24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب تم میں سے وہ جو بچے ہیں بلوغ کو پہنچ جائیں تو چاہئے کہ وہ بھی اسی طرح اجازت لیں جس طرح ان کے پہلوں نے اجازت لی۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے

آیت 59-58 غلاموں اور بچوں کے لئے تین اوقات میں اجازت لینے کی پابندی پیچھے آیت 31 پر ایک نظر ڈال لیجیے وہاں گھروں میں داخل ہونے کے لئے اجازت لینے کی جو شرط لگائی ہے اس سے غلاموں اور نابالغ بچوں کو مستثنیٰ رکھا تھ۔ بعد میں ان پر بھی یہ قید عائدکر دی گئی کہ تین اوقات میں وہ بھی اجازت لیا کریں۔ نماز فجر سے پہلے، دوپہر کے وقت جب تم قیلولہ کے لئے کپڑے اتارتے ہو اور عشاء کی نماز کے بد ان تین اوقات میں خاص احتیاط کی وجہ یہ بتائی ہے کہ یہ اوقات بےتکلفی اور بےپردگی کے ہیں۔ فجر سے پہلے اور عشاء کے بعد کے اوقات کا بےپردگی کے اوقات ہونا تو واضح ہے۔ دوپہر کا وقت بھی عام طور پر آرام کا ہوتا ہے۔ خا ص طور پر عرب میں گرم ملک ہونے کی وجہ سے، اس وقت لوگ قیلولہ کرتے ہیں۔ ان اوقات میں غلاموں اور بچوں کا بےاجازت گھر میں داخل ہونا اس بات کا متحمل تھا کہ وہ گھر والوں کو کسی ایسے حال میں دیکھ لیں جس میں دیکھنا پسندیدہ نہ ہو۔ اس وجہ سے یہ پابندی عائد کردی گئی اور ان پابندیوں کے عائد کرنے میں ایک تدریج ملحوظ رکھی گئی تاکہ یہ طبائع پر زیادہ شاق نہ ہوں۔ ان تین اقوات کے سوا ان پر اجازت کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس کی حکمت یہ واضح فرمائی ہے کہ طوفون علیکم بعضکم علی بعض تم ہر وقت ایک دوسرے کے پاس آمد و شد رکھنے والے ہو اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کسی تنگی میں ڈالنا پسند نہیں فرمایا۔ واذا بلغ الاطفال منکم الحلم الآیۃ لیکن یہ نابالغ بچے بھی اجازت لینے کی قید سے مستثنیٰ صرف اس وقت تک ہیں جب تک نابالغ ہیں۔ بالغ ہونے کے بعد ان پر بھی وہ تمام پابندیاں عائد ہوجائیں گی۔ جو دوسروں کے لئے مذکور ہوئی ہیں۔ اس دلیل کی بنا پر کہ یہ بچپن سے گھر میں آتے جاتے رہے ہیں ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ یہ دونوں آیتیں توضیحی ہیں ان دونوں آیتوں کے ساتھ دیکھ لیجیے، یہ تصریح موجود ہے کہ یہ بعد میں سابق احکام کی وضاحت کے طور پر نازل ہوئی ہیں اور یہ وضاحت خدا کے علم و حکمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی یہ جانتا ہے کہ بندوں کی تربیت و اصلاح کے لئے کیا احکام دیے جائیں اور وہ کسی ترتیب و تدریج کے ساتھ نازل کئے جائیں۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور عورتوں میں سے بڑی بوڑھیاں ج واب نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، اگر اپنے دوپٹے اتاریں تو اس میں کوئی ہرج نہیں بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں اور یہ بات کہ وہ بھی احتیاط کریں ان کے لئے بہتر ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے

بوڑھی عورتوں کے لئے ایک رخصت یہ آیت بھی توضیحی آیات میں سے ہے۔ پیچھے آیت 31 میں عورتوں کو گھرکے اندر کسی غیر محرم کی موجودگی میں، جو ہدایات دی گی ہیں ان میں یہ ہدایت بھی ہے ولیضربن بخموھن علی جیوبھن وہ اپنی اوڑھنیوں کے آنچل سے اپنے گریبان ڈھانک لیا کریں۔ اس حکم عام سے یہاں ان عورتوں کو متثنٰی کردیا جواب نکاح کے عمر سے گزر چکی ہیں۔ یعنی اگر وہ اوھڑنیوں کا یہ اہتمام نہ کریں تو اس میں چنداں ہرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ اگرچہ پسندیدہ بات ان کے لئے بھی یہی ہے کہ وہ بھی احتیاط کو ملحوظ رکھیں جو دوسری عورتوں کے لئے بیان ہوئی ہے۔ بڑی بوڑھیوں کے لئے یہ رعایت ان کی آسانی کے لئے رکھی گئی ہے لیکن اس میں بھی فتنہ کا ایک پہلو ہے۔ جس طرح بعض مردوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ بوڑھے ہوجاتے ہیں لیکن ناک لگی ہی رہ جاتی ہے اسی طرح بعض عورتوں میں یہ بھی کمزوری ہوتی ہے کہ بوڑھی ہوجاتی ہیں لیکن اپنے زیورات اور اپنی ثروت کی نمائش کا شوق ان کے اندر سے نہیں نکلتا۔ چونکہ یہ چیز بجائے خود آدمی کے دین کے لئے ایک فتنہ ہے اس وجہ سے اس کی طرف توجہ دلا دی کہ وہ اس رخصت سے کوئی غلط فائدہ نہ اٹھائیں۔ واللہ سمیع علیم یہاں تنبیہ کے لئے ہے یعنی ہر شخص کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ خدا سے کوئی بات مخفی نہیں رہتی۔ وہ سب کچھ سنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ نابینا پر کوئی تنگی ہے اور نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ مریض پر کوئی تنگی ہے اور نہ خود تمہارے اوپر کوئی تنگی ہے اس بات میں کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی مائوں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچائوں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموئوں کے گھروں سے یا اپنی خالائوں کے گھروں سے یا اپنے زیر تولیت کے گھروں سے یا اپنے دوستوں کے گھروں سے کھائو پیو، خواہ اکٹھے ہو کر یا الگ الگ بس یہ بات ہے کہ جب گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کرو جو اللہ کی طرف سے ایک بابرکت اور پاکیزہ دعا ہے۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم سمجھو

آیت 61 پردہ کا مقصد معاشرتی روابط کا انقطاع نہیں یہ آیت بھی توضیحی آیات میں سے ہے جب گھروں کے اندر جانے پر وہ پابدیاں عائد کردی گئیں جو پیچھے بیان ہوئیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ اسلام سوشل آزادیوں کو محدود کرنا چاتا ہے کہ خاص اپنے عزیزوں، قریبوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے گھروں میں بھی اب کوئی شخص آزادی و بےتکلفی کے ساتھ نہیں آجا سکتا۔ بہت سے لوگ جو معذور و مجبور تھے اور اپنی مجبوری کے سبب سے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں ہی کے گھروں پر گزارہ کرتے تھے انہوں نے بھی یہ محسوس کیا کہ اب ان کی آزادی محدود ہوگئی۔ دور جاہلیت میں چونکہ غیر محدود آزادی و بےقیدی لوگوں کو حال رہی تھی اس وجہ سے اس کے مقابل میں اتنی پابندی بھی بعض طبائع پر، شاق گزری۔ اس طرح کے لوگوں کے شبہ کو دور کرنے کے لئے یہ وضاحت فرما دی گئی کہ بعض احتیاطی پابندیوں کے عائد کرنے سے نہ یہ مقصود ہے کہ ادھے، لنگڑے اور مریض اپنے تعلق کے لوگوں کے سہارے سے محروم ہوجائیں اور نہ یہ مطلب ہے کہ اعزہ و اقرباء اور دوستوں کے ساتھ معاشرتی روابط منقطع ہوجائیں۔ لوگ ایک دوسرے کے ہاں آئیں جائیں، ملیں جلیں، کھائیں پئیں۔ انفرادی طور پر بھی اور تقریبات میں اجتماعی طور پر بھی۔ ان چیزوں پر کوئی پابندی نہیں ہے مطلوب جو چیز ہے وہ یہ ہے کہ جب لوگ گھروں میں اخل ہوں تو سلام کر کے داخل ہوں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مبارک اور پاکیزہ طریقہ تحیت و دعا ہے جس سے باہمی تعلقات کی خوش گواری میں اضافہ ہوتا ہے اور شیطان کی در اندازیوں کے راستے مسدود ہوجاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس پابندی کو گراں نہ سمجھو۔ اس میں تمام تر تمہاری ہی فلاح و بہبود مدنظر ہرے۔ اوما ملکتم مفاتحہ سے مراد او ما ملکتم مف تحہ سے مراد، میرے نزدیک، وہ گھر ہیں جن کی تولیت کی کسی شخص پر ذمہ داری ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی یتیم کا ولی ہے۔ کذلک یبین للہ لکم الایت لعلکم تعقلون یہ آیت اشارہ کر رہی ہے کہ یہ کسی سابق حکم کی جیسا کہ ہم نے تفریح کی وضاحت ہے۔ لعلکم تعقلون سے یہ بات نکلتی ہے کہ جن لوگوں نے ان ہدایات کو ناروا پابندی پر محمول کیا، یہ محض نافہمی کی بنا پر کیا۔ قرآن نے یہ واضحت اس لئے فرمائی ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی یہ نافہمی دور ہو اور وہ ان احکام کی افادیت و برکت کو اچھی طرح سمجھیں۔ اس آیت میں تمام رشتہ داروں اور قرابت داروں کا اس تصریح کے ساتھ الگ الگ جو ذکر آیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں مشترک خاندانی نظام کا رواج نہیں تھا بلکہ ہر بالغ شادی کے بعد اپنا الگ گھر بساتا تھا اور اس تصریح سے وہ بات بھی نکلی جس کی طرف ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ اس سورة میں زیر بحث وہ پردہ ہے جو اعزہ و اقرباء اور تعلق و اعتماد کے لوگوں کے گھروں کے اندر آنے جانے کی صورت میں مردوں اور عورتوں دونوں کو محلوظ رکھنا چاہئے۔ یہاں اس پردے کی وضاحت نہیں ہے جو عورتوں کو گھر سے باہر نکلنے کی صورت میں اختیار کرنا چاہئے۔ اس کی وضاحت جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا سورة احزاب میں ہوئی ہے اور ہم وہاں انشاء اللہ اس پر مفصل گفتگو کریں گے۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ اور رسول پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اور جب کسی اجتماعی معاملہ کے لئے رسول کے پاس ہوتے ہیں تو اس وقت تک وہاں سے نہیں ٹلتے جب تک اس سے اجازت نہ لے لیں۔ جو لوگ تم سے اجازت لے کر جاتے ہیں وہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والے ہیں تو جب وہ اپنی کسی ضرورت سے اجازت مانگیں تو تم ان میں سے جس کو چاہو اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو۔ بیشک اللہ غفور رحیم ہے

اجتماعی کاموں سے کھسکنے والے منافقین کو تنبیہ یہ اور اس کے بعد کی آیات، منافقین کے اس ذکر سے متعلق ہیں جو آیت 57 پر ختم ہوا ہے۔ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات بطور تنبیہ مزید بعد میں نازل ہوئی ہیں اس وجہ سے ان کو بعد میں نازل ہونے والی آیات کے ساتھ جگہ دی گی تاکہ ان کی پوری اہمیت واضح ہو۔ فرمایا کہ اصل مومن وہی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر سچا اور پکا ایمان رکھتے ہیں۔ قرینہ دلیل ہے کہ فعل امنوا یہاں اپنے کامل مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ واذا کانوا معہ علی امرجامع یہ ان کے رسوخ ایمان کی ایک علامت بیان ہوئی ہے کہ جب وہ کسی اجتماع کام کے لئے رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو منافقین کی طرح یہ نہیں کرتے کہ جب چاہا وہاں سے چپکے سے کھسک گئے بلکہ انہیں کوئی ضرورت پیش آتی ہے تو رسول سے اجازت لے کر وہاں سے ٹلتے ہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ اجازت لیتے ہیں وہی سچے مومن ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ مومن نہیں بلکہ پکے منافق ہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ اپنی کسی واقعی ضرورت کے لئے اجازت کے طالب ہوں تو ان میں سے، جس کو چاہو، اجازت دے دیا کرو اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہرچند اس طرح کی اجازت مانگنا کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے اس لئے کہ رسول کی معیت و نصرت سے بڑھ کر، بالخصوص جب کہ کوئی اجتماعی ضرورت درپیش ہو، کوئی دوسرا کام نہیں ہوسکتا لیکن انسانی کمزوریوں کو پیش نظر رکھ کر رسول کو یہ اجازت دے دی گئی کہ اگر وہ کسی کو اجازت دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں اور اس کی اس کمزوری کے لئے اللہ سے استغفار کریں۔
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

تم لوگ رسول کے بلانے کو اس طرح کا بلانا نہ سمجھو جس طرح تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ اللہ تم میں سے ان لوگوں سے اچھی طرح باخبر رہا ہے جو ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے کھسک جایا کرتے رہے ہیں۔ پس وہ لوگ جو اس کے حکم سے گریز کرتے رہے ہیں اس بات سے ڈریں کہ ان پر کوئی آزمائش آجائے یا ان کو ایک درد ناک عذاب آپکڑے

خطاب با اعتبار الفاظ، اگرچہ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ کلام کا رخ منافقین ہی کی طرف ہے۔ فرمایا کہ اگر رسول کسی اجتماعی کام کے لئے دعوت دیں تو اس کو دوسروں کے بلانے کی طرح نہ سمجھو بلکہ ہر شخص کا فرض ہے کہ رسول کی ہر دعوت پر لبیک کہتا ہوا ان کی خدمت میں حاضر ہو۔ قدیعلم اللہ الذین یتسلون منکم لواذا مضارع سے پہلے یہاں فعل ناقص محذوف ہے تسلسل کے معنی چل دینے اور چپکے سے کھسک جانے کے ہیں۔ لواذا کے معنی ایک دوسرے کی آڑ اور پناہ لیتے ہیں۔ یہ منافقین کو تنبیہ ہے کہ اللہ ان لوگوں سے برابر آگاہ رہا ہے جو رسول کے بلائے ہوئے اجتماعات سے ایک دوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چپکے سے کھسک جایا کرتے رہے ہیں کہ پرسش ہو تو یہ عذر کرسکیں کہ ان کو حضور ﷺ کے حکم کی خبر نہیں ہوئی۔ اس اسلوب بیان میں جو غصہ اور عتاب مضمر ہے وہ زبان کا ذوق رکھنے والوں سے مخفی نہیں ہے۔ فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ الآیۃ مخالفۃ یہاں گریز اور فرار کے مفہوم پر متضمن ہے اس وجہ سے اس کا صلہ عن کے ساتھ آیا ہے۔ مخالفین کی مخالفت کی نوعیت درحقیقت گریز وفرار ہی کی تھی۔ وہ اپنی بزدلی کے سبب سے سامنے تو امنا و صدقنا ہی کہتے لیکن درپردہ گریز و فرار کی کوشش کرتے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے یہ روش اختیار کر رکھی ہے وہ اس بات کو نہ بھولیں کہ اس کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کی کسی بہت بڑی آزمائش میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور کسی درد ناک عذاب میں بھی گرفتار ہو سکتے ہیں۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

آگاہ ہو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ تم جس حال پر ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے اور جس دن یہ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا وہ اس سے ان کو باخبر کرے گا اور اللہ ہر چیز سے اچھی طرح واقف ہے

یہ اسی سورة میں منافقین کو آخری تنبیہ ہے۔ فرمایا کہ اچھی طرح کان کھول کر سن لو کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ جس حال میں تم رہے ہو، یا یا ہو اس سے اللہ برابر باخبر رہا ہے اور ہے اس کے بعد ان سے منہ پھیر کر فرمایا کہ یہ لوگ اس دن کو یاد رکھیں جس دن اللہ کے حضور ان کی پیشگی ہوگی اور اللہ ان کا سارا کچا چٹھا ان کے سامنے رکھ دے گا۔ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے۔ ان سطروں پر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس گروپ کی اس آخری سورة کی تفسیر تمام ہوئی۔ اللہ تعالیٰ لغزشوں سے درگزر فرمائے اور صحیح باتوں کے لئے دلوں میں جگہ پیدا کرے۔ فالحمد للہ علی ذلک