Ayah 21:92انبیاء کی سرگزشت خلاصہ بحث
تمام انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد اب بطور خلاصہ بحث کے فرمایا کہ ان تمام کی دعوت اور ان کا دین ابتداء سے انتہاء تک ایک ہی ہے اور یہ سب انبیاء ایک ہی ملت و امت ہیں اور میں ہی تمہارا رب ہوں مطلب یہ ہے کہ اگر انبیاء کے درمیان کسی نے تفریق کی ہے، ان کے لائے ہوئے دین میں کسی نے بدعتیں ایجاد کی ہیں اور خدا کی توحید میں کس نے شرک کی ملاوٹ کی ہے تو اس کی ذمہ داری خود اس پر ہے۔ ان نبیوں کا دامن ان چیزوں سے پاک ہے۔
Ayah 21:93خدا کے دین میں تفری پیدا کرنے والوں کو دھمکی
یہ ان لوگوں کو دھمکی ہے جنہوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے اس دین میں بدعتیں پیدا کر کے اس کو پارہ پارہ کیا اور اب ہر گروہ اپنی اپنی ڈگر کی حمایت میں انبیاء کے لائے ہوئے اس مشترک دین کی مخالفت کر رہا ہے جو قرآن اور خدا کے آخری رسول کے ذریعہ سے ان کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ تم ان مخالفت کرنے والوں کی کوئی پروا، نہ کرو ان سب کی وپاسی بہرحال ہماری ہی طرف ہونی ہے کوئی اور مرجع بننے والا نہیں ہے ہم سب کے آگے اس کا کچا چٹھا رکھ دیں گے۔ کسی کی کوئی چیز بھی ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی۔
Ayah 21:94یعنی سب کی واپسی ہماری ہی طرف ہوگی تو جو عمل تو جو عمل صالح کریں گے، شرائط آنکہ وہ ایمان اور توحید پر قائم ہوں، وہ اطمینان رکھیں کہ ان کی سعی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہم ان کو بھرپور صلہ دیں گے۔ ان کی ایک ایک نیکی کو ہم نوٹ کر رکھیں گے۔ اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ ان کا کوئی عمل ہماری یادداشت سے رہ جائے۔ بس یہ شرط ہے کہ وہ ایمان کے ساتھ انجام دیا گیا ہو۔ ہم اس حقیقت کی وضاحت بار بار کرچکے ہیں کہ خدا کے ہاں عمل صرف وہی مقبول ہے جو ایمان کے ساتھ صرف خدائے وحدہ لاشریک لہ کے لئے کیا جائے۔ جو عمل خدا کے لئے نہ کیا جائے اس کی خدا کے ہاں کوڑی کے برابر بھی وقعت نہیں ہے اگرچہ وہ ہجرت و جہاد ہی کیوں نہ ہو۔
Ayah 21:95آگے کا مضمون ……… آیات 112-95
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ انذار کے اسی مضمون کی، جس سے ورہ کا آغاز فرمایا تھا، ایک نئے اسلوب سے آخر میں پھر یاد دہانی فرما دی ہے اور اس خاتمہ کی تمہید بھی بعینہ اسی لفظ سے شروع کی ہے جس لفظ سے سورة کا آغاز ہوا ہے۔ شروع میں فرمایا تھا۔ اقترب للناس حسابھم یہاں جب اسی مضمون کو از سر نو لیا تو فرمایا و اقترب الوعد الحق اس طرح قرآن اپنے نظم کی طرف خود رہنمائی کردیتا ہے۔ اکثر سورتوں میں یہ اسلوب موجود ہے۔ استاذ امام اس اسلوب کو عود علی البدئا سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سورة کے مطالب کے پھیلائو میں اگر اصل مدعا نگاہوں سے اوجھل ہوجاتا ہے تو وہ از سر نو مخاطب کے ذہن میں تازہ ہوجاتا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔
حذف کا ایک اسلوب اور فعل فیصلہ فعل کے مفہوم میں
اس آیت میں عربی کے معروف اسلوب کے مطابق ایک جزو حذف ہے جس کی وضاحت انھم لایرجعون کے جملہ نے کردی ہے۔ پوری بات کو کھول دیجیے تو یوں ہوگی وحرم علی قریۃ اھلکنھا ان یرجعوا انھم لایرجعون اس قسم کے حذف کی متعدد مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں اور اس میں فعل اھلکنا فیصلہ فعل کے مفہوم میں ہے۔ بسا اوقات جب کسی امر کی قطعیت کو ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے تو اس کو اس طرح بیان کرتے ہیں گویا وہ واقع ہوچکا۔ رجوع کے منی یہاں باطل سے حق کی طرف رجوع کرنے کے ہیں۔
اشرار قریش سے اعراض کی ہدایت
اس آیت میں نبی ﷺ کو اشرار قریش کے زیادہ در پے ہونے سے روکا گیا ہے کہ اب یہ لوگ سنت الٰہی کی زد میں آ چکے ہیں۔ جس طرح پچھلی قومیں جو ہلاک ہوئیں، لاکھ جتن کرنے کے باوجود ایمان نہیں لائیں، اسی طرح اب ان لوگوں کے لئے ایمان میں داخل ہونا حرام ہوچکا ہے اور ان کی ہٹ دھرمی کی پاداش میں ان کے لئے عذاب الٰہی مقدر ہوچکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب ان لوگوں کا زیادہ غم نہ کھائو، ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ یہی مضمون اسی سورة کی آیت 6 میں یوں بیان ہوا ہے۔
ما امنت من قبلھم من قریۃ اھلکنھا افھم یومنون
Ayah 21:96حتی اذا فتحت یا جرج وماجوج وھم من کل حدب ینسلون (96)
ان سے پہلے کوئی قوم بھی جو ہلاکت کی زد میں آئی ایمان لانے الی نہ بنی تو کیا ان سے توقع رکھتے ہو کہ یہ ایمان لانے والے بنیں گے !
یاجوج وماجوج کا غلبہ آثار قیامت میں سے ہے
یاجوھ ماجوج پر مفصل بحث سورة کہف کی آیات 99-98 کے تحت گزر چکی ہے۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہور قیامت کے وقت یاجوج، ماجوج ہر طرف سے پل پڑیں گے اور ساری دنیا فساد سے بھرجائے گی۔ اس کی صورت کیا ہوگی ؟ یہ چیز متشابہات میں سے ہے اور متشابہات کی اصل حقیقت صرف اللہ تعالیٰ ہی کے علم میں ہے۔ یہاں مقصود اس کے ذکر سے صرف یہ دکھانا ہے کہ آج جو لوگ قرآن پر ایمان لانے کے لئے مختلف قسم کی نشانیوں اور عذاب کے مشاہدہ کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کے پیچھے اب پیغمبر کو اپنا وقت نہیں ضائع کرنا چاہئے۔ یہ لوگ عقل و فطرت کے ان دلائل سے رام ہونے والے نہیں ہیں جو قرآن ان کے سامنے پیش کر رہا ہے بلکہ یہ اسی وقت ایمان لائیں گے جب قیامت ان کے سر پر آن کھڑی ہوگی اور جس وقت ایمان لانا یا نہ لانا دونوں یکساں ہوگا۔
Ayah 21:97قیامت سر پر کھڑی ہے
یعنی یہ جس وعدہ قیامت کو بہت دور کی بات سمجھ رہے ہیں وہ بہت دور نہیں بلکہ اس کے ظہور کا وقت بہت قریب آچکا ہے۔ سورة معارج میں فرمایا ہے انھم یرونہ بعیداً ونرئہ قریباً (وہ اس کو بہت دور خیال کر رہے ہیں لیکن ہم اس کو بہت قریب دیکھ رہے ہیں) انسان ہر چیز کو اپنے چھوٹے پیمانوں سے ناپتا ہے اس وجہ سے اسے قیامت بہت دور معلوم ہوتی ہے۔ حالانکہ خدائی دنوں کے اعتبار سے وہ بالکل سر پر کھڑی ہے۔ یہی مضمون اس سورة کی پہلی آیت میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے اس کے بعض دوسرے پہلو بھی واضح کئے ہیں ان پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
فاذا ہی شاخصۃ ابصار الذین کفروا یعنی وہ اچانک آدھمکے گی اور اس کا منظر ایسا ہولناک ہوگا کہ آج جو لوگ بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اس کا مطلابہ کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں ان کی آنکھیں ٹنگی رہ جائیں گی۔ یہ خوف اور دہشت زدگی کی تصویر ہے۔ انسان جب کوئی ہولناک چیز اچانک دیکھتا ہے تو ہکا بکا ہو کر اس کو دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔
قیامت کے معاملہ میں اصل حجاب
یویلنا قدکنا فی غفلۃ من ھذا بل کنا ظلمین یہ اس وقت کی ان کی زبان حال کی تعبیر ہے اس وجہ سے یہاں قالوکا حذف کردیا۔ فرمایا کہ وہ اس وقت خود بول اٹھیں گے کہ بیشک ہم خود ایک شدنی حقیت سے غفلت میں پڑے رہے۔ بل کنا ظلمین یعنی یہ بات بھی نہیں ہے کہ ہم کو کوئی اس غفلت سے بیدار کرنے والا نہ آیا ہو۔ اللہ نے بیدار کرنے والے بھی بھیجے جنہوں نے ہمیں جگانے کے لئے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کردیا لیکن ہم خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے کہ ان کی تنبیہات کا مذاق اڑاتے رہے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ قیامت کے معاملہ میں اصل حجاب یہ نہیں ہے کہ اس کی کوئی مسکت دلیل نہیں ہے بلکہ اصلی حجاب انسان کی غفلت ہے۔ وہ ایک حقیقت کو، اس کے دلائل کی وضاحت کے باوجود، ماننا نہیں چاہتا ہے اس لئے کہ اس کو ماننا اس کی خاہشوں کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں واحد چیز جو اس کو سہارا دیتی ہے وہ اس کی غفلت ہے۔ وہ غفلت میں پڑا ہوا اس کے لئے کسی اہتمام کو برابر ٹالتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک دن وہ اس کے سر پر آدھمکے گی۔
Ayah 21:98اصنام اور ان کے پجاری دونوں جہنم میں
یعنی اس وقت ان کا یہ اعتراف ان کے لئے کچھ کار آمد نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوگا کہ تم اور تمہارے یہ تمام اصنام و احجار جن کو تم معبود بنا کے پوجتے رہے ہو سب جہنم کا ایندھن بنو گے۔ انتم لھا واردون یعنی اب رئود یا فریاد کرو، تمہیں بہرحال ہلاکت کے اس گھاٹ پر اترنا ہے۔ اب اس سے مضر نہیں ہے۔
وماتعبدون میں ما اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں اس سے مراد وہ اصنام و احجار ہیں جن کی مشرکین عرب پرستش کرتے تھے۔ ما کا استعمال بےجان چیزوں ہی کے لئے معروف ہے۔ ان کو جہنم کا ایندھن بنان ی سے مقصود ظاہر ہے کہ ان پتھروں کو سزا دینا نہیں بلکہ ان کے پجاریوں کو یہ دکھانا ہے کہ جن کو معبود سمجھ کر ان کے آگے وہ ڈنڈوت کرتے رہے ہیں ان کی یہاں کیا گت بن رہی ہے۔ مشرکین عرب جن فرشتوں یا جنوں کی پوجا کرتے تھے مثلاً لات، عزیٰ ، منات اور ہبل وغیرہ دل تو یہ ان کے اپنے رکھے ہوئے فرضی نام تھے جن کا کوئی مسمی سرے سے موجود ہی نہیں تھا پھر ان کی پوجا بھی وہ پتھروں کی مورقوں ہی کی شکل میں کرتے تھے۔ بعض مشرک قومیں جو انبیاء اور صالحین کی پرستش کرتی ہیں ان کا انجام یہاں زیر بحث بنیں ہے۔ ان کے معاملات کی تفصیل قرآن کے دوسرے مقامات میں آئی ہے۔ مثلاً عیسائی حضرت مسیح ؑ اور حضرت مریم کی پرستش کرتے ہیں۔ ان کے خلاف سیدنا مسیح قیامت کے دن جو گواہی دیں گے اس کی تفصیل سورة مائدہ میں گزر چکی ہے۔ اسی طرح دوسرے انبیاء و صالحین بھی قیامت کے دن اپنے پجاریوں سے اعلان برأت کردیں گے کہ ہمیں کیا خبر کہ تم ہماری پوجا کرتے رہے ہو ! اگر تم نے یہ حماقت کی ہے تو اب اس کی سزا بھگتو ! ہم نے تم سے کب کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کرو۔
Ayah 21:99اصنام کو جہنم میں ڈالنے کا مقصد
یہ وہ اصل مقصد ہے جس کے لئے یہ اصنام و احجار جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ ان کو جہنم میں ڈالنے سے اصل مقصود ان کے پوجنے والوں کو یہ دکھانا ہے کہ اگر یہ معبود ہوتے تو ان کی یہ درگت نہ بنتی ! یہ ان کی تذلیل کی آخری حد ہوگی کہ جو ان کی تمام امیدوں کا آخری مرجع تھے ان کو وہ اپنی ہی طرح بےبس و مجبور اور گرفتار عذاب پائیں گے۔ وکل فیھا خلدون یعنی یہ عابد و معبود سب ہمیشہ ہمیش کے لئے اسی جہنم میں اکٹھے رہیں گے۔ قرینہ دلیل ہے کہ اس بات کا پہلا ٹکڑا تو ان کو مخاطب کر کے کہا جائے گا اور دوسرا ٹکڑا ان کے اس انجام ابدی کا اعلان ہے۔
Ayah 21:100اگر التباس نہ ہو تو انتشار ضمیر عیب نہی، بلکہ ایجاز ہے
زفیر کے معنی آہ فریاد اور چیخنے چلانے کے ہیں اور ضمیر ھم پہلے جملے میں میرے نزدیک پجاریوں کے لئے ہے اور دوسرے جملے میں ان کے اصنام و احجار کے لئے۔ اگرچہ اس صورت میں بظاہر انتشار ضمیر ہے لیکن انتشار ضمیر، جیسا کہ ہم جگہ جگہ مثالوں کی روشنی میں واضح کرچکے ہیں، عیب صرف اس صورت میں ہے جب مرجع میں التباس کا اندیشہ ہو۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہو، مرجع کے تعین کے لئے واضح قرینہ موجود ہے، تو یہ عیب نہیں بلکہ ایجاز کے پہلو سے یہ کلام کا حسن ہے۔ یہاں التباس کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ پجاری تو جہنم میں چیختے چلاتے اور آہ و فریاد کرتے ہوں گے اور ان ٹھیس پتھروں کو، جن کو انہوں نے معبود بنا کر پوجا، خبر بھی نہ ہوگی کہ کوئی آہ و فریاد کر رہا ہے اور ان سے مدد کا طالب ہے۔ یہ مضمون قرآن میں دور سے مقامات میں بھی مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے کہ جہنمی مدد کے لئے فریاد کریں گے لیکن کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ ممکن ہے کسی کو یہ شبہ ہو کہ دوسرے ٹکڑے میں ضمیر اور فعل دونوں وہ استعمال ہوئے ہیں جو ذی عقل ہستیوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں تو ان کا استعمال اصنام و اجھار کے لئے کس طرح موزوں ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ضمیر اور فعل پجاریوں کے تصور کے اعتبار سے استعمال ہوئے ہیں۔ ان پتھروں کو وہ چونکہ اپنا فریاد رس اور معبود خیال کرتے تھے اس وجہ سے یہ اسلوب بیان اختیار فرمایا گیا۔ اس کی مثالیں کلام عرب اور قرآن مجید میں بہت ہیں۔
Ayah 21:101اچھے انجام والوں کے لئے بشارت
حسنیٰ کا موصوف یہاں محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کے لئے اچھے انجام کا وعدہ وہماری طرف سے پہلے سے ہوچکا ہے وہ لوگ البتہ اس جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔ اس اچھے انجام کا وعدہ آیت 94 میں گزر چکا ہے۔ وہاں فرمایا ہے کہ جو لوگ ایمان پر قائم رہتے ہوئے عمل صالح کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی مساعی کی ناقدری نہیں کرے گا بلکہ انکے ایک ایک عمل کو وہ نوٹ کئے ہوئے ہے اور ان کے ہر عمل کا ان کو بھرپور صلہ ملنے والا ہے۔
Ayah 21:102ایک غلط خیال کی تردید
یعنی وہ اس جہنم سے اتنے دور رکھے جائیں گے کہ ان کو اس کی آہٹ بھی سنائی نہیں دے گی۔ اس آیت سے ان لوگوں کے خیال کی نہایت واضح الفاظ میں تردید ہو رہی ہے جو سورة مریم کی آیت 61 و ان منکو الا واردھا کے خطاب کو صحیح طور پر معین نہ کرنے کے سبب سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے کہ اعلیاذ باللہ ایک مرتبہ تمام اہل ایمان کو بھی جہنم سے گزرنا پڑے گا۔ ہم نے سورة مریم کی آیت مذکورہ کے خطاب کو متعین کردیا ہے اور آیت زیر بحث کی روشنی میں مفسرین کے اس عام خیال کی تردید کر کے دونوں آیتوں کی باہمی موافقفت واضح کردی ہے۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
جنت کے اندر تنوع کی آزادی
وھم فی ما اشتھت انفسھم خلدون عیش، جنت ہی کا عیش سہی، اگر انسان کو اس کے اندر اپنے حسب منشا تغیر و تبدل کی آزادی حاصل نہ ہو تو اس کی یکسانی اس کو افسردہ کر دے گی اور وہ اس سے اکتا کر جی بہلانے کے لئے کسی دوسرے ماحول کا طالب ہوگا۔ انسان ایک ذی ارادہ و اختیار ہستی ہے اس وجہ سے بڑے سے بڑے عیش کو بھی وہ اپنی ہی شرائط پر پسند کرتا ہے۔ اس کی فطرت کے اس تقاضے کی رعایت سے اللہ تعالیٰ نے اپنے باایمان بندوں کے لئے جنت بھی ایسی بنائی ہے جس میں وہ اپنی پسند کے مطابق جس طرح کا تنوع چاہیں گے پیدا کرلیں گے۔ ان کی کسی خواہش میں کوئی ادنیٰ رکاوٹ بھی حائل نہیں کی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ یہ عیش دوام اور اس کے اندر حسب منشا تنوع اور رنگا رنگی پیدا کرنے کی یہ آزادی اس دنیا میں ہفت اقلیم کے کسی شاہنشاہ کو بھی نہ حاصل ہوئی، نہ حاصل ہو سکتی۔ اسی حقیقت کو دوسرے مقام میں یوں واضح فرمایا ہے کہ لایبغون عنھ حولاً اہل جنت اپنی جنت سے ٹلنے کا نام بھی نہیں لیں گے۔
Ayah 21:103ابدی بادشاہی کی بشارت
فزع اکبر سے مراد وہ عظیم ہلچل اور گھبراہٹ ہے جو نفخ صدور کے بعد تمامک ائنات میں برپا ہوگی اور جس کی ہولناک تصویر قرآن نے جگہ جگہ کھینچی ہے۔ خصوصاً آخری گروپ کی سورتوں میں تو قرآن کے اعجاز بیان نے اس طرح اس کو مصور کردیا ہے کہ انسان دیدہ بنیا رکھتا ہو تو اس کو آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے۔ اوپر آیت 97 اسی کی طرف فاذا ھی شاخمۃ ابصار الذین کفروا کے الفاظ سے اشارہ کر رہی ہے۔ فرمایا کہ یہ عظیم ہلچل کا دن ہمارے باایمان بندوں کے لئے ذرا بھی اضطراب کا باعث نہیں بنے گا بلکہ اس دن ہمارے رفشیت اہلاً و سہلاً اور مرحبا کے نعروں سے ان کا استقبال کریں گے اور ان کو بشارت دیں گے کہ ابدی کا مرانیوں کے جس مبارک دن کا، نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے آپ لوگوں سے وعدہ کیا گیا تھا وہ آگیا۔ اب آپ لوگوں کو ابدی بادشاہی مبارک ہو ! !
Ayah 21:104سجل اور کتب کا مفہوم
سجل اس دفتر یا طومار یا فائل کو کہتے ہیں جس میں لکھے ہوئے اوراق کر لئے جاتے ہیں۔ کتب یہاں اوراق نوشتہ کے معنی میں ہے۔ اول خلق ظرف کے محل میں ہے۔ اسی مضمون کو ادا کرنے کے لئے قرآن میں بعض جگہ اول مرۃ کا لفظ بھی آیا ہے۔
نئے آسمان اور نئی زمین
مطلب یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس دن ہوگا جس دن ہم اس پھیلے ہوئے آسمان کی بساط اس طرح لپیٹ کر رکھ دیں گے جس طرح طومار میں کاغذات لپیٹ کر رکھ دیئے جاتے ہیں اور جس طرح ہم نے پہلی بار آسمان و زمین پیدا کئے اسی طرح ان کی جگہ نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ نئے آسمان و زمین پیدا کریں گے۔ وعد اعلینا میں مصدر تاکید کے لئے ہے۔ یعنی یہ ہمارے ذمہ ایک حتمی وعدہ ہے۔ ہم نے اپنے نیک بندوں سے، جیسا کہ اوپر والی آیت کے الفاظ کنتم توعدون میں اشارہ ہے۔ اس کا قطعی وعدہ کر رکھا ہے جس کا ایفا ہماری ذمہ داری ہے۔ انا کنا فعلین یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ محض ہوائی باتیں ہیں جو ہم کر نہیں سکیں گے یا نہیں کریں گے۔ یہ ہم ضرور کریں گے، اس کا ہم نے پہلے سے فیصلہ کر رکھا ہے اور یہ ہمارے لئے ایک نہایت آسان بات ہے۔
Ayah 21:105زمین کے وارث صالحین ہوا، گے
اس آیت میں زبور کا حوالہ ہے۔ زبور میں یہ بات یوں تو جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ زمین کے وارث خدا کے نیک بندے ہی ہوں گے لیکن باب 37 تو پورے کا پورا گویا صرف اسی ایک حقیقت کی وضاحت کے لئے مخصوص ہے اس وجہ سے ہم یہ پورا باب یہاں نقل کرتے ہیں تاکہ قرآن کے حوالہ کی صحت و صداقت بھی واضح ہوجائے، یہ بھی معلوم ہوجائے کہ زمین کی وراثت سے یہاں کس زمین کی وراثت مراد ہے، نیز من بعد الذکر کا صحیح مفہوم بھی متعین ہو سکے کہ ذکر سے یہاں کس چیز کی طرف اشارہ ہے۔ پہلے ہم زبور سے حضرت دائود کا مزمور نقل کرتے ہیں، اس کے بعد اس کی ان باتوں کی طرف اشارہ کریں گے جو آیت زیر بحث کی وضاحت کے لئے خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔
”تو بدکرداروں کے سبب سے بیزار نہ ہو
اور بدی کرنے والوں پر رشک نہ کر
کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد کاٹ ڈالے جائیں گے
اور سبزہ کی طرح مر جھا جائیں گے۔
خدا وند پر توکل کر اور نیکی کر۔
ملک میں آباددرہ اور اس کی وفاداری سے پرورش پا۔
خداوند میں مسرور رہ
اور وہ تیرے دل کی مرادیں پوری کرے گا۔
اپنی راہ خداوند پر چھوڑ دے
اور اس پر توکل کر۔ وہی سب کچھ کرے گا۔
وہ تیری راست بازی کو نور کی طرح
اور تیرے حق کو دوپہر کی طرح روشن کرے گا۔
خداوند میں مطمئن رہ اور صبر سے اس کی آس رکھ
اس آدمی کے سبب سے جو اپنی راہ میں کامیاب ہوتا
اور برے منصوبوں کو انجام دیتا ہے بیزار نہ ہو۔
قہر سے باز آ اور غضب کو چھوڑ دے۔
بیزار نہ ہو۔ اس سے برائی ہی نکلتی ہے۔
کیوں کہ بدکردار کاٹ ڈالے جائیں گے
لیکن جن کو خداوند کی آس ہے ملک کے وارث ہوں گے
کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہوجائے گا۔
تو اس کی جگہ کو غور سے دیکھے گا پر وہ نہ ہو گ۔
لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے۔
اور سلامتی کی فراوانی سے شادیاں رہیں گے۔
شریر راست باز کے خلاف بندشیں باندھتا ہے
اور اس پر دانت پیستا ہے۔
خداوند اس پر ہنسے گا
کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس کا دن آتا ہے۔
شریروں نے تلوار نکالی اور کمان کھینچی ہے
تاکہ غریب اور محتاج کو گرا دیں۔
اور راست رو کر قتل کریں۔
ان کی تلوار ان ہی کے دل کو چھیدے گی
اور ان کی کمانیں توڑی جائیں گی۔
صادق کا تھوڑا سامان
بہت سے شریروں کی دولت سے بہتر ہے
کیونکہ شریروں کے بازو توڑے جائیں گے
لیکن خداوند صادقوں کو سنبھالتا ہے
کامل لوگوں کے ایام کو خدا جانتا ہے
ان کی میراث ہمیشہ کے لئے ہوگی۔
وہ آفت کے وقت شرمندہ نہ ہوں گے
اور کال کے دنوں میں آسودہ رہیں گے
لیکن شریر ہلاک ہوں گے
خداوند کے دشمن چراگاہوں کی سرسبزی کی مانند ہوں گے۔
وہ فنا ہوجائیں گے۔ وہ دھوئیں کی طرح جاتے رہیں گے۔
شریر قرض لیتا ہے اور ادا نہیں کرتا۔
لیکن صادق رجم کرتا ہے اور دیتا ہے۔
کیونکہ جن کو وہ برکت دیتا ہے وہ زمین کے وارث ہوں گے
اور جن پر وہ لعنت کرتا ہے وہ کاٹ ڈالے جائیں گے
انسان کی روشیں خداوند کریم کی طرف سے قائم ہیں
اور وہ اس کی راہ سے خوش ہے
اگر وہ گر بھی جائے تو پڑا نہ رہے گا
کیونکہ خداوند اسے اپنے ہاتھ سے سنبھالتا ہے۔
میں جان تھا اور اب بوڑھا ہوں
تو بھی میں نے صادق کو بےکس
اور اس کی اولاد کو ٹکڑے مانگتے نہیں دیکھا۔
وہ دن بھر رحم کرتا ہے اور قرض دیتا ہے
اور اس کی اولاد کو برکت ملتی ہے
بدی کو چھوڑ دے اور نیکی کر
اور ہمیشہ تک آبادرہ
کیونکہ خداوند انصاف کو پسند کرتا ہے
اور اپنے مقدسوں کو ترک نہیں کرتا
وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں
پر شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی
صادق زمین کے وارث ہوں گے
اور اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے
صادق کے منہ سے دانائی نکلتی ہے
اور اس کی زبان سے انصاف کی باتیں
اس کے خدا کی شریعت اس کے دل میں ہے
وہ اپنی روش میں پھسلے گا نہیں
شریر صادق کی تاک میں رہتا ہے
اور اسے قتل کرنا چاہتا ہے۔
خداوند اسے اس کے ہاتھ میں نہیں چھوڑے گا
اور جب اس کی عدالت ہو تو اسے مجرم نہ ٹھہرائے گا
خداوند کی آس رکھ اور اسی کی راہ پر چلتا رہ
اور وہ تجھے سرفراز کر کے زمین کا وارث بنائے گا۔“
اس مزمور کے بعض نمایاں پہلو
ہمارے نزدیک زبور کے اسی مزمور کا قرآن نے یہاں حوالہ دیا ہے۔ اس مزمور پر غور کیجیے تو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ اس کی نوعیت ایک ترکیب بند کی ہے جس میں پہلے موعظت و نصیحت کی باتیں آتی ہیں پھر باربار ایک ترجیح یا ٹپ کے بند کی طرح یہ بات آتی ہے کہ زمنر اور ملک کے وارث خدا کے نیک اور متقی بندے ہوں گے، یہ اسلوب کلام قرآن کی سورة رحمٰن کے اسلوب سے مشابہ ہے جس میں فبای الآء ربکما تکذبن کی ترجیح ہے۔ خط کشیدہ فقروں پر نگاہ ڈالیے تو یہ بات بھی معلوم ہوگی کہ یہاں صالحین و متقین کے لئے زمین کی جس وراثت کا ذکر ہے اس کے ساتھ یہ بشارت بھی ہے کہ یہ وراثت ابدی ہوگی۔ مثلاً فرمایا ہے ”ان کی میراث ہمیشہ کے لئے ہوگی ‘ دوسری جگہ ہے ”اور ہمیشہ تک آباد رہ“ تیسری جگہ ہے ”وہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہیں“ چوتھی جگہ نہایت واضح الفاظ میں ہے ”اور صادق زمین کے وارث ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ بسے رہیں گے۔“ 1 ظاہر ہے کہ یہ ابدی وراثت کی بشارت اس زمین سے متعلق نہیں ہے جس پر ہم اور آپ آباد ہیں۔ اس کی نہ تو کوئی چیز ابدی ہے اور نہ اس کی وراثت صالحین و متقین کے لئے مخصوص ہے بلکہ یہ زمین اور اس کی ہر چیز فانی ہے اور اس میں نیکوں اور بدوں دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک مدت تک کے لئے یکساں مہلت بخشی ہے جس کے بعد یہ آسمان و زمین دونوں فنا ہوجائیں گے اور نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ ایک جہان نو پیدا ہوگا جس کی ابدی وراثت صالحین و متقین کو حاصل ہوگی اور اہل باطل جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔
جہاں نو کی وراثت صرف صالحین و حاصل ہو گی
بعینیہ یہی بات قرآن سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ اوپر کی آیت 104 میں صاف تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک دن اس آسمان کی بساط لپیٹ کر رکھ دے گا۔ سورة ابراہیم آیتط 48 میں آسمان و زمین دونوں سے متعلق یہ تصریح ہے کہ یوم تبدل الارض غیر الارض و السموت (اس دن کو نگاہ میں رکھو جس دن زمین دوسری زمین سے اور آسمان دوسرے آسمان سے بدل دیئے جائیں گے) اس بدلے ہوئے آسمان و زمین کے اندر بلاشبہ یہ قانون ہوگا کہ ان کی ابدی وراثت و بادشاہی صرف صالحین کو حاصل ہوگی۔ نافرمانوں کے لئے اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ یہ بات صرف زبور اور قرآن ہی سے نہیں بلکہ تمام آسمانی صحیفوں اور تمام نبیوں اور رسولوں کی تعلیم سے ثابت ہے۔
اسی حقیقت کو قرآن نے آیت زیر بحث میں زبور کے حوالہ سے واضح فرمایا ہے۔ زبور حضرت دائود ؑ پر اترے ہوئے نغمات الٰہی کا مجموعہ ہے۔ حضرت دائود، جیسا کہ اسی سورة میں بیان ہوا ہے، نبی بھی تھے اور اس زمین کے ایک جلیل القادر بادشاہ بھی۔ ایک بادشاہ کی زبان ہی سے یہ اعلان سب سے زیادہ موزوں ہوسکتا تھا کہ زمین کے حقیقی اور آخری وارث صرف اللہ کے نیک بندے ہی ہوں گے۔ جب ایک صاحب جبروت بادشاہ اس حقیقت کی منادی کر گیا ہے تو کسی دوسرے کے لئے اس میں مجال سخن کہاں باقی رہی۔“
آیت کے اجزاء پر ایک نظر
اس وضاحت کے بعد اب آیت زیر بحث کے اجزاء پر غور کیجیے۔
ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر اوپر زبور کے باب 37 کے حوالہ سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ قرآن نے یہاں زبور کی جس تعلیم کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اس کے ایک مستقل باب میں نہایت تفصیل کے ساتھ، نہایت مئوثر انداز میں بیان ہوئی ہے اور یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ اسلوب بیان یہ اختیار فرمایا گیا ہے کہ اصل بات ترجیح و تکرار کے ساتھ اس طرح کہی گئی ہے کہ ہر بار اصل بات سے پہلے حکمت و موعظت
1۔ ملاحظہ ہوں مزمور کے اندر خط کشیدہ فقرے
کی نہایت اعلیٰ باتوں کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اسی چیز کی طرف قرآن نے من بعد الذکر کے ا لفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اس اشارے کی اہمیت یہ ہے کہ درحقیقت یہی نصیحتیں ہیں جن پر عمل زمین کی ابدی بادشاہی کا ضامن ہے۔
ان الارض یرثھا عبادی الصلحون یہ وہ اصل بات ہے جس کے لئے قرآن نے زبور کا حالہ دیا ہے۔ زبور کے حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ یہاں زمین سے مراد اس جہاں نو کی زمین ہے جو قیامت کے بعد وجود میں آئے گی اور جس کے مالک و وارث بلا شرکت غیرے صرف اللہ کے نیکو کاربندے ہوں گے۔
Ayah 21:106لفظ بلاغ یہاں منادی عام اور بشارت عام دونوں کے مضمون کا حامل ہے اور لفظ کی تنکیر تضخیم شان کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کا یہ فصلہ کہ زمین کے وارث صرف خدا کے نیکو کاربندے ہی ہوں گے اس کے عبادت گزار بندوں کے لئے ایک عظیم اعلان بشارت ہے تو جس کو بازی کھیلنی ہو اس کے لئے بازی کھیلے، اس حیات چند روزہ کے پیچھے اپنی ابدی بادشاہی کو کیوں ضائع کرے !
Ayah 21:107یعنی اسی انذار و بشارت کے لئے ہم نے تمہیں لوگوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے کہ ان کو اس حقیقت سے آگاہ کر دو۔ تمہارے اوپر ذمہ داری صرف بلاغ اور منادی کی ہے، تم یہ فرض ادا کر دو۔ اگر مغرور سرکش لوگ تمہارے انذار کا مذاق اڑاتے اور اس وقت موعود کے دکھا دینے کا مطالبہ رتے ہیں تو تم ان سے کہہ دو کہ مجھے خدا نے رحمت بنا کر بھیجا ہے، عذاب بنا کر نہیں بھیجا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ عذاب کب آئے گا۔ اس کے وقت کا علم صرف میرے رب ہی کو ہے۔
Ayah 21:108تم ان کو خبردار کر دو کہ مجھ پر جو وحی آئی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، کوئی اور اس کا شریک وسہیم نہیں ہے تو کسی اور کے اعتماد پر اپنی عاقبت برباد نہ کرو۔ کوئی دوسرا تمہیں خدا کی پکڑ سے نہ بچا سکے گا۔
فھل انتم مسلمون میں نہایت زور دار تنبیہ ہے کہ بتائو تم اپنے آپ کو اسی ایک قادر و قویم کے حوالہ کرنے کے لئے تیار ہو یا نہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ میرا جو فرض تھا وہ میں نے ادا کردیا، اب ذمہ داری تمہاری ہے۔ اگر تم اپنی اسی ضد پر اڑے رہے اور اپنے شرکاء و شفعاء کے بل پر میری بات کا مذاق اڑاتے رہے تو میں بری الذمہ ہوا۔ اب نتائج کی ذمہ داری تمہارے اوپر ہے۔“
Ayah 21:109فیصلہ کن تنبیہ
یعنی اگر یہ تمہاری اس فیصلہ کن تنبیہ کے بعد بھی اپنی اسی اعراض کی روش پر جمے رہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں نے تمہارے بڑے اور چھوٹے، لیڈر اور پیرو، امیر اور غریب سکو بلا فرق وتمیز آنے والے خطرے سے آگاہ کردیا۔ اب تم میں سے کوئی یہ عذر نہیں کرسکتا کہ اس کو خبردار نہیں کیا گیا۔ اس کا صحیح علم صرف اس خدا کو ہی ہے جس کے حکم سے میں تمہیں آگاہ کر رہا ہوں۔
Ayah 21:110انہ یعلم الجھرمن القول ویعلم ماتکتمون 110
تفویض الی اللہ
یہ نہایت جامع اور بلیغ کلمہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا تمہاری کھلی باتوں کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ تم اپنے پیٹوں میں چھپائے ہوئے ہو اس کو بھی جانتا ہے تو معاملہ اسی کے حوالہ ہے جو اس کی حکمت کا تقاضا ہوگا وہ وہی کرے گا۔ وہ جانتا ہے کہ تم مجھ سے کیا مطالبہ کر رہے ہو اور تمہارے اس مطالبے کی تہہ میں کیا چیز چھپی ہوئی ہے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ جو لوگ نبی ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے وہ اس وجہ سے نہیں کر رہے تھے کہ فی الواقع وہ عذاب قیامت کو ناممکن یا پیغمبر ﷺ کو جھوٹا سمجھتے تھے بلکہ وہ محض آپ کو زچ کرنے اور پانے عوام کو دھوکا دینے کے لئے ایسا کرتے تھے۔ اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ نہ سمجھو کہ خدا تمہارے دلوں کے بھید سے بیخبر ہے۔ اس پر سب کچھ واضح ہے اس وجہ سے مجھے تمہارے اس مطالبے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے اس کے علم اور اس کی حکمت پر پورا اعتماد ہے۔
Ayah 21:111لعلہ میں ضمیر کا مرجع وہ تاخیر وعدہ ہے جس کا اشارہ اوپر والی آیت میں ہے۔ یعنی یہ عذاب کا وعدہ جو مئوخر ہو رہا ہے تو میں نہیں کہہ سکتا کہ اس تاخیر میں کیا بھید ہے۔ اس بھید کو خدا ہی جانتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ تمہارے لئے ایک آزمائش ہو کہ خدا کی حجت تم پر اچھی طرح تمام اور تمہارا پیمانہ خوب بھر جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ابھی کچھ اور کھانے بلسنے کی مہلت دینا چاہتا ہ۔ بہرحال جو سبب بھی ہو اس مہلت پر مغرور ہونے کے بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو۔ اگر پہلی صورت ہے تو توبہ کے لئے جلدی کرو اور اگر دوسری صورت ہے تو شکر کی روش اختیار کرو۔
Ayah 21:112دعا اور وداع
یہ پیغمبر ﷺ کی دعا بھی ہے اور مخالفین کو داع بھی۔
اللہ تعالیٰ سے آپ نے یہ دعا فرمائی کہ اے رب اب اس کشمکش کا تو حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور مخالفین کو آپ نے اس طرح وداع کیا کہ تم جو کچھ کہتے اور کرتے ہو میں اس کے مقابل میں اپنے رب رحمان ہی سے مدد کا طالب ہوں اس لئے مستعان حقیقی وہی ہے۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ فالحمد للہ علی ذلک