20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتدبرِ قرآن

Ayah 20:57

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

اس نے کہا، موسیٰ ! کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے بےدخل کر دو

آیت 57 فرعون کی ایک سیاسی چال سورة اعراف کی تفسیر میں ہم وضاحت سے بیان کرچکے ہیں کہ اس دور میں فرعون اور اس کے ارکان حکومت کو بنی اسرائیل سے سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ ان کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ طاقتور ہو کہ بیرونی دشمنوں کے آلہ کار بن جائیں اور ایک دن فرعون اور اس کی قوم کو ملک سے بےدخل کردیں۔ اسی خطرے کو پیش نظر رکھ کر اسرائیلی بچوں کے قتل کی مہم چلائی گئی لیکن یہ مہم ناکام رہی۔ بنی اسرائیل کی تعداد بڑھتی ہی گئی البتہ بنی اسرائیل کے اندر اس وقت تک کوئی ایسا لیڈر نہیں تھا جو ان کو منظم کرسکے۔ حضرت موسیٰ سے فرعون کو جیسا کہ ہم پیچھے عرض کرچکے ہیں، ان کے مدین جانے سے پہلے بھی خطرہ تھا کہ وہ اپنی قوم کو بیدار کر رہے ہیں وہ بنی اسرائیل کے مظلوموں کی حمایت و مدافعت میں ہمیشہ سینہ سپر ہوجاتے تھے۔ چناچہ اسی جرم میں ان کی داخلہ بھی شہر میں بند تھا اور بالآخر ای کقبطی کے قتل کے سبب سے انہیں مدین چلے جانا پڑا۔ اب جب وہ آئے اور اس شان کے ساتھ آئے کہ انہوں نے فرعوکن کے سامنے چند نہایت اہم مطالبات بھی نہایت دبدبہ کے ساتھ رکھ دیئے تو اس نے تاڑ لیا کہ اس کو جو خطرہ تھا اب وہ ایک حقیقت کی شکل میں سامنے آگیا ہے۔ چناچہ اس نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ اے موسیٰ کیا تم اس لئے ہمارے پاس آئے ہو کہ اپنے اس جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے بےدخل کردو ! …… فرعون ایک نہایت گھاگ سیاسی تھا۔ اس نے ایک تو حضرت موسیٰ کی اس دعوت کو ایک سیاسی خطرہ کا رنگ دے کر اپنی قوم کو مشتعل کرنے کی کوشش کی، دوسرے ان کے معجزات کو سحر سے تعبیر کر کے اس اثر کو مٹانے کی کوشش کی جو لوگوں پر ان کا پڑا ہو اگا۔
Ayah 20:58

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

تو ہم بھی تمہارے قابل میں ایسا ہی جادو لائیں گے۔ تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک مقام معین ٹھہرا لو، کوئی بیچ کی جگہ، نہ ہم اس کی خلاف ورزی کریں نہ تم

آیت 58 ’ موعد ظرف زمان اور ظرف مکان یعنی وقت موعود اور مقام موعود دونوں معنوں میں آتا ہے۔ اس آیت میں یہ دونوں معنوں کو محتمل ہے اور بعد والی آیت میں ظرف زمان کے معنی میں ہے۔ اس قسم کے ظرف کی بعض مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں۔ سوی کے معنی وسط کے ہیں۔ مکانہ سوی یعنی ایسی جگہ ہو جو ہمارے اور تمہارے دونوں کے لئے یکساں ہے جہاں ہمارے آدمی بھی آسانی سے جمع ہو سکیں اور تمہارے آدمی بھی۔ فرعون نے حضرت موسیٰ کو جواب دیا کہ اگر تم جادو کے بل پر ہمیں ہمارے ملک سے بےدخل کرنے اٹھے ہو تو ہمارے پاس جادو کی کمی نہیں ہے، ہم بھی ایسا ہی جادو دکھا سکتے ہیں تو تم ہمارے اور اپنے درمیان مقابلہ کے لئے کوئی ایسی جگہ متعین کرو جو فریقین کے لئے یکساں ہو اور دونوں طرف کے لوگ ایک معین وقت پر اس جگہ جمع ہوں، نہ تم اس کے خلاف ورزی کرو اور نہ ہم … فرعون کی اسکیم یہ تھی کہ مقابلہ کھلے میدان میں پوری پبلک کے سامنے ہوتا کہ سب کے سامنے حضرت موسیٰ کو شکست دے کر پہلے ہی مرحلہ میں ان کے قدم اس طرح اکھاڑ دیئے جائیں کہ پھر وہ سامنے آنے کی جرأت نہ کرسکیں۔
Ayah 20:59

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

اس نے کہا، تمہارے لئے وعدے کا دن میلہ والا دن ہے اور یہ کہ لوگ بوقت چاشت جمع کئے جائیں

آیت 59 فرعون کے چیلنج کا جواب حضرت موسیٰ کو چونکہ اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا اس وجہ سے انہوں نے بےدھڑک فرعون کا چیلنج مظنور کر لای۔ مصریوں کے ہاں سال میں دو تین بڑے میلے ہوتے تھے۔ انہی میں سے کسی میلے کی تاریخ سامنے تھی۔ انہوں نے اسی میلے کے دن کو نامزد رک دیا اور وقت بھی مقرر کردیا کہ لوگ چاشت کے وقت جمع ہوں۔ میلہ کا دن لوگوں کو فرصت و فراغت کا دن ہوتا ہے اور کسی پبلک اجتماع کے لئے چاشت کا وقت سب سے زیادہ موزوں خیال کیا جاتا یہ۔ گویا حضرت موسیٰ نے بھی یہ چاہا کہ اسی مقابلے میں فرعون کے سحر و شعبدہ کا سارا طلسم باطل کردیں۔
Ayah 20:60

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

پس فرعون وہاں سے ہٹا اور اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کر کے پھر مقابلہ میں آیا

آیت 60 فرعون کی تیاریاں فتولی یعنی حضرت موسیٰ سے مذکورہ بالا قول وقرار کر کے فرعون دہان سے ہٹا اور اپنی تدبیریں اکٹھی کرنے میں لگ گیا اور پھر پورے سرو سامان کے ساتھ میدان مقابلہ میں آیا۔ یہاں بات مختصر کردی گئی ہے اس وجہ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس نے کیا تدبیریں کیں لیکن قرآن کے دور سے مقامات میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے یہ رائے دی کہ ان کا مقابلہ معمولی جادوگروں سے کرانے میں شکست کا اندیشہ ہے اس وجہ سے مصلحت یہ ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ہر کارے بھیج کر تمام ماہر جادوگر بلائے جائیں اور ان سے مقابلہ کرایا جائے۔ چناچہ اسی تجویز پر عمل کیا گیا۔ مملکت کے ہر حصہ میں ہر کارے بھیجے گئے اور تمام بڑے بڑے جادو گر بلائے گئے۔
Ayah 20:61

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ ؑ نے کہا تمہاری ناس ہو ! اللہ پر جھوٹ نہ باندھو کہ وہ تم کو کسی عذاب میں پیس دے اور جس نے خدا پر جھوٹ باندھا وہ نامراد ہوا

آیت 61 سعت کے اصل معنی ہڈی پر سے گوشت نوچین کے ہیں۔ اسی سے اسحات ہے جس کے معنی کسی چیز کا استیصال کردینے اور اس کی جڑ اکھاڑ دینے کے ہیں۔ میدان مقابلہ میں حضرت موسیٰ کی تقریر یہ حضرت موسیٰ کی وہ تقریر ہے جو انہوں نے میدان مقابل ہمیں سب سے پہلے مجمع کے سامنے کی ہے۔ انہوں نے فرعون اور اس کے تمام ہم قوموں اور جادوگروں کو مخاطب کر کے بانداز تنبیہ فرمایا کہ تمہارا ناس ہوا تو ایک باطل کی حمایت میں حق کا مقابلہ کرنے آئے ہو۔ خدا پر جھوٹ تہمت نہ باندھو کہ خدا تمہارا قلع قمع کر دے۔ یاد رکھو کہ جو خدا پر افتراء کرتے ہیں وہ نامراد ہو کر رہتے ہیں۔ افتراء علی اللہ سے مراد، جیسا کہ ہم اس کتاب میں جگہ جگہ واضح کرتے آئے ہیں، شرک ہے۔ شرک کو افتراء علی اللہ سے تعبیر کرنے کے وجوہ پر بھی ہم تفسیر سورة مائدہ اور سورة انعام میں گفتگو کرچکے ہیں۔ اوپر کی آیات میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ فرعون سے مناظرہ اسی بات پر تھا کہ وہ مدعی رب ہونے کا تھا اور حضرت موسیٰ نے اس کے سامنے اس زعم باطل کی تردید فرمائی تھی کہ رب وہ ہے جس نے اس کائنات کو پیدا کیا ہے اور جس نے اس کی ہدایت اور پرورش کا انتظام فرمایا ہے نہ کہ تم جس کو نہ اس کے خلق میں کوئی دخل اور نہ اس کی تدبیر میں۔ اب وہی بات حضرت موسیٰ نے فرعون کے تمام حامیوں کو مخاطب کر کے سنا دی کہ خدا کا کوئی شریک وسہیم نہیں اگر تم اپنے جی سے کسی اور کو شریک وسہیم بناتے ہو تو یہ تم اپنی من گھڑت بات خدا پر لگاتے ہو۔ خدا کی طرف سے اس کی کوئی مسند تمہارے پاس نہیں ہے اور یہ درحقیقت تم خدا پر افترا کر رہے ہو جس کی پاداش میں تم مستحق ہو کہ خدا تم پر ایک عذاب بھیج کر تمہیں فنا کر دے۔ جو لوگ اللہ پر افترا کرتے ہیں وہ بالآخر نامراد ہو کر رہتے ہیں۔
Ayah 20:62

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پس انہوں نے آپس میں، اپنے معاملہ میں، مشورت اور سرگوشی کی

آیت 62 اعیان فرعون کی خفیہ میٹنگ ’ تنازع فی الحدیث اور تنازع امر کا محاورہ عربی میں آپس میں تبادلہ خیالات و آراء کے لئے آتا ہے۔ یعنی جب تمام اعیان حکومت اور سارے ساحر جمع ہوگئے تو ان کی آپس میں ایک خفیہ میٹنگ ہوئی۔ اگٓے کی آیات سے ملوم ہوتا ہے کہ اس میٹنگ میں نہایت راز دارانہ طور پر فرعون کی طرف سے ساحروں کے دل میں یہ بات اتارنے کی کوشش کی گئی کہ موسیٰ اور ہارون دونوں نہایت ماہر جادوگر ہیں اور ان کی کوشش یہ ہے کہ یہ اپنے جادو کے زور سے بنی اسرائیل کو منظم کر کے ہمیں اس ملک سے بےدخل کریں اور ہماری تمام تہذیب و ترقی کو ہم نے پروان چڑھائی ہے، مٹا کے رکھ دیں تو یہ موقع غفلت کا نہیں ہے بلکہ متحدہ طاقت سے اس خطرے کا مقابلہ کرو اور یاد رکھو کہ جو آج کے معرکے میں جیتا وہی فتحمند رہے گا۔
Ayah 20:63

قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیْدٰنِ اَنْ یُّخْرِجٰكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا وَ یَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ الْمُثْلٰى Open ayah 20:63 in the Quran reader

انہوں نے کہا یہ دونوں بڑے ماہر جادوگر ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے بےدخل کردیں اور تمہارے اعلیٰ نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیں

آیت 63 یہ ان مخففہ ان کے معنی میں ہے اور اس کے بعد جو ’ ل ‘ ہے یہ اس کا قرینہ ہے۔ مثلیٰ ، امثل، کی مئونث ہے۔ اس کے معنی اعلیٰ عمدہ اور برتر کے ہیں۔ یہ وہ بات نقل ہوئی ہے جو خفیہ مجلس میں فرعون اور اس کے اعیان نے جادوگروں کو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خلاف بھڑکانے کے لئے کی۔ پہلی بات تو انہوں نے جادوگروں کے اندر پیشہ ورانہ رقابت کا جذبہ بھڑکانے کے لئے یہی کہی کہ یہ دونوں ماہر جادوگر ہیں۔ مقصد یہ کہ یہ اسی ہتھیار کے ساتھ میدان میں ائٓے ہیں جو تمہارے پاس بھی ہے تو اگر تم نے ان کے مقابلہ میں کمزوری دکھائی تو سب سے زیادہ ہوا خیزی تمہاری ہی ہوگی۔ دوسری بات یہ سمجھائی کہ یہ اپنے جادو کے زور سے ہم پر اپنا رعب جمانا اور بنی اسرائیل کو منظم کر کے تمہیں، تمہارے ملک سے بےدخل کرنا چاہتے ہیں۔ تیسری بات یہی کہی کہ اس وقت تمہاری نہایت اعلیٰ اور شاندار تہذیب، جو تم نے اتنی محنت سے فروغ دی ہے، سخت خطرے میں ہے۔ اگر موسیٰ و ہارن اپنے ارادوں میں کامیاب ہوگئے تو اس اعلیٰ تہذیب و تمدن کا یک قلم قلم خاتمہ کردیں گے۔ ان باتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ ارباب اقتدار اہل حق کے مقابلہ میں ہمیشہ اسی طرح کے حربے استعمال کر رہے ہیں جس قسم کے حربے فرعون اور اس کے اعیان نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔ یہ امر بھی محلوظ رہے کہ تمہارا ملک اور تمہاری تہذیب کے الفاظ میں خطاب محض عوام فریبی کے لئے ہے ورنہ فرعونی حکومت اور فرعونی تہذیب میں ایک مخصوص ارسٹوکریسی کے سوا دوسروں کی حیثیت صرف غلاموں اور قلیوں کی تھی لیکن ارباب اقتدار جب عوام کو اپنے کسی مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اسی طرح ان کو نشہ پلاتے اور بیوقوف بناتے ہیں۔
Ayah 20:64

فَاَجْمِعُوْا كَیْدَكُمْ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا١ۚ وَ قَدْ اَفْلَحَ الْیَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى Open ayah 20:64 in the Quran reader

تو اپنی ساری تدبیریں اکٹھی کرلو، پھر ان کے مقابل میں متحد ہو کر آئو اور آج کامیاب وہی رہے گا جو غالب آئے گا

آیت 64 یہ وہ مشورہ ہے جو غور و فکر کے بعد ساحروں کو دیا گیا کہ چونکہ مرحلہ بہت نازک اور مقابلہ نہایت ماہر جادوگروں سے ہے اس وجہ سے سب ساحر مل کر پانی مجمتعہ طاقت سے ایک محتدہ محاذ بنا کر مقابلہ کریں۔ اس مشورے کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی ہوگی کہ جس طرح سیاسی پارٹیوں میں باہم رقابتیں ہوتی ہیں، ہر ایک کی خواہش اور کوشش صرف اپنے مفاد کے لئے ہوتی ہے، اسی طرح پیشہ ور جماعتوں میں بھی آپس میں چشمک ہوتی ہے اور ہر ایک صرف اپنی برتری چاہتی ہے۔ فرعون اور اس کے اعیان کو یہ اندیشہ ہوا کہ اگر ساحروں میں اس طرح کا انتشار رہا تو شکست ہوجائے گی اس وجہ سے انہوں نے ان کو مشورہ دیا کہ الگ الگ اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے بجائے سب مل کر تمتحدہ طاقت کے ساتھ مقابلہ کرو۔ وقد افلح الیوم من استعلی یہ اس دن کی نزاکت اور اہمیت کی طرف اشارہ ہے کہ آج کا دن فیصلہ کن ہے۔ اگر بازی ہماری رہی تو مستقبل کی کامیابی ہمارے لئے ہے اور اگر ہم ہار گئے تو پھر وہ تمام خطرات لازماً پیش آ کے رہیں گے جو موسیٰ اور ہارون کی کامیابی کی صورت میں مقصود ہیں۔
Ayah 20:65

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْقٰى Open ayah 20:65 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے موسیٰ ؑ ! یا تو تم پیش کردیا پھر ہم ہی پہلے پیش کرنے والے بنتے ہیں

آیت 65 حق اور باطل میدان مقابلہ میں اس مشورت کے بعد جو اوپر مذکور ہوئی ساحر اور حضرت موسیٰ اپنی اپنی جماعتوں کے ساتھ میدان مقابلہ میں اترے۔ ساحروں نے آمنے سامنے ہوتے ہی اپنے پیشہ ورانہ اخلاق کے مطابق حضرت موسیٰ سے کہا کہ یا تو پہلے تم اپنا پانسہ پھینکو یا پھر ہمیں اپنا ہنر دکھاتے ہیں۔ انکے اس قول سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اگرچہ انہوں نے موقع پہل کرنے کا حضرت موسیٰ کو بظاہر دیا لیکن دبی زبان سے اپنی خواہش کا اظہار بھی کردیا کہ وہ پہل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ امر محلوظ رہے کہ اس طرح کے مقابلوں میں تقدیم و تاخیر کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ ہر فریق کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنے پہلے ہی کرتب سے حاضرین کو اس طرح مسحور کرے کہ دوسرے فریق کا حوصلہ پست ہوجائے۔
Ayah 20:66

قَالَ بَلْ اَلْقُوْا١ۚ فَاِذَا حِبَالُهُمْ وَ عِصِیُّهُمْ یُخَیَّلُ اِلَیْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰى Open ayah 20:66 in the Quran reader

اس نے کہا بلکہ تم ہی پیش کرو۔ تو دفعۃً ان کی رسیاں اور ان کی لاٹھیاں ان کے جادو کے زور سے اس کو اس طرح نظر آنے لگیں گویا وہ رینگ رہی ہیں

ساحروں کا مرتکب حضرت موسیٰ کو چونکہ اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا، اللہ تعالیٰ نے خود ان کو یہ اطمینان دلا دیا تھا کہ تم ہر میدان میں کامیاب و فتحمند رہو گے اس وجہ سے انہوں نے خود پہل کرنے کے بجائے پہلے انہی کو موقع دیا کہ تمہی اپنا ہنر دکھائو۔ وہ تو پہلے ہی سے تیار تھے چناچہ حضرت موسیٰ کے یہ کہتے ہی انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں اور ان کے جادو کے سبب سے حضرت موسیٰ کو ایسا خیال ہوا کہ گویا وہ دوڑ رہی ہیں، چونکہ ساحروں کے علم میں یہ بات تھی کہ حضرت موسیٰ اپنی لٹھیا کو سانپ بنا دیتے ہیں اس وجہ سے انہوں نے اسی قسم کے جادو سے ان کو زک دینے کی کوشش کی اور اس پر اتنا اضافہ کردیا کہ ان کی رسیاں بھی سانپوں کی طرح رینگنے لگیں۔ اپنے خیال میں تو انہوں نے حضرت موسیٰ کو شکست دینے کا پورا اہتمام کیا تھا اس لئے کہ حضرت موسیٰ کی ایک ہی لٹھیا سانپ بنتی تھی اور ان کی بہت سی لاٹھیاں سانپ بن گئیں اور مزید برآں انہوں نے رسیوں کو بھی سانپ بنا کر دکھا دیا لیکن یہ سب کچھ جیسا کہ لفظ یخیل سے واضح ہے، محض حاضرین کی قوت متخیلہ پر جادو کے ایک فوری اثر کا کرشمہ تھا۔ جادو سے کسی شے کی حقیقت وماہیت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی بلکہ محض دیکھنے والوں کے ذہن و خیال پر اس کا ایک فوری اثر پڑتا ہے اور اگر حقیقت سامنے آجائے تو فوراً ہی اس کا طلسم باطل بھی ہوجاتا ہے۔
Ayah 20:67

فَاَوْجَسَ فِیْ نَفْسِهٖ خِیْفَةً مُّوْسٰى Open ayah 20:67 in the Quran reader

تو موسیٰ ؑ دل ہی دل میں کچھ ڈرا

فائوجس فی نفسہ خیفۃ موسیٰ یہ منظر دیکھ کر فطری طور پر حضرت موسیٰ کے دل میں ذرا اندیشہ پیدا ہوا اس لئے کہ اب تک ان کے سامنے اپنی لٹھیا کا اصلی کمال ظاہر نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے خیال فرمایا کہ مقابلہ بہرحال سخت ہے۔ ہرچند اللہ تعالیٰ کے وعدے کی بنا پر انکو یہ اطمینان تھا کہ فتح انہی کی ہوگی لیکن جب صورتحال توقع سے زیادہ پیچیدہ سامنے آجائے تو دل میں وقتی طور پر کچھ نہ کچھ ہر اس پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح کا ایک وقتی ہراس حضرت موسیٰ کے دل میں بھی پیدا ہوا۔ لفظ حیفۃ کی تنکیر سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ خوف محض معمولی اور وقتی تھا۔
Ayah 20:68

قُلْنَا لَا تَخَفْ اِنَّكَ اَنْتَ الْاَعْلٰى Open ayah 20:68 in the Quran reader

ہم نے کہا ڈرو نہیں، تم ہی غالب رہو گے

حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کی اطمینان دبائو حضرت موسیٰ کا ہر اس دور کرنے کے لئے فوراً یہ بشارت نازل ہوئی کہ تم ذرہ برابر بھی اندیشہ نہ کرو۔ انہوں نے کتنا ہی بڑا جادو دکھایا ہو لیکن غالب اور سربلند تمہی رہو گے۔
Ayah 20:69

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا١ؕ اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍ١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى Open ayah 20:69 in the Quran reader

اور تم اس کو جو تمہارے ہاتھ میں ہے زمین پر ڈالو۔ یہ ان کے سارے سوانگ کو جو انہوں نے رچایا ہے نگل جائے گا۔ یہ کرتب جو انہوں نے دکھایا ہے یہ تو بس ایک جادوگر کا کرتب ہے اور جادوگر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا

معجزہ اور سحر کا ذوق ساتھ ہی یہ ہدایت ہوئی کہ یہ تمہارے ہاتھ میں جو لٹھیا ہے اس کو تم بھی ڈال دو۔ یہ ان کی اس ساری شعبدہ گری کو ہڑپ کر جائے گی۔ انہوں نے جو کچھ دکھایا ہے یہ محض ایک ساحر کا کرتب ہے اور ساحر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا اگرچہ یہاں اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ ساحر کا سحر حق کا کرتب ہے اور ساحر جہاں بھی جائے کامیاب نہیں ہوتا اگرچہ یہاں اصل مقصود یہ بتانا ہے کہ ساحر کا سحر حق کے مقابل میں کبھی نہیں ٹکتا لیکن بات ایک کلیہ کے رنگ میں کہی گئی ہے کہ ساحر کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا اس لئے کہ اصل حقیقت یہی ہے۔ سحر کا تعلق تمام تر فریب نظر اور دیکھنے والے کی قوت متخیلہ سے ہے، اصل حقیقت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا، پھر اس پیشہ کے لوگ ہمیشہ سوسائٹی کے اراذل و انفار سے تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں جو چند دن اپنی شعبدہ بازیوں سے کچھ سادہ لوحوں کو بیوقوف تو بنا لیتے ہیں لیکن سوسائٹی کی تعمیر و اصلاح میں کوئی کردار ان کا نہ ہوتا ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ برعکس اس کے حضرات انبیاء سے جو معجزے صادر ہوتے ہیں ان کے اندر ایک سطوت و جلالت ہوتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا صدور ایسے لوگوں کے ہاتھوں ہوتا ہے جو انسانیت کے گل سرسبد ہوتے ہیں جن کے دشمن بھی ان کے پاکیزہ اخلاق و کردار کی گواہی دیتے ہیں، جن کے ساتھ ایک عظیم دعوت ہوتی ہے جس کی حقانیت کی شہادت اس کے مخالفوں کے دل بھی دیتے ہیں۔ یہ لوگ جب دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو تاریخ کا ورق الٹ کر رخصت ہوتے ہیں۔ ان کی دعوت سے تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوتا ہے اور دنیا ایک نیا جنم لیتی ہے۔ بتائیے کون ساحر ہے جس کا انسانی زندگی کے کسی شعبہ میں کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ کارنامہ بھی ہوا یہاں وہ حقیقت بھی پیش نظر رکھیے جس کی طرف ہم پیچھے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ ہمارے متکلمین نے معجزہ اور سحر میں منطق کے ذریعہ سے جو فرق کرنے کی کوشش کی ہے یہ ایک سعی لاحاصل ہے۔ ماہ نخشب اور خورشید جہاں تاب کے درمیان فرق منطمق کے ذریعے سے نہیں معلوم کیا جاتا ! اس کا فیصلہ خود دیکھنے والے کرلیتے ہیں بشرطیکہ ان کے پاس دیکھنے والی آنکھیں ہوں۔
Ayah 20:70

فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سُجَّدًا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ هٰرُوْنَ وَ مُوْسٰى Open ayah 20:70 in the Quran reader

تو جادوگر سجدے میں گر پڑے۔ پکار اٹھے کہ ہم موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کے رب پر ایمان لائے

آیت 70 یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت موسیٰ نے اپنی لٹھیا زمین پر ڈلا دی اور اس نے ایک اژدھے کی طرح جادوگروں کے تمام سانپوں سنپولیوں کو نگلنا شروع کردیا۔ جادوگروں نے یہ منظر جو دیکھا تو ان کی آنکھیں کھل گیں۔ جادوگر میں اگر کوئی رمق اعتراف حق کی ہو تو وہ اپنے شعبدہ اور نبی کے معجزہ میں سب سے زیادہ امتیاز کرنے والا ہوسکتا ہے۔ ان ساحروں کے اندر حق شناسی کی رمق تھی۔ آگے آیت 73 سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ جادوگر یہ احساس پہلے سے رکھتے تھے کہ حضرت موسیٰ جو چیز پیش کر رہے ہیں جادو نہیں ہے چناچہ وہ ان کے مقابل میں آنے سے کتراتے بھی تھے لیکن انہیں حکومت کے کارندوں نے سیاسی خطرات کا ہوا کھڑا کر کے آمادہ کیا کہ وہ ان کا مقابلہ کریں۔ وہ کہنے سننے سے مقابلہ کے لئے آتو گئے لیکن جب انہوں نے اپنے شعبدہ کے مقابل میں حضرت موسیٰ کا اعجاز دیکھا تو ان کی آنکھیں کھل گیں اور وہ بےتحاشا سجدے میں گر پڑے۔ اس طرح سجدے میں گرپڑنا اس زمانے میں کسی کے کمال فن کے اعتراف کا ایکطریقہ تھا لیکن ان جادوگروں نے صرف اسی پریس نہیں کیا بلکہ بھرے مجمع میں یہ اعلان بھی کردیا کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔ غور کیجیے ساری پبلک کے سامنے ساحروں کے اس اعتراف شکست اور اس اعلان ایمان کے بعد فرعون اور اس کے درباریوں پر کیا گزری ہوگی ! لیکن فرعون نہایت کائیاں سیاسی تھا اس نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کی اور عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے فوراً ایک نیا اشغلہ چھوڑا۔
Ayah 20:71

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَهٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ لَكَبِیْرُكُمُ الَّذِیْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ١ۚ فَلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ فِیْ جُذُوْعِ النَّخْلِ١٘ وَ لَتَعْلَمُنَّ اَیُّنَاۤ اَشَدُّ عَذَابًا وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:71 in the Quran reader

فرعون نے کہا تم نے بدوں میری اجازت کے اس کی تصدیق کردی بیشک وہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے تو میں تمہارے ہاتھ اور پائوں بےترتیب کاٹوں گا اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دوں گا اور تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے کس کی سزا زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہوتی ہے !

فرعون کا سیاسی اشغلہ اس نے ساحروں سے کہا تم نے بدون میری اجازت کے موسیٰ کو سچا مان لیا۔ اب میں سمجھ گیا کہ درحقیقت وہی تمہارا گرو ہے جس نے تمہیں جادو کی تعلیم دی ہے اور تم نے باہمی سازش سے یہ فتح و شکست کا ڈرامہ دکھایا ہے تاکہ حکومت کی ہوا خیزی ہوا اور تم موسیٰ کے اقتدار کے لئے راہ ہموار کرو۔ یہ حکومت کے خلاف تم نے سازش کی ہے اس وجہ سے میں تمہیں وہ سزا دوں گا جو ملک کے باغیوں کو دی جاتی ہے۔ میں پہلے تمہارے ہاتھ پائوں بےترتیب کٹوائوں گا اور پھر عبرت عام کے لئے تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی کے لئے لٹکائوں گا۔ اس وقت تمہیں اندازہ ہوگا کہ میری سزا زیادہ سخت اور زیادہ پائیدار ہوتی ہے یا تمہارے گرو کی۔ قال امنتم لہ قبل ان اذن لکم اوپر ساحروں کا جو قول نقل ہوا ہے اس سے واضح ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کے صرف ایک سچے آدمی ہونے ہی کا اقرار نہیں کیا بلکہ نہایت تصریح کے ساتھ یہ اعلان بھی کیا کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔ اس اعلان کے اندر ظاہر ہے کہ فرعون کے رب ہونے کا انکار بھی مضمر تھا جس کی زد فرعون کی خدائی اور اس کی بادشاہی دونوں ہی چیزوں پر پڑتی تھی اس وجہ سے اس کے لئے یہ مسئلہ محض دین و عقیدہ کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ بالواسطہ اس کے اقتدار کو ایک چیلنج تھا۔ بھلا اس جسارت کو وہ اپنی حکومت میں کس طرح گوارا کرسکتا تھا ! انہ لکبیر کم الذی علکم السحر کبیر سے مراد استاد اور گرو کے ہیں۔ فرعون نے اپنی ذہانت سے عوام فریبی کے لئے یہ شگوفہ چھوڑا کہ اصل میں یہی شخص (حضرت موسیٰ) تمہارا گرو ہے، اسی نے تمہیں جادو کا یہ فن سکھایا ہے۔ تمہاری آپس میں ملی بھگت تھی۔ تم نے یہ طے کر رکھا تھا کہ تم اس طرح کھلے میدان میں اپنے اس گروکے سامنے اپنی شکست مان لو گے جس سے اس کی دھاک تمام لوگوں پر بیٹھ جائے گی اور پھر تم حکومت کے خلاف جو سازش کرنا چاہتے ہو اس میں کامیاب ہو جائو گے۔ ہرچند یہ بات بالکل بےتکی تھیی۔ فرعون خود اپنے ہی منتخب کئے ہوئے میدان میں خود اپنیہی لائی ہوئی فوج سے ہارا تھا لیکن اس شکست کا اثر مٹانے کے لئے اس کو کوئی نہ کوئی بات تو آخر بنانی تھی چناچہ اس نے بنائی اور داد دینی چاہئے کہ اس نے بڑی سیاسی ذہانت کا ثبوت دیا اور کیا عجب کہ اس طرح وہ بہتوں کو بیوقوف بنانے میں کامیاب بھی ہوگیا ہو لیکن حق کو اس قسم کی پرفریب باتوں سے نہیں دبایا جاسکتا۔ فلا قطعن الایۃ جب ساحروں کو حکومت کے خلاف سازش کا مجرم قرار دیا گیا تو ان کے لئے اس سزا کا بھی اعلان کردیا گیا جو اس زمانے میں حکومت کے خلاف سازش کرنے والوں کو دی جاتی تھی یعنی ان کے ہاتھ پائوں بےترتیب کاٹے جائیں اور ان کو برسر عام سولی دی جائے تاکہ دوسروں کو بھی عبرت حاصل ہور فی جذوع النخل سے مقصود اس کے برسر عام ہونے کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ ساحروں کا ایک اہم ولتعلمن اینا اشدعذاباً وابقی یعنی تم یہ سمجھتے ہو کہ اگر تم نے اپنے گرو کی مرضی کے خلاف کیا تو وہ اپنے جادو کے زور سے تم کو کسی آفت میں مبتلا کر دے گا اس وجہ سے اس کے آلہ کار بنے ہوئے ہو۔ لیکن جب میری سزا کا مزا چکھو گے تو تمہیں پتہ چل جائے گا کہ میری سزا تمہارے گرو کی سزا کے مقابل میں کہیں زیاد ہسخت اور پائیدار ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جادوگروں میں یہ وہم پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی بات گرو کی مرضی کے خلاف کی جائے اور وہ کسی شاگرد سے ناراض ہوجائے تو اس شاگرد کو وہ اپنے جادو کے زور سے کس بہت بڑی آفت میں مبتلا کردیتا ہے۔ فرعون نے اسی وہم کو سامنے رکھ کر جادوگروں کو متنبہ کیا کہ تم اپنے گرہ کی سزا سے ڈرتے ہو لیکن میری سزا اس کی سزا سے کہیں زیادہ سخت اور عبرت انگیز ہوگی۔
Ayah 20:72

قَالُوْا لَنْ نُّؤْثِرَكَ عَلٰى مَا جَآءَنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الَّذِیْ فَطَرَنَا فَاقْضِ مَاۤ اَنْتَ قَاضٍ١ؕ اِنَّمَا تَقْضِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 20:72 in the Quran reader

انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان روشن دلائل پر جو ہمارے پاس آئے ہیں اور اس ذات پر جس نے ہم کو پیدا کیا ہے، تم کو ہرگز ترجیح دینے والے نہیں ہیں تو تمہیں جو کچھ کرنا ہے کر گزرو۔ تم جو کچھ کرسکتے ہو بس اس دنیاوی زندگی کا کرسکتے ہو !

ایمان کا کرشمہ فرعوکن نے دھمکی تو بڑی سخت سنائی اور اسے توقع رہی ہوگی کہ وہ اس دھمکی سے ساحروں کو مرعوب کو لے گا لیکن اب اس کا سابقہ پیشہ ور جادوگروں سے نہیں بلکہ راسخ الایمان مومنوں سے تھا۔ انہوں نے فرعون کی یہ دھمکی سن کر کچھ لگی لپٹی رکھے بغیر صاف سنا دیا کہ تمہیں جو کچھ کرنا ہے کہ گزرو اب ہم ان روشن نشانیوں پر جو ہمارے مشاہدے میں آچکی ہیں اور اپنے اس خالق پر جس نے ہمیں وجود بخشا ہے تمہیں ترجیح دینے والے نہیں ہیں۔ تم اگر کچھ کرسکتے ہو تو اسی دنیا کی زندگی کا کرسکتے ہو اور ہمیں اس دنیا کی زندگی کی کوئی پروا نہیں ہے … دیکھا آپ نے ایمان کا کرشمہ ! یہی وہی جادوگر ہیں جن کا حال قرآن میں دوسری جگہ یہ بیان ہوا ہے کہ جب وہ مقابلہ کے لئے بلائے گئے تو انہوں نے بڑی لجاجت کے ساتھ فرعون سے اپنی کامیابی کی صورت میں انعام کی درخواست کی یا اب ایمان کے نور نے ان کے دلوں کو اس طرح منور کردیا کہ خدا اور آخرت کے سوا اس دنیا کی کسی چیز کی ان کی نگاہوں میں کوئی وقعت باقی نہیں رہی ہے یہاں تک کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کی راہ میں اپنی زندگی بھی قربان کرنے کے لئے بالکل تیار ہیں۔
Ayah 20:73

اِنَّاۤ اٰمَنَّا بِرَبِّنَا لِیَغْفِرَ لَنَا خَطٰیٰنَا وَ مَاۤ اَكْرَهْتَنَا عَلَیْهِ مِنَ السِّحْرِ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:73 in the Quran reader

ہم اپنے رب پر ایمان لائے کہ وہ ہماری خطائوں کو اور اس جادو کو جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا، بخشے اور اللہ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے

انہوں نے مزید فرمایا کہ ہم اپنے رب پر اس امید کے ساتھ ایمان لائے ہیں کہ وہ ہماری ان تمام غلطیوں کو بھی معاف فرمائے گا جو ہم سے صادر ہوئی ہیں اور اس سحر سے بھی درگزر فرمائے گا جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا اور اللہ ہی بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ وما اکرھتنا علیہ من السحر سے صاف واضح ہے کہ یہ لوگ حضرت موسیٰ کے مقابلہ کے لئے تیار نہیں تھے۔ یہ جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ جو چیز پیش کر رہے ہیں یہ جادو نہیں ہے، کچھ اور ہی شے ہے لیکن حکومت کے دبائو سے انہیں آنا پڑا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر حقیقت اس طرح واضح کردی کہ ان کا سینہ اس کے اعتراف و اعلان کے لئے کھل گیا۔ واللہ خیر وابقی یہ فرعون کی بات اینا اشدعذاباً وابقی کا جواب ہے جو بالکل صحیح بھی ہے اور بھرپور بھی۔ انہوں نے فرمایا کہ تم ہمیں اپنی سزا سے ڈراتے ہو کہ وہ نہایت سخت اور پائیدار ہوگی لیکن ہم نے ہر چیز سے بےنیاز ہو کر اپنے رب کو اختیار کیا ہے جو تمام ومافہاہ سے بہتر بھی ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا بھی۔
Ayah 20:74

اِنَّهٗ مَنْ یَّاْتِ رَبَّهٗ مُجْرِمًا فَاِنَّ لَهٗ جَهَنَّمَ١ؕ لَا یَمُوْتُ فِیْهَا وَ لَا یَحْیٰى Open ayah 20:74 in the Quran reader

بیشک جو شخص اپنے رب کے سامنے مجرم کی حیثیت سے حاضر ہوگا تو اس کے لئے جہنم ہے، نہ اس میں مرے گا، اور نہ جیے گا

ایک تضمین یہ اور اس کے بعد کی دو آیتیں میرے نزدیک بطور تضمین ہیں۔ جس طرح اوپر آیات 56-53 میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی تقریر کے ساتھ اپنی بات ملا کر اس کو مکمل اور مطابق حال کردیا ہے اسی طرح ان لوگوں کے جواب کے ساتھ اپنی بات ملا کر اس کو مکمل اور مطاب حال کردیا ہے۔ ان آیات کو تضمین ماننے کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ ان میں جزا و سزا اور آخرت کا حال جن الفاظ میں بیان ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے شایان شان ہیں اور ان کا انذار اوپر کی آیات کے انذار سے بالکل مختلف ہے۔ فرمایا کہ جو اپنے رب کے حضور مجرم کی حثیت سے حاضر ہوگا تو اس کے لئے دوزخ ہے جس میں نہ وہ مرے گا اور نہ جیے گا۔ مجرم کی حیثیت سے یعنی جس نے خدا کی نافرمانیاں کیں اور اس کو توبہ و اصلاح کی وفیق نہ ہوئی۔ لایموت فیھا ولا یحییٰ اس عذاب کی شدت، اس کے خلود اور اس کی بےپناہی کی ایسی تعبیر ہے کہ اپنے لفظوں میں اس کو واضح کرنا ممکن نہیں، بڑی سے بڑی مصیبت بھی ہو تو اس سے نجات کے لئے موت بہرحال ایک آخری چارہ کار ہے لیکن جہاں موت بھی نہ ہوا او موت کے مصائب ہر طرف سے پلے پڑ رہے ہوں وہاں کوئی کدھر جائے گا۔
Ayah 20:75

وَ مَنْ یَّاْتِهٖ مُؤْمِنًا قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ فَاُولٰٓئِكَ لَهُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰىۙ Open ayah 20:75 in the Quran reader

اور جو اس کے پاس باایمان ہو کر جائیں گے، انہوں نے نیک عمل بھی کئے ہوں گے، تو یہی لوگ ہیں جن کے لئے اونچے درجے ہوں گے

یہ ان کے مقابل میں فائز المرام گروہ کا بیان ہوا کہ البتہ جو لوگ ایمان کے ساتھ خدا کے پاس حاضر ہوں گے اور اس کے ساتھ انہوں نے نیک اعمال بھی کیسے ہوں گے ان کے لئے مراتب عالیہ ہیں۔ ایمان کی مقبولیت کے لئے اعمال صالحہ شرط ہیں مومنا قد عمل الصلحت کے اسلوب بیان پر غور کیجیے تو یہ بات صاف واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جس کے ساتھ عمل صالح بھی پایا جاتا ہے۔ جو ایمان عمل صالح سے خالی ہو اس کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں ہے۔ ایسا ایمان ایک ٹونٹھ درخت کے مانند ہے جو برگ و بار سے بالکل خالی ہے۔ جس درخت نے دنیا میں اپنے برگ و بار پیدا نہیں کئے آخر وہ آخرت میں کس طرح ثمر بار ہوجائے گا ! خدا کے ہاں اعمال کی مقبولیت کے لئے جس طرح ایمان شرط ہے اسی طرح ایمان کی مقبولیت کے لئے اعمال صالحہ شرط ہیں۔
Ayah 20:76

جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَكّٰى۠ Open ayah 20:76 in the Quran reader

ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہ صلہ ہے اس کا جس نے پاکیزگی اختیار کی

جنت ایک سستی چیز نہیں یہ وضاحت ہے ان مراتب عالیہ کی یعنی ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ فرمایا کہ و ذلک عجزوآء من تزکی یہ صلہ ہے ان لوگوں کا جو اپنے ظاہر و باطن اور اپنے عقیدو عمل کو پاکیزہ بنائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جھوٹی تمنائوں سے ملنے والی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے حق داد وہی ٹھہریں گے جو اس کے حاصل کرنے کے لئے اپنے نفس کو ہر قسم کی آلائشوں سے، خواہ وہ فکری ونظری ہوں یا عملی و اخلاقی، پاک کرنے کی جدوجہ دکریں گے۔ اس راہ میں آدمی کو جو ٹھوکریں لگتی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے تدارک کی تدبیریں بھی اپنی اس کتاب میں بتا دی ہیں اور انسان اپنی کمزوریوں کی وجہ سے جن رعایتوں کا محتاج ہے وہ بھی اس کو بخشی گی ہیں۔ ان چیزوں میں کسی چیز کا انکار دین میں غلو اور تشدد ہے لیکن ساتھ ہی یہ امر بھی محلوظ رہے کہ جن لوگوں نے محض اپنے جی سے عمل کی اہمیت گھٹا کر اباحت کے دروازے کھول دیئے ہیں، خواہ وہ ہمارے پرانے متکلمین ہوں یا نئے متکلمین، انہوں نے اپنی فیاضی سے جنت کو ایک بہت سستی چیز تو ضرور بنا دیا ہے اور اس سے ہم جیسے بےعملوں کو بڑی تسلی مل جاتی ہے لیکن قرآن میں ان کے اس نظریے کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے اور جنت کی کنجی بہرحال اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہ اس نے ان متکلمین کے ہاتھ میں نہیں پکڑا دی ہے اس وجہ سے سلامتی اسی میں ہے کہ اس قسم کی جھوٹی آرزوئوں سے اپنے آپ کو محفوظ ہی رکھیے۔ قرآن نے ان کو یہود کی امانی باطلہ میں سے شمار کیا ہے اور ان کی تفصیل سورة بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
Ayah 20:77

وَ لَقَدْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى١ۙ۬ اَنْ اَسْرِ بِعِبَادِیْ فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِیْقًا فِی الْبَحْرِ یَبَسًا١ۙ لَّا تَخٰفُ دَرَكًا وَّ لَا تَخْشٰى Open ayah 20:77 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کی کہ میرے بندوں کو شب میں لے کر نکل جائو۔ ان کے لئے دریا میں ایک خشک راہ کھول لو، نہ تمہیں تعاقب سے کوئی خطرہ ہوگا نہ ڈوبنے کا کوئی اندیشہ ؟

فاضرب لھم طریقاً ضرب طریق کے معنی عربی محاورہ کے لحاظ سے تو جیسا کہ صاحب کشاف نے تصریح کی ہے، راستہ بنا لینے کے ہیں لیکن یہاں اس لفظ کے استعمال کے استعمال میں ایک لطیف کنایہ حضرت موسیٰ کے عصا کی طرف بھی ہے اس لئے کہ اس راستہ کے بنانے میں حضرت موسیٰ کے عصا کو بھی دخل تھا اور عصا کی مناسب لفظ ضرب کے ساتھ واضح ہے۔ حذف کی ایک مثال لاتخاف درکا ولا تغشی میں تغشی کا مفعول تقابل کے اصول پر میرے نزدیک مخذوف ہے۔ اس مخدوف کو کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہوگی۔ لاتخاف درکا ولاتخشی غرقاً یعنی نہ تم کو فرعون کی طرف سے پا لئے جانے کا کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ سمندر میں ڈوبنے کا کوئی خطرہ ہوگا۔ اس قسم کے حذف کی متعدد مثالیں پیچھے اس کتاب میں گزر چکی ہیں۔ میں نے ترجمہ میں اس حذف کو کھول دیا ہے۔ حضرت موسیٰ کو ہجرت کا حکم یہاں حضرت موسیٰ اور فعون کی کشمکش کا ایک طویل حصہ حذف کردیا گیا ہے، جس پر سورة اعراف کی تفسیر میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔ حضرت موسیٰ نے فرعون سے یہ مطالبہ جو کیا کہ میرے ساتھ بنی اسرائیل کو عید قربانی منانے کے لئے جانے دے تو فرعون نے اس مطالبہ کو ماننے سے نہ صرف انکار کردیا بلکہ اس ظلم و تشدد میں اس نے مزید اضافہ کردیا جو اب تک اس کے اور اس کے کارندوں کے ہاتھوں بنی اسرائیل پر ہو رہا تھا۔ اس دوران میں یکے بعد دیگرے اللہ تعالیٰ نے مصر پر مختلف آفتیں نازل کیں کہ فرعون کی آنکھیں کھلیں لیکن جب کوئی مصیبت آتی تب تو وہ حضرت موسیٰ کی خوشامدیں کر تاکہ اگر تمہاری دعا سے یہ آفت ٹل گئی تو میں بنی اسرائیل کو تمہایر ساتھ جانے دوں گا۔ لیکن حضرت موسیٰ کی دعا اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جب آفت ٹل جاتی تو پھر اس کی سرکشی عود کر آتی اور وہ اپنے عہد سے مکر جاتا۔ اسی نزاع میں کئی سال بیت گئے۔ اس دوران میں حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کی قوم پر اپنا عہد سے مکر جاتا۔ اسی نزاع میں کئی سال بیت گئے۔ اس دوران میں حضرت موسیٰ نے فرعوکن اور اس کی قوم پر اپنا وہ فرض رسالت اچھی طرح ادا کردیا جو ایک رسول کی حیثیت سے ان پر عائد ہوتا تھا۔ بالآخر جب فرعون اور اس کی قوم پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری ہوگئی تب حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت ہوئی کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کر جائیں۔ اب تک تو حضرت موسیٰ کا مطالبہ، جیسا کہ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم واضح کرچکے ہیں صرف یہ تھا کہ ان کو بنی اسرائیل کے ساتھ تین دن کی راہ بیابان میں قربان کے لئے جانے کی اجازت دی جائے 1 لیکن اب چونکہ وہ فرعون اور اس کی قوم پر اتمام حجت کرچکے تھے اسی وجہ سے سنت الٰہی کے مطابق ان کو اس علاقے سے ہجرت کا حکم ہوگیا۔ ارشاد ہوا کہ راتوں رات مررے بندوں کے ساتھ یہاں سے نکل جائو میرے بندوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے تھے۔ ان میں عظیم اکثریت تو بنی اسرائیل ہی کی تھی لیکن ایک مختصر جماعت ان میں ان لوگوں کی بھی شامل تھی جو مصریوں میں سے ایمان لائے تھے اوپر جن جادوگروں کے ایمان لانے کا ذکر ہے قرائن شاہد ہیں کہ وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں بلکہ مصریوں میں سے تھے۔ لفظ عبادی ان تمام لوگوں پر مشتمل ہے جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے، عام اس سے کہ وہ مصری تھے یا اسرائیلی، قرآن میں ایک مومن آل فرعون کا ذکر بھی خاص طور پر ہوا ہے۔ 1۔ استاذ امام ؒ کا خیال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو قربانی کے لئے مکہ معظمہ لے جانا چاتے تھے۔ قدرت خداوندی کا کرشمہ فاضرب لھم طریقاً فی البحر بحر سے مراد یہاں بحر احمر کی شمالی خلیج ہے۔ ہدایت ہوئی کہ پوری جماعت کے ساتھ ساحل سمندر پر پہنچو اور وہاں اپنی لٹھیا سمندر پر مار کر اس کے اندر سے لوگوں کے لئے خشک راہ پیدا کرلو۔ یہ اسلوب بیان اس اختیار کو ظاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے معجزے کے ذریعے سے حضرت موسیٰ کو بخشا کہ تم اس کے اشارے سے سمندر کو حکم دو گے تو وہ تمہایر گزرنے کے لئے خشک راستہ نکال دے گا۔ البحر پر الف لام اس بات کا قرینہ ہے کہ حضرت موسیٰ کو متعین طور پر اس جگہ کی نشان دہی کردی گئی تھی جہاں ان کو پہنچنا تھا۔ اس واقعہ کے متعلق تورات میں جو تفصیل آئی ہے وہ ہم یہاں نقل کئے دیتے ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ اس موقع پر شان خداوندی کس شکل میں ظاہر ہوئی۔ کتاب خروج باب 14 ملاحظہ ہو۔ ”اور خداوند نے موسیٰ سے کہا تو کیوں مجھ سے فریاد کر رہا ہے ؟ بنی اسرائیل سے کہہ کہ وہ آگے بڑھیں اور تو اپنی لاٹھی اٹھا کر اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا اور اس کو دو حصے کر اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل جائیں گے ………… پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تندپور بی آندھی چلا کر سمندر کو پیچھے ہٹا کر اسے خشک زمین بنا دیا اور پانی دو حصے ہوگیا اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور ان کے دہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا اور مصریوں نے تعاقب کیا۔“ (23-15-14) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معجزہ پوربی ہوا کے تصرف سے ظہور میں آیا۔ اس سے خلیج کا پانی اس طرح دو حصوں میں منقسم ہوگیا کہ بنی اسرائیل کے گزرنے کے لئے خشک راستہ پیدا ہوگیا۔
Ayah 20:78

فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ بِجُنُوْدِهٖ فَغَشِیَهُمْ مِّنَ الْیَمِّ مَا غَشِیَهُمْؕ Open ayah 20:78 in the Quran reader

تو فرعون نے اپنی فوجوں کے ساتھ ان کا تعاقب کیا۔ بالآخر ان کو سمندر کی اس چیز نے ڈھاک لیا جس چیز نے ڈھانک لیا ؟

فرعون اور اس کی فوجوں کی غرقابی فغشیھم من الیم ماغشیھم عربی میں یہ اسولب بیان کسی چیز کی ایسی ہولناکی یا عظمت کے اظہار کے لئے آتا ہے جس کو الفاظ تعبیر کرنے سے قاصر ہوں۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے معجزات کے معجزات سے تنگ آ کر اگرچہ فرعون نے ان کو جانے کی اجازت دے دی تھی لیکن ان کی روانگی کے بعد اس کی رائے بدل گئی اور اس نے فوج کے ساتھ ان کا تعاقب کیا اور بالآخر اپنی فوج سمیت سمندر کی بےپناہ موجوں کی لپیٹ میں آگیا اس کی تفصیل تورات میں یوں آتی ہے۔ ”جب مصر کے بادشاہ کو خبر ملی کہ وہ لوگ چلی دیے تو فرعون اور ان کے خادموں کا دل ان لوگوں کی طرف سے پھر گیا اور وہ کہنے لگے کہ یہ ہم نے کیا کیا کہ اسرائیلیوں کو اپنی خدمت سے چھٹی دے کر ان کو جانے دیا۔ تب اس نے اپنا رتھ تیار کروایا اور اپنی قوم کے لوگوں کو ساتھ لیا اور اس نے چھ سوجتے ہوئے رتھ بلکہ مصر کے سب رتھ لیے اور ان سبھوں میں سرداروں کو بٹھایا۔“ خروج باب 7-5-14 اس کے بعد ان کے غرق ہونے کی تفصیل ہونے کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے۔ ”اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھا تاکہ پانی مصریوں اور ان کے رتھوں اور سواروں پر پھر بہنے لگے اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور صبح ہوتے ہوتے سمندر پھر اپنی اصلی قوت پر آگیا اور مصری الٹے بھاگنے لگے اور خداوند نے مصریوں کو سمندر کے بیچ ہی تہ وبالا کردیا اور پانی پلٹ کر آیا اور اس نے رتھوں اور سواریوں اور فرعون کے سارے لشکر کو جو اسرائیلیوں کا پیچھا کرتا ہوا سمندر میں گیا تھا۔ غرق کردیا اور ایک بھی ان میں سے باقی نہ چھوٹا۔ پر بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل گئے اور پانی ان کے دہنے اور بائیں ہاتھ دیوار کی طرح رہا۔“ خروج باب 14: 29-26
Ayah 20:79

وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى Open ayah 20:79 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا، اس کو صحیح راہ نہ دکھائی !

قائد کی اصل ذمہ داری یہ فرعوکن اور اس کی تباہ کن قیادت پر اظہار افسوس ہے کہ اس نے اپنی گمراہ کن روش کے سبب سے اپنی قوم کو ہلاکت کے سمندر میں غرق کیا، ان کی صحیح رہنمائی نہ کی وما ھدی میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ہر قائد اور حکمران کی اصل ذمہ داری اپنی قوم کی صحیح رہنمائی ہے۔ اس کی حیثیت درحقیقت ایک راعی کی ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنی خلق کے کسی گلہ کی چرواہی اور اس کی حفاظت پر مامور فرماتا ہے۔ بدبخت ہے وہ چرواہا جو اپنی انانیت پر پورے گلے کو بھینٹ چڑھا دے۔
Ayahs 20:80–82

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ عَدُوِّكُمْ وَ وٰعَدْنٰكُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى Open ayah 20:80 in the Quran reader

اے بنی اسرئیل ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور تم سے طور کے مبارک جانب کو ایک میعاد ٹھہرائی اور تم پر ہم نے من وسلویٰ اتارا

كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ لَا تَطْغَوْا فِیْهِ فَیَحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبِیْ١ۚ وَ مَنْ یَّحْلِلْ عَلَیْهِ غَضَبِیْ فَقَدْ هَوٰى Open ayah 20:81 in the Quran reader

کہ ہماری بخشی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھائو اور اس نعمت کو پا کر سرکشی نہ کیجیو کہ تم پر میرا غضب نازل ہو اور جس پر میرا غضب اترا وہ تباہ ہوا

وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى Open ayah 20:82 in the Quran reader

اور میں ان لوگوں کے لئے بڑا ہی غفار ہوں جو توبہ کریں، ایمان لائیں اور عمل صالح کریں پھر ہدایت کی روشنی اختیار کریں

آیت 80-82 بنی اسرائیل کو تنبیہ دریا پار کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنے عظیم احسانات یاد دلا کر ان کو و ہعظیم ذمہ داری یاد دلائی جو ان احسانات کے حق کے طور پر ان پر عائد ہوتی تھی اور ساتھ ہی اس انجام سے بھی آگاہ فرما دیا جو ان لوگوں کے لئے مقتدر ہے جو ان نعمتوں کی ناقدری کریں گے اور شکر کے بجائے کفر اور طغیان کی راہ اختیار کریں گے۔ بعینیہ اسی سیاق وسباق میں، الفاظ کے معمولی تغیر کے ساتھ یہ مضمون سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم تفصیل کے ساتھ اس کے ہر پہلو کی وضاحت کرچکے ہیں اس وجہ سے یہاں ہم صرف اشارات پر اکتفا کریں گے۔ تفصیل کے طالب بقرہ کی تفسیر میں آیات 57-46 کے تحت جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیں۔ ووعدنکم جانب الطور الایمن سے مراد وہ وعدہ ہے جو تو رات دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے واسطہ سے بنی اسرائیل سے فرمایا اور جس کے لئے اس نے ان کو طور کے اسی مقدس جانب میں بلایا جہاں مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ کو نبوت عطا ہوئی … اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی جو قدر بنی اسرائیل نے کی اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ ونزلنا علیکم المن والسلوی من وسلوی کی وضاحت بقرہ آیت 57 کے تحت ہوچکی ہے۔ اس نعمت کی بھی بنی اسرائیل نے جو قدر کی اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ کلوا من طیبت مارزقنکم ولا تطفی فیہ یہ ان نعمتوں کا حق بیان ہوا ہے۔ اس حق کی یاد دہانی ہر نعمت زبان حال سے بھی کرتی ہے اور بنی اسرائلل کو اللہ تعالیٰ نے ان کے نبی کے واسطہ سے لفظوں میں بھی بار بار اس کی ہدایت فرمایء تھی۔ تورات میں اس کے شواہد موجود ہیں۔ ولاتطغوا فیہ کے اسلوب بیان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ خدا کی نعمتوں کی فراوانی تم کو طغیان میں مبتلا نہ کرنے پائے۔ یہ طغیان فرعون کی روایت ہے اور اس کا انجام تم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہو۔ ومن یعلل علیہ غضبی فقد ھوی یعنی اس قسم کا طغیان خدا کے غضب کو دعوت دیتا ہے اور جس پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے وہ گر کے رہتا ہے۔ گر کے رہتا ہے، یعنی عزت کے عرش سے ذلت کے فرش پر یہ ماجرا بھی تم اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہو کہ جو خدائی کا مدعی تھا اس کا انجام کیا ہوا ؟ وانی لغفار لمن تاب وامن وعمل صالحاً ثم اھتدی یہ ان لوگوں کے لئے راہ نجات بتا دی جو ان ہدایات پر عمل کا عزم بالجزم رکھتے ہیں۔ فرمایا کہ اس طرح کے لوگوں سے اگر کوئی غلطی صادر ہو تو اس کی اصلاح کا طریقہ توبہ ہے۔ وہ اپنی غلطی سے رجوع کریں، ایمان اور عمل صالح کی تجدید کریں اور آئندہ کے لئے خدا سے مزید ہدایت کے طالب بنیں۔
Ayahs 20:83–84

وَ مَاۤ اَعْجَلَكَ عَنْ قَوْمِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:83 in the Quran reader

اور اے موسیٰ یہ تم کو، اپنی قوم کو چھوڑ کر جلدی آنے پر کس نے ابھارا ؟

قَالَ هُمْ اُولَآءِ عَلٰۤى اَثَرِیْ وَ عَجِلْتُ اِلَیْكَ رَبِّ لِتَرْضٰى Open ayah 20:84 in the Quran reader

اس نے کہا، وہ لوگ بھی میرے پیچھے ہی ہیں، اور میں، اے میرے رب ! تیری خوشنودی کے لئے جلدی چلا آیا ہوں

آیت 84-83 عربیت کا ایک اسلوب اعجلک کے بعد من اس بات کا قرینہ ہے کہ یہاں کوئی ایسا فعل محذوف مانا جائے جو چھوڑ کر آنے کے مفہوم میں ہو۔ اس لئے کہ عن اعجلک کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا اور ہم عربیت کے اس اسلوب کی وضاحت جگہ جگہ کرتے آئے ہیں کہ جب فعل اور اس کے صلہ میں مناسبت ظاہری نہ ہو تو وہاں وہ فعل کسی ایسے فعل پر متضمن ہوتا ہے جو اس صلہ سے مناسبت رکھتا ہو۔ اس اصول کی روشنی میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا۔ موسیٰ تمہیں اپنی قوم کو چھوڑ کر جلدی چلے آنے پر کس چیز نے ابھارا ؟ تورات کے حصول کے لئے حضرت موسیٰ کی عجلت یہ اس موقع کا ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو طور کے اسی مقام پر جہاں ان کو نبوت عطا ہوئی تھی۔ تورات دینے کے لئے بلایا ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے تیس دن کی مدت مقرر کی تھی لیکن حضرت موسیٰ فرط شوق میں قوم کی دیکھ بھال کی ذمہ داری حضرت ہارون کے سپرد کر کے وقت سے کچھ پہلے ہی طور پر پہنچ گئے۔ تورات میں اس کا ذکر ہے لیکن اس میں کسی مدت یا حضرت موسیٰ کی کسی عجلت کا ذکر نہیں ہے۔ ”اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ پہاڑ پر میرے پاس آ اور وہیں ٹھہرا رہ اور میں تجھے پتھر کی لوحیں اور شریعت اور احکام جو میں نے لکھے ہیں دوں گا تاکہ تو انہیں سکھائے اور موسیٰ اور اس کا خادم یشوع اٹھے اور موسیٰ خدا کے پہاڑ کے اوپر گیا اور بزرگوں سے کہہ گا کہ جب تک ہم لوٹ کر تمہایر پاس نہ آجائیں تم ہمارے لئے یہیں ٹھہرے رہو اور دیکھو ہارون اور حور تمہایر ساتھ ہیں جس کسی کا کوئی مقدمہ ہو وہ ان کے پاس جائے۔“ خروج باب 24 :14-12 اعراف میں اس کا ذکر اس طرح ہوا ہے۔ ووعدنا موسیٰ ثلثین لیلۃ واتممنھا بعشرفتممیقات ربہ اربعین لیلۃ وقال موسیٰ لاخیہ ھرون اخلفنی فے قومی واصلح ولاتتبع سبیل المفسدین (142۔ الاعراف) اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا دس مزید راتوں سے تو اس کے رب کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوئی اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور اصالح کرتے رہنا اور فساد کرنے والوں کی روش کی پیروی نہ کرنا۔ حضرت موسیٰ نے اللہ تعالیٰ کے اس سوال کا جواب یہ دیا کہ اے میرے رب ! میری قوم کے لوگ بھی بس میرے پیچھے ہی ہیں اور میں وقت موعود سے ذرا پہلے تیری خوشنودی کے لئے چلا آیا ہوں۔ حضرت موسیٰ کی یہ عجلت، جیسا کہ ان کے ارشاد سے واضح ہے، محض فرط شوق کا نتیجہ اور خدا کی رضا طلبی کے لئے تھی۔ اس پہلو سے یہ کوئی برائی نہیں بلکہ محبت الٰہی کا تقاضا تھی لیکن یہی عجلت ان کے لئے ایک شدید آزمائش اور ان کی قوم کے لئے ایک سخت فتنہ بن گئی۔ ان کی قوم کے اندر جو اشرار و مفسدین تھے انہوں نے ان کی اس غیبت سے فائدہ اٹھا کر قوم کو گو سالہ پرستی میں مبتلا کردیا اور حضرت ہارون اپنی اتنہائی کوشش کے باوجود صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہے حضرت موسیٰ کی قوم کا مزاج اس وقت تک سخت منفعل تھا۔ سورة اعراف میں ان کا حال بیان ہوچکا ہے کہ دریا پار کرنے کے معاً بعد جب ان کو بت پرست قوموں سے سابقہ پیش آیا تو انہوں نے حضرت موسیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لئے بھی اسی طرح کا ایک بت بنا دیں جس طرح کے بت ان قوموں کے پاس ہیں۔ یہ واقعہ حضرت موسیٰ کے طور پر جانے سے کچھ ہی پہلے کا ہے۔ اس پر حضرت موسیٰ نے ان مفسدین کو ڈانٹ بھی باتئی تھی۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم کے مفسدین سے بھی واقف رہے ہوں گی اور اس امر کا بھی سب سے بہتر وہی اندازہ کرسکتے تھے کہ ان بگڑے ہوئے لوگوں کو حضرت ہارون کس حد تک کنٹرول میں رکھ سکیں گ۔ ایسے حالات کے اندر ان کی چند روز کی غیر حاضری بھی قوم کے لئے آزمائش بن سکتی تھی لیکن غلبہ شوق میں وہ ان پہلوئوں کا کما حقہ اندازہ نہ فرما سکے اور اس کا نتیجہ نہایت خطرناک خطرناک شکل میں سامنے آیا۔ یہ بات ہم جگہ جگہ ظاہرظاہر کرچکے ہیں کہ حضرات انبیاء کرام سے اگر کوئی لغزش صادر ہوتی ہے تو وہ اتباع ہوا کی نوعیت کی نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی وہ حق اور خدا کی رضا طلبی کی راہ میں حد مطلوب سے متجاوز ہوجاتے ہیں۔ یہ چیز فی نفسہ کوئی برائی نہیں ہے لیکن حضرات انبیاء (علیہم السلام) چونکہ میزان حق ہوتے ہیں اور ان کا ہر قول و فعل دوسروں کے لئے نمونہ ہوتا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ انکی اس طرح کی باتوں پر بھی گرفت فرماتا ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ کی اس عجلت پر بھی گرفت ہوئی۔ اس سورة میں، جیسا کہ آپ تمہید میں پڑھ آئے ہیں، ہمارے حضور کو صبر اور انتظار کی تعلیم دی گئ ہے اس وجہ سے اس میں حضرت موسیٰ کی زندگی سے اس واقعہ کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے کہ اقامت دین کی جدوجہ دیک راہ میں صبر اور انتظار ہی کی روش قرین مصلحت الٰہی ہے ورنہ بعض اوقات نیک سے نیک ارادہ کے ساتھ بھی جو عجلت کی جاتی ہے وہ بہتوں کے لئے مزلہ قدم بن جاتی ہے۔
Ayahs 20:85–86

قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ وَ اَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ Open ayah 20:85 in the Quran reader

فرمایا تو ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے پیچھے ایک فتنہ میں ڈال دیا اور سامری نے ان کو گمراہ کر ڈالا

فَرَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۚ۬ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَمْ یَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا١ؕ۬ اَفَطَالَ عَلَیْكُمُ الْعَهْدُ اَمْ اَرَدْتُّمْ اَنْ یَّحِلَّ عَلَیْكُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَخْلَفْتُمْ مَّوْعِدِیْ Open ayah 20:86 in the Quran reader

تو موسیٰ ؑ اپنی قوم کے پاس غصہ اور غم سے بھرا ہوا لوٹا اور بولا کہ اے میری قوم کے لوگو، کیا تم سے تمہارے رب نے نہایت اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ! کیا تم پر زمانہ زیادہ گزر گیا یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو کر تم نے میری ٹھہرائی ہوئی میعاد کی خلاف ورزی کر ڈالی !

اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو خبر دی کہ تم تو ہماری رضا جوئی کے شوق میں قوم کو چھوڑ کر وقت سے پہلے چلے آئے اور تمہارے بعد ہم نے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری نے اس کو گمراہی میں مبتلا کردیا۔ فتنا قومک میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر تفصیل کے ساتھ آیت فتنک فتوناً کے تحت ہم کر آئے ہیں۔ افراد ہوں یا اقوام نیک ہوں یا بد، سب کی آزمائش ہر وقت ہوتی رہتی ہے اور اسی آزمائش کے ذرعیہ سے اللہ تعالیٰ کھرے اور کھوٹے کو ممیز کرتا ہے یہاں مقصود یہ بتانا ہے کہ ہم نے تمہاری قوم کو آزمئاش میں ڈالا اور وہ اس امحتان میں فیل ہوگئی۔ سامری نے اس کو گمراہ کر ڈالا۔ سامری کا فتنہ سامری کا کوئی ذکر تورات میں نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس کے متعلق صرف اتنی ہی بات علم میں آئی ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے اور جو آگے آرہی ہے تورات کے راویوں نے تو اس سارے فتنہ کو حضرت ہارون کی طرف منسوب کردیا ہے۔ یہ قرآن کا احسان ہے کہ اس نے اس فتنہ کے اصل بانی کا پتہ دیا اور حضرت ہارون کو اس تہمت سے بری کیا۔ سامری کوئی اسرائیلی تھا یا ان مصریوں میں سے تھا جنہوں نے حضرت موسیٰ کے ساتھ ہجرت کی ؟ یہ ایک غیر متعلق اور غیر مفید سوال ہے۔ ہم اس غیر ضروری بحث میں نہیں پڑنا چاہتے۔ قرآن سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ ایک نہایت ہی فتین اور کیا د منافق تھا جو محض اپنے مفسدانہ اغراض کے لئے حضرت موسیٰ کی جماعت میں گھسا ہوا تھا۔ آگے کی آیات سے معلوم ہوگا کہ اس کو متصوفانہ قسم کے کشوف و کرامات کے ڈھونگ رچانے کا فن بھی معلوم تھا۔ اس قسم کے چالاک لوگ بڑی آسانی سے سادہ لوح عوام کو اپنے دام فریب میں پھنسا لیتے ہیں۔ اس نے حضرت موسیٰ کی غیر حاضری سے پورا فائدہ اٹھایا۔ اوپر معلوم ہو چا ہے کہ حضرت موسیٰ کچھ تو وقت سے پہلے چلے گئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت تربیت کے تحت ان کی مدت قیام میں دس دن کا اور اضافہ کردیا۔ اس طرح سامری کو کھل کھیلنے کا موقع مل گیا۔ اس نے بنی اسرائیل کے ان تمام عناصر کو اپنے اردگرد اکٹھا کرل یا جو پہلے ہی سے بت پرستانہ ذہینیت رکھتے تھے۔ اس نے ان کو سمجھایا کہ موسیٰ تو معلوم نہیں خدا کی تلاش میں کہاں گئے اگر تم لوگ اپنے زیورات چندے میں دو تو میں تمہارے لئے ایک معبود بنائے دیتا ہوں جو تمہاری رہنمائی کرے گا۔ موسیٰ تو تمہیں یہاں چھوڑ کر کہیں غائب ہوگئے، اب تم کب تک، انتظار کرو گے، سامری مصر کے فن بت گری کا بھی ماہر تھا اس نے لوگوں کے دیے ہوئے زیورات سے ایک بچھڑا بنایا جس کی شکل ایسی تھی کہ جب اس میں سے ہوا گزرتی تو اس سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی۔ اس نے اس آواز کو جیسا کہ آگے معلوم ہوگا، اپنی ایک کرامت کا نتیجہ قرار دیا اور سادہ لوح عوام کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ حضرت ہارون نے لوگوں کو اس فتنہ سے بچانے کے لئے پورا زور لگایا لیکن جو لوگ حضرت موسیٰ کے دبدبہ سے دبے ہوئے تھے ان کو وہ دبانے میں کامیاب نہ ہو سکے یہاں تک کہ ان کی جان بھی خطرے میں پڑگئی اور انہوں نے یہ بھی محسوس فرما لیا کہ اب اگر انہوں نے کوئی مزید قدم اٹھایا تو اس سے فائدہ کے بجائے الٹا نقصان ہوگا، جماعت کا شیرازہ بالکل درہم برہم ہوجائے گا اس وجہ سے انہوں نے بہتری اسی میں سمجھی کہ حضرت موسیٰ کی واپسی کا انتظار کریں۔ حضرت موسیٰ کی واپسی اور قوم پر ان کا عتاب جب حضرت موسیٰ کو اس حادثہ کی خبر ملی تو اس کا جو اثر قدرتی طور پر ہونا تھا وہ ہوا۔ وہ نہایت غصہ اور غم کی حالت میں قوم کی طرف واپس آئے۔ غصہ تو ان کو مفسدین کی کامیاب شرارت پر تھا کہ انہوں نے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا اور آگے کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح صورتحال سامنے نہ ہونے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا اور آگے کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح صورتحال سامنے نہ ہونے کے سبب سے حضرت ہارون پر بھی تھا کہ ان کو مفسدین سے ہوشیار رہنے کی جو ہدایت انہوں نے فرمائی تھی اس کو محلوظ رکھنے میں وہ ناکام رہے۔ اور غم اپنی قوم کی اس بدبختی پر کہ میں تو اس کے لئے اللہ کی کتاب لینے گیا اور یہ ایک بچھڑا بنا کر اس کی عبادت میں لگ گئی ! انہوں نے سب سے پہلے قوم کو سرزنش فرمائی کہ نادانو، یہ تم کیا کر بیٹھے ! کیا خدا نے تم سے نہایت مبارک وعدہ کتاب و شریعت دینے کا نہیں فرمایا تھا ؟ کیا اس وعدے کے پورے ہونے میں اتنی دیر ہوگئی کہ تم صبر نہ کرسکے ؟ کیا تم نے یہ چاہا کہ تم پر خدا کا غضب نازل ہو کہ تم اس عہد کو توڑ بیٹھے جو میں تم سے لے کر گیا تھا۔ اس عہد سے مراد وہ عہد ہے جس کا حالہ ہم پیچھے نقل کر آئے ہیں کہ طور پر جاتے وقت قوم کے تمام سرداروں کو حضرت موسیٰ نے یہ ہدایت فرما دی تھی کہ میں شریعت کہ میں شریعت لینے جا رہا ہوں، جب تک میں واپس نہ آئوں لوگ یہیں ٹھہرے رہیں اور تمام معاملات میں حضرت ہارون کی ہدایات کی پیروی کریں۔