Ayah 25:37ایک رسول کا انکار تمام رسولوں کا انکار ہے
حضرت نوح کی قوم نے اگرچہ تکذیب ایک ہی رسول …حضرت نوح … کی کی لیکن یہاں لفظ جمع الرسل استعمال ہوا ہے اس کی وجہ ہمارے نزدیک وہی ہے جس کا ذکر ہم سورة ہود کی آیت 59 کے تحت کر آئے ہیں کہ تمام رسولوں کا پیغام چونکہ ایک ہی اور ان کے بھیجنے والا بھی ایک ہی ہے اس وجہ سے ایک کا انکار سب کا انکار ہے۔ اس طریق تعبیر سے مقصود اس جرم کی سنگینی کی طرف توجہ دالانا ہے کہ جو لوگ کسی رسول کی تکذیب کرتے ہیں وہ سوچ لیں کہ یہ بات کہاں سے کہاں تک پہنچتی ہے۔ اس اسلوب کی مثالیں آگے والی سورة میں بھی آئیں گی۔
وجعلنھم للناس ایۃ یعنی ہم نے ان کے اس انجام کو بعد والوں کے لئے ایک درس عبرت بنا دیا کہ وہ اس سے سبق لیں کہ جو لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں بالآخر ان کا حشر یہ ہوا کرتا ہے۔
واعتدنا للظلمین عذاباً الیماً یعنی اس قسم کے ظالموں کی سزا اسی دنیا کے عذاب پر بس نہیں ہے بلکہ ان کے لئے آخرت میں بھی ہم نے نہایت درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 25:38یہاں فعل اھلکنا بربنائے قرینہ حذف ہے۔
اصحاب الرس کون تھے ؟
اصحاب الرس کی تحقیق میں مجھے افسوس ہے کہ اب تک کامیابی نہ ہوسکی۔ ابن جریر نے متعدد نام ذکر کئے ہیں لیکن ان میں سے کسی پر ان کو خود بھی اطمینان نہیں ہے۔ انہوں نے بحث کے آخر میں یہ ظاہر بھی کردیا ہے کہ ان میں سے کسی کے متعلق بھی وثوق کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔
صاحب کشاف نے دوسرے ناموں کے ساتھ قوم شعیب کی طرف بھی اشارہ کیا ہے بلکہ اسی کو مقدم رکھا ہے لیکن یہ بات کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے اس لئے کہ سورة ق میں اصحاب الرس اور اصحاب الایکہ دونوں نام الگ الگ دو مستقبل قوموں کے لئے آئے ہیں اور اصحاب الایکہ سے خود قرآن کی تصریح کے مطابق جیسا کہ آگے والی سورة میں وضاحت آئے گی، اصحاب مدین یعنی حضرت شعیب کی قوم کے لوگ مراد ہیں۔ اگر اصحاب الرس سے قوم شعیب مراد ہوتی تو پھر اس کے ساتھ اصحاب الایکہ کے ذکر کا کیا محل تھا !
مولانا سید سلیمان ندوی نے ارض القرآن میں اس سے اسماعیلی قبائل کے بارہ سلسلوں میں سے قیدما کو مراد لیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اس کے حالات بالکل مجہول ہیں۔ حالات کے مجہول ہونے سے قطع نظر بنی اسماعیل میں آنحضرت ﷺ کے سوا کسی رسول کی بعثت ثابت نہیں ہے اور یہاں اصحاب الرس کا ذکر جس سیاق میں آیا ہے اس سے یہ بات واضح ہے کہ ان کی طرف رسول کی بعثت ہوئی اور انہوں نے عاد وثمود کی طرح اس کی تکذیب کی۔
بہرحال ان کے بارے میں وثوق کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔ بس یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عرب کی اقوام بادئہ میں سے کسی قوم کا حوالہ ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بھیجا لیکن اس نے اس رسول کی تکذیب کی اور سنت الٰہی کے مطابق مستحق عذاب ٹھہری۔ شعرائے جاہلیت میں زہیر نے وادی رس کا ذکر کیا ہے۔ ع
وھن دوادی الرس کا لیدللھم وقرونا بین ذلک کثیراً
تاریخ کی نارسائی
(اور وہ اور وادی رس اس طرح تھے جس طرح منہ کو ہاتھ)
(اور ان کے درمیان اور بھی کتنی قومیں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر چھوڑا۔ قرآن میں اس بات کا جگہ جگہ ذکر ہے کہ انبیاء و رسل صرف اتنے ہی نہیں ہیں جتنے قرآن میں بیان ہوئے ہیں بلکہ ان کے علاوہ بھی ہیں جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ جو لوگ ہر چیز کو تاریخ کی روشنی میں دیکھنا چاہتے ہیں وہ تاریخ کی نارسائی سے ناواقف ہیں۔ تاریخ کی رسائی بہت محدود ہے اور اس کا بیشتر حصہ رطب دیا بس ہر قسم کے مواد پر مشتمل ہے۔ اس دنیا کے احوال سے سب سے زیادہ باخبر اس کا خالق ہی ہے اس وجہ سے اصلی اعتماد اللہ تعالیٰ کی کتاب پر ہونا چاہئے نہ کہ تاریخ کی کتابوں پر اگر قرآن نے کسی تاریخ واقعہ کا ذکر کیا ہے تو وہ ہمارے علم میں ایک بابرتک اضافہ ہے۔ اگر تاریخ سے بھی اس کی تائید ہوجائے تو فہم نہ ہو تو اس کو تاریخ کی نارسائی پر محمول کیجیے۔
Ayah 25:39ضرب مثل کا مفہمو
ضرب مثل یہاں پوری وضاحت و تفصیل اور تذکیر و تنبیہ کے تمام لوازم کے ساتھ حقائق وضاح کردینے کے مفہوم میں ہے۔ جب کسی کو کوئی بات اچھی طرح ذہن نشین اور اس کے عواقب و نتائج سے پوری طرح آگاہ کردینا ہو تو اس کے لئے حقائق کو مصور و ممثل کردینے والی تمثیلیں اور تاریخ کے احوال و واقعات سب سے زیادہ مئوثر ہوتے ہیں۔ حضرات انبیاء چونکہ لوگوں پر اللہ کی حجت تمام کرنے کے لئے آئے اس وجہ سے انہوں نے صرف اصول و ضوابط بیا نکر دینے ہی پر اکتفا نہیں فرمایا بلکہ تمثیلات اور تاریخ کے احوال و واقعات سے ان کو اچھی طرح مدلل و مبرہن بھی کردیا۔ چناچہ آپ قرآن میں دیکھتے ہیں کہ ہر حقیقت امثال و واقعات سے اس طرح واضح کردی جاتی ہے کہ ایک ہٹ دھرم کے سوا کوئی ان کا انکار نہیں کرسکتا۔ یہی طریقہ تمام رسولوں نے اختیار فرمایا۔ اس کے بعد بھی جو لوگ نہیں سمجھے ظاہر ہے کہ وہ لوگ عقل و دل سے سمجھنے والے لوگ نہیں تھے بلکہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر ماننے والے تھے۔ ایسوں کے بارے میں سنت الٰہی جیسا کہ ہم جگہ جگہوضاحت کرتے آ رہے ہیں، یہ ہے کہ وہ اس قہر الٰہی سے تباہ کردیئے جاتے ہیں جس کی وہ تکذیب کرتے اور جس کو آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ چناچہ فرمایا کہ ہم نے ان تمام قوموں کو اچھی طرح سمجھایا لیکن جب انہوں نے سمجھنے سے انکار کردیا تو بالآخر ان کو بالکل پامال بھی کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ یہی حشر تمہاری قوم کا بھی ہونا ہے اگر اس نے قرآن کی قدر نہ کی۔
Ayah 25:40آنکھوں میں بصیرت آخرت کے تصورت سے پیدا ہوتی ہے
یہ اشارہ قوم لوط کی بستی کی طرف ہے۔ امطرت مطر السوء سے مراد وہ عذاب ہے جو ان پر آیا۔ اس عذاب کی نوعیت ہم نے اس کتاب میں اس کے محل میں واضح کی ہے۔ اگر اس کی پوری تحقیق مطلوب ہو تو مجموعہ تفاسیر فراہمی میں سورة ذاریات کی تفسیر پڑھیے۔
یہ قریش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ دوسری قوموں کے احوال و مقامات سے دور یا نابلد ہیں تو کیا اس قوم کے آثار سے بھی نا آشنا ہیں جو ہمارے نہایت ہولناک عذاب کا نشانہ بنی ! اس بستی پر سے تو یہ آئے دن اپنے تجارتی سفروں میں گزرتے ہیں ! کیا اس کے آثار بھی یہ نہیں دیکھتے رہے ہیں ! دیکھتے تو رہے ہیں لیکن چونکہ یہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے اس وجہ سے سب کچھ دیکھنے کے باوجود اندھے بنے ہوئے ہیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ قریش کے تجارتی قافلے قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈروں پر سے برابر گزرتے تھے۔ اس کی وضاحت ہم اس کے محل میں کرچکے ہیں۔
اس آیت میں یہ حقیقت واضح ہوئی کہ آدمی کی آنکھوں کے اندر بصیرت آخرت کے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر یہ چیز نہ ہو تو آدمی بظاہر ٹک ٹک دیکھتا تو ہے لیکن اسے نظر کچھ نہیں آتا۔
Ayahs 25:41–42آیت (42-41)
یعنی اللہ نے تو ان پر یہ فضل فرمایا کہ تمہارے اور قرآن کے ذریعہ سے ان پر دنیا اور آخرت کے حقائق واضح کئے لیکن انکی محرومی اور بدبختی کا یہ حال ہے کہ جب بھی تمہیں دیکھتے ہیں تمہارا مذاق اڑاتے اور طنز و تحقیر کے انداز میں کہتے ہیں کہ اچھا یہی ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے ! ان حضرت نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا اگر ہم ان کی عبادت پر جمے نہ رہتے ! فرمایا کہ آج تو ان کو اپنی حماقت پر جمے رہنے پر بڑا ناز ہے لیکن کل کو جب یہ اپنی اس جہالت کے نتیجہ میں عذاب سے دوچار ہوں گے تب انہیں اندازہ ہوگا کہ ہمارے پیغمبر نے ان کو گمراہ نہیں کرنا چاہا تھا بلکہ اس نے ان کی رہنمائی صراط مستقیم کی طرف کی تھی جس کو اختیار نہ کر کے بالآخر وہ کہاں سے کہاں پہنچے ! من اضل سبیلاً میں جس حقیقت کی طرف اشارہ ہے اس کی وضاحت ہم اوپر آیت 34 کے تحت کر آئے ہیں کہ گمراہوں کو اپنی گمراہی کا اندازہ اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک اس کا انجام سامنے نہ آئے۔ وہ اپنی خواہشوں کے غلام ہوتے ہیں اور وہ خواہشیں کو اس طرح اندھا بنا دیتی ہیں کہ کوئی تذکیر و تنبیہ بھی ان پر کار گر نہیں ہوتی۔
Ayahs 25:43–44آیت 44-43
خواہشوں کے غلام چوپایوں سے بھی بدتر ہیں
ارءیت کے اسلوب خطاب پر اس کے محل میں ہم گفتگو کرچکے ہیں۔ یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ جن لوگوں نے اپنی عقل کو معطل کر کے اپنی باگ اپنی خواہشوں کے ہاتھ میں پکڑا دی ہے بھلا تم ان کی ہدایت و اصلاح کے ذمہ دار کس طرح بن سکتے ہو ! انسان کے اندر رہنمائی کا چراغ عقل نہ کہ نفس کی خواہشیں تو جو لوگ اس چراغ کو گل کر کے اپنی خواہشوں کے پرستار بن جائیں گے آخر ان کو رستہ دکھانا کس کے بس میں ہے ! یہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ خواہشیں جتنی بھی ہیں وہ سب اندھی ہیں۔ وہ صرف اپنے مطالبے کو پورا کرنا چاہتی ہیں۔ ان کو اس سے کوئی بحث نہیں ہوتی کہ کیا حق ہے کیا باطل اور کیا خیر ہے کیا شر ؟ تو جو شخص ان کا پیرو بن جاتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ گویا وہی اس کی معبود ہیں، وہ اس طرح شیطان کے پھندے میں پھنس جاتا ہے کہ اس سے اس کے لئے چھوٹنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
ام تحسب ان الآیۃ یعنی تم (خطاب پیغمبر سے ہے) اس طرح جو ان کی اصلاح کی فکر میں اپنے رات دن ایک کئے ہوئے ہو تو کیا یہ توقع رکھتے ہو کہ ان کے اندر سننے اور سمجھنے کی کچھ صلاحیت ابھی باقی ہے۔ اگر تمہارا یہ خیال ہے تو یہ صحیح نہیں ہے۔ یہ اپنی سننے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں ضائع کر کے بالکل چوپایوں کے مانند بلکہ چوپایوں سے بھی بدترین چکے ہیں۔
یہ بات ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ عقل و خرد کو معطل کر کے خواہشوں کی پرستش کرنے والوں کے لئے قرآن نے چوپایوں کی تعبیر جو اختیار فرمائی ہے یہ کوئی مبالغہ کا اسلوب بیان نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت ہے۔ چوپائے بہر حال اور بہر شکل اپنی اس جبت پر قائم رہتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا۔ وہ اپنی خواہشات کی پیروی میں سر مو اپنی جبلت سے انحرات نہیں اختیار کرتے۔ لیکن انسان جب اپنی خواہشوں کا غلام بن جاتا ہیت و وہ جبلت اور فطرت کے تمام حدود توڑ کر چوپایوں سے بھی بدترین جاتا ہے۔
Ayahs 25:45–46آگے کا مضمون …… آیات 62-45
اوپر کے مجموعہ آیات میں آپ نے دیکھا کہ تاریخ کے شواہد کی روشنی میں پیغمبر ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ اب آگے کی آیات میں بعض آفاقی و کائناتی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن سے ان تمام باتوں کی تصدیق و تائید ہو رہی ہے جو آپ اپنی قوم کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ ان نشانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی ﷺ کو یہ تلقین بھی فرمائی گئی ہے کہ تمہیں اپنے مفوضہ فریضہ کے ادا کرنے کے لئے جن دلائل وبراہین سے مسلح ہونا چاہئے وہ گوناگوں اسلوبوں سے قرآن میں واضح کردیئے گئے ہیں تو تم اسی کتاب کے ذریعہ سے ان لوگوں پر اللہ کی حجت تمام کرنے کی کوشش کرو اور ان کے ان نت نئے مطالبات و اعتراضات کی کوئی پروا نہ کرو جو وہ تمہیں زچ کرنے یا محض اپنی ساکھ جمائے رکھنے کے لئے کر رہے ہیں۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
آیت 46-45
رات اور دن کو لانا صرف خدا کے اختیار میں ہے
الم تر کا خطاب یہاں فرداً فرداً ہر مخاطب سے ہے۔ اور ظل سے مراد یہاں شب کا سایہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ تمام دنیا پر پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ اس کو مستقل طور پر مسلط کر دے تو کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس کو ہٹا سکے۔ یہ اسی کی شان اور قدرت ہے کہ وہ ہر روز اس سایہ کو پھیلاتا اور ہر روز اس کو سمیٹتا ہے۔ اس دنیا کے بقا کے لئے جس طرح اس کا پھیلایا جانا ضروری ہے اسی طرح اس کا سمیٹا جانا بھی ناگزیر ہے اور ان دونوں باتوں میں سے کسی پر بھی اللہ وحدہ لاشریک لہ کے سوا کسی کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ وہی اپنے سورج کو ہر روز بھتاں تا ہے جو اس تاریکی کے اندر دلیل راہ بنتا اور اس کو آہستہ آہستہ کافور کرتا ہے۔ یہی مضمون سورة قصص میں یوں بیان ہوا ہے۔
آیت 73-71
ان سے کہو کہ بتائو اگر اللہ رات کو تمہارے اوپر قیامت تک کے لئے مسلط کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لئے روشنی کو لائے گا، کیا تم سنتے نہیں ! ان سے پوچھو کہ بتائو، اگر اللہ تمہارے اوپر دن کو قیامت تک کے لئے مسلط کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لئے شب کو لائے گا جس میں تم سکون پا سکو ! کیا تم دیکھتے نہیں ! یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور تاکہ تم اس کے فضل کے طالب بنو اور تاکہ تم اسی کے شکر گزار بنو۔
وجعلنا الشمس علیہ دلیلاً جس طرح کسی چیز کی دلیل اس کو کھولتی اور واضح کرتی ہے اسی طرح سورج شب کی عالمگیر تاریکی کے اندر دلیل راہ بنتا، اس کو ہٹاتا اور کھولتا ہے۔ اگر وہ روشنی نہ دکھائے تو سب بھٹکتے ہی رہ جائیں، کسی کو پہت نہ چلے کہ اس گنبد بےدر کے اندر سے نکلنے کی کوئی راہ بھی ہے یا نہیں !
Ayah 25:47رات اور دن کے فوائد و منافع
یہ اسی روز شب کی نشانیوں کی طرف ایک دوسرے زاویہ سے توجہ دلائی۔ فرمایا کہ وہی خدا ہے جس نے شب کو تمہارے لئے پردہ پوش بنایا، تم اس کی راحت بخش چادر اوڑھ کر آرام سے سو رہتے ہو اور تمہاری نیند کو تمہارے لئے دافع کلفت بنایا جو تمہیں از سر نو زندگی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئے تازہ دم اور چاق و چوبند بنا دیتی ہے پھر دن کو تمہارے لئے از سر نو اٹھنے کا وقت بنایا کہ تم خدا کے رزق وفضل کے طالب بنو اور یہ ہر صبح کو قیامت کے دن اٹھنے کی یاد دہانی بھی کرتا ہے کہ جس طرح تم شب میں سونے کے بعد صبح کو اٹھ بیٹھتے ہو اسی طرح موت کی نیند کے بعد صبح قیامت کو جاگ پڑو گے۔ لفظ نشور یہاں نہایت خوبی کے ساتھ موت کے بعد کی زندگی کی طرفاشارہ کر رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر دیکھنے والی آنکھیں اور سوچنے والے دل و دماغ ہوں تو روزانہ رات اور دن کی آمد و شد اور ان کے فوائد و منافع میں خدا کی قدرت، رحمت، ربوبیت، حکمت، توحید اور قیامت کی اتنی نشانیاں موجود ہیں کہ قرآن کی ہر بات کو ثابت کرنے کے لئے وہ کافی ہیں لیکن یہ نشانیاں ان کے لئے نافع ہیں جن کے اندر سوچنے سجھنے اور عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا ارادہ پایا جاتا ہو۔ جن کے اندر یہ ارادہ نہیں پایا جاتا وہ ان تمام نشانیوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے نئی نشانیوں ہی کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ اگٓے یہ مضمون آیت 64 میں بھی آ رہا ہے اور سورة نمل کی آیات 87-86 میں بھی آئے گا جس سے اس کے بعض دوسرے پہلو بھی روشنی میں آئیں گے۔
Ayahs 25:48–49آیت 49-48
بارش کی نشانیوں کی طرف اشارہ
رحمۃ یہاں بارش کے مفہوم میں ہے اور یہ لفظ اس معنی میں جگہ جگہ قرآن میں استعمال ہوا ہے رات اور دن کی آمد و شد کے اندر اللہ تعالیٰ کی جن صفات کا مشاہدہ ہو رہا ہے ان کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ بارش کی رحمت کی طرف توجہ دلائی جو ہرچند روز تو نہیں آتی لیکن اس زمین کا ہر جاندار اس کا محتاج ہے جب آتی ہے تو ہمیں پروردگار کی ان تمام صفات اور شانوں کا مشاہدہ کرا دیتی ہے جس پر قرآن کی دعوت کی بنیاد ہے۔
فرمایا کہ وہی خدا تمہارا رب ہے جو باران رحمت سے پہلے موسمی ہوائوں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے جو مختلف اطراف سے بادلوں کو ہانک کر لاتی ہیں، پھر ان کو تہ بہ تہ اکھٹا کرتی ہیں، پھر جہاں کے لئے رب کا حکم ہوتا ہے وہاں وہ بادل پاکیزہ اور پاکیزگی تیش پانی برسا دیتے ہیں جس سے مردہ زمین از سر نو حیات تازہ حاصل کرلیتی ہے اور خدا کی مخلوقات میں سے بیشمار چوپائے اور انسان اس سے سیراب ہوتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ غور کرو، کیا یہ دنیا جس کے ہر گوشے میں اتنی حکمتیں اور قدرتیں نمایاں ہیں بغیر کسی خالق کے وجود میں آگئی ہے۔ یہ سب کچھ محض کسی اندھی بہری علت العل کا کرشمہ ہے ؟ آسمان سے لے کر زمین تک ابر، ہوا، بارش اور انسان و حیوانات کی مالیتحاج میں یہ ربط آپ سے آپ پیدا ہوگیا ہے ؟ کیا اضداد کی اس باہمی ہم آہنگی کے مشاہدہ کے بعد یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اس کے اندر مختلف ارادے کار فرما ہیں ؟ کیا رحمت و ربوبیت کا یہ اہتمام انسان پر رب رحمان و رحیم کی طرف سے کوئی ذمہ داری عائد نہیں کرتا ؟ کیا ہر بارش کے بعد زمین کی از سر نو زندگی اس حقیقت کی یاد دہانی نہیں کر رہی ہے کہ جو حکیم و قدیر اپنی قدرت و حکمت کا یہ مشاہدہ برابر کرا رہا ہے اس کے لئے لوگوں کے مرنے اور مٹی میں مل جانے کے بعد ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا ذرا بھی مشکل نہیں ہے ؟
انسانوں اور چوپایوں کے ساتھ کثیر کی صفت لانے سے مقصود یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں ایسی مخلوقات بھی ہیں جن کو اس نے پانی کا محتاج نہیں بنایا ہے لیکن بہت سی مخلوقات ایسی ہیں جو اپنی زندگی کے لئے پانی کی محتاج ہیں۔ ان میں سے خاص طور پر چوپایوں اور انسانوں کا ذکر فرمایا جو نمایاں اور برتر ارضی مخلوقات میں سے ہیں۔ ان کے ذکر کے ساتھ ان کے توابع اور دوسری مخلوقات آپ سے آپ ان کے تحت آگئے۔
Ayahs 25:50–52آیت (52-50)
آنحضرت ﷺ طرف ایک التفات
یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ضمیر مفعول کا مرجع قرآن ہے جس کی تائید و تصویب ہی کے لئے اوپر کے دلائل بیان ہوئے ہیں۔ یہ نشانیوں کے ذکر کے بیچ میں نبی ﷺ کی طرف التفات ہے کہ جہاں تک دلائل کا تعلق ہے ان کی وضاحت کے لئے ہم نے اس قرآن کو لوگوں کے درمیان گوناگون اسلوبوں سے سنا دیا ہے کہ لیکن ان کی اکثریت اس نعمت کی قدر کرنے کی بجائے ناشکری اور انکار ہی پر اڑی ہوئی ہے تو اب نہ قصور تمہاری سعی کا ہے اور نہ ہمارے اہتمام تذکیر وتعلیم کا بلکہ سارا قصور ان لوگوں کا اپنا ہے۔
قرآن کے دلائل کے گوناگوں پہلو
تصریف کے مفہوم کی وضاحت دوسرے مقام میں ہوچکی ہے کہ قرآن نے ہر حقیقت کو اتنے گوناگوں پہلوئوں سے واضح کردیا ہے کہ صرف ضدی اور ہٹ دھرم ہی ان کو جھٹلا سکتا ہے۔ بینھم کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ مخاطب قوم کے ہر طبقہ اور ہر گروہ پر حجت تمام کردی گئی ہے۔ یہ نہیں ہوا ہے کہ تبلیغ وتعلیم کی یہ جدوجہد کسی خاص گروہ ہی کے اندر محدود رہی ہو۔
ولو شیناء لبعثنا فی کل قریۃ نذیراً یعنی اگر ہم دیکھتے کہ تمہارے اکیلے ہونے کے باعث دعوت و تبلیغ کے کام میں کوئی کسر رہی جا رہی ہے تو ہم ہر بستی میں ایک ایک منذر بھیج دیتے۔ ہمارے لئے یہ کام کچھ بھی مشکل نہیں تھا۔ لیکن کمی تمہاری طرف سے نہیں ہے بلکہ ساری خرابی خود ان لوگوں کے اندر ہے جو اپنے کان بند اور اپنی عیم معطل کئے ہوئے ہیں۔
فلا تطع الکفرین وجاھدھم بہ جھاد کبیر تو یہ لوگ نتے نئے مطالبات تمہارے سامنے محض تمہیں زچ کرنے کے لئے جو پیش کر رہے ہیں ان کی کوئی پروا نہ کرو۔ بلکہ اسی قرآن کے ہتھیار سے اس جہاد میں برابر لگے رہو۔ جہاد کبیراً میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چند ہے تو یہ جہاد نہایت کٹھن اگر ان لوگوں کی طلب کے مطابق کوئی عذاب ان پر بھیج دیا جائے تو چشم زدن میں سارے قضیہ کا فیصلہ ہوسکتا ہے لیکن حکمت الٰہی یہی ہے کہ عذاب الٰہی کے بجائے اس کتاب ہی کے اندر ادنیٰ رمق بھی حق کو قبول کرنے کی ہے وہ اگر چاہے تو حق کو قبول کرلے اور کسی کے لئے بھی عند اللہ کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
لفظہ اطاعۃ یہاں کسی کی بات ماننے اور اس کا لحاظ کرنے کے مفہوم میں ہے۔ دوسرے مقام میں اس کی وضاحت ہم کرچکے ہیں۔
Ayah 25:53کائنات کے اضداد کی باگ خدا کے ہاتھ میں ہے
مرج کے معنی چھوڑنے کے ہیں اور فرات کے معنی ہیں غایت درجہ شیریں و خوشگوار
حجر معجوراً کی وضاحت آیت 2 ہ کے تحت گزر چکی ہے۔ یہاں یہ مضبوط آڑ اور محکم اوٹ کے مفہوم میں ہے۔ حجراً معجوراً اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح ظلاظلیلاً وغیرہ ترکیبیں ہیں۔
التفات کی آیات کے بعد یہ پھر آفاق کی نشانیوں میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت کی ایک اور عظیم نشانی کی طرف توجہ دلائی کہ وہی خدا ہے جو ایک طرف سے شیریں پانی کے دریا کو چھوڑتا ہے دوسری طرف سے کھاری پانی کے سمندر کو دونوں کی موجیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ نہیں ہوتا کہ شیریں پانی کھاری بن جائے یا کھاری پانی شیریں بلکہ دونوں اپنے اپنے حدود کے اندر اپنی مزاجی خصوصیات باقی رکھتے ہیں۔ خدائے قدیر و حکیم ان کے درمیان ایک ایسیغ یر مئری دیوار کھڑی کردیتا ہے جو نہ کسی کو نظر آتی ہے اور نہ دونوں کا باہمی ٹکرائو اس کو توڑ ہی سکتا ہے۔ یہ اس بات کی صاف شہادت ہے کہ اس کائنات میں جتنے بھی اضداد ہیں سب ایک بالاتر حکیم و قدیر کے تصرف کے تحت ہیں، وہ جس کو جس حد تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے اور جس جگہ چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ وہ خدا کے مقررہ حدود سے سر موتجاوز کرسکیں۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اضداد کے وجود سے مشرک قوموں کو سب سے زیادہ گمراہی پیش آئی ہے۔ انہوں نے اس کائنات کو اضداد کی ایک رزم گاہ سمجھ لیا اور ان میں سے ہر ضد کو دیوتا قرار دے کر اس کی پرستش شروع کردی۔ قرآن نے اس مغالطہ کو مختلف اسلوبوں سے رفع فرمایا ہے جن کی وضاحت ہم نے ان کے محل میں کی ہے۔ یہاں بھی اس حقیقت کی طرف ایک نئے اسلوب سے توجہ دلائی ہے کہ اس کائنات میں جو اضداد ہیں وہ مطلق العنان نہیں ہیں بلکہ صاف نظر آتا ہے کہ ان کی باگ ایک بالاتر قوت کے ہاتھ میں ہے۔ اسی چیز کی طرف سورة رحمان میں بھی اشارہ فرمایا ہے۔ مرج البعرین یلتقین، بینھما برزخ لایبغین (20-19)
Ayah 25:54اضداد میں توافق کی ایک انفسی دلیل
نسباً و صھراً یعنی ذانسب وصھر نسب کا مفہوم تو واضح ہے۔ صھر اس قرابت کو کہتے ہیں جو سسرالی رشتہ سے وجود میں آئے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ نے پانی سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بھی پیدا کیا پھر ان دونوں کے اندر ایسے فطری داعیات ودیعت فرمائے کہ انسان ایک طرف نسبی تعلقات رکھنے والا بن سکے اور دوسری طرف سسرالی روابط کے ساتھ جڑ سکے اور اس طرح اس خاندان اور معاشرت و اجماعیت کی تعمیر کرنے والا بنے جس کے لئے خالق حکیم و قدیر نے اس کو وجود بخشا ہے۔ وکان ربک قدیراً یعنی یہ قدرت و اختیار صرف خدا ہی کو حاصل ہے کہ وہ ایک ہی پانی سے اضداد کو جود میں لائے اور پھر ان اضداد کو اپنی قدرت و حکمت سے ایک سلک میں پردے۔ یہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ ایک ہی حکیم و قدیر کا ارادہ اس پوری کائنات پر متصرف ہے۔ وہی اپنی قدرت سے ایک ہی مادہ سے اضداد کو جود میں لاتا اور پھر اپنی بےنہایت حکمت سے ان اضداد کے اندر وابستگی و پیوستگی پیدا کرتا ہے۔
یہ امر یہاں محلوظ ہے کہ اوپر کی آیات میں آفاقی دلائل بیان ہوئے تھے اور یہ دلیل انفسی دلائل میں سے ہے۔
Ayah 25:55شیطان سے دوستی اور خدا سے پیکار
آفاق وانفس کے دلائل و شواہد تو اس بات کو ثابت کر رہے ہیں کہ کائنات کا خالق ومالک اللہ وحدہ لاشریک ہے جو پوری قدرت و حکمت کے ساتھ اس کے نظام کو چلا رہا ہے لیکن یہ احمق لوگ ایسی چیزوں کی پرستش کر رہے ہیں جو نہ انہیں کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں، نہ کوئی نقصان
وکان الکافر علی ربہ ظھیراً ، کافر یہاں اس جنس کے مفہوم میں ہے اور اس سے مراد وہ مشرکین ہی ہیں جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے اس لئے کہ شرک اپنی حقیقت کے اعتبار سے کفر ہی ہے ظہیر کے معنی مددگار کے ہیں اور جب اس کے ساتھ علی آئیتو اس کے اندر حریف اور مدمقابل کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصل حقیقت تو وہ ہے جو بیان ہوئی لیکن یہ کافر اپنے رب حقیقی کے مقابل میں شیطان کے مددگار اور پانے پروردگار کے حیرف بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور خدائے واحد کی بندگی کی اس دعوت کی اپنی پوری قوت سے مخالفت کر رہے ہیں جو خدا کا رسول ان کو دے رہا ہے۔
Ayah 25:56نبی ﷺ کو تسلی
یہ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تمہاری ذمہ داری انذار وتبشیر ہے۔ تم اپنی دعوت ان لوگوں کو پہنچا دو اور اس کی تکذیب کے نتائج سے اچھی طرح آگاہ کر دو۔ اس کو قبول کرنا یا نہ کرنا ان کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اس کی بابت تم سے کوئی پرستش نہیں ہونی ہے۔
Ayah 25:57یعنی ان کو صاف صاف سنا دو کہ میں اس دعوت کا کوئی صلہ تو تم سے مانگ نہیں رہا تھا کہ تمہارے رد و قبول کا مجھ پر کوئی اثر پڑے۔ میں نے تمہارے رب کا پیغام تمہیں پہنچایا ہے اور مدعا صرف یہ ہے کہ جو اپنے رب کی راہ اختیار کرنا چاہئے وہ اس کو اختیار کرے اگر اس کو اختیار کرو گے تو اس کا نفع تمہی کو ہوگا اگر نہ اختیار کرو گے تو اس کا خیاپزہ تمہی بھگتو گے۔ اس سے مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ یہی مضمون سورة سبا میں یوں بیان ہوا ہے۔ قل ماسالتکم من اجرفھو لکم، ان اجری الا علی اللہ 47
Ayah 25:58یعنی اپنے خدائے حی لایموت پر بھروسہ رکھو۔ وہ زندہ خدا ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس پر بھروسہ کرنے والے کبھی محروم و نامراد نہیں ہوتے۔ اس میں ایک لطیف تعریض مشرکین کے ان مردہ خدائوں پر ہے جن کی نسبت فرمایا ہے کہ نہ وہ کوئی نفع پہنچا سکتے نہ نقصان۔
وسبح بحمدہ یہ حصول صبر و توکل کا وسیلہ ہے۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں نبی ﷺ کو صبر و توکل کی تلقین فرمائی گی ہے وہاں زیادہ سے زیادہ خدا کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہنے اور اہتمام نماز کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اس پر اس کے محل میں ہم وضاحت کے ساتھ بحث کرچکے ہیں۔
وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیراً یعنی اپنے ان مخالفین کا معاملہ اپنے رب کے حوالہ کرو۔
وہ ان کے تمام جرائم سے پوری طرح باخبر ہے اور جب باخبر ہے تو انکے ساتھ وہی کرے گا جس کے یہ سزوار ہیں۔
Ayah 25:59چند صفات الٰہی کی طرف اشارہ
یہ اسی خدائے حی لایموت کی مزید صفات بیان ہوئیں کہ اسی نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ چھ دنوں سے مراد، جیسا کہ اعراف 54 کے تحت ہم واضح کرچکے ہیں، خدائی ایام ہیں جن کے طول و عرض کو وہی جانتا ہے۔ ہم ان کو اپنی زبان میں چھ ادوار سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ اس میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کائنات کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر نہیں آگئی ہے بلکہ اس کے خالق نے اس کو نہایت اہتمام سے پیدا کیا ہے۔
ثم استوی علی العرش یعنی اس اہتمام سے اس کائنات کو پیدا کر کے اس کا خالق کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے جیسا کہ احمقوں نے گمان کیا ہے۔ اگر وہ ایسا کرتا تو یہ ایک کار عبث ہوتا اور ایک مدبر و حکیم کی شان کے یہ بات بالکل خلاف ہے کہ وہ کار عبث کرے۔ بلکہ وہ بالفعل اپنی اس کائنات کے عرش حکومت پر متمکن ہے اور اس کے سارے انتظام کی نگرانی فرما رہا ہے۔ اس میں جو ارتقاء ہوا ہے وہ خود بخود نہیں ہوا ہے بلکہ اس کے خالق کی تدبیر و حکمت سے ہوا ہے اور اس کے نظم و نسق میں اس کے سوا کسی کو بھی کوئی دخل نہیں ہے۔
الرحمن فسئل بہ خبیراً الرحمٰن خبر ہے، اس کا مبتدا محذوف ہے یعنی جس نے اس کائنات کو وجود بخشا ہے وہ رحمان ہے مخاطب کی پوری توجہ خبر پر مرکوز کرنے کے لئے مبتدا کو حذف کردیا۔ یہا صفت رحمان کی تذکیر سے مقصود خاص طور پر اس کائنات کے باغایت و بامقصد ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ اس کا خالق رحمان ہے اور اپنی اس رحمت ہی کے لئے اس نے اس کو پیدا کیا ہے۔ اس کی اس صفت کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک ایسا دن وہ لائے جس میں اس کی یہ رحمت اس کے کامل عدل کے ساتھ ظہور میں آئے۔ اس مضمون کی وضاحت اس کے محل میں ہوچکی ہے۔
خدا اپنی صفات کو خود ہی جانتا ہے
نسئل بہ خبیراً میں خطاب عام مخاطبوں سے ہے جن سے اوپر سے بحث چلی آرہی ہے اور ضمیر مجرور کا تعلق خبیر سے ہے۔ سئوال کے ساتھ ب کا صلہ اسی صورت میں آتا ہے جب یہ لفظ استہزاء کے مفہوم پر متضمن ہو۔ یہاں اس کا محل نہیں ہے۔ خبیر سے اللہ تعالیٰ نے خو داپین ذات والا صفات کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور اس کی تنکیر اظہار تفحیم کے لئے ہے۔ فرمایا کہ خدا نے اپنی جو صفتیں بیان فرمائی ہیں اس کی حقیقی صفتیں وہ ہیں نہ کہ وہ جو تم نے اپنے جی سے گھڑ کر اس کی طرف منسوب کر رکھی ہیں۔ اگر اس کی صفتیں معلوم کرنی ہیں تو اٹکل کے تیر تکے نہ چلائو بلکہ اسی خبیر سے معلوم کرو جو اپنی صفات سے سب سے زیادہ واقف خود ہے۔ بالکل اسی اسلوب میں سورة فاطر میں ارشاد فرمایا ہے : ویوم القیمۃ یکفرون بشرککم، ولاینبئک مثل خبیر (14) (اور قیامت کے دنت مہارے شرکاء تمہارے شرک کا انکار کردیں گے اور ایک باخبر سے بڑھ کر تمہیں کوئی دوسرا خبر نہیں دے سکتا !) ظاہر ہے کہ یہاں خبیر سے مراد اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنی کتاب اور اپنے رسول کے واسطہ سے لوگوں کو اصل حقائق سے آگاہ فرما رہا ہے۔
Ayah 25:60اسم رحمان پر قریش کا اعتراض اور اس کا جواب
یعنی اس کائنات کے خالق کی سب سے بڑی صفت تو رحمان ہے لیکن ان نادانوں کا حال یہ ہے کہ جب ان کو خدائے رحمان کو سجدہ اور اس کی عبادت کی دعوت دی جاتی ہے تو بڑی رعونت کے ساتھ جواب دیتے ہیں کہ یہ رحمان کیا چیز ہے ؟ کیا ہم ہر اس چیز کو سجدہ کریں جس کا تم ہمیں حکم دیتے ہو ؟ وزادھم نفوراً یعنی بجائے اس کے کہ مطلوب حقیقی کی طرف رہنمائی سے وہ خوش ہوں اور صدق دل سے اس کی قدر کریں، یہ چیز ان کی نفرت اور بیزاری کو بڑھاتی ہے۔
سورة نبی اسرائیل کی آیت 110 کے تحت ہم تفصیل کے ساتھ یہ بیان کرچکے ہیں کہ اہل عرب اگرچہ خدا کے لئے اسم رحمان سے ناواقف نہیں تھے، ان کے لٹریچر ہیں اللہ اور رحمان دونوں نام ملتے ہیں لیکن اس رحمان زیادہ معروف اہل کتاب کے ہاں تھا، مشرکین عرب زیادہ تر اسم اللہ ہی بولتے تھے۔ قریش کے لیڈروں نے اس چیز کو بھی قرآن کے خلاف اپنی قوم کو بھڑکانے کا ایک بہانہ بنا لیا۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ انہوں نے قرآن کے خلاف یہ بدگمانی پیدا کرنے کی بھی کوشش کی تھی کہ اس کی تصنیف میں بعض علماء اہل کتاب بھی شریک سازش ہیں۔ اس کے ثبوت میں وہ لفظ رحمان پیش کرتے کہ دیکھو اس کتاب میں لفظ رحمان بار بار آتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ اہل کتاب محمد ﷺ کے پردے میں ہمارے اوپر دینی تصورات کو مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ بدگمانی کی فضا میں اس طرح کے اشغلے عوام کو بھڑکانے کے لئے بڑے کار گر ہوتے ہیں۔ اس سے قومی اور مذہبی دونوں ہی قسم کے جذبات میں اشتعال پیدا ہوتا ہے چناچہ بہت سے جاہلوں کے اندر اسم رحمان کے خلاف ایک شدید قسم کی عصبیت و نفرت پیدا ہوگئی۔ قرآن نے ان کی اس حماقت پر سورة بنی اسرائیل میں بھی توجہ دلائی ہے اور یہاں بھی کہ یہ نام تمہارے لئے بیشمار برکتوں اور رحمتوں کا خزانہ ہے۔ دوسروں کی ضد میں اپنے کو اس بابرکت نام کی برکتوں سے کیوں محروم کرتے ہو !
Ayahs 25:61–62آیت 62-61
اصل ضرورت نشانیوں کی نہیں بلکہ نشانیوں سے فائدہ اٹھانی کی زیادہ کی ہے
اوپر کی آیات التفات کے بعد یہ آخر میں پھر آیات آفاق کی طرف توجہ دلائی کہ جہاں تک نشانیوں کا تعلق ہے ان کی کمی نہیں ہے۔ ضروتر کسی نئی نشانی کی نہیں بلکہ نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے جذبے اور ارادے کی ہے۔ جن کے اندر یہ جذبہ اور ارادہ نہیں پایا جاتا وہ ہر قسم کی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں۔
لمن برادن یذکر اواراد شکوراً تذکر عقل کا فعل ہے اور شکر دل کا۔ اللہ تعالیٰ نے عقل اور دل کو بیدار کرنے والی نشانیوں سے اس کائنات کے چپہ چپہ کو معمو کر رکھا ہے لیکن ان سے صحیح فائدہ اٹھانا انسان کے اپنے ارادے پر منحصر ہے اور اس ارادے کے امتحان ہی کے لئے اللہ تعالیٰ نے انس ان کو پیدا کیا ہے اور اسی پر اس کے تمام شرف کا انحصار ہے اس معاملہ میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا۔
روح سے مراد
جعل فی السمآء بروجاً بروج کی وفداحت سورة حجر کی آیت 16 کے تحت گزر چکی ہے۔ ہمارے نزدیک اس سے وہقلعے اور دیدبان مراد ہیں جو اس نظام کائنات میں اللہ تعالیٰ نے اس لئے بنائے ہیں کہ شیاطین جن و انس ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ ان قلعوں اور دید بانوں میں اللہ کے کردبیوں کا پہرہ رہتا ہے جو استراق سمع کرنے والے شیاطین کی نگرانی کرتے ہیں۔ یہ انتظام اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمایا ہے کہ علماء اعلیٰ کے حدود میں اس کے مقرب فرشتوں کے سوا کسی اور کی رسائی نہ ہو سکے۔ صرف وہی ان حدود میں داخل ہوتے ہیں اور وہی اس کی روحی اور اس کی القاء کی ہوئی غیب کی خبریں اس کے نبیوں اور رسولوں تک پہنچاتے ہیں۔ اس واسطہ کے سوا غیب کی باتیں معلوم کرنے کا کوئی اور واسطہ نہیں ہے اس وجہ سے غیب دانی کے دوسرے مدعی خواہ وہ کاہن و منجم ہوں یا کوئی اور ہو سب جھوٹے ہیں … یہ امر محلوظ رہے کہ اس انتظام کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے تبارک کی اسی تمہید سے فرمایا ہے جس سے سورة کا آغاز فرمایا ہے۔ یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یکسر خیرو برکت ہونے کا یہ الزمی تقاضا ہے کہ وہ وحی کے چشمہ صافی کو ہر قسم کی شیطانی دراندازیوں سے بالکل محفوظ رکھے اس لئے کہ روح اور دل کی زندگی اور دنیا و آخرت کی تمام صلاح و فلاح کا انحصار اسی پر ہے۔ یہاں ان اشارات پر اکتفا فرمایئے۔ اس مسئلہ پر مفصل بحث انشاء اللہ آخری گروپ کی سورتوں میں آئے گی۔
خلفۃ کا مفہوم وہی ہے جو قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں اختلاف الیل و انھار کے الفاظ سے تعبیہ وا ہے یعنی رات اور دن کی ایک دوسرے کے پیچھے گردش، یہ گردش جن حقائق کی یاد دہانی کرتی ہے ان کی وضاحت دوسرے مقامات میں ہوچکی ہے۔
Ayah 25:63آگے کا مضمون … آیات 77-63
خاتمہ سورة
آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ان بندوں کے اوصاف گنائے ہیں جن کی عقل و دل کی صلاحیتیں زندہ ہیں اور وہ اس کی نشانیوں اور اس کی نازل کی ہوئی کتاب سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ تصویر ان لوگوں کی ہے جو آگے بڑھ کر قرآن پر ایمان لانے والے بنے اور اسی تصویر سے ان لوگوں کا ظاہر و باطن بھی بالکل بےنقاب ہوگیا ہے جو قرآن اور پیغمبر ﷺ کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے تھے اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
ھون اور سلم کا مفہوم
ھون کے معنی خاکساری اور فروتنی کے ہیں اور سلام جس طرح خیر مقدم کے مواقع کے لئے ہے اسی طرح ان مواقع کے لئے بھی ہے جب کسی سے خوبصورتی اور شائستگی کے ساتھ علیحدہ ہونا اور اس سے پیچھا چھڑانا مقصود ہو۔ حضرت ابراہیم ؑ نے آزر سے علیدہ ہوتے وقت جو سلام کیا وہ اسی طرح کا سلام تھا۔
عباواشیان کے بعد عباد الرحمٰن کا بیان
اوپر کی آیات میں ان متمردین کا ذکر گزر چکا ہے جو کہ کبرو غرور کے نشہ میں نہ کسی بات کو سننے کے لئے تیار تھے نہ سمجھنے کے لئے یہاں تک کہ ان کے لئے خدا محبوب نام رحمان بھی ایک چڑ بن کر رہ گیا تھا وہ اس کے سننے کے بعد روا دار نہ تھے۔ اب ان کے مقابل میں یہ عباد الرحمان کی خصوصیات بیان ہوئی ہیں جس سے مقصود ایک طرف تو متمر دین قریش کے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دینا ہے جو ان کے آگے انسانیت کے اصلی حسن و جمال کو بےنقاب کر دے تاکہ اس طرح ان پر بھی ان کے ظاہری و باطنی عیوب اچھی طرح واضح ہوجائیں اور مسلمانوں پر بھی نہایت عمدہ پیرائے میں واضح ہوجائے کہ خدائے رحمان کے بندوں کو اس دنیا میں کیا روش اختیار کرنی ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے ظاہر و باطن کو کن محاسن سے آراستہ دیکھنا چاہتا ہے۔
اشکبار شیطان کی سنت ہے
یہاں موقع کلام کے تقاضے سے سب سے پہلے جس صفت کا حالہ دیا ہے وہ فروتنی و خاکساری ہے فرمایا کہ ہمارے یہ بندے زمین میں اکڑتے اور اترانے نہیں بلکہ نہایت واضح کے ساتھ چلتے ہیں یہ چلنے میں خاکساری ان کے باطن کے ایک عکس کی حیثیت سے مذکور ہوئی ہے۔ اصل مقصود اس حققتی کا اظہار ہے کہ ان کے دلوں پر خدا کی عظمت وکبریائی کی ایسی ہیبت طاری رہتی ہے کہ یہ چیز ان کے ہر اس قدم سے نمایاں ہوتی ہے جو وہ زمین پر رکھتے ہیں۔ انسان کے اندر استکبار ہو تو یوں تو وہ اس کی ہر حرکت سے نمایاں ہوتا ہے لیکن اس کی چال خاص طور پر اس کا مظہر ہوتی ہے اس وجہ سے یہاں خاص طور پر اس کا حوالہ دیا۔ مقصود دراصل جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، یہی ہے کہ ان کے دل استکبار سے پاک ہیں۔ استکبار کی حقیقت حق کے آگے اکڑنا ہے۔ اگر ایک شخص مہر حق کے آگے، خواہ وہ بڑا ہو چھوٹا، سر تسلیم خم کر دے تو وہ عباد الرحمٰن میں شامل ہے اگرچہ وہ حق کی حمیت و حمایت میں سینہ تان کر اور سر اونچا کر کے چلنے اور اگر وہ حق کے آگے سرکشی کرے تو وہ اولیائے شیطان میں سے ہے اگرچہ وہ اپنی چال میں مصنوعی طور پر کتنی ہی مسکینی پیدا کرلے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ استکبار ابلیس کی سنت ہے اور یہ وہ بس کی گانٹھ ہے جس کے ہوتے آدمی کے اندر کسی نیکی کا نشو و نما پانا ناممکن ہے۔
بدتمیزوں سے الجھنا عباد الرحمٰن کی شان کے خلاف ہے
واذا خاطبھم الجھلون قالوا سلماً مخاطبۃ یہاں الجھنے کے مفہوم میں ہے۔ یعنی جب اس طرح کے اجڈ اور بدتمیز لوگ، جن کی پیغمبر ﷺ پر پھبتیاں اوپر مذکور ہوئی ہیں، ان سے الجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان کو اپنے تمسخر و استہزاء کا ہدف بناتے ہیں تو وہ سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہیں، ان سے الجھنے کے بجائے ان کو سلام کر کے رخصت ہو اتے ہیں۔ سلام جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا کسی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا ایک شائستہ اور بابرکت طریقہ ہے۔ اس طرح اگر کسی سے علیحدگی اختیار کی جائے تو توقع ہے کہ اس کے اندر خیر کی کوئی رمق ہوگی تو وہ اپنے رویہ پر نظرثانی کرے گا اور الجھنے الجھانے کے بجائیبات سننے اور سمجھنے کی طرف مائل ہوگا اور اگر کسی کے اندر خیر کی کوئی رمق ہی نہیں ہے اور وہ محض مجادلہ و مناظرہ کے در پے ہے تو ایسے شخص کو منہ لگانا عبادالرحمٰن کے شایان شان نہیں ہے۔ یہ مضمون سورة قصص کی آیت 55 میں وضاحت سے آئے گا۔
Ayahs 25:64–66آیت 66-64
عباد الرحمٰن کی خلوت کی زندگی
اوپر کی آیت میں ان کی جلوت کی زندگی کے ایک خاص پہلو کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ سا آیت میں ان کی خلوت کی زندگی پر روشنی ڈالی گی ہے۔ فرمایا کہ وہ اپنی راتیں اپنے رب کے آگے سجود و قیام میں گزارتے ہیں۔ سجد او قیاماً کے اسلوب بیان سے جو شوق و اضطراب نمایاں ہو رہا ہے وہ محتاج بیان نہیں ہے ظاہر کہ اس سے صرف فرض نمازیں مراد نہیں ہیں بلکہ یہ تہجد کے سجود و قیام کی شب بیداریوں اور بےقراریوں کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی راتیں نہ عیش کدوں میں گزارتے اور نہ نرم و گرم بستروں میں دنیا و عاقبت سے بےفکر ہو کر سوتے بلکہ راتوں میں اٹھ اٹھ کر عذاب جہنم سے بچائے جانے کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔
ان عذابھا کان غراماً ، غرام لازم ہوجانے والی چمٹ جانے والی چیز کو کہتے ہیں۔ یہ ٹکڑا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اس اندیشے کی تائید و تصدیق کے طور پر ہے جس کے باعث وہ اپنی راتیں اس بےچینی و بےقراری میں گزارتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اس طرح عذاب جہنم سے پناہ مانگتے ہیں تو یہ بالکل صحیح اور نہایت عاقبت اندیشانہ کام کر رہے ہیں اس لئے کہ عذاب جہنم ایک ایسی چمٹ جانے والی چیز ہے کہ اس سے پیچھا چھڑانا ناممکن ہوگا۔ اس سے بچنے کے لئے جو کچھ کیا جاسکتا ہے اسی زندگی میں کیا جاسکتا ہے اور صرف خدا ہی کی مدد سے کیا جاسکتا ہے۔
انھا سآءت مستقراً وقماماً مستقر اور مقام یوں تو ہم معنی الفاظ کی حیثیت سے بھیاستعمال ہوتے ہیں لیکن جب یہ دونوں ایک ساتھ استعمال ہوں تو ان کے درمیان کچھ فرق ہوجاتا ہے۔ میں ان کے مواقع استعمال پر غور کرنے سے جس نتیجے پر پہنچا ہوں وہ یہ ہے کہ مستقر میں مستقل قیام گاہ کا مفہوم پایا جاتا ہے اور مقام عارضی جائے قیام کے لئے بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہنم ایک ایسی ہولناک جگہ ہے کہ مستقل مستقر کی حیثیت سے تو درکنار ایک عارضی منزل کی حیثیت سے بھی وہ گوارا کئے جانے کے قابل نہیں ہے حالانکہ کوئی بری سے بری جگہ بھی ایسی ہو سکتی ہے کہ کسی پہلو سے وہ وقتی طور پر گوارا کی جاسکے۔
Ayah 25:67انفاق کے لئے اہتمام
یہ ان کے اس اہتمام کی طرف اشارہ ہے جو ان کے اندر انفاق فی سبیل اللہ کے لئے پایا جاتا ہے۔ فرمایا کہ جب وہ اپنی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں تو اس میں احتیاط و کفایت شعاری محلوظ رکھتے ہیں۔ نہ وہ اس میں اسراف کو راہ دیتے ہیں نہ بخالت کو۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے مال میں دوسروں کے بھی حقوق ہیں۔ اس وجہ سے وہ اپنی ضروریات کو ان کے حدود سے متجاوز نہیں ہونے دیتے تاکہ دوسروں کے حقوق اد اکر سکیں۔ اگرچہ متوسط درجہ کی زندگی کے لئے کوئی ایک معین معیار مقرر کرنا مشکل ہے۔ اس میں حالات کی تغیر کے اعتبار سے فرق ہوسکتا ہے لیکن یہ فرق اتنا باریک نہیں ہے کہ ایک عادمی اس کو معلوم نہ کرسکے۔ اپنی قوم اور اپنے معاشرے کے معیار کو سامنے رکھ کر ہر صاحب مال اندازہ کرسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا کیا معیار رکھے کہ اپنے دوسرے غریب بھائیوں اور اپنے دین کی بھی خدمت کرسکے۔ اس معاملہ میں سلف صالحین نے ہمارے جو نمونہ چھوڑا ہے وہ یہ ہے کہ اپنے نفس کو الائونس دینے کے بجائے آدمی کا غالب رجحان دوسرے پہلو کی طرف رہنا چاہئے۔ یعنی وہ اپنا معیار زندگی اونچا کرنے کے خبط میں مبتلا ہونے کے بجائے زیادہ سے زیادہ انفاق فی سبیل اللہ کرے۔ اس راہ میں زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا بھی اسراف نہیں ہے۔ رہے وہ لوگ جو معیار زندگی اونچا کرنے کی تونس میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو وہ شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں اور ان کو کبھی خد اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ جس معاشرے میں یہ بیماری عام ہوجانی ہے بالآخر اس پر اشتراکیت کا عذاب مسلط ہو کر رہتا ہے۔
Ayah 25:68جرائم سے اجتناب
اثام کے معنی جوہری نے نتیجہ گناہ کے لئے ہیں۔ یہ اسی طرح کا استعمال ہے جس طرح کوئی فعل یا اسم لاتے ہیں اور مقصود اس سے اس کا ثمرہ نتیجہ ہوتا ہے۔ سیلقون غیا میں بھی یہی اسلوب محلوظ ہے۔ فرمایا کہ نہ وہ اپنے رب کا کسی کو شریک ٹھہراتے اور نہ کسی جان کو ناحق قتل کرتے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے۔ النفس التی حرم اللہ الا بالحق میں یہ حقیقت واضح فرمائی گی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جان کو محترم ٹھہرایا ہے اور اس پر تعدی حرام ہے حالانکہ وہ کسی ایسے جرم کا ارتکاب کرے جس کے نتیجہ میں وہ قانون الٰہی کی اس حفاظت سے محروم ہو ائے۔ یہ تینوں جرائم … شرک، قتل اور زنا … حقوق اللہ اور حقوق العباد کے سلسلہ کے سب سے بڑے جرائم میں سے ہیں۔ اس بات پر تمام آسمانی مذاہب کا اتفاق ہے۔ فرمایا کہ خدائے رحمان کے بندے ان جرائم کے پاس نہیں پھٹکتے۔ جو لوگ ان کے مرتکب ہو رہے ہیں یاد رکھیں کہ وہ ان کے انجام سے لازماً دوچار ہوں گے۔
Ayah 25:69یضعف لہ العذاب یوم القیمۃ ویخلد فیہ مھاناً 69
مضاعفۃ کے معنی کسی شے پر اضافہ کرنے کے ہیں۔ عام اس سے کہ یہ اضافہ دوگنا ہو یا اس سے زیادہ اور استعمالات سے یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کے اندر تدریجی اضافہ کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے جس طرح لاتا کلوالربا اضعافاً مضاعفۃ میں ہے۔
یہ اسی نتیجہ جرائم کا بیان ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا۔ فرمایا کہ جو لوگ ان جرائم میں سے کسی جرم کے مرتکب ہوں گے وہ قیامت میں ان کی سزا اس طرح بھگتیں گے کہ بالتدریج ان کی سزا میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا۔ یہ نہیں ہوگا کہ کچھ سزا بھگت کر وہ چھوٹ جائیں یا آہستہ آہستہ ان کی سزا میں کچھ تخفیف ہوجائے بلکہ وہ نہایت ذلت کی حالت میں اس عذاب میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔ عذاب پر ذلت کے اضافے نے اس کی سنگینی دوچند کردی ہے۔ عذاب ایسا بھی ہوسکتا ہے جو عذاب تو ہو لیکن اس میں ذلت نہ ہو لیکن اس عذاب میں ذلت کی مار بھی ہوگی۔ یہ امر محلوظ رہے کہ یہ باتیں قریش کے متکبرین کو سنائی جا رہی ہیں اور استکبار کی اصل سزا دائمی ذلت ہی ہے۔
Ayahs 25:70–71آیت 71-70
توبہ کے اثرات
فرمایا کہ اس نتائج اعمال کے عذاب سے صرف وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو توبہ و اصلاح کر کے ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرلیں گے۔ توبہ کے شرائط و آداب پر ہم نساء 18-17 کے تحت مفصل گفتگو کرچکے ہیں۔ یبدل اللہ سیاتھم حسنت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ توبہ کر کے ایمان و عمل صالح کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں ان کی نیکیاں ان کے اعمال نامے کے پچھلے گناہوں کو محو کردیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی جگہ پر ان کی نیکیوں کو رکھ دیتا ہے جو ان کے گناہوں کو ڈھانک لیتی ہیں۔
توبہ کرنے والوں کے لئے عظیم بشارت
ومن تاب وعمل صالحاً فانہ یتوب الی اللہ متاباً یہ ٹکڑا بالکل ومن یفعل ذلک یلق اثاماً کے مقابل میں ہے اور اس میں توبہ کرنے والوں کے لئے عظیم بشارت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنے گناہوں کے ساتھ ہی مریں گے وہ تو بہرحال اپنے گناہوں سے دوچار ہوں گے لیکن جو توبہ کرلیں گے وہ نہایت سرخروئی کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹیں گے۔ متاباً کی تاکید تفحیم شان کے لئے ہے یعنی یہ لوٹنا نہایت عزت و شان کا ہوگا۔ سیدنا مسیح نے کھوئی ہوئی بھیڑ والی تمثیل میں نہایت بلاغت سے یہ بات سمجھائی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے توبہ کرنے والے بندے کی توبہ سے کس قدر خوش ہوتا ہے اور اس کو اپنے کس درجے کے فضل و کرم سے نوازتا ہے۔ وہی بات اس آیت سے واضح ہو رہی ہے۔
اس میں توبہ کے لئے حوصلہ افزائی کا یہ پہلو بھی ہے کہ بسا اوقات آدمی گناہ کی زندگی چھوڑنے سے اس وجہ سے گھبراتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس نے یہ زندگی چھوڑ دی تو اسے اپنے لئے ایک نیا ماحول تلاش کرنا پڑے گا جو ایک نہایت مشکل کام ہے۔ یہ آیت ایسے لوگوں کو تسلی دیتی ہے کہ جو لوگ برائی اور برئے ماحول کو چھوڑتے ہیں ان کو اللہ کی معیت اور سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور جن کو یہ چیز حاصل ہو وہ ہر چیز سے مستغنی ہیں۔
Ayah 25:72لغویات سے احتراز
زوء، کذب و باطل کو کہتے ہیں اور لغو سے مراد وہ باتیں اور کام ہیں جو ثقہ و سنجیدہ لوگوں کے شایان شان نہ ہوں۔ فرمایا کہ ہمارے یہ بندے کسی باطل کام میں شریک نہیں ہوتے اور اگر کسی لغو چیز کے پاس سے گزرنا ہی پڑجائے تو نہایت وقار و شرافت سے وہاں سے گزر جاتے ہیں جس طرح ایک گندی جگہ سے ایک صفائی پسند آدمی گزر جاتا ہے۔ سورة قصص آیت 55 میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے۔ واذا سمعوا الغوا عوضوا عنہ وقالوالنا اعمالنا و لکم ”اعمالکم سلم علیکم ز لاتبتغی الجھلین (اور جب وہ لغو باتیں سنتے ہیں تو ان سے اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے ساتھ تمہارے اعمال ہمارا اسلام لو، ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔)
Ayah 25:73قرآن کے مخالفین پر تعریض
اس آیت میں اللہ کے ان بندوں کی تعریف بھی ہے اور ساتھ ہی اس میں قرآن کے ان اندھے بہرے مخالفین پر تعریض بھی جو قرآن کو محض اعتراض و نکتہ چینی کے لئے سنتے تھے۔ فرمایا کہ ہمارے ان بندوں کو قرآن کے ذریعہ سے جب تعلیم و تذکیر کی جاتی ہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس کی مخالفت کے لئے اس پر اندھے بہرے ہو کر نہیں گرتے۔ یہ مضمون سورة جن آیت 19 اور معارج آیات 37-36 میں تفصیل سے آئے گا۔
Ayah 25:74اہل و عیال کی عاقبت کی فکر
یہ لوگ اپنی عاقبت کی فکر کے ساتھ اپنے اہل و عیال اور اپنی آل و اولاد کی عاقبت کی بھی برابر فکر رکھتے ہیں۔ وہ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ کلم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ ہر شخص اپنے اہل و عیال کا چرواہا بنایا گیا ہے اور قیامت کے روز ہر شخص سے اس کے گلہ کے خیر و شر سے متعلق پرسش ہونی ہے۔ اس ذمہ داری کا کما حقہ، احساس رکھنے کی وجہ سے وہ اپنے اہل و عیال کے اندر ان لاء ابالی لوگوں کی طرح زندگی نہیں گزارتے جن کو صرف اپنے عیش دنیا کی فکر ہوتی ہے، اس امر سے انہیں کوئی بحث نہیں ہوتی کہ ان کے اہل و عیال نیکی کی راہ پر چل رہے ہیں یا بدی کی۔ ان لوگوں کے لا ابالی پن کا ذکر سورة قیامہ اور سورة مطففین میں آئے گا۔ اللہ کے بندوں کا حال اس سے بالکل شیطان کی راہ نہ اختیار کیر، سورة طور کی آیت انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین (26) اور ہم اس سے پہلے اپنے اہل و عیال میں ڈرنے والے تھے) میں ان کے اسی فکر و اندیشہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس اندیشے کی وجہ سے وہ برابر اپنے رب سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے رب ! ہم کو ہمارے اہل و عیال کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب کر، ان کے اعمال و اخلاق تیری پسند اور ہماری تمنائوں کے مطابق ہوں اور ہم اس دنیا میں صالحین و متقین کے سربراہ ہوں اور آخرت میں بھی صالحین و متقین کے سربراہ کی حیثیت سے اٹھیں، فساق و فجار کے امام کی حیثیت سے اٹھیں۔
ہم نے اس آیت کی جو تاویل کی ہے اس سے یہ بات واضح ہے کہ یہ قیادت و سیادت کے حصول کی دعا نہیں ہے بلکہ ہر صاحب کنبہ کو بالفعل جو سیادت حاصل ہوتی ہے اس کی ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کی دعا ہے۔ اس آیت کی فسیر ہم نے اپنی کتاب توضیحات میں بھی لکھی ہے۔ تفصیل کے طالب اسی کو پڑھیں۔
Ayahs 25:75–7676-75
تواضح کا صلہ جنت کی عالی مقامی
فرمایا کہ یہ لوگ جو مذکورہ بالا صفات سے متصف ہیں اپنے ان اوصاف و اعمال کے صلے میں جنت کے بالا خانے پائیں گے۔ انہوں نے دنیا میں تواضع اور فروتنی کی زندگی گزاری اس وجہ سے یہ جنت کی عالی مقامی کے سزا دار ہوں گے۔ حضرت مسیح نے فرمایا ہے مبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں۔ آسمان کی بادشاہی میں وہی داخل ہوں گے۔
بما صبروا سے یہ بات واضح ہوئی کہ ان اصواف کا پیدا کرنا اور ان کو برقرار رکھنا کوئی سہل بازی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے بڑے صبر و استقامت کی ضرور ہے۔ ویلقون فیھا تحیۃ و سلما یعنی جو لوگ اس امتحان صبر میں پورے اتر جائیں گے وہ بیشک اس بات کے سزا وار ہوں گے کہ خدا کے فرشتے مبارک سلامت کے ساتھ ان کا خیر مقدم کریں۔
حسنت مستقراً و مقاماً اوپر دوزخ کے لئے جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کے مقابل میں یہ الفاظ جنت کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مستقر ہونے کی حیثیت سے بھی خوب ہے اور مقام ہونے کے اعتبار سے بھی خوب ہے !