Ayah 22:58آگے کا مضمون …… آیات 76-58
آگے ان مسلمانوں کی پہلے دلداری فرمائی ہے ج و اس پر محن دور میں، اعدائے حق کی ستم رانیوں سے تنگ آ کر اپنے دین و ایمان کو بچانے کے لئے مختلف علاقوں کو ہجرت کر رہے تھے۔ ان کو اپنی صفات کا حالہ دے کر اطمینان دلایا ہے کہ سارا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے جس طرح مایوسی کے بعد رحمت کی گھٹائیں اٹھتی ہیں اور زمین کو جل تھل کردیتی ہیں اسی طرح تمہارے لئے بھی رحمت کی گھٹائیں برسیں گی اور تم نہال ہو جائو گے۔ تمہارے اعداد کو خدا جو مہلت دے رہا ہے تو اس لئے دے رہا ہے کہ خدا اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے، وہ عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا لیکن اس مہلت کی ایک حد ہے۔ اگر انہوں نے اس کی قدر نہ کی تو اس کا انجام دیکھیں گے۔
اس کے بعد نبی ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تمہارے یہ مخالفین جس ڈگر پر چلتے آئے ہیں اسی پر چلتے رہیں گے تو ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو اور ان کو زیادہ منہ نہ لاگئو۔ جلد وہ دن آنے والا ہے جب خدا ان کے معاملہ کا فیصلہ کرے گا۔ اس دن ان کے یہ معبود کچھ کام آنے والے نہیں ہیں جن کے خلاف کچھ سنتے ہی ان کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ ان کے تن بدن میں آگ لگتی ہے تو لگے تم ان کو صاف صاف سنا دو کہ تمہارے یہ معبود سب مل کر بھی ایک مکھی پید اکر سکنے پر قادر نہیں ہیں اور اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اس سے اس چیز کو واپس لینے پر قادر نہیں ہیں۔ ان احمقوں کو یہ بھی سمجھا دو کہ فرشتوں کی حیثیت خدا کی بیٹیوں یا اس کے شریکوں کی نہیں بلکہ اس کے بندوں کی ہے۔ وہ ان کے اندر سے بھی اسی طرح اپنے پیغامبر منتخب کرتا ہے جس طرح انسانوں میں سے کرتا ہے۔ وہ ہر وقت خدا کے احاطہ میں ہیں۔ معاملات کا مرجع اور ان کا فیصلہ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت کیجیے۔
راہ ہجرت میں اول قدم بھی منزل کے حکم میں ہے
اب یہ اسی اوپر والی بشارت پر، جو اہل ایمان کو دی گی ہے، عطف کر کے خاص طور پر ان مظلوم مسلمانوں کو بشارت دی گی ہے جو کفار قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر، اپنے دین و ایمان کو بچانے کے لئے مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں ہجرت کریں گے وہ اطمینان رکھیں کہ اس راہ میں پہلا قدم بھی منزل کا درجہ رکھتا ہے۔ اگر وہ اپنے دارالہجرت میں پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردیئے گئے یا ان کو موت آگی تو ان کو شہادت کا درجہ نصیب ہوگا اور اللہ ان کو اپنے رزق حسن سے نوازے گا۔ آل عمران آیت 169 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ خدا کی راہ میں مارے جانے والے مرتے نہیں بلکہ زندہ رہتے ہیں اور وہ اپنی برزخی زندگی میں بھی خاص اپنے رب کے خوان نعمت سے رزق پاتے ہیں۔ بل احیآء عندربھم یرزقون
راہ ہجرت میں طبعی موت بھی شہادت کا درجہ رکھتی ہے
یہی بشارت یہاں ان لوگوں کو بھی دی گئی جو ہجرت کے ارادے سے نکلیں اور ان کو موت آجائے اگرچہ ان کو قتل نہ کیا گیا ہو۔ گویا اس راہ میں قتل ہونا ہی شہادت نہیں ہے بلکہ طبعی موت بھی شہادت ہی کے حکم میں ہے۔ رزق یہاں، جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں، خدا کے بےپایاں انعامات کی ایک جامع تعبیر ہے۔ اس کو محدود مفہم میں نہیں لینا چاہئے۔ وان اللہ لھو خیر الرزاقین میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ خدا جب خیر الرزقین ہے تو کون اندازہ کرسکتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو کیا رزق دے گا جو اس کی خاطر اپنا گھر در سب کچھ چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوں گے !
Ayahs 22:59–6059۔ 60
مہاجرین کے لئے عظیم بشارت
فرمایا کہ ان کو ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں پہنچ کر وہ نہال ہوجائیں گے۔ یرضونہ کا لفظ ہے تو نہایت مختصر سا لیکن اس کے اندر معانی کا ایک جہاں پوشیدہ ہے۔ یعنی خدا کی خاطر جو بندہ اپنے گھر اور وطن سے نکلتا ہے، اگر اسی راہ میں اس کو موت آجاتی ہے تو وہ اطمینان رکھے کہ خدا اس کو ایسی جگہ داخل کرے گا جہاں اس کی ساری توقعات ہی پوری نہیں ہوجائیں گی بلکہ وہ کچھ اس کو ملے گا جس کا اس جہان میں وہ کوئی تصور نہیں کرسکتا۔
وان اللہ لعلیم حلیم یعنی ہمارے بندے پورا اطمینان رکھیں کہ اس دنیا میں ہماری خاطر اعدائے حق کے ہاتھوں وہ جو کچھ جھیل رہے ہیں ہم اس سے بیخبر نہیں ہیں ہم ہر چیز سے واقف ہیں۔ لیکن علیم کے ساتھ ساتھ ہماری صفت حلیم بھی ہے۔ اس وجہ سے ہم اپنے دشمنوں کو جلدی نہیں پکڑتے بلکہ ان کو اصلاح حال کا پورا موقع دیتے ہیں۔ لیکن وہ یاد رکھیں کہ ہمرے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں ہے۔
خدا کے ہاں دیر سے اندھیر نہیں
ذلک ومن عاقب بمثل ماعوقب بہ ثم بغنی علیہ لینصرنہ اللہ ان اللہ لعفو غفوراٌ (60)
ایک اہم اعلان
یہ ذلک جس طرح آیت 30 میں گزر چکا ہے پورے جملہ کا قائم مقام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات جو کہی گی ہے کوئی سرسری بات نہیں ہے بلکہ نہایت اہم حقیقت بیان ہوئی ہے۔ اس کو دوست اور دشمن اچھی طرح سن لیں۔ مزید برآں اب یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ مظلوم مسلمان اگر اپنے جان و مال کی مدافعت میں برابر سرابر کا کوئی اقدام کریں تو انکو اس کا حق ہے۔ ان کو اس کی اجازت دی جاتی ہے اور اگر اس کے بعد ان پر کوئی مزید تعدی کی گئی تو ان کے اعداء یاد رکھیں کہ خدا اپنے بندوں کیپشت پر ہے اور وہ ان کی ضرور مدد فرمائے گا۔
ومن عاقب بمثل ماعوقب بہ میں عوقب بہ مماثلت کے اسی اسلوب پر ہے جو دناھم کمادانوا یا جزاء سیۃ سیئۃ مثلھا وغیرہ میں محلوظ ہے۔ ثم بغی علیہ میں اس حقیت کا اظہار ہے کہ اگر مسلمان کے کسی مدافعانہ اقدام سے چڑ کر کفار نے ان پر مزید تعدی کی کہ ان کا حوصلہ پست کردیں کہ وہ آئندہ اپنے عزت و ناموس کی حفاظت کے لئے کوئی جرأت نہ کرسکیں تو کفار یاد رکھیں اور مسلمان مطمئن رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہرگز ایسا نہیں ہونے دے گا بلکہ وہ اپنے بندوں کی ضرور مدد فرمائے گا۔ ضرور مدد فرمائے گا کے اجمال کے اندر جو تفصیل پوشیدہ ہے، اس کی شہادت بعد کے واقعات نے دی اور تاریخ اس کی گواہ ہے یہ امر محلوظ ہے کہ یہ بشارت مسلمانوں کو ہجرت کے وقت دی گی تھی۔ بعد میں جب مسلمان مدینہ پہنچ کر ایک طاقت بن گئے تو یہی بات نہایت واضح الفاظ میں کہہ دی گی جو آیات 40-39 میں گزر چکی ہے۔ ان پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
عفو و غفور کی صفات کے حوالہ کا ایک خاص محل
ان اللہ لعفو غفور کا یہاں ایک خاص محل ہے یہ بات، جیسا کہ میں نے اشارہ کیا، بالکل ہجرت کے وقت فرمائی گی تھی۔ اس وجہ سے امکان تھا کہ کفار کے ہاتھوں ستائے ہوئے مسلمان جوابی کارروائی کے طور پر کوئی عاجلانہ قدم اٹھاویں۔ درآنحالیکہ ابھی اس کے لئے موزوں وقت نہیں آیا تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات عفو، و غفور کی یاد دہانی فرما دی کہ ہرچند تمہیں اپنی جان، اپنے مال اور اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کا حق ہے اور خدا تمہاری پشت پر ہے لیکن ہم جس طرح لوگوں کی تعدیوں کے باوجود عفو و مغفرت سے کام لیتے ہیں اسی طرح چندے تم بھی عفو و درگزر سے کام لو۔ ان سرکشوں سے نمٹنے کا وقت بس آ ہی رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا رب اپنی صفات کا عکس تمہارے اندر بھی دیکھنا چاہتا یہ۔
Ayah 22:61وعدہ نصرت کی پہلی دلیل
یہ اوپر کے وعدہ نصرت کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ خدا اس کائنات میں کوئی ناکارہ وجود نہیں ہے، جیسا کہ ان احمقوں نے گمان کر رکھا ہے، بلکہ مصرف حقیقی وہی ہے وہی ہر روز دن کے بعد رات کو لاتا ہے اور رات کے بعد دن کو نمایاں کرتا ہے اور وہ سمیع وبصیر ہے یعنی (نعوذ باللہ) وہ کوئی اندھا بہرا نہیں ہے کہ اشرار و مفسدین اس کی دنیا میں جو دھاندلی مچاتے پھریں وہ بے، خبر بیٹھا رہے۔ وہ سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہے۔ تو جب مصرف حقیقی بھی وہی ہے اور وہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا بھی ہے تو آخر وہ اس کائنات کی سیاست سے بےتعلق کیسے رہے گا ؟ لازم ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابل میں، جو اس کی دنیا میں فساد برپا کر رہے ہیں، ان لوگوں کی مدد فرمائے جو اس کی اصلاح کے طالب ہیں اور جب وہ رات کے بعد دن کے لانے پر قادر ہے اور اس کی اس قدرت کا مشاہدہ ہر شخص ہر روز کر رہا ہے تو کفر کی تاریکی کو مٹا کر دنیا کو ایمان کی روشنی سے جگمگا دینا اس کے لئے کیا مشکل ہے !
Ayah 22:62وعدہ نصرت کی دوسری دلیل
یہ اسی بات کی دوسری دلیل ارشاد ہوئی کہ کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ آخر ان مخالفین کی پشت پر بھی تو کچھ طاقتیں ہیں۔ فرمایا کہ اس کائنات میں کار فرمائے حقیقی صرف اللہ ہے اور یہ لوگ اللہ کے سوا جن چیزوں کو پوجتے اور پکارتے ہیں سب بےحقیقت، محض وہم کی ایجاد اور یکسر فریب اور دھوکا ہیں۔ اللہ بڑی ہی بلندو برتر اور عظیم ہستی ہے۔ ان پتھر اور مٹی کی مورتوں کا خدا کے ساتھ کیا جوڑ ؟ جو احمق ان چیزوں کو معبود بنا کر پوج رہے ہیں وہ خدا کی عظمت و شان سے بالکل بیخبر ہیں۔
Ayah 22:63وعدہ نصرت کی تائید میں آفاق کی شہادت
الم تم کے خطاب پر ہم مختلف مقامات میں بحث کرچکے ہیں کہ یہ مخاطب گروہ کے ایک ایک فرد کو توجہ دلانے کے لئے آتا یہ۔ اوپر کی آیات میں وعدہ نصرت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کے حوالہ سے مئوند کیا ہے۔ اس آیت میں اپنی صفات کے ساتھ آفاق کی شہادت بھی شامل کردی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی موجودہ ظاہری حالات کی ناسازگاری کو دیکھ کر خدا کی نصرت کے ظہور کو بعید از امکان نہ سمجھے۔ یہ ہر شخص نہیں سمجھ سکتا کہ خدا کی شان کس طرح ظاہر ہوگی اور اس کے ہاتھ کدھر سے نمودا رہوں گے۔ زمین کو دیکھتے ہو کہ بالکل خشک اور چٹیل پڑی ہوتی ہے، نہ اس پر سبزہ اور روئیدگی کا کوئی اثر ہوتا اور نہ افق پر کسی جانب ابر کا کوئی نشان لیکن جب خدا چاہتا ہے تو اس کی بھیجی ہوئی ہوائیں بادلوں کے قافلے کے قافلے ہانک کر لاتی اور فضا میں پھیلا دیتی ہیں۔ پھر چشم زدن میں ساری زمین جل تھل ہوجاتی ہے اور دیکھتے دیکھتے ہر طرف سبزہ کی باغات بچھ جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اپنی رحمت و نصرت کی گھٹائیں اپنے ان بندوں کے لئے بھی بھیج دے گا اگرچہ ظاہری حالات کتنے ہی ناسازگار ہوں۔
لطیف خبیر کا حوالہ نہایت لطیف طریقہ سے
لطیف خبیر کی صفات کا حوالہ یہاں نہایت لطیف طریقہ سے آیا ہے۔ لطیف کے معنی باریک بین اور دقیقہ رس کے ہیں۔ یعنی وہ اپنی تدبیروں کو اس طرح بروئے کار لاتا ہے کہ کسی کو ان کا سان گمان بھی نہیں ہوتا۔ وہ بڑی خبر رکھنے والا ہے۔ لوگ صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں لیکن وہ ماضی کے پردوں میں جو کچھ چھپا ہوا ہے اس سے بھی باخبر ہے اور مستقبل کے اوٹ میں جو کچھ ہے اس سے بھی باخبر ہے۔
Ayah 22:64خدا بےہمہ بھی ہے اور باہمہ بھی
یہ اوپر کے مضمون ہی کی مزید تاکید ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب خدا ہی کا اور اسی کے تصرف میں ہے تو اس کے ارادے میں کون مزاحم ہوسکتا ہے ؟ وہ سب سے بےنیاز اور اپنی ذات میں مستغنی ہے۔ ’ حمید ‘ کی صفت یہاں بطور بدرقہ ہے یعنی وہ غنی ہونے کے ساتھ حمید بھی ہے۔ حمید کے معنی ہیں ستو وہ صفات اور تمام سزاوار حمد کا موں کا منبع۔ اس بدرقہ کی ضرورت اس لئے تھی کہ خدا کے بےنیاز ہونے کے سبب سے بندوں کے اندر مایوسی نہ پیدا ہو بلکہ وہ امید رکھیں کہ اس کے بےنیاز ہونے کے باوجود خلق کے لئے اس کا فیض ہر وقت جاری ہے۔ وہ بےہمہ ہونے کے ساتھ ساتھ باہمہ بھی ہے۔
Ayah 22:65متمر دین کے لئے دھمکی
یعنی اس دنیا میں انسان کو جو مہلت ملی ہوئی ہے یہ خدا کے فضل و کرم اور اس کی عنایت و مہربانی سے ملی ہوئی ہے۔ آسمان و زمین کی ہر چیز جو انسان کی خدمت گزاری میں لگی ہوئی ہے اور جس کے بغیر اس دنیا میں انسان کا بقاء ایک لمحہ کے لئے بھی ممکن نہیں ہے، یہ خدا ہی کے حکم سے لگی ہوئی ہے۔ اگر خدا کا حکم نہ ہو تو اس کائنات کی ہر چیز انسان کی باغی اور اس کی دشمن بن جائے۔ کشتی ہی کو دیکھ لو یہ خدا ہی کا حکم اور اسی کے قانون کی تسخیر ہے کہ وہ تمہارے لئے سمندر کے سینہ کو چیرتی ہوئی چلتی ہے ورنہ چشم زدن میں سارا بیڑا غرق ہوجائے۔ یہ خدا ہی ہے جو آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ مبادا وہ تمہارے سروں پر گر پڑے۔ ان سے پہلے مضاف کے محذوف ہونے کے قاعدے کی طرف ہم اس کے محل میں اشارہ کرچکے ہیں۔
ان اللہ بالناس لروف رحیم یعنی یہ ساری چیزیں اس بات کی شاد ہیں کہ اس دنیا میں ان انسان کو جو کچھ حاصل ہے یہ اس کے اپنے بل بوتے اور اس کے اپنے علم و سائنس پر مبنی نہیں ہے بلکہ خدا کی رافت و عنایت پر بمین ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس نظام کائنات کی ایک اینٹ بھی ذرا سا اس کی جگہ سے کھسکا دے تو ساری عمارت دھڑام سے زمین پر آ رہے۔
ان فقروں کے تیور نگاہ میں رہیں۔ ان میں قریش کے متمر دین کے لئے جو دھمکی ہے وہ لفظ لفظ سے نمایاں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے عذاب کے لئے جلدی نہ مچائو۔ اگر عذاب میں تاخیر ہو رہی ہے تو اس وج ہ سے نہیں کہ یہ ہمارے لئے کوئی مشکل کام ہے بلکہ یہ صرف ہماری رافت و رحمت کے سبب سے ہے کہ تم اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اپنے رویہ کی اصلاح کرلو۔
Ayah 22:66سرکشی کی اصل عظمت
یہ آخرت کی یاد دہانی فرما دی کہ اگر اس دنیا میں عذاب نہ آئے تو یہ کون سی اطمینان کی بات ہے ؟ آگے آخرت جو موجود ہے ! بالآخر لوٹنا تو سب کو اللہ ہی کی طرف ہے۔ خدا ہی نے زندگی بخشی ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ پھر وہی زندہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ جب اس کو پہلی مرتبہ پیدا کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو آخر دوبارہ اٹھا کھڑا کرنے میں اس کو کیں دشواری پیش آئے گی ! ان الانسان لکفورٌ یہ اس ساری سرکشی کی اصل علت بیان ہوئی ہے کہ جہاں تک قرآن اور پیغمبر ﷺ کی باتوں کا تعلق ہے وہ تو بالکل واضح ہیں، ان میں کسی بحث و نزاع کی گنجائش نہیں ہے لیکن یہ لوگ نہایت ناشکرے اور ناقدرے ہیں۔ لفظ انسان سے اشارہ نو یہاں انہی مخالفین کی طرف ہے لیکن اظہار نفرت کے طور پر بات ان کو خطاب کر کے کہنے کے بجائے عام لفظ سے فرما دی گئی ہے۔ اس اسلوب میں اظہار حسرت کا مضمون بھی پایا جاتا ہے جس کی طرف ہم اس کے محل میں اشارہ کرچکے ہیں۔
Ayah 22:67لفظ منک پر آیت 34 میں بحث گزر چکی ہے۔ یہاں یہ لفظ طریقہ عبادت، شریعت کے ظاہری ڈھانچہ اور اس کے قواعد و ضوابط کے لئے آیا ہے۔
مناظرہ بازوں سے گریز کرنے کی ہدایت
پچیھے اسی سورة میں یہ تفصیل بھی گزر چکی ہے کہ اس دور میں یہو داور نصاریٰ بھی کھلم کھلا قریش کا ساتھ دے رہے تھے بلکہ اس مناظرہ بازی کو سب سے زیادہ غذا دہی بہم پہنچا رہے تھے۔ اس وجہ سے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے ہر امت کے لئے ایک ضابطہ ٹھہرایا تھا اور مقصود اس سے یہ تھا کہ یہ اس ضابطہ کے مطباق خدا کی عبادت کریں اور جب خدا اس میں کوئی تبدیلی کر دے تو اس کو بھی دل و جان سے قبول کرلیں تاکہ یہ ان کے مخالصین و جامدین میں امتیاز کی کسوٹی ہو، چناچہ ہر رسول کے زمانے میں شریعت کے ظاہری دھانچہ میں تبدیلایں بھی ہوئیں اور مبتدعین کی پیدا کردہ بدعتوں کی اصلاح بھی ہوئی جن کے اندر حق کی طالب تھی انہوں نے یہ اصلاح صدق دل سے قبول کرلی لیکن جو لکیر کے فقیر اور رسوم وعواید کے پجاری تھے وہ پتھر کی طرح اپنی ضد ہی پر جمے اور اپنی مالوفات کی عصبیت میں حق کے خلاف مناظرہ بازیاں کرتے رہ گئے۔ فرمایا کہ یہ حال تمہارے ان مخالفین کا بھی ہے۔ یہ بھی اپنے جمود اور جاہلیت عصبیت کے سب سے اس ڈگر کو چھوڑ والے نہیں ہیں جس پر چلتے آ رہے ہیں تو اب ان کے پیچھے زیادہ پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ فلاینا زعنک فی الامر یعنی اب ان کو کوئی ایسا موقع نہ دو کہ ان کو تم سے مناظرے کی کوئی راہ ملے۔ بس اپنے رب کی جس سیدھی راہ پر تم گامزن ہو اس کی طرف ان کو بھی دعوت دے دو۔ اگر وہ آتے ہیں تو فبہا، اگر نہیں آتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ بیشک تم ایک سدیھی راہ پر ہو تو جو سیدھی راہ پر ہے اس کو اس سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے کہ دوسرے غلط راہ پر جا رہے ہیں بعینیہ یہی مضمون معمولی الفاظ کے ساتھ قرآن کے دور سے مقامات میں بھی پیچھے گزر چکا ہے۔ ہم بعض آیات کی طرف اشارہ کئے دیتے ہیں، سورة بقرہ میں قبلہ کی بحث کے آخر میں ارشاد ہوا ہے۔
ولکل وجھۃ ھومولیھا فاستبقوا الخیرت (بقرہ :148)
ہر ایک کے لئے ایک سمت ہے اسی کی طرف رخ کرے گا تو تم بھلائیوں کی سمت میں سبقت کرو۔
سورة مائدہ میں فرمایا
لکل جعلنا منکم شرعۃ و منھا جاً ولوشآء اللہ لجعلکم امۃ فاحدۃ ولکن لیبلوکم فیمآ اتکم فاستبقوا الخیرات (مائدہ :48)
ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لئے ایک ضابطہ اور ایک طریقہ ٹھہرایا اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اس نے چہا کہ اس چیز میں تمہاری آزمائش کرے جو اس نے تم کو بخشی تو بھلائیوں کے لئے ایک دوسرے پر سبق کرنے کی کوشش کرو۔
یہ اظہار رواداری مذکورہ بالا آیات کی تفسیر پر، ایک نظر ڈال لیجیے۔ ہم نے ان آیات کے تحت یہ حقیقت بھی اچھی طرح واضح کردی ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ کے ساتھ رواداری کی ہدایت نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے بلکہ یہ ان کے رویہ سے بیزاری کا اظہار و اعلان ہے۔
Ayahs 22:68–69آیت 69-68
یعنی جہاں تک تمہارا تعلق ہے تم اپنی طرف سے ان کو کسی بحث و مناظرہ کا موقع نہ دو۔ لیکن تمہارے اس رویہ کے باوجود اگر وہ مناظرہ کے لئے آہی دھمکیں تو بس ان کو یہ کہہ کر دفع کرنے کی کوشش کرو کہ اللہ ہمارے اور تمہارے اس اختلاف کا فیصلہ قیامت کے دن فرمائے گا۔ جو کچھ تم کررہے ہو اس سے وہ اچھی واقف ہے مطلب یہ ہے کہ اب ان کو زیادہ منہ نہ لگائو بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو۔ یہ جو کچھ کر رہے ہیں، جان بوجھ کر محض شرارت کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ یہ دلیلوں سے قائل ہونے والے اسامی نہیں ہیں۔
Ayah 22:70خطاب پیغمبر سے عتاب مخالفین پر
اس آیت میں اگرچہ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اس کے لفظ لفظ میں جو عتاب ہے اس کا رخ تمام تر مخالفین کی طرف ہے۔ فرمایا کہ کیا نہیں جانتے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے خدا سب سے باخبر ہے تو اب ان اشرار کے معاملہ کو اللہ ہی کے حوالہ کر، وہی ان سے نمٹے گا ! ان ذلک فی کتاب سابق جملے کی دھمکی اس میں اور زیادہ تیز ہوگئی ہے۔ یعنی کوئی یہ نہ سمجھنے کہ یہ محض ہوائی باتیں ہیں بلکہ ہر شخص کو معلوم ہونا چاہئے کہ خدا نے ہر شخص کا سارا ریکارڈ پورے اہتمام کے ساتھ، ایک دفتر میں محفوظ کر رکھا ہے۔ ان ذلک علی اللہ یسیر اور کوئی اس مغالطہ میں بھی نہ رہے کہ بھلا ایک ایک فرد اور ایک ایک جزئیہ کی تفصیل کون محفوظ رکھ سکتا ہے۔ دوسروں کے لئے تو یہ کام بیشک ناممکن ہے لیکن اللہ کے لئے یہ بہت آسان ہے۔
Ayah 22:71ایک اور غلط فہمی کا ازالہ
یہ ایک اور غلط فہمی بھی رفع فرما دی کہ جس دن خدا انصاف کے لئے بیٹھے گا تو اس دن کوئی ان ظالموں کا مددگار نہ بن سکے گا۔ جن چیزوں کو انہوں نے خدا کا شریک و شفیع بنا رکھا ہے ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے نہ خدا نے ان کے حق میں کوئی پروانہ جاری کیا ہے کہ وہ اس کی خدائی میں شریک ہیں اور نہ ان کے اپنے ہی پاس ان کے باب میں کوئی علم ہے۔ خدا کے اذن کے بدوں کسی کے متعلق یہ دعویٰ کرنا کہ خدا نے اس کو اپنا شریک بنایا ہے اللہ پر افتراء ہے جو ایک جرم عظیم ہے اور جس چیز کے بارے میں کوئی عقلی و فطری دلیل نہیں ہے اس کو معبود بنانا محض ظن کی پیروی و ہے اور ظن علم اور حق کا قائم مقام نہیں ہوسکتا۔
Ayah 22:72سطا یسطو کے معنی حملہ کردینے اور پل پڑنے کے ہیں
اصنام کی بےحقیقتی کی تمثیل اور ان کے حامیوں کو جاب
مطلب یہ ہے کہ ان معبودوں کے حق میں کوئی دلیل ان کے پاس اگرچہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ان کے لئے انت کی حمایت کا حال یہ ہے کہ جب توحید کے قح میں ان کو نہایت واضح اور مدلل آیات سنائی جاتی ہیں تو ان کے تن بدن میں ٓگ لگ جاتی ہے، ان کے چہرے بگڑ جاتے اور بھویں تن جاتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی آیتیں سنانے والوں پر پل پڑیں گے۔ فرمایا کہ اگر اللہ کی آیات اور ان کے سنانے والوں سے یہ ایسے ہی چراغ پا ہوتے ہیں تو ان سے کہو کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی چیز کی خبردوں جو ان چیزوں سے کہیں زیادہ تمہارے چہروں کو بگاڑنے والی ہوگی اور اس سے لازماً تمہیں سابقہ پیش آنا ہے ! وہ ہے دوزخ کی آگ ! ! اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 22:73یعنی جب تم اپنے معبودوں کی بےحقیقیتی کا بیان سن کر ایسے ہی چڑتے ہو تو آذان کی بےبسی کی ایک حقیقت افروز تمثیل سن لو۔ یہ تمہارے سارے دیوی دیوتا، جن کو تم پکارت یہو، اگر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں پیدا کرسکتے اگرچہ اس کے لئے سب مل کر اپنا پورا راز در صرف کر ڈالیں۔ اور یہی نہیں کہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ ان کی بےبسی کا حیال ہے کہ جو حلوا تم ان کے آگے پیش کرتے ہوا اگر اس میں مکی کو کچھ چھین لے جاتے تو یہ اس کو بھی بھی نہیں بچا سکتے۔ اطلب اور مطلوب دونوں ہی ناتواں ! !
ضعف الطالب و المطلوب میں نہایت لطیف وبلیغ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ انسان کسی کو معبود مانتا ہے تو اس وجہ سے مانتا ہے کہ اس سے اس کے ضعف و ناتوانی کا مداوا ہوتا ہے لیکن ان نادانوں نے اپنا معبود ان کو بتایا ہے جو ان سے بھی بڑھ کر عاجز و بےبس ہیں۔ یہ اپنی خستگی کی داد ان سے چاہتے ہیں جو بےچارے اپنے چہرے سے مکھی بھی ہانگ سکنے پر قادر نہیں ہیں۔
Ayah 22:74انہوں نے خدا کی شان اور اس کی عظمت وقدرت بالکل نہیں پہچانی خدا ان کے معبود کی طرح کوئی عاجز و بےبس ہستی نہیں ہے بلکہ وہ نہایت ہی طاقتور اور غالب ہستی ہے۔ وہ جو ارادہ فرماتا ہے اس کو پورا کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے اور مجال نہیں ہے کہ کوئی اس کے ارادے میں مزاحم ہو سکے۔
Ayah 22:75فرشتوں کی حیثیت
یعنی ان نادانوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر جو ان کی پوجا شروع کر رکھی ہے، یہ محض ان کی سفاہت اور خدا کی شان سے بیخبر ی کا نتیجہ ہے۔ فرشتے خدا کی بیٹیاں اور اس کے شریک وسہیم نہیں ہیں بلکہ اس کے بندے ہیں۔ اگر ان کو کوئی مرتبہ حاصل ہے تو یہ ہے کہ جس طرح وہ انسانوں میں سے خاص خاص بندوں کو اپنا پیغمبر بناتا ہے اسی طرح فرشتوں میں سے اپنے خاص خاص بندوں کو اپنے پیغمبروں کے پاس اپنا قاصد بنا کر بھیجتا ہے۔
ان اللہ سمیع ابصیر سے بیک وقت دو حقیقتوں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ ایک اس طرف کو جو خدا خود سمیع وبصیر ہے، سب کچھ سننے والا اور دیکھنے والا ہے اس کو ضرورت کیا ہے کہ وہ کسی کو اپنا شریک بنائے۔ دوسرا اس طرف کہ جب خدا سمیع وبصیر ہے تو وہ ان فرشتوں کے فرائض کی بھی ہر قدم پر نگرانی کر رہا ہے، مجال نہیں کہ وہ سرمواس کے مقرر کردہ حدود سے متجاوز ہو سکیں۔
Ayah 22:76ان فرشتوں کے آگے اور پیچھے جو کچھ ہے سب خدا کے علم کے احاطہ میں ہے اس وجہ سے نہ وہ خدا کے علم میں کوئی اضافہ کرسکتے، نہ ان کا کوئی قول و فعل خدا کی نگرانی سے بالاتر ہوسکتا اور نہ وہ کسی کے باب میں خدا سے یہ کہنے کے پوزیشن میں ہیں کہ ان کو اس کے بارے میں علم ہے، خدا کو نہیں ہے۔ سارے امور خدا ہی کے حضور میں پیش ہوتے ہیں۔ نہ ان فرشتوں کے آگے پیش ہوتے ہیں، نہ پیش ہوں گے۔ خود ان فرشتوں کو جو امور تفویض ہوتے ہیں ان کی رپورٹ بھی خدا ہی کے حضور ان کو پیش کرنی ہوتی ہے۔
Ayah 22:77آگے کا مضمون …… آیات 78-77
خاتمہ سورة
یہ خاتمہ سورة کی آیات ہیں اوپر آپ نے دیکھ لیا کہ کفار قریش کو غدار اور خائن ثابت کر کے وراثت ابراہیمی اور تولیت بیت اللہ کے لئے ان کو بالکل نااہل قرار دے دیا اور ساتھ ہی یہ اشارہ بھی فرما دیا کہ اس کی تولیت کے اصلی حقدار یہ مسلمان ہیں جو وہاں سے نکالے گئے ہیں اور ان کو یہ اجازت بھی دے دی کہ وہ بیت اللہ کی آزادی اور تطہیر کے لئے جہاد کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اب آگے کی آیات میں مسلمانوں کو وہ ہدایات دی جا رہی ہیں جو اس عظیم ذمہ داری کے تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ضروری ہیں … آیات ملاحظہ فرمائیے۔
مسلمانوں کے منصب امامت کے تقاضے
اوپر ہم نے اشارہ کیا کہ یہ اس منصب امامت کے تقاضے بیان ہو رہے ہیں جس کی اس سورة میں بشارت دی گئی ہے۔ یہ منصب ایک عظیم سرفرازی بھی ہے اور ایک عظیم ذمہ داری بھی۔ اس وجہ سے سب سے پہلے رکوع و سجود کا حکم ہوا۔ رکوع و سجود نماز کی تعبیر ہے۔ لیکن ہم توبہ 112 کے تحت اشارہ کرچکے ہیں کہ ان لفظوں سے جب نماز کی تعبیر کی جاتی ہے تو اس سے صرف موقف نمازیں ہی مراد نہیں ہوتیں بلکہ یہ نمازوں کے اندر شفف و انہماک کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں اور خاص طور پر ان سے تہجد کی نمازیں مراد ہوتی ہیں جن کا اہتمام عظیم ذمہ داریوں کا اہل بننے کے لئے ضروری ہے۔ یہ موقع، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سرفرازی اور ذمہ داری دونوں کا ہے اس وجہ سے شکر گزاری کے پہلو سے بھی نماز کی ہدایت ہوئی اور آنے والی ذمہ داری کا اہل بننے کے پہلو سے بھی۔ یہاں اسی سورة کی آیت 41 پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے جس میں مسلمانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ حرم کی تولیت کے لوازم کیا ہیں اور ان سے ان کا رب ان کو اس منصب پر سرفراز کرنے کے بعد کیا توقع رکھتا ہے۔
واعبدواربکم یہ خاص کے بعد عام کا ذکر ہے اور عبادت، جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں، اطاعت کے مفہوم پر بھی متضمن ہے۔ یعنی زندگی کے سارے گوشوں میں خدا ہی کی بندگی اور اسی کی اطاعت کرو۔
وافعلو الخیر یہ اس سے بھی زیادہ عام ہے۔ یعنی مزید نیکیاں اور بھلائیاں بھی کرو۔ یہ ان نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف اشارہ ہے جن کا درجہ اگرچہ فرائض واوامر کا نہیں ہے لیکن وہ فضائل و مکارم میں داخل ہیں اور زندگی کے سنوارنے میں ان کو بڑا دخل ہے۔
لعلکم تفلحون یعنی ان کاموں کا اہتمام کرو تو اس سے اس تمکن فی الارض کی صلاحیت بھی تمہارے اندر ابھرے گی جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے اور آخرت کی بازی جیتنے کی اہلیت بھی تم میں پیدا ہوگی۔
Ayah 22:78روحانی تیاری کے ساتھ عملی جدوجہد کی ہدایت
ماجاھدوا فی اللہ حق جھادہ اوپر کی اخلاقی و روحانی تیاری کے ساتھ ساتھ یہ پورے تن من دھن کے ساتھ عملی جدوجہد کی ہدایت ہوئی۔ جہاد سے مراد یہاں قتال نہیں ہے۔ وہ مشروط بشرائط و حالات ہے۔ اس کا ذکر آیات 41-38 میں گزر چکا ہے۔ یہاں اس سے مراد ہر وہ جدوجہد ہے جو اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے بندے کے امکان میں ہو۔
فی اللہ میں مضاف محذوف ہے یعنی فی سبیل اللہ اور حق جھادہ سے مقصود یہ تنبیہ ہے کہ یہ جدوجہد نیم دلی اور کمزوری کے ساتھ مطلوب نہیں ہے بلکہ اس کے لئے جی جان کی بازی لگا دی جائے۔
ھواجتبکم وما جعل علیکم فی الدین من حرج یعنی جو خدا تم سے اس جہاد کا مطالبہ کر رہا ہے وہی ہے جس نے اپنے دین کامل کی عظیم امانت کا حامل بنانے کے لئے تمہارا انتخبا کیا ہے۔ انتخاب کیا ہے یعنی دوسروں کے خواہ قریش ہوں یا یہود معزول کر کے انتخاب کیا ہے تو اس انتخاب کی لاج رکھو اور قوموں کی امامت کے اس منصب کی ذمہ داریوں کو پورے عزم و جزم کے ساتھ سنبھالو۔ وما جعل علیکم فی الدین من حرج یعنی اس دین میں تمہارے اوپر اس طرح کی قیدیں اور پابندیاں نہیں ہیں، جیسی کہ یہود کے دین میں تھیں۔ اللہ نے اپنے فضل سے اس دین فطرت کو اس قسم کی پابندیوں سے محفوظ رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہرچند یہ بار ہے تو عظیم لیکن ایسا نہیں ہے کہ تم اس کو اٹھا نہ سکو۔
ملۃ ابیکم ابراہیم یعنی یہ تمہارے باپ ابراہیم کی ملت ہے تو باپ کی ملت سے زیادہ اولاد کے لئے اور کون سی ملت مطلوب و محبوب ہو سکتی ہے ! یہ امر محلوظ رہے کہ یہاں اصل خطاب بنی اسمعیل سے ہے جو نہ صرف یہ کہ حضرت ابراہیم کی اولاد تھے بلکہ ان کو ان کی اولاد ہونے پر بڑا فخر و ناز بھی تھا۔ ملۃ سے پہلے واتبعوا یا ان کے ہم معنی کوئی فعل بھی محذوف مان سکتے ہیں اور اجتب کم کو کسی ایسے فعل پر متضمن بھی ما نسکتے ہیں جو موقع سے مناسبت رکھنے والا ہو۔ میں نے مائندہ کی آیت 2 ورضیتکم الاسلام دیناً کو پیش نظر رکھ کر تضمین مانی ہے اور تجمہ میں اسی کا لحاظ رکھا ہے۔
حضرت ابراہیم کی دعا کی طرف اشارہ
ھو سمکم المسلمین، من قبل وفی ھذا یہ اس دین کے ملت ابراہیم ہن ی کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ ہی جنہوں نے تمہارا نام اس سے پہلے مسلم رکھا اور پھر وہی نام تمہارے لئے اس دین میں بھی اختیار کیا گیا۔ بعض لوگوں نے ھم کا مرجع اللہ تعالیٰ کو مانا ہے لیکن میرے نزدیک یہ حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو بقرہ میں یوں وارد ہے۔ ربنا واجعلنا مسلمین لک ومن ذریتنا امۃ مسلمۃ لک 129 (اے ہمارے رب) تو ہم دونوں کو مسلم بنا اور ہماری ذریت میں سے ایک امت مسلمہ برپا کر) مقصود اس نام اور اس دعا کی طرف اشارہ کرنے سے مسلمانوں کی ہمت افزائی ہے کہ تم اپنے باپ ابراہیم ؑ کی اس دعا کے مظہر ہو، اپنی اس تاریخ کو برابر یاد رکھو ! اس سے یہ غلط فہمی کسی کو نہ ہو کہ اسلام یا مسلم کا لفظ سب سے اول حضرت ابراہیم ؑ ہی نے استعمال فرمایا ! تو تمام کائنات کی فطرت ہے۔ ولہ اسلم من فی السموت والارض (آل عمران 82) اور تمام انبیاء کا دین ہمیشہ سے یہی رہا ہے۔ البتہ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کی ذریت سے ایک امت کے پیدا ہونے کے دعا فرمائی تھی اور اس کا نام انہوں نے پہلے ہی سے امت مسلمہ رکھا تھا چناچہ جب اس امت کا ظہور ہا تو اللہ تعالیٰ نے اسی نام سے اس امت کو موسوم فرمایا۔
لیکون الرسول شھیدا علیکم وتکونوا شھدآء علی الناس بعینیہ یہی مضمون بقرہ آیت 142 میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے۔ وکذلک جعلنکم امۃ وسطاً تشکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیداً (اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک ایسی امت بنایا جو وسط شاہراہ پر قائم ہے تاکہ تم لوگوں پر اللہ کے دین کی گواہی دینے والے بنو اور رسول تم پر اللہ کے دین کی گواہی دے) یہ اس انتخاب کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ نے تمہارا انتخاب سب کو معزول کر کے اس لئے فرمایا ہے کہ جس طرح اللہ کا رسول تم پر اللہ کے دین کی گواہی دے اسی طرح اب تم قیامت تک خلق پر اللہ کے دین کی گواہی دینے والے بنو۔ یہی تمہارے وجود کا قمصد اور تمہارے اصطفاء و اجتباء کی غایت ہے۔ اس شادت کے مقتضیات پر ہم بقرہ 143 کے تحت گفتگو کرچکے ہیں۔
نماز اور زواۃ کی ہدایت شہادت علی الناس کی ذمہ داری کے پہلو سے
فاقیموا الصلوۃ و اتوا الزکوۃ واعتصموا باللہ ط ھومولکم فنعم المولی ونعم النصیر اوپر والی آیت میں نماز ہی سے بات کا آغاز ہوا تھا اور اس کا پہلو ہم واضح کرچکے ہیں۔ اب یہ نماز اور زکواۃ کے اہتمام کی ہدایت ہی پر سورة ختم ہو رہی ہے۔ یہاں نماز و زکوۃ کے اس اہتمام کی ہدایت شہادت علی الناس کی اس ذمہ داری کے پہلو سے ہے جو اس امت پر ڈالی گئی ہے۔ انہی دوستونوں پر جاسہ کہ تفسیر سورة بقرہ فعل 29 میں واضح کرچکے ہیں، پورے دین کی عمارت قائم ہے اس وجہ سے جب تک ان کا اہتمام باقی رہے گا دین باقی رہے گا۔ اگر ان کا اہتمام ختم ہوجائے گا تو دین بھی منہدم ہوجائے گا۔
شہادت حق کی راہ کا بدرقہ
واعتصموا باللہ اور واعتصموا بحبل اللہ کے مفہوم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ ان مشکلات کا مداوا بتایا گیا ہے جو شہادت حق کی راہ میں پیش آئیں گی۔ فرمایا کہ پورے عزم و جزم کے ساتھ اپنے موقف پر ڈٹے رہو، اپنے رب کو یاد رکھو، اس کی کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور اس کی مدد و نصرت پر پورا بھروسہ رکھو، وہ بہترین مرجع اور بہترین مددگار ہے ! !
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ واخردعمانا ان الحمد للہ رب العلمین