22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتدبرِ قرآن

Ayahs 22:19–23

هٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّهِمْ١٘ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَهُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ١ؕ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِهِمُ الْحَمِیْمُۚ Open ayah 22:19 in the Quran reader

یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں اختلاف کیا تو جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے آگ کے جامے تراشے جائیں گے۔ ان کے سروں کے اوپر سے کھولتا پانی بہایا جائے گا

یُصْهَرُ بِهٖ مَا فِیْ بُطُوْنِهِمْ وَ الْجُلُوْدُؕ Open ayah 22:20 in the Quran reader

اس سے جو کچھ ان کے پیٹوں میں ہے سب پگھل جائے گا اور ان کی کھالیں بھی

وَ لَهُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِیْدٍ Open ayah 22:21 in the Quran reader

اور ان کی سرکوبی کے لئے لوہے کے ہتھوڑے ہوں گے

كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْهَا١ۗ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ۠ Open ayah 22:22 in the Quran reader

جب جب وہ اس کے کسی عذاب سے نکلنے کی کوشش کریں گے اسی میں دھکیلے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کا عذاب ! !

اِنَّ اللّٰهَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ؕ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ Open ayah 22:23 in the Quran reader

ہاں، اللہ ان لوگوں کو، جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے، ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ان کو وہاں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے اور اس میں ان کا پہناوا ایکسر ریشم ہو گا

آیت (23-19) دونوں گروہوں کے نبی ﷺ کی تفصیل ایک سوال اور اس کا جواب اب یہ ان دونوں فریقوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جن کا ذکر اوپر آیت 17 میں گزرا وہاں صرف اس قدر اشارہ فرمایا تھا کہ ایک دن آئے گا جب اللہ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، ان کے انجام کی تفصیل اس آیت میں بیان نہیں ہوئی تھی۔ ان آیات میں ان کے انجام کی تفصیل آرہی ہے۔ آیت 17 میں کئی گروہوں کا ذکر ہے اور یہاں ھذن خصمن کے الفاظ ہیں۔ اس وجہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس آیت میں انہی گروہوں کی طرف اشارہ ہے تو ان کے لئے مثنیٰ کا صیغہ کیوں استعمال ہوا۔ جمع کا صیغہ کیوں نہیں استعمال ہوا ؟ اساتذ امام ؒ کا رجحان کلام عرب کی روشنی میں اس بات کی طرف معلوم ہوتا ہے کہ اگر فریق دو سے زیادہ ہوں تو ان کے لئے مثنیٰ اور جمع دونوں کے صیغے استعمال ہو سکتے ہیں۔ یہاں اختصموا کے صیغہ جمع سے بھی ان کے خیال کی تائید نکلتی ہے۔ لیکن میرا رجحان جیسا کہ میں نے اوپر اشارا کیا، اس بات کی طرف ہے کہ یہاں اوپر کے گروہوں کا ذکر، ان کے ظاہری تعدد کو نظر انداز کر کے، ان کے اصل حقیقت کے اعتبار سے ہوا ہے۔ فی الظاہر ہر تو یہود، نصاریٰ صائبین، مجوس اور مشرکین الگ الگ گروہ تھے لیکن جہاں تک توحید اور اسلام کی مخالفت کا تعلق ہے اس میں یہ سب مشترک تھے، بلکہ مخالفت کا مزاج جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، الگ الگ ضرور تھا لیکن اسلام کی مخالفت میں، اپنے اپنے رجحان کے مطابق، سب شریک تھے اس وجہ سے قرآن نے الک فرملۃ واحدۃ کے اصول کے مطابق ان سب کو ایک ہی پارٹی قرار دیا اور ان کے مقابل میں مسلمانوں کو ایک مستقل پارٹی کی حیثیت دی اور اسی حیثیت سے دونوں کے انجام کو بیان فرمایا۔ اختصموا فی ربھم میں اسی بحث وجدال کی طرف اشارہ ہے جو مسلمانوں اور ان کی مخالف پارٹیوں کے درمیان درباب شرک و توحید برپا تھا اور جس کا ذکر اوپر آیت 3 اور آیت 8 میں گزر چکا ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ توحید اور شرک کے اس معرکے میں اہل کتاب نے، اہل کتاب ہونے کا دعویٰ رکھتے ہوئے، کھلم کھلا مشرکین عرب کا ساتھ دیا۔ شرک اپنی حقیقت کے اعتبار سے کفر ہے، جزاء اور عمل کی مطابقت فالذین کفروا سے مراد وہ تمام پارٹیاں ہیں جنہوں نے توحید و شرک کی اس جنگ میں شرک کا ساتھ دیا۔ شرک کو کفر سے تعبیر کرنے کی وجہ کی طرف ہم جگہ جگہ اشارہ کرچکے ہیں کہ شرک اپنی اصل حقیقت وغایت کے اعتبار سے کفر ہی سے اسی وجہ سے قرآن میں شرک کو کفر سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جو لوگ شرک کو کفر کے مقابل میں اہوں خیال کرتے ہیں ان کا خیال قرآن کے بالکل خلاف ہے۔ جزاء اور عمل کی مطابقت قطعت لھم ثیاب من نار یعنی اس دنیا میں وہ حق کی مخالفت کے جوش میں نفرت، غصہ، حسد اور انتقام کی جس آگ میں جلتے رہے ہیں اس کی پاداش میں آخرت میں ان کے لئے آگ ہی کا جامہ تراشا جائے گا اور ان کے سروں پر کھولتا پانی انڈیلا جائے گا جو ان کے تمام اندرونی اعضاء اور ان کی بیرونی کھالوں کو پگھلا کے رکھ دے گا۔ ولھم مقامع من حدید، کلما ارادو ان یخرجوا منھا من غم اعیدوا فیھا متامع کے معنی ہتھوڑے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی سرکوبی کے لئے لوہے کے ہتھوڑے وجود ہوں گے۔ اگر وہ دوزخ کی کسی آفت سے بھاگنے کی کوشش کریں گے تو انہی ہتھوڑوں سے انکی سرکوبی کر کے اسی آفت میں پڑے رہنے کے لئے ان کو واپس کیا جائے گا۔ من غم کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہاں دوزخ سے بھاگ نکلنے کا تو کوئی تصور بھی نہ کرسکے گا۔ بس زیادہ سے زیادہ اگر کوئی کوشش کرسکے گا تو اس بات کی کرسکے گا کہ ایک آفت کی شدت سے گھبرا کر کسی دوسری آفت کی پناہ ڈھونڈھے لیکن اس کا امکان بھی وہاں نہیں ہوگا۔ دوزخ کے داروغے لوہے کے ہتھوڑوں سے ان کی سرکوبی کریں گے۔ زبان حال کی تعبیر وذوقوا عذاب الحریق یہ زبان حال کی تعبیر ہے۔ یعنی صورت حال خود ان کو پکار کر سنا دے گی کہ اب یہاں سے نکلنے کا کوئی امکان نہیں ہے، اب اسی میں رہو اور جلنے کے عذاب کا مزہ چکھو ! اسی طرح کے مواقع میں جیسا کہ ہم جگہ جگہ اشارہ کرتے آئے ہیں، قیل یا اس کے مہ معنی کوئی لفظ محذوف ماننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ زبان حال زبان قال سے زیادہ ناطق اور فصیح البیان ہوتی ہے۔ یہاں عربی کے معروف اسلوب کے مطابق معطوف علیہ محذوف ہے۔ یعنی اخوافیھا وذوقوا عذاب الحریق اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔ یہاں عمل اور جزا کی مشابہت کے پہلو پر بھی نگاہ ہے۔ جن لوگوں کو قصر ہلاکت سے نکالنے کے لئے پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے اپنا سارا زور صرف کر ڈالا لیکن وہ نہ صرف یہ کہ اس سے نکلنے پر راضی نہ ہوئے بلکہ پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ , کے ساتھیوں کے اس بنا پر دشمن بنگئے کہ انہوں نے ان کو اس سے نکالنے کی کوشش کی تو آخرت میں جب اس کی حقیقت سامنے آئے گی تو اس سے بھاگنے کے کیا معنی ؟ دنیا میں جس چیز سے ان کو اتنا عشق رہا اب اس کا مزہ چکھیں۔
Ayah 22:24

وَ هُدُوْۤا اِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ١ۖۚ وَ هُدُوْۤا اِلٰى صِرَاطِ الْحَمِیْدِ Open ayah 22:24 in the Quran reader

اور ان کی رہنمائی پاکیزہ کلمہ حمد کی طرف اور ان کی رہنمائی خدائے حمید کی راہ کی طرف ہوگی !

اہل حق کے انجام کی تفصیل مخالفین حق کا انجام بیان کرنے کے بعد اب یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہو رہا ہے جو مخالفین کی تمام مخالفتوں کے علی مرغم موقف حق پر ڈٹے رہے۔ فرمایا کہ ان کے لئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یخرفیھا من ساد رمن ذھب ذنولوا میں لولوا اساور کے محل پر عطف ہے۔ یعنی وہ اس جنت میں سونے کے کنگن اور موتیوں کے ہار پہنائے جائیں گے۔ ولبا سھرفیھا حریر کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس جنت میں ان کا لباس ریشم ہی ریشم ہوگا۔ اسی کا لباس اسی کا اوڑھنا اسی کا بچھونا اسی کے دوسرے لوازم قومی میب سے بعد وھدوآ انی الطبیمن انقول سے اہل جنت کے اس کلمہ حمد و شکر کی طرف اشارہ ہے جو ان کی زبانوں سے بحا تاشا اس وقت ادا ہوگا جب وہ دیکھیں گے کہ ان کے رب نے جتنے وعدے کئے وہ سب پورے ہوئے سورة زمر آیت 74 میں اس کا حوالہ یوں آیا ہے۔ وقالوا الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ (اور وہ سب پکار اٹھیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کے لئے جس نے ہم سے اپنے کئے ہوئے وعدے پورے کئے) اسی ترانہ حمد کا ذکر سورة فاطر آیت 35-34 میں بھی ہے۔ وقالوا الحمد للہ الذی اذھب عنا العزن ان ربنا لغفور شکورہ الذی احلنا دارالمقامۃ من فضلہ (اور وہ کہیں گے کہ شکر ہے اس اللہ کے لئے جس نے ہم سے غم کو دور کیا، بیشک ہمارا پروردگار بڑا ہی بخشنے والا اور پذیرائی فرمانے والا ہے۔ جس نے اپنے فضل سے ہمیں قرار کی منزل میں اتارا) صراط حمید کا مفہوم وھدوآ الی صراط الحمید صراط الحمید سے مراد میرے نزدیک اسی دارالمقامۃ کی شراہ ہے جس کی طرف سورة فاطمہ کی محولہ بالا آیت میں اشارہ ہوا۔ یہاں لفظ ہدایت، منزل مقصود کی طرف ہدایت کے مفہوم میں ہے اور صیغہ مجہول تشریف و تکریم پر دلیل ہے کہ ملائکہ کی ایک جماعت کے ذریعہ سے ان لوگوں کی رہنمائی اس شاہراہ کی طرف کی جائے گی جو اس دارالمقامہ تک ان کو پہنچائے گی جو خدائے حمید نے ان کے قیام کے لئے پسند فرمایا ہے۔ مشاہدہ حق کے احوال کی تعبیر بارہ و ساغر کے الفاظ سے یہاں یہ امر محلوظ رہے کہ جنت و دوزخ وغیرہ کے احوال کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہے۔ ان کو مخاطب کے ذہن سیق ریب لانے کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ ان کی تیرا کے لئے وہ اسلوب اختیار کیا جائے جس سے مخاطب مانوس ہوں۔ اہل عرب مصریوں اور ایرانیوں کے تمدن سے متاثر تھے اس وجہ سے تنعم و رفاہیت کی تعبیر کے لئے وہی اسلوب اختیار کیا جاتا ہے جس میں یا تو خود ان کے اپنے تصورات میں زمانہ کے اختلاف سے بھی بڑا فرق پیدا ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے الفاظ کے بجائے ہمیشہ حقیقت پر نظر رکھنی چاہئے۔ بس یہ ماننا چاہئے کہ اہل جنت کو یہ نعمتیں حاصل ہوں گی جو قرآن میں مذکور ہوئیں، رہی یہ بات کہ ان کی اصل حقیقت کیا ہے تو ان کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے جس طرح بعض اوقات مشاہدہ حق کے احوال و معاملات کے لئے بادہ و ساغر کی تعبیریں اختیار کی جاتی ہیں اسی طرح احوال آخرت کی تعبیر ان الفاظ و تمثلا ات سے کی جاتی ہے جو مخاطب کے لئے قریب الفہم ہوں۔
Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ لوگ کی راہ اور اس مسجد حرام سے روکتے ہیں جس کو ہم نے لوگوں کے لئے یکساں بنایا، خواہ وہ اس کے شہری ہوں یا آفاقی (تو انہوں نے بہت ظلم کا ارتکاب کیا) اور جو اس میں کسی بےدینی، کسی شرک کے ارتکاب کا ارادہ کریں گے تو ہم ان کو ایک عذاب درد ناک کا مزا چکھائیں گے

آگے کا مضمون ……… آیات 37-25 توحید و شرک کی بحث جو اوپر سے چلی آرہی ہے یہاں وہ اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی۔ قریش اور ان کے ہمنوائوں نے اس دور میں جو اتنی شدید خصومت کی روش اختیار کرلی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ دعوت توحید اور ابطال شرک کی اس جدوجہد کی نوعیت صرف ایک کلامی و عقائدی نزاع کی نہیں ہے بلکہ اس کی ضرب ان کی اس مہنتی اور سیادت و قیادت پر بھی پڑنے والی ہے جو ان کو حرم کی تولیت کی بدولت حاصل ہے۔ قریش نے حرم پر اپنا قبضہ جما رکھا تھا اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اس وراثت کے اصلی حقدار اور متولی و امین وہی ہیں۔ خاندان بنی ہاشم کو خانہ کعبہ کی کلید برداری کا منصب حاصل تھا اور ان کا سرغنہ اس زمانے میں ابولہب تھا جو رفادہ کے تمام خزانے پر غاصبانہ قابض اور اس میں من مانے تصرفات کے لئے پوری طرح آزاد تھا۔ یہ امر بھی محلوظ رہے کہ قریش کو صرف مکہ ہی میں سیادت و امارت حاصل نہیں تھی بلکہ حرم کے پاسبان سمجھے جانے کے سبب سے پورے عرب پر ان کی مذہبی پیشوائی کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ ایسے حالات میں وہ ایک ایسی دعوت کو ٹھنڈے پٹیوں کس طرح برداشت کرسکتے تھے جو ان کو ان تمام مفادات سے یک قلم مروم کر دے۔ چناچہ انہوں نے مسلمانوں کو حرم کی حاضری سے بھی محروم کردیا اور ظلمو تشدد کے زور سے ان کو سر زمین مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ ان حالات میں یہ آیات اتریں جن میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اس گھر کو کس مقصد کے لئے بنایا تھا، ان کی دعوت کیا تھی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو کن شعائر و مناسک کی تعلیم دی تھی۔ یہ گویا ایک آئینہ ہے جو قریش کے سامنے رکھ دیا گیا ہے کہ وہ اس میں اپنا منہ دیکھ کر خود فیصلہ کرلیں کہ وہ اس وراثت ابراہیمی کے حق دار ہیں یا غاصب و غدار ! ضمناً مسلمانوں کی اس میں حوصلہ افزائی بھی فرمائی گئی ہے اور ان کو ان ذمہ داریوں سے بھی آگاہ فرمایا گیا ہے جو آگے اس گھر کے مناسک و شعائر سے متعلق ان پر عائد ہونے والی ہیں … اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔ تالیف کلام کی دو شکلیں اس آیت میں تالیف کلام کی دو صورتیں ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ ان الذین کفروا سے لے کر العاکف فیہ وانباء تک پورے ٹکڑے کو بطور تو طیہ و تمہید مانیے اور اصل مبتداء و من یردنیہ کو قرار دیجیے دوسری شکل یہ ہو سکتی ہے کہ اس میں خبر کو یعنی فقد ظلموا ظلماً کبیراً یا اس کے ہم معنی الفاظ محذوف مانیے عربیت کے قاعدے سے یہ دونوں شکلیں صحیح ہیں۔ اساتذ امام ؒ کا رجحان پہلی صورت کی طرف ہے اور میرا رجحان دوسری شکل کی طرف۔ میں نے ترجمے میں اسی کا لحاظ رکھا ہے لیکن آیت کی تاویل میں۔ اشارہ قریش کی طرف دونوں ہی صورتوں میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوگا۔ ان الذین کفروا ویصدون عن سبیل اللہ والمسجد الحرام یہ اشارہ قریش کی طرف ہے جنہوں نے نبی ﷺ کی دعوت کا انکار کردیا تھا اور مسلمانوں کو جبر و زور کے ذریعہ سے اللہ کے دین سے بھی روک رہے تھے اور اس دور میں جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، انہوں نے مسلمانوں کو حرم کی حاضری سے بھی محروم کردیا تھا۔ بنی ہاشم کی مہنتی پر ضرب بنی ہاشم کی مہنتی پر ضرب الذی جعلنہ للناس سوآء العاکف فیہ والباد یہ مسجد حرام کی تعریف ہے کہ اللہ نے اس میں حدود حرم کے مقیمین اور باہر سے آنے والوں دونوں کے حقوق یکساں رکھے ہیں یہ قریش کی اجارہ داری اور خاص طور پر بنی ہاشم کی مہنتی پر ضرب ہے کہ انہوں نے اللہ کے اس گھر پر اپنا جو تسلط مالکانہ دعا کی نہ جما رکھا ہے جس کو چاہیں اس میں آنے دیں، جس کو چاہیں اس کی حاضری سے محروم کردیں یہ بالکل ناجائز ہے۔ اس گھر پر کسی خاص خاندان کا اجارہ نہیں ہے۔ ہر شخص جو اللہ کی عبادت اور حج و اطراف کے لئے اس گھر کا قصد کرے، خواہ قرشی و ہاشمی ہو یا غیر قرشی و غیر ہاشمی، مکی ہو یا غیر مکی، عربی ہو یا عجمی اس کے اوپر کسی کو کوئی قد غن عاید کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس کے مقیمین کا اگر کوئی حق و فرض ہے تو صرف یہ ہے کہ وہ اس کو ان گندگیوں سے پاک و صاف رکھیں جن سے اس کو پاک و صاف رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کو حکم دیا تھا اور جن کی تفصیل آگے آرہی ہے لیکن قریش کی یہ ستم ظریفی ہے کہ انہوں نے اللہ کے اس گھر کو ان تمام نجاستوں سے تو بھر دیا ہے جن سے پاک رکھنے کی اللہ نے ہدایت فرمائی تھی لیکن اس کی تولیت کے مدعی بنے بیٹھے ہیں اور اللہ کے ان بندوں کو اس سے روک رہے ہیں جو اس کو اس کے اصل ابراہیمی حسن و جمال سے از سر نو منور کرنا چاہتے ہیں۔ العاکف والباد کا عام مفہوم تو جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا۔ یہاں مقیم و آفاقی کا ہے لیکن حرم کے باشندوں کے لئے عاکف کا لفظ استعمال کر کے قرآن نے ان کی اصل حیثیت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ان کی حیثیت حرم الٰہی کے ٹھیدی اروں، اجارہ داروں اور حکمرانوں کی نہیں ہے بلکہ اس کے معتکفین اور خدمت گزاروں کی ہے۔ وہ اس کو حضرت اسماعیل کی طرح تمام دنیا کے لئے حج و عبادت کا مرکز بنائیں اور تمام خلق کو دعوت دیں کہ لوگ اس کی برکتوں سے بہرہ اندوز ہونے کے لئے اس آستانہ الٰہی پر آئیں۔ مسجد حرام پر کسی خاندان یا حکومت کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکتی ان الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جہاں تک مسجد حرام کا تعلق ہے اس پر کسی خاندان یا کسی مخصوص حکومت کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکتی۔ اس میں عرب و عجم اور شرق و غرب کے تمام مسلمانوں کے حقوق بالکل یکساں ہیں۔ اہل مکہ یا ان کی حکومت کی حیثیت اس کے مالکوں کی نہیں بلکہ اس کے پاسبانوں اور خدمت گزاروں کی ہے۔ ان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس کو شرک و بدعت کے ہر شائبہ سے پاک و صاف رکھیں اور اللہ کے جو بندے حج و قربانی کے لئے وہاں پہنچیں ان کے لئے وہ زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کریں لیکن کسی حال میں بھی دنیا کے کسی خطہ کے کسی مسلمان کو وہ اس کی حاضری سے محروم نہیں کرسکتے الا آنکہ یہ بات ثابت ہوجائے کہ وہ اللہ کے اس گھر کو ان مقاصد کے خلا استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جن کے لئے حضرت ابراہیم نے اس کی تعمیر فرمائی ہے۔ مسجد حرام کی حفاظت تمام مسلمانوں کی مشترک ذمہ داری ہے حقوق کے ساتھ ساتھ اس گھر کی حفاظت و صیانت کی ذمہ داریوں میں بھی تمام دنیا کے مسلمان برابر کے شریک ہیں۔ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ جو لوگ اس کے پاسبان ہیں وہ اس کو ان چیزوں سے آلودہ کر رہے ہیں جن سے اللہ نے اس کو پاک صاف رکھنے کا حکم دیا ہے تو تمام دنیا کے مسلمانوں کی یہ مشترک ذمہ داری ہے کہ وہ پاسبانوں کے ہاتھ پکڑیں۔ اس کے پاسبان یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ان کے گھر کا داخلی معاملہ ہے، دوسروں کو اس میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔ اسی طرح اگر خدانخواستہ کوئی بیرونی طاقت اس پر حملہ کر دے تو اس کی حفاظت و مدافعت کے لئے تمام دنیا کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہوجائے گا۔ اس معاملے میں کسی قومی یا بین الاقوامی معاہدے اور مصلحت کا بھی کوئی لحاظ جائز نہیں ہوگا۔ اگر کسی ملک کی حکومت اس جہاد میں شرکت سے روکے تو ہرچند وہ نام نہاد مسلمانوں ہی کی حکومت ہو۔ اس کے خلاف بھی اہل ایمان پر فرض ہوگا کہ وہ جہاد کریں، اس لئے کہ جرم کی حفاظت و مدافعت کی ذمہ داری صرف اہل مکہ یا ان کی حکومت پر نہیں ہے بلکہ ہر کلمہ گو پر ہے، اس کو کسی صورت میں بھی پرایا جھگڑا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حرم کے حقوق اور ذمہ داریوں میں ہر مسلمان برابر کا شریک ہے حرم امت مسلمہ کا دل ہے۔ اس کی صلاح تمام امت کی صلاح اور اس کا فساد پوری ملت کا فسا ہے۔ سوآء العاکف فیہ والباد کے الفاظ سے یہ نتائج تو بدیہی طور پر نکلتے ہیں جو اوپر مذکور ہوئے لیکن ہمارے فقہاء کی ایک جماعت نے اس سے یہ مسئلہ بھی استنباط کیا ہے کہ حدود حرم میں نہ کوئی گھپر کسی کی ذاتی ملکیت ہوسکتا اور نہ وہ کسی دوسرے سے کسی گھر کا کرایہ وصول کرسکتا ہے۔ میرے نزدیک یہ استنباط ضعیف ہے۔ آیت کے الفاظ پر نگاہ ڈالیے تو معلوم ہوگا کہ جعلنہ للناس سورة العاکف فیہ و الباد کے الفاظ مسجد حرام کی صفت کی حیثیت سے وارد ہوئے ہیں۔ پوے مکہ یا تمام حدود حرم کی صفت کے طور پر نہیں آئے ہیں۔ اس وجہ سے میں اس مسئلہ میں شوافع کے مسلک کو ترجیح دیتا ہوں جو اس پابندی کے حق میں نہیں ہیں۔ ومن یردفیہ بالحاد بظلونذقہ من عذاب الیم یود کے بعد ب کا صلہ اس کا قرینہ ہے کہ یہاں یہ لفظ ھم کے مفہوم پر متضمن ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت دوسرے مقامات میں چکی ہے۔ الحاد کے معنی انحراف کجی اور بےدینی کے ہیں۔ بظلم، بظلم بالحاد سے بدل واقع ہے اور لفظ شرک کے مفہوم کے لئے قرآن مجید میں معروف ہے۔ آیت کا مدعا یہ ہے کہ یہ گھر وہ گھر ہے کہ اس میں اگر کوئی کسی بےدینی کا اور وہ بھی شرک جیسی بےدینی کرے گا تو ہم اس کو ایک عذاب درد ناک کا مزا چکھائیں گے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ ارادہ اور میں تھوڑا سا فرق ہے ارادہ تو سوچ سمجھ کر ظہور میں آتا ہے لیکن ھم جیسا کہ بھموابمالم بنالوا (توبہ :74) ولقد ھمت بہ وھم بھا (یوسف 24) وغیرہ آیات میں وارد ہے کسی وقتی میلان نفس سے بھی ظہور میں آجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس گھر کے شرائط و آداب بہت سخت ہیں۔ یہاں ان غلط چیزوں پر بھی گرفت ہے جو وقتی میلانات نفس سے ظہور میں آجاتی ہیں۔ ع ہشدار کہ رہ بردم تیغ است قدم را الحاد کے بعد ظلم کا اضافہ کر کے یہ حقیقت واضح فرما دی کہ جب یہاں معمولی کجروی بھی قابل گرفت ہے تو اس شرک عظیم کے لئے یہاں کس طرح گنجائش نکل سکتی ہے جس کا ایک وسیع کاروبار یہاں قریش نے پھیلا رکھا ہے !
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور یاد کرو جب کہ ہم نے ابراہیم کے لئے ٹھکانا بنایا بیت اللہ کی جگہ کو اس ہدایت کے ساتھ کہ کسی چیز کو میرا شریک نہ ٹھہرائیو اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں، قیام کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے پاک رکھیو !

حضرت ابراہیم اور بیت اللہ کی صحیح تاریخ اب یہ حضرت ابراہیم ؑ اور بیت اللہ کی تاریخ بیان ہو رہی ہے تاکہ قریش پر یہ اچھی طرح واضح ہوجائے کہ جن مقاصد کے لئے اللہ نے حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل (علیہما السلام) سے یہ گھر تعمیر کرایا تھا وہ سارے ہی مقاصد انہوں نے برباد کر کے رکھ دیئے ہیں اس وجہ سے یہ سزا وار ہیں کہ ابیہاں سے بےدخل ہوں اور وہ لوگ اس کے ذمہ دار بنائے جائیں جو اس عظیم امانت الٰہی کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ واذبوانا لابراھیم مکان البیت ! تبویہ کے معنی ٹکانے ٹھہرانے آباد کرن اور بسان یکے ہیں، یعنی تاریخ کی اس سرگزشت کو یاد کرو جب کہ ہم نے خاص اپنے حکم سے ابراہیم کی ہجرت کے بعد، ان کو اور اسماعیل کو اس جگہ بسایا جس جگہ بیت اللہ ہے۔ بوانا کے بعد ل اس امر کا قرینہ ہے کہ یہ مقام صرف حضرت ابراہیم ہی کا مکسن نہیں ٹھہرایا گیا تھا بلکہ ان کی ذریت (حضرت اسماعیل) کا سکن بھی یہی قرار پایا تھا اہل عرب اپنی اس تاریخ سے بالا جمال واقف اور اس بات پر فخر کرتے تھے کہ وہ حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کی اولاد اور ان کی ملت کے وارث ہیں لیکن یہود نے یہ سازش کی کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے بہت پہلے ہی تورات سے وہ ساری چیزیں نکال دیں یا ان کی تحریف کردی جو حضرت ابراہیم کے بیت اللہ کے ساتھ تعلق کی شہادت دینے وال تھیں تاکہ آخری رسول کی بعثت بنی اسماعیل کے اندر نہ ثابت ہو سکے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم کی ایک من گھڑت تاریخ بنائی اور یہ دکھانے کی کوشش کی کہ حضرت ابراہیم ؑ نے ہجرت کے بعد اپنا مستقر شام میں بنایا نہ کہ مکہ میں بنایا نہ کہ مکہ میں اور اپنے جس بیٹے کی قربانی کی وہ حضرت اسحاق ہیں نہ کہ حضرت اسماعیل اور پھر مروہ مکہ اور بیت اللہ اور ان سے تعلق رکھنے والی ساری ہی چیزوں پر تحریف کی سیاہی پھیرنے کی کوشش کی لیکن آخروہ آفتاب سے زیادہ روشن حقیقت کو کا ں تک چھپانے میں کامیاب ہوتے۔ اب بھی تورات میں یہود کے علی الرغم، ایسی شہادتیں موجود ہیں جو ان کی سازش کا پردہ چاک ہوتے۔ اب بھی تورات میں یہود کے علی الرغم، ایسی شہادتیں موجود ہیں جو ان کی سازش کا پردہ چاک کردینے کے لئے کافی ہیں۔ استاذ امام ؒ نے اپنی تصنیف الرای الصحیح فی من ھوالذبیح میں یہود کی ان ساری سازشوں کو اچھی طرح بےنقاب کردیا ہے اور ہم بھی اس کتاب میں تمام ضروری مباحث سے تعرض کر رہے ہیں۔ سورة بقرہ کی آیات 141-132 کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ قریش کے سامنے تاریخ کا آئینہ ان لاتشرک بی شیاء وطھر بیتی للطآئفین والقآئمنم فالرکع السجود بعینیہ یہی مضمون کم و بیش انہی الفاظ میں، سورة بقرہ میں یوں بیان ہوا ہے۔ وعھدنا الی ابراہم و اسمعیل ان طھرابیتی للطآئفین والعکفین اور ابراہیم اور اسماعیل کو ذمہ دار بنایا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھو۔ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ آیت ایک آئینہ ہے تاکہ قریش اس میں یہ دیکھ سکیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس مقصد اور کس حکم و ہدایت کے ساتھ حضرت ابراہیم کو اس گھر کی تعمیر پر مامور فرمایا تھا اور اب اس کو قریش نے کیا بنا کے رکھ دیا ہے، پھر بھی اس کے اجارہ دار بنے بیٹھے ہیں اور ان لوگوں کو اس سے روک رہے ہیں جو اس گھر کے اصلی مقاصد کی از سر نو تجدید کرنا چاہتے ہیں۔
Ayah 22:27

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور لوگوں میں حج کی منادی کرو، وہ تمہارے پاس آئیں گے پیادہ بھی اور نہایت لاغر اونٹنیوں پر بھی جو پہنچیں گی دور دراز گہرے پہاڑی رستوں سے

رجال راجل کی جمع ہے جس کے معنی پیادہ چلنے والوں کے ہیں، ضامن اس اونٹ یا اونٹنییا گھوڑے کو کہتے ہیں جو طول سفر سے لاغر ہوگیا ہو یہ لفظ مذکر و مئونث دونوں کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے۔ لفظ کل اس کے ساتھ صفت کی تاکید کے طور پر ہے مثلاً کہیں گے ھو العالم کل العالم (وہ نہایت جید عالم ہے) نج پہاڑوں کے درمیان کے راستہ کو کہتے ہیں اور عمیق اسی کی صفت ہے۔ پہاڑی راستے چونکہ تنگ ہوتے ہیں اس وجہ سے وہ کثرت آمد و رفت سے گہرے ہوجاتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ……منادی عام یعنی حضرت ابراہیم کو اس گھر سے متعلق ایک ہدایت تو وہ ہوئی تھی جو اوپر کی آیت میں مذکور ہوئی دوسری ہدیات یہ ہونا تھی کہ وہ اس گھر کے حج کے لئے لوگوں میں منادی عام کریں کہ لوگ دور قریب سے اس سرچشمہ خیر و برکت سے مستفید ہونے کے لئے آئیں۔ اس میں بھی قریش کے رویہ پر تعریض ہے کہ ان کو کرنا تو یہ تھا کہ تمام خلق کو اس گھر کے حج و زیارت کی دعوت دیتے لیکن انہوں نے اس کے بالکل برعکس کیا یہ ہے کہ اس پر مار گنج بن کر بیٹھے گئے ہیں اور ملت ابراہیم کے اصلی پیرو جب اس گھر کا قصد کرتے ہیں تو یہ ان پر پھنکارتے اور ان کو ڈستے ہیں۔ حضرت ابراہیم کے لئے بشارت یاتوک رجالاً الایۃ یہ جواب امر ہے اس وجہ سے یہ حضرت ابراہیم کے لئے بشارت ہے کہ جب تم حج کی منادی کرو گے تو لوگ پیادہ اور سوار والہانہ اس گھر کے حج کے لئے آئیں گے۔ لوگوں کے اونٹ طول سفر سے لاغر اور مکہ کے راستے کثرت آمد و شد سے گہرے ہوجائیں گے۔ حج پر پابندیاں ناروا ہیں۔ ان استعارات سے آنے والوں کی جس کثرت، جس شوق و عشق، جس وارننگی واز خود رفتگی کا اظہار ہو رہا ہے اس کی شہادت آج ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی مکہ اور مدینہ کی سڑکیں اور منیٰ و عرفات کے میدان حج کے موقعے پر دے رہے ہیں اور ہر دیکھنے الا اندازہ کرسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم کو جو بشارت دی گئی تھی وہ کس طرح ظہور میں آئی اور امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ اس میں کس طرح برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے اس راہ عشق میں صرف اونٹنیاں لاغر ہوتی تھیں۔ اب زمانہ کی ترقی نے اس دوڑ میں بسوں، لاریوں، موٹروں اور ہوائی جہازوں کو بھی شریک کردیا ہے۔ ان آیات کا سیاق اس بات پر دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پسند اور اس کی رضا یہی ہے کہ اس کے گھر کی زیارت کے لئے اس کے بندوں کے اندر یہ ذوق و شوق روز افزوں رے اس وجہ سے بہت سی حکومتوں نے اور وہ بھی مسلمان کہلانے والی حکومتوں نے حج پر ویزے کوٹے، قرعے اور زرمبادلہ کے مختلف ناموں سے جو پابندیاں عائد کر رکھی ہیں یہ نہ صرف بالکل ناروا ہیں بلکہ ناروا ہیں بلکہ ہمارے نزدیک صدعن المسجد احلرام کے حکم میں داخل ہیں، کوئی غیر مسلم حکومت بھی اگر اپن علاقے کے مسلمانوں پر اس قسم کی کوئی پابندی عائد کرے تو وہ اس کی مجاز نہیں ہے بلکہ آگے کی آیات سے واضح ہوگا کہ یہ چیز اس فتنہ (Persecution) کے حکم میں داخل ہے جس کو مٹانے کے لئے اس غیر مسلم حکومت کے خلاف مسلمانوں کو جہاد کرنا چاہئے اگر وہ اس کی استطاعت رکھتے ہوں۔
Ayah 22:28

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

تاکہ لوگ اپنی منفعت کی جگہوں پر بھی پہنچیں اور چند خاص دنوں میں، ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشے ہیں۔ پس اس میں سے کھائو اور فاقہ کش فقیروں کو کھلائو

حج کی دنیوی برکات یعشھدوا منافع لھم بقرہ کی تفسیر میں ہم وضاحت سے بیان کرچکے ہیں کہ حج کے مہینے اہل عرب کی تجارتی سرگرمیوں کے لئے بھی موسم بہار کا حکم رکھتے تھے۔ اسی زمانے میں باہر سے اہل مکہ کی ضرورت کی تمام چیزیں مکہ کے بازاروں میں پہنچتی تھیں اور مکہ کا مال باہر کی منڈیوں کے لئے نکلتا تھا۔ اگر حج کے اصل مقصود کے ساتھ ساتھ اس قسم کے جائز دنیوی منافع حاصل کئے جائیں تو یہ چیز اس دینقیم کے مزاج کے منافی نہیں ہے جس کی تعلیم حضرت ابراہیم ؑ نے دی ہے بلکہ یہ اس امر کی شہادت ہے کہ یہ دین فطرت رہبانیت کے ہر شائبہ سے پاک ہے۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی اس عبادت میں بھی دین و دنیا کی بہم آمیزی کا اعتدال قائم رکھا ہے جس میں بظاہر سب سے زیادہ ترک دنیا کی نمود ہے۔ بس اصل چیز صحیح توازن کو قائم رکھنا ہے کہ حج صرف تجارتی یا سیاسی سفر بن کے نہ رہ جائے۔ ویذکرما اسم اللہ فی ایام معلومت علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام بھیمۃ الانعام کی تحقیق مائندہ آیت 1 ے تحت گزر چکی ہے۔ ایام معلومت سے مراد ایام معلومت سے مراد قربانی کے معین ایام ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں دنی کی اس حکمت کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ جس طرح اس دنیا کے کاموں میں اوقات، فصلوں اور موسموں کا اعتبار ہے، اگر اس کو قائم نہ رکھا جائے تو ساری جدوجہد اکارت ہو کے رہ جاتی ہے اسی طرح عبادات میں بھی مقام، اوقات ایام اور مہینوں کا اعتبار ہے۔ اگر ان کا حتی الامکان اہتمام نہ رکھا جائے تو عبادت اپنی اصلی برکت سے محروم رہ جاتی ہے۔ قربانی کے جو دن ہیں یہ اللہ و رسول کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور یہ حضرت ابراہیم کی قربانی کی یاد گار ہیں۔ ان میں امت کی سہولت کو پیش نظر رکھ کر اللہ و رسول نے ایک حد خاص تک وسعت بھی رکھی ہے۔ اس وسعت سے فائدہ اٹھانا تقویٰ کے منافی نہیں ہے لیکن ان ایام کا اعتبار دین میں ضروری ہے اور یہ چیز اس کائنات کی فطرت کے بالکل طمباق ہے۔ چوپایوں کی جانوں پر اللہ کے نام کا قفل ویذکروا اسم اللہ اس آیت میں بھی اور آگے کی آیات میں بھی ذبح اور سحر کو ذکر اسم اللہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ اس اہتمام خاص کی وجہ یہ ہے کہ جاہلیت میں مشرکین کی تمام قربانیاں ان کے اصنام کے لئے ہوتی تھیں۔ اس فتنہ کے کلی سدباب کے لئے اللہ تعالیٰ نے تمام چوپایوں کی جانوں پر اپنے نام کا قفل لگادیا جو صرف اسی کے نام کی کنجی سے کھولا جاسکتا ہے۔ اس کے بغیر کسی چوپایہ کی جان لینا دین میں حرام ٹھہرا علی مارزقھم من بھیمۃ الانام اس بات کی دلیل ہے کہ کیوں چوپایوں کو خدا ہی کے نام پر ذبح کرنا ضروری ہے ؟ یہ اس لئے ضروری ہے کہ یہ خدا ہی کے عطا کردہ ہیں اس وجہ سے کسی غیر اللہ کے نام پر ان کو ذبح کرنا خدا کی بھی ناشکری ہے اور جانوروں کی بھی تحقیر ہے۔ اس اسلوب میں اللہ تعالیٰ کے شکر کی ترغیب و تشویق بھی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے بندوں کو چوپائے اپنے فضل و رحمت سے عطا فرمائے ہیں ان کا حق یہ ہے کہ بندے اس نعمت کے شکر کے طور پر ان کا نذرانہ اپنے رب کے حضور میں پیش کریں۔ مشرکین کے بعض توصرات فکلا منھا واطعموا بسآئس الفقیر فرمایا کہ یہ قربانی جو تمہیں پیش کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے وہ اس لئے نہیں کہ مذاکوان قربانیوں سے کوئی نفع پہنچتا ہے۔ خدا کو ان قربانیوں کا گوشت یا خون کچھ بھی نہیں پہنچتا۔ تمہاری پیش کی ہوئی یہ چیز تمہی کو لوٹا دی جاتی ہے تم خود اس کو کھائو اور بھوکوں اور محتاجوں کو کھلائو قربانی کی مثال بالکل یوں ہے کہ کوئی اپنے سر کے تاج کو اصل بادشاہ کے قدموں پر رکھے اور بادشاہ اس تاج کو اپنے قدموں سے عزت دے کر پھر اس کے سر پر پہناوے …یہاں یہ امر محلوظ رہے کہ مشرک قومیں بلا استثنا یہ تصور رکھتی ہیں کہ ان کے معبود ان کی پیش کردہ قربانیوں سے بہرہ اندوز و لذت یاب ہوتے ہیں۔ مشرکین تو درکنار یہود تک کے یہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ خداوند بعض قربانیوں کی خوشبو سے بہت محظوظ ہوتا ہے۔ قرآن نے اس آیت میں بھی اور آگے کی آیات میں بھی ان تصورات کا خاتمہ کردیا ہے۔
Ayah 22:29

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر وہ اپنے ملا کچیل دور کریں، اپنی نذریں پوری کریں اور بیت قدیم کا طواف کریں

حج کے آخری مراسم تغث کے معنی میل کچیل کے ہیں تقضی تغثہ ای ازالہ اس نے اپنا میل کچیل دور کیا ہے۔ یہ قربانی سے فارغ ہونے کے بعد حج کے آخری مراسم کی ادائیگی کی طرف اشارہ ہے احرام کی پابندیوں اور مناسک کی سرگرمیوں کی وجہ سے بال وغیرہ بھی بڑھ جاتے ہیں اور جسم کا میل کچیل بھی زیادہ ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہی بات پسند ہے کہ ان ایام میں بندے پر یہی خستہ حال و پراگندہ بال کی حالت طاری رہے، لیکن حج کے بعد حجامت بنوائے، نہانے دھوئے، کپڑے بدلے اور اگر کوئی قربانی وغیرہ نذر مانی ہے تو وہ پوری کرے اور بیت اللہ کا آخری طواف کر کے حج سے فارغ ہوجائے۔ بیت حتیق بیت اللہ کو یہاں بیت حتیق سے تعبیر فرمایا ہے۔ عتیق کے منی اصل اور قدیم کے ہیں۔ بیت اللہ کو عتیق کہنے کی وجہ، جیسا کہ ہم بقرہ 125 کے تحت واضح کرچکے ہیں، یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا تعمیر کردہ خدا کا اصل اور قدیم گھر یہی ہے نہ کہ بیت المقدس جیسا کہ یہود دعویٰ کرتے ہیں۔ بیت المقدس اول تو حضرت ابراہیم ؑ کے بہت بعد، حضرت سلیمان ؑ کے ہاتھوں تعمیر ہوا ہے، پھر اس کی تعمیر بھی اسی طرح ہوئی کہ اس کی اصل قربان گاہ کا رخ بیت اللہ ہی کی طرف تھا، اس لئے کہ تمام ذریت ابراہیم کا اصل قبلہ بیت اللہ ہی تھا۔ اگرچہ یہود نے ان تمام چیزوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے لیکن اصل حقیقت کے شواہد تورات میں آج بھی موجود ہیں اور بقرہ کی تفسیر میں ہم ان کی وضاحت کرچکے ہیں۔
Ayah 22:30

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

ان امور کا اہتمام رکھو ! اور جو حرمات الٰہی کی تعظیم کرے گا تو اس کے رب کے نزدیک یہ اس کے حق میں بہتر ہے اور تمہارے لئے چو پائے حلال ٹھہرائے گئے ہیں بجز ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنا دیئے گئے ہیں تو بتوں کی گندگی سے اجتناب رکھو اور جھوٹ بات سے بچو

ذلک پورے جملہ کا قائم مقام ذلک جب اس طرح آتا ہے تو یہ پورے جملہ کا قائمقام ہوتا ہے۔ یعنی یہ باتیں ہیں جو بیت اللہ اور اس کے حج و مناسک سے متعلق ابراہیم کو بتائی گئی تھیں۔ ان کو اچھی طرح سن اور سمجھ لو۔ یہگویا تنبیہ کا کلمہ ہے۔ حضرت ابراہیم کو جو ہدایات دی گئی تھیں وہ اس جملہ پر پوری ہوئیں۔ اب آگے ان لوگوں کو ہدایات دی جا رہی ہیں جو بیت اللہ کی وراثت کے مدعی تو تھے لیکن اس امانت کی ذمہ داریوں سے بالکل بیخبر تھے۔ تمام حرمات الٰہی کے احترام کی ہدایت ومن یعظم حرمت اللہ فھو خیرلہ عند ربہ حرمت اللہ سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کے احترام کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے مثلاً حرم، مسجد حرام، ہدی اور قلائد وغیرہ ان تمام چیزوں کے احترام کی روایت حضرت ابراہیم کے زمانے سے چلی آرہی ہے۔ یہاں ان محترم چیزوں کی تعظیم و تکریم کی تاکید کی خاص وجہ یہ ہے کہ مشرکین نے حضرت ابراہیم کی تمام مقدس روایات اپنے دنیوی مفادات کی خاطر بالکل بدل ڈالی تھیں۔ مثلاً چار محترم مہینوں ہی کو لیجیے۔ ان کو نسی کا قاعدہ ایجاد کر کے جیسا کہ اس کی تفصیلی گزر چکی ہے، قمری کے بجائے شمسی مہینوں کے مطابق کرلیا گیا تھا کہ تجارتی پہلو سے ان کو سازگار بنایا جاسکے۔ اس آیت میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گی ہے کہ حرمات الٰہی کے احترام کی پابندیوں کے سبب سے ہوسکتا ہے کہ بظاہر بعض دنیوی مفادات کو کچھ نقصان پہنچے۔ لیکن دیکھنے کی چیز یہ اشارہ ہے ان تفصالہت کی طرف جو سورة انعام میں گزر چکی ہیں۔ ملاحظہ ہوں سورة انعام کی آیات 153-146 یہ ساری تحریم و تحلیل چونکہ مشرکانہ عقائد و تہمات پر میں تھی اس وج ہ سے فرمایا کہ اپنے بتوں کے تعلق سے جو گندگی تم نے اپنے اوپر لاد رکھی ہے اس سے بچو واجتنبوا قول الزور اور خدا کے اوپر جھوٹ افزا سے بچو۔ یعنی حرام و حلال تو تم اپنے جی سے کرتے ہو لیکن اس کو مذہبی تقدس کا درجہ دینے کے لئے منسوب خدا کی طرف کرتے ہو کہ اس نے تمہیں ان باتوں کا حکم دیا ہے۔ یہ نہایت سنگین جھوٹ اور اللہ تعالیٰ جل شانہ پر افتراء ہے، اس سے احتراز کرو۔ اسی چیز کو سورة انعام میں افترآء علی اللہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ حرموا سارزقھم اللہ افترآء علی اللہ 140
Ayah 22:31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

اللہ ہی کی طرف یکسو رہو، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائو اور جو اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے اس کی مثال یوں ہے کہ وہ آسمان سے گرے اور چڑیاں اس کو اچک لیں یا ہوا اس کو کسی دور دراز جگہ میں لے جا پھینکے

یعنی اللہ تعالیٰ کے تمام شعائر کی تعظیم اور تمام مناسک کی ادائیگی اس طرح مطلوب ہے کہ ہر کام جو اس کی طرف یکسو ہو کر اور شرک کے ہر شائبہ سے بالکل پاک رہتے ہوئے کیا جائے۔ اگر کسی کام میں شرک کی کوئی آمیزشہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بالکل باطل ہے۔ مشرک کی تمثیل ومن یشرک باللہ الآیۃ یہ مشرک کی تمثیل بیان ہوئی ہے کہ آدمی شرک کا ارتکاب کر کے اپنے اصل مرکز سے کٹ جاتا ہے اور جب وہ اصل مرک ز سے کٹ گیا تو کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کس شیطان کے ہتھے چڑھ جائے وہ ایک بےلنگر کا جہاز ہے جو ہر چٹان سے ٹکرا سکتا اور ایک کٹا ہوا پتنگ ہے جس کو ہوا جہاں چاہے اڑا لے جاسکتی ہے۔ توحید سے انسان کو جس درجے کی سرفرازی حاصل ہوتی ہے اس سے محروم ہوتے ہی وہ اسی درجے کی پستی میں گر جاتا ہے۔ فرمایا کہ جو اللہ کا شریک بناتا ہے اس کی مثال یوں ہے کہ وہ آسمان سے گرا اور عقابوں نے اس کو اچک لاک یا ہوا نے اس کو کسی گہرے کھڈ میں لے جا کر پھینک دیا ! یہ وقتی مفادات نہیں ہیں بلکہ ان کی اخروی بروکتیں ہیں۔ جو لوگ ان اخروی برکتوں کی خاطر ہر حال میں ان کا احترام قائم رکھیں گے وہ یاد رکھیں کہ اللہ کے نزدیک یہ چیز ان کے لئے بہت بڑے خیر کا باعث ہوگی۔ مشرکین کے من گھڑت فتوئوں کی تردید واجلت لکم الانعام الا مایتلی علیکم فاجتنبوا الرجس من الادثان واجتنبوا قول الزور اوپر والا ٹکڑا، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، بطور تنبیہ کے ہے۔ اب علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام کے تعلق سے یہ واضح فرمایا جا را ہے کہ مشرکین نے محض اپنے مشرکانہ توہمات کی بنا پر مختلف چوپایوں کے بارے میں یہ فتوے جو جاری کر رکھے ہیں کہ فلاں چوپایہ حلال ہے، فلاں حرام ہے، فلاں مردوں کے لئے جائز ہے اور فلاں عورتوں کے لئے ناجائز ہے، فلاں قسم کے چوپایہ پر سواری کرنا جائز ہے اور فلا قسم کے چوپایہ پر جائز نہیں ہے، وغیرہ وغیرہ یہ ساری باتیں محض منگھڑت ہیں۔ ملت ابراہیم میں ان کی کوئی اصل نہیں ہے۔ ملت ابراہیم میں حرام صرف وہی چوپائے ہیں جو قرآن میں پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ اس سے واضح ہوا کہ شرک کا ارتکاب کر کے آدمی خدا کا کچھ نہیں بگاڑتا بلکہ خود اپنے ہی کو اس سرفرازی اور اس امن و حفاظت سے محروم کرلیتا ہے جو توحید کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو بخشی ہے۔ پھر وہ شیطان کے ہر فتنہ کا ہدف اور اس کے بچھائے ہوئے ہر جال کا شکار ہے۔
Ayah 22:32

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

ان امور کا اہتمام رکھو ! اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یاد رکھے کہ یہ چزدل کے تقویٰ سے تعلق رکھنے والی ہے

شعائر کی تعظیم کے لئے اصل شرط یہ ذلک بھی اسی طرح کا ہے جیسا کہ اوپر آیت 30 میں گزرا یعنی اوپر جو باتیں بتائی گئیں ان کو اچھی طرح سن لو اور ان کو گرہ کرو اور مزید برآں یہ اچھی طرح یاد رکھو کہ اللہ نے جو شعائر مقرر فرمائے ہیں ان کی تعظیم کا حق محض ظاہر داری سے ادا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لئے دل کا تقویٰ مطلوب ہے۔ شعائر، جیسا کہ ہم بقرہ 158 ان الضفا والمردۃ من شعآئر اللہ کے تحت واضح کرچکے ہیں کسی عظیم حقیقت کے نشان اور مظہر کے طور پر مقرر ہوئے ہیں۔ ان سے اصل مقصود انہی حقائق کی تذکیر و تذکر ہے جو ان کے اندر مضمر ہیں اگر ان حقائق کا اہتمام باقی نہ رہ جائے تو محض ظاہری رسم داری سے شعائر کی تعظیم کا حق ادا نہیں ہوتا۔ ان کی صحیح تعظیم کا حق اسی وقت ادا ہوتا ہے جب وہ اثر ان سے اخذ کیا جائے جس کے پیدا کرنے کے لئے وہ مقرر ہوئے ہیں، آگے قربانی سے متعلق، جو ایک عظیم شعیرہ ہے، اسی حقیقت کو یوں واضح فرمایا ہے۔ لن ینال اللہ بعومھا ولادمآوھا ولکن ینالہ التقری منکم 37 اللہ کو تمہاری ان قربانیوں کا نہ گوشت پہنچے گا اور نہ ان کا خون بلکہ صرف تمہارا تقویٰ پہنچے گا۔ قربانی کے متعلق معلوم ہے کہ یہ حضرت ابراہیم کی قربانی کی یاد گار ہے۔ انہوں نے اپنے محبوب فرزند … حضرت اسماعیل … کی قربانی کر کے اسلام کی اس حقیقت کا اظہار فرمایا کہ مسلم کو ہر وقت اپنی عزیز سے عزیز شے اپنے رب کی خاطرقربان کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اگر قربانی کی یہ حقیقت مستحضر نہ رہے اور آدمی ایک جانور کی گردن پر چھری چلا دے تو گو فی الظاہر اس نے قربانی کردی لیکن فی الحقیقت وہ اس عظیم شعیرہ کی روح سے بیخبر رہا اور آنحالیکہ خدا تک رسائی حاصل کرنے والی چیز وہ روح ہی ہے نہ کہ اس کی قربانی کا گوشت یا خون
Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان ہدی کے جانوروں میں ایک خاص وقت تک مختلف قسم کی منفعتیں ہیں پھر ان کو قربانی کے لئے قدیم گھر کی طرف لے جاتا ہے

لفظ محل پر سورة بقرہ کی تفسیر میں ص 439 پر بحث گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے بعد حرف الی اس بات کا قرینہ ہے کہ کوئی لفظ ایسا محذوف مانا جائے جس سے یہ مفہوم پیدا ہو کہ پھر ان کو بیت عتیق کے پاس لے جا کر قربان کرنا ہے مشرکین کی بعض بدعات کی اصلاح مشرکین جب کسی چوپایہ کو ہدیو نیاز کے لئے نامزد کردیتے تو پھر اس سے کسی قسم کا انتفاع ناجائز سمجھتے۔ قرآن نے ان کی اصلاح فرما دی کہ ان شعائر کی تعظیم کے لئے یہ چیز ضروری نہیں ہے۔ اپنیقربانی کے جانوروں کو پالو اور ان سے اس وقت تک فائدہ اٹھائو جب تک ان کی قربانی کا وقت نہ آجائے۔ اس انتقاع سے ان کی حرمت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا البتہ یہ ضروری ہے کہ جب ان کی قربانی کا وقت آجائے تو ان کو اللہ کے قدیم گھر کے پاس لے جا کر اللہ ہی کے لئے ان کو قربانی کرو۔ اگر کسی اور تھان یا ساتھ ان پر لے جا کر ان کو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا تو اس سے ان کی حرمت برباد ہوجاتی ہے۔ بیت عتیق کی وضاحت اوپر گزر چکی ہے۔ ثم یہاں میرے نزدیک ترتیب کو ظاہر کرتا ہے اس وجہ سے میں اس انتفاع کو اس وقت تک جائز سمجھتا ہوں جب تک قربانی ٹھکانے نہ لگ جائے۔
Ayah 22:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی مشروع کی تاکہ اللہ نے ان کو جو چوپائے بخشے ہیں ان پر وہ اس کا نام لیں۔ پس تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو اپن آپ کو اسی کے حوالہ کرو اور خوش خبری دو ان کو جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے ہیں

قربانی ایک قدیم ترین طریقہ عبادت لفظمنسک کی تحقیق بقرہ آیت 200 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں اس کے مختلف معانی میں سے قربانی مراد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شرائع الٰہی میں قربانی ایک قدیم ترین عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بنی کی امت کے لئے اس طریقہ عبادت کو شروع فرمایا کہ اللہ کے بندے اس طرح اللہ کے بخشے ہوئے چوپایوں پر اس کی شکر گزاری کا حق ادا کریں۔ یہاں قربانی کے قدیم ترین طریقہ عبادت ہون کا جو ذکر ہے اس کی شہادت کے لئے یہ کافی ہے کہ تورات اور قرآن دونوں میں حضرت آدم کے بیٹے ہابیل کی قربانی کا ذکر موجود ہے۔ لیذکروا اسم اللہ علی مارزقھم من بھیمۃ الانعام خدا کی شروع کی ہوئی اس عبادت کی یہ خصوصیت بیان ہوئی ہے کہ اللہ نے یہ عبادت خاص اپنی شکرگزاری کے لئے مشروع فرمائی ہے کہ اس کے عطا کئے ہوئے چوپائے اس کی خوشنودی اور رضاطلبی کے لئے لوگ اس کے حضور میں نذر گزرانیں اور اس طرح اس کی بخشی ہوئی نعمت پر اس کا شکر ادا کریں۔ مطلب یہ ہے کہ تمام ادیان الٰہی میں قربانی کی مشروعیت اور اس کی اصل روح یہ رہی ہے۔ اس میں اگر غیر اللہ کو شریک بنایا گیا ہے تو یہ مبتدعین کی پیدا کردہ ضلالت ہے۔ اللہ کے دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ فالھکم الہ واحد فلہ اسلموا مطلب یہ ہے کہ معبود تم سب کا ایک ہی ہے تو اس کی قربانی اور عبادت میں کسی دوسرے کو شریک نہ بنائو بلکہ پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے آپ کو اسی کے حوالہ کرو۔ یہی حوالگی قربانی کی اصل روح ہے۔ اخبات کی حقیقت وبشر المخبتین جنتپست اور نشینبی زمین کو کہتے ہیں۔ اسی سے اخبات ہے جس کے معنیفروتنی اور تذلل و تواضح کے اظہار کے ہیں۔ یہاں اس لفظ سے اسی حقیقت کا اظہار فرمایا گیا ہے جس کی ہدایت اسلموا کے لفظ سے ہوئی ہے اسلام کی اصل روح اخبات ہی ہے یعنی انسان کا صرف ظاہری ہی نہیں بلکہ اس کا دل بھی اپنے پروردگار کے آگے جھک جائے۔ جن لوگوں کے اندر یہ اخبات ہو حقیقی مومن و مسلم وہی ہیں اور انہی کے لئے خدا کے رضوان اور اس کی جنت کی بشارت ہے۔
Ayah 22:35

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے خدا کا ذکر آتا ہے ان کے دل دہل جاتے، ان کو جو مصیبت پہنچتی ہے اس پر صبر کرنے والے، نماز کا اہتمام رکھنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں

یہ مخبتین کی صفت ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور اس کی آیتیں ان کو سنائی جاتی ہیں تو وہ متکبرین کی طرح، جن کا ذکر اسی سورة میں آگے آیت 72 میں آئے گا، ناک بھوں نہیں چڑھاتے بلکہ ان کے دل خشیت الٰہی سے دہل جاتے ہیں۔ والصبرین علی مآ اصابھم اور جن کا حال یہ ہے کہ وہ خدا کی راہ میں ہر مصیبت کو پوری ہمت کے ساتھ برداشت کر رہے ہیں، ان لوگوں کی طرح نہیں ہیں جن کا حال آیت ومن الناس من بعبد اللہ علی حرف کے تحت بیان ہوا کہ وہ ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے ہیں لیکن اس راہ میں کوئی چوٹ کھانے اور کوئی جو کھم برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ والمقیمی الصلوۃ یہ مضاف مضاف الیہ کی ترکیب ہے۔ صبر اور نماز کے باہمی تعلق پر ہم ایک سے زیادہ مقامات میں گفتگو کرچکے ہیں۔ اس کا مفہمو صرف یہ نہیں ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ برابر نماز کا نہایت اہتمام رکھنے والے ہیں۔ رمما رزقھم ینفقون اور خدا نے جو کچھ ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اس اسلوب میں انفاق کی تسہیل اور اس کی ترغیب کا جو پہلو ہے اس پر بھی نگاہ رکھے اور نماز اور انفاق میں میں جو رشتہ ہے اس کو بھی نظر سے اوجھل نہ ہونے دیجیے۔ دین کی حکمت سمجھنے کے لئے ان اجزاء کے باہمی تعلق کو سمجھنا ضروری ہے۔
Ayah 22:36

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے شعائر الٰہی میں سے ٹھہرایا ہے تمہارے لئے ان میں بڑے خیر ہیں تو ان پر اللہ کا نام لو ان کو صف بستہ کر کے پس جب وہ اپنے پہلوئوں پر گر پڑیں تو ان میں سے کھائو اور کھلائو قانع محتاجوں اور سائلوں کو اسی طرح ہم نے ان کو تمہاری خدمت میں لگادیا ہے تاکہ تم خدا کے شکر گزار رہو

بدن کا مفہوم بدن بدنتہ کی جمع ہے۔ یہ لفظ اونٹوں کے لئے آتا ہے لیکن یہاں یہ خاص طور پر ان اونٹوں کے لئے استعمال ہوا ہے جو قربانی کے لئے نامزد کردیئے گئے ہوں اور جن کی حیثیت ہدی اور قلائد کی ہوچکی ہو۔ اس تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ ان کی تعریف میں فرمایا گیا ہے جعلنھا لکم من شعآئر اللہ (ان کو ہم نے تمہارے لئے شعائر میں سے تھہرایا ہے) ظاہر ہے کہ شعیرہ ہونے کا درجہ ہر اونٹ اور اونٹنی کو حاصل نہیں ہوتا بلکہ صرف نیاز کے اونٹوں کو حاصل ہوتا ہے۔ اونٹوں کے ذکر کی ایک خاص وجہ اوپر آیت 28 میں ان عام چوپایوں کا ذکر ہوچکا ہے جن کی قربانی مشروع ہے۔ اس کے بعد اونٹوں کے ذکر کی چنداں ضرورت تو نہیں تھی۔ اس لئے کہ بھیمۃ الانعام میں یہ بھی شامل ہیں لیکن ایک خاص سبب سے ان کا ذکر خاص اہتمام کے ساتھ ہوا۔ وہ یہ کہ اونٹ اہل عرب کے محبوب چوپایوں میں سے ہے۔ لیکن یہود نے اپنی ایک کمزور روایت کی بنا پر جس کا ذکر آل عمران 93 کے تحت ہوچکا ہے، اس کو حرام قرار دے رکھا تھا۔ اپنی اسی روایت کی آڑ لے کر انہوں نے اونٹ کی قربانی کے مسئلہ کو بھی اسلام کے خلاف فتنہ انگیزی اور وسوسہ اندازی کا ذریعہ بنا یا۔ انہوں نے یہ پروپیگنڈا کرنا شروع کردیا کہ بھلا یہ نیا دین حضرت ابراہیم کا دین کس طرح ہوسکتا ہے جس نے تمام انبایء کے حرام کئے ہوئے جانور کی قربانی کو خدا کے تقرب کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ قرآن نے آل عمران کی آیت 93 میں یہود کے اس واہمہ کی تردید فرمائی ہے اور یہود سے مطالبہ کیا ہے کہا گر اس بات کا ان کے پاس کوئی ثبوت موجود ہو کہ اونٹ کہ حضرت ابراہیم ؑ نے حرام قرار دیا ہے تو وہ اس کو پیش کریں۔ لکم فیھا خیریہ اونٹ کی قربانی کو شعائر الٰہی میں سے قرار دیئے جانے کی وجہ بیان ہوئی ہے کہ اس کے اندر تمہارے لئے بڑی برکتیں اور بڑے فوائد ہیں۔ آیت لن تنالوا البر کے تحت ہم عرض کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی اسی جانور کی پسند ہے جو عزیز و محبوب ہو۔ اونٹ عرب کے محبوب ترین جانوروں میں سے ہے۔ یہ ان کے صحرا کا سفینہ ان کے تمام سفر و حضر کا رفیق اور ان کی تمام تجارتی سرگرمیوں کا واحد ذریعہ تھا۔ و اس کے دودھ، گوشت اور کھال ہر چیز سے بیش از بیش فائدے اٹھاتے تھے۔ قرآن نے اس کی انہیمنعفتوں اور برکتوں کے سبب سے اہل عرب کو اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی اس نعمت کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔ ظاہر ہے کہ جو چیز با اعتبار دنیا اہل عرب کے لئے اتنی نفع بخش اور بابرکت ہو اگر وہ اس کو اپنے رب کی خوشنودی کے لئے قربان کریں تو یہ ان کے لئے خدا کے تقرب کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہو سکتی ہے۔ فاز کرو اسم اللہ علیھا صوآف فاذا وجبتجنوبھا فکلوا منھاد اطعموا القانع والمعتز یہ ان کی قربانی کرنے کا طریقہ بتایا کہ ان کو قبلہ رو صف بستہ کھڑے کر کے ان کو نحر کرو۔ نحر یا ذبح کو ذکر اللہ سے تعبیر کرنے کی وجہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں۔ یہ صف بستہ کھڑا کرنا گویا خدا کے حضور نماز کے لئے ان کا قیام ہے اور نحر یا ذبح کو ذکر اللہ سے تعبیر کرنے کی وجہ ہم اوپر بیان کرچکے ہیں۔ یہ صف بستہ کھڑا کرنا گویا خدا کے حضور نماز کے لئے ان کا قیام ہے اور نحر کے بعد جب وہ اپنے پہلو پر گر پڑیں تو یہ گویا رب کے حضور ان کا سجدہ ہے۔ فرمایا کہ اس کے بعد تم خود بھی اس کے گوشت سے فائدہ اٹھائو اور خود دار محتاجوں اور سائلوں کو بھی کھلائو۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین اپنی قربانیوں سے کوئی فائدہ اٹھانا حرام سمجھتے تھے۔ اسلام نے اس بدعت کی بھی اصلاح کردی۔ یہاں مستحقین کے لئے قانع اور معتر کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اصل مستحق تو جیسا کہ اوپر آیت 38 میں گزرا، نادار و غریب لوگ ہیں لیکن غریبوں میں بہت سے ایسے ہوتے ہیں جن کی خود داری سوال کرنے کا ننگ گوارا نہیں کرتی اور بہت سے ایسے ہوتے ہیں جو سوال کرتے ہیں۔ پہلی قسم کے ناداروں کے لئے قانع کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور دوسری قسم کے ناداروں کے لئے معتر کا معتر متعوض للسوال کہتے ہیں۔ آیت میں قانع کیتقدیم سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا حق مقدم ہے اور چونکہ وہ سائل بن آسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے اس وجہ سے دینے والوں کا فرض ہے کہ خد ان کے پاس پہنچی، ان سے یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ دینے والوں کے پہنچیں گے۔ آیت لایسئلون الناس الحانا کے تحت اس مسئلہ وضاحت سے ہم لکھ چکے ہیں اور یہ اشارہ بھی کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک غرباء کے لئے پسندیدہ رویہ خود داری ہی کا رویہ ہے۔ اگرچہ مجبوری کی حالت میں سوال کرنے کی بھی اجازت ہے۔ کذلک سخرنھا لکم لعلکم تشکرون مطلب یہ ہے کہ یہ محض اللہ کا فضل و احسان ہے کہ اس نے اونٹ جیسے عظیم جانور کی نکیل اس طرح تمہارے ہاتھ میں پکڑا دی ہے کہ تم اپنے سفر و حضر میں جس طرح چاہو اس سے فائدہ اٹھائو اور جب چاہو اس کو نحر کر دو۔ وہ تمہاری اطاعت سے سرموانحراف نہیں کرسکتا۔ اگر خدا نہ چاہتا تو اونٹ تو درکنار کسی چھوٹے سے چھوٹے جانور کو بھی تم اس طرح اپنا تابع فرمان نہیں بنا سکتے تھے۔ خدا کے اس احسان کا قدرتی اور فطری حق یہی ہے کہ تم اس کے شکر گزار رہو، اس کے حقوق برابر ادا کرو اور ان حقوق میں دورسوں کو ساجھی نہ ٹھہرائو۔
Ayah 22:37

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

اور اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون بلکہ اس کو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح ہم نے ان کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے تاکہ تم اللہ کی ہدایت بخشی پر اس کی تعظیم بجا لائو اور خوب کاروں کو خوش خبری سنا دو

اصل حقیقت کی یاد دہانی مطلب یہ ہے کہ خدا قربانیوں کے گوشت یا خون سے محظوظ نہیں ہوتا، جیسا کہ مشرکین نے گمان کر رکھا ہے، بلکہ اس تقویٰ اور اس اسلام و اخبات سے خوشنود ہوتا ہے جو ان قربانیوں سے ان کے پیش کرنے والوں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ تو یہ قربانیاں پیش کرتے ہوئے اپنے اندر تقویٰ کی یہ روح پیدا کرو۔ اگر یہ چیز نہ پیدا ہوئی تو یہ محض ایک جانور کا خون بہا دینا ہوا، اس کا حاصل کچھ نہیں۔ کذلک سخرھا لکم لتکبروا اللہ علی ماھدلکم یہ اسی مضمون کا دور سے لفظوں میں اعادہ ہے جو اوپر کذلک سخرنھا الایہ میں گزرا۔ البتہ اس میں اس شکر کا طریقہ بتا دیا کہ یہ خدا کی تکبیر وتہلیل کی صورت میں ہو یعنی اس نذرانہ کو خدا کی بارگاہ میں پیش کرتے ہوئے صرف خدا ہی کی عظمت وکبریائی کا اعتراف وہ اعلان کیا جائے، کسی غیر خدا کو اس میں ساجھی نہ بنایا جائے۔ چناچہ اسی حکم کی تعمیل میں ان چوپایوں کو قبلہ رو کر کے ان پر تکبر پڑھی جاتی اور منک ولک کا اعتراف کیا جاتا ہے۔ مزید برآں اس آیت میں اس شکر کے اصل محرک کا بھی پتہ دے دیا ہے کہ یہ شکر اس بات کا ہے کہ خدا نے تمہیں ہدایت بخشی یعنی اس اسلام و اخبات کی ہدایت بخشی جس کا اظہار حضرت ابراہیم نے اپنے اکلوتے فرزند کی قربانی کر کے کیا۔ وبشر المحسنین محسن کا مفہوم ہم ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ اس سے مراد وہ خوب کار لوگ ہوتے ہیں جو خدا کے ہر حکم کی تعمیل اس کو حاضر و ناظر جان کر اس طرح انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں جس طرح اس کو انجام دینا چاہئے۔ یہاں بربنائے قرینہ یہ مضمون محذوف ہے کہ جو لوگ ان شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی قربانی پیش کریں گے وہی لوگ دراصل خوب کار ہیں۔ ایسے خوب کاروں کو خدا کی خوشنودی اور اس کی جنت کی خوش خبری پہنچا دو !