Ayah 20:1طٰہٰ (1)
یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ ان حروف پر مفصل بحث سورة بقرہ کے شروع میں دیکھئے۔
Ayah 20:2ما انزلنا علیک القران لتشقی (2)
تبلیغ میں حضور ﷺ کی محنت مثاقہ اور آپ ﷺ کو دل نواز تسلی
یہ نہایت دل نواز اور پر محبت انداز میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو سمجھایا ہے کہ قرآن کی تبلیغ و دعوت سے متعلق آپ نے اپنے سر پر جو ذمہ داری اٹھائی ہے اور جو محنت مثاقہ اس کے لئے آپ جھیل رہے ہیں۔ اس کا مطالبہ ہرگز آپ سے نہیں ہے۔ آپ کی ذمہ داری صرف لوگوں تک اس کتاب کو پہنچا دینے کی ہے۔ جن کے اندر حق شناسی کی صلاحیت اور خشیت الٰہی کی کچھ رمق ہوگی وہ اس کو قبول کریں گے، جو ان صلاحیتوں سے عاری ہیں ان کے دلوں میں اس کو اتار دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ ان کے پیچھے آپ اپنی زندگی کو اجیرن بنا لیں۔
یہ بات ہم اس کتاب میں متعدد جگہ واضح کرچکے ہیں کہ رات دن دعوت کے کام میں لگے رہنے کے باوجود نبی ﷺ جب دیکھتے کہ لوگ اتنی واضح بات کو جھٹلا رہے ہیں اور کسی طرح ان کے دل نرم ہوتے نظر ہیں آتے تو آپ کو یہ پریشانی ہوتی کہ مبادا اس میں آپ ہی کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ اس احساس سے دعوت کے کام میں آپ کی سرگرمیاں اور بڑھ جاتیں اور سارے جتن کر ڈالنے کے باوجود آپ کو کسی طرح تشفی نہ ہوتی۔ آپ کی اسی حالت پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ قرآن آپ ﷺ پر اس لئے اتارا گیا کہ آپ ﷺ کی زندگی اجیرن ہو کے رہ جائے۔ آپ کی جو ذمہ داری ہے وہ ادا کر دیجئے۔ دوسروں کے ایمان و اسلام کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے۔
Ayah 20:3الا تذکرۃ لمن یخشی (3)
قرآن ایک تذکرہ ہے
اس ٹکڑے سے قرآن کی حیثیت بھی واضح ہوگئی۔ پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری کی حد بھی معین ہوگئی اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کون لوگ اس سے اثر پذیر ہوں گے اور کون اس سے محروم رہیں گے۔
فرمایا کہ یہ تو بس ایک ’ تذکرہ ‘ ہے ’ تذکرہ ‘ کے معنی یاد دہانی کے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یاد دہانی جس چیز کی کی جاتی ہے وہ خارج سے لائی ہوئی چیز کی نہیں کی جاتی بلکہ اس چیز کی کی جاتی ہے جو مخاطب کے خود اپنے پاس ہو لیکن وہ اس کو بھولا ہوا ہو۔ قرآن پر غور کیجئے تو اس کی اصلی نوعیت یہی ہے۔ وہ کوئی اوپری اور انوکھی چیز نہیں ہے۔ وہ کسی خارج سے لائی ہوئی چیز کو ہمارے اوپر نہیں لادتا بلکہ انہی حقائق کی یاد دہانی کرتا ہے جو خود ہماری فطرت کے اندر موجود ہیں لیکن ہم ان سے غافل ہیں۔ قرآن ان حقائق کی یاددہانی کے لئے جو دلائل استعمال کرتا ہے وہ بھی آفاق وانفس کے وہی دلائل ہیں جو ہمارے عقل کے خزانے میں موجود ہیں۔ لیکن ہم یا تو ان کو استعمال نہیں کرتے یا ان کے بدیہی نتائج کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ عبرت و موعظت کے لئے قرآن نے جو تاریخ پیش کی ہے وہ بھی ان قوموں کی پیش کی ہے جو مخاطب گروہ کی جانی پہچانی ہوئی تھیں۔ جن انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیمات کا حوالہ دیا ہے یہ بھی وہ انبیاء ہیں جن کی ذریت اور جن کے پیرو ہونے کے لوگ مدعی تھے۔
قرآن سے اثر پذیر ہونے کے لئے شرط
اس یاد دہانی سے اثر پذیر ہونے والوں کی صفت ”لمن یخش“ بیان فرمائی۔ قرینہ دلیل ہے کہ یخشی کا مفعول یہاں مخدوف ہے۔ قرآن کے نظائہ کی روشنی میں اس مخدوف کو متعین کیجئے تو پوری بات یوں ہوگی کہ ”لمن یخشی ربہ بالغیب“ یعنی یاد دہانی ان لوگوں کے لئے ہے جو غیب میں رہتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ یہ دوسرے لفظوں میں وہی بات ارشاد ہوئی ہے جو بقرو کی دوسری ہی آیت میں ”ھدی للمتقین“ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ وہاں ہم نے تفصیل سے واضح کیا ہے کہ یہ تقویٰ اور یہ خوف ان تمام لوگوں کے اندر موجود ہوتا ہے جن کی فطرت مسخ ہونے سے محفوظ ہوتی ہے۔ اس طرح کے لوگوں پر اگر غفلت ہوتی ہے تو وہ قرآن کی یاددہانی سے دیر سویر جاگ پڑتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اپنی بداعمالیوں سے اپنی فطرت مسخ کرلیتے ہیں ان کو کتنا ہی جھنجھوڑیئے وہ کروٹ نہیں لیتے۔ ان کے اوپر گدھوں کی طرح ڈنڈے کی منطق کے سوا اور کوئی منطق کارگر نہیں ہوتی۔ وہ سب کچھ سر کی آنکھوں سے دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں لیکن خدا کے ہاں ماننا صرف وہ معتبر ہے جو عقل و دل کی آنکھوں سے دیکھ کر مانا جائے نہ کہ سر کی آنکھوں سے۔
نبی مذکر ہوتا ہے نہ مصیطر
قرآن کے تذکرہ ہونے سے یہ بات بھی نکلی کہ نبی ﷺ کی حیثیت ایک ”مذکر“ کی ہے نہ کہ ایک ”مصیطر“ کی۔ آپ کا فریضہ صرف یہ تھا کہ آپ لوگوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلا دیں۔ لوگ اس سبق کو یاد کرتے ہیں یا نہیں، یہ لوگوں کی ذمہ داری تھی نہ کہ آپ کی۔ قرآن نے یہاں اسی حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اگر آپ کی قوم کے لوگ آپ کی تذکیر سے فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں تو آپ پریشان نہ ہوں، اس کے لئے جو اب وہ عند اللہ وہ ہیں نہ کہ آپ۔
Ayah 20:4تنزیلا ممن خلق الارض و السموت العلی (3)
”تنزیل“ کا مفہوم
”تنزیل“ کے معنی دوسرے مقام میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ کسی چیز کو نہایت اہتمام اور ترتیب و تدریج کے ساتھ اتارنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن چونکہ لوگوں کی یاددہانی کے لئے اترا ہے اس وجہ سے اللہ نے صرف اتنے پر اکتفا نہیں فرمایا کہ کسی نہ کسی طرح بات ایک مرتبہ لوگوں تک پہنچ جائے بلکہ نہایت اہتمام اور تدریج اور وقفہ وقفہ کے ساتھ اس کو اتارا تاکہ لوگوں کے لئے یہ عذر باقی نہ رہے کہ بات کے سنانے یا سمجھانے میں کوئی کسر رہ گئی۔
قرآن کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خالق کا فرمان ہے
”من خلق الارض و السموت العلی“ یہ قرآن کی عظمت واضح فرمائی کہ یہ زمین اور بلند آسمانوں کے خالق ومالک کی طرف سے اتارا گیا ہے۔ نہ یہ کوئی ہوائی بات ہے کہ یوں ہی ہوا میں اڑ جائے نہ یہ کسی سائل کی درخواست ہے کہ لوگوں نے قبول کرلی تو سائل پر ان کا کرم ہوگا، نہ قبول کی تو سائل محروم ہو کر رہ جائے گا۔ بلکہ یہ خالق ارض و سماء کا فرمان واجب الاذعان ہے اگر لوگوں نے اس کو رد کیا تو اچھی طرح سوچ لیں کہ اس کے نتائج کیا کچھ ہو سکتے ہیں۔
اس میں نبی ﷺ کے لئے یہ اشارہ بھی ہے کہ اس کو اسی طرح لوگوں کے سامنے پیش کیجئے جس طرح آسمان و زمین کے خالق ومالک کا کلام پیش کیا جانا چاہئے۔ اس کے لئے نہ زیادہ استمالت کی ضرورت ہے، نہ کسی الحاح و اصرار کی۔ اس کے قبول کرنے میں لوگوں کا اپنا نفع ہے نہ کہ خدا کا۔ یہ کوئی ملتجیانہ درخواست نہیں ہے بلکہ خلق کے لئے صحیفہ ہدایت ہے اس کو رد کرنے والے خود اپنی شامت بلائیں گے۔ آپ کا کچھ نہیں بگاڑیں گے۔
یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے قرآن مجید میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے۔ سورة عبس میں یہی حقیقت یوں واضح کی گئی ہے۔ کلا انھا تذکرۃ، فمن شاء ذکرہ و فی صحف مکرمۃ و مرفوعۃ مطھرۃ بایدی سفرۃ کرام مبدۃ۔ (11۔ 16)
ہرگز نہیں ! یہ تو ایک یاد دہانی ہے تو جو چاہے اس سے فائدہ اٹھائے۔ یہ معزز بلند اور پاکیزہ صحیفوں میں ہے۔ باعزت اور باوفا کاتبوں کے ہاتھ میں۔
Ayahs 20:5–6الرحمن علی العرش استوی۔ لہ ما فی السموت و ما فی الارض وما بینھما و ما تحت الثری (5۔ 6)
قرآن کی عظمت کا بیان اور یہ خدا کی جن صفات کا مطہر ہے ان کا حوالہ
یہ قرآن کی عظمت کا بیان بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کی جن صفات کا یہ مظہر ہے ان کی طرف اشارہ بھی۔ فرمایا کہ وہ خالق ارض و سماء رحمان ہے۔ اس کی رحمانیت کا تقاضا ہے کہ وہ خلق کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ نہ دے بلکہ جس طرح اس نے اس کی مادی زندگی کے اسباب و وسائل مہاک فرمائے اسی طرح اس کی ہدایت کا سامان بھی کرے، چناچہ اس نے انسان کی رہنمائی کے لئے اس کو عقل و نطق سے نوازا اور اس پر مزید فضل یہ فرمایا کہ اس کی ہدایت کے لئے اپنی کتاب اتاری۔ اسی حقیقت کی طرف سورة رحمن میں الرحمن و علم القران کے الفاظ سے اشارہ فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ قرآن کو رد کر رہے ہیں وہ نہ تو خدا کا کچھ بگاڑ رہے ہیں نہ اس کے رسول کا بلکہ خود اپنے آپ کو خدا کی سب سے بڑی رحمت سے محروم کر رہے ہیں۔
”علی العرش استوی“ یہ خدائے رحمان کی صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ دنیا کو پیدا کر کے الگ تھلگ کسی گوشتے میں نہیں جا بیٹھا ہے بلکہ بالفعل اپنی کائنات کے عرش حکومت پر متمکن ہے۔ اس کائنات کا حقیقی فرمانروا وہی ہے اس وجہ سے لوگوں کو قرآن کے ذریعہ سے اس نے اپنے احکام و قوانین سے آگاہ کردیا ہے۔ اس آگاہی کے بعد جو لوگ اپنی من مانی کریں گے وہ حساب کے دن اپنا انجام خود دیکھ لیں گے۔
”لہ ما فی السموت وما فی الارض و ما بینھما وما تحت الثری“ یہ شرکت کے ہر جرثومہ کی جڑ کاٹ دی۔ فرمایا کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان اور جو کچھ زیر زمین ہے سب کا خالق ومالک وہی ہے۔ سب کو خلق بھی اسی نے کیا ہے اور سب پر اختیار بھی اسی کا ہے۔ اس کائنات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو اس کی خدائی سے باہر ہو۔ جس کو کسی خاص دائرے میں کوئی آزادی ملی بھی ہے وہ بھی اس کے امر و حکم کے تحت ہے۔ اس وجہ سے کوئی یہ گمان نہ کرے کہ وہ خدا سے کہیں بھاگ سکتا ہے یا کوئی دوسرا اس کو پناہ دے سکتا ہے۔
Ayah 20:7وان تجھر بالقول فانہ یعلم السرواخفی (7)
عربیت کا ایک اسلوب
فصیح عربی کے اسلوب کے مطابق اس میں مقابل کے الفاظ، بربنائے قرینہ، حذف ہیں۔ اس اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آئے ہیں۔ اس حذف کو کھول دیجئے تو پوری بات گویا یوں ہوگی، وان تجھر بالقول او تغافت بہ فانہ یعلما الجھر والسروا اخفی“ یعنی خواہ تم بات کو علانیہ کہو یا چپکے سے کہو، خدا علانیہ، پوشیدہ اور پوشیدہ تر سب کو جانتا ہے۔
نبی ﷺ کو ایک نئے پہلو سے تسلی
نبی ﷺ کو ایک دوسرے پہلو سے تسلی دی گئی ہے کہ آپ مطمئن رہیں کہ اپنی مشکلات میں جو کچھ بھی آپ اپنے پروردگار سے کہتے اور جو دعا و مناجات بھی کرتے ہیں خواہ سرایا علانیۃ، اور جو پریشانی بھی آپ کو لاحق ہوتی ہے خواہ وہ زبان پر آئے یا دل کے مخفی گوشوں ہی میں رہے، آپ کا رب علیم وخبیر ہر چیز سے باخبر رہتا ہے۔ مقصود اس حقیقت کے اظہار سے ظاہر ہے کہ اس کا لازم ہے۔ یعنی جب آپ کا پروردگار ہر مخفی سے مخفی بھید سے بھی واقف ہے تو وہ آپ کی ہر مشکل کو آسان کرے گا اور ہر موڑ پر آپ کی رہنمائی فرمائے گا۔ اگر کسی امر میں کوئی تاخیر ہوتی ہے تو وہ کسی حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتی ہے اور اسی میں آپ کے لئے خیر و برکت ہے۔ سورة مریم کی آیت 64 ”وما کان ربک نسیا“ کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں مزید تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
Ayah 20:8اللہ لا الہ الا ھو ط لہ الاسماء الحسنی (8)
تفویض کی ہدایت
یہ نبی ﷺ کا کامل تفویض کی ہدایت ہے کہ آپ مخالفین کے رویہ سے پریشان اور ان کے پیچھے ہلکان ہونے کے بجائے اپنا معاملہ کلیۃً اپنے رب کے حوالے کیجیے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کے ہوتے آپ کسی کے محتاج نہیں۔
تسلی و طمانیت کا خزانہ
لہ الاسماء الحسنی۔ یہ ٹکڑا تسلی و طمانیت کا خزانہ ہے۔ اوپر کی آیات میں نبی ﷺ کو جو تسلی دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے اس کی عظمت، اس کی رحمت، اس کی حکمیت، اس کی یکتائی اور اس کے علم کے مقتضالت کی روشنی میں دی گئی ہے لیکن خدا کی صفات اتنی ہی تو نہیں ہیں ! وہ تو تمام اچھی اور اعلیٰ صفتوں سے متصف ہے تو ظاہر ہے کہ ان صفات کے مقتضیات بھی حضور ﷺ کے لئے حالات کے اعتبار سے ظاہر ہوں گے۔ گویا اس ٹکڑے میں نبی ﷺ کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ تمام اچھی صفتیں خدا ہی کے لئے ہیں اور وہ سب آپ کے اوپر سایہ فگن ہیں، آپ ان میں سے جس کا سہارا بھی لیں گے اس کی برکتوں سے متمتع ہوں گے۔ ان کے سوا آپ کسی اور سہارے کے محتاج نہیں ہیں۔
اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ یہاں اسماء سے مراد صفات الٰہی ہیں اس لئے کہ خدا کے تمام نام اس کی صفات کی ہی کی تعبیر ہیں۔
Ayah 20:92۔ آگے کا مضمون … آیات 9 تا 98
اوپر کے مجموعہ آیات میں نبی ﷺ کو جو تسکین و تسلی دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کی روشنی میں دی گئی ہے۔ اب آگے حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت آرہی ہے جس میں وہی حقیقتیں، جو اوپر علمی انداز میں بیان ہوئی ہیں، چلتی پھرتی عملی زندگی میں دکھا دی گئی ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کو بعثت سے پہلے اور بعثت کے بعد جن آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور ان میں اللہ کی مدد نے جس طرح ان کو سہارا دیا، ان کی تفصیل اس سرگزشت میں آگئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے آگے جو مراحل آنے والے تھے ابھی ان کا بہت بڑا حصہ پس پردہ تھا اس سرگزشت نے ان مراحل کو بھی آپ ﷺ کے سامنے کردیا اور ان کے لئے جن تیاریوں کی ضرورت تھی ان کی طرف بھی اشارہ کردیا۔ زندگی عملی مثالوں سے جس قدر متاثر ہوتی ہے دوسری کسی چیز سے اس قدر متاثر نہیں ہوتی۔ خاص طور پر ایک نبی کی سرگزشت دوسرے نبی کے لئے تو سمجھئے کہ بس اس کی اپنی ہی آپ بیتی ہوتی ہے۔
… اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وھل اتک حدیث موسیٰ (9)
اس امت کے لئے حضرت موسیٰ کی سرگزشت کی خاص اہمیت
یہ اسلوب بیان قرآن میں تہدید و وعید کے لئے بھی آیا ہے اور ترغیب و تشویق کے لئے بھی۔ یہاں موقع محل دلیل ہے کہ یہ ترغیب و تشویق کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے موسیٰ کی سرگزشت سنی ہے ؟ یہ سرگزشت ہم تمہیں سناتے ہیں۔ اس میں ان تمام سوالوں کا جواب مل جائے گا جو دعوت کے اس مرحلہ میں تمہارے سامنے موجود ہیں، یا آگے کے مراحل میں پیش آنے والے ہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کی سرگزشت قرآن میں مختلف اسلوبوں سے جو بار بار بیان ہوئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی امت ہی کی وراثت ہے جو آنحضرت ﷺ کی امت کو منتقل ہوئی۔ آنحضرت ﷺ سے پیشتر صاحب شریعت نبی حضرت موسیٰ ؑ ہی تھے۔ ان کو اپنی امت کی تشکیل میں جو زہرہ گداز مراحل پیش آئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی جس جس طرح نصرت فرمائی وہ ساری باتیں آنحضرت ﷺ کے لئے نہایت سبق آموز تھیں اور بنی اسرائیل نے قدم قدم پر جو ٹھوکریں کھائیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح و تربیت کے لئے جو ہدایات دیں وہ اس امت کے لئے درس عبرت ہیں۔ اس سرگزشت کو پڑھتے ہوئے اس کی اس اہمیت کو نظر انداز نہ کیجیے۔ یہ دوسروں ہی کی نہیں بلکہ اپنی بھی حکایت ہے۔
Ayah 20:10اذرا نارا فقال لاھلہ امکثوا انی انست نارا لعلی اتیکم منھا بقیس او اجد علی النار ھدی (10)
حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت ابتدائے نبوت سے
یہ حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کا آغاز اس وقت سے کیا ہے جب ان کو نبوت عطا ہوئی ہے۔ مدین سے واپسی پر جب وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ وادیٔ طور کے پاس پہنچے تو شب کا وقت تھا۔ راستہ کا بھی کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا اور سردی بھی معلوم ہوتا ہے کہ سخت تھی۔ اتنے میں ایک سمت سے انہیں شعلہ سا نظر آیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو، مجھے ایک شعلہ سا دکھائی دیا ہے، میں وہاں جاتا ہوں یا تو وہاں سے تمہارے تاپنے کے لئے، جیسا کہ سورة قصص میں تصریح ہے، کوئی انگارہ لائوں گا یا وہاں کچھ لوگ ہوئے تو اس سے راستہ معلوم کرلوں گا اور ہمارا سفر جاری رہ سکے گا۔
ایک شعلہ مستعجل کا مشاہدہ
”انست“ کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کو جو آگ نظر آئی اس کی نوعیت آگ کے کسی جلتے ہوئے الائو کی نہیں بلکہ ایک شعلہ مستعجل کی تھی جو چمکا اور غائب ہوگیا۔ اس لئے یہ لفظ تاڑنے اور بھانپنے کے لئے آتا ہے۔ بس ایک چمک سی نظر آئی اور دفعۃً غائب ہوگئی۔ حضرت موسیٰ ؑ کے سوا اس کو کسی نے شاید دیکھا بھی نہیں۔ اگر بھڑکتی ہوئی آگ ہوتی تو حضرت موسیٰ ؑ یوں کہتے کہ دیکھو وہ سامنے آگ جل رہی ہے، میں یا تو وہاں سے راستہ معلوم کرتا ہوں اور اگر وہاں کوئی نہ ملا تو پھر تاپنے کا کچھ سامان کرتا ہوں تاکہ سردی میں بچائو کا کچھ سامان ہو سکے۔
Ayahs 20:11–1211.12:
جب حضرت موسیٰ اس مقام پر پہنچے جہاں ان کو شعلہ نظر آیا تھا تو ان کو آواز آئی کہ اے موسیٰ یہ تو میں تمہارا رب ہوں۔ یعنی تم تو آگ سمجھ کر یہاں آئے ہو لیکن یہاں آگ نہیں ہے بلکہ میں تمہارا رب ہوں۔
تواضع کی ہدایت اور اس کے آداب
فاخلع نعلیک پہلی ہدایت یہ ہوئی کہ جوتے اتار دو۔ جوتے اتار کر حاضر ہونا صرف طہارت ہی کے آداب میں سے نہیں بلکہ تواضح کے آداب میں سے بھی ہے۔ چناچہ ہمارے ہاں مسجد کے احترام کے لئے بھی اس کو ضروری قرار دیا گیا ہے اس لئے کہ مسجد خدا کے سامنے حاضری کی جگہ ہے جس کے لئے طہارت اور تواضح دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جوتے صاف ہوں تو ان کے ساتھ مسجد میں جانے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے اس لئے کہ یہ تواضح کے خلاف ہے اور مسجد کی حاضری کے لئے جس طرح طہارت شرط ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ تواضح شرط ہے۔
انک بالواد المقدس طوی یہ اس ہدایت کی علت واضح فرمائی ہے کہ تم اس وقت طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔ طوی اس میدان کا نام ہے جو جزیرہ نمائے سینا میں کوہ سینا کے دامن میں واقع ہے۔ کسی پہاڑ یا وادی یا رقبہ زمین کا تقدس ایک امر اضافی ہے۔ زمین ساری خدا کی پیدا کی ہوئی ہے۔ اس کے کسی ٹکڑے کو کسی دوسرے ٹکڑے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے حالانکہ کسی ٹکڑے کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی خاص نسبت ہو ائے۔ اس وادی کو یہ خاص شرف حاصل ہوا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اپنی تجلی اور اپنے کلام سے نوازا اس وجہ سے اس کو تقدس کا درجہ حاصل ہوگیا۔
Ayah 20:13استماع کے معنی توجہ اور اہتمام کے ساتھ سننے کے ہیں۔ یہ جملہ اصل بات کہنے سے پہلے پوری طرح متوجہ کرنے کے لئے ہے یعنی میں نے تمہیں اپنے کار خاص، فریضہ نبوت و رسالت کے لئے منتخب کیا ہے تو جو کچھ تم پر وحی کی جا رہی ہے اس کو غور و توجہ سے سنو۔ اس میں اس تشریف و تکریم کی طرف بھی اشارہ ہے۔ جو منصب نبوت پر سرفراز ہونے کے سبب سے حضرت موسیٰ کو حاصل ہوئی اور عظیم ذمہ داری کی طرف بھی جو حضرت موسیٰ پر اس منصب کی بدولت عائد ہوئی۔
Ayah 20:14اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی واقم الصلوۃ لذکری 14
حضرت موسیٰ کو اولین تعلیم
یہ اولین تعلیم ہے جو حضرت موسیٰ کو دی گی اور یہی تعلیم ہمیشہ تمام انبیاء کو دی گئی ہے۔ اس آیت کا تجزیہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں تین باتیں مذکور ہیں۔
سب سے پہلے عقیدہ توحید اس لئے کہ یہی عقیدہ مرکز دین ہے۔ جہاں تک خدا کے ماننے کا تعلق ہے دنیا نے ہمیشہ خدا کو مانا ہے۔ انکار خدا کی حماقت موجودہ زمانے کی پیداوار ہے، البتہ شرک کی ضلالت ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں انسان پر حملہ آور ہوتی رہی ہے چناچہ ہر نبی کو سب سے پہلے توحید ہی کی تعلیم دی گئی اور ہر نبی نے سب سے پہلے شرک ہی کے خلاف جہاد کیا۔
دوسری چیز جس کی حضرت موسیٰ کو ہدایت ہوئی وہ خدا کی عبادت ہے۔ یہ عبادت اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور یہ حق بلا شرکت غیرے ہے۔ جب وہ معبود ہے تو لازم ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور جب اس کا کوئی شریک نہیں تو یہ بھی لازم ہے کہ یہ عبادت بلا شرکت غیرے ہو۔ اس عبادت کے لوازم میں سے، جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں ذکر کرچکے ہیں، خدا کی اطاعت بھی ہے۔ جس طرح خدا کے سوا کسی کی عبادت جائیز نہیں ہے اسی طرح خدا کے احکام کے خلاف طوعاً کسی کی اطاعت بھی جائز نہیں ہے۔ عبادت کی اصل روح خدا کے آگے اپنی بندگی اور غلامی کا اقرار اس کے ساتھ اپنے عہد اطاعت و وفاداری کی تجدید اور اس کا تذکر ہے۔ اس وجہ سے یہ بات خدا کی بندگی کے بالکل منافی ہے کہ تسبیح تو اس کی کی جائے اور شریعت خود تصنیف کی جائے یا کسی دوسرے کے لئے یہ حق تسلیم کیا جائے۔ یہ چیز شرک ہے۔ اس کے شرک ہونے کے دلائل ہم نے اپنے رسائل حقیقت شرک اور حقیقت توحید میں بیان کئے ہیں۔
تیسری چیز نماز ہے نماز کے لئے اقامت کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے اندر اہتمام کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ نماز کا حکم اللہ کے ذکر کو قائم و دائم رکھنے کے لیء دیا گیا ہے۔ اقم الصلوۃ لذکری نماز انفرادی ہو یا اجتماعی خدا کے ذکر کی سب سے بڑی محافظ بھی ہے اور اس کا سب سے اعلیٰ اور سب سے زیادہ مئوثر مظہر بھی۔ اسی وجہ سے تمام انبیاء کو توحید کی تعلیم کے بعد سب سے پہلے اسی کی ہدایت ہوئی۔ نماز ہی کے ذریعے سے بندہ اپنے عہد بندگی کو یاد کرتا ہے جو اس کے رب نے اس سے لیا ہے اور جو اپنے رب سے اس نے باندھا ہے اور اسی کے ذریعہ سے کوئی امت اپنے اس میثاق کو یاد رکھتی ہے جو خدا نے اس سے لیا ہے اور جس کا خدا سے اس نے اقرار کیا ہے۔ اگر کوئی فرد یا امت نماز کو ضائع کر دے تو اس نے پورے دین کو ضائع کردیا۔ اس مضمون کی وضاحت سورة مریم کی آیت 59 کے تحت ہوچکی ہے۔ اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 20:15قیامت کی یاد دہانی
یہ قیامت کی یاد دہانی ہے اور اس کے لئے آتیۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ وہ آئے گی، بلکہ یہ فاعل کا صیغہ ہے جس کے اندر زور اور تاکید ہے کہ یہ آ کے رہے گی، یہ شدنی اور اٹل ہے۔ یہ امر محلوظ ہے کہ قیامت کے باب میں عام ذہن کبھی انکار صریح کا نہیں بلکہ تعجب اور استبعاد کا رہا ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کے اثبات کے پہلو بہ پہلو اس کی قطعیت پر بہت زور دیا ہے۔
قیامت کا مقصد
لتجزی کل نفس بما تسعی یہ قیامت کا اصل مقصد بیان ہوا ہے کہ اس کا آنا اس لئے لا بدی ہے کہ ہر جان کو اس کی کمائی کا، نیک ہو یا بد، بدلہ دیا جانا ناگزیر ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ دنیا ایک رحیم و حکیم کی بنائی ہوئی دنیا نہیں بلکہ ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے اور یہ بات بالبداہت خلاف عقل ہے۔ بما تسعی کے لفظ نے یہ حقیقت بھی واضح کردی کہ یہ بھی ضروری یہع کہ ہر شخص اپنے عمل ہی کا بدلہ پائے گا۔ کسی کے اعمال تو ہیں شیطان کے لیکن وہ کسی کی سعی و سفارش یا اپنے حسب و نسب کے بل پر مرتبہ صاحلین و ابرار کا حاصل کرلے یا باز پرس سے بری ہوجائے تو اس کے معنی نعوذ باللہ یہ ہوں گے کہ اللہ میاں کے ہاں بھی اصل قدر عمل اور کردار کی نہیں بلکہ شفاعت و سفارش اور خاندان و نسب ہی کی ہے۔
ایک بلیغ جملہ معترضہ
آیت کے بیچ میں اکادا اخفیھا کے الفاظ بطور جملہ معترضہ کے ہیں۔ یہ جملہ معترضہ نہایت بلیغ ہے۔ صرف یہ نہیں فرمایا کہ میں یا مت کو چھپائے رکھوں گا بلکہ فرمایا کہ قریب ہے کہ میں اس کو چھپائے ہی رکھوں، عربیت کا ذوق رکھنے والے اندازہ کرسکتے ہیں کہ لفظ اکاد سے جملہ کے اندر یہ مضمون پیدا ہوگیا ہے کہ ہرچند میں نے تو ابھی قیامت پر پردہ ڈال رکھا ہے اور یہ پردہ ابھٹی ڈالے یہ رکھوں گا لیکن خود قیامت کا یہ حال ہے کہ وہ بےنقاب ہوجانے کے لئے بالکل بےقرار ہے۔ یہی مضمون دوسرے الفاظ میں سورة اعراف میں یوں وارد ہوا ہے۔ ثقلت فے السموت ولارض لا تاتیکم الا بغتۃ (آسمان و زمین دونوں اس کے بوجھ سے گرانبار ہیں، وہ تمہارے اوپر بس اچانک ہی آدھمکے گی۔ 1)
Ayah 20:16فلا یصدنک عنھا من لایومن بھا وا تبع ھوئہ فتردی 16
ایجازبیان کی ایک مثال
عنھا میں ضمیر کا مرجع ہمارے نزدیک صلوۃ ہے اور بھا کی ضمیر کا مرجع الساعۃ ہے یعنی نماز سے تمہیں وہ شخص روکنے یا غفل نہ کرنے پاوے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کا پیرو ہے۔ یہ مفہوم لے نل میں اگرچہ بظاہر انتشار ضمیر کا سوال پیدا ہوتا ہے جس کو کلام کا عیب سمجھا جاتا ہے لیکن انتشار ضمیر صرف اس صورت میں عیب ہے جب مرجع کے تعین کے لئے کوئی واضح قرینہ موجود نہو۔ اگر واضح قرینہ موجود ہو تو کوئی عیب نہیں بلکہ اس سے کلام میں ایجاز کا حسن پیدا ہوتا ہے اور فصحا کے کلام میں اس کی نہایت عمدہ مثالیں موجود ہیں۔
یہاں قرینہ بالکل واضح ہے۔ نماز اور قیامت کے ذکر کے بعد دو فعل استعمال ہوئے ہیں ایک یضدن اور دوسرا یومن زبان کا ذوق رکھنے والا شخص بےتکلف سمجھ سکتا ہے کہ پہلا فعل صلوۃ سے واضح مناسبت رکھتا ہے اور دوسرا قیامت سے یہی رائے اگلوں میں سے ابو مسلم کی ہے اور مجھے یہ رائے ہر اعتبار سے صحیح معلوم ہوتی ہے۔
نماز اور ایمان بالآخرۃ کا باہمی تعلق
حکمت دین کے پہلو سے اس مسئلہ پر غور کیجیے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ جو شخص آخرت پر پختہ ایمان نہیں رکھتا اس کے لئے نماز ایک مصیبت ہے۔ قرآن میں اس کی تصریح موجود ہے۔
آیت 46-45
اور بیشک یہ بہت گراں ہے مگر ان ڈرنے والوں پر جو یہ گمان رکھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی سے انکو سابقہ پڑنے والا ہے۔
اسی طرح یہ بات بھی قرآن میں موجود ہے کہ اتباع ہوا اور ترک نماز میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ سورة مریم میں یہ آیت گزر چکی ہے۔
فخلف من بعد ھم خلف اضاعوا
پس ان کے بعد ایسے برے جانشین اٹھے جنہوں نے
1۔ اس مضمون کی مزید وضاحت مطلوب ہو تو اس آیت کی تفسیر تدبر قرآن جلد سوم صفحہ 404 پر ملاحظہ فرمائیے۔
الصلوۃ و اتبعوا الھوت فسوف یلقون عیاً (59 مریم)
نماز ضائع کردی اور خواہشوں کے پیروبن گئے تو وہ عنقریب اپنی گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔
یہود و نماز اور ایمان بالآخرۃ دونوں ضائع کربیٹھے
ان آیات سے یہ بات واضح ہوئی کہ حضرت موسیٰ کو توحید کی تعلیم کے بعد سب سے پہلے جس چیز کی تاکید ہوئی وہ نماز ہے اور خاص طور پر جس چیز کی یاد دہانی کی گئی وہ آخرت ہے۔ یہی بات حضرات انبیائے کرام کی تاریخ سے، جیسا کہ سورة مریم میں آپ معلوم کرچکے ہیں، ہم آہنگ بھی ہے لیکن یہود کی بدقسمتی قابل تم ہے کہ انہوں نے نماز بیس ضائع کردی اور آخرت کو بھی بھلا بیٹھے۔ آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ ان کے صحیفوں میں قربانی کا ذکر تو ملتا ہے لیکن نماز کا ذکر بالخصوص ہیکل میں صرف ایک جگہ سفر خامس باب 26 میں ملات ہے۔ ان کے بعض فقہاء کا خیال تو یہ بھی ہے کہ حضرت موسیٰ نے نماز کا حکم سرے سے دیا ہی نہیں، اگر تو رات میں اس کا کہیں ذکر ہے تو وہ بعد کے مرتبوں کی ایجاد ہے۔ رہا آخرت کا معاملہ تو ان کے صدوقی تو حشر بعدالموت کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جزا و سزا جو کچھ ہے سب اسی دنیا میں پوری ہوجاتی ہے۔ ہمارے ہاں مرجہ نے بھی اپنا عقیدہ معلوم ہوتا ہے کہ انہی سے مستعار لیا ہے۔
آخر میں لفظ فتردی بطور تنبیہ ہے کہ اگر نماز اور یاد آخرت سے غفلت ہوئی تو سمجھ لو کہ بیڑا غرق ہوجائے گا۔ یہی چیزیں سارے دین کی حفاظت کرنے والی اور شیطان کے فتنوں سے امان میں رکھنے والی ہیں۔
جو ان سے غافل ہوا اس نے گویا اپنے آپ کو شیطان کے حوالہ کردیا۔
Ayah 20:17وما تلک بیمینک یموسیٰ 17
لفظ یمیمن دہنے بائیں کے مفہوم سے مجرد ہو کر صرف ہاتھ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ کلام عرب میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔
سوال برائے التفات و نوازش
یہ سوال ظاہر ہے کہ تحقیق کے لئے نہیں بلکہ اظہار التفات و نوازش ہی کے لئے ہوسکتا ہے۔ جس طرح باپ بچے سے پوچھتا ہے کہ بیٹے یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے حالانکہ وہ اس چیز سے بیٹے سے زیادہ واقف ہوتا ہے۔ اسی طرح رب کریم نے حضرت موسیٰ سے سوال کیا کہ موسیٰ ! یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ؟ اور سوال اس چیز سے متعلق کیا جو آگے ان تمام خوارق کا ذریعہ بننے والی تھی جو حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ظاہر ہوئے۔
Ayah 20:18آیت 18
عش کے معنی
عش کے معنی درخت سے پتے جھاڑنے کے لئے ہیں۔ عکبری نے اھش بھا علی غنمی کے معنی اقوم بھا علی غنمی کے لئے ہیں۔ یعنی اس لٹھیا سے میں اپنے ریوڑ کی چرواہی اور حفاظت کرتا ہوں۔ اگر لعنت سے اس معنی کی شہادت مل جائے تو بہت خوب ہے لیکن عکبری نے کوئی شہادت نہیں پیش کی ہے۔ اس وجہ سے میں نے معروف معنی ہی کی پیروی کی ہے۔
ریذ بود حکایت راز تر گفتم !
حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ یہ میری لٹھیا ہے جس پر میں عندالضرورت ٹیک بھی لگاتا ہوں، اپنی بکریوں کے لئے درختوں سے پتے بھی جھاڑ لیتا ہوں اور میرے دوسرے کام بھی اس سے نکلتے ہیں۔
صاف محسوس ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے سوال کا صرف سیدھا سادا جواب دے دینے پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ ان کے جواب میں کچھ انبساط کلام اور سخن گستری کی شان پیدا ہوگئی ہے۔ وہ صرف یہ جواب بھی دے سکتے تھے کہ یہ میری لٹھیا ہے لیکن انہوں نے سوال کے انداز سے بھانپ لیا کہ یہ محض سوال نہیں ہے بلکہ اس میں التفات خاص کی دل نوازی بھی ہے۔ اس وجہ سے انہوں نے جواب میں تفصیل سے کام لیا کہ شاید اں طرح کچھ مزید سوال و جواب کی راہ کھلے۔ مخاطب کرنے والا محبوب و مطلوب ہو تو گفتگو کو طویل کرنے کی خواہش ایک امر فطری ہے۔
لذیذ بود حکایت دراز ترگفتم !
Ayahs 20:19–21قال القھا یموسی فالقھما فاذا ھی حیۃ تسعی 20-19
عصا کا معجزہ
ارشاد ہوا کہ اس لٹھیا کو زمین پر ڈال دو اور پھر قدرت خداوندی کا کرشمہ دیکھو ! چناچہ حضرت موسیٰ نے لٹھیا زمین پر ڈال دی اور وہ دفعتاً ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔
قال خذھا ولا تخف وقفہ سنعیدھا سیرتھا الاولی 21
سانپ کو دیکھ کر ڈرنا ایک امر بعی ہے چناچہ حضرت موسیٰ اس منظر کو دیکھ کر ڈرے کہ ہاتھ کی لٹھیا جو سانپ کو مارنے والی بن سکت تھی وہ خود ساپن بن گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، اس کو بےجھجک پکڑ لو، تمہارے پکڑتے ہی ہم اس کو اس کی پہلی حالت پر کردیں گے۔ یہ جیس لٹھیا تھی ویسی ہی لٹھیا بن جائے گی۔
Ayah 20:22واضمم یدک الی جناحک تخرج بیضآء من غیر سوآء ایۃ اخری 22
یدبیضا کا معجزہ
ساتھ ہی دوسری ہدایت یہ ہوئی کہ اپنے ہاتھ کو اپنی بغل کی طرف سکیٹر لو، پھر جب تم اس کو بغل سے نکالو گے تو وہاں سے چٹا سفید، بغیر کسی مرض کے، ایک دوسری نشانی بن کر برآمد ہوگا۔
تورات کے ایک بیان کی تردید
یہ دوسرا معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ کو عطا ہوا۔ یہاں بیضاء کے ساتھ من غیر سوء کی قید اس شبہ کے ازالہ کے لئے ہے کہ یہ ہاتھ کی سفیدی کسی مرض کے سبب سے نہیں ہوگی بلکہ اللہ کی ایک نشانی کے طور پر ہوگی۔ اس سے تورات کی اس روایت کی تردید ہوجاتی ہے کہ جب موسیٰ نے اپنا ہاتھ نکالا تو وہ برص سے سفید نکلا۔ یہ امر بھی یاد رکھیے کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ کی یہ سفیدی مستقل نہیں تھی بلکہ قرآن کے الفاظ شاہد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ظہور کو اس شرط کے ساتھ خاص کیا تھا کہ جب حضرت موسیٰ ایک نشانی کے طور پر دکھانے کے لئے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر نکالیں گے تب یہ سفید نکلے گا۔ کسی مرض کا شبہ تو خدا نخواستہ اس حالت میں ہوتا ہے جب ہاتھ مستقلاً سفید ہوجاتا۔ لیکن ایسا ہوتا تو پھر معجزہ کیا ہوتا ؟
ایۃ اخری مستقل جملہ نہیں ہے بلکہ یہ دوسرا حال ہے۔ ایک حال تو یہ ہے کہ وہ بغیر کسی مرض کے چٹا سفید بن کر نکلے گا، دوسرا حال یہ ہے کہ وہ ایک دوسری نشانی بن کر نکلے گا، ہم نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھا ہے۔
Ayah 20:23لنریک من ایتنا الکبری 23
یہ حضرت موسیٰ کے لئے مستقبل کی فتوحات کی بشارت ہے کہ بظاہر تو یہ دوہی معجزے ہیں لیکن یہ نہیں ہیں بلکہ ان کے اندر ہمارے بہت سے دوسرے بڑے بڑے معجزے بند ہیں۔ آگے جب امحتان کے مراحل آئیں گے تو تم دیکھو گے کہ ان سے ہماری قدرت و قہر مانیت کے کیا کیا کرشمے اور خوارق ظاہر ہوتے ہیں۔ چناچہ فرعون کے مقابل میں ان کے جو کرشمے ظاہر ہوئے ان کی تفصیلات تورات میں موجود ہیں۔ خود قرآن میں عطا کے جو کرشمے مذکور ہیں ان کی عظمت ظاہر ہے۔ اسی عصا نے ان کے لئے سمندر سے راہ نکالی اور اسی سے انہوں نے ایک پہاڑی سے اکٹھے بارہ چشمے جاری کر لئے۔
معجزات کے باب میں حضرت موسیٰ کے ساتھ خاص معاملہ کی وجہ
توحید اور آخرت اور نماز کی تعلیم و تاکید اور ان دو معجزات کے ساتھ حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ وہ فرعون کے پاس فریضہ رسالت کی ادائیگی کے لئے جائیں اور اس کو خدا اور اس کے غضب سے ڈرائیں وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معجزات کے باب میں معروف سنت الٰہی تو یہ رہی ہے کہ وہ حضرات انبیاء کو اس وقت دیئے گئے ہیں جب ان کی قوموں نے شدت کے ساتھ ان کا مطالبہ کیا ہے اور مقصود ان کے دیئے جانے سے صرف اتمام حجت رہا ہے کہ جو لوگ عقل و فکر سے کام نہیں لے رہے ہیں، کسی معجزے ہی کے لئے بضد ہیں ان کے اس حق سے انحراف کے لئے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔ پھر حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ خاص معاملہ کیوں ہوا کہ ان کو منصب نبوت پر مامور کرتے ہی دو معجزے دے دیئے گئے ؟ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ایک ایسے سرکش اور جابر حکمران کی طرف رسول بنا کر بھیجے جا رہے تھے جو شخصی اور قومی دونوں اعتبار سے حضرت موسیٰ کا جانی دشمن تھا۔ ان کی بات سننا اور سمجھناتو درکنار اندیشہ اس بات کا تھا کہ یہ علم ہوتے ہی کہ یہ حضرت موسیٰ ہیں فوراً ان کے قتل کا حکم دے دیتا۔ بلکہ ان کے قتل کا حکم تو اسی وقت وہ دے چکا تھا جب قبطی کے قتل کا واقعہ پشا آیا تھا لیکن حضرت موسیٰ چھپ کر مدین چلے گئے اس وجہ سے وہ اپنے ارادے میں ناکام رہا۔ ایک ایسے منتقم و جابر کے سامنے اگر حضرت موسیٰ ایک رسول کی حیثیت سے انذار کے لئے جاتے تو بھلا وہ ان کی بات سننے کا کب روادار ہوتا ! وہ تو صرف اسی شکل میں کوئی بات سننے کے لئے تیار ہوسکتا تھا جب حضرت موسیٰ کے ہاتھوں کوئی ایسی بات ظاہر ہوتی جو اس کو مرعوب کردیتی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی میں ان کو دو ایسے عمجزوں سے مسلح کردیا جن کی مدد سے وہ اپنے دشمن کی ہر تعدی سے محفوظ رہے اور انہوں نے فرعون کے سامنے جاتے ہی، جساو کہ آگے کی آیات سے واضح ہوگا، اپنے ان معجزات کا اظہار بھی کردیا تاہ وہ خبردار رہے کہ اگر اس نے کوئی غلط اقدام کیا تو وہ بھی خالی ہاتھ نہیں آئے ہیں بلکہ ان کے ہاتھ میں بھی وہ عصا ہے جو ہر کبر و غرور کا سرپاش پاش کردینے کے لئے بالکل کافی ہے۔
Ayah 20:24اذھب الی فرعون انہ طغی 24
فرعون کا طغیان
یہ وہ پہلی مہم ہے جس پر حضرت موسیٰ مامور فرمائے گئے۔ حکم ہوا کہ فرعون کے پاس جائو وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ فرعون کی سرکشی کی تفصیل سورة اعراف کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ وہ اپنے زعم میں خودب رب اعلیٰ تھا اور مصریوں کے سب سے بڑے دیوتا، سورج کا مظہر سمجھا جاتا تھا۔ اس کے اسٹیچو اور بت سارے مصر میں پوجے جاتے تھے۔ خدا کے بندوں ج کے ساتھ اس کا جو معاملہ تھا اس کا اندازہ کرنے کے لئے صرف یہی بات کافی ہے کہ اس نے اپنی ساری مملکت میں یہ حکم جاری کر رکھا تھا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جتنے بیٹے پیدا ہوں وہ قتل کردیئے جائیں یا دریا میں پھینک دیئے جائیں صرف لڑکیاں لونڈیوں کی خدمت انجام دینے کے لئے زندہ رکھی جائیں۔ جس کا رویہ خالق اور خلق کے ساتھ یہ ہوا اس کے طغیان میں کلام کی گنجائش کہاں رہی ! حضرت موسیٰ چونکہ اس طغیان سے اچھی طرح باخبر تھے بلکہ وہ خود اس کے ستم زدہ تھے اس وجہ سے یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل نہیں فرمائی بلکہ صرف اشارہ کر کے چھوڑ دیا۔
انبیاء کی دعوت اور عوامی تحریکات میں ایک اصولی فرق
یہاں وہ بات بھی نگاہ میں رکھیے جس کی طرف ہم ایک سے زیادہ مقامات میں اشارہ کرچکے ہیں کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) اپنے انذار اور اپنی دعوت کا مخاطب سب سے پہلے اپنی قوم اور سوسائٹی کے اعیان و اکابر کو بناتے ہیں اس لئے کہ سوسائٹی کا نظام انہی کی قیادت میں چل رہا ہوتا ہے۔ اگر وہ کسی اصلاح کو قبول کرلیں تو ساری سوسائٹی بہت جلد اصلاح قبول کرلیتی ہے اور دعوت کی عقلیت و برتری کا رعب سب پر چھا جاتا ہے اور اگر وہ ضد و مکابرت کی وجہ سے حق کو جھٹلاتے ہیں تو یہ چیز بھی دعوت کے حق میں ایک پہلو سے مفید ہی ہوتی ہے اس لئے کہ ان کے پیرو وں پر اپنے لیڈروں کی منطق کا کھوکھلا پن واضح ہوجاتا ہے اور پھر اگر وہ حق قبول کرتے ہیں تو پورے شعور اور کامل بصیرت کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور یہ بصیرت ان کے اندر وہ قوت تسخیر پیدا کردیتی ہے کہ کل تک اگر وہ دریا کے کنارے کے ماہی گیروں کی طرح صرف مچھلیوں کے پکڑنے والے تھے تو اس انقلاب حال کے بعد آدمیوں کے پکڑنے والے بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو تحریکیں عوامی پر اپیگنڈے سے اپنے کام کا آغاز کرتی ہیں ان کا سارا اعتماد عوام کو بھڑکانے والے جذباتی نعروں پر ہوتا ہے۔ انہی کے بل پر وہ چلتی ہیں اور جب تک قائم رہتی ہیں انہی کے بل پر قائم رہتی ہیں۔ ان کے اندر نہ عقل کا کوئی حصہ وتا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ جذبات کے ایک مئوثر عامل ہونے سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر انہی کے ہاتھ میں زندگی کی باگ دے دی جائے تو پھر زندگی کا انجام معلوم ہے !
Ayahs 20:25–36آیت 25-26
نبی اور دنیا پرست لیڈروں میں فرق
حضرت موسیٰ کے علم میں جو نیہ یہ بات آئی کہ ان پر فریضہ رسالت کی ذمہ داریاں ڈال دی گی ہیں اور اب انہیں فرعون کے پاس خدا کے رسول کی حیثیت سے انذار و تبلیغ کے لئے جانا ہے تو انہوں نے فوراً یہ دعا کی جو اوپر نقل ہوئی ہے۔ اس دعا کے لفظ لفظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس بوجھ کو کتنا بھاری محسوس کیا ہے اور کس دل سوزی کے ساتھ اس بارگراں کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں اللہ تعالیٰ سے مدد و رہنمائی کے لئے التجا کی ہے۔ دنیا پرست لیڈروں کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ وہ لیڈری ہی کی ہوس میں جیتے اور اسی کے عشق میں مرتے ہیں لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) کا سینہ اس ہوس سے بالکل پاک ہوتا ہے۔ ان کو اللہ تعالیٰ جب امامت کے منصب پر مامور فرماتا ہے تو وہ اس کی ذمہ داریوں کے تصور سے کا نپ اٹھتے ہیں اور خدا سے دعا کرتے ہیں کہ جب اس نے ان پر یہ بوجھ ڈالا ہے تو وہی اس کے اٹھانے کے لئے ہمت و قوت بخشے اور ہر قدم پر دستگیری و رہنمائی فرمائے۔
شرح صدر کی رہنمائی
قال رب اشرح لی صدری سب سے پہلے حضرت موسیٰ نے شرح صدر کے لئے دعا فرمائی اگر ذمہ داری بھاری ہو اور آدمی کو اس ذمہ داری کا کما حصہ احساس بھی ہو تو ہر حساس آدمی کا سینہ اس سے بھینچتا ہے یہ آدمی کی کمزوری کی دلیل نہیں بلکہ یہ اس کے حساس اور فرض شناس ہونے کی دلیل ہے۔ حضرات انبیاء نبوت کو مانگ کر نہیں پاتے بلکہ اس کی ذمہ داری، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی جاتی ہے اس وجہ سے قدرتی طور پر وہ اپنے سینہ میں اضطراب و تردد محسوس کرتے ہیں کہ معلوم نہیں ہو کس حد تک اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو پاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ سنیہ کی یہ خلش اللہ تعالیٰ ہی کے فضل سے دور ہو سکتی ہے۔ وہی دل میں ہمت و عزیمت ڈالتا ہے اور وہی آگے کے مراحل کے لئے علم و یقین کی روشنی عطا فرماتا ہے تب سینہ کھلتا اور حوصلہ بلند ہوتا ہے۔ یہ حقیقت یہاں ملحوظ ہے کہ حضرات انبیاء پر بھی سارا علم و یقین ایک ہی دن میں اڈیل نہیں دیا جاتا بلکہ وہ بھی زاد و راحلہ اپنی منازل سفر کے اعتبار سے پاتے ہیں اور برابر رب زدنی علماً کا ورد رکھتے ہیں۔
مہم کی کامیابی کے لئے دعا
ویسرلی امری اندرونی خلش کے ازالہ کی دعا کے بعد یہ حالات کی مساعدت راہ کی ہمواری اور مہم کی کامیابی کے لئے دعا ہے کہ ہرچند یہ مہم بہت سخت ہے لیکن تو چاہے تو ہر مشکل کو آسان کرسکتا ہے تو اپنے فضل سے ہر مشکل کو آسان کر اور راہ کی ہر رکاوٹ کو دور کر۔
قوت اظہار وبیان عطا کئے جانے کی درخواست
واحلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قولی یہ نہایت ادب و تواضح کے ساتھ، مقصد دعوت کے لئے قوت اظہار وبیان عطا کئے جانے کی خطابت و زبان آوری ہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ میں خطیبوں کو سوسائٹی میں سب سے زیادہ عزت حاصل تھی۔ عرب میں تو یہ حال تھا کہ جو شخص قبیلہ کا خطیب ہوتا وہی اس کا زعیم اور قائد ہوتا۔
جوہر خطابت کے بغیر اس دور میں کوئی شخص قیادت وامارات کی ذمہ داریاں کما حقہ ادا نہیں کرسکتا تھا۔ اب پریس کی ایجاد نیقلم کی اہمیت بہت بڑھا دی ہے بلکہ اب تو اصلی اہمیت پریس ہی کو حاصل ہے۔ آج اگر کوئی شخص کسی طرح پریس کی مدد حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے تو وہ ڈیموستھنز سے بھی بڑا خطیب و زبان آور ہونے کا مدعی بن سکتا ہے اگرچہ وہ دو فقرے بھی صحیح بولنے پر قادر نہ ہو۔ لیکن پریس کی ایجاد سے پہلے خطابت اور زبان آوری کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ بالخصوص جن کے اوپر عوام کی قیادت و امارت کی ذمہ داری ہو وہ تو اس قابلتط کے بغیر اپنی اس ذمہ داری سے عہدہ برآہو ہی نہیں سکتے تھے۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ زبان آور خطیب نہیں تھے۔ خطابت و زبان آوری ہرچند نبوت و رسالت کا لوازم میں سے نہیں ہے لیکن دعوت و تبلیغ کے اعتبار سے اس کی اہمیت، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، بالخصوص اس دور میں بہت تھی، اس وجہ سے جب ان پر رسالت کی ذمہ داری ڈالی گی تو ان کو اپنی اس کمی کا احساس ہوا اور شرح صدر کی دعا کے ساتھ انہوں نے اظہار وبیان کی قوت بخشے جانے کی بھی دعا فرمائی کہ اے رب میری زبان کو قوت اور روانی عطا فرماتا کہ میں اپنی دعوت کو اس طرح پیش کرسکوں کہ لوگ میری بات کو سنیں اور سمجھیں۔
اپنی اس کمی کے احساس کی وجہ سے انہوں نے اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون کو اپنا شریک کار بنائے جانے کے لئے دعا بھی کی۔ حضرت ہارون تورات اور قرآن مجید دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نہایت زور دار خطیب تھے۔ حضرت موسیٰ کو بجا طور پر یہ توقع تھی کہ اگر ان کا تعان حاصل ہوگیا تو جس کمی کا وہ اپنے اندر احساس کر رہے ہیں اس کی تلافی ہوجائے گی۔ سورة قصص میں ان کی دعایوں مذکور ہے۔
(القص 34)
اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہے تو اس کو ایک معاون کی حیثیت سے میرے ساتھ کیجیے کہ وہ میری تائید کرے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ میری تکذیب کریں گے۔
اس آیت سے یہ بات صاف واضح ہے کہ اصل ضرورت جس کو حضرت موسیٰ ، مقصد دعوت کے لئے محسوس فرما رہے تھے ایک زور دار خطیب کی تھی۔ اس پہلو سے وہ اپنے اندر ایک کمی محسوس فرماتے تھے اور چاہتے تھے کہ اپنے سے زیادہ ایک فصیح البیان خطیب کی ان کو مدد حاصل ہوجائے تاکہ وہ زیادہ بہتر اور مئوثر طریقے پر لوگوں کے سامنے اپنی دعوت پیش کرسکیں۔
ویضیق صدری ولاینطلق بسانی فارسل الی مرون (13 شعرائ)
اور میرا سینہ بھنچتا ہے اور میری زبان رواں نہیں ہے تو ہارون کے پاس پیغام بھیج
کیا حضرت موسیٰ میں لکنت تھی ؟
ان آیات سے یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ حضرت موسیٰ کوئی زبان آور اور زور دار خطیب نہیں تھے لیکن یہ بات کہیں سے نہیں نکلتی کہ ان کی زبان میں لکنت تھی۔ لکنت کی روایت صرف تورات میں ہے۔ ہویں سے ہماری تفسیر کی کاتبوں میں داخل ہوئی اور پھر اس کو مستند کرنے کے لئے ہمارے مفسرین نے ایک عجیب و غریب واقعہ بھی گھڑ لیا۔ تورات کی روایات کا جو حال ہے ان کا اندازہ اوپر آپ کو ہوچکا کہ حضرت موسیٰ کے یدبیضاء کو برص کا نتجیہ قرار دیا گیا ہے۔ جو لوگ اپنے نبی کو برص کا مریض قرار دے سکتے ہیں ان سے کیا بعید ہے اگر اس کے اندر لکنت کا عیب بھی نکال دیں !
بہرحال قرآن میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے لکنت کا ثبوت ملات ہو۔ واحلل عقدۃ من لسانی یفقھوا قرنی کے الفاظ میں بھی جس بات کی درخواست ہے وہ لکنت دور کرنے کی نہیں بلکہ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، اظہار وبیان کی وہ قابلیت و صلاحیت بخشے جانے کی درخواست ہے جو فریضہ نبوت و رسالت کی ادائیگی کے لئے ضروری تھی اور یہ درخواست نہایت متواضعانہ اسلوب و الفاظ میں ہے۔ حضرت موسیٰ نے یوں نہیں فرمایا کہ مجھے دلوں کو تسخیر کرنے والا ایک جادو بیان خطاب بنا دے بلکہ نہایت خاکسار انہ انداز میں فرمایا کہ میری زبان کو وہ روانی عطا فرما کہ لوگ میری بات سمجھیں یہ دعا کرنے کے لئے لکنت کا مریض ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک قادر الکلام بھی یہ دعا کرتا ہے اور اسے کرنی چاہئے۔ بسا اوقات معانی وحقائق کا جوش اس طرح سینہ میں امنڈتا ہے کہ ایک قادر الکلام آدمی بھی اپنی زبان اور پانے قلم کو اس کی تعبیر سے قاصر محسوس کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ کو عام لیڈروں کی طرف صرف نعرہ نہیں لگانا تھا بلکہ دین کے حقائق و اسرار کی تفہی کرنی تھی اور وہ بھی ایسے لوگوں کے سامنے جو نہ صرف ان کی تکذیب پر ادھار کھانے بیٹھے تھے بلکہ ان کی جان کے دشمن تھے۔ پھر یہ بات بھی تھی کہ حضرت موسیٰ کو صرف چھدا اتارنے کی خواہش نہیں تھی بلکہ وہ اپنے مخالفوں کے دل میں اتر جانے کا ارمان رکھتے تھے۔ مخالفوں سے تو یہ امید نہ تھی کہ ان کے دل اور ہوجائیں گے اس لئے انہوں نے اپنے رب سے زبان ہی اور مانگی تاکہ ان کو اپنی بات سمجھا سکیں۔
الغرض ہمارے نزدیک یہ لکنت کی روایت ناقابل اعتبار ہے۔ قطع نظر اس سے کہ حضرت انبیاء کو اللہ تعالیٰ جس طرح اخلاقی عیوب سے محفوظ رکھتا ہے اسی طرح خلقی نقائص سے بھی محفوظ رکھتا ہے، سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی بات یہ ہے کہ قرآن میں اس روایت کی تائید کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے۔ فرعون کا طعنہ جو سورة زخرف میں لایکادیبین کے الفاظ سے نقل ہوا ہے اس پر انشاء اللہ ہم اس کے محل میں بحث کریں گے۔
فاجعل لی وزیراً من اھلی ھرون اخی
حضرت ہارون کو شریک کار بنانے کی دعا کی وجہ
اوپر سورة قصص اور سورة شعراء کی جن آیتوں کا حوالہ گزرا ہے اس سے یہ بات واضح ہے کہ ایک مددگار اور شریک کار کی ضرورت خاص طور پر حضرت موسیٰ نے اپنی قوت بیان کی کمی کے پہلو سے فرمائی تھی اور اس کمی کی تلافی کے لئے وہ اپنے بھائی حضرت ہارون کو نہایت موزوں آدمی سمجھتی تھے، وہ انے کے بڑے بھائی بھی تھے، ان کے خالق و کردار پر بھی حضرت موسیٰ کو بھروسا تھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی فصاحت بیان کی، جیسا کہ تورات سے وضح ہے، قوم میں بڑی شہرت تھی۔ ان تمامصفات سے متصف آدمی جب، اپنے ہی گھر اور خاندان میں موجود ہو تو سب سے زیادہ وہی اس بات کا حق دار ہوسکتا تھا کہ اس کے شریک کار بنائے جانے کے لئے حضرت موسیٰ درخواست کریں۔ من اھلی کے لفظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس انتخاب میں کسی خاندانی عصبیت کو دخل تھا۔ خاندانی عصبیت کا شبہ تو اس صورت میں ہوتا جب مجرد خاندان وجہ ترجیح بنتا لیکن جب وجہ انتخاب صفات ہیں تو نہ صرف یہ کہ اس شبہ کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ سے جب کسی فضل و رحمت کے لئے دعا کرے تو اس میں سب سے پہلے اپنے اہل و عیال کو شریک کرے بشرطیکہ وہ اہل و صالح ہوں۔ بقرہ کی تفسیر میں حضرت ابراہیم کی دعا پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
حضرت ہارون کی حیثیت
اشد دبہ اندی واشر کہ فی امری اذر پیٹھ اور کمر کو کہتے ہیں یعنی ہارون کو میرا وزیر اور شریک کار بنا کر میری کمر کو مضبوط کر تاکہ میں اس باگراں کو حسن و خوبی کے ساتھ اٹھا سکوں واشر کہ فی امری سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی درخواست اس بات کے لئے تھی کہ حضرت ہارون کی مدد صرف ایک صحابی اور ساتھی کی حیثیت سے نہیں بلکہ شریک نبوت کی حیثیت سے حاصل ہو۔ یعنی وہ بھی فرائض نبوت سے متعلق عند اللہ مسئول و ذمہ دار ہوں اور انہیں بھی براہ رات اللہ کی طرف سے رہنمائی اور عصمت حاص لہو۔ یہ درخواست ایک بڑی اہم درخواست تھی اس لئے کہ حضرات انبیاء میں سے، جیسا کہ سورة مریم کی آیت 53 کے تحت ہم ذکر کرچکے ہیں کسی نبی کے متعلق یہ بات معلوم نہیں کہ ایک دوسرانبی کا وزیر بنایا گیا ہو، لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو یہ شرف بخشا اور ان کی یہ درخواست منظور فرمائی۔ دنیا دار لیڈروں میں تو چھوٹے چھوٹے عہدوں کے لئے بھی رشک و رقابت کا وہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کو اپنے اختیارات کے قریب پھٹکنے دینے کے رودار نہیں ہوتے لیکن جہاں امانت اور ذمہ داری کا صحیح احساس ہو تو ایک نبی اپنی نبوت کے منصب عظیم میں بھی دوسرے کو شریک کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے۔
یہاں یہ بات نوٹ رکھیے کہ تورات میں حضرت ہارون کا ذکر اس حیثیت سے نہیں آیا ہے جس حیثیت سے قرآن میں آیا ہے۔ تورات میں ان کا ذکر بس حضرت موسیٰ کے ایک ساتھی اور ترجمان کی حیثیت سے آیا ہے اور وہ بھی ایک ایسی ساتھی کی حیثیت سے کہ سامری کی فتنہ انگیزیاں بھی انہی کے کھاتے میں ڈال دی گی ہیں۔ یہ قرآن کا فیض ہے کہ اس نے ان شخصیتوں کی اصلی حیثیت سے اجاگر کی ہے۔
ذکر کا مفہکم
کی نسبح کثیراً ونذکرک کثیراً (34-33) یعنی ہارون کو شریک کار بنائے جاین کی درخواست اس لئے ہے کہ ہم دونوں مل کر تیری زیادہ سے زیادہ تسبیح اور تیرا زیادہ سے زیادہ ذکر کرسکیں۔ ظاہر ہے کہ یہاں انفردای ذکر و تسبیح ہی مردا نہیں ہے بلکہ اجتماعی ذکر و تسبیح بھی مراد ہے اور یہ تعبیر ہے فریضہ نبوت کی ادائیگی کی۔ نبی اور انیباء کے طریقہ پر کام کرنے والوں کی خلوت و جلوت دونوں ذکر و تسبیح ہوتی ہے۔ وہ مسجد میں جو کام کرتے ہیں وہ بھی ذکر و تسبیح ہے اور بازار میں جو کام کرتے ہیں وہ بھی ذکر و تسبیح ہے۔ ان کی رزم و بزم دونوں میں فرق عمل کا نہیں بلکہ صرف میدان عمل کا ہوتا ہے۔ اس سورة کی آیت 14 میں آپ نے پڑھا ہے کہ اقم الصلوۃ لذکری (میرے ذکر کے لئے نماز کا اہتمام رکھنا) اور پھر اسی سورة کی آیت 44 میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں حضرات کو فرعون کے دربار میں جانے اور ساتھ ہی اس بات کی ہدایت ہوتی ہے کہ ولا تنبا فی ذکری اور میرے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑ نام ظاہر ہے کہ اس ذکر سے مراد وہ انذار و تبلیغ ہی ہے جس کے لئے وہ فرعون کے پاس بھیجے جا رہے تھے۔
تسبیح اور ذکر میں ایک نازک فرق
تسبیح اور ذکر دونوں لفظوں کے ایک ساتھ ذکر کرنے میں ایک ادبی پہلو بھی محلوظ ہے، وہ بھی نگاہ میں رہے۔ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور ذکر میں اثبات کا اور یہ نفی و اثبات دونوں خدا کے ساتھ صحیح تعلق کو استوار میں رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ جو چیزیں خدا کی شان، اس کی صفات اور اس کی مرضیات و احکام کے منافی ہیں ان کی نفی کی جائے اور جو چیزیں اس کی شان، اس کی صفات اور اس کے احکام کے موافق ہیں ان کا اثبات و اظہار کیا جائے۔ ان دونوں چیزوں سے مل کر مومن کا عقیدہ اور کردار بنتا ہے اور نفی اثبات پر مقدم ہے۔ جب تک آپ ماسوی اللہ سے بغاوت کا اعلان نہیں کرتے اس وقت تک آپ اللہ کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ الا اللہ سے پہلے لا الہ کا اعلان ضروری ہے۔
دعا کے حق میں ایک سفارش
انک کنت بنا بصیراً یہ اپنی اس دعا کے حق میں اسی طرح کی سفارش ہے جس طرح کی سفارش حضرت زکریا نے اپنی دعا کے حق میں ماکنتبدعآئک رب شقیاً کے الفاظ سے پیش کی ہے۔ سورة مریم کی تفسیر میں اس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔ خدا کی بارگاہ میں آدمی کے لئے بہترین سفارش اس کا اپنا عمل نہیں ہے بلکہ خود خدا ہی کے فضل و کرم کا وساطہ ہے۔ جب بندہ اس اعتماد پر اپنے رب سے مانگتا ہے کہ جس نے بن مانگے سب کچھ بخشا ہے وہ بھلا مانگنے پر کس طرح محروم فرمائے گا تو رب کریم اپنے بندے کو محروم نہیں رکھتا۔ حضرت موسیٰ نے بھی اپنے اور اپنے بھائی کے ساتھ اپنے رب کے اسی معاملے کا حالہ دیا ہے کہ جب تو ہمیشہ ہمار نگران حال رہا ہے تو اب جب کہ ہم تیرے ہی نام کی خاطر اٹھ رہے ہیں بھلا تیرے فضل و کرم سے کیوں محروم رہیں گے !
درخواست منظور
قال قد اوتیت سولک یموسی سول اور سوال کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی درخواست اور التجا ارشاد ہوا کہ موسیٰ ! تمہاری درخواست منظور ہوئی۔ یہاں موسیٰ کے خطاب میں بھی بڑا پیار ہے اور منظوری کے الفاظ میں بھی بڑی شان جھلک رہی ہے۔ دعا کے الفاظ ختم ہوتے ہی بشارت سنا دی گی کہ تمہاری عرضی منظور ! گویا بیک بخبش قلم بلا کسی توقف اور بلا کسی استثناء کے سب منظور ! ظاہر ہے کہ اس منظوری میں ان کی وہ درخواست بھی شامل ہے جو انہوں نے اظہار وبیان کی قوت بخشے جانے کے لئے کی۔ وہ بھی ان کو عطا ہوئی اور حضرت ہارون ان کے وزیر بھی بنا دیئے گئے۔ دعا اگر صحیح مقصد کے لئے، صبح وقت پر، سچے جذبے کے ساتھ کی جائے تو وہ خدا کی بارگاہ سے اسی طرح شرف قبولیت پاتی ہے !