Ayah 25:1قرآن اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے
جس طرح تعاظم اور تعالیٰ اور اس باب کے دوسرے صیغوں کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے اسی طرح تبارک کے اندر بھی مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ یعنی بڑی ہی بابرکت اور بافیض ہستی ہے وہ جس نے لوگوں کے انذار کے لئے، اپنے بندے پر، ایک ایسی کتاب اتاری جو حق اور باطل کے درمیان امتیاز کے لئے ایک حجت قاطع کی حیثیت رکھتی ہے۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس نعمت کی قدر اور اس کتاب کی روشنی میں اپنی گمراہیوں کی اصلاح کریں، طرح طرح کے اعترضا ات اٹھا کر اس کی مخالفت اور اللہ کے رسول سے کسی معجزے یا کسی نشانی عذاب کا مطالبہ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو اس کتاب کے بجائے وہ اپنے رسول کو کسی تازیانہ عذاب سے مسلح کر کے بھی بھیج سکتا تھا۔ اس کے لئے یہ کام ذرا بھی مشکل نہیں تھا لیکن اس نے اپنی عظیم مہربانی کی وجہ سے یہ پسند فرمایا کہ وہ لوگوں کو ایک ایسی روشنی دکھائے جو لوگوں کو پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کر کے فوز و فلاح کی راہ سعادت کی طرف رہنمائی کیر۔ قرآن کو فرقان کے لفظ سے تعبیر کر کے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب اپنے دعا دی اور اپنے پیش کرنے والے کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے بجائے خود دلیل و حجت ہے، یہ کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو رسول کے ہاتھوں تقسیم ہونے والی اس نعمت عظمیٰ سے متمتع ہونے کے بجائے اس سے ایسی چیزوں کا مطالبہ کریں جو ان کے لئے خیر کے بجائے تباہی کا باعث ہوں۔
نبی ﷺ کے لئے ایک خاص برمحل تصفات
علی عبدہ میں نبی ﷺ کے لئے ایک خاص التفات پایا جاتا ہے۔ اس التفات کا یہاں ایک خاص محل ہے۔ آگے کفار کے وہ اعتراضات نقل ہوئے ہیں جو و ہنہایت تحقیر آمیز انداز میں نبی ﷺ پر کرتے تھے۔ یہ اعتراضات زیادہ تر مکہ اور طائف کے دولت مندوں کے اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ اپنی ملای برتری کے گھمنڈ میں نبی ﷺ کی دنیوی اسباب و وسائل سے بےتعلقی پر خاص طور پر چوٹیں کرتے اور اس چیز کو آپ ﷺ کی رسالت کی تردید کی ایک بہت بڑی دلیل کی حیثیت سے پیش کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں متکبرین کی اسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ خاص پر فرقان کی شکل میں جو نعمت عظمیٰ اتاری ہے اس کے بعد وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ خلق کے انذار کے وہ جس مشن پر مامور ہے اس کی تکمیل کے لئے وہ جس زاد و راحلہ کا محتاج ہے وہ سب بدرجہ کمال اس کے پاس موجود ہے۔
یہ آیت اس سورة کی تمہید ہے۔ اس کے یہ مضمرات جو ہم نے واضح کئے ہیں وہ آگے کے مباحث سے انشاء اللہ مزید واضح ہوجائیں گے۔
Ayah 25:2قرآن کسی سائل کی درخواست نہیں بلکہ خالق کائنات کا فرمان واجب اور دعان ہے۔
اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی فیض بخشی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اب یہ اپنی توحید اور کبریائی دیکتائی کا حوالہ دیا ہے جس سے مقصود اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جس نے خلق کے انذار و تذکیر کے لئے یہ کتاب اتاری ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے، اس وجہ سے کوئی اس کتاب کو کسی سائل کی درخواست نہ سمجھے بلکہ یہ اس کائنات کے بادشاہی حقیقی کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ اگر اس کی تکذیب کی گئی تو جس نے اس کو اتارا ہے وہ اس کی تکذیب کا اتنقام لنیے کے لئے کوئی کمزور ہستی نہیں ہے۔ وہ اس کا انتقام لے گا اور جب انتقام لے گا تو کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہ بن سکے گا۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
ولم یتخذ ولدولم یکن لہ شریک فی الملک یعنی اگر کسی نے اس کے بیٹے بیٹیاں فرض کر کے ان کی عبادت شروع کر رکھی ہے اور اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ اس کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے تو وہ اس خیال خام کو دل سے نکال دے۔ نہ خدا کے کوئی بیٹی ہے نہ بیٹا، نہ اس کی بادشاہی میں کوئی اور ساجھی ہے۔ وہ اپنی بادشاہی کا یک و تنہا مالک ہے، وہ کسی مددگار و شریک کا محتاج نہیں ہے۔
خدا کی یکتائی کی دلیل
وختن کل شیء فقدرہ تقدیراً یہ اس کی توحید ویکتائی کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور ہر چیز کے لئے ایک اندازہ ٹھہرا دیا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کے ٹھہرائے ہوئے اندازہ سے سر موکم و بیش یا آگے یچھے ہو سکے۔ انسان کو پیدا کیا تو اس کے لئے زندگی اور موت کی ایک حد معین کردی کوئی اس حد سے باہر نہیں نکل سکتا۔ ابرو ہوا سب اس کے مقرر کئے ہوئے حدود کے پابند ہیں۔ سورج اور چاند، جن کو نادانوں نے معبود بنا کر پوجا۔ ایک مخصوص محور و مدار کے ساتھ لگے بندھے ہوئے ہیں اور اپنے وجود سے شہادت دے رہے ہیں کہ وہ ایک خدائے عزیز و حکیم کے پیدا کئے ہوئے اور اسی کے مقرر کئے ہوئے حدود وقیوم کیپابند ہیں۔ اسی حقیقت کی طرف دوسرے مقام پر میں یوں توجہ دلائی ہے۔
والشمستجری لمستق تھا ط ذلک تقدیر العزیز العلیم (یٰسین :38)
اور سورج اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے۔ یہ خدائے عزیز وعلیم کی منصوبہ بندی ہے !
اس سے زیادہ وسیع الفاظ میں یہی بات یوں فرمائی گئی ہے۔
وان من شیء الاعندنا خزآئنہ ومانزلہ الا بقدر معلوم (الحجر :21)
اور ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے موجود ہیں لیکن ہم ان کو ایک خاص اندازے ہی کے ساتھ اتارتے ہیں۔
Ayah 25:3یہ اسی مضمون کی توضیح مزید ہے اور اس میں اظہار تعجب کا مضمون بھی مضمر ہے کہ اصل حقیقت تو یہ ہے جو بیان ہوئی لیکن قرآن اور رسول کے ان مخالفین کا حال یہ ہے کہ انہوں نے خدا کے سوا ایسی چیزوں کو اپنا مبعود بنا رکھا ہے جو نہ صرف یہ کہ کسی چیز کو پیدا کرسکنے پر قادر نہیں بلکہ وہ خود خدا کی پیدا کی ہوئی ہیں اور جو دوسروں کوئی نقصان یا نفع پہنچانا تو درکنار خود اپنے کو بھی کسی نقصان سے بچانے یا کوئی نفع پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتی ہیں اور جن کو نہ موت پر کوئی اختیار نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر ! …مطلب یہ ہے کہ ایسے بےبس فرض معبودوں کے بل پر قرآن کے پیش کردہ حقائق کو جھٹلانا محض ان کی خرد باختگی ہے۔
Ayah 25:4قرآن سے عوام کو بدگمان کرنے کے لئے قریش کے لیڈروں کا پروپیگنڈا
یہ مخالفین کے وہ اقوال نقل ہو رہے ہیں جو قرآن اور پیغمبر ﷺ سے لوگوں کو بدگمان کرنے کے لئے وہ پھیلاتے تھے ہم دوسرے مقام میں یہ ذکر کرچکے ہیں کہ جہاں تک قرآن کے زور بیان اور اس کی تاثیر و تسخیر کا تعلق ہے اس کے انکار کی تو قریش کے لیڈروں کے اندر ہمت نہیں تھی۔ اس کے اعتراف پر تو وہ مجبور تھے۔ البتہ یہ کوشش ان کی تھی کہ ان کے عوام پر قرآن کے کتاب آسمانی ہونے کا تصور جو بیٹھتا جا رہا ہے وہ بیٹھے نہ پائے بلکہ وہ اس کو اسی درجہ میں رکھیں جس درجہ میں اعلیٰ شاعروں یا زور دار خطیبوں کا کلام رکھا جاتا ہے۔ ان کو اصلی کہ آنحضرت ﷺ کے دعوائیرسالت قرآن کے وحی الٰہی ہونے سے تھی۔ اس کی تردید میں یہ کہتے تھے کہ قرآن کے وحی الٰہی ہونے کا دعویٰ کیا جو کیا جاتا ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔ یہ وحی الٰہی نہیں بلکہ (نعوذ باللہ) یہ محمد ﷺ کے اپنے ذہن کا گھڑا ہوا کلام ہے جس کو وہ جھوٹ موٹ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں تاکہ اس طرح ہم پر اپنی برتری کی دھونس جمائیں۔
واعانہ علیہ قوم اخرون اپنی بات کو مدلل کرنے کے لئے ایک اور جھوٹ اس کے ساتھ وہ یہ لگا دیتے کہ اس کتاب کی تصنیف میں کچھ دوسرے لوگوں کے ذہن بھی محمد ﷺ کیساتھ شریک ہیں۔ اس اضافے کی ضرورت اس وجہ سے انہوں نے محسوس کی ہوگی کہ قرآن میں پچھلے انبیاء کی سرگزشتوں اور ان کی تعلیمات کے حوالے بھی تھے جن کے جاننے کا آنحضرت ﷺ کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔ ان کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ اگر یہ وحی الٰہی نہیں ہے تو آخر یہ باتیں آنحضرت ﷺ کو کس طرح معلوم ہوگئیں اور وہ بھی ایسی تفصیل اور صحت کے ساتھ کہ پچھلے صحیفوں پر ایمان کے مدعیوں کو بھی اس تفصیل و صحت کے ساتھ معلوم نہیں تھیں اس سوال کے جواب میں انہوں نے اس کے ساتھ اس جھوٹ کا بھی اضافہ کردیا کہ کچھ دوسرے ہاتھ بھی اس سازش میں شریک ہیں۔ مخالفین کے اس قول میں جو ابہام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب الزام جھوٹ اہو تو اس کے لئے ابہام ہی کا اسلوب موزوں ہوتا ہے۔ اگر اس کے لئے تصریح کا اسلوب اختیار کیا جائے تو اس کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔ مخالفین کا یہ اشارہ کن لوگوں کی طرف تھا ؟ اس سوال کے جواب میں ہمارے مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس ابہام کا مبہم رہنا ہی ٹھیک ہے اس لئے کہ الزام لگانے والوں کا مقصد محض ایک الزام لگانا تھا نہ کہ فی الواقع کسی شخص یا اشخاص کا سراغ دینا۔ قریش نے اس مبہم الزام سے اپنے عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہوگی کہ قرآن میں آسمانی کتابوں کے انداز کی جو باتیں اور حکمتیں ہیں ان کو وحی کا نتہجف نہ سمجھو بلکہ بعض اہل کتاب یا دوسری قوموں کے تعلیم یافتہ اشخاص جو محمد ﷺ کے ساتھی بنگئے ہیں وہ ان کو اس طرح کی باتیں بناتے ہیں اور وہ ان کو اپنے فصیح وبلیغ الفاظ میں ہمارے سامنے پیش کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ان کے اوپر فرشتہ وحی لایا ہے۔ اس مسئلہ پر سورة نحل کی آیت 103 کیتحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔
ظلم اور زود کا مفہوم
فقد جآء و ظلماً وزوراً جآء و یہاں مرتکب ہونے کا مفہوم میں ہے اور اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ ظلم سے مراد ان کا وہ شرک ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے اور زور سے اشارہ ان کے قول کی طرف ہے جو قرآن کے اب میں نقل ہوا ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ شرک کے ظلم عظیم کے بھی مرتکب ہوئے اور ساتھ ہی قرآن کی مخالفت میں ایک بہت بڑے جھوٹ کے بھی … یہ کہہ کر بات ختم کردی ہے۔ اس کے نتیجے کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ اس ڈھٹائی کے ساتھ اتنے بڑے بڑے جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں، اندازہ کرلو کہ وہ کس انجام کے مستحق ہیں !
Ayah 25:5اکتتب فلان کا صحیح مفہوم لعنت میں یہ ہے کہ سال ان یکتب لہ اس نے درخواست کی کہ اس کے لئے لکھ دیا جائے۔
تملی کے بعد علی کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ تلفی علیہ یا تقرر علیہ کے مضمون پر متضمن ہے۔ اس وجہ سے اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ اس کو لکھوائے جاتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ یہ اس کو لکھ کر تعلیم کئے جاتے ہیں۔ یہاں یہ دوسرے معنی میں ہے، اس لئے کہ قریش جانتے تھے کہ آنحضرت ﷺ امی ہیں۔ آپ لکھنا نہیں جانتے۔
قریش کی طرف سے آفتاب پر خاک ڈالنے کی کوشش
یہ اوپر والے الزام ہی کی مزید وضاحت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن میں کیا ؟ محض اگلوں کے فسانے ہیں جو اس میں دہرائے گئے ہیں ! اس شخص نے کچھ لوگوں سے یہ فرمائش کی کہ اس کے لئے یہ لکھ دیئے جائیں چناچہ وہ صبح و شام اس کے لئے لکھتے ہیں اور یہ شخص انہی کی لکھی ہوئی چیزوں کو ہمارے سامنے وحی الٰہی کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تو اس کتاب میں کوئی ایسی حکمت ہے جس سے مرعوب ہوا جائے اور نہ اس کے پیش کرنے والے کا یہ دعویٰ ہی صحیح ہے کہ یہ وحی آسمانی ہے جو اضطراراً اس کے اوپر نازل ہوتی ہے بلکہ پچھلی قوموں اور پچھلے نبیوں کے کچھ جھوٹے سچے قصے ہیں جو اس شخص نے فرمائش کر کے دوسرے لوگوں سے لکھوائے ہیں۔ اس طرح انہوں نے قرآن کی حکمت کے اثر کو بھی مٹانے کی کوشش کی اور اس کے وحی آسمانی ہونے کے دعوے کو بھی مشتبہ کرنا چاہا لیکن ظاہر ہے کہ ان کی یہ یہ کوشش آفتاب پر خاک ڈالنے کے ہم معنی تھی۔ قرآن نے تاریخ جس حکمت کے ساتھ پیش کی تھی اس کی زد براہ راست متمبردین قریش کے غرور پر پڑتی تھی اور اس کے آئینہ میں ان کو اپنا مستقبل نہایت بھیانک نظر آتا تھا اس وجہ سے وہ جھلا کر اس کو مضای کا افاسنہ کہتے تھے لیکن حقیقت کو افاسنہ کہہ کر نہ اپنے ہی دل کو تسلی دی جاسکتی ہے نہ دوسروں کو دھوکا دیا جاسکتا ہے اگر ایک سلمان فارسی اور ایک ابوفکیہہ رومی یاد وچار اہل کتاب مل کر قریش کے زعم کے مطابق آنحضرت ﷺ کے لئے قرآن جیسی معجزہ کتاب تصنیف کرسکتے تھے تو قریش کے پاس تو ہزاروں عربی و عجمی اور لاکھوں اہل کتاب تھے، آخر نے ان کی مدد سے ایک قرآن تیار کر کے کیوں نہپیش کردیا کہ اس کے معجزہ ہونے کا دعویٰ باطل ہوجاتا ! لیکن جب وہ قرآن کی مسلسل تحدی کے باوجد اس کی کوئی نظریہ نہ پیش کرسکے تو ان کی اس مہمل بات کو کون باور کرسکتا تھا کہ یہ عظیم کتاب بعض عجمیوں یا بعض اہل کتاب کی ایجاد ہے چونکہ یہ بات بالدبااہت مہمل تھیی اس وجہ سے قرآن نے اس کی تردید کی ضرورت نہیں سمجھی۔ آگے والی آیت میں صرف اصل حقیقت کا اظہار فرما دیا جس میں ان بوالفضولوں کی اس بو الفضولی پر ایک لطیف طنز بھی ہے۔
Ayah 25:6معترضین پر ایک لطیف طنز اور ان کو تنبیہ فرمایا کہ ان لوگوں کو بتا دو کہ اس کتاب کو اتارنے والا وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کے سارے بھیدوں اور تمام اسراروموز سے خود اچھی طرح باخبر ہے۔ وہ اس کی تصنیف ہیں کسی عربی و عجمی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ کوئی کتنا ہی بڑا عالم و حکیم ہو وہ اس کتاب سے بصیرت و رہنمائی تو حاصل کرسکتا ہے لیکن اس طرح کی کتاب تصنیف کرنا تو درکنار وہ اس کے علم و حکمت میں کوئی اضافہ بھی نہیں کرسکتا۔ یہ حقیقت اس کتاب کی سطر سطر سے واضح ہے کہ اس کا اتارنے والا وہی ہے جو اس کائنات کے تمام بھیدوں سے واقف اور اس کے ظاہر و باطن اور آغاز و انجام ہر چیز سے باخبر ہے چناچہ اس نے ماضی کی عبرتیں بھی سامنے رکھ دی ہیں، حاضر کی ذمہ داریاں بھی واضح کردی ہیں اور مستقبل کے نتائج سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔
انہ کان غفور رحیماً یعنی وہ چونکہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے اس وجہ سے اس نے یہ کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ جو لوگ توبہ و اصلاح کرنا چاہیں وہ توبہ و اصلاح کر کے اس کی رحمت کے مستحق بن جائیں مطلب یہ ہے کہ وہ اتارنے کو تو عذاب بھی اتار سکتا ہے۔ وہ حق کے دشمنوں کے رویہ سے اچھی طرح باخبر ہے لیکن وہ اپنی رحمت کے سبب سے عذاب میں جلدی نہیں کرتا بلکہ چاہتا ہے کہ لوگ ہدایت کی راہ اختیار کریں تاکہ اس کی مغفرت کے سزا وار ہوں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف بھی ہے کہ بہرحال وہ سارے حالات و معاملات سے اچھی طرح واقف ہے۔ اگر لوگوں نے صحی روش نہ اختیار کی تو اس کا جو انجام ہونا ہے وہ بھی سامنے آ کے رہے گا۔
Ayahs 25:7–8آیت 8-7
یہ مخالینر کے بعض اور اعترضا ات کا حوالہ دیا ہے۔
معترضین کے بعض اور اعتراضات رسول پر
مال ھذا الرسول کے اسلوب میں استعجاب اور طنز و استہزا دونوں ہے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ یہ خوب رسول ہیں کہ اللہ کے رسول ہونے کے مدعی ہیں اور حال یہ ہے کہ ہمارے ہی طرح یہ بھی کھانے پینے کے محتاج ہیں اور اپنی ضروریات و مایحتاج کی فراہمی کے لئے ہما شما کی طرح یہ بھی بازاروں میں پھرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر خدا کو کوئی رسول ہی بھیجنا ہوتا تو کیا ہمارے ہی جیسے ایک بشر کو رسول بناتا، آخر اس کے پاس فرشتوں کی ایک فوج ہے ان میں سے کسی کو اس نے رسول بنا کر کیوں نہ بھیجا۔
لولا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیراً یعنی اگر کسی بشر ہی کو رسول بنایات ھا تو کم از کم یہ تو ہونا تھا کہ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو ساتھ ساتھ منا دی کرتا پھرتا کہ لوگو، یہ اللہ کے رسول ہیں، یہ جس چیز سے ڈرا ہے ہیں اس سے ڈرو یا آسمان سے ان کے لئے کوئی خزانہ اتار دیا جاتا یا ان کے پاس کوئی شاندار باغ ہوتا جس سے یہ اپنی معاش حاصل کرتے اور عام آدمیوں کی طرح ان کو بازاروں میں جو تیاں چٹخاتے نہ پھرنا پڑتا ! مطلب یہ ہے کہ جب ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے تو آخر ہم ان کو اللہ کا رسول کس طرح مان لیں !
وقال الظلمون ان تتبعون الا رجلاً مسحوراً یعنی مذکورہ بالا اعتراضات کے بعد یہ ظالم لوگ مسلمانوں کو خطاب کر کے یہ کہتے ہیں کہ اگر تم لوگوں نے ایک شخص کو رسول مان لیا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تم لوگ ایک ایسے شخص کے پیرو بن گئے ہو جس پر کسی نے جادو کر کے اس کی عل کو مختل کردیا ہے جس کے سبب سے وہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے۔
Ayah 25:9معترضین کی حواس باختگی
یہ آیت بعنیہ سورة بنی اسرائیل میں بھی گزر چکی ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 48 وہاں ہم واضح کرچکے ہیں کہ ضرب مثل کا محاورہ جس طرح کوئی تمثیل بیان کرنے یا کوئی حکمت کی بات کہنے کے لئے آتا ہے اسیط رح کسی پر اعتراض کرنے یا اس پر پھیلتی چست کرنے کے لئے بھی آتا ہے۔ اعتراض باطل کے مفہوم میں یہ لفظ آگے اسی سورة کی آیت 32 میں بھی استعمال ہوا ہے۔ یہاں یہ پھبتی یا اعتراض ہی کے مفہوم میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخالفین کی مذکورہ بالاخرافات نقل کرنے کے بعد پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ دیکھو، یہ تمہارے اوپر کیسی کیسی پھبتیاں چست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن کوئی بات بنتی نظر نہیں آتی ہے تو جس کے منہ میں جو آتا ہے وہی بک دیتا ہے۔
فضلوا افلایسطیعون سبیلاً یعنی مخلافت کے جنون میں بالکل کھوئے گئے ہیں۔ اعتراض کی کوئی راہ نہ پا رہے ہیں، نہ پا سکیں گے۔ محض اپنے دل کا بخار نکالنے کی کوشش کر ہے ہیں لیکن اس طرح یہ حقیقت کو کب تک جھٹلا سکیں گے ! یہ امر محلوظ رہے کہ جب کوئی شخص کسی سچی بات کی دیدہ دانستہ مخالفت کرتا ہے تو وہ اسی طرح کی حواس باختگی کا مظاہرہ کرتا ہے جس طرح کی حواس باختگی ان اعتراضات کے اندر پائی جاتی ہے۔
Ayah 25:10آگے کا مضمون ……آیات 34-10
آگے مذکورہ بالا اعتراضات کے جواب بھی دیئے، ان کے ال محرکات پر بھی روشنی ڈالی اور اس اندھی بہری مخالفت کا جو انجام ان لوگوں کے سامنے آنے والا ہے اس کی طرف بھی اشارہ فرمایا۔ اسی ضمن میں بعض نئے اعتراضات بھی زیر بحث آگئے ہیں اور پیغمبر ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو صبر و استقامت کے ساتھ ان تمام خرافات کو نظر انداز کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات تلاوت فرمایئے۔
اعتراضات کا جواب
جس طرح نقل اعتراضات کی تمہید لفظ تبارک سے اٹھائی ہے اسی طرح جواب کی تمہید بھی اسی لفظ سے اٹھائی ہے اور سب سے پہلے معترضین کے اس اعتراض کو لیا ہے جو سب سے آخر میں آیت 8 میں نقل ہوا ہے۔ فرمایا کہ خدا کی ذات بڑی ہی بافیض اور بڑی ہی صاحب جو دو کرم ہے۔ اس کے پاس نہ باغوں کی کمی ہے اور نہ خزانوں کی یہ ایک باغ کو کہتے ہیں خدا اگر چاہے تو تمہارے لئے بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں اور بہت سے ایوان و محل تیار کرا دے اور یہ سب کچھ تمہیں ایک دن ملنے والا ہے۔ لیکن ان لوگوں کی نگاہیں چونکہ اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہیں، آخرت کی زندگی کا جو اصل زندگی ہے یہ کوئی تصور نہیں رکھتے اس وجہ سے یہ اپنے دنیوی اسباب و وسائل پر نازاں اور تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں حالانکہ بہ دنیا دار الامتحان ہے۔ دارالانعام نہیں ہے۔ یہاں کی غربت و امارت دونوں امتحان کے لئے ہے۔ انعام کا گھر آخرت ہے جو واں کا میاب ہوا وہ ہمیشہ کے لئے کا ما ب ہے اور جو وہاں نامراد ہوا وہ ہمیشہ کے لئے نامراد ہے اور وہاں کی کامیابی ان لوگوں کے لئے ہے جو اس دنیا میں خدا سے ڈرنے والے نہیں۔
Ayah 25:11یہ ان کے اصل مغالطہ کی طرف اشارہ ہے کہ یہ اپنی دنیوی کامرانیوں کو جو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھے ہوئے ہیں اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ آخرت کے منکر ہیں حالانکہ انہیں نہیں معلوم کہ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں ہم نے ان کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے اگرچہ اس دنیا میں ان کے پاس کتنے ہی مربعے کتنے ہی باغ اور کتنی ہی کوٹھیاں ہوں !
Ayah 25:12دوزخ اور اہل دوزخ کی تصویر
تغیظ کے معنی غصہ سے بپھرنے اور زفیر کے معنی چیخنے اور دھاڑنے کے ہیں۔ یہ اس دوزخ کی صفت بیان ہوئی ہے جو ان ظالموں کے لئے اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھی ہے۔ فرمایا کہ وہ ان سے انتقام کے جوش میں پہلے سے بپھری ہوئی ہے اور ان کو دور ہی سے دیکھ کر اس طرح دھاڑے گی جس طرح بھوکا شیر دھاڑتا ہے۔
Ayah 25:13یہ تصویر ہے ان ظالموں کے عذاب دوزخ کی فرمایا کہ جب یہ اس کی کسی نہایت تنگ جگہ میں باندھ کر ڈال دیئے جائیں گے تو وہاں وہ اپنی موت کو پکاریں گے۔ یعنی اول تو جگہ تنگ اور پھر اس میں بھی وہ باندھ کر اور زنجیروں میں جکڑ کر ڈالے جائیں گے۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے انھا علیھم مرصدۃ فی عمد ممددۃ (الھمزۃ 9-8) یعنی وہ ان کے اوپر سے بند ہوگی اور وہ اس کے اندر لمبے لمبے ستونوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے۔۔ ایک اور مقام میں ان کے لئے سلاسل اور اغلال کا ذکر بھی آیا ہے۔
دعواء منالک ثبورًا ثبور کے معنی موت اور ہلاکت کے ہیں یعنی اس وقت وہ موت کی دہائی دیں گے اس لئے کہ اس عذاب سے رہائی کی واحد شکل جو ان کو نظر آئے گی وہ یہی ہوگی کہ کس طرح موت آئے۔ وہ ان کی زندگی کا خاتمہ کرے لیکن وہاں موت بھی نہیں آئے گی۔ دوسرے مقام میں تصریح ہے کہ وہاں موت ان پر ہر طرف سے پلی پڑ رہی ہوگی لیکن وہ مریں گے نہیں بلکہ برابر لایموت ولا یحییٰ کے غیق میں مبتلا رہیں گے۔
Ayah 25:14اس دن ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک ہی موت کے دہائی نہ دو بلکہ بہت سی موتوں کی دہائی دو۔ یعنی آج تم پر نئی نئی بیشمار مصیبتیں ٹوٹیں گی اور تم کو ہر مصیبت پر اسی طرح واویلا کرنا ہے لیکن تمہارا یہ سارا واویلا بالکل بےسود ہوگا۔ یہ بات قولاً بھی ہو سکتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہنم کے داروغوں کے ذریعہ سے ان کو کہلائے جائے گی اور صورت حال کی تعبیر بھی ہو سکتی ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت دوسرے مقامات میں ہم کرچکے ہیں۔
Ayahs 25:15–16آیت 16-15
جنت اور اہل جنت کی تصویر
اب یہ اس اصل مدعا کا ذکر ہے جس کے لئے دوزخ کی یہ ساری تفصیل سنائی گی ہے۔ پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ جو لوگ تمہیں طعنہ دیتے ہیں کہ تمہارے پاس کوئی باغ کیوں نہ ہو ان سے پوچھو کہ یہ دوزخ بہتر ہے جو ان کے لئے تیار ہے یا وہ جنت خلد جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں سے وعد فرما رکھا ہیچ یعنی تمہاری نگاہیں چونکہ اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہیں اس وجہ سے تم اپنے باغوں اور محلوں پر نازاں اور مومنین کی بےمائیگی پر طعنہ زن ہو۔ اگر تمہیں آخرت کا علم ہوتا اور تم یہ جان سکتے کہ وہ وہاں تمہایر لئے کیا عذاب تیار ہے اور اہل ایمان کے لئے کس ابدی بادشاہی کا اہتمام ہے تو تم ان غریب اہل ایمان پر و شک کرتے اور اپنی شامت اعمال پر اپنے سرپیٹتے لیکن تمہیں تو اس دنیا کے غرور نے اس طرح اندھا کردیا ہے کہ اپنی ناک سے آگے تمہیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ اس جنت سے متعلق یہاں چار باتیں فرمائی گئی ہیں۔
ایک یہ کہ یہ اہل ایمان کو ان کے اعمال کے صلے اور بدلے کے طور پر ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کو یہ اطمینان دلا دے گا کہ یہ تم نے اپنی سعی و عمل سے حاصل کی ہے اور تم اس کے پوری طرح حقدار رہو۔ دوسری یہ کہ یہ ان کی ابدی قیام گاہ ہوگی۔ اس سے محروم ہونے کا ان کو کبھی کوئی اندیشہ نہ ہوگا۔
تیسری یہ کہ اس میں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمیشہ کے لئے ملے گا۔
چوتھی یہ کہ اس جنت کا اہل ایمان سے اللہ تعالیٰ نے حتمی وعدہ فرمایا ہے اور از خود اپنے اوپر اس کا ایفاء واجب اور اپنے بندوں کے آگے اس کے لئے اپنے کو ذمہ دار و مسئول ٹھہرایا ہے۔
Ayahs 25:17–18آیت 18-17
اوپر آیات 3-2 میں ان شرکاء کا ذکر گزر چکا ہے جن کے اعتماد پر یہ مشرکین آخرت سے بےپروا ہو کر قرآن اور رسول کا مذاق اڑا رہے تھے۔ یہاں انہی کو پیش نظر رکھ کر فرمایا کہ حشر کے دن اللہ ان کے ساتھ ان کے ان معبودوں کو بھی جمع کرے گا جن کو یہ اللہ کے سو ! پوجتے ہیں اور ان سے سوال کرے گا کہ کیا تم لوگوں نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا یا انہوں نے اپنی راہ خود گم کی ؟ وہ جواب دیں گے کہ معاذ اللہ ہمارے لئے یہ کس طرح روا تھا کہ ہم تیرے سوا کسی اور کو اپنا دل و کار ساز بناتے یا دوسروں کو اس کا حکم دیتے ! اصل بات یہ ہے کہ تو نے معیشت دنیا کی جو فراوانی ان کو اور ان کے آبائو اجداد کو بخشی اسی میں ان کی کئیپشتیں گزر گئیں جس کے سبب سے وہ سمجھ بیٹھے کہ وہ عیش کے لئے پیدا ہوئے ہیں، اسی میں جئیں گے اور اسی میں مریں گے، وہ اس کے پیدائشی حق دار ہیں۔ انہوں نے خیال کیا کہ آخرت اول تو کوئی شے ہے نہیں اور گر بالفرض ہے تو جس طرح اس دنیا میں ہم سب پر بالا ہیں اسی طرح آخرت میں بھی سب پر بالا رہیں گے۔ ان کے اس مغالطہ نے ان کو راہ حق سے برگشتہ رکھا اور جن لوگوں نے ان کو اصل حقیقت کی یاد دہانی کی اپنی اس دنیوی برتری کو اپنے برحق ہونے کو دلیل قرار دے کر انہوں نے ان کو جھٹلا دیا اور ہلاک ہونے والے بنے۔
اس جواب سے صاف واضح ہے کہ یہ ان انبیاء و صلحاء و ملائکہ کا جواب ہوگا جن کی پرستش کی گئی ہے۔ رہے مشرکین کے وہ خیالی اصنام و اوثان جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو اگرچہ جمع تو جیسا کہ وما یعبدون کے عموم سے ظاہر ہوتا ہے، ان کی مورتیں بھی کی جائیں گی لیکن ان سے کسی سوال و جواب کا کیا سوال ! البتہ قرآن میں دوسرے مقامات میں یہ تصریح موجود ہے کہ یہ بھی اپنے پوجنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونک دی جائیں گی تاکہ جن بدقسمت لوگوں نے ان کی پرستش کی ان پر واضح ہوجائے کہ جن کے آگے انہوں نے زندگی بھر ڈنڈوت کی ان کا کیا حشر ہوا !
جہاں انبیاء و صلحاء کا جو جواب نقل ہوا ہے بعینیہ وہی جواب حضرت مسیح کی زبان سے سورة مائدہ کی آیات 118-115 میں نقل ہوا ہے، اس پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
اصل سبب انکار
ولکن متعتھم وباء ھم حتی نسوالذکر میں وہی بات فرمائی گی ہے جو سورة حدید کی آیت 16 میں یوں فرمائی گئی ہے کہ فطال علیھم الامدفقست قلوبھم (ان لوگوں کو عیش و رفاہیت کا طویل زمانہ ملا اس وجہ سے ان کے دل سخت ہوگئے) آیت میں ذکر سے مراد وہ یاد دہانی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سیان کو برابر آخرت کو یاد رکھنے کی کی گئی۔ یہ مضمون انبیاء آیت 44 اور قصص آیت 45 میں بھی بیان ہوا ہے۔ مزید وضاحت مطلوب ہو تو ان پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔
قوماً بوراً بود واحد، جمع اور مذکر و مئونث سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی شور زمین کے بھی ہیں اور فاسد و ناکارہ آدمی کے بھی۔ یہاں یہ قوم کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ہلاک ہونے والی قوم کے ہیں۔
Ayah 25:19ایک بلیغ اسلوب
یہاں مستقبل کی بات کو بتقاضائے بلاعت ماضی کی شکل میں کردیا ہے۔ فرمایا کہ یہ لو، انہوں نے تو تمہاری اس بات کو جھٹلا دیا جو تم کہتے تھے ! تمہارا دعویٰ تو یہ تھا کہ انہوں نے تمہیں اپنی عبادت کا حکم دیا ہے اور تم جن باتوں کو اختیار کئے ہو انہی کی ہدایت کے مطابق اختیار کئے ہوئے ہو لیکن ان کا کہنا تو یہ ہے کہ اپنی عبادت کا کسی کو حکم دینا تو درکنار، وہ اس بات کے بھی ایک لمحہ کے لئے روادار نہیں کہ کسی کو اپنا ولی و کار ساز بنائیں۔
ظلم غصیم کی سزا عذاب کبیر
فما تستطیعون سرق ولا نصراً الآیۃ یعنی اس آخری تمام حجت اور قطع عذر کے بعد تمہارے لئے کوئی راہ فرار باقی نہ رہ جائے گی۔ نہ تم خود اپنے سے عذاب کو ہٹا سکو گے اور نہ اپنی یا کسی دوسرے کی کوئی مدد ہی کرسکو گے اور تم میں سے بھی شرک کے مرتکب ہوں گے ہم ان کو ایک عذاب عظمی چکھائیں گے۔ یہ امر واضح رہے کہ شرک کی سزا عذاب کبیر اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک کی حیثیت ظلبہ عظیم کی ہے۔
Ayah 25:20تمام رسول بشر تھے
اس آیت میں اگرچہ خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے لیکن آیت کے الفاظ خود شاید ہیں کہ کلام رخ عام لوگوں کی طرف ہے چناچہ اس میں ضمیریں اور فعل واحد بھی استعمال ہوئے ہیں اور جمع بھی۔ یہ معترضین کے اس اعتراض کا جواب ہے جو اوپر آیت 7 میں نقل ہوا ہے فرمایا کہ اگر تم بشر ہو، کھانا بھی کھاتے اور بازاروں میں لین دین کے لئے بھی تمہیں جانا پڑتا ہے تو ان میں سے کوئی بات بھی منصب رسالت کے منافی نہیں ہے۔ تم سے پہلے جتنے رسول بھی ہم نے بھیجے وہ سب بلا استثناء کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں عام آدمیوں کی طرح چلتے پھرتے بھی تھے۔ قرآن کا یہ جواب بالکل واضح ہے اس لئے کہ یہ معترضین حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل (علیہما السلام) کو نہ صرف نبی و رسول مانتے تھے بلکہ ان کی ذریت اور ان کے دین کے وارث ہونے پر ان کو بڑا فخر و ناز تھا لیکن ان میں سے کسی کے متعلق بھی ان کا یہ دعویٰ نہیں تھا کہ وہ مافوق بشر تھے بلکہ ان کو وہ بشر ہی تسلیم کرتے تھے۔ اسی طرح نبی اسرائیل بھی اپنے انبیاء میں سے کسی کے مافوق بشر ہوکنے کے قائل نہیں تھے۔ چناچہ قرآن نے دوسرے مقام میں قریش کے ان معتضرین سے کہا بھی ہے کہ اگر تم نبوت و رسالت کی تاریخ سے بیخبر ہو تو ان اہل کتاب سے پوچھ لو جو انبیاء و رسل کی تاریخ سے واقف ہیں کہ ان کے انبیاء کھانا کھاتے تھے یا نہیں اور انہیں بازاروں میں چلنے پھرنے کی ضرورت پیش آتی تھی یا نہیں ؟ عیسائیوں نے اگرچہ پال کے زمانہ سے حضرت عیسیٰ کو مافوق بشر بنانے کی بڑی کوشش کی لیکن ان کے اور ان کی والدہ ماجدہ کے کھانا کھانے سے وہ بھی انکار نہیں کرسکتے اس لئے کہ انجیلوں میں یہ چیز نہایت تصریح کے ساتھ موجود ہے۔ چناچہ قرآن نے اس کو بھی ان کے متعلق دعوائے الوہیت کے خلاف دلل کے طور پر پیش کیا ہے۔ کا نا یاکلن الطعام (مائدہ 75) (ماں بیٹا دونوں کھانا کھاتے تھے۔
انبیاء اور ان کی امتوں کے لئے ایک امتحان
وجعلنا بعضکم لبعض فتۃ بعینیہ یہی مضمون انعام آیت 53 میں گزر چکا ہے۔ وہاں فرمایا ہے۔ وکذلک بعضھم ببعض لیقولوآ اھولاً ء من اللہ علیھم من بیننا (اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے کے لئے آزمائش بنایا ہے تاکہ یہ متکبرین کہیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے اپنیفضل سے منتخب کیا !) یعنی مسلمانوں کی غبرت ان کفار کے لئے فتنہ بن گئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب تمام نعمتوں اور مال و جاہ کے وارث اور مالک ہم ہیں تو یہ دین اگر کوئی خدائی دین ہوتا تو وہ ان قلاش مسلمانوں کو کس طرح ملتا، وہ بھی لازماً ہمیں ملتا اور اگر اللہ انسانوں ہی میں کسی کو نبی بنانے والا ہوتا تو طائف یا مکہ کے کسی رئیس کو بناتا نہ کہ محمد ﷺ جیسے غریب آدمی کو اس منصب پر سرفراز کرتا ! اسی طرح یہاں فرمایا ہے کہ ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لئے آزمائش بنایا ہے۔ یعنی تمہاری غربت ان کے لئے قبول حق کی راہ میں حجاب بن گئی ہے۔ حق تو یہ تھا کہ وہ نعمت پا کر خدا کے شکر گزار بندے بنتے لیکن یہ نعمت ان کے لئے استکبار کا سبب بن گئی اور اس استکبار کے نشہ میں انہوں نے تمہاری پیش کردہ دعوت پر غور کرنے اور اس کو اختیار کرنے کے بجائے تمہیں اعتراضات و مطاعن کا ہدف بنا لیا اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے صبر کا امحتان ہے۔
عربیت کا ایک بلیغ اسلوب
الصبرون یہ مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد ہوا کہ وہ تو اپنے شکر کے امتحان میں بالکل ناکام رہے، اب تم بتائو کہ تم ان کے طنز و استہزاء اور ان کی مخالفت و وعداوت کے مقابل میں ثبت قدم رہنے والے بنتے ہو یا نہیں ؟ عربیت کا ذوق رکھنے والوں سے یہ بات مخفی نہیں ہے کہ جب امر کے اندر ترغیب و تشویق اور حث وتحریض کا مفہوم پیدا کرنا ہو تو وہ خبر یہ اسلوب کے قالب میں آتا ہے اور اگر اس پر حرف استفہام آجائے تو اس کے اندر مزید زور پیدا ہوجاتا ہے۔ ھل انتم مجتمعون (شعراء :39) کے تحت اس اسلوب کی مزید وضاحت آئے گی اور پیچھے بھی اس کی بعض عمدہ مثالیں گزر چکی ہیں۔ یہ مسلمانوں کو اس بات پر ابھارا گیا ہے کہ اگر تمہارے مخالفین اپنے امتحان میں ناکام رہے تو ان کو ان کی قسمت کے حوالہ کرو، تمہارے سامنے صبر کے امتحان کا جو مرحلہ ہے اس میں کامیابی کے لئے عزم و حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھو۔
وکان ربک بصیراً یعنی اللہ تعالیٰ تمہارا نگران حال ہے۔ اس کی نصرت پر پورا بھروسہ رکھو۔ اگر تم ثابت قدم رہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ان تمام مخالفتوں کے علم الرغم منزل مقصود پر پہنچائے گا۔
اس آیت میں فتنہ کو اللہ تعالیٰ نے جو اپنی طرف منسوب فرمایا ہے یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو اس نے اپنے بندوں کے امتحان کے لئے اس دنیا میں جاری فرمائی ہے۔ اس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں۔
Ayahs 25:21–22آیت 22-21
متکبیرن کے استکبار پر ایک ضرب
الذین لایربھون الہ اء نا سے قرآن میں متکبرین کے اس گروہ کو تعبیر کیا گیا ہے جو خدا کے حضور پیشی کے اندیشے سے بالکل نچنت اور بےخوف تھا۔ اس گروہ کا جہل و غرور اور اس کا گھمنڈ دوسرے کفار و معاندین سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھا اس وجہ سے اس کا ذکر الذین کفروا کے لفظ سے نہیں ہوا بلکہ ایسی صفت کے ساتھ ہوا ہے جس سے اس کا غرور پوری طرح بےنقاب ہو سکے۔ اس گروہ کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر محمد ﷺ کے پاس خدا کا فرشتہ آتا ہے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، تو آخر ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں آتے یا ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ خود خدا بےحجاب ہو کر سامنے آئے اور ہم اس کو دیکھیں۔ یہ مطالبہ ظاہر ہے کہ وہ لوگ کرسکتے تھے جو بالکل ہی سر پھرے، مغرور اور ساتھ ہی پرے سرے کے احمق ہوں، اس وجہ سے ان کی اس احمقانہ بات کا جواب دینے کے بجائے ان کے اس غرور پہ ضرب لگائی۔ فرمایا کہ ان لوگوں نے بڑی اکڑ دکھائی کہ خدا اور فرشتوں کو دیکھنے کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کو اندازہ نہیں کہ خدا اور ان فرشتوں کا دیکھنا کیا ہوتا ہے ! خدا تو درکنار جب وہ دن آئے گا جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے تو وہ ان کے لئے کوئی خوش آئند دن نہیں ہوگا بلکہ اس دن پناہ ! پناہ ! پکار اٹھیں گے ! آگے اس دن کی ہولناکی کی مزید تفصیل آرہی ہے۔
حجراً معجوراً کا مفہوم
حجرا معجوراً کے ایک معنی تو سخت پردہ اور اوٹ کے ہیں۔ اس معنی میں یہ لفظ اسی سورة کی آیت 53 میں آگے آئے گا۔ دوسرے یہ استعاذہ کے الفاظ سے ہے اور سیبویہ کی رائے یہ ہے کہ جب یہ اس مفہوم میں آتا ہے تو بالکل اسیشکل میں استعمال ہوتا ہے اور فعل محذوف سے منصوب ہوتا ہے جس طرح معاذ اللہ استعمال ہوتا ہے۔
Ayah 25:23متکبرین کے اعمال کی بےوقعتی
فرمایا کہ ان لوگوں کو اپنی جن خدمات اور جن کارناموں پر بڑا ناز ہے اور جن کی بنا پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا میں بھی وہ ملک و قوم کے ہیرو سمجھے جانے کے حق دار ہیں اور اگر آخرت کوئی چیز ہے تو وہاں بھی ان کو پڑے سے بڑے مراتب ملیں گے ہم ان کے ان اعمال کو منتشر ذرات بنا کر اڑا دیں گے۔ اس لئے کہ ہمارے ہاں اس عمل کی کوئی قدر نہیں ہے جو خالص ہماری رضا کے لئے نہ کیا گیا ہو۔ قدمنا الی ماعملوا کے عمل کے اسلوب بیان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ہم خود آگے بڑھ کر ان کے ہر عمل کو ٹھکرا دیں گے، آخر وہ عمل بڑا ہو یا چھوٹا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اعمال کی انتہائی تحقیر کی دلیل ہے۔
Ayah 25:24یہ ان کے مقابل میں اہل جنت کا حال بیان ہوا کہ جن کو یہ اس دنیا میں نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ اس دن بہترین مستقر اور اعلیٰ ترین آرامگاہ میں ہوں گے۔ مقیل قیلولہ کی جگہ کو کہتے ہیں لیکن یہ اپنے عام استعمال میں آرام گاہ اور عیش گاہ کے مفہوم میں آتا ہے۔ امراء القیس کا مصرع ہے فقل فی مفلس نحد متغیب (ایسی عیش گاہ میں عیش کرو جو ہر نحوست سے محفوظ ہے) خیر اور احسن یہاں تقابل کے مفہوم میں نہیں ہیں بلکہ یہ خوب ترین اور بہترین کے مفہوم میں ہیں۔ دوسرے مقام میں اس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔
Ayahs 25:25–26آیت 26-25)
قیامت کے دن فرشتوں کا ظہور
یہ بھی اسی جواب کا حصہ ہے جو اوپر فرشتوں کو دیکھنے کا مطالبہ کرنے والوں کو دیا گیا ہے۔ فرمایا کہ ان لوگوں کو چاہئے کہ اس دن کا تصور کریں جس دن آسمان پھٹے گا اور اس سے ایک بدلی نمودار ہوگی اور اس کے اندر سے فرشتوں کے پرے کے پرے، یکے بعد دیگرے، اتارے جائیں گے۔ فرمایا کہ اس دن کسی کی کچھ پیش نہیں جائے گی۔ جن معبودوں پر ان لوگوں کو بڑا ناز و اعتماد ہے وہ بھی ان کے کچھ کام آنے والے نہیں بنیں گے۔ حقیقی بادشاہی اس دن خدائے رحمان ہی کی ہوگی اور کافروں پر یہ دن بڑا ہی کٹھن ہوگا ! یہ امر محلوظ رہے کہ حقیقی اختیار اور حقیقی بادشاہی یوں تو ہمیشہ خدا ہی کی ہے لیکن اس دنیا میں اس حقیقت پر پردہ پڑا ہوا ہے اس وجہ سے نادانوں کو مغالطہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنی خدائی کا ڈنکا بجانے لگتے ہیں لیکن قیامت کے دن ہر شخص پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ سارا زور و اختیار صرف اللہ ہی کو حاصل ہے دوسرے کسی کو بھی کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔
Ayahs 25:27–29(آیت 29-27)
قیامت کے دن مکذبین رسول کی حسرت
ہاتھ کاٹنا اظہار حسرت و ندامت کی تعبیر ہے اور یہ تعبیر ہماری زبان میں بھی موجود ہے اور ظالم سے مراد یہاں اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا یعنی ہر وہ شخص جس نے رسول کی مخالفت کی فرمایا کہ ان لوگوں کو چاہئے کہ اس دن کا تصور کریں جس دن ہر وہ شخص جو آج اندھا بہرا بن کر رسول کی سنت کر رہا ہے اور اس طرح خود اپنی جان پر ظلم ڈھا رہا ہے نہایت حسرت کے ساتھ اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کہ کاش میں نے اللہ کے رسول کے ساتھ اس کی بتائی ہوئی راہ اختیار کرلی ہوتی اور اپن بدبختی سے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا جس نے مجھے خدا کی یاد دہانی سے جب کہ وہ میرے پاس آچکی تھی۔ برگشتہ کر کے گمراہی میں ڈالا !
اضلنی کے بعد من اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ صرف کے معنی یہ متضمن ہے یعنی اس نے مجھے اپنی ان گمراہ کن باتوں سے جو اس نے رسول اور اللہ کی کتاب کے خلاف کہیں مجھے گمراہ اور رسول کے بتائے ہوئے راستہ سے برگشتہ کیا۔ ان باتوں کا حوالہ آیات 41, 2, 3, 21, 4 اور 42 میں موجود ہے۔
بعد اذ جآء فی میں اپنی بدبختی کا اعتراف ہے کہ اگر اللہ کی ہدیات میرے پاس نہ آئی ہوتی تو میں کوئی عذر بھی پیش کرسکتا تھا لیکن اب میں کیا عذر کرسکتا ہوں جب کہ میرے اوپر حجت تمام کی جا چکی ہے۔
وکان الشیطن للاذان عذولا حذول کے معنی وقت پر ساتھ چھوڑ دینے والا بےوفا اور غدار
میرے نزدیک یہ اظہار حسرت کرنے والوں کے قول کا جزو نہیں ہے، جسا ا کہ عام طور پر لوگوں نے سمجھا ہے بلکہ یہ ان کے قول پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے برمحل تذکیر و تنبیہ ہے کہ شیطان اس طرح عین وقت پر دغا دینے والا اور ساتھ چھوڑ دین والا ہے۔ لفظ شیطان یہاں جنس کے مفہوم میں ہے۔ اس سے شیاطین جن و انس دونوں مرد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو یہ ناہنجار لوگ ایک دوسرے کے ساتھی لیڈر اور پیرو ہیں۔ ہر ضلالت کے پھیلانے اور برحق کو دبانے میں ایک دوسرے کے دست وبازو دبئے ہوئے ہیں لیکن جب آخرت کا مرحلہ پیش آئے گا تو ایک دوسرے پر لعنت کریں گے۔ پیرو کہیں گے کہ فلاں نے ہمیں گمراہ کیا ؟ اگر اس نے نہ ورغلایا ہوتا تو ہم سیدھی راہ پر ہوتے اور لیڈر جواب دیں گے کہ تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے ہمارا ساتھ دیا ہم نے تو مت ہیں وہی بنایا جو ہم خود تھے۔
Ayah 25:30قیامت کے دن نبی ﷺ کا اپنے رب سے شکوہ
رسول سے مراد نبی ﷺ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو قرآن کو جھٹلانے والے خود اپنی بدبختی پر اپنے سرپیٹیں گے۔ دوسری طرف نبی ﷺ بھی اپنے رب سے شکوہ کریں گے کہ اے رب ! میں نیتیری کتاب، پوری دلسوزی کے ساتھ، اپنی اس قوم کے سامنے پیش کی لیکن ان لوگوں نے اس کی کوئی قدر نہیں کی بلکہ نہایت ناقدری کے ساتھ اس کو ٹھکرا دیا۔ حضور کا یہ شکوہ ان اشقیار کے تابوت میں آخری کیل ہوگا جس کے بعد ان کے لئے زبان کھولنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جائے گی۔ یہ بات سورة مائدہ میں تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن انبیاء اپنی اپنی قوموں کے معاملہ میں گواہی دیں گے۔
Ayah 25:31نبی ﷺ کو تسلی
یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گی ہے کہ یہ اشقیاء تمہاری مخالفت جو کر رہے ہیں یہ ابنیائ کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہر دور کے مجرمین نے اسی طرح اپنے اپنے رسولوں کی مخالفت کی ہے۔ لفظ مجرمین اوپر آیت 24 میں گزر چکا ہے۔ یہ لفظ ان گمراہ کرنے والے لیڈروں کے لئے استعمال ہوا ہے جن کا رویہ اس سورة میں زیر بحث ہے۔ فرمایا کہ یہی جرائم پیشہ لوگ ان تمام فسادات کے ذمہ دار ہوتے ہیں جن کی نبی اصلاح کرنا چاہتا ہے اور ان تمام مفاسد سے ان کا مفاد وابستہ ہوتا ہے اس وجہ سے دونبی کی دعوت کو ٹھنڈے پٹیوں نہیں برداشت کرتے بلکہ اپنے تمام اوچھے ہتھیاروں سے اس کی مخالفت کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں لیکن تم اطمینان رکھو، تمہارا رب ہر مشکل میں تمہاری رہنمائی اور مدد کے لئے کافی ہے
یہ بات چونکہ سنت الٰہی کے مطابق ہوتی ہے، اس لئے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے اہل باطل کو بھی ایک حد خاص تک زور آزمائی کی مہلت دی ہے، اس وجہ سے اس کو منسوب اپنی طرف فرمایا ہے۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں۔ انعام کی آیت 113 میں یہ مضمون زیادہ وضاحت سے گزر چکا ہے۔ تفصیل کے طالب اس پر ایک نظر ڈال لیں۔
Ayah 25:32قرآن کے بیک وقت نہ اترنے کی وجہ
یہ ان معترضین کا چوتھا اعتراض نقل ہوا ہے۔ وہ قرآن کے خلاف لوگوں میں یہ خیال بھی پھیلاتے تھے کہ اگر یہ خدا کی اتاری ہوئی کتاب ہے تو آخر یہ پوری کی پوری بیک وقت کیوں نہیں نازل کردی گئی، خدا کے لئے تو کچھ سوچنے اور اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اس کو تھوڑی تھوڑی اتارے ؟ یہ اعتراض وہ اپنے اسی پروپیگنڈے کو تقویت پہنچانے کے لئے کرتے تھے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ اس کتاب کی تیاری میں کچھ دوسرے لوگ بھی شریک ہیں۔ چناچہ جتنی مقدار میں و ہتیار کر پاتے ہیں اتنی اس شخص (محمد ﷺ کو سکھاتے ہیں اور یہ اس کو وحی الٰہی بنا کر ہمیں سناتے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ ہم نے اس کو اسی طرح اتارا ہے تاکہ اس طرح ہم تمہارے دل کو مضبوط کریں اور ہم نے اس کو ایک خاص تدریج و اہتمام کے ساتھ نازل کیا تاکہ لوگ اس کو سیکھیں۔ مطلب یہ ہے کہ اتار دینے کو تو ہم پوری کتاب ایک ہی دفعہ نازل کرسکتے تھے لیکن سوال تمہارے تحمل اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کا بھی تھا۔ اگر یہ پوری کتاب ایک ہی مرتبہ میں نازل کردی جاتی تو نہ تم ہی اس بارگاں کو اٹھا سکتے اور نہ لوگوں ہی کے اوپر صحیح طریقہ سے اتمام حجت ہوسکتا اس وجہ سے اللہ نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا تاکہ تم بھی اس کو برداشت کرسکو اور لوگ بھی اگر سیکھنا چاہیں تو اس کو سیکھ سکیں۔ ایک استاذ اگر چاہئے تو پوری کتاب ایک ہی نشست میں شاگردوں کو سنا دے لیکن کیا اس طرح شاگرد کتاب کو محفوظ بھی کرسکیں گے !
ورتلنہ ترتیلاً ترتیل کے معنی اتہمام کے ساتھ پڑھنے اور سنانے کے ہیں۔ اس کا عطف اس فعل پر ہے جو کذلک کے بعد محذوف ہے۔ یہ بات یہاں بطور اظہار احسان ارشاد ہوئی ہے کہ یہ ہماری غایت درجہ لوگوں پر مہربانی ہے کہ ہم نے ان کو ایک ساتھ پوری کتاب نہیں پکڑا دی بلکہ اس کو نہایت اہتمام و تدریج کے ساتھ سبق سبق کر کے پڑھا اور سنا رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ چیز ممنون و شکر گزار ہونے کی ہے نہ کہ اعتراض و نکتہ چینی کی لیکن ان ظالموں نے اس چیز کو بھی ایک وجہ اعتراض بنا لیا۔
آسمانی صحیفوں میں سے کوئی صحیفہ بھی بیک دفعہ نازل نہیں ہوا
یہ امر ملحوظ رہے کہ آسمانی طحائف میں سے کوئی صحیفہ بھی بیک دفعہ نہیں نازل ہوا ہے۔ جن لوگوں نے یہ خیال کیا ہے، ان کا خیال ان صحائف سے بیخبر ی پر مبنی ہے۔ تورات بھی پوری کی پوری بیک دفعہ نہیں نازل ہوئی۔ بیک دفعہ اس کے صرف احکام عشرہ نازل ہوئے ہیں جو الواح میں لکھ کر حضرت موسیٰ کو عطا ہوئے۔ لیکن تورات صرف احکام عشرہ ہی پر تو مشتمل نہیں ہے اس میں تو شریعت موسوی کے تمام احکام و قوانین ہیں جو حضرت موسیٰ کی پوری زندگی میں درجہ بدرجہ نازل ہوئے۔ ان میں بہت سے احکام ایسے ہیں جن کے متعلق قرآن اور تورات دونوں میں یہ تصریح موجود ہے کہ یہ حضرت موسیٰ کی ہجرت سے پہلے نازل ہوئے ہیں، بہت سے احکام دریا کے عبور کے بعد یا صحرائے سینا کی زندگی کے دور میں نازل ہوئے ہیں۔ اسی طرح انجیل تمام تر سیدنا مسیح کے مواعظ حکمت پر مشتمل ہے جو مختلف مواقع پر حسب اقتضائے حالات، آپ پر نازل ہوئے اور آپ نے ان سے اپنی قوم کو انذار کیا۔ یہی حال زبور کا ہے۔ یہ حضرت دائود کی منظوم مناجاتوں اور تلقیات پر مشتمل ہے جو وقتاً فوقتاً آپ پر الفاء ہوئیں۔ غرض یہ خیال بالکل بےبنیاد ہے کہ ان میں سے کوئی کتاب بھی بیک دفعہ، مابین الدفتین، نازل ہوئی۔ آخر ایسا ہو بھی کیسے سکتا تھا ! حضرت انبیاء (علیہم السلام) کوئی مصنف نہیں تھے کہ پوری پوری کتابیں لکھ کر ایک ہی دفعہ لوگوں کے ہاتھوں میں پکڑا دیں۔ وہ داسی، معلم اور مزکی ہوتے تھے، انہیں ایک پوری مریض قوم کا علاج اور تزکیہ کرنا ہوتا تھا۔ ان کے اس فرض منصبی کا فطری اور قدرتی تقاضا یہ تھا کہ وہ اس اصلاح کی راہ میں تدریج کے ساتھ قدم آگے بڑھائیں اور ہر قدم پر ضرورت کے مطابق ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رہنمائی حاصل ہو جہاں تک مجھے علم ہے علمائے اہل کتاب بھی اپنی کتابوں میں سے کسی کتاب کے بیک دفعہ نازل ہونے کے مدعی نہیں ہیں اور اگر کوئی ہے تو اس کا دعویٰ خود اس کی کتاب کی تصریحات کے صریح خلاف ہے۔ ہمارے مفسرین یہ بات جو لکھتے ہیں کہ تورات، زبور اور انجیل بیک دفعہ نازل ہوئی ہیں، یہ صحیح نہیں ہے۔
Ayah 25:33آیت 9 کے تحت ہم واضح کر آئے ہیں کہ ضرب مثل کا محاورہ اعتراض و نکتہ چینی کے لئے بھی آتا ہے یہاں موقع دلیل ہے کہ یہ اعتراض ہی کے مفہوم میں ہے اور آیت میں اس کا مقابللفظ حق استعمال ہوا ہے جس سے یہ بات نکلی کہ اس سے مراد یہاں اعتراض باطل ہے۔
آنحضرت ﷺ کو اطمینان دبانی
معترضین کے تمام اعتراضوں کا مسکت اور دل نشین جواب دینے کے بعد یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم مطمئن رہو۔ یہ لوگ جو اعتراض باطل بھی تمہارے خلاف اٹھائیں گے اس کے جواب کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے۔ ہم اس کا صحیح جواب اور اس کی بہترین توجیہ و تفسیر تم پر نازل کردیں گے۔ اس اطمینان دہانی کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ نبی ﷺ نے اپنی نبوت و رسالت اور قرآن کی جو دعوت لوگوں کو دی وہ خدا کے حکم سے دی، اس میں کوئی ادنیٰ دخل بھی آپ ﷺ کی اپنی خواہش کو نہیں تھا۔ آپ ﷺ کے اس دعوے اور دعوت کی وجہ سے پوری قوم آپ ﷺ کی دشمن بن کر اٹھ کھڑی ہوئی اور ہر طرف سے اعتراضات کی بوچھاڑ شروع ہوگئی۔ اگر مخالفین کے ان تمام حملوں کی مدافعت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ اپنے اوپر نہ لیتا تو تمام خلق کا منہ آپ ﷺ کس طرح بند کرسکتے تھے۔
Ayah 25:34گمراہوں کی گمراہی کی اصل منزل
یحشرون کے بعد علی کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ یسحبون کے مفہوم پر متضمن ہے۔ دوسرے مقام میں اس کی وضاحت بھی ہوگئی ہے۔ فرمایا ہے یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم جس دن وہ اپنے من ہوں کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے۔
یہ آیت اوپر کی آیت 24 کے مقابل میں ہے اس میں اہل جنت کو اچھے انجام کی بشاتر دی ہے اس میں اہل دوزخ کے انجام کا ذکر فرمایا ہے کہ سب سے زیادہ برے ٹھکانے میں اور سب سے زیادہ راہ کھوئے ہوئے وہ لوگ ہوں گے جو من ہوں کے بل گھسیٹ کر دوزخ کی طرف لے جائے جائیں گے۔
افضل سبیلاً میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس دنیا میں گمراہوں کو اپنی گمراہی کی اصل منزل کا پتہ نہیں ہوتا اس وجہ سے وہ یہ انذار نہیں کر پاتے کہ جس راہ پر وہ چل رہے ہیں وہ ان کو کہاں لے جائے گی۔ آخرت میں جب ان کی گمراہی کی اصل منزل … دوزخ … سامنے آجائے گی تب انہیں اندازہ ہوگا کہ وہ کہاں سے چلے اور کہاں پہنچے !
Ayah 25:35آگے کا مضمون …44-35
آگے حضرت مسیٰ اور حضرت نوح اور ان کے درمیان کی ان قوموں کا اجمالی حوالہ ہے جن کے اندر رسولوں کی بعثت ہوئی۔ مقصود اس حوالہ سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا اور آپ ﷺ کی قوم کو متنبہ کرنا ہے کہ ان قوموں کو بھی اللہ نے اپنی تعلیمات و ہدایات سے آگاہ کیا لیکن انہوں نے ان کی قدر کرنے کے بجائے ان تعلیمات کے پیش کرنے والوں کا مذاق اڑایا جس کا نتیجہ بالاخر یہ نکلا کہ وہ نہایت تباہ کن انجام سے دوچار ہوئیں۔ اس سورة میں واقعات کی طرف صرف اشارہ ہے۔ آگے کی سورة میں، جو اس کی مثنٰی ہے۔ ان واقعات کی تفصیل آئے گی۔ واقعات کی ترتیب صعودی بھی ہے اور نزولی بھی۔ پہلے حضرت موسیٰ کا ذکر فرمایا ہے جو سلسلہ بنی اسرائیل کے سب سے زیادہ جلیل القادر صاحب کتاب و شریعت بنی و رسول ہیں۔ اس کے بعد حضرت نوح کا ذکر فرمایا ہے جن سے حضرت آدم کے بعد، گویا سلسلہ رسالت کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ نیچے سے اوپر کی طرف اشارہ ہوا۔ پھر درمیان کی دوسری امتوں کا ذکر فرمایا اور ان کے ذکر میں ترتیب نزولی یعنی اوپر سے نیچے کی طرف ہے۔ آیات کی تلاوت فرمایئے۔
حضرت موسیٰ کے ساتھ حضرت ہارون کا ذکر اتمام حجت کے پہلو سے
حضرت موسیٰ کے ساتھ حضرت ہارون کا ذکر، ان کے مددگار کی حیثیت سے بار بار جو آتا ہے اس سے مقصود اس احسان اور تمام حجت کے پہلو کو نمایاں کرنا ہوتا ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ اختیار فرمایا کہ ایک سرول کے ساتھ اپنے ایک دوسرے پیغمبر کو اس کی مدد کے لئے مامور فرمایا۔ دوسرے مقام میں یہ تفصیل گزر چکی ہے کہ اظہار وبیان کے پہلو سے حضرت موسیٰ ؑ اپنے اندر ایک کمی محسوس فرماتے تھے اس وجہ سے انہوں نے دعا فرمائی کہ حضرت ہارون کو ان کا شریک کار بنا دیا جائے کہ ان کی زبان آوری اور فصاحت کی مدد سے وہ پوری قوت و اعتماد کے ساتھ تبلیغ حق کرسکیں تاکہ دعوت و اتمامح جت کے پہلو سے ادائے فرض میں کوئی کسر نہ رہ جائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان دونوں نبیوں نے بیک وقت فرعونیوں کو دعوت دی لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان و اہتمام کی کوئی قدر نہ کی۔
Ayah 25:36مقصود یہاں چونکہ اجمالی اشارہ ہے اس وجہ سے پوری بات دو فقروں میں سمیٹ دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنے ان دونوں رسولوں کو اپنی نشانیوں کے ساتھ ان لوگوں کی طرف بھیجا لیکن انہوں نے ان تمام نشانیوں کو سحرقرار دے کر ان کی تکذیب کردی جس کی سزا بالآخر ان کو یہ ملی کہ ہم نے ان کو یک قلم پامال کردیا۔ اس میں نبی ﷺ کے لئے یہ تسلی ہے کہ جن کے دل مسخ ہوچکے ہوتے ہیں وہ کسی طرح بھی ہدایت قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ دو دو رسولوں اور ان کے تمام معجزات کی بکے وقت تکذیب کردیتے ہیں اور اس میں ساتھ ہی قریش کو یہ تنبہ ہے کہ اگر انہوں نے بھی فرعون اور اس کی قوم کی روش کی تقلید کی تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان کا انجام ان سے کچھ مختلف ہو !