Ayah 24:1سورة کی اہمیت کا اظہار
یہ سورة ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، سورة مئومنون کے تکملہ و تتمہ کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے بغیر کسی خاص تمہید کے محض ایک تنبیہ سے شروع ہوگئی ہے۔ حذف مبتداء جیسا کہ اس کے محل میں ہم واضح کرچکے ہیں اس بات کا قرینہ ہے کہ مقصود و مخاطب کی ساری توجہ کو خبر پر مرکوز کرانا ہے جس سے اس سورة کی اہمیت و عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ یعنی یہ ایک عظیم سورة ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے۔ ہم نے نازل کیا ہے ‘ یعنی اس کو کوئی معمولی چیز اور ہوائی بات نہ سمجھو بلکہ یہ ہمارا اتارا ہوا کلام اور ہمارا نازل کردہ فرمان ہے اس وجہ سے اس کی ہر بات کی تعمیل ہمارے فرمان واجب الاذعان کی حیثیت سے کی جائے۔ ’ و فرضنھا یعنی اس میں جو احکام و ہدایات ہیں ان کی حیثیت فرائض کی ہے، سب بےچون و چرا ان کی اطاعت کریں، کسی معاملہ میں سہل انگاری و بےپروائی کو راہ نہ پانے دیں۔
سورة کی تنبیہات کی طرف اشارہ
وانزلنا فیھآ امت بیغت لعلکم تذکرون یہ ان تنبیہات کی طرف اشارہ ہے جو اس سورة میں احکام و ہدایات کے بیان کے ساتھ ساتھ مقطع کی طرح بار بار وارد ہوئی ہیں۔ مثلاً ملاحظہ ہوں آیات 10، 14، 17، 20، 34، 46 اور 58 ان تنبیہات کا مشترک مقصودیہ ہے کہ یہ احکام جو دیئے جا رہے ہیں پورے اہتمام کے ساتھ ان کی پابندی کرو ورنہ یاد رکھو کہ خدا کی پکڑ بڑی ہی سخت چیز ہے۔ اس سورة میں ان تنبیہات کی ضرورت خاص طور پر اس وجہ سے تھی کہ اس میں خاندان و معاشرہ اور تعزیرات و حدود سے متعلق جو احکام دیئے گئے ہیں وہ پچھلی امتوں کے لئے مزلہ قدم ثابت ہوئے جس کے سبب سے وہ امتیں خدا کے عتاب میں آئیں۔ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل و احسان ہے کہ اس نے احکام کے ساتھ ان کی خلاف ورزی کے نتائج سے بھی بار بار آگاہ فرما دیاتا کہ لوگ اچھی طرح بیدار و ہوشیار ہیں۔ لعلکم تذکرون سے اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔
Ayah 24:2معاشرے کے انتشار و فساد میں سب سے زیادہ دخل زنا کو ہے اس لئے کہ معاشرہ کے استحکام کا انحصار رحمی رشتہ کی پاکیزگی اور اس کے ہر قسم کے اختلال و فساد سے محفوظ ہونے پر ہے اور زنا اس رشتہ کی پاکیزگی کو ختم کر کے معاشرے کو حنفی انتشار کی راہ پر ڈال دیتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ پورا معاشرہ ایک پاکیزہ معاشرہ کے بجائے ڈھوروں ڈنگروں کا ایک گلہ بن کے رہ جاتا ہے۔ یہ اختلال و انتشار چونکہ صالح تمدن کی بنیاد کو اکھاڑ دینے والا ہے اس وجہ سے تمام آسمانی مذاہب میں زنا کو ایک مستوجب سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اسلام نے بھی بالکل پہلے ہی مرحلہ سے اس انتشار کو روکنے کے لئے احکام دیئے۔ چناچہ نساء کی آیات 16-15 میں اس سلسلہ کے ابتدائی احکام دیئے گئے جب کہ حالات حدود و تعزیرات کے نفاذ کے لئے ابھی سازگار نہیں ہوئے تھے اور ساتھ ہی یہ اشارہ فرما دیا گیا کہ اس بات میں قطعی اور آخری احکام بعد میں نازل ہوں گے۔ چناچہ اس آیت سے وہ وعدہ پورا ہوگیا۔ زانیہ اور زانی دونوں کے لئے یہ حکم ہوا کہ ان کو سو سو کوڑے مارے جائیں۔
تنفیذ حدود کے معاملہ میں مداہنت ایمان کے منافی ہے
ولا تاخذکم بھما رافۃ فی دین اللہ ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر یہاں دین، سے مراد یہی حد ہے جو زنا کی بیان ہوئی ہے۔ یعنی اس کی تنفیذ کے معاملے میں کسی نرمی یا مداہنت یا چشم پوشی کو راہ نہ دی جائے۔ نہ عورت کے ساتھ کوئی نرمی برتی جائے نہ مرد کے ساتھ، نہ امیر کے ساتھ نہ غریبت کے ساتھ، خدا کے مقرر کردہ حدود کی بےلاگ اور بےرو رعایت تنفیذ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ کا لازمی تقاضا ہے۔ جو لوگ اس معاملے میں مداہنت اور نرمی برتیں ان کا اللہ اور آخرت پر ایمان معتبر نہیں ہے۔ یہاں یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ سزا کے بیان میں عورت کا ذکر مرد کے ذکر پر مقدم ہے اس کی وجہ جہاں یہ ہے کہ زنا عورت کی رضا مندی کے بغیر نہیں ہوسکتا وہاں یہ بھی ہے کہ صنف ضعیف ہونے کے سبب سے اس کے معاملہ میں جذبہ ہمدردی کے ابھرنے کا زیادہ امکان ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے یہاں اس کے ذکر کو مقدم کردیا تاکہ اسلوب بیان ہی سے یہ بات واضح ہوجائے کہ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہے، عورت ہو یا مرد
حدود کے معاملہ میں یہود کی مداہنت
حدود کے معاملہ میں اس شدت کے ساتھ تاکید و تنبیہ کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ یہود نے اکثر حدود عملاً بالکل ساقط کردیئے تھے۔ زنا کی سزا ان کی شریعت میں رجم تھی لیکن عملاً صورت یہ تھی کہ اگر کوئی غریب اس جرم میں ماخوذ ہوتا تب تو اس پر یہ سزا نافذ کی جاتی لیکن کوئی امیر اس کا ارتکاب کرتا تو اس سے تعرض نہ کرتے اور اب موجودہ زمانے میں تو یہ مستقل فلسفہ بن گیا ہے کہ جو لوگ جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں وہ کسی ذہنی بیماری کے سبب سے کرتے ہیں اس وجہ سے وہ مستحق تربیت و اصلاح اور ہمدردی کے ہیں نہ کہ کسی سخت سزا کے اس فلسفہ کی یہ برکت ہے کہ خدا کی زمین گنڈوں اور بدمعاشوں سے بھر گئی ہے اور کسی شریف آدمی کی بھی جان اور عزت ان کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔ آپ اپنے ہی ملک کو لیجیے۔ اگر آپ اپنے قانون دامن کے ذمہ داروں کے سامنے زنا کی اس سزا کا ذکر کیجیے جو اوپر مذکور ہوئی ہے تو ایمان کے بلند بانگ دعوئوں کے باوجود اس کو وحشیانہ کہیں گے اور اگر مصلحت کی وجہ سے وحشیانہ نہ کہیں تو بہرحال ان کو وحشیانہ سمجھتے ہیں لیکن ملک کی صورت حال یہ ہے کہ بلا مبالغہ سال میں ہزاروں جانیں اور آبروئیں نہایت بےدردی دبے رحمی کے ساتھ، بدمعاشوں کے ہاتھوں اس طرح برباد ہوتی ہیں کہ ان کی خبریں ہر صبح کو اخباروں میں پڑھ پڑھ کر کلیجہ شق ہوتا ہے۔
چوروں اور زانیوں کے لئے تو ان حضرات کے جذبہ رافت و ہمدردی کا یہ حال ہے کہ یہ ان کے لئے گویا خدائے رحمان و رحیم سے بھی زیادہ مہربان بن گئے ہیں کہ ان کا ہاتھ کاٹنے اور ان کو کوڑے مارنے کیتصور سے ان کا دل کا نپتا ہے لیکن ان چوروں اور بدمعاشوں کے ہاتھوں خاندانوں کے خاندان جو آئے دن قتل و نہب اور بےعزتی و ناموسی کا شکار ہو رہے ہیں ان کی مظلومیت پر ان کے دل ذرا نہیں پسیجتے !
اسلامی حدود تعزیرات کی برت
اگر یہ حضرات اپنے دعوے ایمان کی لاج رکھنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے تو کم از کم دنیا کے تجربات ہی سے کچھ سبق حاصل کریں۔ اسی روئے زمین پر نجد و حجاز اور ریمن کی حکومتیں بھی ہیں۔ ان میں اسلامی حدود و تعیزرات نافذ ہیں۔ اس اعداد و شمار کے زمانے میں آسانی سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ان کے ہاں چوری، رہزنی، ڈکیی اور انا کے کتنے واقعات ہوئے اور کتنے چوروں کے ہاتھ کاٹے گئے اور کتنے زانیوں کے کوڑے لگائے گئے۔ میرے پاس اعداد و شمار تو نہیں ہیں لیکن عینی شاہدوں کے بیانات بھی میرے علم میں ہیں اور میرا ذاتی مشاہدہ بھی ہے کہ وہاں نہ جرائم کا وجود ہے نہ مجرموں کا یہ صرف اسلامی حدود و تعزیرات کا دبدبہ ہے کہ وہاں نہ چوری اور زنا کے واقعات ہوتے ہیں نہ چوروں کے ہاتھ کاٹنے اور زانیوں کو کوڑے مارنے کی نوبت آتی ہے۔ اگر کبھی کبھار کوئی اکا دکا کوئی واقعہ پیش آجاتا ہے تو مجرم کو اس کی جو سزا ملتی ہے عوام کی سبق آموزی کے لئے وہی کافی ہوتی ہے۔ اس کے مقابل میں جب ہم اپنے ملک کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو سیدنا مسیح کے الفاظ میں یہ کہنا پڑتا ہے کہ تم نے میرے باپ کے گھر کو چوروں اور ڈاکوئوں کا بھٹ بنا کے رکھ دیا ہے۔“
اسلامی حدود و تعزیرات کا ایک اہم مقصد
ولیشھد عذابھما طآئفۃ من المومنین، اسلامی حدود و تعزیرات کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ ان کے سے دوسروں کو عبرت و موعظت حاصل ہ۔ چناچہ قآن میں ان کو نکال، سے تعبیر کیا گیا ہے جس کے معنی معنی عبت انگیز سزا کے ہیں۔ اس مصلحت کا تقاضا یہ ہوا کہ یہ سزایں مسلمانوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں دی جائیں۔ اگر یہ جملوں کی کوٹھڑیوں میں چپ کہ سزائیں پبلک میں، مسلمانوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں دی جائیں۔ اگر یہ جیلوں کی کوٹھڑیوں میں چپ چپاتے دے دی جئیں تو ان کی یہ مصلحت فوت ہوجاتی ہے۔ طائفۃ کے معنی گوہ اور جماعت کے ہیں، بعض مفسرین کے نزدیک اس لفظ کا اطلاق ایک شخص پر بھی ہوتا ہے۔ معلوم نہیں ان حضرات کی اس نادر تحقیق کا ماخذ کیا ہے !
آیت 2 کے عموم پر فقہاء کی بعض قیدیں اور ان کے باب میں ہمار نقطہ نظر
اس آیت کے ظاہر الفاظ کا جاں تک تعلق ہے وہ تو ہر قسم کے زانی اور ہر قسم کی زانیہ کے لئے عام ہیں لیکن ہمارے فقہاء نے اس عموم پر بعض قیدیں عائد کی ہیں جن میں سے بعض صحیح ہیں، بعض ہمارے نزدیک غلط ہیں اور بعض محتاج تفصیل ہیں۔ اگرچہ ہمارے لئے فقہی مباحث میں زیادہ گھسنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن بعض ضروری باتوں کی طرف اشارہ ناگزیر ہے۔
٭ ایک یہ کہ اس حد کے اجراء و نفاذ کے لیء دار الاسلام یا بالفظ دیگر اسلامی حکومتی کا ہونا ضروری ہے۔ ہمارے نزدیک یہ شرط لازمی ہے۔ یہ احکام نازل ہی اس وقت ہوئے ہیں جب اسلامی حکومت مدینہ میں استوار ہوگئی ہے۔
٭دوسری یہ کہ یہ حد صرف عاقل و بالغ پر نافذ ہوگی۔ نابالغ اور فاتر العقل اس سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ بات بھی بالکل بدیہی ہے۔ نابالغ اور مجنون ہر قانون میں مرفوع القلم سمجھے گئے ہیں۔
٭تیسری یہ کہ غلام اور لونڈی پر صرف نصف حد جاری ہوگی۔ یہ بات بھی صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اس کی دلیل سورة نساء آیت 25 میں موجود ہے۔ اصل یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں غلاموں کا عقلی و اخلاقی معیار اتنا پست ہوچکا تھا کہ ان کو ایک سبک آزادوں کی صف میں نہیں لایا جاسکتا تھا اس وجہ سے ان کے معاملات میں اسلام نے ایک تدریج ملحوظ رکھی۔ یہاں تک کہ جب ان کی ذہنی و اخلاقی حالت بلند ہوگئی تو ان کے لئے مکاتبت کا وہ قانون نازل ہوگیا جو اسی سورة میں آگے زیر بحث آئے گا۔ اس قانون کے بعد ہر ذی صلاحیت غلام کے لئے آزادی کی نہایت کشادہ راہ کھل گئی اور وہ حقوق اور ذمہ داریوں، دونوں میں دوسروں کیساتھ برابر کے شریک ہوگئے۔ آگے ہم اس مسئلہ کے بعض اہم پہلو واضح کریں گے۔
٭چوتھی قید فقہا کے ایک گروہ نے یہ عائد کی ہے کہ یہ حد صرف مسلمان پر نافذ ہوگی، غیر مسلم اس سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ بات ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ اسلامی حکومت میں غیر مسلم رعایا اپنے پرسنل لاء کے حد تک تو بیشک حکومت کے عام قوانین سے مستثنیٰ ہوگی لیکن حدود و تعزیرات سے، جن کا تعلق ملک کے امن و عدل سے ہے، اس کو مستثنیٰ رکھنا کس طرح ممکن ہے ؟ اگر ایک مسلمان کو بجرم زنا آپ کوڑے لگائیں یا رجم کریں اور اسی جرم میں ایک غیر مسلم پر کوئی گرفت نہ کریں یا کوئی دوسری معمولی سزا دیں تو زنا کا سدباب ناممکن ہوگا۔ یہی حال چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا کا ہے۔ اگر ایک اسلامی حکومت چوری کے جرم میں مسلمانوں کے تو ہاتھ کاٹے لیکن اپنی غیر مسلم رعایا کو اس حد سے مستثنیٰ رکھے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ وہ مسلمانوں کو چوری سے روک کر اپنے ملک میں غیر مسلموں کو چوری کا لائسنس دے رہی ہے۔ یہ بات بالبداہت خلاف عقل ہے اور نبی ﷺ اور خلفائے راشدین کے عمل سے بھی اس کی تائید نہیں ہوتی۔ آنحضرت نے بھی غیر مسلموں پر حدود جاری فرمائے اور خلفائے راشدین نے بھی۔ اسلامی حکومت میں غیر مسلموں کے حقوق کی وضاحت ہم نے اپنی کتاب اسلامی ریاست میں کی ہے تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔
پانچویں قید تقریباً تمام فقہاء نے اس پر یہ عائد کی ہے کہ اس حد کا تعلق صرف اس زانی سے ہے جس کی شادی نہ ہوئی ہو یا شادی تو ہوئی ہو لیکن ابھی اس نے مباشرت نہ کی ہو۔ رہے وہ جن کی شادی بھی ہوچکی ہے اور جو مباشرت بھی کرچکے ہیں تو ان کے لئے سزا رجم کی ہے۔ اس رجم کا ثبوت وہ نبی ﷺ اور خلفائے راشدین کے عمل سے لاتے ہیں اور اس طرح وہ اس آیت میں بیان کردہ حد کو کنوارے اور کنواری کے لئے خاص کردیتے ہیں یا یوں کہیے کہ شادی شدہ زانی اور زانیہ کے حد تک اس کو سنت کے ذریعہ سے منسوخ مانتے ہیں۔
اس آیت پر فقہاء کی یہ قید بڑی اہم ہے۔ اس کو تخصیص کہیے یا فسخ مجرد اخبار احاد کی بنا پر قرآن کے کسی حکم عام کو اس طرح مقید یا منسوخ کردینا بہرحال ایک ایسی بات ہے جس پر دل مطمئن نہیں ہوتا چناچہ خوارج اس نسخ یا تخصیص کو نہیں مانتے، وہ رجم کا انکار کرتے ہیں اور اس حد کو، جو آیت میں مذکور ہوئی ہے، ہر قسم کے زانیوں کے لئے عام مانتے ہیں۔
ان قدم خوارج سے زیادہ اہم مسئلہ ہمارے جدید خوارج کا ہے۔ قدیم خوارج اس اعتبار سے غنیمت تھے کہ وہ صرف رجم کے منکر تھے۔ جلد کے منکر نہیں تھے۔ لیکن ہمارے جدید خوارج تو جلد کو بھی ماننے کے لئے تایر نہیں ہیں بھلا وہ رجم کی بات کب سننے والے ہیں ! اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ واضح کیا جائے کہ رجم کا ماخذ قرآن میں کیا ہے اور اس آیت کے حکم اور رحم کے حکم میں تطبیق کی کیا شکل ہے ؟ میں پہلے ان روایات پر ایک نظر ڈالوں گا جن سے فقہا نے رجم پر استدلال کیا ہے۔ اس کے بعد قرآن میں رجم کی سزا کا جو ماخذ ہے اس کی نشان دہی کروں گا اور پھر یہ واضح کروں گا کہ رجم کی سزا کس طرح کے مجرموں کے لئے ہے اور نبی ﷺ نے جن کو یہ سزا دی وہ کس قماش کے لوگ تھے۔ اگرچہ بحث طویل ہو رہی ہے لیکن ان کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں ہے اس وجہ سے اختصار کو محلوظ رکھتے ہوئے چند باتیں عرض کرتا ہوں۔
رجم کی سزا کے حق میں فقہاء کے استدلال کا ماخذ
فقہاء نے جس روایت کی بنا پر شادی شدہ کے حد تک اس آیت کو منسوخ قرار دیا ہے وہ عبادہ بن صامت سے بدیں الفاظ مروی ہے۔
عن النبی ﷺ خذاواعنی قد جعل اللہ لھن سبیلا البکو بالبکو جلد مائۃ و تغریب عام و الثیب بالشیب الجلد و الرجم
عبادہ بن صامت راوی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں اس وقت جو کچھ بتا رہا ہوں اس کو میری طرف سے محفوظ کرو۔ زانیہ عورتوں کے باب میں اللہ نے جو حکم نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ نازل فرما دیا۔ پس اگر مرتکب زنا دونوں کنوارے ہوں تو ان کے لئے سو کروڑوں اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے اور اگر دونوں شادی شدہ ہوں تو کوڑے اور رجم کی سزا ہے۔
اس روایت پر تنقید
اس روایت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں کنوارے زانی کے لئے ایک ہی ساتھ کوڑے مارنے کی سزا کا حکم بھی ہے اور ایک سال کی جلا وطنی کا بھی۔ اسی طرح شادی شدہ کے لئے ایک ہی ساتھ کوڑے کی سزا بھی مذکور ہوئی ہے اور رجم کی سزا بھی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں سزائیں ساتھ ہی دی جائیں گی ؟ اس کا جواب ہمارے فقہائ، حنفی اور شافعی دونوں یہ دیتے ہیں کہ جلد رحم دونوں سزائیں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں اور حدیث میں کوڑے مارنے کی جو سزا مذکور ہے وہ نبی ﷺ اور صحابہ کے تعامل سے منسوخ ہوگئی، شادی شدہ کے لئے صرف رجم کی سزا ہے۔
غور کیجیے، عبادہ بن صامت کی یہی روایت ہے جس کے بل پر سورة نور کی آیت کو منسوخ ٹھہرایا گیا حالانکہ قرآن کو قرآن کے سوا کوئی دوسری چیز منسوخ نہیں کرسکتی۔ پھر جب حدیث سے بھی بات نہیں بنی تو اس کو دوسری روایات سے منسوخ کردیا گیا۔ ہمارے فقہاء کی اسی طرح کی باتیں ہیں جن سے لوگوں کے دلوں میں دین کے متعلق بدگمانیاں پیدا ہوئیں۔ میں آگے چل کر دکھائوں گا کہ اگر روایت پر قرآن کی روشنی میں غور کیا جائے تو قرآن کے ساتھ اس کی مطابقت ہوجاتی ہے نہ کسی چیز کو ناسخ ماننے کی ضرورت پیش آتی ہے، نہ کسی چیز کو منسوخ
فقہاء کا ایک دوسرا ماخذ
عن ابن عباس قال قال عمر قد خشیت ان یطول بالناس زمان حتی یقول قائل لافجد الرجم فی کتاب اللہ فیضلوا بترک فریضۃ انزلھا اللہ و قدقرانا الشیخ والشیغۃ اذا زنیا فارجموھا البتۃ
ابن عباس راوی ہیں کہ حضرت عمر نے فرمایا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ جب لوگوں پر کچھ زمانہ گزر جائے گا تو وہ وقت آجائے گا کہ کہنے والے کہنے لگیں گے کہ رجم کی سزا کا ذکر اللہ کی کتاب میں تو ہم کہیں نہیں پاتے اور اس طرح وہ خدا کے ایک فریضہ کو جو اس نے نازل فرمایا ہے، ترک کر کے گمراہ ہوجائیں گے حالانکہ ہم نے خود یہ آیت تلاوت کی ہے الشیخ والشیغۃ افازنیا فادجموھا البتۃ (بوڑھی بوڑھا جب زنا کے مرتکب ہوں تو ان کو لازماً سنگسار کر دو)
اس روایت پر تنقید
میں نے جیسا کہ عضر کیا اس روایت کو نہایت کراہت کے ساتھ، محض اس لئے نقل کیا ہے کہ اصل حقیقت تک پہنچنے کے لئے راہ فی ان الجھنوں کو صاف کرنا ضروری ہے جو زنا دقہ کی پھیلائی ہوئی ہیں اور ہمارے مفسرین اور فقہاء کی سادگی کی وجہ سے تفسیر اور فقہ کی کتابوں میں بھی ان کو جگہ مل گئی ہے۔
اس روایت پر غور کیے کر تو ہر پہلو سے ہر کسی منافق کی گھڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور مقصود اس کے گھڑنے سے قرآن کی محفوظیت کو مشتبہ ٹھہرانا اور سادہ لوحوں کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا کرنا ہے کہ قرآن کی بعض آیات قرآن سے نکال دی گی ہیں۔
سب سے پہلے اس کی زبان پر غور کیجیے۔ کیا کوئی سلیم المذاق آدمی اس کو قرآن کی ایک آیت قرار دے سکتا ہے ؟ اس کو تو قول رسول قرار دینا بھی کسی خوش ذوق آدمی کے لئے ناممکن ہے چہ جائیکہ قرآن حکیم کی ایک آیت آخر قرآن کے مخمل میں اس ٹاٹ کا پیوند آپ کہاں لگائیں گے ! قرآن کی لا ہوتی زبان اور افصح العرب والعجم کے کلام کے ساتھ اس عبادت کا کیا جوڑ ہے !
دوسری بات یہ ہے کہ اگر یہ قرآن کی ایک آیت تھی تو اس کو نکال کس نے دیا جب کہ اس کا حکم یعنی سزائے رجم باقی ہے ؟ آیت کو نکال دینے اور حکم کو باقی رکھنے کا آخر کیا تک ہے ؟ اگر یہ قرآن کی ایک آیت تھی اور نکال دی گئی تو یہ اس بات کا ثبوت ہوا کہ رجم کا حکم پہلے تھا پھر منسوخ ہوگیا۔ پھر اس سے رجم کے حق میں استدلال کے کیا معنی !
تیسری بات یہ ہے کہ اس کو اگر صحیح باور بھی کر لیجیے جب بھی اس سے ہمارے فقہاء کا مقد پورا نہیں ہوتا ان کو ثبوت چاہئے شادی شدہ زانی کے رجم کا اور اس میں حکم بیان ہوا ہے بوڑھی زانیہ اور بوڑھے زانی کا ہر شادی شدہ کا بوڑھا ہونا تو ضروری نہیں ہے ! پھر دعویٰ اور دلیل میں مطابقت کہاں رہی !
بہرحال یہ روایت بالکل بیہودہ روایت ہے اور ستم یہ ہے کہ اس کو منسوب حضرت عمر کی طرف کیا گیا ہے حالانکہ ان کے عہد مبارک میں اگر کوئی یہ روایت کرنے کی جرأت کرتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ ان کے درے سے نہ بچ سکتا ہمارے فقہاء میں یہ بڑی کمزوری ہے کہ جب وہ اپنے حریف سے مناظرہ پر آتے ہیں تو جو اینٹ پتھر انہیں ہاتھ آجائے وہ اس کے سر پر دے مارتے ہیں۔ پھر یہ نہیں دیکھتے کہ اس کی زدخود دین پر کہاں تک پڑتی ہے۔
رجم کی سزا کا ماخذ اور اس کا محل
رجم کے ثبوت میں جو روایتیں پیش کی جاتی ہیں وہ یہی ہیں اور ان کا جو حال ہے وہ اوپر بیان ہوچکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ رجم کی سزا کا ماخذ کیا ہے ؟ کس قسم کے مجرموں کے لئے یہ سزا ہے اور نبی ﷺ نے کس طرح کے زانیوں کو یہ سزا دی ؟ ان سوالات پر غور کرنا اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ بات بالبداہت معلوم ہے کہ رجم کی سزا نبی ﷺ نے بھی بعض مجرموں کی اور خلفائے راشدین نے بھی دی۔ جو لوگ اس امر واقعی کا انکار کرتے ہیں وہ ہر چیز کا انکار کرسکتے ہیں۔ اس وجہ سے مجھے ان کی زیادہ فکر نہیں ہے البتہ چونکہ میں خود رجم کی سزا کا قائل ہوں اس وجہ سے میں قرآن سے اس سزا کا ماخذ اور اس کا موقع و محل واضح کرنا اپنی ایک ذمہ داری سمجھتا ہوں۔
اس مسئلہ کو سمجھنے کے لئے پہلے ایک تمہید اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے۔
مجرموں کی دو قسمیں
مجرم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ جن سے چوری یا قتل یا زنا یا قذف کا جرم صادر ہوجاتا ہے لیکن ان کی نعیت یہ نہیں ہوتی کہ وہ معاشرہ کے لئے آفت اور وبال (Nuisance) بن جائیں یا حکومت کے لئے لاء اور آرڈر کا مسئلہ پیدا کردیں۔ دوسرے وہ ہوتے ہیں جو اپنی انفرادی حیثیت میں بھی اور جتھہ بند کر بھی معاشرے اور حکومت دونوں کے لئے آفت اور خطرہ بن جاتے ہیں۔ پہلی قسم کے مجردوں کے لئے قرآن میں معین حدود اور قصاص کے احکام ہیں جو اسلامی حکومت انہی شرائط کے مطابق نافذ کرتی ہے جو شرائط قرآن و حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ دوسری قسم کے مجرمین کی سرکوبی کے لئے احکام سورة مائدہ کی آیات 34-33 میں دیئے گئے ہیں اور ان کی تفصیل ہم ان کے محل میں کرچکے ہیں۔ وہاں ہم نے انما جزآء الذین یجادبون اللہ ورسولہ ویسعون فی الارض فساماً ان یقتلوا کے تحت جو کچھ لکھا ہے اس کا ضروری حصہ ہم یہاں بھی نقل کئے دیتے ہیں تاکہ آگے کی بحث کے لئے راہ صاف ہوجائے ہمارے الفاظ یہ ہیں۔
بزم کی نوعیت کے مطابق سزا
”اللہ و رسول سے محاربہ یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ یا جتھہ جرأت و جسارت، ڈھٹائی اور بےباکی کے ساتھ اس نظام حق و عدل کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے جو اللہ اور رسول نے قائم فرمایا ہے۔ اس طرح کی کوشش اگر بیرونی دشمنوں کیطرف سے ہو تو اس کے مقابلے کے لئے جنگ و جہاد کے احکام تفصیل کے ساتھ الگ بیان ہوئے ہیں۔ یہاں بیرونی دشمنوں کے بجائے اسلامی حکومت کے اند اندورنی دشمنوں کی سکوبی کے لئے تعزیرات کا ضابطہ بیان ہو رہا ہے جو اسلامی حکومت کی رعایات ہوتے ہوئے، عام اس سے کہ وہ مسلم ہیں یا غیر مسلم، اس کے قانون اور نظم کو چیلنج کریں۔ قانون کی خلاف ورزی کی ایک شکل تو یہ ہے کہ کسی شخص سے کوئی جرم صادر ہوجائے۔ اس صورت میں اس کے ساتھ شریعت کے عام ضابطہ حدود و تعزیرات کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لینے کی کوشش کرے، اپنے شر و فساد سے علاقے کے امن ونظم کو درہم برہم کر دے، لوگ اس کے ہاتھوں ہر وقت اپنی جان، مال، عزت، آبرو کی طرف سے خطرے میں مبتلا ہیں، قتل، ڈکیتی رہزنی، آتش زنی، اغوا، زنا تخریب، تخریب اور اس نوع کے سنگین جرائم حکومت کے لئے لاء اور آرڈر کا مسئلہ پیدا کردیں۔ ایسے حالات سے نمٹنے کے لئے عام ضابطہ حدود و تعزیرات کے بجائے اسلامی حکومت مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کے مجاز ہے۔“
اس کے بعد ہم نے رجم کا ماخذ ان الفاظ میں واضح کیا ہے۔
ان یقتلوا یہ کہ فساد فی الارض کے یہ مجرمین قتل کردیئے جائیں۔ یہاں لفظ قتل کے بجائے تقتیل باب تفعیل سے استعمال ہوا ہے۔ باب تفعیل معنی کی شدت اور کثرت پر دلیل ہوتا ہے اس وجہ سے تقتیل، شرتقتیل، کے معنی پر دلیل ہوگا۔ اس سے اشارہ نکلتا ہے کہ ان کو عبرت انگزک اور سبق آموز طریقہ پر قتل کیا جائے جس سے دوسروں کو سبق حاصل ہو۔ صرف وہ طریقہ اس سے مستثنیٰ ہوگا جو شریعت میں ممنوع ہے مثلاً آگ میں جلانا۔ اس کے ماسوا دوسرے طریقے جو گنڈوں اور بدمعاشوں کو عبرت دلانے ان کو دہشت زدہ کرنے اور لوگوں کے اندر قانون اور نظم کا احترام پیدا کرنے کے لئے ضروری سمجھے جائیں، حکومت ان سب کو اختیار کرسکتی ہے۔ رجم یعنی سنگسار کرنا بھی ہمارے نزدیک تقتیل کے تحت داخل ہے۔ اس وجہ سے وہ گنڈے اور بدمعاش جو شریفوں کے عزت و ناموس کے لئے خطرہ بن جائیں، جو زنا اور اغوا کو پیشہ بنا لیں، جو دن دہاڑے لوگوں کی عزت و آبرو پر ڈاکہ ڈالیں اور کھلم کھلا زنا بالجبر کے مرتکب ہوں ان کے لئے رجم کی سزا اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہے۔“
ماعز کے جرم کی نوعیت
اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن میں رجم کی سزا کا کوئی ذکر نہیں ہے، ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ اس سزا کا ذکر سورة مائدہ کی آیت 33 سے ماخوذ ہے یہی وجہ ہے کہ عہد رسالت میں رجم کے جو واقعات پیش آئے ان کی اس مخصوص نوعیت کے پیش نظر امام بخاری نے اپنی الجامع الصحیح میں انہیں آیت محاربہ کیتحت بیان کیا ہے اور کتاب المحاربین ہی میں ایک ایسیر وایت بھی لائے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سلف میں بعض لوگ رجم کی سزا کا ماخذ سورة مائدہ کی اس آیت کو سمجھتے تھے۔
اب آیئے ایک اجمالی نظر ان بعض واقعات پر بھی ڈال لیجیے جو عہد رسالت میں اس سزا کے نفاذ کے پیش آئے ہیں۔
ماعز کے جرم کی نوعیت
نبی ﷺ کے عہد میں رجم کا سب سے زیادہ مشہور واقعہ ماعز کے رجم کا ہے۔ اس شخص کے بارے میں کتابوں میں جو روایات ملتی ہیں ان میں نہایت عجیب قسم کا تناقض ہے۔ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بڑا بھلا مانس تھا اور بعض سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نہایت بدخصلت گنڈا تھا۔ میری رہنمائی کے لئے یہ بات کافی ہے کہ نبی ﷺ نے اس کو رجم کی سزا دلوائی اور اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی اس وجہ سے میں ان روایت کو ترجیح دیتا ہوں جن سے اس کا وہ کردار سامنے آتا ہے جس کی بنا پر یہ مستحق رجم ٹھہرا۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کسی غزوہ کے لئے نکلتے تو یہ چپکے سے دبک کے بیٹھ رہتا اور مردوں کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھا کر شریف بہوئوں بیٹیوں کا تعاقب کرتا۔ بعض روایات سے اس تعاقب کی نوعیت بھی واضح ہوتی ہے کہ اس طرح تعاقب کرتا جس طرح بکرا بکریوں کا کرتا ہے آنحضرت ﷺ کو اس کی شرارتوں کی رپورٹ ملتی رہی لیکن چونکہ کسی صریح قانون کی گرفت میں یہ نہیں آیا تھا اس وجہ سے آپ نے کوئی اقدام نہیں کیا بالاخر یہ قانون کی گرفت میں آگیا۔ آپ نے اس کو بلوا کر نہایت تیکھے انداز میں پوچھ گچھ کی وہ تاڑ گیا کہ اب بات چھپانے سے نہیں چھپ سکتی اس وجہ سے اس نے اپنے جرم کا اقرار کرلیا۔ جب یہ اقرار کر لای تو آپ نے اس کے رجم کا حکم دے دیا اور اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی۔ اس کے رجم کے بعد لوگوں کا عام تاثر، جو روایات سے معلوم ہوتا ہے، وہ یہ تھا کہ بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ اس شخص کی شامت نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ یہ اپنے کیفر کردار کو پہنچ گیا۔ اگرچہ نبی ﷺ نے رجم کے بعد اس کے بارے میں لوگوں کو کف لسان کی ہدایت فرمائی۔ لیکن عام تاثر لوگوں کا یہی تھا۔
یہاں ہم چند روایات ان کے اصل الفاظ میں نقل کر رہے ہیں، تاکہ حسب ذیل امور بالکل واضح ہو کر سامنے آجائیں :
ایک یہ کہ ماغر نے بھلے مانسوں کی طرح خود نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے جرم کا اقرار نہیں کیا تھا۔ بلکہ وہ اپنے قبیلہ والوں کے اصرار پر حضور ﷺ کی خدمت میں اس توقع پر آیا کہ خود حاضر ہوجانے سے غالباً وہ کسی بڑی سزا سے بچ جائے گا، حضور کو اس کے جرم کی اطلاع پہلے سے مل چکی تھی اور اس نے آپ کی پوچھ گچھ کے نتجیے میں اقرار جرم کیا۔
دوسرے یہ کہ اس کا کردار ایک نہایت بدخصلت گنڈے کا کردار تھا۔ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کسی غزوہ کے لئے نکلتے تو مردوں کی عدم موجودگی سے فائدہ اٹھا کر یہ جنس زدہ بدمعاشوں کی طرح عورتوں کا تعاقب کرتا ہے۔
تیسرے یہ کہ نبی ﷺ نے اس کی مغفرت کے لئے دعا کی نہ اس کا جنازہ پڑھا جو اس بات کی شہادت ہے کہ اس کو کٹر منافق قرار دیا گیا۔
روایات یہ ہیں :
(ا) قال یا ابن اخی انا اعلم الناس بھذا الحدیث، کنت فیمن رجم الرجل، انا لما خرجنا بہ فرجمناہ فوجد مس الحجارۃ صرخ بنا : یا قوم، ردونی الی رسول اللہ ﷺ فان قومی قتلونی و غزونی من نفسی وخبرونی ان رسول اللہ ﷺ غیر قاتلی، فلم نزع عنہ حتی تتلاہ فلما رجعنا الی رسول اللہ ﷺ واخبرناہ قال نھلا ترکتمرہ و جتمونی بہ، لیستشبت رسول اللہ ﷺ منہ فاما لترک حد فلا قال فعرفت وجہ الحدیث۔
(الودائود، کتاب الحدود، باب رجم ماعزبن مالک)
…حضرت جابر ؓ نے فرمایا :’ بھتیجے ! میں سب لوگوں سے زیادہ اس بات سے واقف ہوں۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے اس شخص کو رجم کیا۔ واقعہ یوں ہے کہ ہم نے اسے باہر لا کر سنگ سار کرنا شروع کیا۔ پتھر پڑے تو وہ چیخا لوگو ! مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس لے چلو میرے قبیلے کے لوگوں نے مجھے مروا دیا۔ انہوں نے مجھے دھویک میں رکھا وہ مجھے یہی کہتے رہے کہ رسول اللہ ﷺ مجھے قتل نہیں کرائیں گے۔ لیکن ہم نے اسے قتل کئے بغیر نہیں چھوڑا۔ پس جب ہم نبی ﷺ کے پاس لوٹے اور آپ کو اس جزع فزع کے بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا :’ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا ؟ تم اسے میرے پاس کیوں نہیں لائے ؟ یہ آپ نے اس لئے فرمایا کہ آپ حقیقت معلوم کرسکیں۔ آپ نے یہ بات حد ساقط کرنے کے لئے نہیں فرمائی تھی، راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد یہ حدیث میری سمجھ میں آگئی۔
(ب) … فرمیناہ بجلامید الحرۃ (یعنی الحجارۃ) حتی سکت، قال، ثم قام رسول اللہ ﷺ خطیباً من العشتی، فقال، اوکلما انلطلقنا غزاۃ فی سبیل اللہ، تخلف رجل فی عیانا لہ نبی ب کنبیب التیس علی ان زاوانی برجل فعل ذلک الزنکلت بہ قال : فما استغفرلہ ولاسبہ
(صحبح مسلم، کتاب الحدود، باب من اعترف علی نفسہ بالزنائ)
’ پس ہم نے اسے وادی حرہ کے پتھروں سے مارا، یہاں تک کہ وہ ختم ہوگیا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ اسی دن عصر کے وقت نبی ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا : کیا ایسا نہیں ہوتا تھا کہ جب کبھی ہم جہاد فی سبیل اللہ کی غرض سے نکلتے تھے تو ایک ایسا شخص پیچھے ہمارے اہل و عیال میں رہ جاتا تھا جو شہوت کے جوش میں بکرے کی طرح میاتا تھا۔ سنو مجھ پر لازم ہے کہ اس طرح کی حرکتیں کرنے والا کوئی شخص میرے پاس لایا جائے تو میں اسے عبرت ناک سزا دوں، زراوی بیان کرتے ہیں کہ آپ نے نہ اس کے لئے مغفرت کی دعا کی اور نہ اسے برا بھلا کہا۔
حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اعزبن مالک نبی ﷺ کے پاس آیا تو اس نے اقرار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے۔ آپ نے اعراض کیا تو اس نے اپنا یہ اقرار کئی مرتبہ دہرایا اس پر بھی آپ متامل رہے، پھر آپ نے اس کی قوم کے لوگوں سے پوچھا کیا یہ پاگل ہے ؟ انہوں نے کہا ! نہیں یہ بھلا چنگا ہے، آپ نے اس سے پوچھا کیا تم نے واقعی اس لڑکی سے بدکاری کی ہے، اس نے کہا ”ہاں ! بس آپ نے حکم دیا کہ اسے رجم کردیا جائے چناچہ اسے لے جایا گیا اور رجم کردیا گیا اور اس کا جنازہ نہیں پڑھا گیا۔
ج) عن ابن عباس ان ماعز بن مالک اتی النبی ﷺ فقال انہ زنی فاعرض عنہ فاعاد علبہ مراراً فسال مومہ : امجنون ھوء قالوا، لیس بہ باس قال انعلت بھا ؟ قال لعم فامرلہ ان یرحم فانطلق بہ فرجم ولم لصل علیہ (ابو دائود، کتاب الحدود باب رجم ما عز بن مالک
(د)…فامربہ فرجم فکان الناس فیہ فریقین قائل یقول لم ھلک لقد احاطت بہ خطیئتہ (صحیح مسلم کتاب الحدود باب من اعترف علی نفسہ بالزنائ)
نبی ﷺ نے ماعز کے بارے میں حکم دیا اور اسے رجم کردیا گیا تو لوگ اس کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ان میں سے ایک کی رائے تھی کہ اس کی شامت نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ یہاں تک کہ یہ ہلاک ہوگیا۔
(ھ) فامربہ فرجم فسمع النبی ﷺ رجلین من اصحابہ …پس نبی ﷺ نے ماعز کے بارے میں حکم دیا تو اسے رجم کردیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد نبی ﷺ نے اپنے اصحاب میں سے دو آدمیوں کو ایک دوسرے سے یہ کہتے ہوئے سنا : اس بدبخت کو دیکھو، اللہ نے اس کا پردہ ڈھانکے رکھا تھا۔ لیکن اس کے نفس نے اس کو نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ کتے کی طرح سنگ سار کردیا گیا۔
الی ھذا الذی ستر اللہ علیہ فلم قدعہ نفسہ حتی رجم رجم الکلب (ابودائود کتاب الحدود، باب رجم ماعز بن مالک)
عامدیہ کا واقعہ رجم
ماعزبن مالک اسلمی کے بعد دوسرا بڑا واقعہ غامدیہ کا ہے جو قبیلہ غامد (قبیلہ جہنیہ کی ایک شاخ) کی ایک عورت تھی۔ اس کے بارے میں روایات میں جو تفصیلات ملتی ہیں، ان سے نہ اس کے کردار کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہوتی ہیں نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ شادی شدہ تھی۔ تھوڑی بہت تفصیلات جو بیان ہوئی ہیں۔ ان میں ماعز کے واقعہ ہی کی طرح بہت سے امور باہم متناقض ہیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے شروع میں اسے ٹالنے کی کوشش کی، لیکن یہ اپنے اقرار پر مصر رہی تو آپ نے فرمایا : اچھا، نہیں مانتی تو جائو۔ وضع حمل کے بعد آئیو، حمل سے فارغ ہو کر وہ بچے کے ساتھ آئی تو آپ نیخ فرمایا اچھا نہیں مانتی تو جائو وضع حمل کے بعد آئیو، حمل سے فارغ ہو کر وہ بچے کے ساتھ آئی تو آپ نے فرمایا : جا اور اس کو دودھ پلا، دودھ چھٹانے کے بعد آئیو پھر وہ دودھ چھٹانے کے بعد آی تو اس کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا تھا جو اس نے بچے کو کھلا کر حضور کو دکھایا۔ تب آپ نے اس کے رجم کا حکم صادر فرمایا اس کے برعکس بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے اقرار کیا تو آپ نے اس وضع حمل تک ایک انصاری کی نگرانی میں دے دیا۔ وضح حمل کے بعد اس نے اطلاع دی تو آپ نے فرمایا اسے اس حالت میں رجم نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے چھوٹے بچے کو کوئی دودھ پلانے والا بھی نہیں۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا : اس کی رضاعت کی ذمہ داری مجھ پر ہے، اس کے بعد آپ نے بغیر کسی توقف کے اس کے رجم کا حکم دے دیا۔
روایات کے مطالعہ سے بیان کا یہ تناقض ہی سامنے نہیں آتا۔ یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہ کوئی آزاد قسم کی عورت تھی جس کا نہ کوئی شوہر تھا، نہ سرپرست جو اس کے کسی معاملے کی ذمہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہوتا۔ وضح حمل تک کی مدت اس نے ایک انصاری کے ہاں گزاری اس کے اقرار سے لے کر سزا کے نفاذ تک کسی موقع پر بھی اس کے خاندان یا قبیلہ کا کوئی آدمی مقدمہ کی کارروائی کے سلسلہ میں سامنے نہیں آیا۔ اگرچہ غامدیہ کے کردار کے بارے میں روایات محفوظ نہیں ہو سکیں، لیکن ہمارے نزدیک اس کا معاملہ بھی ماعز کی طرح کا تھا جس کی بنا پر نبی ﷺ نے اسے اسے رجم کرایا۔
اس عہد کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بہت سی ڈیرے والیاں ہوتی تھیں جو پیشہ کراتی تھیں اور ان کی سرپرستی زیادہ تر یہودی کرتے تھے جو ان کی آمدنی سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ اسلامی حکومت قائم ہوجانے کے بعد ان لوگوں کا بازار سرد پڑگیا۔ لنک اس قسم کے جرائم پیشہ آسانی سے باز نہیں آتے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی قماش کے کچھ مرد اور بعض عورتیں زیر زمین یہ پیش کرتے رہے اور تنبیہ کے باوجود باز نہیں م آئے۔ بالآخر جب وہ قانون کی گرفت میں آئے تو سورة مائدہ کی اسی آیت محاربہ کے تحت جس کا حوالہ اوپر گزرا، آپ نے ان کو رجم کرایا۔
زنا بالجبر کے مجرم کو رجم کی سزا
زنا بالجبر کا جرم بھی چونکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے حرابہ اور فساد فی الارض ہی کے قبیل سے ہے، اس وجہ سے نبی ﷺ نے اس کے مرتکب کو، مجرد زنا کی سزا یعنی سو کوڑے کے بجائے سورة مائندہ کی آیت محاربہ کے تحت رجم ہی کی سزا دی ہے۔ اس مقدمہ میں مجرم، نماز کے لئے جاتی ہوئی ایک خاتون پر سرراہ حملہ آور ہونے کی وجہ سے چونکہ کسی رعایت کا مستحق نہیں تھا، اس لئے آپ نے اس کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کے بارے میں بھی کسی تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی۔ حدیث میں یہ واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے۔
عن علقمۃ بن وائل عن ابیہ، ان امرأۃ خرجت علی عھد النبی ﷺ ترید الصلوۃ نتلقاھا رجل، فتجللھا فقضی حاجتہ منھا، فصاحت، وانطلق فمر علیھا رج، فقالت : ان ذاک فعل بی کذا وکذا و مرت عصابۃ من الھاجرین فقالت ان ذلک الرجل فعل بی کذاوکذا فانطلقوا فاخذوا الرجل الذی ظنت انہ وقع علیھا فاتواھابہ فقالت : نعم ھو ھذا فاتوابہ النبی ﷺ فلما امربہ تام صاحبھا الذی وقع علیھا، فقال : یا رسول اللہ، انا صاحبھا، فقال لھا اذھبی فقد غفر اللہ لک وقال للرجل قولاً حسناً (قال ابودائود : یعنی الرجل الماخوذ) وقال للرجل الذی وقع علیھا : ارجموہ، (ابودائود، کتاب الحدود، باب فی صاحب الحد یحیئی فقیر والترمذی، ابواب الحدود)
علقمہ بن وائل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے زمانے میں ایک عورت نماز پڑھنے کے لئے گھر سے نکلی تو راستے میں ایک شخص نے اسے دیکھا، پس اس نے اس پر غلبہ پا لیا اور اپنے نفس کی پیاس بجھائی، اس پر وہ چیختی چلاتی تو وہ بھاگ کھڑا ہوا اسی اثناء میں ایک آدمی کا گزر اس طرف سے ہوا تو اس عورت نے اسے بتایا کہ ایک شخص نے اس طرح اسے رسوا کیا ہے۔ یہ بات ہو رہی تھی کہ مہاجرین میں سے ایک گروہ بھی اس طرف آ نکلا اس نے انہیں بھی اپنی روداد سنائی تو وہ بھاگے اور اس شخص کو پکڑ لیا جس کے بارے میں اس عورت کا خیال تھا کہ اس نے اس سے زیادتی کی ہے۔ پس وہ اسے اس کے پاس لے آئے تو اس نے کہا : ہاں، یہ وہی ہے، چناچہ وہ اسے ﷺ کے پاس لے آئے تو آپ نے بلاتامل اسے سزا دینے کا حکم دے دیا یہ دیکھ کر اصل مجرم کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا ’ اے اللہ کے رسول یہ میں تھا جس نے اس عورت سے زیاد کی، اس پر آپ نے اس عورت سے کہا جا اللہ نے تجھے معاف کردیا اور اس شخص سے کلمات خیر فرمائے جو شبہ میں پکڑا گیا تھا پھر اس شخص کے بارے میں جس نے اس عورت سے بدکاری کی تھی، فرمایا : اے رجم کر دو ،
خلاصہ بحث
اس ساری بحث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رجم کی سزا کے جو واقعات احادیث کی کتابوں میں مذکور ہیں وہ عام قسم کے زانیوں کے واقعات نہیں ہیں، بلکہ ان بدقماشوں کے واقعات ہیں جو اپنی آوارہ منشی، بد معاشی اور جنسی بےراہ روی کی بنا پر شریفوں کی عزت و ناموس کے لئے خطرہ بن جاتے ہیں، کھلم کھلا زنا بالجبر کے مرتکب ہوتے ہیں۔
اور اس فعل قبیح کو بطور پیشہ کے اختیار کرلیتے ہیں پھر جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ قانون کے ہاتھ ان کی گردن تک پہنچنے ہی والے ہیں تو اس قبیل کے مجرموں کی عام نفسیات کے مطابق اعتراف و اقرار کے لئے حاضر ہوجاتے ہیں ات کہ معاشرے اور قانون دونوں کی ہمدردیاں حاصل کرسکیں۔ وہی یہ بات کہ نبی ﷺ نے ان مجرموں کے شادی شدہ ہونے کی تحقیق بھی فرمایء تو اس کو جہ یہ ہے کہ دوسرے قوانین کی طرح اسلامی شریعت کا بھی یہ مسلمہ اصول ہے کہ حدود و تعزیرات کے نفاذ میں مجرم کے احوال کی رعایت کی جانی چاہئے۔ اس رعایت میں عمر، شادی، دماغی حالت، ماحول، غرض ہر وہ چیز جو جرم کی محرک یا اس کے ارتکاب میں رکاوٹ بن سکتی ہے، عدالت کے پیش نظر رہے گی۔ احادیث میں ثیب و بکرے الفاظ آئے ہیں۔ ان کا اطلاق عربیت کی رو سے جس طرح شادی شدہ اور غیر شادی شدہ پر ہوتا ہے۔ اسی طرح پختہ عمر کے آدمی اور الہڑ نوجوان پر بھی ہوتا ہے۔ ہمارے فقہاء کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے مجرم کی حالتوں میں سے ایک حالت کو مناظر حکم قرار دے دیا درآں حالیکہ اس کا تعلق مناط حکم سے نہیں ہے، اس طرح کی چیزیں تو ہر جرم کی سزا نافذ کرتے وقت محلوظ رکھی جاتی ہیں لہٰذا آیت زیر بحث کو جو لوگ منسوخ مانتے ہیں، ان کا خیال ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ قرآن کی کوئی آیت قرآن کے سوا کسی دوسری چیز سے منسوخ نہیں ہوتی ہے اور یہ ناسخ و منسوخ دونوں قرآن میں موجود ہیں۔ منسوخ ہونا تو الگ رہا اگر کسی آیت لی تحدید و غصیص بیا ہوئی ہے تو اس کے قرائن و اشارات یا تو آیت کے سیاق وسباق اور اس کے موقع و محل میں مضمر ہیں یا خود قرآن کے دوسرے مقامات میں موجود ہیں۔
عبادہ بن صامت کی روایت کا صحیح محل
اس روشنی میں اگر عبادہ بن صامت کی روایت کی تاویل کیجیے تو اس کا بھی ایک موقع و محل نکل آتا ہے وہ یوں کہ اس میں جو حرف و ہے اس کو جمع کے بجائے تقسیم کے مفہوم میں لیجیے یعنی کوئی زانی کنوارا ہو یا شادی شدہ دونوں کی اصل سزا تو جلد (تازیانہ) ہی ہے لیکن اگر کوئی کنوارا تازیانہ کی سزا سے قابو میں نہیں آ رہا ہے تو حکومت اس کو اگر مصلحت دیکھے، مائدہ کی مذکورہ بالا آیت کے تحت جلا وطنی کی سزا بھی دے سکتی ہیعع اس لئے کہ اس آیت میں نفی (جلا وطنی) کا اختیار بھی حکومت کو دیا گیا ہے اسی طرح شادی شدہ زانی کی اصل سزا جساہ کہ روایت سے واضح ہے تو تازیانہ ہی لیکن اگر کوئی شخص تازیانہ کی سزا سے قابو میں نہیں آ رہا ہے اور معاشرے کے لئے ایک خطرہ بن چکا ہے تو اس کو حکومت تقتیل یعنی رجم کی سزا از روئے سورة مائدہ دینے کا اختیار رکھتی ہے۔
Ayah 24:3خبر نہی کے مفہوم میں : کے لاینکح یہاں خبر کے مفہوم میں نہیں بلکہ نہی کے مفہوم میں ہے۔ نبی کے اندر جب نہی کے ساتھ ارشاد و موعظت کا مفہوم بھی ہو تو وہ خبر کی صورت میں آتی ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت بقرہ 272 کے تحت ہوچکی ہے۔ یہاں مقصود مسلم معاشرہ کی حس ایمانی کو بیدار کرنا ہے کہ تمہارے اندر زنا سے وہ نفرت و بیزاری ہونی چاہئے کہ کوئی زانی اگر تمہارے اندر ناح کرنا چاہے تو کوئی صاحب ایمان اس کو اپنی بٹی دینے کے لئے تیار نہ ہو۔ اس کو اگر نکاح کے لئے ملے تو کوئی زانیہ یا مشرکہ ہی ملے، کوئی مومنہ اپنے آپ کو اس کے حبالہ عقد میں دینے پر راضی نہ ہو۔ اسی طرح اگر کوئی زانیہ ہو تو کوئی باایمان اس سے نکاح نہ کرے۔ اس کو اگر کوئی نکاح کے لئے ملے تو کوئی زانی یا شرک ہی ملے، کوئی مسلمان اس نجاست کو اپنے گھر میں لانے پر راضی نہ ہو۔ فرمایا کہ دحرم ذلک علی المومنین زانیوں اور زانیات کے ساتھ ازدواجی رشتہ اہل ایمان کے لئے حرام ہے۔
زنا اور شرک کی باہمی مشابہت
آیت میں زانی اور مشرک اور زانیہ اور مشرکہ کا ایک ساتھ ذکر بڑا معنی خیز ہے۔ زنا اور شرک کی باہمی مشابہت پر ہم اس کتاب میں جگہ جگہ لکھ چکے ہیں۔ قدیم آسمانی صحیفوں میں مشرک کو چھنال عورت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ہم اس کے محل میں اس تشبیہ کی بلاغت واضح کرچکے ہیں۔ زنا اسی طرح کی اخلاقی نجاست ہے جس طرح کی عقائد کی نجاست شرک ہے۔ قرآن میں اسی وصفی اشتراک کی وجہ سے شرک اور مشرکین کو نجس کہا بھی گیا ہے۔
مسلم معاشرہ کی حس ایمانی کی بیداری کی ضرورت
معاشرہ کی ایمانی حس کو بیدار کرنے کی یہ ضرورت اس وجہ سے تھی کہ مجرد قانون، خواہ وہ کیسا ہی بےلاگ اور حکیمانہ نہ ہو، معاشرہ کی حفاظت اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک خود معاشرہ کے اندر برائی سے نفرت موجود نہ ہو۔ ہر قانون کے نفاذ کے لئے، بالخصوص جب کہ وہ ایک سخت قانون بھی ہو۔ لازماً ایسی شرطیں ہوتی ہیں کہ بہت سے مجرمین اپنے آپ کو اس کی زد سے بچائے رکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کے مجرمین سے نمٹنا خود معاشرہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو اپنی آنکھوں میں جگہ نہ دے بلکہ وہ جہاں بھی رہیں نکوبن کے رہنے پر مجبور ہوں۔ اگر وہ کسی شریف مسلمان سے رشتہ داری کے خواہشمند ہوں تو وہ ان کی درخواست ٹھکرا دے یہاں تک کہ اس طرح کے لوگ کسی شریف خاندان میں قرابت کا حوصلہ ہی نہ کرسکیں۔ یہ بیداری جرائم کے سدباب کے لئے ناگزیر شے ہے۔ اس دور کی آفات میں سے صرف یہی ایک افٓت نہیں ہے کہ حدود و تعزیرات اسلامی نہیں ہیں بلکہ اس سے بڑی آفت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر حس اسلامی نہیں ہے۔ اس زمانے میں اگر کوئی اپنی لڑکی کے لئے تلاش کرتا ہے تو اس کے اندر تمام وہ اوصاف تلاش کرتا ہے جو دنیاوی وجاہت کے پہلو سے ضروری خیال کئے جاتے ہیں لیکن بہت تھوڑے لوگ اب ایسے رہ گئے ہیں جو معاملہ کے اس پہلو کو نگاہ میں رکھتے ہوں جس کی طرف آیت میں رہنمائی فرمائی گئی ہے۔
Ayahs 24:4–5آیت 5-4
قذف کے معاملہ میں شہادت اور سزا کا قانون
اب یہ قذف کے معاملہ میں شہادت اور سزا کا قانون بیان ہو رہا ہے کہ شریف اور آزاد مومنات پر جو لوگ زنا کی تہمت لگائیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ جرم کے چار عینی شاہد پیش کریں۔ اگر وہ چار گواہ معتبر نہ پیش کرسکیں تو پھر حکم ہے کہ ان کو اسی کوڑے مارو اور ہمیشہ کے لئے ان کو ساقط الشہادت قرار دے دو یہ امر محلوظ رہے کہ اسلامی معاشرہ میں کسی کا ہمیشہ کے لئے مرد والشہادۃ قرار دے دیا جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ معاشرے کے اندر یہ اس کی عرفی حیثیت کے بالکل ختم ہوجانے کے ہم معنی ہے۔ اس امت کا اصلی مرتبہ یہ یہ کہ یہ شھدآء اللہ فی الارض ہے اگر کوئی شخص ساقط اشہادت قرار دے دیا جاتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس امت کے ایک فرد ہونے کی حیثیت سے اس کو جو اصلی سرفرازی حاصل ہوئی تھی وہ اس نے کھو دی۔
الذین اگرچہ مذک رکے لئے آتا ہے لیکن اگر کوئی عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس حکم سے مستثنیٰ رہے اس وجہ سے یہ لفظ عورت اور مرد دونوں کے لئے علی سبیل التغلیب عام ہوگا۔
لفظ محصنت اس طرح کے سیاق میں حایر یعنی لونڈیوں کے مقابل میں شریف زادیوں کے لئے آتا ہے اس وجہ سے جو لوگ لونڈیوں اور غلاموں کے معاملے میں اس کی نصف سزا کے قائل ہیں ان کی بات مبنی بر دلیل ہے۔
توبہ اور اصلاح کے بعد اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس طرح کے لوگوں کے گناہ تو معاف ہوجائیں گے لیکن جہاں تک ساقط الشہادت ہونے کا تعلق ہے یہ چیز بدستور باقی رہے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ توبہ کا تعلق انسان کے دل سے ہے اور دل کا حال صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ آیت کے الفاظ سے بھی یہی بات نکلتی ہے کہ مغفرت کا تعلق صرف توبہ سے ہے۔ شہادت سے اس کا تعلق نہیں ہے وہ ساقط الشہادت ابد یعنی عمر بھر کے لئے رہیں گے۔
Ayahs 24:6–96-9
والذین یرمون ازواجھم ولم یکن لھم شھدآء الا انفسھم فشھاۃ احدھم اربع شھدت باللہ انہ لمن الصدقین والخامسۃ ان لعنۃ اللہ علیہ ان کان من الکذبین ویدروئو اعنھا العذاب ان تشھد اربع شھدت باللہ لمن الکذبین والخامۃ ان غضب اللہ علیھآ ان کان من الصدقین
لعان کا ضابطہ
اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کی ذات کے سوا اس کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو اس صورت میں معاملہ کا فیصلہ قسم سے ہوگا۔ اس کو اصطلاح شریعت میں لعان کہتے ہیں۔ اس کی شکل یہ ہوگی کہ مرد چار بار اللہ کی قسم کھا کر یہ کہے گا کہ میں جو الزام لگا رہا ہوں اس میں سچا ہوں۔ پانچویں بار یہ کہے گا کہ اگر وہ جھوٹ الزام لگا رہا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اگر عورت مرد کی اس قسم کی کوئی مدافعت نہ کرے تو اس پر زنا کی وہی حد جاری ہوجائے گی جو اوپر مذکور ہوئی ہے اور اگر وہ اس الزام کو تسلیم نہیں کرتی تو اس کے لئے سزا سے بریت اس صورت میں ہوگی جب وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر یہ کہے کہ یہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کا غضب ہو اگر یہ شخص سچ کہہ رہا ہے۔
Ayah 24:10ایک تنبیہ
یہ آیت جیسا کہ پہلی آیت میں اشارہ ہوچکا ہے، بطور تنبیہ و تذکیر ہے اور اس میں جواب شرط عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق، محذوف ہے۔ آگے آیت 14 میں اس محذوف کو کھول بھی دیا ہے مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کے فضل و رحمت اور اس کے تو اب و حکیم ہونے کی برکت ہے کہ وہ تم کو یہ روشن ہدایات اور واضح و پر حکمت احکام دے رہا ہے کہ تمہارے لئے توبہ و اصلاح کی راہ کھولے ورنہ تم جس روش پر چل پڑے تھے یہ تو خدا کے غضب کو دعوت دینے والی تھی۔
یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ یہ احکام اس زمانہ میں نازل ہوئے ہیں جب مسلمانوں کے اندر، منافقین کی ریشہ دوانیوں سے، بعض نہایت سخت قسم کی، جیسا کہ آگے تفصیل آرہی ہے، کمزوریاں ظاہر ہوئی تھیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کمزوریوں پر سزا دینے کے بجائے اپنے فضل و رحمت سے ان کو ان احکام و ہدایات کے نزول کا سبب بنا لیا جو اسلامی معاشرہ کو شیاطین و منافقین کی ریشہ دوانیوں اور فتنہ انگیزوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری تھے۔
Ayah 24:11آگے کا مضمون ……آیات 26-11
آگے فتنہ افک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کمزوریوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو اس موقع پر مسلمانوں کی ایک جماعت سے صادر ہوئیں کہ وہ بھی منافقین کے اٹھائے ہوئے فتنہ میں نادانستہ شریک ہوگئے اور بےسوچے سمجھے اسی طرح کی باتیں بولنے لگے جس قسم کی باتیں منافقین پھیلانی چاہتے تھے۔ حالانکہ مسلمانوں کے باہمی تعلق کی بنیاد اعتماد او کامل حسن ظن پر ہونی چاہئے۔ اگر کوئی مسلمان اپنے دوسرے بھائی بہن کی نسبت کوئی بری بات سنے تو اس وقت تک وہ اس کو قبول نہ کرے اور نہ زبان پر لائے جب تک اس کی پوری تحقیق نہ ہوجائے۔ اسی سلسلہ میں منافقین اور ان کے سرپرسوتوں کی در پردہ اس خواہش اور کوشش کا سراغ دیا ہے کہ وہ طرح طرح کی افواہیں پھیلا کر مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ اکھاڑ دینے کے در پے ہیں اس وجہ سے ان سے پوری طرح ہوشیار رہنا چاہئے اور خود اپنے ہاتھوں ان کی مقصد برآری کا سامان نہیں کرنا چاہئے۔ اس مقصد کے لئے جو ضروری ہدایات ہیں وہ بھی اسی ذیل میں دی گئی ہیں اور جو لوگ بالکل نادانستہ اس فتنہ میں ملوث ہوگئے تھے ان سے درگزر کی ہدایت بھی فرمائی گئی ……اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمایئے۔
فتنہ افک
افک جھوٹی، من گھڑت، خود تراشیدہ اور خلاف حقیقت بات کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے اشارہ اس فتنہ کی طرف ہے جو غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو متہم کرنے کے لئے برپا کیا۔ بعض جھوٹ ایسے ہوتے ہیں جن کا ذکر بھی زبان پر لانا گوارا نہیں ہوتا اور یہ جھوٹ تو تمام مسلمانوں کی ماں سے متعلق تراشا گیا تھا اس وجہ سے قرآن نے اس کی طرف لفظ افک سے اشارہ کر کے اس کو نظر انداز کردیا۔ بس اتنا پتہ دے دیا کہ اس کے ایجاد کرنے والے اور اس کو پھیلانے والے کون لوگ ہیں تاکہ یہ انذازہ ہوجائے کہ جس منبع فاسد سے یہ بات چلی ہے اس کی پھیلائی ہوئی بات جائے خود نہ قابل ذکر ہے اور نہ لائق غور و تحقیق البتہ اس سے جو سبق حاصل ہوئے ہیں وہ سب کے لئے حر زجان بنانے کے لئے قابل ہیں۔ چناچہ قرآن نے نفس واقعہ کی نوعیت کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی فہم مسلمانوں کے اندر نفس واقعہ کے افتراء و بہتان ہونے سے متعلق کوئی تردد نہیں پایا جاتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ منافقین کا اٹھایا ہوا فتنہ ہے لیکن جب کوئی سنسنی پیدا کرنے وال بات عوام میں پھیلا دی جاتی ہے تو جو لوگ زیادہ معاملہ فہم نہیں ہوتے وہ بےسمجھے بوجھے اس کی نقل و روایت شروع کردیتے ہیں۔ 1
منافقین کی طرف اشارہ
عصبۃ منکم سے اشارہ منافقین کے اس مار آستین گروہ کی طرف ہے جو مسلمانوں کے اندر گھسا ہوا تھا۔ ان کا سردار عبداللہ بن ابی تھا چونکہ اپنے ظاہری طور طریق میں یہ لوگ مسلمانوں سے الگ نہیں تھے اس وجہ سے ان کو مسلمانوں کے اندر گھس کر اپنا زہر پھیلانے کا موقع مل جاتا اور بہت سے سادہ لوح مسلمان ان کے چکموں میں آجاتے۔ یہاں قرآن نے عصبۃ منکم کہہ کر انہی کی طرف انگلی اٹھائی ہے اور مقوصد اس اشارے سے مسلمانوں کو ان کی طر سے ہوشیار کرنا ہے کہ یہ تمہارے اندر ہی گھسے ہوئے ایک گرہ کا اٹھایا ہوا فتنہ ہے، ان سے ہوشیار رہو۔
اس فتنہ سے اندر خیر کے پہلو
لاتحسبوہ شراتکم بل ھو خیرلکم یعنی ان شریروں نے یہ فتنہ جو اٹھایا یہ تمہارے حق میں برا نہیں ہوا بلکہ اگر تم اس سے صحیح فائدہ اٹھا ئو تو اس میں تمہارے لئے بہت سے پہلو خیر کے ہیں۔
خیر کا ایک نمایاں پہلو تو اس کے اندر یہی تھا کہ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کو اپنے اندر کے ایک
1۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں سے واقعہ کی نوعیت صرف یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبی ﷺ غزوہ بنی مصطق (واقع 6 ھ) سے مدینہ منورہ واپس ہو رہے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ایک الگ اونٹ پر ہم سفر تھیں۔ راستہ میں فوج نے شب میں کہیں پڑائو ڈالا۔ فوج کے کوچ سے پہلے ام المومنین ضرورت سے باہر نکلیں۔ اتنے میں فوج کے کوچ کا حکم ہوگیا۔ قافلہ روانہ ہوگیا اور ساتھ ہی ام المومنین کا ساربان بھی یہ سمجھ کر روانہ ہوگیا کہ آپ اپنے ہودج میں سوار ہیں۔ ام المومنین جب جگہ پر واپس آئیں اور دیکھا کہ قافلہ روانہ ہوگیا تو شب میں اس کے سوا انہیں کوئی اور تدبیر نظر نہیں آئی کہ وہیں ٹھہر جائیں تان کہ اللہ تعالیٰ کوئی راہ پیدا کرے۔ حضرت صفوان صحابی اس خدمت پر مامور تھے کہ وہ قافلہ کے پیچھے پیچھے چلیں تاکہ بھولی بسری چیزوں کا جائزہ لے سکیں۔ جب صبح کو وہ پڑائو کی جگہ پر پہنچے اور دیکھا کہ ام المومنین پے چھ رہ گئیں تو انہوں نے انا للہ پڑھا۔ بالآخر اپنا اونٹ بٹھایا۔ ام المومنین اس پر سوار ہوگئیں اور انہوں نے مہار پکڑ کر اونٹ کو قافلے سے جا ملایا۔ فوج کے کوچ و مقام کے دوران میں اس قسم کے واقعہ کا پیش آجانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ لیکن منافقین نے اسی ذرا سی بات کو ایک افسانہ بنا ڈالا۔
مار آستین گروہ کو اچھی طرح پہچان لینے کا موقع مل گیا۔ اگر یہ موقع نہ پیدا ہوتا تو معلوم نہیں اندر ہی اندر یہ سرطانی پھوڑا کیا شکل اختیار کرتا اور اس سے کیا مفاسد ظہور میں آتے !
دوسرا خیر کا پہلو اس کے اندر یہ نکلا کہ مسلمانوں کے اندر جو بعض کمزوریاں دبی ہوئی تھیں وہ اس امتحان سے ابھر کر سامنے آگئیں اور بروقت ان کی اصلاح و تدبیر ہوگئی۔ معاشرہ کے تزکیہ کے نقطہ نظر سے اس کی جو اہمیت ہے وہ بالکل واضح ہے۔
تیسرا پہلو اس میں خیر کا یہ ہے کہ اس واقعہ نے معاشرہ کی اصلاح و تنظیم سے متعلق بہت سے احکام و ہدایات کے نزول کے لئے ایک نہایت سازگار فضا پیدا کردی۔ اگر اس فضا کے پیدا ہوئے بغیر یہ احکام اترتے تو بہت سے لوگوں پر ان کی حقیقی قدر و قیمت واضح نہ ہو سکتی۔
لکل امری منھم ما اکتسب من الاثم والذی تولی کبرہ منھم لہ عذاب عظیم کبر
بانی فتنہ کی طرف
کسی جرم یا گناہ کے اصل اور بڑے حصہ کو کہتے ہیں الذی تولی کبرہ یعنی جو اس فتنہ کا اصل برپا کرنے والا ہوا ہے یہ اشارہ عبداللہ بن ابی کی طرف ہے۔ یہ نہایت خبیث منافق تھا۔ اس سے پہلے بھی یہ متعدد فتنے برپا کرچکا تھا اور اس فتنے کی تو ساری ذمہ داری اصلاً اسی پر تھی۔ اوپر کے ٹکڑے میں مسلمانوں کو تسلی تھی کہ تمہارے لئے تو یہ فتنہ بہ اعتبار سے موجب خیر ہی ہوا ہے البتہ ان اشرار و مفدسین کے لئے یہ باعث ہلاکت ہوا۔ ان میں سے جس نے جس درجہ کا اس فتنہ ہر اعتبار سے موجب خیر ہی ہوا ہے البتہ ان اشرار و مفسدین کے لئے یہ باعث ہلاکت ہوا۔ ان میں سے جس نے جس درجہ کا اس فتنہ میں حصہ لیا ہے وہ اپنے درجے کے اعتبار سے اس کی سزا بھگتے گا اور جو اس سارے طوفان کا اصل پانی ہے اس کے لئے تو آخرت میں ایک عذاب عظیم ہے۔