Ayahs 20:37–39آیت 39-37
ماضی کے ایک فضل خاص کی یاد دہانی
ولقد مننا علیک الایہ حضرت موسیٰ کا اضطراب رفع کرنے کے لئے جس طرح ان کی دعا کی قبولیت کی بشارت سنائی گی اسی طرح ان کے اوپر اپنے اس فضل خاص کی بھی یاد دہانی فرما دی جو اللہ تعالیٰ نے ان پر اس وقت فرمایا جب ان کی ولادت ہوئی اور اس بات کا خطرہ تھا کہ فرعون اسرائیلی بچوں کیق تل کی جو ظالمانہ اسکیم 1
1۔ یہ ظالمانہ اسکیم جن سیاسی خطرات کی بنا پر فرعون اور اس کے درباریوں نے چلائی تھی ان کی وضاحت سورة اعراف کی تفسیر میں ہوچکی ہے۔ ملاحظہ ہو تفسیر سورة اعراف آیات 1/9- 112
حضرت موسیٰ کی حفاظت کے لئے خدائی انتظامات
چلا رہا ہے اس کی زد میں وہ بھی آجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت نہ صرف یہ کہ اپنی قدرت و حکمت سے حضرت موسیٰ کو بچایا بلکہ فرعون ہی سے ان کی پرورش کرائی اس واقعہ کی یاد دہانی سے مقصود یہ ہے کہ جس فرعون سے تمہاری حفاظت کے لئے خدا کی یہ شانیں ظاہر ہوچکی ہیں اس سے کوئی اندیشہ تمہارے دل میں کیوں خطور کرے۔ تمہارا رب تمہارے ساتھ ہے۔
اذا وحینا الی امک مایوحی یہ اس فضل خاص کی تفصیل بیان ہو رہی ہے کہ تمہاری حفاظت کے لئے ہم نے جو تدبیر پسند فرمائی اس کی وحی ہم نے تمہاری ماں کی طرف کی اور وہ وحی یہ تھی جو اب تمہیں وحی کی جا رہی ہے تاکہ تم پر واضح ہوجائے کہ ہم اس سے پہلے تمہارے اوپر اپنے کیسے بڑے بڑے فضل کرچکے ہیں۔ اگرچہ اس واقعہ کا اجمالی علم حضرت موسیٰ کو اپنی والدہ ماجدہ کے ذریعے سے رہا ہوگا لیکن اس کے اندر دست غیب کی جو کارفرمائیں تھیں ان کا پورا علم تو اس وحی کے ذریعہ ہی سے حضرت موسیٰ کو ہوا ہوگا۔ اسی بات کی طرف مایوحی کا لفظ اشارہ کر رہا ہے۔
حضرت موسیٰ کی والدہ کو کیا وحی کی گئی ؟
حضرت موسیٰ کی ماں کو جو وحی آئی وہ تو ظاہر ہے کہ اتصار اور الہام کی نوعیت کی ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ نے ایک بات ان کے دل میں ڈال دی اور انہیں یہ اطمینان بھی ہوگیا کہ یہ خدا کی ڈالی ہوئی بات ہے ان اقذفیہ فی التابوت فاقذفیہ فے الیم یہ وہ وحی ہے جو حضرت موسیٰ کی والدہ کو کی گیئ۔ ت ورات کی کتاب خروج 6-2:2 سے معلوم ہوتا ہے کہ جس زمانے میں حضرت موسیٰ کی ولادت ہوئی ہے اس زمانے میں اسرائیلی بچوں کے قتل کی سکیم بڑے زوروں سے چل رہی تھی حضرت موسیٰ کی والدہ نے کچھ عرصہ تک (تورات کی روایت کے مطابق تین ماہ تک) تو بچے کو ظالموں سے چھپائے رکھا لیکن ان کو ہر وقت یہ ڈر لگا ہوا تھا کہ اگر ظالم فرعونیں کو پتہ چلی گیا تو بچے کی خیر نہیں تورات کی روایت یہ ہے کہ بالآخر انہوں نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنایا اور بچے کو اس میں ڈال کے ٹوکرے کو دریا کے کنارے پر جھاڑ کے نیچے رکھ دیا کہ شاید اس طرح کسی رحمدل کی نظر بچے پر پڑجائے اور اس کی جان بچنے کی کوئی شکل نکل آئے۔ قرآن کا بیان یہ ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی ماں کے دل میں ڈالی کہ بچے کو ایک صندوق میں رکھ کر اس کو دریا میں ڈال دو اور اس باب میں کوئی فکر یا غم نہ کرو، ہم پھر بچے کو تمہاری طرف لوٹائیں گے اور اس کو اپنا رسول بنائیں گے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کی بات زیادہ قرین قیاس ہے۔ بغیر اشارہ غبی کے حضرت موسیٰ کی والدہ آخر کس دل و جگر سے اتنا بڑا اقدام کرسکتی تھیں ؟ اشارہ غیبی کے بعد بھی نہ جانے ان کی مامتا پر کیا کچھ گزری ہوگی لیکن اس اشارہ غیبی نے چونکہ یہ اطمینان بھی دلا دیا تھا کہ تم یہ کر گزرو، اللہ تعالیٰ بچے کی حفاظت کا سامان خود کرے گا، اس وجہ سے انہوں نے کلیجہ پر پتھر رکھ کر اس کو دریا کی موجوں کے حوالے کردیا۔ سورة قصص آیت 7 میں اس اشارہ غیبی کی وضاحت یوں ہوئی ہے۔ فاذا خفت علیہ فالقیہ فی الیم ولا تخافی ولا تخزنی ج انا رآدوہ الیک وجا علوہ من المرسلین (اور جب تمہیں اس کے باب میں اندیشہ ہو تو اس کو دریا میں ڈال دیجیو اور نہ ڈریو نہ غم کیجیو، ہم پھر اس کو تمہایر طرف لوٹائیں گے۔ اور اس کو اپنے رسولوں میں سے بنائیں گے) اس اقدام کے وقت حضرت موسیٰ کی والدہ کے دل پر جو کچھ گزری ہے اس کی وضاحت سورة قصص کی تفسیر میں انشاء اللہ ہم کریں گے۔
فلیلقہ الیم بالساحل یا خذہ عدولی وعدولہ یہ اس وحی کا جزو نہیں ہے جو حضرت موسیٰ کی ماں کو ہوئی اگر یہ بات بھی وحی میں شامل ہوتی تو اس کی صورت جو اب امر کی ہوتی حالانکہ فلیلقہ پر لام امر ہے اس وجہ سے یہ امر غائب ہے جن لوگوں نے اس کا ترجمہ جواب امر کا کیا ہے ان کا ترجمہ بالکل غلط ہے اس کا لفظی ترجمہ یہ ہوگا کہ ”پس چاہے کہ دریا اس کو کنارے پر ڈال دے۔“ یعنی والدہ حضرت موسیٰ کو تو اللہ تعالیٰ نے یہ وحی کی کہ بچے کو صندوق میں رکھ کے دریا کے حوالہ کر دو اور دریا کو یہ حکم فرمایا کہ وہ اس کو کنارے پر ڈال دے۔ اس کو وہ اٹھائے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور اس کا بھی دشمن ہے۔ یہ حضرت موسیٰ پر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت اور اپنی شان و تدبیر کا اظہار فرمایا ہے کہ ہم نے تمہاری حفاظت و پرورش کے لئے اپنی یہ شان دکھائی کہ تمہاری ماں سے تمہیں دریا کی موجوں کے حوالہ کرایا اور پھر یوں چاہا کہ دریا تمہیں ساحل پر ڈال دے اور اس طرح میرا اور تمہارا دونوں کا جو دشمن ہے یعنی فرعون وہ تمہاری پرورش کرے۔ ع
عدو شود سبب خیر گر خدا خواھد
قدرت کا کرشمہ !
عدو لی وعدولہ میں خدا کے کمال تصرف کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور حضرت موسیٰ دونوں کے دشمن سے حضرت موسیٰ کی حفاظت و پرورش کرائی۔ خدا کا دشمن تو وہ اس وجہ سے تھا کہ وہ خود خدائی کا مدعی ھتا، بھلا وہ اپنے سوا کسی او خدا کو کس طرح گوارا کرسکتا تھا اور حضرت موسیٰ کے ساتھ اس کو جو دشمنی تھی اس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ پھر یہی نہیں کہ حضرت موسیٰ نے اپنے اور حضرت موسیٰ دونوں کے دشمن سے حضرت موسیٰ کی پرورش کرائی بلکہ اس کی تدبیر و حکمت کا یہ بھی ایک کرشمہ ہے کہ اس نے فرعون سے اس کے اور اس کی قوم کے سب سے بڑے دشمن کی پرورش کرائی اور فرعون نے خود اپنے ہی ہاتھوں اس خطرے کا سامان کیا جس سے بچنے کے لئے اس نے نہ جانے کیا کیا جتن کئے !
حضرت موسیٰ پر محبت الٰہی کا پر تو
والقیت علیک محبۃ منی یہ وہ خدائی تدبیر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو اپنے اور ان کے دونوں کے دشمن کی نگاہوں میں محبوب بنا دینے کے لئے فرمائی۔ ارشاد ہوا کہ ہم نے تم پر اپنی محبت کا ایک پر تو ڈال دیا۔ بچہ تو یوں ہی موہنا ہوتا ہے، ہر سلیم الفطرت انسان کے اندر اس کو دیکھ کر شففقت پیدا ہوتی ہے اور حضرت موسیٰ تو، تورات کی روایات سے ثابت ہے کہ نہایت خوب صورت بھی تھے۔ پھر مزید لطف خداوندی یہ ہوا کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کا پر تو ڈال دیا۔ کون اندازہ کرسکتا ہے اس بچے کے موہنے پن کا جس پر محبت الٰہی کا پر تو ہو ! ایک ایسا موہنا بچہ جب وہ سرکنڈوں کی ایک ٹوکری میں، دریا کی موجوں کا پھینکا ہوا، یکہ و تنہا، معصومیت و دل آویزی کی مورت بنا ہوا پڑا ہو تو آخر کس کا دل اس کو دیکھ کر تڑپ نہیں
1۔ ملاحظہ ہو خروج 4 : 2۔ عبرانیوں۔ 23-11 اعمال 20-7
جائے گا چ فرعون آخر فرعون ہی تھا، کوئی پتھر تو نہیں تھا ! چناچہ یوں ہوا کہ فرعن اور اس کی بیوی نیل کے کنارے سیر کو نکلے، ان کی نظر ٹو کرے پر پڑگئی۔ اس میں انہوں نے ایک چاند سے بچے کو دیکھا سمجھ گئے کہ یہ کسی اسرائیلی کا بچہ ہے جس کو غالباً اس کے ماں باپ نے، اس کے قتل کے اندیشہ سے، تن بہ تقدیر، دریا کی موجوں کے حوالہ کردیا ہے کہ شاید اسی راہ سے اس کے بچائو کی کوئی شکل پیدا ہوجائے۔ بچہ کو دیکھ کر ان کے دل میں رحم پیدا ہوگیا۔ اس رحم میں بھی زیادہ دخل فرعون کی بیوی کو تھا۔ عورتیں یوں بھی فطرۃ بچوں کے معاملے میں بڑی رحمدل ہوتی ہیں اور فرعون کی یہ بیوی تو، جیسا کہ سورة تحریم کی آیت 11 سے ثابت ہے نہایت خدا ترس اور رحم دل بی بی تھیں۔ بہرحال اس خدائی تدبیر سے دریائے نیل میں پھینکے ہوئے حضرت موسیٰ اسی فرعون کے محل میں پرورش کے لئے پہنچ گئے، جس کے ڈر سے ان کی ماں نے اپنی آغوش سے جدا کر کے ان کو دریا کی آغوش میں دیا تھا !
ولتصنع علی عبنی یہاں حرف عطف بربنائے قرینہ دلیل ہے کہ اس کا معطوف علیہ محذوف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں اس کتاب میں گزر چکی ہیں اس کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ ہم نے تم پر اپنی محبت کا پر تو اس لئے ڈالا کہ تم سے تمہارے دشمن محبت کریں اور تمہاری پرورش خاص ہماری نگرانی میں ہماری آنکھوں سکے سامنے ہو ظاہر ہے کہ اللہ کی محبت کا یہی پر تو ہی تھا جو حضرت موسیٰ کا محافظ بنا اور اس محافظ نے اس طرح ان کو محفوظ کردیا کہ ان کو نہ صرف یہ کہ اپنے جانی دشمن سے کوئی خطرہ نہیں رہا بلکہ ہو دشمن ان کا گرویدہ بن گیا۔ اسی محافظ محبت کو اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی آکھ سے تعبیر فرمایا ہے۔ گویا اپنی محبت کا پر تو ڈال کر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ پر اپنی حفاظت کا پہرہ بٹھا دیا۔
Ayah 20:40اس آیت میں حضرت موسیٰ کی سرگزشت کا ایک بہت بڑا حصہ سمیٹ دیا گیا ہے۔ جن باتوں کی تذکیر اس موقع پر ضروری نہیں تھی ان کو حذف کر کے صرف چند باتوں کی طرف اجمالی اشارہ ہے اور پھر آگے سلسلہ کلام اصل موضوع بحث سے مربوط ہوگیا۔
حضرت موسیٰ کے اپنی ماں کی طرف لوٹائے جانے کے لئے غدائی تدبیر
اذ تمشی اختک … الایۃ یہ اس تدبیر کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے دریا میں ڈالے جانے کے بعد حضرت موسیٰ کو ان کی ماں کی طرف لوٹائے جانے کے لئے اختیار فرمائی۔ اوپر سورة قصص آیت 7 کے حوالہ سے گزر
1۔ تورات میں فرعون کی بیوی کے بجائے اس کی لڑکی کا ذکر آتا ہے کہ ہو اور اس کی سہیلیاں بچہ کو اٹھا کر لائیں۔ قرآن نے اس کی تصحیح کردی اس کی وضاحت کے لئے سورة قصص آیت 9 کی تفسیر ملاحظہ کیجیے۔
چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی والدہ کو جب یہ ہدایت فرمائی کہ بچہ کو دریا میں ڈال دو تو ساتھ ہی یہ اطمینان بھی دلادیا کہ ہم بچے کو پھر تمہارے پاس واپس لائیں گے۔ یہ وعدہ جس شکل میں پورا ہوا یہاں اس کی طرف سرسری اشارہ ہے۔ اس کی تفصیل سورة قصص کی آیت 13-9 میں یوں آئی ہے کہ جب فرعون کی بیوی نے بچہ کو دیکھا تو انہوں نے فرعون سے کہا کہ بڑا موہنا بچہ ہے۔ اس کو قتل نہ ہونے دو یہ میری اور تمہاری دونوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ یہ ہمارے کام آئے گا یا ہم اس کو لے پالک بنا لیں گے۔ ادھر والدہ حضرت موسیٰ کا یہ حال تھا کہ انہوں نے بچے کو ایمائے خداوندی سے دریا میں ڈال تو دیا لیکن غم سے کلیجہ پھٹا جا رہا تھا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کی بہن سے کہا کہ وہ دیکھتی رہیں کہ صندوق کدھر بہہ کے جاتا ہے۔ وہ لوگوں کی نظر بچا کر اس کو دیکھتی رہیں۔ بالآخر ان کو معلوم ہوگیا کہ صندوق فرعون کے محل کے پاس پہنچا اور وہاں دریا نے اس کو کنارے پر ڈال دیا اور فرعون اور اس کی بیوی نے بچہ کو اٹھا لای۔ حضرت موسیٰ کی بہن فرعون کے محل میں پہنچیں وہاں انہوں نے دیکھا کہ بچے کو کسی دایہ کا دودھ پلانے کی کوشش کی ج رہی ہے لیکن بچہ مچلا ہوا ہے، وہ کسی چھاتی منہ ہی سے نہیں لگاتا۔ حضرت موسیٰ کی بہن نے فرعوکن کی بیوی کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ اگر آپ لوگ کہیں تو میں ایک ایسے گھر والوں کا پتہ دے سکتی ہوں جو اس بچے کی نہایت اچھی طرح دیکھ بھال کریں گے اور بچے کو مانوس کرلیں گے۔ چونکہ حضرت موسیٰ کے دودھ نہ پینے کے سبب سے فرعون اور اس کے گھر والوں کو نہایت پریشانی تھی اس وجہ سے یہ تجویز مان لی گی اور اس طرح حضرت موسیٰ پھر اپنی ماں کی آغوش میں پہنچ گئے
تورات میں یہ واقعہ یوں بیان ہوا ہے۔
”تب اس کی بہن نے فرعون کی بیٹی کو کہا کہ کہیے تو میں جا کے عبرانی عورتوں میں سے ایک دائی تجھ پاس لے آئوں تاکہ وہ تیرے لئے اس لڑکے کو دودھ پلائے۔ فرعون کی بیٹی نے اسے کہا کہ جا وہ چھوکری گئی اور لڑکے کی ماں کو بلایا۔ فرعون کی بیٹی نے اس سے کہا کہ اس لڑکے کو لے اور اسے میرے لئے دودھ پلا، میں تجھے اجرت دوں گی۔ اس عورت نے لڑکے کو لیا اور دودھ پلایا۔“ خروج 9-7-2
تورات اور قرآن کے بیان میں جو فرق ہے اس پر تبصرہ کی ضرورت نہیں۔ ہر ذی فہم آدمی اندازہ کرسکتا ہے کہ قرآن کا بیان ہر اعتبار سے قرین عقل و فطرت ہے۔ افسوس ہے کہ تورات والے اپنے گھر کی باتوں سے بالکل بیخبر ہیں۔
یہاں اذ تمشی اختک فتقول میں صیغے مضارع کے استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے میرا ذہن اس طرف جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی بہن کو بار بار فرعون کی بیوی کو مطمئن کرنے کے لئے ان کے پاس آنا جانا پڑا تب وہ اپنی تجویز پر ان کو راضی کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ دوبارہ اپنی ماں کے پاس پہنچے اور ماں کا کلیجہ ٹھنڈا ہوا۔ میں نے ترجمہ میں مضارع کے مفہوم کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے اور عربیت کے اس قاعدہ کو بھی محلوظ رکھا ہے کہ مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے۔ اگر اردو میں مدعا ٹھیک ادا نہ ہوا ہو قاعدہ کو بھی ملحوظ رکھا ہے کہ مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے۔ اگر اردو میں مدعا ٹھیک ادا نہ ہوا ہو تو اس کو میرے قلم کی کوتاہی پر محمول کیجیے۔
وقتلت نفساً فنجینک من الغیم وفتنک فتوناً فلبثت سنین فی اھل مدین ثم جئت علی قدر یموسی
قبطی نے قتل کا واقعہ
دریا سے نکالے جانے کے بعد سے لیکر عہد جوانی تک حضرت موسیٰ نے جن حالات میں زندگی گزاری ان میں سے یہاں صرف قبطی کے قتل اور ان کے مدین جانے کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ یہ اشارہ بھی اسی مقصد کے لئے ہے جس مقصد سے اوپر والے واقعہ کی یاد دہانی کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ کو اطمینان ہوجائے کہ جس رب نے ان کی ایسے خطرناک اور نامساعدہ حالات میں مدد اور رہنمائی فرمائی ہے وہ آگے کے مراحل میں بھی مدد اور رہنمائی فرمائے گا۔ یہاں چونکہ واقعات کی طرف صرف اجمالی اشارہ ہے اس وجہ سے ہم سورة قصص کی روشنی میں ان کی تفصیل کئے دیتے ہیں۔ یہ تفصیل ہم اپنے الفاظ میں کریں گے۔ آیات کی وضاحت اور ان کی مشکلات کی تحقیق انشاء اللہ اپنے محل میں آئے گی۔ قصص کی آیات 29-14 سامنے رکھ لیجیے ان کی روشنی میں صورت واقعہ یوں سامنے آتی یہ۔
ان آیات کے اجمال کی وضاحت سورة قصص کی روشنی میں
حضرت موسیٰ جب جوان ہوئے اور ان کو عقل و علم کی روشنی حاصل ہوئی تو ان کو اپنی قوم کی ذلت و مظلومیت کا نہایت شدت کے ساتھ احساس ہوا۔ بنی اسرائیل کی حیثیت مصر میں غلاموں کی تھی اس وجہ سے ان کی بستی بھی اصل شہر سے الگ بسائی گی تھی۔ اسرائیلی صرف خدمت اور بیگار کے لئے شہر جاتے اور وہاں اپنے قبطی آقائوں کے ہاتھوں بری طرح پٹے اور ذلیل ہوتے۔ حضرت حضرت موسیٰ کی غیرت ان مناظر کو دیکھ کر جوش میں آجاتی اور بسا اوقات اپنے مظلوم ہم قوموں کی حمایت میں وہ سینہ سپر ہوجاتے۔ فرعونیوں کو اندیشہ ہوا کہ اگر اسرائیلیوں کو ان کی حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی لیڈر مل گیا تو وہ دلیر ہوجائیں گے اور پھر ان کی آقائی خطرے میں پڑجائے گی اس وجہ سے وہ حضرت موسیٰ کے دشمن ہوگئے اور غالباً حکومت نے ان کا داخلہ بھی شہر میں بند کردیا۔ لیکن حضرت موسیٰ دشمنوں کی نظر بچا کر اپنے ہم قوموں کے حالات سے باخبر رہنے کے لئے شہر میں بند کردیا۔ لیکن حضرت موسیٰ دشمنوں کی نظر بچا کر اپنے ہم قوموں کے حالات سے باخبر رہنے کے لئے شہر میں جاتے۔ ایک دن اسی طرح نظر بچا کر وہ شہر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک اسرائیلی اور ایک قبطی آپس میں گتھم گتھا ہیں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے فریاد کی۔ حضرت موسیٰ کی غیرت کو جوش آگیا۔ انہوں نے اسرائیلی کی مدد کرنی چاہی تو قبطی ان سے لجھ پڑا۔ حضرت موسیٰ تگڑے تھے۔ انہوں نے جو ایک گھونسا رسید کیا تو وہ کہیں بےڈھب پڑا اور قبطی وہیں ڈھیر ہو کے رہ گیا۔
حضرت موسیٰ کو اس حادثہ کا بڑا غم ہوا کہ بلا قصد ان کے ہاتھوں ایک ایسا جرم صادر ہوگیا جس پر وہ عند اللہ مسئول ہوں گے۔ چناچہ انہوں نے بہت استغفار کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی غلطی معاف کردی۔ اللہ تعالیٰ کے اس انعام پر انہوں نے عہد کیا کہ آئندہ میں کبھی مجرموں کا حمایتی نہیں بنوں گا۔ دوسرے دن پھر نظر بچا کر شہر پہنچے تو دیکھا کہ وہی اسرائیلی جو کل طالب مدد ہوا تھا آج پھر ایک قبطی سے لڑ رہا ہے۔ اس نے حضرت موسیٰ کو دیکھا تو ان سے مدد کا طالب ہوا لیکن حضرت موسیٰ نے اس کو جھڑک دیا کہ تم ایک شربر آدمی معلوم ہوتے ہو ! تاہم وہ بڑھے کہ قبطی کو پکڑیں اور دونوں میں بیچ بچا کرا دیں۔ اسرائیلی یہ سمجھا کہ آج وہ اسے غلطی پر سمجھ کر پکڑنا چاہتے ہیں۔ وہ ڈرا کہیں آج حضرت موسیٰ کا گھونسا اس پر نہ پڑجائے ورنہ اس کی جان کی بھی خیر نہیں ہے۔ وہ چلایا کہ موسیٰ ! کل تم نے ایک جان لی ہے، کیا آج میری جان بھی لینے کا ارادہ ہے ! اگر تم نے یہ روش اختیار کی ہے تو یہ تو کسی مصلح کی روش نہیں ہوئی بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ تم ملک میں ایک ڈکٹیٹر بننے کا ارادہ رکھتے ہو۔ 1
اس سے حضرت موسیٰ کو یہ اندازہ ہوگیا کہ قبطی کے قتل کا واقعہ راز نہیں ہا ہے۔ پھر مزید برآں یہ ہوا کہ اکناف شہر سے ایک شخص بھاگا ہوا آیا اور اس نے حضرت موسیٰ کو یہ خبر دی کہ اعیان حکومت آپ کے قتل کے منصوبے بنا رہے ہیں تو میرا خیر خواہانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ یہاں سے نکل جائیں۔
حضرت موسیٰ نے اس وقت ظالموں کے شر سے محفوظر ہنے کی دعا فرمائی اور خدا کی رہنمائی و کار سازی کے بھروسہ پر مدین کا رخ کیا۔ مدین کے ایک چشمے پر کچھ دیر کے لئے ٹھہرے تو دیکھا کہ کچھ چروا ہے اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں لیکن دو عورتیں اپنے گلے کو روکے ہوئے کھڑی ہیں۔ حضرت موسیٰ کے اندر جذبہ فتوت ابھرا اور انہوں نے ان سے پوچھا کہ آخر تم کیوں اپنے گلے کو روکے ہوئے کھڑی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے باب بوڑھے ہیں، گلے کی چرواہی ہمیں کرنی پڑ رہی ہے اور ہم اس ریل پیل میں اپنے گلے کو پانی نہیں پلا سکتیں اس وجہ سے ہمیں در سے چرواہوں کے فارغ ہونے تک اپنی باری کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ان کی ہ بات سن کر حضرت موسیٰ کے دل میں ہمدردی پیدا ہوئی۔ وہ اٹھے ان کے گلے کو پانی پلایا اور پھر آ کر ایک درخت کے سایہ میں بیٹھ گئے اور یہ دعا کی کہ اے رب اس وقت تو مجھ پر اپنی جو رحمت نازل فرمائے، میں اس کا محتاج ہوں !
یہ دونوں صاحب زادیاں حضرت شعیب کی تھیں۔ کچھ دیر کے بعد ایک صاحب زادی شرماتی ہوئی حضرت موسیٰ کے پاس آئیں اور فرمایا کہ آپ کو ہمارے والد بلا ہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے گلے کو جو پانی پلایا ہے اس کا معاوضہ دیں۔ حضرت موسیٰ حضرت شعیب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کو اپنی ساری رو داد سنائی۔ حضرت شعیب نے ان کو تسلی دی کہ بس اب کوئی فکر نہ کرو، اللہ نے تم کو ظالموں سے نجات بخشی۔
حضرت شعیب کی ایک صاحبزادی نے باپ سے سفارش کی کہ آپ ان کو اپنی خدمت میں لگا لیجیے، یہ ایک قوی اور امانت دار آدمی نظر آتے ہیں، امید ہے کہ نہایت بہتر خدمت کرنے والے ثابت ہوں گے۔
حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ میں اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے
1۔ اس سوال پر انشاء اللہ ہم سورة قصص میں بحث کریں گے کہ یہ بات قبطی نے کہی یا اسرائیلی ہی اپنی حماقت کے سبب سے کہہ بیٹھا۔ یہاں مقصود صرف واقعہ کو سادہ طریقہ پر پیش کردینا ہے تاکہ آیت زیر بحث کے مضمران روشنی میں آجائیں۔
ساتھ اس شرط پر کردینا چاہتا ہوں کہ تم آٹھ سال میری خدمت کرو اور اگر تم نے دس سال پورے کردیئے تو اس کا انحصار تمہاری مرضی پر ہے۔ اس معاملے میں تم پر میں کوئی دبائو نہیں ڈالوں گا اور انشاء اللہ تم مجھے ایک بہتر آدمی پائو گے۔
حضرت موسیٰ نے یہ بات منظور کرلی اور فرمایا کہ یہ معاہدہ میرے اور آپ کے درمیان طے ہے۔ یہ میری مرضی پر ہے کہ میں آٹھ سال آپ کی خدمت کروں یا دس سال اس معامیل میں مجھ پر کوئی دبائو نہیں ڈالا جائے گا۔ اس معاہدے پر ہم دونوں اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں۔
معاہدہ کی یہ مدت پوری کر کے جب حضرت موسیٰ مصر کے لئے واپس ہوئے توب طور کی ودی یمن میں ان کو وہ تجلی نظر آئی جس کو دیکھ کر وہ آگ لینے گئے اور نبوت لے کر لوٹے۔
سورة قصص کی یہ ساری تفصیل اس لئے ہم نے پیش کی ہے کہ سورة طہ کی زیر بحث آیت میں یہ پوری تفصیل سمیٹ دی گی ہے۔ جب تک یہ تفصیل سامنے نہ ہو آیت کا پورا مالہ و ماعلیہ سامنے نہیں آیا۔ اب ائٓینہ لے اجزاء پر غور کیجیے۔
حضرت موسیٰ کے غم اور ان کی لغزش کی نوعیت
وقلت نفساً فنجینک من الغتم مصری کے قتل کا واقعہ جن حالات میں پیش آیا ہے وہ اوپر کی تشریحات سے واضح ہوچکے ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نہ قتل کا ارادہ رکھتے تھے اور نہ مظلوم کی حمایت کے سوا ان کے اندر کوئی اور جذبہ تھا۔ یہ جذبہ ایک نہایت محمود اور اعلیٰ جذبہ ہے جو ہر اس شخص کے اندر ہونا ہے جو فتوت و شرافت اور حمیت وغیرہت سے خالی نہیں ہے۔ اس وجہ سے حضرت موسیٰ نے جو کچھ کیا وہ بجائے خود حق تھا۔ لیکن قضائے الٰہی سے ان کا گھونسا کچھ ایسا بےڈھب پڑا کہ مصری اس کی تاب نہ لا سکا اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ کو خیال ہوا کہ یہ فعل بلا ارادہ سہی لیکن ان سے ایسا کام صادر ہوگیا ہے جس پر عند اللہ ان سے مواخذہ ہوسکتا ہے۔ اس تصور نے ان کو ایک شدید غم میں مبتلا کردیا۔ جن کے اندر خدا کا خوف ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو الائونس دینے میں بہت فیاض نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنا احتساب ان چیزوں پر بھی کرتے ہیں جن کے لئے وہ چاہیں تو آسانی سے عذر تلاش کرسکتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کسی بےجا قومی عصبیت میں بھی مبتلا نہیں تھے اس وجہ سے انہیں یہ غم بھی ہوا ہوگا کہ ممکن ہے جس کی حمایت و حمایت میں ان سے یہ فعل صادر ہوا، زیادتی اسی کی رہی ہو۔ چناچہ اوپر کی تفصیلات میں آپ نے دیکھا کہ جب دوسرے دن اسی اسرائیلی کو ایک دور سے مصری سے انہوں نیلڑتے دیکھا اور وہ پھر ان سے طالب مدد ہوا تو انہوں نے اس کو جھڑک دیا کہ تم ایک شریر آدمی ہو۔ اگر حضرت موسیٰ کے اندر قوم پرستی کا پندار ہوتا تو غم تو درکنار، ان کو فخر ہوتا کہ اپنی قوم کی حمایت میں انہوں نے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ لیکن یہ چیز بھی نہیں تھی جو ان کے لئے وجہ تسلی بن سکے اس وجہ سے انہیں اس حادثہ کا غم ہوا اور انہوں نے اپنے رب سے معافی مانگی۔ اللہ نے ان کو معاف فرمایا اور اس معافی نے ان کو اس غم سے نجات دی۔
ہمارے نزدیک اس غم میں حکومت کے انتقام کے خوف کو اگر کوئی دخل رہا ہوگا تو صرف اس پہلو سے رہا ہوگا کہ حکومت ایک نہایت ظالم حکومت تھی جس سے کسی اسرائیلی کے لئے کسی انصاف کی توقع نہیں تھی۔ اگر کوئی عادل حکوکمت ہوتی تو حضرت موسیٰ سارا معاملہ اس کے سامنے رکھ دیتے اور اس کے فیصلہ کی پابندی کرتے لیکن فرعون جیسی ظالم حکومت نے اپنے آپ کو حوالہ کرنا بالکل خود کشی کے مترادف تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت حال بھی حضرت موسیٰ کے لئے باعث غم ہوئی ہوگی۔ اس غم سے نجات حاصل کرنے کے لئے انہوں نے بالآخر وطن کو چھوڑا اور مدین چلے گئے۔
جہاں تک اس لغزش کے صدور کا تعلق ہے، اس کے بارے میں متعدد مقامات میں ہم وضاحت کرچکے ہیں کہ حضرات انبیاء سے بعثت سے پہلے یا بعثت کے بعد اگر کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ اتباع ہوا کی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ وہ اتباع حق یا طلب حق کے جوش میں کبھی کبھی اس کی مطلوبہ حد سے متجاوز ہوجاتے ہیں۔ یہ چیز بجائے خود کوئی برائی نہیں ہے لیکن حضرات انبیاء چونکہ حق کی کسوٹی ہوتے ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کی اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت فرماتا ہے تاکہ میزان بالکل درست رہے۔ حضرت موسیٰ کی یہ لغزش بھی فی الحقیقت ایک نیکی تھی لیکن نیکی بھی اپنے حدود سے متجاوز ہوجائے تو جیسا کہ ہم نے عرض کیا۔ بعض اوقات قابل گرفت بن جاتی ہے۔ بالخصوص حضرات انبیاء کے بارے میں
حضرت موسیٰ کے امتحانات
وفتنک فتوناً فتن فتونا کے معنی جانچنے اور پرکھنے کے ہیں۔ سنار سونے کو کٹھالی میں ڈال کر اس کے کھوٹ کو جو الگ کرتا ہے یہ لفظ اس کے لئے بھی آتا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ نے ان امتحانات کے لئے استعمال کیا ہے جن میں اس نے حضرت موسیٰ کو ڈال کر اچھی طرح پرکھا تاکہ جس کار خاص کے لئے وہ ان کو منتخب فرمان چاہتا ہے اس کے وہ پوری طرح اہل بن جائیں۔ مصر میں ان کی زندگی، جیسی پر محن تھی اور وہاں سے جن پرخطر حالات میں وہ نکلے ہیں ان کا کچھ اندازہ تو اوپر کے اقتباس سے ہو ہی گیا، مدین جا کر، آٹھ یا دس سال، وہاں کے پہاڑوں اور جنگلوں میں حضرت شعیب کی بکریاں چرائیں۔ وہاں سے نکلے تو ابھی راستہ ہی میں تھے کہ رسالت کا بار عظیم ان پر ڈالا گیا۔ اس کے بعد جو زہرہ گداز حالت پیش آئے وہ اعراف میں بھی آپ پڑھ آئے ہیں، اس سورة میں بھی پڑھیں گے اور آگے قصص اور دوسری سورتوں میں بھی۔ غرض ولادت سے لے کر آخر لمحہ زندگی تک امتحانوں ہی سے سابقہ رہا اور وہ بھی ایک سے ایک بڑھ کر !
امتحانات تزبیت کا لازمہ ہیں
ان امتحانوں سے متعلق ایک حقیقت ہمیشہ مستحضر رکھیے کہ یہ انسان کی تعلیم و تربیت کا لازمہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں کے ذریعہ سے انسان کی اعلیٰ صلاحیتوں کو پروان چڑھاتا ہے اس وجہ سے یہ بجائے خود بھاگنے اور گھبرانے کی چیز نہیں ہیں۔ جو شخص ان سے گھبراتا اور بھاگتا ہے وہ گویا اپنی تربیت سے گھبراتا اور بھاگتا ہے۔ ڈرنے اور گھبرانے کی کوئی چیز ہے تو یہ نہیں ہے کہ امتحان پیش آیا بلکہ یہ ہے کہ اس امحتان میں وہ کہیں ناکام نہ رہ جائے۔
امتحانات کے بارے میں سنت الٰہی
یہ امتحانات صرف مشکلات و مصائب ہی کی راہ سے پیش آتے بلکہ انعامات و افضال کی شکل میں بھی پیش آتے ہیں۔ مصائب و مشکلات کے امتحانات میں اللہ تعالیٰ بندے کے صبر کی تربیت فرمانا چاہتا ہے اور انعامات و افضال کے امحتان میں اس کے شکر کو پروان چڑھانا چاہتا ہے اور اسی صبر و شکر پر تمام اعلیٰ صفات انسانی کا انحصار ہے۔ انہی دونوں صفتوں کی تکمیل سے دنیا میں ”نقش مطمئنہ“ کی بادشاہی حاصل ہوتی ہے اور پھر اسی کا ثمرہ وہ ابدی بادشاہی ہے جس کو قرآن نے راضیۃ مرضیۃ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔
حکمت قرآن کا ایک دقیق مسئلہ
حکمت قرآن کا ایک دقیق مسئلہ یہ بھی ہے کہ صبر اور شکر کے امحتانوں میں سے زیادہ مشکل صبر کا امحتان ہے یا شکر کا ؟ اس باب میں صارفین کی رائے مختلف ہے۔ میرا اپنا رجحان، قرآن کی روشنی میں، یہ ہے کہ شکرکا امحتان زیادہ مشکل ہے۔ اس میں پاس ہونے والوں کا اوسط بہت کم ہے۔ مصائب میں حق پر ثابت قدم رہنے والے تو کچھ نکل آتے ہیں لیکن نعمت پا کر بہکنے سے محفوظ رہنے والے بہت کم نکلتے ہیں۔ وقلیل من عبادی الشکور (سبا 18) میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ جتنے ہی اعلیٰ مرتاب پر فائز فرمانا چاہتا ہے ان کے امحتانات بھی اتنے ہی زیادہ وراتنے ہی سخت ہوتے ہیں۔ چناچہ حضرات انبیائے کرام کو جو امحتانات پیش آئے ہیں ان کی تفصیلات پڑھیے تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ہم اور آپ تو ان کے برداشت کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
اصل ڈرنے کی چیز
جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے !
ان امتحانوں کے معاملے میں اصل ڈرنے کی چیز یہ نہیں ہے کہ امتحان پیش آئے یا پیش آئیں گے بلکہ ایک تو وہی چیز ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ انسان اس بات سے ڈرے کہ مبادا کسی امحتان میں وہ فیل ہوجائے اور دوسری بات اس سے بھی زیادہ ڈرنے کی یہ ہے کہ مبادا وہ سرے سے امحتان ہی سے خارج کردیا جائے اس لئے کہ سنت الٰہی یہ بھی ہے کہ جو شخص بار بار فیل ہی ہوتا رہتا ہے بسا اوقات اللہ تعالیٰ اس کو اپنے امحتان ہی سے محروم کردیتا ہے۔ قرآن کی اصطلاح میں اس کو امہال کہتے ہیں اور یہ سخت ترین سزا ہے جو اس دنیا میں کسی فرد یا قوم کو اللہ تعالیٰ کی طر سے دی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کے لئے امید کے تمام دروازے بند ہوجاتے ہیں۔
مدین میں قیام کی مدت
فلبثت سنین فی اھل مدین یہاں اس بات کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ حضرت موسیٰ مدین میں کتنے سال رہے لیکن اوپر سورة قصص کی روشنی میں ہم نے جو تفصیلات پیش کی ہیں ان سے واضح ہے کہ اس معاہدے کے تحت، جو حضرت شعیب کے ساتھ انہوں نے کیا، کم از کم آٹھ سال یا زیادہ سے زیادہ دس سال وہاں انہوں نے گزارے اور اس دوران میں بظاہر یہی ہوتا ہے کہ انہوں نے ان کی بکریاں چرائیں۔
مرحلہ نبوت
ثم جئت علی قدر یموسی اوپر کے تمام حالات و واقعات کا حوالہ دینے کے بعد ارشاد ہوا کہ یہ جو کچھ ہوا ہماری سکیم اور ہمارے مقرر کئے ہوئے پروگرام کے مطابق ہوا اور ان تمام مراحل سے گزرتے ہوئے ٹھیک اس وقت پر جو ہم نے تمہاری یہاں کی حاضری کے لئے پہلے سے مقرر کر رکھا تھا، تم یہاں پہنچے اور ہم نے تمہیں اپنی نبوت و رسالت سے مشرف کیا۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا نے تمہاری ولادت سے لے کر اب تک ہر مرحلہ میں تمہاری حفاظت کی ہے اور تمہارے لئے اپنے منصوبے تمہارے اور اپنے دونوں کے دشمنوں سے پورے کرائے ہیں وہ ہر قدم پر تمہارے ساتھ ہے اور جو ذمہ داری وہ تمہارے سپرد کر رہا ہے اس کے ادا کرنے کے لئے وہ خود راہیں کھولے گا اور خود اسباب فراہم فرمائے گا۔
Ayah 20:41واصعلنعتک لنفسی آیت 41
اصطناع کا اصل مفہوم کسی کو کسی خاص مقصد کے لئے تربیت اور ٹریننگ دینے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے جو تمہیں اتنی بھٹیوں میں تپایا اور اتنے امتحانوں سے گزارا ہے تو اپنے ایک کار خاص کے لئے یہ تمہاری تربیت کی ہے اور اب وہ کار خاص میں تمہارے سپرد کر رہا ہوں سو تم اس ذمہ داری کو اٹھائو اور میرے اعتماد پر اس کی انجام دہی کے لئے آگے بڑھو۔
Ayah 20:42آیت 42
یہ اس حکم کا اعادہ ہے جو آیت 24 میں دیا گیا کہ فرعون کے پاس جائو اور اس کو انذار کور۔ بیچ کی آیات حضرت موسیٰ کی تسکن و تسلی کے لئے ہیں۔ ان کی دعا کی قبولیت کی بشارت اور ان پر سابق افضال و عنایات کا حوالہ دینے کے بعد پھر ہدایت ہوئی کہ میری نشانیوں کے ساتھ بےخوف و خطر، فرعون کے پاس جائو۔ پہلے صرف حضرت موسیٰ کو حکم ہوا تھا لیکن اب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں کو حکم ہوا اس لئے کہ حضرت موسیٰ کی درخواست پر حضرت ہارون بھی شریک نبوت بنا دیئے گئے تھے۔
ذکر سے مراد
ولاتنیا فی ذکری اسی ہدایت کی تاکید مزید ہے جو آیت 14 میں دی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کے ذکر میں ڈھیلے نہ پڑھنا ذکر سے مراد جیسا کہ آیت 34 کے تحت ہم ذکر کر آئے ہیں، ذکر عبادت و ذکر دعوت دونوں ہی ہے۔ نبی کا ہر کام ذکر الٰہی ہوتا ہے۔ وہ جب نماز پڑھتا ہے تو اس کے ذریعہ سے درحقیقت اس تذکیر کے لئے اللہ تعالیٰ سے قوت و معرفت حاصل کرتا ہے جو وہ خلق کو کرتا ہے۔ دعوت حق کا اصل سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی سرچشمہ سے اس کو غذا اور قوت حاصل ہوتی ہے۔ اگر اس سرچشمہ سے تعلق کمزور ہوجائے تو دعوت بےجان اور بےروح ہوجاتی ہے اور اگر اس سرچشمہ سے تعلق بالکل ہی منقطع ہوجائے تو پھر وہ دعوت بالکل شیطانی دعوت بن کے رہ جاتی ہے اگرچہ اس میں نام خدا ہی کا لیا جائے۔
Ayah 20:43اذھبا الی فرعون انہ طغنی 43
فرعون کے طغیان کی تفصیل آیت 24 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ خطاب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں سے ہے اس وجہ سے لازماً یہ بات بعد کے مرحلہ کی ہے جب حضرت موسیٰ مصر پہنچ چکے ہیں اس لئے کہ حضرت ہارون وادی طویٰ میں حضرت موسیٰ کے ساتھ نہیں تھے۔
Ayah 20:44آیت 44
انبیاء کا طریق دعوت
یہ طریق دعوت سے متعلق ہدایت ہے کہ دعوت بہرحال نرمی کے ساتھ دی جائے۔ اس ہدایت کی ضرورت صرف اس پہلو سے نہیں تھی کہ اب حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے ایک بےبس اسرائیلی کی حیثیت سے نہیں بلکہ خدا کے ایک سفیر کی حیثیت سے جا رہے تھے اور ہاتھ میں عصائے موسوی بھی تھا بلکہ لنیت اور نرمی دعوت تھی کہ فطرت ہے۔ حضرات انبیاء کی بعثت تعلیم و اصلاح کے لئے ہوئی اس وجہ سے ان کی دعوت اور ان کے انذار میں ایک مسلم کی شفقت اور ایک غمگسار کی دل سوزی ہمیشہ نمایاں رہی ہے کسی نبی کے متعلق بھی یہ بات علم میں نہیں آئی کہ اس نے ہیکٹری جتائی اور دھونس جمائی ہو۔ سخت سے سخت حالات میں بھی ان کا طرز خطاب اور انداز جواب نہایت ہی نرم، مئوثر اور ہمدردانہ رہا ہے۔ ہیکٹری جتانا اور دھونس جمانا دنیا پرست لیڈروں کی خصوصیات میں سے ہے۔ موجودہ زمانے کے شیطانی پروپیگنڈے کی تو سمجھیے ساری بنیاد ہی اسی پر ہے۔
دعوت انبیاء کا اصل مقصد
لعلہ یتذکر او یخشی حضرات انبیاء کی دعوت وتعلیم کا اصل مقصد یہی ہوتا ہے کہ مخاطب میں تذکر اور خشیت پیدا ہو۔ جن کے اندر صرف غفلت ہوتی ہے وہ تو نبی کی تذکیر سے فوراً جاگ پڑتے ہیں۔ وہ گویا راستہ بھولے ہوئے ہوتے ہیں، بتانے والے نے جوں ہی انکو بتا دیا وہ سیدھی راہ اختیار کرلیتے ہیں۔ دوسرے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی گمراہی کچھ پختہ ہوجاتی ہے۔ اس طرح کے لوگوں کے اندر، اگر ان کے اندر قبولیت حق کی کچھ صلاحیت ہوتی ہے، نبی کے انذار سے خدا اور اس کی پکڑ کا کچھ خوف پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے لگتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال ہوتی ہے تو وہ ہدایت کی راہ بھی اختیار کرلیتے ہیں۔ یہاں یتذکر سے پہلی حالت کی طرف اشارہ ہے اور یخشی سے دوسری حالت کی طرف
Ayah 20:45آیت 45
ایک اندیشہ کا اظہار
دونوں ہی حضرات نے یہ عرض کی کہ اے ہمارے رب ! ہمیں یہ اندیشہ ہے کہ وہ معاملہ پر غور کرنے سے پہلے ہی یا تو ہم پر ہاتھ ڈال دے گا یا یہ ہوگا کہ ہماری بات سنتے ہی، برہم ہو کر، اس ظلم و ستم میں اور اضافہ کر دے گا جو وہ اب تک بنی اسرائیل پر کرتا رہا ہے۔ فرط کا صلہ جب علی کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی کسی کے خلاف عاجلانہ اقدام کے ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ فرعون تو پہلے ہی غصہ سے بھرا بیٹھا ہے۔ بھلا وہ ہمیں زبان کھولنے کی اجازت کب دے گا ! وہ بات سننے سے پہلے یہ یا تو ہمیں ختم کردینے کی تدبیر کرے گا یا اس کی سرکشی اور زیادہ بڑھ جائے گی۔ یہاں دعا میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں شریک ہیں۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے جس کا ذکر آیت 43 کے تحت ہم نے کیا ہے کہ یہ ہدایات مصر پہنچنے کے بعد دی گئی ہیں جب حضرت ہارون بھی حضرت موسیٰ کے ساتھ ہوگئے ہیں۔
Ayah 20:46آیت 46
اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسلی
اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ ڈرو نہیں، میں تمہایر ساتھ ہوں اور سب کچھ سنتا دیکھتا ہوں ”میں تمہارے ساتھ ہوں کے اجمال کے اندر جو تفصیل مضمر ہے وہ محتاج بیان نہیں اور سنتا دیکھتا ہوں، کے الفاظ کے اندر جو سطوت و جلالت اور جو تحفظ و ضمانت ہے وہ بھی تشریح سے بالاتر ہے۔ جب اللہ ساتھ ہے اور وہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے اور وہی ایک مہم پر بھیج رہا ہے تو پھر اگر ساری خدائی بھی دشمن ہوجائے تو کیا ڈر ہے !
Ayah 20:47آیت 47
انا رسولا ربک اگرچہ رسول کی حیثیت صرف حضرت موسیٰ ہی کو حاصل تھی، حضرت ہارون صرف ایک نبی تھے لیکن یہاں علی سبیل التغلیب دونوں ہی حضرات کے لئے رسول کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
فارسل معنا نبی اسرائیل ولاتعذبھم اس آیت کی تفسیر سورة اعراف کی آیات 105-104 کے تحت گزر چکی ہے۔ ہاں ہم نے وضاحت کے ساتھ یہ بھی بتایا ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو کہاں لے جانا چاہتے تھے اور ان لوگوں کے خیال کی تردید بھی کی ہے جنہوں نے حضرت موسیٰ کی دعوت کو ایک قوم پرست لیڈر کی تحریک آزادی کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
آیت سے مراد
قد جئنک بایۃ من ربک یہاں آیت سے مراد دلیل و حجت ہے۔ قطع نظر اس سے کہ اس کی تعداد کیا یہ۔ چناچہ یہی مضمون سورة اعراف میں یوں آیا ہے وقد جئتکم بیبنۃ من ربکم (میں تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے ایک واضح حجت لے کر آیا ہوں) پیچھے ہم اس سوال پر بھی بحث کر آئے ہیں کہ حضرت موسیٰ کو بالکل پہلے ہی مرحلہ میں معجزات کیوں دیئے گئے اور وہ کیا خاص حالات تھے جن کے سبب سے انہوں نے بالکل پہلے ہی قدم پر ان کا اظہار و اعلان بھی کردیا۔
خیر خواہی اور تنبیہ ساتھ ساتھ
والسلم علی من اتبع الھدیٰ اس فقرے میں وہ خیر خواہی اور ہمدردی بھی ہے جو انبیاء کی دعوت کی خصوصیت ہے اور جس کی حضرت موسیٰ کو آیت 44 میں ہدایت ہوئی اور ساتھ ہی نہایت لطیف تنبیہ بھی ہے۔ کہ سلامتی صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو خدا کی ہدایت کی پیروی کریں۔ مطلب یہ ہے کہ اب تک تو تم نے جو کچھ کیا وہ کیا لیکن اب جب کہ خدا کے رسولوں کے ذریعہ سے تمہارے پاس خدا کی ہدایت آچکی ہے تو سلامتی کی راہ یہی ہے کہ اس کو سیدھے سیدھے اختیار کرلو اور نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہو جائو۔
Ayah 20:48آیت 48
یہ اوپر والی آیت کے مضمر مضمون کو نہایت نرم انداز میں کھول دیا کہ ہم پر یہ وحی آئی ہے کہ جو جھٹلائے
1۔ ملاحظہ ہو تدبر قران ج 2، ص 718-716
آیت 48 کے چند لطیف پہلو
اور اعراض کرے گا اس کے اوپر عذاب آئے گا۔
اس آیت پر تدبر کیجیے تو کئی لطیف باتیں سامنے آئیں گی۔
ایک تو یہ کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے عام لیڈروں کی طرح فرعون پر اپنی طرف سے عذاب کی کوئی دھونس جمانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس کو صرف اللہ تعالیٰ کی اس وحی کی خبر دی جو ان پر آی تھی کہ تکذیب اور اعراض کرنے والوں پر اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ طریقہ انہوں نے اسی لئے اختیار فرمایا کہ اپنی طرف سے فرعون کے لئے کوئی وجہ اشتعال نہ پیدا ہونے دیں۔
دوسری یہ کہ انہوں نے فرعون کو مخاطب کر کے یوں نہیں فرمایا کہ اگر تو جھٹلائے گا اور اعراض کرے گا تو تجھ پر عذاب الٰہی آدھمکے بلکہ بصیغہ عام یوں فرمایا کہ جو ایسا کرے گا اس کا انجام یہ ہوگا تاکہ فرعون کے کانوں میں بات پڑ بھی جائے اور اس کی اناینت کو ٹھس بھی نہ لگے۔
تیسری یہ کہ کذب کے مفعول اور تولی کے متعلق دونوں کو یہاں حذف کردیا۔ یوں نہیں فرمایا کہ جو ہماری رسالت کی تکذیب اور ہماری لائی ہوئی ہدایت سے اعراض کرے گا اس پر عذاب آئے گا اس لئے کہ یہ بات از خود واضح تھی اور اس کے اظہار سے بھی بہرحال فرعون کے پندار کو چوٹ لگتی ہے۔
اوپر حضرت موسیٰ و حضرت ہارون کو دوت میں نرمی کی جو تلقین فرمائی گی تھی یہ اس کا طریقہ بھی بتا دیا گیا کہ اس طرح دعوت دنیا کہ بات بھی پہنچ جائے اور تمہاری طرف سے اشعتال طبع کا کوئی سبب بھی پیدا نہ ہونے پائے۔
Ayah 20:49فرعون کو دعوت اور اس کا معارضہ
قل فمن ربکما یموسیٰ 49
قرینہ دلیل ہے کہ یہاں بربنائے وضاحت یہ بات حذف کردی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو جو پغیام دے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا وہ پیغام وہ لے کر گئے اور ٹھیک ٹھیک ہدایت الٰہی کے مطابق اس کو فرعون تک انہوں نے پہنچا بھی دیا۔ یہ سن کر فرعون بولا کہ اے موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ یعنی تم جو رب کے رسول بن کر آئے ہو تو آخر وہ رب کون ہے ؟ رب تو میں ہوں تو آخر تم میرے دربار میں اور کس رب کے رسول بن کر آئے ہو ؟ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ فرعون کی حیثیت مصر میں (God King) اوتار بادشاہ کی سمجھی جاتی تھی۔ وہ صمیروں کے عقیدے میں ان کے سب سے بڑے دیوتا … سورج … کا مظہر تھا اور اسی عقیدے کے تحت اس کے اسٹیچو اور بت تمام مصر میں پوجتے جاتے تھے۔
فرعون کا یہ سوال محض بطور طنز و تحقیر کے تھا ورنہ خدائی کے دعوے کے باوجود و کہ اس بات سے تو ناواقف نہیں ہوسکتا تھا کہ بنی اسرائیل اس کے غلام و محکوم سہی لیکن بہرحال وہ اس کو خدا نہیں مانتے۔ لیکن اب تک بنی اسرائیل کے خدا کی حیثیت مصر میں ایک بےجان خدا کی تھی جس کا نام تو بنی اسرائیل اپنے گھروں میں شاید لیتے رہے ہوں گے لیکن زندگی کے عملی معاملات سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ عملی معاملات پر خدائی فرعون ہی کی تھی۔ یہ پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون نے خدا کو فرعون کے سامنے ایک زندہ خدا کی حیثیت سے پیش کا ئ اور صرف پیش ہی نہیں کیا بلکہ اس کے نام سے چند نہیات اہم مطالبات بھی اس کے سامنے رکھ دیئے اور وہ بھی اس تنبیہ کے ساتھ کہ اگر اسلامی چاہتے ہو تو ہماری بات مانو ورنہ اس کے نتائج بھگتنے کے لئے تایر ہو ! ظاہر ہے کہ فرعون بنی اسرائیل کے اس زندہ خدا سے اب تک واقف نہیں تھا اس وجہ سے اس کو یہ صدا عجیب معلوم ہوئی اور اس نے تعجب اور تحقیر کے انداز میں یہ سوال کیا جو اوپر مذکور ہوا۔ تورات میں اس موقعہ پر جو عبارت ہے اس سے بھی یہی بات نکلتی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ خروج 2:5 میں ہے۔
”فرعون نے کہا کہ خداوند کون ہے کہ میں اس کی آواز کو سنوں کہ بنی اسرائیل کو جانے دوں ؟ میں خداوند کو نہیں جانتا اور نہ میں بنی اسرائیل کو جانے دوں گا۔“
Ayah 20:50مختصر لیکن دندان شکن جواب
حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر شے کو اس کی خلقت عطا فرمائی، پھر اس کے خلقت کے اعتبار سے اس کی رہنمائی فرمائی۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ہر شے اپنے مقصد وجود کے اعتبار سے ایک خاص قالب و ہئیت رکھتی ہے اور پھر اس مقصد وجود کی تحصیل و تکمیل کے لئے اپنے اندر ایک جبلی رہنمائی بھی رکھتی ہے۔ شہد کی مکھی کو جن مقصد کے لئے خالق نے پیدا کیا ہے اس کی تکمیل کے لئے اس کے ننھے سے وجود کے اندر اس نے وہ تمام قوتیں اور صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں جو اس کے لئے ضروری ہیں اور پھر اس کی جبلت کو یہ الہام بھی فرما دیا کہ وہ کس طرح اپنی صلاحیتوں کو استعمال کیر اور پانے لئے شہد کا ذخیرہ فراہم کرے۔ یہی حال اس کائنات کی ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی چیز کا ہے۔ ایک چیونٹی ایک بھنگا، ایک لکڑی، ایک بکری، ایک شیر سب کو قدرت کی طرف سے ایک خاص نوع کی خلقت اور اس کی ضرورت کے اعتبار سے ایک جبلی ہدایت عطا ہوئی ہے۔ سب کو خدا نے الہام فرمایا ہے کہ کس طرح اور کس نوع کی اپنے لئے غذا حاصل کریں، کس طرح توالد و تناسل کا سلسلہ قائم کریں، کس طرح اپنی اور اپنی نسل کی حفاظت کریں، کس چیز سے بچیں اور کس چیز کو اختیار کریں اور پھر کس طرح اس کائنات کی مجموعی خدمت میں اپنا فریضہ ادا کریں۔
بلبل کی نغمہ سنجی، طوطی کی شکر فشانی اور کوئل کی کوک کس کا الہام ہے ؟ ظاہر ہے کہ ان کے خالق ہی کا ! تو وہی خالق ان کا اور سب کا رب بھی ہے !
ہر شے پر ہدایت کا فیضان
صرف جاندار چیزوں ہی تک قدرت کا یہ فیض محدود نہیں ہے بلکہ چمن کے بیل بوٹے جو ثمر باری اور گل ریزی کرتے ہیں، سو سن، نبفشہ گلاب اور سرد و صنوبر جو چمن آرائی کرتے ہیں، سیب، انار اور انگور جو دعوت شوق دیتے ہیں، آخر یہ کس کی بخشی ہوئی خلقت اور یہ کس کی عطا کردہ جبلت ہے ؟ آخر کون ہے جو ان میں سے کسی ایک چیز کے بھی خلق کا دعویٰ کرسکے یا یہ کہہ سکے کہ یہ اس کا کرشمہ ہے کہ اس نے سیب کے اندر سیب کی خاصیت ودیعت کی اور کیکر کے اندر کیکر کی، چمن کے ہر پودے، میدان کی ہر گھاس اور جنگل کی ہر جھاڑی میں یہ الگ الگ مزاج، الگ الگ رنگ و بو اور الگ الگ فوائد و نقصانات کون ودیعت کرتا ہے ؟ جو کرتا ہے وہی رب ہے، نہ کہ ہر غرنا مستحق جو سر پر تاج اوڑھ لے اور خدائی کا دعوے دار بن بیٹھے وہ رب بن جائے۔
زمین ہی نہیں ایک نظر آسمان پر بھی ڈالیے یہ سورج، یہ چاند یہ کہکشاں یہ قوس قزح یہ آسمان یہ ابر یہ ہوا، آخر کس نے ان کو پیدا کیا اور کون ہے جس نے ان کے فرائض ان کو الہام کئے ؟ جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کو ان کے فرئاض الہام کئے وہی رب ہے سورج کا اوتار بن کر تخت پر براجمان ہوجانا تو بہت آسان ہے لیکن کون ہے جو ایک منٹ کے لئے سورج کو اس کے وقت سے پہلے نمودار کرسکے یا افق سے اس کو غائب کرسکے !
اس کائنات میں اشرف المخلوقات کی حیثیت انسان کو حاصل ہے۔ اس کو قدرت نے بہترین خلقت بھی عطا فرمائی ہے اور نہایت اعلیٰ صلاحیتوں سے بھی نوازا ہے لیکن نہ کسی کو اپنی خلقت کے معاملہ میں کوئی دخل ہے نہ اپنی صلاحیتوں کی تخلیق ہی میں کسی کا کوئی حصہ ہے۔ یہ خدا ہی ہے جس نے ہمیں ہاتھ، پائوں، ناک، کان اور آنکھ کی قوتیں دیں اور اسی نے ہمیں جبلت و فطرت اور عقل وا دراک و شعور کی نعمتیں بخشیں۔ یہ انہی چیزوں کا فیض ہے کہ آج خشکی و تری، دریا اور پہاڑ سب ہمارے لئے یکساں ہیں۔ ہم سمندروں کا سینہ چیرتے اور فضائوں میں اڑتے ہیں۔ ہماری رسائی زمین کے بعید ترین گوشوں اور کونوں ہی تک نہیں بلکہ چاند و مریخ تک ہے۔ بجلی اور ایٹم سب پر ہمارا تصرف ہے۔ یہ سب کچھ ہے لیکن ایک لمحہ کے لئے بھی یہ مغالطہ نہ ہو کہ یہ آپ کی اپنی پیدا کردہ صلاحیتوں کا کرشمہ ہے۔ جو اس مغالطہ میں ہے وہ احمق ہے ! یہ سب خدا کی بخشی ہوئی عقل کا کرشمہ ہے جس کی بدولت انسان قدرت کے کچھ نوامیس دریافت کر کے چاند اور مریخ پر تاخت کرتا پھر رہا ہے۔ اگر یہ خدا کی بخشی ہوئی عقل کی رہنمائی سے اس کے کچھ قوانین دریافت کرلے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی قابلیت پیدا کرلے تو اس پر اپنا مفرور نہ ہوجائے کہ خدا کی خدائی ہی کو چیلنج کر دے۔
حضرت موسیٰ نے جواب تو نہایت مختصر الفاظ میں دیا لیکن اس کے اندر تفصیل نہایت طویل مضمر ہے اور اگرچہ الفاظ نہایت نرم ہیں لیکن جواب نہایت دندان شکن ہے۔ انہوں نے نہایت جامع الفاظ میں فرعون پر یہ حقیقت واضح کردی کہ رب ہونے کا حقدار تو وہی ہوسکتا ہے جس نے خلق کیا اور ہدایت بخشی، تمہارا حصہ نہ خلق میں نہ ہدایت میں تو تم رب ہونے کے مدعی کس طرح بن بیٹھے ! یہی حقیقت دوسرے الفاظ میں یوں بیان ہوئی ہے۔ سج اسم ربک الاعلی الذی خلق فسوی والذین قدر فھدی (اپنے اس خدائے برتر کی تسبیح کرو جس نے خاکہ بنایا پھر اس کے نوک پلک درست کئے اور جس نے صلاحیتیں ودیعت کیں پھر ان کے استعمال کا طریقہ بتایا۔
حقیت یہ ہے کہ انسان پر خدا کی حجت قائم کردینے کے لئے تو اس کی فطرت اور عقل کی رہنمائی ہی کافی ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا مزید فضل و کرم ہے کہ اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں اور پانی کتابوں اور صحیفوں کے ذریعہ سے بھی انسان کی ہدایت کا انتظام کیا۔ بل الانسان علی نفسہ بصیرۃ ولو القی معاً ذیرۃ (القیمۃ 150-54) (بلکہ انسان اپنے اوپر خود گواہ ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذر تراشے)
Ayah 20:51فرعون کا استہزاء
فرعون نے حضرت موسیٰ کی اس تذکیر پر سنجیدہ طریقہ سے غور کرنے کے بجائے بانداز طنز و تحقیر یہ سوال کیا کہ اچھا اگر رب کے پاس سے آئے ہو تو ذرا پچھلی قوموں کا حال سنائو کہ ان کا کیا بنا اور وہ کس حال میں ہیں ! مطلب یہ کہ جب وہاں سے آ رہے ہو تو وہاں کے سارے احوال سے تم تو واقف ہی ہو گے ذرا ہمیں بھی تو وہاں کا احوال سنائو ! یہ محلوظ رہے کہ برخود غلط اور متکبر لوگ اسی قسم کے غیر متعلق سوال چھیڑ کر سنجیدہ باتوں کو بےاثر بنانے اور پانے اندھے بہرے متعقدین میں اپنا بھرم قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Ayah 20:52پروقار جواب اور تذکیر
فرعون کا سوال اگرچہ غیر متعلق بھی تھا اور تحقیر آمیز بھی لیکن حضرت موسیٰ نے نہ صرف جاب پروقار و سنجیدہ دیا بلکہ تذکیر و تنبیہ کا ایک اور نہایت پر حکمت درس بھی اس کو سنا دیا۔ فرمایا کہ ان قوموں کا سارا ریکارڈ میرے رب کے پاس ایک عظیم دفتر میں محفوظ ہے۔ قرینہ دلیل ہے کہ لفظ کتاب کی تنکیر یہاں تضخیم شان پر دلیل ہے یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ کوئی ایسی دیسی کتاب ہے بلکہ اس میں ایک ایک جزئیہ قلمبند ہے۔ جب یہ کھلے گی تو سب پکار اٹھیں گے کہ مالھذا الکتب لایفادر صغیرۃ ولاکبیوۃ الا احصھا (عیبل ہے یہ کتاب کہ کوئی چھوٹی یا بڑی بات ایسین ہیں رہ گئی ہے جس کو اس نے محفوظ نہ کرلیا ہو۔)
لایضل ربی ولا ینسی یعنی میرے رب کا علم خطا اور نساین سے بالکل پاک ہے نہ وہ کوئی غلطی کرتا ہے نہ کسی چیز کو بھولتا ہے۔ نہ یہ ممکن ہے کہ کوئی چیز اس کے علم میں آنے سے رہ جائے یا آئے تو غلط شکل میں آئے اور نہ یہ ممکن ہے کہ وہ علم میں آئی ہوئی کسی چیز کو بھول جائے۔ غور کیجیے، حضرت موسیٰ اس غیر متعلق اور طنزیہ سوال کا یہ جواب بھی دے سکتے تھے کہ مجھ سے کوئی فضول سوال نہ کرو۔ میں خدا کا رسول بن کر آیا ہوں، میں نے غیب دانی کا دعویٰ نہیں کیا ہے اور نہ یہ کہا ہے کہ تمام پچھلی قوموں کا ریکارڈ میرے پاس ہے لیکن انہوں نے یہ جواب دینے کے بجائے نہایت بلیغ انداز میں اس کو یہ تنبیہ کی کہ ہرچند میں تو سارے غیب کا عالم نہیں لیکن میرا رب ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور اس کا علم ہر خطا و نسیان سے پاک ہے۔ اس کے پاس سارا ریکارڈ محفوظ ہے۔ جو قومیں صفحہ ارض سے مٹ چکی ہیں ان کی نسبت بھی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اب وہ افسانہ ماضی ہوچکی ہیں بلکہ سب کے نامہ اعمال خدا کے لئے خطا رجسٹر میں مرقوم ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب ایک ایک چیز محفوظ ہے تو یہ صرف محفوظ رکھنے کے لئے تو محفوظ نہیں ہے بلکہ حساب و کتاب اور جزا و سزا کے لئے محفوظ ہے۔ یہ بات چونکہ بالکل ظاہر تھی اس وجہ سے حضرت موسیٰ نے اس کا اظہار نہیں فرمایا لیکن ان کا انداز کلام خود اس کو نہایت خوبی کے ساتھ ظاہر کر رہا ہے۔ بعض مواقع میں کنایہ جتنا مئوثر ہوتا ہے صراحت اتنی مئوثر نہیں ہوتی۔
Ayahs 20:53–56آیت 56-53
ایک تضمین
قرینہ دلیل ہے کہ یہ چار آیتیں حضرت موسیٰ کے کلام کا حصہ نہیں ہیں بلکہ بطور تضمین، براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اس قسم کی تضمین کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کلام صرف ماضی کی ایک حکایت نہیں رہتا بلکہ وہ حال پر پوری طرح منطبق ہوجاتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے فرعوکن کو جواب دیا اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اپنی بات ملا کر قریش کے فراعنہ کو بھی سنا دی کہ یہ صرف ماضی کی حکایت نہیں ہے بلکہ تمہاری بھی حکایت ہے۔ تم بھی سن لو کہ کون تمہارا رب ہے اور کون تمہاری عبادت و اطاعت کا اصلی حقدار ہے۔
”الذی جعل لکم الارض مھداً وسلک لکم فیھا سبلاً و انزل من السمآء مآء لفاخرجنا بہ ازواجاً من نبات شی کلوا وارعوا العامکم ان فی ذلک لایت لاولی النھی
خدا کے رب ہونے کی دلیل اس کی ربوثبیت کے پہلو سے
یہ خدا کے رب ہوکنے کی دلیل اس کی ربویبت کے پہلو سے ہے یعنی جس ذات نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا۔ اس کے اندر فلک بوس پہاڑ بنائے تو ان کے اندر تمہارے گزرنے کے لئے درے اور دروازے بھی بنا دیئے۔ آسمان سے پانی برسایا اور اس سے قسم قسم کی نباتات اور طرح طرح کے درخت اگا دیئے جن میں سے ہر چیز زبان حلا سے دعوت دے رہی ہے کہ خود بھی کھائو برتو اور اپنے چوپایوں کو بھی چرائو چگائو۔ درحقیقت وہی ذات اس بات کی سزا وار ہے کہ اس کو رب مانو۔ فرمایا کہ پروردگاری کے اس اہتمام و انتظام کے اندر اہل عقل کے لئے بہت سی دلیلیں ہیں۔ یہاں ان دلیلوں کی وضحات نہیں فرمائی ہے لیکن اس نظام ربوبیت کے اندر اس کے خالق کی قدرت، حکمت، رحمت کی جو دلیلیں ہیں وہ ان لوگوں سے مخفی نہیں ہو سکتیں جن کے اندر عقل ہے اور وہ اپنی عقل سے کام بھی لیتے ہیں نظام ربوبیت خدا کی توحید پر بھی شاہد ہے اور ایک روز جزا و سزا کی آمد پر بھی ان دلائل کی وضاحت اس کتاب میں پیچھے بھی جگہ جگہ ہوچکی ہے اور آگے بھی آئے گی۔ یہاں مقصود صرف اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ رب مانے جانے کی حقدار تو وہی ذات ہو سکتی ہے جس نے پورش کے یہ سارے سامان مہیا کئے ہیں۔ جب ان چیزوں کے مہیا کرنے میں کسی کو کوئی دخل نہیں ہے تو کوئی دورسا رب ہونے کا حق دار کس طرح ہوسکتا ہے۔
منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃ اخری
ربوبیت سے معاد پر استدلال
یہ اسی ربوبیت سے قیامت پر استدلال فرمایا ہے کہ ہم نے اسی زمین سے تمہیں پیدا کیا ہے اور پھر مرجانے کے بعد اسی میں تمہیں لوٹاتے ہیں اور پھر اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس تمام اہتمام ربوبیت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن آئے جس میں اس کائنات کے رب کا عدل ظہور میں آئے۔ جنہوں نے خدا کی نعمتوں کا حق ادا کیا ہو وہ اس کا صلہ پائیں اور جنہوں نے ان نعمتوں کو خدا کی زمین میں فساد کا ذریعہ بنایا ہو وہ اس کی سزا بھگتیں۔ فرمایا کہ یہ دوبارہ پیدا کردینا ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں۔ جب ہم نے اسی سر زمین سے تم کو پیدا کیا اور ہمیں اس میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو پھر اسی سے دوبارہ پیدا کرنے میں کیوں مشکل پیش آئے گی جب کہ ہم تمہیں تمہایر مر جانے کے بعد اسی میں واپس بھی کر رہے ہیں !
ولقد ارینہ ایتنا کلھا فکذب والی
یعنی ہم نے فرعون کو اپنی ہر قسم کی نشانیاں دکھائیں لیکن وہ اس کے باوجود ہمارے رسولوں کی تکذیب پر اڑا ہی رہا اور ہماری ہدایت قبول کرنے سے انکار ہی کرتا رہا۔ یہاں نشانیوں سے مراد وہ تمام نشانیاں ہیں جو حضرت موسیٰ کی دعوت کے بعد مصر میں یکے بعد دیگرے، فرعون کو متنبہ کرنے کے لئے ظاہر ہوئیں لیکن فرعون آخر وقت تک اپنی ضد پر اڑا ہی رہا۔ ان نشانیوں کی تفصیل تورات میں موجود ہے۔ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم نے ان کا حوالہ دیا یہع۔
ان آیتوں پر نظر ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ متکلم کے صیغے استعمال فرمائے اس وجہ سے یہ، جیسا کہ ہم نے عرض کیا، حضرت موسیٰ کے کلام کا حصہ نہیں ہیں بلکہ تضمین ہیں۔