Ayahs 21:72–73آیت 73-72
حضرت ابراہیم پر اللہ کا انعام
یہ اللہ تعالیٰ نے وہ انعام بیان فرمایا ہے جو ہجرت کے بعد اس نے حضرت ابراہیم پر یکے بعد دیرگے کیا۔ حضرت ابراہیم نے اللہ کی خاطر اپنی قوم اور عزیزوں کو چھوڑا تھا تو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے بیٹے پوتے عطا فرمائے۔ انہوں نے جن کو چھوڑا تھا وہ نابکارو ناہنجار تھے اور اللہ نے ان کی جگہ ان کو جو دیے وہ سب ایک سے ایک بڑھ کر صالحین و اخیار میں سے تھے۔ نافلۃ سے اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ حضرت ابراہیم کو حضرت اسماعیل تو ان کی دعا کے صلہ میں ملے مزید برآں اللہ تعالیٰ نے ان کو اسحاق اور یعقوب بھی عطا فرمائے اور اس کے بعد نبوت کا ایک سلسلہ قائم ہوگیا۔ 1 ؎ وجعلنھم الیۃ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ امتوں کے بانی اور قوموں کے امام ہوئے۔ اگرچہ ہر نبی اپنے منصب کے لحاظ سے امام ہوتا ہے لیکن بعض انبیاء ایسے بھی گزرے ہیں جن کے سایہ کے سوا ان کا کسی نے ساتھ نہیں دیا مگر حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) کو بالفضل اللہ تعالیٰ نے منصب امامت پر سرفراز فرمایا اور انہوں نے ایک عظیم امت کی قیادت فرمائی۔ واوحانا الیھم فعل الخیرت وا ام الصلوۃ و اتیآ مالزکوۃ وکانوا لنا عبدین اقام الصلوۃ درصال اقا متا الصلوۃ ہے اقامۃ کی ’ ۃ ‘ آہنگ وصوت کے تقاضے سے گر گئی ہے۔ اس قسم کی تخفیف بتقاضائے جن صوت عربی میں معروف ہے۔ ان انبیاء کی دعوت کے ان اجزاء کے گنانے سے مقصود یہ بتانا ہے کہ ان کی دعوت دہی رہی ہے جو قرآن دے رہا ہے اور یہ تمام انبیاء صرف خدا ہی کے عبادت گزار تھے، خدائے واحد کے سوا انہوں نے کسی اور کے آگے سر نہیں جھکایا۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ان نبیوں کے نام لویا اور ان کے ساتھ نسبت کے مدعی ہیں وہ اس آئینہ میں اپنے منہ دیکھیں اور اپنے قول و عمل کا جائزہ لیں وہ کیا تھے اور یہ کیا بن کے رہ گئے۔
Ayahs 21:74–75آیت 75-74
حضرت لوط پر حکم اور حلم کا انعام
اوپر حضرت لوط کا ذکر حضرت ابراہیم کے تعلق سے آیا تھا۔ اب یہ ان کا مستقل ذکر فرمایا کہ ان کو بھی ہم نے حکم اور علم عطا کیا۔ ’ حکم ‘ سے مراد فیصلہ کی قوت و صلاحیت ہے اور علم سے مراد علم نبوت ہے پہلی چیز عقل و فطرت کی پاکیزگی کا ثمرہ ہے، دوسری چیز وحی الٰہی کی برکت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو منصب نبوت کے لئے انتخاب فرمایا وہ نخل فطرت کے بہترین ثمر تھے۔ انہوں نے اپنی فطری صلاحیتوں کو پروان چڑھایا۔ یہاں تک کہ ان کا باطن نور حکمت سے منور ہو کر نو روحی کے اخذ و اکتساب کے قابل ہوگیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان کو نور وحی سے فیضیاب فرمایا تو وہ نور علی نور ہوگئے۔
حضرت لوط کی ہجرت
ونجینہ من القریۃ التی کا نت تعمل الخبئث ان کی نجات کی جو شکل ہوئی اس کی طرف اشارہ ہوچکا ہے کہ حضرت ابراہیم کے ساتھ انہوں نے بھی سر زمین شام کی طرف ہجرت فرمائی۔ ان کی بستی کے لوگوں پر چونکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اس وجہ سے ان کے وہاں سے نکلنے کو نجات سے تعبیر فرمایا۔ کا نت تعمل الخبیث
1 ؎ سورة صافات کی آیات 112-100 کے تحت انشاء اللہ یہ بحث آئے گی کہ حضرت ابراہیم کو حضرت اسماعیل دعا کے صلہ میں ملے ہیں اور حضرت اسحاق حضرت اسماعیل کی قربانی کے صلہ میں۔ اس تاریخ حقیقت کو یہود نے جس طرح مسخ کیا ہے اس کی تفصیل استاذ امام کے رسالہ ذبیح میں دیکیے ی۔
سے اصلاً تو ان کی امرو پرستی کی خباثت کی طرف اشارہ ہے جس کو بعض جگہ فاحشۃ سے تعبیر فرمایا ہے لیکن لفظ جمع اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس نوع کی کوئی برائی کبھی تنہا نہیں ہوتی بلکہ یہ جب کسی قوم میں پیدا ہوتی ہے تو اس کے سایہ میں فواحش و خبائث کا ایک پورا کنبہ آباد ہوجاتا ہے۔ یہاں ان برائیوں کی کوئی تفصیل نہیں فرمائی اس لئے کہ اس قسم کی گھنائونی برائیاں قابل ذکر نہیں ہوا کرتیں۔
قوم لوط کا انجام
انھم کانوا قوم سوء قسقین یہ وہمہ بیان ہئوی ہے اس بات کی کہ کیوں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو ان لوگوں کے اندر سے نکالا اور اپنا عذاب نازل کیا۔ فرمایا کہ یہ نابکار اور نافرمان لوگ تھے اور لوط صالح اور خوب کار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے صالح بندے کو ان ناہنجاروں کے اندر سے نکال لیا اور ان نابکاروں کو دفن کردیا۔ وادخلنہ فی رحمتنا میں رحمت سے مراد وہ نجات و فلاح بیج ہے جو اس دنیا میں ان کو حاصل ہوئی اور وہ کامیابی و کامرانی بھی جو آخرت میں ان کو حاصل ہوگی۔
Ayah 21:76حضرت نوح کا حوالہ
نوحاً کا نصب اس مفہوم سے پیدا ہوا ہے جو یہاں سلسلہ کلام سے مستفاد ہوتا ہے۔ یعنی جس طرح ہم نے اپنے مذکورہ بالا بندوں پر اپنی رحمت نازل کی، ان کو نجات دی اور ان کی مدد فرمائی اسی طرح اس سے پہلے اپنے بندے نوح کو بھی ہم نے نجات دی اور اس کی مدد فرمائی۔
حضرت نوح کی ٓخری دعا
اذ نادی من قبل فاستجبنالہ یہ حضرت نوح کی اس آخری دعا کی طرف اشارہ ہے جو سورة نوح میں تفصیل سے مذکور ہے اور جس کو پڑھ کر دل کا نپ اٹھتا ہے اس دعا کی قبولیت جس شکل میں ظاہر ہوئی اس کی تفصیل تو سورة نوح میں آئے گی۔ یہاں صرف اس سلسلہ کی آخری آیات کو یاد کر لیجیے۔
مما خطیتھم اغرقوا فادخلوا ناراً ، فلم یجدوالھم من دون اللہ انصاراً وقال نح رب لاتذر علی الارض من الکفرین دیارا انک ان تذرھم یضلوا عبادک ولا یلد و الا فاجراً کفاراً رب افغرلی ولوالدی ولمن دخل بیتی مئومنا وللمومنین و المومنت ط ولاتردا الظلمین الا تباراً (نوح 28-25)
پس قوم نوح کے لوگ اپنے جرموں کی پاداش میں غرق کردیئے گئے اور آگ میں داخل کئے گئے اور وہ خدا کے مقابل میں اپنے لئے کوئی مددگار نہ پا سکے۔ اور نوح نے دعا کی کہ اے میرے رب ! تو زمین پر ان کافروں میں سے ایک کو بھی چلتا پھرتا نہ چھوڑ۔ اگر تو ان کو چھوڑے رکھے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور صرف ناہنجاروں اور ناشکروں ہی کو جنم دیں گے۔ اے میرے رب ! میری اور میرے والدین کی مغفرت فرما اور ان کی جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ داخل ہو ائیں اور تمام مومنین و مومنات کی اور ظالموں کے صرف تباہی میں اضافہ کر۔
فنجینہ واھلہ من الکرب العظیم لفظ اھل کی تحقیق سورة طہ کی آیت 132 کے تحت گزر چکی ہے۔ اس سے کسی شخص کے اہل خانہ اور اتباع و اصحاب سب مراد ہوتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اور انکے باایمان ساتھیوں کو ایک عظیم کلفت اور بہت بڑی مصیبت سے نجات بخشی کرب عظیم سے مراد وہ غم و الم بھی ہے جو اعدائے حق کی ستم رانیوں اور اذیتوں سے ایک مدت دراز تک ان کو اور ان کے مظلوم ساتھیوں کو لاحق رہا اور وہ عذاب عظیم بھی ہے جس میں بالآخر ان کی پوری قوم مبتلا ہوئی۔
Ayah 21:77قوم نوح کا انجام
نصرنا کے بعد من کا صلہ اس امر کا قرینہ ہے کہ یہاں یہ لفظ انتقمنا کے مفہوم پر متضمن ہے۔ عرق زبان کے اس اسلوب کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس کا ترجمہ یہ ہوگا کہ ہم نے اس کی مدد کی اور ان لوگوں سے ہم نے انتقام لیاج نہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی۔ ہم نے ترجمہ میں اس تضمین کو کھولنے کی کوشش کی ہے۔ انھم کا نوا قوم سوء میں بالا جمال ان کے جم کی طرف اشارہ ہے کہ یہ نہایت ہی برے لوگ تھے۔ ان کے جرائم کی تفصیل پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکی ہے اور اگٓے سورة نوح میں بھی آئے گی۔ یہاں صرف اتنی بات یاد رکھیے کہ جتنی طویل مدت تک حضرت نوح نے اپنی قوم کو جھنجھوڑا ہے اس کی کوئی دوسری مثال شاید مشکل ہی سے مل سکے گی اور حضرت نوح کی دلشوزی اور درد مندی کا جو حال رہا ہے اس کی تفصیل خود حضرت نوح کی زبان سے انشاء اللہ سورح نوح کی تفسیر میں آئے گی لیکن یہ ایسے پھتر لوگ تھے کہ کوئی چیز بھی ان پر کارگر نہ ہوسکی۔ فاغرقنھم اجمعین ان لوگوں کی اس سنگ دلی اور نابکاری کی سزا ان کو بالآخر یہ ملی کہ پوری قوم کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے غرق کردیا۔ بلکہ یہ پوری قوم خدا کی زمین پر غلاظت کا ایک ڈھیر تھی جس کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زمین کے سمندروں اور آسمان کے بادلوں کو حکم دیا کہ وہ اس ناپاکی کے ڈھیر سے خدا کی زمین کو دھوکر پاک کردیں۔ چناچہ یہ امر واقعہ ہے کہ طوفان نوح نے اس زمین کو دھوکر پاک کردیا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح اور ان کے پاکیزہ صفات ساتھیوں سے اس کو از سر نو آباد کیا۔ اس مضمون کو اچھی طرح کھولنے کے لئے تورات میں قوم نوح سے متعلق جو کچھ آیا ہے اس کا حوالہ بہت مفید رہتا۔ لیکن اس کے لئے موزوں جگہ انشاء اللہ سورة نوح کی تفسیر میں آئے گی۔
Ayahs 21:78–79آگے کا مضمون …… آیات 94-78
اوپر کی آیات میں، ایک تاریخی ترتیب کے ساتھ، ان انبیائے عظام کا ذکر ہوا جو ملتوں اور امتوں کے بانی ہوئے، اب آگے ایک صفاتی ترتیب کے ساتھ ان انبیاء کا ذکر آ را ہے جو اپنی صفات اور اپنے کردار کے اعتبار سے پوری انسانیت کے لئے نمونہ ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت دائود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا جو بادشاہی اور درویشی کے امتزاج کی بہترین مثال تھے۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے شوکت دنیا عطا فرمائی لیکن وہ اس کے فتنوں میں مبتلا ہونے کے بجائے برابر خدا کے شکر گزار رہے اور اپنی تمام صلاحیتیں اور اپنے تمام وسائل و ذرائع انہوں نے اپنے رب ہی کی رضا جوئی میں صرف کئے۔ اس کے بعد حضرت ایوب، حضرت اسماعیل، حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا جو اپنے صبر کے اعتبار سے تمام انسانیت کے گل سرسبد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے امحتانوں میں ان کو ڈالا اور ہر امتحان میں یہ ثابت قدم رہے۔ اس کے بعد حضرت یونس، حضرت زکریا اور حضرت مریم (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا جنہوں نے نہایت تاریک اور مایوس کن حالات کے اندر اپنے رب کو پکارا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور ان کے لئے اپنی رحمت خاص سے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ ان انبیائے کرام کی زندگیوں میں ان متکبرین کے لئے بھی درس ہے جو خدا کی نعمتیں پا کر خدا ہی سے اکڑ رہے تھے اور پیغمبر ﷺ اور آپ کے مظلوم صحابہ کے لئیھی درس ہے جو آزمائش کے ایک نہایت ہی نازک دور سے گزر رہے تھے اور جن کو سامنے کی راہ بالکل رندھی ہوئی نظر آرہی تھی۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمایئے۔
آیت 79-78
دائود سلیمان یہاں اسی طرح منصوب ہیں جس طرح اوپر نوحاً منصوب ہے یعنی سیاق کلام کی روشنی میں کوئی فعل محذوف مانیں گے۔ ہم نے ترجمہ میں اس محذوف کو کھول دیا ہے۔
نقش کے معنی بکریوں یا مویشیوں کا شب میں چرنا اور ففھمنھا میں ضمیر مئونث اس مرجع کے لئے آئی ہے جو سیاق کلام سے مستنبط و متبادر ہوتا ہے۔ اس کی مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
حضرت دائو د کے ایک مقدمہ کی طرف اشارہ اور اس اشارہ سے مقصود دائود و سلیمان کی عدل گستری
یہاں ایک مقدمہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو حضرت دائود کی عدالت میں پیش ہوا۔ اس مقدمہ کی کوئی تفصیل نہیں فرمائی ہے۔ بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی بکریوں کا ریوڑ کسی کے کھیت میں جا پڑا تھا۔ حضرت دائود نے اس کا فیصلہ فرمایا لیکن اس فیصلہ میں وہ معاملہ کی تہہ تک نہ پہنچ سکے۔ ان کے فرزند حضرت سلیمان نے جو ابھی کمسن ہی تھے، اپنی رائے پیش کی جو زیادہ صائب اور قرین عدل تھی۔ بالآخر حضرت دائود نے انہی کی رائے کے مطابق فیصلہ فرمایا۔ یہ سوال کہ باپ نے کیا فیصلہ کیا اور بیٹے نے کیا رائے دی، خارج از بحث ہے اس لئے کہ قرآن کا مقصد یہاں مقدمہ کی رو داد پیش کرنا نہیں ہے بلکہ ایک تو یہ دکھانا ہے کہ حضرت دائود ایک حکمران اور پیغمبر ہونے کے باوجود اپنے فیصلوں میں اتنے محتاط تھے کہ اپنے ایک اجتہاد کا ضعف، اپنے ایک کم عمر فرزند کے توجہ دلانے سے بھی جب ان پر واضح ہو یا تو انہوں نے فوراً اپنا فیصلہ بدل دیا اور اپنے سے ایک فروتر کی رائے قبول کرلی دوسری یہ بات دکھانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود کو ایک ایسا فرزند عطا فرمایا جو اپنے عنفوان شباب ہی سے ایسی اعلیٰ قوت فیصلہ رکھتا تھا کہ بسا اوقات اپنے عظیم باپ کو بھی مشورے دیتا تھا اور باپ اس کے فیصلوں کی قدر کرتا تھا۔ یہ کسی باپ کی بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ اس کو ایسا لائق بیٹا عطا ہو جو امور حکومت میں نہ صرف اس کا دست وبازو بنے بلکہ بسا اوقات اس کی رہنمائی بھی کرے۔ اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لئے یہاں اس مقدمہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ہمارے مفسرین نے اس مقدمے کی جو تفصیل پیش کی ہے وہ قرآن سے ایک بالکل خارج چیز ہے۔ اس کی مختلف شکلیں فرض کی جاسکتی ہیں لیکن ان کی نوعیت بالکل مفروضات کی ہے اور ہم مفروضات کے در پے ہونا پسند نہیں کرتے۔
حکمران کا اصل جوہر
وکنا لحکمھم شھدین یعنی ہم اس خاندان کے لوگوں کو اپنی زمین میں حکومت دے کر بالکل الگ تھلگ نہیں جا بیٹھے تھے بلکہ دیکھتے رہے تھے کہ وہ کیا بناتے ہیں، رعایا کے اندر امن و عدل قائم کرنے کا ان کو کتنا احساس ہے، اور اپنی ذمہ داریوں کے معاملے میں وہ کتنے زیرک، کتنے محتاط اور کتنے بےنفس اور غیر جانبدار ہیں۔ چناچہ ان باپ بیٹے نے یہ ثابت کردیا کہ دونوں اس منصب کے پوری طرح اہل ہیں۔ بیٹے نے جونہی محسوس کیا کہ باپ سے درباب عدل ہے بےچون و چرا اس نے حق کے آگے اپنے آپ کو جھکا دیا۔ یہی کردار حکمرانی کا اصل جوہر ہے اور اللہ تعالیٰ جن کو اپنی زمین میں خلافت دیتا ہے اسی جوہر کو پرکھنے کے لئے دیتا ہے۔
وکلا اتینا حکماً و علماً یعنی ان کا یہی جوہر ہے جس کی بنا پر ہم نے ان میں سے ہر ایک کو حکمت اور نبوت سے نوازا۔
حکمرانی کے ساتھ درویشی
وسخرنا مع دائود الجبال یسبحن والطیر یہ حضرت دائود کی درویشی کی طرف اشارہ ہے کہ ایک طرف تو ہم نے ان کو تحت حکومت پر بٹھایا تھا، وہ پوری بیدار مغزی اور بےنفسی کے ساتھ رعایا کے اندر امن و عدل قائم کرتے تھے۔ دوسری طرف ان کے تعلق باللہ کا یہ حال تھا کہ وہ شب میں پہاڑوں میں نکل جاتے اور ان کے حمد و تسبیح کے نغموں اور گیتوں کی صدائے بازگشت پہاڑوں میں گونجتی اور پرندے بھی ان کی ہمنوائی کرتے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ تورات سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت دائود نہایت خوش الحان تھے اور اس خوش الحانی کے ساتھ ساتھ انکے اندر سوز و ورد بھی تھا۔ مزید برآں یہ کہ ان کی تمام مناج اتیں گیتوں اور نغموں کی شکل میں ہیں اور یہ گیت الہامی ہیں۔ ان گیتوں کا حال یہ ہے کہ زبور پڑھیے تو اگرچہ ترجمہ میں ان کی شعری روح نکل چکی ہے لیکن آج ھبی ان کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دل سینہ سے نکل پڑے گا۔ حضرت دائود جیسا خوش الحان اور صاحب سوز و درد جب ان الہامی گیتوں کو پہاڑوں کے دامن میں بیٹھ کر سحر کے سہانے وقت میں پڑھتا رہا ہوگا تو یقینا پہاڑوں سے بھی ان کی صدائے بازگشت سنائی دیتی رہی ہوگی اور پرندے بھی ان کی ہمنوائی کرتے رہے ہوں گے۔ یہ نہ خیال فرمایئے کہ یہ محض شاعرانہ خیال آرائی ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، اپنے رب کی تسبیح کرتی ہے لیکن ہم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ ان کا یہ شوق تسبیح اس وقت اور بھڑک اٹھتا ہے۔ جب کوئی صاحب درد کوئی ایسا نغمہ چھیڑ دیتا ہے جو ان کے دل کی ترجمانی کرتا ہے، اس وقت وہ بھی جھوم اٹھتے ہیں اور اس کی لے میں اپنی لے ملاتے ہیں۔ اگر پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح ہم نہیں سنتے سمجھتے تو یہ خیال نہ کیجیے کہ اس کو کوئی دوسرا بھی نہیں سنتا سمجھتا۔ وہ لوگ اس کو سنتے اور سمجھتے ہیں جن کے سینوں میں دل گداختہ ہوتا ہے۔ مولانا روم نے خوب بات فرمائی ہے۔
فلسفی کو منکر حنانہ است
از حواس انبیاء بےگانہ است
اسی حقیقت کی طرف مرزا غالب نے یوں اشارہ کیا ہے۔
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہائے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
اس ٹکڑے کا اسلوب بیان بھی قابل غور ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ سخرنا لہ بلکہ اسلوب بدل کر سخرنا معہ فرمایا۔ معہ سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ حضرت دائود کی تسبیح میں اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو بھی ان کا شریک بزم بنا دیا تھا۔ جب وہ اپنا نغمہ حمد چھیڑتے تو یہ بھی ان کی ہمنوائی کرتے۔
زبان کا ایک نکتہ
یہاں معطوف اور معطوف علیہ یعنی جبال اور طیر کے درمیان فعل یسبحن حائل ہے۔ حالانکہ بظاہر اس کو طیر کے بعد آنا چاہئے۔ فعل کی اس تقدیم کی وجہ یہ ہے کہ پرندوں کی تسبیح خوانی تو ایک معروف بات ہے البتہ پہاڑوں کی نواسنجی ایک نادربات تھی۔ اس وجہ سے فعل کو ان سے متصل کردیا۔
خدا ساز بات
وکنا فعلین یعنی یہ کام کسی اور کے کرنے کے نہیں بلکہ ہمارے ہی کرنے کے تھے اور ہم ہی ان کے کرنے والے بنے۔ ہم جس کے لئے چاہیں شجر و حجر، دریا، پہاڑ اور چرند و پرند ہر چیز کو اس کے پیچھے لگا دیں۔ خدا کی یہ نعمتیں کسی کو اس کے اپنے زور و اقتدار سے نہیں ملتیں بلکہ خدا ہی کے دینے سے ملتی ہیں۔
Ayah 21:80رات کا راہب اور دن کا شہسوار
یعنی یہ زاہد شب زندہ دار یہ نہ سمجھو کہ صرف تنہائی کے گوشوں میں بیٹھ کر اللہ ہو کرنے والا ہی تھا بلکہ یہ جس طرح رات کا راہب تھا اسی طرح دن کا شہسوار بھی تھا۔ ہم نے جنگ کے حملوں سے حفاظت کے لئے اس کو ایک خاص لباس بنانے کی تعلیم دی۔ اس خاص لباس سے اشارہ زرہ کی طرف ہے۔ اس کے موجد حضرت دائود ہیں۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ زرہ کی جو اعلیٰ قسمیں حضرت دائود نے ایجاد کیں دیسی زر ہیں ان سے پہلے وجود میں نہیں آئی تھیں۔ عربی کی رزمیہ شاعری میں دائودی ساخت کی زر ہوں کا ذکر بہت آتا ہے۔ اس عہد کے دفاعی اسلحہ میں سب سے زیاہ اہمیت اسی کو حاصل رہی ہے۔ اب زمانہ بہت بدل چکا ہے۔ ان آلات و اسلحہ کی اب کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔ لیکن جس زمانے کی یہ بات ہے اس زمانے میں حضرت دائود اپنی انہی ایجادات کی بدولت دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کے مالک تھے۔ مقصود اس کے ذکر سے یہ ہے کہ حضرت دائود باللیل رھبان وبالنھار فرسان کی صحیح تصویر تھے۔ ایک طرف ان کی پرسوز دعائوں اور مناجاتوں سے پہاڑوں کا دل موم ہوتا، دوسری طرف ان کی جنگلی ایجادات اور ان کی فوجی یلغاروں سے دشمنوں پر لرزہ طاری رہتا۔
شکر میں حضرت دائود کی پیروی کی دعوت
فھل انتم شکرون حضرت دائود کی زندگی کے ان دونوں پہلوئوں کو نمایاں کرنے کے بعد مخاطبوں کو خطاب کر کے سوال کیا کہ کیا اس طرح کے شکر گزار بندے بننے کا حوصلہ تم بھی رکھتے ہو ! حکمت، نبوت، حکومت اور قوت سب کچھ پا کر حضرت دائود کے فقر و درویشی کا یہ حال تھا دین و دنیا کی یہی بہم آمیزی خدا کو مطلوب ہے اور خدا کے شکر گزار بندے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ نہ کہ وہ ہیز لوگ جو دائود و سلیمان کی سطوت و عظمت کے گیت تو بہت گاتے ہیں لیکن دنیا کے کتے بنے ہوئے ہیں۔
Ayah 21:81حضرت سلیمان کا عظیم بحری بیڑا
یہاں ’ ل ‘ اس بات کا قرینہ ہے کہ فعل مخدوف ہے۔ سخرنالہ کا مفہم ہم اس کے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ ’ ل ‘ کے صلہ کے ساتھ یہ لفظ کسی شے کا کسی کی خدمت میں لگا دنیے کے معنی میں آتا ہے۔ یعنی ہم نے تند ہوائوں کو بھی مسخر کر کے سلیمان کی خدمت میں لگا دیا تھا۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت دائود کی بری قوت تو بہت تھی لیکن ان کی حکومت کی بحری قوت میں بےمثال ترقی حضرت سلیمان کے عہد میں ہوئی۔ انہوں نے ایسے باد بانی جہاز ایجاد کیے جو ہندوستان اور مغربی جزائر تک سفر کرتے تھے۔ ان کا بحری بیڑا وقت کا سب سے زیادہ طاقتور بیڑا تھا۔ بحر احمر میں اس کا مرکز ترسیس تھا جو خلیج عقبہ میں واقع تھا اور بحر متوسط میں صور، طائر اور یافہ کی بندرگاہیں اس زمانے تک سمندری ہوائوں کو کنٹرول کرنے کا ذریعہ بادبان ہی تھے۔ یہی بادبان جہازوں کے لئے انجن کا کام دیتے تھے۔ حضرت سلیمان نے ایسے بادبان ایجاد کئے جو تند ہوائوں میں بھی جہاز کی آمد و رفت میں خلل واقع نہیں ہونے دیتے تھے۔ وہ اپنی معینہ سموں میں، موافق و ناموافق ہر قسم کی ہوائیں، اپنے لمبے لمبے سفر بےخوف و خطر جاری رکھتے۔ یہ چیز چونکہ خدا کی سکھائی ہوئی سائنس کا ثمرہ تھی اس وجہ سے فرمایا کہ ہم نے سلیمان کے لئے تند ہوائیں مسخر کردی تھیں جو اس کے حکم سے چلتی تھیں۔
الارض التی برکنا فیھا سے اشارہ فلسطین اور شام وغیرہ کے علاقے ہیں جو زرخیز ہونے کے سبب سے تجارتی نقطہ نظر سے بڑی اہمیت رکھنے والے تھے۔
وکنا بکل شی علمین بعینیہ یہی فقرہ معمولی تغیر کے ساتھ آیت 51 میں حضرت ابراہیم کی شان میں وارد ہوا ہے۔ وہاں ہم اس کا مفہوم واضح کرچکے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت سلیمان کی صلاحیتوں اور ان کے ظرف اور حوصلہ کو اچھی طرح جانتے تھے۔ اس وجہ سے ہم نے ان کو اپنی ہوائوں پر یہ تصرف بخشا اور ہم یہ کچھ دے کر اپنی آنکھیں موند کر بیٹھ نہیں گئے تھے بلکہ ہر چیز کو جانتے اور دیکھتے رہے تھے کہ سلیمان ہماری بخشی ہوئی طاقت کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔ درحقیقت یہی نکتہ ہے جو ہمارے اس عہد کے سائنسدانوں کی سمجھ میں نہیں آیا ہے۔
تسخیر کائنات خدا کا فضل ہے
انہیں تسخیر کائنات کی ہمات میں جو کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں ان کو وہ خدا کا فضل سمجھنے کے بجائے اپنی ذہانت کا کرشمہ تصور کرتے ہیں حالانکہ انسان کو جو کامیابی بھی حاصل ہوتی ہے خدا کی بخشی ہوئی عقل اور خدا ہی کی رہنمائی سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی حقتقا کی طرف اوپر دکنا فعلین سے اشارہ فرمایا ہے۔ پھر جب انسان اس مغالطہ میں پڑجاتا ہے کہ اس کی یہ تمام ایجادات اس کا اپنا کار نامہ ہیں تو اس مغالطہ کے بطن سے ایک اور مغالطہ جنم لیتا ہے جو اس سے بھی زیادہ مہلک ہے، وہ یہ کہ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہ ان حاصل کردہ قوتوں سے جس طرح چاہے کام لے کوئی اس کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں ہے۔ قرآن نے ونا بکل شی علمین سے اس مغالطہ پر بھی ضر لگائی ہے کہ قدرت نادان نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے خزانوں کی کنجیاں پکڑا کر خود کنارہ کش ہو کر بیٹھ رہے، لوگ جو چاہیں بناتے پھریں، بلکہ وہ ہر چیز سے آگاہ ہے اور جب وہ آگاہ ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی بخشی ہوئی قوت کو اگر کسی نے غلط استعمال کیا تو وہ لازماً اس کے لئے ایک دن مسئول ہوگا۔ حضرت دائود حضرت سلیمان (علیہما السلام) اس رمز سے خوب آگاہ تھے اس وجہ سے برد بحر دونوں میں عظیم کامیابیاں حاصل کرنے کے باوجود ایک لمحہ کے لئے بھی وہ اس مغالطہ میں مبتلا نہیں ہوئے کہ یہ ان کے اپنے کارنامے ہیں بلکہ انہوں نے ان ساری چیزوں کو خدا کا فضل سمجھا اور جو قدم بھی اٹھائے یہ سوچ کر اٹھائے کہ ایک دن ان کو خدا کے سامنے پیش ہونا اور اپنے ہر عمل کی جواب دہی کرنی ہے۔ یہی احسا ہے جو انسان کو خدا کہ ایک دن ان کو خدا کے سامنے پیش ہونا اور اپنے ہر عمل کی جواب دہی کرنی ہے۔ یہی احساس ہے جو انسان کو خدا کا حقیقی شکر گزارو تابعدار بندہ بناتا ہے۔ حضرت دائود سلیمان (علیہما السلام) کی زندگی کا یہ پہلو انشاء اللہ سورة نمل کی تفسیر میں تفصیل سے زیر بحث آئے گا۔
Ayah 21:82حضرت سلیمان نے مفسد عناصر کو تعمیر و تمدن استعمال کیا
شیاطین سے مراد وہ شیاطین جن ہیں جن کو حضرت سلیمان نے مسخر کر رکھا تھا۔ قرآن اور تورات دونوں سے ثابت ہے کہ ان کے پاس انسانوں، جنوں اور پرندوں کی باقاعدہ فوج تھی جس کی پریڈ ہوتی رہتی تھی۔ مثلاً فرمایا ہے۔ وحشر لسلمین جنودہ من الجن والانس والطیر فھم یوزعون (نمل 18) (اور سلیمان کے قبضہ میں جنوں، انسانوں اور پرندوں کی فوجیں تھیں جن کا جائزہ ہوتا رہتا تھا) سورة نمل میں حضرت سلیمان کی فوج کے ایک عفریت جن کا بھی ذکر ہے جس نے ان سے کہا کہ اگر حضور کا حکم ہو تو میں ملکہ سبا کا تخت آپ کے دربار سے اٹھنے سے پہلے پہلے حاضر کردوں۔ یہ جن سمندروں میں غوطہ لگا کر سمندری دولت ہونگے موتی وغیرہ بھی فراہم کرتے تھے اور دوسرے کام بھی کرتے تھے۔ اس طرح کے مفسد عناصر کو مسخر کر کے انسانیت کی مفید خدمت میں استعمال کرنا حضرت سلیمان ؑ کا ایک عظیم کارنامہ ہے اور ایک لائق حکمران کا اصلی کام یہی ہے کہ وہ نہ صرف مفید عناصر کو بلکہ مضر عناصر کو بھی اپنے علم و حکمت سے تعمیر و تمدن اور اصلاح و ترقی کی راہ پر لگا دے۔ ان شیاطین کو مسخر کرنے کے لئے حضرت سلیمان کو جو علم عطا ہوا تھا اس پر مفصل بحث بقرہ کی آیت 102 کے تحت ہاروت و ماروت کے ضمن میں ہم کرچکے ہیں۔ بعض لوگوں نے شیاطین سے ان کافر قوموں کو مراد لیا ہے جو حضرت سلیمان کے زیر نگیں تھیں لیکن ہمارے نزدیک یہ اس لفظ سے ایک قسم کا تجاوز ہے۔ اس میں تو شبہ نہیں کہ قران میں یہ لفظ اشرار جن اور اشرار انس دونوں کے لئے استعمال ہوا ہے لیکن مطلق کافر قوموں کے لئے یہ لفظ کہیں استعمال نہیں ہوا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ اس سے کافر قوموں کے اشرار مراد ہیں تو لفظ کے اندراس کی بھی گنجائش ہے لیکن اصلاً نہیں تبعاً اصلاً اس سے مراد جنوں ہی کے اشرار ہوں گے۔
ہمارے عہد کے سائنس دانوں کا ایک مغالطہ
وکنالھم حفظین یعنی ان شیطانی قوتوں کو حضرت سلیمان کے لئے ہم نے جو مسخر کردیا تھا تو یہ نہیں تھا کہ وہ مجردان کے اپنے بل بوتے پر ان کے قابو میں تھیں بلکہ ان کے اصل نگران ہم تھے۔ ہمیں نے اپنے فضل سے ان کو سلیمان کے قابو میں کردیا تھا اور ہمی ان کی نگرانی کرنے والے تھے کہ ان میں سے کوئی بھاگ سکے نہ کوئی حضرت سلیمان کے منشا کے خلاف کوئی تعددی کرسکے۔ اگر ہم ان کے نگران نہ ہوتے تو یے بےقابو ہو کر خطرے اور آفت کا سبب بھی بن سکتی تھیں۔ اس ٹکڑے میں ایک بہت بڑی تنبیہ ہے ان لوگوں کے لئے جو قدرت کی بعض قوتوں کو تسخیر کر کے یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اب یہ ان کے مالک ہیں، نہ ان کو ان سے کوئی چھین سکتا اور نہ یہ ان کے خلاف کوئی بغاوت کرسکتیں۔ یہ خیال محض انسان کی تنگ ظرفی اور جہالت کا نتیجہ ہے۔ آج انسان نے بھاپ، گیس بجلی اور ایٹم غیرہ کی جو قوتیں اپنے قابو میں کر رکھی ہیں ان پر خدا ہی نے انسان کو قابو دیا ہے اور یہ اسی وقت تک انسان کے قابو میں ہیں جب تک خدا چاہے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی قوت کی باگ بھی ذرا ڈھیلی چھوڑ دے تو یہی قوتیں ، جن کی مدد سے انسان آسمان و زمین کے قلابے ملا رہا ہے۔ ، چشم زدن میں اس کے سارے خرمن کو سوخت کر کے رکھ دیں۔
Ayahs 21:83–84حضرت ایوب اور ان کا مثالی صبر
شکر کی دو اعلیٰ مثالیں پیش کرنے کے بعد اب یہ ان انبیائے کرام کا ذکر آ رہا ہے جنہوں نے صبر کی نہایت اعلیٰ مثالیں قائم کی ہیں۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے حضرت ایوب کا ذکر فرمایا ہے۔ سفر ایوب سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک عوض میں حضرت ایوب ایک نہایت کامل اور راستباز انسان تھے۔ خدا نے انہیں بڑا خاندان اور بڑی دولت دے رکھی تھی۔ ان کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ سات ہزار بھیڑیں، تین ہزار اونٹ، ایک ہزار بیل اور پانچ سو بار براداری کے گدھے ان کے پاس تھے۔ ان کے نوکر چاکر بھی بیشمار تھے۔ اہل مشرق میں یا اس درجہ کا مالدار کوئی اور نہ تھا لیکن یہ تمام خدم و حشم رکھنے کے باوجود وہ خدا کے نہایت شکر گزار اور فرمانبردار بندے تھے کبھی کسی ربائی سے وہ الٓودہ نہ ہوئے۔
ان کی اس نیکی پر شیطان اور اس کے ایجنٹوں کو حسد ہوا۔ انہوں نے طعنہ دیا کہ ایوب کی یہ خدا پرستی اور استبازی اس لئے ہوئی کہ خدا نے اسے ہر طرح کی خوشحالیاں دے رکھی ہیں۔ اگر یہ ان سے محروم ہوجائے تو پھر کبھی خدا کا شکر گزار نہ ہو۔ 1 ؎“
اس کے بعد خدا کی طرف سے ان کے لئے آزمائشوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان کے مویش لوٹ لئے گئے، نوکر چاکر قتل ہوگئے، اولاد مر گئی اور دولت و حشمت سب غائب ہوگئی لیکن حضرت ایوب خدا سے مایوس ہونے کے بجائے اسی کے دروازے پر گر پڑے۔ سفر ایوب میں ہے کہ
”وہ سجدے میں گر پڑا اور کہا میں اپنی ماں کے پیٹ سے برہنہ پیدا ہوا تھا اور بہنہ ہی دنیا سے جائوں گا۔ خداوند نے مجھے دیا تھا اور خداوند نے لے لیا اس کے نام کے لئے ساری پاکیاں اور مبارکیاں ہوں۔“ سفر ایوب 22:1
مالی آفات و مصائب کے بعد جسمانی تکالیف والام کا سلسلہ شروع ہوا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ”ایوب کے تلوے سے لے کر سر کی چاندی تک سارے جسم میں جلتے ہوئے پھوڑے نکل آئے۔ وہ ایک ٹھیکرا لے کر اپنا جسم کھجاتا اور راکھ پر بیٹھا رہتا۔“ سفر ایوب 8-2
حضرت ایوب نے ان تکالیف کا بھی اسی صبر و رضا کے ساتھ مقابلہ کیا جس صبر و رضا کے ساتھ انہوں نے مالی آفات و مصائب کا مقابلہ کیا بالآخر اس امحتان سے بھی وہ بحسن و خوبی عہدہ برآ ہوئے جس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے زیادہ دیا جو انہوں نے کھویا تھا۔
”اور خداوند نے ایوب کی حالت بدل دی۔ اسے پہلے کی نسبت دو چند دولت عنایت کی۔ اس کے تمام عزیزوں کو اس کے گرد جمع کردیا۔ اسے آخری عمر میں پہلے کی طرح اولاد ملی۔ وہ ایک سو چالیس برس تک جیا اور اپنی نسل کی چار پشتیں اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ سفر ایوب 10:42
مقام رضا اور اس کا اجر
انی مسنی الضروانت ارحم الرحمین اس دعا کی اس بلاغت کو محلوظ رکھیے کہ حضرت ایوب نے اپنے دکھ اور درد کا حالہ تو دیا لیکن حرف مدعا کو زبان پر نہیں لائے۔ اس کو خدا کی رحمت پر چھوڑ دیا۔ فرمایا کہ میں دکھی ہوں اور تو تمام رحم کرنے والاوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنا دکھ تیرے آگے پیش کرتا ہوں اور معاملہ تیری رحمت کے حوالہ کرتا ہوں تو جو کچھ کرے گا اپنی شان رحیمی کے مطابق کرے گا اور اسی میں میرے لئے برکت و رحمت ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کو مقام رضا کہتے ہیں جو اس مقام کو حاصل کرلیتا ہے اسی کو آخرت میں مراضیۃ موضیۃ کا درجہ حاصل ہوگا۔ اس دنیا میں انس ان کو جن حالات اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے ان میں یہ متعین کرنا کہ اس کی دنیا اور آخرت دونوں کے اعتبار سے خیر کس میں ہے، انسان کے لئے نہایت مشکل ہے۔ وہ بسا اوقات جس چیز کو چاہتا ہے اس کی عاقبت کے پہلو سے اس کے لئے فلاح وسعادت اس کے ضد پہلو میں ہوتی ہے اس وجہ سے ان تمام امور میں، جن میں خیر کا پہلو خدا کی طرف سے معین نہ ہو، معاملہ کو اللہ کے حوالہ کرنے ہی میں سعادت ہے۔ وہی جانتا ہے کہ بندے کے لئے بیماری بہتر ہے یا تندرستی، موت بہتر ہے یا زندگی !
فکشفنا مابہ من ضرواتینہ اھلہ ومثلھم معھم اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب کی دعا قبول رمائی۔ ان کی وہ تمام تکالیف بھی دور فرما دیں جن میں وہ مبتلا تھے اور ان کے اہل و عیال اور ان کے خدم و حشم بھی ان کو از سر نو عطا فرمائے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ حضرت ایوب نے اپنی دعا میں صرف اپنی تکالیف کی طرف اشارہ فرمایا، آل و اولاد اور مال و اسباب کے لئے کسی تمنا کا اظہار نہیں کیا۔ وہ جن حالات میں مبتلا تھے ان میں ان کے لئے یہی بڑی چیز تھی کہ ان کے دکھ کا ازالہ ہوجائے، اس سے زیادہ کے لئے ارمان کرنے کی کہاں گنجائش تھی ! لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو وہ بھی دیا جو انہوں نے مانگا اور وہ بھی دیا جس کا وہ اپنی تواضع کے سبب سے اب اپنے آپ کو اہل نہیں سمجھ رہے تھے۔
فاتینہ اھلہ و مثلھم معھم سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس دور آزمائش میں ان کے جو اہل و عیال اور اعزازو اقربا منتشر ہوگئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی اکٹھا کردیا، جو وفات پا گئے تھے ان کے نعم البدل بھی دیے اور ان کے متعلقین کے دائرے کو مزید وسیع بھی کردیا۔
رحمۃ من عند زاد ذکری للعبدین یعنی یہ جو کچھ ہوا خاص ہمارے فضل سے ہوا حالات بظاہر بالکل مایوس کن تھے، نہ ایوب اس کی توقع کرسکتے تھے نہ کوئی دوسرا لیکن ہم نے اپنی رحمت سے اپنے بندے ایوب کے لئے سب کھچ کردیا۔ وذکری للعبدین یعنی یہ ہم نے اس لئے بھی کیا کہ یہ واقعہ مارے عبادت گزار بندوں کے لئے ایک یادگار واقعہ ہو کہ ہمارے جو بندے ہر قسم کے نرم و گرم حالات میں ہمارے ہی ساتھ وابستہ رہتے ہیں ہم اسی طرح ان پر اپنا فضل کرتے ہیں اور کریں گے۔
اسمعیل، ادریس اور ذوالکفل علیہم السلام۔
Ayahs 21:85–86آیت 86-85
حضرت اسماعیل اور حضرت ادریس (علیہما السلام) پر سو رہ مریم کی آیات 57-54 سے تحت بحث گزر چکی ہے۔ ان دونوں نبیوں میں جو وصفی مماثلت ہے اس کی طرف بھی ہم نے وہاں اشارہ کیا ہے۔ یہاں ان کے ساتھ حضرت ذوالکفل کو بھی شامل کردیا اور ان تینوں ہی حضرات کے باب میں فرمایا کہ کل من الصبرین جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صفت صبر ان تنیوں ہی حضرات کی نمایاں خصوصیت ہے۔ ان میں سے حضرت اسماعیل کا صبر تو واضح طور پر معلوم ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ ان کے صبر کا ذکر ہے لیکن حضرت ادریس اور حضرت ذوالکفل کی سرگزشت حیات بالکل پردہ غفا میں ہے۔ قدیم صحیفوں میں ان ناموں سے ان کا ذکر موجود نہیں ہے۔ اب یا تو یہ ہوا ہے کہ عربی لب و لہجہ میں یہ نام بالکل بدل گئے ہیں یا قدیم صحیفوں سے ان کے نائب غائب ہوگئے صرف قرآن نے ان کو از سر نو زندہ کیا۔ جو شکل بھی ہوئی ہو بہرحال ان دونوں نبیوں کے بارے میں میری ناچیز معلومات میں کوئی قابل ذکر چیز نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے ذوالکفل کو حضرت حزقیل پر منطبق کیا ہے۔ لیکن یہ اسی شکل میں قابل اعتماد ہے جب یہ ثابت ہو سکے کہ حضرت حزقیل اس لقب سے ملقب تھے۔ ان دونوں نبیوں کے نام قرآن ہی کے ذریعہ سے متعارف ہوئے ہیں اور صبر ان کی نمایاں خصوصیت بتائی گئی ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ تورات یا قرآن کسی بھی بھی جملہ انبیائے کرام کے نام اور حالات مذکور نہیں ہیں۔ تمام انبیائے کرام کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
Ayah 21:87ذوالنون ؑ کی لغزش کی نوعیت
ذولنون سے مراد حضرت یونس ہیں۔ قدیم صحیفوں میں ان کا نام یوناہ آیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر ذوالنون (مچھلی والا) کے لقب سے کیا ہے۔ نون مچھلی کو کہتے ہیں چونکہ ان کو مچھلی نے نگل لیا تھا اس وجہ سے ان کو یہ لقب عطا ہوا جس میں مچھلی کے واقعہ کی تلمیح بھی ہے اور ایک قسم کا پیار بھی۔
حضرت یونس اہل نینوا کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ نینوا کی آبادی، صحیفہ یونس کی روایت کے مطابق، ایک لاکھ بیس ہزار تھی۔ قرآن کی سورة صافات میں بھی مائۃ الف او یزیدون کے الفاظ آئے ہیں جس سے اس روایت کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت یونس نے ایک مدت تک اہل نینوا کو دعوت دی لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی۔ بالآخر ان پر حق کی حمیت غالب آئی اور قوم کی اس ناقدری و سنگ دلی سے مایوس و آزردہ ہو کر وہ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے خیال فرمایا کہ جب ان پتھروں میں جونک لگانا ممکن نہیں ہے تو کیوں ایسے ناقدروں کے پیچھے اپنا وقت برباد اور ان کی خاطر اپنے آپ کو مصیبت میں مبتلا رکھا جائے ! حق کی ناقدری و کسمپرسی پر ایک صاحب حق کے اندر یہ جذبہ پیدا ہونا ایک ام فطری ہے لیکن اس جذبہ کے غلبہ میں معاملہ کا ایک دوسرا نہایت اہم پہلو حضرت یونس کی نگاہ سے اوجھل ہوگیا۔ وہ یہ کہ خدا کے رسول کو اپنی قوم کو کب چھوڑنا چاہئے ؟ یہ اس کے اپنے فیصلہ کرنے کی چیز نہیں بلکہ خدا ہی کے فیصلہ کرنے کی ہے۔ صرف خدا ہی جانتا ہے کہ کب کسی قوم کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے اور کب کسی رسول کے لئے یہ روا ہے کہ وہ اپنی قوم سے اعلان برأت کر کے ہجرت کرے اور قوم کو اللہ کے عذاب کے حوالہ کرے۔ حضرات انبیاء کے لئے ہمیشہ یہ سنت الٰہی رہی ہے کہ وہ خدا کے اذن کے بغیر اپنی قوم کو نہ چھوڑیں اگرچہ ان کے سر پر آ رے ہی کیوں نہ چلتے رہیں اور اگرچہ ایک شخص بھی ان کی دعوت پر کان دھرنے والا نہ نکلے۔ حضرت یونس حمیت حق کے جوش میں اس سنت الٰہی کو ملحوظ نہ رکھ سکے۔ انہوں نے خیال فرمایا کہ ایک طویل مدت تک لوگوں کو جگانے اور جھنجھوڑنے کی کوشش کے بعد بھی جب کوئی ان کی بات کو سننے والا نہیں نکلا تو اب عند اللہ وہ بری الذمہ ہیں، انہیں ایسی ناہنجار قوم کو خدا کے عذاب کے حوالہ کر کے اس سے الگ ہوجانا چاہئے۔ اپنے کو بری الذمہ سمجھنے کے معنی یہ بھی تھے کہ وہ اپنے اس اقدام پر خدا کی طرف سے کسی گرفت کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کا گمان یہ تھا کہ اس طرح وہ اس ابتلاء سے چھوٹ جائیں گے جس میں وہ پڑے ہوئے ہیں۔
حضرت یونس کا یہ خیال بجائے خود ایک پاکیزہ جذبہ پر مبنی تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے جو آزمائشیں مقرر کر رکھی ہیں وہ لازماً پوری ہو کے رہتی ہیں۔ وہ قوم سے بیزارہو کر ایک کشتی میں، جو سفر پر روانہ ہونے کے لئے بالکل تیار کھڑی تھی۔ سوار ہوگئے کشتی کچھ منزل طے کرنے کے بعد طوفان میں گھر گئی۔ جب طوفان کسی طرح ٹلتا نظر نہیں آیا تو ملاحوں نے اس زمانے کے عام و ہم کے مطابق یہ خیال کیا کہ ہو نہ ہو اس کشتی میں اپنے آقا سے بھاگا ہوا کوئی غلام سوار ہوگیا ہے، جب تک اسے پکڑ کر سمندر کے حوالے نہ کیا جائے گا اس طوفان سے نجات نہیں مل سکتی۔ بالآخر یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کشتی میں مفرور غلام کون ہے قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ ڈالنے کی خدمت، جیسا کہ سورة صافات میں اشارہ ہے، حضرت یونس ہی کے سپرد ہوئی۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہوئی ہوگی کہ تمام اہل کشتی میں لوگوں کو سب سے زیادہ ثقہ آدمی وہی نظر آئے ہوں گے۔ بہرحال قرعہ ڈالا گیا اور قرعہ حضرت یونس کے نام کا نکلا جس کے نتیجے میں وہ کشتی سے سمندر میں لڑھکا دیئے گئے۔ سمندر میں ان کو کسی بڑی مچھلی غالباً وہیل، نے نگل لیا لیکن خدا کے رسول کو ہضم کرنا آسان نہیں ہے۔ حضرت یونس نے جب دیکھا کہ مشکلات کی تاریکی سے نکلنے کی جو راہ انہوں نے اختیار کی اس نے ان کو اس سے بھی زیادہ گہری تاریکیوں میں ڈال دیا تو ان کے دل سے وہ زندہ جاوید دعا نکلی جس کے لئے یہ ضمانت ہے کہ وہ اگر صدق دل سے کی جائے تو کبھی قبولیت سے محروم نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور مچھلی نے ان کو ساحل کی ریت پر اگل دیا۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے نڈھال جسم کو گرمی اور دھوپ کی تمازت سے بچانے کے لئے کدویا اسی قسم کی کوئی بیل اگا رکھی تھی۔ جس کے نیچے ان کو پناہ ملی۔ جب اس حادثہ سے اوسان بجا ہوئے اور جسم میں کچھ جان آئی تو ان کے پھر اہل نینوا کے پاس انذار کے لئے جانے کی ہدایت ہوئی۔ صحیفہ یونس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دوبارہ انذار کے لئے قدرت نے ایک مئوثر تقریب بھی پیدا کردی۔ وہ یوں کہ وہ بیل جس کے سایہ نے حضرت یونس کو امان دی تھی، کسی سبب سے دفعتاً سوکھ گئی۔ احسان شان لوگ چھٹوی چھوٹی چیزوں کے احسان کی بھی قدر کرتے ہیں۔ حضرت یونس کو اس یادگار بیل کے یوں خشک ہوجانے کا احساس ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کو توجہ دلائی کہ ایک حقیر بیل جس کے لگانے اور پروان چڑھانے پر تم نے کوئی م حنت نہیں کی، سوکھ جانے پر تم یوں ملول ہوئے تو غور کرو کہ میں اس عظیم نینوا کو کس طرح اپنے عذاب کے حوالے کرسکتا ہوں جس کو میں نے پدلا کیا، جسکی پرورش کی اور جس کو پروان چڑھایا ہے ! جائو ان کو پھر دعوت دو ، شاید وہ نیکی کی راہ اختیار کریں اور میری رحمت کے مستحق ٹھہریں۔ اس ہدایت کے مطابق حضرت یونس پھر اہل نینوا کے پاس انذار کے لئے گئے اور ان کی اس دوبارہ دعوت و تذکیر کا یہ اثر ہوا کہ بادشاہ سے لے کر نینوا کے عام باشندے تک سب کا نپ اٹھے، سب خدا پر ایمان لائے، بادشاہ نے شاہی لباس اتار کر ٹاٹ کا پیرہن پہن لیا اور باشندوں کے نام فرمان جاری کیا کہ ہر کوئی اپنی بر راہ سے باز آجائے، روزہ رکھے، خدا کے حضور زاری کرے اور توبہ وانابت کا سرجھکائے ! !
حضرت یونس کے واقعہ کی روایت میں چونکہ مفسرین نے بڑا گھپلا کردیا ہے۔ اس وجہ سے میں نے اس کی مسیح نوعیت واضح کرنے کے لئے اس کی تفصیل پیش کردی۔ یہ تفصیل صحیفہ یونس نور قرآن کی تصریحات و اشارات پر مبنی ہے۔ آگے سورة صفات کی تفسیر میں انشاء اللہ اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ اس تفصیل کو پیش نظر رکھ کر اب آیت کے اجزاء پر غور کیجیے۔
قوم کی ناقدری پر غصہ
اذ ذھب مغاضبا مغاضباً کا مفعول یہاں بر بنائے قرینہ محذوف ہے۔ یعنی اپنی قوم سے ناراض و آزردہ ہو کر وہ اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔ یہ آزادگی و ناراضگی ظاہر ہے کہ اسی بات پر ہو سکتی ہے کہ انہوں نے متنبہ کرنے کے لئے سارے جتن کر ڈالے لیکن اس نے ان کی کوئی پروا نہ کی بلکہ حق کی توہین کرتی اور ان کی باتوں کا مذاق اڑاتی رہی۔
حضرت یونس کے اقدام کا ایک مخفی پہلو
فظن ان لن نقد وعلیہ یعنی وہ سمجھے کہ اس طرح وہ اس مصیبت سے چھوٹ جائیں گے جس میں اس وقت قوم کے ہاتھوں وہ مبتلا ہیں۔ اسی جوش غیرت میں ان کی اس بات کی طرف توجہ نہیں ہوئی کہ جس محاذ پر انکو خدا نے مامور کیا ہے اگر وہ خدا کے حکم کے بغیر اس کو چھوڑیں گے تو خدا ان کو اس سے بھی کسی بڑی آزمائش میں ڈال سکتا ہے۔ اس فقرے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اقدام کے ایک ایسے پہلو پر عکس ڈالا ہے جس پر اگرچہ حضرت یونس کی نظر نہیں پڑی تھی لیکن وہ اس کے اندر مضمر تھا۔ حضرت یونس یہ گمان تو ایک لمحہ کے لیء بھی نہیں کرسکتے تھے کہ وہ قوم کو چھوڑ کر چلے گئے تو خدا کی گرفت سے باہر ہوجائیں گے۔ البتہ یہ گمان ان کو ہوا ہوگا کہ ان ناہنجاروں سے الگ ہو کر میں اس جنجال سے نکل جائوں گا جس میں اس وقت ان کی خاطر مبتلا ہوں اور بقیہ زندگی یکسو ہو کر گزاروں گا۔
رسول محاذ پر مامور ایک مجاہدہے
یہ گمان بجائے خود کوئی معصیت نہیں ہے لیکن رسول، جیسا کہ میں نے اشارہ کیا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے محاذ پر مامور ایک مجاہد کی حیثیت رکھتا ہے اس وجہ سے اس کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی رائے سے میدان چھوڑے اگرچہ اس چھوڑنے کا محرک حمیت حق کا جذبہ ہی ہو۔ اگر وہ ایسا کرے تو درپردہ اس کے اندر یہ بات مخفی ہے کہ وہ خدا کے ابتلاء سے خود اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔ یہ مخفی پہلو حضرت یونس پر واضح نہیں تھا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو کھول دیا تاکہ اس کی سنگینی نگاہوں کے سامنے آجائے۔ یہ امر محلوظ رہے کہ بسا اوقات آدمی ایک اقدام کرتا ہے جو بالکل معصومانہ ہوتا ہے لیکن وہ ایک ایسے گمان کی بھی غمازی کرتا ہے جو غلط ہوتا ہے اور اس کی طرف اس وقت تک توجہ نہیں ہوتی جب تک کوئی دانا اس کی طرف توجہ نہ دلائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں حضرت یونس کے اسی گمان کو بےنقاب کیا ہے تاکہ اس کی اصلاح ہو۔ باطنی اصلاح و تربیت کے معاملہ میں یہی طریقہ حکیمانہ ہے۔ حضرت انبیاء (علیہم السلام) تاکہ اس کی اصلاح ہو۔ باطنی اصلاح و تربیت کے معاملہ میں یہی طریقہ حکیمانہ ہے۔ حضرات انبیاء (علیہم السلام) چونکہ تمام انسانیت کے لئے نمونہ ہوتے ہیں اس وجہ سے ان سے کوئی ادنی لغزش بھی صادر ہوتی ہے تو رب حکیم وعلیم اپنے خاص ایکسرے کے ذریعے سے ان کو دکھا دیتا ہے کہ ان کی یہ بات کہاں تک متعدید ہو سکتی ہے اگر اس کا تدارک نہ ہو۔
اس ٹکڑے کی اگر یہ تاویل لی جائے تو یہ عقل و فطرت کے بالکل مطابق بھی ہے، اس سے حضرت یونس پر کوئی الزام بھی عائد نہیں ہوتا اور اس تکلف کی بھی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی جو لوگوں نے لن لقدر علیہ کی تاویل میں لغت سے تجاوز کر کے کیا ہے۔ حالانکہ اس تکلف کے بعد بھی وہ اس مشکل کو حل نہ کرسکے جو اس میں ہے۔
حضرت یونس کی دعا
فنادی فی الظلمت ان لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین یہاں اس واقعہ کی تفصیل حذف کردی گئی ہے جو حضرت یونس کو کشتی میں پیش آیا۔ صرف اس دعا کا ذکر فرمایا ہے جو مچھلی کے پیٹ اور قعر سمندر کی تاریکیوں کے اندر انہوں نے کی اور جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ اس حذف کی وجہ، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کرچکے ہیں، یہ ہے کہ مقصود یہاں قصہ کی تیل نہیں بلکہ صرف یہ دکھانا ہے کہ رب کریم تاریک سے تاریک حالات کے اندر بھی اپنے بندے کی دعائیں قبول فرماتا اور اس کو بڑی سے بڑی آفت سے نجات دیتا ہے بشرطیکہ بندہ اپنے رب ہی کو ملجا و ماویٰ سمجھے اور اسی سے دعا و فریاد کرے۔
صحیفہ یونس میں اس دعا کا ذکر ان لفظوں میں آیا ہے۔
”اس نے مچھلی کے پیٹ میں خداوند اپنے خدا سے دعا ماگنی اور اس نے اس کی پکار سن لی تھی۔ وہ پامال کے بطن میں سے چلایا اور اس کی پکار سنی گئی۔“ 1:2
ظلمت کا مفہوم
لفظ ظلمت اس تاریکی کی شدت اور اس کے اطراف کی وسعت اور اس کے ناپیدا کنار ہونے کو ظاہر کر رہا ہے۔ عربی زبان میں جمع کبھی کبھی کسی شے کے اطراف کی وسعت کے اعتبارے بھی آتی ہے۔ ہم اس کی مثال میں مشارق و مغارب کا حوالہ دے چکے ہیں۔ یہاں اس سے مراد مچھلی کے پیٹ اور پاتمال کی گہرائیوں کی تاریکیاں ہیں۔ مقصود اس لفظ سے یہ واضح کرنا ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ خدا کو اپنی بات سنانے کے لئے کسی پبلک پلیٹ فارم یا ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی ضرورت ہے۔ وہ اپنے بندوں کی فریاد پاتال کی تاریکیوں اور سمندر کی گہرائیوں سے بھی سنتا اور ان کی فریاد رسی کرتا ہے۔
حضرت یونس کا اعتراف تقصیر
لا الہ الا انت سبحنک انی کنت من الظلمین یہ حضرت یونس کی دعا ہے۔ اس دعا میں ان کی طرف سے طلب و تمنا کسی چیز کی بھی نہیں ہے۔ صرف اپنی تقصیر کا اعتراف و اظہار ہے۔ اعتراف تقصیر کے بعد انہوں نے اپنے معاملے کو اپنے رب پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ جو فیصلہ فرمائے وہی حق ہے اور اسی میں حکمت و رحمت ہے اس لئے کہ وہ ہر عیب سے پاک ہے۔ سب سے پہلے خدا ہی کے معبود اور ملجا و ماویٰ ہونے کا اظہار کیا ہے، اس کے بعد اس کو ہر نقص وعیب سے پاک اور منزہ قرار دیا ہے، پھر اپنی تقصیر کا اعتراف فرمایا ہے کہ یہ جو کچھ پیش آیا سرتا سر میری اپنی ہی غلطی کا نتیجہ ہے۔ میں نے خود ہی اپنی جان پر ظلم ڈھایا، میرے رب نے مجھ پر کوئی ظلم نہیں کیا۔
Ayah 21:88باوجودیکہ حضرت یونس حرف مدعا زبان پر نہیں لائے تھے۔ صرف اپنے آپ کو اپنے رب کے آگے ڈال دیا تھا لیکن خدائے علام الغیوب جو پاتال کی فریادوں کو سنتا اور دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے، اس نے ان کے تمام غم و الم کو دور فرما دیا۔ یہاں غم و الم سے صرف وہی غم و الم مراد نہیں ہے جو کشتی والے حادثے کے سبب سے پیش آیا بلکہ وہ غم والم بھی ہے جس کے سبب سے انہوں نے اپنی قوم کو چھوڑا تھا۔ قرآن میں دوسری جگہ اس بات کی تصریح ہے کہ اس حادثہ کے بعد جب انہوں نے از سر نو اپنی قوم کو دعوت دی تو ان کی پوری قوم ایمان لائی اور جو عذاب ان کے سروں پر منڈلا رہا تھا اس سے خدا نے اس کو نجات دی۔
ایک ٹکڑا سرگزشت کو مطابق حال بنانے کے لئے
وکذلک نجی المومنین یہ ٹکڑا اس سرگزشت کو مطابق حال بنانے کے لئے ہے۔ ظاہر ہے کہ ان واقعات کے سنانے سے مقصود داستان سرائی نہیں ہے بلکہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو یہ اطمینان دلانا ہے کہ حالات کتنے ہی تاریک اور مایوس کن ہوں لیکن دل برداشتہ نہ ہونا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری دعائوں اور فریادوں کو جانتا اور سنتا ہے۔ وہ اپنے باایمان بندوں کو اسی طرح ہر غم و الم سے نجات دیتا ہے جس طرح اس نے یونس کو نجات دی۔ ایک دن آئے گا کہ یہ ساری تاریکیاں، جن میں تم گھرے ہوئے ہو، کافور ہوجائیں گی، حق کا بول بالا ہوگا اور تمہاری قوم ایمان کے نور سے منور ہوجائے گی۔
Ayah 21:89حضرت زکریا کی دعا کی قبولیت
حضرت زکریا کی سرگزشت تفصیل کے ساتھ سورة مریم میں گزر چکی ہے۔ انہوں نے بھی ظاہر نہایت مایوس کن حالات میں اپنے رب سے دعا کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ظاہری حالات کے بالکل خلاف ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ سورة مریم کی تفسیر میں یہ بات گزر چکی ہے کہ ان کی بیوی بانجھ تھیں اور وہ خود بڑھاپے کی آخری منزل کو پہنچ کے تھے۔ اعزازو اقرباء سب نااہل اور دین سے بےپرواہ تھے۔ حضرت زکریا کو بڑھاپے میں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ آل یعقوب کے جس دینی ورثہ کے وہ وارث ہیں خاندان میں اس کا کوئی اہل نہیں پیدا ہوا اور خود ان کا آخر اب سر پر آپہنچا۔ اس پریشانی میں انہوں نے دعا فرمائی کہ اے رب تو مجھے تنہا نہ چھوڑ بلکہ کوئی ایسا وارث عطا فرما جو میری اور آل یعقوب کی دینی روایات کا حامل بن سکے۔
وانت خیرالورثین یعنی وارث کے لئے یہ دعا جو میں کر رہا ہوں اس لئے نہیں کر رہا ہوں کہ میرا کوئی وارث نہ ہوا تو تیرے دین کا کوئی حامل نہیں رہے گا۔ تیرا کوئی کام میرے یا میرے خاندان کے ساتھ بندھا ہا نہیں ہے، تو اپنے دین کا بہترین وارث خود ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں یہ دعا جو کر رہا ہوں صرف اس لئے کر رہا ہوں کہ تیرے دنی کی خدمت کی جو سعادت اس خاندان ک، تیرے فضل سے حاصل رہی ہے اس سے یہ خاندان محروم نہ رہ جائے۔ ورنہ میں جانتا ہوں کہ تو جس کو چاہے گا اس خدمت کے لئے اٹھا کھڑا کرے گا، تو کسی کا محتاج نہیں ہے۔
Ayah 21:90حضرت زکریا کی دعا ایک اعلیٰ دینی مقصد کے لئے تھی
حضرت زکریا کی دعا ایک نہایت اعلیٰ دینی مقصد کے لئے تھی۔ انہیں اولاد کی نہیں بلکہ دین کے ایک خدمت گزار کی تمنا تھی وہ جس میراث کے حامل تھے وہ ہمال و جائیداد کی میراث نہیں بلکہ آل یعقوب کے دنی کی میراث تھی اور چاہتے تھے کہ یہ مقدس امانت محفوظ رہے اس وجہ سے ان کی دعا درخ ود قبول ٹھہری۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بانجھ بیوی کو اولاد کے قابل بنا دیا اور ان کو حضرت یحییٰ جیسا نامور فرزند عطا فرمایا۔
انھم کانوایسرعوکن فی الخیرت ویدعوننا رغبا ورھباً وکالونوالنا خشعین فرمایا کہ بالکل ناموافق و نامساعد حالات کے اندر ان کی یہ دعا اس لئے درخور قبول ٹھہری کہ یہ لوگ دنیا کے لئے بھاگ دوڑ کرنے والے نہیں بلکہ بھلائیوں اور نیکیوں کی راہ میں سبقت کرنے والے تھے۔ انھم میں ضمیر جمع حضرت زکریا کے خاص اہل بیت کے لئے ہے۔ ان کے بنی اعمام تو جیسا کہ سورة مریم سے واضح ہوچکا ہے دین سے غافل لوگ تھے لیکن خاص حضرت زکریا سے وابستہ لوگ دین دار تھے۔ ان لوگوں کے اندر تنافس دنیا کا روگ نہیں پیدا ہوا تھا بلکہ مسابقت الی الخیر کی وہ روح باقی تھی جو آل یعقوب کی امتیازی خصوصیت تھی۔ حضرت یحییٰ کی ولادت سے اس روح کو ایک تازہ دم قالب حاصل ہوگیا۔
ان کی دوسری صفت یہ بتائی ہے کہ یدعوننا رغبا ودھبا وہ امید و بیم ہر حال میں اپنے رب ہی کو پکارتے تھے۔ قرآن میں دنیا داروں اور مشرکوں کا حال یہ بیان ہوا ہے کہ جب ان کو کوئی مشکل پیش آتی ہے۔ تب تو وہ بڑی لمبی لمبی دعائیں ہم سے کرتے اور عہد باندھتے ہیں کہ اگر ان کی یہ ضرورت پوری ہوگی تو ہمیشہ خدا کے وفادار بندے بن کر رہیں گے لیکن جب خدا ان کی ضرورت پوری کردیتا ہے تو گن اپنی تدبیر اور دورسوں کی کار سازی کے گاتے ہیں اور خدا کو اس طرح بھول جاتے ہیں گویا اس کو کبھی پکارا ہی نہیں تھا۔ فرمایا کہ ان لوگوں کا کردار منافقانہ اور مشرکانہ نہیں تھا بلکہ وہ طمع اور خوف، امید اور بیم ہر حال میں خدا ہی کو پکارنے والے تھے۔ وکالوا لنا خشعین یعنی یہ نہیں تھا کہ نعمت ملے تو اکڑنے لگیں اور چھن جائے تو مایوس اور ناشکرے بن کر رہ جائیں بلکہ ہر حال میں وہ خدا ہی کے آگے سرفگندہ رہنے والے تھے۔
Ayah 21:91یہ حضرت مریم کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر نہایت تفصیل کے ساتھ سورة مریم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ان کا نام نہیں لیا ہے اس لئے کہ ان کی جو صفت مذکور ہوئی ہے وہ ایک ایسی صفت ہے جس کا موصوف و مصداق ان کے سوا کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ یہ اس صفت کے ساتھ ان کے اختصاص کی دلیل ہے۔
احصنت فرجھا کا مفہوم
احصنت فرجھا کو اس کے عام لغوی مفہوم میں نہ لیجیے۔ احصن فوجہ عربی زبان میں اسی طرح کا ایک محاورہ ہے جس طرح بدالثلمۃ وتق الفتق جبرالکر وغیرہ بہت سے محاورات ہیں۔ ان محاورات میں الفاظ کے لغوی مفہوم کا اعتبار نہیں بلکہ اس مفہوم کا اعتبار ہوتا ہے جس کے لئے یہاستعمال ہوئے ہیں۔ احصن فرجہ کا مفہوم قحصن من السوہ اس نے اپنے آپ کو ہر برائی سے پاک رکھا یا خطرہ سے محفوظ رکھا۔ یہ محاورہ عورتوں کے لئے جس سرحاستعمال ہوا ہے اسی طرح مردوں کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ لفظ فرج کے معنی لغت عرب میں اصلاً ہیں بھی موضع مخافۃ یعنی اندیشہ کی جگہ کے میں اس کے شواہد پیش کرسکتا ہوں لیکن ان سے مستفید صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن کی کلام عرب پر نظر ہو۔ کتاب کے عام قارئین ان سے استفادہ نہیں کرسکیں گے۔
حضرت مسیح کے روح ہونے کا مفہوم
حضرت مسیح کا استقرار بطن مادر ہیں چونکہ عالم اسباب کے عام ضابطہ سے الگ صرف کلمہ کن کے ذریعہ سے ہوا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی ڈالی ہوئی روح سے تعبیر فرمایا ہے۔ اسی اعتبار سے ان کو اور ان کی والدہ کو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی بھی قرار دیا گیا ہے۔ ہم سورة مریم کی تسیر میں ان کے نشانی ہونے کے پہلو واضح کرچکے ہیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے جیسا کہ انجیلوں سے واضح ہے، خود بھی اپنی نسبت یہی فرمایا ہے جو قرآن بیان کر رہا ہے، یہ محض پال کے پیرو عیسائیوں نے اپنی تحریفات کے ذریعہ سے بات بتنگڑ بنانے کی کوشش کی ہے۔ ہم ان تحریفات پر آل عمران کی تفسیر میں مفصل بحث کرچکے ہیں۔