24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 24:34

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں بھی اتار دی ہیں، اور ان لوگوں کی تمثیل بھی سنا دی ہے جو تم سے پہلے گزرے اور خدا ترسوں کے لئ موعظت بھی

موعظت کا آمادہ یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ اس سورة میں بار بار آئی ہے۔ پیچھے بھی اس کی مثالیں گزر چکی ہیں اور آگے آیت 46 میں بھی اس کی نظیر موجود ہے۔ ان تنبیہات کے بار بار اعادہ کی حکمت کی طرف ہم اس سورة کی پہلی ہی آیت کے تحت اشارہ کر آئے ہیں۔ ومثلاً من الذین حلوا من قبلکم سے اشارہ اس تمثیل کی طرف ہے جو آگے آیت 35 میں آرہی ہے اور جس کی وضاحت آپ کے سامنے انشاء اللہ آئے گی۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہاری طرف یہ نہایت واضح ہدایات نازل کردی ہیں اور تمہاری حوصلہ افزائی کے لئے ان اسلاف صالحین کی تمثیل بھی پیش کردی ہے جن کے نقش قدم کی تمہیں پیروی کرنی ہے۔ ان کے اندر ان لوگوں کے لئے بڑی نصیحت و موعظت ہے جو خدا سے ڈرنے والے ہیں۔ رہے وہ لوگ جن کے سینے خوف خدا سے خالی ہیں تو ان کے اوپر کوئی وضاحت و موعظت بھی کارگر نہیں ہوتی۔ وہ اپنا انجام خود دیکھیں گے۔ -6 غلامی کا بالتدریج خاتمہ اس مجموعہ آیات میں جو اہم ہدایات دی گئی ہیں ان کی بقدر ضرورت وضاحت آیات کے تحت ہوچکی ہے۔ البتہ غلامی سے متعلق ہم یہاں ان باتوں کو یکجا کردینا چاہتے ہیں جن کی طرف پیچھے جگہ جگہ ہم اشارہ کرچکے ہیں تاکہ اس سلسلہ میں جو غلط فہمیاں لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں ان کا ازالہ ہو سکے۔ غلامی اسلام کے اپنے نظام کا کوئی جزو نہیں تھی بلکہ اس کو اسلام نے وقت کے بین الاقوامی اور ملکی حالات کے تحت محض اس لئے گوارا کرلیا تھا کہ اگر بیک گردش قلم اس کے خاتمہ کا اعلان کردیا جاتا تو اس سے دشمن قوموں کو بھی شہ ملتی اور خود اپنے معاشرے کے اندر بھی نہایت سخت قسم کی معاشرتی اور معاشی الجھنیں پیدا ہوجاتیں۔ اس دور میں اول تو جنگی قیدیوں کے مسئلہ کا ایک معروف حل یہی تھا کہ جنگ میں جو قیدی گرفتار ہوں ان کو فاتحسین غلام بنا لیں تانیاً ہر جگہ نخاسوں پر غلاموں اور لونڈیوں کی خریدو فروخت کا کاروبار ہوتا تھا اور ہر ذی استطاعت کے گھر میں ہر سن و سال کی لونڈیاں اور غلام موجود تھے۔ ایسے حالات میں اگر بیک وقت یہ اعلان کردیا جاتا کہ تمام لونڈیاں اور غلام آزاد ہیں تو قطع نظر اس سے کہ اس سے مخالف قوتیں فائدہ اٹھاتیں ایک بڑا اہم سوال یہ پیدا ہوتا کہ ان تمام لونڈیوں اور غلاموں کو معاشرے میں کہاں کھپایا جائے ؟ ان میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے افراد کی بھی تھی جو یہ صلاحیت نہیں رکھتے تھے کہ خود اپنی کفالت کا بار اٹھا سکیں۔ غلامی صورت میں تو ان کی کفالت کی ذمہ داری قانونًا اس کے مالکوں کے اوپر تھی لیکن آزاد ہوجانے کی صورت میں ان کے لئے اس کے سوا کوئی سبیل باقی نہ رہتی کہ بھیک مانگیں اور معاشرے پر ایک بوجھ بنیں۔ بالخصوص لونڈیوں کا مسئلہ اور بھی پیچیدہ تھا۔ ان کے بےسہارا ہونے میں بہت سے اخلاقی مفاسد کے پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔ بیت المال، ظاہر ہے کہ اتنی بڑی فوج کی کفالت کے بار کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ ان مصالح کی وجہ سے اسلام نے ان کی آزادی کی ایک ایسی راہ اختیار کی جس سے وہ خطرات بھی پیدا نہیں ہوئے جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے اور بتدریج تمام ذی صلاحیت غلام اور لونڈیاں آزاد ہو کر اسلامی معاشرہ کے جزو بھی بن گئے۔ یہاں اس مسئلہ کی تمام تفصیلات سے بحث کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے لئے ایک مستقل کتاب کی ضرورت ہوگی۔ البتہ ہم چند اہم مبادی کی طرف اشارہ کریں گے جن سے آپ کو اندازہ ہو سکے گا کہ اسلام نے غلاموں کو آزادوں کی صف میں لانے کے لئے بالتدریج کیا ہدایات جاری کیں۔ -1 اسلام نے اس سلسلہ میں سب سے پہلاقدم یہ اٹھایا کہ مکی زندگی کے بالکل ابتدائی دور ہی سے فک رقبہ یعنی غلام آزاد کرنے کو ایک بہت بڑی معاشرتی نیکی قرار دیا۔ مکی سورتوں میں فک رقبہ، اور اطعام فقراء کا ذکر بالکل ساتھ ساتھ ہوا ہے اور بعض آیات میں اس کو حصول سعادت کی راہ میں اولین قدم بتایا گیا ہے بالخصوص امراو اغنیار کے لئے۔ -2 نبی ﷺ نے نہایت واضح الفاظ میں غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ نہ صرف حسن سلوک کی ہدایت فرمائی بلکہ مالکوں پر ان انسانی حقوق کو شرعی درجہ دے دیا جس سے ان کے معاملہ میں مالکوں کی وہ خود مختاری اور مطلق العنانی ختم ہوگئی جو زمانہ جاہلیت میں ان کو حاصل تھی۔ -2 بعض گناہوں اور کوتاہیوں کی صورت میں غلام آزاد کنے کو کفارہ اور صدقہ ٹھہرا یا گیا۔ -4 تمام ذی صلاحیت لونڈیوں اور غلاموں کے نکاح کردینے کی ہدایت فرمائی گی تاکہ معاشرے کے اندر ان کا اخلاقی و معاشرتی معیار اونچا ہو۔ -5 بیتالمال اور اموال زکوۃ کے مصارف میں ایک مستقل مدفی الرقاب بھی رکھی گی تاکہ غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کی مہم کو زیادہ سے زیادہ تقویت بہم پہنچائی جائے۔ -6 زمانہ جاہلیت میں جن مالکوں نے لونڈیوں سے پیشہ کرانے کے لئے چکلے قائم کر رکھے تھے ان کے چکلے زنا کے جرم قرار پا جانے کے بعد ختم ہوگئے اور اگر کسی نے خفیہ طور پر اس کاروبار کو جاری رکھنے کی کوشش کی تو اس کو نہایت عبرت انگیز سزا دی گئی۔ یہاں تک کہ اس قبیل کے بعض مردوں اور عورتوں کو حضور نے رجم بھی کرا دیا۔ -7 لونڈیوں اور غلاموں کے لئے عبد اور امۃ کے تحقیر آمیز الفاظ استعمال کرنے کے بجائے فتی اور فتاۃ کے الفاظ استعمال کرنے کی ہدایت فرمائی گئی تاکہ اس گروہ سے متعلق لوگوں کے قدیم تصورات میں تبدیلی پیدا ہو۔ -8 اسیران جنگ سے متعلق بھی بالعموم یہ پالیسی اختیار کی گئی کہ خاص خاص سرغنوں کو تو بیشک قتل کردیا گیا لیکن عام قیدیوں کو فدیہ لے کر یا احساناً چھوڑ دیا گیا۔ -9 آخر میں مکاتبت کو ایک قانونی حیثیت دے دی گی جس کے بعد ہر ذی صلاحیت غلام اور لونڈی کے لئے آزادی کی نہایت کشادہ راہ کھل گئی۔ ان کی امداد و حوصلہ افزائی کے لئے عام لوگوں کو بھی، جیسا کہ اوپر گزرا، ابھاراً گیا اور ان کے لئے بیت المال میں بھی ایک خاص مد رکھی گئی۔ اس قانون نے عملاً غلامی کا خاتمہ کردیا۔ اس کے بعد صرف وہ غلام بچ رہے جو ہاتھ پائوں مارنے کی صلاحیت سے عاری تھے اور ان کے لئے یہی شکل معاشرے کے حق میں بھی اور خود ان کے حق میں بھی بہتر تھی ورنہ معاشرے پر ایک بوجھ بنتے اور گداگری کا پیشہ اختیار کرنے پر مجبور ہوتے۔ ان تمام باتوں کے دلائل قرآن و حدیث میں نہایت تفصیل سے موجود ہیں۔ میں ان کو پیش کرسکتا ہوں لیکن بحث اپنے حدود سے متجاوز ہوجائے گی اس لئے صرف اشارات پر کفایت کرتا ہوں۔ پچھلے مباحث میں ان میں سے اکثر کے دلائل بیان ہوچکے ہیں اور اگر کسی بات کی دلیل نہیں بیان ہوئی ہے تو ان اشارات کی روشنی میں اہل خود ان کے دلائل نہایت آسانی سے فراہم کرسکتے ہیں۔
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ ہی آسمانوں اور زمین کی روشنی ہے۔ دل کے اندر اس کے نور ایمان کی تمثیل یوں ہے کہ ایک طاق ہو جس میں ایک چراغ ہو، چراغ ایک شیشہ کے اندر ہو، شیشہ ایک چمکتے تارے کی مانند ہو چراغ ایک ایسے شاداب درخت زیتون کے روغن سے جلایا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی اس کا روغن اتنا شفاف ہو کہ گویا آگ کے چھوئے بغیر ہی بھڑک اٹھے گا روشنی کے اوپر روشنی ! اللہ اپنے نور کی ہدایت جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے اور اللہ یہ تمثیلیں لوگوں کی رہنمائی کے لئے بیان فرماتا ہے اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

آگے کا مضمون آیات 40-35 اب آگے وہ آیات آرہی ہیں جن کی حیثیت اس سورة کے اندر آفتاب تاباں کی ہے۔ جس کا پرتو سورة کے تمام اجزاء پر پڑ رہا ہے۔ ان میں ایمان اور کفر دونوں کی تمثیل بیان ہوئی ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ ایمان سے انسان کے ظاہر اور باطن میں کیا روشنی پیدا ہوتی ہے اور اس سے کس طرح کے اعمال، انفرادی و اجتماعی زندگی میں، ظہور میں آتے ہیں اور کفر سے انسان کے ظاہر و باطن پر کسط رح کی تاریکی چھا جاتی ہے اور بالآخر وہ انفرادی و اجتماعی زندگی پر کس طرح ہلاکت مسلط کردیتی ہے۔ مقصود ان تمثیلوں کے پیش کرنے سے اہل ایمان پر یہ واضح کرنا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر گوشے کو ایمان کی نورانیت سے منور کریں اور اہل کفر پر یہ واضح کرنا ہے کہ اگر وہ کفر کی ظلمت بعضھا فوق بعض ہی میں پڑے رہنا چاہتے ہیں، ایمان کی روشنی میں نہیں آنا چاہتے تو اپنے انجام کو اچھی طرح سوچ لیں !…اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔ جو خدا کو نہیں مانتا اس کے لئے یہ کائنات ظلمات ہے اللہ نور السموت والارض یہ آسمان و زمین بلکہ یہ پوری کائنات اس شخص کے لئے ایک عالم ظلمات اور اندھیر نگری ہے جو خدا کو نہیں مانتا یا مانتا ہے لیکن خدا کی صفات اور ان کے مقتضیات کو نہیں تسلیم کرتا ایسا شخص نہ یہ جان سکتا کہ یہ دنیا کہاں سے آئی ہے اور نہ یہ جان سکتا کہ اس کے وجود میں آنے کی غایت اور مقصد کیا ہے ؟ وہ خود اپنے متعلق بھی یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ اس کا مقصد وجود کیا ہے ؟ وہ اس دنیا میں مطلق العنان اور سر ہے مہار ہے یا پابند و محکموم ؟ وہ مسئول ہے یا غیر مسوئل ؟ اس کے لئے کیا خیر ہے اور کیا شر ؟ اسے ظلم کی روش اختیار کرنی چاہئے یا عدل کی ؟ اسے مجرھ اپنے مفاد اور خواہشوں کی پیروی کرنی چاہئے یا ان سے کسی بالاتر نصب العین کی ؟ ان سولاوں کے صحیح جواب ہی پر صحیح اور کامیاب زندگی کا انحصار ہے لیکن جو شخص خدا کو نہیں مانتا وہ ان سوالوں کا صحیح حل نہیں پا سکتا۔ وہ اندھے بھین سے کی طرح بھٹکتا پھرتا ہے۔ جو خدا کو مانتا ہے اس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے اور بالآخر یا کدن قصر ہلاکت میں گر کر اپنے کیفر کردار کو پہنچ جاتا ہے۔ البتہ جو شخص خدا کو اس کی صحیح صفات کے ساتھ مانتا ہے وہ اس کائنات کا سر ابھی پا جاتا ہے اور اس کا انجام بھی اس پر واضح ہوجاتا ہے اس پر ان تمام سوالوں کے جواب بھی روش ہوجاتے ہیں جن کو خدا کا نہ ماننے والا کبھی حل نہیں کرسکتا۔ اس وجہ سے یہ دنیا اس کے لئے اندھیر نگری نہیں رہتی بلکہ ایمان کے نور سے اس کے لئے اس کی ہر چیز جگمگا اٹھتی ہے اور اس کا ہر پہلو اس پر روشن ہوجاتا ہے۔ وہ قدم بھی اٹھاتا ہے پورے دن کی روشنی میں اٹھاتا ہے اور جس سمت میں بھی چلتا ہے خدا کے ایمان کا نور اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ یہی حقیقت اس ٹکڑے میں واضح فرمائی گئی ہے کہ اس آسمان و زمین کا نور اللہ ہے جس کے پاس یہ نور ہے وہ روشنی میں اور صراط مستقیم پر ہے اور جو اس نور سے محروم ہے وہ ایک عالم ظلمات میں بھٹک رہا ہے اور کوئی دوسرا اس کو روشنی نہیں دے سکتا۔ ومن لم یجعل اللہ لہ نوراً فما لہ من نور دل کے اندر نور ایمان کی تمثیل مثل نورہ کمشکوۃ فیھا مصباح ط المصباح فی زجاجۃ ط الزجاجۃ کا نھ کو کب ددی یہ تمثیل بیان ہو رہی ہے اس بات کی کہ جس دل کے اندر ایمان کی روشنی داخل ہوتی ہے وہ اس کی فطرت کے نور کے اوپر سے ایک اور نور کا اضافہ کردیتی ہے جس سے اس کا باطن مطلع انوار بن جاتا ہے۔ فرمایا کہ اس نور ایمان کی مثال قلب کے اندر یوں ہے کہ ایک طاق ہو جس میں ایک چراغ رکھ دیا گیا ہو۔ چراغ ایک گلوب کے اندر ہو اور گلوب کا شیشہ ایک چمکتے ستارے کے مانند چمک رہا ہو۔ مشکوۃ سے مراد انسان کا دل ہے جس کو چراغ رکھنے کے طاق یا چراغ دان سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چراغ کے لئے قاعدہ ہے کہ وہ گھر میں اونچی جگہ پر رکھا جاتا ہے تاکہ روشنی پورے گھر کے اندر پیلے ق۔ انسان کے اندر دل ہی وہ جگہ ہے جہاں روشنی ہو تو وہ اس کے سارے ظاہر و باطن میں پھیلتی ہے۔ اس چراغ کی نسبت فرمایا کہ وہ ایک شیشہ کے اندر بند ہے۔ شیشہ کے اندر بند ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ چراغ کی لو ہوا کے جھونکوں سے منتشر نہیں ہونے پاتی بلکہ ایک مرکز پر مرتکز رہتی ہے جس سے اس کی تابانی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ٹھیک یہی حال ایمان کے فیض سے قلب کا ہوتا ہے۔ وہ بھی ڈانوا ڈول ہونے سے بالکل محفوظ ہوجاتا ہے۔ خواہ کیسے ہی حالات ہوں لیکن وہ ہر حال میں راضی و مطمئن رہتا ہے۔ ایسے ہی دل کو قرآن میں نفس مطمئنہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے اور یہ سب سے بڑی دولت ہے جو انسان کو ایمان کی بدولت حاصل ہوتی ہے۔ اس شیشہ کے متعلق فرمایا کہ وہ ایک چمکتے ستارے کی مانند ہے۔ شیشہ اگر میلا ہو تو وہ نہ صرف یہ کہ روشنی میں کوئی اضافہ نہیں کرتا بلکہ اس کے لئے حجاب بن جاتا ہے فرمایا کہ ایمان کی روشنی ہر قسم کی کثاقت سے دل کو پاک و صاف کر کے آئینہ کی طرح اس کو مجلی کردیتی ہے۔ یوقدمن شجرۃ مبکرۃ زیتونۃ لاشرقیۃ ولاغربیۃ تکاد زیتھا یضی ولولم تمسہ نار نور علی نور مبارکۃ اپنے لغوی مفہوم میں مبارکۃ یہاں اپنے لغوی مفہم میں ہے جس طرح زرخیز و شادات زمین کو قرآن میں مبارک کہا گیا ہے اسی طرح یہاں شادات اور ثمر آور درخت کے لئے لفظ مبارک استعمال ہوا ہے۔ وسط باغ کے درخت کی خصوصیات لاشرقیۃ ولاغربیۃ یہ شجرہ مبارکہ کی صفت ہے۔ یعنی یہ درخت نہ تو باغ کے شریق جانب کا ہے اور نہ غربی جانب کا بلکہ وسط باغ کا ہے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ باغ کے کناروں کے درخت بالخصوص جو مشرق یا مغرب میں ہوں ہمیشہ دھوپ اور ہوا کی زد میں ہونے کے سبب سے اتنے اچھے پھل نہیں دیتے جتنے اچھے پھل وسط باغ کے درخت دیتے ہیں اس وجہ سے یہ قید بڑھا کر اس درخت کی غایت درجہ شادابی و ثمر باری کی طرف اشارہ فرما دیا۔ ایمان کی روشنی ان کو نصیب ہوتی ہے جن کی فعات صالح ہوتی ہے یہ اس چراغ کی مزید صفت بیان فرمائی کہ یہ ایک ایسے شاداب و زرخیز درخت زیتون کے روغن سے جلتا ہے جو نہ باغ کی مشرقی جانب کا ہے نہ مغربی جانب کا بلکہ وسط باغ کا ہے اور اس کا روغن اتنا صاف جلتا ہے جو نہ باغ کی مشرقی جانب کا ہے نہ مغربی جانب کا بلکہ وسط باغ کا ہے اور اس کا روغن اتنا صاف و شفاف ہے کہ معلوم ہوتا ہے آگ کے چھوئے بغیر ہی بھڑک اٹھے گا۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ یہ ایمان ان لوگوں کے سینوں کو اپنا نشیمن بناتا ہے جن کی فطرت ہر قسم کے فساد اور باگڑ سے محفوظ ہو جن کی فطرت کا روغن غیر فطری ملاوٹوں سے پاک ہوتا ہے وہ خود دعوت ایمان کی ذرا سی رگڑ سے بھڑک اٹھتا ہے اور اس طرح فطرت کے نور کے اوپر ایمان کے نور سے سینہ نور علی نوربن جاتا ہے۔ یھدی اللہ لنورہ من یشآء ھدی یھدی کا صلہ جب ل کے ساتھ آتا ہی تو وہ توفیق بخشی کے مفہوم پر بھی جیسا کہ سورة یونس 35 میں ہم واضح کرچکے ہیں، متضمن ہوتا ہے۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو ایمان و ہدایت کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے پسند فرمائی ہے اور جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس نور ایمان سے انہی لوگوں کے دلوں کو منور فرماتا ہے جو اپنی فطرت کے روغن کے محفوظ رکھتے ہیں۔ جو اس روغن کو ضائع کر بیٹھتے ہیں یا اس کے اصل مزاج کو اپنے ریغ و انحراف سے بگاڑ لیتے ہیں ان کے دل ایمان کی روشنی کو نہیں پکڑتے۔ لاشرقیۃ ولاغربیۃ کے الفاظ اسی زیغ و انحراف سے محفوظ ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ان الفاظ میں ایک لطیف تلمیح یہود و نصاری کی اس نزاع کی طرف بھی ہے جو قبلہ کے تعلق سے ان کے مابین، مشرق و مغرب کے باب میں برپا ہوئی اور جس کے سبب سے وہ اصل نقطہ وسط سے اتنے دور ہوگئے کہ ہمیشہ کے لئے امت وسط کے شرف سے محروم ہوگئے اور قبول اسلام کی سعادت ان کو حاصل نہ ہوسکی۔ اللہ تعالیٰ اپنی مزید توفیق کے دروازے انہی کے لئے کھولتا ہے جو پہلے سے بخشی ہوئی توفیق کی قدر کرتے ہیں، جو اس کی قدر نہیں کرتے ان سے وہ ہدایت بھی واپس لے لی جاتی ہے جو فطرت کے ذریعہ سے ان کو بخشی جاتی ہے۔ سیدنا مسیح کا ارشاد ہے کہ جو ایک پیسہ میں چور ہے اس کو ایک لاکھ کی امانت نہیں سونپی جاتی۔ ویضرب اللہ الامثال للناس، للناس سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی لوگوں کی تعلیم و تذکیر کے لئے اللہ تعالیٰ یہ تمثیلیں بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ ان سے ایمان کی قدر و قیمت پہنچانیں اور اس کے نور سے اپنے دلوں کو منور کریں۔ تمثیلیں حقائق کو واضح کرنے کا سب سے اعلیٰ اور کارگر ذریعہ ہوتی ہیں اگر لوگ ان سے بھی فائدہ نہ اٹھائیں تو یہ ان کی محرومی ہی ہے ! واللہ بکل شیء علیم یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کی مشیت ہمیشہ اس کے علم و حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ ایک کے ظاہر و باطن سے اچھی طرح واقف ہے اس وجہ سے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جس کا وہ سزا وار ہوتا ہے۔
Ayahs 24:36–38

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

یہ طاق ایسے گھروں میں ہیں جن کی نسبت خدا نے امر فرمایا کہ وہ تعمیر کئے جائیں اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے۔ ان میں ایسے لوگ صبح و شام خدا کی تسبیح کرتے ہیں

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

جن کو اروبار اور خریدو فروخت اللہ کی یاد، نماز کے اہتمام اور زکوۃ کی ادائیگی سے غافل نہیں کرتے۔ وہ ایک ایسے دن کی آمد سے اندیشہ ناک رہتے ہیں جس میں دل اور آنکھیں سب مضطرب ہوں گے

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

کہ اللہ ان کے عمل کا بہترین بدلہ دے اور ان کو اپنے فضل سے مزید نوازے اور اللہ جس کو چاہے گا بےحساب بخشے گا

آیات 38-36 فی بیوت کا کلام میں محل تمثیل میں معاہد کے ذکر کی وجہ فی بیوت الآیۃ فی بیوت کا تعلق میرے نزدیک مشکوۃ سے ہے۔ اس ظرف نے واضح کردیا کہ اس تمثیل میں بت خانوں اور مے خانوں کے طاق کی مثال پیش نہیں کی گئی ہے بلکہ اللہ کے معابد کے طاقوں کی مثال پیش کی گی ہے۔ تمثیل میں ظاہر ہے کہ مشکوۃ سے مراد قلب سلیم یا بالفاظ دیگر قلب مومن ہے۔ یہ قلب ہر قالب میں نہیں پایا جاتا بلکہ خاص خاص قالیوں ہی میں پایا جاتا ہے اور یہ قولب ہر جگہ نہیں ملتے بلکہ انکے ملنے کی اصل جگہ خدا کی مساجد اور اس کے معاہد میں زمحشری نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔ ان کے نزدیک اصل تالیف کلام یوں ہے۔ ”فی بیت من بیوت اذن اللہ ان توفع …الایۃ“ تمثیل میں اشارہ مساجد کی طاقوں کی طرف سے اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ رفع یہاں بنانے اور تعمیر کرنے کے معنی میں ہے۔ مثلاً واذمرنع ابراہیم القواعد من العبیت (البقرہ 127) (اور یاد کرو جب کہ ابراہیم بیت اللہ کی بنیادی تعمیر کر رہے تھے اور ذکر یہاں نماز اور ذکر و دعوت کی ان تمام شکلوں پر حاوی ہے جو اللہ کی یاد اور اس کے دین کی سربلندی کے لئے اختیار کی جائیں۔ اذن اللہ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گھر خدا کے حکم سے تعمیر ہوئے۔ کہ ان میں اس کا کلمہ بلند کیا جائے۔ اگرچہ یہاں الفاظ عام ہیں لیکن ان کے اولین مصداق وہ معابد ہیں جو براہ راست اللہ تعالیٰ کے حکم سے قائم ہوئے مثلاً بیت اللہ جس کی تعمیر کا حکم اللہ تعالیٰ نے حضرات ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کو دیا یا بیت المقدس جس کی تعمیر حضرت سلیمان ؑ نے اللہ تعالیٰ کے اذن سے فرمائی۔ پھر وہ معابد بھی انہی کے حکم میں داخل ہوں گے جو ان کی شاخوں کی حیثیت سے تعمیر ہوئے۔ رہے وہ معابلہ جو مشرکوں نے اذن الٰہی کے بالکل خلاف اپنے اصنام و ادثان کی پرستش کے لئے قائم کئے وہ اس حکم سے خارج ہیں۔ ان کی حیثیت نجاست خانوں کی ہے۔ ان کے طاق اس تمثیل میں مردا نہیں ہے۔ یستج لہ فیھا بالغدو والاصال رجال لاتلھھم تجارۃ ولابیع عن ذکر اللہ ووایام الصلوۃ ویتآء الزکوۃ یخافون یوماً تتقلب فیہ اقلوب و الابصار موثر کے بعد اثر کا بیان اوپر کی آیات میں ایمان کی تصویر و تمثیل ہے۔ جب بات مساجد کے ذکر تک پہنچ گئی تو وہیں سے حاملین ایمان کے ذکر کے لئے نہایت موزوں تقریب پیدا ہوگئی تاکہ واضح ہوجائے کہ اس ایمان کے جو لوگ حامل ہوتے ہیں ان کی زندگی کیا ہوتی ہے۔ یہ مئوثر کی وضاحت کے بعد گویا اثر کا بیان ہوا تاکہ حقیقت عیلی زندگی میں مصور ہو کر سامنے آجائے۔ فرمایا کہ جن مساجد و معابلہ کے طاقوں کی یہاں تمثیل پیش کی گئی ان میں صبح و شام اللہ کے ایسے بندے اس کی تسبیح کرتے ہیں جن کو تجارت اور بیع خدا کی یاد، نماز کے اہتمام اور زکوۃ سے غافل نہیں کرتے اس لئے کہ وہ ایک ایسے دن کی آمد سے ہر وقت اندیشہ ناک رہتے ہیں جس میں دل اور آنکھوں سب پر حالت اضطراب طاری ہوگی۔ عدو اصال کا مفہوم عدواصال عربی میں اس مفہوم میں بولے جاتے ہیں جس مفہوم میں ہم اپنی زبان میں صبح و شام کے الفاظ بولتے ہیں دجال سے مراد لفظ دجال سے ان لوگوں کی غایت درجہ تعریف واضح ہو رہی ہے۔ یعنی یہ وہ مردان خدا ہیں کہ انہیں اس دنیا کی کوئی چیز بھی خدا سے غافل نہیں کرتی۔ انہیں ہر چیز سے زیادہ خدا کی رضا مطلوب ہے۔ بلدۃ اور بیع کا مفہوم تجارۃ اور بیع میں سے پہلا لفظ تو عام تجارتی کاروبار کے مفہوم میں ہے اور بیع بیچنے کے معنی میں مشہور یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ اگر کسی چیز کے بیچنے کا موقع ہو تو تاجر اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ تجارت تو درکنار اس طرح کے مواقع طمع بھی ان کو خدا سے غافل نہیں کرتے اور مومن کی اصل شان یہی ہے کہ وہ تجارت اور بیع و شرا سب کچھ کرے لیکن خدا کی یاد اور اس کے فرائض کی بجا آوری سے غافل نہ ہو۔ نماز اور زکوۃ نماز اور زکوۃ کا ذکر دین کے دو بنیادی فرائض کی حیثیت سے آیا ہے۔ انہی کے تحت درحقیقت پورا دین ہے۔ اس کی وضاحت ہم دوسرے مقام پر کرچکے ہیں۔ تقلب قلوب و ابصار کا مفہوم تتقلب فیہ القلوب والابصار قیامت کے ہول کی تصویر ہے۔ یعنی اس دن ان لوگوں کو کسی کل چین نہیں پڑے گا جنہوں نے زندگی اس دن سے غفلت میں گزاری۔ ان کے دل اڑے جا رہے ہوں گے اور ان کی یہ بدحواسی ان کی نگاہوں سے ظاہر ہوگی۔ آیات 38 ل ثمرہ فعل کے اظہار کے لئے یہ ل لام علت نہیں ہے بلکہ یہ وہ لام ہے جو کسی فعل کے انجام، نتیجہ اور ثمرہ کے باین کے لئے آتا ہے۔ مثلاً فالتقطہ ال فرعون لیکون لھم عدواً وحزناً (قصص :8) (اور فرعون کے گھر والوں نے اس کو اٹھا لیا کہ وہ ان کے لئے دشمن اور غم بنے) امرا لقیس کا ایک مشہور شعر ہے۔ وما ذوق عیناک الالتضربی بھیک فی اعشار قلب مقتل اس میں بھی غور کیجیے لضربی پر ل نتیجہ فعل ہی کے بیان کے لئے ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو کچھ آخرت کے اندیشہ سے اس دنیا میں، اللہ کی رضا جئوی کے لئے کر رہے ہیں اس کا صلہ ان کو ان کے اعمال سے کہیں بہتر ملے گا اور پھر مزید براء اللہ کو اپنے فضل سے نوازے گا اور اللہ جن کو اپنے فضل سے نوازتا ہے ان کو بےحساب بخشتا ہے۔ بےحساب یعنی جس کا ان کو سان گمان بھی نہیں ہوگا۔
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی تمثیل یہ ہے کہ جیسے چٹیل صحرا میں سراب ہو جس کو پیاسا پانی گمان کرے۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئے گا تو وہاں کچھ نہ پائے گا البتہ اس کے پاس اللہ کو پائے گا بس وہ اس کا حساب چکا دے گا اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے

ایمان اور حاملین ایمان کے ایمان و عمل کی تمثیل بیان کرنے کے بعد یہ کفر اور اہل کفر کے ظاہرو باطن کی تمثیل بیان ہو رہی ہے کہ ادھر جس درجے کی روشنی ہوتی ہے ادھر اسی درجے کی تاریکی ہوتی ہے۔ اہل ایمان کی تمثیل میں پہلے موثر یعنی ایمان کو نمایاں فرمایا تھا اس کے بعد اثر یعنی علم کو اور اہل کفر کی تمثلہ میں پہلے اثر کو نمایاں فرمایا ہے، اس کے بعد موثر کو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان ایک گہری حقیقت ہے جس کی جڑیں انسانی فطرت کے اعماق کے اندر اتری ہوئی ہوتی ہیں اور درحقیقت اسی کی بابرکت اثرات و ثمرتا ہوتے ہیں جو زندگی کے اعمال و اخلاق میں نمایاں ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس کفر گھور سے پر اگے ہوئے ایک درخت کے مانند ہوتا ہے جس کے زہریلے پھل تو اعمال کو پہلی صورت میں سامنے ہوتے ہیں لیکن فطرت کے اندر اس کی کوئی جڑ نہیں ہوتی جس کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہو۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے کفر کیا ان کی اور ان کے اعمال کی تمثیل یوں ہے کہ جیسے کسی چٹیل ریگستان میں سراب ہو جس کو پیاسا پانی سمجھ کر اس کی طرف بڑھے لیکن جب وہاں پہنچے تو اس پر یہ راز کھلے کہ وہ جس چیز کو لہریں لیتا ہوا پانی سمجھا وہ درحقیقت چمکتی ہوئی اور لہریں لیتی ہوئی ریت تھی اور یہ دیکھ کر وہ بالکل عاجز و درماندہ ہو کر رہ جائے نہ پائے رفتن نہ جائے ماندان ! بالآخر وہیں پیاس سے تڑپ کر دم توڑ دے۔ فرمایا کہ یہی حال ان کفار کا قیامت کے دن ہوگا۔ یہ بھی جب اپنے اعمال کے پاس پہنچیں گے تو ان پر یہ راز کھلے گا کہ ان کے سارے اعمال ھبآء منشوراً خاک اور راکھ ہو کر پراگندہ ہوگئے۔ البتہ اس دن اپنے اعمال کی جگہ وہ اپنے رب سے دوچار ہوں گے اور وہ ان کا حساب پورا کر دے گا اور وہ چشم زدن میں حساب چکا دینے والا ہے۔ کفار کی محرومی کی تصویر روز قیامت حتی اذا جآء سے لے کر آخر آیت تک اس محرومی کی تصویر ہے جس سے ان کفار کو آخرت میں سابقہ پیش آئے گا یعنی پوری بات یوں ہے کہ حتی اذاجا مالکا فراعمالہ یوم القیمۃ چونکہ تمثیل میں اصل مقصد آخرت کی محرومی ہی کو واضح کرنا تھا اس وجہ سے کلام کا رخ بےتکلف اس کی طرف مڑ گیا اور ضمیر مفعول میں رعایت مشبہ بہ یعنی سراب کی ہے۔ قرآن میں لفظ کا مفہوم لفظ کف دیا الذین کفروا کہیں قرآن میں صرف منکرین خدا کے لئے استعمال نہیں ہوا ہے۔ قرآن کے مخاطبوں میں کوئی کردار بھی منکر خدا نہیں تھا بلکہ سب مشرک تھے۔ انہیں مشرکوں کو قرآن نے کہیں کفار کہا ہے اور کہیں مشرکین اس سے کہ شرک درحققتخ کفر ہی ہے۔ دین میں خدا کا صرف مان لینا ہی مطلوب نہیں بلکہ اس کی تمامصفات اور ان صفات کے تمام تقاضوں کے ساتھ ماننا مطلوب ہے۔ جو شخص خدا کو اس کی صفات اور ان کے متقتضیات کے ساتھ نہیں مانتا ہے اس کے سارے اعمال قیامت کے دن بالکل بےوزن ہو کے رہ جائیں گے خواہ اس نے وہ نیکی ہی سمجھ کر انجام دیئے ہوں۔ واللہ سریع الحساب کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کرچکے ہیں۔ یہ درحقیقت اس مغالطہ کو رفع کرنے کے لئے فرما رہے جس میں احمق لوگ مبتلا ہوتے ہیں کہ آخرت اور حساب کتاب اگر ہے بھی تو یہ اتنی دور کی بات ہے کہ اس کے لئے ابھی سے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اتنی بڑی دنیا اور اتنے بیشمار اشخاص و افراد کے تمام اعمال و اقوال کا حساب کتاب کون کرسکتا ہے ! فرمایا کہ جن لوگوں نے اس قسم کے دبائو میں پڑ کر ساری زندگی بطالت اور بدمستی میں گزار دی وہ آخرت میں دیکھیں گے کہ سارا حساب کتاب پلک جھپکتے ان کے سامنے آگیا۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا یوں خیال کرو کہ جیسے ایک گہرے سمندر کے اندر تاریکیاں ہوں، موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہو، اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں۔ تاریکیوں پر تاریکیاں چھائی ہوئی ہوں۔ اگر اپنا ہاتھ بھی نکالے تو اس کو بھی نہ دیکھ پائے اور جس کو اللہ روشنی نہ بخشے تو اس کے لئے کوئی روشنی نہیں

بحریحی گہرے سمندر کو کہتے ہیں لج سمندر کا وہ حصہ جہاں پانی سب سے زیادہ گہرا ہو۔ لجی اسی کی طرف نسبت ہے۔ کفار کی ذہنی تاریکی کی تمثیل اوپر والی آیت میں اہل کفر کے اعمال کی مثال تھی۔ اب یہ ان کی ذہنی تاریکی کی تمثیل ہے کہ وہ خدا کو نہ ماننے یا صحیح طور پر نہ ماننے کے سبب سے ایک گھٹا ٹوپ اندھیرے کے اندر زندگی گزارتے ہیں۔ اس اندھیرے کی مثال یہ ہے کہ گہرا سمندر ہو، رات اندھیری ہو، موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہو اور اوپر سے بادل چھائے ہوئے ہوں اور یہ ان تہ بہ تہ تاریکیوں کے اندر گھرے ہوئے ہوں۔ حال یہ ہو کہ اگر ہاتھ بھی نکالیں تو وہ بھی سمجھائی نہ دیتا ہو۔ فرمایا کہ روشنی تو خدا کے ایمان سے حاصل ہوتی ہے۔ جس کو اس کی بدبختی کے سبب سے خدا نے ایمان کی توفیق نہیں بخشی اس کو کہیں سے بھی روشنی حاصل نہیں ہو سکتی وہ جب تک ایمان کی شاہراہ پر نہیں آئے گا اسی طرح تاریکیوں میں بھٹکتا رہے گا اور دن پر دن اس کی تاریکیوں میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔
Ayah 24:41

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

دیکھتے نہیں کہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں جو آسمان اور زمین میں ہیں اور پرندے بھی پر روں کو پھیلائے ہوئے۔ ہر ایک کو اپنی نماز اور تسبیح معلوم ہے اور اللہ باخبر ہے اس چیز سے جو وہ کر رہے ہیں

آگے کا مضمون …آیات 57-41 ایمان اور کفر کی حقیقت واضح کردینے کے بعد آگے کی آیات میں ایمان باللہ کی دعوت ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی ان صفات اور نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی جو شہادت دیتی ہیں کہ اس کائنات میں اسی خدا نے وحدہ لا شریک لہ کا تصرف ہے، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے اس وجہ سے سب اپنے آپ کو اسی کے حوالہ کریں۔ پھر خاص طور پر منافقین کو متنبہ کیا ہے کہ اب ان کی منقسم وفاداری کی پالیسی نہیں چل سکتی، وہ یا تو یکسو ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں داخل ہوجائیں ورنہ یاد رکھیں کہ اللہ اس سر زمین میں اپنے مخلص بندوں کو اقتدار بخشے گا اور ان کے تمام دشمن، خواہ چھپے ہوئے ہوں یا کھلے ہوئے، ذلیل و خوار ہو کر رہیں گے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔ اس کائنات کی ہر چیز اپنے عمل سے خدا کی تسبیح کی دعوت دیتی ہے بعینیہ یہی مضمون سورة حج کی آیت 18 میں گزر چکا ہے وہاں ہم اس کی پوری وضاحت کرچکے ہیں۔ اس کائنات کی ہر چیز خدا کی تسبیح کرتی ہے اور ان کی ظاہری حالت، جو ہمارے مشاہدے میں آتی ہے، اس بات کی گواہ دیتی ہے کہ جس طرح وہ اپنے ظاہر میں ہر آن اپنے رب کے آگے سرفگندہ اور اس کے حکم کی تعمیل میں سرگرم ہیں اسی طرح ان کا باطن بھی ہر لمحہ اپنے رب کی تسبیح و تقدیس میں مصروف ہے۔ اگرچہ ہم ان کی زبان اور ان کی حرکات سے اچھی طرح آشنا نہ ہونے کے سبب سے جیسا کہ فرمایا ولکن لاتفقھون تسبیحھم (اسرارء 44) ان کی تسبیح و نماز کو سمجھ نہیں سکتے۔ یہ ساری چیزیں اپنی زبان حال سے انسا نکو دعوت دیتی ہیں کہ وہ بھی اس حمد و تسبیح میں ان کے ساتھ شامل ہو اور انہی کی طرح صرف اپنے رب ہی کی بندگی کرے۔ اگر وہ اس سے کوئی الگ راہ اختیار کرتا ہے تو گویا وہ ساری دنیا سے بالکل جدا راہ اختیار کرتا ہے اور ایک ایسی راگنی چھیڑتا ہے جو اس کائنات کے مجموعی نغمہ سے بالکل بےجوڑ ہے۔ اس میں خدا کی راہ اختیار کرنے والوں کی ہمت افزائی بھی ہے کہ وہ اپنے آپ کو تنہا یا اقلیت میں نہ سمجھیں۔ اس راہ کا مسافر کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ یہ راہ قافلوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس میں ساری کائنات اس کی ہم سفر ہے۔ اگر تھوڑے سے ناشکرے انسان اس سے الگ ہوں تو ان کی علیحدگی سے وہ کیوں بد دل اور مایوس ہو جب کہ خدا کے آسمان و زمین، اس کے شمس و قمر اس کے دریا اور پہاڑ اور اس کے سارے چرند و پرند ہر وقت اس کے ہم رکاب ہیں۔ فضا کے پرندوں کی عبادت کی طرف اشارہ والطیر صفت یہ آسمان و زمین کے درمیان کی چیزوں میں سے پرندوں کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ پرندے ھی فضا میں اپنے پروں کو پھیلائے ہوئے خدا ہی کی تسبیح کرتے ہیں۔ دوسرے مقام میں پرندوں کے نغموں اور چہچ ہوں کا حوالہ ہے۔ یہاں ان کے پروں کے پھیلانے کا ذکر ہے جو خدا کے آگے ان کے افتراش کی تصویر ہے۔ ہر چیز کی عبادت کا طریقہ الگ الگ ہے کل قدعلم صلاتہ وتسبیحہ یعنی یہ نہ خیال کرو کہ دنیا کی ہر چیز کے لئے خدا نے نماز اور تسبیح کا ایک ہی طریقہ ٹھہرایا ہے بلکہ اس نے ہر چیز کو تسبیح و عبادت کے الگ الگ طریقے الہام فرمائے ہیں اور ہر چیز نے اپنی نماز و تسبیح کا طریقہ اچھی طرح سیکھ لیا ہے اور وہ اسی طریقہ کے مطابق خدا کی حمد و تسبیح کرتی ہے۔ واللہ علیم بما یفعلون یعنی اگر تم ان کی تسبیح و عبادت کو نہیں جانتے تو اس سے کچھ فرق پیدا نہیں ہوتا۔ خدا ان کے ان تمام کاموں سے واقف ہے جو وہ کرتے ہیں اور خدا ہی تم کو ان کے اس کام سے آگاہ کر رہا ہے تاکہ تم اس سے سبق حاصل کرو۔
Ayah 24:42

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ ہی کی طرف ہے سب کی واپسی

واللہ ملک السموت ولارض والی اللہ المصیر (42) عبادت کا حقدار صرف اللہ وحدہ لہ شریک ہی ہے یہ اس بات کی دلیل اشراد ہوئی کہ کیوں ہر چیز خدا ہی کی حمد و تسبیح کرتی ہے اور کیوں سب کو اسی کی حمد و تسبیح کرنی چاہئے۔ فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کی ہے اور سب کی واپسی بھی بالآخر خدا ہی کی طرف ہونی ہے۔ نہ اس کائنات کے نظام میں کسی کا کوئی دخل ہے اور نہ آخرت میں خدا کے سوا کوئی اور مرجع و ماوی بننے والا ہے تو جب یہاں اور وہاں ہر جگہ سارا اختیار و اقتدار اسی کو حاصل ہے تو اس کے سوا کسی دوسرے کی تسبیح و عبادت کس حق کی بنا پر کی جائے !
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

دیکھتے نہیں کہ اللہ ہانکتا ہے بادلوں کو، پھر ان کو آپس میں ملا دیتا ہے، پھر ان کو تہ بہ تہ کردیتا ہے۔ پھر دیکھتے ہو کہ ان کے بیچ سے مبینہ نکلتا ہے اور آسمان سے … اس کے اندر کے پہاڑوں سے اولے برساتا ہے۔ پس جن پر چاہتا ہے ان کو نازل کرتا ہے اور جن سے چاہتا ہے ان کو ہٹا دیتا ہے۔ اس کی بجلی کی کوند معلوم ہوتا ہے کہ نگاہوں کو اچ لے جائے گی

رحمت اور نقمت اور دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ اس کائنات میں سارا اختیار و اقتدار صرف اللہ تعالیٰ ہی کا ہے وہی اس میں اپنے اختیار مطلق سے جو تصرف چاہتا ہے کہ کرتا ہے۔ اس کی حکمت کے سوا ک اور کوئی اس میں دخیل نہیں ہے۔ دیکھو زمین پیاسی ہوتی ہے کسی کی طاقت نہیں کہ آسمان سے پانی کی ایک بوند ٹپکا دے۔ وہی اپنی ہوائوں سے بادلوں کو ہانک کر لاتا ہے، ان کے الگ الگٹکڑوں کو باہم جوڑ کر ان کو تہ بہ تہ کرتا ہے۔ پھر ان سے ابر رحمت برساتا اور ساری زمین کو جل تھل کردیتا ہے۔ اسی طرح دیکھو، اس کی رحمت کی طرح اس کی نقمت بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ انہی بادلوں کو سج کے لئے وہ چاہے عذاب بنا دیتا ہے وہ ان کے لئے پانی کے بجائے اپنے اندر گویا اولوں کے پہاڑ چھپائے ہوئے نمودار ہوتے ہیں۔ پھر جن پر اس کا حکم ہوتا ہے وہ اولوں کی سنگ باری کر کے ان کو تباہ کردیتے ہیں اور جن کو وہ چاہتا ہے اس وآفت سے بچا لیتا ہے۔ کسی دوسرے کی مجال نہیں کہ وہ اس آفت سے اپنے کو یا دوسروں کو بچا سکے۔ ان بادلوں کے اندر جو بجلی ہوتی ہے اس کی چمک کا یہ حال ہوتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ آنکھوں کو اچک لے جائے گی۔ یہ امر واضح رہے کہ اس ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و نقمت دونوں پر اپنے تنہا اختیار کر واضح فرمایا ہے۔ پہلے ٹکڑے میں رحمت کی تمثیل ہے اور دوسرے ٹکڑے میں جو وینزل من السمآء سے شروع ہوتا ہے، اس کے عذاب کی تمثیل ہے۔ اس میں اشارہ سرما کے ان بادلوں کی طرف ہے جو تند ہوائوں، شدیدکڑک دمک اور اولوں کے ساتھ نمودار ہوتے اور ان سے ایسی بےپناہ ژالہ باری ہوتی کہ بستایں کی بستیاں ان کے نیچے ڈھک جاتیں۔ گویا ان کے اندر اولوں کے پہاڑ ہیں۔ قرآن نے عذاب الٰہی سے جن قوموں کی تباہی کا ذکر کیا ہے ان میں سے بعض قومیں اسی آفت سے تباہ ہوئیں۔ ہم ان کا ذکر ان کے محل میں کرچکے ہیں۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جو رات اور دن کو گردش دیتا ہے۔ بیشک ان چیزوں کے اندر اہل نظر کے لئے بڑا سامان عبرت ہے

یقلب اللہ الیل والنھار ط ان فی ذلک لعبرۃ الاولی الاصبصار 44 رات اور دن کی آمد و شد پر تنہا اللہ ہی کا اختیار ہے اسی طرح رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات کو لانا بھی خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ کسی کی طاقت نہیں کہ رات میں دن ظاہر کر دے یا دن میں رات نمودار کرے دے یا ان کی آمد و شد میں منٹ یا سیکنڈ کا فرق ہی پیدا کر دے۔ فرمایا کہ ان تمام باتوں کے اندر جن کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا، اہل نظر کے لئے بڑا سامان عبرت ہے۔ عبرۃ کا مفہوم ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک عبور کر جانا ہے۔ یعنی جو لوگ و وہ نظر رکھتے ہیں جو ظاہر کے اندر باط ن اور زئیات کے اندر کلیات کو دیکھ لینے والی ہے ان کو ان مشاہدات کے بعد اس بات میں ذرا بھی شک باقی نہیں رہ سکتا کہ یہ کائنات ایک خدائے حکیم و قدیر کی بنائی ہوئی ہے جو اس ساری کائنات پر یکہ و تنہا حاکم و متصرف ہے اس وجہ سے تنہا وہی حقدار ہے کہ اس کی عبادت او اطاعت کی جائے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ یہی عبرۃ انسانیت کا اصلی جوہر ہے۔ اگرچہ یہ جو ہر کسی کے اندر نہیں ہے تو وہ انسان نہیں بلکہ حیوان ہے اور جو آنکھ ظاہر کے اندر باسن کو نہ دیکھ سکے وہ کور ہے۔ قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل کھیل لڑکوں کا ہوا دیدہ بینا نہ ہوا
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے پیدا کیا ہر جاندار کو پانی سے تو ان میں سے بعض تو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں اور ان میں سے بعض دو پائوں سے چلتے ہیں اور ان میں سے بعض چار پیروں پر چلتے ہیں۔ اللہ جو چاہے پیدا کردیتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے

تعداد انواع تعددا کہہ کی دلیل نہیں یعنی انواع و اجناس اور اشکال و صور کا اختلاف و تعدد بھی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اس کائنات میں مختلف ارادے کار فرما ہیں، جیسا کے نادان مشرکوں نے سمجھا، بلکہ یہ اس دنیا کے خالق کی قدرت و حکمت کی دلیل ہے۔ ایک ہی پانی سے اس نے تمام جانداروں کو وجود بخشا۔ ان میں سے بعض پیٹوں کے بل رینگتے ہوئے چلتے ہیں۔ بعض دو ٹانگوں پر چلتے ہیں، بعض چار پیروں پر چلتے ہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ دو ٹانگوں والوں کا خالق الگ اور چار ٹانگوں والوں کا خدا الگ ہے ! سب کا خالق ایک ہی ہے۔ وہی اپنی قدرت سے جو چاہے پیدا کرتا ہے اور جس کو جو شکل و صورت چاہتا ہے دیتا ہے۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے اس وجہ سے سب کو چاہئے کہ اپنے آپ کو اسی کے حوالہ اور اسی کی بندگی و اطاعت کریں۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم نے واضح کردینے والی آیات اتار دی ہیں اور اللہ ہی جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے

ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں سنت الٰہی یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ آیت 34 میں گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے یہ آنکھیں کھول دینے والی اور صراط مستقیم کو دکھا دینے والی آیتیں اتا ردی ہیں۔ اب ہم اپنی سنت کے مطابق ان لوگوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دیں گے جو اس کے طالببنیں گے۔ رہے ناقدرے اور ناشکرے لوگ تو وہ اپنی خواہشات نفس کی تاریکیوں میں بھٹکتے رہیں گے، یہاں تک کہ ان کا انجام ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے۔ یہ بات ہم جگہ جگہ واضح کرچکے ہیں کہ خدا نے اپنی مشیت کو اپنی سنت کے تحت رکھا ہے جو اس اعتبار سے تو مطلق ہے کہ خدا کے سوا کوئی دوسرا اس کو بدل نہیں سکتا لیکن اس کی ہر مشیت اس کی حکمت کے ساتھ ہے۔
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت کی۔ پھر ان میں سے ایک گروہ پھرجاتا ہے اور یہ لوگ درحقیقت مومن نہیں ہیں

منافقین کے رویہ پر تبصرہ تفویض الی اللہ کی عام دعوت کے بعد اب یہ خاص طور پر منافقین کو لیا ہے جن کے فتنے اس دور میں، جیسا کہ فتنہ افک سے معلوم ہوتا ہے، بہت بڑھ گئے تھے۔ فرمایا کہ جہاں تک زبنی اظہار و اعلان کا تعلق ہے یہ بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح اللہ و رسول کے ایمان اور اطاعت کا دعویٰ اور اطاعت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن جب اس دعوئے ایمان و اطاعت کے امتحان کا وقت آتا ہے تو یہ بالکل پھسڈی ثابت ہوتے ہیں۔ ومآ اولئک بالمومنین یعنی اس قسم کے مدعیان ایمان اللہ کے نزدیک مومن نہیں ہیں۔ ایمان کا حق صرف کلمہ پڑھ دینے سے پورا نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے شرط لازم ہے کہ اللہ و رسول کے احکا مکی بےچون و چرا اطاعت کی جائے۔ اگر کوئی شخص یہ شرط پوری نہیں کرتا تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا اور پکا منافق ہے۔
Ayah 24:48

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب یہ اللہ اور رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ رسول ان کے درمیان فیصلہ کرے تو ان میں سے ایک گروہ پہلوتہی کرتا ہے

رسولوں کی عدالت سے کترانے والے منافقین یہ ان کے نفاق اور عدم ایمان کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ جب ان کے درمیان کو قضیہ پیدا ہوتا ہے اور ان کو یہ دعوت دی جاتی ہے کہ اس کو اللہ اور رسول کے سامنے پیش کریں تاکہ اللہ کا رسول اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرے تو ان میں سے ہر ایک گروہ برابر اعراض کی روش اختیار کرتا ہے۔ اللہ کی طرف دعوت کے معنی ظاہر ہے کہ اللہ کے قانون کے سامنے پیش کرنے کی دعوت کے ہیں جس کا ترجمان اللہ کا رسول ہوتا ہے۔ اللہ کا رسول جو فیصلہ کرے وہی اللہ کا فیصلہ ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ و رسول کے ایمان کا مدعی ہے لیکن اپنے معاملات کے فیصلہ کے دوسروں کی طرف رجوع کرتا ہے، رسول کی عدالت سے کتراتا ہے تو وہ منافق ہے۔ یہاں وہ بات یاد رکھیے جو اس کتاب میں دوسرے مقام میں تفصیل سے بیان ہوچکی ہے کہ ابتداء جب تک اطراف مدینہ میں یہود بھی اپنے اپنے دائروں میں اثر و رسوخ رکھتے رہے، منافین کی یہ روش رہی کہ وہ اپنے قضیے انہی کی عدالتوں میں لے جاتے۔ اس کی وجہ ایک تو یہ تھی کہ یہود نے شریعت الٰہی کو محرف کر کے بالکل خواہشات نفس کے سانچے میں ڈھال لیا تھا اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کے حکام کو رشوت دے کر بڑی آسانی سے خریدا جاسکتا تھا۔ اس صورت حال سے منافقین یہ فائدہ اٹھاتے کہ اگر ان کو آنحضرت ﷺ کی عدالت سے اپنے حسب منشا فیصلہ حاصل کرسکنے کی توقع ہوتی تب تو اپنے ایمان و اسلام کی نمائش کے لئے نہایت فرمانبردارانہ آنحضرت ﷺ کی عدالت میں مقدمہ لاتے اور اگر یہ توقع نہ ہو توی تو یہود کی عدالتوں سے رجوع کرتے۔
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر حق ان کو ملنے والا ہو تو اس کی طرف نہایت فرمانبردارانہ آتے ہیں

یعنی اگر انہیں یہ اندازہ ہوتا کہ پیش نظر قضیہ میں اسلام کے قانون کا فیصلہ ان کے حق میں ہے تب تو نہایت فرمانبردانہ معاملہ پیغمبر ﷺ کی عدالت میں لاتے اور اگر یہ انداز ہوتا کہ اسلام کا قانون ان کے مفاد کے خلاف ہے تو یہود کی عدلاتوں میں لے جاتے۔ ان کی اس روش کو قرآن نے تحاکم الی الطاغوت، سے تعبیر کیا ہے اور اس کو شرک قرار دیا ہے جس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں۔
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا یہ ابھی شک میں پڑے ہوئے ہیں یا ان کو اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے ساتھ ناانصافی کریں گے بلکہ یہ لوگ خود ہی ظالم ہیں

مرض کا مفہوم لفظ مرض جیسا کہ ہم اس کے محل میں واضح کرچکے ہیں، قرآن میں حسد کی تعبیر کے لئے بھی آیا ہے اور نفاق کی تعبیر کے لئے بھی یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے نفاق مراد ہے۔ حسد و نفاق دونوں کا دل کی بیماری کی حالت ہونا واضح ہے۔ ادتیاب کے معنی مبتلائے شک ہونے کے ہیں۔ یہ شک نبی ﷺ کی رسالت کے باب میں بھی ہوسکتا ہے اور اسلام کے مستقبل کے باب میں بھی۔ منافقین کی تذبذب پالیسی کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہ ڈرتے تھے کہ مسلمانوں اور ان کے محافظوں میں جو کشمکش اس وقت برپا ہے اس میں آخری بازی معلوم نہیں کس کی رہے تو مصلحت یہی ہے کہ دونوں کے ساتھ تھوڑا تھوڑا تعلق باقی رکھا جائے تاکہ دونوں میں سے جس کی بھی فتح ہو اپنا مفاد محفوظ رہے۔ منافقین کی پالیسی کا پوسٹ مارٹم حیف کے منی ظلم و جور کے ہیں۔ فرمایا کہ ان منافقین نے یہ نیچے دروں نیچے بروں کی جو پالیسی اختیار کر رکھی ہے یہ تین حالتوں سے خالی نہیں۔ یا تو ان کے دلوں کے اندر نفاق کا روگ ہے، یا وہ رسول کی رسالت اور اسلام کے مستقبل کی طرف سے ابھی شک میں ہیں یا انہیں اندیشہ ہے کہ اگر وہ اپنے معاملات اللہ و رسول کی عدالت میں لائیں گے تو اللہ و رسول ان کے ساتھ ناانصافی کریں گے۔ اب وہ خود فیصلہ کریں کہ وہ ان تینوں میں سے کسی ایک بیماری میں مبتلا ہیں یا بیک وقت تینوں ہی میں مبتلا ہیں۔ ان میں سے جو بات بھی ہو بہرحال وہ ایمان کے منافی ہے۔ منافقین کے رویہ پر تبصرہ بل اولئک ھم الظلمون یعنی انہیں اللہ و رسول سے ظلم و ناانصافی کا اندیشہ ہے حالانکہ وہ یہ روش اختیار کر کے خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں وہ اپنے گمان میں اپنے مستقبل کے مفاد کو محفوظ کر رہے ہیں حالانکہ انہوں نے ایک گرتی دیوار کے سایہ میں پناہ لی ہے۔
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

اہل ایمان کی بات تو یہ ہوتی ہے کہ جب وہ اپنی کسی باہمی نزاع کے فیصلہ کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا اور درحقیقت یہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں

سچے مسلمان کی شان یہ سچے مسلمانوں کی شان بتائی کہ ان کو جب کسی معاملہ کے فیصلہ کے لئے اللہ و رسول کی طرف بلایا جائے تو ان کی شان یہ ہونی چاہئے کہ وہ یہ کہتے ہوئے اس کو قبول کریں کہ ہم نے سنا اور مانا فرمایا کہ جو لوگ اس طرح ہر لوث اور ہر طمع و خوف سے بالاتر ہو کر اپنے آپ کو اللہ و رسول کے حوالہ کریں گے درحقیقت دنیا اور آخرت دونوں میں اپنے حقیقی مفاد کو محفوظ کرنے والے وہی ہیں نہ کہ یہ لوگ جو بیک وقت کفر و اسلام دونوں سے اپنے مفاد کے حد تک دوستی رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ دو کشتیوں کے سوار لازماً ڈوب کے رہیں گے۔
Ayah 24:52

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے اور جو اس سے ڈریں گے اور اس کے حدود کی پاسداری کریں گے، وہی لوگ ہیں جو فائز المرام ہوں گے

یتقہ میں تخفیف کی وجہ سے لفظ کی شکل کچھ بدل گئی ہے لیکن اس قسم کی تخفیف عربی میں معروف ہے۔ مغثیث اور تقویٰ سے مراد خشیۃ اور تقویٰ یہاں دونوں لفظ ایک ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔ میرے نزدیک خشیۃ، یہاں دل کی حالت کی تعبیر کے لئے ہے اور تقویٰ سے مراد حدود الٰہی کی پاسداری ہے۔ یعنی ایک کا تعلق باطن سے ہے۔ دوسرے کا تعلق ظاہر ہے۔ اصلی فائز المرام گروہ فرمایا کہ اصل فائز المرام ہونے والے وہ لوگ ہیں جو نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں، اپنے تمام ذاتی اغراض و مفادات سے بالاتر ہو اللہ و رسول کی اطاعت کریں اور ان کے دلوں میں اللہ کا خوف اور وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں خدا کے حدود کی پوری پوری پاسداری کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجات و فلاح کے لئے اول تو مجرد دعوائے ایمان کافی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت بھی شرط لازم ہے۔ ثانیاً محض اطاعت بھی کافی نہیں ہیب ل کہ اس اطاعت کے ساتھ خدا کی خشیت اور تقویٰ بھی ہونا ضروری ہے۔ فرمایا کہ فائولئک ھم الفآئرون یہی لوگ فائز المرام ہونے والے ہیں رہے وہ مفاد پرست جو محض اپنے مفاد کے حد تک اللہ و رسول کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اللہ اور رسول کو ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور انہوں نے پکی پکی قسمیں کھائیں کہ اگر تم ان کو جہاد کا حکم دو گے تو وہ ضرور نکلیں گے۔ کہہ دو کہ قسمیں نہ کھائو بس دستور کے مطابق اطاعت اصل چیز ہے ! جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے

منافقین کی روش جہاں کے معاملہ میں سمع وطاعت کا عہد کرنے کے باوجود منافقین جس طرح رسول اللہ ﷺ کی عدالت سے کتراتے تھے اسی طرح جہاد سے بھی کتراتے تھے۔ زبان سے لاف زنی کا تو یہ حال تھا کہ جب جہاد کا ذکر آتا تو بڑی زور دار قسمیں کھا کھا کے حضور ﷺ کو یقین دلاتے کہ جب آپ کا حکم ہوگا ہم جان و مال سے حاضر ہیں لیکن جب وقت آتا تو کترا جاتے۔ فرمایا کہ ان لوگوں سے کہہ دو کہ قسمیں زیادہ نہ کھائو، قسمیں عمل کا بدل نہیں بن سکتیں۔ اصل شے جو مطلوب ہے وہ اصول کے مطابق اللہ و رسول کی اطاعت ہے۔ اگر یہ چیز موجود نہیں تو خالی خولی قسموں سے تم کتنے دن اپنے کردار پر پردہ ڈالے رکھ سکو گے ! ان اللہ خبیربما تعملون یعنی ان جھوٹی قسموں سے تم دوسروں کو دھوکا دے سکتے ہو لیکن اس علام الغیوب کو کس طرح دھوکا دے سکتے ہو جو تمہارے ہر قول و فعل سے اچھی طرح باخبر ہے۔ قرآن میں منافقین کے زیادہ قسمیں کھانے کا ذکر دوسرے مقامات میں بھی گزر چکا ہے اور آگے بھی آئے گا اس کی نفسیاتی وجہ ہم واضح کرچکے ہیں کہ جن کے پاس کردار کی شہادت موجود نہیں ہوتی وہ اپنے کو معتبر ثابت کرنے کے لئے قسموں ہی کو ذریعہ بناتے ہیں۔ ان کے دلوں کے اندر یہ چور چھپا ہوا ہوتا ہے کہ جب تک وہ قسم نہیں کھائیں گے مخاطب ان کی بات باور نہیں کرے گا۔ ثقلہ اور صاحب کردار آدمی کو اپنے کردا رپراعتماد ہوتا ہے اس وجہ سے اس کو قسم کھانے کی ضرورت زیادہ پیش نہیں آتی۔ طاعۃ مفردنۃ میں تالیف کلام طاعۃ معروفۃ اسی طرح کا جملہ ہے جس طرح فمبرجمیل ہے۔ یہ خبر محذوف کا مبتدا بھی ہوسکتا ہے اس لئے کہ اگر نکرہ موصوف ہو تو اس کے اندر مبتدا ہونے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے اور مبتدائے محذوف کی خبر بھی دونوں ہی صورتوں میں مفہوم میں کوئی خاص فرق پیدا نہیں ہوگا اس لئے کہس قسم کے حذف سے اصل مقصود مخاطب کی پوری توجہ کو مذکور پر مرتکز کرنا ہوتا ہے اور یہ چیز دونوں ہی صورتوں میں یہاں حاصل ہے۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

ان سے کہہ دو کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ پس اگر تم اعراض کرو گے تو یاد رکھو کہ رسول پر صرف وہ ذمہ داری یہ جو اس پر ڈالی گی ہے اور تم پر وہ ذمہ داری ہے جو تم پر ڈالی گی ہے اور اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو راہ یاب ہو گے اور رسول پر صرف واضح طور پر پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے

طاعۃ معردنۃ میں تالیف کلام منافقین کو تمدید و نصیحت یہ منافقین کو تنبیہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو۔ اگر اس چیز سے منہ موڑو گے تو یاد رکھو کہ تم رسول کا کچھ نہیں بگاڑو گے بلکہ اپنے ہی کو تباہ کرو گے۔ تمہارے معاملے میں روسل کے اوپر صرف اتنی ہی ذمہ داری ہے۔ واللہ کی طرف سے اس پر ڈالی گئی ہے۔ یعنی یہ کہ وہ اللہ کا دین تمہیں واضح طور پر پہنچا دے۔ سو اس نے اپنا یہ فرض بحسن و خوبی ادا کردیا۔ اب یہ ذمہ داری اس پر نہیں ہے کہ وہ تمہیں ایمان و ہدایت کے راستہ پر چلا بھی دے۔ ایمان و ہدایت کی راہ اتخیار کرنے کی ذمہ داری خود متہاری اوپر ہے اور خدا کے ہاں تمہی کو اس کی جواب دہی کرنی ہے کہ رسول کی بات تم نے کیوں نہیں مانی اور ہدایت کی راہ کیوں نہیں اختیار کی ؟ وان تطیعوۃ تھتدوا اس فقرے میں تہدید اور نصیحت دونوں ہے۔ یعنی رسول کی اطاعت کرو، فوز و فلاح کی راہ اسی سے پائوں گے ورنہ یاد رکھو کہ اپنی شامت بلائو گے۔ رسول کی ذمہ داری صرف بلاغ مبین ہے وما علی الرسول الا البلغ المبین یہ رسول کی ذمہ داری واضح فرما دی کہ خدا کی طرف سے اس پر ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ واضح طور پر لوگوں کو اللہ کا دین پہنچا دے۔ اب اس کے بد اگر تم اپنی ذمہ داری ادا نہیں کرتے ہو تو اس کا خمیازہ خود بھگتو گے۔ ایمان کا لازمی تقاضا اطباعت ان آیات میں دیکھ لیجیے بار بار ایمان کا لازمی تقاضا اللہ اور رسول کی اطاعت کو بتایا گیا ہے اور اللہ کی اطاعت کا راستہ رسول کی اطاعت کو قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بغیر مجرد امنا باللہ وبالرسول کہہ دنیے سے اگر ایمان کا حق ادا ہوجاتا تو یہ منافقین اس اقرار و اعلان میں کسی سے پیچھے نہ تھے۔ وہ تو امنا کے ساتھ اطعنا کا بھی اقرار کرتے تھے اور اپنے دعوے کی صداقت پر نہایت پکی پکی قسمیں بھی کھاتے تھے۔ پھر آخر وہ فی الدرک الاسفل من النار کے سزا وار کیوں ٹھہرے !
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے عمل صالح کئے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک میں اقتدار بخشے گا جیسا کہ ان لوگوں کو اقتدار بخشا جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو متمکن کرے گا جس کو ان کے لئے پسندیدہ ٹھہرایا اور ان کی اس خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کریں گے تو درحقیقت وہی لوگ نافرمان ہیں

رسول کے پیرئو وں کے لئے غلبہ و تمکن کی بشارت یہ منافقین کے اس شک پر ضرب لاگئی ہے جو اسلام کے مستقبل سے متعلق اپنے دلوں میں وہ رکھتے تھے اور جس کی طرف اوپر امرادقابوا کے الفاظ سے اشارہ گزر چکا ہے۔ فرمایا کہ تم میں سے جو لوگ پوری راستبازی کے ساتھ ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کرلیں گے ان سے اللہ کا وعدہ ہوچکا ہے کہ اللہ ان کو اس سرزمین میں اسی طرح اقتدار بخشے گا جس طرح پچھلے رسولوں کی امتوں کو اس نے اقتدار بخشا اور ان دین کو، جس کو اس نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے، اس ملک میں مستحکم کرے گا اور ان کی اس خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔ یہاں جس وعدے کا حوالہ ہے اس کا ذکر سورة انبیائ، سورة حج اور سورة مومنوں میں پوری وضاحت کے ساتھ گزر چکا ہے۔ کما استخلف الذین من قبلھم سے سابق رسولوں اور ان کی امتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ہم رسولوں کے باب میں اس سنت الٰہی کا حوالہ بار بار دے چکے ہیں کہ رسول اور اس کے پیروئوں کے لئے اس دنیا میں غلبہ لازمی ہے۔ رسول کے اتمام حجت کے بعد اس کے جھٹلانے والے لازماً تباہ کردیئے گئے اور قیادت و سیادت کی باگ ان کے بعد ان لوگوں کے ہاتھ میں آئی جو رسول پر ایمان لائے۔ ولیمکنن لھمدینھم الذی ارتضی لھم یعنی اس دنیا اسلام کو جس کو ان کے لئے اللہ نے پسند فرمایا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے وضریت لکم الاسلام دینا اس دین کو اس سر زمین میں متمکن کرے گا۔ یعنی اسی دین کا قانون اس ملک میں چلے گا اور اسی کی اساسات پر اس ملک کا نظام اجتماعی و سیاسی استوار ہوگا۔ اس دین کے سوا کسی اور دین کا اقتدار اس ملک میں باقی نہیں رہے گا۔ ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا یعنی اس وقت اس دین کے دشمنوں کے سبب سے جو خوف و اندیشہ کی حالت ہے۔ یہ ایک عارضی حالت ہے۔ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب اس خوف کی حالت کو اللہ تعالیٰ امن سے بدل دے گا اور اس ملک کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک کسی کی مجال نہ ہوگی کہ وہ اللہ کے دین یا اس دین کے حاملوں کے لئے کوئی خطرہ پیدا کرسکے۔ یعبدوننی لایشرکون بی شیاً یعنی اس سرزمین پر تنہا میری ہی عبادت ہوگی، میرے سوا کسی اور کی عبادت نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ فتح کے بعد جس طرح پورا ہوا وہ تاریخ کی ایک ایسی حقیقت ہے جس کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ یہاں تک کہ پورے جزیرہ عرب کے متعلق نبی ﷺ نے یہ اعلان فرما دیا کہ لا یجتمع فیھا دینان (اس میں دو دین جمع نہیں ہو سکتے) ومن کفر بعد ذلک فائولئک ھم الفسقون یعنی آج تو ابھی امتحان اور آزمائش کا مرحلہ ہے اس وجہ سے ان لوگوں کو بھی مہلت ملی ہوئی ہے جو اللہ کے دین کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن آگے فیصلہ کی گھڑی بھی آنے والی ہے اس وقت وہ لوگ اپنا انجام دیکھ لیں گے جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کر رہے ہیں۔ فاولئک ھم الفسقون سے مقصود اس کے لازم کی طرف اشارہ کرنا ہے۔
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوۃ دیتے رہو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

یہ علاج بتایا ہے کہ اگر اپنے دلوں کو نفاق، خوف اور شک کے امراض سے پاک رکھنا چاہتے ہو تو نماز کا اہتمام کرو، زکوۃ ادا کرو اور رسول کے ہر حکم کی بےچون و چرا اطاعت کرو۔ اگر یہ راہ اختیار کرو گے تو تم پر اللہ کی رحمت ہوگی اور تم دنیا اور آخرت دونوں میں فائز المرام ہو گے۔
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

اور ان کافروں کی نسبت یہ گمان نہ کرو کہ یہ زمین میں ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بیشک نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے

ان منافقین کے دلوں پر اسلام کے مخالفین خصوصاً قریش کی جو ہیبت طاری تھی یہ اس کو دور فرمایا ہے کہ ان کافروں کے متعلق یہ خیال نہ کرو کہ یہ ہمارے قابو سے باہر نکل جائیں گے۔ یہ اس زمین میں بھی ہمارے قابو میں ہیں اور آخرت میں تو ان کے لئے بہر حال دوزخ ہے ہی اور یاد رکھو کہ وہ نہایت ہی برا ٹھکانا ہے۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو تمہارے غلام اور لونڈیاں بھی اور تمہارے اندر کے وہ بھی جو ابھی بلوغ کو نہیں پہنچے ہیں، تین وقتوں میں اجازت لیا کریں۔ ایک نماز فجر سے پہلے دوسرے دوپہر کو جب تم اپنے کپڑے اتارتے ہو اور نماز عشا کے بعد یہ تین اوقات تمہاری بےپردگی کے ہیں۔ ان اوقات کے علاوہ تمہارے اور ان کے اوپر بدون اجازت آنے جانے میں کوئی فباحت نہیں۔ تم ایک دوسرے کے پاس آمد و شد رکھنے والے ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے اپنی آیات کی وضاحت کرتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے

آگے کا مضمون …64-58 آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ آیات 31-27 میں پردہ سے متعلق جو ہدایات دی گئی ہیں ان کے بارے میں جو سوالات و شکوک بعض لوگوں کے ذہنوں میں بعد میں پیدا ہوئے ان کی وضاحت ان آیات میں کی گئی ہے۔ یہ آیات چونکہ اصل احکام کے بعد نازل ہوئی ہیں اس وجہ سے ان کو سورة کے آخر میں رکھا گیا اور ان کے ساتھ یہ تصریح بھی ہے کہ یہ آیات بطور وضاحت نازل ہوئی ہیں۔ آخر میں تین آیتیں منافقین سے متعلق ہیں جن کا ذکر اوپر آیات 57-47 میں ہوا ہے۔ قرینہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیتیں بھی بعد میں مزید تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی ہیں اس وجہ سے اصل سلسلہ کلام سے الگ ان کو آخر میں جگہ دی گئی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔