Ayah 21:1سابق سورة کے مضمون کی تکمیل
یہ سورة بغیر کسی تسمیہ و تمہید کے شروع ہوگئی ہے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا، یہ ہے کہ یہ درحقیقت اسی انذار کے مضمون کی تکمیل ہے جس پر سابق سورة تمام ہوئی ہے۔ سابق سورة کی آخری آیات اور اس سورة کی ابتدائی آیات نے ایک حلقہ اتصال کی صورت اختیار کرلی ہے۔ سورة برأت کی تفسیر میں ہم اس نوع کے اتصال کی بعض خوبیوں کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔
للناس اسے مراد مشرکین مکہ میں
للناس سے مراد، جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے مشرکین مکہ ہیں۔ یہ لوگ چونکہ خدا کی یاد دہانی سے اعراض پر اڑے ہوئے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے اعراض کرتے ہوئے عام لفظ سے ان کا ذکر فرمایا۔ اسلوب بیان سے ایک قسم کی نفرت و کراہت اور حسرت کا اظہار ہو رہا ہے اور اس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
ایک سنت الٰہی کی یاد دہانی
لوگوں کے لئے ان کے محاسبہ کا وقت بالکل قریب آگیا ہے، یہ محض ایک دھمکی نہیں بلکہ بیان واقعہ ہے ہم اس کتاب میں جگہ اس سنت الٰہی کی وضاحت کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کی طرف اپنا رسول بھیجتا ہے تو اس کے لئے ایک ہی راہ باقی رہ جاتی ہے کہ وہ ایمان لائے اگر وہ یہ راہ نہیں اختیار کرتی تو اتمام حجت کے بعد وہ لازماً تباہ کردی جاتی ہے۔ اس سنت الٰہی کی روشنی میں فرمایا کہ رسول کی بعثت و دعوت کے بعد ان مشرکین کا یوم الحساب بھی بالکل قریب آ لگا ہے لیکن یہ بدستور غفلت میں پڑے ہوئے، رسول کی تذکیر و تنبیہ سے اعراض کئے جا رہے ہیں۔ یہاں بکق وقت ان کی دو حالتوں کا ذکر ہے، ایکغفلت، دوسری اعراض غفلت یعنی زندگی کے اصل حقائق سے بےپروائی، بجائے خود بھی انسان کی شامت کی دلیل ہے اور ایک بہت بڑا جرم ہے لیکن یہ جرم اس صورت میں بہت زیادہ سنگین ہوجاتا ہے جب کوئی اللہ کا بندہ جھنجھوڑنے اور جگانے کے لئے اپنا پورا زور صرف کر رہا ہو لیکن لوگ ایسے غفلت کے ماتے ہوں کہ اس کی کوئی نصیحت بھی سننے کے لئے تیار نہ ہوں۔
Ayah 21:2تازہ بتازہ یاد دہانی
فرمایا کہ ان کے اندر غفلت اور لا ابلی پن کے ساتھ سرمستی اور شرارت بھی ہے کہ ان کو بار بار گوناگوں پہلوئوں اور اسلوبوں سے یاد دہانی کی جا رہی ہے لیکن جو تازہ تذکیر و تنبیہ بھی ان کے پاس آتی ہے اس کو سنجیدگی کے ساتھ سننے اور اس پر غور کرنے کے بجائے اس کو ہنسی مسخری میں اڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورة طہ میں فرمایا ہے۔ آیت 130 (اور اسی طرح ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا اور اس میں اپنی وعید گونگاوں پہلوئوں سے واضح کردی کہ وہ خدا کے غضب سے بچیں یا یہ ان کے اندر ہماری یاد دہانی کو تازہ کر دے) مطلب یہ ہے کہ اللہ نے صرف ایک بار ان کو سنا دینے ہی پریس نہیں کیا بلکہ ان کو خواب غفلت سے جگانے کے لئے تازہ بتازہ یاد دہانیاں بھیجیں لیکن وہ متنبہ ہونے اور ان کی قدر کرنے کے بجائے ہر تذکیر کو اپنے مذاق کا موضوع بنا لیتے ہیں۔
Ayah 21:3قریش کے لیڈروں کی سخن سازیاں
لاھیۃ قلوبھم دوسرا ملا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دل کا اصلی کام تفکر و تذکر ہے لیکن ان کا حال یہ ہے کہ ان کے دل اپنی دلچسپیوں میں ایسے کھوئے ہیں کہ سنجیدہ سے سنجیدہ بات اور بڑی سے بڑی حقیقت کو بھی یہ مذاق میں اڑا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ قریش کے لیڈروں اور ان کے دانشوروں کی وہ باتیں نقل ہو رہی ہیں جو وہ اپنی مجالس میں قرآن اور نبی ﷺ کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کے لئے لوگوں کے اندر پھیلاتے تھے۔ ان کو یہ اندازہ اچھی طرح ہوگیا تھا کہ قرآن کی دعوت دلوں میں گھر کر رہی ہے اور صاف ذہن رکھنے والے لوگ اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس اثر کو مٹانے کے لئے انہوں نے لوگوں کے اندر یہ وسوسہ اندازی شروع کی کہ یہ نہ سمجھو کہ ان کے کلام میں یہ زور و اثر اس چیز کا نتیجہ ہے کہ یہ کوئی فرستادے ہیں۔ دیکھتے نہیں کہ یہ بھی تمہارے ہی جیسے انسان ہیں، اگر خدا کو کوئی رسول ہی بھیجنا ہوتا تو وہ کسی فرشتے یا کسی اور مخلوق کو اپنا رسول بناتا نہ کہ ہمارے ہی جیسے ایک انسان کو اور یہ جوان کے کلام میں زور و تاثیر اور فصاحت و بلاغت محسوس کرتے ہو یہ بھی محض اس شخص کی جادوبیانی کا کرشمہ ہے، جس طرح ہمارے دوسرے اشعر اور خطیب اپنی جادو بیانی سے لوگوں پر اثر ڈالتے ہیں اس طرح یہ شخص بھی اپنی جادو بیانی سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو تمہاری یہ بڑی سادہ لوحی ہوگی اگر تم جانتے بوجھتے اس شخص کے جادو میں پھنس گئے !
یہ اشغلے چونکہ لیڈر لوگ خاص اپنی مجالس میں ایجاد کرتے تھے اور وہیں سے القاء ہو کر یہ لوگوں کے اندر پھیلیت تھے، اس وجہ سے ان کو نجوی سے تعبیر فرمایا ہے اور الذین ظلموا کے الفاظ سے یہ ظاہر فرما دیا کہ یہ وسوسہ اندازیاں کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے خود اپنے اوپر بھی ظلم کیا کہ اپنے دل و دماغ معطل کر لئے اور دوسروں کے اوپر بھی ظلم کر رہے ہیں کہ ان کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔
سحر سے مراد اور قرآن کو سحر کہنے کی وجہ
افتالون السحر میں سحر سے مراد وہ کلام ہے جو نبی ﷺ لوگوں کو سناتے تھے۔ اہل عرب اس کلام کو جس میں غیر معمولی تاثیر و تسخیر ہو سحر سے تعبیر کرتے تھے۔ زور و اثر رکھنے والے کلام کے لئے یہ تعبیر ہمارے ہاں بھی موجود ہے۔ جہاں تک قرآن مجید اور آنحضرت صلعم کے ارشادات کی فصاحت و بلاغت اور سطوت و جلالت کا تعلق ہے وہ ایسی چیز تھی کہ اس کا انکار مخالفین بھی کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے اس وجہ سے وہ مجبوراً اس کا اعتراف کرتے۔ البتہ وہ اپنے عوام کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ یہ زور و تاثیر اس چیز کا نتیجہ نہیں ہے کہ یہ کوئی آسمانی کلام ہے یا اس کا پیش کرنے والا خدا کا کوئی رسول ہے بلکہ یہ تمام تر الفاظ کی جادوگری اور زور خطابت کی ساحری ہے تو جانتے بوجھتے، دیکھتے سنتے اس شخص کے جادو میں نہ پھنسو۔ وانتم تبصرون کا ٹکڑا لوگوں کے اندر احساس برتری ابھارنے کے لئے ہے کہ تم کوئی بھولے بھالے اور سادہ لوح لوگ نہیں بلکہ سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگ ہو اس وجہ سے تمہیں اس فریب میں نہیں آنا چاہئے۔
Ayah 21:4تفویض الی اللہ
یہ اس ردعمل کا بیان ہے جو آنحضرت ﷺ پر مخالفین کی اس بکواس کا ہوا۔ آپ ﷺ جانتے تھے کہ یہ اشغلے محض لوگوں کو ورغلانے کے لئے وہ لوگ ایجاد کر رہے ہیں جن پر قرآن کا حق ہونا اچھی طرح واضح ہے اس وجہ سے آپ نے ان لوگوں کو خطاب کیے بغیر معاملہ اللہ کے حوالہ کیا کہ میرا رب آسمان و زمین میں ہونے والی ہر بات کو جانتا ہے، وہ سمیع وعلیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سرگوشیاں جن و انسان خوانوں میں بھی ہو رہی ہیں اور یہ فتنے جو لوگ بھی ایجاد کر رہے ہیں، میرا رب ہر بات کو اچھی طرح جانتا۔ تو جب وہ جانتا ہے تو وہ اس کے تدارک کا سامان بھی فرمائے گا۔ میں اس معاملہ کو اپنے رب ہی کے حوالہ کرتا ہوں۔
Ayah 21:5اضغاث، ضغث کی جمع ہے۔ ضغث گھاس کی اس مٹھی کو کہتے ہیں جو رطب دیا بس اور خشک و تر دونوں کا مجموعہ ہو۔ یہیں سے اضفاث احلام کا محاورہ پیدا ہوا جس کے معنی خواب پریشان کے ہیں یعنی وہ خواب جو معنی و مفہوم سے بالکل خالی اور اپنے الجھائو کے سبب سے اس قابل نہ ہوں کہ ان کی تاویل و تعبیر کی طرف کوئی توجہ کی جائے اور ان کی کوئی اہمیت دی جائے۔
فرمایا کہ بات یہیں تک نہیں رہی ہے کہ یہ لوگ پیغمبر کی وحی کو سحر کہتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس کو خواب پریشان سے تعبیر کرتے ہیں، اس کو افتراء قرار دیتے ہیں، پیغمبر ﷺ کو ایک شاعر بتاتے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر یہ خدا کے پیغمبر ہیں تو اس کیثبوت کے لئے اسی طرح کی کوئی نشانی یہ بھی دکھائیں جس طرح کی نشانیوں کے ساتھ سابق انبیاء آئے۔
قرآن کو نبی ﷺ خود اپنے کلام کی حیثیت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کی حیثیت سے پیش فرماتے تھے جو آپ پر خدا کے مقرب فرشتہ جبرئیل امنی کے واسطہ سے نازل ہوتی تھی۔ مخالفوں نے جب یہ محسوس کیا کہ قرآن کے متعلق اس دعوے نے بھی اس کی اہمیت بہت بڑھا دی ہے اور لوگ اس کو انسانی کلام کی حیثیت سے نہیں بلکہ خدائی ابہام کی حیثیت سے قبول کر رہے ہیں تو اس کا توڑ کرنے کے لئے انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اس کلام کے وحی الٰہی ہونے کا دعویٰ محض واہمہ کی خلاقی ہے۔ یہ خوامہائے پریشان کا مجموعہ ہے۔ جو خیالات اس شخص کے ذہن میں رچے بسے ہوئے ہیں وہی اس کو سوتے میں خواب میں نظر آتے ہیں اور یہ ان کو (العیاذ باللہ) عوام فریبی کے لئے اس وعدے کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ یہ خدا نے ایک فرشتہ کے ذریعہ سے وحی نازل کی ہے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ دور حاضر کے بعض ملاحد نے بھی وحی کو ایک مشکوک چیز ٹھہرانے کے لئے بعینیہ یہی بات کہی ہے جو عرب کے ان اشارار نے کہی تھی۔ بس اتنا فرق ہے کہ عرب کے جہلانے یہ بات نا تراشیدہ انداز میں کہی اور اس زمانے کے مدعیان عقل نے اسکو ایک فلسفہ کے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ انشاء اللہ آخری گروپ کی سورتوں میں ہم اس مسئلہ پر تفصیل سے بحث کریں گے۔
آنحضرت صلعم پر ایک شاعر ہونے کی تہمت
بل افترئہ یعنی اس قرآن کو افتراء بھی قرار دیتے ہیں۔ اس کو افتراء قرار دینے سے انکا مدعا یہ تھا کہ ہے تو ان کے (آنحضرت ﷺ کے) اپنے ذہن کی ایجاد لیکن (العیاذ باللہ) یہ جھوٹ موٹ محض ہم پر اپنی دھونس جمانے کے لئے اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
بل ھو شاعر یعنی یہ ایک شاعر ہیں اور ان کے اس کلام کی ساری سحر آفرینی اس نوعیت کی ہے جس نوعیت کی سحر آفرینی ہمارے بےشاعروں کے کلام میں پائی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس سے زیادہ ان کو اور ان کے کلام کو اہمیت دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ اہل عرب کا تصور یہ تھا کہ ہر بڑے شاعر کے ساتھ ایک جن ہوتا ہے جو اس کو شعر القا کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کو ایک شاعر کہہ کر وہ لوگوں کو اس مغالطہ میں مبتلا کرنا چاہتے تھے کہ نعوذ باللہ آپ کے ساتھ بھی کوئی جن ہے جو یہ کلام آپ پر القا کرتا ہے۔
مخالفین پر قرآن کا رعب
قرآن کے مخالفین کی ان باتوں سے ایک امر تو بالکل واضح ہے کہ وہ اس کی ہیبت و جلالت سے سخت مرعوب تھے اور یہ اچھی طرح سمجھ چکے تھے کہ لوگوں کے دلوں پر سے اس کے رعب کو ہٹایا نہیں جاسکتا۔ البتہ ان کی یہ کوشش تھی کہ لوگوں پر اس کے خدائی کلام ہونے کی جو ہیبت بیھت جا رہی ہے اس کو کسی طرح کم کریں کہ لوگ اس کو وحی والہام کا درجہ نہ دیں بلکہ بشری و انسانی کلام ہی کے درجے میں رکھیں۔
معجزات کی نشانی کا مطالبہ
کما ارسل الاولون کے بعد بالایت قرینہ کی دلالت کی بنا پر حذف ہے۔ یعنی جب وہ یہ محسوس کرتے کہ قرآن اور پیغمبر ﷺ کے متعلق ان کی یہ اوٹ پٹانگ باتیں لوگوں کے دلوں میں اترنے والی نہیں ہیں تو یہ مطالبہ کرتے کہ اگر یہ رسول ہیں تو یہ بھی اس طرح کی کوئی نشانی دکھائیں جس طرح کی نشانیاں پہلے آنے والے رسولوں نے دکھائیں۔ نشانی سے ان کی مراد اس طرح کے حسی معجزات یا عذاب کی نشانیاں ہیں جن کا ذکر دوسرے انبیاء کی سرگزشتوں کے سلسلہ میں آیا ہے۔ ان کا یہ حربہ آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں، ان کے زعم کے مطابق، سب سے زیادہ کارگر حربہ تھا، اس لئے کہ قرآن کی دعوت تمام تر آفاق وانفس اور عقل وف طرت کے دلائل پر مبنی تھی۔ وہ معجزات و خوارق اور نشانی عذاب کے بجائے لوگوں کو آنکھیں کھولنے اور عقل و بصیرت سے کام لینے پر ابھارتا تھا کہ ایمان کا فطری راستہ عقل و دل کا راستہ ہے۔ جو لوگ عقل و بصیرت سے کام نہیں لیتے وہ خوارق دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے اور عذاب کی نشانی دیکھ کر جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان لانا بےسود ہوتا ہے۔ قرآن کی یہ بات بالکل برحق تھی لیکن مخالفین اس کو آنحضرت ﷺ کے گریز پر محمول کر کے لوگوں کو ور غلاتے کہ دیکھو، اگر یہ سچ مچ کوئی رسول ہونے تو ان کے لئے ہمارا یہ مطالبہ پورا کر دنیا کیا مشکل تھا، لیکن جب یہ اس سیگ ریز کر رہے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ اپنے دعوے میں (نعوذ باللہ) جھوٹے ہیں۔
Ayah 21:6آنحضرت صلعم کو تسلی
یہ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی کہ ان کی ان خرافات کو پروا نہ کرو۔ یہ ضد اور ہٹ دھرمی کی اسی روش پر چل پڑے ہیں جس پر ان سے پہلے ہلاک ہونے والی قومیں چلیں۔ جس طرح انہوں نے اپنے نبیوں کو جھٹلایا اور اس کی پاداش میں ہم نے ان کو ہلاک کردیا اسی طرح ان کے لئے بھی ہلاکت مقدر ہوچکی ہے۔ انہوں نے ہر قسم کی نشانیاں دیکھیں لیکن ایمان کی راہ اختیار نہ کی تو ان سے کس طرح توقع رکھتے ہو کہ اگر ان کی طلب کے مطابق ان کو کوئی نشانی دکھا دی گی تو یہ ایمان لانے والے بن جائیں گے ! یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی اسی اندھے بنے رہیں گے جس طرح آن اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں !
Ayah 21:7اوپر آیت 3 میں مخالفین کا یہ اعتراض نقل ہوا ہے، ھل ھذا الا بشر مثلکم (یہ تو تمہارے ہی مانند ایک بشر ہیں) یہ اسی اعتراف کا جواب ہے کہ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ خدا نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا بلکہ تم سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں سب بشر ہی تھے کبھی خدا نے غیر بشر کو رسول بنا کر نہیں بھیجا۔ رسولوں کو جو امتیاز حاصل تھا وہ یہ نہیں کہ وہ مافوق بشر تھے بلکہ صرف یہ کہ ہم ان کے پاس اپنی وحی بنا بھیجتے تھے، اسی طرح کی وحی جس طرح کی وحی ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں، جس کی مخالفت میں یہ لوگ یہ بکواس کر رہے ہیں۔
دشمن کی گواہی
آیت
اوپر والے ٹکڑے میں خطاب کا رخ حضرت صلعم کی طرف تھا۔ یہ براہ راست مخالفین و مقرٖین کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر تم اس بات سے بیخبر ہو تو ان لوگوں سے پوچھ لو جن کو پہلے خدا کی کتاب ملی اور وہ نبیوں اور رسولوں کی تاریخ سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یہ اچارہ اہل کتاب بالخصوص یہود کی طرف ہے۔ ان کو گواہ بنانا دشمن کو گواہ بنانے کے ہم معنی ہے اس لیے کہ اس دور میں جیسا کہ پچھلی سورتوں سے واضح ہوچکا ہے، اہل کتاب من حیث الجماعت نبی ﷺ کی مخلافت اور قریش کی حمایت کے لیے میدان میں اتر چکے تھے۔ قرآن نے ان کو ان کو گاہ بنا کر قریش پر حجت تمام کردی کہ اس حقیقت سے انکار تو تمہارے حامیوں اور نبی ﷺ کے دشمن اہل کتاب کو بھی نہیں ہوسکتا تو انہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے یہاں اہل کتاب کو اہل کتاب کے بجائے اھل الذکر سے تعبیر کرنے میں یہ بلاغت ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام کی مکالفت میں اندھے ہوجانے کی بات تو اور ہے لیکن ان میں سے جن کو اپنے نبیوں اور رسولوں کی یاد ہوگی وہ اس بدیہی حقیقت سے انکار کی جرات نہیں کرسکتے۔
قریش پر ایک تعریضیں
ان کنتم لا تعلمون
کے الفاظ کے اندر قریش پر ایک تعرضیں بھی ہے کہ ہرچند یہ بات معلوم تو تمہیں بھی ہونی چاہیے کہ تم ابرا ہومہہ سماعیل (علیہما السلام) کے خلف اور وارث ہونے کے مدملی ہو جو بہرحال بشر ہی تھے مافوق بشر نہیں تھے، لیکن تمہیں اگر یہ بات امی ہونے کے سبب سے بھول گئی ہے تو ان لوگوں سے پوچھ کر اپنی یادداشت تازہ کر لوجن کو کماز کم یہ بات تو نہیں بھولی ہوگی کہ جتنے رسول بھی آئے سب بشر ہی تھے، کوئی بھی فرشتہ نہیں تھا۔
Ayah 21:8کوئی بنی مافوق بشر نہیں ہوا
یعنی وہ تمام انبیا بھی اسی طرح کی بشری خصوصیات کے ساتھ آئے تھے جس طرح کی بشری خصوصیات تمہارے اندر ہیں۔ نہ تو ان کو ایسے جسم ملے تھے جو کھانے پینے کی ضرورت سے متفی ہوں اور نہ وہ زندہ جاوید ہو کر آئے تھے۔ وہ بھی انسانوں ہی کہ طرح کھاتے پیتے تھے اور انہیں بھی اسی طرح موت سے دوچار ہونا پڑا جس طرح ہر بشر کو اس سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔
یہ اعتراض دوسری جگہ اس طرح نقل ہوا ہے۔
آیت نمبر مَا هَذَا إِلا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يَأْكُلُ مِمَّا تَأْكُلُونَ مِنْهُ وَيَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ (33) وَلَئِنْ أَطَعْتُمْ بَشَرًا مِثْلَكُمْ إِنَّكُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ (34)
وما کانوا خلدین بیں ان کے اس زعم کی تردید ہے کہ رسول کو زندہ جاوید ہونا چاہیے۔ اسی
سورة میں آگے خیال کی تردیدیوں فرمائی گئی ہے۔
آیت نمبر وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ کل نفس ذائقۃ الموت۔
یعنی ہم نے تم سے پہلے کسی انسان کو بھی، خواہ وہ نبی ہو یا غیرنبی، حیات جاوداں نہیں بخشی، اگر تمہیں موت آنی ہے تو یہ بھی ہمیشہ رہنے والے نہیں ہیں، ہر نفس کو ہر صورت موت کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ مطلب یہ ہے کہ موت تو اس زندگی کا ایک ناگزیر مرحلہ ہے جس سے کسی کو منصر نہیں ہے، نبی کو بھی اس مرحلہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہ چیز نہ اس کی نبوت کے لئے قادح ہے، اور نہ اس کو نبی ماننے میں دوسروں کے لئے کوئی کسِرشان کی بات ہے۔
Ayah 21:9دعد سے مراد وہی وعدہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں سے فرمایا کہ اگر لوگ تمہاری تکزیب کرنے والوں کو ہلاک کردیں گے اور تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو نجات دیں گے ہم یونس 20 کے تحت واضح کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دوعذابوں سے درایا ہے ایک اس عذاب سے جو اس دنیا میں رسول کی تکزیب کردینے والی قوم پر لازماََ آتا ہے، دوسرے اس عزاب سے جو آخرت میں ہوگا۔ یہاں عذاب مراد ہے۔ فرمایا کہ تھے تو وہ بہرحال بشر ہی لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ہم نے ان سے جو وعدہ کیا تھا وہ شچا کر دکھایا یعنی ان کو ادرجن کو ہم چاہیں نجات دی اور ان لوگوں کو ہلاک کردیا جو حدود سے تجاوز کر جانے والے تھے۔ یہاں من نشاء کے اسلوب بیان نے کلام کو مطابق حال کردیا ہے، مطلب یہ ہے کہ یہ صرف ماضی کی حکایت نہیں ہے بلکہ اس وقت تمہارے سامنے بھی یہ فصلہ کن مرحلہ ہے۔ اگر تم نے اپنی ضد سے ہمارے عذاب کو دعوت دی تو ہم اس سے نجات انہی لوگوں کردی گے جن کو چاہیں گے۔ ہماری اس مشیت میں کوئی دوسرا دخیل نہ بن سکے گا اور نہ کوئی ہماری پکڑ سے بچ سکے گا۔ مسرفین سے مراد وہ لوگ ہیں جو خدا کی حدود کو ڈھٹائی کے ساتھ توڑتے ہیں اور رسول کے انداز کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہ لوگ خدا کے باضی قرار پاتے ہیں اور باغیوں کی سرکوبی لازما ہو کے رہتی ہے۔
Ayah 21:10یعنی جس طرح ہم نے پچھلی قوموں پر ان کے ہلاک کرنے سے پہلے ان کی تذکیر کے لیے رسول بھیجے کہ ان پر حجت تمام ہوجائے اسی طرح تمہارے اوپر بھی ایک کتاب اتاردی ہے جس میں تمہیں اچھی طرح یاددیانی کردی ہے۔ اب تم ہمارے سامنے یہ عذر نہیں کرسکتے کہ تمہیں یاددہانی نہیں کی گئی۔ یہ یاد دہانی اینے لازمی نتائج اپنے ساتھ رکھتی ہے جو سنت الٰہی کے مطابق بہرحال ظاہر ہو کے رہیں گے۔ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں ہے کہ اگر تم نے روک دی تو یہ دو ہوجائے گی بلکہ اس کو رد کردینے کا وہی نتیجہ تمہارے سامنے آ کے رہے گا جو تم سے پہلے دوسری قوموں کے سامنے آچکا۔ خدا کی جو سنت آج تک جاری رہی ہے وہ تمہارے معاملے میں بدل نہیں جائے گی۔ افلا تعقلون یہاں سخت تہدید و عید کے سیاق میں ہے کہ نادانو، تمہاری عقل کہاں کھوئی گئی ہے ! کیوں اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہو ! اس آیت کے صحیح زور کو سمجھنے کے لئے سورة طہ کی آیات 135-133 کے تحت جو وضاحت کی گئی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
Ayah 21:11تاریخ کا حوالہ
یہ پچھلی قوموں کی تاریخ کی طرف اشارہ فرمایا کہ جس طرح تم اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہو کہ خدا کی یاد دہانی کا مذاق اڑا رہے ہو اسی طرح تم سے پہلے بھی بہت سی قومیں یہی حرکت کرچکی ہیں جس کی پاداش میں ہم نے ان کے پرخچے اڑا دیے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اسی جرم کے مرتکب ہو رہے ہو تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ خدا وہی معاملہ تمہارے ساتھ نہ کرے جو اس نے ان کے ساتھ کیا۔
کانت ظالمۃ یہاں ظلموآ انفسھم کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ نے ان کے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والی بنیں۔ خدا نے اپنے رسول بھیج کر ان کو خطرے سے آگاہ کردیا۔ لیکن انہوں نے اپنی رعونت کے سبب سے خود اس خطرے کے بند کو توڑا۔
قوموں کے ایک مغالطہ کی تردید
مانشانا بعد ماقوماً اخرین یعنی خدا کے لئے ایک قوم کو مٹا دینا اور اس کی جگہ دوسری قوم کو برپا کردینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ کوئی بھی اپنے وجود کو اس دنیا کے لئے ناگزیر نہ سمجھنے کہ اس کے اجڑنے سے خدا کی دنیا اجڑ جائے گی۔ جب کوئی قوم بغاوت کی روش اختیار کرے گی خدا اس کو مٹا کر اس کی جگہ دوسری قوم کو لائے گا اور دیکھے گا کہ رہ کیا روش اختیار کرتی ہے۔ اگر وہ بھی وہی روش اختیار کرے گی تو بالآخر اس کا بھی وہی حشر ہوگا … افراد ہوں یا اقوام جب ان پر خدا سے بےپروائی غالب ہوتی ہے، تو وہ اپنے وجود کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دینے لگ جاتے ہیں یہاں اسی مغالطہ کو دور فرمایا ہے کہ اپنے آپ کو بہت بڑی چیز نہ سمجھو، خدا جب چاہے گا، یہاں جھاڑو پھروا دے گا اور تمہاری جگہ دوسروں کو لا بسائے گا۔
Ayah 21:12خدا کی پکڑ سے کوئی پناہ نہیں
یعنی جس طرح آج تم بڑے طنطنہ کے ساتھ خدا کے عذاب کو دعوت دے رہے ہو اسی طرح انہوں نے بھی رعونت کے ساتھ خدا کے عذاب کو دعوت دی بالآخر جب ہمارے عذاب نے ان کے دروازوں پر دستک دے دی تو اس کے مقابلہ کے لئے وہ کوئی تدبیر نہ کرسکے بلکہ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ لکنہ خدا کے عذاب سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔ وہ جب دبوچ لیتا ہے تو اس کے چنگل سے کوئی نہیں نکل سکتا !
Ayah 21:13ایک طنزیہ اسلوب
یہ صورت حال کی تعبیر ہے یعنی خدا کی گرفت نے اپنی زبان حال سے ان سے کہا کہ اب کہاں بھاگتے ہوا اب بھاگو مت، بھاگنے کا وقت گزر گیا ! خدا کی بخشی ہوئی جن رفاہتیوں میں اب تک عیش کرتے اور اپنے جن محلوں اور ایوانوں میں بیٹھ کر خدا کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے رہے ہو، ان میں جائو تاکہ تمہاری اچھی طرح مزاج پرسی ہو ! لعلکم تسئلون یہاں طنز و تضحیک کے مفہوم میں ہے۔ طنزیوں کہتے ہیں کہ ٹھہرو، ابھی میں تمہاری مزاج پرسی کرتا ہے، ابھی تمہاری خبر لیتا ہوں۔ ابھی پوچھتا ہوں۔ قرآن کے دوسرے مواقع میں بھی یہ اسلوب استعمال ہوا ہے۔ مثلا ً آیت 8 تکاتر اور آیت 92 نحل میں
الی ما اترفتم فیہ کے اسلوب بیا ن سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ رفاہیت و نعمت کی فراوانی تمہیں بخشی تو گئی خدا کی طر سے تاکہ تمہاری شکر گزاری کا امحتان ہو لیکن تم اس کو اپنے اب وجد کی میراث اور اپنے استحقاق ذاتی اور اپنی قابلیت کا کرشمہ سمجھے اور اس کے بل پر اسی خدا سے تم نے بغاوت کی جس کے فضل سے تمہیں یہ نعمتیں حاصل ہوئیں تو اب اس کا مزہ چکھو یہاں خطاب چونکہ امراء و اغنیاء سے ہے اور مساکن کا ذکر ان کے اسباب عیش و رفاہیت کے ذکر کے بعد ہے اس وجہ سے مساکن سے مراد انہی امراء کے ایوان و محل ہیں۔
Ayahs 21:14–15آیت 15-14
بعد از وقت اعتراف
یعنی جب عذاب نے ان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تب ان کو ہوش آیا اور انہوں نے واویلا شروع کیا اور بول اٹھے کہ بیشک ہم خود ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے اور ہم نے یہ شامت خود بلائی، لفظ ظلم کے اس مفہوم کی طرف اوپر آیت 11 کے تحت ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ یہ اعتراف انہیں اس وجہ سے کرنا پڑا کہ اس عذاب سے پہلے خدا کے رسول نے انہیں اچھی طرح خبردار کردیا تھا لیکن وہ نہ صرف اندھے بہرے بنے رہے بلکہ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا مطالبہ کرتے رہے۔ بالآخر جب وہ سر پر آدھمکا تو انہیں ماننا پڑا کہ سارا قصور ان کا اپنا ہے۔
فما ذالت تلک دعوئھم الایۃ دعویٰ کے معنی چیخ و پکار اور استغاثہ و فریاد کے ہیں۔ یہاں اس سے مرادان کی وہی چیخ و پکار ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ یعنی وہ اس طرح چیخ و پکار کرتے ہی رہ گئے، ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی اس لئے کہ عذاب آجانے کے بعد چیخ پکار بےسود ہوتی ہے۔ چناچہ ہم نے ان کو کاٹی ہوئی گھاس اور بجھی ہوئی آگ کی مانند کردیا۔ کاٹی ہوئی گھاس اور بجھی ہوئی آگ کے استعارے میں یہ مضمون مضمر ہے کہ جس طرح گھاس کاٹ کر اس کے خشک انبار میں آگ لگا دی جائے اور وہ راکھ کا ڈھیر ہو کے رہ جائے اسی طرح ہم نے ان کو خاک اور راکھ بنا دیا۔ لفظ خمدین یہاں مستعارلہ کی رعایت سے آیا ہے اور یہ عربی کا معروف اسلوب ہے۔
Ayah 21:16آگے کا مضمون ………آیات 29-16
آگے اسی بات کی دلیل بیان ہوئی ہے جو اوپر مذکور ہوئی کہ اس دنیا میں قوموں کا جو محاسبہ ہوتا ہے اور آگے قیامت میں جو ہوگا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کو خدا نے محض اپنا جی بہلانے کے لئے اس طرح کا کوئی تھیٹر نہیں بنایا ہے جس طرح کے تھیٹر دنیا کے بادشاہ اپنے جی بہلانے کے لئے بناتے ہیں بلکہ یہ اس نے اپنے فضل و رحمت اور حق و عدل کے ظہور کے لئے بنائی ہے۔ اس فضل و رحمت اور حق و عدل کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس میں اس کے بندے شتر بےمہار کی زندگی نہ گزاریں بلکہ خدا کے نظام حق و عدل کے پابند ہو کر زندگی گزاریں اور یہ یوں ہی چلتی نہ رہے بلکہ اس کے بعد ایک ایسا یوم الحساب بھی آئے جس میں لوگ اپنی کارکردگی کا صلہ پائیں جو اس دنیا کے خالق کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کریں اور وہ لوگ کیفر کردار کو پہنچیں جو اس میں دھاندلی مچائیں۔ اگر کسی ایسے یوم الحساب کے بغیر اسی طرح یہ دنیا چلتی رہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا خالق کوئی کھلنڈرا ہے جس نے محض اپنی تفریح کے لئے یہ پہلا رچائی ہے اس کو اس کے خیر و شر اور عدل و ظلم سے کوئی بحث نہیں ہے۔ یہ خیال بالہداہت باطل اور خدا کی صفات عدل و رحم کے بالکل منافی ہے اس وجہ سے قیامت ناگزیر ہے۔ اسی سلسلہ میں شرکت کی تردید بھی فرمائی اس لئے کہ اگر شرک کی کوئی گنجائش باقی رہے تو اس صورت میں بھی یہ دنیا بازیچہ اطفال اور ایک کھیل تماشا بن کے رہ جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسے شرکاء و شفعاء کا وجود تسلیم کرلیا جائے جو خدا کے معاملات میں اتنے دخیل ہوں کہ وہ اپنے پجاریوں کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے خود ان کے اعمال کچھ ہی ہوں تو قیامت کا ہونا نہ ہونا دونوں یکساں ہوا۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ اگر یہ روز عدالت آیا تھا تو اس کے لئے کسی فکر و اہتمام کی ضرورت نہیں ہے۔ سفارشیوں کے ذریعہ سے اس عدالت سے چھوٹا جاسکتا ہے اور سفارش کے لئے ان کے یہ مزعومہ شرکاء و شفعاء ان کے نزدیک کافی ہیں۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔
جزا اور سزا کے لازم ہونے کی دلیل
اوپر جو بات جزا و سزا کے لازمی ہونے سے متعلق فرمائی گی ہے یہ اس کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ اگر اس دنیا کے پیچھے کوئی روز جزا و سزا نہیں ہے، یہ یوں ہی چلتی آئی ہے اور یوں ہی ہمیشہ چلتی رہے گی۔ کوئی نیکی کرے یا بدی، ظلم کرے یا انصاف، اس کے خالق کو اس کے خیر و شر سے کوئی بحث نہیں ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے یہ محض اپنا جی بہلانے کے لئے ایک کھیل تماشا بنایا ہے، جب تک وہ چاہے گا اس سے جی بہلائے گا اور جب اکتا جائے گا اس کی بساط لپیٹ کر رکھ دے گا اور اپنی دلچسپی اور اوقات گزاری کے لئے کوئی نیا کھیل ایجاد کرلے گا۔ فرمایا کہ ہم نے اس آسمان و زمین اور ان کے مابین کی چیزوں کو اس طرح کے کسی کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے، یہ کارخانہ مکائنات اپنے وجود سے شاہد ہے کہ یہ ایک عادل و حکیم اور رحمان و رحیم کا بنایا ہوا کارخانہ ہے نہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل ہے، نہ یہ دیوتائوں کی رزمگاہ ہے اور نہ یہ کسی بھگوان کی لیلا ہے بلکہ اس پر حکمت کارخانہ کی ایک ایک چیز شاہد ہے کہ اس کے خالق نے اس کو ایک عظیم مقصد وغایت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس کے عدل و حکمت کا یہ بدیہی تقاضا ہے کہ ایک ایسا دن آئے، جس میں اس کا مقصد ظہور میں آئے۔
Ayah 21:17کھیل اور کار عبث خدا کی صفات کے منافی ہے لیکن بالفرض ہم ایسا کرنے والے ہی ہوتے تو اپنے پاس ہی سے اس کا سروسامان مہیا کرلیتے، اس میں اپنے بندوں اور بندیوں اور اپنی دوسری مخلوقات کو کیوں گھسیٹتے ! ہم اس کتاب میں روم کے قدیم سلاطین کے متعلق کہیں ذکر آئے ہیں کہ وہ اپنے تھیٹروں میں بھوکے شیروں اور اپنے مظلوم غلاموں کی چیر پھاڑ کا تماشا دیکھتے تھے۔ العیاذ باللہ یہی رائے اس کائنات کے خالق کے متعلق قائم کرنی پڑے گی اگر وہ اپنی تمام مخلوقات کو اس ابتلاء میں ڈال کر ان کا تماشا دیکھ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس دنیا میں ظالم بھی ہیں اور مظلوم بھی، سرکش و باغی بھی ہیں اور وفادار و تابعدار بھی، ناشکرے اور نابکار بھی ہیں اور حق شناس و شکر گزار بھی، ایسی حالت میں اگر اس دنیا کے لئے کوئی روز عدل نہیں ہے تو پھر یہ روم کے سلاطین کے ایک تھیٹر کے مانند ہے۔ اس آیت میں اسی بےہودہ خیال کی تردید کی گئی ہے کہ اپنے مخلوقات کے ساتھ خدا کا جو تعلق ہے وہ اس بات کو واجب کرتا ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں حق و باطل کا فیصلہ ہو، حق سربلند ہو اور باطل نابود اگر ایسا نہ ہو تو یہ دنیا ایک کھیل بن کے رہ جاتی ہے اور یہ چیز خدا کی صفات کے منافی ہے۔
لاتخذنہ من لذنا کے چند لفظوں کے اندر جس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر ہم کوئی کھیل تماشا بنانا ہی چاہتے تو ہم اس کا سروسامان اپنے پاس ہی سے کرلیتے اس کے لئے آدم و ابلیس، حق و باطل، ہدایت و ضلالت، عدل و ظلم، خیر و شر، اور ظلم و مظلومی کی یہ رزمگاہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں تھی، یہ بات خدا کے عدل و رحم کے بالکل منافی ہے کہ وہ ایک رزمگاہ میں اپنے بندوں اور بندیوں کو اتار دے اور خود ایک تماشائی بن کر صرف اس کا تماشا دیکھے، نہ ان لوگوں کو انعام دے جو اس جہاد میں کامیاب و سرخرو ہوں اور نہ ان لوگوں کو سزا دے جو اپنی ساری زندگی باطل کی پرستش اور اس کی حمایت میں گزاریں۔
فرمایا کہ اول تو اس قسم کا کھیل اور کار عبث ہماری شان اور ہماری اعلیٰ صفات کے منافی ہے لیکن بالفرض ہم ایسا
ان کنافینا میں خدا کی نسبت اسی باطل تصور کی تردید ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اسی باطل تصور کی بنا پر دنیا کی مشرک قوموں نے اس کائنات کو اپنے دیوتائوں کی ایک تماشا گاہ قرار دیا اور ہندو فلسفیوں نے اس کو بھگوان کی لیلا سے تعبیر کیا۔ ان کے ہاں چونکہ قیامت کا کوئی واضح تصور نہیں تھا اس وجہ سے انہوں نے خیال کیا کہ جس طرح دنیا کے بادشاہ اپنی تفریح کے لئے تھیٹر بناتے ہیں اسی طرح ان کے غیبی دیوتائوں نے یہ دنیا بنائی ہے اور وہ اس میں کسی کو ظالم اور کسی کو مظلوم، کسی کو قاتل اور کسی کو مقتول بنا کر اس کا تماشہ دیکھتے اور اپنا جی بہلاتے ہیں۔ ہمارے اس زمانے کے منکرین و ملاحدہ اگرچہ زبان سے تو یہ بات نہیں کہتے کہ یہ کہنے میں نہایت بھونڈی ہے لیکن جب وہ قیامت اور ایک روز عدل و انصاف کو نہیں مانتے تو ان کے دل کے اندر بھی اصلاً یہی تصور باطل گھسا ہوا ہے اس لئے کہ انکار قیامت کے معنی دوسرے لفظوں میں یہی ہیں کہ یہ دنیا ایک بازیچہ اطفال ہے۔ قیامت کو مانے بغیر اس کائنات کی کوئی ایسی توجیہ ممکن ہی نہیں ہے جو اس کو حق و عدل پر مبنی قرار دے سکے۔ ان دونوں میں اسیرطح کی نسبت ہے جس طرح کی نسبت زوجین میں ہوتی ہے۔ اگر جوڑے کے ایک فرد کو اس کے دوسرے جزو سے الگ فرض کر کے اس کی توجیہ کرنا اور اس کے واعیات و مقتضیات کی حکمت معلوم کرنا چاہیں تو یہ ناممکن ہے۔
Ayah 21:18اصل حقیقت کا بیان
دمغ کے معنی کسی کو اس طرح مارنے اور زخمی کرنے کے ہیں کہ وہ اس کا بھیجا نکال دے۔
فرمایا کہ تم جو اس دنیا کو ایک کھیل تماشا سمجھے بیٹھے ہو، یہ خیال بالکل باطل ہے۔ اس میں ہم نے حق کے ساتھ باطل کو جو مہلت دے رکھی ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ ہمارے نزدیک حق و باطل دونوں یکساں ہیں بلکہ یہ محض تمہایر امتحان کے لئے ہے کہ دیکھیں کون حق کی راہ اختیار کرتا ہے اور کون باطل کا پرستار بنتا ہے۔ بالآخر ایک دن آئے گا جب تم دیکھو گے کہ ہم حق کا ہتھوڑا باطل کے سر پر اس طرح ماریں گے کہ وہ باطل کا بھیجا نکال کر رکھ دے گا اور جس طرح تم دیکھتے ہو کہ دماغ پر ضرب کاری آدمی کو آنا فاناً ختم کردیتی ہے اسی طرح یہ ضرب کاری باطل کو چشم زدن میں نابود کر دے گی۔
ولکم الویل مما تصفون یعنی اس وقت تمہاری اس بکواس کے سبب سے جو تم آج کر رہے ہو تمہارے لئے صرف تباہی اور ہلاکی ہی ہوگی۔ مما تصفون سے ہمارے نزدیک مراد ان کا دنیا سے متعلق یہ تصور بھی ہے کہ یہ محض ایک کھیل تماشا ہے اور انکے شرک و شفاعت کا وہ عقیدہ بھی ہے جس کے سبب سے وہ آخرت سے بالکل نچنت ہو کہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ بالفرض آخرت سے سابقہ پیش ہی آیا تو ان کے شرکاء و شفعاء ان کو ہر خطرے سے بچا لیں گے۔ فرمایا کہ تمہاری یہ تمام باتیں موجب و بال اور سبب ہلاکت نہیں بنیں گی۔
Ayahs 21:19–20آیت 20-19
شرک کی واہمہ کی تردید
اوپر کی آیات میں جزا و سزا کے واجب ہونے پر صفات الٰہی سے استدلال تھا۔ اب یہ توحید کا بیان آ رہا ہے تاکہ یہ حقیقت واضح کردی جائے کہ اگر کسی نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ اپنے شرکاء و شفعاء کی سفارش سے خدا کی پکڑ اور جزا و سزا سے بچ جائے گا تو یہ محض اس کا وہم ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب خدا ہی کی مخلوق اور اسی کے مملوک ہیں کسی کو خدا کے ہاں کوئی اختیار و اقتدار حاصل نہیں ہے۔
فرشوں کا حال
ومن عندہ لایستکبرون عن عبادتہ ولا یستحسرون، من عندہ سے مراد خدا کے مقرب ملائکہ ہیں۔ فرمایا کہ وہ بھی اسی زمرے میں داخل ہیں۔ باہمہ قرب و شرف ان کا حال یہ ہے کہ نہ وہ اس کی عبادت سے کبھی سرتابی کرتے، نہ کھبی اس سے تھکتے یہ مشرکین کے اس وہم کی تردید ہے کہ وہ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں فرض کر کے ان کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ ان کو خدا کے ہاں بڑا مرتبہ و مقام حاصل ہے۔ جو بات چاہیں اپنے باپ سے منوا لیتی ہیں اور خدا ان کی ناز برداری میں ان کی ہر خواہش کی لازماً تعمیل کرتا ہے۔ وہ اپنی دنیا کی نعمتوں کو بھی انہی کا عطیہ سمجھتے اور آخرت کے باب میں بھی ان کا خیال تھا کہ اگر بالفرض مرنے کے بعد اٹھنا ہی ہوا تو ان کی بدولت وہاں بھی ان کو بڑا درجہ حاصل ہوگا۔ فرمایا کہ تم تو ان کے بل پر خدا سے اکڑتے ہو لیکن خود ان کا حال یہ ہے کہ نہ ہو کبھی خدا کی بندگی سے سرتابی کرتے اور نہ کبھی اس کام میں وہ کوئی تکان محسوس کرتے، وہ شب و روز خدا کی تسبیح و تہلیل میں سرگرم رہتے ہیں، ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں توقف نہیں کرتے۔
Ayahs 21:21–22آیت 22-21
انشر اللہ الارض کے معنی یہ ہوں گے خدا نے زمین کو اس کے خشک و بےآب وگیاہ ہوجانے کے بعد از سر نو زندہ و شاداب کردیا۔ مثلاً فرمایا ہے۔ والذی نزل من السمآء مآء بقدر فانشرنا بہ بلدۃ میتا (زخرف 11) (اور جس نے اتارا آسمان سے پانی ایک خاص اندازہ کے ساتھ پس ہم نے اس سے شاداب کردیا خشک زمین کو)
زمین و آسمان کا رب ایک ہے
یہ مشرکین کے ایک دوسرے مشرکانہ واہمہ کی تردید ہے۔ بہت سے مشرکین یہ سمجھتے تھے کہ زمین اور آسمان کے الہ الگ الگ ہیں۔ وہ ایک رب العرش کو مانتے تھے لیکن ان کا خیال یہ تھا کہ رب العرش اپنے عرش آسمان پر براجمان ہے، زمین میں دور سے خدائوں کی خدائی چل رہی ہے۔ اسی وہم کے تحت وہ آسمان کے خدا سے بےنیاز ہو کر اپنے زمینی دیوتائوں کی پرستش کرتے تھے۔ اہل عرب کے علم الاصنام کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تصور یہ تھا کہ زمین چونکہ رب العرش کی مملکت کا ایک بہت بعید علاقہ ہے اس وجہ سے اس کا انتظام و انصرام، دوسروں کے حوالہ کر کے وہ اس سے الگ تھلگ ہوگیا ہے۔ فرمایا کہ کیا انہوں نے زمین کے الگ الہ ٹھہرا لئے ہیں جو اس زمین کو زندگی بخشتے اور اس کو سرسبز و شاداب کرتے ہیں ؟ ان کا یہ خیال بالکل ہی باطل ہے۔ اگر آسمان و زمین میں خدا کے ماسوا الگ الگ الہ ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہو کے رہ جاتے۔ آخر آسمان والوں کو کیا پڑی تھی کہ وہ زمین کے خشک و بےآب وگیاہ ہوجانے کے بعد اس کو از سر نو پر بہار کردینے کے لئے پانی برساتے یا ان کی دوسری ضروریات کی فراہمی میں کوئی حصہ لیتے ! توحید کی اس دلیل کی وضاحت دوسرے مقام میں دلیل توافق کے عنوان سے ہم کرچکے ہیں۔ یہاں اس کے دہرانے میں طوالت ہو ی۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کے بقا کا انحصار اس امر پر ہے کہ اس کے مختلف اجزاء و عناصر اور اس کے تمام اضداد میں نہایت گہرا توافق ہے۔ اگر یہ توافق صریح طور پر اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ اس پوری کائنات پر ایک ذات کا ارادہ (Mind) کار فرما ہے۔ اگر اس میں بہت سے ارادے کار فرما ہوتے ہیں تو آسمان و زمین کا باقی رہنا ناممکن تھا۔
فسبحن اللہ رب اعلرش عما یصفون توحید کی یہ دلیل بیان کرنے کے بعد اس کا نتیجہ سامنے رکھ دیا کہ خدائے رب العرش کے باب میں اس قسم کا تصور ایک احمقانہ تصور ہے۔ وہ اس قسم کی باتوں سے ارفع اور پاک ہے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ جب وہ اس کائنات کے تخت حکومت کا مالک ہے تو اسی کا حکم آسمان و کہاں باقی رہی۔
Ayah 21:23سب خدا کے آگے مسئول ہیں
یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شان واضح فرمائی کہ وہ کسی کے آگے مسئول اور جواب دہ نہیں، باقی سب خواہ فرشتے ہوں یا جن وانس، اس کے آگے جواب دہ ہیں۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حکم سے سرتابی کرسکے اور اگر کسی نے اس کی جرأت کی تو اس کو اللہ کے حضور میں جاب دہی کرنی پڑے گی اور وہ اس جسارت کی سزا بھگتے گا۔ یہ مشرکین کے اس واہمہ کی تردید ہے کہ وہ اس کائنات کے نظم ونسق میں اپنے معبودں کو دخیل سمجھ کر ان سے یہ توقع رکھتے تھے کہ وہ خدا کے جس ارادے کو چاہیں بدلوا سکتے اور جو چاہیں اپنی مرضی سے کرسکتے ہیں، وہ خدا کی باز پرس سے بالاتر ہیں۔
Ayahs 21:24–25آیت 25-24
توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں تاریخ کی شہادت
یہ توحید کے اثبات اور شرک کی تردید میں تاریخ کی شہادت کا حوالہ ہے اوپر کی مذکور دلیل توافق سے یہ ایک الگ اور مستقل دلیل ہے اس وجہ سے سوال ام اتخذوامن دونہ الھۃ کو پھر دوہرایا گیا ہے۔ فرمایا کہ اگر یہ خدا کے سوا دوسرے معبودوں کو بھی مانتے ہیں تو ان سے کہو کہ یہ ان کے حق میں کوئی دلیل لائیں۔ شرک کے حامیوں سے دلیل کا یہ مطالبہ اس بنیاد پر ہے کہ جہاں تک خدا کا تعلق ہے وہ تو مابہ النزاع اور اختلافی چیز نہیں ہے، اس کو تو یہ بھی مانتے ہیں اس وجہ سے وہ ایک مسلم حقیقت ہے۔ رہا یہ دعویٰ کہ اس کے سوا کچھ اور بھی معبود ہیں تو یہ محتاج دلیل ہے اور اس کو ثابت کرنے کی ذمہ داری اس دعوے کے مدعیوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے حق میں اگر ان کے پاس کوئی دلیل ہے تو اس کو پیش کریں۔
ھذا ذکرمن معی و ذکرمن قبلی ھذا یعنی یہ قرآن اپنے اندر وہ تعلیم بھی رکھتا ہے جو مجھ کو اور میرے ساتھ والوں (یعنی میری امت) کو دی گئی ہے اور اس میں وہ تعلیم بھی ہے جو مجھ سے پہلے انبیاء پر نازل ہوئی۔ سب نے اسی توحید کی تعلیم دی ہے کسی نے بھی شرک کی تعلیم نہیں دی ہے۔ اگر تمہارے پاس اس کے خلاف کوئی شہادت موجود ہے تو اس کو لائو۔
بل اکثرھم لایعلمون الحق فھم معرضون یعنی یہ بات نہیں ہے کہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے جس کی بنا پر یہ توحید کی مخالفت اور شرک کی حمایت میں آستین چڑھائے ہوئے ہیں بلکہ صرف حق سے بیخبر ی اور جہالت ہے جو اس سارے اعراض و انکار کا سبب ہے۔ یہ آنحضرت صلعم اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی دی گی ہے کہ اس ہنگامہ مخالفت سے تم آزردہ خاطر نہ ہو، جب مخالفت کی بنیاد دلیل و حجت پر نہیں بلکہ تمام تر بیخبر ی اور جہالت پر ہے تو اس مرض کا کیا علاج !
وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون
یہ اوپر والے ٹکڑے ذکر من قبلی کی وضاحت ہے اور نوحی سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے یعنی ہم نے تم سے پہلے جتنے بھی رسول بھیجے سب کو یہی وحی کرتے رہے ہیں کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو میری ہی عبادت کیجیو یہ امر واضح رہے کہ سابق انبیاء کے جو صحیفے موجود ہیں ان میں اگرچہ بیشمار تحریفیں ہوچکی ہیں لیکن توحید کی تعلیم آج بھی ان میں محفوظ ہے ان کے حاملوں نے اگر شرک اختیار کیا ہے تو اپنے فاسد علم کلام کے سہارے پر اختیار کیا ہے نہ کہ ان صحیفوں کی تعلیم کی بنا پر جس طرح قرآن کی نہایت واضح تعلیم توحید کے باوجود اس امت میں شرک کی بہت سی قسمیں گھس آئی ہیں۔ اسی طرح ان امتوں نے اپنے صحیفوں کی تعلیم کے بالکل برخلاف شرک کی لعنت اختیار کی اور پھر اس کے ح ق میں خارج سے دلیلیں فراہم کرنے کی کوشش کی۔ تورات، انجیل، زبور وغیرہ کی تعلیمات کا حوالہ پچھلی سورتوں میں ہم دے چکے ہیں۔ تورات میں حضرت ابراہیم کی تعلیم بھی موجود ہے وہ بھی سرتاسرتوحید ہے۔ الغرض حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم و دعوت کا جو ریکارڈ موجود ہے، وہ قرآن کے اس دعوے کی تصدیق کرتا ہے کہ اللہ کے ہر رسول نے توحید ہی کی تعلیم دی ہے، شرک کی تعلیم کسی نے بھی نہیں دی ہے۔ اس کے خلاف جو دعویٰ کرتا ہے وہ انبیاء کی تاریخ اور ان کی دعوت سے بالکل بیخبر ہے۔
Ayahs 21:26–27آیت 27-26
خدا کے دربار میں فرشتوں کی حیثیت
یہ مشرکین کے باطل عقیدہ شفاعت کی تردید ہے کہ وہ خدا کے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں بنائے بیٹھے ہیں اور اس خبط میں مبتلا ہیں کہ اس دنیا میں جو رزق و فضل ان کو ملتا ہے انہی کی عنایت سے ملات ہے اور اگر آخرت ہوئی تو انہی کی سفارش سے وہاں بھی یہ نہایت اعلیٰ مراتب حاصل کرلیں گے۔ اس عقیدہ باطل کی تردید یہاں، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس پہلو سے فرمائی گئی کہ اگر اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قسم کی سفارش کی کوئی گنجائش مان لی جائے تو آخرت کا ہونا نہ ہونا دونوں یکساں ہوا اس لئے کہ جب خدا کی عدالت میں رشوت یا سفارش سے حق کو باطل اور باطل کو حق بنایا جاسکتا ہے تو یہ دنیا ایک اندھیر نگری بن کے رہ جاتی ہے۔ پھر یہ کارخانہ مبنی برحق وعدہ کہاں رہا ! اور اس کے خالق کو عادل اور حکیم کون مانے گا !
فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ خیال بالکل باطل ہے۔ اللہ جل شانہ، بیٹیوں، بیٹیوں اور بیوی بچوں کی نسبت سے پاک وارفع ہے۔ اس قسم کی نسبتیں اس کی شان الوہیت کے بالکل منافی ہیں۔ فرشتے خدا کی بیٹیاں نہیں ہیں، جیسا کہ یہ بیوقوف لوگ سمجھتے ہی، بلکہ وہ اس کے باعزت بندے ہیں۔ ان کے خدا کے قرب کا مقام حاصل ہے لیکن یہ قرب ان کو اس لئے حاصل ہے کہ وہ شر سے بالکل پاک اور خدا کی بندگی اور وفاداری میں کامل العیار ہیں نہ اس لئے کہ وہ خدا سے جو چاہیں منوا لیتے ہیں۔
لایسبفونہ بالقول وھم بامرہ یومنون یعنی زور و اثر یا نازو تدلل سے کوئی بات منوا لینا تو درکنار وہ خدا کے آگے بات کرنے میں پہل بھی نہیں کرتے۔ جب ان کو اذن ہوتا ہے تب وہ زبان کھولتے ہیں اور جو بات ان سے پوچھی جاتی ہے حد ادب کے اندر اس کا جواب دیتے ہیں اور ان کی یہ حیثیت بھی نہیں کہ بطور خود کسی کام کے لئے اقدام کرسکیں۔ وہ بس اس حکم کی تعمیل کرتے ہیں جو خدا کی طرف سے ان کو دیا جاتا ہے تو جن کی حیثیت خدا کے آگے یہ ہے ان سے یہ آس لگا بیٹھنا کہ وہ اپنے زور و اثر سے جس کو چاہیں گے خدا کی پکڑ سے چھڑا لیں گے یا جس درجے اور مرتبے پر اس کو چاہیں گے سرفراز کریں گے محض ایک احمقانہ آرزو ہے۔
Ayah 21:28یعلم مابین ایدیھم وما خلفھم یعنی ان کے آگے پیچھے اور حاضر و مستقبل میں جو کچھ ہے خدا ان ساری باتوں سے خود اچھی طرح واقف ہے اس وجہ سے نہ تو وہ کسی کے باب میں خدا کے علم میں کوئی اضافہ کرسکتے ہیں اور نہ کی بات کو کچھ گھٹا یا بڑھا سکتے ہیں۔
ولایشفعون الا لمن ارتضی پھر یہ بات بھی ہے کہ وہ کسی کے بارے میں سفارش کے لئے خود سبقت نہیں کریں گے بلکہ جن کے لئے خدا پسند فرمائے گا صرف انہی کے لئے سفارش کریں گے۔
وھم من خشیتہ مشفقون مزید برآں یہ بات بھی ہے کہ وہ خدا کے خوف سے ہر وقت لرزاں و ترساں رہنے والے ہیں اس وجہ سے اس کا بھی کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی خلاف حق بات زبان سے نکالیں۔
مطلب یہ ہے کہ ان کی سفارش پر جو لوگ تکیہ کئے بیٹھے ہیں وہ ان ساری باتوں کو سوچ لیں، محض ایک وہم کے سہارے پر اپنی عاقبت خراب نہ کریں۔
Ayah 21:29یعنی تم نے تو ان کو یہ دجہ دے رکھا ہے کہ گویا خدا ان کے ہاتھ میں ایک کھلونا ہے، وہ اس کو جس طرح چاہیں کھیل سکتے ہیں لیکن اصل حقیقت یہ ہے، اس کو اچھی طرح کان کھول کر سن لو، کہ اگر ان میں سے بھی کوئی کہیں یہ کہہ بیٹھے کہ خدا کے سوا وہ بھی ایک الہ ہے تو ہم اس کو جہنم میں جھونک دیں گے۔ یہی جہنم کی سزا ہے جو ہم نے تمام مشرکوں کے لئے ٹھہرا رکھی ہے وہی ہم ان کو بھی دے کے رہیں گے۔ یاد ہوگا کہ بعینیہ یہی بات اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کو خطاب کر کے حضرت مسیح اور ان کی والدہ ماجدہ کے باب میں بھی فرمائی ہے۔
Ayah 21:30آگے کا مضمون ……آیات 33-30
اوپر کی آیات میں معاد و توحید کی وہ دلیلیں بیان ہوئی ہیں جو عقل و فطرت اور صفات الٰہی کے بدیہیات و مقتضیات پر مبنی ہیں۔ اب یہ نشانیوں کا مطالبہ کرنے والوں کو جن کا ذکر آیت 5 میں ہے۔ آفاق کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ وہ کسی نئی نشانی کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں، خدا کی یہ کائنات، اس کی قدرت، رحمت، ربوبیت اور توحید و معاد کی نشانیوں سے بھری پڑی ہے، ان نشانیوں پر کیوں نہیں غور کرتے ؟ جب وہ ان ساری نشانیوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ اگر کوئی نئی نشانی دکھا دی گئی تو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی ! دل میں ہدایت کے اترنے کی اصل راہ عقل ہے، جب انہوں نے عقل پر پٹی باندھ رکھی ہے تو ان کو ہدایت کس طرح نصیب ہو سکتی ہے ! اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔
آفاق کی شہادت توحید، معاد اور جزا پر
کان یہاں اسی مفہوم میں ہے جن مفہوم میں کان اللہ علیماً حکیماً میں ہے۔ رتق کے معنی بند اور رفتق کے معنی کھولنے کے ہیں۔ آسمان اور زمین کے بند ہونے اور ان کے کھولنے سے مقصود یہاں اس بات کی طرف توجہ دلانا ہے کہ دیکھتے ہو کہ آسمان بند ہوتا ہے، اس سے بارش نہیں ہوتی، اسی طرح زمین بند ہوتی ہے اس سے سبزہ نہیں اگ تا، پھر دیکھتے ہو کہ آسمان کھلتا ہے اور اس سے دھڑا دھڑ پانی برسنے لگتا ہے اور اس کے بعد خدا زمین کو بھی کھول دیتا ہے اور وہ اپنی نباتات کے خزانے اگلنا شروع کردیتی ہے کل تک زمین بالکل خشک اور مردہ پڑی ہوئی تھی لیکن بارش کے ہوتے ہی اس کے گوشے گوشے میں زندگی کے آثار نمودار ہوگئے۔
فرمایا کہ جو لوگ توحید و معاد کا انکار کر رہے ہیں اور قائل ہونے کے لئے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آخر وہ آفاق کی ان نشانیوں پر کیوں نہیں غور کرتے جو ہر روز ان کے مشاہدے میں آرہی ہیں۔ اللہ نے اپنی اس کائنات میں یہ نشانیاں اس لئے تو نمایاں فرمائی تھیں کہ لوگوں کو ان سے صحیح راہ کی طرف رہنمائی حاصل ہو !
غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اسی ایک مشاہدہ کے اندر ان تمام باتوں کی دلیلیں موجود ہیں جن کی قرآن ان کو دعوت دے رہا تھا۔
اس میں نہایت واضح دلیل توحید کی موجود ہے۔ اگر آسمان میں الگ الہ اور زمین میں الگ معبود ہوتے تو آسمان کو کیا پڑی تھی کہ وہ زمین کو زندہ و شاداب رکھنے کے لئے اپنے ذخیرے کا پانی صرف کرتا۔ زمین و آسمان میں یہ زوجین کی سی سازگاری اس بات کی صاف شہادت ہے کہ دونوں کا خالق ومالک ایک ہے اور دونوں پر اسی کا ارادہ کار فرما ہے۔
دوسری شہادت اس کے اندر معاد کی ہے۔ جب زمین خشک و بےآب وگیاہ، یا بالفاظ دیگر مردہ ہو کر از سر نو زندہ و شاداب ہوجاتی ہے تو موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو کیوں مستبعد خیال کیا جائے !
تیسری شہادت اس کے اندر انسان کے مسئول ہونے کی ہے۔ جب خدا نے انسان کی پرورش کے لئے یہ کچھ اہتمام فرمایا ہے کہ اپنے آسم ان و زمین، سورج چاند، اور ابروہوا ہر چیز کو اس کی خاطر سرگرم کا رکھتا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ اس کو بالکل شتر بےمہار بنا کر چھوڑ دے، محاسبہ کا کوئی دن اس کے لئے سفر نہ کیر۔
یہی مضمون سورة ق میں اس طرح بیان ہوا ہے۔
ونزلنا من السمآء مآء مبرکاً فانبتنا بہ جنت وحب الحصیدہ والنخل بسقت لھا طلع نضید، رزقا للعباد واحیینا بہ بدرۃ میتا ط کذلک الخروج (ق :11-9)
اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی اتارا پس ہم نے اس سے اگائے باغ اور فصل کے غلے اور دراز قامت کھجور جن پر تہ بہ تہ خوشے نکلتے ہیں۔ بندوں کی روزی کے لئے اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو بھی زندہ کردیا۔ اسی طرح قربوں سے نکلنا ہوگا۔
Ayah 21:31پہاڑوں جیسی عظیم نشانیاں
رواسی عربی میں پہاڑوں کی صفت کے لئے آتا ہے اور یہ صفت ایسی مشہور ہوگئی ہے کہ موصوف کے قائم مقام کی حیثیت سے استعمال ہوتی ہے۔ ان تمیدبھم میں ان سے پہلے کراھیۃ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے مجاج فج کی جمع ہے۔ فج دو پہاڑوں کے درمیان کے شگاف کو کہتے ہیں۔
فرمایا کہ ہم نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے جو اس کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں کہ مبادا وہ ان کی سمیت کسی سمت کو لڑھک کر کسی اور کرہ سے جا ٹکرائے اور یہ اہتمام بھی کیا کہ ان پہاڑوں کے درمیان درے بنا دیئے ہیں کہ وہ لوگوں کے راستہ کا کام دیں کہ وہ ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ اور ایک ملک سے دوسرے ملک کو آجا سکیں۔ اگر خدا نے ایسا نہ کیا ہوتا تو لوگ اپنے اپنے علاقوں ہی کے اندر بند ہو کے رہ جاتے اور کسی کے امکان میں بھی نہ ہوتا کہ وہ ان دیواروں کو توڑ کر سفر اور تجارت کی راہیں کھول سکے۔
لعلھم یھتدون کے اندر یہ مفہوم بھی ہے کہ لوگ ان راستوں سے رہنمائی حاصل کریں اور یہ مفہوم بھی ہے کہ خدا نے اپنی یہ عظیم نشانیاں اس لئے نمایاں فرمائیں کہ ان کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں کھلیں، ان پر پہاڑوں کے خالق کی قدرت، عظمت اور حکمت کی شانیں واضح ہوں اور وہ خدا تک پہنچنے کی راہ پائیں۔ لیکن یہ انسان کا عجب اندھا پن ہے کہ وہ پہاڑ جیسے عظیم نشان سے تو کوئی رہنمائی حاصل نہیں کرتا البتہ یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اگر اس کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ اس کو دکھا دیا جائے تو وہ ہدایت کی راہ اختیار کرلے گا۔ آخر جو پہاڑ کو دیکھنے سے قاصر ہے اس کو تل کس طرح نظر آجائے گا ! سورة ق میں ہے۔
والارض مددنھا والقینا فیھا رواسی وانبتنا فیھا من کل زوج بھیج، تبصرۃ و ذکری لکل عبد منیب (ق 8-7)
اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ لنگر انداز کردیئے اور اس میں نع بنوع کی خوش منظر چیزیں اگائیں۔ ہر متوجہ ہونے والے بندے کے اندر بصیرت اور یاد دہانی پیدا کرنے کے لئے
اس آیت کے آخری الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ ان عظیم نشانیوں کے دکھانے سے قدرت کا اصل منشا یہ ہے کہ لوگوں کے اندر بصیرت پیدا ہو، ان کی آنکھیں کھلیں اور وہ یاد دہانی حاصل کریں۔ لیکن یہ نشانیاں نافع ان کے لئے ہیں جو ان کی طرف متوجہ ہوں۔ جن کے اندر متوجہ ہونے کی صلاحیت نہیں ہے ہو سب کچھ دیکھ کر بھی اندھے کے اندھے ہی رہ جاتے ہیں۔