Ayah 20:120آیت 120
آدم پر ابلیس کا کامیاب حملہ
ابلیس اگرچہ استکبار اور حکم خداوندی کی نافرمانی کے باعث جنت سے راندہ ہوچکا تھا لیکن اس نے قیامت تک کے لئے آدم اور اولاد آدم پر اپنا چلتر آزمانے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مہلت حاصل کرلی تھی اس وجہ سے وہ حضرت آدم کے پاس جنت میں بھی وسوسہ اندازی کے لئے پہنچ گیا اور ان کو سمجھایا کہ ایک خاص درخت کے پھل سے جو تمہیں روک دیا گیا ہے اس کا راز یہ ہے کہ ابدی زندگی اور ابدی بادشاہی کا درخت وہی ہے۔ اگر تم ابدی زندگی اور لازوال بادشاہی چاہتے ہو تو اس درخت کا پھل چکھو ورنہ آخر اس کی کیا ضمانت ہے کہ تم اس جنت میں ہمہشا رہ گے ! اول تو انسان کے اندر یہ کمزوری موجود ہے کہ وہ جس چیز سے روک دیا جائے اس کا حریض بن جایا کرتا ہے۔ ثانیاً حضرت آدم کو یہ کھٹکا بھی تھا کہ اس جنت سے وہ نکالے بھی جاسکتے ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انکو ڈرایا تھا کہ ابلیس تمہارا دشمن ہے، ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو جنت سے نکلوا چھوڑے۔ ابلیس نے آدم کے اسی اندیشہ کو تاڑ لیا اور نہایت خیز خواہانہ انداز میں ان کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگیا کہ اگر وہ ابدی زندگی اور ابدی بادشاہی چاہتے ہیں تو انہیں اس درخت کا پھل کھا لینا چاہئے۔ اس خواہش کے غلبہ نے ان کو اس یاد دہانی سے بالکل غافل کردیا۔ جو اللہ تعالیٰ نے ان کو شیطان کی دشمنی سے متعلق فرمائی تھی۔ وہ اپنے دشمن کو اپنا خیر خواہ سمجھ بیٹھے اور اس کے چکمہ میں آگئے۔
اس سے معلوم ہوا کہ شیطان اگرچہ بنی آدم کا ابدی دشمن ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ کامیاب حملہ وہ ہوتا ہے جو وہ دوست اور خیر خواہ کے بھیس میں کرتا ہے۔ وہ اسی بھیس میں آکر وسوسہ اندازی کرتا ہے اور انسان کو یہ باور کراتا ہے کہ خدا اور رسول نے اس کو جن چیزوں سے روکا ہے اس کی تمام تہذیب و ترقی کا راز اگر ہے تو بس انہی چیزوں کے اختیار کرنے میں ہے۔ آج کے حالات کا جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ تمام محرمات شریعت کی اباحت کی سب سے بڑی دلیل جو شیطان کے ایجنٹ پیش کرتے ہیں وہ یہی ہے کہ اگر ان چیزوں کے باب میں مذہب کے فوتے پر عمل کیا جائے تو تمام تہذیب و ترقی کا جنازہ نکل جائے گا ؟
ایک شبہ کا ازالہ
اس آیت میں جو مضمون بیان ہوا ہے یہی مضمون سورة اعراف میں یوں آیا ہے مانھکما ربکما عن ھذہ الشجرۃ الا ان تکونا ملیکن اوتکونا من الخالدین (20) (تمہارے رب نے تم دونوں کو صرف اس وجہ سے اس درخت سے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے اور زندگی دوام کے مالک نہ بن جائو) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیت زیر بحث میں ملک لایبلی (یاسی بادشاہی جس پر کھبی زوال نہ آئے) کے ا لفاظ ہیں اور اعراف میں ان تکونا ملیکن (کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ بن جائو) کے الفاظ ہیں۔ ان دونوں باتوں کے اندر تضاد نہ سہی لیکن فرق تو بہرحلا ہے تو آخر ان میں تطبیق کی کیا شکل ہے ؟ اسی مشکل سے بچنے کے لئے بعض لوگوں نے ملی کن کو ملیکن بکسر لام پڑھا ہے یعنی کہیں تم دونوں بادشاہ نہ بن جائو اور اس طرح انہوں نے ان دونوں آیتوں میں تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اول تو اس صورت میں بھی پوری تطبیق نہیں ہوتی ثانیاً ہمارے نزدیک متواتر اور مشہود قرأت صرف مصحف ہی کی قرأت ہے اور ہم غیر متواتر قرأت پر قرآن کی کسی آیت کی تاویل کو صحیح نہیں سمجھتے۔
ہمارے نزدیک اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ابلیس نے حضرت آدم و حوا کو اپنے ڈھب پر لانے کے لئے ان کو مختلف قسم کی ترغیبات دیں کبھی ان کو فرشتے بن جانے کی امید دلائی اور کبھی ایک لازوال بادشاہی حاصل ہوجانے کی توقع دلائی۔ اس بات کی طرف ہمارا ذہن اس وجہ سے جاتا ہے کہ اعراف میں اس بات کی تصریح ہے کہ حضرت آدم کو اپنے دام میں لانے کے الئے ابلیس کو بڑی جدوجہد کرنی پڑی۔ اس نے بڑی قسموں اور بڑی اطمینان دہانیوں کے بعد ان کو رام کرین میں کامیابی حاصل کی۔ اعراف کی آت 2 ہ میں فذتھما بغرور کے ا لفاظ ہیں۔ ہم نے وہاں ان کی وضحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کا صحیح مفہم کسی کو درجہ بدرجہ اپنے ڈھب پر لانے یا شیشہ میں اتارنے کے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم ابلیس کے ایک ہی فقرے میں اس کے چکمے میں نہیں آگئے بلکہ اس نے مختلف مواقع پیدا کر کے ان کو مختلف قسم کے فریب دیئے ہیاں تک کہ وہ اس کے دام میں پھنس گئے۔ کبھی یہ کہا کہ خدا نے تم کو اس درخت سے اس اندیشہ سے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جائو اور کبھی یہ کہا کہ اس وجہ سے اس سے منع کیا ہے کہ تمہیں لازوال بادشاہی نہ حاصل ہوجائے۔ مقصد تو کسی نہ کسی طرح اپنے دام فیرب میں لانا تھا اس وجہ سے جس وقت جو بات بن سکی وہ اس نے بنانے کی کوشش کی۔
Ayah 20:121آیت 121
اس آیت کی وضاحت بقرہ کی تفسیر میں بھی ہوچکی ہے اور اعراف کی آیت 2 ہ کے تحت بھی یہاں ان ساری باتوں کو دہرانے کی گنجائش نہیں ہے۔ غوی کے معنی صل وخاب کے ہیں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدم ابلیس کے چکمے میں آ کر شجرہ ممنوعہ کا پھل کھا بیٹھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کو جو حلہ جنت پہنایا گیا تھا اور جس کی نسبت جیسا کہ آیت 118 میں گزرا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ تھا کہ اس سے وہ کبھی محروم نہیں ہوں گے، وہ ان سے چھن گیا اور وہ گھبراہٹ میں باغ کے بتوں سے اپنے جسم کو ڈھانکنے لگے۔ وعصی ادم ربہ فغوی یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم کو جو ہدایت دی تھی وہ اس پر قائم نہ رہ سکے جس کا نتیجہ یہ نکال کہ وہ صحیح راہ سے بھٹک گئے۔ وطفقا یخصفن علیھما من ورق الجنۃ سے حضرت آدم و حوا کی اس گھبراہٹ اور سراسیمگی کا اظہار ہو رہا ہے جو دفعتاً حلہ جنت سے محروم ہوجانے کے باعث ان پر طاری ہوئی۔ انہوں نے تو ابدی جنت کے حصول کی طمع میں یہ اقدام کیا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ جو حاصل تھی وہ بھی ہاتھ سے گئی۔
Ayah 20:122آیت 122
اجتباء کا مفہوم آدم کی توبہ کا اثر
یہاں اجتاء کا ذکر ان کی توبہ اور قبولیت توبہ سے پہلے ہے اس سے معلوم ہوا ہے کہ اس اجتباء سے مراد حضرت آدم کو توفیق توبہ اور کلمات توبہ سے سرفراز فرمانا ہے۔ سورة بقرہ میں یہی مضمون یوں آیا ہے۔ فتلقی ادم من ربہ کلمت فتاب علیہ انہ ھو التواب الرحیم 37 (پس آدم نے اپنے رب کی طرف سے کچھ کلمات سیکھ لیے اور توبہ کی تو اس کے رب نے اس کی توبہ قبول فرمائی، بیشک وہ بڑا تو بہ قبول کرنے والا اور بڑا ہی رحیم ہے) سورة اعراف میں ان کلمات توبہ کی وضاحت بھی ہے۔ قالا ربنا ظلمنا انفسنا وان لم استغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین 33 انہوں نے دعا کی کہ اے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم نامراد ہو کے رہ جائیں گے) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم سے جو لغزش ہوئی وہ اس پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ کا قاعدہ یہ ہے کہ جو بندہ اپنے گناہ پر شرمسار ہوتا ہے وہ اس کو توجہ و اصلاح کی توفیق بخشتا ہے اور توبہ و اصلاح کے بعد اس کو پہلے سے بھی زیادہ اپنے سے قریب کرلیتا ہے
اسی چیز کو یہاں اجتباء سے تعبیر فرمایا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ بڑا ہی خوش بخت ہے وہ انسان جس کو احساس ندامت اور توفیق توبہ کے ساتھ ساتھ رب کریم کی طرف سے توبہ کے کلمات تلقین ہوں۔
تاب علیہ وھدی تاب کے بعد جب علی آتا ہے تو جیسا کہ ہم بقرہ 37 کے تحت وضاحت کرچکے ہیں۔ یہ رحم کے مضمون پر بھی متضمن ہوتا ہے۔ یعنی اللہ نے اس کی توبہ قبول کی اور اس پر رحم فرمایا اور اس کو ہدایت دی ”ہدایت دی“ سے مراد ظاہر ہے ہے کہ آگے کے مراحل کے لئے ہدایت دینا ہے تاکہ آدم اور ان کی ذریت شیطان کے فتنوں کا مقابلہ کرسکے۔
عیسائیوں اور نبوت آدم کے منکروں کی تردید
اس آیت سے عیسائیوں کے اس خیال کو بیا تردید ہوجاتی ہے جو ان کے ہاں آدم اور ان کی ذریت کے ابدی گنہگار ہونے کا پایا جاتا ہے اور ان لوگوں کے خیال کی بھی تردید ہوتی ہے جو حضرت آدم کو صرف نسل انسانی کا باپ مانتے ہیں، ان کو نبی نہیں مانتے۔ اس آیت کے الفاظ بھی ان کی نبوت پر دلیل ہیں اور عقل بھی یہ تقاضا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اور ان کی ذریت کی رہنمائی کے لئے ان کے حسب حال ان کو شریعت عطا فرمائے۔ آگے کی آیت میں اس کی وضاحت آرہی ہے۔
Ayah 20:123آیت 123
بقرہ آیت 36 اور اعراف آیت 24 کے تحت اس آیت کے تمام متعلقات پر گفتگو ہوچکی ہے۔ ہم نے ان آیات کے تحت وہ حکمت بھی واضح کی ہے جو مقتضی ہوئی کہ حضرت آدم اور ان کی ذریت اس دنیا میں آ کر شیطان کا مقابلہ کریں اور یہ بات بھی واضح کی ہے کہ ان آیات میں خطاب حضرت آدم و حوا سے نہیں بلکہ آدم اور ابلیس سے بحیثیت دو فریقوں کے ہے۔
بعضکم لبعض عدد یعنی شیطان تمہارا دشمن ہوگا اور تم اگر تمہیں اپنی عاقبت عزیز ہے اور پھر جنت حاصل کرنے کے آرزو مند ہو، شیطان کے دشمن ہو گے اس لئے کہ ہر عاقل اپنے دشمن کو دشمن سمجھتا اور اس سے چوکنا رہتا ہے صرف احمق اور ناعاقبت اندیش ہی ہوتا ہے جو اپنے دشمن سے دوستی گانٹھتا اور اس کے مشوروں پر کار بند ہوتا ہے۔
جن لوگوں نے محض اس غلط فہمی کی بنا پر کہ یہاں مثنیٰ کا صیغہ استعمال ہوا ہے اس کا مخاطب حضرت آدم اور ہوا کو مانا ہے ان کا خیال بالکل غلط ہے اول تو بعینیہ یہی بات بقرہ اور اعراف وغیرہ میں جمع کے صیغہ سے ارشاد ہوئی ہے، ثانیاً یہاں اگر مثنیٰ کا صیغہ آیا ہے تو اس کیساتھ لفظ جمیعہ بھی ہے، اگر مخاطب حضرت آدم اور حوا ہی ہیں تو یہ لفظ بالکل بےضرورت ہو کے رہ جاتا ہے۔ ثالثاً آدم و حوا میں فطری تعلق عداوت کا نہیں بلکہ محبت کا ہے۔ میاں بیوی میں اگر عداوت ہوی ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ خدانخواستہ بعضکم لبعض عدو واقع ہوئے ہیں بلکہ یہ شیطان کی در اندازی اور فساد انگیزی سے پیدا ہوتی ہے۔ البتہ شیطن اور ان کے مابین دشمنی فطری ہے اور یہ دشمنی قیامت تک کے لئے ہے۔ شیطان کی دشمنی تو واضح ہے کہ وہ بربنائے حسد ہے اور اس کا وہ کھلم کھلا اعلان کرچکا۔ رہا انسان تو وہ اگر ذی ہوش ہے تو اس کو یہ حقیقت ہمیشہ مستخصر رکھنی چاہئے کہ ہو اسی دشمن سے نبرد آزمائی کے لئے جنت سے نکال کر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اگر وہ اس سے دوستی کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ خود اپنے دشمن کے آگے سپر انداز ہوتا ہے۔
شیطان کے مقابلہ کے لئے ہتھیار
فاما یاتینکم منی ھدی فمن اتبع ھدای فلا یضل ولایشقیٰ یہ وہ ہتھیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے شیطان کے مقابلہ کے لئے آدم اور اولاد آدم کو مہیا فرمان کا وعدہ فرمایا۔ چونکہ انسان اس دنیا میں بڑے ہی شاطر دشمن سے نبرد آزمائی کے لئے بھجیا گیا ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ پسند فرمایا کہ اس کو عقل و فطرت کی ہدایت کے ساتھ ساتھ خاص اپنے پاس سے جن کی ہدایت سے سرفراز فرمائے تاکہ وہ دہری طاقت و ہمت کے ساتھ شیطان کا مقابلہ کرسکے۔ فرمایا کہ اب تم یہاں سے اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے تو جب تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے نہ وہ شیطان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوں گے اور نہ اس جنت سے محروم رہیں گے جس سے محروم رکھنے کے لئے شیطان نے قسم کھائی ہے۔
اس آیت سے دو باتیں بالکل واضح طور پر ثابت ہوتی ہیں۔
ایک یہ کہ اس دنیا میں شیطان کے فتنوں سے امان میں رہنے کا واحد ذریعہ اللہ کی کتاب ہے جو اس روشنی سے محروم ہے وہ ہر وقت شیاطین جن وانس کی زد میں ہے۔
حضرت آدم نبی تھے
دوسری یہ کہ حضرت آدم ایک نبی تھے۔ جب وہ شیطان کے ساتھ نبرد آزمائی کے لئے اس دنیا میں اتارے گئے ہیں اور اس سے مقابلہ کے لئے اللہ کی ہدایت ضروری ہے تو لازماً ان کی اور ان کی ذریت کی رہنمائی کے لئے، ان کے حالات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کو کوئی شریعت بھی دی ہوگی۔ ہم حضرت آدم کی شریعت کے بعض احکام کی طرف سورة مائدہ کی تفسیر میں بضمن قصہ ہابیل و قابیل اشارہ کرچکے ہیں۔
Ayah 20:124آیت 124
ایمان کے بغیر طمانیت نہیں حاصل ہوتی
معیشۃ ضنک کے معنی تنگ زندگی کے ہیں جو سکون و طمانیت اور فراغ فاطر و شرح صدر کی نعمت سے محروم ہو فرمایا کہ جو ہماری اس یاد دہانی سے اعراض کرے گا وہ دنیا کون قلب و شرح صدر سے محروم زندگی گزارے گا اور قیامت کے دن ہم اس کو اندھا اٹھائیں گے۔
طمانیت قلب ذکر الٰہی ہے
سکون قلب و شرح صدر سے اس کی زندگی کے محروم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک خلا ہے جو اللہ کے ایمان کے سوا کسی چیز سے نہیں بھر سکتا اس وجہ سے جب تک اس کو ایمان حاصل نہ ہو کوئی دوسری چیز اس کو تسلی و طمانیت سے بہرہ مند نہیں کرسکتی دوسری چیزیں خواہ وہ بظاہر کتنی ہی شادنار اور دلفریب کیوں نہ ہوں، وقتی بہلاوے کا کام تودے سکتی ہیں لیکن قلب و روح کی بےقراری کو رفع نہیں کرسکتیں جب بچہ بھوک سے روتا ہے تو اس کے منہ میں چسنی یا نپل دے کر کچھ دیر کے لئے بہلایا جاسکتا ہے لیکن وہ آسودہ اسی وقت ہوتا ہے جب ماں اس کو چھاتی ہے لگاتی اور اس کو دودھ پلاتی ہے۔ اس کے بغیر اس کی بےچینی نہیں جاتی۔ یہی حال انسان کا ہے وہ اپنے لئے جو اسباب و سامان بھی مہیا کرلے لیکن اگر وہ خدا کے ایمان سے محروم ہے تو وہ غیر مطمئن، ڈالو اڈول، اندیشہ ناک، مضطرب اور اندرونی خلفشار میں مبتلا رہے گا، اگرچہ وہ اپنی نمائشوں سے اس پر کتنا ہی پردہ ڈالنے کی کوشش کیر۔ نفس مطمئنہ کی بادشاہی صرف سچے اور پکے ایمان ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ الا بذکر اللہ تطمین القلوب !
ایک سوال اور اس کا جواب
ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ بہت سے لوگ ایمان کے مدعی ہوتے ہیں لیکن ان کی زندگی نہایت پریشان حالی و پراگندہ بالی کی ہوتی ہے۔ برعکس اس کے کتنے ہیں جو خدا کو محض ایک وہم سمجھتے ہیں لیکن وہ بڑی بےفکری و طمانیت کی زندگی بسر کرتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہاں بحث ایمان کے مدعیوں سے نہیں بلکہ حقیقی اہل ایمان سے ہے۔ ثانیاً جن لوگوں کو خدا سے بےپروا ہونے کے باوجود ہم مطمئن خیال کرتے ہیں ہم صرف ان کے اندر کتنے خطرے اور کتنے خلجان چھپے ہوئے بیٹھے ہیں لیکن یہ ہر ایک کو نظر نہیں آتے۔ ان کو وہ خود دیکھتے ہیں یا وہ لوگ دیکھ سکتے ہیں جن کے اندر ایمانی بصیرت ہو۔
ذکر الٰہی سے غاقبل قیامت کو اندھے اٹھیں گے
ونحشرہ یوم القیمۃ اعمی، اللہ کے ذکر سے اعراض کرن والے قیامت کے روز اندھے اٹھائے جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنکھ، کان اور دل کے پردے اٹھانے والی چیز اللہ کی یاد دہانی ہے۔ اگر کوئی شخص اس یاد دہانی سے اعراض کرتا ہے تو جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، وہ آنکھیں کان اور دل و دماغ رکھتے ہوئے، اندھا بہرا اور لایعقل ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ان عظیم نعمتوں کی ناقدری کی پاداش میں ایسے بلید جانوروں کو اندھا بنا کر اٹھائے گا۔ یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ اپنی ان عظیم نعمتوں کی ناقدری کی پاداش میں ایسے بلید جانوروں کو اندھا بنا کر اٹھائے گا۔ یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے صرف محسوسات کی غلامی کے لئے نہیں عطا فرمائی ہیں بلکہ ان حقائق کے مشاہدے کے لئے عطا فرمائی ہیں جو اس کائنات کے ذرہ ذرہ اور پتہ پتہ پر نقش ہیں، اگر کوئی شخص سب کچھ دیکھتا ہے لیکن اس کو وہی حقیقت نظر نہیں آتی جو سب سے زیادہ نمایاں ہے تو ہرچند وہ سب کچھ دیکھتا ہے لیکن اس کو سوجھتا کچھ بھی نہیں۔
دیکھتا سب کچھ ہوں لیکن سوجھتا کچھ بھی نہیں !
ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سورة ق میں فرمایا ہے فکشفنا عنک غطآءک فبصرک الیوم حدید 22 (پس ہم نے تیرے حجابات ہٹا دیئے تو تیری نگاہ آج بہت تیز ہے) او یہاں ارشاد ہوا ہے کہ ہم اس کو اندھا اٹھائیں گے، تو ان دونوں میں تطبیق کس طرح ہوگی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ سورة ق میں جو بات فرمائی گی ہے وہ ہے تم اس قیامت کی طرف سے بالکل غافل رہے لیکن آج سارے حقائق سامنے آگئے اور سارے پردے چاک ہوگئے ! اس اسلوب کلام کے اندر خاص بلیغ پہلو یہ ہے کہ اس دنیا میں تو محسوسات کے غلام اندھے بن کر زندگی گزارتے ہیں لیکن انک ونہ صرف یہ کہ اپنے اندھے ہونے کا کوئی احساس نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے آپ کو بڑا سقراط و بقراط اور بڑا ہی دانا و بینا سمجھتے ہیں لیکن قیامت کے دن ان کو اپنا اندھا ہونا نظر آجائے گا۔ آج تو یہ حال ہے کہ ہمارے سائنس دانوں کی آنکھیں تمام دور بینوں اور خورد بینوں سے مسلح ہونے کے باوجود خود اپنی آنکھیں دیکھنے سے بھی قاصر ہیں لیکن ایک دن آنے الا ہے جب سارے پردے اٹھ جائیں گے اور کسی کے لئے بھی مجال انکار باقی نہیں رہے گی، اسی انکشاف حقیقت کو فبصرک الیوم حدید سے تعبیر فرمایا ہے۔
Ayahs 20:125–126آیت 126-125
نسی کے معنی یہاں نظر انداز کرنے کے ہیں۔ لفظ کے اس مفہوم کی وضاحت دوسرے مقام میں ہوچکی ہے۔
فرمایا کہ جو لوگ اندھے اٹھائے جائیں گے وہ فریاد کریں گے کہ اے رب ! ہم تو آنکھیں رکھنے والے لوگ تھے تو تو نے ہم کو اندھے بنا کر کیوں اٹھایا ! ارشاد ہوگا کہ ہم نے تمہایر پاس اپنی کتاب بھیجی جس کی آیات نے ایک ایک حقیقت تم پر واضح کی لیکن تم ان کو نظر انداز کر کے بالکل اندھے بہرے بنے رہے۔ مطلب یہ کہ اگر آنکھیں تھیں تو وہ آنکھیں ہماری اس ساری تذکیر و تنبیہ کے باوجود کیوں نہ کھلیں ؟ جب تم نے اس وقت اپنی آنکھیں نہیں کھولیں تو سزاوار ہو کہ تمہاری آنکھیں بند ہی رہیں۔
وکذلک الیوم تنسیٰ یعنی اب تمہارا یہ نالہ و شیون بےسود ہے۔ جس طرح تم نے ہماری آیات کو نظر انداز کیا اسی طرح تم سزاوار ہو کہ نظر انداز کئے جائو اور تمہاری اس فریاد پر کوئی توجہ نہ کی جائے !
Ayah 20:127اسران کے معنی حدود سے تجاویز کے ہیں۔ یہاں من اسحرف سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اپنی قوتیں اور صلاحیتیں ان چیزوں پر برباد کیں جن سے ان کو بچنا تھا اور جو چیزیں اختیار کرنے کی تھیں ان سے انہوں نے آنکھیں بند رکھیں۔ فرمایا کہ یہ احوال آخرت جو بیان ہوئے ہیں ہم اسی طرح ان لوگوں کو بدلہ دیں گے جو اپنی صلاحیتوں کو بالکل غلط ہدف پر برباد کریں گے اور اپنے رب کی آیات پر ایمان نہیں لائیں گے۔ پھر مزید تنبیہ فرمائی کہ آخرت کا عذاب کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ دنیا کی تنبیہات پر قیاس کر کے اس کو کوئی اہوں چیز نہ سمجھے۔ وہ نہایت سخت بھی ہوگا اور نہایت پائیدار بھی۔
Ayah 20:128افلم یھدلھم کا صحیح مفہوم ہماری زبان میں یہ ہوگا کہ کیا فلاں چیز ان کے لئے ہدایت دینے والی اور ان کی آنکھیں کھونے الی نہ بنی ؟
نشانی عذاب کے مطالبہ کا جواب
یہ کتاب الٰہی سے اعراض کرنے والوں کے مطالبہ نشانی عذاب کا جواب ہے۔ فرمایا کہ ان کو عذاب سے ڈرایا جاتا ہے۔ بہ سانی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا یہ چیز ان کو ہدایت دینے والی نہ بنی کسان سے پہلے ہم نیکتنی ہی قوموں کو اپنی تذکیر و تنبیہ سے اعراض کرنے کی پاداش میں ہلاک کردیا اور وہ قومیں کسی دوسرے خطہ ارضی کی نہیں بلکہ اسی ملک کی رہنے بسنے والی تھیں ان کے تباہ شدہ آثار اور ان کے کھنڈروں پر سے یہ لوگ اپنے تجارتی سفروں میں برابر گزرتے ہیں ! یہ اشارہ عاد وثمود وغیرہ کی بستیوں کی طرف ہے جن کا ذکر اہل عرب کے اشعار میں بھی ملتا ہے اور ان کا عام شاہراہوں پر ہونا بھی معلوم ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ کوئی نشانی چاہتے ہیں تو ان کے اپنے ملک کی تاریخ اور اس کے آثار میں بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ آخر یہ ان سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟ عاقل تو وہ ہے جو دوسروں کے انجام سے سبق حاصل کرے، نہ کہ جب وہی انجام اپنے سامنے آجائے تب مانے۔ اگر انسان یہ روش اختیار کرلے تو پھر اس میں اور حیوان میں فرق کیا رہا !
Ayah 20:129اجل مسمی کا عطف کلمۃ پر ہے۔
یہ اس مطالبہ نشانی عذاب کا جواب ہے۔ فرمایا کہ اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ پا چکی ہوتی اور اس کے ظہور کے لئے ایک مدت معین نہ ہوچکی ہوتی تو جس عذاب کے لئے یہ جلدی مچائے ہوئے ہیں وہ آج ہی ان پر آدھمکتا یعنی اگر اس کے ظہور میں تاخیر ہو رہی ہے تو یہ خدا کی سنت اور اس کے طے کردہ قاعدے اور ضابطے کے تحت ہو رہی ہے کوئی اس غلط فہمی میں نہ مبتلا رہے کہ یہ محض ہوائی بات ہے یا یہ کہ اللہ ابھی اس کا سامان نہیں کر پا رہا ہے اس وجہ سے عذاب نہیں آ رہا ہے۔ یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے۔ ولولہ کلمۃ سبقت من ربک الی اجل مسمی تقضی بینھم (الشوریٰ 14 (اور اگر ایک بات تیرے رب کی طرف سے ایک مدت متعین تک کے لئے طے نہ ہوچکی ہوتی تو ان کے درمیان آج ہی فیصلہ کردیا جاتا) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منکرین و مکذبین کے فیصلہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک یوم احلساب مقرر کر رکھا ہے جس کی مدت اور جس کا دن بھی معین ہے اس وجہ سے وہ جلد بازوں کی جلدی کے باوجود ان کو ڈھیل دے رہا ہے۔ بدقسمت ہیں وہ جو اس ڈھیل سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس کو اپنے طغیان میں اضافہ کا ذریعہ بنا لیں ! !
یہاں کلمۃ سے مراد کلمۃ الفصل ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلے سے یہ طے کر رکھا ہے کہ فیصلہ اور انصاف کا ایک دن آئے گا اور اجل ممی سے اس دن کے معین ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ کوئی اس کو مبہم و مجہول نہ خیال کرے بلکہ منٹ اور سکینڈ کی پابندی کے ساتھ خدا کی جنتری میں وہ مندرج ہے۔
Ayah 20:130نبی صلعم کو صبر کی تلقین اور نماز کی تاکید
اب یہ پیغمبروں کو مخالفین کی تمام بکواس پر صبر کی تلقین اور اس صبر کے حصول کے لئے زیادہ سے زیادہ نماز کے اہتمام کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ صبر اور نماز کے باہمی تعلق پر ہم ایک سے زیادہ مقامات میں روشنی ڈال چکے ہیں۔ صبر کی بنیاد درحقیقت اس عقیدے پر ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ خدا کی مشیت سے ہوتا ہے اور اس کی مشیت تمام تر خیر پور مبنی ہوتی ہے۔ اس عقیدہ کو دل میں راسخ اور ذہن میں مستحضر رکھنے کے لئے سب سے بڑا اور مئوثر ذریعہ نماز ہے۔
وسبح بحمد ربک تسبیح کا عام مفہوم تو ذکر الٰہی ہے اور یہ ذکر الٰہی ہر وقت مطلوب ہے لیکن یہاں اس کا ذکر اوقات کی قید کے ساتھ ہے۔ اس وجہ سے قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد نماز ہے۔ تسبیح کے ساتھ حمد کی قید ذکر الٰہی کی صحیح صورت بتانے کے لئے ہے کہ یہ خدا کی تسبیح اور تحمید دونوں پہلوئوں پر مشتمل ہو۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ تسبیح اور تحمید دونوں پہلوئوں پر مشتمل ہو ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور تحمید میں اثبات کا خدا کے ذکر کی صحیح شکل یہی ہے کہ اس کو تمام خلاف شان صفات سے بری اور تمام اعلیٰ صات سے متصف قرار دیا جائے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک پہلو بھی صحیح طور پر محلوظ نہ رہے تو خدا کے معاملے میں انسان کا تصور غلط ہوجاتا ہے جس سے اس کا سارا نظام فکر متزلزل ہو کر رہ جاتا ہے۔ بعض مذاہب نے تنزیہہ کو اہمیت دی تو اس کے لے اس قدر بڑھا دی کہ خدا کو بالکل نر نکارا خلق سے بالکل بےتعلق بنا کر رکھ دیا جس کے نتیجہ میں ان کو واسئل ووسایط کا سہارا ڈھونڈنا پڑا۔ قرآن نے اس فتنہ سے محفوظ رکھنے کے لئے تسبیح اور حمد دونوں کی ہدایت فرمائی تاکہ بندے کا تعلق اس کے رب کے ساتھ صحیح بنیاد پر استوار ہو سکے۔ بغیر اس تعلق کی استواری کے انسان کا قدم جادہ مستقیم پر نہیں جم سکتا۔
اوقات نماز کی تعلیم
قبل طلوع الشمس و قبل غودبھا سورج کے طلوع اور غروب ہونے سے پہلے فجر اور عصر کی نمازیں ہیں بخاری میں نبی ﷺ سے بھی یہی روایت ہے ان دونوں نمازوں کے پہلے ذکر کرنے کی وجہ دین میں ان کی اہمیت ہے۔ قرآن کے دور سے مقامات سے بھی ان دونوں نمازوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
ومن انآی الیل فسبح اور اوقات شب میں بھی نماز پڑھو۔ اوقات شب میں دو نمازیں ہیں ایک عشاء اور دوسری تہجد یہاں فعل کا اعادہ تاکید پر دلیل ہے۔ یہ تاکید اس لئے فرمائی گئی ہے کہ یہ دونوں نمازیں نفس بہت شاق ہیں۔
واطراف النھار دن کے اطراف و اجزا میں تین نمازیں ہیں۔ چاشت، ظہر اور مغرب، چاشت اور مغرب کا اطراف نہار میں ہونا تو واضح ہے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ظہر بھی اطراف نہار میں ہے اس لئے کہ دن دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ ظہر کا وقت اس کے پہلے حصے کے آخری کنارے اور دوسرے حصے کے ابتدائی کنارے پر ہے۔
اس آیت سے ان لوگوں کے خیال کی نہایت واضح طور پر تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ نمازوں کے اوقات قرآن میں مذکور نہیں ہیں۔ قرآن میں صرف فرض نمازوں ہی کے نہیں بلکہ اشراق اور تہجد کے اوقات بھی مذکور ہیں۔ نبی ﷺ نے انہی اوقات کو اپنے عمل سے منضبط کر کے ان کی حد بندی فرما دی۔ مختلف نمازوں کی شکلیں بھی معین فرما دیں اور یہ بھی بتا دیا کہ ان میں سے کن نمازوں کی حیثیت فرض واجب کی ہے اور کن کی حیثیت نوافل کی۔ ظاہر ہے کہ ان تمام تفصیلات کا بتانا اور ہر نماز کے حدود و اطراف کا معین کرنا نبی ﷺ ہی کا کام تھا اس لئے کہ آپ صرف قرآن کے سنا دینے والے ہی نہیں بلکہ اس کے معلم بھی تھے۔
صبر و عزیمت کے حصول کے لئے نفلی نمازوں کا اہتمام
یہاں اس امر کو بھی ملحوظ رکھیے کہ آیت زیر بحث میں نماز کی تاکید صبر و عزیمت کے حصول کی تدبیر کی حیثیت سے فرمائی گی ہے۔ یہ آیات حق و باطل کی کشمکش کے نہایت شکل دور میں نازل ہوئی ہیں۔ ان میں نبی ﷺ اور آپ کے واسطہ سے امت کو وہ تدبیر بتائی گی ہے جو مشکلات و مصائب میں ثابت قدم رکھنے والی اور خدا کی رحمت و نصرت کا حق دار بنانے والی ہے۔ اس طرح کے حالات میں صرف فرض نمازوں ہی کا اہتمام مطلوب نہیں ہے بلکہ نوافل کا اہتمام بھی مطلوب ہے۔ قرآن، نبی ﷺ کے ارشادات اور سلف صالحین کے عمل، ہر چیز سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔ عام حالات میں تو تہجد و اشراق کی نمازوں کی حیثیت بہرحال نفلی نمازوں ہی کی ہے لیکن مشکلات و مصائب میں خواہ و انفرادی ہوں یا اجتماعی، ان کا اہتمام ضروری ہے بہرحال نفلی نمازوں ہی کی ہے لیکن مشکلات و مصائب میں، خواہ و انفرادی ہوں یا اجتماعی، ان کا اہتمام ضروری ہے۔
حدی راتیز ترمی خواں چو محمل راگراں بینی !
اس مسئلہ پر انشاء اللہ سورة مزمل کی تفسیر میں ہم وضاحت سے بحث کریں گے اور کسی موزوں مقام پر ان مصالح پر روشنی ڈالیں گے جو اوقات نماز کے تعین میں ملحوظ ہیں۔
نمازوں کے ادنر سب کچھ ہے
لعلک ترضی دوسرے مقام میں یہی مضمون یوں بیان ہوا ہے۔ ویسون یعطیک ربک فترضی (اور تمہارا رب عنقریب تمہیں عطا فرمائے گا کہ تم نہال ہو جائو گے) ان دو لفظوں کے اندر بشارتوں کی ایک دنیا پوشیدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم اپنے موقف پر ڈٹے اور اپنے کام میں لگے رہو اور نمازوں کا اہتمام رکھو، خدا تمہیں دنیا اور آخرت دونوں میں وہ کامرانیاں بخشے گا کہ تم نہال ہو جائو گے ! ! انہی نمازوں کے اندر تمہارے لئے سب کچھ محفوظ ہے۔ اپنے رب کے سوا تمہیں کسی اور طرف نگاہ اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 20:131امراء و اغنیاء سے بےنیازی کی ہدایت
اب یہ نبی ﷺ کو اپنی قوم کے امراء و اغنیاء کی زیادہ پروا اور دلداری کرنے سے روک دیا گیا۔ کسی قوم کے امراء و اغنیاء چونکہ قوم کے بنائو اور بگاڑ میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہی کے بگڑنے سے پوری قوم بگڑتی اور ان کی اصلاح سے پوری قوم کے اصلاح پذیر ہونے کی توقع ہوتی ہے اس وجہ سے حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی ہمیشہ یہ سنت رہی ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے اپنی اپنی قوموں کے سرداروں اور بڑوں کو مخاطب کیا اور جب تک انہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے مایوس نہیں کردیا اس وقت تک وہ ان کی اصلاح فکر میں لگے رہے۔ حضرات انبیاء کرام کی اس سنت کے مطابق ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی سب سے پہلے قریش کے سادات و امراء کو دعوت دی کہ اگر وہ اس حق کو قبول کرلیں گے تو ان کے زور و اثر اور ان کے مال و اسباب ہر چیز سے دعوت حق اور غربائے مسلمین کو تقویت حاصل ہوگی۔ یہ خواہش سر تا مران امراء و اغنیاء کی خیر خواہی اور اعلائے کلمۃ اللہ کے جذبہ پر مبنی تھی لیکن جب ان امراء و اغنیاء نے اپنے رویہ سے ثابت کردیا کہ یہ پسیجنے والے نہیں ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو بھی ان کے لئے زیادہ فکر مند ہونے سے روک دیا اور فرمایا کہ تم ان کے مال و اسباب کو ذرا خاطر میں نہ لائو، تمہاری دعوت اپنا زارد دراحل خود اپنے ساتھ رکھتی ہے اور تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا کفیل اللہ ہے۔ اگر یہ لوگ اس حق کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں تو اس میں خود انی کی اپنی محرومی ہے، خدا ان کا اور ان کے مال و اسباب کا محتاج نہیں ہے۔
ولا تمدن عینیک الی مامتعنا بہ ازواجاً منھم ازواجا منھم سے اشارہ قریش کے ان گروہوں کی طرف ہے جو مکہ اور طائف وغیرہ میں عزت و اقتدار رکھتے تھے ان لوگوں کے مال و اسباب کی طرف آنحضرت صلعم کا نگاہ اٹھانا العیاذ باللہ اس لئے تو ہو نہیں سکتا کہ آپ کے اندر دولت دنیا کی کوئی طمع تھی دولت دنیا تو مکہ وظائف کے امراء بڑی سے بڑی مقدار میں حضور کے قدموں پر نثار کرنے کے لئے تیار تھے بشرطیکہ آپ اپنی دعوت سے باز آجائیں۔ لیکن آپ نے ان کی اس پیشکش کے جواب میں ان کو دعوت ایمان کی چند آیتیں سنا دیں۔ حضرات ابنیائے کرام اور صالحین نے ان لوگوں کے مال و اسباب کو کبھی وقعت نہیں دی ہے جنہوں نے اپنے دل اپنے رب کے حوالہ نہیں کئے ہیں۔ ایک عاقل و فرزانہ اگر ایک ایسے نوجوان کو دیکھتا ہے جو اپنی بھرپور جوانی اور اپنی تمام صلاحیتیں ایک بالکل غلط ہدف پر برباد کر رہا ہوتا ہے تو اس کے دل میں یہ حسرت ہوتی ہے کہ کاش یہ ناعاقبت اندیش بیوقوف نوجوان اپنی جوانی اور صلاحیتوں کی قدر کرے، اسی طرح حضور کے اندر بھی یہ ارمان تھا کہ کاش آپ کی قوم کے امراء و اغنیاء ان نعمتوں کی قدر پہنچانیں جو اللہ نے ان کو بخشی ہیں اور ان کا مال اور ان کی صلاحیتیں شیطان کی راہ میں برباد نہ ہوں۔ اس ارمان و حسرت کا تعلق تمام تر جذبہ خیر خواہی و ہمدردی سے ہوتا ہے۔ اس میں ہرگز قمع و حرص کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ لیکن اس جذبہ خیر خواہی کی بھی ایک حد ہے۔ اس حد پر پہنچ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو اس چیز سے روک دیا۔
متعنابہ ایک امر واقعی کا اظہار ہے۔ دنیا میں اگر کسی کو مال و اسباب حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کے اب وجد کی میراث ہوتا اور نہ اس کی ذہانت و قابلیت کا ثمرہ بلکہ یہ خدا کی دین ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو دے کر یہ دیکھتا ہے کہ خدا کے دیئے ہئے مال و متاع کو پاک کر یہ شخص خدا کا شکر گزار بند بنتا ہے یا ناشکرا احمق ہے وہ انسان جو اس حقیقت نفس الامری کو نہ سمجھے اور خدا کی نعمت کو خدا ہی کے خلاف بغاوت کا سبب بنالے۔
زھرۃ الحیوۃ الدنیا ہمارے نزدیک بہ کی ضمیر محرور سے حال پڑا ہوا ہے۔ مجردر سے حال پڑنا فصیح عربی میں معروف ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس کی مثالیں پیش کرتے آ رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے جس مال و متاع سے ان کو بہرہ مند کیا ہے اس کی چمک دمک چند روزہ ہے۔ اس کا اگر کوئی نفع ہے تو یہ ہے کہ اس سے وہ آخرت کے لئے کچھ کمائی کرلیں۔ اگر وہ یہ نہیں کرتے تو یہ غازہ ایک دن اڑ جائے گا اور اس کی پیدا کردہ دو سیاہی ہمیشہ کے لئے باقی رہ جائے گی۔
لنغبتنھم فیہ یہ اس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جس کی وضاحت اسی سورة کی آیت وفتنک فتوناً کے تحت ہم کر آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں لوگوں کو مصائب سے بھی آزماتا ہے اور نعمتوں سے بھی۔ جب مصائب سے آزماتا ہے تو مقصود بندے کے صبر کا امتحان ہوتا ہے اور جب نعمتوں سے آزماتا ہے تو مقصود اس کے شکر کا امتحان ہوتا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے ان کو یہ مال و متاع جو بخشا ہے تو اس لئے نہیں کہ یہ اس کے حقدار تھے بلکہ اس لئے بخشا کہ ان کا امتحان کریں کہ یہ ہماری نعمتیں پاکر کیا بناتے ہیں۔ اگر انہوں نے ان نعمتوں کا یہی حق پہچانا ہے کہ ان کو پا کر ہمارے بھی آگے آکڑیں تو اس کا انجام جلد دیکھ لیں گے !
ورزق ربک خیروابقی مطلب یہ کہ تم اپنی دعوت اور اپنے ساتھیوں کے لئے ان ناقدروں اور ناشکروں کی سرپرسی کے محتاج نہیں ہو۔ تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے لئے خدا کے پاس سے جو کچھ عطا ہونے والا ہے وہ ہزار درجہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی۔ ان مغروروں کے پاس جو کچھ ہے اس کی چمک دمک تو چند روزہ ہے لیکن خدا جو کچھ بخشے گا وہ ابدی ہے۔ اس کے لئے کبھی زوال نہیں … یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ نیکی کا پودا اس آب حیات ہی سے پروان چڑھتا ہے جو خدا کی طرف سے اسکی پرورش کے لئے نازل ہو۔ اگر آپ ہر جو ہڑ کے پانی سے اس کو پروان چڑھانے کی کوشش کریں گے تو اول تو کسی ناپاک پانی سے اس کا نشو و نما پانا ہی اس کی فطرت کے خلاف ہے اور اگر وہ بظاہر نشو و نما پا بھی جائے گا تو وہ نیکی کے پھل نہیں بلکہ بدی ہی کے پھل دے گا۔ اس حقیقت کا تعلق حکمت قرآن سے ہے اور یہ تفصیل کے ساتھ اپنے محل میں زیر بحث آئے گی۔ یہاں اشارے پر قناعت کیجیے۔
Ayah 20:132لفظ احل کا مفہوم
لفظ ھل یہاں صرف اہل بیت نبی کے مفہوم میں نہیں ہے۔ یہ لفظ عربی میں وسیع معنوں میں آتا ہے۔ مثلاً اہل کتاب، اہل انجیل، اہل قریہ، اہل اللہ، اہل قرون اور اہل حدیث وغیرہ لسان العرب میں ہے اھل الرجل اخص الناس بہ (اہل الرجل سے مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس شخص سے خاص تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں) اھر کل تبی امتہ (نبی کے اہل سے اس کے امتی مراد ہوتے ہیں) سیدنا ابوبکر صدیق سے حضرت عمر کے خلیفہ بنانے کے بارے میں روایت ہے کہ جب قیامت کے دن میرا رب مجھ سے پوچھے گا کہ مسلمانوں کا والی کس کو بنا کے آئے ہو تو عرض کردوں گا کہ استعملت علیھم خیراھلک (میں نے ان پر تیرے بہترین اہل کو خلیفہ بنایا ہے) سورة مریم کی آیت میں سیدنا اسماعیل کے متعلق ارشاد ہوا ہے۔ وکان یا مراھلہ بالصلوۃ و الزکوۃ ظاہر ہے کہ یہاں بھی اھل سے حضرت اسماعیل کے بیوی بچے ہیں مراد نہیں ہیں بلکہ وہ تمام لوگ مراد ہیں جو ان سے وابستہ تھے۔
اسی طرح آیت زیر بحث میں بھی اھل سے وہ تمام لوگ مراد ہیں جو نبی ﷺ پر ایمان لانے تھے، عام اس سے کہ حضور کے خاص متعلقین ہوں یا دوسرے مسلمان اور عام اس سے کہ وہ قرشی و ہاشمی ہوں یا لونڈی اور غلام ان سب کو نبی ﷺ کے اہل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لئے کہ فی الحققتو وہ سب لوگ نبی کے کنبہ کے افراد ہوتے ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور نبی کو اسی طرح ان کی خبر گیری کی فکر ہوتی ہے جس طرح کسی کو اپنے خاص کنبہ کی خبر گیری کی فکر ہوتی ہے۔ غور کیجیے کہ یہاں لفظ اھل نے غربائے مسلمین کی کتنی عزت و شان بڑھائی ہے۔ جن بیچاروں کا ابھی تک کوئی پرسان حال نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو حضرت سرور عالم ﷺ کے اہل میں شامل کردیا ! !
وامراھلک بالصلوۃ واصطیر علیھا ارشاد ہوا کہ تم اپنے لوگوں کو نماز کی ہدایت کرو اور اس پر جمے رہو۔ نماز سے مراد وہی نماز ہے جس کا اوپر والی آیت میں حکم دیا گیا ہے۔ یعنی اپنے اور اپنے لوگوں کے اندر صبر و استقامت پیدا کرنے کے لئے نماز کا اہتمام کرو اور استقلال کے ساتھ اس کا پورا پورا اہتمام کرو اصطبر علیھا کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ایک کا سن اپنے کھیت میں ہل چلاتا ہے، اس میں تخم ریزی کرتا، اس کو پانی دیتا اور برابر اس کی نگرانی کرتا ہے اسی طرح تم اپنے اس مبارکہ مزرعہ میں پوری محنت اور اس کی پوری حفاظت کرو پھر دیکھو کہ اس سے دین و دنیا کی کیا برکتیں حاصل ہوتی ہیں ! وہ برکتیں اس سے حاصل ہوں گی کہ نہال ہو جائو گے ! تمہیں کسی اور کی طرف نگاہ اٹھانے کی احتیاج باقی نہیں رہے گی ! !
لانسلک رزقاً یعنی تمہارے اور تمہارے جاں نثاروں کے لئے روزی فراہم کرنے کی ذمہ داری ہم نے نہ تم پر ڈالی ہے اور نہ ہم تم سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کی ذمہ داری ہم پر ہے نحن نوزقک ہم تمارے رزق کے ذمہ داری ہیں تم ہمارا کام کرو اور نماز کا اہتمام رکھو۔ باقی جو ذمہ داری ہماری ہے وہ ہم پرچھوڑو۔ تم اس کے لئے فکر مند نہ ہو۔ سیدنا مسیح نے اسی حقیقت کو یوں واضح فرمایا ہے کہ ”جو مزدور اپنی ڈیویٹی پر ہے وہ اپنی مزدوری کا حق دار ہے۔“
اسلامی نظام میں خلیفہ اور حکمران اسلامی کنبہ کا قیم ہوتا ہے
یہاں نرزقک میں ضمیر خطاب واحد پر بھی نظر رہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ ہم تم کو اور تمہارے لوگوں کو روزی دیں گے، بلکہ فرمایا کہ ہم تم کو روزی دیں گے، آنحضرت صلعم سے یہ خطاب الامی کنبہ کے سربراہ اور قیم کی حیثیت سے ہے۔ جب کنبہ کے قیم سے یہ وعدہ کیا جا رہا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے پورے کنبہ یعنی تمام مسلمانوں کے لئے کیا جا رہا ہے۔ اسلامی نظام میں خلیفہ اور حکمران کی حیثیت پورے اسلامی کنبہ کی قیم کی ہے اس وجہ سے اسے کنبہ کے ایک ایک فرد کی اسی طرح فکر رکھنی پڑتی ہے جس طرح ایک کنبہ کا سردھرا اپنے بیوی بچوں کی رکھتا ہے۔ صدیق اکبر اور فاروق اعظم
اپنے اپنے دور خلافت میں اس حقیقت کو جس طرح ملحوط رکھا اس کو بیان کروں تو بات دوسرے گوشوں میں نکل جائے گی۔ اس زمانے میں عوام کے غم میں اسٹیجوں پر نوحہ خوانی کرنے والے تو بہت مل جائے گے لیکن کوئی نہیں جو حضرت عمر ؓ کی طرح یہ ذمہ داری محسوس کریں کہ میری مملکت کے بعید ترین گوشوں میں بھی اگر کوئی بھوکا سوتا ہے تو اس کی مسولیت مجھ پر ہے اور صرف محسوس ہی نہ کریں بلکہ عملاََ اپنے احساس کو ثابت بھی کردیں۔ یہاں تک کہ یہ احساس اس کو خود اپنے بیوی بچوں تک سے غافل کردے ! !
نماز رزق کی ضامن ہے اوپر والے ٹکرے میں اس دنیا کے رزق و فضل کا وعدہ تھا۔ یہ آخرت کی کامیابی کی بشارت ہے یعنی انجام کار کی کامیابی تو بہر حال اہل تقوی ہی کے لئے ہے، اس میں تو کسی اور کا کوئی حصّہ نہیں۔
یہاں ضاہر پرستوں کو یہ بات بہت عجب معلوم ہوگی کہ نماز بھلا آدمی کے رزق کی ضامن کس طرح ہوسکتی ہے اس میں شبہ نہیں کہ یہ حقیقت ان لوگوں کو نہیں سمجھائی جاسکتی جو نہ خود نماز کی روح سے آشنا ہیں اور نہ انہیں کسی حقیقی نماز آشنا سے آشنائی ہوئی۔ یہ چیز سمجھانے کی نہیں بلکہ جاننے اور سمجھنے کی ہے۔ صرف تجربہ ہی اس کا یقین پیدا کرسکتا ہے جو نماز کے لذت آشنا ہیں وہی جانتے ہیں کہ اس میں کیا ہے۔ میری اس بات کو ادعا پر محمول نہ فرمائیے۔ میں خود ایک بےعمل آدمی ہوں لیکن میں نے خود اپنی آنکھوں سے تاریخ کے صفحات میں بھی اور چلتے پھرتے انسانوں میں بھی ایسی پیشانیاں دیکھی ہیں جن کے سجدوں کے نشانات کی تابناکی آفتاب کو بھی شرماتی تھی اور جن کے استغفار کا یہ عالم تھا کہ سخت جمشید کو بھی پائے استقار سے ٹھکرا دینے والے تھے۔
Ayahs 20:133–135133۔ 135
مخالفین جب دلائل کے میدان میں ہر طرف سے پسپا ہوجاتے تو ان کا آخری حربہ یہ ہوتا کہ وہ مطالبہ کرتے کہ اگر یہ رسول ہیں تو اپنی رسالت کے ثبوت میں یہ اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں پیش کرتے، نشانی سے مراد کوئی حِسی معجزہ بھی ہوتا اور اس طرح کا کوئی عذاب بھی جس سے قرآن ان کو رسول کی تکذیب کی صورت میں آگاہ کررہا تھا۔ اس سوال کے اٹھانے میں بھی زیادہ داخل اہل کتاب کو تھا۔ وہ مشرکین کو اس دور میں جس طرح بہت سے سوالات تھا کرتے تھے جن کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں، اسی طرح یہ سبق بھی پڑھاتے تھے کی ان مدعی رسالت سے مطالبہ کرو کہ جس طرح پچھلے رسولوں نے بہت سی نشانیاں دکھائیں یہاں تک کہ ان کی خبر کے مطابق ان کی قوموں پر عذاب بھی آئے، آخر یہ اس طرح کی کوئی نشانی کیوں نہیں دکھاتے۔ قرآن مجید نے یہ اس مطالبہ کا جواب دیا اور اس جواب میں ان لوگوں کو بھی پیش نطر رکھا گیا جوان سولات کے لئے وسوسہ اندازی کرتے تھے اور ان لوگوں کو بھی جو ان کو پیش کرتے تھے۔ اس آیت میں پہلے گروہ کو جواب دیا ہے اور اس کے بعد والی آیت میں دوسرے گروہ کو۔
پہلے گروہ یعنی اہل کتاب کو یہ جواب دیا کہ کیا ان کے لئے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ پچھلے صحیفوں میں جس آخری رسول کی بعثت کی بشارتیں تھیں ان کا مظہرا اور مصداق ان کے سامنے آگیا جس نے ان تمام پیش گوہوں کی تصدیق و تائیدان کے سامنے کردی ؟ ہم نے سورة بقرہ اور آلِ عمران کی تفسیر میں ان پیش گوہوں کا تفصیل سے حوالہ دیا ہے اور یہ بھی واضح کیا ہے کہ آنحضرت کو سابق صحیفوں کا جو مصدق کہا گیا ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ کی بعثت نے ان تمام پیش گوہوں کی عمل تصدیق کردی۔ اس تصدیق کو یہاں بینت کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔
اب یہ دوسرے گروہ یعنی مشرکین عرب کو پیش نظر رکھ کر جواب دیا کہ شامت زدہ لوگ دوسروں کہ القاء سے متاثر ہو کر عذاب تو مانگتے ہیں لیکن اگر ہم رسول کے بھیجنے سے پہلے ان پر عذاب بھیج دیتے تو یہ قیامت کے روز یہ غدر کرتے کہ اے رب تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم اس ذلت و رسائی سے دو چار ہونے سے پہلے تیری آیات کی پیروی کرتے۔ مطلب یہ کہ ہم نے اس غدر کو ختم کردینے کے لئے ان کے پاس اپنا رسول بھیج دیا۔ اب ان پر محبت ت، تمام ہوگئی۔ اگر اس کے بعد بھی یہ ایمان نہیں لاتے تو ان کے سامنے وہی چیز ظاہر ہوگی جس کا یہ مطالبہ کررہے ہیں۔
ذلت اور خزی کے الفاظ اپنے عام استعمال میں ایک دوسرے کے مفہوم میں بھی آتے ہیں لیکن جب یہ ایک ساتھ آئے جس طرح یہاں آئے ہیں تو ان کے درمیان ایک نازک سا فرق ہوجاتا ہے۔ اس صورت میں ذلت سے مراد وہ ذلّت ہوتی ہے جس کا احساس ایک ذلیل ہونے والا خود اپنے باطن میں کرتا ہے اور خزی سے وہ رسوئی مراد ہوتی ہے جو دوسروں کے سامنے اس کو ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ نہ ہم اپنی نگاہوں میں ذلیل ہوتے اور نہ دوسروں کے آگے ہی رسوائی اور فضیحتا کی یہ نوبت آتی۔
یہ آخری وارننگ ہے۔ اوپر کی دونوں آیتوں میں بات غائب کے صیغوں میں منہ پھیر کر فرمائی گئی ہے۔ اس میں شدت عتاب کے اظہار کے پہلو سے خطاب کے اسلوب میں فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اب فیصلہ کن مرحلہ سامنے ہے۔ دونوں پارٹیاں انتظار میں ہیں کہ اس کشمکش کا آخری انجام کیا ہوتا ہے اور اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے تو چندے انتظار کرو عنقریب تم پر واضح ہوجائے گا کہ سیدھی اور ہموار راہ پر کون تھے اور وہ منزل مقصود پر پہنچنے والے بنے اور کون گمراہی کی راہ پر تھے اور وہ ہلاکت کے کھڈ میں گرے !
اس آیت میں میرے نزدیک قرینہ کی وضاحت کی بنا پر کا مقابل جملہ محذوف ہے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ میں نے اس محذوف کو کھول دیا ہے۔
ان سطور پر سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نفرشوں سے در گزر فرمائے اور صحیح باتوں کے لئے میں جگہ پیدا کرئے۔