Ayah 16:125یہ ہیں دعوت اسلامی کی بنیادیں اور یہ ہیں تحریک اسلام کے کام کے اصول و قواعد اور یہ طریقہ کار خود نبی کریم ﷺ کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ نیز آپ ﷺ کے بعد آنے والے تمام اور داعیان حق کے لئے یہی دستور العمل ہے اور یہی منہاج دعوت ہے۔
سب سے پہلے یہ کہ یہ دعوت الی اللہ ہے۔ اللہ کے راستے اور اللہ کے نظام کی طرف دعوت کسی شخصیت یا کسی قوم کی طرف نہیں ہے۔ اس میں داعی کا کردار صرف یہ ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کر رہا ہے۔ اس لئے دعوت دینا اس کا کوئی احسان نہیں ہے کہ وہ جتلاتا پھرے نہ دعوت اسلامی پر احسان ہے اور ان لوگوں پر احسان ہے جو داعی کے پیروکار ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس کا اجر بھی اللہ پر ہے۔
دعوت حکمت اور حسن تدبیر کے ساتھ جاری رہنی چاہیے۔ مخاطب کے ظروف و احوال کو اس میں مد نظر رکھنا چاہیے اور یہ متعین کرنا چاہیے کہ بیک وقت مخاطب کو کس قدر دعوت دینا چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ لوگوں کو اس قدر احکام اور نواہی مختصر وقت میں سنادئیے جائیں اور وہ ذہنا ان کے لئے تیار نہ ہوں۔ یوں وہ اسے بوجھ اور ناقابل برداشت بوجھ سمجھ لیں۔ طریقہ دعوت مناسب ہو۔ ظروف و احوال کے مطابق ہو اور اس میں تبدیلی ہوتی رہے۔ داعی جوش و خروش میں آکر سختی نہ کرے نہ حکمت سے زیادہ جوش و غیرت پیدا کرے۔ ہر معاملے میں اعتدال سے کام لے۔
اس کا اندازوعظ نرم اور نہایت ہی دلکش ہو۔ بات اس اندا میں ہو کہ دل و دماغ میں بیٹھ جائے۔ صرف کو سنے اور شرمندہ کرنے کے اندز ہی کو نہ اپنائیں۔ نیز داعی لوگوں کی ان غلطیوں کو نہ کھولے جو جہالت اور نادانی کی وجہ سے کسی سے سر زد ہوجائیں۔ بعض اوقات ایسی غلطیاں نیک نیتی سے ہوجاتی ہیں۔ وعظم میں نرمی سے بعض اوقات نہایت ہی سرکش اور اخلاق سے گرے ہوئے لوگ بھی ہدایت پا لیتے ہیں۔ پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر ، لیکن زجر و توجیح اور لعنت و ملامت کا اثر بعض اوقات الٹا ہوتا ہے۔
ان کے ساتھ اگر مجادلہ کا موقع پیش آئے تو وہ بھی احسن طریق سے ہو۔ یہ مناسب نہ ہوگا کہ مخالف پر داعی حملہ آور ہوجائے اور اس کو ذلیل کرے یا اس کی قباحتیں بیان کرے۔ دعت میں مباحثے کا انداز یہ ہو کہ مخاطب کو یقین ہوجائے کہ دعوت دینے والا محض غلبہ اور کلام میں برتری کا حصول نہیں چاہتا بلکہ داعی محض ایک حقیقت ذہن نشین کرانا چاہتا ہے۔ ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ عناد کا مادہ ہوتا ہے اور ہر شخص کی عزت نفس ہوتی ہے۔ وہ آخر دم تک اپنی رائے کی مدافعت چاہتا ہے تاکہ ہر ہزیمت اور شکست سے بچے۔ اعتقاد و نظریہ دراصل رائے ہوتی ہے اور لوگ رائے کی قدر قیمت اس قدر بڑھا دیتے ہیں کہ اگر کسی کو رائے بدلنے کا کہا جائے تو سمھتے ہیں کہ ان کے رعب ، ان کے احترام اور ان کی شخصیت میں فرق آجائے گا۔ اگر داعی اچھے انداز میں مباحثہ اور مکالمے کرے تو اس سے کسی شخص کے ذاتی احساس کو ٹھیس نہ پہنچے گی اور مخاطب یہ سمجھے گا کہ اس کی عزت نفس ، اس کی شخصیت اور عزت و کرامت محفوظ ہے اور داعی صرف دعوت پہنچانا چاہتا ہے۔ محض اللہ کے لئے اسے ایک اچھی راہ کی طرف بلا رہا ہے۔ اس کام سے اس کی کوئی ذاتی غرض وابستہ نہیں ہے ، نہ وہ اپنی فتح اور مخاطب کی شکست چاہتا ہے۔
داعی کے زیادہ جوش اور جذبے کو ذرا کم کرنے کی خاطر نص قرآنی اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ دراصل اللہ ہی زیادہ علیم ہے وہی جانتا ہے کہ کون گمراہ ہے اور کون ہدایت پانے والا ہے۔ لہٰذا بحث و مباحثے کے اندر بہت زیادہ جوش اور جدال کی ضرورت نہیں ہے بلکہ شستہ انداز میں دعوت دے دی جائے اور اس کے بعد اس کے نتائج اللہ پر چھوڑ دئیے جائیں۔
جب تک دعوت اسلامی میں کارکردگی صرف لسانی دعوت اور دلیل کے ساتھ بحث و مباحثے تک محدود ہے ، دعوت اسلامی کا اسلامی دستور العمل یہی ہے۔ لیکن اگر مخالف دست درازی پر اتر آئے تو پھر یہ پالیسی نہ رہے گی کیونکہ دست درازی ایک محسوس اور مادی فعل ہے۔ سچائی کی عزت اور سچائی کے مقام کو بحال رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ باطل کی طرف سے دست درازی کا مناسب جواب دیا جائے۔ یہ نہ ہو کہ باطل ماحول پر پوری طرح غالب آجائے۔ ہاں باطل کی دست درازی کا جواب بھی حدودو قیود کے اندر ہو۔ یہ نہ ہو کہ مخالف کو ذلیل کرکے عبرت آموز سزا دی جائے ۔ کیونکہ اسلام ایک عادلانہ دین ہے۔ یہ امن و سلامتی کو بہت پسند کرتا ہے۔ اسلام صرف اپنی ذات اور اہل اسلام کا دفاع چاہتا ہے۔ وہ کسی صورت میں زیادتی اور دست درازی کا قائل نہیں ہے۔
Ayahs 16:126–127وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبئتم بہ (61 : 621) ” اگر تم بدلہ لو تو اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی “۔ یہ دعوت اسلامی کے طریقہ کار سے باہر کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے اندر داخل ہے۔ دعوت اسلامی کا دفاع کرنا اور اس معاملے میں اعتدال کا رویہ اپنانا ، یہ تحریک اسلامی کے وقار اور عزت کا باعث ہوگا۔ لوگوں کے دلوں میں یہ کوئی بےوقعت دعوت نہ ہوگی۔ کوئی ایسی دعوت جس کا وقار نہ ہو ، لوگ اسے ہرگز قبول نہیں کرتے۔ نہ لوگوں کو یہ یقین آتا ہے کہ یہ دعوت دین ہے۔ نیز اللہ کا یہ منشا نہیں ہے کہ وہ دعوت اسلامی کو یوں بےوقار اور لاچار چھوڑ دے جو اپنے عزت و وقار کا دفاع نہ کرسکتی ہو۔ اس لئے اہل ایمان جب تک کہ وہ اللہ کے دین کے داعی ہوں ، ذلت ہرگز برداشت نہیں کرسکتے۔ نیز داعی کا منصب یہ ہے کہ وہ اس کرہ ارض پر سچائی کا امین ہے۔ اس نے لوگوں کے درمیان عدل و انصاف قائم کرنا ہے ، اور اس نے ہی انسانیت کی قیادت راہ راست کی طرف کرنی ہے۔ وہ یہ کام ہرگز نہیں کرسکتے اگر ان کو سزا دی جائے اور وہ بدلہ نہ لے سکیں اور وہ دست درازی کرنے والے کی مناسب سرزنش نہ کرسکیں۔
اس سلسلے میں مناسب جواب اور سرزنش کا اصول ، اصول قصاص ہوگا۔ قرآن کا اصل منشا تو یہ ہے کہ انسان عفو و درگزر سے کام لے۔ لیکن عفو و درگزر اس وقت ہوتا ہے جب انسان انتقام اور بدلہ لینے پر قدرت رکھتا ہو اور ایسے حالات میں عفو و درگزر کا بہت ہی اچھا اثر ہوتا ہے اور دعوت کو بہت فائدہ بھی ہوتا ہے۔ اگر بعض افراد پر دست درازی ہو لیکن دعوت کو فائدہ ہو تو اشخاص پر تعدی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لیکن اگر عفو و درگزر سے دعوت الیٰ اللہ کی توہین ہوتی ہو اور اس کے وقار پر حرف آتا ہو تو اس صورت میں قصاص کا اصول ہی بہتر ہے۔ چونکہ صبر اور درگزر کرنے سے داعی اپنے جذبات اور جذبہ انتقام پر کنٹرول کرنا سیکھتا ہے اس لئے قرآن کریم اس فعل اور اس کے اجر کو اللہ اور آخرت سے وابستہ کرتا ہے۔
ولئن صبرتم لھو خیر للصبرین (621) واصبر وما صبرک انا باللہ (721) (61 : 621۔ 721) ” لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے اور صبر کرو ، تمہارا صبر اللہ ہی کے لئے ہے “۔ یہ اللہ ہی ہے جو صبر اور ضبط نفس کی توفیق دیتا ہے اور اس میں انسان کا مددگار ہوتا ہے اور یہ جذبہ للبیت ہی ہے جو انسان کو ذاتی انتقام اور قصاص اور بدلہ لینے کے مقابلے میں صبر پر آمادہ کرتا ہے۔
قرآن کریم نبی ﷺ کے لئے نصیحت کے انداز میں یہ اصول وضع کر رہا ہے اور آپ کے ہر دعوت دین دینے والے کے لئے یہی ضابطہ عمل ہے کہ اگر لوگ ہدایت کی راہ پر نہیں آتے تو وہ پریشان نہ ہو۔ اس کا فرض وہی ہے جو وہ ادا کر رہا ہے۔ ہدایت و ضلالت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ ہدایت و ضلالت سنت الہٰیہ کے مطابق ہے اور سنت الہٰیہ وہ استعداد ہے جو ہدایت و ضلالت کے لئے اللہ نے نفوس انسانیہ کے اندر ودیعت کردی ہے۔ نیز یہ کہ مخالفین کی مکاریوں کی وجہ سے داعی دل تنگ نہ ہو۔ کیونکہ وہ تو داعی ہے۔ اللہ اس کا محافظ ہے۔ وہی مخالفین کی مکاریوں اور ریشہ دوانیوں کا جواب دے گا۔ اللہ کسی داعی کو اس کے مخالفین کے حوالے نہیں کرتا بشرطیکہ وہ دعوت میں مخلص ہے ، اللہ کے لئے کام کر رہا ہے اور اس کے پیش نظر کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔
یہ جو اس کو اذیت دی جا رہی ہے یہ اس کے صبر کا امتحان ہے۔ اللہ کی نصرت آنے میں دیر اس لئے ہو رہی ہے کہ اللہ پر اس کے بھروسے اور یقین کو آزمایا جارہا ہے لیکن اچھا انجام یقینی ہے اور فتح اس کے قدم چومنے سے والی ہے۔
Ayah 16:128ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون (61 : 821) ” بیشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں اور احسان پر عمل کرتے ہیں “۔ جس کے ساتھ اللہ ہو ، تو اسے کوئی ڈر نہیں ہے۔ جو چاہے اس کے خلاف سازش کرے اور اس کے خلاف تدابیر کرے ، اللہ بہرحال اپنے نیک بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا۔
یہ ہے دعوت اسلامی کا دستور العمل اسے خود باری تعالیٰ نے وضع کیا ہے۔ اگر داعی اس پر چلے تو کامیابی یقینی ہے۔ یہ اللہ کا فرمان ہے اور اللہ سے زیادہ سچی بات کون کرسکتا ہے۔