Ayah 20:87اس آیت کے ایجاز کے سبب سے اس کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑا اضطراب پیش آیا ہے ہم اپنے لفظوں میں اس کا مطلب بیان کریں گے اس کے بعد اس کے الفاظ کی وضاحت کریں گے۔
قوم کے بزرگوں کی معذرت
حضرت موسیٰ نے جیسا کہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، سب سے پہل یقوم کے ان بزرگوں کو سرزنش کی جن پر انہوں نے اپنی غیر حاضری میں لوگوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ڈالی تھی۔ ان لوگوں نے اپنی مجبوری و بےبسی بیان کی کہ یہ جو کچھ ہوا اس میں ہمارے ارادے اور ہماری مرضی کو کوئی دخل نہیں ہے بلکہ لوگوں کے زیورات کی امانت کا جو بوجھ ہمارے اوپر تھا اوپر تھا وہ لوگوں کے مطالبے پر ہم نے اپنے سر سے اتار دیا اور اس طرح سامری نے ان کے لئے یہ بچھڑا ڈھال کر تیار کردیا۔ یعنی یہ جرم سرتا سرسامری اور اس کے فریب میں آئے ہوئے ان عوام کا ہے جن کے زیورات ہماری امانت میں تھے۔ ہم ان کے دبائو میں آ کر ان کے زیورات ان کے حوالہ کرنے پر مجبور ہوگئے اور ان زیورات سے سامری نے یہ فتنہ کھڑا کردی۔
ما اخلقنا موعدک بملکنا ملک کے معنی اختیار و اقتدار کے ہیں۔ یعنی آپ ہم سے جو عہد لے کر گئے تھے ہم نے اپنے امکان کے حد تک اس پر قائم رہنے کی پوری کوشش کی لیکن حالات اس قدر قابو سے باہر ہوگئے تھے کہ ہمارے لئے عوام کو کنٹرول میں رکھنا ناممکن ہوگیا۔
ولکنا حملنا اوزاراً من زینۃ القوم زینۃ القوم سے مراد لوگوں کے وہ زیورات ہیں جو ان سرداروں کی امانت میں تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ سفر کی آپا دھاپی میں ضائع ہونے کے خطرے سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنے قیمتی زیورات بہت سے لوگوں نے ان سرداروں کی امانت میں رکھ دیئے تھے اور ان لوگوں نے ایک خدمت سمجھ کر مجبوراً یہ ذمہ داری اپنے سرے لی تھی۔ یہ زیورات بنی اسرائیل ہی کے لوگوں کے تھے یا قبطیوں کے ؟ اس باب میں تورات کی روایات متضاد ہیں۔ کتاب خروج کے با 35 سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنی اسرائیل ہی کے تھے لیکن اسی کتاب کی دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے ملک چھوڑتے وقت سونے چاندی کے بہت سے زیورات اور ظروف مصریوں سے مسعتار لئے تھے لیکن یہ دوسری روایت بالکل خلاف قیاس معلوم ہوتی ہے۔ اول تو بنی اسرائیل کو مصر میں یہ حیثیت حاصل نہیں تھی کہ وہ مصریوں سے سونے چاندی کے زیورات مستعار لے سکیں اور مصری ان کو اپنے قیمتی ظروف تک اٹھا کر ان کو عاریتہ دے دیں بالخصوص ایسے حالات میں جب کہ سالوں سے ان کے اندر ایک شدید کشمکش برپا تھی اور مصری یہ اندیشہ رکھتے تھے کہ بنی اسرائیل ملک چھوڑ کر جانے کے لئے پر تول رہے ہیں۔ ثانیاً حضرت موسیٰ شرعی اور اخلاقی پہلو سے یہ گوارا کس طرح کرسکتے تھے کہ وہ دوسروں کے عاریت دیئے ہوئے مال پر اپنی قوم کو اس طرح قابض ہونے کی اجازت دیں ! اس وجہ سے ہمارے نزدیک یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ صحیح بات ہے کہ یہ بنی اسرائیل ہی کے زیورات تھے۔ قرآن میں دوسری جگہ من حلیھم کے الفاظ ہیں۔ اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے زیورات تھے۔
فقذ قنھا فکذلک القی السامری قذف کے معنی پھینک دینے اور قے کردینے کے ہیں۔ سرداروں نے کہا کہ ہم نے تو لوگوں کا لاوا ہا بوجھ ناخوش گواری کے ساتھ محض لوگوں کی خدمت کے خیال سے اٹھایا تھا۔ لیکن جب ہم مجبور کردیئے گئے تو ہم نے اس کو سرے سے اتار پھینکا۔ عربی زبان کا ذوق رکھنے والے اندازہ کرسکتے ہیں کہ یہاں حملنا اوزار قذف تینوں ہی الفاظ اس احساس گراں باری کو ظاہر کر رہے ہیں جوان سرداروں کو اس بار امانت کے سبب سے تھا۔ حضرت موسیٰ نے جب ان کو سرزنش فرمانی تو ان و خیال ہوا کہ چونکہ یہ بت ان زیورات سے تیار ہوا ہے جو ان کی امانت میں تھے اس وجہ سے ممکن ہے ان کے پیغمبر کو یہ گمان ہو کہ اس سازش میں کچھ ہاتھ ان کا بھی ہے۔ انہوں نے حضرت موسیٰ کا یہ شبہ دور کرنے کے لئے اپنی پوزیشن صاف کردی کہ اس فتنہ میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ البتہ لوگوں کے زیورات کا جو بوجھ ہمارے سر پر امادا گیا تھا وہ ہم نے لوگوں کے مطالبہ سے مجبور ہو کر اپنے سر سے اتار پھینکا کہ جو کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں کریں۔ ان کے اس قول سے کہ ہم نے یہ جو کچھ کیا اپنے اختیار سے نہیں کیا، یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اپنے امکان کے حد تک انہوں نے سامری کے فتنہ سے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی لیکن حالات اس قدر بگڑ چکے تھے کہ ان پر قابو پانا ان کے بس میں نہیں تھا۔ ان کی یہ بےبسی چونکہ واضح تھی اس وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے ان کا عذر قبول فرما لیا۔
فکذلک القی السامری لفظ القاد عربی میں وسیع معنوں میں آتا ہے یہ جس طرح زمین پر کسی چیز کے ڈال دینے یا پھینک دینے کے معنی میں آتا ہے اسی طرح پانسہ پھینکنے کوئی ہنر دکھانے یا کوئی کرتب دکھانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ سورة حج میں انشاء اللہ ہم اس کی تحقیق بیان کریں گے۔ یہاں یہ لفظ ہنر اور کرتب دکھانے کے معنی میں ہے۔ اسی سورة کی آیت 65 میں ہے امان ان تلقی واما ان نکون اول من القی (ساحروں نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ یا تو تم پہلے اپنا کرتب دکھائو یا پھر ہم ہی اپنا ہنر دکھاتے ہیں)
سرداروں نے اس فتنہ کی ساری ذمہ داری سامری پر ڈالی کہ ہم نے مجبور ہو کر زیورات کا بوجھ اپنے سر سے اتار دیا اور پھر اس طرح سامری نے اپنا کرتب دکھایا اور ایک بچھڑا بنا کر اس نے پیش کردیا۔
Ayah 20:88اس طرح سامری نے ڈھال کر ایک بچھڑا برآمد کیا۔ جسداک خوار خوار بچھڑے کے ڈکر نے کی آواز کو کہتے ہیں۔ یعنی اس نے ایک بچھڑے کا دھڑ بنایا جس میں سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ سامری مصر کے فن بت گری کا ماہر تھا۔ اس زمانہ میں یہ فن مصر میں عروج پر تھا۔ اعراف کی تفسیر میں ہم اس دور کے بعض نوادر کا ذکر کرچکے ہیں۔ ایک ماہر آدمی کے لئے بچھرے کا ایک ایسا دھڑ بنا لینا کچھ مشکل کام نہیں ہے جس میں سے ہوا گزرے تو بچھڑے کی سی آواز نکلے۔ سامری نے اس آواز کو اپنی کرامت کا نتیجہ قرار دیا اور عوام کو بوتقوف بنانے کے لئے ان کو یہ باور کرایا کہ اس نے اس کے اندر حضرت جبرئیل کے گھوڑے کی سم کی خاک ڈالی ہے جس سے یہ آواز نکلتی ہے۔ اس قسم کے متصوانہ ڈھونگ رچانے والے تو آج بھی لوگوں کو بڑی آسانی سے احمق بنا لیتے ہیں اور سامری سے کہیں بڑے بڑے سامری ہمارے شہر شہر میں موجود ہیں تو اس زمانہ میں بنی اسرائیل جیسی سادہ لوح قوم کو کسی سامری کے لئے بیوقوف بنا لینا کیا مشکل کام تھا ! چناچہ جو مفسدین اس فتنہ کے بانی تھے انہوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ دراصل تمہارا اور موسیٰ کا معبود تو یہی ہے لیکن موسیٰ اس کو نظر انداز کر کے معلوم نہیں کہاں طور پر چلے گئے اور اس کو بھول گئے۔ اس پروپیگنڈے کا اثر یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کی عظیم اکثریت اس فتنہ میں پھنس گئی۔
Ayah 20:89یہ ان سادہ لوحوں کی سادہ لوحی پر اظہار تعجب ہے کہ ان احمقوں نے ذرا نہ سوچا کہ یہ بےجان دھڑ جو نہ ان کی کسی بات کا جواب دے سکتا اور نہ ان کو کوئی نقصان یا نفع پہنچا سکتا آخر کس مرض کی دوا ہے کہ یہ اس کو معبود بنا بیٹھے ! معبود کوئی کھلونا نہیں بلکہ وہ زندگی کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ آخر اس سے کون سی ضرورت پوری ہونے والی ہے کہ انہوں نے اس کی عبادت شرع کردی !
Ayah 20:90حضرت ہارون کی فتنہ سے بریت
یہ حضرت ہارون کی اس فتنہ سے بریت کا اظہار ہے۔ تورات میں تو جیسا کہ ہم نے اوپر عرض کیا، اس سارے نتنہ کی ذمہ داری حضرت ہارون پر ڈلا دی گی ہے لیکن قرآن نے نہایت واضح الفاظ میں ان کو اس سے بالکل بری قرار دیا ہے۔ من قبل کے لفظ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انہوں نے جوں ہی اس فتنہ کے ابھرنے کے آثار دیکھے اسی وقت سے لوگوں کو آگاہ کرنا شروع کردیا کہ لوگو، یہ مفسدین تم کو فتنہ میں مبتلا کر رہے ہیں تمہارا معبود خدائے رحمان ہے نہ کہ تمہایر اپنے ہی ہاتھوں کا ڈھالا ہوا کوئی بچھڑا تو میری بات مانو اور ان مفسدین کے پچھے نہ لگو۔
Ayah 20:91حضرت ہارون نے لوگوں کو آگاہ کرنے کی پوری کوشش کی لیکن ان کی کسی نے ایک نہ سنی۔ لوگوں نے جواب دیا کہ ابتو ہم اس کی پرستش پر حضرت موسیٰ کی واپسی تک بہرحال قائم رہیں گے اور دیکھیں گے کہ وہ آ کر کیا عیصا کرتے ہیں۔ اس فقرے سے یہ بات نکلتی ہے کہ لوگ سامری کے چکمے میں آ کر حضرت ہارون کی تمام کوششوں کی علی الرغم ایک شدید حماقت تو کر بیٹھے لیکن بعد میں بہت سے لوگوں کو، جیسا کہ سورة اعراف سے واضح ہوتا ہے اپنی اس حماقت کا احساس ہوا۔ مگر ایک حماقت کر گزرنے کے بعد اس سے پیچھا چھڑانا آسان نہیں ہوتا۔ چناچہ یہ لوگ بھی اس سے فوری دست برداری کا اعلان کرنے کے بجائے مجبور ہوئے کہ حضرت موسیٰ کی واپسی تک اسی جہالت پر جمے رہیں۔
Ayahs 20:92–93آیت 93-92
حضرت ہارون سے پرستش
قوم کے سرداروں سے پوچھ گچھ کے بعد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون کی طرف متوجہ ہوئے جن پر قوم کی دیکھ بھال کی اصل ذمہ داری تھی۔ ان سے پوچھا کہ جب تم نے لوگوں کو گمراہی کی راہ پر جاتے دیکھا تو میری ہدایت کی پیروی کیوں نہ کی، کیا تم نے میرے حکم کی نافرمانی کی ؟ اس حکم سے مراد جو طور پر جاتے وقت وہ حضرت ہارون اور اپنے مقرر کردہ مانیٹروں کو دے گئے تھے۔ سورة اعراف کی آیت 123 کے تحت بھی اس کا ذکر ہم کرچکے ہیں کہ انہوں نے حضرت ہارون کو ہدایت فرمای تھی کہ میرے بعد جملہ معاملات میں میری جانشینی کرنا اور قوم کے اندر جو مفسد عناصر ہیں ان سے چونے رہنا، ان کو سر اٹھانے کا موقع نہ دینا۔ حضرت موسیٰ کے سوال کا انداز ایسا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یہ گمان نہیں تھا کہ حضرت ہارون ینے دیدہ دانستہ ان کے حکم کی نافرمانی کی ہے بلکہ وہ ان کا عذر معلوم کرنا چاہتے تھے کہ آخر وہ کیا مجبویر پیش آئی کہ وہ اس فتنہ کا سدباب نہ کرسکے اور اس کو سر اٹھانے کا موقع معلوم کرنا چاہتے تھے کہ آخر وہ کیا مجبوری پیش آئی کہ وہ اس فتنہ کا سدباب نہ کرسکے اور اس کو سر اٹھانے کا موقع مل گیا۔
مامنعک کے بعد بظاہر الا تتبعن میں لا کی ضرورت نہیں تھی، چناچہ ہمارے اہل نحواس کو زائد ماتنے ہیں۔ لیکن یہ زائد نہیں ہے بلکہ یہ زبان کے معروف استعمال کے مطابق تاکید کے لئے آتا ہے۔ کلام عرب میں اس کی مثالیں بہت ہیں۔ ہماری زبان میں بھی یہ اسلوب موجود ہے۔
Ayah 20:94حضرت ہارون کی معذرت
حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون کا سر اور ان کی ڈاڑھی پکڑ کر ان کو جھنجھوڑا کہ تم نے یہ کیا کمزوری دکھائی ! حضرت موسیٰ کے اس طرز عمل سے ان کی حمیت حق بھی نمایاں ہو رہی ہے اور وہ محبت بھی جو فطری طور پر ان کو حضرت ہارون سے تھی۔ اس محبت کا تقاضا یہی تھا کہ جب انہوں نے محسوس فرمایا کہ حضرت ہارون سے دین کے معاملے میں کمزور صادر ہوئی ہے تو وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے اور ان کو انہوں نے سختی سے جھنجھوڑا۔ حضرات انبیاء اور صالحین کا طریقہ یہی ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں تور داداری برتتے ہیں لیکن دین کے معاملات میں وہ مداہفت نہیں برتتے۔ اس معاملے میں جو ان سے جتنا ہی قریب ہوتا ہے وہ اس کے لئے اتنے ہی زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ اہل دنیا کی روش اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ وہ اپنی دنیا کے معاملات میں تو بڑے چوکنے اور زیرک ہوتے ہیں، اپنے باپ اور بیٹے کا بھی محسابہ کرتے ہیں لیکن دین کیم عاملے میں بالکل بےحمیت اور بےحس ہوتے ہیں۔ بھائی بند جو چاہیں کرتے پھریں ان کی غیرت کو ذرا بھی حرکت نہیں ہوتی !
حضرت ہارون نے اپنی معذرت پیش کی اور انداز خطاب بہت ہی پیارا ہے۔ فرمایا اے میرے ماں جائے ! میری ڈاڑھی اور میرا سر نہ پکڑ یے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اگر میں نے کوئی سخت قدم اٹھایا تو بنی اسرائیل کے درمیان تفریق ہوجائے گی اور پھر آپ کہیں گے کہ میں نے آپ کی نصیحت پر عمل نہیں کیا اور ملت کے اندر تفریق برپا کردی۔ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم یہ وضاح کرچکے ہیں کہ حضرت ہ اورن نے لوگوں کو اس فتنہ سے روکنے کی انتہائی کوشش کی لیکن ایک عظیم اکثریت پر سامری کا جادو اس طرح چل چکا تھا کہ لوگوں کو روکنا تو درکنار، اندیشہ اس بات کا پیدا ہوگیا تھا کہ مبادا اشرار حضرت ہارون کو قتل کردیں۔ اب دو ہی صورتیں باقی رہ گئیں تھیں۔ یا تو حضرت ہارون اپنے ساتھیوں کو لے کر الگ ہوجائیں یا چند دن حضرت موسیٰ کی واپسی کا انتظار کریں پہلی صورت میں اندیشہ تفریق ملت اور باہمی کشت و خون کا تھا۔ دوسری صورت میں توقع تھی کہ حضرت موسیٰ اپنے دبدبہ اور حسن تدبیر سے حالات پر قابو پا لیں گے۔ اسی توقع کی بنا پر انہوں نے پہلی صورت اختیار نہ کی کہ اس سے اصلاح کی جگہ فساد کا اندیشہ تھا اور وہ حتی الامکان اس فساد سے قوم کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔
Ayah 20:95قال فما خطبک یسا مری
سامری سے باز پرس
تمام ذمہ داروں سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد جب بات پایہ تحقیق کو پہنچ گئی کہ دراصل اس سارے فساد کا بانی سامری ہی ہے تو حضرت موسیٰ اس کی طرف متوجہ ہوئے نہایت تیکھے انداز میں اس سے سوال کیا کہ سامری ! تو بتا، یہ تو نے کیا کیا ؟ یہ کیا ماجرا ؟ یہ کیا فتنہ کھڑا کردیا ؟
Ayah 20:96سامری کا ڈھونگ
سامری نے جب دیکھا کہ اب وہ حضرت موسیٰ کی گرفت میں آچکا ہے تو اس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ ایک بات بنائی جس میں اس نے ایک طرف تو اپنے تو اپنے اس فعل کے لئے ایک وجہ بھی بیان کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی اس امر کا اعتراف بھی کرلیا کہ اب مجھ پر یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ جو کچھ بھی میں نے سمجھا تھا یہ محض فریب نفس تھا اور میں غلط فہمی کے سبب سے فنس کے فریب کو ایک حقیقت سمجھ بیٹھا۔
بات تو اس نے یہ بنائی کہ مجھے ایک کشفی مشاہدہ ہوا جو صرف مجھی کو ہوا دوسروں کو نہیں ہوا۔ وہ سر کہ میں نے دیکھا کہ حضرت جبرئیل آئے ہیں اور میں نے ان کے نقش قدم (یا ان کے گھوڑے کے نقش قدم) سے ایک مٹھی خاک اٹھالی ہے اور ایک بچھڑا بنا کر اس کے اندر ڈال دی ہے جس سے وہ بولنے لگا لیکن اب آپ کی اس تنبیہ کے بعد مجھ پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ یہ کوئی کشف کا مشاہدہ نہیں تھا بلکہ یہ محض میرے نفس کا ایک دھوکا تھا جس میں مبتلا ہو کر میں یہ جرم کر بیٹھا۔ سامری نے اس طرح حضرت موسیٰ کے سامنے اپنے آپ کو معذور ٹھہرانے کی کوشش کی کہ اس نے یہ جو کچھ کیا ایک کشف کے زیر اثر کیا، بطور خود کسی شرارت کے ارادے سے نہیں کیا۔ لیکن اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ اب حضرت موسیٰ کی گرفت سے اس کے لئے چھوٹنا آسان نہیں یہ اور اس قسم کے دھونس ان کے آگے چلنے والی نہیں ہے اس وجہ سے اس نے یہ اعتراض بھی کرلیا کہ یہ جو کچھ ہوا محض مغالطہ کا نتیجہ ہے کہ میں اپنے نفس کے ایک فریب کو ایک شکف سمجھ بیٹھا اور مجھ سے یہ جرم صادر ہوگیا۔
Ayah 20:97سامری پر لعنت
اس کے اس عذر سے حضرت موسیٰ پر اس کی مکاری اور شرارت اچھی طرح واضح ہوگئی۔ انہوں نے اس کے اوپر لعنت کردی اور عمر بھر کے لیء اس کو یہ سزا دی کہ اب تو یہ کہتا پھرے گا کہ لوگو، میں ناپاک ہوں، نہ کوئی مجھے ہاتھ لگائے اور نہ میں کسی کو ہاتھ لگا سکتا ہوں اور ساتھ ہی اس کو آخرت کے عذاب کی بھی خبر دے دی کہ ایک عذاب موعود کا دن بھی تیرے لئے آنے والا ہے جس سے تو کسی طرح بھی اپنے کو بچا نہ سکے گا۔ وہ بہرحال شدنی ہے۔
فاذھب یعنی دور دفع ہو۔ یہ یہاں دھتکارنے کے معنی میں آیا ہے۔
فی الحیوۃ یعنی تیرے لئے یہ لعنت کی سزا وقتی اور عارضی نہیں ہے بلکہ عمر بھر کے لئے یہ تیرے اوپر مسلط کردی گی۔
لام اس کا مفہوم
ان تقول لامساس یعنی تو خود اپنی زبان سے پکارتا پھرے گا کہ میں ناپاک ہوں، نہ مجھے کوئی چھوٹے نہ میں کسی کو چھونے کا مجاز ہوں۔
حضرت موسیٰ کی شریعت میں جماعت سے کسی شخص کو کاٹ دینے کی سزا موجود ہے۔ احبار باب 7 آیت 21 میں بعض چیزوں کی حرمت بیان کرنے کے بعد ان کے مرتکب کے لئے یہ سزا بیان ہوئی ہے۔
”وہ کھاین والا آدمی اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔“
جس شخص کو یہ سزا دی جاتی وہ بالکل اچھوت بن کر رہ جاتا۔ نہ اس کی شادی غمی میں کوئی شر کی ہوتا، نہ اس کو عبادت خانہ میں جانے کی اجازت ہوتی اور نہ کوئی اس کی تجہیز و تکفین میں حصہ لیتا۔
اس سے زیادہ سخت سزا کوڑھیوں کے لئے بیان ہوئی ہے۔ احبار کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔
”اور جو کوڑھی اس بلا میں مبتلا ہو اس کے کپڑے پھٹے اور اس کے سر کے بال بکھرے رہیں اور وہ اپنے اوپر کے ہونٹ کے ڈھانکے اور چلا چلا کر کہے ناپاک ناپاک۔ جتنے دنوں تک وہو اس ملا میں مبتلا ہے وہ ناپاک رہے گا۔ اور وہ ہے بھی ناپاک پس وہ اکیلا رہا کرے۔ اس کا مکان لشکر گاہ کے باہر ہو۔ (احبارب 14، 46-45)
یہی سزا حضرت موسیٰ نے سامری کو دی بس یہ فرق ہے کہ کوڑھی کے لئے یہ سزا صرف اس وقت تک کے لئے تھی جب تک وہ اس مرض میں مبتلا رہے لیکن سامری کو حضرت موسیٰ نے یہ سزا عمر بھر کے لئے دی اس لئے کہ وہ منافقت کے کوڑھ میں مبتلا تھا جو ایک اخلاقی اور روحانی کوڑھ جسمانی کوڑھ سے زیادہ غلیظ ہے۔ مزید برآں اس پر حضرت موسیٰ نے لعنت بھی کردی جو دین میں سخت ترین سزا ہے۔ قرآن کے الفاظ ان تقول لام اس اور تورات کے الفاظ اور چلا چلا کر کہے ناپاک ناپاک“ ایک دوسرے کے مقابل میں رکھ کر دیکھتے تب قرآن کے الفاظ کا اصل مقام و محل اور اس کا اصلی زور سمجھ میں آئے گا۔ یہ امر محلوظ رہے کہ کسی کا خود اپنے ناپاک ہونے کا چلا چلا کر اعلان کرنا اس کی ذلت در ذالت کی آخری حد ہے !
سامری کے معبود کا حشر
وانظر الی الھلک الذی الایۃ ساتھ ہی حضرت موسیٰ نے اس کے ڈھالے ہوئے معبود کے متعلق بھی فرمایا کہ دیکھ تیری آنکھوں کے سامنے ہم اس کو جلائیں گے اور اس کو راکھ بنا کر سمندر میں بکھیر دیں گے۔ حضرت موسیٰ ے یہ اقدام اس لئے فرمایا کہ شرک کے ساتھ آثار شرک کا مٹانا ضروری ہوتا ہے تاکہ شرک کے تمام جراثیم کا یک قلم خاتمہ ہوجائے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی فتح مکہ کے موقع پر تمام بتوں کا یک قلم خاتمہ کرا دیا تھا۔
یہاں ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ حضرت موسیٰ نے سامری کو قتل کی سزا کیوں نہ دی جب کہ اسی جرم کے بہت سے مرتکبین کو جیسا کہ سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ انہوں نے قتل کرا دیا ؟ ہمارے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ یہ لعنت جیسا کہ ہم اصحاب سبت کے سلسلہ میں ذکر کرچکے ہیں، قتل سے زیادہ سنگین اور عبرت انگیز سزا ہے۔ قتل کی سزا تو آنا فناً ختم ہوجاتی ہے اور اس سے دوسروں کو جو عبرت ہوتی ہے وہ بھی وقتی ہوتی ہے لیکن یہ لعنت کی سزا دینا اور آخرت دونوں میں آدمی کے ساتھ چیک کے رہ جاتی ہے۔ تصور کیجیے اس انسان کی شو مئی قسمت کا جو زندگی بھر خود اپنی زبان سے یہ منادی کرتا پھرے کہ لوگو، میں ناپاک ہوں، کوئی مجھے ہاتھ نہ لگائے ! یہ امر بھی محلوظ رہے کہ پیغمبر کی لعنت ایسی چیز نہیں ہے جس سے کوئی کہیں بھاگ کر چھوٹ سکے۔ پیغمبر کا لعنت کیا ہوا جہاں کہیں بھی جاتا ہے لعنی ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی !
تورات کی ایک دلچسپ روایت
اس بت سے متعلق قرآن کا اشراد تو یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس کو جلا کر اور کوٹ پیس کر اس کی راکھ سمندر میں بکھیر دی لیکن تورات میں یہ دلچسپ روایت ہے کہ حضرت موسیٰ نے اس کی راکھ پانی میں گھول کر لوگوں کو پلا دی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تورات کے راویوں کو روایت گھڑنے کا بھی سلیقہ نہیں ہے ! آخر یہ کونسا شربت روح افزا تھا جو حضرت موسیٰ اپنی قوم کو پلاین کے لئے یہ اہتمام فرماتے ! اگر یہ روایت صحیح مان لی جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ شاید اسی کا فیض ہے کہ حامل کتاب ہونے کے باوجود شرک اس بدقسمت قوم کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے جس سے نہ کبھی اس کو نجات ملی اور نہ شاید کبھی ملے گی !
Ayah 20:98یعنی اس بچھڑے کو جن لوگوں نے معبود بنایا انہوں نے اپنی شامت بلائی تمہارا معبودیہ بچھڑا نہیں بلکہ صرف وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وسع کل شی علماً توحید کی دلیل ہے کہ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے دائرہ علم سے خارج نہیں ہے تو وہ اپنا کسی کو شریک کیوں بنائے اور دوسرے اس کا کسی کو شریک کیوں قرار دیں۔ جب وہ سب کچھ سنتا جانتا ہے تو وہ تنہا کافی ہے۔ کسی اور کی احتیاج کہاں باقی رہی۔
Ayah 20:99آگے کا مضمون آیات 135-99
حضرت موسیٰ کی سرگزشت تمام ہوئی۔ اب آگے وہی مضمون جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا نئے اسلوب اور نئے دلائل کے ساتھ پھر سامنے آگیا۔ آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ماضی کی یہ سرگزشت جو ہم نے تمہیں سنائی ہے۔ یہ صرف ماضی کی حکایت نہیں ہے بلکہ یہی کچھ تمہارے اور تمہارے مخالفین کے سامنے بھی پیش آ رہا ہے اور پیش آئے گا جو لوگ تمہاری اس یاد دہانی سے اعراض اور دوسروں کو برگشتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ قیامت کے روز اپنا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی ان کو اٹھاناپ ڑے گا جو ان کے سبب سے گمراہ ہوں گے۔ اور یہ قیامت کا دن بڑا ہی سخت دن ہوگا۔ اس دن کسی کی کچھ پیش نہیں جائے گی۔ سب کی پیشی خدا ہی کے سامنے ہوگی اور اس کے سامنے کوئی اس کے اذن کے بغیر کسی کی سفاشر کے لئے زبان نہ کھول سکے گا۔ تو ہم نے جو یاد دہانی تم پر اتاری ہے اس کے اندر ہر خطرے سے لوگوں کو آگاہ کردیا ہے۔ تم اس کو لوگوں کو سنا دو۔ جس کو توفیق ہوگی وہ اس سے فائدہ اٹھائے گا جو اس سے اعراض کرتا ہے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اس کی کوئی ذمہ داری تمہارے اوپر نہیں ہے اور یہ قرآن جس تدریج کے ساتھ اتر رہا ہے اسی تدریج کے ساتھ تم اس کو لوگوں کو سنائو اسی تدریج و ترتیب میں حکمت ہے۔ اس کے لئے جلدی نہ کرو۔ جلدی میں خیر و برکت نہیں ہے۔ آدم نے جلدی کی تو اس کا نتیجہ اس شکل میں ان کے سامنے آیا کہ شیطان نے ان کو جنت سے نکلوا چھوڑا۔ جو لوگ تم سے نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کو خود ان کے ملک کی تاریخ کی طرف توجہ دلائو اور ان کے طعن و طنز پر صبر کرو اور اس صبر کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ سرگرمی کے ساتھ نماز کا اہتمام کرو امراء و اغنیاء کے ایمان کے لئے بھی تمہیں زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ تم ان کے مال و اسباب کے محتاج ہو اور ورن ہتمہاری یہ دعوت ان کی سرپرستی کی محتاج ہے۔ تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا کفیل اور سرپرست اللہ ہے جو لوگ تم سے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ سب سے بڑی نشانی تمہارے پاس قرآن کی صورت میں آگئی ہے اور یہ اسی لئے آئی ہے کہ تم پر حجت تمام ہوجائے۔ اگر تم لوگ اس کو کافی نہیں سمجھتے کسی عذاب ہی کے طالب ہو تو اس کے لئے تم بھی انتظار کرو، میں بھی اس کا انتظار کر رہا ہوں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔
ہنسی اور مستقبل دونوں کا آئینہ
کذلک کا اشارہ حضرت موسیٰ کی اسی سرگزشت کی طرف ہے جو پیچھے گزری۔ اب یہ آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ہم تمہیں ماضی کی یہ اہم سرگزشتیں بھی سنا رہے ہیں اور خاص اپنے پاس سے تمہیں بھی کتاب عطا فرمائی ہے۔ یعنی ماضی میں خدا نے اپنے رسولوں اور ان کے مخالفوں کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ بھی تمہیں سنا دیا ہے اور تمہارے ان مخالفوں کے ساتھ جو معاملہ کرنے والا ہے وہ بھی تمہیں بتا دیا ہے۔ اب اسی آئینے میں اپنا اور اپنے ان حریفوں کا مستقبل دیکھ لو ذکر سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے پچھلے انبیاء اور ان کی تعلیمات کا حصہ بھی محفوظ کردیا ہے جس کو محفوظ رکھنا تھا اور آخری سرول کی حیثیت سے جو ہدایت آنحضرت پر نازل ہونے والی تھی وہ بھی اس میں ہے۔
Ayahs 20:100–101آیت 101-100
مخلافین کو دھمکی
یہ دھمکی ہے ان لوگوں کو جو اس یاد دہانی سے اعراض کریں گے۔ فرمایا کہ جو اس سے اعراض کریں گے وہ قیامت کے روز ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔ ان کے اوپر اپنی گمراہی کا بوجھ بھی ہوگا اور جو لوگ ان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوں گے ان کے بوجھ میں سے بھی ان کو اٹھانپاڑے گا۔ خلدین فیہ میں ضیمر لفظ وزر کے لازم کے اعتبار سے آئی ہے چونکہ زر سے مراد اس کا لازمی نتیجہ یعنی عذاب ہے اس وجہ سے فرمایا کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اس بوجھ کی نسبت فرمایا کہ نہایت ہی برا بوجھ ہوگا اس لئے کہ نہ تو اس سے کبھی نجات حاصل ہو سکے گی اور نہ کوئی اس کے اٹھانے میں معین و مددگار ہوگا۔ ہر ایک کو یہ بوجھ خود ہی اٹھانا پڑے گا۔
Ayah 20:102آیت 102
رزق، ازرق کی جمع ہے۔ ازرق نیلگوں چشم کو کہتے ہیں لیکن عربی محاورہ میں یہ خوف زدہ اور دہشت گردی آدمی کے لئے بھی آتا ہے اس لئے کہ شدت خوف کی حالت میں آنکھیں نیلی پڑجایا کرتی ہیں اور ان کے سرخ ڈورے غائب ہوجاتے ہیں۔
اوپر والی آیت میں جس قیامت کا ذکر ہے یہ اس کی تصویر ہے کہ اس دن کو یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا یہ مجہول کا صیغہ اس کی ہولناکی کی تعبیر کے لئے ہے کہ ایک ہولناک آواز ایک ہلچل تو برپا کر دے گی لیکن یہ کسی کو معلوم نہیں ہوگا کہ یہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔ فرمایا کہ اس دن ہم ان تمام مجرموں کو جو ہماری اس یاد دہانی سے برگشتہ ہیں اور دوسروں کو بھی برگشتہ کر رہے ہیں اکٹھا کریں گے اور آج تو وہ بڑی ڈھٹائی سے ہماری تنبیہ کا مذاق اڑا رہے ہیں لیکن اس دن سب کی آنکھیں خوف سے نیلی پڑی ہوں گی۔
Ayah 20:103ایک مغالطہ کا ازالہ
یعنی آج تو یہ قیامت سے بالکل نچنت اور بےخوف ہیں۔ اول تو اس کو بہت بعید از امکان چیز سمجھتے ہیں اور اگر کسی درجے میں اس کو مانتے بھی ہیں تو یہ خیال کر کے بےفکر ہوجاتے ہیں کہ زندگی، پھر موت، پھر برزخ پھر قیامت یہ اتنی دور کی بات ہے کہ اس کی فکر میں ابھی سے اپنے عیش کو مکدر کرنا حماقت ہے۔ فرمایا کہ آج تو یہ اس کو بہت دور کی چیز سمجھتے ہیں لیکن جب وہ آن کھڑی ہوگی تو آپس میں ایک دور سے سے سرگوشی کریں گے اور کہیں گے کہ ان سارے مراحل پر زیادہ سے زیادہ بس دس دن گزرے ہوں گے ! یہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ برزخی زندگی کا قیامت کے دن کوئی احساس نہیں ہوگا، ایسا معلوم ہوگا کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں۔ رہی یہ دنیا کی زندگی تو جب تک یہ ہے اس وقت تک تو آدمی اسی مغلاطہ میں رہتا ہے کہ ابھی بہت عمر باقی ہے لیکن جب وقت آخر آجاتا ہے تب محسوس ہوتا ہے کہ جس چیز کو بہت طویل سمجھے تھے وہ بہت مختصر نکلی خاص طور پر غفلت میں جو زندگی گزرتی ہے وہ آنکھ کھلنے کے بعد بس ایک خواب معلوم ہوتی ہے۔ قرآن نے اسی غفلت پر یہاں متنبہ کیا ہے کہ اصل اعتبار آج کے احساس کا نہیں کہ یہ تو یکسر مغالطہ ہے بلکہ اس احساس کا ہے جو حقیقت کے سامنے آنے کے بعد ہوگا۔
Ayah 20:104یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہم اس دن کے احوال و احساسات کی یہ خبر جو دے رہے ہیں یہ محض ہوائی باتیں ہیں جو صرف مرعوب کرنے کے لئے سنائی جا رہی ہیں۔ بلکہ یہ حقائق ہیں جو پیش آئیں گے۔ اس دن لوگ جو کچھ کہیں گے ان سے سب سے زیادہ واقف ہم ہیں۔ یہ دس دن والی بات تو الگ رہی اس دن ان کے اندر جو سب سے زیادہ معقول دانشمند اور اندازہ دان سمجھا جاتا ہوگا وہ یہ کے گا کہ دس دن کہاں ! بس زیادہ سے زیادہ ایک دن تم دنیا میں رہے ہو گے !
امثل کے معنی
امثل کے معنی افضل و برتر کے ہیں یہاں یہ لفظ بطریق تعریض استعمال ہو ہے یعنی ان کے اندر جو سب سے زیادہ لال بجھکڑ مانا جاتا ہوگا وہ اپنی اندازہ دانی کا یہ ثبوت فراہم کرے گا !
عرب جاہلیت کی شاعری پر جن لوگوں کی نظر ہے وہ جاتنے ہیں کہ ان ایٓتوں میں جس مغالطہ پر متنبہ کیا گیا ہے اسی مغالطہ میں مبتلا ہو کر بہت سے شاعروں نے قیامت کو حدیث خزانہ یعنی ایک مہمل بات قرار دیا ہے۔ میں ان شعروں کے نقل کرنے سے قصداً احتراز کر رہا ہوں اور ان کے نقل کرنے کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں ہے اس لئے کہ یہ مغالطہ صرف دور جاہلیت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ اس دور تمدن کے لوگوں کا بھی اصل مغالطہ یہی ہے۔ … قرآن نے اسی مغالطہ پر متنبہ کیا ہے۔
Ayahs 20:105–107آیت 107-105
نسف کے معنی
نسف کے معنی ہیں کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دینا، غلہ کو چھاج میں رکھ کے پھٹکنا کسی چیز کو خس و خاشاک اور خاک اور راکھ بنا کر ہوا میں اڑا دینا
یذرہا میں ضمیر کا مرجع زمین ہے ظاہر اور مشہور چیزوں کے لئے عربی میں اس طرح ضمیر لاتے ہیں قرآن میں آسمان اور زمین وغیرہ کے لئے اس طرح متعدد جگہ ضمیریں آئی ہیں ماترک علی ظھر مامن دآبۃ اور روئے زمین پر کسی جاندار کو باقی نہیں چھوڑے گا) میں بھی ضمیر کا مرجع زمین ہے اگرچہ الفاظ میں اس کا ذکر نہیں ہے۔
قاع ضفعف ہموار اور چٹیل میدان کو کہتے ہیں جس میں نہ نشیب و فراز ہو نہ سبزہ و نباتات نہ درخت اور جنگل
امت بلندی اور فراز کو کہتے ہیں۔
پہاڑوں کے غیر فانی ہونے کا نظریہ اور اس کا ابطال
قیامت کے باب میں اہل عرب کو جس طرح وہ مغالطہ تھا جو اوپر مذکور ہوا اسی طرح وہ اس مغالطہ میں بھی مبتلا تھے کہ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی دن روئے زمین سے یہ تمام پہاڑ غائب ہوجائیں۔ عوام تو درکنار ان کے بہت سے دانشوروں تک کا خیال یہ تھا کہ پہاڑ غیر فانی ہیں۔ زہیر جو عرب کے حکیم شعراء میں سے ہے کہتا ہے کہ
الا اری علی احلوادث باقیا
ولا خالد الا الجبال الرواسیا
(حوادث روزگار کے مقابل میں ان مسحتکم پہاڑوں کے سوا میں اور کسی چیز کو بھی قائم و دائم رہنے والی خیال نہیں کرتا)
جب قرآن لوگوں کو قایمت کے زلزلہ سے ڈراتا تو اسی مغالطہ کی بنا پر بہت سے تاوان آنحضرت صلعم سے، طنز اور مذاق کے انداز میں، سوال کرتے کہ جب قیامت آئے گی تو ان عظیم الشان پہاڑوں کا کیا بنے گا ؟ کیا وہ ان کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی ! فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ ہاں۔ میرا رب ان کو بھی پاش پاش کر کے گرد و غبار کی طرح اڑا دے گا اور اس زمین کو بالکل صفا چٹ چھوڑ دے گا، نہ اس میں کسی سبزہ اور درخت کا نشان ہوگا اور نہ اس میں وادیاں اور کہسار اور نشیب و فراز ہوں گے ! !
عرب جاہلیت تو پہاڑوں کو ناقابل تسخیر سمجھتے تھے اس لئے کہ ان کے نزدیک پہاڑ ہی بڑی چیز تھے لیکن اس زمانے کا انسان خود اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھتا ہے اور اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ بہت جلد ساری کائنات کو مسخر کرلے گا۔ اس زعم کی موجوگدی میں ظاہر ہے کہ اس کے نزدیک قیامت کا سوال بالکل خارج از بحث ہے ! !
Ayah 20:108ھس کے معنی باریک اور پست آواز کے ہیں جو کا نا پھوسی کی نوعیت کی ہو۔
فرمایا کہ آج تو لوگ ہمارے داعی کی بات نہیں سن رہے ہیں وہ صراط مستقیم کی دعوت دے رہا ہے تو یہ کج ہو کے چل رہے ہیں، اس کی مخالفت میں گلے پھاڑ رہے ہیں۔ لیکن اس دن کا داعی جب پکارے گا تو سب اس کے پیچھے چل پڑیں گے، کسی کی مجال نہ ہوگی کہ سر مواس سے انحراف کرسکے اور خدائے رحمان کی ہیبت کے آگے سب کی آوازیں پست ہوجائیں گی، کسی کے حلق سے بھی آواز نہیں نکلے گی جو بھی بات کرے گا سرگوشی اور کا نا پھوسی کے انداز میں بات کرے گا۔
Ayah 20:109آیات 109
شفاعت کے لئے شرائط
استثناء میرے نزدیک یہاں منقطع ہے۔ یہ عربوں کی مزعومہ شفاعت کی تردید ہے۔ ان کا زعم یہ تھا کہ وہ جس معبودوں کو پوجتے ہیں وہ خدا کے لاڈلے اور چہیتے ہیں۔ وہ خود آگے بڑھ کر اپنے پجارویں میں سے جس کے لئے چاہیں گے سفارش کریں گے اور اس کو خدا سے چھڑا لیں گے۔ ان کے اس زعم کی تردید میں فرمایا کہ اس دن کسی کی شفاعت کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں ہے حالانکہ خدائے رحمان کسی کو شفاعت کی اجازت دے اور کسی کے بارے میں وہ کسی کے کچھ کہنے کو پسند فرمائے۔ یعنی جو شفاعت کرے گا وہ بھی خدا کی اجازت سے کرے گا اور جس کے لئے شفاعت کی جائے گی وہ بھی بایں شرط مشروط ہے کہ خدا اس کے بارے میں کسی کے سفارش کرنے کو پسند فرمائے۔ مطلب یہ ہے کہ کام آنے والی شفاعت بیک وقت ان دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر کسی نے شفاعت سے متعلق ان شرائط سے قطع نظر کر کے کوئی اپنا نظریہ ایجاد کر رکھا ہے تو وہ محض اس کا واہمہ ہے جس کی حقیقت قیامت کے دن اس کے سامنے آجائے گی۔ سورة انبیاء کی آیت 28 کے تحت انشاء اللہ اس مضمون کی مزید وضاحت آئے گی۔
Ayah 20:110اس ٹکڑے کی شرح آیت الکرسی کے تحت وضاحت سے ہوچکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا علم سب کو محیط ہے۔ ہر ایک کے ماضی و مستقبل اور حاضر و غائب سب سے وہ واقف ہے۔ دوسرے کسی کی یہ حیثیت نہیں کہ اس کا علم خدا کے علم کا احاطہ کرسکے تو یہ مقام کس کا ہے کہ وہ کسی کے باب میں خدا کے علم میں کوئی اضافہ اور اس بنیاد پر اس کے حق میں کوئی سفارش کرسکے ! خدا کسی کے متعلق کسی سے یہ معلوم کنے کا محتاج نہیں ہے کہ وہ کس قسم کا آدمی ہے۔ اس کے اعمال کیا رہے ہیں اور وہ کیا معاملہ کئے جانے کا مستحق ہے ؟ یہ ساری چیزیں اس کے علم میں موجود ہیں۔ اس مسئلے پر سورة مریم کی آیت 87 کے تحت جو بحث گزر چکی ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 20:111عنو کے معنی فروتنی اور عجز و تذلل کے اظہار کے ہیں اور ظلم سے مراد جیسا کہ ہم متعدد مقامات میں واضح کرچکے ہیں، شرک ہے۔
شفاعت باطل کے امیدواروں کے ایک زعم کی تردید
یہ شفاعت باطل کے امیدواروں کے ایک اور زعم باطل کی تردید ہے۔ وہ اپنے جن مزعومہ شرکاء کو اپنا سفارشی سمجھے بیٹھے تھے ان کے متعلق یہ گمان بھی رکھتے تھے کہ خدا کے ہاں ان کو بڑے ناز و تذلل کا مقام حاصل ہے۔ وہ جو بات چاہیں خدا کے سامنے جرأت و اعتماد اور ناز و اصرار کے ساتھ پیش کرسکتے ہیں اور خدا کو ان کی ناز براداری اس قدر محبوب و مطلوب ہے کہ وہ بہرحال ان کی بات مانتا اور ان کی سفارش پوری کرتا ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ اس قسم کے واہمہ میں مبتلا ہیں وہ اس کو اپنے ذہن سے نکال ڈالیں۔ خدا کے سامنے کسی کو بھی ناز و تدلل کا مقام حاصل نہیں ہے۔ اس کے سامنے ناز و تدلل کے بجائے سب کے چہرے خشیت و تذلل کے ساتھ جھکے ہوئے ہوں گے۔
یہاں اسمائے حسٰی میں سے حی اور قیوم کا حوالہ ہے ان اسماء کے حوالہ کا ایک خاص محل ہے۔ مشرکین عرب کے متعلق ہم یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ جہاں تک خدا کے ماننے کا تعلق ہے وہ خدا کو مانتے تھے لیکن اپنے شرکیہ عقائد کے تحت اس کی حیثیت انہوں نے بالکل وہ بنا کے رکھ دی تھی جو معاذ اللہ گھر کے ایک بڑے بوڑھے ناکارہ وجود کی ہوتی ہے جو اپنی ساری ذمہ داریاں دوسروں کے سپرد کر کے خود گوشہ نشین بن کے بیٹھ جاتا ہے۔ اس تصور نے ان کو خدا سے بالک بےنیاز کر کے ان کا سارا اعتماد ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر جما دیا تھا۔ یہاں قرآن نے ان کے اس زعم باطل پر بھی ضرب لگائی اور فرمایا کہ خدا کوئی ناکارہ وجود نہیں بلکہ زندہ خدا ہے اور اپنی پیدا کی ہوئی اس دنیا کے سارے معاملات و دوسروں کے اوپر چھوڑ کر کسی گوشہ میں ایک خاوش علتہ العلل بن کر نہیں بیٹھا ہے بلکہ قیوم یعنی اس کائنتا کے سارے نظم کو سنبھال ہئوے ہے اور اس کو خود اپنی نگرانی اور اہتمام میں چلا رہا ہے۔
شرک باعث نامرادی ہے
وقد خاب من حمل ظلما ظلم سے مراد شرک ہے اور یہاں اس لفظ کی تنکیر اس بات پر دلیل ہے کہ شرک کی جس نوع کا بھی کوئی مرتکب ہوگا وہ آخرت میں خاسر اور نامراد ہوگا۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ شرک صرف یہی نہیں ہے کہ کوئی شخص بت پرستی کرے بلکہ اس کی جلی اور خفی بہت سی قسمیں ہیں اور اس کی ہر قسم باعث خسران و نامرادی ہے۔ ہم اس کی مختلف قسموں کی وضاحت اپنی اس کتاب میں بھی موقع موقع سے کر رہے ہیں اور اس موضوع پر حقیت شرک کے عنوان سے ہم نے مستقل کتاب بھی کلھی ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔
Ayah 20:112ظلم اور ہضم کا مفہوم
ظلم اور ہضم دونوں لفظ جب ایک ساتھ استعمال ہوں تو ظلم کے اندر حق تلفی کا مفہوم پایا جاتا ہے اور ہضم کے اندر غضب اور تعدی کا یعنی ایک صورت تو یہ ہے کہ کسی کا حق جو آپ پر عائد ہوتا ہے آپ اس کو دبا بیٹھیں یہ ظلم ہے دوسری صورت یہ ہے کہ آپ تعدی کر کے دوسرے کے پاس جو کچھ ہے اس کو چھیننے اور غصب کرنے کی کوشش کریں۔ یہ ہضم ہے۔
اوپر والی آیت میں فرمایا کہ جو کسی نوع کے شرک کا مرتکب ہوا وہ نامراد ہو۔ یہ اس کے مقابل میں فرمایا کہ جو اعمال صالحہ کرے گا اور وہ مومن بھی ہو تو وہ اپنے اعمال کا بھرپور صلہ پائے گا۔ نہ اس کو کسی حق تلفی کا اندیشہ ہوگا نہ کسی تعدی کا
وھو مومن کا مفہوم ظاہر ہے کہ یہاں یہ ہے کہ وہ توحید پر قائم رہتے ہوئے نیک اعمال کیر۔ اگر اس میں شرک کی کوئی آلودگی ہو تو پھر اس کے اعمال کی خدا کی نگاہ میں کوئی قیمت نہیں ہے۔ اگر کوئی عمل خدا کی رضا مندی کے لئے نہ کیا جائے بلکہ کسی اور غرض کے لئے کیا جائے تو اس کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں ہے اگرچہ وہ بظاہر نیکی ہی کام کام کیوں نہ ہو !
Ayah 20:113اصل سلسلہ کلام نئی تمہید کے ساتھ
اس کا طف اوپر والی بات پر ہے جہاں سے یہ سلسلہ کلام چلا ہے۔ آیات 100-99 میں ارشاد ہوا ہے کہ ہم نے خاص اپنے پاس سے تمہیں یہ یاد دہانی (قرآن) عطا فرمائی ہے تو جو اس سے منہ موڑیں گے وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔ اس کے بعد انذار کے لئے قیامت کا ذکر آگیا تھا۔ قیامت کے ذکر کے بعد وہی اصل مضمون ایک نئی تمہید اور مزید تفصیل کے ساتھ از سر نو آگای۔ فرمایا کہ اسی مقصد تذکیر کے لئے ہم نے یہ قرآن عربی زبان میں اتارا ہے اور اس میں گوناگوں پہلوئوں سے ان عواقب و نتائج کی وضاحت کردی ہے جن سے اس کی تکذیب کرنے والوں کو لازماً دوچار ہونا پڑے گا تاکہ لوگ اگر تقویٰ اور خدا ترسی کی راہ اختیار کرنا چاہیں تو وہ اتخیار کریں اور اگر یہ نہیں تو پھر ہماری طرف سے ان کو یاد دہانی ہوجائے تاکہ اگر وہ ہماری پکڑ میں آئیں تو وہ یہ عذر نہ کرسکیں کہ ان کو یاد دہانی نہیں کی گئی۔
اہل عرب پر قرآن کا اتمام حجت
قرانا عبریاً کے الفاظ یہاں اہل عرب پر بطور اظہار احسان و امتنان کے بھی ہیں اور بطور اتمامح جت و قطع عذر کے بھی مطلب یہ ہے کہ اس قرآن کو عربی زبان میں اتار کر ان لوگوں پر اپنا سب سے بڑا فضل بھی فرمایا کہ اپنی تذکیر وتعلیم کے لئے انہی کی زبان کو منتخب کیا اور اس طرح ان پر حجت بھی تمام ہوگئی۔ اب یہ قیامت کے روز یہ عذر نہیں کرسکتے کہ اگر ان کے پاس کوئی رسول، ان کی اپنی زبان میں کوئی کتاب لے کر آتا تو یہ سب سے زیادہ ہدایت کے اختیار کرنے والے بنتے۔ اس قرآن نے ان تمام عذرات کا خاتمہ کردیا !
صرفنا فیہ من الوعید تصریف کا مفہمو ہم متعدد جگہ واضح کرچکے ہیں کہ کسی بات کو گوناگوں و بوقلموں اسالیب سے پیش کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک تو یہ کتاب ہم نے ان کی اپنی زبان عربی میں اتاری پھر یہ کہ اس سے اعراض کے جو نتائج ہوں گے ان کو مبہم نہیں چھوڑا بلکہ ان کو عقل کے نقل کے تاریخ کے آفاق کے انفس کے دلائل سے اچھی طرح مبرہن کردیا ہے۔ اب اگر اس اہتمام کے بعد بھی یہ اس سے فائدہ نہ اٹھائیں تو نتائج کی ذمہ داری خود ان پر ہے !
لعلھم ینقون اویحدث لھم ذکرا یعنی اصل مقصود تو اس تمام اہتمام سے ہے کہ ان کے اندر تقویٰ اور خدا ترسی پیدا ہو اور اگر یہ نہیں تو ان کو ہماری طرف سے یاد دہانی ہوجائے کہ وہ اس دنیا میں کس لئے برپا کئے گئے تھے اور اب کا ہ بنا رہے ہیں۔ یہ امر محلوظ رہے کہ قرآن نے عربوں کو ان کی وہ اصل تاریخ بھی از سر نو یاد دلائی ہے۔ جب حضرت ابراہیم نے ان کے باپ حضرت اسماعیل کو اس سرزمین میں ایک خاص مشن کے ساتھ بسایا تھا۔ اس کی وضاحت دوسرے سے مقامات میں تفصیل کے ساتھ ہوچکی ہے۔ آیت میں احداث کا لفظ اسی پہلو کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ احداث ذکر کا اصل مفہم کسی سرگزشت کی از سر نو یاد دہانی ہے۔
Ayah 20:114نزول قرآن کے لئے آنحضرت کے اندر بےقراری کی اصل وجہ
اس آیت کا صحیح مفہوم ذہن نشین کرنے کے لئے سورة مریم کی آیات 65-64 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے مخالفین کی تمام مخالفتوں اور ژاژخائیوں کے مقابلہ کے لئے آنحضرت صلعم کے پاس واحد ہتھیار قرآن ہی تھا۔ اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کے اترنے کے لئے آپ کے اندر ایک بےقراری اور بےچینی پائی جاتی تھی۔ اسی سے مشکلات میں آپ کو رہنمائی ملتی تھی، یہی چیز الجھنوں اور پریشانیوں میں تسلی کا ذریعہ بنتی تھی اور مخلافین جو نت نئے مطالبات و اعتراضات روز روز پیش کرتے ان کے فیصلہ کن جواب بھی قرآن ہی دے سکتا تھا۔ ان وجوہ سے اس سپاہی کی طرح جو دشمنوں کی دل بادل فوج کے مقابل میں نبرد آزما ہو، آپ کو ہر وقت اس آسمانی کمک کا انتظار رہتا۔ حضور کی اسی پریشانی کو دور کرنے کے لئے ارشاد ہوا کہ تم قرآن کے اتارے جانے کے لئے جلدی نہ کرو خدا کی ذات بڑی ہی برتر اور بلند ہے۔ اپنی حکمتوں اور مصلحتوں کو وہ خود ہی جانتا ہے۔ وہی اس کائنات کا بادشاہ حقیقی ہے اور تم جو یاد دہانی لوگوں کو سنا رہے ہو وہ اسی بادشاہ حقیقی کا فرمان ہے۔ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے۔ تم لوگوں کے ردر قبول سے بالکل بےنیاز ہو کر جس تدریج اور ترتیب سے یہ اتر رہا ہے لوگوں کے سناتے رہو۔ اس کی تکمیل کے لئے خدا نے جو مدت مقرر کر رکھی ہے وہ اس کی حکمت و مصلحت سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس مدت سے پہلے اس کے اتار دیئے جانے کے لئے جلدی نہ کرو۔ البتہ یہ دعا برابر کرتے رہو کہ اے رب میرے علم کو زیادہ کر !
یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوا ہے اور ہر جگہ اسی سیاق وسباق کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ہمارے مفسرین نے ان آیات کو اس محدود مفہوم میں لیا ہے کہ حضرت جبریل جب آنحضرت کو وحی سنات تو آپ اس کو سیکھنے میں عجلت کردیتے جس پر آپ کو ٹوکا گیا اگرچہ یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ جس چیز کے لئے شوق و بےقرار ہو، جذبہ شوق اس کے لئے جلد باز بنا دیتا ہے۔ ہمارے پاس اگر کوئی ایسا نامہ محبت آئے جس کے لئے ہم نے بےچینی کی گھڑیاں گزاری ہوں تو ہم یہی چاہیں گے کہ اس کو ایک ہی سانس میں پورا پڑھ ڈالیں۔ یہ جذبہ ایک فطری جذبہ ہے اور قرآن کے معاملہ میں حضور کے اندر یہ جذبہ ضرور رہا ہوگا لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے کہ یہاں آپ کو اس چیز پر ٹوکا گیا ہے۔ اس کا اصل پس منظر وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ آگے بھی اس مضمون کی آیات جگہ جگہ آئیں گی۔ ان سے انشاء اللہ بات پوری طرح واضح ہوجائے گی۔
Ayah 20:115عھد الی کا مفہوم ہم دوسری جگہ واضح کرچکے ہیں۔ یہ اسلوب بیان کسی کو کوئی خاص ہدایت یا وصیت تاکید و اہتمام کے ساتھ کرنے کے لئے آتا ہے۔
عجلت سے احتراز کی ہدایت
اوپر کی آیت میں آنحضرت کو قرآن کے معاملہ میں جلدی کرنے سے روکا ہے۔ اب اس جلدی کے نقصانتا واضح کرنے کے لئے حضرت آدم اور ابلیس کے ماجرے کا حوالہ دیا ہے کہ یہی عجلت آدم کے لئے مزلہ قدم ثابت ہوئی۔ انسانی فطرت کے اسی ضعف سے ابلیس نے فائدہ اٹھایا اور آدم کو ورغلا کر اللہ کی اس ہدایت سے غافل کردیا جو ان کو ایک خاص درخت کے پھل سے احتراز کے لئے کی گئی تھی۔ جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ آدم کو جنت سے نکل کر اس دنیا کے دارالابتلاء میں آنا پڑا۔ مقصود اس ماجرے کی یاد دہانی سے یہ ہے کہ یہ عجلت کسی کو بھی راس نہیں د آئی ہے۔ اوپر حضرت موسیٰ کی سرگزشت میں بھی یہ حقیقت واضح فرمائی گی کہ ان کی عجلت بھی ان کو راس نہیں آئی بلکہ ان کے اور ان کی قوم کے لئے ایک سخت آزمئاش بن گئی۔ ان واقعات کے پردے میں آنحضرت کو یہ تعلیم دی گی ہے کہ آپ بھی اپنی دعوت کے معاملے میں جلدی نہ کریں بلکہ صبر و عزم کے ساتھ درجہ بدرجہ جس طرح آپ کو ہدایت کی جا رہی ہے اپنے کام میں لگے ہیں اگر آپ نے جلدی کی تو، خواہ وہ کتنے ہی اچھے مقصد کے لئے ہو اس سے اندیشہ اس بات کا ہے کہ آپ کی امت کی تربیت میں خامی رہ جائے اور کوئی شیطان یا سامری اس سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کو ایک فتنہ میں مبتلا کر دے۔
من قبل ماضی کی سرگزشت کی یاد دہانی ہے۔ یعنی جس طرح آج تمہیں عجلت نہ کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے اسی طرح پہلے تمہارے اور تمام نسل آدم کے باپ آدم ؑ کو بھی ہدیات کی گی تھی لیکن وہ اس کو ملحوظ رکھ سکے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شیطان کے فریب میں آگئے۔ چونکہ ماضی کے تجربات، بالخصوص جب کہ وہ اپنے ہی ابوالآباء کی زندگی سے تعلق رکھنے والے ہوں، نسل حاضر و مستقبل کے لئے نہایت سبق آموز ہوتے ہیں اس وجہ سے اشارہ فرما دیا کہ پہلے کے واقعات و تجربات کو پیش نظر رکھو۔
فنسی ولم یجدلہ عزماً نسی یہاں نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے مفہوم میں ہے۔ یعنی حضرت آدم کو جو ہدایت کی گی ایک وقتی جذبہ علجت سے مغلوب ہ جانے کے سبب سے وہ ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوگئی اور وہ مضبوط عزم کے ساتھ اس پر قائم نہ رہ سکے۔ حضرت آدم کو جو ہدایت کی گئی تھی اور ان سے جو لغزش صادر ہوئی اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ اس آیت میں صرف یہ حقیقت واضح فرمائی گی ہے کہ جذبات وداعیات جتنے بھی ہیں سب انسانی سرشت کے اجزاء ہیں لیکن ان کے لئے حدود وقیوم ہیں اگر وہ اپنے حدود کے اندر رہیں تب تو وہ فردا اور معاشرہ سب کے لئے خیر و برکت ہیں لیکن اگر ان میں سے کسی کی باگ ذرا ڈھیلی چھوڑ دی جائے تو پھر وہ فرد اور سماج دونوں کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ ان داعیات و جذبات کو قابو میں رکھنے کے لئے آدمی کو اپنے اندر صبر اور عزم کی صفت پیدا کرنی پڑتی ہے۔ اسی صفت کو پیدا کر کے آدمی اپنے رہو اور نفس کو قابو میں رکھ سکتا ہے۔ ورنہ معلوم نہیں کون سا جذبہ اس کو کس فتنہ میں مبتلا کر دے۔ عجلت بھی انسان کے جذبات میں سے ایک جذبہ ہے اور یہ اس کی سرشت میں داخل ہے۔ خلق الانسان من عجل (انبیاء 37) اور کان لانسان عجولاً (اسراء 11) وغیرہ آیات میں اسی حقتقا کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن یہ انسان کے لئے نافع اسی وقت تک ہے جب تک یہ آدمی کے صبر اور عزم کے کنٹرول میں رہے۔ اگر یہ صبر اور عزم پر غالب ہوجائے تو پھر یہ انسان کے لئے بہت بڑا خطرہ بھی بن سکتا ہے۔
ولم نجدلہ عزماً عزم کا صحیح مفہوم صبر اور عزیمت و استقامت ہے، جس کا ضد بےصبری اور جلدی ابزی ہے۔ یہاں اصل مقصد کلام حضرت آدم کی بےصبری اور جلد بازی ہی کی طرف اشارہ کرنا اور اس کے عواقب سے آنحضرت کو آگاہ کرنا ہے۔
Ayah 20:116اوپر والی آیت میں قصہ آدم و ابلیس کا وہ خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے جو یہاں اس کے بیان سے مدنظر ہے۔ اس کے بعد اب اصل قصہ کی تفصیل آرہی ہے۔ قصوں کی تفصیل سے پہلے ان کا خلاصہ نگاہ کے سامنے کردینے سے نظم کلام کے سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے اور یہ اسلوب بیان قران نے جگہ جگہ اتخیار کیا ہے۔ اصحاب کہف کے واقعہ کے بیان کرنے میں بھی قرآن نے یہی اسلوب اختیار فرمایا ہے اور ہم اس کی وضاحت اس کے محل میں کرچکے ہیں۔
قصہ آدم و ابلیس کا سبق
فرمایا کہ یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو تعظیم بجا لائو تو سب نے اس حکم کی تعمیل کی مگر ابلیس نے اس کی تعمیل سے انکار کردیا۔ یہ ماجرا سورة بقرہ اور اعراف میں بھی بیان ہوچکا ہے اور ہم وہاں اس کے ہر جزو پر تفصیل سے بحث کرچکے ہیں۔ یہاں اس کے دہرانے میں طوالت ہوگی۔ بقرہ کی آیات 39-30 کے تحت تدبر قرآن جلد اول کے صفحات 130-112 پر اور اعراف کی آیات 14-11 کے تحت جو کچھ لکھا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس حکمی کی حکمت، سجدہ کی نوعیت، فرشتوں کے ساتھ اس حکم میں جنات کی شرکت کی علت، ابلیس اور اس کے غرور و اسکتبار، ہر چیز پر اپنے علم کے حد تک ہم نے گفتگو کی ہے۔
Ayah 20:117ابلیس نے صرف سجدہ کرین ہی سے انکار نہیں کیا بلکہ جیسا کہ سورة اعراف کی آیات 22-14 کے تحت ہم وضاحت سے بیان کر آئے ہیں اس نے جوش حسد میں خود اللہ تعالیٰ کو یہ چیلنج کیا کہ اگر تو مجھے آدم اور اس کی ذریت کو ورغلانے کی مہلت دے دے تو میں یہ ثابت کردوں گا کہ نہ مجھ پر کسی فضیلت کے سزا وار ہیں اور نہ اس جنت کے حقدار ہیں بلکہ میں ان میں سے اکثر کو اپنا مرید و ہمنوا بنا لوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو اس کو مہلت دے دی کہ جاتو جس کو ورغلا سکتا ہے ورغلالے میں تجھ کو اور تیرے سارے مریدوں کو جہنم میں جھونک دوں گا اور دوسری طرف حضرت آدم کو آگاہ فرما دیا کہ تم جنت میں رہو لیکن اس امر کو یا رکھو کہ ابلیس تمہارا ابدی دشمن ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں کسی گمراہی میں مبتلا کر کے جنت سے نکلوا چھوڑے اور تم محروم و نامراد ہو کر رہ جائو۔
Ayahs 20:118–119آیت 119-118
جنت آدم کی جامع تعریف
ان دو آیتوں میں اس جنت کی نہایت ہی جامع تعریف ہے جس میں حضرت آدم رکھے گئے تھے۔ فرمایا کہ اس میں نہ تم بھوکے ہوگے نہ ننگے، نہ اس میں تمہیں پیاس ستائے گی۔ نہ دھوپ دوسرے لفظوں میں اگر اس بات کو کہنا چاہیں تو یوں کرسکتے ہیں کہ اس میں تم سردی اور گرمی دونوں کے آزاد سے محفوظ رہو گے۔ سردی کے آزار میں سے بھوک اور عریانی ہے اور گرمی کی تکالیف میں سے پیاس اور دھوپ جن لوگوں کی نظر اہل عرب کے کلام پر ہے وہ جاتنے ہیں کہ وہ بسا اوقات سردی اور گرمی کی تکالیف کا ذکر اسی طرح کے الفاظ سے کرتے ہیں بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ پیاس کا ذکر بھوک کے ساتھ اور دھوپ کا ذکر عریانی کے ساتھ زیادہ موزوں ہوتا۔ ہمارے نزدیک یہ رائے عربیت کے ذوق سے محرومی کا نتیجہ ہے۔