21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 21:32

وَ جَعَلْنَا السَّمَآءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا١ۖۚ وَّ هُمْ عَنْ اٰیٰتِهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 21:32 in the Quran reader

اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا اور وہ اس کی نشانیں سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

آسمان اور اس کی نشانیوں کی اشارہ زمین کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف اشارہ کرنے کے بعد آسمان کی طرف توجہ دلائی۔ فرمایا کہ آخر یہ نشانیاں طلب کرنے والے آسمان کی اس ناپید کنارسقف نیلگوں کو کیوں نہیں دیکھتے جس کی وسعت و پہنائی کی کوئی حد نہیں لیکن اس کے باوجود اس کے اندر کسی معمولی سے معملوی خلل کی بھی کوئی نشان دہی نہیں کی جاسکتی۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ چھت کب بنی لیکن اس امتداد زمانہ کے باوجود نہ اس پر کوئی کہنگی طاری ہوئی، نہ اس میں کوئی نقص و خلل پیدا ہوا۔ ہر قسم کے دراڑا اور شگاف سے بالکل محفوظ یہ قائم و دائم ہے۔ یہی مضمون سورة ق میں یوں بیان ہوا ہے۔ افلم ینظروآ الی السمآء فوقھم کیف بینھا وزینھا ومالھا من فروج (ق 6) کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف توجہ نہیں کی ؟ ہم نے اس کو کیسا بنایا اور کس طرح اس کو زینت دی اور کہیں اس میں دراڑ اور کوئی شگاف نہیں ! سورة ملک میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔ الذی خلق سبع سموت طباقاً ماتری فی خلق الرحمن من تفاوت فارجع البصر ھل تری من فطور ثم ارجع البصر کرتین ینقلب الیک البصر خاسئاً وھو حسیر (ملک 4-3) وہ ذات جس نے پیدا کئے سات آسمان تہ بہ تہ تم خدائے رحمان کی اس صنعت گری میں کوئی نقص نہیں پا سکتے۔ پس نگاہ دوڑائو کیا تم کوئی خلل دیکھتے ہو ؟ پھر دوباہر نگاہ دوڑائو، تمہاری نگاہ، ناکام اور تھک ہار کر واپس آجائے گی لیکن وہ کوئی خلل نہ پاسکے گی ! اس مضمون کی مزید وضاحت مطلوب ہو تو 99 بنی اسرائیل اور 33-27 نازعات پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ بعض لوگوں نے محفوظ سے یہ مراد لیا ہے کہ آسمان شیطان کی در اندازی سے محفوظ ہے۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے لیکن اس کا ایک خاص محل ہے۔ یہاں یہ چیز زیر بحث نہیں ہے۔ اس مسئلہ پر خدا نے چاہا تو سورة ملک کی تفسیر میں ہم بحث کریں گے۔ وھم عن ایتھا معرضون میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جہاں تک نشانیوں کا تعلق ہے ان کی تو کوئی کمی نہیں ہے، اس کائنات کی ہر چیز نشانی ہے لیکن یہ نشانیوں سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں تو ایسے اندھوں کا کیا علاج !
Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند بنائے۔ ان میں سے ہر ایک ایک خاص مدار کے اندر گردش کر رہا ہے

آسمان کی طرف اشارہ کرنے کے بعد آسمان کی نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ وہی خدا ہے جس نے رات اور دن، سورج اور چاند پیدا کئے۔ ہر چندان میں باہمدگر نسبت اضداد کی ہے لیکن یہ پورے توافق اور کامل ہم آہنگی کے ساتھ اس کائنات کی خدمت میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ ایک ہی قوت قاہرہ کے ہاتھ میں ان کی باگ ہے جو دنیا کے مجموعی مفاد کے لئے ان کو مسخر کئے ہوئے ہے۔ کل فی فلک یسبحون کل سے مراد سورج اور چاند ہیں۔ ہم دور سے محل میں ذکر کرچکے ہیں کہ لفظ کل جب اس طرح آتا ہے تو یہ معرفہ کے حکم میں ہوتا ہے اور اس سے مراد سابق الذکر چیزیں ہی ہوتی ہیں عام اس سے کہ وہ دو ہیں یا اس سے زائد فرمایا کہ یہ سورج اور چاند اپنے اپنے معین مدار میں حرکت کرتے ہیں، مجال نہیں کہ سرموان سے منحرف ہو سکیں، اگر ذرا بھی ادھر ادھر ہو ائیں تو سارے نظام کائنات میں خلل واقع ہوجائے۔ منٹ اور سکینڈ کی پابندی کے ساتھ ان کا اپنی ڈیوٹی میں لگے رہنا اور بلا کسی ادنیٰ تخلف و توقف کے ہمیشہ لگے رہنا صاف اس بات کی شہادت ہے کہ حاکم کائنات کے محکوم اور اسی کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ اب یہ کیسی خرو باختگی ہے کہ ان نشانیوں کے ہوتے ہوئے جن کا دن کی روشنی اور رات کی تاریکی دونوں میں یہ مشاہدہ کر رہے ہیں، کسی اور نشانی کا یہ مطالبہ کرتے ہیں اور اس سے بھی بڑی سفاہت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے سورج اور چاند کو بھی معبود بنا رکھا ہے درآنحالیکہ وہ رات دن اپنے محکوم و مسخر نے کی منادی کر رہے ہیں !
Ayahs 21:34–35

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کو ہمیشہ کی زندگی نہیں بخشی تو کیا اگر تم مر جانے والے ہو تو یہ ہمیشہ رہین والے ہیں !

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

ہر جان کو موت کا مزالازماً چکھنا ہے اور ہم تم لوگوں کو دکھ اور سکھ دونوں سے آزما رہے ہیں پرکھنے کے لئے اور ہماری ہی طرف تمہاری واپسی ہونی ہے

آگے کا مضمون ……آیات 47-34 پیچھے آیت 8 پر ایک نظر ڈال لیجیے بات یہاں سے چلی تھی کہ مخالفین اس بنیاد پر آنحضرت ﷺ کا مذاق اڑا رہے تھے کہ آپ رسول کس طرح ہو سکتے ہیں جب کہ آپ بھی اسی طرح کے ایک بشر ہیں جس طرح کے عام بشر ہتے ہیں اور مال و جاہ کے اعتبار سے بھی آپ کو کوئی امتیاز حاصل نہیں پھر وہ یہ کہتے کہ اگر ہم سے اپنی رسالت تسلیم کرانی ہے تو آپ کوئی ایسی نشانی دکھائیں جو یہ ثابت کر دے کہ فی الواقع آپ کی بات سچی ہے اوپر کی آیات میں نشانیوں کے مطالبہ کا جاب دیا۔ اب آگ کی آیات میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ تم ان لوگوں کے استہزا کی پروا نہ کرو۔ اب وقت آ رہا ہے کہ یہ تمہاری ہر بات کی صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور ان کی یہ ساری اکڑخوں ختم ہوجائے گی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ آیت 35-34 رسول کی بشیرت پر اعتراض کرنے والوں کو جواب آیت 3 میں کفار کا آنحضرت ﷺ پر یہ اعتراض گزر چکا ہے کہ ھل ھذا الا بشر مثلکم (یہ تو بس تمہارے ہی جیسے ایک بشر ہیں) یعنی جس طرح تم کھاتے پیتے ہو اسی طرح یہ بھی کھاتے یتے ہیں اور جس طرح تم ایک دن مر جائو گے اسی طرح یہ بھی ایک دن مر جائیں گے تو اپنی ہی جیسے ایک انسان کو نبی و رسول ماننے کے کیا معنی ؟ وہاں اس اعتراض کا جواب ایک دوسرے پہلے سے دیا ہے۔ یہاں اسی اعتراض سے پھر تعرض فرمایا اور اعتراض کرنے والوں کے مافی الذہن پر ایک اور پہلو سے ضرب لگائی۔ فرمایا کہ نبی اور رسول ہونے کے لئے زندہ جاوید ہونا ضروری نہیں۔ اگر تم کو موت آتی ہے تو تم سے پہلے ہر بشر کو خواہ نبی ہو یا غیر نبی، یہ آئی ہے اور ہر ایک کو آئے گی۔ تم سے پہلے کوئی بھی ایسا نہیں گزرا ہے جو اس چیز سے محفوظ رہا ہو۔ اگر تم ایک دن وفات پا ئو گے تو یہ بھی ہمیشہ زندہ رہنے والے نہیں ہیں۔ یہ بھی لازماً ایک دن اس موت سے دوچار ہوں گے۔ یہ موت تو لازمہ بشریت ہے۔ اس کا مزا تو ہر ایک کو چکھنا ہے۔ مطلب یہ کہ ان کے اس اعتراض میں اگر کوئی وزن ہوسکتا تھا تو اس صورت میں جب یہ زندگی جاوداں لے کے آئے ہوتے۔ اس وقت تو یہ کہہ سکتے تھے کہ بھلا ہم حیات ابدی کے مالک ایک فانی انسان کو کس طرح رسول مان لیں لیکن جب یہ بھی فانی ہیں تو آخر رسول ان کو کیوں غیر فانی مطلوب ہے ! رسول کے لئے نہ مافوق بشر ہونا ضروری ہے نہ مال دار وقبلوکم بالشروالخیر فتنۃ ط والینا ترجعون یہ اسی اعتراض کے ایک دوسرے پہلو کا جواب ہے کفار جس طرح آپ کے بشر ہونے پر معترض تھے اسی طرح وہ یہ بھی کہتے کہ اگر خدا کو کسی بشر ہی کو رسول بنانا ہوتا تو وہ مکہ یا طائف کے کسی رئیس کو رسول بناتا ان کو کیوں رسول بناتا جو مال و جاہ سے محروم ایک غریب آدمی ہیں۔ اس طعن کا جواب قرآن نے مختلف پہلوئوں سے جگہ جگہ دیا ہے۔ یہاں بھی اسی کا جواب ایک نئے انداز سے دیا ہے۔ فرمایا کہ رسول کے لئے جس طرح مافوق بشر ہونا ضروری نہیں اسی طرح اس کا صاحب مال و جائیداد ہونا بھیضروری نہیں ہے۔ اس دنیا میں امارت نہ کسی کے مقرب الٰہی ہونے کی دلیل ہے، نہ غربت اس کے حقیر ہونے کی دلیل ہے اس دنیا میں غربت و امارت دکھ اور سکھ رنج اور راحت صرف امتحان کے لئے ہے۔ ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا اور ان کے کھرے کھوٹے میں امتیاز فرماتا ہے جب وہ کیل کو مال و جاہ دیتا ہے تو اس کے شکر کا امحتان کرتا ہے اور جب فقر و غربت دیتا ہے تو اس کے صبر کا امتحان کرتا ہے۔ پھر سب کی واپسی خدا ہی کی طرف ہوگی اور وہ فیصلہ فرمائے گا کہ کس نے کمایا اور کس نے کھویا ؟ مال و دولت پا کر جو لوگ اپنے آپ کو خدا کا منظور نظر سمجھ بیٹھتے ہیں یہاں تک کہ نبوت و رسالت کو بھی اپنا اجارہ خیال کرنے لگتے ہیں، وہ بالکل برخود غلط ہیں۔ آیت میں لفظ فتنۃ کو زمخشری نے تاکید فعل کے مفہوم میں لیا ہے لیکن میرے نزدیک یہ مفعول لہ ہے۔ میں نے ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھا ہے۔ اس لفظ کی تحقیق سورة طہ کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہے۔
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا جب تم کو دیکھیت ہیں تو بس تم کو مذاق بنا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں، اچھا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کی ہجو کرتا ہے ! اور حال یہ ہے کہ یہ خدائے رحمان کے ذکر کے منکر ہیں

مٹی کی موروں کے لئے غیرت مند اور خدائے رحمان کے لئے بےغیرت آنحضرت ﷺ کا جس انداز اور جس لب و لہجہ میں وہ مذاق اڑاتے، یہ اس کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ توحید اور قیامت کے یہ منکرین جہاں کہیں تمہیں دیکھ پاتے ہیں تمہارا مذاق اڑاتے ہیں اور بڑی تحقیر کے انداز میں کہتے ہیں کہ اچھا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے۔ ذکر کرتا ہے، یعنی برائی کے ساتھ ذکر کرتا ہے۔ یذکر الھتکم کے بعد بالسوء کا لفظ بربنائے غیرت و حمیت وہ حذف کردیتے۔ گویا اپنے بتوں کے لئے برائی کا لفظ اپنی زبان پر لانا انہیں بطور نقل کفر بھی گوارا نہیں۔ یذکر الھتکم میں ضمیر خطاب اپنے عوام کو بھڑکانے کے لئے ہے۔ یوں نہیں کہتے تھے کہ ہمارے معبودوں کی ہجو کرتا ہے بلکہ یوں کہتے کہ تمہارے معبودوں کی ہجو کرتا ہے۔ دونوں اسلوبوں کا فرق واضح ہے۔ وھم یذکر الرحمٰن ھم کفرون فرمایا کہ مٹی اور پتھر کی بنی ہوئی مورتوں کے لئے تو ان کے اندر یہ غیرت و حمیت ہے کہ جہاں کہیں ہمارے رسول کو دیکھ پاتے ہیں جھاڑ کے کانٹوں کی طرح اس کے پیچھے پڑجاتے ہیں لیکن معبود حقیقی۔ خدائے رحمان … کے معاملہ میں ان کی حس اس طرح مردہ ہوچکی ہے کہ اس کے لئے غیرت و حمیت تو درکنار اس کے ذکر کے بھی روا دار نہیں۔ یہ امر ہیاں محلوظ رہے کہ جو لوگ کسی شرک میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے دل ایسے اوندھے ہوجاتے ہیں کہ اپنے شرکاء کے لئے تو ان کی حس اتنی تیز ہوتی ہے کہ ان کی حمیت و حمایت میں وہ ہر ایک سے لڑنے کے لئے آستین چڑھائے رہتے ہیں لیکن خدا کے معاملے میں وہ بالکل بےغیرت ہوتے ہیں۔ اگر ان کے سامنے کوئی نعوذ باللہ خدا کو گالی بھی دے تو بھی ان کے اندر کوئی حرکت نہیں پدیا ہوتی ! اس کی ایک خاص نفسیاتی وجہ ہے جس کی طرف قرآن مجید نے بعض جگہ اشارہ کام ہے۔ کسی موزوں مقام پر اس کی وضاحت آئے گی۔
Ayahs 21:37–38

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان عجلت کے خمیر سے پیدا ہوا ہے تو میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائوں گا، تو تم مجھ سے جلدی نہ مچائو !

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا، اگر تم سچے ہو

آیت 38-37 عذاب کے لئے جلد بازی کا جواب انسان سے مراد یہاں یہی مذاق اڑانے والے ہی لوگ ہیں۔ ایسے ناشائستہ لوگوں کا ذکر عام لفظ سے کردیا ہے۔ فرمایا کہ پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کا تہتک کرنے کے لئے یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جس عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو آخر وہ کہاں اٹکا ہوا ہے ! اگر سچے ہو تو اس کو لا کر دکھا کیوں نہیں دیتے کہ اس نزاع کا فیصلہ ہوجائے۔ جواب میں ارشاد ہوا کہ یہ تاخیر تو خدا کی عنایت سے ہو رہی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جو لوگ اس فرصت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے عذاب کے جلدی مچائے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ان کو خطاب کر کے تہدید کے انداز میں فرمایا کہ اگر عذاب کے طلبگار ہو تو جلدی نہ مچائو، میں بہت جلد اپنے عذاب کی نشانیاں تم کو دکھائوں گا جس سے تم پر واضح ہوجائے گا کہ پیغمبر جس چیز سے تمہیں آگاہ کر رہا ہے وہ دنیا میں بھی تمہارے سامنے آ کے رہے گی اور آخرت میں بھی تم اس سے دوچار ہو گے۔
Ayah 21:39

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

کاش یہ کفر کرنے والے جان پاتے اس وقت کہ جب کہ یہ عذاب نار کو نہ اپنے چہروں سے دفع کرسکیں گے، نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی کسی طرف سے کوئی مدد ہو گی

آیت 39 یہ بانداز حسرت فرمایا کہ آج تو یہ اس ڈھٹائی کے ساتھ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اس کے لئے جلدی مچائے ہوئے ہیں، کاش یہ اس وقت کا بھی کچھ اندازہ کر پاتے جب خدا کے عذاب کی آگ ان کو آگے پیچھے ہر طرف سے گھیر لے گی اور ان کی بےکسی کا یہ حال ہوگا کہ نہ یہ اپنے آگے سے اس کو دفع کرسکیں گے، نہ یچھے سے اور نہ ان کے ان حمایتوں کی طرف سے ان کی کوئی مدد ہو سکے گی جن کی جمعیت پر ان کو ناز ہے اور نہ ان معبودوں ہی سے ان کو کچھ سہارا مل سکے گا جن کے بل پر وہ خدا سے اکڑ رہے ہیں !
Ayah 21:40

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ وہ اچانک ان پر آدھمکے گی اور ان کو مبہوت کر دے گی۔ نہ وہ اس کو دفع ہی کرسکیں گے اور نہ ان کو مہلت ہی ملے گی

فرمایا کہ وہ جب آئے گی تو دقت بتا کر نہیں آئے گی۔ اس کا صحیح وقت نہ کسی کو معلوم ہے نہ معلوم ہوسکتا ہے۔ اس وجہ سے یہ نہ پوچھو کہ وہ کب آئے گی ! وہ جب اس کا وقت آجائے گا اچانک آدھمکے گی۔ اس وقت نہ اس کا امکان ہوگا کہ وہ اس کو دفع کرسکیں اور نہ ان کو اس کے بعد کوئی مہلت ہی دی جائے گی کہ وہ ذرا دم لے لیں یا تو بہ و اصلاح کر کے اس سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔
Ayah 21:41

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے گھیر لای جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے

آنضحتر صلعم کی تسلی کے لئے تاریخ کا حوالہ یہ آنحضرت ﷺ کی تسلی کے لئے تاریخ کا حوالہ ہے کہ تم سے پہلے اللہ کے جو رسول گزرے ہیں ان کے انذار کا بھی اس طرح مذاق اڑایا گیا جس طرح تمہارے انذار کا مذاق اڑایا جا رہا ہے بالآخر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس عذاب کا مذاق اڑایا گیا اس نے ان لوگوں کو آگھیرا جنہوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ مطلب یہ ہے کہ وہی روز بد تمہارے ان مذاق اڑانے والوں کے سامنے بھی آنے والا ہے۔ سخروامنھم سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسولوں کی تکذیب کے نتیجہ میں ان قوموں پر جو فیصلہ کن عذات اتا ہے اس میں صرف وہی لوگ ہلاک ہوتے ہیں جو اپنی تکذیب پر اڑے رہ جاتے ہیں اس سنت الٰہی کی طرف دوسرے مقامات میں اشارہ کرچکے ہیں۔
Ayah 21:42

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ رات اور دن خدائے رحمان کی پکڑ سے کون تہاری حفاظت کر رہا ہے ؟ بلکہ یہ لوگ اپنے رب کی تنبیہ سے روگردانی کر رہے ہیں !

عذاب کے لئے جلدی مچانے والوں سے ایک سوال فرمایا کہ عذاب کے لئے جو لوگ اتنی جلدی مچائے ہوئے ہیں ان سے پوچھو کہ اس سے بچنے کے لئے انہوں نے کیا بندوبست کر رکھا ہے ! آخر رات اور دن خدائے رحمان کی پکڑ سے بچانے کے لئے ان کی کون حفاظت کر رہا ہے ؟ خدا کا عذاب رات میں آجائے یا دن میں کوئی اس کو روکنے والا نہیں بن سکتا تو اس طنطنہ کے ساتھ جو یہ اس کا مطالبہ کر رہے ہیں اس کے مقابلہ کے لئے ان کے پاس کون سا لشکر ہے ! بل ھم عن ذکر ربھم معرضون یہ ان کی اس بدبختی پر اظہار فاسوس ہے کہ ان کے اس سارے طنطنہ کی عمارت ریت پر قائم ہے۔ یہ نہیں ہے کہ خدا کی پکڑ سے بچنے کے لئے انہوں نے کوئی انتظام کر رکھا ہے، جس کے بل پر اکڑ رہے ہوں بلکہ انجام سے بےپروا ہو کر خدا کی یاد دہانی سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔
Ayah 21:43

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ان کے لئے ہمارے سوا کچھ اور معبود ہیں جو ان کو بچا لیں گے ! نہ وہ خود اپنی مدد کرسکیں گے اور نہ ہمارے مقابل میں ان کی کوئی حمایت کی جاسکے گی !

یعنی کیا ان کی سرپرستی اور حفاظت کرنے کے لئے ہمارے سوا ان کے کچھ معبود ہیں جو ہماری پکڑ سے ان کو بچا لیں گے ؟ اگر یہ اس طمع خام میں مبتلا ہیں تو انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ ان کی مدد تو بھلا کیا کریں گے خدا کے مقابل میں وہ خود اپنی بھی مدد نہ کر سکیگا اور نہ کسی دوسرے ہی کی مدد ورفاقت ان کو حاصل ہو سکے گی۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ مشرکین کے خود تراشیدہ اصنام کی اول تو کوئی حقیقت تھی ہی نہیں، اگر بالفرض کسی کا کوئی وجود تھا تو اس کی بابت فرمایا کہ وہ خدا سے خود اپنے کو نہ بچا پائیں گے تو دوسروں کو بھلا کیا بچا سکیں گے !
Ayah 21:44

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ اسی حال میں ان پر ایک طویل مدت گزر گئی۔ تاہم کیا وہ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم سر زمین (مکہ) کی طرف اس کو اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے بڑھ رہے ہیں ! تو کیا یہ لوگ غالب رہنے والے ہیں

اصل سبب استکبار و اعراض یہ ان کے اصل سبب استکبار و اعراض سے پردہ اٹھایا ہے کہ ایک طویل مدت تک خدا کی نعمتوں سے بہرہ مند رہنے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کے دل سخت و سیاہ ہوچکے ہیں۔ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ عزت و اقتدار جو ان کو حاصل ہے ان کے آباء و اجداد کا ورثہ ہے، یہ اس کے موروثی حق دار ہیں، اسی میں وہ پیدا ہوئے ہیں، اسی میں عیش کریں گے اور اس کے وارث ان کے اخلاف ہوں گے۔ اس زعم باطل نے پیغمبر کے انذار سے ان کو بالکل بےپروا کر رکھا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر کی ساری تنبیہات محض ہوائی ہیں۔ ان کے اقتدار کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ ایک طویل مدت تک خدا کی نعمت سے برہ مند رہنے کا نتیجہ نا شکروں پر قساوت قلب ہی کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔ سورة حدید میں اس کا ذکر آیا ہے۔ آیت 16 اور ان لوگوں کی طرح بن کر نہ رہ جائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تو ان پر ایک طویل مدت گزر گئی اور ان کے دل سخت ہوگئے۔ افلا یرون انا ناتی الارض نفقصھا من اطرافھا الارض سے مراد یہاں سر زمین مکہ ہے۔ سورة حج میں جہاں مسلمانوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ سر زمین حرم کو کفار کے تسلط سے آزاد کرانے کے لئے جہاد کریں وہاں فرمایا ہے کہ (آیت 41) ہم ان لوگوں کی مدد کریں گے جن کا حال یہ ہے کہ اگر ہم نے ان کو سر زمین حرم میں متمکن کیا تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے، زکوۃ ادا کریں گے، نیکی کا حکم دیں گے، منکر سے روکیں گے اور عاقبت کار کی کامیابی اللہ کے اختیار میں ہے) قرینہ دلیل ہے کہ یہاں الارض سر زمین حرم ہی کے لئے آیا ہے بعینیہ یہی مضمون سورة رعد آیت 41 میں بھی بیان ہوا ہے۔ وہاں ہم وضاحت سے اس کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈال چکے ہیں۔ آیت زیر بحث میں ان آثار کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس دور میں غلبہ اسلام کے لئے نمایاں ہوچکے تھے۔ مکہ میں حق و باطل کی جو کشمکش برپا تھی اس میں مکہ کے حد تک تو حق ابھی مظلوم تھا لیکن اطراف کے قبائل اور خاص طور پر مدینہ میں اسلام کی دعوت جڑ پکڑ رہی تھی جس سے بالتدریج یہ بات واضح ہو رہی تھی کہ کفر کا حیطہ اقتدار کم ہو رہا ہے اور اسلام مکہ کے اطراف سے مکہ کو زیرنگیں کرنے کے لئے اس کو آہستہ آہستہ اپنے گھیرے میں لے رہا ہے۔ اسلام کے اسی تدریجی غلبہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کیا یہ لوگ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ ہم اطراف مکہ سے ان لوگوں کے تسلط کو بالتدریج کم کرتے ہوئے مکہ کی طرف بڑھ رہے ہیں ! افھم الغلبون یعنی یہ قرائن اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ اس کشمکش کے نتیجہ میں یہ غالب رہیں گے یا اس بات کی شہادت دے رہے ہیں کہ اسلام اور اس کے علمبردار غالب رہیں گے ! اگر کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو یہ لوگ ان آثارکو کیوں نہیں دیکھتے جو ان کے اپنے اطراف میں نمایاں ہو رہے ہیں !
Ayahs 21:45–46

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

کہہ دو ، میں تمہیں بس وحی کے ذریعہ سے آگاہ کر رہا ہوں لیکن بہرے، جب وہ خطرے سے آگاہ کئے جاتے ہیں، پکار کو نہیں سنتے

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر تمہارے رب کے عذاب کا کوئی جھونکا ان کو پہنچ گیا تو پکار اٹھیں گے کہ ہائے ہماری بدبختی ! بیشک ہم اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے

آیت 46-45 فرمایا کہ جو لوگ تم سے کسی نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ میں تو تم کو کسی اس طرح کی نشانی کے بجائے صرف وحی کے ذریعہ سے متنبہ کر رہا ہوں تاکہ تم کسی آفت میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنی عقل و بصیرت سے کام لے کر خدا کے غضب سے بچنے کی فکر کرو۔ یہ چیز تمہارے لئے نافع اور شکر کی سزاوار تھی لیکن تم اس کی قدر کرنے کے بجائے اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہو ! ولا یسمع الصم الدعآء اذا ماینذرون یہ پیغمبر ﷺ کو تسلی ہے کہ اگر یہ لوک اس نعمت کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو یہ ان کی اپنی محرومی ہے۔ یہ عقل و دل کے بہرے ہیں اور جو بہرے ہوتے ہیں وہ جب کسی خطرے سے آگاہ کئے جاتے ہیں تو داعی کی پکار کو نہیں سنا کرتے یہاں تک کہ وہ اس کھڈ میں گر کے رہتے ہیں جس سے انہیں آگاہ کیا جاتا ہے۔ ولئن مستبھم لفخہ الایہ یعنی آج تو یہ اس ڈھٹائی کے ساتھ عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں گویا وہ اس سے نبرد آزما ہونے کے لئے جملہ اسلحہ سے لیس کھڑے ہیں لیکن ان کی یہ ساری مشیخت صرف اسی وقت تک کے لئے ہے جب تک وہ نمودار نہیں ہوتا۔ اگر قہر الٰہی کا کوئی ادنیٰ جھونکا بھی کسی طرف سے آگیا تو یہ ساری مشخیت ہرن ہوجائے گی، پھر یہ سرپیٹیں گے کہ ہائے ہماری بدبختی ! ہم خود اپنی جانوں پر آفت ڈھانے والے بنے کہ ہم نے رسول کی وحی سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اس سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ نفحتہ کی تنکیر یہاں اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ خدا کا عذاب تو بڑی چیز ہے اگر اس کا کوئی معمولی جھونکا بھی ان کو چھو گیا تو ان کے سارے کس بل نکال دے گا !
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے تو کسی جان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور اگر کسی کارروائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی عمل ہوگا تو ہم اس کو موجود کردیں گے اور ہم حساب لینے کے لئے کافی ہیں

قیامت ظہور عدل کے لئے ہے الموازین القسط لیوم القیمۃ میں ل کو مفسرین نے فی کے معنی میں لیا ہے لیکن میرے نزدیک یہ غایت و مقصد کے مفہوم میں ہے۔ یعنی مقصد قیامت کے ظہور کے لئے ہم عدل کی مزا ان نصب کریں گے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ قیامت بجائے خود مقصود نہیں ہے بلکہ یہ خدا کے عدل و انصاف کے ظہور کے لئے لازمی ہے۔ وان کان میں کان کا اسم بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہے اور اتینابھا میں ضمیر مئونث حبۃ کی مناسبت سے ہے۔ فرمایا کہ مقصد قیامت یعنی جزا و سزا کو بروئے کار لانے کے لئے ہم عدل کی میزانیں نصب کریں گے تو اس دن کسی جان پر کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ ہر جان ٹھیک ٹھیک کانٹے کی تول اپنے اعمال کا بدلہ پائے گی۔ رائی کے دانہ کے برابر بھی اگر کسی کا کوئی عمل ہوگا تو ہم اس کو بھی اس کے سامنے حاضر کردیں گے۔ وکفی بنا حسنین ہم حساب کے لئے کافی ہیں۔ یعنی اس کام میں ہمیں کسی کی مدد و معاونت کی ضرورت نہیں ہوگی، ہم تنہا اس کو سرانجام دیں گے۔ اگر کسی نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ساری خدائی کا یہ حساب کتاب ہم کس طرح کرسکیں گے تو یہ اس کا مغالطہ ہے اور اگر کوئی اس وہم میں مبتلا ہے کہ خدا کسی کے باب میں اس کے مزعومہ شرکاء و شفعاء سے کچھ معلومات حاصل کرنے کا محتاج ہوگا تو یہ بھی محض ایک واہمہ ہے۔ سورة لقمان میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔ آیت 16 اے میرے بیٹے کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو خواہ وہ کسی گھاٹی میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں خدا اس کو موجود کر دے گا۔ بیشک خدا بڑا ہی باریک بین اور بڑی ہی خبر رکھنے والا ہے۔
Ayahs 21:48–49

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی کسوٹی اور روشنی اور یاد دہانی عطا فرمائی، خدا ترسوں کے لئے

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

ان کے لئے جو غیب میں رہتے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت سے لرزاں و ترساں رہنے والے ہیں

آگے کا مضمون …… آیات 77-48 اوپر آیت 24 میں نبی ﷺ کی زبان سے فرمایا کہ ھذا ذکر من معی و ذکر من قبلی یعنی یہی تعلیم جو میں تمہیں دے رہا ہوں تمام انبیائے سابقین نے دی۔ اب ایک صعودی ترتیب کے ساتھ ان انبیائے عظام کا حوالہ دیا جو امتوں کے بانی ہوئے۔ آنحضرت ﷺ سے اوپر صاحب شریعت نبی و رسول حضرت موسیٰ ہوئے ہیں۔ 1 ؎ چنانچہ پہلے ان کا ذکر فرمایا اور انہی کے ضمن میں حضرت ہارون کا بھی ذکر فرمایا جو ان کے وزیر تھے۔ پھر ان سے اوپر حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر فرمایا جو امتوں کے بانی اور نبوت کے دونوں سلسلوں … بنی اسرائیل و نبی اسماعیل …… کے امام تھے اور انہی کے ضمن میں حضرت اسحق، حضرت یعقوب، اور حضرت لوط کا حوالہ دیا۔ پھر ان کے اوپر حضرت نوح کا حوالہ دیا جن کو آدم ثانی ہونے کی حیثیت حاصل ہے۔ ان انبیائے عظام کا حالہ گویا پورے سلسلہ شد و ہدایت کا حوالہ ہے اور مقصودان کے حوالہ سے آنحضرت ﷺ کے مخالفین کے سامنے اس حقیقت کو واضح کرنا ہے کہ جو دعوت ان انبیاء نے دی وہی دعوت اب تم کو دی جا رہی ہے جن خصوصیات کے حامل یہ انبیاء تھے وہی خصوصیات تمہارے پیغمبر کے اندر بھی ہیں اور ساتھ ہی یہ یاد دہانی بھی فرما دی گئی کہ جو انجام ان نبیوں کے جھٹلانے والوں کا ہوا وہی انجام لازماً تمہارا بھی ہوگا اگر تم ان کی تکذیب پر اڑے رہ گئے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔ آیت 49-48 فرقان ضیاء اور ضیاء اور ذکر کا مفہوم فرقان حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کسوٹی کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے مراد تو رات ہے۔ قرآن سے پہلے کتاب الٰہی کی حیثیت اسی کو حاصل رہی ہے اور کتاب الٰہی ہی وہ چیز ہے جو حق و باطل میں امتیاز کے لئے معیار کا کام دیتی ہے۔ چناچہ اسی وجہ سے قرآن کو بھی فرقان کہا گیا ہے۔ ضیاء کے معنی روشنی کے ہیں۔ کتاب الٰہی کے لئے ضیاء اور نور وغیرہ کے لفاظ بھیاستعمال ہوئے ہیں اس لئے کہ یہ تمام ذہنی و اخلاقی اور فکری و عملی تاریکیوں سے نکال کر ہدایت و معرفت کی شاہراہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ ذکر کے معنی یاد دہانی کے ہیں۔ یہ لفظ بھی جس طرح قرآن کے لئے جا بجا استعمال ہوا ہے اسی طرح یہاں تورات کے لئے استعمال ہوا ہے۔ اس کے مختلف پہلوئوں کی طرف سورة طہ کی تفسیر میں ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ ان صحیفوں میں چونکہ آفاق، انفس اور تاریخ کے حقائق کی یاد دہانی کی گی ہے اس وجہ سے ان کو ذکر سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب اور روشنی و یاد دہانی عطا فرمائی لیکن وہ کتاب نافع صرف ان خدا ترسوں کے لئے ہوئی جو ہر چیز کو آنکھوں سے دیکھ کر ماننے کے بجائے غیب میں رہتے خدا اور آخرت سے ڈرنے والے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اسی طرح یہ کتاب بھی کارگر صرف انہی پر ہوگی جن کی عقل و فطرت کا نور بجھا نہیں ہے بلکہ وہ خدا اور آخرت کا اپنے دلوں کے اندر خوف رکھتے ہیں۔ یہ مضمون سورة بقرہ کی ابتدائی آیات کے تحت تفصیل سے زیر بحث آچکا ہے اس وجہ سے یہاں ہم اشارہ پر کفات کرتے ہیں۔
Ayah 21:50

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ بھی ایک بابرکت یاد دہانی ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے تو کیا تم اس کے منکر ہی بنے رہو گے

یعنی جس طرح موسیٰ کو تورات عطا فرمائی تھی اسی طرح یہ مبارک کتاب بھی ہم نے اتاری ہے۔ اگرچہ یہ باران رحمت کی طرح یکسر خیر و برکت ہے لیکن اس سے فیض صرف انہی کو پہنچے گا جن کے اندر صلاحیت ہے۔ افانتم لہ منکرون یہ قریش کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا تم اس نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہو ! مطلب یہ ہے کہ اگر اس نعمت کا انکار کر رہے ہو تو سوچ لو کہ کس چیز کا انکار کر رہے ہو ! حضرت موسیٰ کا ذکر پچھلی سورة میں تفصیل سے گزر چکا ہے اس وجہ سے یہاں صرف سرسری اشارہ کر کے آگے حضرت ابراہیم کا ذکر کسی قدر تفصیل کے ساتھ فرمایا۔
Ayah 21:51

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور اس سے پہلے ہم نے ابراہیم کو اس کی ہدایت عطا فرمائی اور ہم اس سے خوب باخبر تھے

رشد و ہدایت میں حضرت ابراہیم کا مرتبہ خاص رشد سے مراد ہدایت و معرفت ہے اور اس کی اضافت نے اس کے اندر ایک خاص امتایز کا مفہوم پیدا کردیا ہے۔ یعنی ابراہیم کو ہم نے وہ ہدایت و معرفت عطا فرمائی جو اس کے درجے اور مرتبے کے شایان شان تھی۔ ہدایت و معرفت کے مختلف مدارج ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کو بھی اس میں سے کوئی حصہ عطا فرماتا ہے۔ وہ اس کی صلاحیتوں کو جانچ کر اس کے درجہ و مرتبہ کے اعتبار سے عطا فرماتا ہے۔ حضرت ابراہیم کو اس میں سے جو حصہ وافر ملا اس کی وضاحت ہم آیت واذایتلی ابرھم ربہ الآیہ کے تحت کرچکے ہیں۔ انکے اسی وصف خاص کی طرف یہاں اشارہ فرمایا ہے۔ وکنا بہ علمین یعنی یہ مرتبہ بلند جو ہم نے اس کو بخشاتویوں ہی نہیں بخش دیا بلکہ نہایت کڑے امتحانوں میں ڈال کر اچھی طرح پرکھ لیا کہ وہ اس مرتبہ کا سزا وار ہے۔ اس فقرے میں ان لوگوں پر تعریض بھی ہے جو اپنے اندر ہمت تو حضرت ابراہیم کی کسی ادنیٰ سے ادنیٰ سنت پر عمل کرنے کی بھی نہیں رکھتے تھے۔ لیکن ان کے ساتھ نسبت کے دعویدار اور اس نسبت کے بل پر اپنے آپ کو دنیا اور آخرت دونوں میں بڑے سے بڑے مرتبہ کا حق دار سمجھے بیٹھے تھے۔ فرمایا کہ خدا کے ہاں اس غلط بخشی کی گنجائش نہیں ہے وہ جس کو اپنی معرفت و حکمت بخشا ہے اس کے ظرف اور اس کے حوصلہ کو دیکھ کر بخشتا ہے۔
Ayah 21:52

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جب کہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ یہ کیا مورتیں ہیں جن پر تم دھرنا دیئے بیٹھے ہو !

قوم سے اصنا مکہ بارے میں بحث اب یہ ان کی بالکل ابتدائی سرگزشت حیات کا ایک واقعہ بیان ہو رہا ہے جس سے ان کی جرأت و فتوت بھی واضح ہو رہی ہے اور وہ ہدایت و معرفت بھی جو اللہ تعالیٰ نے عین عنفوان شباب میں ان کو بخشی۔ ان کی ولادت اگرچہ ایک بت پرست قوم، ایک مبتلائے شرک خاندان اور ایک مشرک اور بت گر باپ کے گھر میں ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو توحید کا وہ نور عطا فرمایا جس کی روشنی سے دنیا آج تک منور ہے قیامت تک منور رہے گی۔ انہوں نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں کو دعوت دی کہ یہ مورتیں کیا ہیں جن پر تم لوگ دھرنا دیئے بھے ا ہو ! اس فقرے میں ان بتوں کے لئے جو استخفاف و تحقیر ہے اور لفظ عکفون میں باپ اور قوم کی بلاوت اور ان کے جمود و جو طنز ہے وہ عربی زبان کا ذوق رکھنے والوں سے مخفی نہیں ہے۔ اس عمر میں اور ایسے ماحول کے اندر یہ نعرہ حق وہی بلند کرسکتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ توفیق خاص سے نوازے اور جس کے ایمان کی سطوت و جلالت ہر خوف اور ہر طمع سے بالکل بےپروا و بےنیاز ہو۔
Ayahs 21:53–54

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

اس نے کہا تم بھی اور تمہارے باپ دادا بھی ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا رہے ہو

آیت 54-53 باپ دادا کا طریقہ بجائے خود دلیل نہیں ہے اس قسم کی حماقتوں کے حق میں سب سے بڑی دلیل ہمیشہ ان کے حامیوں کی طرف سے یہی پیش کی گئی ہے کہ ان کا چلن باپ دادا سے چلا آ رہا ہے۔ یہی دلیل حضرت ابراہیم کی قوم کے لوگوں نے پیش کی کہ ان بتوں کی عبادت تو ہمارے باپ دادا نے کی ہے تو ہم ان کو کس طرح چھوڑ بیٹھیں۔ اگرچہ یہ بات بالکل احمقانہ ہے لیکن عام لوگوں کے لئے یہ بہت ہی مرعوب کن ہوتی ہے۔ باپ دادا کے طریقہ کے لئے دلوں میں ایک حمیت و عصبیت جڑ پکڑ جاتی ہے۔ لیکن حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے جو نور معرفت عطا فرمایا تھا اس کو ان پھونکوں سے نہیں بجھایا جاسکتا تھا۔ انہوں نے جواب میں پوری عزیمت و بےخوفی کے ساتھ فرمایا کہ تم اور تمہارے باپ دادا سب کھلی ہوئی گمراہی میں رہے اور ہو کوئی ضلالت مجرد اس دلیل سے ہدایت نہیں بن جائے گی کہ وہ باپ دا دا کے زمانہ سے چلی آرہی ہے۔ بلکہ اس کو عقل و فطرت کی کسوٹی پر جانچنا پرکھنا بھی ضروری ہے !
Ayah 21:55

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

انہوں نے پوچھا کہ یہ جو کچھ تم ہمارے سامنے پیش کر رہے ہو سنجیدہ بات پیش کر رہے ہو یا ہنسی مسخری کر رہے ہو

آیت 56-55 دعوت حق کی راہ میں اور قدم حق سے یہاں سنجیدہ اور سوچی سمجھی ہوئی بات مراد ہے۔ حضرت ابراہیم کی یہ بات ان کی قوم کے لوگوں کے لئے اتنی انوکھی اور عجیب تھی کہ وہ یہ باور نہ کرسکے کہ کوئی شخص سوچ سمجھ کر ایسی بات زبان سے نکال سکتا ہے۔ انہوں نے گمان کیا کہ یہ الھڑ نوجوان، جوانی کی ترنگ میں، بےسوچے سمھے، بس یونہی ایک بات کہہ گزرا ہے۔ چناچہ انہوں نے سوال کیا کہ یہ جو کچھ کہہ رہے ہو واقعی اپنا عقیدہ بیان کر رہے ہو یا محض مذاق کر رہے ہو ! انہوں نے حضرت ابراہیم کے اس نعرہ حق کو ایک غیر سنجیدہ اور لا ابالیانہ نعرہ قرار دے کر لوگوں کو اس کے اثر سے بچانا چاہا۔ لیکن حضرت ابراہیم نے ان کے جواب میں دعوت حق کا ایک قدم اور آگے بڑھا دیا۔ فرمایا کہ یہ پتھر اور مٹی کے بت تمہارے رب نہیں ہیں بلکہ تمہارا رب آسمانوں اور زمین کا وہ خداوند ہے جس نے ان کو پیدا کیا ہے اور میں تمہیں اس کی دعوت دیتا اور تمہایر اندر اسی کی منادی کرتا ہوں۔ شہادت یہاں دعوت اور اعلان کے معنی میں ہے۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔
Ayahs 21:56–57

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

اس نے کہا بلکہ تمہارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے جس نے ان کو پیدا کیا اور میں اس پر تمہارے سامنے گواہی دینے والوں میں سے ہوں

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور خدا کی قسم ! جب تم یہاں سے رخصت ہو کر لوٹو گے تو میں تمہارے ان بتوں کے ساتھ ایک تدبیر کروں گا

حضرت ابراہیم کا خاص طرز استدلال حضرت ابراہیم نے لگے ہاتھوں، بقید قسم، لوگوں کو اپنے اس ارادہ سے بھی آگاہ کردیا کہ جب آپ لوگ یہاں سے ہٹو گے تو میں ان بتوں کے ساتھ ایک خفیہ کارروائی کرنے کا عزم رکھتا ہوں۔ فظ کید پر ہم مختلف مقامات میں بحث کرچکے ہیں کہ یہ کسی ایسے اقدام کے لئے بھی آتا ہے جو کسی مخالف کے خلاف اس طرح کیا جائے کہ وہ اس سے باخبر نہ ہو سکے۔ تولوامد برین کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے یہ دعوت بت خانہ کے اندر کسلی اجتماع کے موقع پر دی ہے۔ اسی وجہ سے فرمایا کہ جب آپ لوگ یہاں سے گھروں کو سدھاریں گے تو میں آپ کے ان خدائوں کی مرمت کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ اصل اسکیم کو حضرت حضرت ابراہیم نے مخفی رکھا۔ یہ جس صورت میں ظاہر ہوئی اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ لیکن اس تفصیل کو پھڑنے سے پہلے حضرت ابراہیم کے مخصوص طریقہ بحث و استدلال کے ان پہلوئوں پر ایک نظر ڈال لجییی جن کی وضاحت سورة انعام کی آیات 79-76 کے تحت بعنوان حضرت ابراہیم کے طرز استدلال کی بعض خصوصیات ہم کر آئے ہیں۔ حضرت ابراہیم بحث و استدلال میں لطیف و پاکیزہ طنز سے جسطرح کام لیتے ہیں اسی طرح استدراج بھی حجت ابراہیمی کی ایک نہایت نمایاں خصوصیت ہے۔ استدراج کا مطلب یہ ہے کہ وہ بحث میں اپنے حریف کو واں سے دائوں پر لاتے ہیں جہاں سے ان کو بیان گمان بھی نہیں ہوتا۔ بالآخر وہ چاروں شانے چت گرتا ہے اور اسے خود اپنی زبان سے اپنی شکست کا اعتراف کرنا پڑتا ہے یہی طریقہ استدراج حضرت ابراہیم نے اپنے حریفوں کو قائل کرنے کے لئے اس موقع پر استعمال فرمایا انہوں نے شب میں کوئی موق نکال کر تمام چھوٹے بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا اور ذہن میں یہ رکھا کہ اگر نوبت مجھ سے باز پرش کی آئی تو میں کہہ دوں گا کہ یہ حرکت تو ان بڑے صاحب کی معلوم ہوتی ہے اور مجھ سے پوچھنے کے بجائے خود ان مظلوموں ہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے، اگر وہ بولتے ہیں تو اپنی داستان غم خود ہی سنا دیں گے کہ یہ مصیبت ان پر کس کی لائی ہوئی ہے ! ظاہر ہے کہ اس کے بعد وہ لازماً یہی کہیں گے کہ یہ تو بولتے نہیں تو ان سے کس طرح پوچھا جائے تو میں ان سے کہوں گا کہ نادانو ! جو خود اپنے اوپر آئی ہوئی مصیبت کو نہ دفع کرسکتے ہیں نہ یہ بتا سکتے ہیں کہ یہ مصیبت کس کے ہاتھوں ان پر آئی آخر وہ کس مرض کی دوا ہیں کہ تم ان کو معبود بنا کر ان کو ڈنڈوت کرتے ہو ! یہی وہ ذہنی اسکیم ہے جس کو حضرت ابراہیم نے کید سے تعبیر فرمایا۔ اس میں طنز، تضحیک اور استدراج کے جو پہلو ہیں وہ واضح ہیں اور حریفوں کو جس طرح بےبس ہو کر اس حجت ابراہیمی کے آگے گھٹنے ٹیک دینے پڑے اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
Ayah 21:58

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

پس اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا بجز ان کے ایک بڑے کے تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں

بت شکنی کی سکیم پر عمل جذاذ پاش پاش اور ٹکڑے ٹکڑے ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔ یہ اس مخفی تدبیر کا بیان ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنے اراے کو بروئے کار لانے کے لئے اختیار فرمائی۔ انہوں نے موقع نکال کر بڑے بت کو چھوڑ کر باقی سب بتوں کو پاش پاش کردیا۔ بڑے بت کو اس خیال سے چھوڑ دیا کہ جب اس معاملہ کی تفتیش ہو تو وہ ان احمق لوگوں سے یہ کہہ سکیں کہ یہ تو اس بڑے کی کارستانی معلوم ہوتی ہے تو اس کی طرف رجوع کریں کہ یہ کیا ماجرا ہے ؟ اور اگر یہ کہیں کہ یہ تو بولتے نہیں تو پھر ان پر اتمام حجت کا موقع ہاتھ آئے کہ جب یہ بڑے چھوٹے سب ہی گونگے ہیں تو آخر ان گونگوں بہروں کو معبود بنانے کے کیا معنی ؟
Ayah 21:59

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ! بیشک وہ بڑا ہی ظالم ہے !

یہ وہ الگ الگ مستقل جملے ہیں۔ پہلے جملہ سے ان کی حیرت و پریشانی کا اظہار ہو رہا ہے، دوسرے سے ان کے غصہ و غضب کا یعنی جب انہوں نے اپنے معبودوں کا یہ حشر دیکھا تو پہلے تو ان کے اندر یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر وہ کون ہو سکتا ہے جس نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ جسارت کی ؟ پھر اپنے غصہ و غضب کا اظہار کیا کہ جس نے بھی یہ حرکت کی وہ بڑا ہی ظالم ہے !
Ayah 21:60

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

لوگوں نے بتایا کہ ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے سنا تھا، جس کو ابراہیم کہتے ہیں

بالآخر جو لوگ حضرت ابراہیم کے رجحانات اور ان کو مذکورہ بالا دعوت اور ان کے چیلنج سے آگاہ تھے انہوں نے بتایا کہ یہ اسی نوجوان کی حرکت ہو سکتی ہے جس کو ابراہیم کہتے ہیں، ہم نے اس کو ان بتوں کا ذکر تحقیر کے ساتھ کرتے سنا ہے۔ تحقیر کے الفاظ انہوں نے بھی اسی طرح حذف کردیئے جس طرح آیت 36 میں یہ حذف ہیں۔ اس حذف کی بلاغت ہم وہاں واضح کرچکے ہیں۔ انہوں نے اپنے معبودوں کی شان میں گویا نقل کفر، کو بھ گوارا نہیں کیا۔ حضرت ابراہیم نے بتوں کے ساتھ جو معاملہ کرنے کی دھمکی دی تھی وہ بقید قسم ڈنکے کی چوٹ دی تھی۔ وہ کوئی ڈھکی چھیت بات نہیں تھی۔ ان کی دعوت توحید بھی بالکل برملا اور آشکارا تھی۔ بہت سے لوگ ان کی ان باتوں سے واقف تھے لیکن اس وقت تک حضرت ابراہیم کی ان باتوں کو جو لوگ سنتے تھے وہ ان کو، جیسا کہ اوپر گزرا ہے، ان کی نوجوانی کی ترنگ اور جسارت پر محمول کر کے ٹال جاتے تھے۔ ان کو یہ گمان نہیں تھا کہ فی الواقع حضرت ابراہیم کوئی اس طرح کا اقدام کر گزریں گے جیسا کہ اب ان کے سامنے آیا، اس وجہ سے انہوں نے ان کے اوپر نہ کوئی قدغن عائد کرنے کی ضرورت سمجھی اور نہ بتوں کی حفاظت کے لئے کوئی اہتمام کیا۔ ان کا خیال یہ رہا ہوگا کہ کوئی ہمارے ان معبودوں سے کتنا ہی برگشتہ ہو لیکن ان کے خلاف کوئی خطرناک اقدام کرنے کی جسارت بھلا کرسکے گا ! لیکن جب یہ حادثہ پیش آیا تو جو لوگ حضرت ابراہیم سے واقف تھے انہوں نے بتایا کہ ہو نہ ہو یہ کارروائی اسی نوجوان کی ہے جس کو حضرت ابراہیم کہتے ہیں۔ اس کو ہم نے ان معبودوں کی ہجو کرتے سنا ہے۔ یقال لہ ابرھیم سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگرچہ حضرت ابراہیم کی دعوت بہت سے کانوں میں پڑچکی تھی لیکن ابھی وہ قوم میں اتنے روشناس نہیں ہوئے تھے کہ لوگ شخصاً ان سے واقف ہوں تاہم ان کا نام مختلف حلقوں میں پہنچ چکا تھا اور وہ دین آبائی کے ایک باغی نوجوان کی حیثیت سے معروف ہو رہے تھے۔ اسی بنا پر ان گواہی دینے والوں نے ایک حقارت آمیز انداز میں یوں کہا کہ وہی سر پھرا نوجوان جس کو ابراہیم، ابراہیم پکارتے ہیں ہمارے ان معبودوں کی ہجو کرتا رہا ہے ہو نہ ہو یہ اسی کی کارستانی ہے !
Ayah 21:61

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کو لوگوں کے سامنے حاضر کرو تاکہ وہ بھی گواہ رہیں

حضرت ابراہیم پر مقدمہ حضرت ابراہیم پر الزام قائم ہوجانے کے بعد قوم کے سربراہوں نے حکم دیا کہ حضرت ابراہیم کو عام لوگوں کے سامنے لا کر پبلک کی موجودگی میں ان سے پوچھ گچھ کی جائے کہ سارا معاملہ لوگوں کے سامنے آئے اور لوگ اس کے گواہ رہیں۔ یہ اہتمام اس لئے ضروری خیال کیا گیا ہوگا کہ یہ جرم ان کے نزدیک ایک سنگین جرم تھا جس کی سزا بھی ان کی شریعت میں بہت سخت تھی اس وجہ سے انہوں نے چاہا کہ اس کی تحقیقات پبلک کے سامنے ہوتا کہ لوگوں کو جرم کی شناخت کا اندازہ بھی ہو اور مجرم کو جو سزا دی جائے وہ عام عبرت کی موجب بھی ہو۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ اس زمانے میں اس طرح کے مذہبی معاملات میں حکم لگانے اور فتویٰ دینے کے مجاز مذہبی پیشوا ہوتے تھے۔ حکومت وقت (اگر کوئی ہوتی تھی) انہی کے فوتے کی تنقید کردیتی تھی۔
Ayahs 21:62–63

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

انہوں نے پوچھا کہ ابراہیم ! کیا یہ حرکت ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کی ہے

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

اس نے جواب دیا کہ بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ حرکت کی ہے تو انہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہوں

آیت 63-62 حضرت ابراہیم کا جواب بالآخر مذکورہ بالا حکم کے مطابق حضرت ابراہیم ؑ عام لوگوں کے سامنے، پیشوایان دین کی عدالت میں پیش کئے گئے اور ان سے سوال ہوا کہ حضرت ابراہیم کیا ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ جرم تم نے کیا ہے ؟ حضرت ابراہیم نے نہایت تیکھے طنز اور استہزا کے انداز میں جواب دیا کہ یہ کارستانی تو انکے اس بڑے کی معلوم ہوتی ہے اور اس بارے میں مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے، آخر آپ لوگ انہی سے کیوں نہیں پوچھتے، اگر یہ بولتے ہیں تو خود ہی اپنی کہانی آپ کو سنا دیں گے ! یہ جواب دے کر حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کے ان بزرگوں کو اس مقام پر لاکھڑا کیا جہاں اعتراف شکست کے سوا کوئی اور راہ ان کے لئے باقی ہی نہیں رہ گئی۔ ان کو مجبوراً تسلیم کرنا پڑا کہ لقد علمت ما ھولآء ینطقون (یہ تو تمہیں اچھی طرح علم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں) ان کے اس اعتراف کے بعد حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ اف تکم ولما تعبدون من دون اللہ افلاتعقلون یعنی اگر یہ اس لائق بھی نہیں کہ خود اپنی بپتا تم کو سنا سکیں تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں کہ ان کی عبادت کرتے ہوچ تم پر اور تمہایر ان معبودوں پر لعنت ہے۔ آخر تم لوگ عقل سے کیوں کام نہیں لیتے ! حضرت ابراہیم پر خوف یا جھوٹ کی تہمت عربی سے بیخبر ی پر مبنی ہے جن لوگوں نے حضرت ابراہیم کے جواب، بل فعلہ کبیرھم کو کذب یا خوف پو محمول کیا ہے وہ عربی سے بیخبر ی کے باعث اس ارشاد کی بلاغت کو نہ سمجھ سکے۔ خوف کا سوال اس لئے نہیں پیدا ہوتا کہ جب وہ اس طرح بےجھڑک قوم کے بت خانے کے اندر توحید کے ذان دیتے ہیں، بتوں کے خلاف ایک مخفی اقدام کا اعلان کرتے ہیں اور پھر عین عدالت کے منہ پر ساری وقم کے سامنے اف لکم ولما تعبدون کے الفاظ سے بتوں پر بھی اور ان کے پوجنے والوں پر بھی لعنت کرتے ہیں تو ایسے مرد حق کے بارے میں یہ گمان بالکل ہی خلاف عقل ہے کہ وہ کس خطرے سے مرعوب ہو کر سخن سازی کرے گا۔ رہا اس کے جھوٹ ہونے کا معاملہ تو قطع نظر اس سے کہ حضرت ابراہیم جھوٹ بلو سکتے ہیں یا نہیں کہی ہوئی بات میں کوئی پہلو ایسا نہیں ہے کہ اس کو جھوٹ پر محمول کیا جاسکے۔ اس کو کہہ سکتے ہیں تو ایک لطیف طنز، ایک پر معنی استہزاء اور ایک حکمیانہ استدراج کہہ سکتے ہیں، جھوٹ کا تو اس میں کوئی ادنیٰ شائبہ بھی نہیں ہے۔ چناچہ دیکھ لیجیے حضرت ابراہیم کے مخالفوں نے بھی ان پر جھوٹ کا الزام نہیں لگایا حالانکہ اگر وہ ان کے جواب کو جھوٹ سمجھتے تو وہ بڑی آساین سے ان کو جھوٹا قرار دے سکتے تھے۔ پھر جب ان کے دشمنوں نے ان کو جھوٹ قرار دینے کی جرأت نہیں کی تو نعوذ باللہ ہم ان کو جھوٹا کیں قرار دیں 1 بعض لوگوں کو ایک حدیث کی بنا پر مغالطہ ہوا تھا جس میں یہ آیا ہے کہ حضرت ابراہیم نے تین جھوٹ بولے جن میں سے ایک ان کا یہ قول بل فعلہ کبیر ھم ھذا بھی ہے۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کے سمجھنے میں لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔ عربی میں لفظ کذاب کئی معنوں میں آتا ہے۔ اگر کہیں کذب فلاں تو اس کے معنی جس طرح یہ ہو سکتے ہیں کہ اس نے جھوٹ بولا اسی طرح یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اس نے غلطی کی اور یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ اس نے توریہ کیا۔ اس کے صحیح مفہوم کا تعین اس کے سیاق و سبقا سے ہوتا ہے۔ توریہ کا مفہوم اپنے مخالف کے سامنے اپنی بات کو اس طرح پیش کرنا ہے کہ مخاطب اس سے مغالطہ میں پڑج ائے۔ اوپر ہم نے استداج کا جو ذکر کیا ہے وہ بھی اسی میں شامل ہے۔ اس توریہ کی نہایت لطیف و پاکیزہ مثالیں قرآن میں بھی موجود ہیں اور سلف صالحین کے اقوال میں بھی۔ سورة یوسف کی تفسیر میں بعض عمدہ مثالیں گزر چکی ہیں ر۔ حضرت ابراہیم کا ایک لطیف و پاکیزہ توریہ انی سقیم بھی ہے۔ اس کی بلاغت انشاء اللہ سورة صافات کی تفسیر میں ہم واضح کریں گے۔ اس میں نہ صرف یہ کہ کوئی عیب نہیں ہے بلکہ بعض حالات میں یہ دشمن کے مقابل میں رساتبازوں کا ایک ارگر حربہ ہے۔ حدیث میں حضرت ابراہیم کے لئے کذب کے اس مفہوم کے ثبوت میں کلام عرب کے شواہد میں پیش کرسکتا ہوں لیکن بحث بالکل دوسرے گوشے میں نکل ائے گی اس وجہ سے اس کو کسی مناسب موقع کے لئے اٹھا رکھتا ہوں۔ ابطال شرک کی ایک واضح دلیل یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ سیدنا حضرت ابراہیم کا قول بل فعلہ کبیرھم ھذا بجائے خود ابطال شرک کی ایک نہایت واضح دلیل ہے جو قرآن میں مختلف اسلوبوں سے بیان ہوئی ہے۔ اگر اس کائنات میں مختلف چھوٹے بڑے خدائوں کی خائی مان لی جائے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ خدائے اعظم اپنی خائی میں دوسروں کی شرکت تسلیم کرنے پر راضی ہو اور اگر بالفرض کسی وقت مصلحت سے وہ راضی بھی ہوجائے تو یہ امر بعید نہیں ہے کہ کسی دن وہ برہم ہو کر سب کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے۔ اسی حقیقت کو سیدنا حضرت ابراہیم نے اپنے اس فعل سے ممثل کر کے دکھا دیا اور ان کے حریف اس حقیقت کو، جیسا کہ آگے کی آیت سے واضح ہوگا، پا بھی گئے اگرچہ وہ اس پر قائم نہ رہ سکے۔ بہرحال ہمارے نزدیک یہ ایک نہایت اعلیٰ حکیمانہ استدراج و استدلال اور شرک اور اہل شرک کی تفضیح و تضحیک ہے۔ اس کو جھوٹ پر محمول کرنے کی کوئی ادنیٰ وجہ بھی نہیں ہے۔
Ayah 21:64

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

تو ان کو ذرا تنبہ ہوا اور آپس میں بولے کہ بلاشبہ تم ہی ناحق پر ہو

ایک قدم صحیح دوسرا الٹا یعنی حضرت ابراہیم کی اس ٹھوکر نے ان کو متنبہ کیا اور وہ اپنے باطن کی آواز اور اپنے عقل و دل کی رہنمائی کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تم لوگ تو اس نوجوان کو ظالم کہتے ہو لیکن اس نے ثابت کردیا کہ ظالم وہ نہیں بلکہ ظالم تم خود ہو کہ ایسی چزوں کو معبود بنائے بیٹھے ہو جو یہ صلاحیت بھی نہیں رکھتی ہیں کہ خود اپنے سر پر آئی ہوئی میبت کو دفع کرسکیں یا اس کو کسی دوسرے سے بیان ہی کرسکیں۔
Ayah 21:65

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر اوندھے ہوگئے، بولے کہ تمہیں تو معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں

نکس کے معنی کسی چیز کو اس طرح الٹ دینے کے ہیں کہ اس کے پائوں اوپر ہوجائیں اور اس کا سر نیچے۔ حضرت ابراہیم کی اس تنبیہ سے ذرا دیر کے لئے انہوں نے آنکھیں کھولیں تو سہی لیکن پھر اوندھے ہوگئے اور بولے کہ یہ تو تمہیں معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں تو ہم ان سے کس طرح پوچھیں !… جو لوگ اس قسم کی جہالتوں میں مبتلا ہوتے ہیں انکے دلوں پر بھی کبھی کسی واقعہ یا تنبیہ سے ایسی روشنی پڑتی ہے کہ انہیں سیدھی راہ صاف دکھائی دینے لگتی ہے لیکن عصبیت جاہلیت آسانی سے جان چھوڑنے والی چیز نہیں ہے اس وجہ سے وہ پھر اندھے بہرے بن جاتے ہیں اور ایک قدم صحیح اٹھا کر پھر وہی الٹی چال اختیار کرلیتے ہیں جو چل رہے ہوتے ہیں۔
Ayah 21:66

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

اس نے کہا کیا خدا کے ماسوا تم ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو تم کو نہ تو کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کوئی ضرر !

حضرت ابراہیم کا بھرپور وار حضرت ابراہیم اپنے حریفوں کو جس مقام پر لانا چاہتے تھے ان کو انہوں نے وہاں لاک کھڑا کیا۔ وہ پکار اٹھے کہ یہ تو بلوتے نہیں تو ان سے کس طرح ان کا حال پوچھا جائے ! ان کے اس اعتراف کے بعد حضرت ابراہیم نے ان پر بھرپور وار کیا۔ فرمایا کہ پھر تم اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہو جو نہ تم کو کوئی نفع پہنچا سکیں نہ کوئی نقصان ! یہ تقریر ظاہر ہے کہ بتوں کی بےبسی کو اس طرح آشکارا کردینے کے بعد جتنی مئوثر ہو سکتی تھی اس کے بغیر اتنی مئوثر نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کے بغیر اگر یہی بات ان کے سامنے لائی جاتی تو وہ اس کے جواب میں سویا تین بنا سکتے تھے لیکن اب جب کہ وہ پاش پاش ہو کر سامنے پڑے ہوئے اپنی زبان حال سے اپنی بےحقیقتی اور بےبسی کی کہانی خود ہی سنا رہے تھے تو ان کے پجاری ان کی حمایت میں کیا چیز پیش کرسکتے تھے۔
Ayah 21:67

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر بھی اور ان چیزوں پر بھی جن کو اللہ کے سوا تم پوجتے ہو ! کیا تم لوگ سمجھتے نہیں !

اف لکم نہایت شدید نفرت و کراہت کا کلمہ ہے۔ حضرت ابراہیم نے جب اس طرح ان پر حجت تمام کردی، پھر بھی ان کی آنکھیں نہیں کھلیں تو انہوں نے نہایت کراہت و بیزاری کے ساتھ فرمایا کہ تم پر اور تمہایر ان معبودوں پر، جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، تف ہے ! افلا تعقلون یعنی کیا تم بالکل لایعقل بیل ہی ہو ! بھلا ان پتھروں کی مورتوں کو پوجنے سے کیا حاصل ! جن کی بےبسی کا یہ حال ہے کہ وہ خد اپنی حفاظت نہیں کرسکتیں تو آخر وہ تمہاری حفاظت کس طرح کریں گی !
Ayah 21:68

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اس کو آگ میں جلا دو اور اپنے معبودوں کی حمایت میں اٹھو، اگر کچھ کرنے کا اردانہ ہے !

مذہبی عدالت سے حضرت ابراہیم کے لئے حکم سزا جب پجاریوں اور مندر کے پروہتوں نے دیکھا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے ان کا سارا کاروبار پیشوائی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ نہ ان کا کوئی بھرم رہ گیا ہے نہ ان کے معبودوں کا تو اپنے عوام کو اکسایا کہ یہ وقت اپنے معبودوں کی حمایت میں اٹھنے کا ہے۔ اگر اس وقت اس نوجوان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی گئی تو آبائو اجداد کا دین تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ معلوم ہوتا ہے اس اپیل کا عوام پر اثر ہوا اور حضرت ابراہیم کے خلاف اقدام سے متعلق کچھ تجویزیں بھی سامنے آئیں لیکن ان تجویزوں سے پروہتوں کو اطمینان نہیں ہوا۔ انہوں نے ابھارا کہ اگر اس شخص کے خلاف سچ مچ کوئی مئوثر کارروائی کرنی ہے تو یہ کرو کہ اس کو جالدو۔ پوہتوں نے چاہا کہ یہ سزا دے کر اپنے زعم کے مطابق اس فتنہ کا کلی سدباب کردیں۔
Ayah 21:69

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا کہ اے آگ تو ابراہیم کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی بن جا

آگ حضرت ابراہیم کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی بن گئی اس فیصلہ کے بموجب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کو آگ میں جالنے کی کوشش کی گئی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو حضرت ابراہیم کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی بنا دیا۔ اس کی کیا شکل ہوئی ؟ قرآن میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے لیکن اس بات میں کوئی استبعاد نہیں ہے۔ اشیاء کے خواص و اثرات تمام تر اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں۔ وہ جس زہر کو جس کے لئے چاہے تریاق بنا دے اور جس تریاق کو جس کیلئے چاہے زہر بنا دے۔ اس قسم کے عجائب تصرفات قدرت ہم آج بھی مشاہدہ کرتے ہیں۔ اگر خدا نے اپنے ایک پیغمبر کی حفاظت کے لگے آگ کو گلزار بنا دیا تو یہ کیا عجیب بات ہوئی !
Ayah 21:70

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی تو ہم نے انہیں ناکام بنایا

پروہتوں کی سازش کی ناکامی اور حضرت ابراہیم کی ہجرت حضرت ابراہیم ؑ کو آگ میں جالنے کے لئے پروہتوں نے ایک سازش کی جس کی طرف سورة صافات کی آیت 98 میں اشارہ ہے۔ انشاء اللہ ہم وہاں اس کی وضاحت کریں گے۔ پروہتوں کی یہ سازش ناکام ہوئی اور اس کے بعد حضرت ابراہیم نے اس علاقہ سے ہجرت فرمائی۔
Ayah 21:71

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو اور لوط کو اس سر زمین کی طرف نجات دی جس میں ہم نے دنیا والوں کے لئے برکتیں رکھی تھیں

الارض التی برکنا افیھا للعلمین سے زرخیز و شادات علاقہ مراد یہ۔ یہ اشارہ ارض کنعان کی طرف ہے۔ یعنی جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حضرت ابراہیم کے لئے اپنے وطن میں ٹکنا ناممکن ہوگیا تو فرمایا کہ ہم نے اس کو اور لوط کو ان کی قوموں کے شر سے نجات دی اور کنعان کے علاقے میں ان کو ٹھکانا دیا۔ حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتجیے تھے۔ اگرچہ ان دونوں حضرات کا دائرہ دعوت الگ الگ تھا لیکن اس ہجرت میں حضرت لوط بھی ان کے ساتھ تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس ہجرت تک دونوں نے اپنی قوم ہی کو دعوت دی لیکن ہجرت کے بعد مختلف علاقوں کو اپنا مرکز بنایا یہ پتہ نہیں چلتا کہ ہجرت کے بعد حضرت ابراہیم کی قوم سے کیا معاملہ ہوا۔