Ayah 22:1یایھا الناس کا خطاب اگرچہ عام ہے لیکن مراد اس سے وہی متمر دین قریش ہیں جو قیامت کی تکذیب کر رہے تھے اور عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے تھے۔ فرمایا کہ اپنے رب سے ڈرو، اس نے اپنی عنایت سے جو مہلت دے رکھی ہے اس کو غنیمت جانو اور اس سے فائدہ اٹھائو۔ وہ اپنی رحمت ورافت کے سبب سے و یرگیر ضرورے لیکن بڑا ہی سخت گیر بھی ہے۔ قیامت کو سہن چی نہ سمجھو کہ اس ڈھٹائی کے ساتھ اس کا مطالبہ کر رہے ہو۔ اس کی ہلچل بڑی ہی ہولناک ہوگی۔ وہ پناہ مانگنے کی چیز ہے۔ مطالبہ کرین کی چیز نہیں ہے !
Ayah 22:2قیامت کی ہولناکی کی تصویر
یہ اس دن کی ہولناکی کی تصویر ہے کہ وہ دن ایسی نفسی نفسی کا ہوگا کہ کسی کے اعوان و انصارا اور اس کے اخوان و اقرباء اس کے ذرا کام نہ آئیں گے۔ اس دن مرضعہ جس کو اپنا بچہ جان سے زیادہ عیز ہوتا ہے، اپنے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ دہشت کے سبب سے اپنا حمل ڈال دے گی۔ لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ بالکل مدہوش اور متوالے ہو رہے ہوں گے۔ لیکن یہ مدہشوی شراب کے نشہ کی نہیں ہوگی بلکہ عذاب الٰہی کی ہولناکی سب کو پاگل بنا کے کھ دے گی !
آیت میں ایک ہی ساتھ مخاطب کے لئے جمع اور واحد دونوں کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ جمع کے لئے جب واحد کا صیغہ استعمال ہوتا ہے تو مخاطب گروہ کا ایک ایک شخص فرداً فرداً مراد ہوتا ہے اور اس میں جمع کے بالمقابل زیادہ زور ہوتا ہے۔
Ayah 22:3ایک خاص اسلوب بیان
ومن الناس من کے اسلوب بیان میں جب کوئی بات کہی جاتی ہے تو اس سے مقصود عام میں سے خاص کا ذکر ہوتا ہے۔ اگر موقع و محل تحسین کا ہو تو یہ اسلوب تحسین کے لئے بھی آتا ہے اور اگر موقع و محل تفبیح کا ہو، جیسا کہ یہاں ہے تو اس سے تقبیح کی شدت نمایاں ہوگی۔ اگر اس اسلوب کو اپنی زبان میں ادا کرنا چاہیں گے تو کہیں گے کہ لوگوں میں ایسے جاہل، احمق اور بدھو بھی ہیں جو یوں کہتے یا یوں کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر اس گروہ کا ذکر ہے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت، خاص طور پر توحید کی مخالفت میں، ہر وقت مناظرہ و مجادلہ کے لئے آستینیں چڑھائے رہتا تھا۔ اس طرح کے لوگ کسی معاشرہ میں بھی تعداد میں بہت زیادہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا ایک خاص طائفہ ہی ہوتا ہے۔ ان کا علم بھی بس سنی سنائی اور ٹی رٹائی باتوں پر مبنی ہوتا ہے لیکن زبان درازی میں طاق اور لاف زنی میں مشاق ہوتے ہیں اس وجہ سے شاطر لوگوں کے ایجنٹ بن کر بےچارے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کی خدمت خوب انجام دیتے ہیں۔
مجادلہ بغیر علم کے
یجادل فی اللہ بغیر علم فی اللہ سے مراد فی توحید اللہ ہے اس لئے کہ کفار عرب خدا کے منکر نہیں تھے۔ وہ صرف خدا کی توحید کے منکر تھے اور توحید کے انکار کے لئے ان کے پاس دین آباد کی اندھی تقلید کے سوا کوئی دلیل نہیں تھی۔ آگے آیت 8 میں وضاحت آئے گی کسان کے پاس اللہ کے دین کا کوئی علم تھا، نہ عقل و فطرت کی کوئی ہدایت نہ کوئی قرآن و کتاب، بس یونہی، بغیر کسی دلیل اور علم کے، خدا کی توحید کے بارے میں مناظرہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ پیشہ ور مناظروں کے پاس زبان درازی کے سوا اور کوئی علم نہیں ہوتا۔ یہ صرف اپنے فعال و مفصل لیڈروں سے الہام حاصل کرتے ہیں اور گلی گلی میں ان کا ڈھول پیٹتے پھرتے ہیں۔
شیطان سے مراد شیاطین جن و انس، دونوں ہیں
ویتبع کل شیطن مرید شیطان سے مراد شیاطین جن و انس دونوں ہیں۔ لفظ کل اس مفہوم کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ شیاطین جن اور شیاطین انس دونوں میں بڑا گہرا گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ شیاطین جن، شیاطین انس ہی کو اپنی فتنہ انگیزیوں کا ذریعہ بناتے ہیں۔ شیاطین جن القا کرتے ہیں اور شیاطین انس ان کے القاء کو مختلف ناموں سے ایک فلسفہ بناتے اور پھر اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لئے اس کو تمام ذرائع سے پھیلاتے ہیں۔ قرآن نے اس طرح کے تمام ائمہ ضلالت کے لئے شیطان ہی کا لفظ استعمال کیا ہے۔
مرید کے معنی
مرید کے معنی شریر و خبیث اور متعری عن الخیر یعنی لاخیرے کے ہیں۔
شیطین خواہ شیاطین جن ہوں یا شیاطین انس، ظاہر تو ہوتے ہیں ہمیشہ خیر خواہ، ناصح، ہمدرد اور بہی خواہ قوم و وطن کے بھیس میں لیکن درحقیقت وہ نہایت ہی خبیث و شریر اور بالکل لاخیرے ہوتے ہیں۔ وہ خدا کے بندوں کو خدا کی راہ سے ہٹا کر اپنی ڈگر پر ڈال دیتے ہیں اور جو لوگ ان کے نقیب و پائوش بن کر ان کے فتنوں کے پھیلانے میں ان کے آلہ کار بن جاتے ہیں ان کو اپنے سمیت جہنم کا فرزند بنا دیتے ہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ خدا کی توحید کے بارے میں ہمارے پیغمبر سے مباحثے اور مناظرے کر رہے ہیں وہ ایسے ہی خبیث اور لاخیرے شیطانوں کے پیرو ہیں۔
قیامت کے ذکر کے ساتھ توحید کے ذکر کی حکمت
قیامت کے ذکر کے ساتھ یہ معاً توحید کا ذکر اس لئے ہے کہ درحقیقت قیامت کی ساری اہمیت توحید کے ساتھ ہی ہے۔ اگر خدا کے ساتھ اس کے شرکاء و شفعاء کا وجود تسلیم کرلیا جائے تو قیامت کی ساری اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی روز عدالت ہے تو اس سے کیا اندیشہ ہوسکتا ہے اگر ایسے شرکاء و شفعاء موجود ہیں جو اپنے زور و اثر یا سعی و سفارش سے اپنے نام لیوائوں کو خدا کی پکڑ سے بچا سکتے ہیں ! اسی وجہ سے قرآن میں قیامت اور رد شرک دونوں مضمون ہمیشہ ساتھ ساتھ بیان ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح کردی جائے کہ خدا کی پکڑ سے کوئی بھی کسی کو بچانے والا نہیں بن سکے گا۔ سب کا معاملہ اسی کے حضور میں پیش ہوگا اور وہی تنہا ہر ایک کا فیصلہ فرمائے گا۔
Ayah 22:4شیطان کی ڈیوٹی
قرآن میں جگہ جگہ یہ بات تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ شیطان نے قیامت تک کے لئے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مہلت لی ہے اور اللہ نے اس کو یہ مہلت دی ہے کہ جاء جو تجھے اپنا دوست، مددگار اور رہنما بنائیں ان کو گمراہ کرے، میں ان کو اور تجھ کو سب کو جہنم میں جھونک دوں گا۔ اسی حقیقت کو یہاں کتب علیہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی یہ شیطان کی خدا کی طرف سے ایک مقررہ ڈیوٹی ہے کہ جو اس کو درست بنائیں ان کو دو مگر اہ اور جہنم کی طرف ان کی رہنمائی کرے۔ فانہ کا عطف انہ پر ہے اور من تولاہ بطور بیان شرط کے ہے یعنی شیطان کا یہ فریضہ کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے اور ان کو جہنم کی راہ دکھائے بایں شرط مشروط ہے کہ جو لوگ اس کو اپنا ولی و کار ساز بنائیں گے صرف وہی اس کے دام میں شکار ہوں گے۔ خدا کے ان بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلے گا جو اس کو اپنا دشمن سمجھیں گے اور ہمیشہ اس کے فتنوں سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے یہ کہا جائے کہ زہر کا تو کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ہلاک کرے۔ احمق ہیں وہ جو اس کو تریاق سمجھیں اور نگل لیں۔ شیطان کو خدا نے جو مہلت دی ہے وہ لوگوں کے امتحان کے لئے دی ہے اس کو لیڈر بنانے اور اس سے الہام حاصل کرنے یا اس کی پیروی کے لئے نہیں دی ہے۔
Ayah 22:5آگے کا مضمون …… آیات 24-5
آگے قیامت اور توحید کے اسی مضمون کو جو تمہیں کی آیات میں بیان ہوا، ایک نئے رنگ سے لیا اور انسان کی خلقت کی نوعیت، اس کائنات کے مشاہدات اور ان مشاہدات سے اس کائنات کے خالق کو جو صفات ہر عاقل کے سامنے آتی ہیں، ان سے قیامت اور توحید پر دلیل قائم کی ہے اور یہ دکھایا ہے کہ اگر انسان غور کرے تو قیامت اور توحید کے دلائل خود اس کے اپنے وجود اور اس کے اپنے ہی گرد و پیش میں موجود ہیں۔ اس کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ احمق ہیں وہ جو ایسے بدیہی حقائق کا انکار اور ان کے بارے میں حجتیں کرتے ہیں۔ اسی ضمن میں ان لوگوں کو بھی لیا، جو خدا کی بندگی اپنے شرائط پر کرنا چاہتے تھے۔ جہاں تک ان کے زعم میں خدا کے احکام ان کی خواہشوں اور اپنے مصالح کے خلا سمجھتے ان سے وہ گریز کرتے۔ اسی طرح کے دو دلوں اور منافقوں کا ایک گروہ اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر اس دور میں پیدا ہوگیا تھا جو خدا اور شیطان، کفر اور اسلام دونوں کو جمع کرنے کا خواشہمند تھا۔ اگرچہ اس گروہ کا رویہ کھلے ہوئے معاندین کے مقابل میں بظاہر روا دارانہ تھا لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ رویہ بھی شرک بلکہ نہایت گھنائونا شرک سے اس وجہ سے قرآن نے یہاں اس پر بھی ضرب لگائی کہ اس دوزخی پالیسی کی خدا کے دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو لوگ نفع و ضرر دونوں خدا کے ہاتھ میں نہیں مانتے اور نرم گرم ہر طرح کے حالات میں خدا ہی کی بندگی نہیں کرنا چاہتے وہ اپنی پسندیدہ روش اختیار کریں لیکن یاد رکھیں کہ ان کی کوئی بڑی سے بڑی تدبیر بھی، خدا کی مرضی کے بدوں، ان کے کام آنے والی نہیں بن سکتی۔ آخر میں اس کشمکش حق و باطل کے دونوں فریق … اہل ایمان اور حامیان کفر و شرک … کے انجام کا ذکر فرمایا کہ ایک دن آنے الا ہے جس میں فریقین کا معاملہ خدا کی عدالت میں پیش ہوگا اور دونوں اپنے اپنے عقیدہ اور عمل کے مطابق سزا یا انعام پائیں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
قیامت کا مشاہدہ اپنے اندر اور باہر
فی ریب من البعث، قیامت کے باب میں مشرکین عرب کی روش مریح انکار کی نہیں بلکہ شک اور تردد ہی کی تھی۔ وہ اس کو ایک بہت ہی بعید چیز خیال کرتے تھے اور اس استبعاد کی بڑی وجہ ان کے نزدیک یہ تھی کہ مرکھپ جانے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا ان کے خیال میں بہت بعید از قیاس بات تھی۔ اپنے اس واہمہ کے سب سے اول تو قیامت کو وہ کوئی اہمیت دیتے ہی نہیں تھے اور اگر ایک مفروضہ کے درجہ میں اس کو مانتے بھی تھے تو ان کو اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر یہ اعتماد تھا کہ وہ اپنی سفارش سے ان کو خدا کی باز پرس سے بچا لیں گے۔ قرآن نے قیامت کا جب اس شد و مد سے ذکر کیا کہ وہی اس زندگی اور اس کائنات کی اصل غایت قرار پا گئی اور ساتھ ہی ان کے تمام شرکاء و شفعاء کو بھی بےحقیت ثابت کردیا تو یہ چیز ان پر بہت شاق گزری۔ انہیں محسوس ہوا کہ ان کی ساری عمارت بالکل ریت پر ہے۔ اس کو بچانے کے لئے ان کے پاس واحد حربہ صرف یہ رہ گیا کہ وہ آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے کے لئے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر قیامت ایسی ہی یقینی چیز ہے تو وہ اس کو دکھا دیں یا اس کی کوئی ایسی حسوس نشانی بشکل عذاب دکھائیں جس کے بعد وقوع قیامت میں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہ ہے۔ قرآن نے ان کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر ان کو خود ان کے اپنے وجود اور اس دنیا میں روز مرہ کے مشاہدات کی طرف توجہ دلائی کہ قیامت اور توحید کی دلیل ڈھونڈھنے کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خدا نے انسان اور اس کائنات کو بنایا ہی اس طرح ہے کہ جو شخص آنکھیں رکھتا ہے وہ اپنے اندر اور باہر ہر وقت خدا اور قیامت کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔
علقہ کے معنی
فانا خلقنکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مغضہ مخلقۃ و غیر مخلمۃ لنبین لکم، علقۃ خون کی پھٹکی جو بھی کہتے ہیں اور چھوٹے جاندار کیڑے کو بھی۔ یہ نطفہ کے قرار پا جانے کے بعد کا درجہ ہے جب وہ خون اور ایک جنین کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور اس کے اندر زندگی کی نمود پیدا ہوجاتی ہے۔
مضغۃ کے معنی
مضغۃ گوشت کے لوتھڑے کو کہتے ہیں۔ یہ علقۃ کے بعد کا مرحلہ ہے جب جننخ گوشت کے ایک لوتھڑے کی شکل میں ایک جسم کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس مضقۃ کی بابت فرمایا کہ ان میں سے بعض کا ڈیزائن بالکل مکمل ہوتا ہے اور بعض کو قدرت نامکمل ہی چھوڑ دیتی ہے اور کسی کے بس میں بھی یہ نہیں ہے کہ اس کو مکمل کر دے۔
انسان کی اپنی خلقت ایک درس گاہ پر
لنبین لکم یہ وہ اصل مقصد ہے جس کے لئے انسان کی خلقت کے ان مراحل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے مطالب یہ ہے کہ خدا انسان کو وجود میں لانے کے لئے ان تمام مراحل اور اس سارے اہتمام کا محتاج نہیں تھا کہ پانی کی ایک بوند کسی مادہ کے رحم میں قرار پکڑے، پھر وہ خون اور جنین کی صورت اختیار کرے اور قدرت اپنے ڈیزائن کے مطابق اس کی نقاشی و مصوری کر کے اس کو حسین پیکر بنائے۔ اس تمام اہتمام وا نتظام کے بغیر اگر خدا چاہتا تو بنے بنائے آدمی کسی دریا یا پہاڑ سے جھنڈ کے جھنڈ اور ریوڑ کے ریوڑ برآمد ہوجایا کرتے لیکن خدا نے یہ چاہا کہ انسان کی خود اپنی خلقت اس کے لئے خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی ایک درس گاہ بن جائے۔ جس میں وہ اپنے اور اس کائنات کے احسن الخالقین کی معرفت حاصل کرے۔ اس کا خود اپنا وجود اس پر شہادت دے کہ جس نے اس اہتمام و عنایت کے ساتھ اس کو پیدا کیا ہے اس نے اس کو محض ایک کھلونا نہیں بنایا ہے بلکہ اس کی خلقت کے پیچھے ایک عظیم غایت ہے، جو لازماً ظہور میں آ کے رہے گی۔ اس کے اپنے ہر بن مو سے اس کو یہ گواہی ملے کہ خالق نے اس کو مٹی کے خلاصہ اور پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا اور اس کو اس میں کوئی زحمت پیش نہیں آئی تو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا بھی اس کے لئے نہایت آسان ہے۔ بعینیہ یہی مضمون سورة مومنوں میں اس طرح بیان ہوا ہے۔
آیت (المومنون 16-12-:23)
اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا، پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک قرار کی جگہ میں رکھا، پھر ہم نے پانی کی بوند کو جنین کی شکل دی پھر جنین کو ایک لوتھڑا بنایا، پس لوتھڑے کے اندر ہڈیں ا پیدا کیں، پھر ہڈیوں کو گوشت کا جار پہنایا، پھر اس کو ایک بالکل ہی مختلف مخلوق کی شکل میں مشکل کرو ! پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ بہترین پیدا کرنے والا۔ پھر اس کے بعد تم لازماً مرو گے، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جائو گے۔
سورة مومنوں کی اس آیت میں وہ خلاصہ بھی سامنے رکھ دیا ہے جس پر انسان کی خلقت کے یہ تمام مراحل شہادت دے رہے ہیں لیکن ہمارے دور حاضر کے فلسفیوں اور سائنسدانوں کا یہ عجیب اندھا پن ہے کہ انہیں انسان کی خلقت کے یہ تمام مراحل و مدارج تو نظر آتے ہیں لیکن اس اصل حقیقت تک ان کی نظر نہیں پہنچتی جس کو واضح ہی کے لئے خدا نے یہ سارا اہتمام فرمایا۔
ونقر فی الارحام ما نشآء الی اجل مسمی ثم نخر جکم طفلاً ابھی اصل سلسلہ کلام پورا نہیں ہوا تھا کہ بیچ میں لنبین لکم کا ٹکڑا اچانک مخاطبوں کو جھنجھوڑنے کے لئے آگیا تھا کہ بلاوت کے سب سے وہ سو نہ ہو رہے ہوں۔ ان کو جھنجھوڑنے کے بعد پھر اصل سلسلہ کلام کو لے لیا۔ فرمایا کہ اس کے بعد ایک مدت کی تک اس کو رحم میں ہم ٹھہراتے ہیں کہ وہ ایک پورے بچے کی شکل اختیار کرے۔ مانشآء یعنی یہ کلیتہ ہاری سیت پر منحصر ہے کہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی خوبصورت ہو یا بدصورت ناقص ہو یا کامل، کسی دوسرے کے اختیار میں یہ نہیں ہے کہ وہ لڑکی کو لڑکا بنا دے یا بدصورت کو خوب صورت انی اجل مسمی یعنی اسی طرح وضع حمل کے لئے ہم نے ایک مدت ٹھہرا دی ہے اور یہ چیز بھی کلیتہ ہمارے ہی اختیار میں ہے، کسی کے بس میں نہیں ہے کہ ہماری مقرر کی ہوئی مدت میں کوئی تغیر و تبدل کر دے۔
ثم لتبلغوا اشدکم یہاں ل اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سے پہلے فعل مخدوف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں اور سورة مومن آیت 67 بھی اس کی نہایت واضح مثال آئے گی۔ یعنی بچہ کی شکل میں تمہیں وجود بخشنے کے بعد ہم تمہیں ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی اور پختگی کو پہنچو اور یہ قانون بھی ہمارا ہی بنایا ہوا ہے، کسی کی مجال نہیں کہ وہ بچپن اور مراہقہ کے مراحل کو لانگ کر جوانی کے حدود میں قدم رکھ دے۔
ومنکم من یتونی ومنکم من یردا الی ارذل العمر یہاں تقابل کے اصول پر، بر بنائے وضاحت قرینہ، پہلے ٹکڑے میں فی صیاہ اوفی شبابہ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذف ہیں اور دور سے ٹکڑے میں ارذل العمر، کے الفاظ اس حذف کو واضح کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کتنے تو اپنے بچپن یا جوانی ہی میں مر جاتے ہیں اور کتنے ایسے ہوتے ہیں جو بڑھاپے کی آخری منزل تک پہنچتے ہیں اور یہ امر بھی کلیتہ خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ کوئی شخص اپنی مدت حیات میں نہ کمی کرسکتا ہے نہ بیشی۔
ل غایت و نہایت کے مفہوم ہیں
لکیلا یعلم من بعد علم شیاً ل غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا ترجمہ یہاں تک یا آنکہ ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ علم کی تنکیر تحقیر کے لئے بھی ہو سکتی ہے اور تفخیم کے لئے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مفہمو یہ ہوگا کہ وہ ایسی ارذل عمر کو پہنچ جاتا ہے کہ تھوڑا بہت علم ہو اس کو حاصل ہوا ہوتا ہے وہ بھی غائب ہوجاتا ہے۔ دوسری صورت میں مفہوم یہو گا کہ وہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ بھی نہیں جانتا، ہر چیز اس کے حافظہ سے محو ہوجاتی ہے۔ ہم پہلے مفہم کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ قرآن کے نظائر سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ فرمایا ہے ان اوتیتم من العلم الا قلیلاً (تمہیں تو بس تھوڑا ہی علم عطا ہا ہے) اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان چاہے سقراط و بقراط ہی کیوں نہ بن جائے لیکن علم کے بحر بیکراں کا ایک قطرہ ہی ہے جس کا وہ حامل بنتا ہے۔ اس سے زیادہ کے لئے وہ اپنے اندر ظرف ہی نہیں رکھتا اور اس علم کا بھی حال یہ ہے کہ عمر کے ایک خاص حصہ میں وہ سب سلب ہوجاتا ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اپنے علم پر بھی کسی کو غرہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بھی خدا ہی کی دین ہے، وہی بخشات ہے اور وہ جب چاہے اس کو چھین سکتا ہے۔
ایک نظر عالم خارج پر
وتری الارض ھامدۃ فاذآ انزلنا علیھا المآء اھتزت و ربت واتبتت من کل زوج بھیج انسان کی خلقت کے اندر قیامت کے جو دلائل ہیں ان کی طرف توجہ دلانے کے بعد اس کو باہر کی دنیا کی طرف توجہ دلائی کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین بالکل خشک اور بےآب و گا یہ ہوتی ہے۔ پھر جب اس پر بارش ہوتی ہے تو وہ زم و گداز ہوجاتی اور نوع بنوع خوشنما نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے۔ مطلب ہے کہ جب اس زمین کو بار بار مرتے اور جیتے دیکھتے ہو تو آخر اسی زمین سے اپنے ہی دوبارہ جی اٹھنے کو کیوں بعید از امکان سمجھتے ہو ! ہر فصل و موسم میں یہ ریہرسل تو تمہارے سامنے اسی غرض سے ہو رہا ہے کہ قیامت کا مشاہدہ اس کے ہونے سے پہلے ہی تمہیں ہوتا رہے۔ لنبین لکم کے الفاظ یہاں مقدر ہیں۔ چونکہ یہ نشانی بالکل واضح تھی اس وجہ سے یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں تھی۔
Ayahs 22:6–7آیت (7-6)
خلاصہ بحث
شروع سورة سے لے کر یہاں تک جو کچھ بیان ہوا ان آیات میں اس کا خلاصہ سامنے رکھ دیا۔ یعنی خدا اور قیامت سے تمہیں ڈرتے رہنے کی یہ ہدایت جو کی جا رہی ہے اس لئے کی جا رہی ہے کہ معبود حقیقی صرف خدا ہی ہے، اس کے ماسوا جو تم نے اس کے شریک وسہیم بنا رکھے ہیں اور جن کے بل پر تم خدا اور آخرت سے نچنت ہوئے بیٹھے ہو، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ محض تمہارے وہم کی ایجاد ہیں وانہ یحییٰ الموتی یعنی اوپر جو دلائل مذکور ہوئے ان سے یہ بات ثابت ہے کہ خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اس لئے جب وہ چاہے گا تمہیں اٹھا کھڑا کرے گا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو پانی کے ایک قطرے کو عاقل و بالغ انسان بنا دیتا اور زمین کو اس کے خشک اور چٹیل ہوجانے کے بعد باغ و بہار کردیتا ہے۔ اس کے لئے دنیا کو از سر نو زندہ کردینا کیوں مشکل ہوجائے گا !
Ayah 22:8بےدلیل مجادلہ کبر ہے
آیت 3 میں جن مجادلین کی طرف اشارہ فرمایا تھا یہ ان کے رویہ کی تفصیل ہے۔ وہاں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ خدا کے بارے میں مشرکین کی اصلی مخاصمت عقیدہ توحید سے تھی۔ جہاں تک خدا کا تعلق ہے اس کو توہ وہ بلابحث و نزاع مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ انہوں نے اس کے بہت سے دور سے شریک بھی ٹھہرا لئے تھے جن کو ثابت کرنے کی ذمہ داری خود ان پر عائد ہوتی تھی۔ لیکن ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ بس زیادہ سے زیادہ جو چیز وہ پیش کرتے وہ یہ کہ ہمارے باپ دادا ان معبودوں کو پوجتے آئے ہیں اس لئے ہم ان کو پوجتے رہیں گے اور ان کی توہین کسی حال میں برداشت نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب بحث کا تعلق دلیل کے بجائے مجرد آباء و اجداد کی اندھی تقلید سے رہ جائے تو یہ کبر و غرور ہے جس میں مبتلا ہوجانے کے بعد آدمی کے سامنے ساریمنطق بےکار ہو کے رہ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے اس بےدلیل مجادلہ کو کبر قرار دیا ہے۔
ان الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن اتھم ان افے صدورھم الا کبرٌ ما ھم بالفیہ (مومن 56)
بے شک جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو، کٹھ حجتی کرتے ہیں، ان کے دلوں میں صرف غرور ہے جس میں ان کو کامیابی حاصل ہونے والی نہیں ہے۔
دوسرے مقام میں یہ حقیقت بھی واضح فرما دی ہے کہ اس سارے مجادلے کی محرک طریقہ آباء کی اندھی عصبیت ہے۔
ومن الناس من یجا دل نے اللہ بغیر علم ولاھدی ولا کتب منیرہ فاذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما وجدنا علیہ ابآء نا (لقمان -31-20)
اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم، بغیر کسی ہدیات اور بغیر کسیر ہنما کتاب کے جھگڑتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی چیز کی پیروی کرو تو کہتے ہیں ہم اسی طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دا دا کو پایا ہے۔
Ayah 22:9ثانی عطفہ ان کے کبر و غرور کی تصویر ہے۔ جب کوئی شخص غرور کے ساتھ کسی سے اپنا رخ موڑتا ہے تو شانے جھٹک کر موڑتا ہے۔ آدمی کے پاس دلیل نہ ہو اور وہ اپنے غلط موقف سے دستبردار ہونے کے لئے بھی تیار نہ ہو تو اس کے پندار کو بڑی چوٹ لگتی ہے اور اس کا انتقام وہ اپنے غرور کا مظاہرہ کر کے لینے کی کوشش کرتا ہے۔ لیضل عن سبیل اللہ یعنی یہ سارا طنطنہ اور یہ ساری حمیت کسی حق کی حمایت کے لئے نہیں بلکہ صرف اس لئے ہے کہ سج طرح وہ خود خدا کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے دوسروں کو بھی اسی طرح بھٹکا دے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ آدمی کا خدا کی راہ سے بھٹکا ہوا ہونا، اگر اس کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہو، اس سے مایوس کردینے والی چیز نہیں ہے، حق کی طرف اس کی بازگشت کا امکان ہے، لیکن جو شخص اپنے باطل کے حق میں اپنے پاس کوئی دلیل نہ رکھتے ہوئے بھی اس کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لئے، پوری رعونت کے ساتھ، اٹھ کھڑا ہو تو اس سے پھر کسی امید خیر کی گنجائش باقین ہیں رہ جاتی۔
استکبار کی سزا دنیا اور آخرت کی رسوائی
لہ فی الدنیا خزی ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب العریق فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب نار ہے۔ رسوائی اس لئے کہ انہوں نے حق کے مقابل میں استکبار کا مظاہرہ کیا اس وجہ سے وہ مستحق ہیں کہ دنیا میں بھی ذلیل ہوں۔ یہ امر محلوظ رہے کہ یہاں زیر بحث رسول کے مخالفین ہیں رسولوں کے مخالفین کے باب میں سنت الٰہی جیسا کہ ہم متعدد مقامات میں واضح کرچکے ہیں، یہی ہے کہ اگر وہ حق کی مخالفت پر جمے رہ جاتے ہیں تو اتمام حجت کے بعد، لازماً وہ اس دنیا میں بھی شکست اور ذلت سے دوچار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی جہنم کے سزاوار ٹھہریں گے۔
عذاب الحریق میں بھی عمل اور جزا کی مشابہت کا پہلو موجود ہے۔ یعنی چونکہ وہ اس دنیا میں حق کے خلاف غصہ، نفرت اور حسد سے جلتے اور کھولتے رہے اس وجہ سے وہ مستحق ہیں کہ آخرت میں جلنے کے عذاب کا مزا چکھیں۔
Ayah 22:10ذلک بما قدمت یدک وان اللہ لیس بظلام للعبید (10)
زبان حال کی شہادت
ہم قرآن کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ کرتے آئے ہیں کہ جہاں مقصود صورت حال کی تعبیر ہو وہاں بالعموم قیل اور یقال وغیرہ حذف کردیئے جاتے ہیں۔ یہاں بھی یہی صورت حال ہے۔ یعنی زبان حال خود ان پر گواہی دے گی کہ یہ تمہاری اپنی ہی بوٹی ہوئی بس بھری فصل کا حاصل ہے جو تمہارے سامنے آیا ہے۔ خدا نے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی ہے۔
جو بوئے گا وہی کاٹے گا
وان اللہ لیس بظلام اللعبید اس اسلوب کی وضاحت بھی متعدد جگہ ہوچکی ہے کہ جب مبالغہ پر نفی آئے تو اس سے مقصود مبالغہ فی النفی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے لیس بظلام کے معنی ہوں گے اللہ تعالیٰ بندوں پر زرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
آیت کا مقصود یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں جو بوئے گا اس کی فصل آخرت میں کاٹے گا۔ اگر اس نے استکبار کی کاشت کی ہے تو استکبار کا حاصل رسوائی ہے، وہ رسوائی کی فصل کاٹے گا اور اگر حق کے خلاف غصہ اور نفرت کی پرورش اس نے کی ہے تو اس کا حاصل جلنے کا عذاب ہے وہ اس سے دوچار ہوگا۔ غرض جو کچھ اس نے کیا ہوگا وہی اللہ تعالیٰ اس کے سامنے رکھ دے گا۔ سر مواس کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی !
Ayah 22:11مذ بذبین کا کردار
ان کٹر مشرکین کا ذکر کرنے کے بعد، جو شرک کی حمایت میں لڑائی ٹھانے ہوئے تھے، اب یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو بکی وقت یزدان اور راہرمن، اللہ اور غیر اللہ، حق اور باطل دونوں سے تعلق باقی رکھنا چاہتے تھے۔ یکسو ہو کر نہ وہ اہل ایمان کے اندر شامل ہونا چاہتے تھے نہ مشرکین کے اندر، وہ ان دونوں صفوں سے الگ کھڑے ہو کر پانی مصلحت اور مفاد کو دیکھتے تھے۔ جس حد تک ان کو مسلمانوں کی ہمنوائی میں فائدہ نظر آتا ان کی ہمنوائی کرتے اور جب دیکھتے کہ شرک اور اہل شرک کی تائید میں فائدہ ہے، ان کے ساتھی بن جاتے۔ اس قسم کے دور رنگے اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر، اس دور میں، مشرکین اور اہل کتاب کے اندر بھی پیدا ہوگئے تھے جو کفر و اسلام دونوں میں سمجھوتے کے خواہشمند تھے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ خدا کی بھی بندگی ہونی چاہئے اور ان اصنام و الہہ کی بھی جن کی عبادت باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ آخر یہ بھی کام آنے والی ہستیاں ہیں تو ان کو کیوں نظر انداز کیا جائے ؟ یہی گروہ ہے جس کی رف سے قرآن میں ترمیم کی تجویز بھی پیش ہوئی تھی جس کا ذکر سورة یونس میں گزر چکا ہے۔ اس طرح کے عناصر اگر مسلمانوں میں داخل ہوئے تو وہ توحید میں یکسو نہیں ہوئے۔ جہاں تک ان کو راہ ہموار نظر آتی وہاں تک تو وہ قافلہ اسلام کا ساتھ دیتے لیکن جب کوئی آزمائش پیش آجاتی تو وہیں لڑکھڑا جاتے اور خدا سے مایوس و بدگمان ہو کر دوسروں کو بولی و مرجع بنا بیٹھتے۔ یہ چیز اپنی حقیقت کے اعتبار سے شرک ہے اوپر مجادلین کا جو شرک بیان ہوا ہے۔ اس میں اور اسی میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ حقیقت کا نہیں بلکہ صرف مزاج کا فرق ہے۔ مجادلین کے شرک کا مزاج معاندانہ ہے، اس کا مزاج منافقانہ اس فرق کے سوا ان دونوں میں کوئی اور فرق نہی ہے۔ توحید کا تقاضا صرف اس شکل میں پورا ہوتا ہے جب بندہ کلیتہ اپنے آپ کو اپنے رب کی تحویل میں دے دے۔ وہ پھولوں کی سیج پر لٹائے جب بھی راضی رہے اور اگر سر پر آ رہے چلو اوے جب بھی راضی و مطمئن رہے۔ صرف منفعت ہی کے حد تک جو خدا کی بندگی کرنا چاہتا ہے وہ موحد نہیں بلکہ مشرک ہے اور خدا کے ہاں ایسے ابن الوقتوں اور مفاد پرستوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ سرمد نے نہایت دو ٹوک بات کہہ دی۔
سرمد گلہ اختصاری با ید کردیک کارازیں دو کاری با ید کرد
یاتن برضائے یامی باید داد یا قطع نظر زیار می جاید کرد
ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف یہ اسلوب بیان یہاں اظہار تعجب اور اظہار نفرت و کراہت کے لئے ہے اور لفظ عبادت، پرستش اور اطاعت دونوں ہی معنوں پر مشتمل ہے۔ علی حرف یعنی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر دور دور سے خدا کی بندگی اور اطاعت میں پوری طرح داخل ہو کر نہیں، جو ادخلوا فی السلم کافۃ کا تقاضا ہے بلکہ مذبذبین بین ذلک لا الی ھولآء ولا الی ھولآ کے مصداق بن کر نہ پوری طرح خدا کی طرف جو ایک حنیف مسلم کی شان ہے اور نہ کفار کی طرح کفر کی حمایت میں برہنہ ہو کر بلکہ ع منہ پھیر کر ادھر کو ادھر کو بڑھا کے ہاتھ۔
فان اصابہ خیر اطمان بہ وان اصابتہ فتنۃ انقلب علی وجھہ فتنہ کے معنی یہاں مصیبت اور آزمائش کے ہیں۔ یہ علی حرف کی وضاحت ہے کہ یہ احمق لوگ خدا کی بندگی صرف اپنے مفاد کے حد تک کرنا چاہتے ہیں۔ جب تک ہر بات ان کے منشا کے مطابق ہوتی رہے اس وقت تک تو یہ خدا سے راضی و مطمئن رہتے ہیں، لیکن کوئی امتحان پیش آجائے تو پھر یہ اوندھے ہوجاتے ہیں اور خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے آستانوں پر جبہ سائی شروع کردیتے ہیں۔ یہ پھولوں کے طالب ہیں لیکن کانٹوں کی خلش برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں حالانکہ خدا کی راہ میں راحتوں کے ساتھ آزمائشیں بھی ہیں اور جب تک کوئی ان آزمائشوں میں پورا نہ اترے خدا کے ہاں اس کی کوئی پوچھ نہیں ہے۔
خیر الدنیا الاخرۃ کا مفہوم
خیر الدین و الاخرۃ فرمایا کہ ایسے احمق لوگ دنیا اور آخرت دونوں ہی برباد کرتے ہیں۔ اگر دنیا میں بندے کو کوئی آزمائش پیش آتی ہے، وہ جان یا مال کے کسی خسارے میں مبتلا کیا جاتا ہے تو اس کے لئے اس خسارہ کے اندر ایک عظیم اخروی منفعت بھی پوشیدہ ہوتی ہے بشرطیکہ وہ اپنے رب کے فیصلہ پر راضی و مطمئن رہے اور اپنے آپ کو اس کے ٓگے ڈال دے۔ اس طرح کا ہر امتحان بندے کے ایمان کو پختہ اور اس کی اخروی منفعتوں کو ضعافاً مضاعفۃ کرتا ہے لیکن کوئی احمق اگر اس طرح کی کسی آزمائش سے گھبرا کر خدا سے مایوس ہو بدگمان ہو بیٹھے تو اس نے دنیا کا بھی نقصان اٹھایا اور اپنی آخرت بھی برباد کی ذلک ھو الخسران المبین ظاہر ہے کہ اصلی اور کھلا ہوا خسارہ یہی ہے۔ اگر اس دنیا کا کوئی نقصان ہوا تو وہ نقصان نہیں ہے۔ اگر بندے نے اپنا اخروی اجر اس کے عوض میں محفوظ کرا لیا۔ البتہ جس نے اپنی دنیا بھی کھوئی اور اپنی آخرت بھی اس کا خسران خسران مبین ہے۔
ابنائے ز کا کردار
ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف میں جس گروہ کا کردار بیان ہا ہے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہی کردار ابنائے زمانہ کا ہے۔ آج ہم بھی جو اس شرک کو مٹانے ہی کے لئے مامور کئے گئے تھے، اسی طرح دور دور سے خدا کی بندگی کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن کو خدا کی کتاب بھی مانتے ہیں لیکن قانون، تہذیب، معاشرت، معیشت، سیاست ہر شعبہ زندگی میں پیروی دوسروں کے کرتے ہیں۔ قرآن کا مصرف اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ جب کوئی مرے تو کچھ حافظ اس کے لئے قرآن خوانی کر کے اس کو بخشوا دیا کریں۔ اگرچہ اس نے خود کبھی اتفاق سے بھی قرآن کو ہاتھ نہ لگایا ہو ! ! ان کے نزدیک قرآن زندوں کے لئے نہیں بلکہ مردوں کے لئے اترا ہے اور وہ ہدایت کے لئے نہیں بلکہ صرف کبھی کبھی چوم لینے کے لئے ہے۔ خوب بات کہی جس نے کہی ہے کہ
یاران عجب انداز دورنگی دارند مصحف بہ بغل دین فرنگی دارند
Ayah 22:12غیر اللہ سے دعا شرک اور ضلال بعید ہے
یدعوا یہاں دعا، استغاثہ، فریاد، استر عام اور استمداد سب معنوں پر مشتمل ہے۔ اگر خدا کے سوا کسی کو نافع وضارمان کر، پکارا جائے تو یہ شرک ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ خدا سے مایوس ہو کر جن سے طالب مدد ہوتے ہیں وہ نہ ان کو ضرر پہنچا سکتے ہیں نہ نفع نفع و ضرر صرف خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اگر کسی کو کسی سے کوئی نفع یا ضرر پہنچتا ہے تو اللہ ہی کے اذن سے پہنچتا ہے اس وجہ سے ہر حال میں بندہ کا اعتماد اللہ ہی پر ہونا چاہئے نہ کہ اس سے مایوس ہو کر دور سے پر دوسروں کے نافع یا ضار ہونے کی حقیقت اسی سورة کے آخر میں ایک تمثیل کے ذریعہ سے یوں واضح فرما دی گئی ہے۔
لن یخلقوا ذباباً ولوا جتمعوا لہ ط وان یلبھم الذباب شیاً لایستنقذوہ منہ ط ضعف الطالب والمطلوب (حج :73)
اے لوگو ! ایک تمثیل سنائی جا رہی ہے تو اس کو توجہ سے سن لو۔ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سارے کے سارے مل کر اس کے لئے اپنا زور لگا ڈالنا اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس سے اس کو بچا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب دونوں ہی ناتواں لا
وذلک ھو الضلل البعید فرمایا کہ دور کی گمراہی درحقیقت یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ خدا سے روٹھ کر کسی ایسے کی پناہ لیتے جو کوئی نفع یا نقصان ان کو پہنچا سکتا تب تو یہ ایک گمراہی ہوتی لیکن بہت دور کی نہ ہوتی لیکن خدا کی آزمائش سے بھاگ کر ایسوں کی پناہ ڈھنڈھنا جو خود اپنے چہرے سے بھی مکھی ہنکا نہیں سکتے صرف گمراہی نہیں بلکہ بہت دور کی گمراہی ہے۔ یہ خدا کے امتحان کی بھٹی سے بھاگے اور سیدھے جہنم میں جا کر دے !
Ayah 22:13ید عوا المن ضرہ اقرب من نفعہ لبئس المولی و لبئس العشیر (13)
اس یدعوا کے بارے میں مجھے ان نحویوں کا مذہب قوی معلوم ہوتا ہے جو اس کو سابق الذکر یدعوا کا اعادہ اور بعد کے جملے سے اس کو بالکل غیر متعلق مانتے ہیں۔ اعادہ فعل یہاں اظہار حسرت و افسوس کے لئے ہے لمن ضرۃ یدعوا کا مفعول نہیں بلکہ اوپر والے مفعول مالا یضرۃ ومالا ینفعہ پر ایک قسم کا استدراک ہے اور مقصود اس سے اس کے ضلل بعید ہونے کی وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں صرف یہی نہیں کہ وہ کوئی ضرر یا نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ ستم بالائے ستم ہے کہ ان کا ضرر ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ اگر کسی ایسے کی پناہ ڈھونڈھی جائے جو نہ نفع پہنچا سکے نہ ضرر تو یہ حماقت ہے لیکن حماقت در حماقت یہ ہے کہ ایسے کی پناہ ڈھونڈھی جائے جس کا ضرر تو نقد اور ثابت و معلوم ہو لیکن نفع بالکل موہم جنہوں نے خدا سے تعلق توڑ کر دوسروں کو اپنا ولی و کار ساز مانا انہوں نے اپنا حقیقی سہارا تو ختم کردیا ہے دوسرے مزعومہ سہارے تو وہ کام آتے ہیں یا نہیں ؟ یہ بعد کی چیز ہے اور یہ بھی ان کے سامنے آجائے گی۔
امام اور مقتدی دونوں ناہنجار
لبئس المولی ولبئس العشیر یہ فقرہ یہاں بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح آیت 73 میں جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے ضعف الطالب المطلوب ہے جس طرح وہاں فرمایا ہے کہ ”طالب و مطلوب دونوں ہی بےبس و ناتواں“ اسی طرح یہاں فرمایا ہے کہ مولی اور عشیر دونوں ہی ایک سے ایک بڑھ کرنا ہنجار مولیٰ سے مراد وہ شرکاء و شفعاء ہیں جن کو خدا کے سوا مرجع اور کار ساز بنایا گیا اور عشیر سے مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے ان کو مرجع و کار ساز بنایا۔ پیر اور مرید، امام اور مقتدی، لیڈر اور پیرو دونوں اگر ایک ہی سانچے کے ڈھلے ہوئے اور برے ہونے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہوں تو ان کا انجام معلوم ہے !
Ayah 22:14مخلصوں کا انجام
خدا سے مایوس ہو کر دوسروں کی پناہ ڈھونڈھنے والوں کا انجام بیان کرنے کے بعد یہ ان لوگوں کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا جو سختی و نرمی اور رنج و راحت ہر طرح کے حالات میں ایمان و عمل صالح کی روش پر قائم دوائم رہیں گے۔ فرمایا کہ بیشک اللہ ان لوگوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ سیاق کلام دلیل ہے کہ یہاں فعل اپنے کامل معنوں میں استعمال ہوا ہے اس لئے کہ یہ مقابل میں ہے ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف کے اس وجہ سے اس سے لازمًا وہ لوگ مراد ہوں گے جو دو ولی اور نفاق میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ پوری دل جمعی و یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی پر جمے ہوئے ہیں۔
ان اللہ یفعل مایرید یعنی یہ مشرکین تو جن پر تکیہ کئے ہوئے ہیں وہ نہ کوئی نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ کوئی ضرر یہاں تک کہ اگر کوئی مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس کو بھی اس سے بچا سکنے پر قادر نہیں۔ البتہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ جو چاہے کر ڈالتا ہے۔ اس میں مسلمانوں کے لئے طمانیت و بشارت ہے کہ تم ظاہری حالات کی نامساعدت کو نہ دیکھو۔ حالات خواہ کتنے ہی ناموافق و نامساعد ہوں اپنے رب پر جمے رہو۔ اور اطمینان رکھو کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
Ayah 22:15ضمیر مفعول کا مرجع
من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ فی الدین والاخرۃ ینصرہ میں ضمیر کا مرجع من ہے جن لوگوں نے اس کا مرجع رسول اللہ ﷺ کو مانا ہے ان کی رائے سیاق وسباق کلام سے بالکل بےجوڑ ہے۔ آیت میں اشارہ انہی دو دلوں اور منفاقوں کی طرف ہے جن کا ذکر اپور سے چلا آ رہا ہے اور جن کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ اگر انہیں کو آزمائش پیش آجاتی ہے تو خدا سے مایوس و بدگمان ہو کر دوسروں کو مولی و مرجع بنا بیٹھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پیش آمدہ مشکل سے خدا ان کو نہیں نکالے گا یا نہیں نکال سکتا۔
مدسبب کا مفہوم
فلیمدد بسبب الی السمآء آسمان میں رسی تاننا آخری اور انتہائی تدبیر کر دیکھنے کے لئے اسی طرح کا ایک استعارہ ہے جس طرح ہماری زبان میں تھگلی لگانے کا استعارہ ہے۔ سورة انعام میں بھی آسمان میں تھگلی لگانے کا استعارہ گزر چکا ہے۔ فرمایا ہے۔
وان کان کبر علیک اعراضھم فان استطعت ان تبتغی نفقاً فی الارض اوسلماً فی السمآء فتاریتھم بایۃ ط ولو شآء اللہ لجمعھم علی الھدی فلا تکونن من الجھلین (انعام :35)
اور اگر ان لوگوں کا اعراض تم پر ایسا ہی شاق گزر رہا ہے تو اگر تم زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگا کر ان کے لئے کوئی نشانی لا سکو تو لا دو ! اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر مجتمع کردیتا تو تم جذبات سے مغلوب ہونے والوں میں سے نہ بنو !
زبیر اور اعشیٰ نے بھی انتہائی اور آخری جدوجہد کے مفہوم کے لئے یہ محاورہ استعمال کیا ہے۔ زہیر کا مصرع ہے۔
ولو نال اسباب السماء بسلم
اسی طرح اعشی کہتا ہے۔ عورقیت اسباب السماء بسلم
قطع کا مفہم
ثم لقطع قطع کے معنی ابومسلم نے قطع مسافت کے لئے ہیں یعنی وہ آسمان میں رسی تانے اور آسمان میں چڑھ جائے۔ بعض لوگوں نے اس کے منی قطع وحی کے لئے ہیں یعنی جس کو یہ گمان جو کہ اللہ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا وہ آسمان میں چڑھ کر سلسلہ وحی کو قطع کر دے۔ اکثر لوگوں نے اس کے معنی پھانسی لگانے یا گلا گھونٹ لینے کے لئے ہیں یعنی وہ چھت میں رسی لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی لگا لے۔ ان تاویلوں میں جو قباحت ہے اس سے قطع نظر، لفظ قطع کا جو مفہوم ان حضرات نے لیا ہے وہی محل نظر ہے۔ وحی کو منقطع کردینے یا پھانسی لگا لینے کے معنی کے لئے تو اس لفظ کا استعمال بالکل ہی ناموزوں ہے، عربیت کا ذوق اس سے ابا کرتا ہے کسی مفہوم کے لئے معروف و متداول الفاظ کے ہوتے ہوئے کسی ناموزوں لفظ کا استعمال قرآن کی فصاحت و بلاغت کے بالکل منفای ہے۔ قطع مسافت کے مفہوم کے لئے اگرچہ اس لفظ کو ناموزوں نہیں قرار دیا جاسکتا اس لئے کہ قطع وادی وغیرہ کے محاورات عربی میں معروف ہیں لیکن یہاں اس لفظ کا استعمال اس مفہمو کے لئے بالکل ناموزوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آسمان کی طرف رسی تاننے کا ذکر ہے تو اس کے ساتھ فلیتصعد یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ موزوں ہوسکتا ہے۔ یقطع اس کے ساتھ کسی طرح بھی موزوں نہیں ہے۔
ہمارے نزدیک یہ تمام اقوال ضعیف ہیں۔ البتہ عزم و جزم کے ساتھ کسی معاملہ کا فیصلہ کرنے کے مفہوم کے لئے یہ لفظ اعلیٰ عربی میں معروف ہے۔ اس کی نظر خود قرآن میں موجود ہے۔ مثلاً سورة نمل میں ہے۔
قالت یایھا الملوا افتونی فی امری ماکنت قاطعۃ امراً حتی تشھدون (نمل :32)
ملکہ سبا نے کہا کہ اے درباریو میرے اس معاملے میں آپ لوگ اپنی رائے دیں میں کسی معاملہ کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک آپ لوگ موجود ہو کر مشورہ نہ دیں۔
خدا سے مایوسی و بدگمانی کا انجام
اجزائے آیت کی تشریح کے بعد اب آیت کے مفہوم پر غور کیجیے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بدخت و نامراد خدا سے مایوس ہو بدگمان ہوتا ہے کہ وہ اس کی مدد نہیں کرے گا اور اس بدگمانی میں مبتلا ہو کر دوسروں کو اپنا مولیٰ و مرجع بناتا ہے وہ جو چاہے کرو دیکھے وہ آسمان میں تھگلی لگائے اور اپنا پورا زور لگا کر اپنے معاملہ کا فیصلہ اور غم اور پریشانی کو اگر دور کرسکتا ہے تو دو کرے۔ مطلب یہ کہ خدا کو ایسے لاخیروں سے کوئی بحث نہیں۔ وہ جہاں چاہیں آوارہ گردی کریں اور جس جوہڑ سے چاہیں اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کریں۔ لیکن یاد رکھیں کہ انسانی فطرت کے اندر جو پیاس ہے وہ ہر جوہڑ کے پانی سے نہیں بجھ سکتی، وہ صرف ایمان کے حوض کوثر ہی سے بجھتی ہے اور اس کے اندر جو خلا ہے وہ ہر اینٹ پھتر سے نہیں بھرا جاسکتا، اس کو اگر بھرا جاسکتا ہے تو صرف اللہ واحد کی یاد ہی سے بھرا جاسکتا ہے۔ سورة طہ کی آیت 124 ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس آیت تے متعلق بعض مزید سوالات جو پیدا ہوں گے وہ اس سے صاف ہوجائیں گے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ خدا سے مایوس و بدگمانی شرک کے بہت بڑے عوامل میں سے ہے۔ اس حقیقت کی وضاحت ہم اپنی کتاب حقیقت شرک میں کرچکے ہیں۔ انسان جب خدا سے کٹتا ہے تو وہ بہرحال اپنی فطرت سے مجبور ہو کر کوئی نہ کوئی سہارا ڈھونڈھنے کی سعی کرتا ہے لیکن حقیقی سہارا چونکہ خدا اور صرف خدا ہی ہے اس وجہ سے وہ چاہے آسمان ہی پر چڑھ جائے اس کی ساری سعی لا حاصل ہی رہتی ہے۔
اس آیت میں فی الاخرۃ کا لفظ بھی قابل غور ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں خدا ہی یاد و ناصر ہے اسی طرح آخرت میں بھی خدا ہی یاد و ناصر ہے۔ اگر کوئی خدا کے رحم یا انصاف سے بدگمان ہو کر کسی اور کو اپنا یاور و ناصر بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے مقابل میں اس کے کام آئیں گے تو وہ یہ بھی کر دیکھے۔ اس کے اس وہم کی حقیقت بھی قیامت کے دن اس پر آشکارا ہوجائے گی۔
Ayah 22:16یہ آیت بطور تنبیہ کے ہے اور کذلک کا اشارہ توحید اور رد شرک کے ان روشن دلائل کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوئے۔ فرمایا کہ اسی طرح نہایت روشن دلائل کے ساتھ ہم نے قرآن کو اتارا ہے۔ اس کے بعد بربنائے قرینہ یہ مضمون محذوف ہے کہ جو صاحب توفیق ہوں گے وہ آیات پر ایمان لائیں گے اور جو توفیق سے محروم ہوں گے وہ جیسا کہ اوپر آیت 8 میں اشارہ ہوا، اللہ اور اس کی آیات میں کٹھ حجتی ہی کرتے رہیں گے۔ وان اللہ یھدی من یرید میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو ہدایت و ضلالت کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی ہے اور جس کی وضاحت ہم بار بار کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت انہی کو نصیب ہوتی ہے جو اپنے عقل و بصیرت سے کام لیتے ہیں جو اندھے بہرے بن جاتے ہیں ان کے دلوں پر مہر کردی جاتی ہے۔
Ayah 22:17مشرکین اور ان کے اتحادیوں کو تنبیہ
اس آیت میں جن گروہوں کا ذکر ہے ان میں سے مجوس اور مشرکین کے سوا ہر گروہ کا ذکر سورة بقرہ آیت 62 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے یہود، نصاریٰ اور صائبین سب پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ملاحظہ ہوں صفحات 187-182 جلد اول، مجسوس اصلاً تو دین زرد شت کے پیرو تھے اور دین زردشت کی بنیاد، جیسا کہ ہم سورة کہف میں بیان کرچکے ہیں، خالص توحید پر تھی لیکن جس طرح امتداد زمانہ سے ہر دین کا حلیہ بگڑا اسی طرح اس دین کے پیرو بھی اپنے اصل دین کو مسخ کر کے آتش پرستی اور دوسری مشرکانہ بدعتوں میں مبتلا ہوگئے۔
اوپر کی آیات میں مومنین اور مشرکین کے درمیان جس مناظرہ و مجادلہ کا ذکر ہوا ہے یہ آیت بھی اسی سے متعلق ہے۔ اس مناظرہ کے اصلی فریق تو مسلمان اور مشرکین قریش ہی تھے لیکن اس دور میں جیسا کہ پیچھے کی سورتوں میں تفصیلی گزر چکی ہے، دوسرے مذاہب کے پیرو بھی، جو عرب میں موجود تھے، اس میں فریق بن گئے اور چونکہ اسلام کی دعوت کی زد ان سب پر پڑتی تھی اس وجہ سے ان کی ہمدردیاں مشرکین کے ساتھ تھیں۔ خاص طور پر یہود و نصاریٰ تو کھلم کھلا ہر محاذ پر ان کا ساتھ دے رہے تھے۔ قرآن نے ان سب کو نام لے کر آگاہ کیا کہ آج خدا اور اس کی آیات کے باب میں جو محاذ گرم ہے وہ یہیں نہیں ختم ہوجائے گا بلکہ یہ قضیہ قیامت کے دن خدا کی عدالت میں بھی پیش ہونے والا ہے جس میں ایک طرف اہل ایمان ہوں گے، دوسری طرف یہ مشرکین اور ان کے ہمنوا … یہود، صائبین، نصاریٰ اور مجوس … اس دن خدا فیصلہ فرمائے گا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر، ظاہرے کہ یہاں فیصلہ سے مقصود اس کے نتیجہ کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اس دن ہر ایک کے سامنے اس کی اس سعی و سرگرمی کے نتائج آجائیں گے جس میں وہ آج مصروف ہے۔ اہل ایمان اپنی جانبازیوں کا صلہ پائیں گے اور کفار و مشرکین اور ان کے اتحادی اپنی سرگرمیوں کے نتائج بھگتیں گے۔
ان اللہ علی کل شیء شھید اہل ایمان کے لئے پیام تسلی اور اہل شرک اور ان کے حامیوں کے لئے تہدید وعید ہے کہ خدا ہر چیز کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اپنے باایمان بندوں کی جانبازیوں اور سرفروشیوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور شرارتوں کو بھی۔ اس وجہ سے وہ ہر ایک کے ساتھ ٹھیک ٹھیک وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔
جو اہل ایمان کے ساتھ نہیں وہ اہل کفر ہیں
اس آیت میں آپ نے غور کیا ہوگا کہ سب سے پہلے اہل ایمان کا ذکر ہوا ہے اور آخر میں مشرکین کا اور بیچ میں دور سے مختلف فرقوں کا اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ ہے کہ اصل فریق کی حیثیت اس مباحثہ و مناظرہ میں انہی دو کو حاصل تھی، باقی گروہوں کی حیثیت ضمنی تھی۔ چناچہ آگے آیت 19 میں تصریح بھی ہے کہ اصل فریق دو ہیں۔ اہل ایمان اور اہل کفر و شرک۔ جو اہل ایمان کے ساتھ نہیں ہے وہ اہل کفر میں سے ہے، خواہ وہ کسی نام سے موسوم اور کسی دین کی پیروی کا مدعی ہو۔
اسم اور فعل کے مواقع استعمال میں ایک نازک فرق
آیت میں مختلف گروہوں کے ذکر کے لئے جو اسلوب بیان اختیار فرمایا گیا ہے وہ بھی قابل توجہ ہے۔ مسلمانوں اور یہود و مشرکین کا ذکر تو فعل کی شکل میں ہوا ہے اور صائبین، نصاریٰ اور مجوس کا اسم کی شکل میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عملاً اس میدان میں ایک طرف مسلمان تھے، دوسری طرف مشرکین اور یہود، یہود، مشرکین کی حمایت اور اسلام کی مخالفت میں اپنے حسد وعناد کے باعث بہت سگرم تھے۔ باقی فرقوں کی ہمدردیاں اگرچہ تھیں تو مشرکین ہی کے ساتھ لیکن وہ کچھ زیداہ سرگرم نہ تھے۔ اس وجہ سے معرکہ کے اصلی حریفوں کو تو فعل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور دورسوں کا ذکر اسم کے ساتھ۔ زبان کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ فعل کے اندر ایک قسم کی سرگرمی کا مفہوم پایا جاتا ہے جب کہ اسم بالعموم صرف علامت امتیاز کا فائدہ دیتا یہ۔
Ayah 22:18کائنات کی ہر چیز سجدے میں ہے
یہ توحید کی وہ دلیل بیان ہوتی ہے جس کی شہادت اس کائنات کی ہر چیز اپنے وجود سے دے رہی ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز اپنی تکوینی حیثیت میں ابراہیمی مزاج رکھتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ اور چوپائے سب خدا کے امروحکم کے تحت مسخر ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی سر مو خدا کے مقرر کئے ہوئے قوانین سے انحرام نہیں اختیار کرتی۔ سورج جس کو نادمانوں نے معبود نبا کر سب سے زیادہ پوجا ہے۔ خود اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ وہ شب و روز اپنے رب کے آگے قیام، رکوع اور سجدے میں ہے۔ طلوع کے وقت وہ سجدے سے سر اٹھاتا ہے۔ دوپہ تک وہ قیام میں رہتا ہے، زوال کے بعد وہ رکوع میں جھک جاتا ہے اور اس غروب کے وقت وہ سجدے میں گر جاتا ہے اور رات بھر اسی سجدے کی حالت میں رہتا ہے۔ اسی حقیقت کا مظاہرہ چاند اپنے عروج و محاق سے اور ساترے اپنے طلوع و غروب سے کرتے ہیں۔ پہاڑوں، درختوں اور چوپایوں کا بھی یہی حال ہے۔ ان میں سے ہر چیز کا سایہ ہر وقت قیام، رکوع اور سجود میں رہتا ہے۔ اور غور کیجیے تو یہ حقیقت بھی نظر آئے گی کہ اس سایہ کی فطرت ایسی ابراہیمی ہے کہ یہ ہمیشہ آفتاب کی مخالف سمت میں رہتا ہے۔ اگر سورج مشرق کی سمت میں ہے تو سایہ مغرب کی جانب پھیلے گی اور اگر مغرب کی جانب ہغے تو ہر چیز کا سایہ مشرق کی طرف پھیلے گا۔ گویا ہر چیز کا سایہ اپنے وجود سے ہمیں اس بات کی تعلیم دے رہا ہے کہ سجدہ کا اصل سزا وار آفاتب نہیں بلکہ خالق آفتاب ہے۔
توحید کی یہ دلیل اشارات کی نوعیت کی ہے اس وجہ سے یہ منطق کی گرفت میں نہیں آتی لیکن نظام کائنات میں تدبر کرنے والوں کی نظر میں ان اشارات کی بڑی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ ع
آ کس است اہل بشارت کہ اشارت داند
یہی دلیل سورة رعد میں یوں بیان ہوئی ہے۔
وللہ یجد من فی السموت والارض طوعاً و کرھاً و ظللھم بالغدود وا الاصال (وعد -15)
اور اللہ کی کو سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، خواہ طوعاً یا کرہاً اور ان کے سائے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں صبح و شام۔
اسی آیت کی وضاحت سورة رعد میں ہم کرچکے ہیں۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس میں ظللھم بالغدود والاصال کے الفاظ اس حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر کوئی شامت کا مارا اپنے دائرہ اختیار میں خدا کو سجدہ کرنے سے بغاوت کرنے سے بغاوت کرتا ہے تو اس کا اپنا سایہ اپنی شہادت حال سے اس پر اظہار نفرت کرتا ہے اور وہ بدسوتر اپنی ابراہیمی فطرت پر جما رہتا ہے، کسی حال میں بھی کسی غیر اللہ کے آگے جھکنے کا ننگ گوارا نہیں کرتا۔
سورة نحل میں یہی دلیل اس طرح بیان ہوئی ہے۔
(آیت أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ (48) وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلائِكَةُ وَهُمْ لا يَسْتَكْبِرُونَ (49)
کیا ان لوگوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے اس پہلو پر غور نہیں کیا کہ ان کے سائے داہنے اور بائیں سے لوٹتے ہیں اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہوئے اور وہ اس کے آگے سرفگندہ ہوتے ہیں اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں آسمانوں اور زمین میں جو جاندار بھی ہیں اور فرشتے بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
سب سے بڑا شرف سب سے بڑی ذلت
وکثیر من الناس ط وکثیر حق علیہ العذاب یعنی یہی حال ان بہت سے اللہ کے بندوں کا بھی ہے جن کی فطرت سلیم ہے۔ جس طرح کائنات کی تمام بےارادہ اشیاء اللہ ہی کے امر کے تابع ادراسی کے آگے سربسجود ہیں اسی طرح اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے اختیار و ارادے کو اللہ ہی کے امرو حکم کے تابع کردیا ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے لیکن بہتوں نے اپنے اس اختیار و ارادہ کو غلط استعمال کیا ہے اور اس سب سے بڑے شرف کو، جو اللہ نے ان کو بخشا، اپنی شامت اعمال سے انہوں نے اپنے لئے سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی ذلت کا سبب بنا لیا۔ کائنات کی چیزوں کا مال تو یہ ہے کہ باوجود یکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو انسان کی خدمت کے لئے بنایا ہے لیکن اس کے باوجود ان میں سے کوئی چیز بھی یہ ننگ گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ انسان کو سجدہ کیر لیکن انسان کی رذالت و سفاہت کا حال یہ یہ کہ وہ اشرف المخلوقات اور خلیفتہ اللہ فی الارض ہوتے ہوئے اپنے سے فرد تر مخلوقات کو معبودمان کر ان کے آگے ڈنڈوت کرتا ہے ! فرمایا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کا عذاب واجب ہوچکا ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنے کو بھی ذلیل کیا اور اپنے رب کی بھی نہایت تحقیر کی۔
انسان کا شرف کردار کے ساتھ مشروط ہے
ومن یھن اللہ فمالہ من مکرم ط ان اللہ یفعل مایشآء یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جو شرف بخشا ہے وہ صفات و کردار کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر وہ اس شرف کا حق ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے شرف کو قائم رکھتا ہے اور اس کے درجات و مراتب میں اضافہ فرماتا ہے اور اگر وہ اس کی قدر نہیں کرتا تو وہ اس کو اپنی سنت کے مطابق اسی گڑھے میں گرنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے جس میں وہ گرنا چاہتا ہے۔ نوتہ ماتولی اور اس مضمون کی دوسری آیات میں اسی سنت الٰہی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ اس سنت الٰہی کی زد میں آجاتے ہیں ان کو کوئی دوسرا سنبھالنے والا نہیں بن سکتا۔ اس میں پیغمبر ﷺ کے لئے تسلی بھی ہے کہ اب یہ لوگ جس ذلت کے گڑھے میں گر چکے ہیں اس سے ان کو نکالنے کے لئے تم لاکھ جتن کرو لیکن یہ اس سے نکلنے والے نہیں ہیں۔
خدا کی مشیت کا فیصلہ اس اتمام حجت کے بعد یہی ہے کہ اب یہ اس ذلت کی مار کھائیں۔
من چو لی سرانیم وطنبورہ من پہ لی سراید
اس آیت سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ انسان کا اصلی شرف توحید ہے۔ اگر وہ اس شرف سے اپنے کو محروم کرے تو اس کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے بھی وہ فرد تر اور حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ دوسری حقیقت اس سے یہ واضح ہوئی کہ اس کائنات کے ساتھ انسان کی ہم آہنگی اسی وقت تک باقی رہتی ہے جب تک اس کی پیشانی کسی غیر اللہ کے سجدے سے آلودہ نہیں ہوتی۔ اگر وہ اس ذلت پر راضی ہوجائے تو وہ اس پوری کائنات سے بالکل بےجوڑ اور گول خانے میں ایک چوکھٹی چیز بن کر رہ جاتا ہے یہاں تک کہ خود اس کا اپنا سایہ بھی اس کا ساتھ دینے سے انکار کردیتا ہے۔ پھر اس میں اور اس کے سایہ میں ایسی ربطی پیدا ہوجاتی ہے کہ اس پر من چہ می مریم و طنبورہ من چہ می سرایدہ کی مثل صادق آتی ہے۔