22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

بیشک اللہ مدافعت کرے گا ان لوگوں کو جو ایمان لائے۔ اللہ ہرگز بدعہدوں اور ناشکروں کو پسند نہیں کرتا

آگے کا مضمون ……آیات 41-38 یہ آیات مدینہ میں نازل ہوئیں اور چونکہ یہ جیسا کہ ہم تمہید میں اشارہ کرچکے ہیں، انہی باتوں پر متفرع اور انہی کی توضیح کی حیثیت رکھتی ہیں جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ اس وجہ سے ان کو مصحف کی ترتیب میں یہاں جگہ ملی۔ اوپر آیت 25 پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ وہاں، قریش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، ارشاد ہوا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ اور مسجد حرام سے مسلمانوں کو روک رہے ہیں، درآنحالیکہ مسجد حرام پر کسی کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکتی وہ بڑے ہی ظالم ہیں اور اللہ ایسے ظالموں کو ایک درد ناک عذاب چکھائے گا۔ اس کے بعد بیت اللہ کی تاریخ اور اس کے مناسک و شعائر کی روشنی میں یہ دکھایا گیا ہے کہ قریش نے اس گھر کی ساری حرمت برباد کر کے رکھ دی ہے ان کو کو کئی حق نہیں ہے کہ وہ اس گھر پر مسلط رہیں۔ ان آیات کے اندر ظاہر ہے کہ یہ اشارہ مضمر تھا کہ اس گھر کی تولیت کے اصلی حقدار مسلمان ہیں نہ کہ قریش لیکن مکہ میں مسلمان بالکل بےبس اور مجبور تھے اس وجہ سے وہ اپنے اس حق کو حاصل کرنے کے لئے کوئی عملی اقدام نہیں کرسکتے تھے۔ مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد جب انہوں نے ایک تنظیم کی شکل اختیار کرلی تو ان کے اندر قدرتی طور پر یہ احساس شدت سے پیدا ہوا کہ انہیں اس گھر کی برکتوں سے محروم نہیں رہنا چاہئے لیکن اس کی شکل کیا ہو ؟ ظاہر ہے کہ جب قریش نے اس لئے وردی کے ساتھ ان کو اس گھر سے نکال چھوڑا تھا توہ آسانی سے یہ گوارا نہیں کرسکتے تھے کہ مسلمانوں کو حج وعمرہ کی اجازت دیں۔ اگر مسلمان اس کی کوشش کرتے تو لازماً جنگ کی نوبت آجاتی اور جنگ بھی حدود حرم اور اشہر حرم میں، جس کو جاہلیت اور اسلام دونوں میں مبغوض سمجھا گیا ہے۔ قریش اور ان کے حلیف … اہل کتاب … اس چیز کو بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پر اپیگنڈا کا ذریعہ بناتے کہ دیکھو اس نئے دین والوں نے حرم اور اشہر حرم کی حرمت پر بھی حملہ کردیا جس کی جسارت ان سے پہلے کسی نے بھی نہیں کی تھی۔ یہ سارے مسائل اس وقت مسلمانوں کے سامنے تھے۔ ان آیات میں انہی سوالوں کے جواب دیئے گئے ہیں۔ مظلوم مسلمانوں کے لئے بشارت اس بحث کی تمہید ہی اللہ تعالیٰ نے مظلوم مسلمانوں کے لئے بشارت سے اٹھائی ہے۔ فرمایا کہ قریش نے ہمارے باایمان بندوں پر جو ظلم ڈھایا ہے اس میں اپنے مظلوم بندوں کی مدافعت ہم کریں گے۔ یعنی اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اپنے حقوق کی حفاظت و مدافعت کے لئے اٹھیں، خدا اس جہاد میں ان کے ساتھ ہوگا اور ہر قدم پر ان کی نصرت فرمائے گا۔ قریش سے اعلان برأت ان اللہ لایحب کل خوان کفور کل یہاں میرے نزدیک تاکید صفت کے لئے ہے اور خوان کفور سے اشارہ کفار قریش کی طرف ہے۔ خوان کے معنی، خائن، غدار اور عہد شکن کے ہیں۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ انہوں نے وہ تمام عہد و شرائط پامال کردیے ہیں جن کے تحت ان کو حرم کی پاسبانی سپرد ہوئی تھی۔ حضرت ابراہیم نے جن مقاصد کے لئے اس گھر کو تعمیر کیا تھا اور اپنی ذریت پر اس گھر سے متعلق جو ذمہ داری ڈالی تھی ان میں سے ایک ایک چیز کی انہوں نے آبرو مٹا دی۔ اس وجہ سے یہ اس گھر کی تولیت کے حقدار نہیں ہیں اور ایسے غداروں اور خائنوں کو خدا کبھی پسند نہیں کرتا۔ خوان کے ساتھ کفور کی صفت ان کی ناسپاسی و ناشکری کے بیان کے لئے ہے۔ سورة بقرہ کی تفسیر میں ہم وضاحت سے بیان کرچکے ہیں کہ قریش کو پورے عرب میں مذہبی پیشوائی اور سیاسی اقتدار کا جو مقام بلند حاصل ہوا وہ تمام تربیت اللہ کی بدولت حاصل ہوا لیکن وہ بجائے اس کے کہ اس نعمت کی قدر کرتے اور اپنے رب کے شکر گزار رہتے اس گھر پر اپنی اجارہ داری قائم کر کے اس کے نام پر حقوق تو سارے حاصل کرتیر ہے لیکن خود اس کے حقوق و فرائض نہ صرف یہی کہ بالکل بھول بیٹھے بلکہ ان کے بالکل برعکس اقدامات سے اس گھر کی ساری عزت انہوں نے خاک میں ملا دی۔ فرمایا کہ ایسے غداروں اور ناشکردی سے خدا کو کیا تعلق ! اللہ ایسے خائنوں اور ناسپاسوں کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ لایحب سے مقصود یہ ہے کہ خدا ایسے ہبدعہدوں کو مبغوض رکھتا ہے۔ ان کو جتنی مہلت ملنی تھی وہ مل چکی۔ اب وقت آگیا ہے کہ خدا اپنے حرم کو ان ناپاکوں سے پاک کرے اور اپنے ان بندوں کو اس کی تولیت سپرد کرے جو اس ابراہیمی امانت کا حق ادا کریں۔
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

جن سے جنگ کی جائے ان کو جنگ کرنے کی اجازت دی گئی بوجہ اس کے کہ ان ضر ظلم ہوا اور بیشک اللہ ان کی مدد پر پوری طرح قادر ہے

مسلمانوں کو اپنی مدافعت میں جہاد کی اجازت اذن کا متعلق یہاں بربنائے قرینہ محذوف ہے۔ یعنی اب ان مسلمانوں کو جن سے جنگ کی جائے جنگ کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس وقت تک چونکہ مسلمانوں کی کوئی باقاعدہ تنظیمی ہئیت نہیں تھی اس وجہ سے ہر قسم کے مظالم کے ہدف رہنے کے باوجود ان کو جنگ کی اجازت نہیں د گئی بلکہ صبر کی ہدایت فرمائی گئی۔ اس لئے کہ منتشر افراد کی جنگ فساد کو مٹا کر حق و عدل قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی اور اسلام میں جنگ صرف حق و عدل کے قیام ہی کے لئے جائز ہے لیکن مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد حالات تبدیل ہوگئے اس وجہ سے ان کو اپنی مدافعت میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت دے دی گئی۔ علاوہ ازیں یہ اجازت اس پہلو سے بھی ضروری تھی کہ معاملہ حرم اور حدود حرم کا تھا۔ مسلمان حرم کے معاملے میں کوئی اقدام اس وقت تک نہیں کرسکتے تھے جب تک اللہ و رسول کی طرف سے ان کو اس کے لئے اجازت نہ ملے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ یہاں صرف مدافعانہ جنگ کی اجازت مذکور ہے اس لئے کہ اس مرحلے تک مسلمان ابھی اس سے زیادہ بوجھ اٹھانے کی قوت نہیں رکھتے تھے۔ رہا یہ سوال کہ مسملانوں کے لئے جارحانہ جنگ بھی جائز ہے یا نہیں تو اس سوال کے جواب کے لئے ہماری تفسیر سورة برأت کا تدبر سے مطالعہ فرمایئے۔ بانھم ظلموا یہ اس اجازت کے حق میں ایک مزید وجہ کا حوالہ ہے۔ یعنی اول تو اپنا دفاع ہر شخص اور ہر جماعت کا حق ہے ہی، پھر مزید برٓں یہ بات بھی ہے کہ ان مسلمانوں پر ظلم ہوا ہے۔ اس ظلم کی تفصیل آگے ولای آیت میں آرہی ہے۔ وان اللہ علی نصرھم لقدیر یہ اللہ تعالیٰ کے مذکورہ بالا وعدہ مدافعت کی توثیق بھی ہے اور کفار قریش کے لئے ایک قسم کی تہدید بھی یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ ان مٹھی بھر مسلمانوں کی کیا حیثیت ہے اور کوئی ان کی مدد کر کے ان کو کیا تقویت پہنچا سکتا ہے۔ اللہ ان کی مدد پر پوری طرح قادر ہے اور جب وہ ان کی مدد کے لئے اٹھ کھڑا ہا ہے تو دنیا کی کوئی قوت بھی ان کو شکست نہیں دے سکتی۔
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

جو مظلوم اپنے گھروں سے بےقصور محض اس جرم پر نکالے گئے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے اور اگر اللہ لوگوں کو ایک دور سے سے دفع نہ کرتا رہتا تو تمام خانقاہیں، گرجے، کنیسے اور مسجدیں، جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے، ڈھائے جا چکے ہوتے اور بیشک اللہ ان لوگوں کی مدد فرمائے گا جو اس کی مدد کے لئے اٹھیں گے۔ بیشک اللہ قوی اور غالب ہے

مسلمانوں کی مظلومیت کی وضاحت الذین اخرجوا من دیارھم بغیر حق یہ مسلمانوں کی اس مظلومیت کی وضاحت ہے جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہوا ہے۔ یعنی ان لوگوں کو بغیر کسی جرم کے ان کے گھروں سے نکالا گیا ہے۔ اس اسلوب بیان میں وہ تمام مظالم و شدائد آپ سے آپ آگئے جن میں مسلمان مبتلا کئے گئے۔ اس لئے کہ کوئی اپنے وطن اور اپنے گھر در کو اس وقت تک چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوسکتا جب تک اس پر اس کے وطن کی سر زمین تنگ نہ کردی جائے۔ الا ان یقولوا ربنا اللہ یہ نہیات بلیغ فقرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان مظلوموں کا اگر کوئی جرم بنتا ہے تو یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب بس اللہ ہے ! یعنی ان کی سب سے بڑی نیکی اور سب سے بڑے حق کی دعوت ان کا سب سے بڑا گناہ بن گئی ہے اور اس جرم میں ان کو اتنا تنگ کیا گیا ہے کہ ان غریبوں کو اپنیح گھرور کو خیر باد کہنا پڑا۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ قرآن یہاں کلمہ توحید کو ایک مرنجاں مرنج قسم کے کلمہ کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے کہ یہ کسی کے لئے کوئی چڑنے کی چیز تو ہے نہیں، کفار قریش خواہ مخواہ کو اس سے چڑ کر مسلمانوں کے در پے آزاد ہوگئے۔ آخر اس سے کیا فرق پیدا ہوتا ہے کہ کوئی صرف ایک ہی خدا کو مانے ! جن لوگوں نے ایسا سمجھا ہے یہ محض ان کی خوش فہمی ہے۔ قریش ان لوگوں کی طرح اتنے بلید نہیں تھے کہ وہ اس کلمہ کے مضمرات کو نہ سمجھیں۔ وہ جانتے تھے کہ اس کی زد کہاں تک ہے اس وجہ سے وہ اس کے دشمن تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس طرح وہ سب سے بڑے حق کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ قرآن نے ان کی اسی حماقت کی طرف یہاں توجہ دلائی ہے اور نہایت لطیف انداز میں توجہ دلائی ہے۔ ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وربیع وصلوت ومسجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراً صوامع سے مراد صوامع، صومعۃ کی جمع ہے۔ اصلاً یہ لفظ ان بلند پہاڑوں اور مکانوں کے لئے آیا ہے جہاں عیسائی راہب عبادت کے لئے خلوت اور گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے تھے۔ اس وجہ سے اگر اس کا ترجمہ خانقاہیں کیا جائے تو موزوں رہے گا۔ بیع سے مراد بیع، بیعۃ کی جمع ہے یہ یہود و نصاریٰ دونوں کے عبادت خانوں کے لئے آتا ہے۔ لیکن آگے یہود کے بعادت خانوں کے لئے الگ لفظ آیا ہے۔ اس وجہ سے اقرب یہ ہے کہ اس سے مراد نصاریٰ کے گرجے ہوں۔ ان کے ہاں رہبانیت کے نظام کی وجہ سے خانقاہوں اور گرجوں دونوں کو یکساں اہمیت حاصل رہی ہے۔ صلوات سے مراد صلوات، صلاۃ کی جمع ہے۔ یہ لفظ یہود کے کینسوں کے لئے آتا ہے۔ عبرانی میں اس کی اصل صلوتا ہے۔ مساجد جہاد کی اجازت کی حکمت اب یہ حکمت بیان ہو رہی ہے اس بات کی کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے اپنے باایمان بندوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دے دی ہے یہاں تک کہ حرم اور حدود حرم میں بھی اگر ان پر حملہ ہو تو وہاں بھی ان کو حق ہے کہ وہ اپنی مدافعت کریں اور اپنے رب سے یہ امید رکھیں کہ وہ ان کی مدد فرمائے گا۔ فرمایا کہ یہ اجازت اس وجہ سے دی گئی ہے کہ اگر اللہ اشرار و شیاطین کو اپنے صالح بندوں کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو تمام خانقاہیں، تمام گرجے، تمام کنیسے اور تمام مجسدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے، سب کب کے ڈھائے جا چکے ہوتے۔ چناچہ ہمیشہ اللہ نے اپنے نبیوں اور رسولوں اور اپنے صالح بندوں کو جہد کی ہدایت فرمائی اور انہوں نے جہاد کر کے تمام دینی اقدار اور شعائر کی حفاظت کی۔ اسی طرح آج مسلمانوں کو بھی یہ اجازت دی جا رہی ہے کہ وہ اللہ کے حرم اور اس کے شعائر کی حفاظت کے لئے اٹھیں اور اگر اس کے موجودہ غاصب و غدار مدعیان تولیت ان کی راہ میں مزاحم ہوں تو وہ ان کا جواب ترکی بہ ترکی دیں۔ مخالفین جہاد کو جواب یہ امر محلوظ رہے کہ مسلمانوں کے اس حوصلہ کو بھانپ کر قریش نے پہلے ہی سے ان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا تھا کہ اب یہ نئے دین والے حرم اور حدود حرم کی حرمت بھی باقی نہیں رہنے دینا چاہتے اور یہود و نصاریٰ بھی انہیں کی لے میں لے ملا کر مسلمانوں کے اس جذبہ جہاد کو دینداری کے خلاف قرار دے رہے۔ قرآن نے دوسرے مقامات میں بھی دینداری کے ان مدعیوں کو جواب دیا ہے اور یہاں بھی ان سب کو جواب دیا ہے کہ اگر اللہ کی راہ میں جہاد دینداری کے خلاف ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ دین کی ساری بساط لپیٹ کر رکھ دی جائے اور مفسدین کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ وہ دل کھول کے اپنے حوصلے پورے کرلیں۔ جہاد کے سب سے بڑے مخالف نصاریٰ تھے یہاں یہ نکتہ بھی محلوظ رہے کہ آیت میں سب سے پہلے، جیسا کہ ہم واضح کرچکے ہیں، نصاریٰ کی خانقاہوں اور ان کے گرجوں کا ذکر ہے۔ سب سے پہلے ان کی طرف اشارہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے جذبہ جہاد پر سب سے زیادہ معترض، جیسا کہ سورة حدید کی تفسیر سے معلوم ہوگا۔ نصاریٰ ہی تھے۔ اگر چہ ان کی اس مخالفت کے محرکات بعض اور بھی تھے جن کی تفصیل اپنے محل میں آئے گی لیکن ان کے رہبانی تصور کو اس میں بڑا دخل تھا۔ قرآن نے ان کے اسی تصور پر یہاں ضرب لگائی ہے کہ اسلام کی مخالفت کے جوش میں جو لوگ جہاد کو دینداری کے خلاف قرار دے رہے ہیں وہ اس حقیقت کو نظر انداز نہ کریں کہ اگر دینداری کا یہی تصور پہلے بھی ہوتا تو آج زمین پر خدا کی عبادت کا ایک گوشہ بھی محفوظ نہ ہوتا۔ یہاں نصاریٰ اور یہود کے جن معاہد کا حوالہ ہے ان کے متعلق یہ بات یاد رکھیے کہ اصلاً ان کی حیثیت وہی تھی جو ہمارے ہاں مساجد کی ہے۔ ان میں خرابی اس وقت سے پیدا ہوئی ہے جب اہل کتاب شرک و بدعت میں مبتلاً ہوئے۔ مسلمانوں سے وعدہ نصرت سے متعلق بعق حقائق ولینصرن اللہ من ینصرہ یہ اسی وعدہ نصرت کو مزید مئوکد فرمایا ہے اور اس کے ساتھ بعض نئی حقیقتوں کی طرف بھی اشارہ فرما دیا ہے جو نہایت اہم ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ خدا کے دین اور اس کے شعائر کی حفاظت کے لئے اٹھتے ہیں وہ درحقیقت اپنحے رب کی مدد کے لئے اٹھتے ہیں۔ اس وجہ سے خدا کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ان بندوں کی مدد فرمائے جو اس کی مدد کے لئے اٹھے ہیں۔ دوسری یہ کہ خدا کی مدد ہمیشہ ان لوگوں کے لئے ظہور میں آتی ہے جو حق کی راہ میں خود اپنا فرض ادا کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ خدا ان لوگوں کی مدد نہیں کرتا جو بنی اسرائیل کی طرح یہ چاہتے ہیں کہ خدا ان کے لئے میدان جیت کر تخت حکومت بچھا دے تب وہ جا کر ان پر براجمان ہوجائیں گے۔ ان اللہ لقوی عزیز میں بھی کئی پہلو ہیں۔ خدا کے قوی و عزیز ہونے کے بعض خاص پہلو خدا قوی و عزیز ہے اس وجہ سے وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے جو لوگ اس کی مدد کرتے ہیں وہ درحقیقت خود اپنے لئے خدا کی مدد کی راہ کھولتے ہیں۔ مسلمان اپنی قلت عتداد اور دشمن کی بھاری جمعیت سے ہراساں نہ ہوں، جو خداوند ذوالجلا ان کی پشت پناہی کا وعدہ کر رہا ہے وہ قوی و عزیز ہے۔ کفار مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھ کر اس غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں کہ یہ چند چنے بھلا کیا تھاڑ پھوڑیں گے ! یہی قطرے اب طوفان بنیں گے ! اس لئے کہ ان کو خدا کی نصرت و حمایت حاصل ہے اور خدا قوی و عزیز ہے۔
Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو سر زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے، زکواۃ ادا کریں گے۔ معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے اور انجام کار کا معاملہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے

الارض سے مراد سر زمین حرم الارض سے مراد جس طرح رعد 41 اور انبیاء 44 میں ارض مکہ ہے اسی طرح قرینہ دلیل ہے کہ یہاں بھی اس سے مراد ارض مکہ ہے اس لئے کہ یہاں جس جہاد کی اجازت دی گئی ہے اصلاً اس کا تعلق ارض حرم ہی کی آزادی و تطہیر سے ہے۔ فرمایا کہ اس کے موجودہ غاصب اجارہ داروں نے تو اس حرم کے وہ تمام مقاصد برباد کردیئے ہیں جس کے لئے حضرت ابراہیم ؑ نے یہاں اپنی ذریت کو بسایا تھا البتہ اگر ہم اپنے ان بندوں کو اس سر زمین میں، اپنی تائید و نصرت سے، اقتدار بخشیں گے تو یہ اس کے تمام مقاصد کو از سر نو بروئے کار لائیں گے۔ یہ نماز کا اہتمام کریں گے۔ زکواۃ ادا کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ بقرہ کی آیات 128-124 پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ بعینیہ یہی مقاصد ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس سر زمین کو حضرات ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کا مرکز بنایا تھا اور آیت کا اسلوب باتن خود اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ قریش نے یہ تمام مقاصد برباد کردیئے ہیں۔ مسلمانوں کے اقتدار کے ثمرات دنیا میں مسلمانوں کے اقتدار و تمکن کی پہلی بشارت یہی ہے جس کا آغاز حرم کی سر زمین سے ہوتا ہے، جس کی نسبت ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ اس کی حیثیت ملت کے قلب کی ہے۔ اسی کے صلاح و فساد پر تمام ملت کے صلاح و فساد کا انحصار ہے۔ بعینیہ یہی فریضہ مسلمانوں پر ہر اس سر زمین کے لئے عائد ہوتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ کو اقتدار بخشے۔ اگر وہ یہ فریضہ ادا نہ کریں تو خدا کے نزدیک جس طرح دوسروں کا تسلط ناجائز ہے اسی طرح ان نام نہاد مسلمانوں کا تسلط بھی ناجائز ہے۔ نماز اور زکوۃ تمام دین کے لئے بمنزلہ شیرازہ ہیں نماز اور زکوۃ جیسا کہ ہم مختلف مقامات میں واضح کرچکے ہیں تمام شریعت کے لئے بمنزلہ شیرازہ ہیں۔ اگر ان کا ذکر ہوگیا تو گویا پوری شریعت کا ذکر ہوگیا۔ مصروف پر عمل کی آزادی کا مفہوم معروف و منکر پر بھی تفسیر سورة بقرہ میں تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ بعض سادہ لوح یہ سوال کرتے ہیں کہ جب قرآن نے معروف پر عمل کرنے کی اجازت دی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہر گروہ اور ہر قوم کے لوگ اپنے اپنے معروف پر عمل کرنے کیلئے آزاد ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ زندگی کے جن شعبوں میں خود خدا اور رسول نے معروف و منکر کو معین کردیا ہے ان میں کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ خدا کے بتائے ہوئے معروف کو منکریا اس کے منکر کو معروف بنائے۔ البتہ شریعت کے حدود کے اندر رہتے ہئے ہر قوم و ملک کے لوگ اپنے معروف پر عمل کے لئے آزاد ہیں۔ مسلمانوں کو باشرت وللہ عاقبۃ الامور یہ مسلمانوں کو بشارت ہے کہ ابھی آغاز کار ہے اس وجہ سے حالات مشتبہ اور انجام پردے میں ہے۔ ممکن ہے تم کو بھی اور دوسروں کو بھی یہ تمکن کی بشارت مستن بعد معلوم ہو رہی ہو لیکن انجام کار اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے کہ کر کے رہے گا۔
Ayahs 22:42–44

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کر رہے ہیں تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ ان سے پہلے قوم نوح، عاد، ثمود ،

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

قوم ابراہیم، قوط لوط

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے لوگ بھی تکذیب کرچکے ہیں اور موسیٰ کی بھی تکذیب کی گئی تو میں نے ان کافروں کو کچھ ڈھیل دی، پھر ان کو دھر لیا تو دیکھو، کیسی ہوئی میری پھٹکار !

آگے کا مضمون …… آیات 57-42 آیت 41 پر توضیحی آیات، جو بیچ میں بطور جملہ معترضہ آگئی تھیں، ختم ہوئیں۔ اب آگے کلام اپنے اصل سلسلہ سے پھر مربوط ہوگیا اور حضرات انبیائے کرام اور ان کے مکذبین کی تاریخ کی روشنی میں نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو تسلی دی گئی ہے کہ اطمینان رکھو، اللہ کا ہر وعدہ پورا ہو کے رہے گا اور اس کی ہر وعید شدنی ہے۔ اگر اس کے ظہور میں کچھ تاخیر ہو رہی ہے تو یہ سنت الٰہی کے تحت ہو رہی ہے۔ اس طرح اللہ اپنے نیک بندوں کا امتحان اور ان کے مخلافین کو ڈھیل دے کر ان پر اپنی حجت تمام کرتا ہے۔ لوگوں کے پاس آنکھیں ہوں تو اس سنت الٰہی کے آثار اس ملک میں قدم قدم پر موجود ہیں لیکن جن کے دلوں کی آنکھیں اندھی ہوچکی ہیں ان پر یہ آثار کیا کارگر ہو سکتے ہیں ! اسی ذیل میں نبی ﷺ کو ہدایت فرمائی کہ تم مخالفین کے رویہ سے بےنیاز ہو کر ایک نذیر مبین کی طرح، لوگوں کو سامنے کے خطرے سے آگاہ کر دو۔ اگر یہ تمہاری دعوت کی راہ میں اڑنگے ڈالتے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ ہر نبی اور رسول کو اسی طرح کے حالات سے سابقہ پیش آیا ہے لیکن اللہ کی بات پوری ہو کے رہی اور مخالفین و شیاطین کی تمام فتنہ انگیریاں اللہ نے نابود کردیں۔ شیاطین کو ان فتنہ انگیزیوں کا اللہ نے جو موقع دیا ہے تو اس لئے دیا ہے کہ اس طرح حق پوری طرح نکھر کر سامنے آجاتا ہے اور اہل علم و ایمان پوری بصیرت کے ساتھ اس کو قبول کرتے ہیں، پھر ان کے قدم متزلزل نہیں ہوتے …… اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔ آیت 44-42 وکذب موسیٰ حضرت موسیٰ کی تکذیب کا ذکر مجہول کے صیغہ سے کیا ہے درآحالی کہ اوپر دور سے انبیاء کی تکذیب کا ذکر ان کی قوموں کی طرف نست کے ساتھ فرمایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ حضرت موسیٰ کی تکذیب ان کی قوم نے نہیں بلکہ فرعونیوں نے کی۔ آنحضرت ﷺ سے پہلے صاحب شریعت نبی حضرت موسیٰ ہی تھے جن کے حالات کا علم آنحضرت ﷺ کو سب سے زیادہ ہوسکتا تھا۔ اس وجہ سے کسی تصریح کے بغیر خاتمہ کلام کے طور پر، بات یوں فرما دی گی کہ تکذیب تو ابھی تم سے پہلے موسیٰ کی بھی ہوچکی ہے ! تکیر کا مفہوم نکیر اصل میں نکیری ہے ی گرگئی ہے اور کسرہ اس کی یادگار ہے۔ عربی میں قافیہ وغیرہ کی رعایت سے ی اس طرح گر جایا کرتی ہے۔ نکیر کے معنی عام طور پر اہل لغت نے انکار کے لئے ہیں لیکن مجھے اس سے انکار ہے۔ کلام عرب کے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے معنی مجرد انکار کے نہیں بلکہ اس انکار کے ہیں جس کے ساتھ غیرت، نفرت اور بیزاری کی شدت پائی جاتی ہو۔ اس وجہ سے میں نے اس کا ترجمہ پھٹکار کیا ہے۔ رسولوں کے معاملہ میں قوموں کی مشترک کو ایت ان آیات میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہاری قوم تمہارے ساتھ جو معاملہ کر رہی ہے یہ ذرا بھی اس سے مختلف نہیں ہے جو دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا۔ رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ بعینیہ یہی ہے جو ٹھیک ٹھیک تمہارے ساتھ بھی دہرائی جا رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس صورتحال میں نہ تمہاری کسی کوتاہی کو دخل ہے اور نہ اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں جن چیزوں سے مسلح ہو کر میدان میں اترنا تھا۔ ان میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ تمہاری جانب سے سب کچھ ٹھیک ہے لیکن قوموں کی جو روایت ہے وہ بدلنے والی نہیں ہے۔ بس اپنا کام کئے جائو ! لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو۔ فاملیت للکفرین ثم اخذتھم فکیف کان نکیر یعنی جن قوموں نے رسولوں کی تکذیب کی ان کو اللہ نے فوراً نہیں پکڑا بلکہ ان کو کافی مدت تک ڈھیل دی لیکن اس ڈھیل نے اصلاح حال کے بجائے جب ان کی سرکشی ہی میں اضافہ کیا تو اللہ نے ان کو پکڑا اور پھر اس طرح پکڑا کہ ان کی ہستی ہی مٹا دی۔ یہی معاملہ تمہاری قوم کے ساتھ بھی ہوگا اگر اس نے اپنی روش نہ بدلی۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستایں ہیں، جن کو ان کے ظلم کی حالت میں ہم نے لہاک کردیا تو وہ اپنی چھتوں پر ڈھئی پڑی ہیں اور کتین ناکارہ کنوئیں اور کتنے پختہ محل ہیں جو ویران پڑے ہوئے ہیں !

قصر مشیہ کا مفہوم قصر مشید پختہ اور بلند ایوان و محل کو کہتے ہیں اور عربیت کے قاعدے کے مطابق جس طرح بئر کے ساتھ معطلۃ کی صفت ہے اسی طرح اس کے ساتھ بھی متروک و مہجوریا اس کے ہم معنی کوئی صفت ماننی پڑے گی جو وضاحت قرینہ کی بنا پر، حذف کردی گی ہے۔ قوموں کے اخلاقی زوال کے نتائج اوپر والی آیت میں جو حقیقت بیان ہوئی ہے یہ اسی کی شہادت ملک عرب کے ان آثار سے پیش کی گی ہے جن پر سے اہل عرب کے تجارتی قافلے برابر گزرتے تھے اور جن کی روایات، جیسا کہ ان کے شعراء اور خطباء کے کلام سے واضح ہے، ان کے ہاں مشہور تھیں۔ فرمایا کہ کیا ان لوگوں نے نہیں دیکھا کہ کتنے ہی شہر اور بستیاں ہیں جن کو ان کے کفران نعمت کی پاداش میں ہم نے ہلاک کردیا اور اب ان کا حال یہ ہے کہ ان کی دیواریں ان کی چھتوں پر گری پڑی ہیں۔ قوموں پر تباہی ان کے اخلاقی زوال کے نتیجہ میں آتی ہے وھی ظالمۃ یہاں حال کے محل میں ہے اور ظلم کا مفہوم ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں کہ اس سے مراد وہ ظلم ہے جو قومیں اپنے کفران نعمت اور اپنے شرک کے سبب سے خود اپنی جانوں پر ڈھاتی ہیں۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ قوموں پر اس طرح کی جو تباہیاں آتی ہیں وہ محض اتفاقی حادثہ یا گردش روزگار کے طور پر نہیں آتی ہیں، جیسا کہ احمقوں نے سمجھا ہے، بلکہ ان کا ظہور ان کے اخلاق و کردار کے اندر سے ہوتا ہے۔ وہ اپنے رب کی ناشکری میں مبتلا ہوتی رہیں اور ان کا یہ ظلم ان کے تمام انفرادی و اجتماعی اخلاق و کردار کی چولیں ہلا دیتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلات ہے کہ پہلے ان کی عظمت کی چھتیں زمین بوس ہوتی ہیں پھر ان کے وجود کی بنیادیں بھی اکھڑ جاتی ہیں۔ بربادی کی تصویر فھی خاویۃ علی عروشھا صورت حال کی تصویر ہے۔ بڑی عمارتوں کے انہدام کا آغاز بالعموم ان کی چھتوں سے ہوتا ہے۔ متروک و مہجور ہوجانے کے بعد پہلے ان کی چھتیں بوسیدہ ہو کر گرتی ہیں پھر دیواریں بھی غیر محفوظ ہوجانے کے باعث باد و باراں سے ڈھے جاتی ہیں۔ وبئر معطلۃ کا عطف قریۃ پر ہے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ عرب کے ملک میں پانی کی قلت کے سبب سے کنوئوں اور چشموں کی بڑی اہمیت تھی۔ بستیاں وہیں بستی تھیں جہاں پانی دستیاب ہو اور کنوئیں بنائے جاسکتے ہوں۔ پھر لازماً سب سے زیادہ رونق بھی کنوئوں اور چشموں ہی پر ہوتی تھی اس وجہ س کنوئوں کی ویرانی تعبیر ہے ساری ہما ہمی اور تمام چہل پہل کے ختم ہوجانے کی۔ وقصر مشید کے ساتھ بھی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، کوئی صفت، معطلۃ کی ہم معنی محذوف ماننی پڑے گی۔ اس وجہ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ کتنے پر شکوہ اور بلند وبالا ایوان و محل ہیں جو بالکل متروک و مہجور پڑے ہیں اور جن کی ڈیوڑھیوں کے آگے کبھی بڑے بڑے سردار اور حکمران سجدے کرتے تھے اب ان کے کنگروں اور ان کی برجیوں میں زاغ و زغن کے آشیانے ہیں !
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا یہ لوگ ملک میں چلے پھرے نہیں کہ ان کے دل ایسے ہوجاتے کہ وہ ان سے سمجھتے یا انکے کان ایسے ہوجاتے کہ وہ ان سے سنتے کیونکہ آنیں لک اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں

دل کے اندھے یعنی یہ عبرت بخش آثار تو ہم نے زمین میں چھوڑے ہی اس لئے ہیں کہ لوگ ان کو دیکھیں اور ان سے عبرت حاصل کریں تاکہ ان کے دلوں کے اندر سونچنے کی اور ان کے کانوں کے اندر سننے کی صلاحیت بیدار ہو اس لئے کہ اس دنیا کی اصلی آفت یہ نہیں ہے کہ سروں پر جو آنکھیں لگی ہوئی ہیں وہ اندھی ہوجاتی ہیں بلکہ یہ ہے کہ سینوں میں جو دل ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں ! مطلب یہ ہے کہ اگر سروں کی آنکھوں کی بصارت جاتی رہے اور سینے میں بسنے والا دل بیدار ہو تو آدمی نابینا ہو کر بھی تمام حقائق کا مشاہدہ کرتا ہے لیکن دل کی آنکھیں جپاٹ ہوچکی ہوں تو وہ دیکھتا تو سب کچھ ہے لیکن اسے سوجھتا کچھ بھی نہیں ! یہاں قلوب کے ساتھ فی الصدور کی قید اس امر کا قرینہ ہے کہ الابصار کے ساتھ فی الروئوس یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف مانا جائے۔ تقابل کا اصول، جس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں، اس کا تقاضا کر رہا ہے۔ چونکہ یہاں حال بےببصیرت لوگوں کا بیان ہو رہا ہے اس وجہ سے ضروری ہوا کہ دلکا پتہ، اس کے مقام و محل کے تعین کے ساتھ دیا جائے کہ اصلی اندھا پن دل کا اندھا پن ہے اور یہ مکذبین رسول اسی اندھے پن میں مبتلا ہیں۔ کوئی ان کے سر کی آنکھیں کھلی دیکھ کر انکو بینا نہ سمجھے۔ اس لئے کہ آنکھوں کے اندر بصیرت کی روشنی دل کی راہ سے آتی ہے اور ان کے دل کی آنکھیں بالکل اندھی ہیں۔ آثار سے عبرت پذیری سے گریز یہ امر خاص طور پر یہاں محلوظ رہے کہ عرب کے شعراء منزل جاناں کے آثار پر تو خون کے آنسو بہاتے تھے یہاں تک کہ اس کے چولہے اور چکی کے آثار تک کو یاد کر کے روتے اور رلاتے لیکن ان کے اس سارے تو تم کی رسائی بس منزل جاناں کے آثار ہی تک تھی۔ اس سے آگے بڑھ کر انہوں نے تاریخ کے ان اثٓار اور اپنے ملک کے ان کھنڈروں سے کوئی سبق حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی جو دل کی آنکھیں کھولنے والی ہزاروں داستانیں زبان حال سے سنا رہے تھے۔ یہی حال ہمارے موجودہ زمانے کے ماہرین اثریات یا متوسمین کا ہے انہوں نے بڑی گہری کھدائیاں کر کے بیشمار آثار سے عجائب خانے تو بھر دیئے لیکن ان کی ساری تحقیق و تفتیش صرف اس نقطہ پر مرتکز ہے کہ یہ آثار پانچ ہزار برس پہلے کی تہذیب کے ہیں، یاسات ہزار برس پہلے کی تہذیب کے ! وہ اصل حقیقت جس کی طرف یہ آثار اشارہ کر رہے ہیں نہ کسی کی سمجھ میں آئی ہے، نہ شاید آئے گی حالانکہ قدرت نے یہ آثار اسی حقیت کی تذکیر کے لئے محفوظ کئے ہیں اس لئے کہ دلوں کے اندر بصیرت اسی حقیقت تذکر سے پیدا ہوتی ہے !
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور یہ لوگ تم سے عذاب کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ اپنے وعدے کی ہرگز خلاف ورزی کرنے والا نہیں ہے اور تمہارے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی طرح کا ہوتا ہے

انسان کا ایک مغالطہ یعنی تم کو جھٹلانے والے جلدی مچائے ہوئے ہیں کہ جس عذاب کی تم ان کو وعید سنا رہے ہو یہ آکیوں نہیں جاتا ؟ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ آئے گا تو ضرور، خدا اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گ۔ لیکن انسان ہر چیز کو اپنے محدود پیمانوں سے ناپتا ہے اس وجہ سے اس کو چند سالوں کی مدت یا مہلت بہت طویل معلوم ہوتی ہے۔ وہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ یہ جو کچھ اس سے کہا جا رہا ہے یہ سب ہوائی باتیں ہیں حالانکہ یہ ہوائی باتیں نہیں ہیں بلکہ حقائق ہیں لیکن خدا کے ہاں کے دجن اس دنیا کے دنوں سے بالکل مختلف ہیں۔ خدا کے ہاں کا ایک دن اس دناں کے دنوں کے حساب سے ایک ہزار سال کے مانند ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے سیکنڈ اور منٹ بھی اس دنیا کے برسوں کی مدت سے متجاوز ہوتے ہیں۔ انسان ہر چیز کا شمار اپنے چوبیس گھنٹوں کے دن کے حساب سے کرتا ہے اور خدا کے پروگرام اس کی اپنی تقویم کے اعتبار سے بنتے ہیں۔ خدائی دنوں کے پیمانے مطلب یہ ہے کہ خدا اور اس کی ملکوت کے معاملات کو اپنے اوزان اور پیمانوں سے ناپنے اور تولنے کی کوشش نہ کرو۔ تمہارے ہاں جب صدیاں گزر جاتی ہیں تو خدا کے ہاں وہ منٹوں اور گھنٹوں کی بات ہوتی ہے۔ خدائی دنوں کا یہ حساب جو یہاں مذکور ہوا ہے یہ بھی صرف تقریب فہم کے لئے ایک تمثیل ہے اور کالف سنۃ کے الفاظ خود اس کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اصل حقیقت ان دنوں کی کیا ہے ؟ اسی کو صرف خدا ہی جانتا ہے۔ یہ تمثیلی جس طرح قرآن میں وارد ہوئی ہے اسی طرح زبور اور انجیل میں بھی ہے۔ 2۔ پطرس : ب کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔ ”یہ خاص بات تم پر پوشیدہ نہ رہے کہ خداوند کے نزدیک ایک دن ہزار برس کے برابر ہے اور ہزار رس ایک دن کے برابر۔“ آسمان و زمنی کے چھ دنوں میں پیدا کئے جانے کا ذکر جس طرح قرآن میں ہے اسی طرح تورات میں بھی ہے اور ان چھ دنوں میں تقسیم کار کی جو صورت اللہ تعالیٰ نے اختیار فرمائی ہے اس کی تفصیل حم السجدہ میں بیان ہوئی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان سے ہمارے اور آپ کے دن مراد نہیں ہیں بلکہ یہ خدائی ایام ہیں جن کے طول و عرض کو صرف خدا ہی جانتا ہے۔ ہمارے لئے یہ اجمالی علم کافی ہے کہ خدا نے الگ الگ عالم بنائے ہیں اور ہر عالم کا مدارو نظام الگ الگ ہے۔ ایک کے معاملات کو دور سے پر قیاس کرنا بالکل غلط ہے۔ ہمیں اپنے گز سے آسمان و زمین کے طول و عرض کرن اپنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے قرآن سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ ملکوت الٰہی کے نظام میں بعض امور کے لئے اس سے بھی بڑے دن مقرر ہیں۔ مثلاً جبریل امین اور ملاکئہ کی دربار الٰہی میں خاض حضوری کے لئے جو دن ہے وہ پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ سورة معارج میں ہے۔ تعرج الملٓکۃ و الروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمین الف سنۃ (معارج : 4) فرشتے اور جبریل اس کی طرف ایک ایسے دن میں صعود رتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہے۔ جن لوگوں نے آیت زیر بحث میں یوم سے یوم قیامت مراد لیا ہے اور اس کے اس طول کو اس کی شدت عذاب سے استعارہ قرار دیا ہے ہمارے نزدیک ان کی تاویل سیاق کلام کے بھی خلاف ہے در نظائر قرآن کے بھی خاص طور پر اس قول کی نسبت حضرت ابن عباس اور مجاہد جیسے اکابر تفسیر کی طرف و بالکل ہی خلاف حقیت ہے۔ لیکن اس وضاحت کے بعد جو ہم نے اوپر کی ہے، اب اس کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ان کے ظلم کے باوجود میں نے ڈھیل دی، پھر ان کو پکڑ لیا اور میری ہی طرف سب کی واپسی ہے

یہ عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں کو جواب ہے کہ خدا کی ڈھیل سے مغرور نہ ہو۔ گنتی ہی قومیں گزر چکی ہیں جن کو ان کے کفران نعمت اور شرک کے باوجود ہم نے ڈھیل دی لیکن جب انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا تو بالآخر ان کو دبوچ لیا اور پھر کوئی ان کو ہم سے چھڑانے والا نہ بن سکا۔ مطلب یہ ہے کہ یہی حشر تمہارا بھی ہونے والا ہے۔ اگر تمہاری اس اکڑ میں خم نہ پیدا ہوا۔ والی المصیر اور یہ بھی یاد رکھو کہ بالآخر سب کی واپسی ہماری ہی طرف ہوتی ہے۔ آخرت میں سب کو سابقہ صرف ہم سے پیش آئے گا۔ نہ کسی کے اعوان و اصنار وہاں کسی کے کچھ کام آئیں گے نہ مزعومہ شرکاء و شفعاء
Ayahs 22:49–51

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

کہہ دو ، اے لوگو ! میں تو تمہارے لئے بس ایک کھلا ہوا آگاہی پہنچانے والا ہوں

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

تو جو ایمان لاین اور انہوں نے اچھے عمل کئے ان کے لئے مغفرت اور باعزت روزی ہے

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جن کی تگ و دو ہماری آیات کی مخالفت کی راہ میں ہے وہی دوزخ والے ہیں

رسول کی اصل ذمہ داری نذیر یرمبین پر ہم دوسری جگہ بحث کرچکے ہیں۔ عربوں میں یہ طریقہ تھا کہ قبیلہ یا قافلہ جہاں ڈیرا ڈالتا وہاں کسی اونچی جگہ پر ایک نگران پہرہ دیتا اور اگر وہ کسی طرح سے کوئی خطرہ محسوس کرتا تو اپنے کپڑے اتار کر ننگا ہوجاتا اور خطرے کا اعلان کرتا جس کے بعد قبیلہ یا قافلہ کے سارے مرد تلواریں سونت کو مدافعت کے لئے تیار ہوجاتے۔ اس کو نذیر عریاں کہتے تھے۔ یہ تعبیر چونکہ ناشائستہ تھی، نبی کے لئے اس کا استعمال موزوں نہ تھا، اس وجہ سے قرآن نے اس کو نذیر مبین کی شکل میں شائستہ بنا لیا ہے لیکن اس میں تلمیح نذیر عریاں ہی کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک نذیر عریاں قوم کو خطرے سے اگٓاہ کرتا ہے تم ایک نذیر مبین بن کر لوگوں کو آنے والے وقت سے آگاہ کر دو۔ لیکن بس آگاہ کر دو۔ نہ اس خطرے کو دکھا دینا تمہاری ذمہ داری ہے نہ اس سے لوگوں و بچانا تمہاری ذمہ داری ہے۔ اگر لوگ تمہارے اس واضح انداز کے بعد بھی متنبہ نہ ہوں گے تو نتائج کی ذمہ داری خود ان پر ہے۔ یہ مضمون انما کے اندر جو حصر کا مفہوم ہے اس سے نکلتا ہے۔ فالذین امنوا و عملوا الصلحت لھم مغفرۃ و رزق کریم والذین سعوا فی ایتنا معجزین اولٓئک اصحب الجحیم یہ وہ اصل انذار ہے جس سے آشکارا طور پر لوگوں کو آگاہ کردینے کی نبی ﷺ کو ہدایت ہوئی۔ اس کا آغاز اگرچہ اہل ایمان کے لئے بشارت سے ہوا ہے لیکن یہاں یہ بشارت بھی انذار ہی کا مقدمہ ہے اس لئے کہ کلام کا رخ قریش کے متکبرین کی طرف ہے اور یہ بشارت ان کے غرور پر ایک کاری ضرب ہے۔ فرمایا کہ لوگوں کو سنا دو کہ وہ وقت آ رہا ہے جب ایمان و عمل صالح والوں کو تو مغفرت اور رزق کریم کی سرفرازی حاصل ہوگی، رہے وہ لوگ جن کی ساری بھاگ دوڑ ہماری آیات کی تکذیب اور ہمارے رسول کو شکستد ینے کی راہ میں ہے جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے۔ رزق کریم مغفرت کا ثمرہ اور جنت کی تمام نعمتوں کی ایک جامع تعبیر ہے۔ یہاں کریم کی صفت اپنے اندر گوناگوں پہلو رکھتی ہے جن کی فصیل اپنے محل میں آئے گی۔ معاجزۃ کے معنی اس مسابقت کے ہیں جو کسی کو شکست دینے کے لئے کی جائے۔ یہاں اس سے اشارہ کفار کی اس بھاگ دوڑ کی طرف ہے جو نبی ﷺ کو شکست دینے کے لئے وہ کر رہے تھے۔
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے جو رسول اور بنی بھی بھیجا تو جب بھی اس نے کوئی ارمان کیا تو شیطان نے اس کی راہ میں اڑنگے ڈالے۔ پس اللہ مٹا دیتا ہے شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسوں کو، پھر اللہ اپنی باتوں کو قرار بخشتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے

تمنی کا اصل لغوی مفہوم، صاحب اقرب الموارد کی تصریح کے مطابق یہ ہے۔ یطلق عند اھل العربیۃ علی طلب حصول الشی علی سبیل الجھۃ وعلی الکام الدال علی ھذا الطب (عربی زبان کے ماہرین کے نزدیک یہ لفظ کسی شے کے بطریق محبت حصول کی طلب کے لئے بولا جاتا ہے اور اسی طرح اس کلام پر بھی اس کا اطلا قہوات ہے جو اس طلب پر دال ہو) میں نے اس قول کا حوالہ اس لئے دیا ہے کہ میرے نزدیک کلام عرب کی روشنی میں، اس لفظ کا صحیح مفہوم یہی ہے۔ قرآن میں اس کے مختلف صیغے سات آٹھ مقامات میں استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے بعد اسی مادے سے امغیۃ کا لفظ بی، جمع اور واحد کی مختلف صورتوں میں، سات آٹھ جگہ آیا ہے۔ ہر جگہ، ہر شکل میں لفظ کی اصل روح موجود ہے اردو میں اس کا مفہوم ہوگا۔ کسی چیز کی خواہش کرنا، ارمان کرنا، تمنا کرنا، حوصلہ کرنا، یا کسی مقصد کے لئے اپیل یا اتمالت کرنا۔ اسی طرح امنیۃ کے معنی خواہش، ارمان، تمنا، حوصلہ اور پایل کے ہوں گے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس لفظ کے اندر بعض لوگوں نے قرأت کرنے کے معنی کہاں سے گھسا دیئے ہیں مجھے اس معنی میں یہ لفظ کلام عرب میں کہیں نہیں ملا حالانکہ یہ عربی زبان کے کثیر الاستعمال الفاظ میں سے ہے۔ بعض مفسرین نے اس مفہوم کی تائید میں ایک شعر نقل کہ ہے لیکن اول تو ایک کثیر الاستعمال لفظ کو، اس کے معروف مفہوم سے ہٹانے کے لئے، ایک غیر معروف شعر کی سند کی وقعت کیا ہے۔ پھر وہ شعر بھی ہمارے نزدیک منحول ہے اور ہم اس کا منحول ہونا ثابت کرسکتے ہیں لیکن ایک غیر مفید بحث کو طول دینے سے کیا حاصل ؟ اس بات کی بھی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے کہ صحاب نسان نے لفظ کے اس مفہوم کا بھی حوالہ دیا ہے۔ صاحب لسان کی ساری خوبیوں کے اعتراف کے باوجود، ان کی اس خامی کی طرف مقدمہ تفسیر میں ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ بسا اوقات وہ کسی لفظ کے تحت اہل تاویل کے لئے سند اقوال بھی نقل کردیتے ہیں اور چونکہ اس لفت کا بڑا پایہ ہے اس وجہ سے جو لوگ لغت کے نقادوں میں سے نہیں ہیں وہ اس طرح کے اقوال کو لے اڑتے ہیں حالانکہ ان اقوال کی، جب تک زبان کے استعمالات سے تائید نہ ہو، کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بہرحال ہمارے نزدیک اس لفظ کے اندر قرأت یا تلاوت کے معنی کے لئے کوئی ادنیٰ گنجائش بھی نہیں ہے۔ اب آیت کے مفہوم اور اس کے اجزاء پر غور کیجیے۔ اوپر والی آیت میں معاندین کی جس سعی فی المعاجزۃ کا ذکر ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ نبی ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو تمہی کو پیش آئی ہو۔ تم سے پہلے جتنے رسول اور نبی بھی آئے سب کو اسی طرح کے حالات سے سابقہ پیش آیا۔ جب بھی کسی نبی نے لوگوں کی وہدایت و اصلاح کے لئے کوئی قدم اٹھایا، کوئی حوصلہ کیا، کوئی دعوت دی اور خلق کو سکھانے سدھارنے بلانے اور پر چانے کی کوشش کی تو اشرار و مفسدین نے اسی طرح اس کے حوصلے کی راہ میں اڑنگے ڈالے اور اس کی آواز کو دبانے اور اس کی تعلیم و دعوت کو شکست دینے کی کوشش کی۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ نبی ﷺ جب بھی دعوت و اصلاح کے ارادے سے اٹھتے تو ابولہب و ابوجہل وغیرہ آپ کی تردید کے لئے سایہ کے لیء سایہ کی طرح ساتھ ساتھ بھرتے۔ یہاں ہدایت و اصلاح کی راہ میں نبی کے اقدام کو تمنی اور اس کی سعی و جہد کو امنیۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔ امنیۃ کے معنی آرزو حوصلہ اور ارمان کے ہیں۔ ان الفاظ کے استعمال سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ نبی کی تمنا اور آرزو تو شب و روز یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کے دلوں میں اللہ کی ہدایت اور اس کی باتیں (آیات) اتارنے کی کوئی راہ کھلے اور وہ یہ راہ کھولنے کے لئے طرح طرح کے جتن کرتا رہتا ہے لیکن شیاطین ہر وقت یہ راہ مارنے کے لئے گھات میں رہتے ہیں اور جہاں ان کو نبی کی کوئی بات بنتی نظر آئی فوراً اس کے خلاف طرح طرح کے پروپیگنڈے سروع کردیتے ہیں۔ یہ امر یاد رکھیے کہ شیاطین اس وقت تک تو میٹھی نیند سوتے رہتے ہیں جب تک وہ دیکھتے ہیں کہ کسی طرف سے کلمہ حق کی صدا نہیں آرہی ہے لیکن جب وہ محسسو کرتے ہیں کہ کوئی دعوت حق بلند ہوئی تو ان کو اپنا مستقبل خطرے میں نظر آنے لگتا ہے اور پھر وہ اس کی مخالفت کے لئے اپنے تمام حربوں سے مسلح ہو کر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ نبی اور رسول کے فرق پر ہم آل عمران 49 کے تحت وضاحت سے گفتگو کرچکے ہیں۔ یہاں ان دونوں لفظوں کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اس آزمئاش سے کوئی نبی یا رسول بھی نہیں بچا ہے۔ یہ آزمائش انبیاء و رسل کے لئے اللہ کی ایک سنت ہے جو سب کو پیش آچکی ہے۔ لفظ شیطان یہاں بطور اس جنس ہے اور اس سے مراد شیاطین جن و انس دونوں ہیں۔ یعنی دونوں گٹھ جوڑ کر کے نبی کو شکست دینے کے لئے ایک متحدہ محاذ بنا لیتے ہیں۔ شایطین کی فتنہ انگیزیاں القی الشیطن فی امنیتہ سے مراد یہ ہے کہ وہ نبی کے کام و اقدام اور اس کے ارادوں اور منصوبوں میں طرح طرح سے رخنہ اندازیاں کرتے اور قسم قسم کے اعتراضوں، طعنوں، شگوفہ بازیوں سے اس کے کلام و پیغام کے اثر کو مٹانے کے در پے ہوتے ہیں۔ فینخ اللہ مایلقی الشیطن ثم یحکم اللہ ایتۃ نسخ کے معنی جیسا کہ آیت نسخ کے تحت وضاحت ہوچکی ہے، مٹانے کے ہیں اور احکام کے معنی پابرجا اور مستحکم کرنے کے۔ مطلب یہ ہے کہ انبیاء ورسل کو یہ آزمائش اللہ تعالیٰ کی سنت کے تحت پیش آتی ہے اور اس کا فائدہ، جیسا کہ آگے وضاحت آرہی ہے، دعوت حق کو پہنچتا ہے۔ حق و باطل کے اس تصادم کا نتیجہ بالاخر یہ ہوتا ہے کہ اللہ شیاطین کے اٹھائے ہوئے فتنوں کو تو جھاگ کی طرح بٹھا دیتا ہے اور اپنی اور اپنے رسول کی باتوں کو دلوں میں رسوخ و استحکام بخشتا ہے۔ واللہ علیم حکیم یہ تسلی کے مضمون کو اللہ تعالیٰ کی صفات کے حوالہ سے مزید مئوکد و مدلل کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ حق و باطل میں یہ کشمکش کراتا ہے اور اپنے نبیوں کی دعوت کے مقابلہ میں شالطین کو بھی زور آزمائی و فتنہ انگیزی کا موقع جو دیتا ہے تو یہ سب کچھ اس کے علم و حکمت و حکمت پر مبنی ہے اس وجہ سے نبی کو اللہ کے علم اور اس کی حکمت پر بھروسہ رکھنا چاہئے کہ جو کچھ پیش آئے گا وہ اللہ تعالیٰ کے علم و حکمت پر مبنی ہوگا اور اس کا نتیجہ اس کی دعوت کے حق میں بہتر ہی نکلے گا۔ بعینیہ یہی مضمون بتغیر الفاظ قرآن کے دور سے مقامات میں بھی بیان ہوا ہے۔ بعض نظائر ملاحظہ ہوں سورة انعام میں ارشاد ہوتا ہے۔ آیت (الانعام :114-113) اور اسی طرح ہم نے انسانوں اور جنوں کے شیاطین کو ہر نبی کا دشمن بنایا۔ وہ ایک دور سے کو طمع کی ہوئی باتیں خلق کی فریبی دہی کے لئے القا کرتے ہیں اور اگر تیرا رب چاہتا تو وہ یہ نہ کر پاتے تو ان کو اور انکی اس ساری فریب کاری کو نظر انداز رو، اللہ نے اس مکا موقع اس لئے دے رکھا ہے کہ اس سے اہل ایمان کا ایمان محکم ہو اور تاکہ اس فتنہ کی طرف ان لوگوں کے دل جھکیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور تاکہ وہ اس کو پسند کریں اور تاکہ جو کمائی یہ کرنی چاہتے ہیں کرلیں۔ ان آیات سے سورة حج کی زیر بحث آیت کی پوری وضاحت ہوجاتی ہے۔ خاص طور پر یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا کے الفاظ نگاہ میں رہیں۔ یہ بعینیہ وہی بات ہے جو آیت زیر بحث میں القی الشیطن فی امنیتہ کے الفاظ سے تعبیر فرمائی گی ہے۔ اسی طرح سورة فرقان میں ہے۔ آیت (فرقان 33-31) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے مجرموں میں سے دشمن بنائے اور اطمینان رکھو، تمہارا رب رہنمائی اور مدد کے لئے کافی ہے اور یہ کافر اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اس شخص پر یہ قرآن آخر بیک دفعہ کیوں نہیں نازل کردیا گیا ! ہم نے ایسا اس لئے کیا کہ اس بارگراں کے لئے تمہارے دل کو اس کے ذریعہ سے اچھی طرح مضبوط کردیں اور ہم نے اس کو اہتمام کے ساتھ بالتدریج اتارا۔ اور یہ جو شگوفہ بھی چھوڑیں گے تو ہم اس کے جواب میں حق کو واضح اور اس کی بہترین توجیہ کریں گے۔ اس آیت میں اس القائے شیاطنی کی ایک مثال بھی پیش کردی گئی ہے کہ اللہ کا رسول جب لوگوں کے سامنے اللہ کا کلام پیش کرتا ہے تو یہ معاندین، رسول کو مطعون کرنے کے لئے یہ شگوفہ چھوڑتے ہیں کہ اگر ایہ سامنے اللہ کا کلام پیش کرتا ہے تو یہ معاندین، رسول کو مطعن کرنے کے لئے یہ شگوفہ چھوڑتے ہیں کہ اگر یہ اللہ کے رسول ہیں تو یہ پورا قرآن بیک دفعہ کیوں نہیں پیش کردیتے ! آخر اللہ کے لئے یہ کیا مشکل ہے ! مطلب یہ ہے کہ جب یہ ایسا نہیں کر رہے ہیں تو اس کے معنی (نعوذ باللہ) یہ ہیں کہ یہ خود اس کلام کو گھڑتے ہیں اور جتنا گھڑ پاتے ہیں اتنا سنا دیتے اور دھونس جمانے کے لئے جھوٹ موٹ اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ القائے شیطان کی بےبنیاد روایت اس آیت کی توضیح میں ہم نے اس قدر تفصیل سے صرف اس لئے کام لیا ہے کہ کسی کے ذہن میں کوئی خلجان باقی نہ رہ جائے۔ اس توضیح کے بعد اس فضول سی روایت کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی جو ہمارے مفسرین نے، اللہ ان کو معاف کرے، اپنی کتابوں میں اس آیت کے شان نزول کی حیثیت سے درج کردی ہے۔ اول تو یہ آیت، جیسا کہ آپ نے دیکھا، کسی شان نزول کی محتاج نہیں ہے بلکہ اپنے مفہوم و مدعا میں بالکل واضح اور اپنے سابق ولا حق سے بالکل مربوط ہے۔ پھر ستم یہ ہے کہ جو روات یہ حضرات نقل کرتے ہیں نہ اس کا روایت کے اعتبار سے کوئی وزن ہے نہ درایت کے پہلو سے بلکہ وہ محض زنادقہ کا ایک القائے شیطانی ہے جو انہوں نے حراضت انبیاء (علیہم السلام) کی عصمت کو مجروح کرنے کے لئے گھڑا اور حضرات مفسرین اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے اس کو اپنی کتابوں میں قنل کرتے آ رہے ہیں۔
Ayahs 22:53–54

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ شطاپن کے ڈالے ہوئے وسوسوں کو ان لوگوں کے لئے فتنہ بنائے جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو سخت دل ہیں اور بیشک یہ ظالم اپنی مخاصمت میں بہت دور نکل گئے ہیں

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور ایسا اس لئے بھی ہوتا ہے کہ وہ لوگ جن کو علم عطا ہوا ہے اچھی طرح جان لیں کہ یہی تیرے رب کی جانب سے حق ہے پس ان کے ایمان اس پر پختہ ہوں اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں اور اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ضرور صراط مستقیم کی ہدایت فرمائے گا

آیت 54-53 حق کے مقابل میں باطل کو مہلت دیئے جانے کی پہلی حکمت اب یہ حکمت واضح فرمائی جا رہی ہے اس بات کی کہ اس دنیا میں یہ صورت حال کیوں ہے کہ جب کوئی دعوت حق و خیر اٹھتی ہے تو اس کے مقابل میں اشرار و شیاطین بھی اپنی تمام فتنہ انگیزیوں کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں ؟ فرمایا کہ یہ اسلئے ہے کہ اللہ نے حق کے ساتھ باطل کو بھی اس دنیا میں مہلت دے رکھی ہے تاکہ جو حق کو اختیار کرے وہ بھی اختیار وتمیز کے ساتھ کرے اور جو باطل کی طرف جانا چاہے وہ بھی وضوح حق اور اتمام حجت کے بعد جائے۔ اس کشمکش سے اہل ایمان کا ایمان پختہ ہوتا ہے اور اسی سے منافقین اور سخت دلوں پر اللہ کی حجت تمام ہوتی ہے۔ اشرار کے فتنوں کے مخفی فوائد فتنہ سے مراد آزمائش اور امتحان ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر حق کے مقابل میں باطل اور اہل باطل کو بھی زور آزمائی کا موقع نہ دیا گیا ہوتا تو حق پرستوں اور باطل پرستوں میں امتیاز نہ ہوتا۔ یہ موقع مل جانے سے اہل باطل، اپنا من بھاتا کھاجا پاکر، باطل کے علمبرداروں کے ساتھ ہوجاتے ہیں اور جو سچے حق پرست ہوتے ہیں، اہل باطل کی تمام باطل آرائیوں کے علی الرغم، حق پر جمے رہتے ہیں۔ للذین فی قلوبھم مرض و القاسیۃ قلوبھم مرض سے مراد نفاق ہے اور قاسیۃ القلوب سے اشارہ قریش اور یہود کے ان کٹر معاندین کی طرف ہے جن کے باہمی گٹھ جوڑ سے، دعوت حق کے خلاف یہ مہم چل رہی تھی۔ فرمایا کہ باطل کو یہ مہلت اللہ نے اس لئے دی ہے کہ یہ منافقین اور اشراء کے لئے ایک فتنہ بنے وہ حق کے خلاف جو کھیل کھیلنے چاہتے ہیں وہ کھیل لیں اور اپنے دل کے ارمان پورے کرلیں۔ حق کے مقابل میں باطل کو مہلت دیئے جانے کی دوسری حکمت وان الظلمین لفیشقاق بعید۔ یہی انہی بدنجتوں اور شامت زدوں کی حالت پر اظہار افسوس ہے کہ اب یہ حق کی مخالفت میں اتنی دور نکل گئے ہیں کہ ان کی بازگشت کا کوئی امکان نہیں۔ اس میں پیغمبر ﷺ کے لئے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اب ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو، یہ سنت الٰہی کی زد بن آئے ہوئے لوگ ہیں ! ولیعلم الذین اوتوا العلم انہ الحق من ربک فیومنوا بہ فخبت لہ قلوبھم ولیعلم اور فیئومنوا بہ دونوں مقامات میں فعل اپنے کامل معنوں میں استعمال ہوئے ہیں اور اور اوتوا العلم میں علم سے مراد قرآن و کاتب کا علم ہے۔ یہ حق کے مقابل میں باطل کو مہلت دیئے جانے کی دوسری حکمت بیا نہوئی کہ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس طرح وہ لوگ، جو علم کتاب سے کچھ بہرہ ہوچکے ہیں، اپنے علم میں پوری طرح راسخ ہوجاتے ہیں اور ان پر یہ حقیقت اچھی طرح روشن ہوجاتی ہے کہ جو علم کتاب تم سے ان کو ملا ہے وہ بالکل حق اور منجانب اللہ ہے۔ پھر ان کے علم کی یہ پختگی ان کے ایمان کو بھی پورا رسوخ و استحکام بخشتی ہے اور ان کے دل پوری یکسوئی اور کامل رضا کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھک پڑتے ہیں۔ اشیاء کی اصل حقیقت ان کے اضداد سے واضح ہوتی ہے یہاں یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ اشیاء کی اصل حقیقت ان کے اضداد ہی سے واضح ہوتی ہے۔ ایک بات کو آپ جانتے اور مانتے ہیں لیکن اس کے خلاف جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ اگر آپ کے سامنے نہیں آیا تو اس بات کا بڑا امکان ہے کہ وہ جب سامنے آئے تو آپ کا علم و ایمان متزلزل ہوجائے۔ لیکن وہ سب کچھ اگر آپ کے سامنے آچکا ہے اور اس کے کھرے کھوٹے میں امتیاز کر کے آپ نے اس حق کو قبول کیا ہے تو اس کو علی موجہ البصیرت آپ نے اختیار کیا ہے۔ پھر اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ کوئی باد مخالف آپ کے موقف سے آپ کو ہٹا سکے۔ دین میں ییت بصیرت پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں یہ انتظام فرمایا کہ حق کے مخالفین کو بھی یہ موقع دیا ہے کہ وہ حق کے خلاف جو زہر اگلنا چاہتے ہیں وہ اگل لیں تاکہ جو لوگ حق کو قبول کریں محض تقلیدی طور پر نہ اختیار کریں بلکہ پوری معرفت کے ساتھ اختیار کریں۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا علم راسخ اور مبنی بر حکمت و بصیرت ہوگا ان کا ایمان بھی تقلیدی نہیں ہوگا جو ہر جھونکے سے متزلزل ہوجائے بلکہ صحیح اور راسخ علم سے صحیح اور راسخ ایمان پیدا ہوتا ہے اور اسی راسخ ایمان سے وہ اسلام واخبات وجود میں آتا ہے جو ایمان کے اصل روح ہے اور جس کے بغیر ایمان خدا کی میزان میں کوئی وزن نہیں رکھتا۔ اہل ایمان کو ثبات قدم کی بشارت وان اللہ لھاد الذین امنوآ لالی صراط مستقیم۔ جس طحر اوپر منافقین اور اشرار سے متعلق فرمایا ہے کہ وان الظلمین لفی شقاق بعید، داب یہ لوگ اتنی دور نکل جا چکے ہیں کہ ان کی حق کی طرف بازگشت کا کوئی امکان باقی نہیں رہا) اسی طرح اس ٹکڑے میں اہل ایمان سے متعلق بشارت دی ہے کہ اگرچہ شایطین ان کی راہ مارنے کی تو بہت کوشش کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو ضائع نہیں ہونے دے گا بلکہ توفیق بخشی سے ان کی رہنمائی صراط مستقیم کی طرف فرمائے گا۔ صراط مستقیم سے مراد وہ سیدھی راہ ہے جو بندے کو اس کے رب کی طرف لے جاتی ہے۔ نکرہ یہاں میرے نزدیک اس کی اہمیت و شان کے اظہار کے لئے ہے۔
Ayahs 22:55–57

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے برابر اس کی طرف سے شک ہی میں رہیں گے یہاں تک کہ ان پر اچانک قیامت آدھمکے یا ایک منحوس دن کا عذاب آجائے

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

اس دن سارا اختیار اللہ ہی کو حاصل ہوگا۔ وہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ تو جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے عمل صالح کئے ہوں گے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی تکذیب کی وہی ہیں جن کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

آیت 57-55 مخالفین کو وعید اوپر اہل علم و ایمان کی تعریف میں فرمایا کہ مخالفین ان کے اندر اس بات کو راسخ کرتی ہیں کہ پیغمبر جو وعدو وعید سنا رہے ہیں وہ بالکل حق ہے۔ اب فرمایا کہ رہے یہ مکذبین تو وہ اس وعدو وعید کی طرف سے اسی طرح شک میں مبتلا رہیں گے جس طرح آج ہیں۔ یہ تو اسی وقت مانیں گے جب ان پر یا تو قیامت اچانک آدھمکے یا کسی ہولناک منحوس دن کا عذاب ان پر آجائے۔ عقیم بانجھ کو کہتے ہیں۔ قالت عجوز عقیم (ذاریات 29) (وہ بولی کہ میں تو ایک بانجھ ہوں) یہیں سے اس کے اندر بےفیض اور منحوس کا مفہوم پیدا ہوا اور اس کا اطلاق اس طوفانی ہوا پر بھی ہوا جو تباہی تو قیامت کی مچا دے لیکن اس کے اندر نفع کا کوئی پہلو نہ ہو۔ چناچہ قوم عاد پر جو عذاب آیا اس کے لئے قرآن نے وریح عقیم کا لفظ استعمال کیا ہے۔ ”وفی عاد اذارسلنا علیھم الریع العقیم“ (ذاریات :41) (اور ان کے لئے قوم عاد کے اندر بھی درس عبرت ہے جب تک ہم نے ان پر منحوس ہوا بھیجی) سورة قمر آیت 19 میں یوم نحس کی ترکیب ھبی استعمال ہوئی ہے۔ ان کی تفصیلات ان کے محل میں دیکھیے۔ الملک یومیذ للہ یحکم بینھم فرمایا کہ اگر یہ لوگ ظہور قیامت ہی کے منتظر ہیں تو اس بات کو یاد رکھیں کہ اس دن سارا اختیار و اقتدار صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ کا ہوگا۔ اس دن نہ ان کی جمعتیں اور پارٹیاں ان کے کچھ کام آئیں گی اور نہ ان کے مفروضہ شرکاء و شفعاء اور وہ دن جزاء و سزا کے فیصلہ اور عدل کے ظہور کا ہوگا نہ کہ سعی و عمل کا اس دن اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا اور ہر ایک اپنے عمل کے نتائج سے دوچار ہوگا۔ فالذین امنوا و عملوا الصلحت فی جنت النعلم والذین کفروا وکذبوا بایتنا فائولئک لھم عذاب مھین یہ اس فیصلہ کا اعلان ہے جس کا اوپر والے ٹکڑے میں ذکر ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس دن جو ایمان و عمل صالح والے لوگ ہیں وہ نعمت کے باغوں میں داخل ہوں گے اور ان جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری باتوں کی تکذیب کی ہے ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔ ذلیل کرنے والا عذاب اس لئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو خدا و رسول کے پیش کردہ حق سے بھی بالات تر سمجھا جو بدترین استکبار ہے اس اسکتبار کی بنا پر وہ مستحق ہیں کہ آخرت میں ان کو صرف عذاب ہی نہ دیا جائے بلکہ وہ عذاب دیا جائے جو ذلیل کرنے والا بھی ہو۔ یہ امر محلوظ رہے کہ اس سزا کی سنگینی دوچند بلکہ وہ چند ہوجاتی ہے جو تعذیب کے ساتھ ساتھ اپنے اندر تو وہین و تذلیل کی پھٹکار بھی رکھتی ہو۔