Ayahs 16:92–93قرآن کہتا ہے :
ولا تکونوا کالتی نقضت غزلھا من بعد قوۃ انکاثا تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ انما یبلوکم اللہ بہ ولیبینن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون (61 : 19) ” تمہاری حالت اس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکرو فریب کا ہتھیار بناتے ہوتا کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے۔ حالانکہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے ، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا “۔
جو شخص عہد توڑتا ہے وہ اس بیوقوف عورت کی طرح ہے جو کمزور ہے اور ہر وقت رائے اور عزم بدل دینے والی ہے۔ بار بار سوت کا تتی ہے اور پھر اسے توڑ دیتی ہے اور ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھر اسے سوت بنا دیتی ہے۔ اس تمثیل کا ہر جز تعجب اور حقارت کا اظہار کرتا ہے۔ اور اس عورت کے فعل کو فعل شنیع اور قابل نفرت بناتا ہے۔ یہی اصل مقصود ہے اس تشبیہ سے۔ کوئی بھی شریف النفس انسان اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ وہ اس صعیف الارادہ ، احمق عورت کی طرح ہوجائے جو ایسا کرتی ہو جس میں اس کے لئے کوئی فائدہ نہ ہو۔
ان میں سے بعض لوگ حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اپنے کیے ہوئے عہد کو اس لئے توڑنے کی سوچ رہے تھے کہ حضرت محمد ﷺ کی جمعیت قلیل ہے اور وہ کمزور ہے جبکہ ان کے مقابلہ میں قریش کی جمعیت کثیر ہے۔ چناچہ ایسے لوگوں کو متنبہ کیا گیا کہ یہ ان کے لئے کوئی وجہ جواز نہیں ہے کہ وہ ایسے قسمیہ معاہدوں کو دھوکہ اور بےایمانی کا ذریعہ بنائیں اور کسی بھی وقت گردن سے اتار پھینکیں۔
تتخذون ایمانکم دخلا بینکم ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ (61 : 29) ” تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار نہ بنائو اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کر ہے “۔ یعنی اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے تعداد میں زیادہ ہے اور تمہاری مصلحت زیادہ تعداد والی امت سے وابستہ ہے۔
اس آیت کے مفہوم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ کوئی محض اس لئے عہد کو توڑے کہ کسی ملک کے مصالح اس کا تقاضا کرتا ہوں۔ مثلاً پہلے ایک حکومت دوسری حکومت کے ساتھ یا دوسری حکومتوں کے مجموعے کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے اور پھر اس کو محض اس لئے توڑ دے کسی دوسری طرف اقوام کا بڑا جتھہ ہے اور اس حکومت کے مصالح اس دوسرے مجموعے کے ساتھ وابستہ ہوں۔ اسلام اس قسم کی مصلحتوں کو خاطر میں ہیں لاتا۔ اسلا چاہتا ہے کہ ہر حالت میں عہد کو وفا کیا جائے اور کسی بھی عہد کو دھوکے اور مفاد کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ یہ شرط اس کے علاوہ ہے کہ کوئی عہد صرف نیکی اور خدا خوفی کی اساس پر ہو ، کسی غیر مستحسن اور خدا کی نافرمانی کے مقاصد کے لئے کوئی عہد سرے سے کیا ہی نہ جائے۔ اثم ، فسوق اور نافرمانی کی بنیاد پر کوئی عہد نہ کیا جائے۔ یہ بات تو ناقابل تصور ہے کہ اقوام و ملل کو لوٹنے کے لئے کوئی عہد کیا جائے۔ یہ ہے وہ اصول جس پر اسلامی جماعت کی تشکیل ہوئی اور اسلامی مملکت کی یہی پالیسی رہی۔ اس کے نتیجے میں پوری دنیا اطمینان ، اعتماد اور پاکیزگی کی دولت سے مالا مال ہوگئی۔ اسی پر مسلمان ، افراد اور امم سے معاملہ کرتے رہے جب تک کہ مسلمان جہاں کے قائد تھے۔
قرآن کریم کی یہ آیت مسلمانوں کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ اس قسم کی باتوں کو وجہ جواز بنا کر معاہدات کو پس پشت نہ ڈالیں اور یہ کہ ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ کوئی شخص یا حکو مت معاہدے کو توڑنے کے لئے مجبور ہوجائے۔
ان تکون امۃ ھی اربی من امۃ (61 : 29) ” اس لئے کہ ایک قوم دوسری قوم سے زیادہ ہے “۔ یہ ایک آزمائش ہے اور اللہ کی طرف سے امتحان ہے۔ اس طرح اللہ ان کی قوت ارادی ، ان کے جذبہ وفائے عہد اور ان کی عزت نفس کی اس ذات کے احترام کرنے میں آزمائش کرتا ہے جس کے نام پر انہوں نے یہ عہد کیا تھا۔ یعنی اس پر انہوں نے اللہ کو شاہد و گواہ بنالیا تھا۔
انمایبلوکم اللہ بہ (61 : 29) ” بیشک اللہ تعالیٰ اس معاملے میں تمہیں آزماتا ہے “۔ افراد اور اقوام کے درمیان جو اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ، ان کے پورے فیصلے یہاں ہی نہیں ہوجاتے ، اللہ فرماتے ہیں کہ آخری فیصلہ اللہ نے قیامت کے دن کرنا ہے۔
ولیبنن لکم یوم القیمۃ ما کنتم فیہ تختلفون (61 : 29) ” اور اللہ ضرور قیامت کے دن تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا “۔ ان الفاظ کو بطور تمہید یہاں لایا گیا ہے ، یہ اس مر کے لئے تمہید ہیں کہ رائے ، نظریہ اور عقیدے کے خلاف لوگوں کے ساتھ بھی اگر عہد ہو تو اسے پورا کیا جائے یون کہ ولو شاء اللہ لجعلم امۃ واحدہ ولکن یضل من یشاء ویھدی من یشاء ولتسئلن عما کنتم تعملون (61 : 29) ” اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو وہ سب کو ایک ہی امت بنا دیتا ، مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھاتا ہے اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہوگی “۔
اگر اللہ چاہتا تو لوگوں کو ایک ہی استعداد پر پیدا کرتا ، لیکن اللہ نے ان کو بالکل مختلف صلاحتیں دیں اور ان کو ایک ہی طباعت کے نسخے نہیں بنایا۔ مختلف طرز پر بنایا ہے۔ پھر ان کے لئے اس نے ہدایت پانے اور ضلالت پانے کے ضابطے بنا دئیے اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا مسئول بنایا۔ لہٰذا اختلاف عقائد و مذاہب اس بات کا جواز نہیں ہے کہ تم اس سے نقص عہد کرو۔ اختلاف مذاہب کے اور اسباب ہیں جن کا تعلق اللہ کی مشیت سے ہے۔ رہا عہد تو اس کا دفا کرنا لازم ہے۔ اگرچہ عقائد کا اختلاف ہو۔ یہ ہے اسلام کا اولین اصول بین المل کی معاملات اور مذہبی رواداری۔ اس اصول میں اسلام اپنے عروج پر ہے اور قرآن کریم کے زیر ہدایت اس اصول کو اس دنیا میں صرف مسلمانوں نے عملی شکل دی۔
مزید تفصیلات دی جاتی ہیں جن میں وفائے عہد کی تاکید کی گئی ہے اور اس بات کی مزید ممانعت کی گئی ہے کہ تم معاہدے کو دھوکہ دہی اور فساد پرستی کے لئے استعمال کرو۔ یہ دنیاوی مفاد پرستی اور دنیائے دنی کے وقتی مفادات تمہیں اطمینان کی وہ دولت نہیں دے سکتے۔ اس کے نتیجے میں انسان کی نفسیاتی اور اجتماعی زندگی کے تمام اصول ٹوٹ جائیں گے اور اجتماعی معاملات اور تعلقات میں ایک بھونچال پیدا ہوجائے گا۔ یہ تو تھا دنیا کا عذاب۔ رہی آخرت تو آخرت میں ایسے لوگوں کو سخت عذاب سے دوچار ہونا ہوگا۔ یہاں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر تم نے وفائے عہد کیا اور اس کے نتیجے میں تمہیں کوئی دنیاوی نقصان ہوگیا تو اس کی جزاء بھی اللہ دے گا۔ دنیا کے مفادات تو فنا ہونے والے ہیں اور آخرت کے مفادات باقی رہنے والے ہیں۔ اللہ کے خزانے وسیع ہیں اور اس کے پاس نہ ختم ہونے والی دولت ہے۔
Ayah 16:94تشریح : قسموں کو دھوکے اور فریب کے لئے استعمال کرنے کے نتیجے میں انسانی ضمیر سے عقیدہ مر جاتا ہے اور دوسروں کے ضمیر میں اس کی صورت بگڑ جاتی ہے۔ جو شخص قسم اٹھاتا ہے اور یہ جانے ہوئے اٹھاتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے ، ایسے شخص کے دل میں کوئی عقیدہ قرار نہیں پکڑ سکتا۔ نہ ایسا شخص کسی راستے پر ثابت قدمی سے چل سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ جن کے خلاف قسم اٹھاتا ہے ان کی نظروں میں بھی اپنے دین و ایمان کی شکل بگاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ دوسرا فریق جان لیتا ہے کہ اس کی یہ قسمیں دھوکے کے لئے تھیں۔ یوں یہ شخص ان لوگوں کو دین اسلام سے متنفر کرکے ان کی گمرالی کا سبب بنتا ہے کیونکہ یہ دوسرے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے ایک بری مثال قائم کرتا ہے۔
جب لوگوں نے دیکھا کہ اہل اسلام اپنے وعدے کے بہت پکے ہیں ، عہدے کے پابند ہیں ، معاملات میں صاف ہیں اور ایمان میں مخلص ہیں تو کفار جماعتوں اور اقوام کی شکل میں اسلام میں داخل ہوگئے کیونکہ وفائے عہد اور ایفائے میثاق کے نتیجے میں ان کو جو خسارہ ہوتا تھا ، اس سے فائدہ بہت زیادہ تھا۔
قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ نے مسلمانوں کا کردار تعمیر کرتے ہوئے اس پہلو سے ان کی زندگیوں پر بہت ہی اچھے نقوش چھوڑے اور انہی نقوش کے مطابق مسلمان انفرادی طور اور حکومتی سطح پر لوگوں سے معاملات کرتے رہے۔ ان کا یہ طرز عمل نہایت ہی امتیازی تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت معاویہ اور شاہ روم کے درمیان معاہدہ امن کا ایک وقت مقرر تھا۔ حضرت معاویہ نے اختتام اجل سے پہلے ہی شاہ شام کے خلاف لشکر کشی کردی جبکہ ان کو معلوم ہی نہ تھا۔ اس موقع پر حضرت عمر ابن عتبہ نے فرمایا اللہ اکبر ، یا معاویہ ، وعدے کی وفا کرو ، غداری مت کرو ، میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے ” جس شخص اور کسی قوم کے درمیان ایک میعاد امن مقرر ہو ، تو وہ اپنے اس عہد کو ہر گز حلال نہ کرے جب تک وقت گزر نہ جائے۔ چناچہ حضرت معاویہ لشکر لے کر واپس ہوگئے۔ اسلامی تاریخ ایسی روایات سے بھری پڑی ہے کہ مسلمانوں نے نقص عہد میں صریح فائدے کے باوجود عہد کا پاس رکھا اور ظاہری مصلحتوں کو چھوڑ دیا۔
قرآن کریم نے مسلمانوں کے دلوں پر یہی اسلامی رنگ چڑھا دیا تھا۔ قرآن نے وفائے عہد کی ترغیب دی ، عہد شکنی سے ڈرایا۔ حضور ﷺ نے لوگوں کو ڈرایا اور یہ قرار دیا ہے کہ فریقین ہی معاہدے کے فریق نہیں ہوتے بلکہ اللہ بھی فریق ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے یہ قرار دیا کہ عہد شکنی کی صورت میں جو نفع ہوتا ہے وہ نہایت ہی معمولی اور حقیر ہوتا ہے اور اللہ وفائے عہد پر جو اجر اور انعام دے گا وہ بہت ہی بڑا انعام ہوگا۔
Ayah 16:95ولا تشروا بعھد اللہ ثمنا قلیلا انما عند اللہ ھو خیر لکم ان کنتم تعلمون (61 : 59) ” اللہ کے عہد کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے بیچ نہ ڈالو ، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ، اگر تم جانو “۔ پھر قرآن کریم یاد دلاتا ہے کہ لوگوں کے پاس جو کچھ ہے ، اگرچہ وہ ان کی ملکیت ہو ، وہ زائل ہونے والا ہے اور اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔
Ayah 16:96ما عندکم ینفد وما عند اللہ باق (61 : 59) ” جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہوجانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہی باقی رہنے والا ہے “۔ قرآن کریم وفائے عہد کے لئے لوگوں کے عزم کو قوت دیتا ہے اور وفائے عہد کی راہ میں تکالیف اٹھانے کی ترغیب دیتا ہے اور ان تکالیف پر صبر کرنے والوں کے ساتھ اجر حسن کا وعدہ کرتا ہے۔
ولنجرزین الذین صبروا اجرھم باحسن ما کانوا یعملون (61 : 69) ” اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو ان کے اجر ، ان کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے “ ۔ اور اس سلسلے میں ان سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں ان کو معاف کردیں گے۔ پس جزاء میں صرف اعمال کا اچھا پہلو ملحوظ رہے گا۔
عمل اور جزاء کی مناسبت سے یہاں عمومی ضابطہ بتا دیا جاتا ہے۔
Ayah 16:97چناچہ اس آیت سے درج ذیل اصول وضع ہوتے ہیں :
(1) جزاء و سزا میں انسان کے دونوں جنس مرد اور عورت ایک ہی حکم رکھتے ہیں۔ دونوں اس معاملے میں بالکل مساوی ہیں اور دونوں کی سزا وجزاء برابر ہے۔ اللہ کے ہاں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ لفظ (من) اگرچہ مرد اور عورت دونوں کے لئے آتا ہے لیکن من ذکر اونثی (61 : 79) ” کا لفظ زیادہ تاکید اور وضاحت کے لئے اضافہ کردیا۔ اس سورة میں اس لفظ کو بالخصوص اس لئے بھی لایا گیا کہ اس میں عورت کے بارے میں اہل جاہلیت کے برے خیالات کی تردید بھی کی گئی تھی۔ مثلاً یہ کہ عورتوں کے بارے میں اس سوسائٹی کی رائے اچھی نہ تھی اور جس شخص کو یہ خبر ملتی کہ اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی ہے تو وہ بدررنگ ہوجاتا اور لوگوں سے چھپتا پھرتا۔ پریشانی ، شرمندگی اور عار میں مبتلا ہوتا۔
(2) ہر عمل کے لئے کسی اساس کا ہونا ضروری ہے۔ اسلام میں اعمال کے لئے ایک ہی اساس ہے ، وہ یہ کہ وھو مومن (61 : 79) ” بشرطیکہ وہ مومن ہو “ یہ ایمان کسی بھی اخلاقی عمارت کے لئے ایک پختہ اساس ہے ، اس کے بغیر کوئی عمارت تعمیر نہیں ہوسکتی۔ اس کے بغیر اعمال یونہی ہوں گے جس طرح ریت کا ڈھیر کہ جب اسے کوئی سخت آندھی لے تو ہوا میں بکھر جائے۔ عقیدہ اور نظریہ وہ چیز ہے جس کے ساتھ اعمال کی تاریں جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ اگر یہ نہ ہو تو پھر اعمال کے تارو پود ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جاتے ہیں۔ عقیدہ اعمال صالحہ کا سبب بنتا ہے اور ان کو مقصدیت عطا کرتا ہے۔ عقیدہ اور نظریہ اعمال خیر یہ کو ایک ایسی اساس عطا کرتا ہے جس کی اوپر وہ سب ٹھہرے ہوتے ہیں ، مضبوط ہوتے ہیں۔ ان میں عارضی پن اور تزلزل نہیں ہوتا اور نہ مفادات اور خواہشات کے مطابق بدلتے رہے ہیں۔
قرآن کہتا ہے کہ اگر اعمال صالحہ ایمان کی اساس پر استوار ہوں تو نتائج یہ ہوں گے کہ ایسے لوگوں کو اس جہاں میں بھی حیات طیبہ عطا ہوگی۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ حیات عیاشی ، خوشحالی اور دولتمندی کی زندگی ہو ، کبھی یہ بھی ہوگا کہ ایک مومن کو یہ چیزیں بھی دستیاب ہوں گی۔ اور کبھی نہ ہوں گے۔ لیکن یاد رہے کہ بعض اوقات بقدر کفایت مال کے ساتھ بھی انسان کی زندگی نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ گزرتی ہے بشرطیکہ تعلق باللہ قائم ہو ، اطمینان قلبی نصیب ہو اور اللہ پر بھروسہ اور اللہ کی رضا حاصل ہو۔ انسان کو جسمانی صحت نصیب ہو ، اس کی خواہشات میں ٹھہرائو اور اس کی ہر چیز میں برکت ہو۔ گھر کا ماحول اچھا ہو ، اور افراد خانہ کے دلوں میں محبت ہو۔ ماحول ایسا ہو کہ اس میں اعمال صالحہ ہو رہے ہوں اور ان اعمال کی وجہ سے ہر طرف زندگی میں طمانیت اور ضمیر میں سکون ہو۔ مال تو امن و سکون کا ایک معمولی عنصر ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مال بقدر کفایت ہو ورنہ وبال بن جاتا ہے۔ لیکن یہ مقام ان لوگوں کو حاصل ہوتا ہے کہ انسان کا دل پاکیزہ ، برگزیدہ اور اعلیٰ مقاصد کے ساتھ لگا ہوا ہے کہ جو اللہ کے ہاں قیمتی ہیں۔
یاد رہے کہ دنیا کی حیات طیبہ آخرت کے اجر میں کوئی کمی نہیں لاتی۔ آخرت کا اجر تو ان اچھے اعمال پر ہوگا جو اہل دین نے سرانجام دئیے اور باحسن ما کانوا یعملون (61 : 79) ” سے ضمناً یہ بات نکلتی ہے کہ برے اعمال قلم زدہوجائیں گے۔ کیا اچھا سلوک ہے اور کس قدر کرم نوازی ہے ذات باری کی۔
جس کتاب کے ذریعہ مذکورہ بالا تعلیمات دی گئیں اب اس کتاب کے بارے میں چند کلمات اس کے ، آداب تلاوت اور اس کے بارے میں مشرکین کے تبصروں پر تنقید۔
Ayah 16:98تلاوت سے قبول اعوذ باللہ من الشطین الرجیم پڑھنا اس لئے ضروری ہے کہ تلاوت قرآن مجید سے قبل ایسی فضا تیار ہو جس میں کوئی شیطانی وسوسہ نہ ہو ، اور انسانی شعور سب کا سب اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے۔ اس میں کوئی گندہ جذبہ کارفرما نہ ہو۔ اور شیطانی شر اس سے دور ہو۔
شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو۔
Ayah 16:99انہ لیس لہ سلطن علی الذین امنوا وعلیٰ ربھن یتوکلون (61 : 99) ” اسے ان لوگوں پر تسلط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں “۔ لہٰذا جو لوگ اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ان کے دل اللہ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں۔ شیطان ان پر غالب نہیں آسکتا اگرچہ وہ ان پر ڈورے ڈالے کیونکہ ان کا تعلق خدا کے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ ان کو اس مطعون کے دام سے بچاتا ہے۔ وہ اللہ کے ساتھ ساتھ ہوتے اور اللہ کے پیچھے چلنے والے ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان سے کبھی غلطی سرزد ہوتی ہے لیکن وہ شیطان کے آگے ہتھیار نہیں ڈالتے۔ لہٰذا وہ تعوذ کے ذریعے شیطان کو بھگاتے رہتے ہیں اور اللہ کی طرف لوٹتے رہتے ہیں۔
Ayah 16:100انما سلطنۃ علی الذین یتولونہ (61 : 001) ” اس کا زور تو انہی لوگو پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے ہیں “۔ وہ اس کو اپنا دوست بناتے ہیں ، وہ اس کے سامنے جھکتے ہیں اور اس کی خواہشات و میلانات کو پورا کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لوگ شرک کرتے ہیں۔ آج بھی بعض اقوام میں شیطان کی بندگی اور ” اللہ شر “ کی بندگی کا رواج موجود ہے۔ محض شیطان کی اتباع کرنا اور اس سے دوستی کرنا بھی ایک نوع کا شرک ہے۔
اب قرآن کے بارے میں مشرکین کے اقاویل اور جواب۔
Ayah 16:101مشرکین کو معلوم نہیں ہے کہ اس کتاب کا فنکشن کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ یہ ایک عالمی سوسائٹی وجود میں لائے یعنی امت مسلمہ اور اس بات سے وہ بیخبر ہیں۔ یہ امت ایسی ہو جو پوری دنیا کی قیادت کرے اور یہ کہ یہ آخری امت ہے۔ آئندہ دنیا میں سب کچھ اس نے کرنا ہے ، آسمانوں سے اب کوئی نئی رسالت نہیں آتنی ہے۔ پھر یہ کہ اللہ جس نے انسان کو پیدا کیا وہی جانتا ہے کہ انسان کی مصلحت اور ضرورت کیا ہے۔ جب کسی حکم کا مقصد پورا ہوجائے اور اس وقتی حکم کی میعاد پوری ہوجائے تو اللہ ایک جدید حکم لے آتا ہے کیونکہ جدید حالات میں اس جدید حکم کی ضرورت بھی ہوتی ہے اور وہ زیادہ مناسب بھی ہوتا ہے۔ سابقہ وقتی حکم کے مقابلے میں اب یہ حکم دائمی اور ابد الدھر تک قائم رہنے کا اہل ہوتا ہے۔ اللہ ہی سب کچھ جانتا ہے اور آیات الہیہ کی مثال تو ایسی ہے کہ جس طرح مریض کو گھونٹ گھونٹ دوا پلائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ شفایات ہوجاتا ہے۔ اب دوائی کے بجائے اسے معمول کی غذائیں دی جاتی ہیں تاکہ وہ معمول کی زندگی بسر کرے۔
لیکن مشرکین مکہ اس حکمت سے واقف نہ تھے ، اس لئے وہ یہ بھی نہ سمجھ سکے کہ ایک آیت کے بعد دوسری آیت کیوں آرہی ہے۔ خود حضور کی زندگی میں قوانین کیوں بدل رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو اس پر محمول کیا کہ نعوذ باللہ حضور ﷺ اپنی طرف سے آیات بناتے ہیں ، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ حضور ﷺ تو صادق و امین ہیں اور کبھی بھی جھوٹ نہیں بولتے ، چہ جائیکہ وہ اللہ پر جھوٹ بولیں۔
بل اکثر ھم لا یعلمون (61 : 101) ” حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے “۔
Ayah 16:102قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق (61 : 201) ” کہہ دو اسے تو روح القدس مانے ٹھیک ٹھیک تیرے رب کی طرف سے بتدریج مجھ پر نازل کیا ہے “۔ لہٰذا اس بات کا امکان ہی نہیں رہتا کہ افتراء ہو۔ اسے روح القدس لے کر آئے ہیں ، اللہ کی طرف سے لائے ہیں اور اس کی تعلیمات سچائی پر مشتمل ہیں۔ ان میں باطل کا شائبہ تک نہیں ہے اور یہ اس لئے آئی کہ یشت الذین امنوا (61 : 201) ” تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کریں “۔ ان کے دل اللہ کے ساتھ جڑ جائیں اور وہ معلوم کرلیں کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ حق پر جم جائیں اور ان کی سچائی پر مطمئن ہوجائیں تاکہ وھدی و بشری للمسلمین (61 : 201) ” اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے اور انہیں سعادت اور فلاح کی خوشخبری دے “۔ یہ خوشخبری خصوصا نصرت اور تمکین فی الارض کے بارے میں ہے۔
Ayah 16:103ولقد نعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا لسان عربی مبین (61 : 3019 ” ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے “۔
ان کی طرف سے دوسرا افتراء یہ تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ کو کوئی آدمی یہ قرآن مجید سکھاتا ہے۔ انہوں نے اس کا نام بھی لیا تھا۔ البتہ اس کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ وہ ایک عجمی غلام کی طرف اشارہ کرتے تھے جو دراصل بعض قبائل قریش کا غلام تھا اور یہ حلفاء کے قریب تجارت کرتا تھا۔ اس کے پاس حضور اکرم ﷺ بیٹھا کرتے تھے۔ یہ شخص عجمی تھا اور عربی زبان جانتا ہی نہ تھا۔ صرف عربی میں بقدر ضرورت شد بد رکھتا تھا۔
محمد ابن اسحاق کی روایت ہے کہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضور اکرم ﷺ مروہ کے قریب ایک عیسائی غلام کے پاس بیٹھا کرتے تھے اس کا نام جبر تھا۔ یہ ابنی الحضرم شاخ کا غلام تھا۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ولقد تعلم انھم یقولون انما یعلمہ بشر لسان الذی یلحدون الیہ اعجمی و ھذا السان عربی میبن (61 : 301) ” ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا ہے حالانکہ ان کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے “۔
عبد اللہ ابن کثیر نے کہا ہے اور عکرمہ اور قتادہ سے نقل کیا ہے کہ اس کا نام بعیش تھا ابن کثیر نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلام کو تعلیم دیتے تھے۔ یہ مکہ میں تھا اور اس کا نام بلمام تھا اور حضور اکرم ﷺ اس کے پاس جایا کرتے تھے۔ مشرکین کو معلوم تھا کہ آپ ﷺ اس کے پاس آتے جاتے ہیں تو انہوں نے یہ الزام لگایا کہ آپ ﷺ کو یہ تعلیمات بلمام دے رہا ہے۔
بہرحال نام جو بھی ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس الزام کی جو تردید کی ہے وہ سادہ اور لاجواب ہے۔ اور یہ کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ جس شخص کا تم کہتے ہو اس کی تو زبان عجمی ہے اور قرآن عربی مبین میں ہے۔
ان لوگوں نے حضور اکرم ﷺ پر جو الزام لگایا تھا اسے ہم ہرگز سنجیدہ الزام نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ بھی ان کی جانب سے جھوٹے پروپیگنڈے کی سازش تھی۔ اس لئے کہ وہ قرآن مجید کی ادبی اور نظریاتی قدر و قیمت اور اس کے اعجاز کو اچھی طرح جانتے تھے۔ یہ تو ممکن ہی نہ تھا کہ کوئی عجمی حضور اکرم ﷺ کو یہ کلام سکھا سکے۔ اگر کوئی عجمی اس قسم کا کلام لاسکتا تو وہ اسے بطور اپنے کلام کے کیوں پیش نہ کرتا۔
آج جبکہ انسان نے بہت زیادہ ترقی کرلی ہے اور انسانی قابلیت کے نتیجے میں تصنیف و تالیف کا فن بہت ہی آگے بڑھ گیا ہے۔ نیز قانون سازی اور نظم و نسق کے جدید ترین طریقے وجود میں آگئے ہیں۔ آج ایک معمولی علم رکھنے والا کوئی شخص اور اجتماعی نظاموں اور قانونی نظاموں سے واقف کوئی بھی شخص یہ تصور نہیں کرسکتا کہ یہ کتاب کسی ایک انسان کی تصنیف ہوسکتی ہے۔
روس کے مادہ پرست اور ملحدوں کی رائے بھی یہ ہے کہ یہ قرآن کریم کسی ایک شخص کی تصنیف نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک پوری جماعت کی تصنیف ہے بلکہ اس کے بعض حصے جزیرۃ العرب کی تصنیف بھی نہیں ہوسکتے۔ اس کے بعض حصے ایسے ہیں کہ وہ یقینا باہر سے لائے گئے ہیں۔ یہ نگارشات انہوں نے 4591 ء میں اس کانفرنس کے نتجے میں مرتب کیں جو قرآن کریم پر تنقید کے لئے انہوں نے منعقد کی تھی۔
روسیوں نے یہ تجویز اس لئے پیش کی کہ ایک شخص کے اندر اس قدر قابلیت نہیں ہوسکتی کہ وہ ایسی کتاب تصنیف کرے۔ اور نہ کسی ایک قوم کا یہ کام ہے لیکن روسیوں کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ سیدھی سادی بات تسلیم کرلیں کہ یہ کتاب انسانی تصنیف نہیں ہوسکتی لہٰذا یہ وحی رب العالمین ہے۔ لیکن وہ چونکہ مادہ پرست اور ملحد تھے ، اور خدا ، رسولوں اور رسالت کے وجود ہی کے منکر تھے اس لیے انہوں نے یہ سچائی تسلیم نہ کی۔
اگر بیسویں صدی کے مستشرقین کی سوچ یہ ہے کہ قرآن کریم کسی ایک انسانی کی تصنیف نہیں ہوسکتا تو پھر جزیرۃ العرب کے ایک عجمی غلام کی تصنیف کس طرح ہوسکتا ہے۔
Ayah 16:104قرآن کریم ان کے ان اقوال کی وجہ یہ بتاتا ہے :
ان الذین لا یومنون بایت اللہ لا یھدیھم اللہ ولھم عذاب الیم (61 : 401) ” حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے ، اللہ کبھی ان کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے “۔
یہ لوگ جو اللہ کی آیات پر ایمان نہیں لاتے ، اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق نہیں دی کہ وہ اس کتاب کے بارے میں صحیح رائے قائم کریں۔ نہ وہ اصل حقیقت کی طرف راہ پاسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ کفر کریں گے ، منہ موڑیں گے اور کبھی بھی مان کر نہ دیں گے۔ اس لئے ولھم عذاب الیم (61 : 401) ” ان کے لئے دردناک عذاب ہے “۔
یہاں اب بتایا جاتا ہے کہ رسول امین کس طرح اللہ پر افترا باندھ سکتے ہیں۔ ایسا کام تو وہ لوگ کرتے ہیں جو بدقماش لوگ ہوں اور جو افتراء پر دازی کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 16:105انما یفتری الکذب الذین لا یومنون بایت اللہ واولئک ھم الکذبون (61 : 501) ”(جھوٹی باتیں نبی نہیں گھڑتا بلکہ) جھوٹ وہ لوگ گھڑ رہے ہیں جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے ، وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں “۔
جھوٹ اس قدر گھنائونا گناہ ہے کہ کوئی مومن کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ حضور اکرم ﷺ نے ایک حدیث میں صاف فرمایا ہے کہ کوئی مسلم جھوٹ نہیں بول سکتا اگرچہ مسلم سے دوسرے گناہ سرزد ہوسکتے ہیں۔
اب یہاں سے آگے ان لوگوں کے احکام بیان کیے جات ہیں جو ایمان کے بعد کفر اختیار کرتے ہیں۔
Ayahs 16:106–109مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم ڈھائے گئے اور وہ اس قدر مشکلات سے دوچار ہوئے کہ ان کا برداشت کرنا صرف اس شخص کے لئے ممکن تھا جس نے شہادت کی نیت کی ہوئی تھی اور اس نے اس دنیا کی زندگی کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی ہوئی تھی اور وہ اسلام کے بعد کفر کی طرف لوٹنے کے مقابلے میں شدید سے شدید اذیت کے لئے تیار ہوگیا تھا۔
یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا بڑا جرم ہے۔ کیونکہ ایمان کو جاننے اور اس کو برتنے کے بعد ارتداد اختیار کرنا اور آخرت کے مقابلے میں کفر اختیار کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ، عذاب عظیم کے وہ مستحق ہوں گے اور ہدایت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کے دلوں ، کانوں اور آنکھوں میں مہر لگ جاتی ہے اور آخرت میں یہ لوگ بہت بڑے خسارے سے دور چار ہوں گے اس لئے کہ نظریہ کے بارے میں کوئی تحریک بھی سودا بازی نہیں کرسکتی اور نظریہ اور دعوت کے بارے میں سود و شبان کا لحاظ بھی نہیں کیا جاتا۔ جب ایک شخص ایمان لا کر اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیتا ہے تو پھر چاہیے کہ اس زمین اور اس دنیا کے موثرات میں سے کوئی موثر بھی اس انسان پر اثر انداز نہ ہو کیونکہ زمین کا اپنا حساب و کتاب اور قدرو قیمت ہوتی ہے اور نظریات کی اپنی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ نظریہ کوئی مذاق نہیں ہوتا ، نظریات کے بارے میں کوئی بھی سودا بازی نہیں ہوسکتی کیونکہ نظریات سودے بازی سے بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس فعل کی سزا میں اس قدر سختی کی گئی ہے۔ اس سخت حکم سے صرف ایک استثناء ہے۔ وہ یہ کہ ایک آدمی کو اعلان کفر پر مجبور کردیا گیا ہو لیکن اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو ، یعنی کوئی شخص اعلان کفر اس حالت میں کردے کہ اسے موت کا خطرہ ہو لیکن اس کا دل ایمان و یقین پر مطئمن ہو۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت حضرت عمار ابن یاسر کے بارے میں نازل ہوئی۔
ابن جریر نے محمد ابن یاسر سے روایت کی ہے کہ مشرکوں نے عمار ابن یاسر کو پکڑا اور انہیں سخت تکلیف دی۔ بہت تشدد کیا یہاں تک کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق بات کرنے کے قریب ہوگیا۔ اس نے اس بات کی شکایت حضور ﷺ سے کی کہ اس نے تشدد کی وجہ سے یہ باتیں کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا تم اپنے دل کو کیسا پا رہے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ میرا دل تو ایمان پر مطمئن ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر انہوں نے پھر اس قدر تشدد کیا تو تم پھر ایسی بات کہہ دو ۔ چنانہچ ایسے مشکل حالات میں کلمات کفر کہنے کی اجازت اور رخصت دے دی گئی۔
بعض مسلمان ایسے بھی گرزے جنہوں نے محض زبان سے کلمہ کفر ادا کرنے کے مقابلے میں موت کو پسند کیا۔ سمیہ ابن یاسر نے یہ مقام عزیمت حاصل کیا۔ ان کے اندام نہانی میں تیر کا نشانہ لگا۔ اسی طرح ابو یاسر نے بھی یہ مقام حاصل کیا۔ دونوں شہید ہوگئے مگر کلمہ کفر نہ کہا۔
اور حضرت بلال ؓ کے ساتھ کیا کچھ نہ کیا گیا۔ شدید گرمی میں ایک عظیم پتھر ان کے سینے پر رکھ دیا جاتا اور کہا جاتا کلمہ شرک کہو۔ وہ انکار کرتے اور کہتے احد احد اور کہتے کاش اگر اس سے زیادہ سخت بات معلوم ہوتی تو میں وہ بھی کرتا۔
یہی حال حبیب ابن زید انصاری کا رہا۔ ان سے مسلیمہ کذاب نے کہا : کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ؟ تو ہو کہتے ہاں ، پھر اس نے کہا ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں رسول ہوں۔ تو وہ کہتے ہیں میں نہیں سن رہا۔ تو وہ ان کا ایک عضوکاٹتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حالت میں شہید ہوگئے۔
ابن عساکر نے عبد اللہ ابن حذیفہ سمی کی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ یہ صحابی تھے۔ ان کو رومیوں نے گرفتار کرلیا۔ انہوں نے اسے اپنے بادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ بادشاہ نے انہیں کیا کہ آپ نصرانی بن جائیں ، میں آپ کو اپنے اقتدار میں بھی شریک کرتا ہوں اور اپنی لڑکی آپ کے نکاح میں دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تو مجھے اپنی پوری مملکت دے دے اور تمام عربوں کی حکومت بھی عطا کردے ، اس کے عوض کہ میں محمد ﷺ کے دین کو ترک کردوں اور وہ بھی پلک جھپکنے جتنی دیر کے لئے تو بھی میں یہ کام نہ کروں گا۔ اس نے کہا تو پھر میں تمہیں قتل کردوں گا۔ انہوں نے کہا تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ کہتے ہیں کہ اس نے حکم دیا اور انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا۔ پھر اس نے تیرا ندازوں کو حکم دیا کہ وہ اس کے پائوں اور ہاتھوں کے قریب تیر ماریں۔ چناچہ وہ تیرمارتے رہے اور بادشاہ ان پر نصرانیت کا دین پیش کرتا رہا۔ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ انہیں سولی سے اتار دیں۔ چناچہ انہیں تختہ دار سے اتارا گیا۔ اس کے بعد تاننے کے ایک (تیل کی) ہنڈیا یا دیگ لائی گئی۔ اسے گرم کیا گیا۔ اس کے بعد ایک مسلمان قیدی لایا گیا ، اسے اس کے اندر پھینکا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ چمکدار ہڈیاں بن کر رہ گیا۔ اس کے بعد پھر اس نے ان پر اپنا دین پیش کیا اور انہوں نے انکار کردیا۔ اب اس نے حکم دیا کہ ان کو بھی اس میں پھینک دیا جائے۔ انہیں لوہے کی چرخی پر چڑھایا گیا تاکہ اس کے اندر پھینک دیں۔ اس وقت وہ روئے۔ اس پر اس بادشاہ کو یہ لالچ پیدا ہوگیا کہ شاید اب مان جائیں تو انہوں نے اسے بلایا تو انہوں نے کہا کہ میں رویا اس لئے ہوں کہ میری جان ایک ہے اور یہ ابھی اسی دیگ میں ڈال دی جائے گی اور ختم ہوجائے گی لیکن میری خواہش تو یہ ہے کہ میرے جسم کے ہر بال کے برابر جانیں عطا ہوتیں اور وہ اللہ کی راہ میں قربان ہوتیں۔
ایک روایت میں ہے کہ اس نے ان کو قید کردیا اور کھانا بند کردیا۔ ایک عرصے تک یہ پابندی تھی۔ اس کے بعد انہیں شراب اور خنزیر بھیجا تو انہوں نے ان کو ہاتھ نہ لگایا۔ تو انہوں نے بلا کر پوچھا کہ تم نے ان کو کیوں ہاتھ نہ لگایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیزیں اس وقت تو میرے لئے حلال ہیں لیکن میں تمہیں خوش کرنا نہیں چاہتا۔ اس پر اس نے کہا چلو میرے سرہی کو چوم لو ، میں تمہیں رہا کردوں گا۔ اس پر انہوں نے کہا کیا تم میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کردو گے ؟ تو اس نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے اس کے سر کو چوم لیا اور انہوں نے وہ تمام قیدی رہا کردئیے جو ان کے ساتھ تھے۔ جب وہ لوٹے تو عمر بن الخطاب ؓ نے فرمایا ہر مسلمان پر یہ حق ہے کہ وہ عبد اللہ بن حذافہ کا سر چومے اور میں اس کی ابتداء کرتا ہوں۔ وہ اٹھے اور انہوں نے ان کے سر کو چوما۔ اللہ دونوں سے راضی ہو۔
یہ اس لئے کہ عقیدہ اور نظیرہ ایک عظیم دولت ہیں۔ نظریہ میں کمزورہ نہیں دکھائی جاتی اور رخصتوں پر عمل نہیں ہوتا۔ اس کے لئے بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ اگرچہ رخصت ہوتی ہے لیکن ایک مومن نفس اس کو ترجیح دیتا ہے کہ وہ عزیمت پر عمل کرے کیونکہ نظریہ ایک ایسی امانت ہے جس پر انسان کو پوری زندگی اور پورے دنیاوی مفادات کو قربان کرنا چاہیے۔
Ayah 16:110یہ لوگ عربوں میں ضعفاء میں سے تھے اور سرکش مشرکین نے ان کو ان کے دین اور نظریہ کی وجہ سے تکالیف دیں۔ لیکن جونہی ان کو مواقعہ ملا انہوں نے ہجرت کی۔ اسلام پختگی حاصل کی۔ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور دعوت اسلامی کی خاطر تکالیف اٹھاتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کو مغفرت کی بشارت دیتے ہیں ۔
ان ربک من بعدھا لغفور رحیم (61 : 011) ” ان کے لئے یقینا تیرا رب غفور ورحیم ہے “۔
یہ وہ دن ہے جس میں ہر نفس اپنے معاملات میں گھرا ہوگا۔ کوئی کسی اور کی طرف متوجہ نہ ہوگا۔
Ayah 16:111یوم تاتی کل نفس تحادل عن نفسھا (61 : 111) ” ہر متنفس اپنے ہی بچائو کی فکر میں لگا ہوا ہوگا “۔ انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دن ہر شخص سخت ہولناک حالت میں ہوگا ، ہر شخص اپنے ہی بارے میں فکر کر رہا ہوگا ، اپنا ہی کیس لڑ رہا ہوگا۔ لیکن کسی کا جھگڑا اسے کچھ فائدے نہ دے گا۔ وہاں تو ہر کسی کو اپنی ہی کمائی ملے گی۔
وھم لا یظلمون (61 : 111) ” کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا “۔
درس نمبر 421 ایک نظر میں
اس سے پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ نے اس سورة میں دو مثالوں کے ذریعے اسلامی عقیدہ توحید کو سمجھایا ہے۔ یہاں اباہل مکہ اور مشرکین قریش اور مکہ کے حالات پر ایک مثال دی جاتی ہے۔ اہل مکہ پر اللہ نے اپنے انعامات کی بارش کردی تھی لیکن انہوں نے اپنی نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا۔ اس مثال کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو اس انجام سے خبردار کرنا چاہتے ہیں جو مستقبل کے پردوں میں ان کا منتظر ہے۔
اس مثال میں جن نعمتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ وافر رزق اور امن و اطمینان کی نعمت ہے جو مکہ میں موجود تھی ، اس حوالے سے پھر ان کے سامنے یہ بات بھی رکھی جاتی ہے کہ انہوں نے بت پرستی کی وجہ سے اپنے اوپر بعض طیبات اور حلال چیزوں کو خواہ مخواہ حرام کر رکھا ہے حالانکہ اللہ نے چیزوں کو حلال قرار دیا ہے۔ اللہ نے حرام چیزوں کو بیان کردیا ہے اور یہ چیزیں ان میں سے نہیں ہیں۔ یہ بھی ایک طرح سے انعامات الہیہ کی ناشکری ہے۔ اس طرح کی ناشکری کے نتیجہ میں بھی تم پر عذاب الیم نازل ہوسکتا ہے اور یہ اللہ پر بہت ہی بڑا افتراء ہے اور اللہ نے ان اشیاء کی حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا ہے۔
پھر مسلمانوں پر جو ناپاک چیزیں حرام کی گئیں اس کے حوالے سے ان اشیاء کا بھی ذکر کیا جاتا ہے جو یہودیوں پر حرام کی گئیں۔ یہ چیزیں ان پر بطور سزائوں کے بعض جرائم کی وجہ سے حرام کی گئی تھیں۔ نیز یہ ان کے بعض مظالم کی وجہ سے بطور سزا حرام ہوئی تھیں۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد سے حرام نہ تھیں جو اپنی ذات میں ایک امت تھے اور اللہ کی طرف یکسو اور حنیف تھے۔ شرک نہ کرتے تھے اور اللہ نے ان کو ہدایت دی تھی۔ وہ برگزیدہ تھے اور صراط مستقیم پر تھے۔ یہ طیبات ان پر بھی حلال تھیں اور ان کی اولاد پر بھی۔ یہاں تک کہ بعد کے ادوار میں بنی اسرائیل پر بطور سزا حرام ہوئیں اور ان جہالتوں سے کوئی تائب نہ ہوجائے تو اللہ غفور ورحیم ہے۔
اس کے بعد دین ابراہیم کے تسلسل کے طور پر حضرت محمد ﷺ کا دین آیا ، اس میں وہ تمام طیبات از سر نو حلال کردی گئیں جو دین ابراہیم میں حلال تھیں ۔ اسی طرح یوم سبت میں یہودیوں کو شکار سے منع کیا گیا تھا ، اسے بھی حلال کردیا گیا تھا کیونکہ یہودیوں نے سبت کی پابندی کو بھی مشکوک بنا دیا تھا۔ بعض لوگ رک گئے اور بعض نے سبت کی پابندی کو توڑ دیا۔ اس لئے اللہ نے ان لوگوں کو بھی مشکوک بنا دیا تھا۔ بعض لوگ رک گئے اور بعض نے سبت کی پابندی کو توڑ دیا ۔ اس لئے اللہ نے ان لوگوں کے چہرے مسخ کردئیے اور ان کو انسانیت کے درجہ سے گرا دیا۔
اس مناسبت سے رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کی راہ کی طرف نہایت ہی حکمت سے اور بہترین نصیحت سے دعوت دیتے ہیں اور ان کے ساتھ نہایت ہی بھلے انداز میں مکالمہ کریں۔ اگر آپ پر زیادتی ہو توق صاص اس کی سنتب سے عادلانہ ہو ، کسی صورت میں بھی حد سے تجاوز نہ کیا جائے۔ اگر مخالف کو معاف کردیا جائے اور صبر سے کام لیا جائے تو یہ سب سے بہتر ہے۔ اس کے بعد یاد رکھو کہ اچھا انجام متقین اور محسنین ہی کا ہے کیونکہ اللہ اہل تقویٰ اور اہل احسان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اللہ ان کی امداد کرتا ہے ، ان کی نگرانی کرتا ہے اور صلاح و فلاح کی راہ کی طرف ان کو راہنمائی کرتا رہتا ہے۔
Ayahs 16:112–113یہ مثال مکہ پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ اللہ نے اس بستی میں بیت اللہ بنایا۔ پھر اس کو حرکت دیتے ہوئے بلد حرام قرار دیا۔ جو شخص اس میں داخل ہوجائے وہ آمن اور مامون ہوگا۔ کسی کو اجازت نہ ہوگی کہ کوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھائے اگرچہ وہ قاتل ہو۔ جب تک وہ بیت اللہ میں ہے کسی کو جرأت نہیں ہوتی کہ وہ اس کی طرف ہاتھ بڑھائے۔ جزیرۃ العرب کی حالت یہ ہوتی تھی کہ مکہ کے ارد گرد کے تمام علاقوں میں امن وامان نہ تھا اور لوگوں کو اچک لیا جاتا تھا۔ لیکن اہل مکہ ہر وقت امن وامان میں رہتے تھے اور نہایت ہی اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ نیز ان کا سامان زیست بھی ہر طرف سے چلا آرہا تھا ، حاجیوں کے ساتھ اور پر امن تجارتی قافلوں کے ساتھ ، حالانکہ وہ وادی غیر ذی زرع میں بستے تھے۔ اس کے باوجود ہر چیز کا ثمرہ اور ہر قسم کا پھل ان تک پہنچتا تھا۔ یوں وہ امن کے مزے لیتے تھے اور خوشحالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کا یہ حال اس وقت سے تھا جب سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے لئے دعا کی تھی۔
پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو یہ لوگ آپ ﷺ سے اچھی طرح واقف تھے ۔ یہ آپ ﷺ کو صادق و امین کہتے تھے۔ وہ آپ ﷺ میں کوئی کمزوری نہ پاتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو نبوت عطا کرتے ہیں تاکہ آپ ﷺ ان کو اور ان کے ارد گرد پھیلی ہوئی پوری کائنات کی اصلاح کریں۔ اور آپ ﷺ کا دین بھی دین ابراہیم ہے جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی۔ جس کے جوار رحمت میں یہ لوگ امن و اطمینان کی زندگی بسر کرتے ہیں اور نہایت ہی خوشحالی اور فارغ البالی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ ﷺ پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں۔ آپ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے پیروکاروں پر قسم قسم کی سختیاں کرتے ہیں اور ستم ڈھاتے ہیں۔
کسی قریہ کی یہ مثال جو اللہ اہل مکہ کے لئے بیان کرتے ہیں اور وہ خود ان کے حالات پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے۔ اس کا انجام ان کے انتظام میں ہے جس طرح اللہ نے اس گائوں کی مثال دی جس کے باسی مطمئن اور پر امن تھے۔ ان کے لئے سامان زیست وافر مقدار میں ہر طرف سے آرہا تھا لیکن انہوں نے اللہ کے انعامات کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول کی تکذیب کی۔ پھر کیا ہوا۔
فازاقھا اللہ لباس الحوع الخوف بما کانوا یصنعون (61 : 211) ” تب اللہ نے اس کے باشدوں کو ان کے کرتوتوں کا مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف ان کا لباس ہوگا “۔ ان پر دوسرے عذاب بھی آئے اس لئے کہ وہ ظالم تھے۔ یہاں اللہ تعالیٰ خوف اور بھوک کو لباس کی طرح مجسم کرکے پیش فرماتے ہیں۔ گویا وہ ہر وقت اس حالت میں رہتے ہیں اور بھوک و افلاس ان کا لباس ہے اور اس لباس کو وہ پہنتے نہیں چکھتے ہیں کیونکہ محض لباس پہننے سے چکھنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس میں قوت ذائقہ اور لامسہ بیک وقت کام کرتی ہے اور اس طرح بھوک اور خوف کا احساس دو چند ہوجاتا ہے اور بات نفس میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے۔ یہ نہایت ہی زودار انداز بیان اس لئے اختیار کیا گیا ہے تاکہ وہ آنے والے انجام کے بارے میں اچھی طرح سوچ سکیں۔
اس مثال میں ایک طرف سے اللہ کی نعمتوں اور رزق کا تخیل دیا گیا ہے اور دوسری جانب ان سے محرومتی کا تصور دیا گیا ہے۔ اس مناسبت سے یہاں یہ …دیا گیا کہ ان کے لئے جو طیبات حلال کردی گئی ہیں ، ان کو کھائو اور اللہ کا شکر ادا کرو۔ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرو۔ راہ ایمان پرسیدھے چلو اور شرک سے بچو جس کی وجہ سے ان کے نام نہاد الہوں نے ان پر بعض طیبات بےجواز حرام کردئیے ہیں۔
Ayah 16:114تشریح : اللہ تعالیٰ محرمات کی حد بندی فرما دیتے ہیں۔ محرمات کا شمار کردیا جاتا ہے کہ بس یہی ہیں اس کے سوا کوئی چیز حرام نہیں اور اس شمار میں وہ محرمات نہیں جو انہوں نے از خود اپنے اوپر حرام کر رکھے ہیں۔ مثلاً بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔
Ayah 16:115یہ چیزیں مختلف وجوہات سے حرام کی گئی ہیں یا تو اس لئے کہ ان میں جسمانی مصرت ہے یا حسی مضرت ہے مثلاً مردار ، خون اور لحم لغنزیز میں یا نفسیاتی اور نظریاتی مضرت ہے مثلاً وہ ذبحیے جن پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہے۔
آیت : فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فان اللہ غفور رحیم۔ (521) ۔
ترجمہ :” البتہ بھوک سے مجبور اور بےقرار ہو کر اگر کوئی ان چیزوں کو کھانے ، بغیر اس کے کہ وہ قانون الٰہی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہو یا حد ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو ، تو یقینا اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے “۔
اس لئے کہ دین اسلام ایک سہل دین ہے اور اس میں کسی پر غیر ضروری سختی نہیں ہے۔ جس شخص کو موت کا ڈر ہو ، یا بھوک سے سخت بیماری کا اندیشہ ہو یا سخت پیاس کا اندیشہ ہو تو وہ بقدر ضرورت ان چیزوں کو استعمال کرسکتا ہے۔ اس بارے میں فقہی اختلافات ہیں جن کا تذکرہ پہلے ہم کر آئے ہیں۔ غیر باغ کا مطلب یہ ہے کہ وہ اصول حرمت کو توڑنے والا نہ ہو اور غیر عاد کا مطلب یہ ہے کہ وہ قدر ضرورت سے آگے بڑھنے والا نہ ہو کیونکہ صرف بقدر ضرورت اجازت دی گئی ہے۔
یہ ہیں حدود حلال و حرام جو اللہ نے مطعومات میں وضع کیے ہیں۔ لہٰذا بت پرسانہ اوہام کے نتیجے میں حلال و حرام کے ان حدود سے تجاوز مت کرو ور نہ جھوٹ بولو ، اس طرح کہ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دو اور یہ کہو کہ یہ اللہ کا حکم ہے کیونکہ حلال و حرام کے حدود قیود وضع کرنا صرف اللہ کے اختیارات میں ہے۔ اس کا تعلق قانون سازی سے ہے اور قانون سازی کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ جو شخص اللہ کے اذن کے سوا اور قرآن و سنت کی دلیل کے سوا قانون سازی کرے گا اور اپنے آپ کو اس کا مستحق سمجھے گا وہ جھوٹا ہے اور جھوٹے اللہ کے ہاں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔
Ayah 16:116یہ تمہاری زبانیں جو جھوٹے طور پر بعض چیزوں کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہ حرام ہے اور یہ حلال ہے ان کو حلال و حرام نہ سمجھو۔ یہ افتراء علی اللہ ہے۔ نیز تم جو ایسا کہتے ہو کہ یہ حرام ہے اور یہ حلال ہے بغیر دلیل شرعی کے جھوٹ بھی ہے۔ ایسے لوگ ظٓہر ہے کہ دنیا کے چند روزہ زندگی میں ضرورعیش و عشرت کرلیں گے لیکن آخرت میں ان کے لئے عذاب ہے اور یہ لوگ سخت گھاٹے میں ہوں گے۔
ان آیات کے باوجود ، بعض لوگ اسلامی ممالک میں قانون سازی کا کام کرتے ہیں اور ایسی قانون سازی کرتے ہیں جو قرآن و سنت کے صریح خلاف ہوتی ہے اور پھر بھی یہ امید رکھتے ہیں کہ انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی ہوگی بلکہ عذاب عظیم کے مستحق ہوں گے۔
Ayah 16:117یہاں سورة انعام کی ایک آیت کے مضمون کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ ان میں بعض مزید چیزیں بھی یہودیوں پر حرام کی گئی تھیں۔ ایک یہ ہے۔
وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ومن البقر الغنم حرمنا علیھم شحومھما الا ما حملت ظھور ھما او الحوایا او ما اختلط بعظم (6 : 741) ” اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے ، ان پر ہم نے ہر ناخن والی چیز کو حرام کیا تھا اور گائے اور بھیڑ بکری سے ہم نے ان پر چربی حرام کردی تھی ماسوائے اس کے جو ان کی پیٹھ پر یا آنتوں کے ساتھ یا ہڈیوں سے مخلوط ہو “ تو بتایا جاتا ہے کہ یہ چیزیں ان پر بطور سزا حرام ہوئی تھیں۔
Ayahs 16:118–119بنی اسرائیل پر یہ چیزین اس لئے حرام کی گئی تھیں کہ وہ مسلسل نافرمانی اور حدود سے تجاوز کرتے تھے اور یہ ان کی جانب سے خود پنے آپ پر ظلم تھا۔ اب اگر کسی نے برے کام پر اصرار نہ کیا اور جہالت سے سچے دل سے تائب ہوگیا تو اللہ غفور الرحیم ہے۔ اس کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ آیت عام ہے یہودیوں کے لئے بھی تھی اور ان کے بعد آج مسلمانوں کے لئے بھی ہے۔ نیز آج یہودی اور غیر یہودی کافر اگر تائب ہوجائیں تو ان کے بھی تمام گناہ بخشے جائیں گے۔
اس مناسبت سے کہ بعض چیزیں یہودیوں پر کیوں حرام کی گئیں اور یہ کہ اہل مکہ کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ دین ابراہیم پر ہیں اور جن چیزوں کو انہوں نے اپنے الہوں کے نام پر حرام قرار دیا ہے وہ احکام ان کو دین ابراہیم سے ملے ہیں۔ یہاں روئے سخن ابراہیم (علیہ السلام) اور دین ابراہیم کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ کیا تھے اور آپ کا دین کیا تھا اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ حقیقی دین ابراہیم پر ہیں اور یہ کہ یہودیوں پر جو مخصوص چیزیں ان کے جرائم کی وجہ سے حرام ہوئیں وہ دین ابراہیم میں حرام نہ تھیں۔
Ayah 16:120قرآن کریم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بطور نمونہ ہدایت ، مجسمہ انابت اور صبرو شکر کا پیکر اور مطیع اور عبادت گزار بنا کر پیش کرتا ہے۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ وہ امت تھے ، یعنی ان کے اندر جو اطاعت ، انابت اور شکر و برکت تھی وہ پوری امت کے برابر تھی۔ یا اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ امام ہدایت تھے…مفسرین سے دونوں مفہوم مروی ہیں۔ اور دونوں مفہوم ایک دوسرے کے قریب ہیں۔ کیونکہ جو امام ہدایت کی راہ دکھائے وہی امت کا قائد ہوتا ہے اور ایسے امام کو ان تمام لوگوں کے اعمال کا ثواب بھی ملے گا جن کو اس نے ہدایت کا راستہ دکھایا۔ اس طرح یہ راہنما بذات خود ایک امت بن جاتا ہے۔ وہ فرد واحد نہیں رہتا۔
قائنا للہ (61 : 021) کا مفہوم ہے اطاعت گزار ، خشوع کرنے والا اور عبادت کرنے والا۔
حنیفا (61 : 021) کا مفہوم ہے حق کی طرف متوجہ ہونے والا۔ سچائی کا قلبی میلان رکھنے والا۔
ولم یک من المشرکین (61 : 021) ” وہ مشرکین میں سے نہ تھے “۔ لہٰذا مشرکین کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنا تعلق ان سے ظاہر کریں۔ نہ اپنے آپ کو ان کے ذریعے متبرک بنائیں۔
Ayahs 16:121–122شاکر الانعمہ (61 : 121) ” وہ اللہ کی نعمتوں پر شکر گزار تھے “۔ قول کے ساتھ بھی اور عمل کے ساتھ بھی۔ جبکہ مشرکین مکہ زبانی طور پر بھی اللہ کے انعامات کی ناشکری کرتے ہیں اور عملاً بھی کفران نعمت کرتے ہیں۔ اس طرح کہ وہ اللہ کے انعامات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں۔ اور محض اوہام اور خواہشات کے نتیجے میں اللہ کی بعض نعمتوں کو اپنے اوپر حرام کرتے ہیں۔
اجتبہ (61 : 121) ” اللہ نے انہیں چن لیا “۔
وھدہ الی صراط مستقیم (61 : 121) ” اور اسے صراط مستقیم کی طرف ہدایت دی “ اور صراط مستقیم خالص اور سیدھی توحید کی راہ ہے۔ یہ ہیں حضرت ابراہیم جن کے ساتھ یہودی بھی تعلق جوڑتے ہیں اور جن کے ساتھ مشرکین مکہ بھی اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔
Ayah 16:123ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابرھیم حنیفا وما کان من المشرکین (61 : 321) ” اور پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکین میں سے نہ تھا “۔ پس ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ حقیقی رابطہ اس دین جدید کا ہے۔ رہا یہ سوال کہ سبت کی تحریم یعنی ہفتے کے دن دنیاوی کاموں کی ممانعت تو یہ صرف یہودیوں کے ساتھ مخصوص معاملہ تھا۔ اس میں بھی انہوں نے اختلافات کیے۔ سبت کی تحریم کا بھی دین ابراہیم سے تعلق نہیں ہے لہذا سبت کی تحریم دین محمد میں بھی نہیں ہے۔
Ayah 16:124انما جعل الشبت علی الذین اختلفوا فیہ (61 : 421) ” رہا سبت تو وہ ہم نے ان لوگوں پر مسلط کیا تھا جنوہوں نے اس کے احکام میں اختلاف کیا “۔ اور اس کا فیصلہ بھی اللہ کے حوالے ہے۔
وان ربک لیحکم بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون (61 : 421) ” اور یقینا تیرا رب قیامت کے روز ان سب باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں “۔
یہاں تک دین جدید اور خالص عقیدہ توحید اور دین ابراہیم اور ان کے عقیدہ توحید کے باہم تعلق اور ان دونوں اور مشرکین و یہود کے منحرف عقائد کے درمیان فرق و امتیاز کی بات تھی۔ قرآن مجید کے مقاصد میں سے یہ ایک اہم مقصد بھی تھا۔ اب آخر میں رسول اللہ ﷺ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ اپے رب کی راہ میں آگے بڑھتے رہیں اور بہترین نصیحت اور حکمت اور اعتدال کے ساتھ اپنی دعوت کو پھیلاتے رہیں۔ اگر مخالفین کے ساتھ مکالمہ کرنا پڑے تو یہ نہایت ہی احسن طریقے سے ہونا چاہیے۔ ہاں اگر مخالفین تحریک اسلامی پر دست درازی کریں تو انتقام میں حد سے نہ گزریں اور قصاص کی حد تک اپنی جوابی کاروائی محدود رکھیں۔ ہاں اگر آپ مخالفین کی بعض قابل معافی حرکات سے درگزر کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ آپ اطمینان رکھیں کہ اچھا انجام یقینا خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لئے ہے۔ آپ ان لوگوں کے لئے پریشان نہ ہوں۔ اگر وہ مان کر نہیں دیتے اور اگر وہ آپ کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف مکاریاں کرتے ہیں تو بھی آپ پرواہ نہ کریں۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔