Ayahs 23:81–83آیت 83-81
وہی پرانا جواب
یعنی یہ ساری باتیں اپنی جگہ پر واضح اور ثابت ہیں لیکن یہ انکے دلوں میں کسی طرح نہیں اتر رہی ہیں۔ انہوں نے یہ سب کچھ سن کے وہی بات کہی جو ان کے اگلے ہم مشریوں نے کہی۔ انہوں نے کہا بھلا جب ہم مر کے مٹی اور ہڈی بن جائیں گے تو کیا دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے ! یہ ان ہونی بات ہے ! یہی ڈراوا ہمیں سنایا جا رہا ہے اور اس سے پہلے یہی ڈراوا ہمارے اگلوں کو بھی سنایا گیا لیکن قیامت کو نہ آنا تھا نہ آئی نہ آئے گی۔ یہ سب پرانے فسانے ہیں جو بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ ہم ان دھمکیوں میں آنے والے نہیں ہیں !
Ayahs 23:84–85آیت 85-84
منکرین کا تضاد فکر
اب یہ ان منکرین کے تضاد فکر کو نمایاں کیا جا رہا ہے کہ ایک طرف تو یہ آسمان و زمین کا خاق ومالک اور مختار کل خدا ہی کو مانتے ہیں دوسری طرف یہ ایسی باتیں بھی مانتے ہیں جو اس کے بالکل ضد ہیں یا ان باتوں کا انکار کرتے ہیں جو ان کے اس مسلمہ کے لازمی نتیجہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مشرکین عرب کے متعلق ہم یہ بات اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں کہ وہ آسمان و زمین کا خالق ومالک اور مصرف حقیقی تو صرف خدا ہی کو مانتے تھے لیکن اس کے ساتھ وہ شرک کی ان اقسام میں بھی مبتلا تھے جن کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ رہی قاکمت تو اس کو اول تو وہ ایک نہایت مستبعد چیز سمجھتے تھے اور اگر ایک مفروضہ کے درجہ میں مانتے تھے تو ان کا خیال تھا کہ ان کے سفارشی خدا کی گرفت سے ان کو بچا لیں گے۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ اسی قسم کا تضاد فکر ہے جس میں بالعموم آج کل کے مسلمان مبتلا ہں۔ یہ خدا کا اقرار بھی کرتے ہیں اور اس اقرار کے جو لازمی نتائج ہیں ان کا انکار بھی کرتے ہیں۔ ایمان کے مدعی بھی ہیں اور ساتھ ہی نہایت دھڑے سے وہ باتیں بھی مانتے اور کرتے ہیں جو ایمان کے بالکل منافی ہیں۔
یہ آنحضرت ﷺ کو ہدایت ہے کہ ذرا ان مدعیان علم سے پوچھو کہ یہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے کہ کس کا اور کس کے قبضہ و تصرف میں ہے۔ ان کنتم تعلمون کے ال فاظ میں ان کے تضاد فکر پر ایک قسم کی تعریض ہے اس لئے جو علم متضاد افکار کا مجموعہ ہو وہ علم نہیں بلکہ جہل اور شدید قسم کا جہل ہے فرمایا کہ تمہارے اس سوال کا جاب تو بہرحال وہ یہی دیں گے کہ یہ ساری چیزیں اللہ ہی کی اور اللہ ہی کے قبضہ و تصرف میں ہیں۔ پھر ان سے کہو کہ افلا تذکرون اپنے اسی مسلمہ کی روشنی میں تم آخر اپنے افکار و عتمائد کا جائزہ کیوں نہیں لے تق ! اس کے بعد تم توحید کا کس طرح انکار کرتے ہو ؟ یہ شرکاء و شفعاء تم نے کہاں سے گھڑ لئے ؟ قیامت تمہیں کیوں ایک عجیب چیز معلوم ہوتی ہے اور رسول کی دعوت سے تم اس طرح کیوں بدکتے ہو !
Ayahs 23:86–87آیت 87-86
فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ ساتوں آسمان اور عرش عظیم کا خداوند کون ہے ؟ اوپر کا سوال زمین اور اہل زمین سے متعلق تھا، یہ سوال ساتوں آسمان اور عرش عظیم سے متعلق ہے۔ عرش عظیم، اللہ تعالیٰ کے ہمہ گیر اقتدار مطلق کی تعبیر ہے۔ اہل عرب جس طرح زمین کو خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے اسی طرح ساتوں آسمان اور عرش عظیم کا مالک بھی اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ وہ دنیا کی دوسری مشرک قوموں کی طرح آسمانوں اور زمین کے الگ دیوتائوں کے قائل نہیں تھے۔ فرمایا کہ وہ تمہارے اس سوال کا جواب بھی یہی دیں گے کہ یہ ساری چیزیں اللہ ہی کی اور اسی کے قبضہ و تصرف میں ہیں۔ چونکہ من رب السموت السبع کے سوال کا اصل مطلب یہ ہے کہ ان میں خدائی کس کی ہے اس وجہ سے اس کے جواب میں للہ بالکل موزوں ہے۔ فرمایا کہ اگر وہ تمہارے اس سوال کا جواب بھی اثبات میں دیتے ہیں تو پھر ان سے پوچھو کہ تم ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کے مالک سے ڈرتے نہیں کہ اس کی خدائی میں دھاندلی مچاتے، اس کے احکام و قوانین کی خلاف ورزی کرتے اور دوسروں کو بلا کسی استحقاق کے اس کی خدائی میں شریک بناتے ہو ! اگر اس کا قہر و غضب تم پر نازل ہوجائے تو آخر کون ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے۔
Ayahs 23:88–89آیت 89-88
مملکوت سے مراد
مملکوت یہاں زمام اختایر و اقتدار کے مفہوم میں ہے۔ یعنی ان سے پوچھو کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی زمام ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ تو جس کو چاہے پناہ دے سکتا ہے لیکن کسی دوسرے کی یہ شان نہیں ہے کہ اس کی پکڑ سے کسی کو چھڑا سکے ؟ فرمایا کہ اس کا جواب بھی لامحالہ وہ یہی دیں گے کہ یہ سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ مشرکین عرب جن معبودوں کو پوجتے تھے ان کے متعلق ان کا یہ تصور نہیں تھا کہ وہ ایسا اختیار و اقتدار رکھتے ہیں کہ اپنے زور و اقتدار سے وہ کسی کو خدا کی پکڑ سے بچا سکیں بلکہ وہ فرشتوں کو خدا کی چہیتی بیٹیاں سمجھ کر ان کی پوجا محض اس امید پر کرتے تھے کہ یہ راضی رہیں تو ان کے طفیل میں خدا ان سے راضی رہے گا۔ اس سوال کے ساتھ بھی ان کنتم تعلمون کے الفاظ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے جو میتھالوجی تیار کی ہے اس میں تو تم نے یہ درجہ کسی کو نہیں دیا لیکن اگر کوئی ہے اور تم اس کو جانتے اور مانتے ہو تو ذرا اس کا نام لو۔ پھر فرمایا کہ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کے ہاتھ میں زمام اقتدار نہیں مانتے تو ان سے پوچھو کہ کس نے تم پر افسوس پھونکا ہے کہ بالکل تمہاری مت ماری گئی ہے اور تم خدا کو چھوڑ کر دوسروں کی جے پکارتے ہو۔
Ayahs 23:90–92آیت 92-90
مذکورہ بالا سوال و جواب پر استدراک
اب اس سارے سوال و جواب پر استدراک ہے کہ یہ جو کچھ مانتے ہیں یہ خود انکے اپنے اعترافات کے بالکل خلاف ہے اس وجہ سے ہم نے اس قرآن میں جو کچھ پیش کیا ہے یہ حق ہے اور یہ بالکل جھوٹے ہیں اس لئے کہ یہ خود اپنے منہ سے اپنے آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ خدا نے کسی کو اپنا بیٹا بنایا ہے، نہ کسی کو اپنی بیٹی اور نہ کوئی اس کا ساجھی اور شریک ہے۔ اگر اس کائنات کی تخلیق میں الہ بھی شریک ہوتے تو ہر الہ اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہوجاتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا اور یہ سارا نظام کب کا درہم برہم ہوچکا ہوتا۔ اس طرح کی خرافات جو بیہ باین کرتے ہیں یہ خدا کی اعلیٰ صفات کے بالکل منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام غائب و حاضر کا خود علم رکھنے والا ہے تو اس کو ضرورت کیا ہے کہ وہ کسی کو اپنا شریک بنائے۔ وہ ان چیزوں سے برتر ہے جن کو یہ خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
یونانیوں اور ہندوئوں کی میتھالوجی میں ان کے دیوتائوں کی جو خوں ریز جنگیں مذکور ہیں یہاں ان پر بھی نظر رہے اور قدیم یونانیں کو یہ عقیدہ بھی نگاہ میں رہے کہ مرد کو سورج نے پیدا کیا ہے اور عورت کو زمین نے غور کیجیے کہ اگر سورج اپنے پیدا کئے ہوئے مردوں کو لے کر الگ ہوجائے تو زمین کی عورتوں کا کیا حشر ہوگا ! قرآن نے یہاں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ یہ کارخانہ کائنات قائم ہی اس وجہ سے ہے کہ اس میں ایک ہی خالق ومالک کا ارادہ کار فرما ہے۔ اگر اس میں دوسرے الہ بھی شریک ہوتے تو اس کا قیام و بقا ناممکن تھا۔
Ayahs 23:93–94آگے کا مضمون ………… آیات 118-93
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جس میں ﷺ کو بشارت دی گئی ہے کہ اب فتح و نصرت کا وقت قریب ہے۔ اہل ایمان کامیاب و فتحمند اور آپ کے مخالفین دنیا و آخرت دونوں کی رسوائی سے دوچار ہوں گے تو کچھ عرصہ ان کی شرارتوں س درگزر کرو۔ فیصلہ کی گھڑی سر پر آگئی ہے۔ جس مدت کو یہ بہت طویل سمجھ رہے ہیں اور جس کے دھوکے میں اپنی شرارتوں میں دلیر ہوتے جا رہے ہیں، انجام سامنے آجانے کے بعد محسوس کریں گے کہ وہ پلک جھپکتے گزر گئی اور اس وقت اپنی بدبختی پر اپنے سرپیٹیں گے۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
آیت 94-93
وعدہ عذاب کے باب میں کو بشارت
رسول کی تکذیب کی صورت میں قوم پر جو عذاب آیا کرتا ہے، قریش کے متکبرین کو جب اس سے ڈرایا جاتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کرتے کہ اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لائو۔ ان کے اس مطالبہ کا جواب قرآن نے جگہ جگہ دیا ہے۔ مثلاً سورة یونس میں ہے۔ واما نرینک بعض الذی نعدھم اونتوافینک فالینا موجعھر 46 (اور یا تو ہم تمہیں دکھاویں گے اس عذاب کا کچھ حصہ یا تم کو وفات دیں گے اور ان کی واپسی ہماری ہی طرف ہوگی) اسی طرح سورة وعد میں فرمایا ہے۔ وانا ما نرینک بعض الذی نعدھم اونتوفینک فانما علیک البلغ وعلینا الحساب 40 (اور یا تو ہم اس عذاب کا کچھ حصہ تم کو دکھا دیں گے جس سے ان کو آگاہ کر رہے ہیں یا تم کو وفات دیں گے اور تمہارے اوپر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، محاسبہ ہمارے ذمہ ہے) بعینیہ یہی مضمون سورة غافر کی آیت 77 میں بھی ہے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک مکذبین کے لئے وعدہ عذاب کا تعلق ہے وہ تو قطعی ہے۔ رہا اس کے ظہور کا وقت کہ یہ پیغمبر ﷺ کی زندگی ہی میں ظہور میں آئے گا یا آپ ﷺ کی وفات کے بعد تو اس سوال کے جواب کو ان آیات میں مبہم چھوڑ دیا گیا تھا لیکن آیت زیر بحث اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کے لئے غلبہ تصرف کے ظہور کا وقت اب بالکل قریب ہے۔ یہ بات آپ ﷺ کی حیات مبارک ہی میں واقع ہوگی اور اس کا لازمی نتیجہ آپ ﷺ کے دشمنوں کی ہلاکت بھی ہے۔ یہ اشارہ یوں نکلتا ہے کہ اس میں نبی ﷺ کی یہ دعا تلقین کی گئی ہے کہ دا کرو کہ اے رب اگر تو اس عذاب کو میری ندزندگی ہی میں ان ظالموں پر لانے والا ہے جس سے ان کو ڈرایا جاتا رہا ہے تو مجھے اپنے دامن رحمت کے نیچے رکھیو، ان ظالموں میں شامل نہ کیجیو۔ اس دعا میں نبی ﷺ کے لئے جو بشارت اور آپ ﷺ کے مکذبین کے لئے جو آخری انذار ہے جو بالکل واضح ہے اور یہاں مراد واقعہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کے اعدا آپ کی زندگی ہی میں پامال ہوگئے اور آپ جب اس دنیا سے تشریف لے گئے تو جآء الحق وزھق الباطل کا اعلان کر کے تشریف لے گئے۔
Ayah 23:95وانا علی ان نریک مانعہ ھم تقدرون 95
نارسازگارز کے علی الرخم اللہ یہ اسی بشارت کو، جو اوپر والی آیت میں مضمر ہے۔ مئوکد فرمایا ہے۔ اس لئے کہ اس دور میں ابھی حالات بہت نامساعد تھے۔ پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ معاندین کی چیرہ دستیوں سیتنگ آ کر مکہ سے ہجرت پر مجبور ہوگئے تھے۔ یہ یاور کرنا کچھ آسان نہیں تھا کہ اسی تاریکی کے اندر سے عنقریب روشنی پیدا ہونے والی ہے۔ اس تردد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم اس بات پر پوری طرح قادر ہیں کہ تمہاری زندگی ہی میں تمہاری دشمنوں کو پامال کردیں۔ حالات ہمارے ارادے میں مزاحم نہیں ہو سکتے ؟
نبی ﷺ کو اس دعا کی تلقین صرف اس عذاب کی شدت کو نہیں ظاہر کر رہی ہے۔ جیسا کہ عام لوگوں پر لوگوں نے سمجھا ہے، بلکہ اس میں ہجرت کی طرف اشارہ بھی ہے کہ اے رب اگر یہ عذاب میری زندگی ہی میں آنے والا ہے تو اس کے آنے سے پہلے پہلے میری اور میرے باایمان ساتھیوں کی نجات کی راہ کھولنا۔ گویا دعا کے اسلوب میں آپ کو یہ بشارت بھی دے دی گی کہ اس عذاب سے محفوظ رکھنے کا سامان آپ کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے کرلیا ہے۔
Ayah 23:96عفو و درگزر کو ہدایت
یہ نبی ﷺ کو صبر اور عفو و درگزر کی تلقین ہے کہ ان کے برے سلوک کا جواب بدستور اپنے اچھے سلوک سے دیتے رہو۔ جو ہرزہ سرائیاں اور بدتمیزیاں یہ کر رہے ہیں ہم ان سے اچھی طرح واقف ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی ایک ایک شرارت کا مزہ ہم ان کو چکھائیں گے، تم ان کے رویہ سے بال گرفتہ نہ ہو۔ ان کا معاملہ ہمارے اوپر چھوڑو۔ اب فیصلہ کا وقت قریب ہے۔
Ayahs 23:97–98آیات 98-97
حصول صبر و عفو و درگزر کی دعا
یہ حصول صبر و عفو و درگزر کی دعا تلقین فرمائی گی ہے۔ شیطان سے مراد شیاطین جن بھی ہیں جو دلوں میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں اور وہ شیاطین انس بھی جن کا رویہ یہاں زیر بحث ہے۔ فرمایا کہ برامبر یہ دعا کرتے رہو کہ اے رب مجھے شیاطین جن کے وسوسوں سے بھی محفوظ رکھ اور ان شیاطین انس سے بھی محفوظ رکھ کر وہ میرے پاس بحث وجدال اور شو فساد کے لئے نہ آئیں۔
Ayahs 23:99–100آیت 100-99
کفار کی بعد از وقت حسرت
یعنی یہ لوگ اپنی ان شرارتوں سے باز آنے والے نہیں ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آدھمکے گی اور اس عالم کے احوال و معاملات سے سابقہ پیش آئے گا تب ان کی آنکھیں کھلیں گی۔ اس وقت بڑی لحجات سے درخاست کریں گے کہ اے رب ! مجھے ایک بار دنیا میں پھرجانے دے تاکہ جو مال و متاع واں چھوڑ کر آیا ہوں اس میں جا کر کچھ نیکی کمالوں۔ کلا نھا کلمۃ ھوقآء بلھما فرمایا کہ یہ بات ہرگز ہونے والی نہیں ہے۔ بس یہ ایک بات ہوگی جو بڑی حسرت کے ساتھ وہ کہے گا لیکن اس کی اس حسرت کے پورے ہونے کا وقت گزر چکا ہوگا، عمل کی مہلت بس دنیا کی زندگیتک ہے۔ اس مہلت حیات کے ختم ہونے کے بعد ان کے آگے ایک پردہ ہوگا جو اسی دن اٹھے گا جس دن وہ حساب و کاتب کے لئے اٹھائے جائیں گے۔ اس ٹکڑے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بات وہ کہنے کو تو کہے گا لیکن اگر اس کو دنیا میں پھر بھیج دیا جائے تو وہ کرے گا وہی جو کرتا رہا ہے قرآن میں اس مفہوم کے لئے نظیر موجود ہے لیکن یاں ہمارے نزدیک وہی مفہوم ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے۔ اس کے نہایت واضح نظائر آخری گروپ کی سورتوں میں موجود ہیں۔
Ayah 23:101آیت 101
قیامت کے دن کی نفسی نفسی
یہ قیامت کے دن کی نفسی نفسی کی تصویر ہے کہ اس دن نہ کسی کا نسب کچھ کام آئے گا اور وہ ایک دوسرے سے طالب مدد ہی ہو سکیں گے۔ تساول کے معنی آپس میں ایک دور سے سے طالب مدد ہونا ہے۔ مصیبت کے وقت میں نسبی و خاندانی عصبیت اور قومی و قبائلی تعاضد و تناصر اس دنیا میں بڑا سہارا ہے اور عربوں میں اس چیز کو خاص طور پر بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ جب کوئی شخص کسی مصیبت میں اپنے خاندان یا قبیلہ کی دہائی پکار دیتا تو اس کے قبیلہ کا ہر شخص اس کی حمایت میں کٹ مرنے کے بعد اٹھ کھڑا ہوتا۔ فمایا کہ صور پھونکے جانے کے بعد سارے نسب ختم ہوجائیں گے اور کوئی ایک دوسرے سے نہ طالب مدد ہو سکے گا اور نہ کوئی کسی کی مدد کرسکے گا۔
Ayahs 23:102–104آیت 104-102
اس دن کسی کا حسب نسب کچھ کام نہیں آئے گا بلکہ صرف اس کا عمل کام آئے گا۔ جن کے پلے بھاری ہوں گے وہ تو کامیاب ہوں گی اور جن کے پلے ہلکے ہوئے وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں رکھا، وہ ہمیشہ ہمیش کے لیء جہنم میں پڑیں گے۔ اس جہنم میں ان کا حال یہ ہوگا کہ آگ ان کے چہروں کو جھلسے گی اور وہ منہ بسوائے ہوئے ہوں گے۔
Ayahs 23:105–107آیت 107-105
کفار کی فریاد اور اس کا جواب
یعنی جب وہ چیخیں چلائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو یہ جواب ملے گا کہ اب کیوں روتے ہو، اس دن سے آگاہ کرنے کے لئے جب تم کو ہماری آیتیں سنائی جاتی تھیں تب تو تم ان کی تکذیب کرتے تھے ! وہ اعتراض کریں گے کہ اے رب ! یہ ہماری بدبختی اور شقاوت تھی جو ہم پر چھائی ہے کہ ہم نے اس دن کی تکذیب کی، بلاشبریم خود اپنی جانوں پر ڈھانے والے بنے ہیں لیکن اے ہمارے رب، ایک بار اور ہمیں موقع دے۔ اگر پھر ہم یہی کچھ کریں تو (ریب ہم اسی کے سزا وار ہیں۔)
Ayah 23:108قال اخسوا فیھا ولاتکلمون 108
لفظ خساء کتے کو دھتکارنے کے لئے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی اس التجا کا یہ جواب ملے گا کہ چلو دفع ہو ؟ اسی میں بڑے رہو اور اب مجھ سے کوئی بات نہ کرو۔
Ayahs 23:109–111111-109
غربائے مسلمین کی دلداری
یہ اس غیرت کا بیان ہے جس کے سبب سے خدائے غیور ان اشتقیار کو بات کرنے سے روک دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اب تم میرے آگے زبان نہ کھولو، تم وہ شقی اور بدبخت لوگ ہو کہ جب میرے بندوں کی ایک جماعت میرے آگے ربنا امنافا غفرلنا دارھمنا وانت خیر الرحمین کی دعا کرتی تھی تو تم نے ان کو مذاق بنا رکھا تھا اور اس شغل مذاق میں اس طرح تم منہمک رہے کہ تمہیں یہ بات یاد بھی نہیں رہی کہ کبھی مجھ سے بھی تمہیں سابقہ پڑنے الا ہے اور تم پوری جسارت کے ساتھ ان کی ہنسی اڑاتے رہے تو آج میں نے ان کی صبر و استقامت کا ان کو صلہ دیا اب وہ فائز المرام ہیں اور تم یہ بھاڑ جھونکو اور اسی میں جلو !
فریق من عبادی، میں لفظ فریق، اس زبان کی طرف شارہ کر رہا ہے کہ یہاں اس سے مراد خاص طور پر غربائے مسلمین ہیں جو اپنی غریبی اور بےکسی کے سبب سے متمردین قریش کے ظلم و ستم اور ان کے مذاق و استہزاء کا ہدف بنے ہوئے تھے۔ فرمایا کہ وہ تم ہم سے مغفرت اور رحمت کی دعا کتے تھے اور تم ان کے مذاق و استہزاء کا ہدف بنے ہوئے تھے۔ فرمایا کہ وہ تو ہم سے مغفرت اور رحمت کی دعا کرتے تھے اور تم ان کی دعا اور نماز کو اپنی رعونت کے سبب سے ایک شغل تفریح بنائے ہوئے تھے۔ سخرتی اس شخص یا چیز کو کہتے ہیں جس کو ایک اضحوکہ اور مذاق بنایا جائے۔ کسی کو مذاق بنانا بجائے خود ایک بہت بڑی رعونت ہے اور یہ رعونت وہ چند ہوجاتی ہے اگر کوئی شقی اس کی دعا اور نماز کا مذاق اڑائے اس لئے کہ اس صورت میں وہ صرف اسی کا مذاق نہیں اڑاتا بلکہ خود خدا کا بھی مذاق اڑاتا ہے۔
حتی انسوکم ذکری یعنی اس شغل تفریح میں تم ایسے منہمک رہے کہ کبھی تمہیں یہ سوچنے کا موقع ہی نہیں ملا کہ کوئی تمہارا خدا بھی ہے جو تمہاری ان حرکتوں کو، جو تم اس کے ذاکر و شاغل اور صابر و شاکر بندوں کے ساتھ کر رہے ہو، دیکھ رہا ہے اور ایک دن وہ ضرور ان میں سے ایک ایک چیز کا انتقام لے گا۔
انی جزیتھم الیوم بما صبروا انھم ھم الفآئزون یعنی اب آنکھیں کھول کر دیکھ لو، وہ چیز تمہارے سامنے موجود ہے جس کو تم نے بھلائے رکھا۔ تمہارے تمام ظلم و ستم اور مذاق و تمسخر کے علی الرغم میرے جو بندے میری بندگی پر جمے رہے میں نے آج ان کو ان کی استقامت کا بھرپور صلہ دے دیا۔ انھم ھم الفائزون یہ اس صلہ کی تفصیل ہے کہ وہی کامیاب ہونے والے بنے جس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ ان کا مذاق اڑانے والے نامراد ہوئے یہاں اس سورة کی پہلی آیت قد افلح المومنون الذین ھم فی صعلوتھم خشعون کو ذہن میں تازہ کر لیجیے۔ جس بات سے سورة کا آغاز ہوا تھا اب اسی پر سورة کا اختتام ہو رہا ہے۔ یہ عود علی الیدء کا اسلوب قرآن میں بہت استعمال ہوا ہے اور نظم قرآن کے نہایت واضح دلائل میں سے ہے۔
غور کیجیے، ان آیات کا ان غربائے مسلمین پر کیا اثر پڑا ہوگا جو اس دور میں متکبرین کے ظلم اور تہتک کا ہدف بنے ہوئے تھے انکے صبر و عزیمت کو رب غیور کی اس دلداری سے کتنی غذا اور قوت حاصل ہوئی ہوگی !
Ayahs 23:112–114آیت 114-112
طول حیات کا مغالطہ
اب یہ واضح فرمایا کہ ظہور قیامت کو یہ جو بہت بعید چیز سمجھے ہوئے اس مغالطہ میں ہیں کہ اگر وہ آئی بھی تو اس کے آنے میں اتنی دیر ہے کہ ابیھ سے اس کی فکر میں اپنا عیش مکدر کرنے کی ضرورت نہیں، یہ مغالطہ بہت جلد دور ہوجائے گا۔ فضخ صور کے بعد جب یہ اٹھیں گے تو ان کو محسوس ہوگا کہ جس زندگی کو بہت طویل سمجھے ہوئے تھے وہ پلک جھپکتے ختم ہوگئی۔
قال کا فاعل یہاں اللہ تعالیٰ یا کوئی فرشتہ نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے بلکہ یہ قال قآئل کے مفہوم میں ہے۔ یعنی قیامت کو جب یہ اٹھیں گیت و انہیں میں سے کوئی پوچھنے والا پوچھے گا کہ بھلا بتائو، دنیا میں ہم کتنی مدت رہے ہوں گے ؟ دوسرے جواب دیں گے کہ بس ایک دن یا ایک دن سے بھی کچھ کم قئل العآدین یہ جواب دینے والوں کی طرف سے بیزاری کا اظہار ہوگا کہ بھلا کسی کو کیا پتہ کہ ہم دنیا میں کتنے دن رہے، اگر کسی نے اس کا شمار رکھا ہو تو اس سے جا کے پوچھو ! یعنی آج جس زندگی کے طول اور اس کے عیش پر ریجھے ہوئے ہیں۔ ایک دن آنے والے ہے جب اس کے متعلق کوئی سوال بھی طبیعت پر نہایت گراں گزرے گا۔ قال ان لبثتم الا قلیلاً توانکم کنتم تعلمون یہ بھی انہی میں سے کسی کی بات ہوگی جس میں کچھ ملامت و حسرت کا مفہوم بھی ہے، یعنی دنیا میں تم رہے تو بہت کم لیکن اس کو جاننے اور سمجھنے کا وقت وہ تھا جب تم دنیا میں تھے، اب تو اس کا وقت گزر چکا ہے۔
یہی مضمون سورة طہ کی آیات 104-102 میں بھی گزر چکا ہے۔ وہیں یہ تصریح ہے کہ یہ باتیں انہی کے درمیان آپس میں ہوں گی۔ یتخافتون بینھم ان لبثتم الاعشراً (وہ آپس میں سرگوشی کریں گے کہ بس تم ایک عشرہ دنیا میں رہے ہو گے) اسی سلسلہ میں انکے سب سے زیادہ دانا و بانک کی یہ بات بھی نقل ہوئی ہے کہ اذیقول امثلھم طریقۃ ان لبثتم الا یوما (جب کہ انمیں جو سب سے زیادہ ہوش و گوش والا ہوگا کہے گا کہ بس تم ایک دن دنیا میں رہے ہو گے) میرے نزدیک آیات زیر بحث میں بھی آخری قول ان کے امثلھم طریقۃ کا نقل ہوا ہے۔
سورة کہف آیت 19 میں اصحاب کہف کا طویل نیند سے اٹھنے کے بعد جو مکالمہ مذکور ہوا ہے اور جو درحقیقت مثال ہے عالم برزخ کے بعد کی زندگی کی، اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال و جواب ان کے اپنے ہی درمیان ہو گ۔ یہ ایک حقیقت ہے جس میں ذرا مبالغہ نہیں کہ غفلت کی زندگی کا سارا طول و عرض صرف اس وقت تک دس ہوتا ہے جب تک وہ حاصل رہتی ہے، جب گزر جاتی ہے تو بس ایک خواب معلوم ہوتی ہے !
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ جب آنکھ کھل گئی تو زیاں تھا نہ سود تھا
Ayah 23:115انجسبتم انما خلقنکم بعثاً و انکم الینا لاترجعون 115
جزا و سزا صفات الٰہی کا لازمی تقاضا ہے
یعنی اگر تم جزاء و سزا سے بےپردا بیٹھے ہو تو کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو یوں ہی بےمقصد پیدا کیا ہے اور تم اسی طرح شتر بےمہار چھوٹے پھرو گے اور ایک دن مر جائو گے اور تمہاری واپسی ہماری طرف نہیں ہونی ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے یہ سمجھا ہے تو ہمیں تم نے بہت ہی غلط سمجھا ہے۔
Ayah 23:116آیت 116
یہ اپنی صفات کی یاد دہانی فرمائی ہے جس سے مقصود اسی مغالطہ کی تردید ہے جس میں جزا و سزا کے یہ منکرین مبتلا تھے۔ فرمایا کہ خدا کی ذات بہت ہی بلندو برتر ہے۔ اس بلندو برتر ہستی کی شان سے یہ بات نہایت بعید ہے کہ وہ کوئی کار عبث کرے اور محض کھیل تماشا کے طور پر ایک پورا جہان پیدا کر ڈالے۔ وہ الملک الحق یعنی اس کائنات کا بادشاہ حقیقی ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنی رعیت کے درمیان عدل و انصاف نہ کرے اور ظالم و مظلوم دونوں کو یکساں کر دے۔ لا الہ الا ھو یعنی اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے تو کوئی اس مغالطہ میں نہ رہے کہ اس کی پکڑ سے وہ کسی دوسرے کی سعی و سفارش سے اپنے کو بچا لے جائے گا۔ رب العرش الکریم عرش خدا کی حکومت کی تعبیر ہے اور لفظ کریم قرآن میں باعزت اور بافیض کے معنی میں آیا۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ایک باعزت اور بافیض عرش کا خداوند ہے تو اس کی حکومت ایک اندھیر نگری کس طرح ہو سکتی ہے !
Ayah 23:117آیت 117
یہ اوپر والے توحید کے مضمون کی مزید وضاحت فرما دی کہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی اس کی عبادت میں شریک کرے گا۔ جب کہ کسی شریک کے حق میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے، تو وہ یاد رکھے کہ خدا کے آگے اس کو ایک دن اس کا حساب دینا ہوگا اور یہ امر بھی وہ یاد رکھے کہ جو لوگ خدا کا کسی کو شریک ٹھہرائیں گے وہ کافر ہیں اور کافر فلاح نہیں پائیں گے۔ قد افلح المومنون سے یہ سورة شروع ہوئی تھی اور لایفلح الکفرون پر ختم ہوگئی۔
Ayah 23:118وقل رب اغفروا لحکم وانت خیر الرحمین 118
دعا کے پیرا یہ تین اہل ایمان منکب نصرت کی بشارت
یہ آخر میں پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے واسطہ سے آپ ﷺ کے ساتھیوں کو طلب مغفرت و رحمت کی دعا تلقین فرمائی گی ہے اور غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہ دعا وہی ہے جس کا حوالہ 109 میں گزر چکا ہے اور جس کا متکبرین مذاق اڑاتے تھے۔ اس دعا کی تلقین سے یہ اشارہ نکلات ہے کہ اپنے اسی مئوقف پر ڈٹے رہو اور یہی دعا کرتے رہو۔ یہی تمہارے لئے مغفرت و رحمت کے دروازے کی کلید ہے۔ یہ دعا کے اسلوب میں اہل ایمان کے لئے فتح و نصرت کے ظہور کی بشارت ہے۔
ان سطروں پر اس سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللھم اغفروارحم و انت خیر الرحمین