Ayah 24:12اسلامی معاشرہ کا اخلاقی اصول
اسلامی معاشرے میں ہر مسلمان مرد و عورت کا یہ حق ہے کہ دوسرے افراد معاشرہ ان کے بارے میں حسنظن رکھیں اور اس وقت تک ان کے اس حق کا احترام کریں جب تک دلیل سے یہ ثابت نہ ہوجائے کہ وہ اس حسن ظن کے حق دار باقی نہیں رہے۔ اس حق کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے بارے میں کسی مسلمان کے کان میں کوئی ایسی بات پڑے جو اس حسن ظن کو محروم کرنے والی ہو تو ہم اس کو ایک سوغات سمجھ کر پورا قبول نہ کرلے اور اس کی نقل و روایت نہ شروع کر دے بلکہ اس کو رد کر دے اور اس وقت تک اس کو باور نہ کر یجب تک اس کے سامنے اس کا کوئی معقول ثبوت نہ آجائے۔ اس طرح کے معاملات میں غیر جانبداری کا رویہ بھی جائز نہیں ہے کہ آدمی اس کو پرایا جھگڑا سمجھ کر نظر انداز کر دے کہ دوسرا بدنام ہو را ہے، مجھے اس قضیے سے کیا سروکار ! بلکہ حتی الامکان اسے اپنے بھائی کی مدافعت کرنی چاہئے، اس لئے کہ ہر مسلمان پر اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزت وآبرو کی حفاظت ایک فرض ہے۔ اسلامی معاشرہ کے اسی اخلاقی اصول پر یہاں مسلمانوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ جب تمہارے کانوں میں یہ بات پڑی تو آخر تم نے ایک دوسرے کے ساتھ حسن ظن سے کام کیوں نہ لیا اور صاف صاف یہ کیوں نہ اعلان کردیا کہ یہ کھلا ہوا بہتان اور ایک صریح تہمت ہے۔
ہمارے معاشرہ کا فساد مزاج
ایک طرف اسلامی معاشرے کے اس اخلاقی اصول کو سامنے رکھیے اور دوسری طرف اپنے معاشرے کا جائزہ لیجیے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آج اس کے بالکل برعکس اصول کار فرما ہے۔ آج نظریہ یہ ہے کہ ہر شخص سوء ظن کا مستحق ہے الاآن کہ کسی شخص کے ساتھ اپنی کوئی شخصی یا گروہی غرض وابستہ ہو اور دوسروں کی نسبت سنسنی پیدا کرنے والی افواہیں پھیلانا تو اس زمانے میں ایک مستقل فن اور ایک نہایت کا میاب پیشہ بن گیا ہے۔ ہماری قوم میں کتنے اہل قلم ہیں جن کا پیشہ ہی یہی ہے کہ وہ اسی طرح کی افواہیں کی تلاش میں ہوئی صبح اور رکھ کر کان پر گھرے قلم نکلے یہ افواہیں نہایت جلی عنوانات سے اخبارات و رسائل میں چھپتی ہیں اور سب سے زیادہ کامیاب اخبارات و رسائل وہی ہیں جو اس طرح کی افواہیں ایاد کرنے میں سب سے زیادہ شاطر ہیں۔ معاشرے کے فساد مزاج کا حال یہ ہے کہ لوگ اس طرح کی چیزیں پڑھتے ہیں اور ھذا افک مبین کہنا تو درکنار ان کی ہر بات پر امنا و صدقنا کہتے اور وحی والہام سمجھ کر ان کی نقل و روایت کرتے ہیں۔
Ayah 24:13الزام کے ثبوت کے لئے چار گواہوں کا مطالبہ
یعنی ان مفتریوں کی بات لائق اعتناء ہو سکتی تھی تو اس صورت میں ہو سکتی تھی جب یہ شریعت کے مقرر کردہ قانون کے مطابق اپنے الزام کے ثبوت میں چار گواہ پیش کرتے۔ یہ امر واضح رہے کہ اس طرح کے الزام کے ثبوت کے لئے چار گواہوں کی شہادت کا قانون اس سے بہت پہلے سورة نساء آیت 15 میں نازل ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان مفسدوں نے یہ الزام لگایا تھا تو ان کی شرعی اور قانونی ذمہ داری یہ تھی کہ یہ چار گواہ پیش کرتے لیکن جب وہ چار گواہ پیش نہ کرسکے تو خدا کے قانون کی رو سے تو وہی چھوٹے ہیں۔ پھر جن لوگوں نے ان کی طر سے ثبوت فراہم ہوئے بغیر ان کی بات باور کرلی، آخر کس سند کی بنیاد پر باور کرلی ؟
Ayah 24:14مسلمانوں کو پھر تنبیہ
افاض فی الحدیث کا مفہمو یہ ہوتا ہے کہ بات میں سے بات نکالتے ہوئے آدمی کہیں سے کہیں جا پنچے اور بات کا بتنگڑ بنا ڈایل۔ آیت 10 کے بعد یہ پھر مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ اس معاملے میں تم جس روشن پر چل نکلے تھے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ تم کو ایک عذاب عظیم آ پکڑتا لیکن تم پر دنیا اور آخرت دونوں میں اللہ کی رحمت ہے اس وجہ سے اس نے درگزر فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے اس فضل و رحمت کی قدر کرو، ایسا نہ ہو کہ کسی اسی طرح کے فتنہ میں پھر مبتلا ہو کر اپنے آپ کو مستحق عذاب بنا ڈالو۔
یہ خطاب سارے معاشرے سے ہے حالانکہ اس معاملے میں ملوث ہونے والے یا سہلا نگاری و بےپروائی کو راہ دینے والے زیادہ لوگ نہیں تھے۔ اس خطاب عام کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کے مفاسد کی نوعیت وبائی امراض کی ہے۔ اگر چند افراد کے اندر بھی اس کا ظہور ہو تو ہر شخص کو خطرے سے آگاہ ہوجانا چاہئے کہ مبادا یہ وبا عام ہوجائے اور پھر اس کے نتیجہ میں پورا معاشرہ خدا کی پکڑ میں آجائے۔
Ayah 24:15نقل و روایت کے معاملہ میں احتیاط کی ہدایت
یہ اسی بات کی سنگینی کا ظہار ہے جس کو کچھ لوگوں نے ایک معمولی بات سمجھ کر بےتکلف اس کی نقل و روایت شروع کردی اور یہ انہوں نے نہ سوچا کہ جس چیز کو وہ معمولی سمجھ رہے ہیں وہ اللہ کے نزدیک بڑی ہی سنگین بات ہے کسی بات کو قبول کرنے کا اصلی راستہ عقل ہے نہ کہ زبان اور نقل ور وایت کے قابل وہ بات ہوتی ہے جس کی بنیاد قابل اعتماد علم پر ہو نہ کہ افواہ پر اگر عقل کو آدمی معطل کر دے اور اس کے پاس صرف گز بھر کی زبان رہ جائے تو نقد و روایت کے بغیر وہ کان میں پڑی ہوئی ہر بات کی روایت شروع کر دے گا اور اس طرح وہ خود بھی شیطان کے پھیلائے ہوئے فتنہ میں مبتلا ہوگا اور دوسروں کو بھی مبتلا کرے گا اس آیت میں مسلمانوں کو اسی خطرہ سے آگاہ کیا گیا ہے کہ اس معاملہ میں کچھ لوگوں نے عقل کے بجائے صرف زبان کو قبول روایت کا ذریعہ بنایا اور علم کے بجائے محض ایک افواہ کی روایت شروع کردی۔ انہوں نے یہ بات ایک معمولی بات سمجھی حالانکہ اپنے نتائج و عواقب کے اعتبار سے یہ چیز نہایت خطرناک اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ایک جرم عظیم ہے۔
Ayah 24:16سبحنک یہاں بالکل اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں ہم معاذ اللہ بولتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے سامنے ایک ایسی بات آئی تھی جو ثبوت و شہادت سے بالکل عاری تھی اور جس کی زد صرف ایک مئومنہ کے عزت و ناموس ہی پر نہیں بلکہ ام المومنین کے زعت و ناموس پر پڑ رہی تھی تو تم نے اس کو سنتے ہی یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ بےثبوت و شہادت کسی مومنہ کی شان میں ایسی بات زبان سے نکالنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے۔ معاذ اللہ یہ صریح بہتان ہے !
ان آیات سے روایت و درایت اور قبول روایت سے متعلق جو اصول نکلتے ہیں وہ بڑے اہم ہیں۔ اگر بحث کے اپنے حدود سے متجاوز ہوجانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو ہم ان کو واضح کرنے کی کوشش کرتے اصحاب علم ان آیات کے اس پہلو پر نگاہ رکھیں۔
Ayahs 24:17–18آیت 18-17
تنبیہ مزید
لفظ وعظ کے اندر زجر اور نہی کا مفہوم خود مضمر ہے اس وجہ سے اس کے بعد حرف لا کے لانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ آیتیں بھی اسیطرح بطور تنبیہ ہیں جس طرح اوپر تین آیتیں گزر چکی ہیں۔ اس سورة میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ خدا کے قہر و غضب سے محفوظ رہنے کے لئے نہایت ضروری ہیں اس وجہ سے تھوڑے تھوڑے وقفہ کیساتھ یہ تنبیہات بار بار آرہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا تمہیں تنبیہ کر رہا ہے کہ ایسی حرکت آئندہ پھر کبھی تم سے صادر نہ ہو۔ ان کنتم مومنین یعنی اس طرح کی باتوں سے احتراز ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر ان سے احتراز نہ کیا گیا تو ایمان کا دعویٰ بالکل بےمعنی ہو کر رہ جائے گا۔ ویبین اللہ الایۃ یعنی اللہ نے اپنی ہدایات اچھی طرح واضح کردی ہیں، اب ذمہ داری تمہاری ہے اور یہ یاد رکھو کہ اللہ علم و حکمت والا ہے اس وجہ سے جو کچھ اس نے بتایا ہے اسی میں تمہارے لئے خیر و برکت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ احکام ایک علیم و حکیم کے باتئے اور سکھائے ہوئے ہیں کسی کو خدا سے زیادہ علیم و حکیم ہونے کے خبط میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔
Ayah 24:19فتنہ برپا کرنے میں یہود کی سازش
یہ ان منافقین کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے یہ فتنہ برپا کیا۔ یہ جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا یہود کے با اثر تھے اور یہود پر یہ بات بہت شاق تھی کہ مسلمانوں کی اخلاقی برتری کی دھاک ان کے مخالفوں کے دلوں پر بھی بیٹھتی جا رہی ہے۔ عربوں کا معاشرہ دور جاہلیت میں بالکل خبیثون وجیثات کا معاشرہ بن چا تھا اور یہود کا حال، اہل کتاب ہونے کے باوجود ان سے بھی زیادہ برا تھا۔ اب جب انہوں نے دیکھا کہ اسی گندگی کے ڈھیر سے طیبون و طیبات کا ایک ایسا پکیزہ معاشرہ ابھر رہا ہے جو ملائکہ کے لئے بھی قابل رشک ہے تو اس آئینہ میں ان کو اپنی تصویر بہت مکروہ نظر آئی۔ اس کا اتنقام لینے کی ندیر انہوں نے یہ سوچی کہ مسلمانوں کے اندر بھی برائی اور بےحیائی کا چرچا پھیلے اور اس کار خیز کے لئے انہوں نے اپنے زیر اثر اور پروردہ منافقین کو ذریعہ بنایا جنہوں نے خاص اہل بیت رسالت کو ہدف بنایا کہ اگر وہ اپنی اس سازش میں کامیاب ہوگئے تو مسلمانوں کے اخلاقی وقار کی ساری عمارت منہدم ہوجائے گی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و رحمت سے ان کی سازش کامیاب نہ ہونے دی … انہی اشرار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو لوگ یہ ارمان رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر برائی و بےحیائی کا چرچا ہو ان کے لئے دنیا اور آخرت دونوں میں ایک درد ناک عذاب ہے۔
واللہ یعلم وانتم لاتعلمون یہ ان مسلمانوں کو تنبیہ ہے جو ان چھپے ہوئے مفسدین سے اچھی طرح آگاہ نہ ہونے کے باعث ان کے اٹھائے ہوئے فتنوں کے لپیٹ میں آجاتے تھے اور اس موقع پر بھی کچھ لوگ آگئے۔
Ayah 24:20شدید تنبیہ
بعینیہ یہی آیت اوپر گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 10 بس یہ فرق ہے کہ وہاں تواب حکیم ہے اور یہاں روئوف رحیم ہے لو کا جواب یہاں بھی محذوف ہے اور یہ حذف تنبیہ کی شدت پر دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ اس نے تمہاری (خطاب مسلمانوں سے ہے) اس شدید غلطی پر تمہاری گرفت نہیں کی ورنہ تمہارے اندر کے لوگوں نے جس طرح اسلام کے دشمنوں کی مقصد برآری کا سامان کیا تھا اس پر تم سزا وار تھے کہ خدا کی گرفت میں آجاتے لیکن خدا رئوف و رحیم ہے اس وجہ سے اس نے تمہاری غلطی کے باوجود تمہیں توبہ اور اصلاح کی مہلت دی۔
Ayah 24:21یہ مسلمانوں کو اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہات اوپر گزر چکی ہیں۔ فرمایا کہ شیطان اور اس کے ایجنٹوں کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ یہ بات اچھی طرح گرہ کرلو کہ شیطان جب بھی سمجھائے گا برائیے اور بےحیائی کی راہ ہی سمجھائے گا وہ کبھی نیکی اور بھلائی کی راہ نہیں سمجھائے گا۔ یہ تنبیہ یوں تو عام ہے لیکن یہاں خاص طور پر اسی ہدایت کو مئوکد کردیا ہے جو اوپر گزر چکی ہے کہ کسی کے عزت و ناموس کے معاملے میں ہر اس بات کی نقل و روایت نہ شروع کر دو جس کے باب میں تمہیں کوئی علم نہ ہو۔ جس بات کا کوئی ثبوت نہ ہو وہ محض ظن ہے اور ظن کی پیروی شیطان کی پیروی ہے۔
ایک لطیف اور باریک تنبیہ
ولولا فضل اللہ علیکم و رحمتہ ماذ کی منکم من احدا بداً ولکن اللہ یزکی من یشآء یہ اسی سلسلہ کی ایک نہایت لطیف اور باریک تنبیہ ہے جو لوگ دوسروں کے عزت و ناموس کے معاملے میں ہر قسم کی رطب ویابس باتیں بےپروائی سے قبول کرلیتے اور ان کی بنا پر ان سے بدگمانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان کا یہ رویہ غمازی کرتا ہے کہ وہ اپنے باپ میں ضرورت سے زیادہ حسن ظن بلکہ ایک قسم کے ادعائے تزکیہ میں مبتلا ہیں، خواہ ان کو اپنے اس باطن کا شعور ہو یا نہ ہو۔ اسی مخفی چور سے یہاں ان لوگوں کو آگاہ کیا ہے جنہوں نے ام المومنین کے باب میں دشمنوں کی اڑائی ہوئی افواہ کو بغیر کسی نکیر کے قبول کرلیا۔ فرمایا کہ ہر شخص یاد رکھے کہ جس کو بھی کوئی پاکی و پاکیزگی حاصل ہوتی ہے محض اللہ کے فضل سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر اس کی توفیق شامل حال نہ ہو تو کوئی پاک نہ ہو تو کوئی پاک نہیں ہوسکتا تو کسی کو اپنے تقویٰ و تزکیہ کا تانا غرہ نہ ہونا چاہئے کہ وہ دوسروں کے معاملے میں ہر قسم کی باتیں بےتحقیق قبول کرلے۔
واللہ سمیع علیم میں اس بات کی یاد دہانی ہے کہ جو شخص اپنی ذات کے معاملے میں ضرورت سے زیاہ حسن ظن میں مبتلا ہوتا ہے وہ اس بات کو نہ بھولے کہ خدا سمیع و علم ہے۔ وہ ہر شخص کی مخفی سے مخفی بات کو بھی سنتا اور جانتا ہے۔
Ayah 24:22ان لوگوں سے درگزر کی ہدایت جو محض سادگی کے سبب سے اس فتنہ میں ملوث ہو گئے
اب یہ اسی اوپر والی بات پر عطف کر کے ان لوگوں کے باب میں عفو و درگزر کی ہدایت فرمائی جو محض اپنی سادگی کے سبب سے اس فتنہ کی سنگینی کا اندازہ نہ کر پائے اور اس کے نقل و روایت میں ملوث ہوگئے۔ اس ہدایت کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ اصل حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد اس بات کا اندیشہ تھا کہ بہت سے لوگ ان لوگوں کی امداد و سرپرستی سے دستکش ہوجائیں گے جنہوں نے کسی نوعیت سے اس جھوٹ کے پھیلانے میں حصہ لیا روایات میں ہے کہ سطح ایک نادار صحابی حضرت ابوبکر کے عزیز تھے۔ حضرت ابوبکر ان کی سرپرستی فرماتے تھے جب آپ کو معلوم ہوا کہ وہ بھی اس فتنہ میں شریک ہیں تو قدرتی طور پر آپ کو نہایت صدمہ ہوا اور آپ نے قسم کھالی کہ اب میں مسطح کی کبھی کوئی مدد نہیں کروں گا۔ اسی قسم کے رویہ کا اندیشہ دوسرے غیرت مند مسلمانوں کی طرف سے بھی تھا اس وجہ سے ارشاد ہوا کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور رزق و مال کی کشادگی عطا فرمائی ہے وہ مستحق قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو، ان کی کسی غلطی کی بنا پر، اپنی سرپرستی و امداد سے محروم کردینے کی قسم نہ کھا بیٹھیں بلکہ عفو و درگزر سے کام لیں، غلطیاں اور کو تاہیاں ہر ایک سے ہوتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ درگزر فرماتا ہے۔ اگر وہ ہر ایک کی غلطی پر مواخذہ کرے اور اپنی عنایات سے اس کو محروم کر دے تو اس کے مواخذہ سے کون بچ سکتا ہے ! تو جو لوگ اپنی غلطیوں پر اللہ کی مغفرت کے طلبگار ہیں انہیں چاہئے کہ وہ بھی دوسروں کی غلطیوں کو معاف کریں۔ اللہ غفور و رحیم ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کی صفات کا عکس اس کے بندوں کے اندر بھی پایا جائے۔
آیت میں اولوالفضل منکم والسعۃ کے الفاظ حق اور ذمہ داری کی یاد دہانی کے لئے ہیں کہ جن کو اللہ اپنے فضل و رزق کی کشادگی سے نوازتا ہے ان سے وہ یہ چاہتا ہے کہ جس طرح خدا نے ان کو کشادگی کے ساتھ ان کی کوتاہیوں اور غلطیوں کے باوجود دیا ہے اسی طرح وہ بھی اس کے بندوں کو فیاضی اور کشادگی کے ساتھ دیں اور ان کی کسی غلطی سے متاثر ہو کر ان کی مدد سے ہاتھ نہ کھینچیں۔
اولی القربی والمسکین و المھجرین فی سبیل اللہ کے الفاظ اظہار استحقاق کے لئے ہیں کہ جو لوگ قرابت مند بھی ہیں، مسکین بھی ہیں اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی صعوبات بھی برداشت کی ہیں وہ بہرحال اپنا ایک حق رکھتے ہیں اور وہ محض اس بنا پر اپنے اس حق سے محروم نہیں ہوجائیں گے کہ نادانستہ وہ کسی غلطی کے مرتکب ہوگئے۔
الاتعبون ان یغفر اللہ لکم میں اسی باریک حقیقت کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہے جس طرح کسی کے باب میں محض افواہوں کی بنا پر بدگمانی میں مبتلا ہوجانا خود اپنے بارے میں ضرورت سے زیادہ حسن ظن بلکہ ادعائے تزکیہ کی دلیل ہے اسی طرح کسی کی غلطی پر اس سے درگزر نہ کرنا اور اس کو اپنی سرپرستی سے محروم کردینا اپنے آپ کو غلطیوں سے مبرا سمجھنے کے ہم معنی ہے اگرچہ آدمی کو اپنے اس مخفی خیال کا شعور نہ ہو۔ اس پہلو سے غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ حکمت دین کے پہلو سے یہ دونوں غلطایں ایک ہی خادنان سے تعلق رکھنے والی ہیں۔ اسی وجہ سے ان دونوں کا ذکر ایک ساتھ موزوں ہوا۔
Ayahs 24:23–25آیت 25-23
منافقین کے جرم کی شناعت اور ان کو شدید
محصنت یہاں پاکدامن شریف زادیوں کے مفہوم میں ہے اور غفلت سے مراد دنیا کے چھل فریب سے نا آشنا بھلوی بھالی خواتین ہیں۔ اگرچہ ا لفاظ عام ہیں اور مرادان سے وقت کے مسلم معاشرہ کی تمام شریف زادیاں ہیں لیکن ان میں ایک لطیف اشارہ خاص طور پر حضرت عائشہ صدیقہ کی طرف ہے ان الفاظ کا سب سے اعلیٰ مصداق وہی ہو سکتی ہیں۔
رمی کے اصل معنی تو تیر مارنے کے ہیں لیکن یہ کسی پر تہمت اور بہتان لگانے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا یہ۔ یہاں غفلت پر تہمت لگانے کے لئے اس لفظ کیا ستعمال میں ایک خاص بلاغت ہے۔ اس کے اندر یہ کنایہ ہے کہ جو لوگ بھولی بھالی پاکدامن بیبیوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ گویا سوتے میں ان کو اپنی تیر اندازی کا ہدف بناتے ہیں۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت دونوں میں خدا کی پھٹکار ہے۔ نہ یہ دنیا میں برومند ہوں گے نہ آخرت میں دنیا میں بھی عنقریب ان کی جڑکٹ کے رہے گی اور آخرت میں تو ان کے لئے بہر حال عذاب عظیم ہے ہی۔ ان منافقین پر اللہ تعالیٰ کی اس لعنت کا اثر بالآخر یہ ظاہر ہوا کہ اسلام کے غلبہ نے ان کا اور ان کے سرغنوں کا سر زمین عرب سے یکقلم خاتمہ کردیا۔
یوم تشھد علیھم السنتھ الآیۃ یعنی جس دن خدا کے عذاب سے سابقہ پیش آئے گا اس دن نہ وہ خد کوئی عذر پیش کرسکیں گے اور نہ ان کے حرم کو ثابت کرنے کے لئے کسی خارجی شہادت کی ضرورت ہوگی۔ اس دن ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ پائوں خود ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ آج وہ اپنی ان درپردہ سازشوں اور ریشہ دوانیوں پر پردہ ڈال سکتے ہیں لیکن ان کی زبانوں اور ان کے ہاتھ پائوں سے تو ان کی کوئی حرکت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ انہی گواہوں سے خدا گواہی دلوا دے گا کہ انہوں نے کیا کیا تہمتیں تراشی ہیں اور کیا کیا شر و فساد برپا کیسے ہیں۔
یومئذ یوفیھم اللہ دینھم الحق لفظ دین یہاں بدلہ اور جزا کے معنی میں ہے۔ یعنی اس دن اللہ تعالیٰ ان کا واجبی بدلہ پورا پورا چکا دے گا۔ ان کے ساتھ نہ کوئی رعایت ہوگی نہ کوئی زیادتی
ویعلمون ان اللہ ھو الحق المبین یعنی آج تو ابھی حالات پر پردہ پڑا ہوا ہے اس وجہ سے یہ اللہ کے بارے میں بہت سی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں نہ یہ یقین ہے کہ اللہ سراپا حق و عدل ہے اس لئے لازماً وہ حق کو غالب اور باطل کو نابود کر کے رہے گا اور نہ یہ یقین ہے کہ وہ ہر چیز کو واضح کرنے والا ہے۔ ان غلط فہمیوں نے ان کو ان کی شرارتوں میں بہت چالاک بنا دیا ہے لیکن اس دن ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجائے گی کہ خدا سراپا حق و عدل ہے اور اسی کے ساتھ وہ مبین یعنی تمام حقائق کو آشکارا کرنے والا بھی ہے۔
Ayah 24:26آخرت میں نفوس کی درجہ بنی اخلاق کے اعتبار سے ہو گی
یعنی اس دنیا میں تو ابھی حالات پر بہت کچھ پردہ پڑا ہوا ہے اور گہر و پشیز دونوں رلے ملے ہوئے ہیں لیکن جب جزائے حق کا دن آء یگا تو اس دن نفوس کی درجہ بنی، جیسا کہ آیت واذا النفوس زوجت (تکریر 7-) میں ارشاد فرمایا ہے، اعمال و اخلاق اور ایمان و عقائد کے اعتبار سے ہوگی۔ اس دن خبیث عورتیں خبیث مردوں کے ساتھ باندھ دی جائیں گی اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے ساتھ جوڑ دیئے جائیں گے۔ اسی کے مقابل میں پاکیزہ اخلاق عورتوں کو پاکیزہ صفات مردوں کی رفاقت حاصل ہوگی اور پاکیزہ اخلاق مردوں کو پاکیزہ اخلاق بیویاں ملیں گی اور یہ لوگ اس دن تمام خرافات اور بکواسوں سے جو ان کے خلاف کی جا رہی ہیں بالکل بری اور پاک ہوں گے اور ان کے لئے مغفرت اور باعزت روزی ہوگی … ہم دور سے مقام میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ یہ دو لفظ آخرت کی تمام نعمتوں کی جامع تعبیر کے طور پر آتے ہیں۔
Ayah 24:27آگے کا مضمون ……آیات 34-27
اب آگے ان رخنوں کو بند کیا یہ جو معاشرے میں بدنگاہی، تہمت اور اخلاقی مفاسد کو راہ دیتے ہیں اس سلسلہ میں سب سے پہلے اس آزادی پر چند قیدیں عائد کی ہیں جو زمانہ جاہلیت کی سوسائٹی میں دوسروں کے گھروں میں آنے جانے کے معاملہ میں، لوگوں کو حاصل تھی۔ پھر بویائوں اور ذی صلاحیت لونڈیوں اور غلاموں کے ناح کی ہایت فرمائی ہے تاکہ شریروں کو سوسائٹی میں رخنہ اندازی کی کوئی راہ نہ ملے۔ اسی ذیل میں غلاموں کی آزادی کے لئے مکاتبت کی ایک کشادہ راہ کھول دی اور اس آزادی کے حصول کے لئے لوگوں کو ان کی امداد پر ابھارا تاکہ غلام آزادوں کی صف میں آئیں، ان کا اخلاقی معیار اونچا ہو اور معاشرے میں ایمان کی اساس پر کامل ہم آہنگی و یک رنگی پیدا ہو … اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔
گھروں کے اندر داخل ہونے کے لئے طلب اذن کی ہدایت
استیناس کے معنی معتارف و مانوس ہوجانے کیی ہیں اور بیوت سے مراد، جیسا کہ آگے والی آیت میں وضاحت آرہی ہے۔ رہائشی مکانات ہیں جن میں کسی کے بیوی بچے رہتے ہوں۔ فرمایا ہے اگر کسی مسلمان کو اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے رہائشی مکان میں جانے کی ضرورت پیش آئے تو یوں ہی دراتا ہوا نہ گھس جائے بلکہ پہلے انس و تعارف حاصل کرے جس کا شائستہ اور بابرکت طریقہ یہ ہے کہ دروازے پر کھڑا ہو کر گھر والوں کو سلام کرے۔ اگر ادھر سے سلام کا جواب اور اجازت ملے تو گھر میں داخل ہو ورنہ واپس ہوجائے۔
سلام اپنے آپ کو متعارف کرانے اور طلب اذن کا نہایت پاکیزہ طریقہ ہے۔ آیت میں تسابوا کے بعد وتسلمواطریقہ تعارف کی وضاحت کے لئے ہے۔ ظاہر ہے کہ جب دروازے پر کوئی سلام کرے گا تو گھر والے معلوم کر ہی لیں گے کہ کون صاحب ہیں ؟ کیا چاہتے ہیں اور گھر کے اندر ان کا داخل ہونا مناسب ہے یا نہیں اور اس وقت ان کا آنا مناسب ہے یا کسی اور وقت ؟
اذان کے لئے سلام کا طریقہ
گھروں کے اندر داخل ہونے کے لئے طلب اذن کا کوئی نہ کوئی طریقہ تو تمام مہذب قوموں میں ہمیشہ سے رہا ہے۔ عرب جاہلیت کے شرفاء میں بھی اس کا رواج تھا بلکہ ان کے ہاں اس کے لئے جو الفاظ تھے وہ تقریباً بالکل ان الفاظ کے ہم معنی ہیں جو اس وقت مغربی یا مغرب زدہ سوسائٹی میں رائج ہیں لیکن اسلام نے ان کو اختیار نہیں کیا بلکہ ان کی جگہ پر سلام کی ہدایت فرمائی اور نبی ﷺ نے اس سلام کا طریقہ یہ بتایا کہ دروازے پر کھڑ ہو کر سلام کرے، اگر کوئی جواب مل جائے فیہا اور اگر جواب نہ ملے تو تین بار تک سلام کر کے واپس لوٹ آئے۔
اس پابندی کے بعد ظاہر ہے کہ اس اندیشے کے امکانات کا سدباب ہوگیا کہ کوئی غیر مطلوب شخص کسی نامناسب وقت میں کسی کے زنانہ مکان کے اندر گھس آئے۔ اس کے بعد صرف وہی لوگ گھروں کے اندر آسکتے تھے جو صاحب خانہ سے یا تو کوئی قرابت رکھتے ہیں یا صاحب خانہ کو ان پر پورا پورا اعتماد ہو۔
اس طریقہ کی برکتیں
ذلکم خیرلکم لعلکم تذکرون یہ اس پابندی کی برکت واضحہ فرمائی ہے تاکہ طبائع پر یہ زیادہ شاق نہ ہو فرمایا کہ یہ تمہارے لئے موجب خیر و برکت ہے تاکہ تمہیں یاد دہانی حاصل ہوجایا کرے گویا اس کی نعیت دروازے پر ایک مبارک نوٹس کی ہے کہ گھر میں داخل ہونے والے کو بھی یاد دہانی ہوجائے کہ وہ دوسرے کے حرم میں قدم رکھ رہا ہے جہاں اس کو کچھ خاص اخلاقی آداب کا لحاظ رکھنا ہے اور گھر والوں کو بھی آگاہی ہوجائے کہ ان کے اندر اس وقت ایک ایسا شخص موجود ہے جس کے معاملے میں ان کے اوپر کچھ حدود وقیوم ہیں جن کا احترام دنیا اور آخرت دونوں میں موجب خیر و برکت ہے۔
Ayah 24:28یعنی اگر طلب اجازت کے بعد معلوم ہوجائے کہ گھر میں اس وقت اجازت دینے والا کوئی نہیں ہی تو جب تک اجازت نہ ملے گھر کے اندر داخل نہ ہو اور اگر واپس ہوجانے کے لئے کہا جائے تو واپس ہو جائو۔
ھو ازکی لکم یعنی ہرچند ہے تو یہ دل پر شاق گزرنے والی بات لیکن اخلاقی پہلو سے یہی طریقہ پاکیزہ ہے۔ معلوم نہیں کیا حالات ہیں جس کی بنا پر گھر والوں نے اجازت نہیں دی۔ اس طرح کے معاملات میں اپنے واقر سے زیادہ صاحب خانہ کے مصالح ہی کے لحاظ میں حکمت اور شیطان کے فنتوں سے امان ہے۔
خدا کی صفت علم کی بار بار یاد دہانی کی حکمت
واللہ بما تعملون علیکم یہ مضمون یہاں معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ بار بار آیا ہے۔ آگے فرمایا ہے۔ واللہ یعلم ماتبدون وما تکتمون پھر ارشاد ہوا ہے۔ ان اللہ خبیر بما یصنعون اللہ تعالیٰ کی صفت علم کی یہ بار بار یاد دہانی اس وجہ سے کی جا رہی ہے کہ جن چیزوں سے یہاں روکا جا رہا ہے ان کے لئے نفس کے اندر چور دروازے بہت سے ہیں۔ جب تک خدا کے علیم وخبیر ہونے کا صحیح طور پر استخصار نہ ہو مجرد احکام و ہدایات سے ان رخنوں کو بند کرنا ممکن نہیں ہے۔ شیطان کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیتا ہے اور آدمی ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ البتہ اگر اس تصور کا دل پر ہر وقت غلبہ رہے کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے تو یہ چیز شیاطن کی مخفی سے مخفی چالوں سے بھی انسان کو محفوظ رکھتی ہے۔
Ayah 24:29غیر مکونۃ سے مراد قرنیہ دلیل ہے کہ یہاں وہ مکانات ہیں جو غیر رہائشی ہیں یعنی جن میں آدمی کے بیوی بچے نے رہتے ہوں اوپر کی ہدایات سے واضح ہے کہ اجازت لینے کی یہ پابندی اصلاً بدنگاہی اور موقع تہمت سے بچانے کے لئے کی گئی ہے اس وجہ سے ان مکانوں کے لئے یہ پابندی ضروری نہیں ہے جو غیر رہائشی ہیں۔ ان میں آدمی بغیر اذن کے بھی جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ بھی فیھا متاع لکم کی قید لگی ہوئی ہے۔ یعنی کوئی منفعت اور ضرورت اس کے لئے داعی ہو متاع لکم کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ مکانات ہوں ہی عام ضرورت کے مثلاً دکانیں، سرائیں، ہوٹل وغیرہ، مردانہ نشست گاہیں بھی اسی حکم میں داخل ہیں۔
واللہ یعلم ماتبدون وما تکتمون یہ اسی طرح کی تنبیہ ہے جس طرح کی تنبیہ اوپر گزر چکی ہے۔ اس تنبیہ کی رضورت اس وجہ سے ہوئی کہ آدمی کے اندر اگر خدا کی صفت علم کا صحیح استخصار نہ ہو تو وہ اس آزادی سے بھی غلط فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ایک شخص کسی کے زنانہ مکان میں بدوں، اجازت، گھس جائے اور جب اس پر اعتراض ہو تو وہ یہ عذر کر دے کہ میں نے سمجھا کہ یہ مردانہ نشست گاہ یا دفتر ہے۔
Ayahs 24:30–3130۔ 31
گھر کے اندر ہونے کے بعد کی احتیاطیں
مذکورہ بالا اجازت کے بعد اگر کوئی شخص کسی کے مکان میں دخل ہو تو اس کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھے اور اپنی شرم کی جگہوں کی حفاظت کرے۔ قل للمومنین کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ عض بصر اور حفاظت فروج تقاضائے ایمان ہے اور من ابصارھم کے من سے یہ بات نکلتی ہے کہ مقصود صرف احد تک نگاہوں کو نیچی رکھنا ہے کہ گھر کی عورتوں سے اپنی نظر کو بچانے رکھے اس لئے کہ یہ ہدایت درحقیقت انہی کو پیش نظر رکھ کردی گئی ہے۔ اس سے یہ بات بھی نکلی کہ اسلام نے یہ اجازت جو دی ہے وہ محض رفع ہرج کے پہول سے صاحب خانہ کے اعزہ و اقرباء اور تعلق و اعتماد کے لوگوں کے لئے دی ہے۔ بالخصوص اس وجہ سے کہ ہر شخص کے گھر میں اس زمانے میں نہ مردانہ نشست گاہیں تھیں اور نہ آج ہو سکتی ہیں لیکن یہ ہدایات خود اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اگر مردوں کے الگ بیٹھنے کا گھر میں اتنظام ہو تو قریبی اعزہ و اقربا کے سوا دوسرے مردوں کا گھر کی عورتوں سے الگ ہی بیٹھنا اسلام میں مطلوب ہے آگے کی آیات سے انشاء اللہ یہ بات اچھی طرح واضح ہوجائے گی۔
عض بصو کی ہدایت کی اہمیت
غض بصر کی ہدایت بڑی اہم ہدایت ہے نگاہ ہی درحقیقت مرد و عورت کے درمیان اولین قاصد کا کام دیتی ہے۔ اگر اس کے اوپر ایمانداری کے ساتھ کوئی شخص پہرہ بٹھا دے تو وہ شیطان کے بہت سے فتنوں سے امان میں ہوجاتا ہے۔
حفظ فروح میں اصلی دخل لباس کو ہے
حفظ فروج میں بڑا دخل اس چیز کو ہے کہ لباس با قرینہ ہو اس زمانے میں فیشن کے شوق نے لباس میں ایسی ایجادیں کردی ہیں کہ اس کا اصل مقصود ستر بالکل غائب ہوگیا ہے۔ صرف زینت کا مقصد باقی رہ گیا ہے اور زینت بھی وہ زینت جس کے اندر صریح بدقوارگی نمایا ہے۔ پہلے تو صرف عورتوں ہی کا رونا تھا لیکن اب تو مردوں نے بھی وہ لباس اختیار کرلیا ہے کہ اس لباس میں وہ شریفوں کی کسی مجلس میں بھی جان کیا حق نہیں رکھتے چہ جائیکہ کسی باایمان مسلمان کے گھر کے اندر
ذلک ار کی لھم ان اللہ خبیر بما یصنعون یعنی گھروں کے اندر یہ احتیاطیں اخلاقی پاکیزگی کے نقطہ نظر سے نہایت اعلیٰ اور اہم ہیں بشرطیکہ ان احتاسطوں کے ساتھ یہ حقیقت بھی ہر وقت مستحضر رہے کہ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے خواہ کتنے ہی مخی طریقے سے کرے، خدا اس سے باخبر ہوتا ہے اگر یہ حقیقت مستحضر نہ ہو تو نہ نگاہ کو آوارگی سے بچایا جاسکتا ہے نہ اعضاء کو نمائش سے۔
وقل للمومنت یغضضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولایبدین زینتھن الاما ظھر منھا و لیضربن بخمرمن علی جیوبھن ولایبدین زینتھن الا لبعولتھن اوابآء ئھن اوابآء بعولتھن اوبنآء ئھن اوابنآء بعولتھن اواخوانھن اوبنی اخواتھن اونسآئھن اوما ملکت ایمانھن اوالتبعین غیر اولی الاربۃ من الرجال اوالطفل الذین لم یظھروا علی عورت النسآء ولایضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن ط وتوبوآ الی اللہ جمیعاً ایہ المومنون لعلکم تفلحون
گھر کے اندر عورتوں کا پردہ
اب یہ عورتوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ اگر گھر کے اندر کوئی غیر محرم دخل ہو تو وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی شرم کی جگہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی چیزیں اس کے سامنے نہ ظاہر ہونے دیں، صرف وہ زینت اس سے مستثنیٰ ہے جس کا ظاہر ہونا ناگزیر ہے۔ زینت کی چیزوں کا اظہار شوہر کے سامنے جائز ہے یا مخزوں کے سامنے یا اپنے میلج ول اور تعلق و خدمت کی عورتوں کے سامنے، یا اپنے کلرکوں کے سامنے یا ایسے مردوں کے سامنے جو بوڑھے ہوچکے ہیں اور ان کی کفالت وپرورش کا بار گھر والوں نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے یا ایسے بچوں کے سامنے جو ابھی جنس معاملات سے نا آشنا ہوں اور مزید یہ کہ اگر کسی غیر محرم کی موجوگدی میں عورتوں کو گھر کے اندر نقل و حرکت کی ضرورت پیش آئے تو زمین پر پائوں مار کے نہ چلیں کہ زیوروں کی جھنکار سنائی دے۔
یہ اس آیت کا سادہ مطلب ہوا۔ اس کے بعض اجزاء جو وضاحت طلب ہیں، ہم ان کی وضاحت بھی کئے دیتے ہیں۔
الا ماظھر منھا کا مفہوم
ولابدین زبنتھن الا ما ظھر منھا زینت کی چیزوں میں لباس بھی داخل ہے اور زیورات بھی ان میں سے ہر چیز کو نہ تو چھپا ناممکن ہے نہ ہر چیز کا ظاہر ہونا ناگزیر ہے۔ لباس کا بھی ظاہری حصہ بہرحال ظاہرہ کے رہے گا اور زیورات بھی بالخصوص ہاتھ کے بعض زیورات بغیر زحمت کے نہیں چھپائے جاسکتے۔ الا ماظھر منھا کے استثناء نے اس قسم کی غیر معمولی زحمتوں سے بچا کر صرف ان زینتوں کو چھپانے کی ہدایت فرمائی جن کے چھپانے میں زیاہ زحمت نہیں ہے۔
اوڑھنی مسلمان خواتین کے لباس کا ضروری جزو ہے
ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن خمار دوپٹہ اور اوڑھنی کو کہتے ہیں۔ اس سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ اوڑھنی مسلمان خواتین کے لباس کا ایک ضروری جزو ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی کہ کسیغ یر محرم کی موجودگی میں عورتوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اس اوڑھنی سے اپنے سر اور کمر کے ساتھ اپنے گریبانوں کو بھی چھپائیں … ایک طرف اس حکم کو سامنے رکھیے اور دوسری طرف اپنی قوم کی متبرجات کو دیکھیے کہ انہوں نے اوڑھنی کو دقیانوسیت قرار دے کر یک قلم خارج قرار دے دیا او چاک گریباں اور سینہ کے ابھار کو زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنا لازمہ تہذیب ٹھہرا !
اوابآئھن لفظ ابآء اپنے وسیع معنوں میں اجداد و اعمام سب پر مشتمل ہے۔ محرم اعزہ کے نمایاں عناصر کے نام گنا دیئے ہیں لیکن مراد وہ سب ہیں جو اس حکم میں داخل ہیں۔
نسآء من سے مراد
آونسآء ئھن میں بعض فقہاء نے صرف مسلمانوں عورتوں کو مراد لیا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی۔ میرے نزدیک اس بارے میں صاحب کشاف کی رائے صحیح ہے۔ انہوں نے اس سے میل جول اور تعلق و خدمت کی عورتوں کو مراد لیا ہے (من فی صعبتھن وخدمتھن من النسآئ) یہ امر محلوظ رہے کہ ہر قسم کی اجنبی عورتوں کے سامنے عورتوں کے لئے اپنی زینت کا ظاہر کرنا فتنہ اور خطرہ سے خالی نہیں ہے۔ بعض عورتیں
1۔ اس پابندی سے صرف وہ بوڑھی عورتیں مستثنیٰ ہیں جو نکاح کی عمر سے گزر چکی ہیں۔ اگرچہ ان کے لئے بھی بہتر یہی ہے کہ وہ بھی اس کا اہتمام رکھیں۔ اس کی وضاحت آگے آیت 60 میں آئے گی جو اس آیت کی توضیح کے طور پر بعد میں نازل ہوئی۔
بڑی نظامہ ہوتی ہیں۔ ان سے بچ کے رہنے ہی میں سلامتی ہے معلوم نہیں وہ کس آفت میں مبتلا کردیں۔
ماملکت ایمانھن سے لونڈی اور غلام دونوں مراد ہیں
اوما ملکت ایمانھن سے مراد لونڈی اور غلام دونوں ہیں۔ بعض فقہاء نے اس سے صرف لونڈیوں کو مراد لیا ہے لیکن اس تخصیص کا کوئی قرینہ الفاظ میں موجود نہیں ہے۔ اگر صرف لونڈیاں ہی مراد ہوتیں تو صحیح اور واضح تعبیر اوامآئھن کی ہوتی ایک عام لفظ، جو لونڈیوں اور غلاموں دونوں پر مشتمل ہے، اس کے لئے استعمال نہ ہوتا۔ پھر یہاں اس سے پہلے نآئھن کا لفظ آچکا ہے جو ان تمام عورتوں پر جیسا کہ واضح ہوچکا ہے مشتمل ہے جو میل جول اور خدمت کی نوعیت کی وابستگی رکھتی ہیں اس کے بعد لونڈیوں کے علیحدہ ذکر کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ علاوہ ازیں یہ بات قرآن کی تصیرحات کے بھی خلاف ہے۔ آگے اسی سورة میں، انہی احکام سے متعلق بعض تو ضیحات آئیں گی جو بعد میں نازل ہوئیں۔ ان میں لونڈیوں اور غلاموں دونوں کو، تین مخصوص اوقات کے علاوہ، اجازت کے بغیر گھر میں آنے جانے کی اجازت دی ہے اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ طوافون علیکم بعضکم علی بعض کہ تم ایک دوسرے کے سامنے ہر وقت آمد شد رکھنے والے ہو 2۔ ان وجوہ سے میں ان فقہاء کی رائے کو صحیح سمجھتا ہوں جو اس لفظ کو لونڈیوں اور غلاموں دونوں کے لئے عام مانتے ہیں۔ البتہ ان کے لئے بھی وہ پابندی ضروری ہوگی جو خود قرآن نے بیان کردی ہے اور جس کی وضاحت آگے آیت 58 میں آئے گی۔ لیکن اس بحث کی نوعیت اب مجرد ایک علمی بحث کی ہے، اس لئے کہ غلامی کا مسئلہ اب ختم ہوچکا ہے اور اس سلسلہ میں دنیا کی تاریخ میں سب سے پہلے اسلام نے قدم اٹھایا جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ اب مسئلہ غلاموں کا نہیں بلکہ نوکروں اور ملازموں کا ہے۔ ان کے باب میں قرآن کے اشارات سے جو بات نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ جہاں تک بوڑھے ملازموں اور بچوں کا تعلق ہے ان کے لئے تین اوقات کے سوا جن کی تفصیل آگے آئے گی، گھروں میں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہرو ہے۔ جو ان ملازم تو انکے باب میں، میرے نزدیک ان تمام ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے جو اوپر مذکور ہوئیں۔ ان کے لئے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینا بھی ضروری ہے اور گھر میں ان کی موجودگی کی صورت میں ان پر اور گھر کی خواتین پر وہ پابندیاں بھی لازمی ہیں جو زیر بحث آیات میں بیان ہوئی ہیں۔
بوڑھوں اور حدودوں کا حکم
اوالتبعین غیر اولی الاربۃ من الرجال سے مراد وہ بوڑھے، معذور، نابینا اور اعرج مرد مراد ہیں جو جنسی جذبات و خواہشات کے دور سے نکل چکے ہوں۔ اگر ایسے مردوں میں سے کسی کی کفالت و سرپرستی گھر والوں نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے اور وہ وہیں رہتے سہتے ہیں تو ان کے معاملے میں بھی وہ پابندیاں نہیں ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ میرے نزدیک یہی حکم بوڑھے ملازمین کا بھی ہے بس ان تین اوقات میں ان کے لئے اجازت کی ضرورت ہوئی جو آگے آیت 58 میں مذکور ہیں۔
2۔ ملاحظہ ہو آیت 58
اوالطفل الذین لم یظھروا علی عوزت النسآء سے مراد وہ بچے ہیں جن کے اندر ابھی جنسی شعور بیدار نہیں ہوا ہے اور دو عورتوں کے صنفی اعضاء کو اس نگاہ سے نہیں دیکھتے جس نگاہ سے ایک مرد دیکھتا ہے ان کے لئے اول اول اجازت لینے کی پابندی نہیں تھی لیکن بعد میں تین اوقات میں ان کے اوپر بھی پابندی عائد ہوگئی۔ تفصیل اس کی آگے آئے گی۔
اظہار زینت کا ایک مخصوص دائرہ ہے
ولایضربن بارجلھن لیعلم مایخفبن من زینتھن کی زینت کی چیزوں کیا ستعمال میں اصلی جذبہ نمائش کا ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ چیز انسان بالخصوص عورت کی فطرت میں داخل ہے لیکن اس کا ایک مخصوص دائرہ ہے۔ موجودہ زمانہ کی متبرجات کی طرح ہر جگہ اپنی زینت کی نمائش کرتے پھرنا اسلام میں جائز نہیں ہے۔ اسی وجہ سے یہ ہدایت ہوئی کہ غیر محرموں کی موجودگی میں اگر عورتوں کو گھر کے اندر چلنے پھرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس طرح زمین پر پائوں مار کے نہ چلیں کہ زیورات کی جھنکار سنائی دے۔
مسلمانوں کو اجتماعی توبہ کی ہدایت
وتوبوا الی اللہ جمیعاً ایہ المومنون لعلکم تفلحون یہ ہدایات چونکہ پورے مسلم معاشرہ کی اصلاح و تطہیر کے لئے دی گئی ہیں اس وجہ سے سب کو خطاب کر کے رجوع الی اللہ کی دعوت دی گی کہ سب مل کر پنی اب تک کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اصلاح کرو اور زندگی کا وہ طریقہ اختار کرو جس کی طرف قرآن تمہاری راہنمائی کر رہا ہے یہی راستہ فوز و فلاح کا راستہ ہے۔ اس فوز و فلاح کے شرائط سورة حج آیت 76 اور مئومنوں آیت 1 کے تحت بیان ہوچکے ہیں۔ تفصیل کی ضرورت ہو تو ان پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
گھروں کے باہر کے پردہ کے احکام سورة احزاب میں بیان ہوئے ہیں
اوپر کی دونوں آیتوں میں مردوں اور عورتوں دونوں کو ہدایات دی گئی ہیں، سیاق وسباق درآیات کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ گھروں کے اندر کے پردہ سے متعلق ہیں۔ بایہ سوال کہ کسی عورت کو کسی ضرور سے گھر سے باہر قدم نکالنا پڑے تو اس صورت میں اس کو کیا کرنا چاہئے ؟ اس سوال کا جواب یہاں نہیں دیا گیا ہے۔ اس کا جواب سورة احزاب میں آئے گا۔ انشاء اللہ ہم وہاں اس پر تفصیل سے بحث کریں گے۔ ویسے ہم نے قرآن اور پردہ کے نوان سے ایک الگ رسالہ بھی لکھ دیا ہے جس میں قرآن کی روشنی میں یہ واضح کیا ہے کہ اندر اور باہر دونوں صورتوں کے لئے تو قرآن نے پردے کے نہایت قطعی احکام دیئے ہیں۔ تفصیل کے طالب اس رسالہ کو پڑھیں۔ ان روشن احکام کے بعد بھی جن لوگوں کو قرآن میں پردے کا حکم کہیں نظر نہیں آتا ان کے بارے میں اس کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے کہ قرآن نے ان کو غیر محرم عورتوں سے جس غض بصر کی ہدایت فرمائی تھی وہ غض بصران حضرات نے قرآن سے کرلیا ہے۔ یہ لوگ قرآن کو چومتے تو بڑی عقیدت سے ہیں لیکن آنکھیں بند کر کے اور پھر چومنے کے بعد اس کو شاید بھاری پتھر سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں !
Ayahs 24:32–3332۔ 33
ایامی، ایم کی جمع ہے۔ ایم اس مرد لو بھی کہتے ہیں جو بیوی سے محروم ہوا اور اس عورت کو بھی کہتے ہیں جو شہر سے محروم ہو۔ یعنی رانڈ اور رنڈوے دونوں کے لئے یہ لفظاستعمال ہوتا ہے بلکہ اپنے وسیع مفہوم میں یہ ان مردوں اور عورتوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جو بن بیا ہے رہ گئے ہوں۔
لفظ صلحین سے مراد
لفظ صلحین یہاں جسمانی اور اخلاقی دونوں قسم کی صلاحیتیں رکھنے والوں کے لئیاستعمال ہوا ہے۔ عربی میں یہ لفظ اس جامع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔
رانڈوں اور رنڈوئوں کے نکاح کی ہدایت
معاشرے کے اندر اخلاقی مفاسد اور شیطان کی دراندازیوں کے لئے ایک وسیع دروازہ یہ چیز بھی کھولتی ہے کہ اس میں بہت سے مرد بیویوں سے محروم اور بہت سی عورتیں شوہروں سے محروم ہوں۔ اس سے ناجائز تعلقات کے امکانات بھی بہت بڑھ جاتے ہیں اور تہمتوں کے پھیلانے کے لئے شریروں کو مواقع بھی ہاتھ آتے ہیں۔ اس برائی کے پیدا ہونے میں جس طرح بعض حالات میں غربت کو دخل ہے اسی طرح بعض حالات میں، بالخصوص عورتوں کے معاملہ میں، خاندانوں، برادریوں اور قبیلوں کے رسم و رواج کو بھی بڑا دخل ہے۔ بعض خاندانوں اور برادریوں میں عقد بیوگان کو معیوب تصور کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی خرابیوں کی اصلاح اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک معاشرے کے اندر ان کی اصلاح کا احساس نہ پیدا ہو۔ اس وجہ سے قرآن نے معاشرے کو ہدایت فرمائی کہ اپنے اندر کے رانڈوں اور رنڈوئوں اور بےنکاح مردوں اور عورتوں کے نکاح کرو۔ مطلب یہ ہے کہ اس چیز کے لئے لوگوں کے اندر احساس پیدا کر، اس کے مخالف رجحانات کی بیخ کنی کرو، جو لوگ غریب ہیں ان کی حوصلہ افزائی اور اعانت کرو تاکہ وہ بھی معاشرے کے اندر اپنا جائز مقام حاصل کریں اور ان کے مجرد رہنے کے سبب سے جو نقصانات ان کو اور معاشرہ کو پہنچ سکتے ہیں ان کا سدباب ہو۔
اسی طرح غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو اخلقای و جسمانی اعتبار سے ذی صلاحیت ہیں ان کے بھی نکاح کردو۔ ذی صلاحیت سے مراد وہ لونڈیاں اور غلام ہیں جو اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکتے اور اپنے حقوق و فرائض کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ ہدایت بھی اس وجہ سے فرمائی گئی کہ اس طرح غلاموں کا اخلاقی و معاشرتی معیار اونچا ہوگا اور وہ بالتدریج معاشرہ کے صالح اجزاء بن جائیں گے۔
ذی صلاحیت لونڈیوں اور غلاموں کے نکاح کی ہدایت نکاح رزق و فضل میں اضافہ کرتا ہے
ان یکونوا فقرآء یغنھم اللہ من فضلہ اوپر ہم نے اشارہ کیا ہے کہ مردوں کے لئے شادی سے محروم رہ جانے کی عام وجہ غربت ہوتی ہے۔ غریب آدمی اول تو کسی کنبہ کی ذمہ داری اٹھانے سے خود بھی گھبراتا ہے لیکن وہ نہ بھی گھبرائے تو کوئی عورت اپنے آپ کو اس کے حبالہ عقد میں دینے پر کب راضی ہوتی ہے اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ بشارت دی کہ جو لوگ غریب ہیں وہ بھی اطمینان رکھیں اور دوسرے بھی یہ اطمینان رکھیں کہ نکاح فقر میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ خدا کے رزق و فضل میں اضافہ کرتا ہے۔ جو آدمی اپنے ایمان و اخلاق کی حفاظت کے لئے نکاح کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی نظر کرم ہوتی ہے اور وہ اس کی دستگیری فرماتا ہے۔ آدمی جب تک بیوی سے محروم رہتا ہے وہ کچھ خانہ بندوش سا بنا رہتا ہے اور اس کی بہت سی صلاحیتیں سکڑی اور دبی ہوئی رہتی ہیں۔ اسی طرح عورت جب تک شوہر سے محروم رہتی ہے اس کی حیثیت بھی اس بیل کی ہوتی ہے جو سہارا نہ ملنے کے باعث پھیلنے اور پھولنے پھلنے سے محروم ہو۔ لیکن جب عورت کو شہر مل جاتا ہے اور مرد کو بیوی کی رفاقت حاصل ہوجاتی ہے تو دونوں کی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور زندگی کے میدان میں جب وہ دونوں مل کر جدوجہد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی جدوجہد میں برکت دیتا ہے اور ان کے حالات بالکل بدل جاتے ہیں۔
واللہ واسع علیم یہ اسی بشارت کو موکد کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات کا حوالہ دیا ہے کہ اللہ کے دامن کرم میں بڑی گنجائش ہے اور وہ سب کے حالات اور ضروریات سے اچھی طرح باخبر ہے۔
ویستعفف الذین لایجدون نکاحاً حتی یغنیھم اللہ من فضلہ والذین یبتغون الکتب مما ملکت ایمامنکم فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیراً والوھم من مال اللہ الذین اتیکم ط ولاتکرھوا افیتکم علی البغآء ان اردن تحصنا لبتغوا عرض الحیوہ الدنیا ط ولاتکرھو افتیتکم علی البغآء ان اردن تحصنا لتبتغوا عرض الحیوۃ الدین ط ومن یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن غفور رحیم ولیستعفف الذین لایحدون نکاحاً
نکاح کی عدم مقدرت بدکاری کے جواز کے لئے عذر نہیں ہے
اوپر والی ہدیات تو معاشرہ کے لئے تھی لیکن افراد کی اخلاقی ذمہ داری بہرحال بای رہے گی۔ اگر کوئی شخص نکاح کی مقدرت نہیں پا رہا ہے تو یہ چیز بدکاری کے جواز کے لئے کسی حال میں عذر نہیں بن سکتی۔ ایسے شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو ضبط میں رکھے اور خدا کے فضل و رحمت کا انتظار کرے۔ جو شخص اپنے ایمان و اخلاق کی حفاظت کے لئے یہ جہاد کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے راہ کھولے گا۔ آیت کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے۔
مکاتبت کا مفہوم اور اس کا حکم
والذین یبتغون الکتب مما مملکت ایمانکم الآیۃ کتاب اور مکاتبت ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی غلام اپنے آقا سے اس بات کا خواہاں ہو کہ وہ فلاں مدت کے اندر اس کو اتنی رقم یا اس کی کوئی معین خدمت انجام دے دے گا یا اس کے کسی کام کی تکمیل کر دے گا، جس کے بعد آقا اس کو آزاد کر دے۔ ایسی صورت میں حکم ہے کہ اس غلام کو مکاتب بنا دیا جائے۔ عام علماء تو اس حکم کو مندوب و مستحب کے مفہوم میں لیتے ہیں لیکن حضرت عمر ابن سیرین اور دائود نے اس کو جوب کے مفہوم میں لیا ہے۔ ان کے نزدیک ایسے غلام کو مکاتب بنا دنیا مالک پر واجب ہے میرے نزدیک یہی مذہب قوی ہے یہ احکام جیسا کہ اوپر اشارہ گزرا معاشرہ کو دیے جا رہے ہیں اس وجہ سے اس صورت میں مالک کی حیثیت ایک خود مختار آقا کی باقی نہیں رہ جاتی ہے بلکہ ایک فریق کی بن جاتی ہے۔ اگر غلام اور آقا دونوں باہم دگر بطور خود معاملہ کرلیں تو بہتر ہے اور اگر ان کے درمیان کوئی نزاع واقع ہو تو اس کا فصلہ معاشرے کے ذمہ دار لوگ کردیں گے اور بدرجہ آخر اگر ضرورت داعی ہو تو معاملہ عدالت میں بھی جاسکتا ہے۔
مکاتبت کے لئے صلاحیت
ان علمتم فیھم خیراً اس صورت میں صرف یہ چیز دیکھی جائے گی کہ مکاتبت کا مطالبہ کرنے والے غلام کے اندر کارکردگی کی ایسی صلاحیت اور ذمہ داری کا ایسا احساس ہے یا نہیں کہ وہ مالک کے ساتھ کئے ہوئے معاہدے کو پورا کرسکے اس شرط کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ امکان اس بات کا بیہ تھا کہ کوئی نکھٹو غلام مالک سے آزاد حاصل کرنے کے لئے مکاتبت کا مطالبہ تو کر بیٹھے لیکن اس میں کوئی صلاحیت کارکردگی نہ ہو اور وہ اس چیز کو محض پبلک سے اعانت مانگنے اور گداگری کا پیشہ اختیار کرلینے کا ایک بہانہ بنا لے اور معاشرے پر ایک باربن کے رہ جائے۔ اس اندیشہ کی وج ہیہ تھی کہ کسی غلام کے مکاتب ہوجانے کے بعد اس کے باب میں قرآن نے لوگوں کو یہ ہدایت بھی، جیسا کہ آگے آرہی ہے۔ فرمائی ہے کہ لوگ اس کی دل کھول کر مدد کریں اور بیت المال سے بھی اس کی اعانت کی جائے تاکہ وہ مکاتبت کی رقم ادا کرنے کے قابل ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ اس چیز کی طمع بہت سے ایسے غلاموں کے اندر بھی مکاتب بننے کا اران پیدا کرسکتی تھی جو خود تو ہاتھ پائوں مارنے کی صلاحیت رکھنے والے نہ ہوتے لیکن مالک کی خدمت سے آزاد ہو کر معاشرے پر ایک بار بن جاتے اور اگر معاہدے کی شرائط پوری نہ کر پاتے تو لازماً ایک نزاع و اختلاف کا ذریعہ بنتے۔
لیکن یہ امر محلوظ رہے کہ یہ شرط کسی ذی صلاحیت غلام کی آزادی میں مانع نہیں ہو سکتی تھی۔ اس لئے کہ اس بات میں بھی، بصورت نزاع، آخری فیصلہ معاشرے اور قاضی کے اختیار میں تھا۔ اگر کسی غلام کو یہ شکایت ہوتی کہ اس کا مالک اس شرط کو بہانہ بنا کر اس کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنا چاتہا ہے درآنحالیکہ وہ مکاتب بننے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے تو وہ اپنا معاملہ معاشرہ کے ذمہ داروں اور پنچوں کے سامنے بھی پیش کرسکتا تھا اور بدرجہ آخر عدالت میں بھی لے جاسکتا تھا۔
مکاتب کی مدد انفاق فی سبیل اللہ ہے
واتوھم من مال اللہ الذی اتکم یہ معاشرے کو ابھارا ہے کہ جو غلام اپنی آزادی کے لئے کمرہمت باندھیں تو اپنے اس مال میں سے جو خدا نے تمہیں دے رکھا ہے، پورے حوصلہ سے، ان کی مدد کرو۔ یہ ترغیب مال داروں کو دی ہے اور من مال اللہ الذی اتکم کے الفاظ ان کے اندر جذبہ شکر ابھارنے کے لئے ہیں کہ جو چیز خدا کی دی ہوئی ہے اس کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے دریغ نہ کرو۔ اس سے یہ بات بھی نکلی کہ جو لوگ اس مقصد کے لئے انفاق کریں گے ان کا یہ انفاق فی سبیل اللہ ہوگا۔
اموال زکوۃ سے مکاتب کی مدد مکاتبت کا حق
یہ امر محلوظ رہے کہ سلف اس بات پر متفق ہیں کہ ایسے غلاموں کی امداد زکوۃ اور بیت المال سے بھی کی جائے۔ بیت المال میں غلاموں کی آزادی کے لئے اسلام نے ایک مستقل مدد رکھی ہے جس کی وضاحت سورة توبہ میں ہوچکی ہے۔
مکاتبت کا یہ حق اسلام نے جس طرح غلاموں کو دیا اسی طرح لونڈیوں کو بھی دیا۔ مما ملکت ایمانکم کے الفاظ کی عمودیت بھی اس پر دلیل ہے اور نبی ﷺ اور صحابہ کا عمل بھی۔ روایات میں حضرت بریرہ اور حضرت جویریہ کے واقعات موجود ہیں۔
اس قانون کے نازل ہوجانے کے بعد تمام ذی صلاحیت غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کی نہایت وسیع راہ کھل گئی۔ اس کے بعد صرف وہی غلام بای رہے جو یا تو اپنی حالت پر قانع اور مطمئن تھے یا انکے اندر ہاتھ پائوں مارنے اور معاشرے کے اندر خود اپنی جگہ پیدا کرنے کی صلاحتل نہیں تھی۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسے غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کا اعلان عام کردیا جاتا تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ وہ اپنے مالکوں کی سرپرستی سے بھی محروم ہوجاتے اور خود بھی اپنی کفالت کا انتظام نہ کر پاتے جس کے سبب سے وہ معاشرے پر ایک بار بن کے رہ جاتے۔
ولاتکرھوا فتیتکم علی البغآء ان اردن تحصنا لتبتغوا عرض الحیوۃ الدنیا الآیۃ فتیات، یہاں لونڈیوں کے لئے استعمال کیا ہے اور مقصود اس لفظ کے استعمال سے معاشرے کے اندر ان کی عزت کو بڑھانا ہے۔ قتاۃ فتی کی مئونث ہے جس طرح فتی کے معنی جو ان اور لڑکے ہیں اسی طرح فتاۃ کے معنی لڑکی اور چھوکری کے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ کوئی اپنے غلام کو عبد اور اپنی لونڈی کو امۃ نہ کہے بلکہ فتی (جوان) اور فتاۃ (لڑکی) کہے۔ ظاہر ہے کہ لونڈیوں اور غلاموں کے لئے الفاظ کی یہ تبدیلی بھی انہی اصلاحات کا ایک جزو ہے جو ان کے معاشرتی درجے کو اونچا کرنے کے لئے ظہور میں آئیں اور اوپر مذکور ہوئیں۔ مقصود اس لفظ کی تبدیلی سے غلاموں اور لونڈیوں کے اندر احساس خود داری کو بیدار کرنا اور لوگوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا تھا کہ اب لوگ غلاموں اور لونڈیوں سے متعلق اپنے قدیم تصورات کو بدلیں اور ان کو اپنے معاشرے کے بھائی بہن کی نگاہ سے دیکھیں۔
ان ردن تحقناً کی قید یہاں بطور شرط کے نہیں بلکہ صورت واقعہ کی تعبیر کے لئے ہے۔ جب اسلام نے زنا پر حد جاری کرنے کا حکم دے دیا، غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کی ہدایت فرمائی اور مکاتبت کے ذریعہ سے لونڈیوں اور غلاموں کی آزادی کی ایک نہایت کشادہ راہ کھول دی تو قدرتی طور پر لونڈیوں کے اندر بھی ایک عام احساس بیذار ہوا کہ وہ اپنے اخلاقی معیاد کو اونچا کریں اور ان میں سے جو اپنے مالکوں کے دبائو کی وجہ سے پیشہ کراتی تھیں، وہ خواہشمند ہوئیں کہ یہ حرام پیشہ چھوڑ کر پاکدامنی کی زندگی بسر کریں اور اگر کوئی شکل پیدا ہو تو کسی کے قید نکاح میں ہو کر زندگی گزاریں۔ اصلاحات کے اس دور میں اس رجحان کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر تھا لیکن ان کی زد ان مالکوں کے مفاد پر پڑتی تھی جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں نکلے قائم کر رکھے تھے اور جو اپنی لونڈیوں سے پیشہ کراتے اور ان کی آمدنی سیفائدہ اٹھاتے تھے۔ ان میں سے بعض اسالم کے دور میں بھی، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں۔ خفیہ طور پر چکلے قائم کئے ہوئے تھے۔ مشہور افق عبداللہ بن ابی نے بھی جس نیفقہ افک برپا کیا، ایک چکلہ قائم کر رکھا تھا۔ تاریخوں میں اس کا موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے خبیث لوگ آسانی سے اس بات پر راضی نہیں ہو سکتے تھے کہ یہ لونڈیاں ان کے چنگل سے نکل جائیں۔ چناچہ وہ اپنے تمام ہتھکنڈے ان کو پداکدامنی کی زندگی بسر کرنے سے روکنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ انہی لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، بانداز تنبیہ، فرمایا کہ اب ان لڑکیوں کو جب کہ وہ پاک دامنی کی زندگی اختیار کرنا چاہتی ہیں۔ بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ ورنہ یاد رکھو کہ اکراہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ ان کو تو معاف کر دے گا البتہ وہ لوگ اپنا انجام سوچ لیں جو ان کی عفت کے ساتھ یہ گھنونا کھیل کھیل رہے ہیں ! یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی طرف ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ بعض چکلے والوں کو نبی ﷺ نے بعد کے مراحل میں رجم بھی کرا دیا۔