Ayah 23:41صیعۃ کا مفہوم
صیعۃ کے معنی ڈانٹ کے ہیں اور قرآن میں یہ عذاب الٰہی کی تعبیر کے لئے جگہ جگہ استعمال ہوا ہے، خواہ وہ عذاب کسی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔ اس کو سخت آواز کے عذاب کے ساتھ مخصوص کردینا ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔
حق کا مفہوم
حق سے مراد یہاں وہ وعدہ حق ہے جو تکذیب کی صورت میں بشکل عذاب لازماً ظاہر ہونے والا تھا اور جس کی پیغمبر نے ان کو خبر دے دی تھی۔
غث کا مفہوم
لفظ غشآء قرآن مجید اور کلام عرب دونوں میں دو مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ انشاء اللہ سورة اعلیٰ کی تفسیر میں ہم اس پر مفصل بحث کریں گے۔ یہاں یہ پامال شدہ خس و خاشاک کے مفہوم میں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی اس دعا کے بعد ان پر خدا کا عذاب اس امر واقعی کے ساتھ آدھمکا جس کو لوگ محض خالی خولی دھمکی سمجھ رہے تھے اور ہم نے ان کو بالکل خس و خاشاک بنا کر رکھ دیا۔
فبعداً للقوم الظلمین لعنت اور پھٹکار کا جملہ ہے۔ یعنی ایسے ناہنجاروں پر خدا کی پھٹکار ہو ! یہ اس عذاب کی معنوی تعبیر ہے۔ عذاب الٰہی درحقیقت خدا کی لعنت ہوتا ہے۔
Ayah 23:42بعد کے انبیاء کی طرف اشارہ
اوپر والی آیت 31 میں لفظ قرن آیا ہے اور یہاں قرون جمع ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کے بعد بالتدریج حضرت نوح کی نسل سے متعدد قومیں اٹھیں اور ان میں سے ہر ایک کی ہدیات و اصلاح کے لئے خدا نے اپنے رسول بھیجے۔ اگرچہ ان تمام رسولوں کے نام نہ تو رات میں مذکور ہیں۔ نہ قرآن میں لیکن قرآن اور تورات دونوں میں یہ اشارہ موجود ہے کہ خدا نے تمام قوموں میں اپنے رسول بھیجے۔ قرآن میں تو یہ بات نہایت واضح الفاظ میں فرمائی گی ہے لیکن یہود چونکہ اپنے مخصوص خاندان کے انبیاء کے سوا دوسرے انبیاء کی تاریخ گم کرنے کے درپے ہمیشہ رہے ہیں اس وجہ سے تورات میں اس بات کا ذکر واضح الفاظ میں نہیں ہے۔ تاہم اشارات اس میں بھی موجود ہیں۔
Ayah 23:43قوموں کی اجل معین کا اندازہ اور قریش کو تنبیہ
میرے نزدیک یہاں عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے اور اوپر کی آیت اور اس آیت کے درمیان، وضاحت قرینہ کی بنا پر خلا بھی ہے۔ اگر محذوف کو کھول دیجیے اور خلا کو بھر دیجیے تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ان قوموں کی طرف ہم نے اپنے رسول بھیجے لیکن انہوں نے ان کی تکذیب کی جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ ہر قوم اپنی مہلت پوری کرچکنے کے بعد اپنے کیفر کردار کو پہنچی نہ کسی قوم پر اس کی اجل معین پوری ہونے سے پہلے عذاب آیا اور نہ کسی قوم کو اجل معین پوری ہوجانے کے بعد ایک منٹ کی مہلت علی قوموں کی ہلاکت کی اجل سے متعلق ہم دوسرے مقام میں یہ وضاحت کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اجل قوموں کے اخلاقی زوال کے پیمانہ سے ناپ کر مقرر کی ہے اور یہ خدا ہی جانتا ہے کہ کب کوئی قوم اپنے اخلاقی زوال کی اس حد کو پہنچی کہ اب اس کے وجود سے خدا کی زمین کو پاک ہوجانا چاہئے۔ یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ اپنے رسول سے عذاب کے لئے جلدی نہ مچائو۔ جب تمہارا پیمانہ بھر جائے گا تو تم بھی فنا کردیئے جائو گے۔ نہ تمہارے جلدی مچانے سے خدا وقت سے پہلے تم پر عذاب بھیجے گا اور نہ وقت پورا ہوجانے کے بعد ایک سیکنڈ کی مہلت دے گا۔ قوموں کے باب میں سنت الٰہی یہی رہی ہے، اسی سنت کے مطابق تمہارے ساتھ بھی معاملہ ہوگا۔
Ayah 23:44قتریٰ کا مفہوم
قتری کی اصل وتری ہے۔ عربی کے معروف اعدے کے مطابق و ت سے بدل گئی ہے۔ جاو القوم قتریٰ کے معنی ہوں گے لوگ تسلسل کے ساتھ یکے بعد دیگرے آئے۔
قوموں کی تعداد میں اضافہ کے ساتھ ان کی اصلاح کے اہتمام میں اضافہ
بالتدریج قوموں کی تعداد میں جتنا ہی اضافہ ہوتا گیا اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت و اصلاح کے اہتمام وا نتظام میں بھی اسی رفتار سے اضافہ فرمایا۔ یہاں تک کہ ایک ہی دور میں الگ الگ قوموں میں الگ الگ رسول بھی آئے۔ اگرچہ تاریخوں میں تفصیل نہیں ملتی لیکن حضرت ابراہیم و حضرت لوط کا ایک زمانے میں ہونا تو قرآن سے معلوم ہوتا ہے۔ اسی طرح حضرت موسیٰ حضرت ہارون اور حضرت شعیب ایک ہی دور کے رسول ہیں۔ یہ اہتمام اس بات کا صاف ثبوت ہے کہ خدا اپنیی خلق کی اصلاح سے کبھی بےپروا نہیں رہا ہے۔ لیکن جس قوم کے پاس بھی اس کا رسول آیا اس نے اس کی تکذیب کی جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلا کہ یکے بعد دیگرے ہر قوم کو خدا نے ہلاکت کے اسی گڑھے میں جھونک دیا جس میں اس کی پیشرو قوم کو پھینکا۔ وجعلنھم احادیث یعنی پھر یہ ہوا کہ جن کو اپنے کروفر اپنی قوت و شوکت اور اپنے عروج و اقبال پر بڑا نازو فخر تھا وہ ماضی کی ایک داستان پارینہ بن کے رہ گئے۔ فبعداً لقوم لا یومنون یہ جیسا کہ آیت 4 میں گزر چکا ہے، لعنت اور پھٹکار کا جملہ ہے اور اس جملہ کے موقع و محل سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ باوجودیکہ ان قوموں کی تاریخ بہت پرانی ہوچکی ہے لیکن ان کے عدم ایمان پر خدا کا جو غضب ہے وہ بدستور باقی ہے اور آج بھی ان کے ذکر کے ساتھ خدا ان پر لعنت کرتا ہے۔
Ayah 23:45آیات اور سلطن مبین سے مراد
حضرت نوح کے بعد کے تمام رسولوں کی طرف اجمالی اشارہ کرنے کے بعد یہ ان رسولوں کا ذکر ہے جن کی مفصل سرگزشت تورات و انجیل کے صحیفوں میں موجود یہ۔ فرمایا کہ ہم نے اپنی نشانیوں اور ایک حجت قاطعہ کے ساتھ موسیٰ اور اس کے بھائی ہارون کو فرعون اور اس کے اعیان کے پاس رسول بنا کر بھیجا۔ آیات سے مراد میرے نزدیک وہ عام معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ کے ہاتھوں فرعونیوں کے انذار کے لئے ظاہر ہوئے۔ ان کی تفصیل تورات میں بھی موجود ہے اور ہم نے اپنی اس کتاب میں بھی ان کے حوالے دیے ہیں۔ سلطن مبین سے میرے نزدیک عصا کا معجزہ مراد ہے۔ یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ اس معجزے کو درحقیقت ایک برہان اور حجت قاطع کی حیثیت حاصل تھی اس وجہ سے اس کو سلطن مبین سے تعبیر فرمایا۔ اسی معجزے کے ذریعہ سے فرعون اور اس کے درباریوں نے اپنی قوم اور اپنے تمام ماہر جادوگروں کے سامنے نہایت رسوا کن شکست کھائی۔ قرآن میں بعض جگہ اس کو بینۃ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی نہایت واضح حجت لفظ سلطان سورة رحمان کی آیت لاتنفذون الا بسلطن میں توقیع الٰہی اور سند خداوندی کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اس اعتبار سے بھی معجزہ عصا کے لئے یہ لفظ نہایت موزوں ہے اس لئے کہ اس کی حتثی موسیٰ کے ہاتھ میں فی الواقع ایک خدائی سند ہی کی تھی۔
Ayahs 23:46–48آیت 48-46
فرعونیوں کے قومی مزاج کی خصوصیت
یعنی انہوں نے بھی وہی استکبار کی روش اختیار کی جو ہمیشہ سے انبیاء کے مکذبین کی رہی ہے۔ وکانوا قوما عالین ان کے قومی مزاج کی خصوصیت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اکستابر ان کے کسی قوتی ہیجان اواشتعال کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ تھے ہی نہایت سرکش اور مغرور لوگ، فرعونیوں کے اسی مزاج کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے پاس بھیجا تو فرمایا کہ اذھب الی فرعون انہ طغی (طہ :24) (فرعون کے پاس جائو، وہ بہت سرکش ہوگیا ہے) اور یہ بات بھی ہم اس کے محل میں ذکر کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی مرحلہ میں حضرت موسیٰ کو عصا کا معجزہ جو عطا فرمایا تو اسی لئے عطا فرمایا کہ ان کا مقابل ہسخت سرکشوں سے تھا۔ ان سرکشوں کی سرکوبی کے لئے حضرت موسیٰ کا مسلح ہونا ضروری تھا۔ فقالوآ انومن لبشرین مثلنا وقومھما لنا عبدون یہ ان کے استکبار کی وضاحت ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو حق سے بالاتر سمجھا اور کہا کہ ہم اپنے ہی جیسے دو انسانوں کی بات باور کر کے اپنے اوپر ان کی بالاتری کس طرح تسلیم کرلیں بالخصوص جب کہ ان کی قوم ہماری غلامی و تابعداری کر رہی ہے ! فکذبوھما فکانوا من المھ لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ اس غرے میں مبتلا ہو کر انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلا دیا اور اسی کھڈ میں جا گرے جس میں ان سے پہلے ان کے بہت سے ہم شرب گر کے تباہ ہوچکے تھے۔
Ayah 23:49حضرت موسیٰ اور ان کی قوم پر انعام
فرعون اور فرعونیں کی سرکوبی کے بعد یہ وہ انعام ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم پر فرمایا کہ فرعون اور اس کے درباری تو اس غرے میں مبتلا رہے کہ بھلا وہ ایک ایسے شخص کی بات کس طرح مانیں جو ایک ایسی قوم کا فرد ہے جو ان کی غلامی کر رہی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی شخص اور اس کی قوم کو اپنی کتاب سے سرفراز فرمایا کہ وہ زندگی کے مراحل میں اس سے رہنمائی حاصل کریں۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ الکتاب سے یہاں تورات کے سوا کسی اور چیز کو مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور تورات کے متعلق معلوم ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کو مصر سے ہجرت کے بعد عطا ہوئی ہے۔ یھتدون جمع کا صیغہ قوم کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے جس کا ذکر فرعونیوں کے قول و قومھما لنا عبدون میں گزر چکا ہے۔
Ayah 23:50ذات قرار، ومصین کا مفہوم حضرت مریم اور حضرت مسیح کی سرگزشت کی طرف اجمالی اشارہ
ربعۃ مرتفع اور ہموار زمین کو کہتے ہی۔ ذاتقرار کے معنی پر سکون اور معین کے معنی چشمہ کے ہیں۔
یہ سیدنا مسیح کے وقت ولادت کی طرف اشارہ ہے۔ جب حضرت مریم کو ایک الگ تھلگ جگہ ایک درخت کے نیچے جا بیٹھنے کی غیبی ہدایت ہوئی۔ یہ جگہ مرتفع اور پرسکون تھی۔ یہاں کھجور کا ایک ثمر درخت بھی تھا اور اس کے نیچے ایک صاف و شفاف شیریں چشمہ بھی۔ اپنی زندگی کے اس نازک مرحلہ میں حضرت مریم ایک پرسکون گوگشتہ نتہائی کی سختم حتاج تھیں تاکہ زبان خلق کے طعنوں اور کچوکوں سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے فضل و رحمت سے ان کے لئے ایک پرامن گوشہ راحت مہیا فرما دیا۔ یہ ساری تفصیل سورة مریم میں گزر چکی ہے۔ وہاں ہم نے اس ربوۃ کے محل و مقام کی طرف بھی اشارہ کیا ہے او اس واقعہ کے ایک عظیم نشانی ہونے کی بھی وضاحت کی ہے چونکہ یہ تفصیلات پچھلی سورتوں میں گزر چکی تھیں اس وجہ سے قرآن نے یہاں صرف اشارہ کردیا ہے۔
تو خود حدیث مفصل نجواں ازیں مجمل
Ayah 23:51آگے کا مضمون …… آیات 67-51
آگے یہ واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام رسولوں کو ایک ہی دین دیا لیکن ان کی امتوں نے اس دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا اور اب جس کے پاس جو کچھ ہے اس میں مگن ہے، اس کے خلاف کچھ سننے اور سمجھنے کے لئے تایر نہیں ہے۔ اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دی کہ ان کو کچھ دن اور موقع دو۔ یہ اپنی دنیوی کامیابیوں پر خوش ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ بڑے تیر مار رہے ہیں حالانکہ یہ صرف اپنی تباہی کے سامان کر رہے ہیں لیکن ان کو اس کا احساس نہیں ہے۔ اصلی فتوحات دراصل وہ لوگ حاصل کر رہے ہیں جو آج خدا سے ڈرتے اور اس کی آیات پر ایمان لا رہے ہیں۔ بیشک یہ بازی جیتنے والے لوگ ہیں۔ رہے یہ برخود غلط لوگ تو جلد وہ دن آنے والا ہے جب یہ اپنی بدبختی پر اپنے سرپیٹیں گے لیکن کسی طرف سے ان کی کچھ شنوائی نہ ہوگی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
تمام رسولوں کو مشترک ہدایت
یہ اس ہدایت کا حوالہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام رسولوں کو دی کہ اللہ کی بخشی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک اعمال کرو اور اس بات کو یاد رکھو کہ جو کچھ تم کرو گے میں اس سے اچھی طرح باخبر ہوں۔ مطلب اس بات کا حوالہ دینے سے یہ ہے کہ اللہ نیح تو اپنے رسولوں کو یہ ہدایت دی، اسی پر انہوں نے عمل کیا اور اسی کی اپنی اپنی امتوں کو دعوت دی لیکن ان کی امتوں نے خود اپنے جی سے، اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت طیبات کو حرام اور خبائث کو حلال ٹھہرایا اور اپنے رسولوں کی بتائی ہوئی شاہراہ چھوڑ کر بدعملی اور کفر و فسق کی راہ اختیار کی۔
انی بما تعملون علیم میں تعدید و تسلی دونوں ہے۔ یعنی اگر تم نیکی عمل کرو گے تو وہ بھی میرے علم میں رہے گا اور میں اس کا پورا پورا صلہ دوں گا اور اگر برائی کا ارتکاب کرو گے تو وہ بھی میرے علم میں رہے گی اور میں اس کی سزا بھی دے کر رہوں گا۔
Ayahs 23:52–53آیت (53-52)
تمام انبیاء کی مشترک دعوت کے برخلاف ان کی امتوں کا رویہ
ان تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی رہی ہے اور یہ سب ایک ہی امت ہیں۔ یہ ایک ہی دین ل کے آئے اور لوگوں کو ایک ہی امت بنانے کی کوشش کی اور میں ہی سب کا رب ہوں۔ یعنی اصل حقیقت تو یہ ہے لیکن امتوں نے اپنی باہمی ضدم ضدا سے اپنے واحد دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور اب حال یہ ہے کہ جو کچھ جس کے پاس ہے وہ اسی میں مگن ہے بعینیہ یہی بات تمام انبیاء کی دعوت کا حوالہ دینے کے بعد سورة انبیاء میں یوں فرمائی گئی ہے۔ ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ واناربکم فاعبدوں، وتقطعوآ امرھم بینھم 53-52 (یہ سب تمہاری ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا رب ہوں تو میری ہی بندگی کرو اور انہوں نے اپنے درمیان اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرلیا)
یہی مضمون اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
یہی مضمون اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
کان الناس امۃ واحدۃ فبعث اللہ النبین مبشرین و منذرین وانزل معھم الکتب بالحق لیحکم بین الناس فیما اخلقوافیہ وما اختلف فیہ الا الذین اوتوہ من بعد ما جآء تھم البینت بغیاً بینھم (213)
لوگ ایک ہی امت بنائے گئے (تو لوگوں نے اس میں اختلاف کیا) تو اللہ نے نبیوں کو خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا اور ان کے ساتھ قول فیصل کے ساتھ کتاب اتاری تاکہ لوگوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے جس میں انہوں نے اختلاف کیا اور اس میں اختلاف انہی لوگوں نے کیا جن کو وہ چیز دی گئی تھی، کھلی ہوئی تنبیہات کے آجانے کے باوجود محض آپس کی ضدم ضدا کے باعث
انبیاء اور ان کی امتوں کے باب میں قرآن کا موقف
یہاں نبیوں اور امتوں کے باب میں قرآن کے مئوقف کو اچھی طرح ذہن نشین کر لجییے۔ اگرچہ اس کی وضاحت سورة بقرہ اور سورة انبیاء کی تفسیر میں ہوچکی ہے لیکن اس کو اچھی طرح نہ سمجھنے کے باعث لوگ شدید غلط فہمیوں میں مبتلا ہوئے ہیں اس وجہ سے ہم اصل حقیقت پھر واضح کئے دیتے ہیں۔
قرآن اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ دنیا میں خدا کے جو نبی اور رسول آئے وہ الگ الگ دنیوں کی دعوت لے کر آئے اور نہوں نے الگ الگ امتوں کی بنا ڈالی بلکہ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ ہر نبی نے ایک ہی امت … امت مسلمہ … کے قائم کرنے کی جدوجہد کی۔ جب قوموں نے اس دین میں بگاڑ پیدا کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس بگاڑ کی اصلاح کے لئے دوسرے نبی اور رسول بھیجے۔ ان نبیوں اور رسولوں نے اصل دین سے الگ کوئی چیز نہیں پیش کی بلکہ صرف اصل دین کو قائم کرنے پر اپنا سارا زور صرف کیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت مقتضی ہوئی تو انہوں نے اسی دین کے مزید مقتضیات نمایاں کئے۔ قرآن اسی مبارک سلسلہ کی آخری کڑی ہے۔ اس نے اصل دین کو، جس کی دعوت آدم و نوح سے لے کر حضرت مسیح تک ہر نبی نے دی، بالکل نکھار کر، اس کی اصلی صورت میں پیش کردیا ہے اور اس کے جو پہلو ابھی تشنہ تکمیل تھے اور جن کی تکمیل کا کام، سابق انبیاء کی پیشنگوئیوں کے مطابق آخری بعثت پر اٹھا رکھا گیا تھا، ان کی اس نے تکمیل کردی۔ اپنی اس حقیقت کے اعتبار سے تمام ملتوں اور قوموں کا اصل دین یہی ہے۔ لیکن قوموں نے اپنی تنگ نظری اور تعصب کے سبب سے اس کی مخالفت کی اور اب جس کے پاس جو کچھ ہے، خواہ کتنا ہی محرف اور ناتمام ہو، وہ اسی پر اڑا ہوا اور اسی میں مگن ہے … یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ یہ بات نبی ﷺ کے لئے تسلی کے طور پر فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ ایسے شامت زدہ ہیں کہ وہ اپنے ہی کھوئے ہوئے خزانے سے بہرہ مند نہیں ہونا چاہتے ان کا غم تم کہاں تک کھائو گے !
Ayah 23:54قذرھم فی غمرتھم حتی حین (54)
غمرۃ سے مراد یہاں غفلت کی سرمستی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ جب تم نے ان کو اتنا جھنجھوڑا لیکن یہ کروٹ بدلنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اب ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔ یہ خود بہت جلد اپنی اس سرمستی کا انجام دیکھ لیں گے۔ حتی حین سے مراد مہلت کی وہ مدت ہے جو ان کے لئے مقرر تھی اور جس کے ختم ہونے کا وقت اب قریب آ لگا تھا۔
Ayahs 23:55–56آیت 56-55
سرگشتگان دنیا کو تنبیہ
مال وبنین دنیاوی رفاہیت کی ایک جامع تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سرمستوں کی سرمستی کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان کو دنیا کی جو خوشحالیاں دے رکھی ہیں انکی تھپکیاں ان کو جاگنے نہیں دے رہی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عیش جو ان کو حاصل ہے، ان کی زندگی کے کامیاب ہونے کی دلیل ہے اور ان کامیبیوں اور فتوحات میں برابر ضا افہ ہی ہوتا رہے گا اس وجہ سے کسی ڈرانے والے کے ڈرائوئوں سے ڈر کر انہیں اپنا عیش مکدر نہیں کرنا چاہئے۔ فرمایا کہ اگر وہ یہ سمجھے بیٹھے ہیں تو بہت غلط سمجھے ہیں۔ یہ جن چیزوں کو کامیابیاں تصور کئے ہوئے ہیں یہ کامیابیاں نہیں ہیں بلکہ یہ قدرت کے استدراج کا پھندا ہے جس میں پھنس جانے کے بعد وہ کبھی اس سے چھوٹ نہیں سکیں گے لیکن وہ اپنی بلاوت کے سبب سے اس حقیقت کا احساس نہیں کر رہے ہیں۔
Ayahs 23:57–61آیت 61-57
بازی جیتنے والوں کی صفات
یہاں سورة کی ابتدائی دس آیات پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ وہاں جن اہل ایمان کو فوز و فلاح کی بشارت دی ہے۔ انہی کا ذکر ذرا مختلف الفاظ میں پھر فرمایا کہ البتہ یہ لوگ، جن کی صفات یہ یہ ہیں، حقیقی کامیابیوں کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں اور بیشک یہ لوگ اپنی منزل مقصود کو پہنچ کے رہیں گے۔ ان لوگوں کی مندرجہ ذیل صفات یہاں گنائی ہیں اور یہ صفات ان مسلمانوں کی ہیں جو اس دور میں دنیا کی تمام مرغوبات سے منہ موڑ کر رضائے الٰہی کی طلب کی راہ میں سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے۔
ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ یہ اپنے رب کی خشیت سے ہر وقت لرزاں و ترساں ہیں۔ اس کی شہادت ان کی نمازوں سے ملتی ہے۔ چناچہ اوپر فرمایا ہے۔ ھم فی صلاتھم خشعون
دوسری صفت یہ ہے کہ ھم بایت ربھم یومنون یہ متکبرین کی طرح خدا کی آیات کا مذاق نہیں اڑاتے بلکہ جب اللہ کا رسول ان کو یہ آیات سناتا ہے تو وہ ان پر آمنا و صدقنا کہتے ہیں۔
تیسری صفت یہ ہے کہ ھم بریھم لایشکرون ان کا سارا اعتماد اپنے رب پر ہے وہ کسی کو اس کا شریک نہیں ٹھہراتے۔
چوتھی صفت یہ کہ یوقون مآ اتواء قلوبھم وجلۃ انھم الی ربھم رجعون وہ خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں نمائش اور فخر کے لیء نہیں خرچ کرتے بلکہ خدا کی رضا جوئی کے لئے خرچ کرتے ہیں کہ ایک دن کو منہ دکھاتا ہے۔ انھم الی ربھم راجعون میرے نزدیک دجلۃ کے وضاحت کے طور پر ہے اس سے اس خوف کی وضاحت ہوگئی جو ان کے دلوں میں سمایا ہوا ہے۔
اولئک یسرعون فی الخیرت وھم لھا سبقون فرمایا کہ بیشک یہ لوگ ہیں جو بھلائیوں اور کامیابیوں کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں اور یہ ان نیکیوں کے ثمرات پا کے رہیں گے نہ کہ وہ لوگ جو ہمارے استدراج کو اپنی فتوحات سمجھ رہے ہیں اور برابر اپنی ہلاکت کے غار کی طرف آنکھیں بند کئے ہوئے بگٹٹ بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ یہ آیت اوپر کی آیت 56 کی مقابل آیت اور شروع کے مضمون قد افلح المومنون الآیہ کی وضاحت مزید کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں دونوں آیتوں کے اسلوب بیان کے اس فرق پر بھی نگاہ رہے کہ اوپر تو فرمایا کہ نادرع لھم فی الخیرت (یہ عیش دنیا کے متوالے اس مغالطہ میں ہیں کہ انکے مال و اولاد میں ہم جو اضافہ پر اضافہ کر رہے ہیں یہ ان کے لئے خیر میں اضافہ کر رہے ہیں) اور ان اہل ایمان کے باب میں فرمایا کہ اولئک یرعون فی الخیرت (بےشک یہ لوگ ہیں جو بھلائیوں کی راہ میں سبقت کر رہے ہیں اور یہ اپنی بازی جیتیں گے اسلوب بیان کا یہ فرق واضح کرتا ہے کہ اس دنیا میں انسان جو کچھ پاتا ہے وہ بہرحال خدا ہی کے دیئے پاتا ہے اور اس کی حیثیت انعام کی نہیں بلکہ امتحان کی ہوتی ہے۔ البتہ آخرت میں انسان جو کچھ پائے گا وہ اس کی اپنی سعی و عمل کا ثمرہ اور اس کی اپنی محنت کا اجر ہوگا تو جس کو مسابقت کرنی ہو وہ اس میدان میں کرے۔ نہ کہ اس میدان میں جس کی ہر چیز محض وقتی اور آزمائشی ہے۔
Ayah 23:62اہل ایمان کو ایک بشارت
یہ بطور جملہ معترضہ اہل ایمان کے لئے اسی طرح کی بشارت اور تسلی ہے جس طرح کی بشارت بقرہ کی آخری آیت میں گزر چکی ہے۔ یعنی ہرچند ہے تو یہ امتحان سخت لیکن اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ ہم اپنی راہ میں مسابقت کرنے والوں کو کسی ایسے امتحان میں نہیں ڈالتے جو ان کی طاقت سے زیادہ ہو اور یہ اطمینان بھی رکھیں کہ وہ ہماری راہ میں جو مشقت بھی جھیلیں گے خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی وہ ہمارے پاس ایک رجسٹر میں درج ہوتی ہے، وہ رجسٹر جزائے اعمال کے دن، ہر ایک کی تمام اعمال کا پورا پورا ریکارڈ، بالکل ٹھیک ٹھیک پیش کر دے گا اور ہر شخص اس کے مطابق اپنے ہر عمل کا صلہ پائے گا، کسی کی ذرہ برابر بھی کوئی حق تلفی نہ ہوگی۔
Ayahs 23:63–64آیت 64-63
مترفین اور ان کے پیروئوں کا انجام
اس اضراب کا تعلق متکبرین کے اسی مغالطہ سے ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ وہ اپنی رفاہیت و خوش حالی کو اپنی نیک اعمالی و نیک مآلی کی دلیل بنائے بیٹھے ہیں۔ وہاں صرف ان کے مغالطہ کی طرف اشارہ کر کے کلام اہل ایمان کے ذکر کی طرف مڑ گیا تھا۔ اب پھر وہی سلسلہ کلام عود کر آیا۔ فرمایا کہ ان لوگوں کے دل، اس انذار سے جو خدا کا رسول ان کو سنا رہا ہے، غفلت کے پردوں میں ہیں اور یہ اسی طرح سرمستیوں میں کھوئے رہیں گے۔ اہل ایمان کے جو اعمال، آیات 60-57 میں مذکور ہوئے ان کے اندر ان کے لئے کوئی کشش نہیں۔ انکی دلچسپی کے اعمال کچھ اور ہیں اور وہ انہی میں منہمک رہیں گے۔ یہاں تک کہ جب خدا کا عذاب ان کو دبوچ لے گا تب وہ فریاد کریں گے لیکن اس وقت ان کا فریاد کرنا بالکل بےسود ہوگا۔
جآویجئو، کے معنی تضرع وزاری کرنے کے ہیں اور اور مترفین مالداروں اور خوش حالوں کو کہتے ہیں وہ عذاب الٰہی جو رسول کے انذار کے نتیجہ میں آتا ہے۔ وہ اصلاً مترفین ہی کے لئے آتا ہے اس لئے کہ رسول کے انذار سے اصلی خدا نھیں کو ہوتی ہے۔ اسیو جہ سے فرمایا اخذنا مترفیھم بالعذاب لیکن ضمنا اس کی لپیٹ میں وہ لوگ بھی آجاتے ہیں جو مترفین کے طبقہ سے تو نہیں ہوتے لیکن اپنی شامت اعمال سے آلہ کار انہیں کے بن جاتے ہیں اس وجہ سے جس طرح گندم کے ساتھ گھن پس جاتا ہے اسی طرح اپنے سرپرستوں کے ساتھ وہ بھی پس جاتے ہیں۔
Ayahs 23:65–66آیت 66-65
یعن اس وقت ان کی فریاد کا جواب ہماری طرف سے یہ ہوگا کہ اب ہمارے آگے رونے گڑ گڑانے کا وقت گزر چکا۔ اس کا موقع پہلے تھا لیکن وقت تو تمہاری رعونت کا حال یہ رہا کہ جب ہماری آیات انذار تم کو سنائی جاتیں تو تم پیٹھ پیچھے جاگتے اور ہمارے رسول کی کوئی بات سننے کے لئے تایر نہ ہوتے تو اب اپنی ضد کا انجام بھگتو ! اب ہماری طرف سے اپنے لئے کسی خیر کی امید نہ رکھو اور کوئی دوسرا بھی آج ہمارے مقابل میں تمہاری کوئی مدد نہ کرسکے گا۔ فرعون کی سرگزشت میں بھی بعینیہ یہی بات مذکور ہوئی ہے۔ وہ جب طوفان کی لپیٹ میں آگیا تو چلایا کہ میں موسیٰ و ہارون کے رب پر ایمان لایا۔ لیکن اس کا یہ اقرار ایمان درخور اعتناء نہیں ٹھہرا۔ بلکہ اس کو جواب ملا کہ اب ایمان لائے ! ایمان لانے کا وقت پہلے تھا، جب تم نے نافرمانی کی، پیچھے ہم اس امر کی طرف اشارہ کرچکے ہیں کہ بات قولاً بھی ہو سکتی ہے اور صورتحال کی تعبیر بھی۔
Ayah 23:67متکبرین بہ سمراتھجرون (67)
آیت 67 کی تالف اور اس کی تاویل
اس آیت کی تالیف کلام اور اس کی تاویل میں ہمارے مفسرین کو بڑا اضطراب پیش آیا ہے۔ ان کے اقوال نقل کرنے اور ان پر تنقید کرنے میں بڑی طوالت ہوگی اس وجہ سے ہم صرف اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔
استکبار کے بعد اب اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ لفظ یہاں استہزاء کے مفہوم پر مضمن ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
بہ کی ضمیر مجرور کا مرجع مفسرین کے ایک گروہ نے لفظ آیات کو قرار دیا ہے جو اوپر والی آیت میں مذکور ہے اور اس کو علی سبیل التاویل ذکر اور کتاب کے مفہوم میں لیا ہے۔ اگرچہ یہ بات عربیت کے خلاف نہیں ہے۔ آیت، کتاب، ذکر اور رسول متبادل الفاظ کی حیثیت سے قرآن میں استعمال ہوئے ہیں لیکن ہمارے نزدیک اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔ بسا اوقات ضمیر کا مرجع یا اسم اشارہ کا مشار الیہ الفاظ میں مذکور نہیں ہوتا بلکہ فخرائے کلام سے متبادر ہوتا ہے اور اس کا تعین قرینہ کرتا ہے۔ قرآن اور کلام عرب دونوں میں اس کی نظریں موجود ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں اور آخری گروپ کی سورتوں میں اس کی نہایت بلیغ مثالی ائٓیں گی۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس ضمیر کا مرجع رسول ہے جس کی تکذیب اور جس کے ساتھ استہزاء کے عواقب اس سورة میں زیر بحث ہیں اور جس کی تلاوت آیات قدکانت ایتی تتلی علیکم میں مذکور ہے۔
سامر کے معنی افسانہ خواں اور قصہ گو کے ہیں۔ یہ تھجرون کا مفعول بھی ہوسکتا ہے اور اگر اس کو ضمیر مجرود سے حال مانی جب بھی کوئی قباحت نہیں ہے۔ مجرور سے حال پڑنے کی متعدد مثالیں اس کتاب میں ہم پیش کرچکے ہیں۔
تھجرون اپنے بالکل معروف معنی (تم چھوڑتے تھے) میں استعمال ہوا ہے۔ اس کو اس کے معروف معنی سے ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اگر اس تالیف کلام پر آپ کو اطمینان ہے تو لاتجروالیوم سے لے کر یہاں تک جو بات فرمائی گئی ہے وہ سادہ الفاظ میں یوں ہے کہ اب روئو یا چلائو، اس سے کچھ حاصل نہیں، اب نہ ہمارے ہاں تمہاری کچھ شنوائی ہے اور نہ کوئی دوسرا ہی تم کو ہم سے چھڑا سکتا ہے۔ ہماری خوشنودی حاصل کرنے کا وقت وہ تھا جب ہمارے رسول کی زبانی تم کو ہماری ٓیات سنائی جا رہی تھیں لیکن اس وقت تمہاری بد دماغی کا یہ حالت ھا کہ تم نہایت تکبر کے ساتھ، اس کا مذاقاڑاتے ہوئے، اس طرح اس سے کتراتے تھے گویا وہ کوئی افسانہ گو اور قصہ خاں ہے جس کی بات تمہارے نزدیک درخور اعتناء نہیں۔
یہ امر ملحوظ رہے کہ نبی ﷺ کے مترفین کو پچھلی قوموں کی جو سرگزشتیں سناتے ان سے وہ سبق لینے کے بجائے آپ کا مذاق اڑاتے اور اپنے عوام کو ورغلاتے کہ اس شخص کے پاس ہے کیا ! پچھلی قوموں کی کچھ حکایات ہیں جن کو یہ سناتا پھر رہا ہے ! ان ھوالا اساطیر الاولین
Ayah 23:68آگے کا مضمون …… آیات 92-68
آگے چند آیات میں کفار کے لا ابالی پن پر زجر و توبیخ ہے۔ پھر نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی ضد اور مکابرت سے مایوس نہ ہو۔ تم صراط مستقیم پر ہو اور یہ لوگ صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ یہ اپنا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اگر ہم ان لوگوں کو بطور تنبیہ کسی مصیبت میں بھی مبتلا کریں جب بھی یہ سنبھلنے والے نہیں ہیں بلکہ ان سے چھوٹتے ہی پھر اپنی سرمستیوں میں کھو جائیں گے جن میں کھوئے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد آفاق وانفس کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ لوگ لا ابالی پن چھوڑ کر کچھ سونچنے سمجھنے کی طرف مائلی ہوں لیکن اس کے جواب میں بھی انہوں نے یہی کہا کہ وہ سب پچھلوں کے فسانے ہیں۔ اس کے بعد چندآیات میں لوگوں کے تضاد فکر کی طرف توجہ دلائی ہے اور ان سے سوال کیا ہے کہ ایک طرف تو تم صحیح باتوں کا اقرار و اعلان کرتے ہو لیکن پھر تمہاری عقل کہاں گم ہوجاتی ہے کہ ان کے بالکل برعکس باتیں مان کر ضلالت کی وادی میں بھٹک جاتے ہ ! … اس روشنی میں آیات کی تلاوت کیجیے۔
استفہامیہ اسلوب ببقصد زجر و ملامت
یہ اور آگے جو باتیں استفہامیہ اسلوب میں آئی ہیں سب بطور اظہار حسرت اور بقصد اجر و ملامت ہیں۔ قول سے مراد یہاں قرآن ہے جس سے اعراض کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوچکا ہے۔ فرمایا کہ آخر یہ لوگ اس قرآن سے اس درجہ کیوں بدک رہے ہیں ! کیا انہوں نے اس کلام پر غور نہیں کیا یا ان کا گمان یہ ہے کہ یہ ان کے باپ دادا کے طریقہ کے خلاف ہے۔ چونکہ یہاں کلام زجر اور حسرت کے انداز میں عیہ اس وجہ سے بات مجمل چھوڑ دی گئی ہے۔ دوسرے مقام میں یہ تصریح ہے کہ ان کے دلوں پر تالے چڑھے ہوئے ہیں اس وجہ سے قرآن کی باتیں ان کے دلوں میں نہیں اترتیں۔ قرآن کو باپ دادا کی روایات کے خلاف سمجھ کر اس سے بدکنا بھی نری جہلات ہے۔ باپ دادا کا طریقہ بجائے خود اپنی صحت و صدانقت کی دلیل نہیں ہے بلکہ اس کا عقل و فطرت کی کسوٹی پر پورا اترنا بھی ضروری ہے علاوہ ازیں آخر یہ لوگ اپنی ناک سے آگے کیوں نہیں دیکھتے ! ان کیا صل جد اعلیٰ تو حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل ہیں وہ تو اسی دین کے حامل اور داعی تھے۔ یہ لوگ اپنے ان اجداد کرام کی پیروی کیوں نہیں کرتے، اپنے انہی آباء کی لکیر کیوں پیٹے جا رہے ہیں جو دین سے بالکل بیخبر تھے !
Ayah 23:69قریش کو ایک سخت خطرے سے آگاہی
یہ اس سنت الٰہی کی روشنی میں، جو قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوچکی ہے، قریش کو ایک سمت خطرے سے آگاہی ہے۔ وہ سنت الٰہی یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر قوم پر اتمام حجت کے لئے ایک رسول بھیجتا ہے جو اسی قوم کے اندر سے ہوتا ہے۔ اگر قوم اس پر ایمان لاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو برومند کرتا اور زمین میں اس کو اقتدار بخشات ہے اور اگر وہ رسول کی تکذیب کردیتی ہے تو اتمام حجت کے بعد وہ لازماً فنا کردی جاتی ہے۔ اس وجہ سے کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت کا مرحلہ ایک بڑا ہی نازک مرحلہ ہوتا ہے۔ اسی مرحلہ میں اس کی زندگی یا موت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بدقسمت ہے وہ قوم جو اس مرحلہ کی نزاکت کو نہ سمجھے اور اپنے رسول کے معاملہ میں لا ابالی پن کا مظاہرہ کرے۔ قریش کی اسی ناعاقبت اندیشی پر یہ ان کو تنبیہ ہے کہ کیا انہوں نے اپنے رسول کو پچانا نہیں اس وجہ سے اس کا انکار کئے جا رہے ہیں یا سب کچھ جان بوجھ کر ہو رہا ہے۔ دیدہ دانستہ ہو رہا ہے تو اس کھیل کا انجام معلوم ہے !
Ayah 23:70رسول کو خبطی قرار دینے کی وجہ دراصل حق بیزاری ہے
یعنی اگر وہ اپنے عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ رسول کو خبط اور سودا لاحق ہے تو یہ خود ان کے اپنے پاگل ہونے کی دلیل ہے۔ رسول کو کوئی خبط و سودا نہیں ہے۔ وہ تو جو کچھ پیش کر رہا ہے وہ بالک لحق ہے اور اس کی ایک ایک بات پوری ہو کے رہے گی۔ البتہ یہ خود حق سے بیزار ہیں۔ اس وجہ سے رسول کو دیوانہ قرار دے رہے ہیں۔ مریضک و جب طبیب کی تشخیص کردہ دوائیں کڑوی معلوم ہوتی ہیں اور وہ ان کو حلق سے اتارنے پر تیار نہیں ہوتا تو وہ اپنے کو مریض تسلیم کرنے کے بجائے الٹے طبیب ہی کے مشورے کو ہذیان قرار دیتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا تھا۔ یہ اپنے باطل کو چھوڑ کر حق کے کڑوے کسیلے گھونٹ حلق سے اتارنے کے لئے تیار نہیں تھے اس وجہ سے رسول کو دیوانہ قرار دیتے تھے کہ اس طرح اپنی خرد باختگی پر کچھ پر دہ ڈال سکیں۔
Ayah 23:71خواہشات نفس اور حق کے درمیان بعد المشرقین ہے
اب یہ خواہشات نفس اور حق دونوں کے اختلاف مزاج کو واضح فرمایا ہے کہ ان دونوں کے درمیان بعد المشرقین ہے۔ خواہشات نفس کے مطالبے کچھ اور ہیں، حق کے تقاضے، ان سے بالکل الگ کچھ اور ہیں۔ اگر حق ان کی خواہشات کے پیچھے پیچھے چلنے لگے، جیسا کہ یہ چاہتے ہیں کہ قرآن اور پیغمبر کی باتیں ان کی خواہشوں کے مطابق ہوں تب یہ ان کو مانیں گے تو اس کا لازمی نتیجہ اس پوری کائنات کی تباہی ہے۔ اس لئے کہ یہ خبر کی جگہ شر، عدل کی جگہ ظلم، نیکی کی جگہ بدی، امانت کی جگہ خیانت اور اس سے بھڑ کر یہ کہ توحید کی جگہ شرک اور قیامت کے بجائے انکار قیامت کے علم بردار ہیں۔ اگر یہ تمام اقدار ان کی خواہشوں کے مطابق تلپٹ ہوجائیں تو اس دنیا کا سارا اخلاقی نظام درہم برہم ہوجائے اور اگر اس کے اندر شرک کے وجود کو تسلیم کرلیا جائے تو شرک کے ساتھ تو اس کائنات کا نظام ایک دن بھی باقی نہ رہ سکتا۔ اس حقیقت کو آگے اسی سورة میں یوں واضح فرمایا ہے۔ ما اتخذ اللہ من ولد وما کان معہ من الہ اذا لذھب کل الہ بما خالق ولعلا بعضھم علی بعض (91) (اللہ نے نہ تو اپنے لئے کوئی اولاد بنائی اور نہ کوئی معبود اس کے ساتھ شریک ہے، اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود، جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے اس کو لے کر چل دیتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا۔)
مطلب یہ ہے کہ یہ تولق تو حق کو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلانا چاہتے ہیں اور اس دنیا کی نجات و فلاح حق کے پیچھے چلنے میں ہے۔ خالق کائنات اپنی دنیا کو ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا۔ اب یہ لوگ خود فیصلہ کریں کہ حق کے پیچھے چل کر زندگی چاہتے ہیں یا باطل کے ساھ چمٹے رہ کر موت اور ہلاکت ! اگر زندگی مطلوب ہے تو یہ گھونٹ حلق سے اتارنے پڑیں گے، خواہ کڑوے لگیں یا میٹھے۔ اس سے الگ زندگی کی کوئی اور راہ نہیں ہے۔
یاد دہانی سے اعراض کرنے والوں کا انجام
بل اتینھم بذکر ھم فھم عن ذکر ھم معرضون یہ دوسرے الفاظ میں وہی تنبیہ ہے جو اوپر ام لم یعرفوا رسولھم کے الفاظ میں گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اس قرآن کو کسی افسانہ گو کی افاسنہ گوئی سمجھے ہیں تو بہت غلط سمجھے ہیں۔ یہ ان کے حصہ کی وہ یاد دہانی ہے جو اتمام حجت کے لئے ہم نے ان کی طرف بھیجی ہے۔ اگر اس یاد دہانی سے انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو یاد رکھیں کہ ان کا بھی وہی انجام ہوگا جو ان سے پہلے خدا کی یاد دہانی کی ناقدری کرنے والی قوموں کا ہوچکا ہے۔ اوپر ہم اس سنت الٰہی کا حوالہ دے چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی طرف اپنے رسول بھیجے اور اس رسولوں کے ذریعہ سے ان قوموں کو یاد دہانی کی۔ جس قوم نے اس یاد دہانی کی قدر کی اس نے فالح پائی، جس نے اس کی قدر نہ کی وہ فنا کردی گئی۔ یہاں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ کر کے آگاہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ اس یاد دہانی سے اعراض کئے جا رہے ہیں اور اس کے عواقب سے بیخبر ہیں !
نبی کا زادوں راحلہ اس کے ساتھ ہوتا ہے
Ayah 23:72ام تسئلھم خرجاً فخراج ربک خیر وھو خیر الرزقین 72
اس آیت میں نبی ﷺ کے لئے تسلی اور آپ کے مخالفین کے لئے ملامت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ان کے آگے جو کچھ پیش کر رہے ہو اس کا کوئی معاوضہ تو طلب کر نہیں رہے ہو کہ یہ اس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہوں تم نے تو مفت پایا ہے۔ مفت بانٹ رہے ہو۔ اگر انہوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو اس میں ان کی اپنی ہی محرومی ہے۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے تمہاری دعوت قبول نہ کی تو اس سے تمہیں کوئی نقصان پہنچا دیں گے تو بالکل غلط سمجھتے ہیں۔ تمہارے لئے تمہارے رب کا بخشا ہوا اجر ہی بہتر ہے اور وہ بہترین فضل فرمانے والا ہے۔ خدا کا رسول کوئی تاجر یاد ندار نہیں ہوتا بلکہ ایک داعی حق ہوتا ہے۔ اس کی دعوت اپنا زاد و راحلہ خود اپنے ساتھ رکھتی ہے اور یہی شان ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو نبیوں کے طریقے پر کام کرتے ہیں۔
Ayahs 23:73–74آیت 74-73
صراط مستقیم سے انحراف کی اصل علت
یعنی جہاں تک تمہاری دعوت کا تعلق ہے وہ تو زندگی کی صحیح شاہراہ پر چلنے کی دعوت ہے۔ اسی شاہراہ پر چل کر انسان منزل مقصود کو پہنچ سکتا ہے لیکن اس کو اختیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی آخرت پر ایمان رکھتا ہو۔ اگر آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو تو آخر اس کو کیا پڑی ہوئی ہے کہ وہ اپنے نفس کی آزادیوں اور بےقیدگیوں پر پہرہ بٹھائے۔ اپنی نقد لذتوں کی قربانی تو وہی دے سکے گا جس کو ایک روز جزا کا انتظار ہو۔ جس کو اس قسم کے کسی دن کا انتظار نہیں ہے وہ اپنی خواہشوں ہی کے پیچھے چلے گا خواہ ان کی پیروی میں وہ صراط مستقمس سے کتنا ہی دور نکل جائے۔ اس آیت میں آنحضرت ﷺ پر یہ حقیقت واضح فرمائی گی ہے کہ آپ کی بتائی ہوئی راہ سے جو لوگ انحراف اختیار کئے ہوئے ہیں اس کا سبب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اس میں کوئی پیچ و خم ہے، یہ تو بالکل سیدھی راہ ہے، خوابی جو کچھ ہے ان کے دلوں میں ہے۔ ان لوگوں کے دلوں میں آخرت پر ایمان نہیں ہے اور جن کے اندر آخرت پر ایمان نہ ہو وہ اس سیدھی راہ سے کج ہو کر ہی چلیں گے۔ حکمت دین کی اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشین رکھیے کہ جب تک اس دنا کے ساتھ آخرت کو نہ مانئے نہ اس اونٹ کی کوئی کل سیدھی نظر آئے گی اور نہ زندگی کی صحیح شاہراہ معین ہو سکے گی۔ اس حقیقت کو ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ رہے ہیں۔
Ayah 23:75آنحضرت کو تسلی تاریخ کی روشنی میں
اس آیت میں عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق، شرط میں سے کچھ حصہ، بربنائے وضاحت قرینہ حذف ہے۔ اس حذف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی کہ اگر ہم ان کو بطور تنبیہ کسی مصیبت میں مبتلا کرتے کہ ان کے اندر کچھ خوف خدا اور تضرح پیدا ہو، پھر ان پر رحم کرتے اور ان کی مصیبت دور کردیتے تو یہ پھر اپنی اسی سرکشی میں پڑے ہوئے اسی طرح بھٹکتے رہتے۔ مطلب یہ ہے کہ اس ذہنیت کے لوگوں کو عذاب کی نشانیاں بھی، جن کا یہ مطالبہ کرتے ہیں، کوئی نفع نہیں پہنچاتیں۔ اگر ان سے ان کی گردنوں میں ذرا خم پیدا ہوتا بھی ہے تو محض وقتی طور پر پیدا ہوتا ہے۔ مصیبت کے دن گزرتے ہیں ان کے لیڈر یہ سبق پڑھانا شروع کردیتے ہیں کہ اس طرح کے نرم و گرم حالات تو قوموں کو پیش آیا ہی کرتے ہیں، اس کو ہمارے ایمان و اخلاق سے کیا تعلق ! … یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گی ہے کہ یہ عذاب کی کوئی نشانی مانگتے ہیں تو اس کو کوئی اہمیت نہ دو۔
اس قماش کے لوگوں کو کوئی نشانی نفع نہیں پہنچاتی۔
Ayah 23:76تنبیہی عذاب
ولقد اخذ نھم یعنی ولقد اخذنا اشیامھم ہم نے ان کے ہم مشربوں کو اس سے پہلے اپنے تنبیہی عذابوں میں پکڑا لیکن نہ تو ان کے دلوں میں خستگی اور فروتنی پیدا ہوئی اور نہ وہ اپنے رب کے آگے گریہ وزاری کرتے تھے۔ یہ پچھلی تاریخ کی روشنی میں اسی بات کی دلیل بیان ہوئی ہے جو اوپر والی آیت میں مذکور ہوئی ہے کہ تاریخ شاہد ہے کہ اس قماش کے لوگ تنبیہات سے کوئی سبق نہیں لیتے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو بھی کوئی تنبیہ کی گئی تو پیغمبر کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ یہ اس سے کوئی سبق لیں گے۔ ھم سے مراد یہاں قریش نہیں بلکہ ان کے وہ ہم مشرب ہیں جو پچھلی امتوں میں گزر چکے تھے۔ عربی میں غایت مجانست و مشابہت کے اظہار کے مواقع میں اس طرح ضمیریں آتی ہیں۔ اس کی مثالیں قرآن اور کلام عرب میں موجود ہیں۔ اس میں یہ بلاغت ہے کہ ان کو پکڑا تو گویا انہی کو پکاڑ اس لئے کہ مرتکب دونوں ایک ہی جرم کے ہیں۔
استکانۃ اور تضرع میں ظاہر و باطن کا فرق ہے۔ استکانۃ دل کی شکستگی و خستگی کی تعبیر
ہے اور تضوع سے مراد وہ گریہ وزاری اور دعا فریاد ہے جو استکانۃ کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ میرے نزدیک یہاں مضارع سے پہلے فعل ناقص محذوف ہے۔
Ayah 23:77حتی اذا فتحنا علیھم بابا ذا عذاب شدید اذا ھم فیہ مبلسون 77
عذاب شدید سے مردا
یعنی تبیہی جھڑکیوں سے تو ان مغروروں کا دماغ درست ہونے والا نہیں ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آجائے گا جب ان کی اس تکذیب کے نتیجہ میں ہم ان پر اپنے عذاب شدید کے دروازے کھول دیں گے۔ عذاب شدید سے مراد یہاں وہ فیصلہ کن عذاب ہے جو سنت الٰہی کے تحت ہر اس قوم پر آیاجس نے اپنے رسول کی تکذیب کردی اور اپنی ضد پر اڑی رہ گئی۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرچکے ہیں۔ اس عذاب کے ظہور کے بعد پھر قوم کو مہلت نہیں ملتی۔ اس کے تمام سہایر اور تمام امیدیں یک قلم ختم ہوجاتی ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف آیت کے آخری الفاظ اشارہ کر رہے ہیں۔
Ayah 23:78کان، آنکھ اور دل کا اصلی مصرف
اوپر کے کلام میں خطاب آنحضرت ﷺ سے تھا اور اس میں قریش کو جو تہدید و وعید ہے وہ غائب کے صیغہ سے ہے۔ اب یہ ان کو براہ راست مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ خدا نے جو تم کو کان، آنکھ اور دل عطا فرمائے ہیں تو کا ہے کے لئے عطا فرمائے ہیں ! اسی لئے تو کہ ان سے نصیحت و حکمت کی وہ باتیں، جو تمہیں سنائی جا رہی ہیں سنو، اللہ کی وہ نشانیاں جو آفاق وانفس میں پھیلی ہوئی ہیں اور جن کی طرف تمہیں توجہ دلائی جا رہی ہے، ان کو دیکھو، اور ان سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں اور جو تمہارے سامنے نہایت واضح طور پر پیش کئے جا رہے ہیں ان پر غور کرو، کان، آنکھ اور دل دماغ کا اصلی مصرف یہی ہے لیکن تم عجیب شامت زدہ لوگ ہو کہ حق کو حق ماننے کے لئے دلیل کے بجانے تنبیہ کے ڈنڈے کا مطالبہ کر رہے ہو ! مطلب یہ ہے کہ اگر عقل اور استدلال سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے آدمی صرف ڈنڈے ہی کی منطق سے قائل ہو تو اس میں اور گدھے میں کیا فرق رہا !
قلیلاً ما تشکرون اظہار حسرت و افسوس کا جملہ ہے، مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کی بخشی ہوئی اتنی اعلیٰ نعمتیں پاکر ان کی بہت کم قدر کرتے ہو ! شکر کی اصل حقیقت، جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں نعمت کی قدر دانی ہے اور نعمت کی قدر دانی یہ ہے کہ آدمی اس سے صحیح فائدہ اٹھائے اور اپنے منعم کا شکر گزار ہو۔
Ayah 23:79توحید اور قیامت کی ایک جامع دلیل
یہ قیامت اور حشر کی طرف توجہ دلا دی کہ اس مغالطہ میں نہ رہو کہ بس یہیں پیدا ہوئے یہیں مرکھپ جائو گے۔ جب ایک کسان اپنے کھیت میں بوتا ہے تو محض بونے کی خاطر نہیں بوتا بلکہ ایک دن وہ اس کو اکٹھا بھی کرتا ہے۔ اسی طرح جس نے تمہیں اس زمین میں پھیلایا ہے وہ ایک دن تمہیں جمع بھی کرے گا تو یہ یاد رکھو کہ تم صرف اسی کے کھتے میں جمع کئے جائو گے۔ آخر اس کی بوئی ہوئی فصل میں کوئی دوسرا کس طرح شریک بن جائے گا ! غور کیجیے ان چند لفظوں کے اندر کس خوبی سے امکان قیامت کی طرف بھی اشارہ ہوگیا ہے، معاد کی ضرورت بھی بیان ہوگئی ہے اور توحید کی دلیل بھی واضح ہوگئی ہے۔
Ayah 23:80اختلاف لیل و نہار کے بعض اشارات
اختلاف الیل و النھار سے مراد دن اور رات کی ایک دوسرے کے بعد، پوری پابندی اوقات کے ساتھ، آمد و شد ہے۔ اس نشانی کی طرف قرآن نے جگہ جگہ توجہ دلائی ہے۔
دن اور رات کا پوری پابندی اوقات کے ساتھ آنا اور جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اس کائنات کے خالق کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ یہ بجائے خود نہ آنے کے مجاز ہیں نہ جانے کے۔
ان کے نظام میں کسی کا دخل انداز نہ ہو سکنا اس بات کی شہادت ہے کہ مصرف حقیقی صرف اللہ وحدہ، لاشریک ہے۔
اختلاف مزاج و صورت کے باوجود ان دونوں میں اس کائنات کی پرورش کے لئے جو سازگاری ہے وہ اس بات کی شہادت ہے کہ اس کائنات میں ایک ہی حکیم و قدیر کا ارادہ کار فرما ہے جو اس کے تمام اضداد میں ربط ضیدا کرتا ہے اور ان کو کائنات کے مجموعی مفاد کے لئے استعمال کرتا ہے۔
شب میں آرام کی نیند کے بعد صبح کو اٹھ کھڑے ہونا ہر انسان کے لئے قیامت کی یاد دہانی ہے کہ اس طرح برزخ کی نیند کے بعد جب اللہ تعالیٰ چاہے گا ہر شخص اٹھ کھڑا ہوگا۔
ان کے علاوہ بعض مزید اشارات بھی قرآن نے اختلاف لیل و نہار سے نکالے ہیں اور ہم نے اس کتاب میں ان کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہاں فرمایا کہ وہی جو زندگی اور موت دیتا ہے اور جس کے دست تصرف میں رات اور دن کی آمد و شد ہے، وہی تمہارا حقیقی معبود ہے، اسی سے سابقہ پڑنا ہے اور اسی کی طرف تمہیں یہ بلایا جا رہا ہے تو تم کہاں بھٹکے ہوئے جا رہے ہو ! کیا اتنی واضح حقیقت تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ہے !