16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 16:65

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

(تم ہر برسات میں دیکھتے ہو کہ ) اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور یکایک مردہ پڑی ہوئی زمین میں اس کی بدولت جان ڈال دی ۔ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لئے ”۔

آیت نمبر 65 پانی تو ہر چیز کی زندگی کا سامان ہے۔ قرآن مجید اسے پورے کرۂ ارض کے لئے علی العموم سامان حیات قرار دیتا ہے ، جو چیز بھی اس کرۂ ارض کی پشت پر ہو اور اللہ جو ہر چیز کو حالت مرونی سے زندگی کی حالت میں لاتا ہے وہی ہے جو الٰہ ہونے کے لائق و سزاوار ہے۔ ذلک لایۃ لقوم یسمعون (16 : 65) “ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لئے ” تا کہ وہ جس چیز کو سنیں اس پر غور کریں اور سمجھیں۔ یہی اصل مسئلہ ہے یہ کہ دلائل الوہیت اور دلائل حیات بعد الموت جس کا قرآن کریم با ربار تذکرہ کرتا ہے اور لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتا ہے اس کائنات میں جابجا بکھرے پڑے ہیں ، لیکن یہ آیات و معجزات ان لوگوں کے لئے ہیں جو سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں اور پھر مزید غوروفکر کرتے ہیں۔ مویشیوں اور جانوروں کے اندر بھی ایک نصیحت آموز چیز موجود ہے۔ یہ خالق کائنات کی عجیب تخلیق ہے اور یہی ایک دلیل الٰہ العالمین کی کبریائی کے لئے بس ہے۔
Ayah 16:66

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے۔ ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں ، یعنی خالص دودھ ، جو پینے والوں کے لئے نہایت خوشگوار ہے ”۔

آیت نمبر 66 یہ دودھ ، جسے ہم حیوانات کے پستانوں سے نچوڑتے ہیں ، یہ کس چیز سے پیدا ہوتا ہے ؟ یہ گوبر اور خون کے بیچ میں سے نکلتا ہے ۔ فرث اس محصول کو کہتے ہیں جو ہضم کے بعد جگالی کرنے والے جانور کے اوجھ میں رہ جاتا ہے۔ نیز ہضم کے بعد جو محلول رہ جاتا ہے اور اسے آنتیں خون کی شکل میں تبدیلی کردیتی ہیں اسے بھی فرث کہا جاتا ہے۔ یہ خون جسم کے ہر خلیے میں گردش کرتا ہے۔ یہ خون جب جانور کی کھیری میں دودھ کے غدود میں جاتا ہے تو یہ دودھ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ یہ قدرت کا عجوبہ ہے کہ یہ خون دودھ بن جاتا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ محلول اور یہ خون کس طرح دودھ کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ پھر ہر قسم کی خوراک کا خلاصہ خون کی شکل کس طرح اختیار کرلیتا ہے۔ پھر اس خون کی قوت میں سے جسم کے ہر خلیے کو اس کی ضرورت کے مطابق غذا کا فراہم ہونا ایک ایسا عمل ہے جو نہایت ہی پیچیدہ اور تعجب انگیز ہے۔ یہ عمل جسم میں ہر سیکنڈ کے حساب سے تکمیل پاتا ہے۔ اس طرح جسم میں جلنے کا عمل بھی جاری رہتا ہے۔ ہر سیکنڈ میں ، انسانی جسم کی اس پیچیدہ مشینری میں تخریب و تعمیر کا یہ عمل جاری ہے اور اس وقت جاری رہتا ہے جب تک جسم سے روح پرواز نہیں کر جاتی۔ کوئی انسان جس کا شعور زندہ ہو ، وہ ان عجیب عملیات سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ، جن میں جسم انسانی کی اس عجیب مشینری کا ہر ذرہ خالق کا ثناخواں نظر آتا ہے۔ یہ ایک ایسی عجیب مشینری ہے کہ انسان کی بنائی ہوئی پیچیدہ سے پیچیدہ مشینری اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ انسان کے لئے جسم انسانی کے لاتعداد خلیوں میں سے ایک خلیہ بھی بنانا ممکن نہیں ہے۔ ہم نے جسم انسانی میں خوراک کے ہضم ، اس کے خون کی شکل اختیار کرنے اور پھر چلنے اور ختم ہونے کے عمل کا ایک عام جائزہ لیا ہے۔ اس جسم کے اندر ایسے ایسے کام ہو رہے ہیں کہ اگر ان کا سائنسی مطالعہ اور ملاحظہ کیا جائے تو عقل دنگ رہ جائے۔ خود جسم انسانی کے خلیوں میں سے ایک خلیے کا مطالعہ اور اس پر غوروفکر بھی نہ ختم ہونے والی سوچ عطا کرتا ہے۔ ماضی قریب تک یہ تمام عجائبات راز ہی رہے ، اور یہ حقیقت جس کا ذکر یہاں قرآن مجید کر رہا ہے کہ دودھ گوبر اور خون کے درمیان سے نکلتا ہے ، انسان اس سے ماضی قریب تک واقف نہ تھا۔ ادوار سابقہ میں انسان نہ اس کا تصور کرسکتا تھا اور نہ ہمارے دور کی طرح اس کا دقیق سائنسی مطالعہ کرنے کے قابل تھا۔ اس بارے میں کوئی انسان نہ شک کرسکتا ہے اور نہ بحث کرسکتا ہے۔ اس قسم کے پیچیدہ سائنسی حقائق میں سے کسی ایک حقیقت کی طرف قرآن کریم کا واضح طور پر اشارہ کرنا ہی اس بات کے لئے کافی ثبوت ہے کہ قرآن کریم وحی الٰہی پر مشتمل ہے کیونکہ یہ وہ حقیقت ہے جس کا سائنٹیفک علم کسی انسان کو بھی اس دور میں نہ تھا۔ لیکن ان خالص سائنسی حقائق کو اگر ایک طرف بھی چھوڑ دیں تو بھی قرآن کریم میں ایسے دلائل و خصائص موجود ہیں جو اس کے وحی الٰہی ہونے کا اثبات کرتے ہیں۔ ہاں اس قسم کی سائنسی حقیقتوں میں سے ایک واضح حقیقت سامنے آجانا مخالفین اور معاندین کے منہ کو بند کرنے کے لئے کافی ہے۔
Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

(اسی طرح) کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں سے بھی ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں جسے تم نشہ آور بھی بنا لیتے ہو اور پاک رزق بھی۔ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لئے ”۔

آیت نمبر 67 یہ پھل جو اس تروتازگی اور نباتاتی حیات سے پیدا ہوتے ہیں جو آسمانوں سے پانی برسنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ، ان سے تم شراب بناتے ہو (اس وقت تک شراب حرام نہ ہوئی تھی ) اور رزق حسن بناتے ہو۔ اس آیت میں بہرحال اشارہ کردیا گیا ہے کہ رزق حسن شراب سے کوئی الگ چیز ہے اور یہ کہ شراب رزق حسن نہیں ہے۔ یہ دراصل تمہید تھی اس حکم کے لئے جو بعد میں تحریم شراب کے بارے میں نازل ہوا۔ اس آیت میں صرف واقعاتی تجربہ ہے کہ کھجوروں اور انگور اللہ نے پیدا کئے اور تم اس سے یہ یہ مصنوعات تیار کرتے ہو ، یہاں کسی چیز کی حلت اور حرمت سے بہرحال بحث نہیں ہے اگرچہ یہ حرمت کے لئے تمہید ضرور ہے ان فی ذلک لایۃ لقوم یعقلون (16 : 67) “ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لئے ”۔ لہٰذا عقل مند لوگ جب سمجھ لیتے ہیں تو وہ یہی فیصلہ کرتے ہیں کہ بندگی کا سزاوار وہی خالق ہے جو یہ چیزیں پیدا کرتا ہے۔
Ayahs 16:68–69

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور دیکھو ، تمہارے رب نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کردی کہ پہاڑوں ، اور درختوں میں ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں ،

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

اپنے چھتے بنا ، اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس ، اور اپنے رب کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ۔ اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لئے۔ یقیناً اس میں بھی ایک نشانی ہے ان لوگوں کے لئے جو غوروفکر کرتے ہیں ”۔

آیت نمبر 68 تا 69 شہد کی مکھی اس الہام کے مطابق کام کرتی ہے جو خالق نے تخلیق کے وقت اس کی فطرت میں رکھ دیا ہے۔ یہ بھی وحی کی ایک قسم ہے اور یہ مکھی اس کے مطابق عمل پیرا ہے۔ یہ مکھیاں جس پیچیدہ انداز میں اپنا کام جاری رکھتی ہیں ، اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ وہ کس انجینئرنگ سے اپنا چھتہ تیار کرتی ہیں۔ وہ باہم تقسیم کار کس طرح کرتی ہیں اور پھر وہ عسل مصفیٰ کو کس طرح علیحدہ کرتی ہیں ؟ یہ اپنی فطرت کے مطابق گھر بناتی ہیں ، پہاڑوں میں ، درختوں کی شاخوں میں ، لوگ دیواروں پر جو بیل بوٹے چڑھاتے ہیں ان میں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ان کی فطرت کے مطابق زمین کے اندر راستے ہموار کیے ہیں کہ یہ عسل مصفیٰ شفاء للناس ہے۔ بعض ڈاکٹروں نے اس پر تحقیق کی ہے اور یہ تحقیق نہایت ہی فنی انداز کی ہے۔ لیکن ایک مسلم کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت کی رو سے وہ شفاء للناس ہے۔ حضور اکرم ﷺ سے بعض احادیث میں بھی عسل مصفیٰ کی ان خصوصیات کی طرف اشارہ ہے بخاری شریف نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت کی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا ، حضور ﷺ میرے بھائی کو اسہال ہو رہے ہیں تو حضور ﷺ نے فرمایا ، اسے شہد پلا دو ۔ تو اس نے اسے شہد پلا دیا۔ اس کے بعد وہ پھر آیا اور کہا ، حضور ﷺ میں نے اسے شہد پلایا مگر اس سے تو اس کے اسہال اور زیادہ ہوگئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور اسے شہد پلاؤ۔ وہ گیا اور اس نے اور شہد پلایا۔ پھر آیا اور کہا ، حضور ﷺ وہ تو اور بھی زیادہ ہو رہا ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے تو سچ کہا ہے تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹ بول رہا ہے ، لہٰذا جاؤ اور اسے مزید شہد پلاؤ۔ وہ شخص گیا اور اس نے بھائی کو مزید شہد پلایا اور وہ تندرست ہوگیا۔ اس حدیث شریف کو پڑھ کر انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے کہ ایک رسول ایمان و ایقان کے کس اعلیٰ مقام پر ہوتا ہے۔ مریض کا بھائی بار بار اطلاع کرتا ہے کہ مرض میں اضافہ ہی ہو رہا ہے لیکن حضور اکرم ﷺ وہی علاج تجویز کرتے ہیں کیونکہ قرآن نے اسے شفاء کہا ہے۔ آخر کار قرآن کی بات عملاً سچی ثابت ہوجاتی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان تمام مسائل میں جن کا فیصلہ قرآن نے کردیا ہے اسی طرح کے ایمان و ایقان کا اظہار کریں۔ اگرچہ بظاہر صورت حالات قرآن کے حکم کے خلاف ہی کیوں نہ نظر آئے۔ کیونکہ ظاہری حالات کے مشاہدے میں غلطی ہو سکتی ہے لیکن قرآنی حقائق کبھی غلط نہیں ہو سکتے اور آخر کار قرآنی حقائق ہی سچے ثابت ہوتے ہیں۔ اب ذرا طرز کلام کی فصاحت و مناسبت پر غور کریں۔ آسمانوں سے پانی اترنے کی نعمت ، گوبر اور خون کے درمیان سے بغیر دودھ کی پیدائش ، کھجوروں اور انگوروں سے شکرو شراب کی پیدائش ، شہد کی مکھی سے مختلف رنگوں کا شہد ، یہ تمام مشروبات ہیں اور ان مشروبات کا اخراج ایسے اجسام سے ہورہا ہے جو ان سے شکل و جنس میں بھی مختلف ہیں۔ چونکہ یہاں ذکر مشروبات کا تھا اس لیے جانوروں کے ضمن میں صرف دودھ کا ذکر کیا گیا کیونکہ وہ مشروب ہے تا کہ مضمون و مفہوم آپس میں متناسب ہوجائیں۔ آگے دوسرا سبق آرہا ہے۔ اس میں انعام کے ضمن میں چمڑوں ، بالوں اور اون کا بھی ذکر ہے کیونکہ وہاں خیموں اور گھروں کا مضمون ہے لہٰذا وہاں حیوانات کی ان چیزوں کا بھی ذکر کیا گیا جو اس مضمون اور منظر کے ساتھ متناسب تھیں۔ قرآن مجید کے اسلوب کلام کا یہ ایک بہت ہی اہم فنی پہلو ہے کہ وہ الفاظ کے ساتھ معنوی ہم آہنگی کا بھی خیال رکھتا ہے۔
Ayahs 16:70–73

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

“ اور دیکھو ، اللہ نے تم کو پیدا کیا ، پھر وہ تم کو موت دیتا ہے ، اور تم میں سے کوئی بدترین عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے تا کہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ حق یہ ہے کہ اللہ ہی علم میں بھی کامل ہے اور قدرت میں بھی۔

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور دیکھو اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے۔ پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیر دیا کرتے ہوں تا کہ دونوں اس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں۔ تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے ان لوگوں کو انکار ہے ؟ ”

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے پوتے عطا کئے اور اچھی اچھی چیزیں تمہیں کھانے کو دیں۔

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

پھر کیا یہ لوگ (یہ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی ) باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں اور اللہ کو چھوڑ کر ان کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دیتا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں ”۔

اب روئے سخن جانوروں ، درختوں ، پھلوں ، شہد کی مکھیوں ، شہد کے انعامات کے مقابلے میں نفس انسانی کے قریب تر ، انسانی شخصیت کی گہرائیوں کے ساتھ تعلق رکھنے والے موضوع کی طرف مڑ جاتا ہے۔ انسانی زندگی کے مختلف مراحل ، انسان کی عمر ، اس کا رزق ، اس کا جوڑا ، بچے اور پوتے وغیرہ جو انسانی دلچسپی کے مخصوص ترین موضوعات ہیں۔ انسان ایسی باتوں سے بہت ہی متاثر ہوتا ہے کیونکہ یہ اس کی سرگرمیوں اور دلچسپیوں کے میدان ہیں۔ آیت نمبر 70 تا 73 ان حساس موضوعات میں سے پہلا موضوع انسانی زندگی ، انسانی موت اور زندگی کے مراحل کے بارے میں ہے اور یہ تمام انسانوں کی دلچسپی کا محبوب موضوع ہے۔ انسانی زندگی پر غور کرنے سے انسان یقیناً بعض اوقات سخت سے سخت دل انسان بھی نرمی کا احساس کرلیتے ہیں اور انسان سوچنے لگتا ہے کہ اس پر ہونے والے تمام انعامات تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور جب انسان کے دل میں ان انعامات کے زوال کی بات ڈال دی جائے تو فطرت انسانی کے اندر ودیعت کردہ خدا خوفی کا احساس ، تقویٰ کا وجدان اور اس زندگی کے عطا کرنے والے کی طرف میلان پیدا ہو سکتا ہے۔ خصوصاً بڑھاپے کی صورت حالات میں جب انسان ارذل العمر میں داخل ہوتا ہے وہ علوم کو بھولنا شروع کردیتا ہے اور دوبارہ ایک بچے کی طرح سادہ ، عاجز اور انجان ہوجاتا ہے۔ جب انسان ایسے حالات پر سنجیدگی سے غور کرے تو وہ اپنے موجودہ جوانی ، قوت ، علم اور عزت و وقار پر سوچے تو وہ کافی حد تک راہ راست پر آسکتا ہے۔ ان اللہ علیم قدیر (16 : 70) “ بیشک اللہ علیم و قدیر ہے ”۔ یہ نتیجہ یہاں اس لیے بتایا گیا کہ انسان کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہئے کہ مکمل ازلی اور ابدی علم صرف اللہ کا ہے اور حقیقی ازلی اور ابدی قدرت بھی صرف اللہ کے پاس ہے۔ انسان کا علم بھی محدود ہے اور زوال پذیر بھی ہے۔ انسان کی قدرت بھی محدود ہے اور قابل زوال بھی ہے ، اس کے علم اور اس کی قدرت میں بھی جزئی علم وقدرت۔ ان آیات میں دوسرا ٹچ انسان کے وسائل رزق سے متعلق ہے۔ رزق کے میدان میں ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان تفاوت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ قرآن کریم اس بات کی تصریح کرتا ہے کہ رزق کے معاملے میں لوگوں کے درمیان فرق ہے اور اللہ نے بعض کو بعض پر برتری دی ہے اور یہ برتری بھی سنت الٰہیہ کے تابع ہے۔ مراتب میں یہ تفاوت بھی محض اتفاقی نہیں ہے بلکہ اس میں بھی اللہ کی گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص بڑا عالم ، مفکر اور عقلمند ہوتا ہے لیکن وسائل رزق اور ان میں ترقی کی صلاحیتیں اس میں محدود ہوتی ہیں کیونکہ دوسرے شعبوں میں اللہ نے ایسے لوگوں کو قیمتی صلاحیتیں دی ہوئی ہوتی ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا انسان بہت ہی سادہ ، باغی اور جاہلی نظر آئے گا لیکن حصول رزق اور اس کی ترقی کے میدان میں یہ شخص بہت ہی ماہر ہوگا۔ پھر لوگوں کے درمیان صلاحیتوں میں تفاوت اور تنوع پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات لوگ غور نہیں کرتے اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ رزق کو صلاحیتوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ، حالانکہ حصول رزق بھی صلاحیتوں میں سے ایک صلاحیت ہوتی ہے۔ نیز بعض اوقات رزق کی فراوانی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہوتی ہے جبکہ رزق کی تنگی میں بھی بعض اوقات کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور اس حکمت کی بنا پر اللہ بعض لوگوں کو آزماتا ہے۔ بہرحال رزق اور وسائل رزق میں تفاوت ایک ایسی حقیقت ہے جو موجود ہے اور اس کا مدار صلاحیتوں کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔ تاہم رزق کا اختلاف صلاحیتوں کے مطابق تب ہوگا جب معاشرے میں مواقع حصول رزق پر ظالمانہ کنٹرول اور مصنوعی تفاوت نہ ہو جس طرح آج کل کے فساد زدہ معاشروں میں ہے۔ اس آیت میں اشارہ اس معاشرے کی طرف ہے جو حضور ﷺ کے وقت دور جاہلیت میں موجود تھا۔ اس صورت حال کو ایک مثال کے طور پر پیش کر کے اللہ تعالیٰ مشرکانہ افکار کے نظام عقائد میں سے ایک عقیدے کی تصحیح فرماتا ہے۔ مکہ کے بت پرستانہ معاشرے میں یہ رواج تھا ، جس طرح ہم نے اس سے قبل اس کی تشریح کردی ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دئیے ہوئے اموال میں سے بعض چیزوں کو بتوں کے لئے مخصوص کردیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دیکھو ، تمہارے بھی غلام ہیں ، جس طرح تم اللہ کے غلام ہو ، (یاد رہے کہ اس وقت کے جاہلی معاشرے میں غلامی کا ادارہ موجود تھا ) ۔ تم ہرگز اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ یہ غلام تمہاری کمائی میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوجائیں تو اللہ کس طرح یہ بات پسند کرے گا کہ اس کی مخلوقات و مملوکات میں سے بعض چیزیں ان لوگوں کی ہوجائیں جنہیں ناحق اللہ کی خدائی کے امور میں شریک کردیا گیا ہے۔ افبنعمۃ اللہ یجحدون (16 : 71) “ کیا یہ اللہ کے انعامات و احسانات کا انکار کرتے ہیں ”۔ اللہ نے تو ان پر انعامات کی بارش کردی اور انہوں نے مقابلے میں دوسروں کو اللہ کا شریک ٹھہرا لیا۔ حالانکہ ان کی جانب سے شکر کا واحد طریقہ یہ تھا کہ وہ اللہ وحدہ کو الٰہ سمجھتے۔ یہ تیسری احساس جگانے والی تنبیہ نفس انسانی ، اس کے جوڑے ، بیٹوں ، پوتوں اور دوسری اولاد کے بارے میں ہے۔ سب سے پہلے ذکر مخالف جنس پر مشتمل جوڑنے اور ان کے باہم زندہ تعلق کے بارے میں ہے۔ جعل لکم من انفسکم ازواجا (16 : 72) “ جس نے تمہارے لیے تمہاری ہی ہم جنس بیویاں بنائیں ”۔ وہ تمہارے ہی نفس کا حصہ ہیں ، وہ تمہارا ہی حصہ ہیں ، یہ تم سے کوئی کم تر درجے کی مخلوق نہیں ہے کہ تمہیں عورتوں کی پیدائش سے شرم آتی ہے۔ وجعل لکم من ازواجم بنین وحفدۃ (16 : 72) “ اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے اور پوتے عطا کئے ”۔ انسان فانی ہے لیکن وہ اپنی ذات کا تسلسل بذریعہ اولاد و احفاد چاہتا ہے۔ حیات انسانی کا یہ پہلو نہایت ہی حساس ہے اور اس تار کو معمولی طور پر چھوٹے ہی سے زمزمہ حیات گونجنے لگتا ہے۔ وسائل رزق کے مقابلے میں اولاد و احفاد کا یہاں ذکر کیا گیا بطور نعمت تا کہ انسانی شعور کے سامنے یہ سوال رکھا جائے۔ افبالباطل یومنون وبنعمت اللہ ھم یکفرون (16 : 72) “ تو اب بھی یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا انکار کرتے ہیں ”۔ یوں کہ وہ اللہ کے شریک قرار دیتے ہیں اور اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ یہ تمام انعامات اللہ کے عطا کردہ ہیں اور یہ نعمات اللہ کی الوہیت و حاکمیت پر گواہ بھی ہیں اور عملاً ان کی زندگی میں یہ نعمتیں موجود بھی ہیں اور ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کے سوا جو بھی ہے وہ باطل ہے۔ اور یہ الٰہ جن کو یہ پکارتے ہیں لا محالہ باطل ہیں ، محض اوہام ہیں ، ان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ ان کے بارے میں ایسی سوچ اور مرتبے کا کوئی حق و حقیقت نہیں ہے۔ لہٰذا اس حرکت کا ارتکاب کر کے وہ انعامات الٰہیہ کا انکار کرتے ہیں ۔ جبکہ اس حقیقت کو وہ خود بھی اپنی فطری صلاحیت سے محسوس بھی کرتے ہیں اور احساس ہوتے ہوئے انکار کرتے ہیں۔ ویعبدون من ۔۔۔۔ یستطیعون (16 : 73) “ اور اللہ کو چھوڑ کر ان کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں ”۔ یہ عجیب بات ہے کہ انسانی فطرت اس حد تک منحرف ہوجائے اور ایسی چیزوں کی بندگی کرے جن کے ہاتھ میں لوگوں کا رزق نہیں ہے اور نہ وہ ایک ہی دن کے لئے لوگوں کے رزق کا انتظام کرنے کے اہل ہیں۔ جبکہ یہ لوگ اللہ کو خالق ، رازق ، فریاد رس مانتے بھی ہیں اور اس کا انکار نہیں کرسکتے لیکن اس کے باوجود اللہ کے مماثل اور اس جیسی شخصیات کے قائل ہیں۔
Ayahs 16:74–75

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

پس اللہ کے لئے مثالیں نہ گھڑو ، اللہ جانتا ہے ، تم نہیں جانتے ”۔ اللہ کی نہ کوئی مثال ہے اور نہ اس کے کوئی مماثل ہے کہ تم اس کی مثالیں دو ۔

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

اللہ ایک مثال دیتا ہے۔ ایک تو غلام ہے ، جو دوسری کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھلے اور چھپے خوب خرچ کرتا ہے۔ بتاؤ، کیا یہ دونوں برابر ہیں ؟ ۔۔۔ الحمد للہ ، مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو ) نہیں جانتے۔

آیت نمبر 74 اس کے بعد اللہ ان لوگوں کے سامنے دو مثالیں پیش کرتا ہے ، ایک شخص مالک رازق ہے اور دوسرا شخص مملوک غلام اور عاجز ہے۔ کسی چیز کا نہ مالک ہے اور نہ کسب کمائی پر قادر ہے۔ یہ مثال اس لیے دی جارہی ہے کہ جس عظیم حقیقت کو وہ بھول چکے ہیں وہ ان کے فہم کے قریب تر ہوجائے۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ کی کوئی مثال نہیں ، اور یہ کہ اللہ کے ساتھ اس کی الوہیت و حاکمیت اور بندگی میں اس کی مخلوق میں سے کسی چیز کو بھی شریک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مخلوق سب اس کی غلام اور بندہ ہے۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اللہ ایک اور مثال دیتا ہے ۔ دو آدمی ہیں۔ ایک گونگا بہرا ہے ، کوئی کام نہیں کرسکتا ، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے ، جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اس سے بن نہ آئے۔ دوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہ راست پر قائم ہے۔ بتاؤ کیا یہ دونوں یکساں ہیں ؟ ”۔

آیت نمبر 75 تا 76 پہلی مثال تو ان کے اندر موجود صورت حالات سے لی گئی ہے۔ اس وقت عرب کے جاہلی معاشرے میں مملوکہ غلام موجود تھے ، یہ اس قدر بےبس مخلوق تھی کہ نہ وہ کسی چیز کے مالک ہوتے تھے اور نہ ان کو کوئی اختیار حاصل تھا۔ یہ لوگ بھی مالک مختار و متصرف اور عاجز غلام اور بےاختیار کے درمیان فرق مراتب سے اچھی طرح واقف تھے۔ لہٰذا ان سے کہا گیا کہ مالک حقیقی کو تم کس طرح اپنے غلاموں کے ساتھ برابر قرار دیتے ہو اور ان غلاموں کو مالک کا شریک قرار دیتے ہو ، کیونکہ تمام انسان اللہ کے غلام اور بندے ہیں۔ دوسری مثال ایسے شخص کی ہے جو گونگا ، بلید ۔۔۔ اور کم نوال ہے۔ وہ کسی کام کو نہیں جانتا ، مالک پر بوجھ ہے۔ جدھر بھی بھیجا جائے کوئی خیر کا کام اس سے نہ بن پائے۔ لیکن دوسرا شخص قوی الجسم ، سلیم العقل ہے ، خوب بات کرتا ہے اور بات بھی عدل و انصاف کی کرتا ہے ، اور کردار کے اعتبار سے راہ راست پر قائم ہے۔ ان دونوں اشخاص میں کوئی سلیم العقل شخص مساوات قائم نہیں کرسکتا۔ بس ایک بت اور ایک پتھر اور اللہ سبحانہ قادر وعلیم کے درمیان کس طرح شرکت و مساوات قائم ہو سکتی ہے ، جبکہ اللہ حکم دیتا ہے کہ معروف کا حکم دو اور منکر سے لوگوں کو روکو اور صراط مستقیم کی طرف آؤ۔ یہ سبق جو اللہ کے اس حکم سے شروع ہوا تھا کہ جدالیین کا نظریہ نہ رکھو ، ان دونوں مثالوں سے اس سبق کا خاتمہ ہوا جن سے ثابت ہوا کہ شرکیہ عقائد و نظریات تعجب انگیز ہیں۔
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور زمین و آسمان کے پوشیدہ حقائق کا علم تو اللہ ہی کو ہے اور قیامت کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیر نہ لے گا مگر بس اتنی ہی جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے ، بلکہ اس سے بھی کچھ کم۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے

بعثت بعد الموت کا مسئلہ وہ مسئلہ ہے جو ہر دور میں نہایت درجہ مختلف فیہ رہا ہے۔ اس کے بارے میں لوگوں نے ہر رسول کے ساتھ مکالمہ ، مجادلہ اور مناظرہ کیا ہے۔ اپنی اصل میں یہ وہ غیب ہے جو اللہ کے مخصوص ترین رازوں میں سے ہے۔ تشریح : وللہ غیب السموت والارض (61 : 77) ” زمین و آسمان کے پوشیدہ حقائق کا علم تو اللہ ہی کو ہے “۔ انسانوں کی حالت تو یہ ہے کہ وہ پردہ غیب کے پیچھے پوشیدہ اسرار و رموز کے پانے سے عاجزو قاصر ہیں۔ ان کا مادی علم جس قدر بھی آگے بڑھ جائے اور دنیا کی مادیات کے بارے میں ان پر جس قدر علوم کے خزانے بھی کھل جائیں۔ وہ زمین کے اندر پوشیدہ خزانوں کی ایک بڑی مقدار کو دریافت کیوں نہ کرلیں وہ ان اسرار کائنات کو پا نہیں سکتے۔ جبکہ اس کائنات میں علوم غیب کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والے برگزیدہ انسان کو بھی یہ معلوم نہیں کہ کل اس کی ذات کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ، بلکہ یہ بھی معلوم نہیں کہ نکلنے والا سانس پھر لوٹے گا یا نہیں۔ انسان کی خواہشات کی دنیا تو طویل و عریض ہے لیکن پردہ غیب کے پیچھے سے تقدیر اس پر خندہ زن ہوتی ہے۔ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اگلے لمحے اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ بعض اوقات اگلے ہی لمحے میں اسے مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے۔ یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ اس نے انسان کو اگلے لمحے آنے والے واقعات سے لاعلم رکھا ہے تاکہ وہ ہر وقت پر امید رہیں ، کام کرتے رہیں ، پیدا کرتے رہیں ، اور نشوونما دیتے رہیں اور جن کاموں کا انہوں نے آغاز کیا ہے انہیں پیچھے چھوڑ دیں تاکہ آنے والے ان کی تکمیل کریں۔ یہاں تک کہ تقدیر وہ چہرہ نمودار کردے جو پس پردہ ہے۔ قیامت بھی ان پوشیدہ اور مستور غیبوں سے ہے۔ اور اگر لوگوں کو قیام قیامت کی سات کا علم ہوجائے تو زندگی کی گاڑی یکدم رک جائے یا اس کے اندر عظیم خلل پڑجائے۔ زندگی کے شب و روز اس طرح نہ گزریں جس طرح کہ قانون قدرت نے ان کے لئے ضابطہ بندی کی ہوئی ہے بلکہ لوگ بیٹھ جاتے اور سال و ماہ اور دن اور گھنٹے گنتے کہ بس اب قیام قیامت کے اتنے دن رہ گئے۔ وما امر الساعۃ الا کلمح البصر اوھو اقرب۔ (61 : 77) ” اور قیامت کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیر نہ لے گا مگر بس اتنی کہ جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے بلکہ اس سے بھی کچھ کم۔ یہ بہت ہی قریب ہے لیکن اس کے وقت کا حساب انسان کے ماہ و سال کے حساب سے مختلف پیمانوں کے ساتھ ہے۔ اس کے انتظامات کے لئے اللہ کو کسی وقت کی ضرورت نہیں ہے۔ پلک جھپکنے کی دیر کافی ہے ، اس سے بھی کم وقت میں یہ تمہارے سامنے اپنے پورے مناظر کے ساتھ حاضر ہوگی۔ ان اللہ علی کل شیئی قدیر (61 : 77) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے “۔ انسانوں اور مخلوقات کی یہ ان گنت تعداد کو حاضر کرنا ، ان کا اٹھانا ، جمع کرنا ، حساب و کتاب لینا ، جزاء و سزا دینا اس قدرت کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے جس نے صرف کن کہنا ہے اور سب کچھ ہوجانا ہے۔ یہ معاملہ صرف ان لوگوں کے لئے خوفناک اور مشکل ہے جو انسانی پیمانوں سے معاملات کو سوچتے ہیں۔ انسانی نظروں سے دیکھتے ہیں اور انسانی اعداد میں حساب و کتاب کرتے ہیں ۔ اس لئے ان کی سوچ اور اندازے غلط ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم واقعہ کو انسانی زندگی کی بعض مثالوں سے انسان کے لئے قریب الفہم بناتے ہیں ، کیونکہ اس عظیم اور ہولناک واقعہ کے حقیقی تصور سے انسان کی قوت ادراک اور قوت تصور عاجز ہے۔ یہ مثالیں انسانی زندگی میں دہرائی جاتی ہیں۔
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اللہ نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اس نے تمہیں کان دئیے ، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دئیے ، اس لئے کہ تم شکر گزار بنو

آیت : واللہ اخرجکم………تشکرون۔ (87) تشریح : یہ بھی ایک عالم غیب ہے جو انسان کے بہت ہی قریب ہے ، لیکن قریب ہونے کے ساتھ ساتھ وہ فہم و ادراک سے بہت بعید بھی ہے۔ یہ کہ اس عالم غیب بطن مادر میں جنین کس طرح تکمیل کے مراحل طے کرتا ہے۔ بعض اوقات لوگ جنین کے حالات ملاحظہ کرتے ہیں ، لیکن ان کا علم محدود ہے اور وہ یہ معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ کس طرح تکمیل اور نشوونما کے مراحل طے کرتا ہے۔ کیونکہ اس کی نشوونما میں راز حیات اصل راز ہے ، جس کا عل آج تک پوشیدہ ہے۔ وہ علم جس کا انسان دعویٰ کرتا ہے اور جس کے ساتھ انسان آگے بڑھتا ہے اور جس کے ذریعے وہ قیامت کے قیام کو بھی معلوم کرنا چاہتا ہے ، وہ ایک حادث علم ہے کیونکہ پہلے انسان کچھ بھی نہ جانتا تھا۔ واللہ اخرجکم من بطون امھتکم لا تعلمون شئیا۔ (61 : 87) ” اللہ نے تم کو تمہاری مائوں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے “۔ ہر عالم اور ہر محقق کی ولادت اور اس حال میں ماں کے پیٹ سے اس کا نکلنا کہ وہ کچھ نہیں جانتا ایک قریب المہد واقعہ ہے۔ اس کے بعد اس نے جو علم سیکھا وہ اللہ کا دین ہے اور یہ اللہ نے انسان کو اسی قدر دیا ہے جس قدر اس جہاں میں انسان کے لئے زندگی گزارنے کے لئے کافی ہو ، یعنی اس پوری کائنات میں جو انسان کے ارد گرد پھیلی ہوئی ہے۔ وجعل لکم السمع والبصار ولافئدۃ (61 : 87) ” اس نے تمہیں کان دئیے ، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دئیے “۔ قرآن کریم انسان کے قوائے مدرکہ کے مجموعے پر قلب اور فواد کا اطلاق کرتا ہے۔ اس میں عقل بھی آتی ہے اور اس میں وہ وجدانی اور الہامی قوتیں بھی آتی ہیں جن کی حقیقت سے انسان خبردار نہیں ہے۔ اور انسان کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ یہ قوتیں کس طرح کام کرتی ہیں اور تمہیں کان ، آنکھیں اور دل دئیے۔ لعلکم تشکرون (61 : 87) ” اس لئے کہ تم شکر گزار بنو “ جب تم غور کرو کہ یہ چیزیں انسان کو دے کر اللہ نے کس قدر کرم کیا ہے ، نیز ان کے علاوہ اللہ کے انعامات کو ان آلات مدرکہ سے پا کر تم اللہ کا شکر ادا کرو ، اور شکر کا پہلا مظہر یہ ہے کہ انسان اللہ وحدہ پر ایمان لائے۔ ایک دوسرا تعجب انگیز منظر جو رحمت الہیہ کے آثار میں سے ہے اور جو انسانوں کے پیش پا افتادہ ہے ، انسان اسے دیکھتا ہے اور تدبر نہیں کرتا۔
Ayahs 16:79–80

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخر ہیں ؟ اللہ کے سوا کس نے ان کو تھام رکھا ہے ؟ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لئے ایسے مکان پیدا کیے جنہیں تم سفر اور قیام ، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں

پرندے زمین و آسمان کی فضا میں مسخر ہیں۔ یہ اسی میں اڑتے پھرتے ہیں ، ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ یہ منظر ہم بار بار دیکھتے ہیں اور بار بار دیکھنے کی وجہ سے اس کے اندر جو عجوبہ ہے ، وہ غیر محسوس ہوگیا ہے۔ اس کی طرف انسان کا دل و دماغ تب توجہ کرتا ہے جب وہ جاگنے والا ہو ، اور اس کو شاعرانہ قوت مشاہدہ دی گئی ہو۔ ایک شاعرانہ ظرف نگاہی رکھنے والا شخص تو اس پر ایک نظم اور قصیدہ لکھ سکتا ہے اور وہ بےساختہ اس قدیم ، مالوف اور جدید شاعرانہ منظر کو دیکھ کر یہ کہہ سکتا ہے۔ یا یمسکھن الا اللہ (61 : 97) ” اللہ کے سوا کس نے انہیں تھام رکھا ہے “۔ یہ کس طرح ، پرندوں کی فطرت ہی ایسے اصولوں پر وضع کی گئی ، اس کے ارد گرد فضائی حالات اللہ نے ایسے بنائے کہ اس میں وہ اڑ سکیں اور زمین پر کسی بھی وقت نہ گریں۔ ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (61 : 97) ” اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔ ایک قلب مومن اس کائنات کی عجائبات پر اسی طرح نظر دوڑاتا ہے جس طرح شاعر کسی چیز کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے اور اس کا شعور اور اس کا ضمیر ان مخلوقات کے حسن اور کمال کو محسوس کرتا ہے۔ پھر وہ اپنے احساس کی تعبیر نہایت ہی خوبصورتی سے کرتا ہے۔ ایمان کی شکل میں ، اللہ کی بندگی کی شکل میں اور اللہ کی ثنا اور تسبیح کی شکل میں۔ اہل ایمان میں سے اللہ نے جن لوگوں کو قادر الکلامی دی ہے ، وہ اللہ کی ان تخلیقات میں عجیب و غریب پہلو دیکھتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔ ایسے مومنین کی تخلیقات اس قدر گہری ہوتی ہیں کہ عام شاعر کی اس مقام تک رسائی ممکن نہیں ہوتی۔
Ayah 16:81

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

” اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا۔ اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لئے ایسے مکان پیدا کیے جنہیں تم سفر اور قیام ، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں۔ اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لئے سائے کا انتظام کیا ، پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گاہیں بنائیں ، اور تمہیں ایسے پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں۔ اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں۔ اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرمانبردار بنو

اب مضمون ، اللہ کی تخلیقات کے اسرار و رموز بیان کرتے ہوئے ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے۔ اللہ کی قدرت کے مزید نشانات اور اللہ کے انعامات کے کچھ مزید نمونے پیش کیے جاتے ہیں۔ لوگوں کے گھر اور ان کی مسرتیں ، گھروں کا ماحول سازوسامان اور پناہ گاہیں۔ گھر اور پرسکون گھر کس قدر عظیم نعمت ہے ، اس کی قدر وہ جانیں جو مہاجر ہیں ، جو گھروں سے نکال دئیے گئے ہیں اور مارے مارے پھر رہے ہیں۔ نہ ان کا گھر ہے اور نہ سکون ہے۔ یہاں گھروں اور سایوں کا ذکر غیب کے ذکر کے بعد آتا ہے۔ ربط یوں ہے کہ ایک سایہ بھی کسی چیز کو ڈھانپ لیتا ہے اور غیب بھی ان امور کو ڈھانپ لیتا ہے جو غیب میں ہوتے ہیں۔ دونوں میں ستر اور پوشیدگی ہے۔ گھروں کی تعبیر جائے سکون سے کرنے سے ایک حساس شخص ہی لطف اندوز ہوسکتا ہے ، غافل لوگ اس سے کما حقہ لطف نہیں لے سکتے۔ یہاں مناسب ہے کہ یہ بتا دیا جائے کہ گھر کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے ۔ قرآن کریم نے گھر کی تعبیر یوں کی ہے۔ واللہ جعل لکم من بیوتک سکنا (61 : 08) ” اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا ہے “۔ اسلام چاہتا ہے کہ ایک گھر نفسیاتی اطمینان ، شعوری ٹھہرائو اور جذباتی سکون کی جگہ ہو۔ یہ خوشی کی جگہ ہو ، انسان وہاں آکر خوش ہوں۔ اور اس میں انسان کے لئے مادی اور روحانی سکون کا انتظام ہو۔ اس میں جو لوگ رہتے ہوں وہ ایک دوسرے کے لئے باعث اطمینان اور خوشی ہوں ، اور ان میں سے ہر ایک شخص دوسرے کے لئے سامان سکون ہو۔ اسلام کسی بھی گھر کو نزاع ، جھگڑے ، بےاتفاقی اور مخاصمت کی جگہ بنانا نہیں چاہتا کیونکہ وہ اس کے نزدیک ٹھہرنے ، سکون ، امن اور اطمینان و سلامتی کی جگہ ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام گھر کے احترام کی ضمانت دیتا ہے تاکہ گھر کے امن و سکون اور سلامتی کی ضمانت دی جاسکے۔ مثلاً کسی شخص کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل ہو۔ کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے گھر میں بس گھس جائے۔ بغیر حق کے اور بغیر اجازت کے۔ اسی طرح کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ گھروالوں کی اجازت کے بغیر کسی بھی وجہ سے کسی کی پرائیویسی میں دخل انداز ہو ، نہ کسی کو گھر کے خلاف تجسس کی اجازت ہے اور نہ کسی کی غیبت کی اجازت ہے کیونکہ ان امور سے کسی بھی گھر کا امن و سکون اور خوشی اور اطمینان ختم سکتا ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے ایک گھر کو جائے سکون قرار دیا ہے۔ یہ منظر چونکہ گھر ، پناہ گاہ اور لباس سے متعلق تھا ، اس لئے یہاں جانوروں کے بھی اس پہلو کا ذکر کیا گیا ، جو ان مقاصد کے لئے مفید ہے یعنی مسکن و لباس کا پہلو۔ وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا تستخفونھا یوم ظعنکم و یوم اقامتکم و من اصوافھا واوبار ھا واشعار ھا اثاثا ومتاعا الی حین (61 : 08) ” اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لئے ایسے مکان پیدا کیے جنہیں تم سفر اور قیام ، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔ اس نے جانوروں کے صوف اور اون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں “۔ یہاں بھی جانوروں کے مفادات میں سے ضروریات کا ذکر کیا اور ان چیزوں کا ذکر بھی کیا جو حسن اور شوق کا سامان کرتی ہیں۔ متاع اور ثاث السیت میں یہی فرق ہے۔ متاع سے مراد فرش ، قالین اور دوسرا سامان آرائش ہے لیکن اس میں وہ سب چیزیں شامل ہیں جو تمتع کی تعریف میں آتی ہیں اور فرحت بخشش ہوتی ہیں۔ سکون اطمینان کی فضا میں اب انداز تعبیر لطیف ہوجاتا ہے۔ سایوں ، پناہ گاہوں ، پہاڑوں اور گرمی سردی اور جنگی پوشاکوں کی بات چلتی ہے۔ واللہ جعل لکم مما خلق ظللا وجعل لکم من الجبال اکناناو جعل لکم سرابیل تقیکم الحر وسرابیل تقیکم باسکم (61 : 18) ” اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لئے سائے کا انتطام کیا ، پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گاہیں بنائیں ، اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں۔ اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس میں جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں “۔ چھائوں میں انسان کے لئے سکون ہے اور چھائوں کے تصور میں بھی فرحت ہے۔ پہاڑی پناہ گاہوں میں انسان اطمینان اور امن محسوس کرتا ہے۔ پھر وہ پوشاکیں جو سردی ، گرمی میں اور جنگ کی حالت میں کام آتی ہیں انسان کی دلچسپی کا سامان ہیں اور انسان کی حفاظت کے لئے ضروری ہیں۔ پھر خوشی اور مسرت کا بھی ان میں سامان ہے اس لئے اس پر یہ نتیجہ سامنے آتا ہے۔ کذلک یتم نعمتہ علیکم لعلم تسلمون (61 : 18) ” اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرمانبردار بن جائو “۔ اسلام کا مفہوم ہی سکون ، سپردگی اور سلامتی ہے۔ اس طرح اس منظر کی تمام چیزوں کے درمیان معنوی ہم آہنگی پائی جاتی ہے جو قرآن کریم کے اسلوب کلام کا خاص انداز ہے۔ اب اگر وہ اسلام کو قبول کرتے ہیں تو بہتر ، اور اگر وہ منہ موڑتے ہیں اور بھاگتے ہیں تو رسول کا فریضہ تو صرف ابلاغ ہے۔ اگر یہ انکار پر تل گئے ہیں تو انکار کردیں لیکن جن نعمتوں کا ذکر ہوا ان کا تقاضا تو یہ ہے کہ وہ مان جائیں۔
Ayahs 16:82–83

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

اب اگر یہ لوگ منہ موڑتے ہیں تو اے نبی ﷺ تم پر صاف صاف پیغام حق پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ اللہ کے احسان کو پہنچانتے ہیں ، پھر اس کا انکار کرتے ہیں اور ان میں بیش تر لوگ ایسے ہیں جو حق ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں

اب وہ بات سامنے لائی جاتی ہے جس کا آغاز کلام میں ذکر ہوا تھا ، وہ یہ کہ جب قیامت آجائے گی تو کافر کس حالت میں دو چار ہوں گے۔
Ayah 16:84

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

انہیں کچھ ہوش بھی ہے کہ اس روز کیا بنے گا) جب کہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے ، پھر کافروں کو نہ حجتیں پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا ، نہ ان سے توبہ و استغفار ہی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

تشریح : یہ قیامت کا منظر ہے۔ انبیاء کھڑے ہیں اور وہ تمام واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان جو کشمکش ہوئی وہ اسکرین پر چل رہی ہوگی۔ کفار دنگ کھڑے ہوں گے۔ اب ان کو حجت بازی کی اجازت نہ ہوگی۔ سفارشیں لانے کے اجازت نہ ہوگی۔ ان سے یہ مطالبہ بھی نہ کیا جائے گا کہ یہ یہ کام کرکے رب کو راضی کرو کیونکہ اب تو توبہ کا دروازہ بند اور عمل کا میدان ختم ہے۔ اب تو مکافات عمل کا میدان ہے۔
Ayah 16:85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

ظالم لوگ جب ایک دفعہ عذاب دیکھ لیں گے تو اس کے بعد نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ انہیں ایک لمحہ بھر مہلت دی جائے گی۔

واذا را الذین ظلموا العذاب فلا یخفف عنھم ولا ھم ینظرون (61 : 58) ” ظالم لوگ جب ایک دفعہ عذاب دیکھ لیں گے تو اس کے بعد نہ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ انہیں ایک لمحہ بھر مہلت دی جائے گی “۔ ابمیدان حشر میں وہ لوگ نمودار ہوں گے جن کو یہ کفار و مشرکین بزعم خود خدا کا شریک سمجھتے تھے اور اللہ کے سوا ان کو خدا سمجھ کر ان کی بندگی کرتے تھے۔ تو اب مہر سکوت ٹوٹ جائے گی اور مشرکین دوڑ کر پکاریں گے۔
Ayah 16:86

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں شرک کیا تھا اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے ” اے پروردگار ، یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے “۔ اس پر ان کے وہ معبود انہیں صاف جواب دیں گے کہ ” تم جھوٹے ہو “

ربنا ھولاء شرکادنا الذین کنا ندعوا من دونک (61 : 68) ” اے پروردگار یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پکارا کرتے تھے “۔ اب تو وہ اقرار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ” اے ہمارے رب “۔ آج وہ نہیں کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے شرکاء ہیں بلکہ کہتے ہیں ” یہ ہمارے شرکاء ہیں “۔ لیکن وہ تو خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ اور اس عظیم تمہت اور الزام کو سن کو فوراً بول اٹھیں گے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ، تم بڑے جھوٹے ہو۔ فالقوا الیھم القول انکم الکذبون (61 : 68) ” وہ دور ہی سے ان کی طرف جواب پھینکیں گے ، بیشک تم تو بہت بڑے جھوٹے ہو “۔ اور یہ شرکاء اور صلحاء اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے نہایت ہی بندگی کی حالت میں۔
Ayah 16:87

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

(۔ اس وقت یہ سب اللہ کے آگے جھک جائیں گے اور ان کی وہ ساری افتراء پر دازیاں رفو چکر ہوجائیں گی جو یہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔

والقوا الی اللہ مومئذ السلم (61 : 78) ” اور یہ سب اللہ کے سامنے جھک جائیں گے “۔ اور مشرکین کے ہاتھ ان کی افتراء پردازیوں میں سے کچھ بھی نہ آئے گا۔ وہ کسی دلیل پر اعتماد نہ کرسکیں گے اور ان کی تمام صحت بازیاں کافور ہوجائیں گی۔ وضل عنھم ما کانو یفترون (61 : 68) ” اور ان کی وہ سب افتراء پردازیاں ختم ہوجائیں گی “۔ اب فیصلہ یہ صادر ہوتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ لی اور دوسروں کے لئے بھی باعث گمراہی بنے ، ان کا عذاب دوگنا ہوگا کیونکہ انہوں نے دوسروں کو بھی راہ راست سے روکا۔
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

” جن لوگوں نے خود کفر کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس فساد کے بدلے میں جو وہ دنیا میں برپا کرتے رہے

الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ زدنھم عذابا فوقا العذاب بما کانوا یفسدون (61 : 88) ” جن لوگوں نے خود کفر کی راہ اختیار کی اور دوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا ، انہیں ہم عذاب پر عذاب دیں گے۔ اس فساد کے بدلے جو دنیا میں وہ برپا کرتے تھے۔ بیشک کفر بذات خود ایک فساد ہے ، دوسرے کو کافر بنانا بہت بڑا فساد ہے۔ انہوں نے اپنے کفر کے جرم کا بھی ارتکاب کیا اور دوسروں کو بھی ہدایت سے روکا۔ اس لئے ان کا عذاب دگنا کردیا گیا۔ یہی ان کے جرم کا پورا بدلہ ہے۔ یہ معامہ تمام اقوام کا ہوگا لیکن رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی قوم کا معاملہ یوں ہوگا۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اے نبی انہیں اس دن سے خبر دار کردو) جب کہ ہم ہر امت میں خود اسی کے ۔۔ سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو اس کے مقابلہ میں شہادت دے گا ، اور ان لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لئے ہم تمہیں لائیں گے۔ اور (یہ اسی شہادت کی تیاری ہے کہ ) ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کردی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے سر تسلیم خم کردیا ہے

تشریح : مشرکین کا منظر نظروں کے سامنے ہے۔ بہت ہی سخت حالات ہیں۔ شرکاء ان لوگوں کی تکذیب کر رہے ہیں جو انہیں شریک سمجھ رہتے تھے اور وہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر رہے اور اپنے دنیاوی متبعین کے الزامات سے براءت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسے ہی حالات میں رسول اللہ ﷺ اور مشرکین مکہ اور منکرین قریش کے کیس کی بھی ایک جھلکی نظروں کے سامنے آتی ہے۔ صرف ایک جھلکی : وجتنابک شھیدا علی ھولاء (61 : 98) ” اور ان لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لئے ہم تمہیں لائیں گے “۔ اس کے بعد متصلاً یہ بات آتی ہے کہ اے رسول تم پر جو کتاب اتاری گئی ہے وہ ایک جامع کتاب ہے۔ ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شیئی وھدی ورحمہ و بشری للمسلمین (61 : 98) ” اور ہدایت و رحمت اور خوشخبری ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے سرتسلیم خم کردیا ہے “۔ لہٰذا جو شخص ہدایت و رحمت چاہتا ہے تو وہ قیام قیامت سے پہلے ہی اسلام قبول کرے ، کیونکہ اس دن پھر کافروں کو دوبارہ عمل کی نہ اجازت ہوگی اور نہ ان کو معذرت پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔ یوں قرآن مجید منظر کشی کے انداز میں اپنے مطالب بیان کرتا ہے خوبصورت ہم آہنگی کے ساتھ۔ درس نمبر 321 ایک نظر میں سابقہ درس میں اس آیت پر ختم ہوا تھا۔ ونزلنا علیک الکتب تبیانا لکل شئی وھدی ورحمتہ و بشری للمسلمین (61 : 98) ” اور اے نبی ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شے کا بیان ہے اور ہدایت ، رحمت اور خوشخبری ہے ، مسلمانوں کے لئے “۔ چناچہ اس درس میں اس کی بعض تعلیمات بیان کی گئی ہیں یعنی وہ کیا تعلیمات ہیں جو ہدایت رحمت ، اور بشارت ہیں۔ یہ کہ اس میں عدل ، احسان ، رشتہ داروں پر خرچ کا حکم ، فحاشی کی ممانعت ، گناہ اور حد سے تجاوز کی ممانعت ہے اور نیز اس میں وعدے کے وفا کرنے کا حکم ہے اور قسموں کے توڑنے کی ممانعت ہے۔ یہ وہ اہم اور بنیادی تعلیمات ہیں کہ اس کتاب میں ان پر زور دیا گیا ہے۔ اس سبق میں نقض عہد کو جرم قرار دیا گیا ہے ، اسی طرح قسمیں کھا کر لوگوں کو گمراہ کرنا اور ان کو دھوکہ دینے کو بھی بہت بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اور اس کے لئے عذاب عظیم کی شدید وعید ہے۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ صبر کرتے ہیں ان کے لئے خوشخبری ہے کہ ان کو ان کے اچھے اعمال کا صلہ ملے گا۔ اس کے بعد کتاب عظیم کے آداب تلاوت بیان ہوئے ہیں مثلاً یہ کہ تلاوت سے قبل شیطان رحیم سے اللہ کی پناہ مانگیں تاکہ یہ مردود مجلس تلاوت قرآن سے بھاگ جائے۔ نیز کتاب عظیم کے بارے میں مشرکین کی بعض خود ساختہ باتوں کا بھی ذکر ہے۔ مثلاً بعض مشرکین یہ کہتے تھے کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ خود باتیں بنا کر ناحق خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ بعض یہ کہتے تھے کہ ایک عجمی غلام ہے جو حضور ﷺ کو یہ باتیں بتاتا ہے۔ اس سبق کے آخر میں ان لوگوں کی سزا کا ذکر ہے جو ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرتے ہیں۔ نیز ایسے لوگوں کا بھی ذکر ہے جنہیں کفر پر مجبور کردیا جائے لیکن ان کا قلب ایمان سے مطمئن ہو۔ نیز ان برگزیدہ لوگوں کا ذکر ہے جن پر ایمان کی وجہ سے تشدد ہوا۔ اور انہوں نے ہجرت کی ، جہاد کیا اور صبر کیا۔ یہ سب باتیں اللہ کی طرف سے واضح ہدایات ہیں ، بہترین راہنمائی ہیں ۔ اللہ کی رحمت ہیں اور اہل ایمان کے لئے خوشخبری ہیں۔
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بےحیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔

قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد یہ ہے اس نظریہ کے مطابق ایک امت کو میدان میں لایا جائے ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جو ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔ ایک نیا جہاں پیدا کیا جائے اور ایک نیا نظام تشکیل دیا جائے۔ ایک ایسی عالمی دعوت اور تحریک برپا کی جائے جو کسی گروہ ، قبیلے اور کسی نسل کی طرفدار نہ ہو۔ اس دعوت میں اجتماعی رابطے اور تعلق کی بنیاد کسی عصبیت اور قومیت پر نہ ہو۔ چناچہ اس کتاب کی تعلیمات ان اصولوں پر مبنی ہیں جن کے اوپر سوسائٹی اور امت کی تشکیل ممکن ہے۔ ان تعلیمات اور اصولوں پر افراد اقوام اور امم کو پورا اطمینان حاصل ہو ، اور باہم معاملات و تعلقات ، وعدوں اور معاہدوں پر پورا بھروسہ ہو۔ اس کتاب کی تعلیمات میں سے پہلی تعلیم عدل سے متعلق ہے۔ ایسا عادالانہ نظام جس میں ایک فرد ، ایک جماعت ، ایک قوم اور اقوام سب کے حقوق محفوظ ہوں۔ یہ عدل کسی کی خواہش سے متاثر نہ ہو۔ محبت اور بغض سے متاثر نہ ہو۔ رشتہ داری اور اقربا پروری کا اس میں نام و نشان نہ ہو۔ امیر و غریب کے لئے یکساں ہو ، قوی اور ضعیب کے حقوق اس میں برابر ہوں۔ یہ عدل اپنی راہ میں سیدھا چلے اور اس میں سب کے لئے ایک ہی معیار اور ایک ہی پیمانہ ہو۔ اس عدل کے ساتھ ساتھ اس کتاب کی تعلیمات ایک دوسرے اہم اصول ، احسان پر مبنی ہیں۔ جہاں تک عدل کا تعلق ہے ، اس کی تلوار نہایت ہی تیز ، مضبوط اور بےلچک ہوتی ہے اور سیدھا کاٹتی چلی جاتی ہے۔ لیکن اسلامی تعلیمات نے عدل کے ساتھ ساتھ دلوں کو جیتنے کے لئے احسان کا دروازہ بھی کھلا رکھا ہے۔ یہ لازم نہیں کیا کہ بےلچک عدل کے مطابق اپنے حقوق بہرحال لئے جائیں ، اگر کوئی اپنے حقوق سے دست کش ہونا چاہے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے۔ اس سے دلوں کی دشمنی دور ہوجاتی ہے اس سے زخم مند مل ہوجاتے ہیں۔ نیز فضائل اخلاق اور کریمانہ طرز عمل کا اظہار ہوتا ہے۔ احسان کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے۔ ہر چھا کام احسان ہے۔ احسان کے حکم میں ہر عمل اور ہر معاملہ آتا ہے۔ انسان کا اپنے رب کے ساتھ تعلق ، انسان کا اپنے خاندان کے ساتھ تعلق ، انسان کا جماعت کے ساتھ تعلق اور انسان کا پوری انسانیت کے ساتھ تعلق۔ بعض مفسرین نے محض اس لئے کہ یہ آیت مکی ہے ، عدل کو عبادات واجبیہ اور احسان کو عبادات نفلی پر محمول کیا ہے کیونکہ مکہ میں اسلامی قوانین نازل نہ ہوئے تھے۔ لیکن عدل و احسان میں قانون کے علاوہ اخلاقی معاملات اور انفرادی طرز عمل بھی آتے ہیں اس لئے ان کو عبادات کے ساتھ مخصوص کرنا درست نہیں ہے۔ احسان کی ایک قسم رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور ان پر خرچ ہے اور اس کا خصوصی حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ اسلام میں اس کی بہت بڑی اہمیت اور عظمت ہے اور اس کی بہت بڑی تاکید ہے۔ اس میں پائے جانے والی بنیادی سوچ خاندان کی عصبیت نہیں ہے بلکہ اس سے غرض وغایت خاندانی نظام اور خاندانی نظام کے اوپر تعمیر کردہ اسلامی نظام تکافل اجتماعی ہے۔ اسلام نے اپنے اجتماعی نظام کا پہلا یونٹ خاندان کو قرار دیا ہے اور اس کے بعد وہ اسے بتدریج سوسائٹی تک عام کرتا ہے کیونکہ اجتماعی تکافل (Security) کے بارے میں اسلام کی اپنی سوچ ہے۔ وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی (61 : 09) ” اور بدی اور بےحیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے “۔ فحشاء ہر اس بات کو کہتے ہیں جو حد سے تجاوز کرے۔ یہ زیادہ تر اس تجاوز کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی کی ذاتی عزت کے خلاف ہو کیونکہ جنسی بےراہ روی بھی ایک ایسا فعل ہے جو اپنی حدود سے آگے بڑھ کر کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی زیادتی اور حدود سے تجاوز پایا جاتا ہے۔ بالعموم یہ لفظ جنسی بےراہ روی کے ساتھ مخصوص ہوگیا ہے۔ المنکر وہ فعل ہے جس کا فطرت سلیمہ انکار کرے اور شریعت بھی اسے اسی وجہ سے منکر سمجھتی ہے کیونکہ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام ایک فطری نظام ہے۔ شرعیت اور قانون تو اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔ اور فطرت انسانی بسا اوقات بگڑ جاتی ہے۔ فطرت کے بگاڑ کے وقت پھر شریعت معیار بن جاتی ہے۔ البغی سے مراد ظلم اور لوگوں کے حقوق پر دست درازی ہے۔ دنیا میں کوئی معاشرہ بھی فحاشی ، منکرات اور ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا۔ ایسا معاشرہ کبھی بھی قائم نہیں رہ سکتا جس میں فحاشی وسیع پیمانے پر رائج ہو ، نیز ایسی سوسائٹی بھی کبھی پنپ نہیں سکتی ، جس میں منکرات نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہو۔ ایسا کوئی ملکی نظام قائم نہیں رہ سکتا جس کی اساس ظلم پر ہو۔ کوئی بھی معاشرہ ایسے اجتماعی نظام کو بہت ہی کم عرصہ تک برداشت کرتا ہے ، جلد ہی اس نظام کے خلاف لوگ احتجاج شروع کردیتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کوئی ظالمانہ اور جابرانہ معاشرہ پر قوت اور پر شوکت ہو۔ اگرچہ ایسے اجتماعی نظام کے بااختیار لوگ ایسے نظام کی حمایت اور بچائو کے لئے لا انتہاء وسائل استعمال کریں۔ انسانی تاریخ کا اگر تفصیلی مطالعہ کیا جائے تو یہ تاریخ در حقیقت فحاشی ، منکرات اور ظلم کے خلاف مسلسل احتجاج سے عبارت ہے لہٰذا اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ تاریخ میں کچھ عرصے تک کوئی اجتماعی نظام فحاشی ، منکرات اور ظلم پر قائم رہا ہے۔ ایسے نظاموں کے خلاف چونکہ ہمیشہ احتجاج اور رد عمل ہوتا رہا ہے اس لئے تاریخ سے یہی سبق ملتا ہے۔ ایسے نظام میں اسلامی سوسائٹی کے جسم کے لئے فارن باڈی رہے ہیں اور انسانی سوسائٹی نے ہمیشہ ایسے نظاموں کو جھاڑ کر پھینک دیا ہے جس طرح ہر جسم اپنے اندر فارن باڈی کے آنے کے خلاف رد عمل کرتا ہے۔ چناچہ اللہ کی طرف سے عدل و احسان کا حکم دینا اور فحاشی ، منکرات اور ظلم سے منع کرنا فطرت سلیمہ کے عین مطابق ہے۔ اسلام اس فطری رد عمل کو اسلامی جدوجہد قرار دے کر اسے قوت عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حکم پر سبق آموز تبصرہ یوں آتا ہے۔ یعظکم لعلکم تذکرن (61 : 09) ” وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو “۔ یہ نصیحت اس لئے ہے کہ تم اپنی اصل فطرت کی طرف رجوع کرو اور اسے یاد کرو “۔
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو ، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو۔ اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے۔

واوفوا بعھد اللہ اذا عھدتم ولا تنقضوا الایمان بعد تو کیدھا وقد جعلتم اللہ علیکم کفیلا ان اللہ یعلم یا تفعلون (61 : 19) ” اللہ کے عہد کو پورا کرو جبکہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو ، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو۔ جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہیں۔ اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے “۔ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد میں مسلمانوں کی طرف سے نبی ﷺ کے ساتھ کیا ہوا عہد بھی شامل ہے ، اور وہ عہد بھی شامل ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ نیز کسی بھی انسانی سوسائٹی میں تعلقات کا قیام صرف اسی وجہ سے ہے کہ لوگ عہد کا احترام کریں۔ اس کے بغیر تو کوئی معاشرہ قائم ہی نہیں رہ سکتا۔ نہ انسانیت قائم رہ سکتی ہے۔ یہ آیت لوگوں کو اس بات پر ملامت کرتی ہے کہ وہ عہد کو پختہ باندھنے کے بعد اسے توڑیں ، حالانکہ انہوں نے اس عہد کا گواہ اور ضامن صرف اللہ کو ٹھہرایا ہے اور اللہ کے نام سے یہ عہد ہوا ، ذرا ہلکی سی تنبیہ بھی۔ ان اللہ یعلم ما تفعلون (61 : 19) ” اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے “۔ اسلام نے وفائے عہد میں بہت ہی سختی کی ہے۔ اس میں کسی بھی وقت چشم پوشی کی اجازت نہیں دی۔ اس لئے کہ وفائے عہد وہ بنیاد ہے جس پر پورا اجتماعی نظام قائم ہوتا ہے ، اس کے سوا اجتماعی نظام منہدم ہوجاتا ہے۔ اسلامی نصوص قرآن وسنت نے صرف اسی پر اکتفاء نہیں کیا کہ وفائے عہد کا حکم دے دیا جائے اور نقص عہد کے خلاف محض و عید کردی جائے بلکہ اس کی بار بار تاکید کی ہے ، اور نقص عہد کی قباحتیں بیان کی ہیں۔ ان تمام اسباب وجوہات کو بھی دور کرنے کی کوشش کی ہے جو کسی وقت نقص عہد کا باعث بنیں۔