Ayah 23:1قد افلح المومنون (1)
اہل ایمان کو فلاح دنیا و آخرت کی بشارت
لفظ مومنون ہرچند عام ہے لیکن یہاں اس کے مصداق اول وہی اہل ایمان ہیں جو اس دور میں حق کی خاطر ہجرت اور جہاد کی بازیاں کھیل رہے تھے۔ فرمایا کہ وہ فائز المراج ہوئے۔ یہ بشارت ہے تو مستقبل یس متعلق لیکن اس کو تعبیر ماضی کے صیغے سے فرمایا یہ جس سے مقصود اس کی قطعیت کا اظہار ہے اس لئے کہ جب اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک بات کا فیصلہ ہوچکا تو گویا وہ بات واقع ہوچکی۔ یہاں جس فالح کی بشارت اس کا حقیقی ثمرہ تو فلاح آخرت ہے۔ وہی اصل چیز ہے اور اہل ایمان کا نصب العین ہمیشہ وہی ہوتی ہے لیکن اس کے اندر تمکن فی الارض کی وہ بشارت بھی مضمر ہے جو پچھلی سورة میں دی گئی ہے۔ لیکن اس کا ذکر چونکہ پچھلی سورة میں وضاحت سے ہوچکا ہے اس وجہ سے اس سورة میں اصل انعام … فردوس … کا ذکر ہوا۔ دوسری چیزیں اس کے تحت خود بخود آگئیں۔
Ayah 23:2الذین ھم فی صلاتھم خشعون (2)
روح نماز کی طرف اشارہ
خشوع کے معنی عاجزی، تذلل، نیاز مندی اور فروتنی کے ہیں۔ یہ لفظ مختلف شکلوں میں قرآن میں استعمال ہوا ہے۔ خشعت الاصوات، اور قخشع قلوبھم وغیرہ کے استعملا ات سے لفظ کی اصل روح پر روشنی پڑتی ہے اس وج ہ سے جن لوگوں نے اس کے معنی مجرد سکون کے لئے ہیں ہمارے نزدیک ان کی رائے صححی نہیں ہے۔ یہ اس نماز کی اصل روح کی طرف اشارہ ہے جس پر مذکورہ فلاح کا انحصار ہے۔ مطلب یہ ہے کہ رب کے آگے آدمی کی کمر اور اس کا سر ہی نہ جھکے بلکہ اس کا دل بھی سرفگندہ ہوجائے۔ ان اہل ایمان کی کیفیت یہی ہے کہ نمازوں میں ان کے قیام، ان کی ہئیت ان کی آواز اور ان کے رکع و سجود ایک ایک چیز سے ان کے دل کے خشوع کی شہادت ملتی ہے یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ پچھلی سورة کی آخری آیت میں اقامۃ صلوۃ کی ہدایت ہوئی تھی جو نماز کی ظاہری اہتمام و التزام کی تعبیر ہے۔ اس سورة میں نماز کی اصل روح کا ذکر ہوا اور وہ بھی اس حیثیت سے کہ یہ اہل ایمان کی صفت ہے جن کو فلاح کی یہ بشارت دی جا رہی ہے۔
Ayah 23:3والذین ھم عن اللغومعرضون (3)
زندگی پر نماز کا اثر
یہ زندگی پر نماز کا اثر بیان ہا ہے۔ لغو سے مراد ہر وہ قول و فعل ہے جو زندگی کے اصل مقصود … رضائے الٰہی … سے غافل رنے والا ہو۔ قطع نظر اس سے کہ وہ مباح ہے یا غیر مباح۔ جس نماز کے اندر خشوع ہو اس کا اثر زندگی پر لازماً یہ پڑتا ہے کہ فضول، غیر ضروری، لا یعنی بےمقصد چیزوں سے آدمی احتراز کرنے لگتا ہے۔ اس کو ہر وقت یہ فکر دامن گیر رہتی ہے کہ اگر میں نے کوئی فضول قسم کی حرکت کی تو اپنے عالم الغیب مالک کو ایک روز منہ دکھانا ہے اور اس چیز کی شب و روز میں کم از کم پانچ بار اس کی یاد دہانی ہوتی رہتی ہے۔ ظاہر ہے کہ جس شحص کا ضمیر اتنا بیدار اور حساس ہو کہ ہر غیر ضروری حرکت سے اس کی طبیعت انضباض محسوس کرے وہ کسی بڑی بےحیائی اور برائی کا مرتکب کبھی مشکل ہی سے ہوگا۔ نماز کا زندگی پر یہی اثر سورة عنکبوت میں یوں بیان ہوا ہے۔ ان الصلوۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر (45) (نماز بےحیائی اور ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے) روکنے کا مطلب یہی ہے کہ وہ ایک نہایت ہی موثر واعظ و زاجر ہے جو شب و روز میں پانچ مرتبہ انسان کو تذکیر کرتی رہتی ہے کہ دربار الٰہی کے شایان شان اعمال و کردار کیا ہیں اور انسان کو کہاں جانا ہے اور اس کے لئے اس کو کیا تیاریاں کرنی چاہئیں اور اپنے آپ کو کس سانچے میں ڈھالنا چاہئے۔
آیت کا اصل مفہوم تو یہی ہے لیکن موقع کلام ایک اور ضمنی مفہوم کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے۔ وہ یہ کہ اس میں مخلافین کی ان خرافات پر ایک تعریض بھی ہے جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر وقت بکتے رہتے تھے۔ یہ مفہوم سورة قصص کی اس آیت سے نکل رہا ہے۔
فاذا سمعوا اللغوا اعرضوا عنہ وقالوا لنا اعمالنا و لکم اعمالکم (قصص : 55)
اور جب وہ کوئی فضول بکواس سنتے ہیں تو اس سے اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے ساتھ تمہارے اعمال۔
یہی مضمون دور سے مقام میں واذا امروا باللفو مروا کراماً (فرقان :72) کے الفاظ سے ادا ہوا ہے۔ ان آیات کی روشنی میں زیر بحث آیت سے یہ مفہوم بھی نکلات ہے کہ اللہ کے یہ بندے مخالفین کی ژاژ خائیوں میں اپنا وقت برباد کرنے کے بجائے اپنے رب کے ذکر اور اس کی آیات کے فکر میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔
Ayah 23:4والذین ھم للزکوۃ فعلون (4)
نماز کے بعد دین کا دوسرا ستون زکواۃ ہے
نماز کے بعد دین کا دورسا سوتن جیسا کہ ہم اس کتاب میں وضاحت سے بیان کرچکے ہیں، زکوۃ ہے سورة مریم اور سورة انبیاء میں آپ تفصیل سے پڑھ آئے ہیں کہ ہر نبی کے باب میں یہ بات وارد ہوئی ہے کہ کان یامراھلہ باللوۃ والزکوۃ (وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوۃ کی تعلیم دیتا تھا) اس زکوۃ کی قانونی شکل ہر دین میں کچھ مختلف رہی ہے لیکن انفاق فی سبیل اللہ کی تعبیر کے لئے یہ ایک جامع اور معروف لفظ ہے اور اس کی حیثیت دین میں نماز کے مثنیٰ اور اس کے مظہر اول کی ہے۔ نماز بندے کو خالق سے جوڑتی ہے اور زکوۃ بندے کو بندوں کے ساتھ مربوط کرتی ہے اور جو بندہ خلق اور خالق دونوں سے صحیح بنیاد پر مربوط ہوجائے درحقیقت وہی بندہ دیا اور آخرت دونوں کی فلاح کا سزا وار ہے۔ اگرچہ یہ سورة مکی ہے اور اسلام میں باقاعدہ اصطلاحی زکواۃ کا نظام بعد میں قائم ہوا لیکن یہ لفظ مصطلحہ شرعی زکوۃ کے مفہوم میں نہیں بلکہ انفاق کے مفہوم میں ہے۔ جن لوگوں نے اس کو مصدری معنی یعنی تزکیہ کے مفہم میں لیا ہے، ان کی رائے ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ یہ لفظ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، کی سورتوں میں بھی نماز کے ساتھ بار بار آیا ہے اور کہیں بھی اس سے مراد تزکیہ نہیں بلکہ انفاق فی سبیل اللہ ہی ہے جس کے برکات و ثمرتا میں سے تزکیہ بھی ہے۔
نماز اور زکواۃ میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے
فلسفہ دین کے پہلو سے نماز اور زکوۃ ایمان کے دو بازو ہیں اور ان دونوں کے درمیان قدر مشترک خدا کی شکر گزاری ہے۔ یہی شکر گزاری کا جذبہ بندے کو نماز پر ابھارتا ہے جو تمام تر شکر ہے اور یہی شکر گزاری کا جذبہ اللہ کی راہ میں انفاق اور قربانی پر ابھارتا ہے۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ زکوۃ درحقیقت نماز ہی کا ایک مظہر اور پہلو ہے اور دونوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔
پھر نماز کی روح، جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا خشوع اور خشیت بھی ہے، اس پہلو سے یہ ہر برائی اور بےحیائی سے، جیسا کہ سورة عنکبوت کے حوالہ سے اوپر واضح ہوا، روکنے والی چیز ہے۔ چناچہ اوپر بیان ہوا کہ جن کی نمازوں میں خشوع ہوتا ہے وہ منکرات اور لغویات سے احتراز کرتے ہیں۔ اب اسی نماز کے مزید اثرات آگے بیان ہو رہے ہیں۔
Ayahs 23:5–7آیت 7-5
شہوانی خواہشات پر قابو
یعنی یہ لوگ اپنی شہوانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ ان کو صرف وہیں آزادی دیتے ہیں جہاں اس کا حق ان کو حاصل ہے۔ یعنی بیویوں اور لونڈیوں پر 1 یہ نہیں ہوتا کہ شہوات سے اندھے ہو کر بالکل سانڈ بن جائیں اور ہر حرمت پر دست اندازی اپنا حق سمجھ لیں۔ فرمایا کہ اپنے حدود کے اندر یہ چیز مباح ہے۔ اس پر کسی کو ملامت نہیں۔ یعنی کوئی اس کو تقویٰ ، دینداری اور خدا ترسی کے منافی نہ سمجھے جیسا کہ راہبانہ تصورات کے تحت عام طور پر سمجھا یا ہے۔ البتہ وہ لوگ جو اس حد سے آگے بڑھیں گے وہ خدا کے حدود کو توڑنے والے ہیں۔ یہاں صرف ان کے جرم کا ذکر فرمایا، اس کی سزا کا ذکر نہیں فرمایا۔ سزا کا ذکر نہ کرنے میں غصہ اور نفرت کی جو شدت ہے وہ خود واضح ہے۔ ع
خموشی معنی وارد کہ درگفتن نمی آید
یہاں اس امر کو یاد رکھیے کہ موجودہ مغربی اور مغربی زدہ سوسائٹی میں جنسی آزادی پر اگر کوئی قدغن ہے تو صرف اس صورت میں ہے جب جبر واکراہ کی نوبت آئے۔ اگر یہ بات نہ ہو تو پھر ہر ایک کو ہر قسم کی آزادی حاصل ہے۔
1۔ غلاموں اور لونڈیوں کے مسئلہ پر ہم اس کتاب میں پیچھے بھی بحث کرچکے ہیں اور آگے سورة نور کی تفسیر میں بھی اس پر مفصل بحث آرہی ہے۔
Ayah 23:8والذین ھم لامنتھم وعھدھم اعوان (8)
امانت اور عمود کی حفاظت
امانات، سے مراد وہ تمام امانتیں بھی ہیں جو ہمارے رب نے قوتوں اور صلاحیتوں، فرئاض اور ذمہ داریوں کی شکل میں یا انعامات و افضال اور اموال و اولاد کی صورت میں ہمارے حوالہ کی ہیں … اور روہ امانتیں بھی اس میں داخل ہیں جو کسی نے ہمارے پاس محفوظ کی ہوں یا ارزوئے حقوق ان کی ادائیگی کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہو۔ اسی طرح عہد میں وہ تمام عہد و میثاق بھی داخل ہیں جو ہمارے رب نے ہماری فطرت سے عالم غیب میں لئے ہیں یا اپنے نبیوں کے واسطہ سے، اپنی شریعت کی شکل میں، اس دنیا میں، لئے ہیں۔ علی ہذا القیاس وہ تمام عہد و ماثاق بھی اس میں داخل ہیں جو ہم نے اپنی فطرت یا انبیاء کے واسطہ سے اپنے رب سے کئے ہیں ای کسی جماعت یا فرد سے اس دنیا میں کئے ہیں، خواہ وہ قولاً و تحریراً عمل میں آئے ہوں یا ہر شائستہ سوسائٹی میں بغیر کسی تحریر و اقرار کے سمجھے اور مانے جاتے ہوں۔ فرمایا کہ ہمارے یہ بندے ان تمام امانات اور ان تمام عہود و مواثیق کا پاس ولحاظ رکھنے والے ہیں۔ نہ اپنے رب کے معاملہ میں خائن اور غدار ہیں نہ اس کے بندوں کیساتھ بےوفائی اور عہد شکنی کرنے والے ہیں۔
ان دو لفظوں کے اندر وہ تمام شرعی و اخلاقی، قانونی اور عرفی ذمہ داریاں آگئیں جن کا احترام ہر شریعت میں مطلوب رہا ہے۔ یہاں یہ اوپر کی باتوں کے بعد ایک جامع بات کی حیثیت سے مذکور ہوئی ہے اور درحقیقت اسی اجمال کی تفصیل ہے جو پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے۔
حکمت دین کا ایک نکتہ
یہاں حکمت دین کا یہ نکتہ نگاہ میں رہے کہ نماز ہی ان تمام امانات و عہود کی اصل محافظ ہے۔ نماز خود بھی، جیسا کہ تفسیر سورة بقرہ میں ہم واضح کرچکے ہیں، بندے کا اپنے رب کے ساتھ عہد و میثاق ہے جس کی تجدید ہر بندہ مومن دن رات میں کم از کم پانچ مرتبہ کرتا رہتا ہے اور یہ ان تمام عہود و موایں اور امانات و فرائض کی یاد دہانی بھی ہے جن کی ذمہ داری بندے پر عائد ہوتی ہے۔ ان مسائل پر ہم اس کتاب میں بھی موزوں مقامات میں بحث کر رہے ہیں اور خاص نماز کے اسرار و حقائق پر حقیقت نماز کے عنوان سے ہم نے ایک رسالہ بھی لکھا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔
Ayah 23:9والذین ھم علی صلوتھم یحافظون (9)
یہاں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ نماز ہی سے اہل ایمان کی صفات کا ذکر شروع ہوا تھا اور اسی پر آکر ختم ہوا۔ شروع میں نماز کا ذکر اس کی روح یعنی خشوع کے پہلو سے ہوا اور آخر میں اس کی محافظت اس کے رکھ رکھائو اور اس کی دیکھ بھال کے پہلو سے ہوا۔ اس لئے کہ وہ برکات جو نماز کی بیان ہوئی ہیں اسی صورت حال میں حال ہوتی ہیں جب اس کے اندر خشوع کی روح ہو اور اس کی برابر رکھوالی بھی ہوتی رہے۔ یہ باغ جنت کا پودا ہے جو پوری نگہداشت کے بغیر پروان نہیں چڑھتا ذرا غفلت اور ناقدری ہوجائے تو یہ بےثمر ہو کے رہ جاتا ہے۔
بلکہ اس کے بالکل ہی سوکھ جانے کا ڈر پیدا ہوجاتا ہے۔ اگر اس کی حقیقی برکات سے بہرہ مند ہونے کی آرزو ہے تو شیاطین کی تاخت سے اس کو بچایئے اور وقت کی پوری پابندی کے ساتھ آنسوئوں سے اس کو پہنچتے رہیے۔ تب کچھ اندازہ ہوگا کہ رب نے اس کے اندر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے ! !
یہ بات کہ نماز ہی تمام دین کی محفاظ ہے قرآن میں جگہ جگہ بیان ہونی ہے۔ ہم نے دوسرے مقام میں ان تمام مثالوں کا حوالہ دیا ہے۔ یہ دین کی اس حکمت کی طرف اشارہ ہے کہ نماز ہی سے تمام نیکیاں نشو و نما بھی پاتی ہیں اور وہی اپنے حصار میں ان کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ اگر نماز وجود میں نہ آئے تو دوسری نیکیاں بھی وجود میں نہیں آسکتیں، اور اگر نماز ہدم کردی جائے تو دین و اخلاق کا سارا چمن تاراج ہو کر رہ جائے گا۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ جس نے نماز ضائع کردی تو وہ باقی دین کو بدرجہ الولیٰ ضائع کر دے گا۔
Ayahs 23:10–11آیت 11-10
فردوس کی وراثت کے اصلی حقدار
فرمایا کہ یہ لوگ ہیں جو اپنحے باپ کی کھوئی ہوئی جنت کے وارث ہوں گے اور پھر ان کو اس سے نکالے جانے کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا، جیسا کہ آدم کو پیش آیا بلکہ وہ اس میں اپنے باپ کے ساتھ ہمیش رہیں گے اس لئے کہ وہ اس میں اپنے دشمن شیطان کو ہمیشہ کے لئے شکست دے کر داخل ہوں گے۔ فردوس جنت کے اعلیٰ ترین مقامات میں سے ہے اور یہ ان لوگوں کا حصہ ہے جو اس دنیا میں حق کی سربلندی کے لئے سرد ھڑ کی بازیاں لگائیں گے۔
2۔ مجموعہ آیات 1-11 کے مطالب کا خلاصہ
اگرچہ آیات کی وضاحت کرتے ہوئے ہم تمام ضرور باتوں کی طرف اشارہ کرتے آئے ہیں لیکن چونکہ انہی باتوں پر تمام صالح و فلاح کا انحصار ہے اس وجہ سے مناسب ہوگا کہ ان کو از سر نو ذہن میں مستحضر کر لیجیے۔ یہ باتیں اپنی حکیمانہ ترتیب کے ساتھ مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ خدا کے اں تمام صلاح و فلاح کا انحصار اس ایمان پر ہے جو آدمی کے اندر ایک ملکہ راسخہ کی حیثیت حاصل کرے۔ محض اوپری اور ظاہر دارانہ ایمان کی اس کے ہاں کوئی پوچھ نہیں ہے۔
2۔ اس ایمان کا اولین مظہر نماز ہے۔ جس ایمان سے نماز نہ پیدا ہو وہ ایک ٹھونٹھ درخت ہے جو صرف جلانے کے کام آسکتا ہے۔
2۔ نماز کی اصل روح خشوع یعنی دل کی فروتنی ہے۔ اگر نماز اس خشوع سے خالی ہو تو اس کا زندگی پر کوئی مفید اثر نہیں پڑتا۔
4۔ جس نماز میں خشوع کی روح موجود ہو وہ آدمی کو فواحش و منکرات اور لاطائل باتوں سے روک دیتی ہے۔ نماز میں بندے کو خدا کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ اس معیت کا شعور بندے کو ان تمام سفاسف سے دور رکھتا ہے جو اس کے شایان شان نہ ہوں۔
5۔ ایمان کا دوسرا مظہر اور نماز کا دوسرا بازو زکوۃ یعنی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ احکام شریعت میں یہی دو حکم سب سے بڑے ہیں۔ انہی پر تمام شریعت کا مدار ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا ہادم دونوں کا ہادم ہے۔ مانعین زکوۃ کے بارے میں سیدنا ابوبکر نے جو اقدام کیا وہ اسی حکمت دین پر مبنی تھا۔
6۔ اپنے دل اور اپنے مال دونوں پر خدا کی حکمرانی تسلیم کرنے والے کبھی اپنی خواہشوں اور شہوات کی پیروی میں ایسے اندھے نہیں ہوتے کہ خدا کے حدود کو توڑ کر اس کے بندوں کے حقوق اور ناموس پر دست درازی کریں۔
7۔ یہ لوگ تمام امانات اور عہود کا پاس کرتے ہیں خواہ ان کا تعلق خدا سے ہو یا بندوں سے۔
8۔ یہ لوگ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کی نماز ایک شہر پناہ کی طرح ان کے پورے دین کی حفاظت کرتی ہے۔
9۔ جو لوگ انص فات کے حامل ہوں گے وہی خدا کی جنت کے وارث ہوں گے اور یہی اصل کامیابی ہے۔
ان تمام باتوں کی تفصیل اگلی سورة …… سورة نور …… میں آئے گی جو اس سورة کا تکملہ اور تتمہ ہے اس سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ جب انسان کا باطن ایمان کے نور سے منور ہوتا ہے تو اس سے زندگی کے ہر گوشہ میں، خواہ وہ انفرادی ہو یا خاندانی و اجتماعی، کیا نورانیت پیدا ہوتی ہے او اگر اس سے محروم ہو تو اندر اور باہر ہر گوشے میں کس طرح کی تاریکی پھیلتی ہے۔
Ayahs 23:12–14آگے کے مضمون …… آیات 22-12
اوپر اہل ایمان کو جو بشارت دی گئی ہے اگرچہ وہ ایک حقیقت ہے اور اس کے اندر ایمان سے محروم منکرین قرآن کے لئے جو انذار مضمر ہے وہ بھی ایک حقیقت ہے لیکن جو لوگ سرے سے آخرت ہی کے قائل نہ ہوں، مرنحے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو نہایت مستبعد سمجھ رہے ہیں ان پر اس انذار و بشارت کا کیا اثر ہوسکتا تھا وہ ان ساری باتوں کو محض واہمہ کی خلاقی سمجھتے اور ان کا مذاق اڑاتے۔ ان کے اعتراضات کو سامنے رکھ کر آگے، نفس و آفاق کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے وجود کی تشکیل جن مراحل سے گزرتی ہے اگر کوئی اسی پر غور کرے تو اس کو اس بات میں ذرا بھی شبہ نہیں رہ جائے گا کہ جو خدا یہ سب کچھ کرسکتا ہے اس کے لئے کسی چیز کے مر کھپ جانے کے بعد اس کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کچھ مشکل نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے وجود سے باہر اس کائنات پر غور کرے تو اس کو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ اس کا خالق اسکو پیدا کر کے کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے بلکہ وہ نہایت بیداری اور اہتمام، نہایت ہی انعام و اکرام اور نہایت ہی قدرت و شان کے ساتھ اس کی نگہداشت و پرورش فرما رہا ہے۔ تو جب وہ یہ سب کھچ کر رہا ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ لوگوں کو یوں ہی شتر بےمہار بناکر چھوڑے رکھے، نیکوں کو ان کی نیکیوں کا انعام اور بدوں کو ان کے بدیوں کی سزا دینے کے لئے ایک روز جزا و سزا نہ لانے ! یہ دلیل سورة حج کی آیت 5 میں بھی بیان ہوچکی ہے۔ یہاں یہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہے اور اس کے وہ پہلو بھی نمایاں ہوئے ہیں جو وہاں مخفی رہ گئے تھے … اسی روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
آیت 14-12
انسان کا اپنا وجود خدا اور آخرت کا شاہد ہے
انسان کی خلقت کے ان تدریجی مراحل کا بیان، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سورة حج میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں اس کی تمہید ان کنتم فی ریب من البعمث سے اٹھائی ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مقصود اس کے بیان سے زندگی بعد الموت کا اثبات ہے نیز وہاں اثنائے کلام میں لنبین لکم کے الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں جو اس حقیقت کی طرف توجہ دلا رہے ہیں کہ انسان کی خلقت کے لئے اللہ تعالیٰ نے تدریج و ترقی کا یہ اہتمام اس لئے فرمایا کہ ہر انسان کا اپنا وجود خدا کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی پروردگاری کا ایسا نشان ہو کہ آخرت کے باب میں اس کو کسی خارجی دلیل کی ضرورت باقی نہ رہے۔ سورة حج میں اس آیت کے الفاظ کی بھی تحقیق گزر چکی ہے اور اس کا مدعا بھی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ یہاں اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔ جہاں تک انسان کی خلقت کا تعلق ہے یہ تمام مراحل بالکل معلوم و معروف ہیں۔ جدید سائنس نے اس کے بعد ایسے گوشے بھی بےنقاب کردیئے ہیں جن کی طرف قرآن نے صرف اشارہ کر کے چھوڑ دیا تھا کہ انسان کے علم میں جتنا ہی اضافہ ہوتا جائے گا اتنے ہی اس کے اسرار کھلتے جائیں گے۔ اس نوع کی بعض باتوں کی طرف ہم پیچھے اس کتاب میں اشارہ کر آئے ہیں۔ غرض یہ راز تو سب کو معلوم ہے کہ مٹی کے جوہر سے وجود میں آنے والی پانی کی ایک بوند ہے جس کو قدرت پر ورش کر کے درجہ بدرجہ اس طرح پروان چڑھاتی ہے کہ بالآخر وہ سقراط و بقراط اور ارسطو و جالینوس کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ آپ سے آپ ہو رہا ہے ؟ کیا یہ ساری تدریج و تکمیل اور ساری تربیت و نگہدشات محض اندھے بہرے مادے کی کار فرمائی ہے ؟ کیا یہ تمام قدرت و حکمت اور تمام ربوبیت ورافت بالکل بےمقصد وغایت ایک کھل ہے جس کے پیچھے کوئی نتیجہ اور انجام نہیں ہے ؟ کیا جو پانی کی ایک بوند کو، آدمی بنا سکتا ہے، وہ اس آدمی کو مر نے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کرسکتا ؟ یہی سوالات ہیں جن کے جواب میں نادانوں کے، اگرچہ وہ فلسفی اور سائنسدان کے معزز ناموں ہی سے موسوم ہوں، اختلاف کیا ہے۔ قرآن نے انیے سوالوں کے جواب کے لئے انسان کو خود اس کے وجود کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ان کے جواب کے لئے دور جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ خود اپنے وجود کے مراحل پر غور کرو، ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔
ثم انشانہ خلقا اخر میں اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ کہاں پانی کی ایک بوند اور کہاں ایک بھلا چنگا، عاقل و بالغ انسان، دونوں میں کیا نسبت ہے ! لیکن ہر انسان کے وجود میں قدرت کا یہ کرشمہ موجود ہے تو جس قدرت کا یہ کرشمہ ہر وجود میں مشاہدہ کرتے ہو اس سے یہ کیوں بعید سمجھتے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرنے کیا وہ کام اس سے زیادہ مشکل ہے !
فتبرک اللہ احسن الخلقین یہ وہ تاثر اور نتیجہ بیان ہوا ہے جو انسان کی خلقت کے ان تمام مراحل پر غور کرنے کے سامنے آنا چاہئے کہ اللہ جس نے ایک ایک وجود کے اندر اپنی یہ شانیں اور حکمتیں اور یہ عنایتیں اور برکتیں ظاہر فرمائی ہیں، بڑی ہی بابرکت اور بافیض ہستی ہے کہ اس نے ذلیل پانی کی ایک بوند کو رحم مادر کے صدف میں پرورش کر کے ایک گوہر آبدار بنا کر نکالا اور اس کے اندر ایسی اعلیٰ صلاحیتیں ودیعت فرمائیں کہ وہ فرشتوں کا مسجود اور زمین میں خدا کی خلافت کا اہل ٹھہرا۔ مطلب یہ ہے کہ ان چیزوں پر غور کرنے سے آدمی کے اندر صرف خدا کا اقرار ہی نہیں پیدا ہوتا بلکہ اس کے بےپایاں فیض و جود والی ہستی اور اس کے نہایت حکیم و قدیر اور نہایت اعلیٰ و برتر خالق ہونے کا یقین پیدا ہوتا ہے۔ یہاں عربی زبان کے اسلوب کو بھی یاد رکھیے کہ افضل کا صیغہ بالخصوص جب کہ وہ جمع کی طرف مضاف ہو بسا اوقات تفصیل و ترجیح کے مفہوم سے ممجرد ہو کر محض اعلیٰ مرتبہ صفت کے اظہار کے لئے آتا ہے۔ اس وجہ سے احسن الخلقین کے معنی ہوں گے کہ وہ صرف خالق ہی نہیں بلکہ بہترین خالق ہے۔ اس نے انسان کو جیسا تیسا پیدا ہی نہیں کردیا ہے بلکہ بہترین ساخت اور بہترین صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ بعض لوگوں نے اس اسلوب سے ناواقفیت کے باعث لفظ خالق کا مفہوم بدل دیا ہے حالانکہ اس قسم کے کسی تصرف کی ضرورت نہیں ہے۔ مقصود یہاں یہ ظاہر کرنا ہے کہ انسان کی خلقت خود اس بات کی شاہد ہے کہ وہ کسی اندھے بہرے مادے، یا کسی محرک اول یا علتہ العل کی ایجاد نہیں ہے اور نہ اس کا ارتقاء آپ سے آپ ہوا یا ہو رہا ہے بلکہ وہ سراپا خیر و برکت ہستی خدائے جو ادوکریم کا پیدا کیا ہوا ہے جو بہترین خالق ہے۔
Ayahs 23:15–17آیت 16-15
یہ وہ اصل نتیجہ ہے جس کو سامنے لانے کے لئے اوپر کے تمام مراحل خلقت بیان ہوئے ہیں کہ ان مراحل سے گزرنے کے بعد لازماً ایک دن آتا ہے کہ تم مرتے ہو اور کسی کے لئے بھی اس موت سے مفر نہیں ہے۔ پھر قیامت کا دن آئے گا اور اس دن تم لازماً اٹھائے جائو گے۔ اس اٹھائے جانے کو مستبعد سمجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے جس خدا کی یہ شانیں تم خود اپنے وجود کے اندر مشاہدہ کرتے ہو اس کے لئے مت ہیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے !
ولقد خلقنا فوتکم سبع طرآئق وما کا عن الخق غصلین (17)
طرایق کا مفہوم
طرایق طریقۃ کی جمع ہے طرایق اسرۃ یعنی دھاریوں کے معنی میں آتا ہے، یہاں صفت بول کر موصوف کو مراد لیا ہے جو عربی زبان میں مصروف ہے۔ یعنی دھاریوں والے سات آسمان یہاں اس لفظ سے آسمان کی رنگا رنگی و بوقلمونی کی طرف بھی اشارہ ہو رہا۔ اور اس بارش کی طرف بھی جس کا ذکر آگے نہایت اہتمام سے آ رہا ہے۔
کنا یہاں بیان شان کے لئے ہے جس طرح کان اللہ علمیاً حکیماً میں ہے۔ یعنی ہم اپنی مخلوق کو پیدا کر کے اس سے غافل نہیں ہو بیٹھے بلکہ برابر نہایت اہتمام کے ساتھ اس کی پر وشر اور دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
اہتمام ربونیت کیوں ہے !
اوپر کی آیات میں انسان کی خلقت کا بیان ہوا اور مقصود امکان معاد کی طرف توجہ دلانا ہے۔ اب یہ ربوبیت کے اہتمام و انتظام کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ خدا اس دنیا کو پیدا کر کے اس کے خیر و شر سے بےتعلق ہو کر نہیں بیٹھا ہے بلکہ وہ برابر اس کی پرورش و پر واخت فرما رہا ہے۔ اس نے رنگا رنگ سات آسمان بنانے اور وہ آسمان سے پانی برساتا اور اپنی مخلوق کی پرورش کا برابر سامان کر رہا ہے۔
Ayah 23:18پانی ہی سے تمام زمین کی زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ آسمان سے نازل فرماتا ہے اور یہ اس کی رحمت و برادیت ہی ہے کہ وہ اس کو ایک خاص اندازہ اور مقدار کے ساتھ اتارتا ہے ورنہ اگر وہ اس کے دہانے ایک مرتبہ کھول دے تو کوئی اس کو بند کرنے پر قادر نہیں اور یہی پانی رحمت و برکت ہونے کے بجائے طوفان نوح کی طرف عذاب و نقمت بن جائے۔ پھر یہ اس کی رحمت و ربوبیت ہی ہے کہ وہ اس پانی کو زمین میں ٹکا دیتا ہے، جو ایک ذخیرے اور محفوظ خزانے کی طرح تمام مخلوقات کے کام آتا ہے۔ اگر خدا چاہتا تو وہ اس سارے پانی کو غائب کردیتا۔ اس کی ایک بوند بھی اس زمین میں نہ ٹک سکتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک ہی ارادہ ہے جو آسمانوں اور زمین دونوں میں کار فرما ہے۔ اگر ان میں الگ الگ ارادے کار فرما ہوتے تو آسمان کے کار فرمائوں کو کیا پڑی تھی کہ وہ زمین والوں کے لئے ان کی ضرورت کے مطابق ناپ تول کر پانی برساتے اور اس کی بھی فکر رکھتے کہ پانی کا ذخیرہ زمین میں ضرورت کے اوقات کے لئے محفوظ بھی رہے۔ پھر یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جس ذات واحد کے ارداے سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے وہ نہایت مہربان و کریم ہستی ہے جو نہایت اہتمام کے ساتھ اس دنیا کی پرورش کر رہی ہے۔
Ayah 23:19تاکلون کا قرینہ دلیل ہے کہ فواکہ کثیرۃ کے بعد تتقکھون یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف مانا جائے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
یعنی اسی پانی سے اللہ نے تمہارے لئے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے جن میں تمہارے لئے اور بھی بہت سے پھل پیدا ہوتے ہیں جن سے تم لذت اندوز ہوتے اور انہی باغوں سے تم اپنے لئے غذائی اجناس بھی حاصل کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تمہارے لئے صرف زندہ رہنے کا سامان ہی نہیں پیدا کیا بلکہ تمہارے کام و دہن کیضیافت کا سامان بھی مہیا فرمایا۔ جینے کو تو انسان صرف روٹی سے بھی جی سکتا ہے لیکن رب کریم نے تمہارے آگے قسم قسم کے میوے اور پھل بھی چن دیئے۔ اہل عرب کے ہاں ایک اچھے باغ کا تصور، جیسا کہ سورة کہف کی آیت 32 میں مذکور ہے یہ ہے کہ انگوروں کا باغ ہو اس کے کنارے کنارے کھجوروں کی باڑھ ہو اور بیچ بیچ میں مختلف اجناس اور دوسرے موسمی پھلوں کے قطعات ہوں۔ ان کے ہاں اصل پھل کی حیثیت تو کجھور اور انگور ہی کو حاصل تھی لیکن دوسرے پھل اور بعض غذائی اجناس بھی پیدا ہوتیں۔ انہی کی طرف قوا کہ کثیرۃ اور منھا تاکلون کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔
Ayah 23:20شجرۃ سے مراد زیتون کے درخت ہیں۔ اگرچہ اس کا نام نہیں لای ہے لیکن جو صفات اس کی بیان فرمائی ہیں وہ خود پتہ دے رہی ہیں کہ اس سے مراد زیتون ہی ہے۔ طور سینا اس کی پدیاوار کا خاص علاقہ تھا۔ اس کا روغن اہل عرب میں بہت مقبول تھا اور اہل کتاب کے ہاں تو اس کو صرف غذائی روغن ہی کا نہیں بلکہ ایک قسم کے مذہبی تقدس کا بھی درجہ حاصل تھا۔ صبغ کے معنی سالن کے ہیں۔ یہ مکھن کی طرح ایک لذیذ اور مقوی سالن بھی تھا۔ یہاں اس کی تنکیر اس کی خوبی پر دلیل ہے۔ یعنی صبغ طیب للاثلین کھانے والوں کے لئے ایک اچھا سالن یہ اس کے دوسرے فوائد کے ساتھ اس کی ایک مزید خوبی کا بیان ہے۔
Ayah 23:21عبرۃ کے معنی، جیسا کہ آل عمران 13 کے تحت واضح ہوچکا ہے، ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک عبور کر جانا اور اس سے سبق حاصل کرنا ہے۔ اس کی تنکیر تضخیم شان کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اوپر جو چیزیں مذکور ہوئیں ان میں جو درس عبرت و موعظت ہے وہ تو ہے ہی اگر تم غور کرو تو تمہارے لئے تمہارے چوپایوں کے اندر بھی بڑا سبق موجود ہے۔
نسقیکم کا دوسرا مفعول یہاں ظاہر نہیں فرمایا ہے۔ دوسری جگہ اس کو لبناً خالصاً سائف لشاربین (نحل 66) کے الفاظ سے ظاہر فرما دیا ہے۔ اسی طرح مما فی بطونھا یہاں مجمل سے دوسری جگہ اس کی وضاحت من بین فرث ودم (نحل 66) کے الفاظ سے ہوئی ہے۔ اگر ان محذوفات کو کھول دیجیے تو مطلب یہ ہوگا کہ ہم ان چوپایوں کے پیٹ کے اندر کے گوبر اور خون کے درمیان سے تم کو بالکل بےآمیز اور خوشگوار دودھ پلاتے ہیں۔
ولکم فیھا منافع کثیرۃ ومنھا تاکلون ان کے خاص فائدے کے ساتھ ساتھ یہ ان کے دوسرے فوائد و منافع یکط رف بھی توجہ دلا دی کہ ان کا دودھ ہی نہیں بلکہ ان کی ایک ایک چیز تمہارے لئے نفع رساں ہے۔ یہ تمہاری وساری اور بار برداری کے کام آتے ہیں، تمہاری کاشت کاری میں یہ معین ہیں۔ ان کا گوشت، چمڑا اور ان کے اون ہر چیز تمہارے لئے کار آمد ہے۔ یہاں تک کہ ان کا گوبر بھی تمہارے کھیتوں کے لئے کھاد کا کام دیتا ہے اور یہ تمہارے لئے غذائی ذخیرہ کی حیثیت بھی رکھتے ہیں تم ان کا ترو تازہ گوشت بھی کھاتے ہو اور ان کا گوشت خشک کر کے اپنی سفری ضروریات کے لئے بھی محفوظ کرلیتے ہو اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جن کی اصلی اہمیت ان کی غذای پہلوہی سے ہے۔
Ayah 23:22وعلیھا وعلی الفلک تحملون 22
تحملون کے اندر سواری اور باربرداری دونوں چیزیں شامل ہیں اور اہل عرب کی زندگی چونکہ عام طور پر خانہ بدو کی تھی، موسموں کے ساتھ برابر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے اس وجہ سے ان کے لئے یہ دونوں ہی مسئلے بڑی اہمیت رکھنے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ضرورت کے لئے اونٹ پیدا کیا جو ان کے صحرا کا سفینہ ہے۔ چناچہ اس کا ذکر اور کشتی کا ذکر ساتھ ساتھ فرمایا کہ ہم نے تمہارے صحرا کے لئے بھی کشتی کا انتظام کیا اور سمندر کے لئے بھی۔
اصل حقیقت کی طرف اشارہ
یہاں اصل حقیقت پر نگاہ رہے کہ مقصود ان چیزوں کے ذکر سے درس عبرت ہے کہ کیا جس رب نے ہماری ایک ایک ضرورت کا اس جز رسی کے اہتمام فرمایا ہے اس کے بارے میں یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ ہم کو پیدا کر کے بالکل بےتعلق ہو کر بیٹھ رہا ہے ؟ کیا اس کی یہ ربوبیت ہمارے اوپر کوئی حق اور ذمہ داری عائد نہیں کرتی ؟ اور کیا اس کا لازمی تقاضا یہ نہیں ہے کہ وہ ایک ایسا دن لائے جس میں ان ذمہ داریوں سے متعلق ہم سے پرسش ہو جنہوں نے ان کا حق ادا کیا ہو وہ انعام پائیں، جنہوں نے اس دنیا کو ایک بازیچہ اطفال سمجھ کر ساری زندگی بطالت میں گزاری ہو وہ اس کی سزا بھگتیں ! ظاہر ہے کہ عقل و فطرت کی شہادت اسی دور سے پہلو کے حق میں ہے۔ جو لوگ کریم کے دروازے سے سب کچھ پا کر اس کا حق نہیں پہچانتے یا اس کے ماسوا دوسروں کے گن گاتے ہیں وہ نعیم اور ناشکرے ہیں اور لازم ہے کہ وہ اپنی اس ناشکری کا انجام دیکیں۔
Ayah 23:23آگے کا مضمون …… آیات 50-23
آگے حضرت انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مکذبین کی تاریخ کا اجمالی حوالہ ہے اور مقصود اس سے تاریخ کی روشنی میں اس حقیقت کو واضح کرنا ہے جو یہاں زیر بحث ہے۔ یعنی اہل ایمان کی فلاح اور حق کی تکذیب کرنے والوں کو اس ضمن میں سنت الٰہی کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام ہے تو بہرحال ابدی خسران لیکن اللہ تعالیٰ اس دنیا میں اہل حق کی بھی آزمائش کرتا ہے۔ اس آزمائش کے تقاضے سے اہل باطل کو بھی کچھ عرصہ ڈھیل دی جاتی ہے۔ وہ اس ڈھیل کو اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں حالانکہ یہ چیز ان کی کامیابی نہیں بلکہ ان کے لئے موت کا پھندا بنتی ہے۔
انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مکذبین کا حوالہ پچھلی سورة کی آیات 45-42 میں بھی گزر چکا ہے لیکن بہت اجمال کے ساتھ۔ اس میں فی الجملہ تفصیل ہے لیکن نام کے ساتھ ذکر انبیائے اولین میں سے صرف حضرت نوح کا اور آخری انبیاء میں سے حضرت موسیٰ حضرت ہارون اور حضرت مسحی (علیہم السلام) کا ہے۔ بقیہ انبیاء کا نام لئے بغیر صرف ان کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
ایک حسین گریز
یہاں ایک نہایت ہی حسین وبلیغ تخلیص ہے جس کو ہماری شاعری کی اصطلاح میں گریز کہتے ہیں اوپر ربوبیت کے شواہد سے جزا و سزا پر جو استدلال کیا ہے وہ وعلیھا وعلی الفلک تحملون (اور تم ان چوپایوں اور کشتیوں پر سوار کئے جاتے ہو) پر ختم ہوا ہے۔ اب آگے جب تاریخی شواہد کا سلسلہ شروع ہوا تو سب سے پہلے حضرت نوح کے واقعہ کو لیا جو تاریخی تقدم کے اعتبار سے بھی رسولوں کی سرگزشت کا سرنامہ ہے اور خاص طور پر کشتی ہی کو ان کی اور ان کے ساتھیوں کی نجات کا اللہ تعالیٰ نے ذریعہ بنایا۔ کشتی کے ذکر کے بعد اس کشتی والے واقعہ کا ذکر اس طرح آگیا ہے گویا بات میں سے بات پیدا ہوگئی ہے۔
حضرت نوح کی سرگزشت ایک خاص پہلو سے
تورات اور قرآن دونوں میں رسولوں کی تاریخ کا آغاز حضرت نوح ہی سے ہوتا ہے۔ آپ کی سرگزشت کے مختلف پہلو پچھلی سورتوں میں بیان ہوچکے ہیں۔ یہاں جس مقصد سے یہ سرگزشت بیان ہو رہی ہے وہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ ہے کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا اس دنیا کو پیدا کر کے اس سے بےتعلق ہو بیٹھا ہے وہ خدا کو بالکل غلط سمجھے ہیں۔ خدا نے ہمیشہ اس کی مادی پرورش کا بھی انتظام فرمایا ہے اور اس کی روحانی و اخلاقی اصلاح کے لئے اپنے رسول بھی بھیجے۔ جن لوگوں نے ان رسولوں کی تکذیب کی خدا نے اتمام حجت کے بعد، ان کو ہلاک کردیا اور جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ان کو نجات و فلاح بخشی۔ اس دنیا کے ساتھ خدا کا یہ معاملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بالآخر وہ ایک ایسا دن بھی لائے گا جس میں وہ نیکو کاروں اور بدکاروں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گا اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزا یا سزا دے گا۔
افلاتتقون کے بعد اس کا مفعول مخذوف ہے۔ یعنی کیا تم لوگ خدا کے قہر و غضب سے ڈرتے نہیں کہ اس کی خدائی میں دوسروں کو شریک کر کے ان کی بندگی کرتے ہو۔ یہ تو کھلی ہوئی بغاوت ہے جس پر ہر لمحہ تم اس کے عذاب کے سزاوار ہو۔
Ayah 23:24قوم کے لیڈروں کی طرف سے حضرت نوح کی مخالفت
ملاً سے مراد، جیسا کہ ہم بقرہ 246 کے تحت وضاحت کرچکے ہیں قوم کے اعیان، سردار اور لیڈر ہیں۔ دعوت حق کی مخالفت میں پیش پیش ہمیشہ یہی ہوئے ہیں اس لئے کہ اپنے وقت کے نظام باطل کے سربراہ ہونے کے سبب سے رسول کی کامیابی وہ اپنی موت سمجھتے ہیں۔ چناچہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ رسول کی دعوت سلیم الفطرت لوگوں پر اثر انداز ہو رہی ہے تو وہ اس کے اثر کو مٹان یکے لئے طرح طرح کی سخن سازیاں کرتے اور اپنے عوام کو اپنی مٹھی میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے وہ اس کی نیت و صداقت پر حملہ کرتے ہیں کہ اس شخص کا یہ دعویٰ کہ یہ خدا کا فرستادہ ہے محض جھوٹ اور افتراء ہے ! یہ جھوٹ محض اس لئے اس نے گھڑا ہے کہ تمہارے اوپر اپنے خدائی فرستادہ ہونے کی دھونس جما کر تمہارا لیڈر بن جائے۔ یتفضل علیکم کی بلاغت پر نگاء ہے۔ یہ نہیں کہا کہ ہماری لیڈری چھیننا چاہتا ہے بلکہ یہ کہا کہ تم پر اپنی سیادست قائم کرنا چاتہا ہے۔ اس زہر آلود فقرے میں سادہ لوح عوام کو بھڑکانے کے لئے جو مواد موجود ہے وہ اہل نظر سے مخفی نہیں ہے۔
مخالفت کے لئے بہانہ
ولو شآء اللہ لا نزل ملئکۃ یہ رسول کی تکذیب کے لئے ان لال بجھکڑوں کی عقلی دلیل مذکور ہوئی ہے کہ اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ اول تو ہماری رہنمائی کے لئے کسی نبی اور رسول کی کوئی ضرورت نہیں ہے، ہم خود اپنی رہنمائی کے لئے کافی ہیں اور اگر بالفرض خدا کسی کو نبی اور رسول بنا کر بھیجنے والا ہی ہوتا تو فرشتوں کو اس کار خاص کے لئے منتخب کرتا۔ آخر ہمارے ہی جیسے ایک انسان کو نبی و رسول بنا کر بھیجنے کے کیا معنی !
ماسمعنا بھذا فی ابآئنا الاولین یعنی مزید ستم یہ ہے کہ یہ شخص جو کچھ پیش کرتا ہے تمام تر بدعت و ضلالت اور باپ دادا کے طریقہ کے بالکل خلاف ہے۔ ہم نیح اس قسم کی باتیں اپنے اسلاف کی روایات میں کبھی نہیں سنیں۔ یہی مضمن اسی سورة کی آیت 68 میں یوں بیان ہوا ہے۔ افلم ید برفا القول ام جآء ھم مالم یات ابآء ھم الاولین (کیا انہوں نے کلام پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس ایسی چیز آئی جو ان کے ا گلے آباء و اجداد کے پاس نہیں آئی) سورة قصص میں ہے۔ ماھذا الا سحر مفتری وما سمعنا بھذا فی امآبنا الاولین 36-) (یہ محض ایک جادو ہے جس کو جھوٹ موٹ خدا کی طرف نسبت دی گئی ہے اور اس طرح کی باتیں ہم نے اگلوں میں تو کبھی سنی نہیں) یہی مضمون دوسرے مقام میں اس طرح ہے۔ ماسمعنا بھذا فی الملۃ الاخرۃ (ص 7)
Ayah 23:25رسول پر خلل داغ کا الزام
یعنی ان لیڈروں نے اپنے عوام کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی یہ شخص جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے پاس خدا کی طرف سے کوئی فرشتہ وحی لے کر آتا ہے تو اس سے اس کے رعب میں نہ آئو۔ یہ محض ایک قسم کا خلل دماغ ہے جس کے سبب سے اس کو ایک قسم کا وسوسہ لاحق ہوتا ہے جس کو یہ آسمانی وحی سمجھ بیٹھتا ہے۔ فتربصوا بہ حتی حین یعنی اس شخص کی ان باتوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ یہ مستقبل کے جس عذاب سے تم کو ڈرا رہا ہے اس سے کسی اندیشہ میں مبتلا نہ ہو۔ یہ سب اس کے وساوس ہیں۔ بہت جلد یہ ہوا میں اڑ جائیں گے۔ بالکل اسی قسم کی بات قریش کے لیڈروں نے آنحضرت ﷺ کے متعلق کہی جس کا حوالہ سورة طور میں دیا گیا ہے۔ ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون 30 (کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس کے لئے ہم گردش روزگار کے منتظر ہیں) قریش کا مطلب یہ تھا کہ کوئی ان کے ساحرانہ کلام سے محسور ہو کر اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ ان کی باتوں کی کوئی بنیاد ہے اور اب مستقبل کا فیصلہ ان کے ہاتھ میں ہے یہ محض شاعرانہ خیال آرائی اور چند روز کی گرما گرمی ہے۔ بہت جلد یہ ختم ہوجائے گی۔ جس طرح ہمارے بہت سے شاعر اپنی اپنی بولیاں بول کر اڑ گئے اسی طرح ایک دن یہ بھی اڑ جائیں گے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ وقت کے لیڈر جب کسی شخص کے بارے میں یہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ عوام اسے مستقبل کے ہادی یا نجات دہندہ کی حیثیت سے قبول کر رہے ہیں تو اس سے وہ بہت اندیشہ ناک ہوتے ہیں۔ اس کے متعلق وہ اپنے پیروئوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کا یہ سارا طلسم چند روزہ ہے۔
Ayah 23:26قال رب انصرنی بما کذبون (26)
وعدہ عذاب کے ظہور کے لئے حضرت نوح کی دعا
یعنی جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا، حضرت نوح نے یہ دعا کی کہ اے رب ! اب تو میرے اور میری قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے اور اس وعدہ عذاب کو پورا کر کے میری مدد فرما جس سے میں نے ان کو شب و روز ڈرایا لیکن انہوں نے میری سنی ان سنی کردی اور اس عذاب کے بارے میں جھٹلا دیا۔ حضرت نوح کی اس دعا کا ذکر، تفصیل کے ساتھ سورة نوح میں آئے گا۔ یہاں اس دعا کے معاً بعد، آگے والی آیت میں، حضرت نوح کی کشتی بنانے اور عذاب سے بچنے کے لئے تبادلوں کی ہدایت ہوئی جو اس بات کا واضح قرینہ ہے کہ حضرت نوح کی یہ دعا اسی وعدہ عذاب کے ظہور کے لئے تھی۔ آگے اس سلسلہ میں دوسرے انبیاء کی زبانی بھی یہی دعا منقول ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 29 اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ اطمینان دلایا گیا کہ قال عما قلیل لیصبحن ندمین فاخذتھم الصیحتہ (ارساد ہوا کہ بہت جلد یہ اپنی کرتوت پر پچھتائیں گے تو خدا کی ڈانٹ نے ان کو آدبوچا) یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ حضرات انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے مخالفین کی کشمکش میں آخری مرحلہ ہمیشہ یہی پیش آیا ہے کہ جس عذاب سے انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا قوم کے سرکشوں نے اسی عذاب کا مطالبہ کیا اور جب اللہ تعالیٰ کی سنت امہال کے تحت اس میں تاخیر ہوئی تو مکذبین نے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ یہ اعلان کردیا کہ چونکہ تم وہ عذاب نہیں لا سکے جس کی دھمکی رات دن سنا رہے ہو اس وجہ سے تم بھی جھوٹے ہو اور یہ عذاب کی دھمکی بھی جھوٹی ہے۔ یہی مرحلہ ہے جس میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) نے دعا فرمائی ہے کہ ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفتحین (اعراف :89) (اے ہمارے رب ! اب ہمارے اور ہمار قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے) اسی مرحلہ میں حضرت نوح نے بھی یہ دعا فرمائی ہے اور اس کا مطلب وہی ہے جو ہم نے اوپر واضح کیا صاحب کشاف نے آیت کا یہ مطلب لیا ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں انصرنی با مجاز ماوعدتھم من العذاب دھوماکذبوہ فیہ یعنی اے رب تو اس وعدہ عذاب کو پورا کر کے میری فرما جس سے تو نے ان کو ڈرایا ہے۔ یہی چیز ہے جس کے بارے میں ان کی قوم کے لوگوں نے ان کو جھٹلایا۔
Ayah 23:27بعض اجمالات کی وضاحت
یہ آیت بلکہ حضرت نوح کی پوری سرگزشت سورة ہود میں گزر چکی ہے۔ اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارات پر کفایت کریں گے۔ کسی چیز کی تفصیل مطلوب ہو تو وہاں دیکھ لیجیے۔ باعیننا ووحینا یعنی یہ کشتی ہمارے اہتمام اور ہماری ہدایات کے مطابق بنائو۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سارا نقشہ، اس کی جزئیات کی تفصیل کے ساتھ، اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعہ سے حضرت نوح کو بتایا تاکہ یہ اس عظیم مہم کے لئے بالکل موزوں ہو جو پیش نظر تھی۔ امر سے مراد حکم عذاب ہے۔ فار التنور اسی طرح کا ایک محاورہ ہے جس طرح حمی الوطین، وغیرہ محاورات ہیں۔ ان محاورات کا مفہوم متعین کرنے میں الفاظ کا لحاظ نہیں بلکہ صرف اس مفہوم کا لحاظ ہوتا ہے جس کے لئے یہ استعمال ہوتے ہیں۔ فارا التنور طوفان کے امڈ پڑنے اور جوش مارنے کی ایک تعبیر ہے۔ من کل زوجین اثنین میں لفظ کل، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں ذکر کرچکے ہیں۔ معہود ذہنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے۔ یعنی ان جانوروں میں سے جو براہ راستا نسان کی معاشی ضرورت سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ اثنین زوجین کی وضاحت کے طور پر ہے یعنی ہر چیز میں سے نر و مادہ بس دو دو رکھ لئے جائیں، اس سے زیادہ رکھنے کی فکر نہ کی جائے۔ لفظ اھل کی تشریح سورة انبیاء میں ہم کرچکے ہیں کہ اس میں آدمی کے اہل و عیال کے ساتھ اس کے اتباع و اصحاب بھی شامل ہوتے ہیں۔ قرآن کے دوسری مقامات سے یہ ثابت ہے کہ حضرت نوح پر ان کی قوم کے کچھ لوگ ایمان لائے، اگرچہ ان کی تعداد بہت قلیل تھی۔ الا من سبق علیہ القول سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لئے اتمام حجت کے بعد اب سنت الٰہی کے بموجب ہلاکت مقدر ہوچکی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں، جیسا کہ قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہے، خود حضرت نوح کا بیٹا تھا فرمایا کہ یہ لوگ اس کشتی میں تمہارے ساتھ نہ ہوں گے۔ ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا میں ظلموا سے مراد ظلموآ انفسھم ہے یعنی جنہوں نے تمہاری تکذیب پر اصرار کر کے خود اپنی شامت کو دعوت دی۔ فرمایا کہ ایسا نہ ہو کہ جب قہر الٰہی کی موجیں ان ظالموں کو اپنے گھیرے میں لے لیں تو تمہارے اندران کے لئے رافت کا جذبہ ابھرے اور تم ہم سے ان کی نجات کی دعا کرنی شروع کر دو۔ عذاب آجانے کے بعد یہ مرحلہ گزر جائے گا۔ پھر ان کے باب میں تمہاری بھی کوئی شنوائی نہیں ہونی ہے۔ پھر ان میں سے ہر ایک لازماً غرق ہو کے رہے گا۔ ولاتخاطبنی الایہ کا یہ پہلو خاص طور پر نگاہ میں رہے کہ جب عذاب الٰہی آدھمکتا ہے تو اس کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ ان کے اندر بھی معذبین کے لئے جذبہ رافت ابھرنے کا امکان ہوتا ہے جن کی حمایت و نصرت ہی کے لئے وہ ظہور میں آتا ہے لیکن پھر اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کی دعا اور سفارش بھی کچھ کام نہیں آتی۔
Ayahs 23:28–29آیت 29-28
حضرت نوح کی ہجرت اور ہجرت کے مناسب دعا
حضرت نوح اور ان کے ساتھیوں کا کشتی پر یہ سوار ہونا اپنی قوم سے اسی طرح کی ہجرت تھی جس طرح کی ہجرت دوسرے رسولوں کو کرنی پڑی اس وجہ سے ان کو ہجرت کے مناسب حال دعا تلقین کی گئی کہ سوار ہو چکنے کے بعد یہ دعا کرنا کہ اس اللہ کے لئے شکر ہے جس نے ظالموں سے ہمیں نجات دی اور ساتھ ہی یہ دعا بھی کرنا کہ اے رب تو ہمیں جہاں اتارے خیر و برکت اور اپنے فضل و رحمت کے ساتھ اتار۔ تو بہترین اتارنے ولا ہے۔ ہجرت کے وقت اسی مضمون کی دعائیں دوسرے انبیاء سے بھی منقول ہیں۔ ہمارے حضور نے بھی ہجرت کے وقت اسی طرح کی دعا فرمائی تھی۔ رب ادخلنی مدخلل صدق داخرجنی مخرج صدق و اجعلی من لدنک سلطنا نصیرا یہ دعا چونکہ اللہ تعالیٰ کی سکھائی ہوئی ہے اس وجہ سے دعا کے پیرایہ میں یہ مستقبل کی فوز و فلاح کی بشارت بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اب تمہارے رب نے تمہیں ناپکوں اور ناہنجاروں کے ماحول سے نجات دی۔ اب وہ تمہیں بہترین میزبان کی طرح اتارے گا اور جہاں اتارے گا اس سر زمین کو تمہارے لئے مبارک بنائے گا، تم پھولو پھلو گے اور انہی چند افراد اور تھوڑے سے وسائل معاش سے یہ دنیا پھر آباد و معمور ہوگی۔
Ayah 23:30سرگزشت کے اصل مدعا کی طرف اشارہ
یہ اس اصل مدعا کی طرف اشارہ ہے جس کے لئے یہ سرگزشت سنائی گئی۔ مطلب یہ ہے کہ اس سرگزشت کے اندر غور کرنے والوں کے لئے بہت سے حاقئق ہیں۔ سب سے واضح حقیقت تو اس سے یہ سامنے آتی ہے کہ خدا اس دنیا کو پیدا کر کے اس سے بےتعلق نہیں ہو بیٹھا ہے بلکہ اس نے خلق کی اصلاح و ہدایت کے لئے اپنے رسول بھیجے۔ دوسری حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ جو لوگ رسول کی مخالفت اور اس کی تکذیب کے در پے ہوتے ہیں ایک حد خاص تک اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دیتا ہے لیکن بالآخر خدا ان کو پکڑتا ہے اور جب پکڑتا ہے تو پھر کوئی ان کو چھڑا نہیں سکتا۔ تیسری حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں فوز و فلاح رسول اور اس کے ساتھیوں کو حاصل ہوتی ہے۔ البتہ اس فوز و فلاح سے پہلے انہیں آزمائش کے ایک دور سے گزرنا پڑتا ہے۔ وان کنا لمبتلین سے اسی سنت الٰہی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ چوتھی حقیقت یہ واضح ہوتی ہے کہ جس طرح رسولوں کی دعوت ہمیشہ سے ایک ہی رہی ہے اسی طرح ان کے مخالفین کی مخالفت کا اندازہ بھی ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے اس وجہ سے ہر رسول کی زندگی دوسرے رسولوں کے لئے اور ہر امت کا انداز بھی ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے اس وجہ سے ہر رسول کی زندگی دوسرے رسولوں کے لئے اور ہر امت کی سرگزشت دوسری امت کے لئے ایک مستقل درس ہے۔
Ayah 23:31ثم انشانا من بعدھم قرنا اخرین (31)
عاد اور ثمود کی طرف اشارہ
قرن جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں، صدی کے مفہوم میں بھی آتا ہے اور اس سے ایک دور کے لوگ اور قوم و امت بھی مراد ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ قوم نوح کو تباہ کردینے کے بعد نوح اور انکی کشتی کے ساتھیوں کی نسل سے ہم نے دوسری قومیں اٹھائیں۔ یہ اشارہ عاد وثمود کی طرف ہے۔ سورة اعراف میں قوم نوح کے جانشین کی حیثیت سے قوم عاد کا اور عاد کے خلفاء کی حیثیت سے ثمود کا ذکر ہوا ہے۔
Ayah 23:32حضرت ہود اور حضرت صالح کی طرف اشارہ
یہ ان رسولوں کی طرف اشارہ ہے جو عاد وثمود کی طرف بھیجے گئے۔ یعنی حضرت ہود اور حضرت صالح کی طرف جن کی سرگزشتیں سورة ہود اور سورة اعراف میں گزری چکی ہیں۔ ان اعبدواللہ میں ان سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ یعنی اس پیغام کے ساتھ ان کو بھیجا کہ لوگو۔ اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔ یہ دعوت بعینیہ وہی دعوت ہے جو حضرت نوح نے دی اور جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔
رسولا منھم یعنی یہ رسول بھی انہی قوموں کے اندر کے زد تھے۔ کوئی فرشتے یا جن نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہر قوم کی طرف رسول انہی میں سے بھیجا۔ اس احسان کے مختلف پہلوئوں کی طرف ہم اس کے محل میں اشارہ کرچکے ہیں۔
Ayah 23:33متکبرین کے استکساری
ملا کی وضاحت آیت 24 کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں ان متکربین کی بعض ایسی صفات بیان ہوئی ہیں جن سے ان کے طغیان اور رعونت کے اصل سبب پر روشنی پڑتی ہے۔ ان میں سے پہلی چیز یہ ہے کہ یہ لوگ آخرت اور آخرت میں خدا کے آگے پیشی کے منکر و مکذب تھے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ ان کو دنیا میں جو رفاہیت و خوش حالی حاصل ہوئی ان کے لئے فتنہ بن گئی۔ انہوں نے سمجھا کہ ان کی یہ دنیاوی کامیابیاں ان کے عمل اور عقیدہ کی صحت کی دلیل میں، آخرت اول تو ہے ہی نہیں اور اگر ہے تو جو کچھ ان کو یہاں حاصل ہے کوئی وجہ نہیں کہ وہ آخرت میں اس سے محروم ہوجائیں۔ اس دولت و رفاہیت کے سبب سے وہ اپنے اوپر کسی کی برتری تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے اور وہ بھی ایک ایسے شخص کی برتری جس کو ان کی طرح مال و جاہ حاصل نہیں تھا ! اپنے اس غرور پر انہوں نے یوں پردہ ڈالنے کی کوشش کی کہ اگر خدا کسی کو ہماری رہنمائی کے لئے بھجنے والا ہی ہوتا تو کسی مافوق بشر ہستی کو بھیجتا۔ ہمارے ہی جیسے ایک بشر کو رسول بنانے کے کیا معنی !
Ayah 23:34عوام کو بھڑکانے کے لئے جذباتی حربہ
یہ اپنے عوام کے جذبات کو بھڑکانے کے لئے انہوں نے ایک جذباتی حربہ استعمال کیا کہ اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کو، خدا کا رسول مان کر، اس کا قلاوہ اطاعت اپنی گردن میں ڈال لیا تو دین اور دنیا دونوں اعتبار سے اپنی لٹیا ڈبو دو گے۔ معلوم نہیں یہ شخص تمہیں کس کھڈ میں گرائے اور کہاں لے جا کے مارے کہ وہاں تم پانی بھی نہ پائو ! ! مطلب یہ ہے کہ اس قسم کا کوئی مہلک قدم اٹھانے سے پہلے خوب سوچ لو۔ ہم تمہیں نیک و بداچھی طرح سمجھائے دیتے ہیں !
Ayahs 23:35–36آیت 36-35
ھیھات کا موقع استعمال اور مفہوم
وعد یعد یہاں ڈرانے کے معنی میں ہے جس طرح الشیطن یعدکم الفقر میں ہے۔ یعنی شیطان تمہیں غریبی سے ڈراتا ہے۔ ھیھات اسم فعل ہے۔ یہ عربی میں مختلف شکلوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس موقع پر بولا جاتا ہے جب کسی چیز کو نہایت مستبعد اور بعید از امکان ظاہر کرنا ہو۔ تکرار کی صورت میں اس کے اندر تاکید اور شدت کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ استقہام یہاں استنکار کے مفہوم میں ہے۔
یعنی وہ بہت تعجب اور حیرت سے کہتے ہیں کہ کیا یہ شخص تمہیں اس بات سے ڈراتا ہے کہ جب تم مر کر اور سڑ گل کر مٹی اور ہڈی بن جائو گے تواز سر نو زندہ کر کے قربوں سے نکالے جائو گے ! یہ ڈراوا جو تمہیں سنایا جا رہا ہے یہ نہایت ہی مستبعد اور نہایت ہی بعید از امکان ہے ! مطلب یہ ہے کہ اس شخص کی اس طرح کی خیالی باتوں سے مرعوب ہو کر کہیں اس کے جال میں نہ پھنس جانا۔
Ayah 23:37منکرین قیامت کی خرد باختگی
یعنی زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے۔ یہیں ہم مرتے ہیں اور یہیں جیتے ہیں۔ مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ پرانے مکذبین قیامت ہوں یا نئے دونوں ہی نے قیامت کا انکار کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ مجرد اس کے استبعاد کی بنا پر کیا ہے۔ درآنحالیکہ اس سے ہزاروں لاکھوں درجہ مستبعد چیزیں ہر وقت اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور ان کو مانتے ہیں۔ قرآن نے لوگوں کی اسی خرد باختگی پر جگہ جگہ اظہار تعجب کیا ہے۔
Ayah 23:38اوپر کی باتیں تو ان داشنوروں نے اپنے عوام کو برگشتہ و مشتعل کرنے کے لئے کہیں اور پھر اپنی دانش و بینش کا اظہار ان لفظوں میں کیا کہ اگر کوئی اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے اس شخص کو رسول باور کرتا ہے تو کرے۔ ہمارے نزدیک تو اس نے خدا پر یہ جھوٹ گھڑا ہے کہ خدا نے اس کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس وجہ سے ہم تو اس کے اس دعوے کو ہرگز باور کرنے والے نہیں ہیں۔
Ayah 23:39یہ آیت اوپر گزر چکی ہے اور وہاں اس کی پوری تشریح ہوچکی ہے۔
Ayah 23:40پیغمبر کی مذکورہ دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اطمینان دلایا کہ اب وعدہ الٰہی کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے اپنی اس رعونت پر یہ لوگ بہت جلد پچھتائیں گے