Ayahs 16:30–32آیت نمبر 30 تا 32
متقین اس بات کو سمجھتے ہیں کہ دعوت اسلامی کا بنیادی عنصر خیر ہے۔ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے ، جو امرونہی اور ہدایت و قانون پر مشتمل ہے ، اس کی روح انسان کی بھلائی ہے ۔ یہ لوگ پوری داستان کو ایک لفظ کے کوزے میں بند کردیتے ہیں۔ ان سے جب پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے رب نے کیا نازل کیا ہے تو کہتے ہیں (خیرا) اور اس کے بعد وہ اس خیر کی تشریح اپنے علم و فضل کے مطابق کرتے ہیں۔
للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ (16 : 30) “ اس طرح کے نیکو کاروں کے لئے اس دنیا میں بھلائی ہے ”۔ بہترین زندگی ، بہترین سازو سامان اور بہترین مقام و مرتبہ۔
ولدار الاخرۃ خیر ( 16 : 30) “ اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے لئے بہتر ہے ”۔ اس دنیا کی بہتری سے بھی اس کی بہتری برتر ہے۔
ولنعم دار المتقین (16 : 30) “ بڑا چھا گھر ہے متقیوں کا ”۔ یہ تو تھی اجمالی بات۔ اب اس اجمال کی تفصیلات یہ ہیں :۔
جنت عدن (16 : 31) “ دائمی قیام کی جنتیں ”۔ یہ ان کی اقامت گاہیں ہوں گی۔
تجری من تحتھا الانھر (16 : 31) “ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ”۔ بہت سہولتیں ہوں گی۔
لھم فیھا ما یشاؤن ( 16 : 31) “ اور سب کچھ وہاں عین ان کی خواہش کے مطابق ہوگا ”۔ وہاں نہ کسی چیز سے محرومیت ہوگی اور نہ محنت ہوگی نہ رزق محدود ہوگا جس طرح اس دنیا میں ہے۔
کذلک یجزی اللہ المتقین (16 : 31) “ اس طرح جزا دیتا ہے اللہ متقیوں کو ”۔
اب متقین کو بھی سیاق کلام ایک قدم پیچھے لے کر چلتا ہے۔ جس طرح اس سے قبل مستکبرین کو پیچھے کی طرف حالت نزع میں لے جایا گیا تھا ۔ کیا دیکھتے ہیں ، ان کی حالت نہایت ہی پرسکون ہے۔
الذین تتوفھم الملئکۃ صبیین (16 : 32) “ وہ لوگ جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں ، ملائکہ قبض کرتے ہیں ”۔ ان کے نفوس پاکیزہ ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ سے ملنے والے ہوتے ہیں۔ وہ سکرات الموت اور مشکلات نزع روح سے محفوظ ہوتے ہیں۔
یقولون سلم علیکم (16 : 32) “ فرشتے کہتے کہ سلام ہو تم پر ”۔ یہ سلام ان کو اطمینان دلانے کے لئے اور مرحبا اور خوش آمدید کہنے کے لئے ہوگا۔
ادخلوا اجنۃ بما کنتم تعملون (16 : 32) “ جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے ”۔ گویا ان کو جنت کی خوشخبری دے دی جاتی ہے ، حالانکہ وہ ابھی تک آخرت کے دروازے پر ہی ہیں۔ یہ پوری پوری جزاء ہے ان کے اعمال کے بدلے۔
٭٭٭
موت کا منظر اور بعث بعد موت کا منظر فضا پر سایہ فگن ہے کہ اسکرین پر ایک سوال آتا ہے۔ یہ سوال اس فضا میں مشرکین قریش سے کیا جاتا ہے کہ وہ اب کسی چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ آیا وہ فرشتوں کا انتظار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ آئیں اور مذکورہ بالا طریقے پر ان کی روح قبض کرلیں یا وہ اس بات کا انتظار کرنا چاہتے کہ اللہ قیامت برپا کر دے کیونکہ ان دونوں مراحل سے ان کو بہرحال گزرنا ہے۔ موت کے وقت بھی یہی منظر ہوگا اور بعث بعد الموت کے وقت وہی سزا ہوگی ، کیا ان دونوں مناظر میں ان کے لئے کوئی عبرت و نصیحت کا مقام نہیں ہے ؟
Ayahs 16:33–34آیت نمبر 33 تا 34
لوگ بھی عجیب ہیں ، وہ دیکھتے ہیں کہ ایک راستے پر ان کے پیش رو چلے اور وہ عذاب الٰہی سے دوچار ہوئے ، تباہی و بربادی ان کے حصے میں آئی ، پھر بھی وہ اسی راہ پر چلتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ ان لوگوں کا جو حشر ہوا وہ ان کا بھی ہو سکتا ہے۔ یہ سوچتے نہیں کہ سنت ۔۔۔ ایک ہے اور اس کے نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہی نکلتے ہیں۔ یہ کہ مکافات عمل ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے ، یہ کہ قانون قدرت اور سنن الٰہیہ اٹل ہیں اور وہ کسی سے رو رعایت نہیں کرتیں ، نہ ان میں کسی کے لئے کوئی تخلف ہو سکتا ہے۔
وما ظلمھم اللہ ولکن کانوا انفسھم یظلمون (16 : 33) “ پھر جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ان پر اللہ کا ظلم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوں نے خود اپنے اوپر کیا ”۔ اللہ نے تو ان کو تدبر ، تفکر اور اختیار تمیزی کی آزادی دی تھی ، ان پر انبیاء کے ذریعہ آفاقی دلائل اور ان کے نفوس کے اندر پائے جانے والے شواہد دکھائے تھے ، ان کو برے انجام سے ڈرایا تھا ، ان کو عمل کے لئے آزاد چھوڑ دیا تھا کہ اللہ کی سنت کے مطابق جو چاہیں روش اختیار کریں۔ چناچہ ان پر ظلم و زیادتی ان کے برے اعمال نے کی کیونکہ جن نتائج سے وہ دو چار ہوئے وہ ان کے اعمال کے طبیعی نتائج تھے۔
فاصابھم سیات ۔۔۔۔۔ بہ یستھزؤن ( 16 : 34) “ پس ان کے کرتوتوں کی خرابیاں آخر کار ان کی دامن گیر ہوگئیں اور وہی چیز ان پر مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ”۔ اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے اعمال سے باہر کوئی سزا نہ ہوگی۔ سزا ان کے اعمال کا طبیعی نتیجہ ہے۔ اور ان کے ذاتی اعمال کے نتائج ہیں جو یہ بھگت رہے ہیں۔ وہ جو اعمال کر رہے ہیں ان کے مطابق وہ انسانیت کے نچلے درجے تک گر جاتے ہیں لہٰذا وہ توہین آمیز درجے کے عذاب ہی کے مستحق ہوں گے۔
Ayahs 16:35–36اب مشرکین کے شرکیہ نظریات و افعال پر ان کی جانب سے پیش کردہ نئی دلیل ۔
آیت نمبر 35 تا 36
ان لوگوں کی اس نئی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے شرک ، بتوں کی بندگی اور اپنے آباؤ اجداد کی طرف سے شرک اور بتوں کی بندگی اور بعض حلال چیزوں کو حرام کرنے کے فعل کو اللہ کے ارادے اور مشیت کی طرف موڑتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا اور اس کا ارادہ نہ ہوتا تو نہ ہم یہ خلاف شریعت کام کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو یہ سب کام کب ہوتے ؟
دراصل ان لوگوں نے مشیت کے مفہوم کو سمجھا ہی نہیں۔ یہ لوگ انسان سے انسان کی دو اہم امتیازی خصوصیت چھین لینا چاہتے ہیں جو اللہ نے انسان کو بخشی ہے۔
اللہ اپنے بندوں سے یہ نہیں چاہتے کہ وہ شرک کریں ، نہ اللہ کی یہ رضا ہے کہ اللہ کی حلال کردہ طیبات کو ناحق حرام کردیا جائے۔ اللہ کی رضا تو تمام قوانین شریعت اور تمام نبیوں کی ہدایات میں ثبت شدہ ہے۔ تمام رسولوں نے اس کی تبلیغ کی ہے ، اس کے لئے جدوجہد کی ہے اور انہوں نے پوری طرح فریضہ دعوت دین ادا کیا ہے۔
ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ الطاغوت (16 : 36) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبر دار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ پس یہ ہے اللہ کا حکم اور یہ ہے اس کا ارادہ اپنی مخلوق کے بارے میں۔ اللہ بہرحال لوگوں کو ایسے کاموں سے نہیں روکتا جن کے بارے میں وہ ازروئے تخلیق رکنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ نہ اللہ نے لوگوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اللہ کی مخالفت کریں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب لوگ اللہ کے احکام کی مخالفت کرتے ہیں تو اللہ ان کو پکڑتا ہے اور سزا دیتا ہے۔
فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین (16 : 36) ” پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا “۔ اللہ کی مشیت کا تقاضا یوں ہوا کہ وہ انسان کو ہدایت و ضلالت کی استعداد کے ساتھ پیدا کرے اور انسان کو یہ اختیار ہو کہ وہ آزادانہ طور پر جو راہ چاہے اختیار کرے۔ پھر اللہ نے انسان کو عقل عطا کی تا کہ وہ عقل کو کام میں لا کر ان دونوں راستوں میں سے کوئی ایک راہ اپنے لئے منتخب کرے ، خصوصاً عقل کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ایسے دلائل و شواہد بھی رکھے ہیں جو انسان کی آنکھ ، کان اور عقل و شعور اور دل و دماغ کو دعوت غوروفکر دے رہے ہیں ، اور وہ ان دلائل و شواہد کو رات دن دیکھ رہا ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر اکتفاء نہ کیا کہ انسان صرف عقل و شعور کے بل بوتے پر ہی اپنے لیے صحیح راہ کا انتخاب کرے۔ اللہ نے ہر دور اور ہر امت کے لئے ایک رسول بھی بھیجا تا کہ اگر انسان کی عقل کے لئے کسی مشکل معاملے کا فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے تو رسول ایک شریعت کی صورت میں ایک معیار ، نیک و بد بھی مفصل طور پر انسانوں کے سامنے پیش کردے تا کہ انسان کی ذاتی خواہشات اور اس کے میلانات اسے گمراہ نہ کرسکیں۔ پھر اللہ نے ان رسولوں کو قہارو جبار نہیں بنایا کہ لوگوں کی گردنیں موڑ کر ان کو راہ ایمان پر ڈال دیں۔ ان کو بھی صرف مبلغ بنایا کہ وہ لوگوں کو صحیح راستے کی طرف تبلیغ و تلقین کے ذریعے موڑیں ، وہ ان کو بتائیں کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو۔ نہ بتوں ، نہ اپنی ہوا وہوس کی اور نہ کسی بادشاہ کی۔
ولقد بعثنا ۔۔۔۔۔۔ واجتنبوا الطاغوت (16 : 36) ” ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعے خبردار کردیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو “۔ چناچہ ایک فریق نے اس دعوت کو قبول کرلیا۔
فمنھم من ھدی اللہ (16 : 36) ” اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی “۔ اور بعض نے گمراہی اختیار کی راہ لی۔
ومنھم من حقت علیہ الضللۃ (16 : 36) ” اور کسی پر ضلالت مسلط ہوگئی “۔ یہ دونوں فریق اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر ہی رہے۔ ان میں سے کسی فریق کو بھی اللہ نے ہدایت یا ضلالت پر مجبور نہیں کیا ، اللہ نے ان کے لئے یہ راستہ وضع کیا کہ ان میں سے ہر فریق اپنے آزادانہ ارادے اور آزادانہ طرز عمل سے جو راہ چاہے اختیار کرے جبکہ اللہ نے ان کے لئے نشانات راہ اور علامات حق اس کائنات میں بھی اور ان کے نفوس میں بھی ودیعت کر دئیے۔
اس طرح قرآن کریم اس تفصیل سے اس وہم کا قلع قمع کردیتا ہے جس کی طرف مشرکین نے اپنے استدلال میں اشارہ کیا تھا۔ آج ہمارے دور میں بھی بہت سے نافرماں اور سرکش ایسا ہی استدلال کرتے ہیں حالانکہ اس سلسلے میں اسلامی عقائد و نظریات بالکل واضح ہیں۔ یوں کہ اللہ اپنے بندوں کو بھلائی کا حکم دیتا ہے ، برائی سے منع کرتا ہے ، برائی کرنے والوں کو کبھی کبھی اس دنیا میں بھی سزا دے دیتا ہے اور یہ سزا ایسی واضح ہوتی ہے جس سے اللہ کا غضب بالکل عیاں ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے بعد یہ استدلال کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ کوئی یہ کہے کہ اللہ کا ارادہ ہمیں برائیوں پر مجبور کرتا ہے ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو واضح اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی راستہ اختیار کریں اور یہ اختیار دینا ہی اللہ کا ارادہ ہے۔ اس معنی میں ان سے جو اچھائی یا بھلائی یا شر اور معصیت صادر ہوتی ہے ، وہ اس مفہوم میں اللہ کی مشیت اور ارادے کے مطابق ہوتی ہے ، جیسا کہ ہم نے واضح کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ آخر میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے ہدایت وضلالت کے بارے میں سنت الٰہیہ بتائی جاتی ہے۔
Ayah 16:37آیت نمبر 37
ہدایت و ضلالت کا مدار اس پر نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس پر زیادہ حریص ہیں یا نہیں ہیں کیونکہ رسول کا کام تو صرف ابلاغ ہے۔ رہی ہدایت و ضلالت تو وہ سنت الٰہیہ کے مطابق ملتی ہے اور یہ سنت ایسی ہے کہ اس کے نتائج کو روکا نہیں جاسکتا۔ جس کو اللہ گمراہ کرتا ہے تو وہ اسے سنت الٰہیہ کے مطابق گمراہ کرتا ہے۔ جو شخص سنت الٰہیہ کے مطابق گمراہ ہوجائے اسے اللہ ہدایت نہیں دیتا کیونکہ سنت الٰہیہ اپنے نتائج ظاہر کرتی رہتی ہے۔ یہ سنت دائرہ مشیت الٰہیہ کے اندر ہے اور واللہ فعال لما یشاء ” اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے “۔ وما لھم من نصرین (16 : 37) ” ان کے لئے کوئی مدد گار نہ ہوگا “۔ یعنی اللہ کی مشیت کے مقابلے میں ۔
Ayahs 16:38–40اب منکرین اور مستکبرین کی تیسری کٹ حجتی :۔
آیت نمبر 38 تا 40
جب سے اللہ نے اپنے رسول بھیجے ہیں اور انہوں نے بعث بعد موت سے ڈرایا ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شروع ہوا تو اکثر لوگ بعث بعد الموت کے عقیدے کے بارے میں خلجان میں مبتلا رہے ہیں۔ اہل قریش بھی اللہ کے نام کی سخت سے سخت قسمیں کھا کر یہ کہتے تھے کہ اللہ مرنے کے بعد کسی کو دوبارہ زندہ نہ کرے گا۔ یہ لوگ اللہ کے وجود کے تو قائل تھے لیکن اس بات کے قائل نہ تھے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو قبروں سے اپنی اصلی حالت میں دوبارہ اٹھائے گا۔ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ کام تو بہت ہی مشکل ہے کہ جب انسان گل سڑ کر ذرے ذرے ہوجائے تو پھر کس طرح جمع ہوگا۔
لیکن ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ اللہ نے پہلی بار کس طرح ان ذرات کو حیات بخشی۔ یہ لوگ قدرت الٰہیہ کو بھی اچھی طرح نہ سمجھ سکے اور خدا کی قدرت کو انسانی قدرت پر قیاس کیا۔ اللہ کے لئے کسی چیز کا ایجاد کرنا کچھ ممکن نہیں ہے۔ اللہ جب چاہتا ہے تو کسی چیز کو کہتا ہے کہ ہوجا ، پھر وہ ہوجاتی ہے۔
نیز انہوں نے یہ بھی نہ سوچا سکہ بعث بعد الموت کی حکمت کیا ہے۔ بیشمار امور اس جہان میں ایسے ہیں جو اپنے قدرتی انجام تک نہیں پہنچتے۔ اس جہان میں حق و باطل کے بارے میں لوگوں کے درمیان سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہدایت و ضلالت کے بارے میں لوگوں کے تصورات مختلف ہیں۔ خیروشر کا معیار مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان ان امور کا فیصلہ اس جہان میں ہی نہیں چکاتا کیونکہ مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگوں کو اس جہاں میں مہلت و امتیاز دیا جائے اور یہاں ہی سب کو جزاء و سزا نہ دے دی جائے۔ ان امور کا فیصلہ قیامت میں بعث بعد الموت کے وقت ہوتا ہے۔
قرآن کریم اس کا فرانہ کٹ حجتی کو آغاز ہی میں رد کردیتا ہے اور اس غلطی اور غلط سوچ کو اللہ تعالیٰ یوں دور کرتا ہے کہ بلی وعدا علیہ حقا (16 : 38) ” یہ تو ایک وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے “۔ اور جب اللہ کسی بات کا ارادہ کرلے تو اس کی خلاف ورزی کسی حال میں بھی نہیں ہوتی۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (16 : 38) ” مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “ کہ اللہ کے عہد کی حقیقت کیا ہوتی ہے یعنی وہ اٹل ہوتا ہے۔
پھر اللہ کے اس فیصلے کے پیچھے ایک گہری حکمت بھی ہے۔
لیبین لھم الذی ۔۔۔۔۔ کانوا کذبین (16 : 39) ” اور ایسا ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ، اور منکرین حق کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔ کس بات میں ؟ اس بات میں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ اس بات میں کہ وہ رسول کو جھوٹا سمجھتے تھے ، اس بات میں کہ ان کے نزدیک قیام قیامت ممکن نہیں ہے۔ نیز اپنے اعمال و اعتقادات وغیرہ ہیں۔
رہا اس کا عملاً قیام تو وہ کوئی مشکل نہیں۔
انما قولنا۔۔۔۔۔۔ کن فیکون (16 : 40) ” ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لئے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں کہ ہوجا اور بس وہ ہوجاتی ہے “۔ اور قیام قیامت بھی ایسے ہی حالات میں سے ایک حالت ہے جوں ہی ارادہ الٰہی اس طرف متوجہ ہوا وہ برپا ہوجائے گی۔
Ayahs 16:41–42منکرین اور مکذبین کے بالمقابل ذرا مومنین صادقین کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے جو نہ صرف اپنے نظریہ حیات پر پختہ ایمان رکھتے ہیں بلکہ اس کے لئے اپنا مال اور اپنا ملک چھوڑ کر ہجرت بھی کرتے ہیں اور یہ کام وہ صرف رضائے الٰہی کی خاطر کرتے ہیں۔
آیت نمبر 41 تا 42
یہ لوگ جنہوں نے اپنے ملک و مال کو چھوڑ کر ہجرت کی ، اپنی جائیداد اور محبب آبائی وطن سے دستکش ہوگئے۔ انہوں نے ملک ، رشتہ داروں اور اپنی محبوب یادوں کی قربانی دی۔ یہ لوگ دار آخرت میں عوضانہ کے مستحق ہیں۔ انہوں نے جو جو قربانیاں دیں اس کا اجر تو انہیں ملنا چاہئے۔ پھر یہ مال اور ملک انہوں نے خوشی سے نہیں چھوڑا بلکہ ظلم سے تنگ آکر چھوڑا۔ اگر یہاں انہوں نے اپنی اچھی رہائش گاہیں چھوڑیں تو لازم ہے کہ دنیا میں بھی ان کو ان حالات سے اچھے حالات نصیب ہوں۔
لنبوئنھم فی الدنیا حسنۃ (16 : 41) ” ان کو ہم دنیا میں بھی اچھا ٹھکانا دیں گے “۔ اور آخرت میں بھی ان کو ہم اچھے مقامات پر ٹھہرائیں گے۔ ولاجر الاخرۃ اکبر (16 : 41) ” اور آخرت کا اجر بہرحال بڑا ہے “۔ اے کاش کہ لوگ اس بات کو جانتے۔
الذین صبروا وعلی ربھم یتوکلون (16 : 42) ” جنہوں نے صبر کیا اور جو اپنے رب کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں “۔ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے ، اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسی کی طرف متوجہ ہیں۔ اگر قیامت نہ ہو تو ایسے لوگوں کا اجر کہاں ان کو ملے گا۔
٭٭٭
اس سے قبل مشرکین کے عذرات کو رد کرتے وقت یہ کہا گیا کہ اللہ کی مرضی نہیں ہے کہ تم یا تمہارے آباء شرک کرو ، ورنہ وہ رسول کیوں بھیجتا۔ جو ہر امت میں بھیجے گئے۔ یہاں اب رسولوں کے منصب کے فرائض ذرا تفصیل سے بیان کئے جاتے ہیں اور نبی آخر الزمان ﷺ کے فرائض کا بھی تعین کیا جاتا ہے ، اور حکم دیا جاتا ہے کہ وہ جو دعوت دے رہے ہیں اگر تم نے اس کا انکار کیا تو اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔
Ayahs 16:43–44آیت نمبر 43 تا 44
یعنی اس سے قبل ہم نے جو رسول بھیجے تھے وہ آدمی ہی تھے۔ فرشتے نہ تھے۔ نہ آدم اور فرشتوں کے علاوہ کوئی اور مخلوق تھے۔ البتہ یہ برگزیدہ لوگ تھے۔
نوحی الیھم (16 : 43) “ جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے “ جیسا کہ آپ کی طرف وحی کر رہے ہیں۔ ان کے فرائض بھی یہی تھے کہ دعوت کو لوگوں تک پہنچاؤ۔ جس طرح آپ کا بھی یہی فریضہ ہے۔
فسئلوا اھل الذکر (16 : 43) ” اہل ذکر سے پوچھ لو “۔ یعنی اہل کتاب سے پوچھ لو جن کے پاس بہت سے رسول آئے کہ یہ رسول آدمی تھے یا فرشتے یا کوئی اور مخلوق۔
ان کنتم لا تعلمون (16 : 43) ” اگر تم خود نہیں مانتے “۔ ان رسولوں کو کتابیں بھی دی گئیں اور دلائل بھی دئیے گئے۔ عربی میں زیر کے معنی متفرق کتابوں کے ہوتے ہیں۔
وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم (16 : 44) ” اور ہم نے اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاؤ جو ان کے لئے اتاری گئی ہے “۔ نبی آخر الزمان کا بیان ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو پہلے اہل کتاب تھے ، جنہوں نے اپنی کتاب میں اختلاف کیا اور قرآن آیا اور ان کے اختلافات کا فیصلہ کردیا اور مسئلہ مختلفہ میں حق بات کہہ دی۔ ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو ان کے سوا آپ کے معاصر تھے ، جن کے سامنے قرآن مجید نازل ہوا تا کہ لوگ اللہ کی آیات اور قرآن کی آیات دونوں میں غورو فکر کریں۔
ولعلھم یتفکرون (16 : 44) ” قرآن مجید میں ہر وقت انسانوں کو غوروفکر کی دعوت دیتا ہے اور انسانی شعور کو جگانے کی کوشش کرتا ہے۔
یہ درس ، جس کا آغاز مستکبرین اور مکارین کی سمت ہوا تھا ، اس کے آخر میں قارئین کو چند وجدانی احساس دلائے جاتے ہیں۔ پہلا احساس یہ دلایا جاتا ہے کہ انسان کو رات اور دن کے کسی بھی وقت اللہ کے عذاب اور اللہ کی جوابی تدبیر سے بےخوف نہیں ہونا چاہئے۔ دوسرا احساس یہ ہے کہ انسان کو ہر وقت اللہ کو یاد رکھنا چاہئے اور اس کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنا چاہئے۔ یہ انسان ہی ہے جو تکبر کرتے ہوئے غافل اور منکر ہوجاتا ورنہ اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتی ہے۔
Ayahs 16:45–50آیت نمبر 45 تا 50
یہ بات نہایت تعجب انگیز ہے کہ انسانی سوسائتی کے اندر دست قدرت کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی سخت پکڑ میں آجاتے ہیں۔ وہ مکاریاں اور تدابیر کرتے ہی رہتے ہیں لیکن جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو وہ ایک غالب اور صاحب قوت ہستی کی گرفت ہوتی ہے۔ پھر ان کی قوت ، ان کا مال اور ان کا وسیع علم ان کو بچا نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود بقیہ مکار اپنی مکاریاں جاری رکھتے ہیں اور جو اللہ کے عذابوں سے بچ نکلتے ہیں وہ پھر اسی طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ الا یہ کہ ان کے ساتھ یہ کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ ڈرتے نہیں کہ خدا ان کو بھی پکڑ سکتا ہے۔ ہر وقت وہ اللہ کی گرفت میں آسکتے ہیں ، چاہے سوتے میں یا جاگتے ہوئے ، غفلت یا بیداری میں۔ قرآن کریم انسانی احساس اور انسانی وجدان کو بیدار کرتا ہے تا کہ لوگ متوقع عذاب سے ڈریں اور اللہ کے عذاب سے وہی لوگ غافل ہوتے ہیں جو خسارے میں ہوں۔
افامن الذین ۔۔۔۔ ۔ لا یشعرون (16 : 45) ” پھر کیا وہ لوگ جو بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اس بات سے بالکل ہی بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جس طرف سے اس کے آنے کا وہم و گمان تک نہ ہو “۔ یا یہ کہ ایسے لوگوں کو اللہ اس حال میں پکڑ لے کہ یہ لوگ شہر شہر ، قریہ قریہ تجارت اور سیاحت کے لئے پھر رہے ہوں۔
فما ھم بمعجزین (16 : 46) ” یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے کی طاقت تو نہیں رکھتے “۔ ان لوگوں کا پکڑا جانا یا جائے گرفتاری کسی خال میں بھی اللہ سے بعید نہیں ہے۔
او یاخذھم عل تخوف (16 : 47) ” یا ایسی حالت میں انہیں پکڑ لے کہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہوا ہو “۔ کیونکہ ان کو چوکنا ہونا اور عذاب کی توقع رکھنا بھی عذاب الٰہی کو کسی صورت میں رد نہیں کرسکتا۔ اللہ اس حال میں بھی پکڑ سکتا ہے جب وہ دفاع کے لئے تیار ہوں اور اس حال میں بھی جب وہ غافل ہوں۔ لیکن اللہ نہایت ہی مہربان اور رحیم ہے۔
یہ لوگ جو برائیوں کی تدابیر سوچتے رہتے ہیں کیا اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوگئے ہیں ؟ کیوں یہ اپنی مکاریوں میں سرگرداں ہیں ؟ کیوں یہ لوگ اپنی بےراہ روی میں آگے ہی بڑھتے جاتے ہیں اور واپس نہیں آتے اور خدا سے نہیں ڈرتے ! باوجود اس کے کہ ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اپنے قوانیں فطرت اور ضوابط قدرت کے ساتھ پکار رہی ہے کہ یہ ہے راہ ایمان۔ بلکہ یہ پوری کائنات ذات باری کی ھدی خواہ اور تناکو ہے۔
اولم یروا الی۔۔۔۔۔۔۔ وھم دخرون (16 : 48) ” کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتا ہے ، دائیں اور بائیں گرتا ہے۔ سب کے سب اس طرح اظہار عجز کر رہے ہیں۔
سایوں کی حرکات کا منظر ! سایہ آگے بڑھتا ہے ، واپس ہوتا ہے اور پھر ایک جگہ رک جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو صرف اس آنکھ کو دعوت نظارہ دیتا ہے جو کھلی ہو ، اس دل کو دعوت ربرت دیتا ہے جس کے دروازے کھلے ہوں ، اس احساس کو شعور دیتا ہے جو جاگ رہا ہو اور ایسے شخص کو ہدایت دیتا ہے جس کے قوائے مدرکہ کائنات کے ساتھ ہمقدم ہوں۔
قرآن کریم یہاں قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کی اطاعت کو سجدہ ریز ہونے سے تعبیر کرتا ہے۔ سجدہ گزاری ، خضوع و خشوع کی آخری تصویر ہوتی ہے۔ یہاں متوجہ کیا جاتا ہے کہ درختوں کے سائے بڑھتے ہیں اور پھر سکڑتے ہیں۔ سائے کی حرکت نہایت ہی خفیف ہوتی ہے اور انسانی شعور پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہوتا ہے۔ پھر اس کائناتی مخلوق کے ساتھ فرشتوں کی فوج اشیاء ، درخت ، سائے ، پرندے اور چرندے اور پھر فرشتے سب کے سب اللہ کے سامنے خشوع و خضوع کے ساتھ سجدہ ریز ہیں وار عبادت اور بندگی بجا لا رہے ہیں ! یہ سب اللہ کی بندگی سے نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ سرمو انحراف کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے احکام سے سرتابی نہیں کرتے۔ لیکن اے منکر از بنی نوع انسان تمہارا کتنا دل گروا ہے کہ تو تکبر بھی کرتا ہے اور سرتابی بھی۔ یہ تیری نہایت ہی تعجب انگیز حرکت ہے !
یہ سبق یہاں منکرین اور مستکبرین کی طرف اشارہ کر کے ختم ہوجاتا ہے تا کہ سبق کے آخر میں ان کو خصوصیت کے ساتھ متوجہ کر دے کہ تمہارا انکار و استکبار فطرت کائنات کے خلاف ہے۔
Ayahs 16:51–55درس نمبر 121 ایک نظر میں
مسئلہ توحید کا یہ تسیرا دور ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک خدا ہے۔ اس سبق کا آغاز اس مفہوم سے ہوتا ہے کہ اللہ ایک ہے جو وحدہ مالک اور منعم ہے۔ پہلی تین آیات میں یہی مفہوم بیان ہوا ہے۔ یہاں ایک بہترین تمثیل دی گئی ہے کہ ایک مالک ہے ، رازق ہے اور دوسرا شخص غلام اور مملوک اور محتاج ہے۔ جس کا کوئی اختیار نہیں ۔ اور جس کی ملکیت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ تو پھر اللہ جو خالق مالک اور رازق ہے وہ اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کس طرح برابر ہو سکتے ہیں جو نہ مالک ہیں اور نہ رازق۔ کس طرح ہم دونوں کو کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی الٰہ ہے اور یہ بھی !
اس سبق میں لوگوں کا ایک نمونہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو اللہ وحدہ کو پکارتے ہیں لیکن جب مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر شرک کرنے لگ جاتے ہیں۔
اس سبق میں بت پرستی کے اوہام و خرافات کی کئی صورتیں بھی دی گئی ہیں۔ یہ لوگ اپنے بنائے ہوئے الہٰوں کے لئے بعض جانوروں کو مخصوص کرتے ہیں۔ حالانکہ خود ان کی حالت یہ ہے کہ اپنے مملوکات میں سے کسی چیز کو وہ اپنے غلاموں کے دائرۂ اختیار میں دینے کے لئے تیار نہیں۔ نہ کوئی چیز ان کے ساتھ تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خود تو لڑکیوں کو بےحد ناپسند کرتے ہیں لیکن فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے ہیں۔
واذا بشر۔۔۔۔۔۔۔ وھو کظیم (16 : 57) ” اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے “۔ یہ لوگ اللہ کے لئے تو وہ چیز تجویز کرتے ہیں جسے یہ خود ناپسند کرتے ہیں لیکن ان کی زبانوں پر یہ دعویٰ ہر وقت رہتا ہے کہ ان کے لئے تو اچھائی ہی مقرر ہے اور یہ کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں اس کا نتیجہ اچھا ہی رہے گا۔ یہ اوہام و خرافات ان کو اپنے آباؤ اجداد سے ورثے میں ملے ہیں اور رسول اللہ ﷺ تو مبعوث ہی اس لیے ہوئے ہیں کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر بیان کردیں۔ چناچہ آپ ﷺ اہل ایمان کے لئے صاحب ہدایت اور باعث رحمت ہیں۔
اس کے بعد حقیقی خدا کی پیدا کردہ بعض چیزوں کی نمونے دئیے جاتے ہیں اور اگر ان میں انسان ذرا بھی غوروفکر کرے تو وہ بہت کچھ نصیحت اور عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کی ایجاد پر صرف وحدہ قادر ہے اور یہ چیزیں اللہ کی خدائی اور آپ کی برتری کے دلائل ہیں۔ مثلاً یہ کہ اللہ نے آسمانوں سے بارشیں برسانے کا انتظام فرمایا جس کے ذریعے مردہ زمین تروتازہ ہوجاتی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانی کے علاوہ لوگوں کے پینے کے لئے نہایت ہی خوشگوار اور لذیذ دودھ پیدا کیا اور یہ دودھ جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے پیدا ہوتا ہے۔ پھر اللہ نے کھجور اور انگور پیدا کئے تم لوگ نشہ آور چیز بھی بناتے ہو اور رزق حسن بھی۔ پھر اس نے شہد کی مکھی کو یہ وحی کی کہ پہاڑوں میں گھر بنا ، درختوں میں گھر بنا ، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں گھر بنا اور اس میں سے شہد پیدا ہوتا کہ وہ لوگوں کے لئے شفا ہو۔ اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا۔ بعض کو وہ جلدی بلا لیتا ہے اور بعض دوسرے طویل عمر پاتے ہیں۔ وہ علم کو بھول جاتے ہیں اور اس قدر سادہ ہوجاتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے ۔ پھر اللہ نے بعض لوگوں کو دوسروں پر رزق میں فضیلت دی۔ پھر بعض کو بیویاں اور لڑکے اور پوتے دئیے۔ ان حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے شرکاء کی بندگی کرتے ہیں جو زمین و آسمان میں لوگوں کو کسی قسم کا رزق دینے پر قدرت نہیں رکھتے اور اس کے ساتھ وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہیں۔
احساس دلانے والے یہ دلائل جو نفس انسانی اور اس کے ماحول میں بکھرے ہوئے ہیں ، اس کی طرف قرآن انسان کو متوجہ کرتا ہے تا کہ وہ اللہ کی قدرت کو پاسکیں جو ان کی ذات ، ان کے رزق ، ان کے کھانے ، ان کے پینے اور ان کے اردگرد ان کے افادے کی ہر چیز میں متحرک ہے۔ اس سبق کا خاتمہ پھر ان دو مثالوں پر ہوتا ہے جن کی طرف ہم نے اشارہ کردیا ہے۔ یہ گویا انسانی عقل و وجدان کو احساس دلانے کی ایک مفید کوشش ہے ، جس کے گہرے اثرات ہیں اور اس میں نفس انسانی کے رباب کے نہایت ہی حساس تاروں کو چھیڑا گیا ہے لہٰذا ممکن نہیں کہ نفس انسانی اس سے متاثر نہ ہو اور لبیک نہ کہے۔
آیت نمبر 51 تا 55
اللہ کا یہ فرمان ہے کہ دو الٰہ نہ بناؤ۔ خدا تو بس ایک ہی ہے۔ اس بات کے لئے اسلوب نہایت ہی فیصلہ کن اور مثبت اختیار کیا گیا۔ اللہ کے بعد دو کا لفظ آیا ہے اور دوسرے فقرے میں نہایت تاکیدی مصرع کہ ” اللہ تو بس ایک ہی ہے ، اور ان دونوں فقروں کے بعد ایک دوسرا مصرع ہے ” لہٰذا تم مجھی سے ڈرو “۔ اور میرے سوا کسی اور سے نہ ڈرو۔ کسی کے ساتھ ڈرنے کا ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو جس طرح مجھ سے ڈرنا ہوتا ہے ۔ فارھبون اس لیے کہا گیا کہ مجھ سے زیادہ سے زیادہ ڈرو۔ اسلامی نظریہ حیات میں عقیدۂ توحید ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اسلامی نظریہ حیات قائم ہی عقیدۂ توحید پر ہے۔ جب تک توحید نہ ہو ایمان قائم ہی نہیں ہو سکتا اور ایمان کے بغیر اسلام کا نظریہ حیات قائم ہی نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ مسئلہ انسان کے قلب و دماغ میں اس قدر واضح ہونا چاہئے کہ اس میں کوئی التباس نہ ہو اور کوئی پیچیدگی نہ ہو۔
اور جب خالق ومالک و الٰہ وہی ہے تو پھر اس زمین و آسمان اور کائنات کا مالک بھی وہی ہے۔
ولہ ما فی السموت والارض (16 : 56) ” وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اسی کا ہے “۔
ولہ الدین واصباً (16 : 52) ” خالصتاً اسی کا دین چل رہا ہے “۔ یعنی جب سے یہ کائنات اور دین وجود میں آئے ہیں اسی کا دین مسلسل چل رہا ہے اور منعم بھی وہی اللہ ہے۔
وما بکم من نعمۃ فمن اللہ (16 : 53) ” تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ، اللہ ہی کی طرف سے ہے “۔ یہ بات تمہاری فطرت کے اندر رکھی ہوئی ہے کہ جب کوئی مشکل وقت آتا ہے تو تمہاری فطرت پکار اٹھتی ہے کہ صرف کو پکارو۔ اس مشکل وقت میں پھر کوئی وہمی مددگار یا بت انسان کو یاد نہیں رہتا۔
ثم اذا مسکم الضر فالیہ تجئرون (16 : 53) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو “۔ اور تم اس وقت پھر چیخ چیخ کر پکارتے ہو کہ وہ تمہیں اس مشکل سے نجات دے۔ یوں قرآن کریم اللہ تعالیٰ کو خدائی ، حاکمیت ، ملک ، قانون سازی ، نعمت اور ہدایت اور نظام زندگی دینے کا واحد سر چشمہ قرار دیتا ہے۔ انسانی فطرت اس بات کی تصدیق یوں کرتی ہے کہ جب انسان کسی عظیم مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اس وقت انسان کی حقیقی فطرت تمام شرک کے تمام شائیوں اور آلائشوں سے پاک ہوجاتی ہے۔ لیکن بعض لوگ پھر بھی ایسے کج دماغ ہوتے ہیں کہ جب یہ مہیب خطرہ ان سے ٹل جاتا ہے تو یہ لوگ اچانک شرک کرنے لگتے ہیں۔ یوں وہ اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے اور اللہ کی ہدایات سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ لیکن دنیا کا یہ مختصر دور جلد ختم ہوگا اور ذرا انتظار کرو کہ آخرت میں ان کو مصیبت سے دوچار ہونا پڑے گا۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (16 : 55) ” اچھا مزے کرلو عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ نمونہ مخلوقات جس کے خدو خال قرآن مجید نے یہاں نقش کئے۔
ثم اذا مسکم الضر ۔۔۔۔۔۔۔ یشرکون (16 : 54) ” پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو پھر تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اسی کی طرف دوڑتے ہو۔ مگر جب اللہ اس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکایک تم میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگتا ہے۔ اس طرز کے لوگ انسانوں میں ہمیشہ پائے جاتے ہیں۔ مشکلات میں دل اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ انسان بتقاضائے فطرت اس بات کو جانتا ہے کہ اللہ کے سوا بچانے والا کوئی نہیں ہے۔ عافیت کے زمانہ میں انسان عیش و عشرت میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اس لیے اس کا تعلق باللہ کمزور پڑجاتا ہے۔ اس میں کئی رنگ کی کج رویاں پائی جاتی ہیں ، ان میں سب سے بڑی کج روی اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، نیز انسان بعض رسوم اور اقدار کو بھی خدائی درجہ دے دیتا ہے ، اگرچہ ان کو وہ الٰہ نہیں کہتا۔
بعض اوقات اس کا انحراف بہت ہی شدید ہوجاتا ہے اور فطرت پوری طرح بگڑ جاتی ہے کہ بعض لوگ نہایت ہی شدید حالات میں بھی اللہ کو نہیں پکارتے بلکہ وہ بعض دوسری ہستیوں کو بچاؤ، نجات اور امداد کے لئے پکارتے ہیں۔ ان کا بہانہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ہستیاں اللہ کے ہاں جاہ و منزلت رکھتی ہیں اور بعض اوقات بعض لوگ اس تصور کے سوا بھی دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں۔ مثلاً بعض لوگ اولیاء اللہ کو مصیبت کے وقت پکارتے ہیں۔ ان لوگوں کی یہ حرکت مشرکین جاہلیت کے شرک سے بھی بدتر ہے کیونکہ مشرکین جاہلیت کے بارے میں تو قرآن یہ کہتا ہے کہ سخت مشکلات میں یہ لوگ صرف اللہ کو پکارتے تھے۔
Ayah 16:56مثلا یہ لوگ اپنے اوپر بعض جانوروں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ نہ ان پر سوار ہوتے ہیں اور نہ ان کا گوشت چکھتے ہیں یا بعض جانوروں کے گوشت کو مردوں کے لئے مخصوص کرتے ہیں اور عورتوں پر وہ حرام تصور ہوتے ہیں اور یہ کام وہ اپنے نام نہاد الہٰوں کے نام پہ کرتے ہیں۔ ان کے ان مزعومات کی تفصیلات ہم نے سورة انعام میں دے دی ہیں۔ اور جن الہوں کے نام پر یہ لوگ شرک کرتے ہیں ان کے بارے میں ان لوگوں کو کوئی علم نہیں ہے یہ ان کے موروثی تصورات ہیں جو جاہلیت سے ان کے ہاں نقل ہوتے چلے آئے ہیں۔ حالانکہ یہ نعمتیں ان کو اللہ نے دی ہیں جو وحدہ لا شریک ہے اور جن الہوں کی طرف یہ ان کو منسوب کرتے ہیں ان کے بارے میں خد ان کو کچھ علم نہیں ہے۔ غرض یہ ان نام نہاد الہوں کے عطا کردہ انعامات نہیں ہیں بلکہ یہ انعامات اللہ وحدہ کے ہیں جس کے ساتھ یہ لوگ شریک کرتے ہیں۔
یوں قرآن کے نظریہ حیات اور ان جاہلوں کے نظریات کے درمیان واضح فرق معلوم ہوجاتا ہے۔ اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ رزق سب کا سب الٰہ واحد کا عطا کردہ ہے۔ اور اس کے نام سے استعمال ہونا چاہئے یہ لوگ بعض ارزاق کو ان الہٰوں کی طرف منسوب کرتے ہیں اور ایسی ہستیوں کو الٰہ بناتے ہیں جن سے انہیں روکا گیا ہے۔ دونوں نظریات میں یہ واضح فرق ہے۔
لیکن آج قرآن کے ہوتے ہوئے اور عقیدۂ توحید کی وضاحت کے بعد بھی بعض لوگ اللہ کی عطا کردہ بعض اقسام رزق کو ایسی شخصیات کے نام سے منسوب کرتے ہیں جو جاہلیت کے الہٰوں کے مشابہ ہیں۔ آج بھی بعض لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں کہ “ یہ سید بدوی کا بکرا ہے ”۔ یہ بکرا جہاں چاہے چرے چگے کوئی اسے منع نہیں کرے گا ۔ کوئی شخص اس کو نہ کھائے گا۔ وہ سید بدوی کے نام سے ذبح ہوگا اور اس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے گا۔ بعض لوگ آج بھی بعض اولیاء کے نام جانوروں کی نذریں مانتے ہیں اور پھر یہ نذریں چڑھاتے ہیں۔ یہ ان اولیائے کے نام پر ہوتی ہیں اور ان پر اللہ کا نام ہی نہیں لیا جاتا۔ صرف مذکور ولی کا نام لیا جاتا ہے۔ اہل جاہلیت بھی اسی طرح بعض نامعلوم خداؤں کے نام پر ایسی نذریں چڑھاتے تھے۔ ایسے جانوروں کا گوشت کھانا حرام ہے اگر چہ ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کا نام لیا جائے کیونکہ یہ اہل نفیر اللہ کے زمرے میں آتا ہے۔
آیت نمبر 56
ترجمہ : “ اللہ قسم کھا کر تاکید مزید سے یہ بات کرتے ہیں ۔ چناچہ یہ ایک افتراء ہے اور اسلامی عقیدہ اور ایمان کو جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے۔ اس سے عقیدۂ توحید کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں اللہ ضرور پوچھے گا۔
Ayahs 16:57–59آیت نمبر 57 تا 59
عقائد کے بارے میں انسان کا فکری انتشار اور فساد صرف عقائد کے حدود تک ہی محدود نہیں رہا کرتا بلکہ یہ زندگی کے پورے طور طریقوں اور رسم و رواج میں سرایت کرجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ زندگی کے لئے واحد محرک ہوتا ہے۔ چاہے یہ کسی کی زندگی میں یہ نظریہ بادی النظر میں محرک نظر آئے یا پس منظر میں ہو۔ دور جاہلیت کے عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کی بیٹیاں ہیں یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ لیکن ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ وہ اپنے گھر میں بیٹی کی ولادت کو بہت ہی برا خیال کرتے تھے۔ ان کے خیال میں بیٹیاں اللہ کے لئے ہیں اور وہ چونکہ بیٹوں کو پسند کرتے ہیں اس لیے بیٹے ان کے ہیں۔
ان کے اس نظریاتی فساد ہی کی وجہ سے ان کے ہاں یہ رسم بد پڑگئی کہ وہ بیٹیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے یا اگر زندہ رکھ لیتے تو ان کو نہایت ہی ذلت ، بدسلوکی اور کم تر درجے میں رکھتے اور ان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکیوں کی وجہ سے ان کو خفت اٹھانی پڑے گی اور ان کی مالی حالت گر جائے گی کیونکہ عورتیں نہ جنگ کرسکتی ہیں اور نہ بہت زیادہ کمائی کے لائق ہوتی ہیں۔ بعض اوقات لوٹ مار اور ڈاکے میں عورتوں کو باندیاں بنا کرلے جاتے تھے یا وہ خاندان پر بوجھ بن جاتی تھیں۔ یوں خاندان کی مالیات پر بوجھ ہوتیں ، اس لیے وہ انہیں پسند نہ کرتے۔
جبکہ صحیح نظریات ان سب باتوں سے بہت دور ہیں۔ صحیح عقیدہ یہ ہے کہ رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ سب کا رازق ہے۔ ہر شخص کو وہی بات پیش آتی ہے جو اس کی تقدیر میں لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ انسان کو اللہ نے ذی شرف پیدا کیا ہے اور اس میں مرد عورت برابر ہیں ، پھر عوت کے بغیر نہ انسانیت جاری رہ سکتی اور نہ مکمل ہو سکتی جیسا کہ اللہ کا حکم ہے۔
یہاں جاہلیت کے رسم و رواج کی خوب تصویر کشی کی جاتی ہے۔
واذا بشر احدکم بالانثی ظل وجھہ مسودا وھو کظیم (16 : 57) “ جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ نہایت ہی کبیدہ خاطر ہوتا ہے ”۔ یعنی حزن و ملال سے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے غم کو چھپانے کی سعی لا حاصل کرتا ہے ۔ وہ اس ولادت کو ایک مصیبت سمجھتا ہے لیکن در حقیقت وہ اللہ کا عطیہ ہوتی ہے جیسا کہ بینا ایک عطیہ ہوتا ہے کیونکہ انسان بذات خود رحم مادر میں نہ مرد بنا سکتا ہے اور نہ عورت پیدا کرسکتا ہے۔ نہ انسان خود جنین میں حیات پھونک سکتا ہے نہ انسان ایک سادہ نطفے سے انسان تیار کرسکتا ہے۔ اگر انسان صرف انسانی زندگی کی تخلیق پر ہی غور کرے کہ کس طرح نطفے سے لے کر ایک تندرست و توانا انسان تک وہ نشوونما پاتی ہے تو بچہ چاہے مرد ہو یا عورت ہو ، وہ خوشی خوشہ اس کا استقبال کرے۔ سوچنے والے انسان کے لئے تو ہر بچہ اللہ کا معجزہ ہے اور یہ معجزہ بار بار دہرایا جاتا ہے لیکن بار بار دہرائے جانے کے باوجود اس معجزے کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان صحیح الفکر ہو تو وہ لڑکی کی پیدائش کی اطلاع پا کر نہ غمگین ہو اور نہ لوگوں سے چھپتا پھرے۔ اس لیے کہ لڑکی کی تخلیق میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ اس معاملے میں ایک باپ تو اس عظیم معجزہ کے صدور میں محض ایک پرزہ ہے اور بس۔
اب اللہ کی حکمت کو دیکھیں اور یہ کہ معجزۂ حیات کا صدور کس طرح ہوتا ہے ؟ بادی النظر میں یہ بات نظر آتی ہے کہ انسان کو اللہ ایک مرد اور عورت کے ملاپ کے ساتھ پیدا کرتا ہے ، حیات انسانی کے وجود میں آنے کے لئے جس طرح مرد ضروری ہے ، اسی طرح عورت بھی ضروری ہے بلکہ مرد کے مقابلے میں عورت کی ضرورت زیادہ ہے کیونکہ بچے کی نشوونما کے لئے تو عورت زیادہ ضروری اور اہم ہے جبکہ مرد کے لئے بھی وہ جائے قرار ہے۔ تو پھر عورت کی پیدائش پر کسی کا چہرہ کیوں سیاہ ہوجاتا ہے اور پھر قوم سے کیوں بھاگتا پھرتا ہے جبکہ وہ جانتا ہے کہ حیات بشر کا تسلسل عورت کے بغیر ممکن نہیں ہے ؟
ظاہر ہے کہ سوچ ، نظریہ اور عقیدے کا انحراف اور فساد معاشرے کے اندر رسم و رواج اور لوگوں کے طرز عمل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
الاساء ما یحکمون (16 : 59) “ دیکھو کیسے میرے حکم ہیں جو یہ لگاتے ہیں ”۔ اور ان کے یہ فیصلے اور اندازے کس قدر غلط ہیں
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی سوسائٹی کے اجتماعی تصورات اور سوسائٹی کی اجتماعی اخلاقیات کو درست کرنے کے لئے اسلامی نظریہ حیات کی اہمیت کیا ہے ؟ نیز اسلام نے عورت کے بارے میں انسانی نقطہ نظر میں کس قدر عظیم انقلاب برپا کیا ہے اور عورت کو کس قدر شرف عطا کیا۔ نہ صرف عورت کو بلکہ پوری انسانیت کو شر عطا کیا گیا ہے۔ کیونکہ دور جاہلیت میں نہ یہ کہ صرف عورت ذلیل تھی بلکہ انسانیت بذات خود ذلیل تھی۔ کیا یہ بات ظاہر نہیں ہے کہ عورت انسانیت کا اہم عنصر ہے اور اس کی توہین بذات خود ذلیل تھی۔ اس کو زندہ درگور کرنا انسانیت کا دفن کرنا ہے۔ کیا یہ فعل زندگی کے ایک اہم حصے کو ضائع کرنا نہ تھا اور اللہ کی حکمت تخلیق کے ساتھ جنگ نہ تھی۔ اللہ کی حکمت تخلیق تو یہ ہے کہ نہ صرف انسان بلکہ ہر زندہ چیز کی تخلیق نر اور مادہ سے ہو۔
جب بھی انسانیت صحیح عقائد اور صحیح نظریہ حیات سے منحرف ہوئی ہے ، اس کے اخلاق ، اس کے رسم و رواج کسی نہ کسی جاہلیت میں ڈوب گئے۔ آج دور جدید میں بھی اعلیٰ ترقیات کے باوجود دنیا بیسویں صدی کی جاہلیت کا شکار ہوگئی ہے آج بھی لڑکی کی پیدائش پر اس خوشی اور مسرت کا اظہار نہیں کیا جاتا ، جس طرح لڑکے کی پیدائش پر خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے۔ یہ بھی جاہلیت کے تصورات و رسومات میں سے ایک رسم ہے۔ اور یہ اس لیے پائی جاتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات ہماری نظروں میں صاف اور ستھرا نہیں ہے ۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ آج کل جاہلیت جدیدہ کے پرستار اشاروں کنایوں میں اسلامی عقائد و نظریات پر انگلی اٹھاتے ہیں کہ اسلام میں عورت کو یہ مقام دیا گیا ہے اور یہ کہ اسے آزادی نہیں ہے۔ یہ لوگ جاہلیت جدیدہ سے متاثر ہو کر اسلام پر اعتراضات کرتے ہیں لیکن ان لوگوں کے پیش نظر وہ عظیم انقلاب نہیں ہے جو عورت کے بارے میں اسلامی نظریات نے آج سے صدیوں قبل برپا کیا۔ عورت کے بارے میں لوگوں کی سوچ بدل دی اور اسے بلند رتبہ دیا۔ عورت کے بارے میں اسلام نے یہ انقلابی فکر محض دنیاوی ضرورت یا اجتماعی تقاضے یا اقتصادی ضرورت کے تحت نہیں دی تھی بلکہ یہ فکر و نظر کی تبدیلی ، اس اسلامی نظریہ حیات کو وجہ سے پیدا کی گئی جس نے پوری انسانیت کو شرف فضیلت بخشا۔ پوری انسانیت کی تکریم کی وجہ سے عورت کو بھی شرف ملا۔ یہ قرار دیا گیا کہ عورت حصہ حیات اور حصہ انسانیت ہے ، لہٰذا بشریت کے دو حصوں مردو عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
اسلامی نظریہ حیات اور جاہلی نظریہ حیات کے درمیان فرق کیا ہے ؟ یہ فرق یوں ہے کہ اسلامی معاشرہ ایک ذمہ دار اور جوابدہ معاشرہ ہوتا ہے اور وہ آخرت کی جوابدہی پر ایمان رکھتا ہے جبکہ جاہلی معاشرہ وہ ہے جو آخرت پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ وہ ہر چیز کی قدرو قیمت اسی دنیا کے حوالے سے طے کرتا ہے۔ لہٰذا اعلیٰ عقیدہ اور نظریہ کے مظاہر بھی اعلیٰ ہوتے ہیں۔
Ayah 16:60آیت نمبر 60
یہاں شرک کے مسئلے کو مسئلہ انکار آخرت سے ملا دیا جاتا ہے اس لیے کہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہے اور دونوں میں ایک ہی قسم کی گمراہی ہے۔ انسانی شعور میں شرک اور انکار آخرت باہم مخلوط ہوتے ہیں اور انسانی شخصیت اور انسانی معاشرے پر ان کے اثرات بھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔ جب ہم ان لوگوں کو بات سمجھائیں جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے تو وہ ہر پہلو کے اعتبار سے برے لوگ نظر آئیں گے۔ اپنے شعور ، اپنے طرز عمل اور اپنے عقائد کے اعتبار سے ، غرض وہ ہر پہلو سے برے ہوں گے۔ یہ لوگ زمین و آسمان میں ہر جگہ برے لوگ ہوں گے۔ اللہ کی اگر ہم کوئی مثال دیں گے تو وہ ہر اعتبار سے ایک اعلیٰ مثال ہوگی ۔ اللہ کی ذات اور کسی دوسری شخصیت میں کوئی مماثلت ممکن ہی نہیں ہے لہٰذا چھوڑ دو ان لوگوں کو جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔
وھو العزیز الحکیم (16 : 60) “ وہی تو سب پر غالب اور حکمت میں کامل ہے ”۔ وہ نہایت ہی زبردست طاقت والا ہے۔ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا۔ وہی حکیم ہے ، وہ ہر چیز کو اپنے مقام پر رکھتا ہے تا کہ ہر پرزہ اپنی صحیح جگہ پر اس کی حکمت ، اور اس کے قانون کے مطابق صحیح انداز میں کام کرسکے۔
وہ تو اس قدر طاقتور ہے کہ اگر لوگوں کی بدعملی اور ان کے ظلم کی وجہ سے ان کو فوراً پکڑ لے تو ان کو پوری دنیا کو تہ وبالا کر دے۔ لیکن اس کی اسکیم کا تقاضا یہ تھا کہ ان کو قدرے مہلت دی جائے کیونکہ وہ عزیز و حکیم ہے۔
Ayah 16:61آیت نمبر 61
اللہ ہی ہے جس نے اس تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے ، خصوصاً انسانوں کو۔ پھر ان پر وسیع انعامات کئے ، لیکن انسان ہی وہ واحد مخلوق ہے کہ وہ ظلم بھی کرتا ہے اور فساد فی الارض کی مرتکب بھی ہوتا ہے اور اس کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ وہ عقیدۂ توحید سے انحراف کر کے شرک کرتا ہے۔ پھر دوسرا ظلم یہ ہے کہ انسان ایک دوسرے پر بھی ظلم کرتے ہیں۔ پھر وہ دوسری مخلوقات کو بھی اذیت دیتے ہیں۔ لیکن ان تمام مظالم کے باوجود اللہ تعالیٰ صبر کرتا ہے ، ان پر رحم کرتا ہے اور ان کو مہلت دیتا ہے۔ لیکن آخرکار ان کو یونہی چھوڑ نہ دیا جائے گا بلکہ ان سے اس مہلت کے اختتام پر اس سے حساب لیا جائے گا۔ اللہ کی قوت حکیمانہ ہے اور اس کی رحمت عادلانہ ہے لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ جب مہلت ملتی ہے تو وہ غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کی رحمت اور حکمت کو صحیح طرح نہیں سمجھتے۔ یہاں تک کہ اللہ کی قوت اور اس کی صفت عدل ان کو گرفت میں لے لیتی ہے۔ اور یہ کام اس وقت ہوتا ہے جب مہلت عمل ختم ہوجاتی ہے۔ اللہ نے یہ مہلت کیوں دی ؟ اس لیے کہ وہ رحیم ہے۔
فاذا جاء ۔۔۔۔ یستقدمون (16 : 61) “ پھر جب وہ وقت آجاتا ہے تو پھر اس سے ایک گھڑی بھر بھی کوئی آگے پیچھے نہیں ہوتا ”۔
لیکن ان لوگوں کی سوچ و طرز عمل کا تعجب انگیز پہلو یہ ہے کہ یہ اللہ کی طرف وہ بات منسوب کرتے ہیں جسے وہ خود اپنی طرف منسوب کرنا پسند نہیں کرتے۔ اور پھر بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوں گے اور ان کے ساتھ اچھا اور بھلائی کا سلوک ہوگا اور یہ اچھا سلوک ان کی اس کج فکری اور کج روی پر ہوگا۔ لیکن قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں بتا دیتا ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یقیناً اس سے مختلف ہوگا جو یہ لوگ سوچتے ہیں۔
Ayah 16:62آیت نمبر 62
انداز بیان یوں ہے کہ گویا ان کی زبانیں بذات خود مجسمہ کذب ہیں یا یہ جھوٹ کی تصویر ہیں۔ بذات خود ان کی زبان کے لوتھڑے سے جھوٹ ٹپکتا ہے۔ جیسا کہ ضرب المثل ہے “ اس کا قد خوبصورتی کی تعریف کرتا ہے۔ اور اس کی آنکھ حور کی مدح خواں ہے ”۔ گویا اس کا قد ہی مظہر ہے کہ وہ خوبصورت اور سمارٹ ہے اور اس کی آنکھ اسی طرح ہے جس طرح حورعین۔ اسی انداز بیان کے مطابق کہا گیا کہ “ ان کی زبانیں جھوٹ کی تعریف کر رہی ہیں ”۔ گویا وہ مجسمہ جھوٹ ہیں کیونکہ یہ زبانیں ہر وقت جھوٹ بولتی رہتی ہیں اس لیے وہ بذات خود جھوٹ ہیں۔
ان کا جھوٹ کیا ہے ؟ یہ دعویٰ کہ ان کے لئے کوئی اچھا ہی انجام ہے لیکن عقیدہ یہ ہے کہ جو بات خود اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ خدائے کبریا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ البتہ وہ سچائی جس سے وہ دوچار ہونے والے ہیں۔ آیت کی تکمیل سے قبل ہی ان کو بتا دی جاتی ہے اور وہ لاریب اور بلاشبہ اس سے دوچار ہوں گے ، وہ یہ ہے کہ ان لوگوں کی سزا آگ ہے اور وہ بغیر کسی تاخیر کے سب سے پہلے اس میں ڈالے جائیں گے۔ مفرطون کے معنی ہیں معجلون ، اور مفرط وہ شخص ہوتا ہے جسے سب سے پہلے بھیجا جائے بغیر کسی تاخیر کے۔
٭٭٭
اے پیغمبر یہ لوگ پہلے ظالم اور تجاوز کرنے والے نہیں ہیں اور یہ سب سے پہلے ناشکرے نہیں ہیں۔ ان سے پہلے بھی تاریخ عالم میں بہت سے بےراہ رو اور ناشکرے گزرے ہیں۔ شیطان نے ان کو گمراہ کیا اور ان کے لئے ان کے نظریات اور اعمال کو خوبصورت بنایا۔ شیطان ان کا نگراں بن گیا ، اور ان کو اپنی مرضی کے مطابق چلاتا پھراتا رہا اور تم سے پہلے بھی اللہ نے ایسے لوگوں کو شیطانی چنگل سے چھڑانے کے لئے رسول بھیجے تا کہ وہ ان کو سچ اور حق بتا دیں اور ان اختلافات کو اچھی طرح حل کردیں جن میں ان کے درمیان اختلاف واضح ہوگیا تھا تا کہ یہ حل ان کے لئے ہدایت و رحمت کا باعث ہو ، خصوصاً ان لوگوں کے لئے جو ایمان لے آئیں۔
Ayahs 16:63–64آیت نمبر 63 تا 64
پس اس آخری رسول اور اس آخری کتاب کا کام یہ ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا فیصلہ کر دے جن میں امم سابقہ اور کتب سابقہ کے ماننے والوں کے درمیان اختلافات واقعہ ہوگئے تھے اور وہ طائفہ طائفہ اور فرقہ فرقہ ہوگئے تھے کیونکہ اصل حقیقت تو عقیدۂ توحید ہے اور عقیدۂ توحید کے اوپر جو شبہات ، شرک اور تشبیہات کے رنگ چڑھ گئے وہ سب باطل ہیں۔ قرآن کریم آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ ان تمام باطل تصورات کو صاف کر کے رکھ دے اور ان لوگوں کے لئے باعث رحمت و ہدایت ہو جن کے قلوب ایمان و ایقان کے لئے کھلے ہوں اور وہ گوہر ایمان کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔
٭٭٭
یہاں قرآن کریم نے اللہ کی الوہیت اور حاکمیت پر وہ دلائل دینے شروع کر دئیے ہیں جو اس کائنات میں بالکل عیاں ہیں۔ پھر ان صفات اور صلاحیتوں کو بیان کیا گیا ہے جو اللہ نے انسان کی ذات کے اندر ودیعت کر رکھی ہیں اور پھر وہ انعامات و احسانات بیان کئے ہیں جو اللہ نے اس انسان پر کئے ہیں ، وہ اس کے اردگرد موجود ہیں اور اللہ کے سوا یہ نعمتیں کوئی اور ذات نہ پیدا کرسکتی ہے ، نہ فراہم کرسکتی ہے۔
اس سے قبل والی آیت میں کتاب الٰہی کے نزول کی بات ہوئی تھی اور یہ اللہ کی نازل کردہ کتابوں میں سے آخری کتاب ہے جو بھلائی پر مشتمل ہے اور اس میں انسان کی روحانی زندگی کا سامان ہے ، چناچہ اس مناسبت سے یہاں آسمانوں سے بارشیں برسانے کا ذکر کیا گیا جس میں انسانوں کی جسمانی زندگی کا سامان ہے۔