بعث بعد الموت کا علم ہی نہیں ہے وہ خدایا الٰہ ہونے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ یہ تو ایک مذاق ہے کہ ایک خالق کو نہ اپنی مخلوق کا پتہ ہو اور نہ یہ علم ہو کہ اس مخلوق کو کب اٹھایا جائے گا۔
Ayahs 16:22–23درس نمبر 120 ایک نظر میں
درس سابق میں ہمیں بتایا گیا کہ خالق کائنات کی اس عظیم مخلوق میں بیشمار آیات و نشانات موجود ہیں۔ اس عظیم تخلیق میں حضرت انسان کے فائدے ہی فائدے ہیں اور یہ کہ خالق حقیقی انسان کے ظاہر و باطن کا علم رکھتا ہے ۔ جبکہ جن ہستیوں اور اشیاء کو تم الٰہ سمجھتے ہو ، ان کی کوئی تخلیق نہیں ہے۔ وہ خود مخلوق ہیں ، وہ کسی چیز کا علم و شعور نہیں رکھتے ، بلکہ وہ مردہ ہیں اور ان کو اب اس جہان میں زندگی حاصل نہیں ہو سکتی ، یا وہ حیات کے قابل ہی نہیں ہیں۔ نیز ان ہستیوں کو اس قدر بھی معلوم نہیں ہے کہ سزاء و جزاء و جزاء کے لئے ان کو کب اٹھایا جائے گا۔ یہ تمام دلائل قطعاً اس بات کو ثابت کردیتے ہیں کہ یہ ہستیاں عبادت کے لائق نہیں ہیں اور یہ کہ عقیدۂ شرک سرے سے باطل اور لغو ہے۔ اس سورة میں عقیدۂ توحید کے بیان کا یہ پہلا دور تھا جس میں قیام قیامت کی طرف بھی اشارہ تھا۔
اس سبق میں بھی وہ مضمون ہے جو ہم نے پچھلے سبق میں چھوڑا۔ بیان توحید کا یہ دوسرا دور ہے ، اس کا آغاز اس دعویٰ سے ہوتا ہے کہ تمہارا الٰہ بس ایک ہی الٰہ ہے۔ اور جو لوگ صرف ایک ہی الٰہ کو نہیں مانتے درحقیقت ان کے دل منکر ہیں۔ چونکہ انکار ان کے دلوں کے زند جاگزیں ہے اسی لیے اس کائنات کے شواہد و افرہ کے ہوتے ہوئے بھی وہ اقرار نہیں کرتے۔ دل میں انکار کی جاگزینی کے ساتھ ساتھ یہ لوگ غرور اور کبر کی بیماری میں مبتلا ہیں اور یہ کبر بھی انہیں حقیقت کو تسلیم کرنے سے روکتا ہے۔ یہ مضمون ایک موثر منظر پر یوں ختم ہوجاتا ہے کہ اس کائنات میں تمام سائے در حقیقت ذات کبریا کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ اس کائنات کے تمام جانور بھی اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ ملائکہ بھی الٰہ واحد کے سامنے جھکتے ہیں جن کی ذات استکبار سے خالی اور جن کے قلوب خوف سے پاک ہیں اور ہر وقت بلا کسی چوں و چرا کے اللہ کے احکام بجا لاتے ہیں اور اطاعت امر کے یہ مظہر مستکبرین کے استکبار کے بالمقابل بیان ہوئے جو اس سبق کے آغاز میں بیان ہوا۔
اس سبق کے آغاز اور اختتام کے درمیان قرآن مجید ان مستکبرین کے نقطہ نظر کو بھی قارئین کے سامنے رکھتا ہے کہ ان کا موقف کیا ہے ؟ یہ کہ وحی اور قرآن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ یہ پرانے قصے ہیں اور یہ کہ وہ کیوں شرک کرتے ہیں ؟ وہ ان چیزوں کو کیوں حرام قرار دیتے ہیں جن کو اللہ نے حرام قرار نہیں دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی مرضی ہے ، اگر اللہ نہ چاہتا تو وہ کب ایسا کرسکتے۔ قیامت کے بارے میں ان کا موقف یہ ہے کہ وہ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اللہ ہرگز مردوں کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ ان کے ان تمام مزعومات کو اس سبق میں سختی سے رد کیا جاتا ہے اور رد کا انداز یہ ہے کہ جب قیامت کے روز یہ اٹھیں گے تو یہ بذات خود اپنے ان نظریات کا صاف صاف انکار کردیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہلاک شدہ امتوں کے بعض واقعات بطور مثال پیش کئے جاتے ہیں اور ان کو ڈرایا جاتا ہے کہ تم پر بھی رات اور دن کی کسی گھڑی میں اسی طرح عذاب آسکتا ہے جبکہ آپ کو کوئی توقع نہ ہوگی اور بعض صورتیں ایسی بھی ہو سکتی ہیں کہ تم کو عذاب کی توقع ہوگی اور تم انتظار کر رہے ہوگے۔ اس کے بالمقابل اس سبق میں مومنین کے موقف اور نظریات کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ، خصوصاً جبکہ موت اور بعث بعد الموت کے وقت ان کا مکالمہ فرشتوں سے ہوگا ۔ اس طرح یہ سبق ختم ہوتا ہے جس میں خشوع و خضوع اور اطاعت وامتنال امر الٰہی کے مناظر بھی ہیں اور انکار کے بھی اور یہ پوری کائنات ، اس کے سائے ، فرشتے اور گردش لیل و نہار اور ارض و سما سب کے سب امتثال امر الٰہی کے نشانات ہیں۔
آیت نمبر 22 تا 23
ترجمہ : یہاں اللہ وحدہ پر ایمان اور یوم آخرت پر ایمان کو یکجا کیا گیا ہے بلکہ اللہ وحدہ پر ایمان کا لازمی نتیجہ آخرت پر ایمان کو قرار دیا گیا ہے کیونکہ اللہ وحدہ کی بندگی کا براہ راست تعلق عقیدۂ آخرت اور جزاء وسزا کے قیام سے ہے۔ صرف اسی صورت میں خالق حقیقی کی حکمت تخلیق کا اظہار اور مکمل انصاف ہو سکتا ہے۔
الھکم الہ واحد ( 16 : 22) “ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے ”۔ اس سورة میں تخلیق باری کے جو نشانات گنوائے گئے۔ اللہ کے جن جن انعامات کا ذکر ہوا ، اور اللہ کے علم و حکمت کی جن باتوں کو بیان کیا گیا ، وہ سب اس حقیقت عظیہ کی متقاضی ہیں کہ اللہ ایک ہے ، اس کے آثار اس کائنات کے قوانین قدرت اور نوامیس فطرت میں عیاں ہیں ، اور ان کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور باہم تعاون اور توافق پایا جاتا ہے اور یہ تمام قوانین ہمقدم ہیں۔
لہٰذا جو لوگ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے وہ آخرت کو تسلیم نہیں کرتے۔ جو لوگ اللہ کی تخلیق ، اس کی وحدانیت اور اس کی حکمت اور عدل پر ایمان لاتے ہیں ، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ پھر قیام قیامت پر ایمان لائیں ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اس کا سبب دلائل و نشانات کی کمی نہیں ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے بلکہ انکار کی علت خود ان کی ذات کے اندر پوشیدہ ہے۔ ان کے مزاج میں انکار ہے اور ان کے دل انکار کرنے والے ہیں۔ ان کے دل و دماغ میں پہلے سے انکار بیٹھا ہوا ہے۔ اس لیے وہ دلائل وبراہین کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے اور دلائل وبراہین کی طرف توجہ کیوں نہیں کرتے ؟ اس لیے کہ وہ مستکبرین ہیں اور اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھتے ہیں۔ وہ نہ دلائل کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ حضرت نبی ﷺ کی قیادت کو تسلیم کرتے ہیں۔ دراصل یہ لوگ اللہ کی بندگی کرنا نہیں چاہتے۔ لہٰذا انکار کرتے ہیں اور اس کا حقیقی سبب خود ان کے نفوس کے اندر ہے۔
اللہ جس نے تمام انسانوں کو پیدا کیا ہے وہ اپنی مخلوق کے ہر کل پرزے سے واقف ہے ، وہ ان امور سے بھی واقف ہے جو پوشیدہ ہیں اور ان سے بھی جو ظاہر ہیں وہ لاریب سب کچھ جانتا ہے اور ان کے اس رویے کو ناپسند بھی کرتا ہے۔
انہ لا یحب المسکتبرین (16 : 23) “ اور اللہ ان لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو غرور نفس میں مبتلا ہیں ”۔ ایک متکبر دل سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس کائنات کے دلائل و شواہد پر مطمین ہوجائے اور سر تسلیم خم کر دے۔ چناچہ وہ اللہ کی طرف سے ناپسندیدہ لوگ ہیں کیونکہ وہ غرور نفس میں مبتلا ہیں اور اللہ ان کے حالات اور حقیقت سے خوب واقف ہے اور ان کے ہر ظاہر و باطن سے بھی واقف ہے۔
Ayahs 16:24–25آیت نمبر 24 تا 25
یہ مستکبرین اور منکر دل والوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ ما ذا انزل ربکم (16 : 24) “ تمہارے رب نے یہ کیا چیز نازل کی ہے ”۔ یہ لوگ اس سوال کا صحیح جواب نہیں دیتے۔ حالانکہ جواب سیدھا سادہ ہے۔ یہ لوگ قرآن کریم کو پڑھ سکتے ہیں ، اس کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ اگر ایمان نہ بھی لائیں پھر بھی دیانت داری سے صحیح جواب تو دے سکتے تھے لیکن انہوں نے سیدھا جواب دینے کے بجائے یہ جواب دیا :
اساطیر الاولین (16 : 24) “ وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہانیاں ہیں ”۔ اساطیر ان کہانیوں کو کہا جاتا ہے جو وہم سے پر ہوں اور خرافات پر مشتمل ہوں۔ یہ لوگ قرآن کے بارے میں ایسے ریمارکس پاس کرتے ہیں حالانکہ قرآن مجید انسانی عقل ، انسانی نفسیات ، انسانی طرز زندگی ، لوگوں کے عمومی طرز عمل ، سوسائٹی کے طبقات کے باہم تعلق اور انسان کے ماضی ، اس کے حال اور اس کے مستقبل پر نہایت ہی معقول تنقیدہ تبصرہ کرتا ہے اور حقیقی راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن نے امم ماضیہ کے واقعات بیان کئے ہیں ، لہٰذا اس کے بارے میں ان کی یہ سطحی رائے ہے۔ یوں یہ لوگ خود اپنے گناہوں کا بوجھ بھی بڑھاتے ہیں اور اپنے متبعین کے گناہوں کا بھی ایک حصہ اپنے بوجھ میں ڈالتے ہیں۔ کیونکہ ان کی باتوں سے ان کے پیروکار گمراہ ہوتے ہیں اور اسلام اور ایمان سے رک جاتے ہیں۔ یہ متبعین چونکہ خود جاہل ہیں کوئی صحیح رائے وہ خود قائم نہیں کرسکتے۔ قرآن کریم ان لوگوں کے گناہوں کی تعبیر ایک ایسے بوجھ سے کرتے ہیں جو کوئی مسافر اٹھاتا ہے۔ یہ بوجھ زیادہ ہوتا ہے لیکن یہ احمق مسافر اس کو اور زیادہ کرتا جاتا ہے۔ یہ بوجھ نفس انسانی کو اس قدر جھکا دیتا ہے ، اس قدر مشقت میں ڈال دیتا ہے جس طرح بھاری بوجھ کمر کو دہرا کردیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روحانی اور نفسیاتی بوجھ بھی انسان کے لئے اس طرح باعث درماندگی ہوتا ہے جس طرح جسمانی بوجھ جسم کے لئے تھکن کا موجب ہوتا ہے بلکہ نفسیاتی بوجھ جسم کو جسمانی بوجھ کے مقابلے میں زیادہ چور چور کردیتا ہے۔
ابن ابو حاتم ، سدی سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے ایک میٹنگ کی اور اس میں قرار دیا کہ حضرت محمد ﷺ شیریں زبان ہیں۔ جب وہ کسی سے بات کرتے ہیں تو اس کی عقل جاتی رہتی ہے ۔ لہٰذا قریش میں سے چند ایسے افراد کا انتخاب کرو جو معروف ہوں اور ان کا نسب بھی معروف ہو۔ ان کو مکہ کی راہوں پر ایک دو رات کے لئے بٹھا دو تا کہ جو شخص بھی محمد ﷺ سے ملاقات کے لئے آئے وہ اسے واپس کردیں۔ چناچہ کچھ لوگ نکلے اور مکہ کے راستے پر بیٹھ گئے۔ جو شخص بھی اپنی قوم کی طرف سے محمد ﷺ کے حالات معلوم کرنے کے لئے مکہ آتا ، تو ان میں سے جو شخص راستے میں بیٹھا ہوتا وہ کہتا میں فلاں ابن فلاں ہوں۔ تو یہ شخص اسے پہچان لیتا کیونکہ وہ مشہور شخص ہوتا۔ پھر وہ کہتا کہ میں تمہیں محمد ﷺ کے بارے بتاتا ہوں ۔ وہ ایک بہت بڑا جھوٹا شخص ہے۔ اس معاملے میں اس کے متبعین یا تو بیوقوف لوگ ہیں یا غلام ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ رہے اس کی قوم کے اکابر اور شیوخ تو وہ سب کے سب اس کے خلاف ہیں۔ اس طرح وہ شخص معتبر دیہہ کی بات سن کر واپس ہوجاتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔ الاولین (16 : 24) “ اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا نازل کیا ہے تو کہتے وہ تو پرانے زمانے کی کہانیاں ہیں ”۔ اب اگر یہ شخص صاحب عزم صمیم ہوتا اور اس کے لئے ہدایت لکھی ہوئی ہوتی تو یہ لوگ جب اپنی بات کرتے تو وہ کہتا میں اپنی قوم کا کس قدر بےکار نمائندہ ہوں گا کہ میں دور کا سفر کر کے آیا اور ایک دن کا سفر رہ گیا اور اب میں اس شخص سے ملے بغیر واپس چلا جاؤں ۔ یہ دیکھے بغیر کہ وہ کیا کہتا ہے اور قوم کے پاس کوئی مصدقہ بیان لے کر نہ جاؤں۔ تو ایسا شخص مکہ میں داخل ہوتا۔ وہ مومنین سے ملتا اور پوچھتا کہ حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کیا ہیں ، تو وہ اس کو اچھی باتیں بتاتے ”۔
قریش نے تحریک اسلامی کے خلاف ایک زبردست مخالفانہ پروپیگنڈے کی مہم شروع کر رکھی تھی۔ قریش کے بعد بھی ہر زمان و مکان میں مستکبرین پر تحریک اسلامی کے خلاف ایسی ہی مخالفانہ مہم چلاتے ہیں کیونکہ ان کا غرور اور استکبار ان کو دلیل اور سچائی کے اتباع سے روکتا ہے۔ پس قریش کے یہ مستکبرین ، پہلے منکر اور معاندنہ تھے۔ قرآن کریم ان کے سامنے ان مستکبرین کا انجام واضح طور پر پیش کرتا ہے جس سے ان سے قبل کے مستکبرین دوچار ہوئے ، خصوصاًقیامت کے دن ان کا جو انجام ہونے والا ہے ، بلکہ یہ انجام ان کا قیامت سے بھی پہلے اس وقت شروع ہونے والا ہے جونہی ان کی روح جسد خاکی سے نکل جائے گی۔ قرآن کریم ان کے سامنے ، یہ مناظر نہایت ہی موثر انداز میں پیش کرتا ہے جیسا کہ قرآن کریم کا اسلوب ہے۔
Ayahs 16:26–29آیت نمبر 26 تا 29
قد مکرالذین من قبلھم (16 : 26) “ ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا دکھانے کے لیے ) ایسے ہی مکاریاں کرچکے ہیں ”۔ قرآن کریم ان کے پروپیگنڈے کو ایک ایسی عمارت سے تعبیر کرتا ہے جس کی بنیادیں بھی ہیں اور ستون بھی اور چھت بھی ہے۔ اس میں یہ بتلانا مقصود ہے کہ ان کا پروپیگنڈا بڑ اگہرا ، مضبوط ، پختہ اور ضخیم تھا لیکن اللہ کی قوت اور تدبیر کے مقابلے میں یہ کامیاب نہ ہوا۔
فاقی اللہ بنیانھم من القواعد فخر علیھم الشقف من فوقھم (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی ”۔ یہ ایک ایسا منظر اور ایسی تصویر کشی ہے جس سے مکمل تباہی کا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ یہ تباہی اوپر سے بھی آتی ہے اور نیچے سے بھی آتی ہے کیونکہ جن بنیادوں پر یہ عمارت کھڑی تھی وہی گر گئیں اور اوپر سے چھت ان پر اس طرح آگری کہ وہ دب گئے اور دفن ہو کر رہ گئے۔
واتھم العذاب من حیث لا یشعرون (16 : 26) “ اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کے ان کو گمان تک نہ تھا ”۔ ہم کیا دیکھتے ہیں کہ جس عمارت کو انہوں نے نہایت ہی پختہ کر کے تعمیر کیا تھا اور ان کو پورا بھروسہ تھا کہ وہ اس میں پناہ لیں گے وہی ان کا مقبرہ بن گئی اور وہ ان پر ایسی ہلاکت لائی کہ اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی ان پر تباہی آئی۔ وہ عمارت انہوں نے اس قدر مضبوط بنائی تھی کہ اس کی کسی جہت سے بھی ان کو تباہی کا ڈر نہ تھا۔
تبایہ و بربادی کا یہ ایک مکمل منظر ہے۔ یہ مکر کرنے والوں کے مکر اور مخالفانہ تدابیر کرنے والوں کی تدابیر کے ساتھ معنی خیز مذاق ہے۔ جو لوگ تحریک اسلامی کی راہ روکنے کے لئے مکر کرتے ہیں یہ سوچتے ہیں کہ ان کے مکر کا کوئی توڑ نہ ہوگا اور یہ کہ ان کی تدابیر ناکام نہ ہوں گی حالانکہ اللہ ان کی تمام مکاریوں اور تدابیر کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
یہ منظر قریش کے دور کے بھی دیکھا گیا ۔ ان سے پہلے بھی تاریخ نے بھی بارہا دیکھا اور بعد کے ادوار میں بھی دیکھا گیا۔ دعوت اسلامی آج تک اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ مکر کرنے والے جس قدر چاہیں تدابیر سوچیں ، جس قدر چاہیں ، مکاریاں کریں۔ تحریک اسلامی کے کارکن ان تاریخی مناظر کو بار بار پڑھ کر دیکھتے ہیں جس طرح قرآن کریم نے منظر کشی فرمائی۔
فاتی اللہ بنیانھم ۔۔۔۔۔ لا یشعرون (16 : 26) “ تو دیکھ لو کہ اللہ نے ان کے مکر کی عمارت جڑ سے اکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اوپر سے ان کے سر پر آرہی اور ایسے رخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کا ان کو گمان تک نہ تھا ”۔ یہ تو ان کا انجام ہوا اس دنیا میں اور اس کرۂ ارض پر۔ لیکن تم ثم یوم القیمۃ یخزیھم ویقول این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیھم (16 : 27) “ پھر قیامت کے روز اللہ انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان سے کہے گا اب بتاؤ کہاں ہیں وہ شریک جن کے لئے تم اہل حق سے جھگڑے کیا کرتے تھے ”۔ قرآن کریم یہاں مشاہد قیامت سے ایک منظر تصویر کشی کر رہا ہے۔ یہ مکار مستکبرین اس منظر میں نہایت ہی شرمندگی کی حالت میں ہیں۔ ان کا تکبر کافور ہوچکا ہے اور ان کی مکاریوں کے دن لد گئے ہیں۔ اب وہ اس ذات کبریا کے دربار میں ہیں جو تخلیق کا بھی مالک ہے اور فیصلے بھی اب اسی کے چلتے ہیں۔ اللہ اب ان کو مزید شرمندہ اور خوار کرنے کے لئے سوال کرتے ہیں۔
این شرکاءی الذین کنتم تشاقون فیھم (16 : 27) “ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے بارے میں تم جھگڑتے رہتے تھے ”۔ جن جعلی شریکوں کے متعلق تم رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان سے جھگڑتے تھے وہ کہاں تھے۔ جو لوگ عقیدۂ توحید کے قائل تھے تم ان سے مناظرے کیا کرتے تھے۔
یہاں یہ لوگ گم سم کھڑے ہیں۔ شرمندگی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ لیکن فرشتے ، رسول ، اہل علم اور اہل ایمان کو اب بولنے کی اجازت ہوگی کیونکہ یہ لوگ تو اب کامیاب ہوچکے ہوں گے لہٰذا بولنا اب ان کا حق ہوگا۔
قال الذین ۔۔۔۔۔ علی الکفرین (16 : 27) “ جن لوگوں کو دنیا میں علم حاصل تھا وہ کہیں گے ، آج رسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لئے ”۔ فی الواقعہ آج رسوائی اور بدبختی صرف کافروں کے لئے ہے۔
الذین تتوفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم (16 : 28) “ انہی کافروں کے لئے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ”۔ اب قرآن کریم ان لوگوں کو ایک قدم پیچھے لے جاتا ہے ، قیامت سے قبل ان لوگوں کی موت کا وقت قریب ہے ، ملائکہ ان کی روح قبض کرتے ہیں ، ان کے جسم سے ان کی روح کو نہایت ہی کرختگی کے ساتھ کھینچ کر نکالا جاتا ہے ، اس لیے کہ یہ لوگ ایمان و یقین سے محروم تھے۔ انہوں نے اپنی روحی کو ہلاکت میں ڈال دیا تھا۔ پھر ان کی جانیں آگ اور دائمی کے عذاب کے حوالے ہوگئیں۔
جب ان لوگوں کی موت قریب آئی اور ابھی تو زمین میں یہ جھوٹ ، مکر اور فریب کا کاروبار کر رہے تھے تودیکھو کہ یہ کس قدر ساؤ ہوگئے ہیں۔
فالقوا السلم ما کنا نعمل من سوء (16 : 28) “ تو یہ لوگ فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں “ ہم تو کوئی قصور نہیں کر رہے تھے ”۔ یہ مستکبرین اب تو سلامتی کے پیغامبر بن گئے ہیں ، وہ تو اس سر تسلیم خم کرنے اور اطاعت کرنے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ یہ بھی ان کا جھوٹ ہے اور یہ جھوٹ ان کے دنیاوی سلسلہ جھوٹ کا حصہ ہے۔ یہ نہایت ہی عاجزی سے کہتے ہیں۔
ما کنا نعمل من سوء (16 : 28) “ ہم تو قصور نہیں کر رہے تھے ”۔ یہ بھی نہایت ہی شرمساری اور ذلت کا منظر ہے۔ ان مستکبرین کو دیکھو اور ان کی اس حالت کو دیکھو۔
لیکن اللہ کی طرف سے جواب آئے گا “ ہاں ” اور یہ جواب علیم وخبیر کی طرف سے ہوگا۔
بلیٰ ان اللہ علیم بما کنتم تعملون (16 : 28) “ ہاں اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے ”۔ لہٰذا اب یہاں جھوٹ ، مغالطہ اور ملمع کاری نہیں چل سکتی۔
اب ان کے فیصلے اور جزاء کا وقت آتا ہے ۔ یہ متکبرین کی جزاء ہے۔
فادخلوا ابواب ۔۔۔۔۔ المتکبرین (16 : 29) “ اب جاؤ، جہنم کے دروازوں میں گھس جاؤ۔ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے ”۔ پس حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے متکبروں کے لئے ”۔ اب فریق بالمقابل ، وہ لوگ ہیں جنہوں نے تقویٰ کی راہ اختیار کی۔ یہ لوگ متکبرین اور مستکبرین کے مد مقابل ہیں شروع سے انتہا تک۔