22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

سورة انبیاء ا ۔ سورة کا عمود اور زمانہ نزول یہ سورة مکی دور کی ان آخری سورتوں میں سے ہے جب مسلمانوں نے قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت شروع کردی تھی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے بھی ہجرت کا وقت بالکل قریب آچکا تھا۔ اس دور میں قریش کے لئے آخری انذار و تنبیہ کے ساتھ یہ سورة نازل ہوئی۔ اس میں ان کو خدا کے غضب سے ڈرایا گیا، توحید اور قیامت کی قطعیت نہایت مئوثر دلائل کے ساتھ واضح کی گئی اور حضرت ابراہیم کی دعوت اور بیت اللہ کے مقصد تعمیر کی روشنی میں ان پر یہ حقیقت واضح کی گئی کہ اس گھر کی تولیت کے اصل حقدار مشرکین نہیں بلکہ وہ مسلمان ہیں جن کو انہوں نے اس سے محروم کر رکھا ہے اور ان کو یہاں سے نکالنے کے لئے ان پر ہر قسم کے ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں۔ فتح مکہ کی طرف اشارہ تو پچھلی سورة کی آیت ٤٤ میں بھی گزر چکا ہے، اس سورة میں اس اشارے نے بالکل قطعی فیصلہ کی صورت اختیار کرلی ہے۔ اس میں قرش کو غدار اور غاصب قرار دے کر ان کو اس گھر سے بےدخل کئے جانے کی دھمکی اور مسلمانوں کو بشارت دی گئی کہ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے گا اور قریش کو اس سے بےدخل کر کے ان کو اس کا امین و متولی بنائے گا۔ یہ سورة مکی ہے یہ سورة اپنے مزاج و مطالب کے اعتبار سے مکی ہے۔ اس کی صرف چار آیات (41-38) ہجرت کے بعد کی ہیں جس میں مسلمانوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ اگر حج کے لئے جائیں اور کفار قریش ان کو بزور روکنے کی کوشش کریں تو ان کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مدافعت میں تلوار اٹھائیں۔ اللہ ان کی مدد فرمائے گا۔ یہ بات چونکہ اوپر والی بات ہی کی وضاحت کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے مصحف کی ترتیب میں ان آیات کو یہاں جگہ ملی تاکہ اس اجازت کی حکمت واضح ہوجائے کہ مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کا یہ حق اس لئے حاصل ہے کہ قریش کا خانہ کعبہ پر تسلط بالکل غاصبانہ ہے۔ اس کی تولیت کے اصلی حق دار مسلمان ہیں نہ کر قریش۔ انہی چند آیات کی بنا پر ہمارے مفسرین نے، اس سورة کی مکی یا مدنی ہونے کے باب میں اختلاف کیا ہے لیکن کسی مکی سورة میں چند مدنی آیتیں داخل ہو جان ی سے جب کہ ان آیات کی نوعیت بھی محض توضیحی آیات کی ہو، پوری سورة کو مدنی نہیں قرار دیا جاسکتا۔ بعض آیات سورة مزمل میں بھی ہیں حالانکہ وہ بالاتفاق مکی ہے۔ ہم آگے ان آیات کی تفسیر میں واضح کریں گے کہ ان کی حیثیت اجمال کے بعد تصریح کی ہے۔ ایک بات جو مکی زندگی کے آخری دور میں فرمائی گی تھی جب مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں اس کی تفصیل نازل ہوئی تو اجمال اور تفصلن دونوں کو ایک ساتھ رکھ دیا گیا۔ صاحب کشاف نے بھی اس سورة کو، باستثنائے چند آیات، مکی ہی قرار دیا ہے۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ (4-1) مخالفین قرآن کو انذار کہ خدا کی پکڑا اور قیامت کا عذاب بڑی ہی ہولناک چیز ہے۔ بغیر کسی دلیل کے خدا کے شریک و شفیع گمان کر کے قیامت سے بر پواہو بیٹھنا اور شیطان کی پیروی کرنا اپنی شامت کو دوت دینا ہے۔ شیطان کا اصلی کام، جس کے لئے خدا نے اس کو مہلت دی ہے، ہدایت دنیا نہیں ہے کہ اس کی پیروی کی جائے بلکہ یہ ہے کہ جو شامت زدہ لوگ اس کی پیروی کریں ان کو وہ سیدھے جہنم میں لے جا اتارے۔ (8-5) انسان کی خلقت اور زمین کے خشک و بےآب وگیاہ ہوجانے کے بعد از سر نو سرسبز و شاداب ہوجانے سے امکان معاد پر استدلال، یہ واضح کرنے کے لئے کہ جو لوگ قیامت کے باب میں شک میں پڑے ہوئے اور اس سے بےپروا ہیں، نہ خود اپنی خلقت کی نوعیت اور اس کی حکمتوں پر غور کر رہے ہیں اور نہ اس کائنات کے روز مرہ مشاہدات پر، دو آنکھیں کھولیں او مشاہدہ عذاب کے مطالبہ کے بجائے آفاق وانفس کی نشانیوں سے سبق حاصل کریں۔ قیامت کا آنا خدا کی صفات کا ایک بدیہی اور لازمی تقاضا ہے۔ وہ لاریب آ کے رہے گی۔ (16-9) ان لوگوں کی تردید جو اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر آخرت سے نچنت اور شرک کی حمایت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بحث و مباحثہ کے لئے ہر وقت آستینیں چڑھائے رہتے۔ اس امر کی وضاحت کہ شرک کے ساتھ خدا کی بندگی کا دعویٰ ایک بالکل لا طئل دعویٰ ہے۔ جو لوگ محض اپنی ظاہری منعفتوں ہی کے حد تک خدا کی بندگی اور اطاعت کرنا چاہتے ہیں، اس راہ میں کوئی امتحان پیش آجائے تو وہیں سے وہ کترا جاتے ہیں اور دوسرے آستانوں پر جبہ سائی شروع کردیتے ہیں، خدا کے ہاں ایسے دو دلوں اور منافقوں کی کوئی پوچھ نہیں ہے۔ ایسے لوگ خسر الدنیا والآخرۃ کے مصداق ہیں۔ یہ لوگ خدا کو چھوڑ کر اپنی نفعتوں کی خاطر جن کی طرف بھاگتے ہیں ان کا ضرر ان کی منفعت سے قریب تر ہے۔ نافع و ضار صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اگر کوئی خدا سے مایوس ہوتا ہے تو وہ آسمان میں تھونی لگا کر اپنی سی کر کے دیکھ لے کہ اس کی کوئی بڑی سے بڑی تدبیر بھی اس مشکل کو حل کرنے والی بنتی ہے ! (24-17) مسلمانوں کو تسلی اور تمام مخالف اسلام فرقوں اور گروہوں کو آگاہی کہ ہر ایک کا رویہ خدا کی نظر میں ہے۔ کسی کا کوئی قول و فعل بھی اس سے مخفی نہیں۔ بالاخر ایک دن سب کا معاملہ خدا کی عدالت میں پیش ہوگا۔ ایک طرف وہ لوگ ہوں گے جو آج خدا کی وحدانیت اور اس کے کلمہ حق کی دعوت دے رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنی بدعتوں سے خدا کے دین کو بگاڑا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ جو شرک و کفر کے مرتکب ہوئے ہوں گے ان سب کو جہنم میں داخل کرے گا اور جو توحید و ایمان پر قائم رہیں گے وہ جنت (37-25) اصل ملت ابراہیم اور بیت اللہ کے مقصد تعمیر کی وضاحت تاکہ مشرکین مکہ اور ان کے حامی اہل کتاب پر یہ حقیقت واضح کردی جائے کہ آج وہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم اور بیتا للہ کا جو وارثو متولی سمجھے بیٹھے ہیں اور اس زعم میں خدا کے رسول اور اس کے ساتھیوں پر انہوں نے اس گھر کے دروازے بند کر رکھے ہیں اور محض ان کی برخود غلطی اور دھاندلی ہے۔ حضرت ابراہیم نے اس گھر کو اس شرک و بت پرستی کے لئے نہیں بنایا تھا جس کا ایک گڑھ بنا کے اس کو رکھ دیا گیا ہے بلکہ انہوں نے اس کو صرف خدائے واحد کی عبادت اور اسی کے حج و طواف کا مرکز بنایا تھا۔ اس ضمن میں قربانی اور دوسرے شعائر و مناسک کی اصل روح کی طرف توجہ دلائی گئی تاکہ وراثت ابراہیمی کے یہ مدعی اپنا جائزہ لیں کہ حضرت ابراہیم کیا تعلیم دے گئے تھے اور انہوں نے ان کی تعلیم کو کس طرح مسخ کیا ہے اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ آج اللہ کے جو بندے ملت ابراہیم کا احیاء کر رہے ہیں ان کو یہ اس گھر سے نکالنے پر تلے ہوئے ہیں۔ (41-38) یہ چار آیتیں مدنی ہیں مسلمان، مدینہ سے ہجرت کو جانے کے بعد، جب ایک منظم جماعت بن گئے تب یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر وہ حج کیلئے جائیں اور کفار روکیں تو ان کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے ؟ یہ سوال اس وجہ سے بڑی اہمیت رکھتا تھا کہ اشہر حرم اور خاص طور پر حدود حرم میں جنگ زمانہ جاہلیت میں بھی حرام سمجھی جاتی تھی۔ قریش اشہر حرم اور حرم کی اس حرمت کو اپنے لئے ایک سپر بنائے ہوئے تھے اور مسلمان بھی اس حرمت کے منانی کوئی اقدام کرنے کی جرأت اس وقت تک نہیں کرسکتے تھے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو اجازت نہ ملے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ اجازت دے دی کہ اگر اس طرح کی کسی جنگ کی نوبت آئے تو تم بھی جنگ کرو۔ یہ جنگ اشہر حرم یا حرم کی حرمت کے منافی نہیں ہے بلکہ یہ بیت اللہ کی تطہیر کے لئے ایک مقدس جہاد ہے اور اگر تمہیں قوت حاصل ہو تو تو بیت اللہ کو اس کے غاصب قابضوں سے آزاد کرانا تمہارا فریضہ ہے۔ ساتھ ہی جہاد کی یہ حکمت بھی واضح فرما دی کہ اگر اس طرح کی جنگ بھی تقویٰ کے منای سمجھی جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ تمام مساجد، جو اللہ واحد کی عبادت کے لئے تعمیر ہوئیں، کفار و شیاطین کے حوالے کردی جائیں کہ وہ ان کو ڈھا کر رکھ دیں یا ان کو بت خانہ بنا ڈالیں۔ اس وجہ سے مسلمانوں کو اس جنگ سے نہ ہچکانا چاہئے نہ مخالفوں کے طعنوں کی پروا کرنی چاہئے۔ اگر اس راہ میں جنگ پیش آئی تو ان کی قلت تعداد اور بےسروسامانی کے باوجود، خدائے قوی و عزیز ان کی مدد فرمائے گا تاکہ جب ان کو سر زمین حرم میں اقتدار حاصل ہو تو وہ اس کو شرک و کفر کی تمام نجاستوں سے پاک کر کے اس کے ان مقاصد کا احیاء کریں جن کے لئے حضرت ابراہیم نے ان کو آباد کیا تھا۔ تطہیر بیت اللہ کے لئے جہاد کی یہ اجازت چونکہ اسی بات کا ایک لازمی نتیجہ تھی جو اوپر والے پیرے میں بیان ہوئی کہ قریش کا اس گھر پر قبضہ غاصبانہ ہے، انہوں نے اس کے مقاصد برباد کر کے رکھ دیئے ہں، اس وجہ سے جب یہ آیتیں نازل ہوئیں تو گویہ نازل مدینہ میں ہوئیں لیکن ترتیب میں ان کو جگہ یہاں دی گئی تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ صورت حال کے تقاضے سے یہ اجازت دی گئی۔ (52-42) تاریخ کی شہادت کہ اللہ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے ان کی قوموں کو جو تہدید فرمائی وہ بالآخر پوری ہو کے رہی کوئی قوم بھی اپنے رسول کی تکذیب کے بعد صفحہ ارض پر قائم نہ رہ سکی۔ صرف ان کی عظیم عمارتوں کے کھنڈر باقی رہ گئے جو عبرت کے لئے کافی ہیں بشرطہکذ نہ دیکھنے والی آنکھیں ہوں لیکن جن کے دل اندھے ہوچکے ہوں ان کا علاج کسی طبیب کے پاس بھی نہیں ہے۔ جو لوگ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے تھے ان کو جواب کہ خدا کی تقویم تمہاری تقویم سے مختلف ہے۔ اس کے ہاں جکا ایک دن تمہارے ہزار سالوں کی طرح ہے تو جلدی نہ مچائو خدا کی بات پوری ہو کے رہے گی۔ خدا نے جس طرح پچھلی قوموں کو مہلت دی اسی طرح تمہیں بھی مہلت دی ہے لیکن جس طرح ان پر عذاب آ کر رہا اسی طرح تم پر بھی، اگر تم اپنی ہٹ سے باز نہ آئے، عذاب آ کے رہے گا۔ رسول کا کام انذار وتبشیر ہے۔ عذاب کا فیصلہ خدا کے اختیار میں ہے۔ (57-53) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی کہ تمہایر یہ مخالفین تمہاری دعوت کی مخالفت میں جو جھاڑ کے کانٹے کی طرح تمہارے پیچھے پڑگئے ہیں، رسولوں کی تاریخ میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر رسول کو اسی طرح کے حالات سے سابقہ پیش آیا ہے۔ جب کبھی کسی رسول یا نبی نے اصلاح احوال کی راہ میں کوئی حوصلہ کیا ہے شیاطین نے اسی طرح اس کے حوصلہ کی راہ مارنے کی کوشش کی ہے اور اس میں اڑنگے ڈالے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ہمیشہ شیاطین کی وسوسہ اندازیوں کو مٹاتا اور اپنی باتوں کو غالب و فتحمند کرتا رہا ہے۔ شیاطین کو اللہ نے وسوسہ اندازی و خاک بازی کی یہ مہلت اس لئے دی ہے کہ یہ چیز حق کے سچے حامیوں اور بوالہوسوں میں وجہ امتیاز ہو جو لوگ حق کے طالب ہوتے ہیں شیاطین کے پروپیگنڈے سے ان کا ایمان نکھرتا اور ان کا علم پختہ ہوتا ہے اور جو بوالہوس اور منافق ہوتے ہیں ان کی ضلالت پختہ سے پختہ تر ہوجاتی ہے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ ان کے اور اہل حق کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ جو اہل حق ہوں گے اس امتحان سے گزرنے کے بعد آخرت کی بادشہی کے وارث ہوں گے اور اہل باطل جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ (64-58) جو لوگ اس دور میں ہجرت کرچکے تھے یا اس کے لئے پابرکاب تھے ان کو دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کی بشارت اور خدا کی صفات اور آفاق کی شہادت سے اس بشارت کی تائید کے دلائل۔ (70-65) کفار کی طرف سے مطالبہ عذاب کے باوجود ان کو جو مہلت ملی ہوئی تھی اس کی حکمت کی طرف اشارہ کہ خدا رحمت کرنے میں جلدی کرتا ہے، قہر کرنے میں وہ بڑا دھیما ہے۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت کہ اب تم ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ خدا قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور یہ چیز خدا کے لئے نہایت آسان ہے۔ (76-71) شرک اور شفاعت باطل کے نظریہ پر آخری ضرب تاکہ مشرکین پر یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ جن شرکاء و شفعاء کے اعتماد پر وہ آخرت سے بےپروا ہیں وہ خدا کی عدالت میں ذرا بھی ان کے کام آنے والے نہیں ہیں۔ (78-77) خاتمہ سورة جس میں مسلمانوں کو بحیثیت جماعت خطاب کر کے خدا کی عبادت اور اس کی راہ میں جہاد کی تاکید فرمائی گئی ہے کہ اب ملت ابراہیم کے وارث تم ہو، خدا نے تم کو مسلم کے لقب سے ممتاز فرمایا اور اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ خدا کے رسول نے جس طرح تم پر حق کی گواہی دی اسی طرح تم خلق پر حق کی گواہی دینے والے بنو۔ نماز و زکوۃ کا اہتمام کرو، خدا پر جمے رہو۔ وہی تمہارا مولیٰ ہے اور وہ بہترین مددگار ہے۔ “ مطالب کا یہ تجزیہ پوری سورة کا نظام واضح کردینے کے لئے کافی ہے۔ اب ہم اللہ کا نام لے کر سورة کی تسیر شروع کرتے ہیں۔ وبید اللہ التوفیق

Ayah 22:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ١ۚ اِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْءٌ عَظِیْمٌ Open ayah 22:1 in the Quran reader

اے لوگو ! اپنے خدا ند سے ڈرو بیشک قیامت کی ہلچل بڑی ہی ہولناک چیز ہے

یایھا الناس کا خطاب اگرچہ عام ہے لیکن مراد اس سے وہی متمر دین قریش ہیں جو قیامت کی تکذیب کر رہے تھے اور عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے تھے۔ فرمایا کہ اپنے رب سے ڈرو، اس نے اپنی عنایت سے جو مہلت دے رکھی ہے اس کو غنیمت جانو اور اس سے فائدہ اٹھائو۔ وہ اپنی رحمت ورافت کے سبب سے و یرگیر ضرورے لیکن بڑا ہی سخت گیر بھی ہے۔ قیامت کو سہن چی نہ سمجھو کہ اس ڈھٹائی کے ساتھ اس کا مطالبہ کر رہے ہو۔ اس کی ہلچل بڑی ہی ہولناک ہوگی۔ وہ پناہ مانگنے کی چیز ہے۔ مطالبہ کرین کی چیز نہیں ہے !
Ayah 22:2

یَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ Open ayah 22:2 in the Quran reader

جس دن تم اسے دیکھو گے اس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ اپنا حمل ڈال دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہے ہی بڑی ہولناک چیز !

قیامت کی ہولناکی کی تصویر یہ اس دن کی ہولناکی کی تصویر ہے کہ وہ دن ایسی نفسی نفسی کا ہوگا کہ کسی کے اعوان و انصارا اور اس کے اخوان و اقرباء اس کے ذرا کام نہ آئیں گے۔ اس دن مرضعہ جس کو اپنا بچہ جان سے زیادہ عیز ہوتا ہے، اپنے بچے کو بھول جائے گی اور حاملہ دہشت کے سبب سے اپنا حمل ڈال دے گی۔ لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ بالکل مدہوش اور متوالے ہو رہے ہوں گے۔ لیکن یہ مدہشوی شراب کے نشہ کی نہیں ہوگی بلکہ عذاب الٰہی کی ہولناکی سب کو پاگل بنا کے کھ دے گی ! آیت میں ایک ہی ساتھ مخاطب کے لئے جمع اور واحد دونوں کے صیغے استعمال ہوئے ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ جمع کے لئے جب واحد کا صیغہ استعمال ہوتا ہے تو مخاطب گروہ کا ایک ایک شخص فرداً فرداً مراد ہوتا ہے اور اس میں جمع کے بالمقابل زیادہ زور ہوتا ہے۔
Ayah 22:3

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّبِعُ كُلَّ شَیْطٰنٍ مَّرِیْدٍۙ Open ayah 22:3 in the Quran reader

اور لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بغیر کسی علم کے خدا کی توحید کے باب میں کٹی حجتی کرتے اور ہر سرکش شیطان خبیث کی پیروی کرتے ہیں

ایک خاص اسلوب بیان ومن الناس من کے اسلوب بیان میں جب کوئی بات کہی جاتی ہے تو اس سے مقصود عام میں سے خاص کا ذکر ہوتا ہے۔ اگر موقع و محل تحسین کا ہو تو یہ اسلوب تحسین کے لئے بھی آتا ہے اور اگر موقع و محل تفبیح کا ہو، جیسا کہ یہاں ہے تو اس سے تقبیح کی شدت نمایاں ہوگی۔ اگر اس اسلوب کو اپنی زبان میں ادا کرنا چاہیں گے تو کہیں گے کہ لوگوں میں ایسے جاہل، احمق اور بدھو بھی ہیں جو یوں کہتے یا یوں کرتے ہیں۔ یہ خاص طور پر اس گروہ کا ذکر ہے جو آنحضرت ﷺ کی دعوت، خاص طور پر توحید کی مخالفت میں، ہر وقت مناظرہ و مجادلہ کے لئے آستینیں چڑھائے رہتا تھا۔ اس طرح کے لوگ کسی معاشرہ میں بھی تعداد میں بہت زیادہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا ایک خاص طائفہ ہی ہوتا ہے۔ ان کا علم بھی بس سنی سنائی اور ٹی رٹائی باتوں پر مبنی ہوتا ہے لیکن زبان درازی میں طاق اور لاف زنی میں مشاق ہوتے ہیں اس وجہ سے شاطر لوگوں کے ایجنٹ بن کر بےچارے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کی خدمت خوب انجام دیتے ہیں۔ مجادلہ بغیر علم کے یجادل فی اللہ بغیر علم فی اللہ سے مراد فی توحید اللہ ہے اس لئے کہ کفار عرب خدا کے منکر نہیں تھے۔ وہ صرف خدا کی توحید کے منکر تھے اور توحید کے انکار کے لئے ان کے پاس دین آباد کی اندھی تقلید کے سوا کوئی دلیل نہیں تھی۔ آگے آیت 8 میں وضاحت آئے گی کسان کے پاس اللہ کے دین کا کوئی علم تھا، نہ عقل و فطرت کی کوئی ہدایت نہ کوئی قرآن و کتاب، بس یونہی، بغیر کسی دلیل اور علم کے، خدا کی توحید کے بارے میں مناظرہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ پیشہ ور مناظروں کے پاس زبان درازی کے سوا اور کوئی علم نہیں ہوتا۔ یہ صرف اپنے فعال و مفصل لیڈروں سے الہام حاصل کرتے ہیں اور گلی گلی میں ان کا ڈھول پیٹتے پھرتے ہیں۔ شیطان سے مراد شیاطین جن و انس، دونوں ہیں ویتبع کل شیطن مرید شیطان سے مراد شیاطین جن و انس دونوں ہیں۔ لفظ کل اس مفہوم کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ شیاطین جن اور شیاطین انس دونوں میں بڑا گہرا گٹھ جوڑ ہوتا ہے۔ شیاطین جن، شیاطین انس ہی کو اپنی فتنہ انگیزیوں کا ذریعہ بناتے ہیں۔ شیاطین جن القا کرتے ہیں اور شیاطین انس ان کے القاء کو مختلف ناموں سے ایک فلسفہ بناتے اور پھر اولاد آدم کو گمراہ کرنے کے لئے اس کو تمام ذرائع سے پھیلاتے ہیں۔ قرآن نے اس طرح کے تمام ائمہ ضلالت کے لئے شیطان ہی کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مرید کے معنی مرید کے معنی شریر و خبیث اور متعری عن الخیر یعنی لاخیرے کے ہیں۔ شیطین خواہ شیاطین جن ہوں یا شیاطین انس، ظاہر تو ہوتے ہیں ہمیشہ خیر خواہ، ناصح، ہمدرد اور بہی خواہ قوم و وطن کے بھیس میں لیکن درحقیقت وہ نہایت ہی خبیث و شریر اور بالکل لاخیرے ہوتے ہیں۔ وہ خدا کے بندوں کو خدا کی راہ سے ہٹا کر اپنی ڈگر پر ڈال دیتے ہیں اور جو لوگ ان کے نقیب و پائوش بن کر ان کے فتنوں کے پھیلانے میں ان کے آلہ کار بن جاتے ہیں ان کو اپنے سمیت جہنم کا فرزند بنا دیتے ہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ خدا کی توحید کے بارے میں ہمارے پیغمبر سے مباحثے اور مناظرے کر رہے ہیں وہ ایسے ہی خبیث اور لاخیرے شیطانوں کے پیرو ہیں۔ قیامت کے ذکر کے ساتھ توحید کے ذکر کی حکمت قیامت کے ذکر کے ساتھ یہ معاً توحید کا ذکر اس لئے ہے کہ درحقیقت قیامت کی ساری اہمیت توحید کے ساتھ ہی ہے۔ اگر خدا کے ساتھ اس کے شرکاء و شفعاء کا وجود تسلیم کرلیا جائے تو قیامت کی ساری اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی روز عدالت ہے تو اس سے کیا اندیشہ ہوسکتا ہے اگر ایسے شرکاء و شفعاء موجود ہیں جو اپنے زور و اثر یا سعی و سفارش سے اپنے نام لیوائوں کو خدا کی پکڑ سے بچا سکتے ہیں ! اسی وجہ سے قرآن میں قیامت اور رد شرک دونوں مضمون ہمیشہ ساتھ ساتھ بیان ہوتے ہیں تاکہ لوگوں پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح کردی جائے کہ خدا کی پکڑ سے کوئی بھی کسی کو بچانے والا نہیں بن سکے گا۔ سب کا معاملہ اسی کے حضور میں پیش ہوگا اور وہی تنہا ہر ایک کا فیصلہ فرمائے گا۔
Ayah 22:4

كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ Open ayah 22:4 in the Quran reader

جس کی یہ ڈیوٹی ہی مقرر ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا وہ اس کو گمراہ کر کے رہے گا اور اس کی رہنمائی وہ عذاب دوزخ کی طرف کرے گا

شیطان کی ڈیوٹی قرآن میں جگہ جگہ یہ بات تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے کہ شیطان نے قیامت تک کے لئے بنی آدم کو گمراہ کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے مہلت لی ہے اور اللہ نے اس کو یہ مہلت دی ہے کہ جاء جو تجھے اپنا دوست، مددگار اور رہنما بنائیں ان کو گمراہ کرے، میں ان کو اور تجھ کو سب کو جہنم میں جھونک دوں گا۔ اسی حقیقت کو یہاں کتب علیہ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی یہ شیطان کی خدا کی طرف سے ایک مقررہ ڈیوٹی ہے کہ جو اس کو درست بنائیں ان کو دو مگر اہ اور جہنم کی طرف ان کی رہنمائی کرے۔ فانہ کا عطف انہ پر ہے اور من تولاہ بطور بیان شرط کے ہے یعنی شیطان کا یہ فریضہ کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرے اور ان کو جہنم کی راہ دکھائے بایں شرط مشروط ہے کہ جو لوگ اس کو اپنا ولی و کار ساز بنائیں گے صرف وہی اس کے دام میں شکار ہوں گے۔ خدا کے ان بندوں پر اس کا کوئی زور نہیں چلے گا جو اس کو اپنا دشمن سمجھیں گے اور ہمیشہ اس کے فتنوں سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے یہ کہا جائے کہ زہر کا تو کام ہی یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ہلاک کرے۔ احمق ہیں وہ جو اس کو تریاق سمجھیں اور نگل لیں۔ شیطان کو خدا نے جو مہلت دی ہے وہ لوگوں کے امتحان کے لئے دی ہے اس کو لیڈر بنانے اور اس سے الہام حاصل کرنے یا اس کی پیروی کے لئے نہیں دی ہے۔
Ayah 22:5

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَیْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَیِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ نُقِرُّ فِی الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ وَ تَرَى الْاَرْضَ هَامِدَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ وَ اَنْۢبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍ Open ayah 22:5 in the Quran reader

اے لوگو ! اگر تم دوبارہ جی اٹھنے کے باب میں شبہ میں ہو تو دیکھو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر منی کے ایک قطرے سے، پھر ایک جینن سے، پھر ایک لوتھڑے سے، کوئی کامل ہوتا ہے اور کوئی ناقص۔ ایسا ہم نے اس لئے کیا تاکہ تم پر اپنی قدرت و حکمت اچھی طرح واضح کردیں اور ہم رحموں میں ٹھہرا دیتے ہیں جو چاہتے ہیں ایک مدت معین کے لئے۔ پھر ہم تم کو ایک بچہ کی شکل میں برآمد کرتے ہیں، پھر ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں سے بعض پہلے ہی مر جاتے ہیں اور بعض بڑھاپے کی آخر حد کو پہنچتے ہیں تاآنکہ وہ کچھ جاننے کے بعد کچھ بھی نہیں جانتے۔ اور تم زمین کو بالکل خشک دیکھتے ہو تو جب ہم اس پر پانی برسا دیتے ہیں تو وہ لہریں لینے لگتی اور اپجتی ہے اور طرح سرح کی خوش نما چیزیں اگاتی ہے

آگے کا مضمون …… آیات 24-5 آگے قیامت اور توحید کے اسی مضمون کو جو تمہیں کی آیات میں بیان ہوا، ایک نئے رنگ سے لیا اور انسان کی خلقت کی نوعیت، اس کائنات کے مشاہدات اور ان مشاہدات سے اس کائنات کے خالق کو جو صفات ہر عاقل کے سامنے آتی ہیں، ان سے قیامت اور توحید پر دلیل قائم کی ہے اور یہ دکھایا ہے کہ اگر انسان غور کرے تو قیامت اور توحید کے دلائل خود اس کے اپنے وجود اور اس کے اپنے ہی گرد و پیش میں موجود ہیں۔ اس کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ احمق ہیں وہ جو ایسے بدیہی حقائق کا انکار اور ان کے بارے میں حجتیں کرتے ہیں۔ اسی ضمن میں ان لوگوں کو بھی لیا، جو خدا کی بندگی اپنے شرائط پر کرنا چاہتے تھے۔ جہاں تک ان کے زعم میں خدا کے احکام ان کی خواہشوں اور اپنے مصالح کے خلا سمجھتے ان سے وہ گریز کرتے۔ اسی طرح کے دو دلوں اور منافقوں کا ایک گروہ اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر اس دور میں پیدا ہوگیا تھا جو خدا اور شیطان، کفر اور اسلام دونوں کو جمع کرنے کا خواشہمند تھا۔ اگرچہ اس گروہ کا رویہ کھلے ہوئے معاندین کے مقابل میں بظاہر روا دارانہ تھا لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ رویہ بھی شرک بلکہ نہایت گھنائونا شرک سے اس وجہ سے قرآن نے یہاں اس پر بھی ضرب لگائی کہ اس دوزخی پالیسی کی خدا کے دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جو لوگ نفع و ضرر دونوں خدا کے ہاتھ میں نہیں مانتے اور نرم گرم ہر طرح کے حالات میں خدا ہی کی بندگی نہیں کرنا چاہتے وہ اپنی پسندیدہ روش اختیار کریں لیکن یاد رکھیں کہ ان کی کوئی بڑی سے بڑی تدبیر بھی، خدا کی مرضی کے بدوں، ان کے کام آنے والی نہیں بن سکتی۔ آخر میں اس کشمکش حق و باطل کے دونوں فریق … اہل ایمان اور حامیان کفر و شرک … کے انجام کا ذکر فرمایا کہ ایک دن آنے الا ہے جس میں فریقین کا معاملہ خدا کی عدالت میں پیش ہوگا اور دونوں اپنے اپنے عقیدہ اور عمل کے مطابق سزا یا انعام پائیں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ قیامت کا مشاہدہ اپنے اندر اور باہر فی ریب من البعث، قیامت کے باب میں مشرکین عرب کی روش مریح انکار کی نہیں بلکہ شک اور تردد ہی کی تھی۔ وہ اس کو ایک بہت ہی بعید چیز خیال کرتے تھے اور اس استبعاد کی بڑی وجہ ان کے نزدیک یہ تھی کہ مرکھپ جانے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا ان کے خیال میں بہت بعید از قیاس بات تھی۔ اپنے اس واہمہ کے سب سے اول تو قیامت کو وہ کوئی اہمیت دیتے ہی نہیں تھے اور اگر ایک مفروضہ کے درجہ میں اس کو مانتے بھی تھے تو ان کو اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر یہ اعتماد تھا کہ وہ اپنی سفارش سے ان کو خدا کی باز پرس سے بچا لیں گے۔ قرآن نے قیامت کا جب اس شد و مد سے ذکر کیا کہ وہی اس زندگی اور اس کائنات کی اصل غایت قرار پا گئی اور ساتھ ہی ان کے تمام شرکاء و شفعاء کو بھی بےحقیت ثابت کردیا تو یہ چیز ان پر بہت شاق گزری۔ انہیں محسوس ہوا کہ ان کی ساری عمارت بالکل ریت پر ہے۔ اس کو بچانے کے لئے ان کے پاس واحد حربہ صرف یہ رہ گیا کہ وہ آنحضرت ﷺ کو زچ کرنے کے لئے یہ مطالبہ کرتے کہ اگر قیامت ایسی ہی یقینی چیز ہے تو وہ اس کو دکھا دیں یا اس کی کوئی ایسی حسوس نشانی بشکل عذاب دکھائیں جس کے بعد وقوع قیامت میں کسی شبہ کی گنجائش باقی نہ ہے۔ قرآن نے ان کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر ان کو خود ان کے اپنے وجود اور اس دنیا میں روز مرہ کے مشاہدات کی طرف توجہ دلائی کہ قیامت اور توحید کی دلیل ڈھونڈھنے کے لئے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خدا نے انسان اور اس کائنات کو بنایا ہی اس طرح ہے کہ جو شخص آنکھیں رکھتا ہے وہ اپنے اندر اور باہر ہر وقت خدا اور قیامت کا مشاہدہ کرسکتا ہے۔ علقہ کے معنی فانا خلقنکم من تراب ثم من نطفۃ ثم من علقۃ ثم من مغضہ مخلقۃ و غیر مخلمۃ لنبین لکم، علقۃ خون کی پھٹکی جو بھی کہتے ہیں اور چھوٹے جاندار کیڑے کو بھی۔ یہ نطفہ کے قرار پا جانے کے بعد کا درجہ ہے جب وہ خون اور ایک جنین کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور اس کے اندر زندگی کی نمود پیدا ہوجاتی ہے۔ مضغۃ کے معنی مضغۃ گوشت کے لوتھڑے کو کہتے ہیں۔ یہ علقۃ کے بعد کا مرحلہ ہے جب جننخ گوشت کے ایک لوتھڑے کی شکل میں ایک جسم کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس مضقۃ کی بابت فرمایا کہ ان میں سے بعض کا ڈیزائن بالکل مکمل ہوتا ہے اور بعض کو قدرت نامکمل ہی چھوڑ دیتی ہے اور کسی کے بس میں بھی یہ نہیں ہے کہ اس کو مکمل کر دے۔ انسان کی اپنی خلقت ایک درس گاہ پر لنبین لکم یہ وہ اصل مقصد ہے جس کے لئے انسان کی خلقت کے ان مراحل کی طرف توجہ دلائی گئی ہے مطالب یہ ہے کہ خدا انسان کو وجود میں لانے کے لئے ان تمام مراحل اور اس سارے اہتمام کا محتاج نہیں تھا کہ پانی کی ایک بوند کسی مادہ کے رحم میں قرار پکڑے، پھر وہ خون اور جنین کی صورت اختیار کرے اور قدرت اپنے ڈیزائن کے مطابق اس کی نقاشی و مصوری کر کے اس کو حسین پیکر بنائے۔ اس تمام اہتمام وا نتظام کے بغیر اگر خدا چاہتا تو بنے بنائے آدمی کسی دریا یا پہاڑ سے جھنڈ کے جھنڈ اور ریوڑ کے ریوڑ برآمد ہوجایا کرتے لیکن خدا نے یہ چاہا کہ انسان کی خود اپنی خلقت اس کے لئے خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کی ایک درس گاہ بن جائے۔ جس میں وہ اپنے اور اس کائنات کے احسن الخالقین کی معرفت حاصل کرے۔ اس کا خود اپنا وجود اس پر شہادت دے کہ جس نے اس اہتمام و عنایت کے ساتھ اس کو پیدا کیا ہے اس نے اس کو محض ایک کھلونا نہیں بنایا ہے بلکہ اس کی خلقت کے پیچھے ایک عظیم غایت ہے، جو لازماً ظہور میں آ کے رہے گی۔ اس کے اپنے ہر بن مو سے اس کو یہ گواہی ملے کہ خالق نے اس کو مٹی کے خلاصہ اور پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا اور اس کو اس میں کوئی زحمت پیش نہیں آئی تو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا بھی اس کے لئے نہایت آسان ہے۔ بعینیہ یہی مضمون سورة مومنوں میں اس طرح بیان ہوا ہے۔ آیت (المومنون 16-12-:23) اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کیا، پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک قرار کی جگہ میں رکھا، پھر ہم نے پانی کی بوند کو جنین کی شکل دی پھر جنین کو ایک لوتھڑا بنایا، پس لوتھڑے کے اندر ہڈیں ا پیدا کیں، پھر ہڈیوں کو گوشت کا جار پہنایا، پھر اس کو ایک بالکل ہی مختلف مخلوق کی شکل میں مشکل کرو ! پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ بہترین پیدا کرنے والا۔ پھر اس کے بعد تم لازماً مرو گے، پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جائو گے۔ سورة مومنوں کی اس آیت میں وہ خلاصہ بھی سامنے رکھ دیا ہے جس پر انسان کی خلقت کے یہ تمام مراحل شہادت دے رہے ہیں لیکن ہمارے دور حاضر کے فلسفیوں اور سائنسدانوں کا یہ عجیب اندھا پن ہے کہ انہیں انسان کی خلقت کے یہ تمام مراحل و مدارج تو نظر آتے ہیں لیکن اس اصل حقیقت تک ان کی نظر نہیں پہنچتی جس کو واضح ہی کے لئے خدا نے یہ سارا اہتمام فرمایا۔ ونقر فی الارحام ما نشآء الی اجل مسمی ثم نخر جکم طفلاً ابھی اصل سلسلہ کلام پورا نہیں ہوا تھا کہ بیچ میں لنبین لکم کا ٹکڑا اچانک مخاطبوں کو جھنجھوڑنے کے لئے آگیا تھا کہ بلاوت کے سب سے وہ سو نہ ہو رہے ہوں۔ ان کو جھنجھوڑنے کے بعد پھر اصل سلسلہ کلام کو لے لیا۔ فرمایا کہ اس کے بعد ایک مدت کی تک اس کو رحم میں ہم ٹھہراتے ہیں کہ وہ ایک پورے بچے کی شکل اختیار کرے۔ مانشآء یعنی یہ کلیتہ ہاری سیت پر منحصر ہے کہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی خوبصورت ہو یا بدصورت ناقص ہو یا کامل، کسی دوسرے کے اختیار میں یہ نہیں ہے کہ وہ لڑکی کو لڑکا بنا دے یا بدصورت کو خوب صورت انی اجل مسمی یعنی اسی طرح وضع حمل کے لئے ہم نے ایک مدت ٹھہرا دی ہے اور یہ چیز بھی کلیتہ ہمارے ہی اختیار میں ہے، کسی کے بس میں نہیں ہے کہ ہماری مقرر کی ہوئی مدت میں کوئی تغیر و تبدل کر دے۔ ثم لتبلغوا اشدکم یہاں ل اس بات کا قرینہ ہے کہ اس سے پہلے فعل مخدوف ہے۔ اس کی متعدد مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں اور سورة مومن آیت 67 بھی اس کی نہایت واضح مثال آئے گی۔ یعنی بچہ کی شکل میں تمہیں وجود بخشنے کے بعد ہم تمہیں ایک وقت دیتے ہیں کہ تم اپنی جوانی اور پختگی کو پہنچو اور یہ قانون بھی ہمارا ہی بنایا ہوا ہے، کسی کی مجال نہیں کہ وہ بچپن اور مراہقہ کے مراحل کو لانگ کر جوانی کے حدود میں قدم رکھ دے۔ ومنکم من یتونی ومنکم من یردا الی ارذل العمر یہاں تقابل کے اصول پر، بر بنائے وضاحت قرینہ، پہلے ٹکڑے میں فی صیاہ اوفی شبابہ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذف ہیں اور دور سے ٹکڑے میں ارذل العمر، کے الفاظ اس حذف کو واضح کر رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کتنے تو اپنے بچپن یا جوانی ہی میں مر جاتے ہیں اور کتنے ایسے ہوتے ہیں جو بڑھاپے کی آخری منزل تک پہنچتے ہیں اور یہ امر بھی کلیتہ خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ کوئی شخص اپنی مدت حیات میں نہ کمی کرسکتا ہے نہ بیشی۔ ل غایت و نہایت کے مفہوم ہیں لکیلا یعلم من بعد علم شیاً ل غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ اس کا ترجمہ یہاں تک یا آنکہ ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ علم کی تنکیر تحقیر کے لئے بھی ہو سکتی ہے اور تفخیم کے لئے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مفہمو یہ ہوگا کہ وہ ایسی ارذل عمر کو پہنچ جاتا ہے کہ تھوڑا بہت علم ہو اس کو حاصل ہوا ہوتا ہے وہ بھی غائب ہوجاتا ہے۔ دوسری صورت میں مفہوم یہو گا کہ وہ بہت کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ بھی نہیں جانتا، ہر چیز اس کے حافظہ سے محو ہوجاتی ہے۔ ہم پہلے مفہم کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ قرآن کے نظائر سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ فرمایا ہے ان اوتیتم من العلم الا قلیلاً (تمہیں تو بس تھوڑا ہی علم عطا ہا ہے) اصل حقیقت یہی ہے کہ انسان چاہے سقراط و بقراط ہی کیوں نہ بن جائے لیکن علم کے بحر بیکراں کا ایک قطرہ ہی ہے جس کا وہ حامل بنتا ہے۔ اس سے زیادہ کے لئے وہ اپنے اندر ظرف ہی نہیں رکھتا اور اس علم کا بھی حال یہ ہے کہ عمر کے ایک خاص حصہ میں وہ سب سلب ہوجاتا ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اپنے علم پر بھی کسی کو غرہ نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بھی خدا ہی کی دین ہے، وہی بخشات ہے اور وہ جب چاہے اس کو چھین سکتا ہے۔ ایک نظر عالم خارج پر وتری الارض ھامدۃ فاذآ انزلنا علیھا المآء اھتزت و ربت واتبتت من کل زوج بھیج انسان کی خلقت کے اندر قیامت کے جو دلائل ہیں ان کی طرف توجہ دلانے کے بعد اس کو باہر کی دنیا کی طرف توجہ دلائی کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین بالکل خشک اور بےآب و گا یہ ہوتی ہے۔ پھر جب اس پر بارش ہوتی ہے تو وہ زم و گداز ہوجاتی اور نوع بنوع خوشنما نباتات سے لہلہا اٹھتی ہے۔ مطلب ہے کہ جب اس زمین کو بار بار مرتے اور جیتے دیکھتے ہو تو آخر اسی زمین سے اپنے ہی دوبارہ جی اٹھنے کو کیوں بعید از امکان سمجھتے ہو ! ہر فصل و موسم میں یہ ریہرسل تو تمہارے سامنے اسی غرض سے ہو رہا ہے کہ قیامت کا مشاہدہ اس کے ہونے سے پہلے ہی تمہیں ہوتا رہے۔ لنبین لکم کے الفاظ یہاں مقدر ہیں۔ چونکہ یہ نشانی بالکل واضح تھی اس وجہ سے یہاں اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں تھی۔
Ayahs 22:6–7

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّهٗ یُحْیِ الْمَوْتٰى وَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌۙ Open ayah 22:6 in the Quran reader

یہ سب کچھ اس لئے کہ اللہ ہی پروردگار حقیقی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَّ اَنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ لَّا رَیْبَ فِیْهَا١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ Open ayah 22:7 in the Quran reader

اور قیامت آ کے رہے گی، اس کے آنے میں ذرا شبہ نہیں اور اللہ ان سب کو ایک دن زندہ کر کے اٹھائے گا جو قبروں میں ہیں

آیت (7-6) خلاصہ بحث شروع سورة سے لے کر یہاں تک جو کچھ بیان ہوا ان آیات میں اس کا خلاصہ سامنے رکھ دیا۔ یعنی خدا اور قیامت سے تمہیں ڈرتے رہنے کی یہ ہدایت جو کی جا رہی ہے اس لئے کی جا رہی ہے کہ معبود حقیقی صرف خدا ہی ہے، اس کے ماسوا جو تم نے اس کے شریک وسہیم بنا رکھے ہیں اور جن کے بل پر تم خدا اور آخرت سے نچنت ہوئے بیٹھے ہو، ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے، یہ محض تمہارے وہم کی ایجاد ہیں وانہ یحییٰ الموتی یعنی اوپر جو دلائل مذکور ہوئے ان سے یہ بات ثابت ہے کہ خدا مردوں کو زندہ کرتا ہے اس لئے جب وہ چاہے گا تمہیں اٹھا کھڑا کرے گا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جو پانی کے ایک قطرے کو عاقل و بالغ انسان بنا دیتا اور زمین کو اس کے خشک اور چٹیل ہوجانے کے بعد باغ و بہار کردیتا ہے۔ اس کے لئے دنیا کو از سر نو زندہ کردینا کیوں مشکل ہوجائے گا !
Ayah 22:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّجَادِلُ فِی اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ لَا هُدًى وَّ لَا كِتٰبٍ مُّنِیْرٍۙ Open ayah 22:8 in the Quran reader

اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی علم، بغیر کسی ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے حجتیں کرتے ہیں

بےدلیل مجادلہ کبر ہے آیت 3 میں جن مجادلین کی طرف اشارہ فرمایا تھا یہ ان کے رویہ کی تفصیل ہے۔ وہاں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ خدا کے بارے میں مشرکین کی اصلی مخاصمت عقیدہ توحید سے تھی۔ جہاں تک خدا کا تعلق ہے اس کو توہ وہ بلابحث و نزاع مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ انہوں نے اس کے بہت سے دور سے شریک بھی ٹھہرا لئے تھے جن کو ثابت کرنے کی ذمہ داری خود ان پر عائد ہوتی تھی۔ لیکن ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ بس زیادہ سے زیادہ جو چیز وہ پیش کرتے وہ یہ کہ ہمارے باپ دادا ان معبودوں کو پوجتے آئے ہیں اس لئے ہم ان کو پوجتے رہیں گے اور ان کی توہین کسی حال میں برداشت نہیں کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جب بحث کا تعلق دلیل کے بجائے مجرد آباء و اجداد کی اندھی تقلید سے رہ جائے تو یہ کبر و غرور ہے جس میں مبتلا ہوجانے کے بعد آدمی کے سامنے ساریمنطق بےکار ہو کے رہ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن نے اس بےدلیل مجادلہ کو کبر قرار دیا ہے۔ ان الذین یجادلون فی ایت اللہ بغیر سلطن اتھم ان افے صدورھم الا کبرٌ ما ھم بالفیہ (مومن 56) بے شک جو لوگ اللہ کی آیات کے بارے میں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو، کٹھ حجتی کرتے ہیں، ان کے دلوں میں صرف غرور ہے جس میں ان کو کامیابی حاصل ہونے والی نہیں ہے۔ دوسرے مقام میں یہ حقیقت بھی واضح فرما دی ہے کہ اس سارے مجادلے کی محرک طریقہ آباء کی اندھی عصبیت ہے۔ ومن الناس من یجا دل نے اللہ بغیر علم ولاھدی ولا کتب منیرہ فاذا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما وجدنا علیہ ابآء نا (لقمان -31-20) اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اللہ کے بارے میں بغیر کسی علم، بغیر کسی ہدیات اور بغیر کسیر ہنما کتاب کے جھگڑتے ہیں اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی اتاری ہوئی چیز کی پیروی کرو تو کہتے ہیں ہم اسی طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دا دا کو پایا ہے۔
Ayah 22:9

ثَانِیَ عِطْفِهٖ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَهٗ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ نُذِیْقُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 22:9 in the Quran reader

تکبر سے اینٹھتے ہوئے، کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے برگشتہ کریں، ان کے لئے دنیا میں روسائی ہے اور ہم قیامت کے دن ان کو آگ کا عذاب چکھائیں گے

ثانی عطفہ ان کے کبر و غرور کی تصویر ہے۔ جب کوئی شخص غرور کے ساتھ کسی سے اپنا رخ موڑتا ہے تو شانے جھٹک کر موڑتا ہے۔ آدمی کے پاس دلیل نہ ہو اور وہ اپنے غلط موقف سے دستبردار ہونے کے لئے بھی تیار نہ ہو تو اس کے پندار کو بڑی چوٹ لگتی ہے اور اس کا انتقام وہ اپنے غرور کا مظاہرہ کر کے لینے کی کوشش کرتا ہے۔ لیضل عن سبیل اللہ یعنی یہ سارا طنطنہ اور یہ ساری حمیت کسی حق کی حمایت کے لئے نہیں بلکہ صرف اس لئے ہے کہ سج طرح وہ خود خدا کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے دوسروں کو بھی اسی طرح بھٹکا دے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ آدمی کا خدا کی راہ سے بھٹکا ہوا ہونا، اگر اس کو اپنی کمزوریوں کا احساس ہو، اس سے مایوس کردینے والی چیز نہیں ہے، حق کی طرف اس کی بازگشت کا امکان ہے، لیکن جو شخص اپنے باطل کے حق میں اپنے پاس کوئی دلیل نہ رکھتے ہوئے بھی اس کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لئے، پوری رعونت کے ساتھ، اٹھ کھڑا ہو تو اس سے پھر کسی امید خیر کی گنجائش باقین ہیں رہ جاتی۔ استکبار کی سزا دنیا اور آخرت کی رسوائی لہ فی الدنیا خزی ونذیقہ یوم القیمۃ عذاب العریق فرمایا کہ ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب نار ہے۔ رسوائی اس لئے کہ انہوں نے حق کے مقابل میں استکبار کا مظاہرہ کیا اس وجہ سے وہ مستحق ہیں کہ دنیا میں بھی ذلیل ہوں۔ یہ امر محلوظ رہے کہ یہاں زیر بحث رسول کے مخالفین ہیں رسولوں کے مخالفین کے باب میں سنت الٰہی جیسا کہ ہم متعدد مقامات میں واضح کرچکے ہیں، یہی ہے کہ اگر وہ حق کی مخالفت پر جمے رہ جاتے ہیں تو اتمام حجت کے بعد، لازماً وہ اس دنیا میں بھی شکست اور ذلت سے دوچار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی جہنم کے سزاوار ٹھہریں گے۔ عذاب الحریق میں بھی عمل اور جزا کی مشابہت کا پہلو موجود ہے۔ یعنی چونکہ وہ اس دنیا میں حق کے خلاف غصہ، نفرت اور حسد سے جلتے اور کھولتے رہے اس وجہ سے وہ مستحق ہیں کہ آخرت میں جلنے کے عذاب کا مزا چکھیں۔
Ayah 22:10

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ یَدٰكَ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 22:10 in the Quran reader

کہ یہ ہے تیرے اپنے ہی ہاتھوں کی کرتوت اور اللہ اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں

ذلک بما قدمت یدک وان اللہ لیس بظلام للعبید (10) زبان حال کی شہادت ہم قرآن کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ کرتے آئے ہیں کہ جہاں مقصود صورت حال کی تعبیر ہو وہاں بالعموم قیل اور یقال وغیرہ حذف کردیئے جاتے ہیں۔ یہاں بھی یہی صورت حال ہے۔ یعنی زبان حال خود ان پر گواہی دے گی کہ یہ تمہاری اپنی ہی بوٹی ہوئی بس بھری فصل کا حاصل ہے جو تمہارے سامنے آیا ہے۔ خدا نے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی ہے۔ جو بوئے گا وہی کاٹے گا وان اللہ لیس بظلام اللعبید اس اسلوب کی وضاحت بھی متعدد جگہ ہوچکی ہے کہ جب مبالغہ پر نفی آئے تو اس سے مقصود مبالغہ فی النفی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے لیس بظلام کے معنی ہوں گے اللہ تعالیٰ بندوں پر زرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ آیت کا مقصود یہ ہے کہ آدمی اس دنیا میں جو بوئے گا اس کی فصل آخرت میں کاٹے گا۔ اگر اس نے استکبار کی کاشت کی ہے تو استکبار کا حاصل رسوائی ہے، وہ رسوائی کی فصل کاٹے گا اور اگر حق کے خلاف غصہ اور نفرت کی پرورش اس نے کی ہے تو اس کا حاصل جلنے کا عذاب ہے وہ اس سے دوچار ہوگا۔ غرض جو کچھ اس نے کیا ہوگا وہی اللہ تعالیٰ اس کے سامنے رکھ دے گا۔ سر مواس کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی !
Ayah 22:11

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍ١ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ اِ۟طْمَاَنَّ بِهٖ١ۚ وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ اِ۟نْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ١ۚ۫ خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ Open ayah 22:11 in the Quran reader

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو خدا کی بندگی ایک کنارے پر کھڑے ہوئے کرتے ہیں۔ اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچاتب تو ان کا دل خدا پر جمتا ہے اور اگر کوئی آزمائش پیش آگئی تو اوندھے ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے دنیا بھی کھوئی اور آخرت بھی۔ کھلا ہوا خسارہ درحقیقت یہی ہے

مذ بذبین کا کردار ان کٹر مشرکین کا ذکر کرنے کے بعد، جو شرک کی حمایت میں لڑائی ٹھانے ہوئے تھے، اب یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو بکی وقت یزدان اور راہرمن، اللہ اور غیر اللہ، حق اور باطل دونوں سے تعلق باقی رکھنا چاہتے تھے۔ یکسو ہو کر نہ وہ اہل ایمان کے اندر شامل ہونا چاہتے تھے نہ مشرکین کے اندر، وہ ان دونوں صفوں سے الگ کھڑے ہو کر پانی مصلحت اور مفاد کو دیکھتے تھے۔ جس حد تک ان کو مسلمانوں کی ہمنوائی میں فائدہ نظر آتا ان کی ہمنوائی کرتے اور جب دیکھتے کہ شرک اور اہل شرک کی تائید میں فائدہ ہے، ان کے ساتھی بن جاتے۔ اس قسم کے دور رنگے اسلام کی ابھرتی ہوئی طاقت کو دیکھ کر، اس دور میں، مشرکین اور اہل کتاب کے اندر بھی پیدا ہوگئے تھے جو کفر و اسلام دونوں میں سمجھوتے کے خواہشمند تھے۔ وہ یہ کہتے تھے کہ خدا کی بھی بندگی ہونی چاہئے اور ان اصنام و الہہ کی بھی جن کی عبادت باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ آخر یہ بھی کام آنے والی ہستیاں ہیں تو ان کو کیوں نظر انداز کیا جائے ؟ یہی گروہ ہے جس کی رف سے قرآن میں ترمیم کی تجویز بھی پیش ہوئی تھی جس کا ذکر سورة یونس میں گزر چکا ہے۔ اس طرح کے عناصر اگر مسلمانوں میں داخل ہوئے تو وہ توحید میں یکسو نہیں ہوئے۔ جہاں تک ان کو راہ ہموار نظر آتی وہاں تک تو وہ قافلہ اسلام کا ساتھ دیتے لیکن جب کوئی آزمائش پیش آجاتی تو وہیں لڑکھڑا جاتے اور خدا سے مایوس و بدگمان ہو کر دوسروں کو بولی و مرجع بنا بیٹھتے۔ یہ چیز اپنی حقیقت کے اعتبار سے شرک ہے اوپر مجادلین کا جو شرک بیان ہوا ہے۔ اس میں اور اسی میں اگر کوئی فرق ہے تو وہ حقیقت کا نہیں بلکہ صرف مزاج کا فرق ہے۔ مجادلین کے شرک کا مزاج معاندانہ ہے، اس کا مزاج منافقانہ اس فرق کے سوا ان دونوں میں کوئی اور فرق نہی ہے۔ توحید کا تقاضا صرف اس شکل میں پورا ہوتا ہے جب بندہ کلیتہ اپنے آپ کو اپنے رب کی تحویل میں دے دے۔ وہ پھولوں کی سیج پر لٹائے جب بھی راضی رہے اور اگر سر پر آ رہے چلو اوے جب بھی راضی و مطمئن رہے۔ صرف منفعت ہی کے حد تک جو خدا کی بندگی کرنا چاہتا ہے وہ موحد نہیں بلکہ مشرک ہے اور خدا کے ہاں ایسے ابن الوقتوں اور مفاد پرستوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ سرمد نے نہایت دو ٹوک بات کہہ دی۔ سرمد گلہ اختصاری با ید کردیک کارازیں دو کاری با ید کرد یاتن برضائے یامی باید داد یا قطع نظر زیار می جاید کرد ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف یہ اسلوب بیان یہاں اظہار تعجب اور اظہار نفرت و کراہت کے لئے ہے اور لفظ عبادت، پرستش اور اطاعت دونوں ہی معنوں پر مشتمل ہے۔ علی حرف یعنی ایک کنارے پر کھڑے ہو کر دور دور سے خدا کی بندگی اور اطاعت میں پوری طرح داخل ہو کر نہیں، جو ادخلوا فی السلم کافۃ کا تقاضا ہے بلکہ مذبذبین بین ذلک لا الی ھولآء ولا الی ھولآ کے مصداق بن کر نہ پوری طرح خدا کی طرف جو ایک حنیف مسلم کی شان ہے اور نہ کفار کی طرح کفر کی حمایت میں برہنہ ہو کر بلکہ ع منہ پھیر کر ادھر کو ادھر کو بڑھا کے ہاتھ۔ فان اصابہ خیر اطمان بہ وان اصابتہ فتنۃ انقلب علی وجھہ فتنہ کے معنی یہاں مصیبت اور آزمائش کے ہیں۔ یہ علی حرف کی وضاحت ہے کہ یہ احمق لوگ خدا کی بندگی صرف اپنے مفاد کے حد تک کرنا چاہتے ہیں۔ جب تک ہر بات ان کے منشا کے مطابق ہوتی رہے اس وقت تک تو یہ خدا سے راضی و مطمئن رہتے ہیں، لیکن کوئی امتحان پیش آجائے تو پھر یہ اوندھے ہوجاتے ہیں اور خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے آستانوں پر جبہ سائی شروع کردیتے ہیں۔ یہ پھولوں کے طالب ہیں لیکن کانٹوں کی خلش برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں حالانکہ خدا کی راہ میں راحتوں کے ساتھ آزمائشیں بھی ہیں اور جب تک کوئی ان آزمائشوں میں پورا نہ اترے خدا کے ہاں اس کی کوئی پوچھ نہیں ہے۔ خیر الدنیا الاخرۃ کا مفہوم خیر الدین و الاخرۃ فرمایا کہ ایسے احمق لوگ دنیا اور آخرت دونوں ہی برباد کرتے ہیں۔ اگر دنیا میں بندے کو کوئی آزمائش پیش آتی ہے، وہ جان یا مال کے کسی خسارے میں مبتلا کیا جاتا ہے تو اس کے لئے اس خسارہ کے اندر ایک عظیم اخروی منفعت بھی پوشیدہ ہوتی ہے بشرطیکہ وہ اپنے رب کے فیصلہ پر راضی و مطمئن رہے اور اپنے آپ کو اس کے ٓگے ڈال دے۔ اس طرح کا ہر امتحان بندے کے ایمان کو پختہ اور اس کی اخروی منفعتوں کو ضعافاً مضاعفۃ کرتا ہے لیکن کوئی احمق اگر اس طرح کی کسی آزمائش سے گھبرا کر خدا سے مایوس ہو بدگمان ہو بیٹھے تو اس نے دنیا کا بھی نقصان اٹھایا اور اپنی آخرت بھی برباد کی ذلک ھو الخسران المبین ظاہر ہے کہ اصلی اور کھلا ہوا خسارہ یہی ہے۔ اگر اس دنیا کا کوئی نقصان ہوا تو وہ نقصان نہیں ہے۔ اگر بندے نے اپنا اخروی اجر اس کے عوض میں محفوظ کرا لیا۔ البتہ جس نے اپنی دنیا بھی کھوئی اور اپنی آخرت بھی اس کا خسران خسران مبین ہے۔ ابنائے ز کا کردار ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف میں جس گروہ کا کردار بیان ہا ہے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہی کردار ابنائے زمانہ کا ہے۔ آج ہم بھی جو اس شرک کو مٹانے ہی کے لئے مامور کئے گئے تھے، اسی طرح دور دور سے خدا کی بندگی کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن کو خدا کی کتاب بھی مانتے ہیں لیکن قانون، تہذیب، معاشرت، معیشت، سیاست ہر شعبہ زندگی میں پیروی دوسروں کے کرتے ہیں۔ قرآن کا مصرف اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ جب کوئی مرے تو کچھ حافظ اس کے لئے قرآن خوانی کر کے اس کو بخشوا دیا کریں۔ اگرچہ اس نے خود کبھی اتفاق سے بھی قرآن کو ہاتھ نہ لگایا ہو ! ! ان کے نزدیک قرآن زندوں کے لئے نہیں بلکہ مردوں کے لئے اترا ہے اور وہ ہدایت کے لئے نہیں بلکہ صرف کبھی کبھی چوم لینے کے لئے ہے۔ خوب بات کہی جس نے کہی ہے کہ یاران عجب انداز دورنگی دارند مصحف بہ بغل دین فرنگی دارند
Ayah 22:12

یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهٗ وَ مَا لَا یَنْفَعُهٗ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُۚ Open ayah 22:12 in the Quran reader

یہ خدا کے سوا ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو نہ ان کو کوئی نقصان پہنچا سکیں اور نہ کوئی نفع پہنچا پائیں۔ یہی بڑی دور کی گمراہی ہے

غیر اللہ سے دعا شرک اور ضلال بعید ہے یدعوا یہاں دعا، استغاثہ، فریاد، استر عام اور استمداد سب معنوں پر مشتمل ہے۔ اگر خدا کے سوا کسی کو نافع وضارمان کر، پکارا جائے تو یہ شرک ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ خدا سے مایوس ہو کر جن سے طالب مدد ہوتے ہیں وہ نہ ان کو ضرر پہنچا سکتے ہیں نہ نفع نفع و ضرر صرف خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ اگر کسی کو کسی سے کوئی نفع یا ضرر پہنچتا ہے تو اللہ ہی کے اذن سے پہنچتا ہے اس وجہ سے ہر حال میں بندہ کا اعتماد اللہ ہی پر ہونا چاہئے نہ کہ اس سے مایوس ہو کر دور سے پر دوسروں کے نافع یا ضار ہونے کی حقیقت اسی سورة کے آخر میں ایک تمثیل کے ذریعہ سے یوں واضح فرما دی گئی ہے۔ لن یخلقوا ذباباً ولوا جتمعوا لہ ط وان یلبھم الذباب شیاً لایستنقذوہ منہ ط ضعف الطالب والمطلوب (حج :73) اے لوگو ! ایک تمثیل سنائی جا رہی ہے تو اس کو توجہ سے سن لو۔ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سارے کے سارے مل کر اس کے لئے اپنا زور لگا ڈالنا اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس سے اس کو بچا نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب دونوں ہی ناتواں لا وذلک ھو الضلل البعید فرمایا کہ دور کی گمراہی درحقیقت یہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ خدا سے روٹھ کر کسی ایسے کی پناہ لیتے جو کوئی نفع یا نقصان ان کو پہنچا سکتا تب تو یہ ایک گمراہی ہوتی لیکن بہت دور کی نہ ہوتی لیکن خدا کی آزمائش سے بھاگ کر ایسوں کی پناہ ڈھنڈھنا جو خود اپنے چہرے سے بھی مکھی ہنکا نہیں سکتے صرف گمراہی نہیں بلکہ بہت دور کی گمراہی ہے۔ یہ خدا کے امتحان کی بھٹی سے بھاگے اور سیدھے جہنم میں جا کر دے !
Ayah 22:13

یَدْعُوْا لَمَنْ ضَرُّهٗۤ اَقْرَبُ مِنْ نَّفْعِهٖ١ؕ لَبِئْسَ الْمَوْلٰى وَ لَبِئْسَ الْعَشِیْرُ Open ayah 22:13 in the Quran reader

وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جن کا ضرر ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ کیا ہی برے ہیں ان کے یہ مرجع اور کیا ہی برے ہیں ان کے یہ ساتھی ! !

ید عوا المن ضرہ اقرب من نفعہ لبئس المولی و لبئس العشیر (13) اس یدعوا کے بارے میں مجھے ان نحویوں کا مذہب قوی معلوم ہوتا ہے جو اس کو سابق الذکر یدعوا کا اعادہ اور بعد کے جملے سے اس کو بالکل غیر متعلق مانتے ہیں۔ اعادہ فعل یہاں اظہار حسرت و افسوس کے لئے ہے لمن ضرۃ یدعوا کا مفعول نہیں بلکہ اوپر والے مفعول مالا یضرۃ ومالا ینفعہ پر ایک قسم کا استدراک ہے اور مقصود اس سے اس کے ضلل بعید ہونے کی وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں صرف یہی نہیں کہ وہ کوئی ضرر یا نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ ستم بالائے ستم ہے کہ ان کا ضرر ان کے نفع سے قریب تر ہے۔ اگر کسی ایسے کی پناہ ڈھونڈھی جائے جو نہ نفع پہنچا سکے نہ ضرر تو یہ حماقت ہے لیکن حماقت در حماقت یہ ہے کہ ایسے کی پناہ ڈھونڈھی جائے جس کا ضرر تو نقد اور ثابت و معلوم ہو لیکن نفع بالکل موہم جنہوں نے خدا سے تعلق توڑ کر دوسروں کو اپنا ولی و کار ساز مانا انہوں نے اپنا حقیقی سہارا تو ختم کردیا ہے دوسرے مزعومہ سہارے تو وہ کام آتے ہیں یا نہیں ؟ یہ بعد کی چیز ہے اور یہ بھی ان کے سامنے آجائے گی۔ امام اور مقتدی دونوں ناہنجار لبئس المولی ولبئس العشیر یہ فقرہ یہاں بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح آیت 73 میں جس کا حوالہ اوپر گزر چکا ہے ضعف الطالب المطلوب ہے جس طرح وہاں فرمایا ہے کہ ”طالب و مطلوب دونوں ہی بےبس و ناتواں“ اسی طرح یہاں فرمایا ہے کہ مولی اور عشیر دونوں ہی ایک سے ایک بڑھ کرنا ہنجار مولیٰ سے مراد وہ شرکاء و شفعاء ہیں جن کو خدا کے سوا مرجع اور کار ساز بنایا گیا اور عشیر سے مراد وہ مشرکین ہیں جنہوں نے ان کو مرجع و کار ساز بنایا۔ پیر اور مرید، امام اور مقتدی، لیڈر اور پیرو دونوں اگر ایک ہی سانچے کے ڈھلے ہوئے اور برے ہونے میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہوں تو ان کا انجام معلوم ہے !
Ayah 22:14

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ Open ayah 22:14 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کئے ایسے باغوں میں داخل رکے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ بیشک اللہ جو چاہے گا کر ڈالے گا

مخلصوں کا انجام خدا سے مایوس ہو کر دوسروں کی پناہ ڈھونڈھنے والوں کا انجام بیان کرنے کے بعد یہ ان لوگوں کے انجام کی طرف اشارہ فرمایا جو سختی و نرمی اور رنج و راحت ہر طرح کے حالات میں ایمان و عمل صالح کی روش پر قائم دوائم رہیں گے۔ فرمایا کہ بیشک اللہ ان لوگوں کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ سیاق کلام دلیل ہے کہ یہاں فعل اپنے کامل معنوں میں استعمال ہوا ہے اس لئے کہ یہ مقابل میں ہے ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف کے اس وجہ سے اس سے لازمًا وہ لوگ مراد ہوں گے جو دو ولی اور نفاق میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ پوری دل جمعی و یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی پر جمے ہوئے ہیں۔ ان اللہ یفعل مایرید یعنی یہ مشرکین تو جن پر تکیہ کئے ہوئے ہیں وہ نہ کوئی نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ کوئی ضرر یہاں تک کہ اگر کوئی مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اس کو بھی اس سے بچا سکنے پر قادر نہیں۔ البتہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے وہ جو چاہے کر ڈالتا ہے۔ اس میں مسلمانوں کے لئے طمانیت و بشارت ہے کہ تم ظاہری حالات کی نامساعدت کو نہ دیکھو۔ حالات خواہ کتنے ہی ناموافق و نامساعد ہوں اپنے رب پر جمے رہو۔ اور اطمینان رکھو کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
Ayah 22:15

مَنْ كَانَ یَظُنُّ اَنْ لَّنْ یَّنْصُرَهُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ فَلْیَمْدُدْ بِسَبَبٍ اِلَى السَّمَآءِ ثُمَّ لْیَقْطَعْ فَلْیَنْظُرْ هَلْ یُذْهِبَنَّ كَیْدُهٗ مَا یَغِیْظُ Open ayah 22:15 in the Quran reader

جو یہ گمان رکھتا ہو کہ خدا دنیا اور آخرت میں اس کی مدد نہیں کرے گا تو وہ آسمان تک ایک رسی تانے اور پھر اپنے معاملہ کا فیصلہ کر ڈالے اور دیکھے کہ کیا اس کی یہ تدبیر اس کے غم کو دور کرنے والی بنتی ہے ؟

ضمیر مفعول کا مرجع من کان یظن ان لن ینصرہ اللہ فی الدین والاخرۃ ینصرہ میں ضمیر کا مرجع من ہے جن لوگوں نے اس کا مرجع رسول اللہ ﷺ کو مانا ہے ان کی رائے سیاق وسباق کلام سے بالکل بےجوڑ ہے۔ آیت میں اشارہ انہی دو دلوں اور منفاقوں کی طرف ہے جن کا ذکر اپور سے چلا آ رہا ہے اور جن کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ اگر انہیں کو آزمائش پیش آجاتی ہے تو خدا سے مایوس و بدگمان ہو کر دوسروں کو مولی و مرجع بنا بیٹھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پیش آمدہ مشکل سے خدا ان کو نہیں نکالے گا یا نہیں نکال سکتا۔ مدسبب کا مفہوم فلیمدد بسبب الی السمآء آسمان میں رسی تاننا آخری اور انتہائی تدبیر کر دیکھنے کے لئے اسی طرح کا ایک استعارہ ہے جس طرح ہماری زبان میں تھگلی لگانے کا استعارہ ہے۔ سورة انعام میں بھی آسمان میں تھگلی لگانے کا استعارہ گزر چکا ہے۔ فرمایا ہے۔ وان کان کبر علیک اعراضھم فان استطعت ان تبتغی نفقاً فی الارض اوسلماً فی السمآء فتاریتھم بایۃ ط ولو شآء اللہ لجمعھم علی الھدی فلا تکونن من الجھلین (انعام :35) اور اگر ان لوگوں کا اعراض تم پر ایسا ہی شاق گزر رہا ہے تو اگر تم زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی لگا کر ان کے لئے کوئی نشانی لا سکو تو لا دو ! اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر مجتمع کردیتا تو تم جذبات سے مغلوب ہونے والوں میں سے نہ بنو ! زبیر اور اعشیٰ نے بھی انتہائی اور آخری جدوجہد کے مفہوم کے لئے یہ محاورہ استعمال کیا ہے۔ زہیر کا مصرع ہے۔ ولو نال اسباب السماء بسلم اسی طرح اعشی کہتا ہے۔ عورقیت اسباب السماء بسلم قطع کا مفہم ثم لقطع قطع کے معنی ابومسلم نے قطع مسافت کے لئے ہیں یعنی وہ آسمان میں رسی تانے اور آسمان میں چڑھ جائے۔ بعض لوگوں نے اس کے منی قطع وحی کے لئے ہیں یعنی جس کو یہ گمان جو کہ اللہ اپنے رسول کی مدد نہیں کرے گا وہ آسمان میں چڑھ کر سلسلہ وحی کو قطع کر دے۔ اکثر لوگوں نے اس کے معنی پھانسی لگانے یا گلا گھونٹ لینے کے لئے ہیں یعنی وہ چھت میں رسی لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی لگا لے۔ ان تاویلوں میں جو قباحت ہے اس سے قطع نظر، لفظ قطع کا جو مفہوم ان حضرات نے لیا ہے وہی محل نظر ہے۔ وحی کو منقطع کردینے یا پھانسی لگا لینے کے معنی کے لئے تو اس لفظ کا استعمال بالکل ہی ناموزوں ہے، عربیت کا ذوق اس سے ابا کرتا ہے کسی مفہوم کے لئے معروف و متداول الفاظ کے ہوتے ہوئے کسی ناموزوں لفظ کا استعمال قرآن کی فصاحت و بلاغت کے بالکل منفای ہے۔ قطع مسافت کے مفہوم کے لئے اگرچہ اس لفظ کو ناموزوں نہیں قرار دیا جاسکتا اس لئے کہ قطع وادی وغیرہ کے محاورات عربی میں معروف ہیں لیکن یہاں اس لفظ کا استعمال اس مفہمو کے لئے بالکل ناموزوں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آسمان کی طرف رسی تاننے کا ذکر ہے تو اس کے ساتھ فلیتصعد یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ موزوں ہوسکتا ہے۔ یقطع اس کے ساتھ کسی طرح بھی موزوں نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک یہ تمام اقوال ضعیف ہیں۔ البتہ عزم و جزم کے ساتھ کسی معاملہ کا فیصلہ کرنے کے مفہوم کے لئے یہ لفظ اعلیٰ عربی میں معروف ہے۔ اس کی نظر خود قرآن میں موجود ہے۔ مثلاً سورة نمل میں ہے۔ قالت یایھا الملوا افتونی فی امری ماکنت قاطعۃ امراً حتی تشھدون (نمل :32) ملکہ سبا نے کہا کہ اے درباریو میرے اس معاملے میں آپ لوگ اپنی رائے دیں میں کسی معاملہ کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک آپ لوگ موجود ہو کر مشورہ نہ دیں۔ خدا سے مایوسی و بدگمانی کا انجام اجزائے آیت کی تشریح کے بعد اب آیت کے مفہوم پر غور کیجیے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بدخت و نامراد خدا سے مایوس ہو بدگمان ہوتا ہے کہ وہ اس کی مدد نہیں کرے گا اور اس بدگمانی میں مبتلا ہو کر دوسروں کو اپنا مولیٰ و مرجع بناتا ہے وہ جو چاہے کرو دیکھے وہ آسمان میں تھگلی لگائے اور اپنا پورا زور لگا کر اپنے معاملہ کا فیصلہ اور غم اور پریشانی کو اگر دور کرسکتا ہے تو دو کرے۔ مطلب یہ کہ خدا کو ایسے لاخیروں سے کوئی بحث نہیں۔ وہ جہاں چاہیں آوارہ گردی کریں اور جس جوہڑ سے چاہیں اپنی پیاس بجھانے کی کوشش کریں۔ لیکن یاد رکھیں کہ انسانی فطرت کے اندر جو پیاس ہے وہ ہر جوہڑ کے پانی سے نہیں بجھ سکتی، وہ صرف ایمان کے حوض کوثر ہی سے بجھتی ہے اور اس کے اندر جو خلا ہے وہ ہر اینٹ پھتر سے نہیں بھرا جاسکتا، اس کو اگر بھرا جاسکتا ہے تو صرف اللہ واحد کی یاد ہی سے بھرا جاسکتا ہے۔ سورة طہ کی آیت 124 ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس آیت تے متعلق بعض مزید سوالات جو پیدا ہوں گے وہ اس سے صاف ہوجائیں گے۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ خدا سے مایوس و بدگمانی شرک کے بہت بڑے عوامل میں سے ہے۔ اس حقیقت کی وضاحت ہم اپنی کتاب حقیقت شرک میں کرچکے ہیں۔ انسان جب خدا سے کٹتا ہے تو وہ بہرحال اپنی فطرت سے مجبور ہو کر کوئی نہ کوئی سہارا ڈھونڈھنے کی سعی کرتا ہے لیکن حقیقی سہارا چونکہ خدا اور صرف خدا ہی ہے اس وجہ سے وہ چاہے آسمان ہی پر چڑھ جائے اس کی ساری سعی لا حاصل ہی رہتی ہے۔ اس آیت میں فی الاخرۃ کا لفظ بھی قابل غور ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں خدا ہی یاد و ناصر ہے اسی طرح آخرت میں بھی خدا ہی یاد و ناصر ہے۔ اگر کوئی خدا کے رحم یا انصاف سے بدگمان ہو کر کسی اور کو اپنا یاور و ناصر بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ خدا کے مقابل میں اس کے کام آئیں گے تو وہ یہ بھی کر دیکھے۔ اس کے اس وہم کی حقیقت بھی قیامت کے دن اس پر آشکارا ہوجائے گی۔
Ayah 22:16

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یُّرِیْدُ Open ayah 22:16 in the Quran reader

اور ہم نے اسی طرح اس قرآن کو نہایت واضح دلیلوں کی صورت میں اتارا ہے کہ لوگ ہدایت حاصل کریں اور بیشک اللہ ہی ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے

یہ آیت بطور تنبیہ کے ہے اور کذلک کا اشارہ توحید اور رد شرک کے ان روشن دلائل کی طرف ہے جو اوپر مذکور ہوئے۔ فرمایا کہ اسی طرح نہایت روشن دلائل کے ساتھ ہم نے قرآن کو اتارا ہے۔ اس کے بعد بربنائے قرینہ یہ مضمون محذوف ہے کہ جو صاحب توفیق ہوں گے وہ آیات پر ایمان لائیں گے اور جو توفیق سے محروم ہوں گے وہ جیسا کہ اوپر آیت 8 میں اشارہ ہوا، اللہ اور اس کی آیات میں کٹھ حجتی ہی کرتے رہیں گے۔ وان اللہ یھدی من یرید میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو ہدایت و ضلالت کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقرر کر رکھی ہے اور جس کی وضاحت ہم بار بار کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت انہی کو نصیب ہوتی ہے جو اپنے عقل و بصیرت سے کام لیتے ہیں جو اندھے بہرے بن جاتے ہیں ان کے دلوں پر مہر کردی جاتی ہے۔
Ayah 22:17

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئِیْنَ وَ النَّصٰرٰى وَ الْمَجُوْسَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا١ۖۗ اِنَّ اللّٰهَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 22:17 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے جنہوں نے یہودیت اختیار کی اور صائبین، نصاریٰ مجوس اور جنہوں نے شرک کیا، اللہ قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز سے واقف ہے

مشرکین اور ان کے اتحادیوں کو تنبیہ اس آیت میں جن گروہوں کا ذکر ہے ان میں سے مجوس اور مشرکین کے سوا ہر گروہ کا ذکر سورة بقرہ آیت 62 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم نے یہود، نصاریٰ اور صائبین سب پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ ملاحظہ ہوں صفحات 187-182 جلد اول، مجسوس اصلاً تو دین زرد شت کے پیرو تھے اور دین زردشت کی بنیاد، جیسا کہ ہم سورة کہف میں بیان کرچکے ہیں، خالص توحید پر تھی لیکن جس طرح امتداد زمانہ سے ہر دین کا حلیہ بگڑا اسی طرح اس دین کے پیرو بھی اپنے اصل دین کو مسخ کر کے آتش پرستی اور دوسری مشرکانہ بدعتوں میں مبتلا ہوگئے۔ اوپر کی آیات میں مومنین اور مشرکین کے درمیان جس مناظرہ و مجادلہ کا ذکر ہوا ہے یہ آیت بھی اسی سے متعلق ہے۔ اس مناظرہ کے اصلی فریق تو مسلمان اور مشرکین قریش ہی تھے لیکن اس دور میں جیسا کہ پیچھے کی سورتوں میں تفصیلی گزر چکی ہے، دوسرے مذاہب کے پیرو بھی، جو عرب میں موجود تھے، اس میں فریق بن گئے اور چونکہ اسلام کی دعوت کی زد ان سب پر پڑتی تھی اس وجہ سے ان کی ہمدردیاں مشرکین کے ساتھ تھیں۔ خاص طور پر یہود و نصاریٰ تو کھلم کھلا ہر محاذ پر ان کا ساتھ دے رہے تھے۔ قرآن نے ان سب کو نام لے کر آگاہ کیا کہ آج خدا اور اس کی آیات کے باب میں جو محاذ گرم ہے وہ یہیں نہیں ختم ہوجائے گا بلکہ یہ قضیہ قیامت کے دن خدا کی عدالت میں بھی پیش ہونے والا ہے جس میں ایک طرف اہل ایمان ہوں گے، دوسری طرف یہ مشرکین اور ان کے ہمنوا … یہود، صائبین، نصاریٰ اور مجوس … اس دن خدا فیصلہ فرمائے گا کہ کون حق پر ہے اور کون باطل پر، ظاہرے کہ یہاں فیصلہ سے مقصود اس کے نتیجہ کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ اس دن ہر ایک کے سامنے اس کی اس سعی و سرگرمی کے نتائج آجائیں گے جس میں وہ آج مصروف ہے۔ اہل ایمان اپنی جانبازیوں کا صلہ پائیں گے اور کفار و مشرکین اور ان کے اتحادی اپنی سرگرمیوں کے نتائج بھگتیں گے۔ ان اللہ علی کل شیء شھید اہل ایمان کے لئے پیام تسلی اور اہل شرک اور ان کے حامیوں کے لئے تہدید وعید ہے کہ خدا ہر چیز کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اپنے باایمان بندوں کی جانبازیوں اور سرفروشیوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور شرارتوں کو بھی۔ اس وجہ سے وہ ہر ایک کے ساتھ ٹھیک ٹھیک وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ٹھہرے گا۔ جو اہل ایمان کے ساتھ نہیں وہ اہل کفر ہیں اس آیت میں آپ نے غور کیا ہوگا کہ سب سے پہلے اہل ایمان کا ذکر ہوا ہے اور آخر میں مشرکین کا اور بیچ میں دور سے مختلف فرقوں کا اس کی وجہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہ ہے کہ اصل فریق کی حیثیت اس مباحثہ و مناظرہ میں انہی دو کو حاصل تھی، باقی گروہوں کی حیثیت ضمنی تھی۔ چناچہ آگے آیت 19 میں تصریح بھی ہے کہ اصل فریق دو ہیں۔ اہل ایمان اور اہل کفر و شرک۔ جو اہل ایمان کے ساتھ نہیں ہے وہ اہل کفر میں سے ہے، خواہ وہ کسی نام سے موسوم اور کسی دین کی پیروی کا مدعی ہو۔ اسم اور فعل کے مواقع استعمال میں ایک نازک فرق آیت میں مختلف گروہوں کے ذکر کے لئے جو اسلوب بیان اختیار فرمایا گیا ہے وہ بھی قابل توجہ ہے۔ مسلمانوں اور یہود و مشرکین کا ذکر تو فعل کی شکل میں ہوا ہے اور صائبین، نصاریٰ اور مجوس کا اسم کی شکل میں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عملاً اس میدان میں ایک طرف مسلمان تھے، دوسری طرف مشرکین اور یہود، یہود، مشرکین کی حمایت اور اسلام کی مخالفت میں اپنے حسد وعناد کے باعث بہت سگرم تھے۔ باقی فرقوں کی ہمدردیاں اگرچہ تھیں تو مشرکین ہی کے ساتھ لیکن وہ کچھ زیداہ سرگرم نہ تھے۔ اس وجہ سے معرکہ کے اصلی حریفوں کو تو فعل کے ساتھ ذکر کیا ہے اور دورسوں کا ذکر اسم کے ساتھ۔ زبان کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ فعل کے اندر ایک قسم کی سرگرمی کا مفہوم پایا جاتا ہے جب کہ اسم بالعموم صرف علامت امتیاز کا فائدہ دیتا یہ۔
Ayah 22:18

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَسْجُدُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ النُّجُوْمُ وَ الْجِبَالُ وَ الشَّجَرُ وَ الدَّوَآبُّ وَ كَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ١ؕ وَ كَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْهِ الْعَذَابُ١ؕ وَ مَنْ یُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ مُّكْرِمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُؕ۩ Open ayah 22:18 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے کہ اللہ ہی کے آگے جھکتے ہیں ج آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور سورج چاند، ستارے، پہاڑ، درخت اور چوپائے اور لوگوں میں سے بہتیرے اور بہتیرے ایسے ہیں جن پر خدا کا عذاب لازم ہوچکا ہے اور جن کو خدا ذلیل کر دے تو ان کو کوئی دوسرا عزت دینے والا نہیں بن سکتا۔ بیشک اللہ ہی کرتا ہے جو چاہتا ہے

کائنات کی ہر چیز سجدے میں ہے یہ توحید کی وہ دلیل بیان ہوتی ہے جس کی شہادت اس کائنات کی ہر چیز اپنے وجود سے دے رہی ہے۔ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز اپنی تکوینی حیثیت میں ابراہیمی مزاج رکھتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ اور چوپائے سب خدا کے امروحکم کے تحت مسخر ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی سر مو خدا کے مقرر کئے ہوئے قوانین سے انحرام نہیں اختیار کرتی۔ سورج جس کو نادمانوں نے معبود نبا کر سب سے زیادہ پوجا ہے۔ خود اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ وہ شب و روز اپنے رب کے آگے قیام، رکوع اور سجدے میں ہے۔ طلوع کے وقت وہ سجدے سے سر اٹھاتا ہے۔ دوپہ تک وہ قیام میں رہتا ہے، زوال کے بعد وہ رکوع میں جھک جاتا ہے اور اس غروب کے وقت وہ سجدے میں گر جاتا ہے اور رات بھر اسی سجدے کی حالت میں رہتا ہے۔ اسی حقیقت کا مظاہرہ چاند اپنے عروج و محاق سے اور ساترے اپنے طلوع و غروب سے کرتے ہیں۔ پہاڑوں، درختوں اور چوپایوں کا بھی یہی حال ہے۔ ان میں سے ہر چیز کا سایہ ہر وقت قیام، رکوع اور سجود میں رہتا ہے۔ اور غور کیجیے تو یہ حقیقت بھی نظر آئے گی کہ اس سایہ کی فطرت ایسی ابراہیمی ہے کہ یہ ہمیشہ آفتاب کی مخالف سمت میں رہتا ہے۔ اگر سورج مشرق کی سمت میں ہے تو سایہ مغرب کی جانب پھیلے گی اور اگر مغرب کی جانب ہغے تو ہر چیز کا سایہ مشرق کی طرف پھیلے گا۔ گویا ہر چیز کا سایہ اپنے وجود سے ہمیں اس بات کی تعلیم دے رہا ہے کہ سجدہ کا اصل سزا وار آفاتب نہیں بلکہ خالق آفتاب ہے۔ توحید کی یہ دلیل اشارات کی نوعیت کی ہے اس وجہ سے یہ منطق کی گرفت میں نہیں آتی لیکن نظام کائنات میں تدبر کرنے والوں کی نظر میں ان اشارات کی بڑی قدر و قیمت ہوتی ہے۔ ع آ کس است اہل بشارت کہ اشارت داند یہی دلیل سورة رعد میں یوں بیان ہوئی ہے۔ وللہ یجد من فی السموت والارض طوعاً و کرھاً و ظللھم بالغدود وا الاصال (وعد -15) اور اللہ کی کو سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، خواہ طوعاً یا کرہاً اور ان کے سائے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں صبح و شام۔ اسی آیت کی وضاحت سورة رعد میں ہم کرچکے ہیں۔ اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اس میں ظللھم بالغدود والاصال کے الفاظ اس حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر کوئی شامت کا مارا اپنے دائرہ اختیار میں خدا کو سجدہ کرنے سے بغاوت کرنے سے بغاوت کرتا ہے تو اس کا اپنا سایہ اپنی شہادت حال سے اس پر اظہار نفرت کرتا ہے اور وہ بدسوتر اپنی ابراہیمی فطرت پر جما رہتا ہے، کسی حال میں بھی کسی غیر اللہ کے آگے جھکنے کا ننگ گوارا نہیں کرتا۔ سورة نحل میں یہی دلیل اس طرح بیان ہوئی ہے۔ (آیت أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْءٍ يَتَفَيَّأُ ظِلالُهُ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُونَ (48) وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ مِنْ دَابَّةٍ وَالْمَلائِكَةُ وَهُمْ لا يَسْتَكْبِرُونَ (49) کیا ان لوگوں نے اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے اس پہلو پر غور نہیں کیا کہ ان کے سائے داہنے اور بائیں سے لوٹتے ہیں اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہوئے اور وہ اس کے آگے سرفگندہ ہوتے ہیں اور اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں آسمانوں اور زمین میں جو جاندار بھی ہیں اور فرشتے بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ سب سے بڑا شرف سب سے بڑی ذلت وکثیر من الناس ط وکثیر حق علیہ العذاب یعنی یہی حال ان بہت سے اللہ کے بندوں کا بھی ہے جن کی فطرت سلیم ہے۔ جس طرح کائنات کی تمام بےارادہ اشیاء اللہ ہی کے امر کے تابع ادراسی کے آگے سربسجود ہیں اسی طرح اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے اختیار و ارادے کو اللہ ہی کے امرو حکم کے تابع کردیا ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے لیکن بہتوں نے اپنے اس اختیار و ارادہ کو غلط استعمال کیا ہے اور اس سب سے بڑے شرف کو، جو اللہ نے ان کو بخشا، اپنی شامت اعمال سے انہوں نے اپنے لئے سب سے بڑی گمراہی اور سب سے بڑی ذلت کا سبب بنا لیا۔ کائنات کی چیزوں کا مال تو یہ ہے کہ باوجود یکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو انسان کی خدمت کے لئے بنایا ہے لیکن اس کے باوجود ان میں سے کوئی چیز بھی یہ ننگ گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ وہ انسان کو سجدہ کیر لیکن انسان کی رذالت و سفاہت کا حال یہ یہ کہ وہ اشرف المخلوقات اور خلیفتہ اللہ فی الارض ہوتے ہوئے اپنے سے فرد تر مخلوقات کو معبودمان کر ان کے آگے ڈنڈوت کرتا ہے ! فرمایا ہے کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کا عذاب واجب ہوچکا ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنے کو بھی ذلیل کیا اور اپنے رب کی بھی نہایت تحقیر کی۔ انسان کا شرف کردار کے ساتھ مشروط ہے ومن یھن اللہ فمالہ من مکرم ط ان اللہ یفعل مایشآء یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جو شرف بخشا ہے وہ صفات و کردار کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر وہ اس شرف کا حق ادا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے شرف کو قائم رکھتا ہے اور اس کے درجات و مراتب میں اضافہ فرماتا ہے اور اگر وہ اس کی قدر نہیں کرتا تو وہ اس کو اپنی سنت کے مطابق اسی گڑھے میں گرنے کے لئے چھوڑ دیتا ہے جس میں وہ گرنا چاہتا ہے۔ نوتہ ماتولی اور اس مضمون کی دوسری آیات میں اسی سنت الٰہی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ اس سنت الٰہی کی زد میں آجاتے ہیں ان کو کوئی دوسرا سنبھالنے والا نہیں بن سکتا۔ اس میں پیغمبر ﷺ کے لئے تسلی بھی ہے کہ اب یہ لوگ جس ذلت کے گڑھے میں گر چکے ہیں اس سے ان کو نکالنے کے لئے تم لاکھ جتن کرو لیکن یہ اس سے نکلنے والے نہیں ہیں۔ خدا کی مشیت کا فیصلہ اس اتمام حجت کے بعد یہی ہے کہ اب یہ اس ذلت کی مار کھائیں۔ من چو لی سرانیم وطنبورہ من پہ لی سراید اس آیت سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ انسان کا اصلی شرف توحید ہے۔ اگر وہ اس شرف سے اپنے کو محروم کرے تو اس کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے بھی وہ فرد تر اور حقیر بن کر رہ جاتا ہے۔ دوسری حقیقت اس سے یہ واضح ہوئی کہ اس کائنات کے ساتھ انسان کی ہم آہنگی اسی وقت تک باقی رہتی ہے جب تک اس کی پیشانی کسی غیر اللہ کے سجدے سے آلودہ نہیں ہوتی۔ اگر وہ اس ذلت پر راضی ہوجائے تو وہ اس پوری کائنات سے بالکل بےجوڑ اور گول خانے میں ایک چوکھٹی چیز بن کر رہ جاتا ہے یہاں تک کہ خود اس کا اپنا سایہ بھی اس کا ساتھ دینے سے انکار کردیتا ہے۔ پھر اس میں اور اس کے سایہ میں ایسی ربطی پیدا ہوجاتی ہے کہ اس پر من چہ می مریم و طنبورہ من چہ می سرایدہ کی مثل صادق آتی ہے۔